Search This Blog

Showing posts with label BOOKS REVIEW. Show all posts
Showing posts with label BOOKS REVIEW. Show all posts

Monday, 1 June 2015

عربی کے مشہور ادیب احمد امین کی خود نوشت سوانح ’حیاتی ‘۔ ایک مطالعہ

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
عربی کے مشہور ادیب احمد امین کی خود نوشت سوانح ’حیاتی ‘۔ ایک مطالعہ
عربی زبان میں خودنوشت سوانح عمریاں بہت سی موجود ہیں۔ عہد جدید میں احمد امین کی ’’حیاتی‘‘ اور طہ حسین کی ’’الایام‘‘ نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ راقم السطور نے دونوں کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے، اور وہ اس نتیجے تک پہنچا کہ صرف گل افشانئ گفتار اور ادب وانشاء کے معیار کو سامنے رکھا جائے تو ’’الایام‘‘ زیادہ وزن دار کتاب ہے۔ اسی لیے اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، اس کتاب میں طہ حسین کی تحریر بغیر شراب کا نشہ ہے، لیکن کسی کتاب کی افادیت اور اہمیت صرف ادب وانشاء کے معیار کو سامنے رکھ کر نہیں طے کی جاسکتی ہے۔ زندگی کے تجربات اور علمی وفکری خصوصیات اور شخصیت کی تشکیل کے لازمی عناصر اور ان کے فائدے کو معیار بنایا جائے تو’’حیاتی‘‘ کا درجہ ’’الایام‘‘ سے بہتر اور بلندتر ہے۔ طہ حسین کی ’’الایام‘‘ تو وہ کتاب ہے جس کو اگر پوری قوت سے نچوڑا جائے تو شگفتہ بیانی اور لن ترانی کے سوا علم وتحقیق کا کوئی قطرہ اس سے مشکل سے برآمد ہوگا۔ جبکہ ’’حیاتی‘‘ میں قدم قدم پر زندگی کے قیمتی اور انمول تجربات سامنے آئیں گے، جن سے ایک باذوق قاری کا دامن علم وفکر کے بیش بہا موتیوں سے بھر جائے گا۔ خالص ادبی نقطہ نظر سے بھی یہ کتاب ’’الایام‘‘ کے ہم پلہ نہ سہی لیکن بہت وقیع اور خوبصورت ہے، بہت سی جگہوں پر احمد امین نے اپنی شیریں گفتاری کا جادو جگایا ہے، اور یہ اندازہ ہر اس شخص کو ہوگاجس نے عربی زبان میں ’’حیاتی‘‘ کا مطالعہ کیا ہے۔ مجموعی اعتبار سے ’’حیاتی‘‘ میرے نزدیک ’’الایام‘‘ سے زیادہ پسندیدہ اور مفید کتاب ہے۔ اردو خواں حضرات کو بات سمجھانے کے لیے مولانا آزاد کی کتابوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مولانا آزاد کی ایک کتاب ’غبار خاطر‘ ہے، یہ خالص ادبی کتاب ہے، اور اردو انشاء کے لحاظ سے زرکامل عیار کی حیثیت رکھتی ہے، مولانا آزاد کی کتابوں میں اسی کتاب کے سب سے زیادہ ایڈیشن نکلے ہیں، لیکن علم وآگہی اور فکروتحقیق کے اعتبار سے مولانا آزاد کی دوسری کتابوں جیسے ’تذکرہ‘ یا ’ترجمان القرآن‘ کا پایہ زیادہ بلند ہے، اور اس میں ادب کا جمال بھی موجود ہے، اور ان دونوں کتابوں کی افادیت اور اہمیت ’غبار خاطر‘ سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن مقبولیت زیادہ غبار خاطر کو حاصل ہوئی ۔ ’’حیاتی‘‘ میں بھی ادب کا جمال موجود ہے، لیکن جس طرح لیلائے شب کی زلف برہم میں دمکتے ہوئے ستاروں کا حسن دیکھنے کے لیے بینائی کی شرط ہے، اسی طرح عربی زبان کی کسی کتاب کے ادبی حسن سے آشنا ہونے کے لیے عربی زبان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ ’’حیاتی‘‘ کی ادبی حیثیت بھی مسلم ہے، کتاب میں جو لطائف اور معانی ہیں اور جو افکارواقدار پیش کئے گئے ہیں وہ مستزاد ہیں ۔
احمد امین عربی کے بہترین نثرنگار، فن کار، سوانح نگار، معلم ومؤرخ، یونیورسٹی کے استاذ اور عربی ادب کے نقاد تھے۔ احمد امین بایں ہمہ قابلیت وعبقریت مجدد اور مصلح نہیں تھے، اور نہ انقلابی شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی مثال اس موسیقی کار کی طرح ہے جو کسی بستی میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کی فکر نہ کرے اور بستی کے نزدیک درخت کے سایے میں بیٹھ کر بانسری بجاتا رہے، ان کے والد نے اسی انداز سے ان کی تربیت کی تھی، ان کے والد درسی کتابوں کی تدریس وتفہیم کے ماہر تھے لیکن اخبارات کے مطالعے سے اور سیاست سے گریزاں رہتے، گردوپیش میں کوئی بیماری پھیل جائے یا سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے وہ ان سب سے بے نیاز مطالعہ میںیا اپنے معمولات میں، یا گھریلو فرائض میں مشغول رہتے۔ احمد امین نے اسلامی تاریخ اور اس کے مدوجزر کا تفصیلی لیکن معروضی مطالعہ کیا تھا، اور ایک نہیں بلکہ متعدد کتابیں اس موضوع پر لکھیں، ان پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے ’’داستان فصل گل خوش می سرائد عندلیب‘‘، ان کا مزاج خالص عقلی ، علمی اور فکری تھا۔ وہ سبک ساران ساحل کی طرح دور سے طوفاں کا نظارہ کرتے تھے، وہ جمال الدین افغانی کی طرح انقلاب بردوش شخصیت نہیں رکھتے تھے، اسی لیے مسلمانوں کے زوال اور یورپ کے عروج واقبال سے ان کا دل ویسا بے چین نہیں ہوتا تھا جیسا برصغیر میں علامہ اقبال کا یا مولانا مودودی کا ، یا مولانا ابوالحسن علی ندوی کا، یا مصر میں سید قطب شہید کا دل بے چین اور مضطرب رہتا تھا۔ اقبال کا سارا کلام، مودودی صاحب کی’’ تنقیحات‘‘وغیرہ مختلف تحریریں، اور علی میاں کی کتاب ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر‘‘اور سید قطب کی ’’جاہلیۃ القرن العشرین‘‘ ، یہ کتابیں ان حضرات کے اضطراب کی آئینہ دار ہیں، یہ اضطراب بڑی نعمت اور اللہ تعالی کا انعام ہے، اور ہر شخص کو میسر نہیں ہوتا، اسی لیے اقبال نے شکوہ کیا تھا ؂
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
احمد امین کے کئی اسفار کا اس خودنوشت میں تذکرہ ہے، اس میں ترکی کا سفرنامہ بھی ہے ، مصطفی کمال نے جو ترکی کا حلیہ بگاڑا تھا، اور اس کا قبلہ یوروپ کی طرف کردیا تھا، اس کا بس سرسری تذکرہ ہے، لیکن مصطفی کمال پر جو تاریخ اسلام کے بڑے مفسدین میں شمار کئے جانے کے لائق ہے، کوئی نقد اور کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ بگاڑ احمد امین کے ٹھنڈے مزاج کو برہم نہیں کرسکا۔ ان کی طبیعت تالاب کے پانی کی ساکن سطح کی طرح ہے کہ جس میں کوئی تموج اور تلاطم نہیں ہے، ان کا مزاج ملی اور اجتماعی معاملات میں ان کے اپنے چوب قلم کی طرح خشک ہے اور یخ بستہ ہے، یہی وجہ ہے کہ احمد امین کی علمی منزلت کی وجہ سے مولانا علی میاں نے اپنی کتاب ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ پر مقدمہ کی فرمائش کی تو انہوں نے مقدمہ تو لکھا، لیکن کتاب کی حرارت اور مقدمہ کی برودت کے درمیان تضاد پایا گیا، اور لوگوں نے محسوس کیا کہ اس مقدمہ نے کتاب کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا ہے،ا ور جب سید قطب نے کتاب پر اس کی روح کے مطابق طاقتور مقدمہ لکھا تو اس نقصان کی تلافی ہوئی اور پھر آئندہ ایڈیشن سے احمد امین کے مقدمہ کو ہٹادیا گیا۔ ان سب کے باوجود احمد امین کی علمی وادبی حیثیت مسلم ہے۔ اگرچہ طہ حسین کے حلقوں نے ان کی ادبی حیثیت کا اعتراف نہیں کیا ہے، اور طہ حسین کے شاگرد رشید شوقی ضیف نے مصر کے ادباء پر اپنی کتاب میں ان کا نام ہی غائب کردیا ، یہ حلقہ ان کو مؤرخ اور محقق تو سمجھتا ہے لیکن ادیب نہیں۔ اس حلقے کے لوگ ادب کو شعروافسانہ میں محصور سمجھتے ہیں، طہ حسین کے نزدیک حقیقی ادب بس یہی ہے، اس طرح کے نثری ادب کے لیے انہوں نے ’’الادب الانشائی‘‘کی تعبیر اختیار کی ہے، باقی تاریخ ادب اور نثر کے دیگر اصناف کو انہوں نے ’’الادب الوصفی‘‘ کہہ کرحقیقی ادب کے دائرے سے خارج کردیا ہے۔ اردو داں حلقے کے سمجھنے کے لیے اسے اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ طہ حسین کے نزدیک شبلی کی شاعری کو یا شعرالعجم کو ادب کے دائرے میں رکھا جاسکتا ہے لیکن سیرت النبی، الفاروق، اور سیرۃ النعمان جیسی کتابیں ان کے نزدیک ادب کے دائرے سے باہر ہوں گی۔ 
ضروری نہیں کہ طہ حسین کی بات صحیح مانی جائے لیکن جو بات مسلم ہے اور جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے وہ یہ کہ ’الایام‘‘ کی ادبی حیثیت اپنی جگہ پر لیکن احمد امین کی خودنوشت ’’حیاتی‘‘ علمی وفکری اعتبار سے زیادہ معتبر ، مؤقر اور مفیدتر کتاب ہے۔ اس میں ادب کی چاشنی کے ساتھ فکروعقل کی غذا کا بھی پورا سامان ہے۔ اس کتاب کی زبان وبیان کے حسن کا اعتراف عباس محمود العقاد جیسی شخصیت نے کیا ہے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ احمد امین ادیب سے زیادہ محقق اور مؤرخ تھے۔ ادیب اور شاعر بننے کے لیے جذباتیت ضروری ہے، جس کا تعلق دل سے ہے ، لیکن محقق بننے کے لیے منطقیت اور سرگرم جستجو ہونا ضروری ہے اور اس کے لیے عقلیت لازمی ہے جو احمد امین کے یہاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ 
احمد امین وہ سب کچھ بنے جو قدرت نے انہیں بنانا چاہا، انسان کی شخصیت کی تشکیل میں غیبی ہاتھ کام کرتے ہیں، اور انسان کو ادھر لے جایا جاتا ہے جدھر قدرت اسے لے جانا چاہتی ہے، اور قدرت انسان کو کدھر لے جانا چاہتی ہے کوئی بھی انسان چاہے پیغمبر ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتا ہے جب تک کہ وہاں پہنچ نہیں جاتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کے لیے تقدیر الہی کا فیصلہ تھا کہ مصر کے تاج وتخت کا ان کو وارث بنایا جائے، انہیں کنویں میں اسی لیے ڈالا گیا کہ مصر جانے والے مسافر انہیں کنویں سے نکال کر مصر لے جائیں اور پھر مصر کے بازار میں انہیں غلام بناکر اسی لیے فروخت کیا گیا کہ وہ اس بازار سے عزیز مصر کے گھر پہنچ جائیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے کہ ’’ بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرہ ناچیز ۔فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ‘‘۔ شاطر قدرت نے ان کے لیے جو طے کیا تھا وہ ان کو ملا، یہ دنیا عالم اسباب ہے، منزل تک پہنچنے کے لیے انہوں نے طویل سفر کیا، نہ تھکن کا احساس کیا، نہ انہوں نے پاؤں کے چھالے دیکھے، انہیں معلوم تھا کہ زندگی لہو ترنگ ہے جلترنگ نہیں ہے۔ انہوں نے ہمت اور مسلسل عمل سے ساحل مراد تک پہنچنے کی کوشش کی، انہوں نے ریگزار کو چمن اور بنجر زمین کو گل وگلزار بنایا، کتابیں ان کے لیے دن کی رفیق حیات اور رات کی رانیاں تھیں، انہوں نے علمی اور ادبی کاموں میں بے انتہا محنت کی، مسلسل اور بلا انقطاع پڑھنے اور لکھنے کی عادت نے علم ودانش کی دنیا میں ان کی شناخت قائم کردی، صاحبانِ نقد ونظر کی نگاہیں ان پر پڑنے لگیں، پہلے جج بنے، پھر لکچرر بنے اور پھر پروفیسر اور پھر پرنسپل اور پھر شعبہ تصنیف وتالیف کے ڈائرکٹر بنے، اعزازات سے نوازے گئے، دوسرے ملکوں کی علمی کانفرنسوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی، علم وادب کی دنیا میں انہوں نے اپنے مستقبل کو درخشاں بنایا، اور جریدۂ عالم پر انہوں نے نام اور دوام دونوں کو ثبت کردیا۔ عربی زبان وادب اور اسلامیات سے شغف رکھنے والے صرف ’’حیاتی‘‘ کو نہیں بلکہ ’’زعماء الاصلاح‘‘، ’’فجرالاسلام‘‘، ’’ضحی الاسلام‘‘ اور ’’النقد الادبی‘‘ وغیرہ کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے، اور ان کی کتابیں گردش شام وسحر کے درمیان زندہ اور تابندہ رہیں گی۔ 

سوانحی ادب کا مطالعہ دوسروں کے قیمتی تجربات سے مفت فائدہ اٹھانے کے مرادف ہے، اگر مطالعہ کی عادت ہو تو انسان مشاہدے سے زیادہ مطالعے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، انسانی زندگی پر ایک طرف قانون وراثت اپنا کام کرتا ہے، دوسری طرف حالات زندگی کا اس پر عکس پڑتا ہے۔ جب ایک انسان عظیم شخصیتوں کے تجربات اور تاریخ ساز، بلند قامت انسانوں کے حالات پڑھتا ہے تو یہ مطالعہ گزرگاہ حیات میں اس کے لیے قندیل کا کام کرتا ہے، اور وہ ان سے اکتساب نور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب کے مطالعے سے ایک قاری کو یہ سبق ملے گا کہ بچوں کی تربیت کس درجہ اہتمام کے ساتھ کرنا چاہئے اور ان کے اندر علم وادب کی تخم ریزی کس طرح کرنی چاہئے، اور خود اپنی زندگی کو اولاد کے لیے کس طرح نمونہ بنانا چاہئے، حیا اور سنجیدگی اور غم کی زیریں لہر شخصیت کی تشکیل میں کس قدر مفید ہوتی ہے، دینی ماحول اور قرآن کی تلاوت سے گھر کا ماحول کس قدر نورانی بنتا ہے۔ کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معیار زندگی کے ریس وہ لوگ کرتے ہیں جو ناہنجار اور ساقط الاعتبار ہوتے ہیں، مسابقت کا جذبہ معیار زندگی کے لیے نہیں معیار بندگی کے لیے ہونا چاہئے، تعلیم وتدریس کو ایک بوجھ بنانے کے بجائے طلبہ کے لیے مرغوب شربت کا گلاس بناکر پیش کرنا چاہئے، گندگی اور غلاظت گھر کے اندر ہو یا باہر ہواس سے وہ ذوق جمال مردہ ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ضروری ہے، ورنہ مزاج میں بدسلیقگی پیدا ہوجاتی ہے، ذوق جمال کی تربیت کے لیے پھولوں کے حسن اور مناظر قدرت سے رغبت پیدا کی جانی چاہئے، صالح انسان کی صحبت انسان کو صالح بناتی ہے، زندگی اور زبان دونوں میں شگفتگی لانے کے لیے ادبی وشعری ذوق ضروری ہے، کسی بھی کام میں محنت، صبر اور تحمل کامیابی کا زینہ ہے۔ اس طرح کے بے شمار لعل وگہر اور حکمت کے موتی ورق ورق پر چمکتے نظر آئیں گے۔ مصنف نے یہ کتاب کیا لکھی ہے گویا موتی رولنے اور آب حیات گھولنے کا کام کیا ہے۔ ان کی کتاب اس خوبصورت قبا کے مانند ہے جس پر گل بوٹے سجائے گئے ہوں۔

Friday, 22 June 2012

اسلام اور نصرانیت کے تعلقات کا تاریخی مطالعہ

اسلام اور نصرانیت کے تعلقات کا تاریخی مطالعہ


-ملک نواز احمد اعوان
کتاب : عہد ِرسالت میں اسلام اور نصرانیت کے تعلقات مکاتیب، سفرائ، وفود، غزوات، سرایا، معاہدات اور صلح نامے
مؤلف : ڈاکٹر فاروق حمادہ استاذ جامعہ محمد الخامس، رباط (مراکش)
مترجم : ابوزلفہ محمد آصف نسیم
صفحات : 252 قیمت:200 روپے
ناشر : کتاب سرائے۔ فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ غزنی اسٹریٹ ،اردو بازار۔ لاہور
فون : 042-37320318
کراچی میں ملنے کا پتا : فضلی بک سپر مارکیٹ اردو بازار کراچی
: فون021-32212991
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے اوّلین مخاطب مشرکینِ مکہ تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعوت اہلِ کتاب یعنی یہودی اور عیسائیوں یا نصرانیوں کو بھی دی۔ اس عالمانہ کتاب میں ڈاکٹر فاروق حمادہ نے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس گوشہ کو، یعنی اسلام اور نصرانیت کے تعلقات کو موضوع بناکر اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کو عربی سے اردو میں ابوزلفہ محمد آصف نسیم صاحب نے ترجمہ کرکے اردو زبان کی ثروت میں اضافہ کیا ہے۔ کتاب کے ‘‘حرفِ اوّلین‘‘ میں جناب رانا محمد شبیر قمر صاحب رقم طراز ہیں:
’’اس کتاب کی مقصدیت و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے مصنف موصوف رقم طراز ہیں:
’’اکیسویں صدی مذاہب کی بیداری اور اصحابِ مذاہب کے درمیان مکالمے کی صدی ہے، اور بسا اوقات تو یہ صدی مذاہب کی جنگ کی صدی نظر آنے لگتی ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاکر اسلامی حقائق کو مسلمانوں پر مشتبہ کرنے کی تدبیریں کررہی ہیں اور ان کے دلوں کی باتیں وقتاً فوقتاً ان کے منہ پر آتی رہتی ہیں۔ ہماری یہ عاجزانہ تالیف موجودہ نسل کے سامنے اسلام کے حقائق کو واضح کرنے کی ایک ادنیٰ کاوش ہے تاکہ بین المذاہبی تعلقات جیسے اہم ترین قضیے کی نسبت اسلام کا حقیقی مؤقف ہر شخص کے سامنے آجائے۔ چودہ صدیوں میں عالم اسلام اور عالم مسیحیت کے تعلقات کے درمیان کئی مدوجزر آئے، کئی معرکہ آرائیاں بھی ہوئیں جوکہ کروفر، غدروغا، شکست و ہزیمت اور فتح و نصرت کی کئی داستانیں رقم کرگئیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ہماری دلی تمنا ہے کہ عالمِ عیسائیت کو اسلام کے حقائق کی معرفت عہدِ رسالتؐ اور عہدِ خلفائے راشدینؓ کے اصلی اور صافی سرچشموں سے حاصل ہو‘‘۔
اس مقصد کے لیے مصنف ممدوح نے اپنی اس گراں قدر علمی کتاب کا جو خاکہ ترتیب دیا اُس کے مطابق عالم اسلام کے مسیحیت کے ساتھ تعلقات و روابط کی تفاصیل کو حسب ذیل چار ابواب اور ایک خاتمے پر تقسیم کیا ہے:
باب اوّل: مکاتیب اور سفرائ
باب دوم: وفود
باب سوم: غزوات و سرایا
باب چہارم: معاہدات اور صلح نامے
خاتمہ: اس عنوان کے تحت مذکورۃ الصدر ابواب کا خلاصہ اور نچوڑ بیان کرتے ہوئے عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسیحیت کے ساتھ تعلقات و روابط کے اثرات و نتائج سے بحث کی گئی ہے۔
ان ابواب کے ذریعے مصنف موصوف نے ان تعلقات و روابط کا دریچہ وا کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفائے راشدینؓ کی مساعی جلیلہ کا آئینہ دار ہے۔ تہذیبی تصادم اور مذاہب کی کشاکش کے اس عہد میں اس کتاب کے مشمولات سے ہمیں اپنے طرزِعمل کو متعین کرنے کے لیے اصول و ضوابط کا اخذ و اکتساب کرنا ہوگا تاکہ عالم اسلام کے مسیحیت کے ساتھ اور مسیحیت کے مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے ادراک کے راستے کھل سکیں۔ امتِ محمدیہؐ چونکہ امتِ دعوت ہے اور تمام عوالم و آفاق کی انسانیت اس کی مدعو ہے، اس لیے ہمیں اپنے داعیانہ کردار کی علیٰ منہاج نبوت ادائیگی کے لیے اپنی موجودہ اضمحلال پذیر صورت حال پر ازسرنو غور و فکر کرکے مستقبل کی راہیں متعین کرنا ہوں گی۔ اس ضمن میں ہمیں موجودہ افراط و تفریط پر مبنی رویوں پر نظرثانی کرکے عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا داعیانہ طرزِعمل اپنانا ہوگا، تاکہ جناب ختمی مرتبتؐ کی رسالت عالمینی کے تصدق ہمیں ’’خیرِ امت‘‘ کا جو منصب عطا ہوا ہے اس کے تقاضوں سے ہم صحیح معنوں میں عہدہ برآ ہوسکیں۔ اگر ہم نے اپنی اس حیثیت کا ازسرنو ادراک نہ کیا، اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی، اگر ہم اسی ڈگر پر چلتے رہے، نبضِ زمانہ کی تشخیص سے بے توجہی برتی، عصرِ حاضر کے حقائق کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہے، اور اس تناظر میں بحیثیت امتِ دعوت اپنی دعوتی ذمہ داریوں سے تساہل اور غفلت کوشی کا مسلسل ارتکاب کرتے رہے، تو پھر ہمیں نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ اگر ہم یونہی تغافل و بے عملی کا شکار رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم سے یہ منصب چھین کر کسی اور قوم یا ملّت کو اس کا علم بردار بنادیا جائے۔ میری یہ باتیں محض خطیبانہ تعلی یا محض ادیبانہ انشا پردازی نہیں ہیں، بلکہ انہیں قرآن و سنت کی منصوص پشت پناہی حاصل ہے اور ارباب علم و دانش اس سے بے خبر نہیں ہیں۔
امتِ مسلمہ کے اربابِ علم و دانش میں بالخصوص اور جمیع عامۃ الناس میں بالعموم اس داعیے کو بیدار کرنے کے پیش نظر عالمِ عرب کے دردمند دانش ور اور صاحبِ فکر ادیب پروفیسر ڈاکٹر فاروق حمادہ کی یہ عالمانہ و فاضلانہ تصنیف آپ کی خدمت میں اردو کے قالب میں پیش کی جارہی ہے۔ مولانا ابوزلفہ محمد آصف نسیم صاحب مدظلہٗ نے اس کا ترجمہ نہایت سلیس، شستہ اور رواں دواں اسلوب میں کرکے اردو کے قارئین کی ایک اہم ضرورت پوری کردی ہے‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے منفرد کتاب ہے۔ اردو کی لائبریری میں وقیع اضافہ ہے۔ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔ رنگین سرورق سے مزین ہے۔
کتاب : عظمت ِاسلام فی القرآن و بائبل
مصنفہ : محترمہ نازش شہزاد
صفحات : 242 قیمت: 220 روپے
ناشر : کتاب سرائے۔ فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ غزنی اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور
: فون042-37320318
کراچی میں : فضلی بک سپر مارکیٹ۔ اردو بازار ،کراچی
021-32212991
محترمہ نازش شہزاد صاحبہ کا خصوصی مطالعہ کا میدان اہلِ کتاب میں دعوتِ اسلام ہے۔ خصوصاً عیسائی بھائیوں کو دعوتِ اسلام ہے۔ اسی سلسلے میںانہوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ وہ تحریر فرماتی ہیں:
’’بائبل اور دیگر کتب کے مطالعے سے یہ بات بہت زیادہ واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ موجودہ عیسائیت کی تعلیمات کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نہیں بلکہ پولس (St.Paul) نے رکھی اور اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے منسوب کردیا۔ اس کتاب میں حتی الامکان اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ الفاظ کا آسان استعمال ہو اور کوئی بات حوالے کے بغیر نہ ہو تاکہ عام قاری کو بآسانی سمجھ آئے۔
اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ عیسائی بہن بھائیوں پر کتابِ مقدس کی روشنی میں یہ بات واضح کی جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیائے کرام علیہ السلام کی تعلیمات سے اتنے دور ہیں کہ ان کے بالکل برعکس تعلیمات پر عمل کررہے ہیں، اور دوسرا یہ کہ آپ سب کو اس دین کی طرف بلایا جائے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیائے کرام علیہ السلام کا دین ہے اور جس کا ثبوت یہ ہے کہ تمام انبیا اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی تھی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے‘‘۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر13)
الحمدللہ میں مسلمان ہوں اور اس کتاب کو لکھنے کا مقصد آپ کو اس دین کی طرف بلانا بھی ہے جو مجھے خود اپنے لیے بھی پسند ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور اپنی رحمت سے اسے اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ اس کتاب کے لکھنے میں جن لوگوں نے تعاون کیا ہے میں ان سب کی شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس تعاون کے لیے اجر عظیم عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کی ہدایت اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور عالمِ اسلام اور ہمارے ملک کے حالات بہتر فرمائے۔ (آمین ثم آمین)‘‘
کتاب میں ایک مضمون ایک نومسلم سابق پادری جناب گلزار احمد صاحب کے قلم سے ہے، عنوان ہے ’’ہم پر کفار کی کتابوں کا تعارف حاصل کرنا کیوں ضروری ہے؟‘‘ اس میں وہ زیرنظر کتاب کے متعلق اپنی رائے تحریر فرماتے ہیں:
’’میں اِس وقت اس ایک کتاب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب بنام ’’عظمتِ اسلام فی القرآن و بائبل‘‘ مجھے پڑھنے کا موقع ملا جس میں مصنفہ نے بائبل اور قرآن کے مطابق حقانیت ِاسلام پر بحث کی ہے جو ہر مسلمان کو کرنی چاہیے۔ اس بات پر بہت خوش ہوں کہ مصنفہ نے یہ حق ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو مزید مدد دے اور رہنمائی فراہم کرے۔ (آمین)‘‘
اس کے علاوہ گلزار احمد صاحب نے قیمتی معلومات عیسائیت سے متعلق بہم پہنچائی ہیں جس میں کرسمس، کرسمس کی تاریخ، 25 دسمبر کو کرسمس کیسے منایا جانے لگا، کرسمس کی رسمیں سانتا کلاز وغیرہ سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ باب اوّل میں بانیٔ عیسائیت یعنی پال یا پولس کے نظریات یا اعمال کا ذکر ہے، باب دوم عقیدہ تثلیث سے بحث کرتا ہے، باب سوم عقیدۂ کفارہ اور باب چہارم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، کتابِ مقدس میں بشارت کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں سترہ بشارتیں اور چودہ دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ باب پنجمکا عنوان ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے مقام کی وضاحت ہے۔ عمدہ، شائستہ اور معلومات افزا کتاب ہے۔ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔ مجلّد اور رنگین سرورق سے مزین ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے تحفہ ہے۔