Search This Blog

Showing posts with label HISTORY. Show all posts
Showing posts with label HISTORY. Show all posts

Thursday, 9 May 2019

خطیبِ رسولﷺ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ

خطیبِ رسولﷺ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ
محمود میاں نجمی
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مسجدِ نبویؐ میں تشریف فرما تھے۔ آپس میں محوِ گفتگو صحابۂ کرامؓ میں سے کچھ کی آوازیں بے خیالی میں معمول سے اونچی ہو گئیں۔ یہ سب اَن جانے میں ہوا، ورنہ صحابۂ کرامؓ تو حضور ﷺ کے ادب و احترام کا بہت خیال رکھتے تھے، لیکن ربّ ِ ذوالجلال کو اپنے محبوب رسولؐ کی موجودگی میں آواز کی یہ بے احتیاطی بھی پسند نہ آئی اور جبرئیل امینؑ، اللہ کا حکم لے کر حاضر ہو گئے ’’اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو‘‘ (سورۃ الحجرات)۔اس آیت کے نزول پر صحابۂ کرامؓ، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے خوف سے مزید محتاط ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی آواز قدرتی طور پر بھاری تھی اور بلند بھی، چناں چہ اُنہوں نے خود کو گھر میں گوشہ نشین کر لیا اورباہر نکلنا بند کر دیا۔ تنہائی میں اتنا روتے کہ داڑھی آنسوئوں سے تر ہو جاتی، حتیٰ کہ کھانا پینا بھی تَرک کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے حال احوال سے باخبر رہا کرتے تھے، سو، جب کئی دن گزر گئے اور حضرت ثابت بن قیسؓ نظر نہ آئے، تو آپؐ نے حضرت سعد بن معاذؓ سے دریافت فرمایا’’ثابتؓ کا کیا حال ہے؟‘‘، حضرت سعدؓ نے جواباً عرض کیا’’یارسول اللہؐ! وہ میرے پڑوسی ہیں، مگر مجھے اُن کی بیماری وغیرہ کا تو کوئی علم نہیں ، البتہ ابھی جا کر اُن کی کیفیت معلوم کر کے آپؐ کو مطلع کرتا ہوں۔‘‘ حضرت سعدؓ جب اُن کے گھر گئے، تو وہ سر جھکائے بیٹھے تھے۔ حضرت سعدؓ نے پوچھا’’ اے ثابتؓ! کیا حال ہے؟‘‘ جس پر اُنھوں نے جواب دیا’’بُرا حال ہے۔ (میری آواز سب سے بلند اور بھاری ہے) چناں چہ بعض اوقات (غیر ارادی طور پر) میری آواز، رسول اللہؐ کی آواز سے بلند ہو جاتی تھی، لہٰذا (اس آیت کے نزول کے بعد) اب میرے سب اعمال ضائع ہو گئے اور اسی غم نے مجھے نڈھال کر رکھا ہے۔‘‘ حضرت سعدؓ نے واپس جا کر نبی کریم ﷺ کو مطلع کیا، تو آپؐ نے فرمایا’’تم اُن کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ وہ جنّتی ہیں‘‘(بخاری)۔

یہ ہے اللہ کے رسولؐ کی عظمت کہ صحابۂ کرامؓ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ نبیؐ کی مجلس میں بات کرو، تو ادب اور قرینے کے ساتھ، دھیمے لہجے میں کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی عُمر بھر کی کمائی ضائع کر دے اور یہی حکم بعد کے لوگوں کے لیے بھی ہے کہ جس مجلس میں محبوبِ خدا ؐ کا ذکر ہو، وہاں ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ جو دل اللہ کے رسولؐ کے ادب اور احترام سے خالی ہے، وہ دراصل تقویٰ سے خالی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاشرے کے بزرگ اور عُمر رسیدہ افراد کے ساتھ بھی گفتگو کے دَوران ادب، آداب کا پورا خیال رکھتے ہوئے مدہم آواز میں بات کرنی چاہیے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا’’جب اپنے والدین سے بات کرو، تو ایسے کرو، جیسے غلام اپنے آقا سے کرتا ہے۔‘‘

سلسلۂ نسب
آپؓ کا سلسلۂ نسب یہ ہے۔ ثابت بن قیس بن شماس بن زہیر بن مالک بن امرء القیس بن مالک بن اعز بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر۔

قبولِ اسلام
حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے سب سے معزّز، مشہور اور بڑے قبیلے، خزرج کے سرداروں میں سے تھے۔ ذہانت، فطانت، فہم و فراست، علم و حکمت، شیریں کلامی، حاضر جوابی، زورِ خطابت میں اُن کا ثانی نہیں تھا۔ بھاری، بلند، بارُعب آواز اور خُوب صورت، پُراثر تقاریر کا فن تحفۂ خداوندی تھا، جس کا بھرپور استعمال کرتے۔نیز، وہ مدینے میں اوّلین ایمان لانے والوں میں سے ایک تھے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقعے پر آنحضرتؐ نے ایک نوجوان صحابی، حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب میں مسلمانوں کا پہلا سفیر اور اسلام کے مبلّغ کے طور پر بھیجا، جنھوں نے نہایت جوش و خروش سے اسلام کی تبلیغ کی۔ وہ جلد ہی اپنے ایمان افروز خطابات اور مکارمِ اخلاق کی وجہ سے مبلّغ، معلّم اور استاد کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ اُن کی محفلوں میں بیٹھتے اور قرآنِ کریم کی آیاتِ کریمہ سُن کر اُن پر غوروخوض کرتے، پھر ایک دن اُنہوں نے حضرت مصعبؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔

مرحبا! اے تاج دارِ مدینہؐ
امام الانبیاءؐ، تاج دارِ مدینہؐ، نبیٔ رحمتؐ، حضور رسالتِ مآبﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اہلِ مدینہ شہر سے باہر آپؐ کے استقبال کے لیے صف بستہ تھے۔ اہلِ انصار کی بچّیاں بڑے ذوق و شوق، احترام و عقیدت کے ساتھ خُوب صورت اشعار پڑھ رہی تھیں۔ مدینے کی فضا خوشبوئوں سے مہک رہی تھی۔ قبیلہ خزرج کے گھڑ سواروں کا ایک بہت بڑا دستہ، حضرت ثابت بن قیس ؓکی زیرِ قیادت دنیا کی سب سے عظیم المرتبت شخصیت کے فقیدالمثال استقبال کے لیے چاق چوبند کھڑا تھا۔ اللہ کے رسولؐ اپنے یارِ غار، حضرت صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، تو حضرت ثابت بن قیسؓ نے اہلِ مدینہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہوئے ایک فصیح و بلیغ خطبہ دیا، جس کے اختتام پر اُنہوں نے کہا’’اے اللہ کے سچّے رسولؐ! ہمارے والدین اور ہم آپؐ پر قربان، ہم اہلِ مدینہ، اللہ کو حاضر ناظر جان کر آپؐ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی جان و مال سے زیادہ آپؐ کی اور آپؐ کے رفقاء کی حفاظت کریں گے اور تبلیغِ اسلام میں آپؐ کے معاون و مددگار بنیں گے۔ کیا اس کے عوض اللہ ہمیں کسی انعام سے نوازیں گے؟ اللہ کے محبوبؐ، نبیوں کے امامؐ، خلقِ مجسمؐ، خاتم المرسلینؐ، رحمت اللعالمینؐ کے رُخِ انور پر ایک رُوح پرور مسکراہٹ آئی اور آپؐ نے جس انعام کا اعلان کیا، وہ اہلِ ایمان کے لیے وہ تحفۂ عظیم ہے کہ جس کے حصول کی خواہش اور آرزو ہر مسلمان کے لبوں پر دعائوں کی صورت مچلتی رہتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’جنّت‘‘۔ اس اعلان نے اہلِ مدینہ کے چہروں کو خوشی سے منور کر دیا اور وہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔

خطیبِ رسول اللہؐ
حضرت ثابت بن قیسؓ کو اللہ نے تقریر و تحریر کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا اور پھر آواز بھی بارُعب، گونج دار اور سپاٹ تھی۔ جب بات کرتے، تو اندازِ تکلّم، بلندیٔ آواز اور مدلّل گفتگو مخاطب کو بات سُننے پر مجبور کر دیتی۔ خطاب کرتے، تو تقریر کا جادو سر چڑھ کر بولتا اور الفاظ کی روانی، جملوں کی ترتیب و تشبیہات، آواز کا اُتار چڑھائو اس بہتے پُرزور دریا کی مانند ہوتا، جو اپنے سامنے آئی ہر چیز بہا لے جاتا ہے۔ پھر سُننے والا خطابت کے طلسم میں محو ہو کر جملوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا اور تقریر کے اختتام پر حضرت ثابت بن قیسؓ کا معتقد ہو جاتا۔ اہلِ مدینہ کی ہر تقریر، ہر وعظ اور ہر خطاب حضرت ثابتؓ سے شروع ہوتا اور ان ہی پر اختتام ہوتا۔ شروع میں اہلِ مدینہ نے اُنہیں’’خطیبِ انصار‘‘ کا خطاب دیا تھا، لیکن جب اُنہوں نے اپنے آپ کو تبلیغِ دین اور خدمتِ نبویؐ کے لیے وقف کر دیا، تو پھر وہ’’خطیبِ رسول ا للہ ؐ ‘‘ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔

کاتبِ وحی
حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے پڑھے لکھے لوگوں میں شامل تھے اور اُنھیں فنِ تقریر کے علاوہ تحریر میں بھی کمال حاصل تھا۔ خوش خط، پختہ، صاف اور روشن تحریر اُن کی خاص پہچان تھی۔ رسول اللہؐ نے اُنہیں’’ کاتبِ وحی‘‘ کے منصب پر فائز فرمایا، تو وہ خُوب صُورت انداز میں آیاتِ مبارکہ کی کتابت کرنے لگے۔

حضرت ثابتؓ کی فضیلت
ہجرت کے آٹھویں سال فتح ِمکہ کے بعد رسول اللہؐ واپس مدینہ منورہ آئے، تو پورے عرب سے لوگ وفود کی صورت اسلام قبول کرنے کے لیے جُوق در جُوق آنے لگے، اُن ہی میں یمامہ سے بنو حنیفہ کا آنے والا وفد بھی شامل تھا، جس کی قیادت مسیلمہ کذّاب کر رہا تھا۔ اُس وفد نے مدینے میں15روز قیام کیا۔ وفد کے تمام لوگ روزانہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضرت ابی بن کعب ؓسے قرآنِ کریم کی تعلیم لیتے، لیکن مسیلمہ مال و اسباب کی حفاظت کے بہانے اپنی رہائش گاہ ہی پر رہتا۔ اُس نے بہ ظاہر تو اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن وہ بڑا کینہ پرور، منافق اور متکبّر انسان تھا۔ اللہ کے رسولؐ کی سادگی، مسلمانوں کی عاجزی و انکساری اُسے پسند نہ آئی۔ اُس کے ذہن میں تو مسلمانوں کے بادشاہ کا تصوّر قیصر و کسریٰ جیسا تھا، چناں چہ اُس نے اسلام کو دِل سے قبول نہ کیا۔ ایک دن آنحضرتؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ سے فرمایا کہ آج بنو حنیفہ کے وفد سے ملاقات کریں گے، پھر آپؐ اُن کی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔ مسیلمہ بن حبیب کذّاب، آپؐ سے مختلف سوالات پوچھتا رہا۔ آخر میں آنحضرتؐ نے فرمایا ’’اے مسیلمہ! یہ ثابت بن قیسؓ ہیں، جو میری طرف سے تجھ کو سوالوں کے جواب دیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر آپؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو وہاں چھوڑا اور خود تشریف لے گئے(بخاری، مسلم)۔

حضرت ثابتؓ کا ولولہ انگیز خطاب
مسیلمہ، مدینہ منورہ سے اپنے وطن یمامہ پہنچا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہاں تک کہ اُس نے آنحضرتؐ کو خط لکھا کہ’’نبوت میں آپ اور میں دونوں شریک ہیں، لہٰذا نصف مُلک قریش کا اور نصف میرا رہے گا۔‘‘ رسول اللہؐ نے اس کا جواب لکھوا کر بنو حنیفہ کے ایک شخص رجال بن عنفوہ کے ذریعے اُس تک پہنچوایا(تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔آپؐ کی رحلت کے بعد سیّدنا صدیقِ اکبرؓ نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے عکرمہؓ بن ابی جہل کو روانہ کیا، لیکن وہ شکست کھا گئے۔ اس کے بعد آپؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو13ہزار کا لشکر دے کر روانہ کیا، جس میں حضرت ثابت بن قیسؓ بھی شامل تھے۔ مسیلمہ کذّاب نے یمامہ میں40ہزار سے زیادہ جنگجو جمع کر رکھے تھے۔ جنگ کے دَوران ایک لمحہ وہ بھی آیا کہ جب مسیلمہ کے جنگجو، مسلمانوں پر بھاری پڑ گئے، ایسے میں حضرت ثابت بن قیسؓ نے ایک پُرجوش اور ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے مجاہدین کا لہو گرما دیا، جس سے اُن کے حوصلے بلند ہو گئے۔

شہادتِ مردِ مومن
دوسرے دن کا سورج طلوع ہوا، تو یمامہ کے آسمانوں نے عزم و ہمّت اور جذبۂ جہاد کا ایک ایمان افروز منظر دیکھا، جس نے جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے سر سے کفن باندھا، کچھ اور صحابہؓ کو ساتھ لیا اور بپھرے شیر کی طرح دشمنوں پر حملہ آور ہو گئے۔ حضرت ثابتؓ کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمنوں کی لاشوں کا ڈھیر لگاتے تنِ تنہا اُن کی صفوں کو چیرتے دُور تک نکل گئے۔ یہاں تک کہ دشمنوں نے اُنہیں چاروں طرف سے گھیر کر شہید کر دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی اس شہادت نے مجاہدین میں شوقِ شہادت کو بیدار کر دیا اور پھر اُنہوں نے اللہ کی تائید و نصرت کے سائے میں متحد ہو کر نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کی فوج پر بھرپور حملہ کر دیا۔ اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ وحشی (حضرت حمزہؓ کے قاتل) نے اپنا نیزہ پھینکا، جو مسیلمہ کذّاب کی زرہ کو چیرتا ہوا اس کے جسم کے آر پار ہو گیا اور وہ جہنم رسید ہو گیا۔ جنگِ یمامہ ماہ ذی الحجہ11ہجری میں ہوئی (تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔

حضرت ثابتؓ کی خواب میں وصیّت
حضرت ثابتؓ لڑائی کے وقت ایک نہایت نفیس اور عمدہ زِرہ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ جب شہید ہو گئے، تو کسی نے اُن کے جسم سے زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں چُھپا لی۔ شہادت کی دوسری رات، ایک شخص کے خواب میں حضرت ثابتؓ آئے اور فرمایا’’مَیں ثابت ؓبن قیس ہوں، کیا تم نے مجھے پہچان لیا؟‘‘ وہ بولا’’ہاں۔‘‘ حضرت ثابتؓ نے فرمایا’’مَیں تجھے ایک وصیّت کر رہا ہوں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو اسے خواب جان کر خاطر میں نہ لائے۔ جب کل میں شہید کر دیا گیا، تو فلاں شخص میرے پاس سے گزرا اور میری زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں لے گیا، اس کا خیمہ فلاں سمت میں واقع ہے۔ اُس شخص نے میری زِرہ اپنی دیگ میں رکھ کر اُس کے اوپر اونٹ کی کوہان پر رکھے جانے والے لکڑے رکھ دیے ہیں۔ تم خالد بن ولیدؓ کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ اس شخص سے زِرہ حاصل کر لیں۔ مَیں تمہیں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور دوبارہ متنبّہ کرتا ہوں کہ اسے خواب سمجھ کر ضائع نہ کرنا۔ خالدؓسے کہنا کہ جب تم مدینہ منورہ پہنچ کر خلیفۃ المسلمین سے ملو، تو اُن سے کہنا کہ ثابت بن قیسؓ پر اتنا قرض ہے اور فلاں، فلاں میرے غلام ہیں، لہٰذا میرے قرض کی ادائی کروا دیں اور میرے غلام آزاد کر دیں۔‘‘ وہ شخص نیند سے بیدار ہوا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو، جو کچھ دیکھا اور سُنا تھا، کہہ سُنایا۔ تمام باتیں سُن لینے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک صحابی کو زِرہ لانے کے لیے بھیجا اور وہ زِرہ نشان دہی کی ہوئی جگہ پر مل گئی۔جب حضرت خالدؓ مدینہ منورہ لَوٹ کر آئے، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تمام حالات کہہ سُنائے اور حضرت ثابت بن قیسؓ کی خواب میں کی گئی وصیّت سے بھی آگاہ کیا، جس پر صدیق اکبرؓ نے وصیّت پوری کر دی۔ اللہ، حضرت ثابت بن قیسؓ سے راضی ہوااور وہ اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے اُن کا ٹھکانہ اعلیٰ علیین میں بنایا (نجومِ رسالت، ڈاکٹر عبدالرحمٰن پاشا)۔

Wednesday, 13 February 2019

ریاست حیدرآباد اور اہل دکن کی حرمین شریفین کے لئے ناقابل فراموش خدمات - توسیعی لکچر

ریاست حیدرآباد اور اہل دکن کی حرمین شریفین کے لئے ناقابل فراموش خدمات
اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن کے زیر اہتمام جناب احمد علی کا توسیعی خطاب
حیدرآباد ۔  آصف جاہی سلاطین نے خدمات حرمین شریفین کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔دکن خصوصاً حیدرآباد کی عوام نے بھی اس کی سعادت حاصل کی۔ ان خیالات کا اظہار معروف دانشور و مورخ و ماہر آثار قدیمہ جناب احمد علی ، کیوریٹر نظام میوزیم ، ڈائرکٹر ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ حیدرآباد  و سابق کیوریٹر سالار جنگ میوزیم نے اپنے توسیعی خطاب بعنوان ''نظام دکن اور ریاستِ حیدرآباد کی خدمات حرمین شریفین'' کیا۔یہ خطاب اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سلاطین کی خدمات حرمین شریفین کی فہرست بہت طویل ہے۔ سلطان محمود غزنوی اور تمام مغل سلاطین بھی اس خدمت میں شامل رہے۔ اس سلسلے میں آپ نے اورنگ ذیب عالمگیر کا ذکر کیا۔سلاطین آصف جاہی نے عازمین حج کی رہائش کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 26 رباطیں قائم کیں۔ اور ساتھ ہی حرمین کے منتظمین کے لئے تحائف اور وہاںکے مساکین کی امداد ل کھول کر فرمائی۔ باب توبہ پر سونے کی سیڑھیاں بنوائیں جو آج بھی حرم میوزیم میں محفوظ ہیں ۔ مقام ابرہیم کی موجودہ حالت میں تنصیب بھی انہیں کا کارنامہ ہے۔ حرمین شریفین میں سب سے پہلے برقی روشنی لئے جرمنی سے جنریٹر منگوائے ۔ منی اور عرفات میں حجاج کے لئے طعام اور ٹھنڈے پانی کا نظم کیا۔ ان سب کا اہتمام صرف خاص سے کیا جاتا تھا۔ جناب احمد علی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے دیگر حکمرانوں اور نوابین نے جیسے نواب بھوپال، نواب جوناگڑھ وغیرہ نے بھی اپنے علاقہ کے حجاج لئے رباطیں قائم کیں جو آج بھی موجود ہیں۔ لیکن سلاطین آصف جاہی کی قائم کردہ رباطیں حرم سے بلکل متصل تھیں۔ شاہ  عبدالعزیز بن سعود کے زمانے میںان میںسے 22 رباطوں کو مسجد حرام میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے تمام آصف جاہی سلاطین بلخصوص پانچویں حکمران افصل الدولہ بہادر ،میر محبوب علی خان اور آصف سابع میر عثمان علی خان کی خدمات حرمین کا تفصیلی ذکر کیا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب حرمین کے انتظام سے خلافت عثمانیہ کو بیدخل کیا گیا تو ایک ہنگامی صورتحال پید ہوگئی تھی۔ اس وقت آصف سابع نے حرمین کے سالانہ اخراجات کی ذمہ داری  قبول کی۔ حکمرانوں کے علاوہ دکن خصوصاً حیدرآباد کے مخیر امراء ، نوابین اور عام شہریوں نے بھی حرمین شریفین کی خدمت کا اعزاز حاصل کیا۔ ان میں پائگاہ کے امراء  اور خان بہادر علاء الدین قابل ذکر ہیں۔ حرمین شریفین کے باشندگان  کے روزگار اور معاش کے لئے انجمن دستی پارچہ بافی حرمین شریفین قائم کی اور اس کے ذریعہ کارخانوں کا قیام عمل میں آیا۔حیدرآباد میں بہت سی ایسی وقف املاک  تھیں جن کی آمدنی حرمین شریفین کے لئے روانہ کی جاتی تھی۔  خدمت کا یہ سلسلہ سقوط حیدرآباد کے بعد بھی جاری رہا۔ اپنے اس پرمعلومات خطاب کے اختتام پر ایک اہم امر پر توجہ دلاتے ہوئے آپ نے کہا کہ موجودہ دور میں توسیع حرم کے منصوبہ میں رباط سمیت بہت سی وقف جائددایں سعودی حکومت نے حاصل کر لیں۔ اور ان کا خطیر معاوضہ محفوظ ہے ۔ اس کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس معاوضہ کے بدلے قدیم ریاست حیدرآباد میں شامل اضلاع کے حجاج اور موتمرین کے لئے ایک عظیم رباط کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
جناب عمر علی خان، صدر اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن حیدرآباد نے اپنے صدارتی خطاب میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب احمدعلی صاحب نے کا یہ ایک تاریخی خطاب ہے۔ خدمات حرمین اہلیان دکن کے لئے ایک اعزاز ہے۔ ہمارے نیک دل حکمرانوں اور عوام نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرایا جائے۔ حیدرآباد  رباط کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس سے اہلیان دکن مزید استفادہ کر سکیں۔ ساتھ ہی حیدرآباد و اضلاع میں واقع وقف املاک  کے بہتر استعمال کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وقف بورڈ کو فعال کردار اد کرنے کی ضروت ہے۔
اس اہم تاریخی نشست کا آغاز قاری محمد مسفر حسین کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ جناب شاہنواز ہاشمی نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ جناب ایاز الشیخ ، نائب صدر، اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن ، حیدرآباد نے فاضل مقرر کا استقبال کیا اور اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ یہ ادارہ اقبال اکیڈمی کے اشتراک سے اسلامی تاریخ، تہذیب و تمدن پر مشتمل سرگرمیوں میں پچھلے اٹھارہ سال سے مصروف  عمل ہے۔ جناب ولی سکندر ، معتمد اسٹڈی سرکل اقبال اکیڈمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ جناب محمد عمر، لائبررین اقبال اکیڈمی نے شکریہ ادا کیا۔ اس اہم خطاب میں حیدرآباد و اکناف سے اہل علم و دانش کی کثیر تعداد شریک تھی۔ لکچر ہال اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا تھا۔ خطاب کے بعد شرکاء نے فاضل خطیب سے سوالات کئے اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ یہ لکچر ڈیکن ڈائجسٹ نیٹورک کے تعاون سے انٹرنیٹ پر راست نشر کیا گیا۔ ملک و بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں ناظرین نے اس سے استفادہ کیا۔ اس لکچر کی ویڈیو اقبال اکیڈمی کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔


 

Sunday, 3 June 2018

کعبہ اور مقام ابراہیم کی کنجیاں رکھنے والے ’’خادم‘‘ کون ہیں؟

کعبہ اور مقام ابراہیم کی کنجیاں رکھنے والے ’’خادم‘‘ کون ہیں؟
ابوسعدی
خانہ کعبہ کی تولیت اور خدمت کا شرف ’’بنو شیبہ‘‘ خاندان کو حاصل ہے۔ تقریباً 16 صدیوں سے زیادہ عرصے سے کعبہ کی تولیت قریش میں قصی بن کلاب بن مرہ کی اولاد کے پاس ہے۔ ان ہی کی نسل سے آل الشیبی خاندان کا تعلق ہے جو اس وقت کعبہ کا متولی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کعبہ کی کلید واپس لوٹائی تھی۔ کعبہ کی تولیت ایک پرانا پیشہ ہے۔ اس سے مراد بیت اللہ کی دیکھ بھال، اس کے کھولنے اور بند کرنے، اس کی صفائی اور غسل اور اس کے غلاف کی مرمت سے متعلق امور سرانجام دینا ہے۔ بیت اللہ کو ہر سال دو مرتبہ یعنی یکم شعبان اور 15 محرم کو اندر سے غسل دیا جاتا ہے۔ غسل میں آبِ زمزم اور عرقِ گلاب کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چاروں دیواروں کو پانی اور پھر عطر سے پونچھا جاتا ہے۔ غسل دیے جانے کے بعد بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی جاتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایک وڈیو کلپ گردش میں آیا تھا جس میں بیت اللہ کے سینئر متولی شیخ صالح الشیبی کعبہ کی کلید، بابِ توبہ کی کلید اور مقامِ ابراہیم کی کلید پیش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ سعودی مؤرخ اور مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر محمد آل زلفہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’کعبہ کے دروازے کی کلید تاریخی اور مذہبی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کلید کے لیے سبز رنگ کا ایک خصوصی بٹوہ ہے جس پر یہ آیت تحریر ہے’’ان اللّٰہ یأمرکم أن تؤ دواالأمانات الی ألہلہا‘‘۔
فولاد سے بنی اس کلید کی لمبائی 35 سینٹی میٹر کے قریب ہے۔ مختلف اسلامی ادوار کے دوران اس کلید کو کئی مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ عبدالقادر الشیبی نے 2013ء کے اواخر میں مکہ کے گورنر سے کعبہ کی کلید حاصل کی تھی۔ اس وقت کعبہ کا قفل اور کنجی دونوں نکل سے بنی ہوئی ہیں جن پر 18 قیراط کا سونا چڑھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر آل زلفہ کے مطابق کعبہ کی کلید کی صورت بدلتی رہی ہے۔ ترکی میں واقع اسلامی عجائب خانے کے اندر عثمانی دور کے وقت سے کعبہ کی 48 کنجیاں موجود ہیں۔ ریاض کے عجائب خانے میں بھی کعبہ کی دو کنجیاں رکھی گئی ہیں۔ آل زلفہ نے بتایا کہ ’’خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت سے تولیت ان کے صاحب زادے اسماعیل علیہ السلام کے پاس تھی۔ بعد ازاں جرہم اور خزاعہ قبیلوں نے بالترتیب اس پر قبضہ کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چوتھے جد امجد قصی بن کلاب نے ان قبیلوں سے کعبے کی تولیت واپس لے لی۔ قصی کی وفات کے بعد تولیت ان کے سب سے بڑے بیٹے عبدالدار کے ہاتھوں میں آگئی۔ جاہلیت اور اسلام کے ادوار میں تولیت اسی خاندان کے پاس رہی۔ ابھی تک تولیت کی ذمے داری ان ہی کی اولاد کے پاس ہے، یہاں تک کہ یہ عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ بن عبد اللہ بن العزی بن عثمان بن عبدالدار بن قصی کے پاس پہنچ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کعبے کی کنجیاں واپس لوٹائیں۔ آل زلفہ کے مطابق کعبہ کے دروازے کی کلید ہمیشہ سب سے عمر رسیدہ خادم کے پاس رہی ہے جو ’’سادن‘‘ یعنی متولی کہلاتا ہے۔ کعبہ کا دروازہ کھولتے وقت سادن تمام سینئر متولیوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ حکمراں اور شہزادوں کے ساتھ مل کر کعبہ کو غسل دیں۔

Friday, 23 February 2018

Were Vikings Muslims?

Were Vikings Muslims?

Swedish researchers find ‘Allah’ sewn into burial clothes



The findings raising questions about the ties between the Islamic World and the Viking-era Scandinavians, which could suggest that some Vikings were Muslim.

Arabic letters spelling the words “Allah” and “Ali” in silk were found on the burial costumes from Viking boat graves that had been kept in storage for over a century.

Textile archaeologist Annika Larsson of Uppsala University who revisited garments that were dug up in Birka and Gamla Uppsala in Sweden in the late 19th and mid-20th centuries made the discovery.

It is well-known among researchers that the Vikings, those Scandinavian warriors who roamed the seas between the 9th and 11th centuries, made contact with the Islamic World. But new evidence suggests these interactions were greater than previously thought.

Previous DNA testing has shown that some people buried in Viking graves originated in Persia, where Islam was dominant.

Larsson has determined that the material on the garments she is studying comes from Central Asia, Persia, and China, and her team is now working with DNA researchers to determine who, exactly, was wearing them. Still, Larsson says “it is more likely these findings show that Viking age burial customs were influenced by Islamic ideas such as eternal life in paradise after death.”

In the past decade, researchers have also unearthed Arab coins buried by Vikings and a ring inscribed with “for Allah” in a Viking grave. Yet Larsson’s burial garments mark the first time that artifacts with the Arabic characters for “Ali” have been found in Scandinavia.

Again, it’s not clear what the significance of this is. Larsson notes that “Ali” and “Allah” always appear together in the burial garments.

“That we so often maintain that Eastern objects in Viking Age graves could only be the result of plundering and eastward trade doesn’t hold up as an explanatory model, because the inscriptions appear in typical Viking Age clothing,” Larsson told The Independent. “It is a staggering thought” that these burial garments could’ve been “made west of the Muslim heartland.”

In an interview with the the Swedish news site The Local, Larsson added that her findings demonstrate the importance of “challenging historical research.” The scholars who originally studied these garments in the mid-20th century failed to notice their non-Western influences, and it was only through Larsson’s review of them that she was able to uncover their meaning.

How Islam Created the Modern World : Mark Graham

How Islam Created the Modern World

By: Mark Graham

In a clear and concise language, Mark Graham endeavours to show in his book How Islam Created the Modern World the decisive influence of the civilisation of Islam in setting the stage for the modern world.

Review of How Islam Created the Modern World by Mark Graham. Beltsville, Maryland: Amana Publications, 2006. Hardcover, 208 pages. ISBN-10: 1590080432 - ISBN-13: 978-1590080436.

For several centuries, corresponding to the European Middle Ages, Baghdad was the intellectual center of the world. It was there that a huge community of translators and scholars appropriated in Arabic culture the knowledge of ancient civilisations and combined it with the cultural traditions and imperatives of the Islamic context to create a scientific, mathematical and philosophical golden age.

This golden age of Islam embraced all the products of human spirit practiced at that time, including different scientific disciplines, medicine, symbolic and artistic creation, social organisation and material culture, including productive branches12 of applied knowledge in industry, architecture and the making of instruments.

These accomplishments were so numerous and original that they realised an unprecedented stage of civilisation and occupied a high rank in human creation. Being unique and at the front of inventivity, they gained the admiration of other peoples who were aware of the existence of these treasures. Hence a dynamic process of transmission was set up between the Muslim and the Latin worlds all over the Mediterranean coasts.

This transfer process was progressive and uninterrupted for several centuries, mainly in the Andalus, but also in Sicily, Southern France and in the Middle East during the Crusades.

At the dawn of the Renaissance, Christian Europe was wearing Persian clothes, singing Arab songs, reading Spanish Muslim philosophy and eating off Mamluk Turkish brassware. This is the story of how Muslims taught Europe to live well and think clearly. It is the story of how Islam created the Modern World.


It is this story of civilisation that Mark Graham describes in his book. Who would have thought an Edgar-winning mystery novelist could explain to us in clear, concise language that without Islam, western civilization as we know it might not exist? Underlying that dramatic proposition is an important thesis: The ongoing debate about a supposed "clash of civilizations" misses the reality that Islam and the West developed from essentially the same roots and, despite their rivalry, helped each other in profound ways along the path to "civilisation". In fact, the West and Islam can be viewed as merely different faces of the same civilization. He explains how Arabic-speaking Muslims not only preserved the scientific and philosophical knowledge of the Greeks but also "made it their own", greatly extending and improving on it. For example, the newly developed concepts of Andalusian philosopher Ibn Rushd (Averroes) found their way into western universities, where they were viewed as challenges to church orthodoxy and ushered in the beginnings of the scientific method.

Muslim thinkers, poets and scientists set the stage for the European Renaissance: Graham points out specific borrowings in Dante's Divine Comedy from the works of the great Andalusian writer Ibn ‘Arabi, and shows how these intercultural transfers were likely mediated by Dante's mentor Brunetto Latini, who had brought back learning from the libraries of Toledo, where, even after the Christian reconquista Muslims and Christians continued to live together and to work along the same paths as when the Muslims were the rulers of the Iberian peninsula.


In other places of his book, Graham shows more concrete ways in which the West is indebted to Islam: A Mongol invasion of Europe was thwarted when Egypt's Mamluk army defeated the Mongols at ‘Ain Jalut, Palestine, in 1260. Imagine how different the West would be today if the Mongols had triumphed! As it turned out, the West never again faced the threat of Mongol invasion after ‘Ain Jalut, and the breather which thus provided Europe a chance to absorb what Graham terms "the other great gift of Islam—knowledge".

Mark Graham is a mystery novelist whose works were translated in several languages. He is the winner of the Edgar award. He studied medieval history and religious studies at Connecticut College and has a Master's degree in English literature from Kutztown University. He lives in the Lehigh Valley, Pennsylvania.
Contents of the book
Acknowledgements 9
Foreword 11
Introduction 15
Chapter 1: Islam becomes an empire 17
Chapter 2: The House of wisdom 37
Chapter 3: Hippocrates wears a turban 51
Chapter 4: The great work 63
Chapter 5: Beyond the Arabian nights 77
Chapter 6: Islam's secret weapon 97
Chapter 7: A medieval war on terror 117
Chapter 8: The first World war 139
Chapter 9: Raiders of the last library 157
Chapter 10: Children of Abraham, children of Aristotle 175
Appendix 1: What the Qur'an says 183
Appendix 2: Arabic words in English 185
Further reading 189
Index 197
Further reading
"Centuries in the House of Wisdom", The Guardian, Thursday September 23, 2004. Online here.
"Ibn Tufayl, Abu Bakr Muhammad (before 1110-85)", online here.
Islam and Islamic History in Arabia and The Middle East: The Legacy. Online here.
MacDonald, Duncan B. Development of Muslim Theology, Jurisprudence and Constitutional Theory [1903]. Online on The Internet Sacred Text Archive here.
Morgan, Michael Hamilton, Lost History: the Enduring Legacy of Muslim Scientists, Thinkers and Artists.Washington DC: The National Geographic Books 2007. Lost History Homehere.
Leaman, Oliver1998. "Islamic philosophy", in E. Craig (Ed.), Routledge Encyclopedia of Philosophy. London: Routledge. Retrieved August 23, 2007, from here.
Courtesy: http://www.muslimheritage.com/article/how-islam-created-modern-world

Friday, 5 January 2018

عہد خلفائے راشدین میں امن و رواداری ۔ Peaceful period of guided Caliphs

علّامہ اقبال اور عطائی Allama Iqbal aur Atai

علّامہ اقبال اور عطائی
عرفان صدیقی
زندگی ایسے واقعات کے تسلسل کا نام ہے، جو بڑی حد تک انسان کی اپنی گرفت میں نہیں ہوتا۔ بلاشبہہ انسان کے اپنے عزم، محنت، جدوجہد اور تگ و تاز کی بھی بڑی اہمیت ہے، لیکن ’لالے کی حنا بندی‘ میں اہم کردار فطرت ہی کا ہوتا ہے۔ پردۂ تقدیر میں کیا چھپا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ اس میں بھی خالقِ ارض و سما کی ان گنت حکمتیں پوشیدہ ہیں، وگرنہ معلوم نہیں انسان کی زندگی کیسا بے ذوق تماشا  بن جاتی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اُس کی زندگی میں کب، کس مرحلے پر، کس آن کون سا سعید لمحہ، سینۂ افلاک سے پھوٹ کر، اُس کے دامن کو مالا مال کر جائے گا۔ یکایک اُس کے دامن کے سب داغ دھبے دُھل جائیں گے، اور وہ صبح ازل کی طرح اجلا اور شفاف ہو جائے گا۔ اسی طرح کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کس آن، کوئی لمحہ ایک سانحہ سا بن کر اُس کی زندگی میں آ ٹپکے گا اور چشم زدن میں اس کی عمر بھر کی کمائی کو گٹھڑی میں باندھ کر غائب ہو جائے گا، اور وہ بھرے شہر میں بے سروساماں ہوکر رہ جائے گا۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘ کہ اللہ کسی پر مہرباں ہو، اُس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے، اُسے کسی ایسے کارِ خاص کے لیے چُن لے، جو اُس کے لیے زندگی بھر کا ہی نہیں، آنے والے کئی زمانوں کے لیے بھی اثاثہ اور صدقۂ جاریہ بن جائے۔ اس کرم و عطا کی حکمت آموز مثالیں ہمیں کثرت سے ملتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آفتابِ رسالت طلوع ہوا اور غار حرا سے اسلام کے مہرِتاب دار نے انگڑائی لی، تو کچھ عالی نصیب ایسے تھے، جنھیں ایمان کی بے بہا دولت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی رفاقت کا بلند اعزاز عطا ہوا۔ مگر اُسی شہر مکہ میں کچھ ایسے بد نصیب بھی تھے، جو بدستور تاریکیوں میں بھٹکتے اور اپنے لیے آگ سمیٹتے رہے:
حسنؓ ز بصرہ، بلالؓ از حبش، صہیبؓ از روم
زخاکِ مکہ ابوجہل، ایں چہ بو العجبی ست
)
کیا عجیب بات ہے کہ بصرہ سے حسن بصریؓ، حبشہ سے بلال حبشیؓ اور روم سے صہیب رومیؓ جیسے صحابہ کرامؓ پیدا ہوئے اور خود مکہ کی خاک پاک سے ابوجہل نے جنم لیا۔(
اس ’بوالعجبی‘ کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا ہے۔ کسی پر اللہ نے رحمتوں اور برکتوں کے دَروا کر دیے اور وہ محبوب و مقبول ٹھیرا۔ کسی کے لیے محرومیاں اور نامرادیاں مقدر کر دی گئیں اور وہ راندۂ درگاہ قرار پایا۔ اس کا معیار کیا ہے؟ اللہ کس کسوٹی پر پرکھتا ہے؟ کس ترازو میں تول کر مقبول و مردود کے فیصلے صادر کرتا ہے؟ ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ انسان کی محدود عقل اس راز کو پانے کی قدرت نہیں رکھتی:
یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
٭

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنھیں چُن لیا جاتا ہے۔ اللہ انھیں اپنی بے پایاں عنایات کی آغوش میں لے لیتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قربتوں اور اس عہدِسعید کی برکتوں سے براہِ راست فیض یاب ہوئے،مگر ایسے بامراد ہر دور میں گزرے ہیں، جن کے دلوں میں عشقِ رسولؐ کا چراغ روشن ہوا اور ان کی زندگی کے ہر لمحے کو فروزاں کر گیا۔
ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک پٹھان،اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اُس کا نام محمد رمضان [م:۷ جمادی الاول ۱۳۸۸ھ/۲؍اگست۱۹۶۸ء] رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی اے کے بعد بی ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر، سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سرکارِ انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنت رسولؐ سے سجا تھا۔ ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اورکندھے پر بڑا سا تولیہ ڈالے رکھتے۔ فارسی اور اُردو میں شعر کہتے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے عشاق میں سے تھے۔ اُن کے کئی اشعار پر تضمین کہی، جو علامہ نے بہت پسند کی۔ مولانا فیض محمد شاہ جمالی کے مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسویؒ کے حلقہ نشین تھے۔ ایک سیاسی خاندان کے نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگائو کے باعث عطائی تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔
یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ اسکول میں تعینات تھے۔ تب اُن کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی[م:۱۹۶۴ء]، ڈیرہ غازی خان میں سب جج تھے [جو ڈیرہ کے علاوہ، لدھیانہ، امرتسر، ہوشیارپور میں سب جج اور ۱۹۴۷ء کے بعد ریٹائرمنٹ تک لاہور میں سیشن جج رہے۔] ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحب علم شخصیت تھے۔ آپ انیس ناگی [م:۲۰۱۰ء] کے والد اور معروف صحافی واصف ناگی کے دادا تھے۔ علامہ اقبال سے گہری محبت رمضان عطائی اور ابراہیم ناگی کے درمیان دوستانہ قربت کی قدرِ مشترک تھی۔ مولانا ابراہیم کو   علّامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ایک دن مولانا محمدابراہیم لاہور گئے اور علامہ اقبال سے ملاقات ہوئی ۔ واپس آئے تو سرِشام معمول کی محفل جمی اور علامہ اقبال سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولاناابراہیم نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا، او رکہنے لگے: ’’لوعطائی، علامہ صاحب کی تازہ رُباعی سنو‘‘۔ پھر وہ عجب پُر کیف انداز میں پڑھنے لگے:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہاے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر
مولانا محمد ابراہیم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم ِ وجد میں فرش پر گرے، چوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئے۔ رُباعی اُن کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اُٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہتے۔ اُنھی دنوں حج پر گئے۔ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ: ’جب حجاج اوراد اور وظائف میں مصروف ہوتے تو میں زاروقطار روتا اور علامہ کی رُباعی پڑھتا رہتا۔‘ حج سے واپسی پر عطائی کے دل میں ایک عجیب آرزو کی کونپل پھوٹی: ’’کاش! یہ رُباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی‘‘۔
یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا: ’’آپ سر ہیں، فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار، لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی‘‘۔ انھوںنے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے چیدہ چیدہ فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’’فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رُباعی مجھے عطا فرما دیں‘‘۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اُنھیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
’’
جناب محمد رمضان صاحب عطائی
سینئر انگلش ماسٹر، گورنمنٹ ہائی سکول، ڈیرہ غازی خان
جنابِ من! میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رُباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
      
فقط
لاہور: ۱۹ فروری۱۹۳۷ء     محمد اقبال
علامہ کی یہ عطا، جنابِ عطائی کے لیے توشۂ دو جہاں بن گئی۔ علامہ نے یہ رُباعی اپنی نئی کتاب ارمغانِ حجاز کے لیے منتخب کر رکھی تھی، مگر عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انھوں نے اسے کتاب سے خارج کرکے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رُباعی کہی جوارمغانِ حجاز  میں شامل ہے:
بہ پایاں چوں رسد ایں عالمِ پیر
شَود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکُن رُسوا حضورِ خواجہؐ ما را
حسابِ مَن زچشمِ او نہاں گیر
)
اے میرے رب! جب (روز قیامت) یہ جہانِ پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اُس دن مجھے میرے آقا ومولاؐ کے حضور رُسوا نہ کرنا اور میرا نامۂ اعمال آپؐ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا۔(
عطائی ایم اے فارسی کا امتحان دینے لاہور گئے تو شکریہ ادا کرنے کے لیے حضرت ِ علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانے والے چودھری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا: ’’بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے‘‘۔
علامہ ایک کُھرّی جھلنگا چارپائی پر سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے: ’’عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘۔ رُباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب و کیف سے پڑھنا شروع کیا: ’’تو غنی از ہر دوعالم…‘‘ علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔ اتنا روئے کہ سفید چادر کے پلو بھیگ گئے۔ اس کے بعد عطائی کی علامہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔
محمد رمضان عطائی کی آخری ملاقات علامہ اقبال سے ان کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر۱۹۳۷ء میں ہوئی۔ انھوں نے علامہ سے کہا: ’’سنا ہے جناب کو دربارِ نبویؐ سے بلاوا آیا ہے‘‘۔ علامہ آبدیدہ ہو گئے… آواز بھرا گئی۔ بولے:’’ہاں! بے شک، لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے۔ آنکھوں میں موتیا اُتر آیا ہے۔ یار کے دیدار کا لطف دیدۂ طلب گار کے بغیر کہاں؟‘‘ عطائی نے کہا: ’’جانا ہو تو دربار نبویؐ میں وہ رُباعی ضرور پیش فرمائیے گا، جو اَب میری ہے‘‘۔ علامہ زاروقطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا: ’’عطائی! اس رُباعی کو بہت پڑھا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے‘‘۔
۲۱؍اپریل۱۹۳۸ء کو علامہ اقبال انتقال فرما گئے۔ عرصے بعد بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی سیڑھیوں سے متصل اُن کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی، تو ہر ہفتے اور اتوار کو ایک مجذوب سا شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پہ آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پر نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک زاری شروع کر دیتا، کبھی مزار کے گرد چکر کاٹنے لگتا۔ اُس پروانے کا نام محمد رمضان عطائی ہی تھا۔
مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے: ’’ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گہر تو اُڑا لے گیا۔ بخدا، اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نوازؔ  (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے، تو میں اپنی تمام جایداد دے کر یہ رُباعی حاصل کر لیتا اورمرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا‘‘۔
محمد رمضان عطائی سنیئر انگلش ٹیچر نے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے قبل اپنی وصیت میں لکھا: ’’میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پر لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا‘‘۔ مجھے معلوم نہیں پسِ مرگ اُن کے کسی وارث نے اس عاشقِ رسولؐ کی پیشانی پر وہ رباعی لکھی یا نہیں۔
چند سال قبل، مَیں خاص طور پر محمد رمضان عطائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے ڈیرہ غازی خان گیا۔ ’ملا قائد شاہ‘ کے قدیم قبرستان میں ایک پرانی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ لوحِ مزار پر کندہ تھا:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہِ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر