Search This Blog

Friday, 5 January 2018

ہندوستان میں خادمانِ حدیث کا اوّلین قافلہ Knowledg of Hadith in Early days in India

ہندوستان میں خادمانِ حدیث کا اوّلین قافلہ
محمد حبیب اللہ
 تاریخ کےطالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان ان خوش قسمت ممالک میں  ہے جہاں اسلام قرن اول یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد مبارک ہی میں داخل ہوچکا تھا تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے ان اولین سپہ سالاروں نے جس سرزمین کو بھی اپنی آمد کا شرف عطا کیا وہاں اپنے محبوب نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ’’الا فلیبلغ الشاہد الغائب‘‘ ۱ ؎ کی بھرپور تعمیل کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ محمد بن قاسم کے وقت سے ہی علوم اسلامی بھی ہندوستان میں داخل ہوئے اور قال اللہ وقال الرسول کی صدائے بازگشت فضائے ہند میں گونجنے لگی۔
 عربوں کا پہلا داخلہ سندھ میں صحابہ کرامؓ کے عہد میں ہی ۲۳ھ؁ مطابق ۶۴۳ء؁ میں ہوا تھا بعدمیں محمد بن قاسم سندھ سے آیا اُس وقت علم حدیث ارتقائی منزل میں پہنچ چکا تھا، اس کے چند سال بعد ہی حضرت عمر بن عبد العزیز کے عہد خلافت (۹۹ تا ۱۰۱ھ) میں ان کی توجہ کے سبب علم حدیث میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی، انھوں نے دار الحکومت سے عمومی فرمان جاری کیا کہ حدیث کے متفرق اور منتشر ذخیرے کو جمع کیا جائے اور خصوصی طور پر قاضی ابوبکربن حزم متوفی ۱۲۰ھ؁ اور امام حدیث محمد ابن شہاب زہری متوفی ۱۲۵ھ؁ کو لکھا کہ حدیث کے سرمایہ کو جو علمائے امت کے سینوں میں منتشر ہے اسے جلد از جلد جمع کرلیا جائے ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان علماء کے ساتھ یہ علم بھی دنیا سے اٹھ جائے۔خلیفہ راشد کا یہ فرمان جاری ہونا تھا کہ محمد ابن شہاب زہری نے کتب احادیث کے مجموعے لکھ کر خلیفہ کوپیش کر دیئے۔ دیگر علماء نے بھی حدیث کی جمع و تدوین کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی اور علم حدیث کو بے حد ترقی ہوئی۔
علم حدیث سندھ میں اسی ارتقائی عہد میں داخل ہوا تھا۔ لیکن منصورہ اور ملتان میں عربوں کی آزاد حکومت قائم ہونے سے قبل یہاں اس علم کو قابل قدر ترقی نہیں ہوئی اسی وجہ سے جب دیگر اسلامی ممالک میں علم حدیث کی تدوین دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہورہی تھی تو سندھ اس میں حصہ نہیں لے سکا لیکن قبائل سندھ سے تعلق رکھنے والے سندھی محدثین جو عراق کو اپنا وطن بنا چکے تھے علم حدیث کی اشاعت میں مصروف تھے، جن میں شام کے علاقہ میں الاوزاعی متوفی ۲۲۲ھ؁ اور مدینہ منورہ میں نجیح سندھی متوفی ۱۷۰ھ؁ اور بغداد میں رجاء سندی متوفی ۲۲۲ھ؁ اور رجاء سندھی کے پوتے محمد سندھی متوفی ۲۸۶ھ؁ اور انھیں کے دوسرے پوتے خلف السندی متوفی ۲۳۱ھ؁ یہ تمام حضرات اس علم کی اشاعت و ترقی میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان حضرات کی روایت کردہ احادیث صحاحِ سۃ اور حدیث کی دوسری کتب میں موجود ہیں۔
اسی زمانے میں جب یہ مذکورہ بالا محدثین بیرون ہند علم حدیث کی ترقی و اشاعت میں حصہ لے رہے تھے تو عرب کی آزاد حکومتوں کی سرپرستی میں علاقہ سندھ میں منصورہ اور ملتان کے مراکز قائم ہوچکے تھے جہاں سے اچھے محدثین نکلے جنھوں نے علم حدیث میں صداقت و مہارت حاصل کرنے کے لئے اپنے طلباء کو ہندوستان کے باہر اسلامی ممالک میں بھیجا تاکہ وہاں سے واپس آکر علم حدیث کی صحیح طریقہ سے خدمت انجام دے سکیں۔چوتھی صدی ہجری میں واقعی طور سندھی محدثین نے علم حدیث کی ترقی میں انتہائی لیاقت ومہارت کا ثبوت پیش کیا لیکن جب اسماعیلیوں نے چوتھی صدی ہجری کے آخر میں ان ریاستوں پر قبضہ کرلیا تو دفعتہ سندھی محدثین کی یہ سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔
علم حدیث کے دوسرے دور کا آغاز سلطان ہند سلطان محمود غزنوی (۳۸۸ تا ۴۲۱) کے عہد سے ہوتا ہے، سلطان محمود غزنوی اور ان کے جانشینیوں کے عہد میں لاہور علم حدیث کا مرکز بنا اسی دور میں حدیث کی معروف کتاب مشارق الانوار لکھی گئی جو ایک مدت تک ہندوستان میں حدیث کی منتہی کتابوں میں شمار کی جاتی تھی۔ہندوسان میں علم حدیث کے ترقی کا تیسرا دور ۶۰۲ھ؁ مطابق ۱۲۰۶ء؁ میں سلطنت دہلی کی ابتدا سے شروع ہوتا ہے باوجودیکہ ترکوں کی حکومت کی ابتدائی صدیوں میں فقہا کا زیادہ زور تھا اور شاہی مناصب، قضا وغیرہ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے علماء فقہ کی طرف زیادہ متوجہ تھے لیکن اس دور میں بھی ہندوستان میں چند ہستیاں ایسی تھیں جو اس علم کی خدمت میں منہمک اور مصروف نظر آتی ہیں۔
چوتھا دور جو ہندوستان میں علم حدیث کا زریں دور کہا جاتا ہے اس کا آغاز بہمنی اور مطفر شاہی حکومتوں کے قیام کے بعد بحری راستوں کے کھلنے سے ہوتا ہے جس کی شادابی آج تک قائم ہے اور برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
سندھ میں علم حدیث
پہلی صدی ہجری کی آخری دہائی میں سندھ میں عربوں کی حکومت کے قیام سے عربوں کے لئے بحری راستوں کے علاوہ خشکی کا راستہ بھی دستیاب ہوگیا، اس طرح سندھ کو بری اور بحری دونوں راستوں سے عرب سے مربوط ہونے کا موقع ملا اور ان ملکوں کے درمیان آمدو رفت اور مواصلات کی آسانیاں حاصل ہوگئیں۔ ۹۳ھ؁ مطابق ۷۱۱ء؁ میں محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا اور سندھ میں عرب کثرت سے آباد ہونے لگے، عرب آباد کاری میں محمد بن قاسم کی دلچسپی ۲؎ کی وجہ سے سندھ کے پورے علاقہ میں عرب آبادیاں پھیل گئیں اور دیبل سے ملتان تک اہم بندرگاہوں اور شہروں میں عرب آباد ہوگئے۔۳؎
آباد کاروں کے علاوہ عرب سپاہیوں نے بھی سندھ میں سکونت اختیار کی جس کی وجہ سے سندھ کے علاقہ میں عربوں کی آبادی بہت زیادہ ہوگئی، ۴؎  صرف ملتان میں محمد بن قاسم نے پچاس ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک فوج مستقل طور پر بسار کھی تھی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عربوں کی آبادی کس قدر بڑھ چکی تھی، اس لئے کہ ملتان کے علاوہ دوسرے مقامات میں بھی عرب فوجیں مستقل طور پر تعینات تھیں۔وہ مقامات جہاں عرب آبادیاں قائم ہوئیں جیسے منصورہ، ملتان، دیبل وغیرہ سندھ میں علوم اسلامی کے مراکز تھے۔سندھ میں اسلامی علوم کے آغاز اور ان کی اشاعت کے بارے میں سب سے پہلا اور باقاعدہ ثبوت محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے وقت سے ملتا ہے۔ چنانچہ یہ امر صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ عرب فوج میں بہت سے قراء تھے جن کو حجاج کی طرف سے تاکید تھی کہ تلاوت قرآن پاک پابندی سے کریں ۔ ۵؎  ان کے علاوہ فوج میں بہت سے ماہرین علوم قرآن وسنت بھی تھے۔ ۶؎
سندھ کے محدثین اولین
یہاں ان محدثین کا ذکر کیا جائے گا جنھوں نے سندھ میں علم حدیث کی اہم خدمات انجام دیں اور اس علم کی ترقی و اشاعت میں حصہ لیا۔
۱-موسی بن یعقوب الثقفی
یہ محمد قاسم کے ساتھ سندھ آئے تھے اور محمد بن قاسم نے ان کو الور کا قاضی مقرر کیا تھا، موسی بن یعقوب مستقل طور پر سندھ میں آباد ہوگئے تھے وہ سنت رسول کے بڑے عالم تھے، ان کا خاندان مدت تک اُچھ میں علم و فضل کے لئے شہرت کا حامل تھا جس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ صدیوں بعد ۶۱۳ھ؁ مطابق ۱۲۱۶ء؁ میں اسماعیل بن علی الثقفی جو ان کی اولاد میں تھے چشمۂ علم و دانش تصور کئے جاتے تھے اور علم و فضل، ورع و تقویٰ اور فصاحت و بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔۷؎
۲-یز بن ابی کشا السکسکی الدمشقی
۹۶ھ؁ مطابق ۷۱۴ء؁ میں جب سلیمان بن عبد الملک خلیفہ بنا تو اس نے محمد بن قاسم کو سندھ سے واپس بلایا اور ان کی جگہ یز بن ابی کشا کو مقرر کیا یزید بن ابی کشا سندھ میں زیادہ دن نہیں رہ سکے سندھ آنے کے بعد اٹھارہ دن بعد ہی ۹۷ھ؁ مطابق ۷۱۵ء؁ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ۸؎
یزید بن ابی کشا تابعی تھے، انھوں نے ابو در داء، شر جیل  ۹؎  بن اوس اور مروان ۱۰؎  بن الحکم سے بہت سی احادیث سنی تھیں، نقاد حدیث ان کو ثقہ راویوں میں شمار کرتے ہیں، ابو بشر، الحکم بن العتیبہ ، علی بن الاقمر، معاویہ بن قر المزنی اور ابراہیم السکسکی مشہور راویان حدیث ہیں ۱۱؎  جو یزید بن ابی کشا کے شاگردوں میں ہیں، ان سے مروی احادیث کتاب الآثار محمد بن حسن الشیبانی ، ۱۲؎  صحیح بخاری اور مستدرک حاکم میں موجود ہیں۔
۳-مفضل بن مہلب بن ابی صفرہ
یزید بن عبد الملک کے زمانہ خلافت میں ایک سابق والی خراسان یزید بن مہلب کے زیر سر کردگی ۱۰۲ھ؁ مطابق ۷۲۴ء؁ میں عراق میں ایک بہت بڑی بغاوت ہوئی جس میں بنوامیہ کے خلاف یزید بن مہلب کو کوفہ اور بصرہ کی تائید حاصل ہوگئی اور ابتدا میں اسے نمایاں فتوحات حاصل ہوتی گئیں، چنانچہ فارس،اہوار، کرمان اور قندابیل کے صوبے جن کا سلسلہ دریا ئے سندھ کے کناروں تک پہنچتا تھا ، خلیفہ وقت یزید بن عبد الملک کے ہاتھ سے خارج ہوگئے اور یزید بن مہلب نے یہاں اپنے والی مقرر کئے۔ ۱۳؎  اس بغاوت کو فرو کرنے کے لئے خلیفہ نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبد الملک کو روانہ کیا، ایک زبردست معرکے میں یزید بن مہلب اور اس کے لڑکے مارے گئے اور اس خاندان کے جو لوگ بچ گئے وہ ایک کشتی میں فرار ہوکر قندابیل ۱۴؎  پہنچے جو اس وقت سندھ کا ایک صوبہ تھا۔ ۱۵؎  لیکن موت ان پر منڈلا رہی تھی یزید بن عبد الملک کا عامل ہلال بن التیمی جب ان لوگوں کا پیچھا کرتا ہوا قند ابیل پہنچا تو والی قندابیل وراء بن حامد نے جس کو خود یزید بن المہلب نے اس عہدہ پر مقرر کیا تھا غداری کی لیکن مہلب بن ابی صفرہ کے لڑکوں نے اپنے آپ کو ہلال بن التیمی کے حوالے نہیں کیا بلکہ جم کر مقابلہ کیا اور اکثر لوگ آخر دم تک لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ۱۶؎
قندابیل میں مہلب بن ابی صفرہ کے جو لڑکے مارے گئے انھیں میں مفضل بن المہلب بھی تھے جو حدیث کے راوی تھے، وہ تابعی ۱۷؎  ہیں اور نعمان بن بشیرؓ ۱۸؎ صحابی رسول سے حدیث روایت کرتے ہیں، ان کے لڑکے حاجب، ثابت بنانی متوفی ۱۲۷ھ؁ اور حریز بن حازم المفضل سے حدیث نقل کرتے ہیں۔۱۹؎ابن حبان اور علم حدیث کے دوسرے نقاد نے مفضل بن مہلب کو ثقہ راوی قرار دیا ہے۔ ۲۰؎
۴-ابو موسیٰ اسرائیل بن موسیٰ البصری متوفی ۱۵۵ھ؁ مطابق ۷۷۱ء؁
یہ بصرہ کے رہنے والے تھے، غالب یہ ہے کہ تجارت کی عرض سے سندھ آئے تھے اور وہیں قیام پزیر ہوگئے تھے اسی لئے ان کا لقب نزیل السند معروف و مشہور ہے، صاحبِ میز ان الاعتدال لکھتے ہیں ’’ابو موسیٰ البصری نزیل السند عن الحسن و جماعۃ وعنہ حسین الجعفی و یحییٰ القطان و ثقۃ ابو حاتم و ابن معین و شد الازدی فقال فیہ لین۔‘‘ ۲۱؎ ابو موسی البصری نزیل السند حضرت حسن اور ایک جماعت سے روایت کرتے ہیں اور ان سے حسین جعفی اور یحییٰ القطان روایت کرتے ہیں، ابو حاتم اور ابن معین نے ان کوثقہ راوی قرار دیا ہے اور الازدی نے ان کو شاذ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں لین ہے۔
ابو موسیٰ اسرائیل حضرت حسن بصری متوفی ۱۱۰ھ؁ اور ابو حازم اشجعی سے حدیث روایت کرتے ہیں، ابو موسیٰ ثقہ راوی تھے، علم حدیث میں ان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت سفیان ثوری متوفی ۱۶۱ھ؁ ، سفیان بن عینیہ متوفی ۱۹۸ھ؁ اور یحییٰ بن سعید القطان متوفی ۱۹۸ھ؁ جیسے اکابر فن اور ماہرین حدیث ان کے شاگردوں میں ہیں۔۲۲؎
امام محمد بن اسماعیل البخاری نے اپنی صحیح میں چار مقامات پر ان سے مروی احادیث کا حوالہ دیا ہے، سنن کی کتابوں میں بھی ابو موسیٰ کی روایت کردہ احادیث موجود ہیں۔ ۲۳؎
۵-عمرو بن مسلم باہلی
عمرو بن مسلم ماوراء النہر کے نامور فاتح قتیبہ بن مسلم کے بھائی ہیں۔ ۲۴؎  عمر بن عبد العزیز نے ان کو اپنا والی بناکر سندھ بھیجا تھا، انھوں نے ہندوستان پر متعدد بار کئی کامیاب حملے کئے عمرو بن مسلم کے دور ولایت میں خلیفہ کی دعوت پر بہت سے راجائوں نے اسلام قبول کیا انھیں اسلام قبول کرنے والوں میں مشہور راجہ داہر کا لڑکا سنہا بھی شامل ہے۔ ۲۵؎
عمرو بن مسلم نے ایک سپاہیانہ زندگی گذار نے کے باوجود علم حدیث کی ترقی میں بھی حصہ لیا، وہ یعلی بن عبید سے احادیث روایت کرتے ہیں اور عمر وبن مسلم سے ابو طاہر نے حدیثیں روایت کی ہیں۔ ۲۶؎
عمرو بن مسلم کی تاریخ وفات کا صحیح علم نہیں لیکن بقول طبری عمرو بن مسلم ۱۲۰ھ؁ مطابق ۷۳۸ء؁ میں مرو کے عامل تھے۔ ۲۷؎  اس لئے یہ امریقینی ہے کہ انکا انتقال ۱۲۰ھ؁ کے بعد ہوا۔
۶-ربیع بن صبیح-۲۸؎  السعدی البصری
ربیع بن صبیح کی کنیت ابو بکر ہے اور ابن سعد نے ابو حفص لکھا ہے۔ ۳۹؎  ربیع بن صبیح ۱۶۰ھ؁ مطابق ۷۷۶ء؁ میں ایک بحری فوج کے ساتھ ہندوستان آئے تھے جس نے المہدی ۱۵۸ھ؁ تا ۱۶۹ھ؁ کے عہد خلافت میں عبد الملک بن شہاب المسمعی کی سرکردگی میں بربد پر حملہ کیا تھا۔ ۳۰؎  عربوں نے بربد کا علاقہ فتح کرلیا جو اس وقت ایک اچھا بندرگاہ تھا۔ اب اس جگہ کو بھاربھٹ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بڑوچ کے قریب واقع ہے۔
فتح بربد کے بعد عربوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا وطن کی واپسی کی غرض سے موافق ہوائوں کے انتظار میں وہ بربد میں مقیم تھے ان ہی ایام میں ساحلی علاقوں میں وبائے طاعون پھیلنے کے سبب ان کا جانی نقصان بہت ہوا۔ اسی وبا میں ربیع بن صبیح بھی ۱۶۰ھ؁ مطابق ۷۷۶ء؁ میں فوت ہوئے طبقات ابن سعد کے مطابق ربیع بن صبیح کا انتقال سفر کے دوران ہوا اور ان کو کسی جزیرے میں دفن کیاگیا۔ ۳۱؎  ابن عماد کا بھی یہی قول ہے ابن عماد نے یہ تصریح کی ہے کہ ان کا انتقال واپسی کے سفر کے دوران ہوا۔ ۳۲؎
ربیع بن صبیح حضرت حسن بصری کے شاگرد تھے، انھوں نے حضرت حسن بصری سے حدیث کا درس لیا تھا، حضرت حسن بصری کے علاوہ اس عہد کے کبار محدثین، حمید الطویل متوفی ۱۴۲ھ؁، ثابت بنانی متوفی ۱۲۷ھ؁ اور مجاہد بن جمیر جیسے حضرات سے بھی انھوں نے علم حدیث حاصل کیا تھا۔
ربیع بن صبیح اپنے معاصرین میں ایک ممتاز راویِ حدیث شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے شاگردوں میں محدثین کی ایک پوری جماعت ہے۔ ۳۳؎  جن میں عبد اللہ بن المبارک متوفی ۱۸۱ھ؁ سفیان ثوری متوفی ۱۶۱ھ؁ و قیصی متوفی ۱۹۷ھ؁، ابو دائود الطیالسی متوفی ۲۰۳ھ؁ اور عبد الرحمن بن المہدی متوفی ۱۹۸ھ؁ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ حضرت ربیع بن صبیح ان مؤلفین حدیث میں ہیں جنھوں نے دوسری صدی ہجری میں حدیث کی تدوین و اشاعت میں بہت اہم کار نامہ انجام دیا۔ ۳۴؎
حوالہ وحواشی
۱؎              ابوالحسین مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم کتاب القسامہ ، ج ۲ ص ۶۱ ، وصح المطابع ۱۳۷۶ھ، ابوعبداللہ محمد بن اسمٰعیل البخاری، صحیح بخاری، ج اکتاب العلم، ص ۱۶، اصح المطابع، ۱۳۷۵ھ۔
۲؎             ابوالحسن احمدبن یحییٰ البلاذری،فتوح البلدان،ص ۴۲۵، طبع اول ۱۳۵۰ھ المطبعۃ المعریۃ، الازھر۔
۳؎             سیدسلیمان ندوی،عرب وہند کے تعلقات ،ص:۳۰۴،الٰہ آباد ،۱۹۳۰ء؁
۴؎             انڈیازکنٹربیوشن ٹوحدیث لٹریچر اردوترجمہ شاہدحسین رزاقی،روبی پرنٹنگ پریس دہلی ۱۹۸۳ء؁
۵؎             علی بن حامدبن ابی بکر الکوفی،چچ نامہ ،ص:۷۸(فتحنامہ ٔ سندھ) مطبع لطیفی دہلی،۱۹۳۹ء؁
۶؎             ایضاً،ص:۷۹               
۷؎             چچ نامہ،ص:۸۷۔۱۸۶   
۸؎             فتوح البلدان ، ص ۴۲۸۔
۹؎             شمس الدین ابوعبداللہ محمدبن احمد الذھبی،اسماء الصحابہ،تجرید ،ج:۲،ص:۱۷۵،حیدرآباد
۱۰؎            ایضاً،ج:۱،ص:۲۷۳                      
۱۱؎             ایضاً،ص:۷۵
۱۲؎            احمدبن علی معروف بہ ابن حجر،تقریب التھذیب ،ص:۳۹۹،نولکشور
۱۳؎            احمد بن علی معروف بہ ابن حجر،تہذیب التھذیب،حیدرآباد
۱۴؎            ابوالحسن علی ابن اثیر،الکامل فی التاریخ ،ج:۵،ص:۴۴،دارصادر داربیروت،۱۳۸۶ھ؁
۱۵؎            فتوح البلدان ،ص:۱۴۱   
۱۶؎            ایضاً،ص:۴۳۴
۱۷؎           ایضاً،تاریخ ابن اثیر                       
۱۸؎            الذھبی ،تجرید،ج:۲،ص:۱۱۶
۱۹؎            تہذیب ،ج:۱،ص:۳۶۲ 
۲۰؎           تقریب التھذیب ،ص:۳۶۲
۲۱؎            محمدبن احمدالذھبی ،میزان الاعتدال ،ج:۱،ص:۹۷،مطبعۃ السعادہ،۱۳۲۵ھ؁تہذیب ، ج:۱،ص:۲۶۱
۲۲؎           ابوسعد ،عبدالکریم السمعانی،کتاب الانساب ۵۹۳،دائرۃ المعارف الاسلامیہ حیدرآباد
۲۳؎           صفی الدین،خلاصہ ،ص:۳۱
۲۴؎           فتوح البلدان ،صـ:۴۰۰
۲۵؎           مصطفی بن عبداللہ معروف بہ حاجی خلیفہ ،مکتبہ الجعفری طہران،کشف الظنون
۲۶؎           تہذیب ،ج:۸،ص:۱۰۵
۲۷؎           ابوجعفر محمدابن جریرطبری،ج:۲،ص:۱۶۱
۲۸؎           فتوح البلدان ،ص:۳۶۲۔
۲۹؎           ابوعبداللہ محمدبن سعددالبصری ،طبقات،ج:۱،ص:۲۷۷
۳۰؎           عرب وھند کے تعلقات ،ص:۱۸       
۳۱؎            طبقات ابن سعد،ج:۱۷۷
۳۲؎           ابن الغماد شہاب الدین بن احمد بن محمد ۱۰۳۲۔۱۰۸۹،ابوالفلاح عبدالحیٔ حنبلی دمشقی، شذرات الذھب،ج:۱،ص:۲۴۷،مکتبہ تجاری بیروت لبنان
۳۳؎           تہذیب ،ج:۳،ص:۴۸۔۲۴۷
۳۴؎           ۱۰۱۷۔۶۸،کشف الظنون عن اسالی الکتب والفنون ،یادایام ،ص:۶۰۵

(بہ شکریہ ماہنامہ زندگی نو  دہلی)

و سطِ ایشیاء میں روسی ا ستعمار ایک تاریخی جائزہ

و سطِ ایشیاء  میں روسی ا ستعمار ایک تاریخی جائزہ
محمد شفیع بٹ
مسلم دنیا عہد وسطیٰ سے جدید دور تک
عہد وسطیٰ میں اسلام کے تابناک عروج کے بعد مسلمانوںمیں فکری اور علمی زوال شروع ہو گیا تھا ۔ ایک طرف فلسفی اور کلامی مشگافیاں تو دوسری طرف تقلید پسندی کی روش مسلمانوں میں عام ہو رہی تھی۔ امام غزالیؒ او ر علامہ ابنــ تیمیہ نے اگرچہ اپنے اپنے ادوار میں مسلمانوں میں علمی و فکری بیداری کی موثر تحریکیں شروع کی تھی، مگر پھر بھی مسلمانوں میںوہ قرُونِ اولیٰ جیسی علمی تڑپ اور فکری عظمت پوری طرح بحال نہ ہو سکی ۱؎ ۔ اگرچہ زوال بغداد اور منگولی حملوں کے باوجود بھی مسلمانوں میں سیاسی اقتدار قاہم رہا مگر مسلمانوں نے علوم و فنون میں جو کارنامے انجام دیے تھے وہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔جبکہ دوسری طرف مغرب جو اوائیل عہد وسطی تک گھپ اندھیرے میں تھا  ، وہاں پر عیسایوںمیںفکری نشاۃ ثانیہ کا آ غذ ۱۶ ویں صدی عیسوی کے اوائیل سے ہی شروع ہوچُکا تھا۔ جب مغرب اپنی مذہبی اور فکری نشاۃ ثانیہ  میں آگے بڑھ رہا تھا تب اگرچہ مسلم دنیا میں تین بڑی سلطنتیں قایم تھی، جن کو اپنی عسکری برتری کی وجہ سے (The Gun Powder Empires) کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا تھا، جن میں سب سے بڑی طاقت تو خلافت عثمانیہ تھی، جو دنیا کے تین بڑے براعظموں،Three big Continents of World، ایشا،افریقہ اور یورپ میں برسراقتدار تھی، ایران میں بھی صفویوں کی طاقت ور حکومت قایم تھی اور برصغیر میں دہلی سلطنت کے بعد مغلیہ سلطنت بھی اپنے عروج پر تھی،اس سیاسی اور عسکری برتری کے باوجود بھی مسلمانوں میںفکری اور علمی جمود قایم ہوگیاتھا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں کی اخلاقی و سماجی اور فکری حالت کی پسماندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی زوال بھی شروع ہو چکا تھاتو عالم اسلام کے مختلف خطّوں میںکہی عبقری شخصیات سامنے آئی جنہوں نے مسلمانوں میں نہ صرف فکری اصلاح کی تحریک کو شروع کیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں سیاسی اور اقتصادی بہبودی کا شعور بھی مسلمانوں میں پیدا کرنے کی پُرزور کوشش کی ، ان شخصیات میں ایک طرف عرب دنیا میں شیخ محمّد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک  شروع ہوئی، تو دوسری طرف برصغیر میںشاہ ولی اللہ محدث دیلوی جیسے نابغہ عصرشخصیات سامنے آئی جنہوں نے تمام علوم اسلامی میںبے بہا خدمات کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی رہنمائی فرمائی، ۲؎ ۔
 مگر ان بیشتراصلا حی تحریکوںکے مرکوز نظرصرف مسلمانوںکے داخلی تشویشناک حالات تھے اور وہ اُسی کاسدِباب کرنے میںلگے رہے، جبکہ دوسری طرف اس وقت تک یورپ میں اصلاحی تحریک  Reformation، نشاۃثانیہ، صنعتی انقلاب   Industrial Revolution) (کے ساتھ ساتھ جدید ساینسی ایجادات Modern Scientific Inventions  بھی اپنے عروج پر تھی ، اس بڑہتی ہوئی مغربی طاقت کا اندازہ نہ تو عوام الناس کو تھا اور نہ ہی مسلم مُفکِرین اور مصلحین کو تھا۔ انسویںصدی میںیورپ نے باقایدہ طور پر مسلم علاقوںکو اپنے استعمار کا نشانہ بنا یا،دیکھتے ہی دیکھتے مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں اورمراکز کو یورپی طاقت نے بہ آسانی اپنی نو آبادی(Colonies) میں تبدیل کر دیا۔ اس فکری جمود اور مغربی استعمار کے خلاف پوری مسلم دنیا میں کئی احیائی تحریکیں اٹھیں، جنھوں نے مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری اجاگر کرنے کے لئے کئی احیائی تحریکیں شروع کہے، اس دور میں اگر چہ عرب دنیا میں سیدّ جمال الد ین، محمد عبدہ، سید رشید رضا کی تحریک اُتھی، برصغیر میںسیداحمدبریلوی کی تحریک جہاد، سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک، علما ئے ہند کی دیوبند تحریک اُتھی، اسی دور میں دوسری طرف وسطِ ایشاء جو کہ اوائل قرُونِ وسطیٰ میں مسلم دنیا کا ثقافتی اور علمی مرکز رہا تھا، وہ بھی ایک طرف علمی اور فکری ابتری کا شکار تھا تودوسری طرف انیسویں صدی کے اختتا م تک پورا وسطِ ایشاء روسی سامراج کا شکار ہوچُکا تھا اور اپنی تمام خود مختاری کھو چُکا تھا، اسی روسی استعمارکے خلاف اور مسلمانوںمیںبڑھتے فکری اور علمی جمود کے خلاف وسطِ ایشاء میں مفکرین اور دانش وروںنے جو علمی بیداری کی تحریک شروع کی اُسی تحریک کو تحریکِ جدید Jadidi Movement of Central Asia  کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 وسط ِاشیاء میں روسی استعمار: 
روسی سامراج نے اگر چہ سولہویں صدی سے ہی وسطِ ایشاء پر دست درازی شروع کی تھی مگر۱۸ ویں صدی عیسویں تک وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہورہے تھے، چناچہ اٹھارویں صدی تُرکستان کے لیے انتشار و افتراق کا پیغام لے کر آئی ، تاتاری خوانین Khanates) (،کی آپس کی خانہ جنگیوں سے روسی سامراج نے فائدہ اٹھایا اور ، ۱۸۸۵ء تک روس پورے مغربی تُرکستان پر قابض ہو چُکا تھا۔ مسلمانوں کی روسی سامراج کے ہاتھوں شکست کے اسباب کے متعلق مشہور مورخ ، آباد شاہ پوری اپنی کتاب ’’ روس میں مسلمان قومیں‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’جس زمانے میں رُوس کا سامراجی اژدہا اپنی کُنڈلی کا دائرہ وسیع کر رہا تھا قازان سے ترکستان تک پھیلے ہوئے مسلمان علاقے علمی و فکری لحاظ سے جمود کا شکار ہو چکے تھے۔ منگولوں کے سیلاب اور اس کے بعد آئے دن کے طالع آزما فاتحین کے لائے ہوئے آتش و خوں کے طوفانوں سے بچنے کے لئے طبقہ اشراف اور طبقہ اوسط کے لا تعداد افراد ترکِ وطن کر کے دوسرے مسلمان ملکوں میںچلے گئے۔ اس طرح یہ علاقے اعلیٰ فکری و ذہنی صلاحیتوں کے حامل دماغوں سے بڑی حد تک محروم ہوگئے۔ باقیماندہ لوگ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔ اذھان کی اعلیٰ تربیت اور ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے اور جلا دینے کے لئے اعلیٰ طرز کے فکری و علمی اور تر بیتی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان علاقوں میں بہت کم باقی رہ گئے تھے۔ علمی و فکری جمود نے تہذیبی و معاشرتی زندگی کو متاثر کیااور پھر رفتہ رفتہ سیاسی زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی جسے مختلف خانوادوں کی طالع آزمائیوں نے اور بھی سنگین بنادیا۔ ان جنگوں میں رہا سہا جوہر بھی تیغ و سناں کا شکار ہوگیا‘‘۔ ۳؎
 روسی زار کے قبضے کے بعد کچھ ہی دیہوں میں وسطِ ایشاء میں مسلمان جو کہ اب تک بیشتر  علاقوں میں غالب اکثریت رکھتے تھے، نہ صرف اُن کی اکثریت مُتاثر ہونے لگی بلکہ مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی اور اقتصادی حقوق پامال ہونے لگے، اس کے ساتھ ساتھ عیسائی مشنریوں کے ذرلعہ مسلما نوں میں ارتداد کو فرُوغ دیا گیا، تھیک اسی زمانہ میں جب روسی کلیساتاتاری مشنریوں کے ذریعے تاتاری مسلمانوں کے دینی افکار پر شب خون مار رہا تھا، تاتاریوں میں احیائے اسلام کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی۔

تاتاری مسلمانوں میں بیداری اور تحریکِ جدید
 انیسویں صدی کے اوائل میں ہی مسلما نانِ وسطِ ایشاء میں چند گراںقدر ہستیاں جوکہ مصلح اور طبیبِ قوم بن کر اُبھرے اور اپنی مسلسل کوششوں سے تحریکِ جدید کی فکری بنیاد رکھی، جس کے تحت مسلمانوں کے زوال کی وجوہات پر غور کیا گیا اور ایسے اقدامات کرنے کا منصوبہ بنایاگیا جوکہ مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ کی طرف بُلایے۔ تحریک جدید کی فکری اور علمی کاوشوں سے پتاچلتا ہے کہ تحریکِ جدید کے مندرجہ ذیل بنیادی مقاصد تھے:                            
۱۔ مسلمانِ روس کو ذلت کی پستیوں سے نکالنا اور اُن میں اپنی ذات، اپنے تمدن کا اعتماد بحال کرنا۔
۲۔ ایک جدید نظامِ تعلیم متعارف کروانا جس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم مسلًا، حساب، جغرافیہ ) (Geography ،  سانئس اور روسی زبان کی تدریس کا اہتمام ہو۔         
۳۔ جدید طرز پر مبنی مدارس کا قیام عمل ، جن میں مسلمانوں کی فکری اور علمی بنیاد  پرتربیت کی جائے۔             
۴۔ روس کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں خصوصًا تُرکوں میں اتحاد کی فضا قائم کرنا۔ 
۵۔ ایک ایسی زبان رائج کرنا جو روس میں بسنے والے تمام مسلمانوں کی مشترکہ زبان کا کردار ادا کرے۔
۶۔ جدید مسائل کا اسلامی حل نکالنے کے لئے اجتہاد کا استعمال کرنا۔ ۴؎

اگر چہ تحریک ِ جد ید کی عملی شکل انیسویں صدی کی آخری دو دہیوں (1880-1900 C.E ) میں منظرِعام پر آئی،جب عملی طورپر ’اصول جدید‘ کے نام سے نئےا سکول کھولے گئے، مگر فکری اور علمی طور پر تحریکِ جدید کی بنیاد انیسویں صدی کے آغاز سے ہی شروع ہوچکی تھی۔تحریکِ جدید کے ابتدائی رہنماؤں میں سرفہرست میں ابونصرالقُرضاوی (1814-1783اور شیخ شہاب الدین المرجانی( 1818-1889 کو مانا جاتا ہے۔ ۵؎  ابو نصرالقُرضاوی فکرِ جدید کے پہلے مصلح تھے جنہوں نے سب سے پہلے اندھی تقلید، علم الکلام کی بہ وجہ مشوگوفیوں کے خلاف آواز اُتھائی اور اجتہاد و آزادیِ رائے کی حمایت کی۔ چونکہ ابو انصرالقُرضاوی کو روایت پسند علما کی مخالفت کا سامنا ایک طرف اور کم عمری میں اُن کی موت کی وجہ سے اُنہوں نے صرف مسلمانوں میں بیداریِ فکر کا شعور پیدا کیا جو تقلیدپسندی اور جمود پسندی کے خلاف پہلا اعلان تھا۔ القرضاوی کے بعد شیخ شہاب الدین المرجانی تحریکِ جدید کے فکری معمار بن کر سامنے آئے۔ المرجانی کودورانِ طالب علم ہی سے اپنے اساتذہ اور علماء کے فکری و ذہنی جمود کا شدت سے احساس ہو گیا تھا، انہوں نے جب صور تحال پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس فکری جمود اور شکستِ حالی کی اصل ذمہ دار اس پُرانے طرزِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے جو مدارس میں رائج تھا۔ چنا نچہ وہ بُخارا سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دینی درسگاہوں میں اصلاح کا عزم لیے واپس اپنے وطن لوٹے، انہوں نے علماء کے فکری جمود اور تنگ نظری پر سخت تنقید کی۔ المرجانی کی اصلاحی فکر کا مرکز مندرذیل نکات تھے:       
۱۔   ہر مسلمان مذہب سے متعلق اپنے سوالات کے جواب خود قرآن سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ 
۲۔  اندھی تقلید کی روایت کو ختم کیا جائے۔                                                   
۳۔ قدیم روایتی نصابِ تعلیم کو نظامِ تعلیم سے خارج کرنا۔ 
۴   مدارس میں قرآن، حدیث اور تاریخِ اسلام کے مضامین کی تدرس کو جدید انداز میں متعارف کروانا۔
۵۔ مسلمانوں کو اپنی ابتدائی پرانی ثقافت کی طرف بلانا۔۶؎                                            

المرجانی کو جس انقلابی شخصیت کے نظریات اور زندگی نے متاثر کیا تھا وہ امام غزالی ؒ تھے، انہوں نے اپنی ساری زندگی اس جدوجہد میں گزاری کہ اسلام کو مخصوص علما کے روایتی اسلام کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ اسلام آج بھی دور ِ جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے اور دورِ جدید کی سانئس کا تسلی بخش جواب مذہب سے دینے کی اہلیت رکھتا ہے اور ان کا یقین تھا کہ اسلام کے آفاقی اصولوں کی مدد سے آج بھی اسلام کی عظمتِ رفتہ کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ چنا نچہ المرجانی نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور 1866ء میں اپنے تعلیمی نظریات کے مطا بق ایک نیا دینی مدرسہ قائم کیا، بعدازاں تاتاری علاقوں میں اس قسم کے مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان نئے طرز کے مدارس کو کریما کے اسماعیل گسپرالی (۱۹۱۴ــــــ- ۱۸۵۱ء) نے ایک نیا رنگ دیا، گسپرالی کو ترکستان کی تحریک جدید کا اصل معمار  (Pioneer of Jadidism)ما نا جاتا ہے۔ اسماعیل گسپرالی نے جن نیے مدارس کی بنیاد رکھی ، انہیں ـ ’اصولِ جدید‘ کا نام دیا گیا، بعدازں اسی ’اصولِ جدید‘ کی مُناسبت سے اس فکری تحریک کو’ جدیدازیم‘ یا تحریکِ جدیدJadidism or Jadid Movement  کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ ۷؎  اسماعیل گسپرالی کے ان قائم شدہ مدارس میں اسلامی مضامین کے علاوہ دور جدید سے متعلق مضامین کی تدریس کا اہتمام کیا گیا۔ مدارس میں روسی زبان سیکھنے پر خصوصی زور دیا گیا، یہ تمام اصلاحات اس مقصدکے تحت تھیں کہ مسلمان تعلیمی میدان میں دوسری قوموں سے کٹ کر نہ رہ جائیں۔

تحریکِ جدید اور اصولِ جدید کے مدارس
ابتدائی طور پر اسماعیل گسپرالی نے اپنے مقاصد کے حصول کے وقت سیاست سے پرہیز کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر روسی اقتدار کے خلاف جد و جہدکی گئی تو مسلمان کچل دئیے جائیں گے۔ چنانچہ گسپرالی نے اس وقت کے حالات کے تحت روس نواز مؤقف ضرور اختیار کیا لیکن وہ سلطنتِ روس کے اسلامی علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے سخت خلاف تھے۔ دراصل وہ اسلام میں جدیدیت اور تورانیت کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے، گسپرالی کا نظریہ تھا کہ اسلام ترکوں اور تاتار یوں کے کلچر کا لازمی جز ہے۔ اسماعیل گسپرالی فکری طور پر اپنے دور کے متعدد علمی اور فکری تحریکوں سے متاثر تھے، ایک طرف دولانِ قیام پیرس وہ کسی حد تک لبرلازم  (Libralism) کی تحریک سے متاثر ہوگئے تو دوسری طرف قیامِ مصر میں وہ سیدّ جمال الدین افغانی کی تحریکِ اخوتِ اسلامی (Pan-Islamism) سے بھی متاثر ہوئے، اس کے علاوہ وہ تُرکی کی نوجوان تحریک (Young Turks Movement) سے بھی کافی متاثر تھے، یہ سب اثرا ت گسپرالی کی سیاسی، سماجی، اصلاحی اور تعلیمی سرگرمیوں میں پوری طرح کار فرما رہے۔ وہ بیکوقت اسلامی اتحاد کے علمبردار بھی تھے، عربی زبان کو اہمیت بھی دیتے مگر ساتھ ساتھ بعض مغربی اصلاحیات کو اپنانے کے خواہش مند بھی تھے۔ ۸؎  اپنے مقاصد کے حصول کے لئے گسپرالی نے ذرائع ابلاغ اور نئے طرز کے مدارس کا بھرپور استمال کیا۔ ۱۸۸۳ء میں انہوں نے اپنا اخبار ’ترجمان‘ شائع کیا جو دو دہایوں تک کاشغر سے لے کر کریمیا بلکہ قسطنطنیہ تک مسلمانو ں کی فکری اور علمی رہنمائی کرتا رہا۔ اسماعیل گسپرالی نے’ترجمان‘ کے ذریعے نہ صرف مسلمانانِ روس کو درپیش سیاسی، اقتصادی اور فکری challenges  کاجواب دیا بلکہ ’ترجمان‘ کے ذریعے وہ ایک ایسی زبان کو ترویج دینے کی کوشش کر رہے تھے جو روس کے ترکی النسل مسلمانوں کو مختلف چھوٹی چھوٹی زبانوں کی جگہ روس کے تمام مسلمانوں کی مشتر کہ زبان بنے۔ اس طرح گسپرالی اور اُن کے پیروکاروں کی کاوشیوں سے روسی مسلمانوں میں جدید تعلیم کو فروغ ملا، اور ترکی زبان میں کتابوں کے اشاعت اور طباعت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری کی تحریک دن بہ دن مضبوط ہونے لگی۔ 
جہاں اصولِ جدید کے مدارس میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا تھا اور وہ نئی نسل کے فکر و ذہن کو نئے سانچے میں ڈھال رہے تھے ، وہیں وسطِ ایشاء میں قدیم طرز کے مدارس بھی سرگرمِ عمل تھے ، جہاں نئے زمانے کی رفتار اور نئے دور کے مسائل کا نہ تو کوئی احساس تھا اور نہ گزر۔ ان روایتی مدارس کی فضا دسویں صدی عیسوی کی تھی، انہیں نصاب میں کسی قسم کا تغیر و تبدل گوارہ نہ تھا۔ چنانچہ جب جدیدیوں نے اصولِ جدید مدارس کے ضمن میں اپنی کوشش شروع کیں تو انہیں قدیم علماء کی طرف سے سخت تنقید اور مذاہمت کا سامنا کر نا پڑا، اس کے علاوہ روسی حکومت کی مخالفت کا بھی سامنا تھا جو مسلمانوں کی بڑھنی ہوئی سر گر میوں سے خو فزدہ ہوگئی تھی، اس کے ساتھ ہی ایک اور مخالفت عیسا ئی مشنریوں کی طرف سے تھی جو مسلمانوں کو روسی بنانے کے حق میں تھے۔نظامِ تعلیم میں اصلاحات کے علاوہ تحر یک جدید کے مصلحین غیر مسلم حکمرانوں کے زیر تسلط مسلمان کالونیوں میں مغر بی جد یدیت اور اسلامی عقیدے اور ثقافت کے درمیان ٹکراؤسے پیدا شدہ مسائل کو مناسب انداز میں حل کر نے کے لئے کوشاں رہے، انہوں نے پہلے مسلمانوں میں اندرونی کمزوریاں دور کرنے کی سعی کی اور مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں فکری اور لسانی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۰۵ء کے پہلے روسی انقلاب کے بعد تحریک جد ید نے باقاعدہ سیاسی جدوجہد شروع کیا اور ’اتفاق المسلمین‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی جس نے پہلے ہی عام انتخابات میں حصہ لے کر ۳۵  نشستیں حاصل کی مگر چونکہ روس میں یہ سیاسی آزادی کا مختصر دور رہا، جس کی وجہ سے تحریک جدید کی سیاسی سر گرمیوں کو پوری طرح کچل دیا گیا۔
۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کے بعد جب زار شاہی کے بدلے سویت یونین  ) Soviet Union (  نے حکومت پر قبضہ جاما یا تب مسلمانانِ روس کا سب سے سخت اور مشکل دور شروع ہوا، ایک طرف مذہبی آزادی سلب کر لی گئی تو دوسری طرف اقتصادی ، سیاسی استحصال کو فروغ دیا گیا، ان حالات میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی مصلحین نے بھی وسطِ اشیاء سے ہجرت کی ، مگر ان حالات میں بھی کئی جدیدی مفکرین نے مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ۔اگر چہ سویت یونین کی استحصالی پالیسی کی وجہ سے تحریک جدیدکا سیاسی اور عملی وجود کافی حد تک متاثر ہوا مگر تحریک جدید کے کئی مفکر کسی نہ کسی طرح اپنا پیغام مسلمانوں تک پہنچاتے رہے۹؎۔

روسی اشتراکی انقلاب اور تحریکِ جدید کی فکر پر اُس کا اثر
بیسویں صدی کے آغاز سے ہی اگر چہ ایک طرف وسطِ ایشاء کے مختلف علاقوں میں تحریک جدید کے نام پر کافی سارے مفکرین اُبھرے ، مگر دوسری طرف سویت یونین Soviet Union) (  کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔ اگر چہ یہ بات ایک طرف مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریک جدید کا قیام عمل مسلمانوں کی دینی، علمی اور فکری بیداری کے لئے کیا گیا تھا، تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریک جدید کے بہت سے مفکرین مغربی جدیدیتWestern Modernism   اور لبرل ازم Liberalism) (  کے تصورات سے متاثر ہونے لگے، تاہم سرسیدّ احمد خان کی علی گڑھ تحریک کی طرح تحریک جدیدنے جو تعلیمی محاذ پر مسلمانان وسط ِایشاء کی خدمات سر انجام دئے وہ نا قابل فراموش ہیں۔ اسماعیل گسپرالی کے بعد تحریک جدید کے جو سرکردہ مصلحین اور مفکرین وسطِ ایشاء کے مختلف خطوں میں اُٹھے اُن میں ، منور قاری (ـــــــــ ۱۸۸۹ -۱۹۳۳ء) ، ریاض الد ین (  ۱۸۵۹ - ۱۹۳۶ء) ، موسیٰ جارُاﷲ( ۱۸۷۵- ۱۹۴۹ء)، جیسی علمی اور فکری شخصیات سر فہرست ہیں۔ تحریکِ جدید کے مدارس اور اُن کی فکر پر مغربی تصورات کے اثرات کے متعلق، محقق آباد شاہ پوری تنقیدی جایزہ لتے ہوئے رقطراز ہیں : ـ’’چونکہ خود اسمٰعیل گسپرالی فکری یکسوئی سے محروم تھے۔ اس لئے یہ مدارس بھی انتشارِفکر کا سر چشمہ بن گئے۔سیاسی قوم پرستی اور تُولانی تحریک نے انہی مدارس میں جنم لیا‘ سوشلزم اور مارکسٹ نظریات نے بھی یہیں فروغ پایا‘ رُوسی مسلمانوں میںبائیں بازو یا خالص سیکولرذہن و فکر رکھنے والے جتنے رہنما اور فعاّل و سر گرم کارکن تھے وہ سب انہی جدید مدارس کے فیض یافتہ تھے۔ اس طرح جس تحریک کا آغاز شہاب الدّین المرجانی نے اسلامی تہذ یب و ثقافت کے تحفظ اور اسے دنیا میں موثر طاقت بنانے کے نیک عزائم کے ساتھ کیا تھا‘ اُس کے نتائج تباہ کُن نکلے‘‘ ۱۰؎ مختصر ا  ً تحریک جدید کے اجمالی جائز ے اور تجز یے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تحر یک جدید بھی انیسویں اور بیسو یں صدی عیسوی کی اُن متعدد مسلم اصلاحی، احیائی تحریکوں میں ایک تھی جنہوں نے مسلمانوں میں بڑھتے علمی فقدان ، فکری جمود، تقلید پسندی، جد ید علوم سے دوری اور مغربی استعمار کے استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی، باقی تحریکوں کی طرح اس تحریک میں بھی کافی ساری کمزوریاں تھیں، اس تحریک کے نتیجے سے اگر چہ ایک طرف مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں علمی اور فکری شعور بیدار ہوا تو دوسری جدید تعلیم یافتہ طبقہ کافی حد تک مغربیت کے زیر اثر آیا۔
    حوالہ جات
۱۔  ڈاکڑ سیدّ حسین محمد جعفری، ’’فکر اسلامی کے ار تقاء کا ایک تار یخی جا ئزہ (دور وحی و رسالت سے زمانہ اقبال تک)‘‘ ’اقبال: فکراسلامی کی تشکیلِ جدید‘ اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۱۹۹۵، ص، ۲۱۔
۲۔  ڈاکٹر ضیاءا لدین فلاحی، فکر اسلامی کا ار تقاء (ہندوستان کا خصوصی مطالعہ)، اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۲۰۱۶، ص ۴۷،
۳۔  آباد شاہ پوری، روس میں مسلمان قومیں، مر کزی مکتبہ اسلامی، دہلی، ۱۹۹۱ء ص  ۴۵
۴۔ فرحت نسیم علوی، ’’وسطِ ایشیاء کی تحریک ِ جدید کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ‘‘ پاکستان جرنل آف اسلامک ریسرچ، جلد ۹، ۲۰۱۲، ص  ۱۱۵
 5. Prof. Naseem Ahmad, "Jadidism among Tatars: an overview of the stages of Development" in "Insight Islamicus" Research Journal of Shah-i-Hamadan Institute of Islamic Studies, University of Kashmir, Srinager, Vol. 11, 2011, P. 3
 ۶۔ فرحت نسیم علوی، ایضاً ، ص ۱۱۶
7. Adeeb Khalid, Politics of Muslim Cultural Reform: Jadidism in Central Asia, Oxford University Press, New York, 2000, P. 103 .
۸۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص ۴۴۹۔ ثروت صولت، ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ، جلد چہارم، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۰۳، ص ۳۸۹   
۱۰۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص   ۶۴
(Corutesy: Monthly Zindagi Nau January 2018)
http://www.zindgienau.com/Issues/2018/January2018/unicode_article8.asp