Search This Blog

Showing posts with label CURRENT AFFAIRS. Show all posts
Showing posts with label CURRENT AFFAIRS. Show all posts

Wednesday, 12 April 2017

ضرورت ہے خود احتسابی کی ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ضرورت ہے خود احتسابی کی

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

درخت جب اندر سے کھوکھلا ہو کر سوکھ جائے تو اس کو گرانے میں نہ دیر لگتی ہے اور نہ دشواری پیش آتی ہے۔ درخت کاٹنے والا بہت آسانی سے اور کم وقت میں اس کو کاٹ دیتا ہے؛ بلکہ جڑیں تک اکھیڑ دیتا ہے، یہی حال قوموں اور گروہوں کا ہے، جو قوم خود اپنے نظریہ پر عمل نہیں کرتی، جو گروہ خود اپنے اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتا، جس کے قول و فعل میں کھلا ہوا تضاد ہوتا ہے، جو الفاظ کے دریا تو بہا سکتا ہے؛ لیکن عملی دنیا میں اس کی بساط ایک قطرہ سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ قوم اپنی بقاء کی لڑائی نہیں لڑ سکتی اور نہ اپنے چابک دست دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے، قرآن مجید نے یہودیوں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے یہی بات کہی ہے کہ ان کے قول و فعل میں یکسانیت نہیں ہے۔

اس وقت مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں، وہ دشمنوں کی دشمنی کا رونا روتے ہیں؛ لیکن حقیقت میں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا رونا رویا جائے، جن لوگوں کو آپ کی فکر، آپ کے عقیدہ، آپ کے طرزِ زندگی، آپ کی تہذیب و ثقافت، آپ کے تاریخی ورثہ؛ یہاں تک کہ آپ کے وجود اور آپ کے نام سے بھی نفرت ہے، ان سے اس بات کے سوا اور کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے؛ ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ آپ کے دین کا تحفظ کریں گے اور آپ کی شریعت کو محفوظ رکھیں گے، ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ سے پیاس بجھانے کی اور برف سے ایندھن کے کام آنے کی توقع رکھے؛ اس لئے ہندوستان کے موجودہ حالات میں ضرورت ہے کہ جہاں ہم عوامی رائے عامہ کے ذریعہ پُرامن احتجاج کریں، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان پوری جرأت اور اعترافِ حقیقت کے ساتھ آپ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے طرزِ عمل میں ایک بنیادی تبدیلی لائیں۔

اس وقت حکومت سے ہم جن مسائل میں نبرد آزما ہیں، اس کے بارے میں ہم خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا یہ رویہ کس حد تک دین کے مطابق ہے؟

اس وقت ایک پیچیدہ اور نازک مسئلہ بابری مسجد کا ہے، اس میں شبہ نہیں کہ یہ مسجد تھی، مسجد ہے اور یہ شرعاً ہمیشہ مسجد ہی رہے گی، نیز بجا طور پر حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس مقدمہ کا خود ساختہ عقیدہ اور آستھا کے نقطۂ نظر سے نہیں؛ بلکہ ملکیت کے لحاظ سے اس کا جائزہ لیا جائے، ہمارا یہ دعویٰ سوفیصد درست ہے؛ لیکن غور کیجئے کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اوقاف کی جتنی جائیداد پر حکومت اور ہمارے غیر مسلم بھائی قابض ہیں،اسی قدر یا اس سے بھی زیادہ اوقاف کی جائیداد کے بڑے حصہ کو ان کے متولیوں نے بیچ دیا ہے، خود مسلمان وقف کی جائیداد پر قابض ہیں، جس عمارت کا کرایہ پانچ، دس ہزار روپئے ہونا چاہئے، خود مسلمان اس کا کرایہ پچاس اور سو روپئے ادا کرتے ہیں، یہاں تک کہ مسجدوں کے املاک پر بھی مسلمانوں نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم خود تو اوقاف میں بے جا تصرف کریں اور اپنی ذاتی املاک کی طرح اس میں تصرف کریں اور حکومت سے اس بات کی توقع رکھیں کہ وہ ہمارے اوقاف کی اور ہماری مسجدوں اور قبرستانوں کی حفاظت کرے گی۔

اسلام نے نکاح کو بہت آسان رکھا ہے، مسلمان عید، بقرعید میں جتنا خرچ کرتے ہیں، نکاح میں اتنا خرچ کرنا بھی ضروری نہیں، صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے،جس میں نہ کوئی کرایہ خرچ ہوتا ہے اور نہ سجاوٹ کی گنجائش ہوتی ہے، نکاح کے ساتھ صرف ایک دعوت، ’’دعوتِ ولیمہ‘‘ رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے قیمتی ولیمہ فرمایا وہ اس طور پر کہ ایک بکرا ذبح کیا؛ البتہ نکاح میں ایک لازمی ذمہ داری مہر کی ہے اور اس کو عقد کے وقت ہی ادا کردینا مسنون ہے۔

لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ برادرانِ وطن کا اثر قبول کرتے ہوئے نکاح کو نہایت ہی مشکل عمل بنا دیا گیا ہے،جس میں بعض اوقات لڑکی والے اپنا گھر تک بیچ دیتے ہیں، لڑکی والوں پرجہیز کا بارگراں تو ہے ہی، ایک بڑی نقد رقم کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے، فنکشن ہال اور کھانے کے مینو تک کی تعیین ہوتی ہے اور یہ سارا بوجھ لڑکی والوں کے سر ڈالا جاتا ہے، دوسری طرف مہر ایک رسمی چیز بن کر رہ گئی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ اگرطلاق کی نوبت آئی تب مہر ادا کیا جائے گا، اس طرح اسلام کا تصور نکاح مسخ ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں امت کی لاکھوں بیٹیاں سسک سسک کر تجرد کی زندگی گزار رہی ہیں، اس غیراسلامی اور غیراخلاقی عمل پر ہمیں حکومت یا قانون نے مجبور نہیں کیا ہے؛ بلکہ یہ ہمارا اپنا بگاڑ ہے۔

شریعت کے خاندانی زندگی سے متعلق قوانین میں مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی ہے، یہ گنجائش اس لئے؛ کہ معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی باقی رہے، بہت سی دفعہ یہ اجازت ایک سماجی ضرورت بھی بن جاتی ہے؛ لیکن قرآن نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ شوہر دونوں بیویوں کے درمیان عدل سے کام لے، اگر وہ عدل قائم نہ کر سکے تو اس کے لئے دوسرا نکاح کرنے کی گنجائش نہیں ’’وَ اِنْ لم تعدلوا فواحدۃ‘‘ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دوسری شادی کے جو واقعات پیش آتے ہیں، ان میں نوے فیصد واقعات میں دوسرا نکاح کسی ضرورت اور سنجیدہ جذبے کے ساتھ نہیں کیا جاتا؛ بلکہ پہلی بیوی کو تکلیف پہنچانے کے لئے انتقامی جذبہ سے کیا جاتا ہے اور انصاف کی شرط کو اس طرح بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے کہ ایک بیوی کے ساتھ تو محبوبہ اور معشوقہ کا معاملہ کیا جاتا ہے اور دوسری کو اس طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ نہ اسے بیوی کے حقوق ملتے ہیں اور نہ وہ شوہر کی زندگی سے آزاد ہوتی ہے، اس کو لٹکا کر رکھا جاتا ہے ، اس طرزِ عمل سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے، لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ ایک درست حکم کا غلط استعمال ہے؛ اس لئے وہ خود اسلام کو اس خدا ناترس شخص کی غلطی کا مجرم سمجھنے لگتے ہیں، حالاںکہ شریعت نے نہ صرف یہ کہ عدل کی شرط کے ساتھ دوسرے نکاح کی اجازت دی ہے؛ بلکہ اس بات کو بہتر قرار دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت نہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفاء کیا جائے، ایک بیوی کی موجودگی میں بلاضرورت دوسرا نکاح کرنے سے گریز کیا جائے۔

نکاح کا رشتہ محبت و سکون کا رشتہ ہے؛ تاکہ شوہر و بیوی پُر سکون زندگی گزار سکیں، اسی رشتہ سے نسل انسانی کا بقاء اور خاندانی نظام کا استحکام متعلق ہے؛ اسی لئے شریعت کا منشا یہ ہے کہ جب ایک بار رشتۂ نکاح قائم ہوجائے تو اسے استوار رکھا جائے اور حتی المقدور اس کو ٹوٹنے سے بچایا جائے، شوہر کی طرف سے رشتۂ نکاح کے ختم کردینے کو طلاق کہتے ہیں اور بیوی کے مطالبہ پر شوہر کے رشتہ ختم کردینے کو خلع، شریعت میں طلاق کو بھی ناپسند کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اس کو تمام جائز چیزوںمیں سب سے مبغوض اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر بھی لعنت بھیجی ہے، جو کسی نامعقول سبب کے بغیر خلع کا مطالبہ کرے، پھر اگر طلاق دینی ہی پڑے تو ایک اور زیادہ سے زیادہ دو فعہ دینی چاہئے ، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا سخت گناہ ہے، اس سے قطع نظر کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار کی جائیں گی یا ایک؟ اس بات پر تمام ہی اہل علم متفق ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا گناہ ہے۔

لیکن مسلم سماج میں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو نوے فیصد طلاق کے واقعات غصہ، وقتی رنجش یا شوہر کے رشتہ داروں کی طرف سے چڑھانے اور اُکسانے کی بنا پر پیش آتے ہیں، اور اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ بہت سے واقعات میں ایک ساتھ تین طلاقیں دیدی جاتی ہیں، اسی طرح عورتوں کی طرف سے خلع کے مطالبات بعض دفعہ بہت ہی معمولی اسباب اور قوتِ برداشت کی کمی کی بنا پر کئے جاتے ہیں، مسلمانوں کا یہ عمل برادرانِ وطن کے درمیان اسلام کی غلط تصویر پیش کرتا ہے اور یہی تصویر ذریعہ ابلاغ کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے، اس میں شبہ نہیں کہ اس میں ذرائع ابلاغ کی مبالغہ آمیزی کا بھی دخل ہوتا ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سماج ہی اس کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

شریعت اسلامی نے مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کا ایک جامع، مربوط اور عادلانہ نظام پیش کیا ہے، اس میں کچھ رشتہ دار وہ ہیں جو’’ اصحاب الفروض‘‘ کہلاتے ہیں، یہ وہ حضرات ہیں جن کے حصے خود قرآن مجید میں پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، ان میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں، شوہروں کی طرح بیویاں بھی ہیں اور اولاد کی طرح ماں باپ بھی ہیں؛ لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اس تقسیم پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے، اکثرو بیشتر ماں باپ کے ترکہ پر بیٹے قبضہ کرلیتے ہیں، یعنی اپنی بہنوں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں، بعض دفعہ خود والدین کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے کہ مکان، کاروبار اور زمین دار گھرانوں میں زرعی اراضی پر بیٹیوں کو حق نہ دیا جائے، انہیں تھوڑا بہت نقد رقم دے کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کی شادیوں پر پہلے کافی اخراجات ہوچکے ہیں، اسی طرح مرنے والے کا پورا ترکہ لڑکے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں، ماں باپ کا حصہ نہیں دیتے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ ماں کی پرورش کے لئے ہم لوگ کافی ہیں، اب انہیں ترکہ میں حصہ کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ اگر کوئی جواں سال یا ادھیڑ عمر شخص کا انتقال ہوگیا، اس نے بوڑھے والدین بھی چھوڑے اور جواں بیوی اور بچے بھی، تو بیوی بچے پورے ترکہ پر قابض ہوجاتے ہیں، اور وہ بوڑھے ماں باپ جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے ان کی پرورش کی تھی اور چھوٹے سے بڑا کیا تھا، ان کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

یہ سب ظلم کی مختلف صورتیں ہیں، جو ہمارے سماج کا معمول بن چکی ہیں، اللہ تعالیٰ نے میراث کو بے جا تصرف سے روکنے کے لئے صراحت فرمائی ہے کہ یہ ’’فریضۃ من اللہ‘‘ ہے یعنی یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حصہ ہے، یہ انسان کا مقرر کیا ہوا حصہ نہیں ہے کہ اس کو اس میں کمی بیشی کا اختیار ہو، اسلام کے علاوہ کوئی مذہب نہیں جو عورت کو حق میراث دیتا ہو، دنیا کے دوسرے قوانین نے بھی اسلام کے قانون میراث سے استفادہ کیا ہے؛ لیکن بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے لئے روشنی فراہم کرتے، ہم نے خود اپنی زندگی میں شریعت کا چراغ بجھا دیا ہے۔

اسلام نے تقسیم میراث کی بنیاد اس اصول پر رکھی ہے کہ قریب ترین رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار ترکہ کا مستحق نہیں ہوگا؛ اس لئے اگر مرنے والے کے بیٹے بھی موجود ہوں اور ایسے پوتے بھی جن کے والد دنیا سے گزر چکے ہیں تو چچائوں کے مقابلہ میں باپ سے محروم پوتوں کو ترکہ میں حصہ نہیں ملے گا؛ لیکن شریعت نے ان کے لئے دوسرا راستہ کھلا رکھا ہے، ایک یہ کہ دادا ترکہ سے محروم ہونے والے پوتوں کے لئے وصیت کردے؛ تاکہ دادا کی وفات کے بعد ان کو بھی کچھ مل جائے، اور اس ایک تہائی ترکہ تک وصیت کرنے کی گنجائش ہے، دوسری گنجائش یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں پوتوں کو کچھ ہبہ کردے۔ اس طرح وہ اپنے ضرورت مند پوتوں، پوتیوں اور نواسوں، نواسیوں کی مدد کر سکتے ہیں؛ لیکن افسوس کہ اس جانب بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔

اسلام کا قانون نفقہ ایک جامع قانون ہے، جو انسان کو پیش آنے والی تمام صورت حال کا احاطہ کرتی ہے؛ اس لئے جیسے اولاد کا نفقہ باپ پر اور باپ نہیں ہو تو دادا پر واجب ہوتا ہے اور بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، اسی طرح بعض حالات میں بھائیوں، بہنوں اور چچائوں وغیرہ پر بھی بے سہارا خواتین اور یتیم بچوں کا نفقہ واجب ہے؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت مطلقہ یا بیوہ ہوجائے تو بھائی سمجھتا ہے کہ اس پر اس کی بہن کے نفقہ کی ذمہ داری نہیں، یا بچے یتیم ہوجائیں تو چچا یہ نہیں سمجھتے کہ اب ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہمارے بھائی کے بچوں کی بھی ہم پر ذمہ داری ہے؛ بلکہ اگر کبھی کچھ حسن سلوک کرد یا تو اس کو ایک احسان خیال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ہے کہ غیرمسلم معاشرہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں بے سہارا عورتوں اور بچوں کی کفالت و پرورش کا کوئی مستحکم نظام نہیں ہے ، غلط تصور پر مبنی اس تصویر میں میڈیا کے لوگ رنگ بھر کر اسے اور خوفناک بنادیتے ہیں اور اسلام کو نعوذ باللہ ایک بے رحم اور غیر منصف مزاج مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت عدالتیں ایسے فیصلے کر رہی ہیں جو واضح طور پر شریعت سے متصادم ہیں، لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اس کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب خود مسلمان اپنے مقدمات سرکاری عدالتوں میں لے کر جاتے ہیں، اپنے علماء اور قاضی و مفتی سے رجوع کرنے کے بجائے ان لوگوں سے اپنا معاملہ طے کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو نہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں، نہ رسول پر، قرآن کے بیان کے مطابق یہ ایک منافقانہ طرز عمل ہے کہ زبان سے تو ہم اللہ اور اس کے رسول کی بات مایں اور عملی طور پر ہم اسے نظر انداز کردیں۔

اگر ہمیں ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے دینی تشخص کو بچانا ہے تو سر کٹانے کا جذبہ کافی نہیں، پہلے ہمیں اپنے اندر سر جھکانے کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے، شریعت کے احکام خواہ ہماری چاہت اور مفادات کے خلاف ہوں؛ لیکن ہم اس کے سامنے جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشوں اور چاہتوں پر غالب رکھیں؛ کیوںکہ جس قول کے پیچھے عمل کی طاقت نہ ہو، وہ دوسروں کو قائل نہیں کرسکتا، جو شخص اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہو اور اس کا جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو، اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ باہر کے دشمنوں کا مقابلہ کرسکے۔



Monday, 2 September 2013

نیل کے ساحل سے تابہ خاک کا شغر

نیل کے ساحل سے تابہ خاک کا شغر

…افشاں مراد ؤ…

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر
ایسے ہی وقت کے لیے شاعر نے یہ بات کہی تھی کہ تمام امت مسلمہ جسدِ واحد ہے۔ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم تڑپنے لگتا ہے اور اس تکلیف اور اذیت کو محسوس کرتا ہے، جیسا کہ آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ بحیثیت مسلم امہ مصر‘ شام‘ فلسطین‘ افغانستان‘ عراق یا پھر پاکستان میں، جہاں جہاں مسلمان تکلیف میں ہیں ہم ان کی تکلیف اور اذیت کو اپنے جسم، اپنی روح پر محسوس کرتے ہیں۔
آج ہمارے اپنے ملک میں رہنے بسنے والے بہت سے صحافی اور سیاستدان جو کہ یو ایس ایڈ پر پل رہے ہیں، وہ ہم جیسے لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ہم دو لاکھ شامیوں کا قتل عام بھول جائیں کیونکہ وہ میرے ملک کے نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رابعۃ العدویہ کی مسجد کے ساتھ جلنے والی لاشیں بھول جائو کیونکہ وہ 5000 کلومیٹر دور ہیں۔
سات سمندر پار بیٹھے امریکا کی جنگ اپنے گھر کھینچ کر لانے والے روشن خیال کہتے ہیں: افغانی مائوں کی تڑپ اور چیخوں کو بھول جائو۔ ملالہ ملالہ کا راگ الاپنے والے کہتے ہیں کہ ان شامی معصوم پھولوں کو بھول جائو جن کو کیمیکل بمباری کے ذریعے تڑپا تڑپا کر شہید کردیا گیا۔
جبکہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ امت جسدِ واحد کی طرح ہے، ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوتا ہے۔‘‘
پھر میں اپنے بھائیوں‘ بہنوں‘ مائوں‘ بیٹوں کے گرنے والے خون کے ہر قطرے پر کیوں نہ روئوں‘ کیوں نہ چلاّئوں‘ کیوں نہ آہیں بھروں… صرف اس لیے کہ وہ پاکستانی نہیں ہیں؟ اس وقت مصر اور شام میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ جس طرح توڑے جارہے ہیں وہ قابلِ شرم‘ قابلِ مذمت اور قابلِ گرفت ہے۔
تقریباً دو ماہ سے جس طرح مصر میں زندگی مفلوج ہے وہ کیا اقوام عالم کو نظر نہیں آرہی؟ جس طرح مصر میں اخوان المسلمون کے نہتے کارکنان کو وہاں کی سیکورٹی فورسز بکتربند گاڑیوں تلے روند رہی ہیں، ان پر گولیاں برسا رہی ہیں، کیا دنیا کی تمام مہذب اقوام و ممالک اندھے ہیں؟ کیا انہیں وہ لاشیں، وہ زخمی، وہ سسکتے، بلکتے، کراہتے لوگ نظر نہیں آرہے جو اپنے پیاروں کی لاشیں لیے تدفین کے انتظار میں بیٹھے ہیں؟ اب تک تقریباً پانچ ہزار افراد اس سفاکیت اور ظلم کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن لوگوں کے جوش و جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس وحشیانہ کارروائی کے نتیجے میں مصر کے کتنے جید عالم، مفسرینِ قرآن اور علمائے دین شہادت کے درجے پر فائز ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرحمن العویس بھی اس حملے میں ختم ہوگئے جوکہ جامعہ قاہرہ میں تفسیر اور علومِ قرآنی کے پروفیسر اور ہزاروں علماء اور اسکالرز کے استاد تھے۔ اس کے علاوہ کتنے ہی صحافی‘ کتنے ہی عالم‘ کتنے ہی مرد و زن ان وحشیانہ کارروائیوں میں کام آگئے۔
قاہرہ اور نصر سٹی کے درجنوں خاندان ایسے ہیں جن کا کوئی فرد اب زندہ نہیں بچا۔ مسجد رابعۃ العدویہ اور مسجد قاہرہ کو بھی سیکورٹی فورسز نے شہید کردیا۔ قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی کی گئی۔ اس ظلم و سفاکیت کی مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ السعود الشریم اور سعودی عرب کے مذہبی اسکالر شیخ محمد عریفی اور عالم اسلام کے سب سے بڑے عالم دین یوسف القرضاوی نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیخ شریم نے مصر کی فوج کے ہاتھوں نشانہ بننے والے اسلام پسندوں کو افضل ترین شہید قرار دیا ہے۔ اس وقت بھی مسجد رابعہ العدویہ کے قریب الایمان مسجد میں سینکڑوں لاشیں تدفین کی منتظر ہیں۔
اخوان المسلمون نے قاہرہ میں گزشتہ تقریباً دو ماہ سے جاری دھرنے کو ختم کروانے کے لیے پولیس ایکشن کے نتیجے میں اپنے کارکنان کی شہادت کے خلاف جمعہ کو دوسری مرتبہ ’’یوم الغضب‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا، اور نماز جمعہ کے بعد قاہرہ سمیت ملک بھر سے 28 ریلیاں نکالی گئیں۔ اس سے قبل حسنی مبارک کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران 28 فروری 2011ء کو اخوان المسلمون نے ’’یوم الغضب‘‘ منایا تھا۔ اب یہ دوسرا ’’یوم الغضب‘‘ منایا گیا۔
محمد مرسی 30 جون 2012 ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کے پہلے منتخب صدر بنے تھے۔ مگر ان کی صدارت کے ایک سال بعد ہی ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کی اسلام پسند پالیسیوں نے اسرائیل‘ امریکا اور ان کے حامی ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا، جس کی وجہ سے ملک میں یہ انارکی پھیلائی گئی۔ مرسی کے مخالفین کا کہنا تھا کہ مرسی کی حکومت معاشی اور سیکورٹی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے مرسی کو یہ عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ جبکہ مرسی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ان کو مزید وقت دینا چاہیے۔ مگر 3جولائی کو غیرقانونی طور پر مرسی کا تختہ الٹ کر فوجی بغاوت کی گئی اور اس کے بعد مصر میں عبوری حکومت بنادی گئی، اور اس کے بعد 47 دن کے پُرامن دھرنے کے مظاہرین پر گولیاں برسادی گئیں۔ اخوان المسلمون کے رہنما ڈاکٹر عبدالبدیع نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جتنے چاہے افراد ہلاک کرو، ہم یہاں سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ا س آپریشن میں ڈاکٹر بدیع کا بیٹا اور پوتا بھی شہید ہوچکے ہیں، خود ڈاکٹر بدیع کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس کے ساتھ معروف اخوانی رہنما محمد البلتاجی کی صاحبزادی اسماء البلتاجی اور سابق وزیر ثقافت احمد عبدالعزیز کی صاحبزادی حبیبہ بھی سیکورٹی فورسز کا نشانہ بن چکی ہیں اور شہادت کے درجے پر فائز ہوچکی ہیں۔
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے اخوان المسلمون پر مصری افواج کی سفاکیت اور اس پر عالم اسلام خصوصاً عرب ممالک اور اقوام متحدہ کے کردار کو اسلامی دنیا کے لیے المیہ قرار دیا ہے، جبکہ ترکی نے اخوان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اوباما نے بھی مصری فوج کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ڈنمارک نے بھی مصر کی امداد روک دی ہے‘ مگربدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح اِس دفعہ بھی OIC اس صورت حال پر دم سادھے ہوئے ہے اور سعودی عرب نے مصر میں جاری آپریشن کی حمایت کی اور مصری فوج کو 5 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور کویت نے مصر کی عبوری حکومت کو تیل اور گیس سمیت 12 ارب ڈالر مالیت قرضے اور گرانٹس دینے کا ارادہ کیا ہے۔ اس سے عرب دنیا کی بے حسی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مصر کی اس صورت حال نے تمام مسلمان ممالک کو بے چین و مضطرب کردیا ہے اور مصری فوج کے ظلم و سفاکیت نے چنگیز و ہلاکو خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت OIC اور اقوام متحدہ کا یہ فرض ہے کہ وہ مصر میں جمہوری حکومت بحال کروائیں، اور اتنے لوگوں کے قتل کے جرم میں جنرل السیسی کا کورٹ مارشل کرکے اس کو تختہ دار پر چڑھایا جائے۔

مصر اخوان اور مسلم امہ


مصر اخوان اور مسلم امہ

افسانہ مہر
دنیا میں ملکوں اور قوموں پر حکومت کے دو ہی طرز ہیں: بادشاہت یا جمہوریت۔ آج کی دنیا میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ممالک میں جمہوری طرزِ حکومت پسند کیا جاتا ہے اور عوام کی اکثریتی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ پچھلے سال مصر میں بھی جمہوریت کی بنیاد پر الیکشن عمل میں آئے اور وہاں اخوان المسلمون نامی اسلامی تحریک نے 51 فیصد ووٹ حاصل کرکے جولائی 2012ء میں اپنی جمہوری حکومت قائم کی ۔ مصر کی کل آبادی 9کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اسلامی حکومت کی عمر مصر میں بمشکل ایک سال ہوپائی کہ لبرل عوام اور فوج نے مل کر اخوان حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور اخوان اس اقدام کے خلاف احتجاج کے لیے مصر کی سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی موجودہ کشیدگی کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے تحریک اخوان المسلمون کے اغراض و مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔
پوری عرب دنیا میں اسلامی احیاء اور اسلامی کلچر کے نفاذ کے لیے کوشش کرنے والی تحریک اخوان المسلمون ہے۔ اخوان المسلمون کو حسن البناء شہید نے 1928ء میں قائم کیا۔ آج یہ تحریک صرف مصر میں ہی نہیں بلکہ شام، اردن، لبنان اورفلسطین میں بھی موجود ہے۔
ایک مرتبہ جب حسن البنائؒ سے اخوان المسلمون کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یہ اخوان المسلمون کیا ہے، تو آپ نے فرمایا:
-1 یہ دراصل سرچشموں (قرآن، سنت ِرسولؐ) کی طرف لوٹنے کی دعوت ہے۔
-2 یہ تصوف ہے۔ ہم دل کی طہارت اور نفس کی پاکیزگی چاہتے ہیں۔
-3 یہ سیاسی تنظیم ہے۔ ہم حکومت میں اصلاح کا مطالبہ چاہتے ہیں۔
-4 یہ ورزش کی ٹیم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ایک ایک نوجوان صحت مند ہو۔
-5 یہ وطنی اور ثقافتی انجمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک کلب کا ماحول پیدا ہو۔ نوجوان یہاں آئیں اور اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں۔ کلچر میں حصہ لیں اور لکھنا‘ بولنا‘ گانا سب دین کی خاطر کرنے کی عادت ڈالیں۔
-6 یہ معاشی کمیٹی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ایک ایک آدمی بزنس کے اعلیٰ ترین مقام پر ہو اور معیشت کو سیدھا راستہ دکھا سکے۔
-7 یہ ہماری معاشرتی اسکیم ہے۔ ہم معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔
جتنا اسلام جامع ہے اتنی ہی ہماری تحریک بھی جامع ہے۔ حسن البنائؒ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
ہماری تحریک کی 3 بنیادیں ہیں:
-1 گہرا ایمان
-2 دقیق تنظیم
-3 پیہم جدوجہد
ہم دیکھتے ہیں کہ اخوان المسلمون کی تنظیم میں گہرا ایمان پایا جاتا ہے۔ ایک مہینہ کے مستقل احتجاج نے ان کے عزم میں کمی نہیں کی ہے۔ مسلسل فوجی جارحیت کی وجہ سے عمل میں آنے والی شہادتوں کی تعداد 1000 کے لگ بھگ ہوچکی ہے۔ لیکن جواب میں اخوان نے ابھی تک ہتھیار نہیں اٹھائے۔ ان کا احتجاج پُرامن احتجاج ہے۔ آج رابعہ العدویہ میں CNN اور BBC کی رپورٹ کے مطابق لاکھوں لوگ احتجاج کررہے ہیں جو دنیا کا عظیم ترین احتجاج ہے۔ امریکا اور یورپ جمہوریت کے حامی ہیں لیکن مصر میں جس طرح جمہوریت کو پامال کیا گیا اور فوجی مداخلت کرکے مرسی حکومت کا تختہ الٹا گیا یہ عمل جمہوریت کی دنیا کا سیاہ باب ہے، اس کے باوجود جمہوریت کے علَم برداروں کی خاموشی اور مصر میں فوجی حکومت کی سرپرستی کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ اخوان المسلمون کی قربانیاں مصر میں آج سے نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری ہیں، پھر بھی اخوان مصر میں ایک مضبوط تنظیم ہے۔ مصر میں اخوان کے اسکول گورنمنٹ کے اسکولوں سے بہتر ہیں، اخوان کے اپنے اسپتال گورنمنٹ کے اسپتالوں سے بہتر ہیں، اور اخوان کے جگہ جگہ قائم کردہ بینک گورنمنٹ کے بینکوں سے بہتر ہیں، اسی لیے لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے اخوان کے اسکولوں‘ اسپتالوں اور بینکوں کی طرف آتے ہیں۔ شہرشہر اور گائوں گائوں اخوان کے کاموں سے مزین ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مصر میں اخوان کا نیٹ ورک بنیادی طور پر بہت مستحکم ہے۔ یہی نہیں بلکہ اخوان کے لیڈران بہت تعلیم یافتہ رہے ہیں۔ جناب حسن البناء شہید کے بعد شیخ حسن اسماعیل حزیری نے قیادت سنبھالی جو کہ مصر کے بہترین ججوں میں سے تھے۔ ان کے بعد عمر تلمسانی آئے جو مصر کے وکیل تھے۔ اور ان کے بعد ڈاکٹر محمد بدیع ہیں جن کا شمار آج دنیا کے 4بہترین سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ غرض اخوان المسلمون عرب دنیا میں احیائے اسلام کی ایک بہترین اور مضبوط تنظیم ہے جو لبرل اور غیر مسلموں کی آنکھوں میں شروع سے کھٹکتی آئی ہے۔ جمال عبدالناصر اور حسنی مبارک جیسے لبرل حکمرانوں نے مستقل یہی کوشش کی کہ مصر میں اخوان المسلمون کو کچل دیا جائے۔ ان حکمرانوں کے اقتدار کے دوران اخوان پر مسلسل پابندیاں بھی لگائی گئیں اور ان کے عظیم کارکنان اور لیڈران کو قید و بند کی مشکلات بھی اٹھانی پڑیں۔ لیکن آج بھی اخوانیوں کا ایمان مضبوط‘ عزم جواں اور ان میں مسلسل جدوجہد کی لگن و ہمت موجود ہے۔ آج ضرورت اس امرکی ہے کہ تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر مصر میں جمہوری حکومت کی بحالی کی جدوجہد میں مددگار ہوں۔
اِن شاء اللہ مصر میں اخوان کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔ اسلامی احیاء اور اسلامی کلچر کی، دنیا میں پہچان کرانے کے لیے تمام مسلمانوں کا متحد ہونا اور کوششوں میں حصہ دار بننا ضروری ہے۔ ہماری دعائیں اخوان المسلمون کے ساتھ ہیں، خدا ان کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین

Thursday, 29 August 2013

شام کی خانہ جنگی میں کلیسا کا کردار

شام کی خانہ جنگی میں کلیسا کا کردار

فتح محمد ملک

آغازِکار ہی سے شام میں بشر الاسدکی حکومت کا تختہ اُلٹنے میں پادری حضرات سرگرمِ عمل چلے آ رہے ہیں۔ اسی جُرم کی پاداش میں اطالوی پادری Paolo Dall'Oglioکو جون 2012ءمیںملک بدر کر دیا گیا تھامگر وہ جلد ہی باغیوں کے زیرِ تسلط علاقے میں واپس آ گئے تھے۔ موصوف شام کی آبادی کے آٹھ فیصد کے رہبر و رہنما تھے مگر خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد تمام باغی گروپوں سے نظریاتی اور عملی تعاون میں مصروف ہو گئے تھے۔ گزشتہ دنوں جب دو بڑے باغی گروہوں کے درمیان باہمی جنگ و جدل شروع ہو گئی اور نتیجتاً القاعدہ نے آزاد شامی فوج کے قائد کمال حمامی کو قتل کر دیا تو پادری موصوف القاعدہ کے ٹھکانے پر پہنچے تاکہ ہر دو متحارب گروہوں کو باہمی اتفاق و اتحاد کی دولتِ نایاب سے فیض یاب کر سکیں۔یہاں پہنچنے کے بعد وہ لاپتہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اُنکی وفات حسرت ِآیات کی خبر روم میں پہنچی تو پوپ نے اُن کیلئے اجتماعی دُعا کا اہتمام فرمایا۔ ہر چند موصوف کی گمشدگی یا وفات انتہائی افسوسناک ہے تاہم ایک پادری کا بشرالاسد کی حکومت کیخلاف علمِ بغاوت بلند کرنا اور باغیوں کی نظریاتی اور عملی رہنمائی کا دم بھرنا بھی انتہائی افسوسناک ہے ۔اِس پر مجھے مغرب کی سامراجی سیاست میں کلیسا کے کردار پر اقبال کی نظم ”لادین سیاست“ ایک بار پھر یاد آئی ہے۔ اِس نظم میں اقبال نے فرنگی سیاست کو ایک ”دیوِبے زنجیر“قرار دے کر ہمیں متنبہ کیا ہے کہ :
متاعِ غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اِس کی
تو ہیں ہراولِ لشکر کلیسیا کے سفیر!

آج کی صلیبی جنگ میں عیسائی طالبان کی اِس وقتی ناکامی نے مغرب کی سامراجی قوتوں کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ اب وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام میں شام پر براہِ راست حملہ آور ہونے کے بہانے ڈھونڈنے لگے ہیں۔ اُنکے اِن سامراجی عزائم کی راہ کی سب سے بڑی رُکاوٹ رُوس کی حکومت ہے جواقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور سے لیس ہے۔ روس کا کہنا یہ ہے کہ ثبوت کے بغیر شام پر یہ الزام سراسر فریب ہے۔ شام کی حکومت کا کہنا یہ ہے کہ جن علاقوں میں باغی گروہوں کی عملداری ہے اُنہیں مغربی سامراج کیمیائی ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔ جہاں تک شام کی حکومت کا تعلق ہے وہ اپنے ہی عوام سے یہ سلوک ہر گز نہیں کر سکتی ۔اِن تازہ ترین الزامات پر مجھے عراق میں صدام حسین کی حکومت پر ہمہ گیر تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگایا گیا تھا۔عراق کی تباہی کے بعد وہاں سے ایسا کوئی ہتھیار برآمد نہ ہوا تھا۔ یہ گویا عراق پر حملہ آور ہونے کا ایک بہانہ تھا۔ 

میں یہاں یہ یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ عراق پر بعث پارٹی کی حکومت تھی۔ ہر چند صدام حسین کا طرزِحکمرانی آمرانہ تھا تاہم بعث پارٹی ایک سوشلسٹ پارٹی تھی جسے ایک عیسائی مائیکل افلاک نے اب سے دُور اُسی سال قائم کیا تھا جس سال آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور کی تھی۔ 1940ءسے یہ سوشلسٹ پارٹی عرب دُنیا میں ایک انسانی فلاحی نظام پر کاربند چلی آ رہی تھی۔ صدام حسین کے عراق میں تعلیم اور علاج مُفت مہیا کیا جاتا تھا۔ بچوں کودرسی کتابوں اور سٹیشنری کے ساتھ ساتھ دوا اور دُودھ بھی مُفت مہیا کیا جاتا تھا۔ امریکی جارحیت نے صرف صدام حسین سے اقتدار ہی نہیں چھینا تھا بلکہ عراق کے بچوں سے مُفت علاج اور مُفت تعلیم کے سے انسانی حقوق بھی چھین لیے تھے۔ ہمارے ایک شاعر حسن عابدی نے اپنی متعدد نظموں میں امریکی جارحیت کے باعث بغداد کی ہمہ گیر تباہی کا موازنہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی سے کیا ہے جن میں عراق پر بلاجواز امریکی یلغار کے نظریہ سازوں اور ہلاکت آفریں حکمتِ عملی وضع کرنیوالوں کے مقابلے میں ہلاکو خان فقط ایک طفلِ مکتب نظر آتا ہے۔ یہاں میں حسن عابدی مرحوم کی فقط ایک نظم بعنوان ”ہلاکواب جو تم بغداد آﺅ گے“کا ذکر کرونگا جس میں امریکی جارحیت کے باعث بغداد کی ہمہ گیر تباہی کا موازنہ ہلاکو خان کے ہاتھوں قدیم بغداد کی تباہی سے کیا گیا ہے۔ نظم کے اختتامی حصے میں ہلاکو کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اب وہ بغداد آیا تو اُسے اپنے سے کہیں بڑے ہلاکو خان سے پنجہ آزمائی کرنا پڑیگی: .... ہلاکو اب جو تم بغداد آﺅ گے‘ علی بابا کے سونے کے خریطے، خیمہ و خرگاہ سارے لٹ چکے ہوں گے....
جہاں عشوہ طراز و حیلہ گر مرجینا رہتی تھی
وہاں اک اور ہی دنیا کے نوسرباز بیٹھے ہیں
یہاں مٹی میں جادو ہے، زمیں سونا اگلتی ہے
ہوا میں تیل کی بُو ہے
ہلاکو اب جو تم بغداد آﺅ گے
تو پھر واپس نہ جاﺅ گے۔
آج کی دُنیا کے یہ” نوسرباز “عراق میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد اب مصر اور شام میں اپنی عقلِ عیّار کے جوہر دکھانے میں مصروف ہیں۔فیض نے برسوں پہلے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ:
برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
کس کھوج میں ہے تیغِ ستم گر لگی ہوئی؟
آج اس سوال کا جواب شام مصر کی خانہ جنگی ہے۔ امریکہ نے شام کی حکومت پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے تو روس نے باغیوں کو یہی الزام دیا ہے۔ ایران نے بھی رُوس کی پرزور تائید کی ہے۔ امریکہ تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اِسے اِس خوف نے گھیر لیا ہے کہ اگر وہ براہِ راست حملہ کر کے شام کی حکومت کو گرا دیتا ہے تو النصرہ، احرار الشام اور القاعدہ کی سی قوتیں زور پکڑ کر شام اور عراق پر مشتمل ایک نئی اسلامی مملکت کے قیام کے تصور کو حقیقت بنا سکتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو نہ اسلامی جمہوریت گوارا ہے نہ سوشِلسٹ آمریت۔ چنانچہ شام اور مصر میں خانہ جنگی کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز (24- 25۔اگست )میں Edward N. Luttwak کا مضمون بعنوان Keep Syria in Stalemate چشم کُشا ہے۔ کاش دُنیائے اسلام کا حکمران طبقہ ان عزائم سے عبرت پکڑ سکے!