Search This Blog

Showing posts with label COMPANIONS. Show all posts
Showing posts with label COMPANIONS. Show all posts

Thursday, 9 May 2019

خطیبِ رسولﷺ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ

خطیبِ رسولﷺ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ
محمود میاں نجمی
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مسجدِ نبویؐ میں تشریف فرما تھے۔ آپس میں محوِ گفتگو صحابۂ کرامؓ میں سے کچھ کی آوازیں بے خیالی میں معمول سے اونچی ہو گئیں۔ یہ سب اَن جانے میں ہوا، ورنہ صحابۂ کرامؓ تو حضور ﷺ کے ادب و احترام کا بہت خیال رکھتے تھے، لیکن ربّ ِ ذوالجلال کو اپنے محبوب رسولؐ کی موجودگی میں آواز کی یہ بے احتیاطی بھی پسند نہ آئی اور جبرئیل امینؑ، اللہ کا حکم لے کر حاضر ہو گئے ’’اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو‘‘ (سورۃ الحجرات)۔اس آیت کے نزول پر صحابۂ کرامؓ، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے خوف سے مزید محتاط ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی آواز قدرتی طور پر بھاری تھی اور بلند بھی، چناں چہ اُنہوں نے خود کو گھر میں گوشہ نشین کر لیا اورباہر نکلنا بند کر دیا۔ تنہائی میں اتنا روتے کہ داڑھی آنسوئوں سے تر ہو جاتی، حتیٰ کہ کھانا پینا بھی تَرک کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے حال احوال سے باخبر رہا کرتے تھے، سو، جب کئی دن گزر گئے اور حضرت ثابت بن قیسؓ نظر نہ آئے، تو آپؐ نے حضرت سعد بن معاذؓ سے دریافت فرمایا’’ثابتؓ کا کیا حال ہے؟‘‘، حضرت سعدؓ نے جواباً عرض کیا’’یارسول اللہؐ! وہ میرے پڑوسی ہیں، مگر مجھے اُن کی بیماری وغیرہ کا تو کوئی علم نہیں ، البتہ ابھی جا کر اُن کی کیفیت معلوم کر کے آپؐ کو مطلع کرتا ہوں۔‘‘ حضرت سعدؓ جب اُن کے گھر گئے، تو وہ سر جھکائے بیٹھے تھے۔ حضرت سعدؓ نے پوچھا’’ اے ثابتؓ! کیا حال ہے؟‘‘ جس پر اُنھوں نے جواب دیا’’بُرا حال ہے۔ (میری آواز سب سے بلند اور بھاری ہے) چناں چہ بعض اوقات (غیر ارادی طور پر) میری آواز، رسول اللہؐ کی آواز سے بلند ہو جاتی تھی، لہٰذا (اس آیت کے نزول کے بعد) اب میرے سب اعمال ضائع ہو گئے اور اسی غم نے مجھے نڈھال کر رکھا ہے۔‘‘ حضرت سعدؓ نے واپس جا کر نبی کریم ﷺ کو مطلع کیا، تو آپؐ نے فرمایا’’تم اُن کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ وہ جنّتی ہیں‘‘(بخاری)۔

یہ ہے اللہ کے رسولؐ کی عظمت کہ صحابۂ کرامؓ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ نبیؐ کی مجلس میں بات کرو، تو ادب اور قرینے کے ساتھ، دھیمے لہجے میں کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی عُمر بھر کی کمائی ضائع کر دے اور یہی حکم بعد کے لوگوں کے لیے بھی ہے کہ جس مجلس میں محبوبِ خدا ؐ کا ذکر ہو، وہاں ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ جو دل اللہ کے رسولؐ کے ادب اور احترام سے خالی ہے، وہ دراصل تقویٰ سے خالی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاشرے کے بزرگ اور عُمر رسیدہ افراد کے ساتھ بھی گفتگو کے دَوران ادب، آداب کا پورا خیال رکھتے ہوئے مدہم آواز میں بات کرنی چاہیے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا’’جب اپنے والدین سے بات کرو، تو ایسے کرو، جیسے غلام اپنے آقا سے کرتا ہے۔‘‘

سلسلۂ نسب
آپؓ کا سلسلۂ نسب یہ ہے۔ ثابت بن قیس بن شماس بن زہیر بن مالک بن امرء القیس بن مالک بن اعز بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر۔

قبولِ اسلام
حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے سب سے معزّز، مشہور اور بڑے قبیلے، خزرج کے سرداروں میں سے تھے۔ ذہانت، فطانت، فہم و فراست، علم و حکمت، شیریں کلامی، حاضر جوابی، زورِ خطابت میں اُن کا ثانی نہیں تھا۔ بھاری، بلند، بارُعب آواز اور خُوب صورت، پُراثر تقاریر کا فن تحفۂ خداوندی تھا، جس کا بھرپور استعمال کرتے۔نیز، وہ مدینے میں اوّلین ایمان لانے والوں میں سے ایک تھے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقعے پر آنحضرتؐ نے ایک نوجوان صحابی، حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب میں مسلمانوں کا پہلا سفیر اور اسلام کے مبلّغ کے طور پر بھیجا، جنھوں نے نہایت جوش و خروش سے اسلام کی تبلیغ کی۔ وہ جلد ہی اپنے ایمان افروز خطابات اور مکارمِ اخلاق کی وجہ سے مبلّغ، معلّم اور استاد کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ اُن کی محفلوں میں بیٹھتے اور قرآنِ کریم کی آیاتِ کریمہ سُن کر اُن پر غوروخوض کرتے، پھر ایک دن اُنہوں نے حضرت مصعبؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔

مرحبا! اے تاج دارِ مدینہؐ
امام الانبیاءؐ، تاج دارِ مدینہؐ، نبیٔ رحمتؐ، حضور رسالتِ مآبﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اہلِ مدینہ شہر سے باہر آپؐ کے استقبال کے لیے صف بستہ تھے۔ اہلِ انصار کی بچّیاں بڑے ذوق و شوق، احترام و عقیدت کے ساتھ خُوب صورت اشعار پڑھ رہی تھیں۔ مدینے کی فضا خوشبوئوں سے مہک رہی تھی۔ قبیلہ خزرج کے گھڑ سواروں کا ایک بہت بڑا دستہ، حضرت ثابت بن قیس ؓکی زیرِ قیادت دنیا کی سب سے عظیم المرتبت شخصیت کے فقیدالمثال استقبال کے لیے چاق چوبند کھڑا تھا۔ اللہ کے رسولؐ اپنے یارِ غار، حضرت صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، تو حضرت ثابت بن قیسؓ نے اہلِ مدینہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہوئے ایک فصیح و بلیغ خطبہ دیا، جس کے اختتام پر اُنہوں نے کہا’’اے اللہ کے سچّے رسولؐ! ہمارے والدین اور ہم آپؐ پر قربان، ہم اہلِ مدینہ، اللہ کو حاضر ناظر جان کر آپؐ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی جان و مال سے زیادہ آپؐ کی اور آپؐ کے رفقاء کی حفاظت کریں گے اور تبلیغِ اسلام میں آپؐ کے معاون و مددگار بنیں گے۔ کیا اس کے عوض اللہ ہمیں کسی انعام سے نوازیں گے؟ اللہ کے محبوبؐ، نبیوں کے امامؐ، خلقِ مجسمؐ، خاتم المرسلینؐ، رحمت اللعالمینؐ کے رُخِ انور پر ایک رُوح پرور مسکراہٹ آئی اور آپؐ نے جس انعام کا اعلان کیا، وہ اہلِ ایمان کے لیے وہ تحفۂ عظیم ہے کہ جس کے حصول کی خواہش اور آرزو ہر مسلمان کے لبوں پر دعائوں کی صورت مچلتی رہتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’جنّت‘‘۔ اس اعلان نے اہلِ مدینہ کے چہروں کو خوشی سے منور کر دیا اور وہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔

خطیبِ رسول اللہؐ
حضرت ثابت بن قیسؓ کو اللہ نے تقریر و تحریر کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا اور پھر آواز بھی بارُعب، گونج دار اور سپاٹ تھی۔ جب بات کرتے، تو اندازِ تکلّم، بلندیٔ آواز اور مدلّل گفتگو مخاطب کو بات سُننے پر مجبور کر دیتی۔ خطاب کرتے، تو تقریر کا جادو سر چڑھ کر بولتا اور الفاظ کی روانی، جملوں کی ترتیب و تشبیہات، آواز کا اُتار چڑھائو اس بہتے پُرزور دریا کی مانند ہوتا، جو اپنے سامنے آئی ہر چیز بہا لے جاتا ہے۔ پھر سُننے والا خطابت کے طلسم میں محو ہو کر جملوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا اور تقریر کے اختتام پر حضرت ثابت بن قیسؓ کا معتقد ہو جاتا۔ اہلِ مدینہ کی ہر تقریر، ہر وعظ اور ہر خطاب حضرت ثابتؓ سے شروع ہوتا اور ان ہی پر اختتام ہوتا۔ شروع میں اہلِ مدینہ نے اُنہیں’’خطیبِ انصار‘‘ کا خطاب دیا تھا، لیکن جب اُنہوں نے اپنے آپ کو تبلیغِ دین اور خدمتِ نبویؐ کے لیے وقف کر دیا، تو پھر وہ’’خطیبِ رسول ا للہ ؐ ‘‘ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔

کاتبِ وحی
حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے پڑھے لکھے لوگوں میں شامل تھے اور اُنھیں فنِ تقریر کے علاوہ تحریر میں بھی کمال حاصل تھا۔ خوش خط، پختہ، صاف اور روشن تحریر اُن کی خاص پہچان تھی۔ رسول اللہؐ نے اُنہیں’’ کاتبِ وحی‘‘ کے منصب پر فائز فرمایا، تو وہ خُوب صُورت انداز میں آیاتِ مبارکہ کی کتابت کرنے لگے۔

حضرت ثابتؓ کی فضیلت
ہجرت کے آٹھویں سال فتح ِمکہ کے بعد رسول اللہؐ واپس مدینہ منورہ آئے، تو پورے عرب سے لوگ وفود کی صورت اسلام قبول کرنے کے لیے جُوق در جُوق آنے لگے، اُن ہی میں یمامہ سے بنو حنیفہ کا آنے والا وفد بھی شامل تھا، جس کی قیادت مسیلمہ کذّاب کر رہا تھا۔ اُس وفد نے مدینے میں15روز قیام کیا۔ وفد کے تمام لوگ روزانہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضرت ابی بن کعب ؓسے قرآنِ کریم کی تعلیم لیتے، لیکن مسیلمہ مال و اسباب کی حفاظت کے بہانے اپنی رہائش گاہ ہی پر رہتا۔ اُس نے بہ ظاہر تو اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن وہ بڑا کینہ پرور، منافق اور متکبّر انسان تھا۔ اللہ کے رسولؐ کی سادگی، مسلمانوں کی عاجزی و انکساری اُسے پسند نہ آئی۔ اُس کے ذہن میں تو مسلمانوں کے بادشاہ کا تصوّر قیصر و کسریٰ جیسا تھا، چناں چہ اُس نے اسلام کو دِل سے قبول نہ کیا۔ ایک دن آنحضرتؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ سے فرمایا کہ آج بنو حنیفہ کے وفد سے ملاقات کریں گے، پھر آپؐ اُن کی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔ مسیلمہ بن حبیب کذّاب، آپؐ سے مختلف سوالات پوچھتا رہا۔ آخر میں آنحضرتؐ نے فرمایا ’’اے مسیلمہ! یہ ثابت بن قیسؓ ہیں، جو میری طرف سے تجھ کو سوالوں کے جواب دیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر آپؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو وہاں چھوڑا اور خود تشریف لے گئے(بخاری، مسلم)۔

حضرت ثابتؓ کا ولولہ انگیز خطاب
مسیلمہ، مدینہ منورہ سے اپنے وطن یمامہ پہنچا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہاں تک کہ اُس نے آنحضرتؐ کو خط لکھا کہ’’نبوت میں آپ اور میں دونوں شریک ہیں، لہٰذا نصف مُلک قریش کا اور نصف میرا رہے گا۔‘‘ رسول اللہؐ نے اس کا جواب لکھوا کر بنو حنیفہ کے ایک شخص رجال بن عنفوہ کے ذریعے اُس تک پہنچوایا(تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔آپؐ کی رحلت کے بعد سیّدنا صدیقِ اکبرؓ نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے عکرمہؓ بن ابی جہل کو روانہ کیا، لیکن وہ شکست کھا گئے۔ اس کے بعد آپؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو13ہزار کا لشکر دے کر روانہ کیا، جس میں حضرت ثابت بن قیسؓ بھی شامل تھے۔ مسیلمہ کذّاب نے یمامہ میں40ہزار سے زیادہ جنگجو جمع کر رکھے تھے۔ جنگ کے دَوران ایک لمحہ وہ بھی آیا کہ جب مسیلمہ کے جنگجو، مسلمانوں پر بھاری پڑ گئے، ایسے میں حضرت ثابت بن قیسؓ نے ایک پُرجوش اور ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے مجاہدین کا لہو گرما دیا، جس سے اُن کے حوصلے بلند ہو گئے۔

شہادتِ مردِ مومن
دوسرے دن کا سورج طلوع ہوا، تو یمامہ کے آسمانوں نے عزم و ہمّت اور جذبۂ جہاد کا ایک ایمان افروز منظر دیکھا، جس نے جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے سر سے کفن باندھا، کچھ اور صحابہؓ کو ساتھ لیا اور بپھرے شیر کی طرح دشمنوں پر حملہ آور ہو گئے۔ حضرت ثابتؓ کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمنوں کی لاشوں کا ڈھیر لگاتے تنِ تنہا اُن کی صفوں کو چیرتے دُور تک نکل گئے۔ یہاں تک کہ دشمنوں نے اُنہیں چاروں طرف سے گھیر کر شہید کر دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی اس شہادت نے مجاہدین میں شوقِ شہادت کو بیدار کر دیا اور پھر اُنہوں نے اللہ کی تائید و نصرت کے سائے میں متحد ہو کر نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کی فوج پر بھرپور حملہ کر دیا۔ اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ وحشی (حضرت حمزہؓ کے قاتل) نے اپنا نیزہ پھینکا، جو مسیلمہ کذّاب کی زرہ کو چیرتا ہوا اس کے جسم کے آر پار ہو گیا اور وہ جہنم رسید ہو گیا۔ جنگِ یمامہ ماہ ذی الحجہ11ہجری میں ہوئی (تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔

حضرت ثابتؓ کی خواب میں وصیّت
حضرت ثابتؓ لڑائی کے وقت ایک نہایت نفیس اور عمدہ زِرہ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ جب شہید ہو گئے، تو کسی نے اُن کے جسم سے زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں چُھپا لی۔ شہادت کی دوسری رات، ایک شخص کے خواب میں حضرت ثابتؓ آئے اور فرمایا’’مَیں ثابت ؓبن قیس ہوں، کیا تم نے مجھے پہچان لیا؟‘‘ وہ بولا’’ہاں۔‘‘ حضرت ثابتؓ نے فرمایا’’مَیں تجھے ایک وصیّت کر رہا ہوں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو اسے خواب جان کر خاطر میں نہ لائے۔ جب کل میں شہید کر دیا گیا، تو فلاں شخص میرے پاس سے گزرا اور میری زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں لے گیا، اس کا خیمہ فلاں سمت میں واقع ہے۔ اُس شخص نے میری زِرہ اپنی دیگ میں رکھ کر اُس کے اوپر اونٹ کی کوہان پر رکھے جانے والے لکڑے رکھ دیے ہیں۔ تم خالد بن ولیدؓ کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ اس شخص سے زِرہ حاصل کر لیں۔ مَیں تمہیں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور دوبارہ متنبّہ کرتا ہوں کہ اسے خواب سمجھ کر ضائع نہ کرنا۔ خالدؓسے کہنا کہ جب تم مدینہ منورہ پہنچ کر خلیفۃ المسلمین سے ملو، تو اُن سے کہنا کہ ثابت بن قیسؓ پر اتنا قرض ہے اور فلاں، فلاں میرے غلام ہیں، لہٰذا میرے قرض کی ادائی کروا دیں اور میرے غلام آزاد کر دیں۔‘‘ وہ شخص نیند سے بیدار ہوا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو، جو کچھ دیکھا اور سُنا تھا، کہہ سُنایا۔ تمام باتیں سُن لینے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک صحابی کو زِرہ لانے کے لیے بھیجا اور وہ زِرہ نشان دہی کی ہوئی جگہ پر مل گئی۔جب حضرت خالدؓ مدینہ منورہ لَوٹ کر آئے، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تمام حالات کہہ سُنائے اور حضرت ثابت بن قیسؓ کی خواب میں کی گئی وصیّت سے بھی آگاہ کیا، جس پر صدیق اکبرؓ نے وصیّت پوری کر دی۔ اللہ، حضرت ثابت بن قیسؓ سے راضی ہوااور وہ اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے اُن کا ٹھکانہ اعلیٰ علیین میں بنایا (نجومِ رسالت، ڈاکٹر عبدالرحمٰن پاشا)۔

Sunday, 3 June 2018

رمضان میں صحابہؓ کا ذوق عبادت

رمضان میں صحابہؓ کا ذوق عبادت
ڈاکٹر عبدالحمید اطہر
ماہِ رمضان گزارنے والوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک وہ جس کے لیے اس مہینے اور سال کے دوسرے مہینوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہ ناکام ونامراد شخص ہے۔ دوسرا وہ جو عابد ہے، صرف عبادت کرتا ہے۔ اس کو رمضان کا ثواب تو ملتا ہے، لیکن رمضان کا مہینہ گزرتے ہی اس کا جوش وخروش ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی گزشتہ زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ تیسرا وہ جو حضورِ قلب کے ساتھ عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اس مہینے کو غنیمت جان کر اس دوران میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے، اور اس کی پچھلی اور بعد والی زندگی میں نمایاں فرق پیدا ہوتاہے۔ تیسری قسم کے یہی لوگ اللہ کے رسول سیدنا محمدؐ کے ساتھی صحابہ کرامؓ تھے۔ رمضان کے دوران انہی بزرگ ہستیوں کے معمولات کو اختصار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
صحابہ کرامؓ کا یہ معمول تھا کہ اس مہینے کی آمد سے پہلے ہی اپنے معمولات کو ترتیب دینے کے لیے اپنے اوقاتِ کار مرتب کرتے اور اپنا وقت ضائع ہونے نہیں دیتے تھے۔
غیر ضروری کاموں سے اجتناب
ابوذرؓ اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’جب تم روزہ رکھو تو جتنا ہوسکے لایعنی باتوں سے محفوظ رہو‘‘۔ اس روایت کے راوی طلیق جب روزے سے ہوتے تو اپنے گھر سے صرف نماز کے لیے نکلتے۔ (مصنف ابن ابی شیب)
عمر فاروقؓ نے فرمایا: ’’روزہ صرف کھانے پینے سے نہیں ہے، بلکہ روزہ جھوٹ، باطل اور لغو قسم کھانے سے بھی ہے‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
دن کے اوقات میں بھی مسجدیں آباد
ابن ابی شیبہ نے ابو المتوکل سے روایت کیا ہے کہ: ’’ابو ہریرہؓ اور آپ کے ساتھی جب روزہ رکھتے تو مسجد میں بیٹھتے‘‘۔ (النہایہ فی غریب الحدیث) صحابہ کرامؓ کی کثیر تعداد ماہِ رمضان میں اعتکاف کیا کرتی تھی، خصوصاً آخری عشرے میں۔
فقرا اور مہمانوں کی دعوت
صحابہ کرامؓ اصحابِ صفہ کو کھانا پیش کرتے تھے۔ یہ مسلمانوں میں سے معاشی لحاظ سے کمزور لوگ تھے جو مسجد نبوی میں بسیرا کرتے تھے۔ واثلہ بن اسقعؓ سے روایت ہے: ’’جب رمضان آیا تو ہم صفہ میں تھے۔ ہم نے روزہ رکھا، جب ہم افطار کرتے تو ہم میں سے ایک شخص کے پاس ایک آدمی آتا اور اپنے ساتھ لے جا کر رات کا کھانا کھلاتا‘‘۔ (حلیۃ الاولیاء، دلائل النبوۃ للبیہقی)
صحابہ کرامؓ وفود اور مہمانوں کے لیے کھانا پکایا کرتے تھے۔ علقمہ بن سفیان بن عبداللہ ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ’’ہم وفد کے ساتھ رسول اللہؐ سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ آپؐ نے ہمارے لیے مغیرہ بن شعبہ کے گھر کے پاس دو خیمے لگوائے۔ بلال ہمارے پاس افطار لے کر آتے تو ہم پوچھتے: ’’بلال، کیا رسول اللہؐ نے افطار کیا؟‘‘ وہ کہتے: ’’ہاں، میں تمھارے پاس رسول اللہؐ کے ہاں افطار کرنے کے بعد ہی آیا ہوں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)
سحری اور افطاری میں مدعو کرنا
طاؤسؒ سے یہ روایت نقل ہے: ’’میں نے ابن عباسؓ کو کہتے ہوئے سنا: ’’عمرؓ نے سحری میں مجھے اپنے پاس کھانے کے لیے بلایا، تو اسی دوران میں لوگوں کا شورغل سن کر دریافت کیا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: لوگ مسجد سے نکل رہے ہیں‘‘۔ (مختصر قیام اللیل) دراصل لوگ اجتماعی سحری کے بعد نکل رہے تھے۔
عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ کبھی آپ کے شاگرد سحری کھایا کرتے تھے، چاہے تھوڑا بہت کچھ بھی پاس ہوتا، اور وہ سحری تاخیر سے کیا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے عامر بن مطر سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا: ’’میں عبداللہ کے پاس ان کے گھر آیا، تو انھوں نے اپنی سحری میں سے بچا ہوا کھانا نکالا، تو ہم نے آپ کے ساتھ سحری کھائی۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم نکلے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیب)
تلاوت کی کثرت
صحابہ کرامؓ رمضان میں قرآن کی تلاوت کثرت سے کرتے، بلکہ بعض صحابہؓ تو اس کے لیے فارغ ہی ہوجاتے، اور اسی کو اپنا مشغلہ بنادیتے۔
مروزی نے قاسم سے روایت کیا ہے: ’’ابن مسعودؓ پورا قرآن ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک ختم کرتے تھے، اور رمضان میں ہر تین دن میں ایک ختم کرتے، اور دن میں بہت ہی کم قرآن ختم کرنے پر مدد لیتے تھے‘‘۔ (السنن الکبری للبیہقی)
سیدہ عائشہؓ کا یہ معمول تھا کہ وہ رمضان میں دن کے شروع حصے میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں، جب سورج طلوع ہوتا تو سو جاتیں۔ (لطائف المعارف)
رمضان میں تلاوت قرآن کے سلسلے میں سلف کے طریقے کی مناسبت سے ایک اقتباس پیش ہے: ’’ابن رجبؒ نے رمضان میں تلاوتِ قرآن سے سلف کے شدید تعلق کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے: بعض سلف رمضان کے قیام اللیل میں ہر تین رات میں ایک ختم کرتے تھے، اور بعض سات راتوں میں ایک۔ ان میں قتادہ بھی شامل ہیں، اور بعض دس راتوں میں ایک، جن میں ابو رجاء عْطاردی شامل ہیں‘‘۔
رات کے معمولات
صحابہ کرامؓ عام دنوں میں تہجد کی پابندی کیا کرتے تھے اور رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارتے تھے، البتہ رمضان میں تقریباً پوری رات عبادت میں صرف کرتے تھے، اپنے قیام میں طویل تلاوت کیا کرتے تھے۔ ایک تہائی، نصف یا رات کا اکثر حصہ تلاوتِ قرآن، نماز، اور ذکر واذکار واستغفار میں لگاتے تھے۔
عبداللہ بن ابو بکر بن محمد بن عمروبن حزم سے روایت ہے کہ: میں نے ابو ذرؓ کو کہتے ہوئے سنا: ’’ہم رمضان میں قیام اللیل سے واپس ہوتے تو خادموں کو کھانا لانے میں جلدی کا کہتے کہ کہیں طلوعِ فجر نہ ہو جائے‘‘۔ (موطا امام مالک)
روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنی رات کو چار حصوں میں تقسیم کرتے تھے۔ عام طور پر آدھی رات نماز میں جاگتے تھے، اور ہر چار رکعت کے درمیان وضو کی مقدار تک آرام کرتے۔ مروزی نے حسن بصریؒ سے روایت کیا ہے: ’’عمر بن خطابؓ نے اْبیؓ کو رمضان میں لوگوں کی امامت کا حکم دیا تو انھوں نے امامت کی۔ وہ ایک چوتھائی رات سوتے اور دو چوتھائی رات نماز پڑھتے، اور ایک چوتھائی رات باقی رہنے پر اپنی سحری اور ضرورتوں کے لیے واپس چلے جاتے‘‘۔ (مختصر قیام اللیل للمروزی)
بیہقی وغیرہ نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے: ’’عمر بن خطابؓ کے زمانے میں صحابہ رمضان کے مہینے میں بیس رکعت نماز پڑھتے تھے، اور عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں طویل قیام کی وجہ سے اپنے عصا پر ٹیک لگاتے تھے‘‘۔ (السنن الکبری للبیہقی)
عبدالرحمٰن بن عراک بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ’’میں نے رمضان میں لوگوں کو پایا کہ وہ طویل قیام کی وجہ سے اپنے لیے رسیاں باندھتے تھے، تا کہ اس سے سہارا لیں‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیب)
عبداللہ بن مسعودؓ قرأت طویل کرتے تھے اور بیس رکعت پڑھتے تھے۔ مروزی نے زید بن وہبؒ سے روایت کیا ہے: ’’عبداللہ بن مسعودؒ ہم کو رمضان کے مہینے میں نماز پڑھاتے ہوئے اس وقت واپس جاتے، جب کہ ابھی رات باقی رہتی‘‘۔ اعمش کہتے ہیں: ’’وہ 20 رکعت پڑھتے تھے اور تین رکعت وتر۔‘‘ عطا کہتے ہیں: ’’میں نے ان (صحابہ) کو رمضان میں 20 رکعت اور تین رکعت وتر پڑھتے ہوئے پایا‘‘۔ (مختصر قیام اللیل)
آخری عشرے کے معمولات
آخری عشرے میں عبادت میں صحابہ کرامؓ کی جدوجہد بے انتہا بڑھ جاتی تھی۔ خود بھی عبادت میں مصروف ہوتے اور اپنے گھر والوں کو بھی رات کو جگاتے۔ عبداللہ ابن عمرؓ آخری عشرے میں اپنے گھر والوں کو جگایا کرتے تھے، جیسا کہ رسول اللہؐ کیا کرتے تھے۔ مجاہد سے روایت ہے: ’’عمرؓ آخری عشرے میں اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیب)
سحری میں صحابہ کرامؓ کا معمول تھا کہ تاخیر سے کرتے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری ختم کرنے اور فجر کی اذان میں 50 سے 60 آیتوں کا فصل رہتا۔ اگر کھانے کو کچھ نہ ہوتا تو گھونٹ پانی ضرور پیتے، کیوں کہ سحری اس امت کی خصوصیت ہے۔افطار میں صحابہؓ کا معمول یہ تھا کہ مغرب کی اذان ہوتے ہی کھجور کھا لیتے، کھجور نہ ملتی تو پانی سے افطار کرتے، یا جو بھی میسر آتا اس سے پہلی فرصت میں افطار کرتے، اور افطار کے وقت مسنون دعاؤں کا اہتمام کرتے۔
اس مبارک مہینے میں صحابہ کرامؓ کی سخاوت عروج پر ہوتی۔ عام معمول یہ ہوتا کہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ خود بھوکے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی اس صفت کی تعریف قرآن مجید میں کی ہے، خصوصاً جب عید کا دن ہوتا تو صدقہ فطر کے علاوہ بھی فقرا میں اپنا مال تقسیم کرتے تا کہ کوئی بھی اس دن کی خوشی سے محروم نہ رہے۔

Monday, 6 August 2012

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ


اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ

 
-عابد علی جوکھیو
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ اُن آٹھ خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپؓ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام کے صرف دو دن بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپؓ ان دس خوش نصیب افراد میں سے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بزبانِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بشارت دی۔ آپؓ کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے، آپؓ نے اسلام کے ابتدائی ایام کی تمام تکالیف کو برداشت کیا اور دینِ اسلام پر جمے رہے۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبد عمرو تھا، لیکن قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر عبدالرحمن رکھ دیا۔ آپؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے: عبدالرحمن بن عوف بن عبد جوف بن عبد بن الحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ القرشی الزہری۔ آپؓ کی کنیت ابو محمد ہے۔ آپؓ ہجرتِ حبشہ میں بھی شامل تھے اور بعد میں مدینہ ہجرت کی۔ مدینہ پہنچنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعدالربیع انصاریؓ کا بھائی چارہ کرادیا۔ حضرت سعدؓ انصار میں زیادہ مالدار اور فیاض تھے۔ مواخات کے بعد حضرت سعدؓ نے حضرت عبدالرحمنؓ سے کہا کہ میں اپنا نصف مال آپ کو دے دیتا ہوں اور اس وقت میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپؓ کو پسند آئے میں اسے طلاق دے دوں گا اور عدت کے بعد آپ اس سے نکاح کرلینا۔ حضرت عبدالرحمنؓ نے ان کی اس پیشکش کا شکریہ ادا کرکے اس بات سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اللہ آپؓ کے مال و متاع اور اہل و عیال میں برکت عطا فرمائے، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ آپ صرف اتنا کیجیے کہ مجھے بازار کا راستہ بتائیے۔ اسی وقت آپ کو بازار پہنچایا گیا اور واپسی پر آپ کچھ گھی اور پنیر وغیرہ نفع میں بچا لائے۔ دوسرے روز سے باقاعدہ تجارت شروع کردی، اللہ کی برکت سے چند ہی دنوں میں اس قابل ہوگئے کہ وہاں ایک انصاریہ سے شادی بھی کرلی۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال میں برکت کی دعا دی۔ پھر کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالرحمن کے مال میں ایسی برکت دی کہ جس کی کوئی انتہا نہ تھی، آپؓ نے یہی مالی برکت دین کی خدمت میں خوب پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حوالے سے حضرت عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں: ’’اس کے بعد دنیا اپنی پوری برکات اور فوائد کے ساتھ اس طرح میری طرف متوجہ ہوگئی اور میری تجارتی کامیابیوں کا حال یہ ہوگیا کہ اگر میں کسی پتھر کو اٹھاتا تو مجھے اس بات کی توقع ہوتی تھی کہ اس کے نیچے سونے یا چاندی کا کوئی ٹکڑا ملے گا۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے اپنے مال کے ذریعے ہمیشہ دین اسلام کی نصرت کی۔ مسلمانوں کی امداد، امہات المومنینؓ کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اپنے مال سے ناداروں کی مدد کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اس کی رضا کے طلب گار رہتے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، مالی مشکلات کے باعث مجاہدین کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہوگیا تھا، مدینہ میں بھی قحط کا زمانہ تھا۔ کئی مجاہدین صرف اس لیے واپس کردیے گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انہیں دینے کے لیے سواریاں میسر نہ تھیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اس کا بدلہ و ثواب اللہ ہی سے پانے کی نیت کریں۔ مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے خوب مال خرچ کیا۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف بھی خرچ کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے دو سو اوقیہ (ایک اوقیہ ساڑھے دس تولہ کے برابر ہے) بارگاہِ رسالت میں پیش کیے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایسا کرکے ایک گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے اہل و عیال کی ضروریات کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے۔‘‘ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ سے دریافت کیا کہ ’’عبدالرحمن! تم نے بچوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ تو آپؓ نے فرمایا: ’’ہاں، میں نے ان کے لیے جو کچھ چھوڑا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ اور بہتر ہے جو میں نے خرچ کیا ہے۔‘‘ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور وہ ساری رقم قبیلہ بنو زہرہ، ضرورت مند مسلمانوں، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی۔ جب حضرت عائشہؓ کے حصے کی رقم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ ان کو بتایا گیا کہ عبدالرحمنؓ بن عوف نے، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’میرے بعد تمہاری نگہداشت صرف صابرین ہی کریں گے۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف امہات المومنینؓ کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سفر حج کے مواقع پر آپؓ امہات المومنینؓ کے ساتھ جاتے تھے، امہات المومنینؓ کے لیے سواری اور پردے کا انتظام کرتے، سفر کے تمام تر انتظامات آپؓ کے ہی ذمے ہوتے، جہاں پڑائو کرنا ہوتا وہاں امہات المومنینؓ کو انتظام اور اہتمام کے ساتھ اتارتے۔ یہ تمام تر اعزاز انہیں ان کی عصمت و عفت کے باعث ہی نصیب ہوا، اور آپؓ یہ تمام ذمہ داریاں ادا کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ’’میرے بعد امہات المومنین کی نگرانی و خبر گیری صرف صابرین ہی کریں گے‘‘ کے مصداق ٹھیرے۔ ایک بار حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کا سات سو اونٹوں پر مشتمل ایک تجارتی قافلہ مدینہ آیا۔ ان سات سو اونٹوں پر ضروریاتِ زندگی کا پورا سامان لدا ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ قافلہ مدینہ میں داخل ہوا پورا شہر لرز اٹھا، گلیوں میں شور و غل سنائی دینے لگا۔ شور سن کر اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے؟ جب آپؓ کو بتایا گیا کہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کا سات سو اونٹوں پر مشتمل تجارتی قافلہ پہنچا ہے تو انہوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس میں برکت دے۔ یقینا آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبدالرحمنؓ بن عوف گھسٹتے ہوئے جنت میں جائیں گے۔‘‘ ابھی تجارتی قافلہ مکمل بیٹھا بھی نہ تھا کہ کسی نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو یہ خوشخبری سنادی۔ آپ ؓ فوراً حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا: ’’اماں! کیا خود آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ یہ سن کر حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف بڑے خوش ہوئے اور حضرت عائشہؓ سے فرمایا: ’’اماں جان! اگر ہوسکا تو میں کھڑا ہو کر جنت میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا۔ میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں یہ پورا قافلہ، اس کے اوپر لدے ہوئے سامان، اس کے کجاووں اور ٹاٹوں سمیت اللہ کی راہ میں دے رہا ہوں۔‘‘ اس خوشخبری کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے میں مزید تیز ہوگئے۔ انہوں نے چالیس ہزار درہم صدقہ کیے اور پھر دو سو اوقیہ سونا اللہ کی راہ میں خیرات کیا۔ مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے پانچ سو گھوڑے اور دوسرے مجاہدین کے لیے ڈیڑھ ہزار اونٹ فراہم کیے۔ اپنی وفات کے وقت بہت بڑی تعداد میں غلاموں کو آزاد کیا۔ اس وقت اصحابِ بدر میں سے جتنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندہ تھے ان میں سے ہر ایک کے لیے چار چار سو دینار کی وصیت کی، اس وقت ان صحابہؓ کی تعداد ایک سو تھی۔ ان سب کو وصیت کے مطابق دیا گیا۔ انہوں نے امہات المومنینؓ میں سے ہر ایک کے لیے کثیر رقم کی وصیت کی۔ حضرت عائشہؓ اکثر ان کے لیے دعا کرتی تھیں: ’’اللہ تعالیٰ ان کو چشمہ سلسبیل سے سیراب کرے۔‘‘ لیکن اس قدر مال بھی ان کے لیے کسی فتنے کا باعث نہیں بنا اور نہ ہی ان کے رویّے میں کسی قسم کی تبدیلی لا سکا۔ لوگ جب آپؓ کو آپؓ کے غلاموں کے درمیان دیکھتے تو آپؓ کے اور غلاموں کے درمیان تمیز نہیں کرپاتے تھے۔ ایک دن ان کے سامنے کھانا لایا گیا، اس روز وہ روزے سے تھے۔ انہوں نے کھانے کو دیکھ کر بڑی حسرت کے ساتھ کہا: ’’جب مصعبؓ بن عمیر شہید کیے گئے اور وہ مجھ سے بہت بہتر تھے تو ان کو کفن دینے کے لیے ہم لوگوں کو صرف اتنا کپڑا میسر آسکا کہ جب اس سے ان کا سر چھپایا جاتا تو پائوں کھل جاتے، اور جب پائوں چھپائے جاتے تو سر کھلا رہ جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو غیر معمولی خوشحالی اور فراخی سے نوارا۔ مجھے اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں نہ دے دیا گیا ہو۔‘‘ یہ کہہ کر زار و قطار رونے لگے اور کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت نوفلؓ بن ایاس کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف ہم لوگوں کے پاس بیٹھا کرتے تھے، اور وہ کیا ہی اچھے شریکِ مجلس تھے۔ ایک روز ہم ان کے ساتھ کسی جگہ سے واپس ان کے گھر آئے، وہ خود گھر میں گئے، غسل کیا اور واپس ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا۔ جب وہ پیالہ ہم لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف رونے لگے، ہم نے ان سے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں اپنے پاس بلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے گھر والوں نے جَو کی روٹی سے بھی پیٹ نہ بھرا۔ میرے خیال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمارے لیے اتنے عرصے تک اس دنیا میں رہنا بہتر نہیں ہے۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ انہیں اس تجارت میں جو بھی برکت حاصل ہوئی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ہے، اس لیے آپؓ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتے۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور امہات المومنین کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھتے، عام صدقات کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک دن میں ہزاروں خرچ کردیتے، ایک مرتبہ ایک ہی دن میں تیس غلاموں کو آزاد کیا۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمانؓ کو فروخت کی اور سب رقم اللہ کی راہ میں خرچ کردی۔ لیکن اس قدر فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کے باوجود یہ فکر ہمیشہ لاحق رہتی کہ کہیں یہ مال ان کی آخرت کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے: اماں جان! مجھے ڈر ہے کہ میرا مال مجھے برباد نہ کردے، میں قریش میں بڑا مالدار ہوں۔ میں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میرے اصحابؓ میں سے بعض وہ ہوں گے جنہیں میرے چھوڑ جانے (وفات) کے بعد میرا دیدار نصیب نہ ہوگا (حُبِّ دنیا کی وجہ سے)۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف یہاں سے نکلے اور حضرت عمرؓ سے ملاقات کرکے انہیں حضرت ام سلمہؓ کی بات بتائی۔ یہ بات سن کر حضرت عمرؓ بھی سیدھے حضرت ام سلمہؓ کے پاس پہنچے اور انہیں خدا کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوگی؟ حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا: نہیں، آپؓ ان میں سے نہیں۔ صحابہؓ کی دولت ذاتی راحت وآسائش کے لیے نہ تھی، بلکہ جو جس قدر زیادہ دولت مند تھا اسی قدر اس کا دستِ کرم زیادہ کشادہ تھا۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کی فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ہی سے شروع ہوچکا تھا اور وقتاً فوقتاً قومی مذہبی ضروریات کے لیے گراں قدر رقمیں پیش کیں۔ سورہ برات نازل ہوئی اورصحابہؓ کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی تو حضرت عبدالرحمنؓ نے اپنا نصف مال یعنی چارہزار کی خطیر رقم پیش کی، پھر دو دفعہ چالیس چالیس ہزار دینار وقف کیے، اس طرح جہاد کے لیے پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹوں کا انتظام کیا۔ اگرچہ آپؓ کا دسترخوان وسیع تھا، لیکن پُرتکلف نہ تھا۔ کبھی قیمتی اور خوش ذائقہ کھانا سامنے آجاتا تو گزشتہ فقر وفاقہ یاد کرکے آنکھیں پُرنم ہوجاتیں، لباس میں زیادہ تر ریشم کا استعمال تھا، کیونکہ فقر و فاقہ میں بیماری کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اجازت دی تھی۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمنؓ کے صاحبزادے ابوسلمہ ریشمی کرتہ زیب تن کیے ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے دیکھا تو گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس کے چیتھڑے اڑادیے، حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں معلوم ہے، لیکن یہ اجازت صرف تمہارے لیے ہے دوسروں کے لیے نہیں۔ (طبقات ابن سعد)


حضرت لبیدؓ بن ربیعہ عامری

حضرت لبیدؓ بن ربیعہ عامری

- طالب ہاشمی
ابوعقیل لبیدؓ بن ربیعہ عامری کا شمار جاہلی عرب کے ان شعراء میں ہوتا ہے جو عزت اور شہرت کے آسمان پر آفتاب بن کر چمکے اور دنیا نے جنہیں امراء القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر بن ابی سلمیٰ، عمرو بن کلثوم، اعشیٰ بن قیس اور طرفہ بن العبد جیسے نامور شعراء کی صف کا شاعر تسلیم کیا۔ لبیدؓ کی عظمت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ خود سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بعض اشعار پر اظہارِ پسندیدگی فرمایا۔ وہ ان سات شعراء (اصحاب المعلقات یا المذّہبات) میں سے ایک تھے جن کے قصائد زمانۂ جاہلیت میں اہلِ مکہ نے کعبہ میں آویزاں کررکھے تھے۔ لبیدؓ کا نسب نامہ یہ ہے: لبیدؓ بن ربیعہ بن عامر بن مالک بن جعفر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر صعصعہ عامری۔ لبیدؓ کے والد ربیعہ بن عامر اپنے قبیلے کے رئوسا میں سے تھے اور جودوسخا میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ بیسیوں غرباء و مساکین ان کے دسترخوان پر پرورش پاتے تھے، اور ان کی اسی فیاضی اور سیرچشمی نے انہیں قوم کی طرف سے ’’ربیع المقرّین‘‘ کا خطاب دلایا تھا۔ لبیدؓ اسی نامور باپ کے خلف الرشید تھے۔ فیاضی اور غریب پروری انہوں نے باپ سے ورثے میں پائی اور تمام عمر اسے بڑی شان اور وقار سے نباہا۔ اس کے علاوہ وہ شجاعت و شہامت، شہسواری، سلامتیٔ طبع اور راست بازی جیسے اوصاف سے بھی آراستہ تھے۔ ان کو اوائل عمر ہی سے شعر و شاعری سے لگائو تھا۔ عہدِ شباب میں ایک دفعہ اپنے چچائوں کے ساتھ نعمان ابوقابوس کے دربار میں گئے تو وہاں عظیم جاہلی شاعر نابغہ ذبیانی سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے ان کا کلام سن کر بہت داد دی اور کہا کہ تم بنی عامر اور بنو قیس کے تمام شاعروں سے بڑھ گئے۔ اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ جاہلی عرب کے شعراء کی صفِ اوّل میں آگئے اور تمام عالمِ عرب میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ ……٭٭٭…… زمانۂ جاہلیت میں لبیدؓ اکثر مکے آتے جاتے رہتے تھے۔ اپنے شاعرانہ کمالات کی بدولت وہ قریش کے نزدیک بڑی قدرومنزلت کے حامل تھے۔ ابن اثیرؒ کا بیان ہے کہ 5 بعدِ بعثت میں ایک دفعہ وہ مکہ آئے تو اہلِ مکہ نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ اُس وقت تک شرفِ اسلام سے بہرہ ور نہیں ہوئے تھے اس لیے حسبِ سابق قریش کی محافلِ شعر و سخن کو گرمانے لگے۔ ایک دن ایسی ہی ایک محفل میں اپنا قصیدہ سنا رہے تھے، جب یہ مصرع پڑھا: الاکل شیًٔ ماخلا اللہ باطِل (خبردار رہو کہ اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے) تو جلیل القدر صحابی حضرت عثمانؓ بن مظعون، جو اس مجلس میں موجود تھے، بے اختیار پکار اٹھے: ’’تم نے سچ کہا۔‘‘ لیکن جب انہوں نے دوسرا مصرع پڑھا: وکل نعیمٍ لامحالۃ زائلٌ (اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہونے والی ہے) تو حضرت عثمانؓ بن مظعون بول اٹھے: ’’یہ غلط ہے، جنت کی نعمتیں ابدی ہیں اور کبھی زائل نہ ہوں گی۔‘‘ اس پر سارے مجمع میں شور مچ گیا، لوگ حضرت عثمانؓ بن مظعون کو برا بھلا کہنے لگے اور لبید سے یہ شعر دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے اس شعر کی تکرار کی تو حضرت عثمانؓ نے بھی اپنے الفاظ کا اعادہ کیا۔ اس پر لبید سخت برافروختہ ہوئے اور قریش سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: ’’اے برادرانِ قریش، خدا کی قسم پہلے تمہاری مجلسوں کی یہ کیفیت نہ تھی، نہ ان میں بیٹھنا کسی کے لیے باعثِ ننگ و عار تھا اور نہ کبھی بدتمیزی نے ان میں راہ پائی تھی۔ اگر یہ شخص مجھے اسی طرح ٹوکتا رہا تو میں اپنا کلام سنا چکا۔‘‘ لبیدؓ کی باتیں سن کر مشرکین بھڑک اٹھے اور انہوں نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کو برا بھلا کہنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اس موقع پر جو ہوا سو ہوا لیکن جب اس واقعہ کے پندرہ سولہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے لبیدؓ بن ربیعہ کو بھی آستانۂ اسلام پر جھکادیا تو ان کے روئیں روئیں نے گواہی دی کہ بے شک عثمانؓ بن مظعون نے جو کچھ کہا تھا، وہ سچ تھا۔ حافظ ابن عبدالبرؒ نے ’’الاستیعاب‘‘ میں لکھا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیدؓ کا یہ مصرع بہت پسند تھا: الاکل شییًٔ ما خلا اللہ باطل حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شعراء کے کلام میں لبیدؓ کا یہ کلام بہت اچھا ہے۔ ……٭٭٭…… لبیدؓ کے والد نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا، خود لبیدؓ بعثت ِنبوی کے وقت بوڑھے ہوچکے تھے۔ اگرچہ وہ فطرتاً ایک سلیم الطبع اور شریف النفس آدمی تھے لیکن تعجب ہے کہ وہ عہدِ رسالت کے آخر میں شرفِ اسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ بڑھاپے میں اپنا آبائی مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ حافظ ابن عبدالبرؒ اور بعض دوسرے اہلِ سِیَر نے لکھا ہے کہ حضرت لبیدؓ بن ربیعہؓ 9 ہجری میں قبیلہ بنو جعفر بن کلاب کے وفد کے ساتھ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور سعادت اندوزِ اسلام ہوگئے۔ اُس وقت ان کی عمر بہ اختلافِ روایت نوّے یا ایک سو تیرہ برس کی تھی۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ حضرت لبیدؓ بن ربیعہ نے 41 ہجری میں 145 سال کی عمر میں بمقام کوفہ وفات پائی۔ اس حساب سے قبولِ اسلام کے وقت یعنی 9 ہجری میں ان کی عمر 113 برس کے لگ بھگ ٹھیرتی ہے، گویا وہ حالتِ اسلام میں 22 برس جیئے۔ دوسری طرف ’’اصابہ‘‘ اور ’’اغانی‘‘ کی راویت کے مطابق وہ حالتِ اسلام میں 55 برس جیئے۔ اس حساب سے قبولِِ اسلام کے وقت ان کی عمر نوّے برس قرار دینی پڑے گی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اکثر ارباب سِیَر نے لکھا ہے کہ ایمان لانے کے بعد حضرت لبیدؓ نے شاعری ترک کردی اور تادم ِمرگ ایک یا دو کے سوا کوئی شعر نہیں کہا، فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے شعر کے عوض سورۂ بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں ایک مرتبہ حضرت لبیدؓ سے پوچھ بھیجا کہ آپ نے زمانۂ اسلام میں کون سے اشعار کہے۔ جب انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ شعر کے عوض مجھے اللہ نے بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں تو حضرت عمرؓ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے لبیدؓ کا وظیفہ بڑھاکر دو ہزار کردیا۔ ایک روایت میں ہے کہ امیر معاویہؓ نے اپنے زمانے میں ایک مرتبہ حضرت لبیدؓ سے کہا: لبید میرا اور تمہارا وظیفہ برابر ہے، میں تمہارا وظیفہ گھٹادوں گا۔ انہوں نے کہا: ’’کچھ دن توقف کیجیے، اس کے بعد میرا وظیفہ بھی آپ ہی لے لیجیے گا۔‘‘ (یہ اپنی کبر سنی کی طرف اشارہ تھا) امیر معاویہؓ نے شاید ازراہِ تفنن وظیفہ گھٹانے کی بات کی تھی۔ حضرت لبیدؓ کا جواب سن کر وہ خاموش ہوگئے اور وظیفہ کی رقم میں کوئی کمی نہیں کی۔ حضرت لبیدؓ نہایت مخیر اور کشادہ دست تھے، اس لیے معقول وظیفہ کے باوجود وہ تنگدست رہتے تھے۔ حافظ ابن عبدالبرؒ کا بیان ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں عہد کیا تھا کہ جب بادِ صبا چلا کرے گی تو وہ جانور ذبح کرکے لوگوں کو کھلایا کریں گے۔ اس عہد کو وہ زندگی بھر نباہتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو ان کی تنگدستی کا علم ہوگیا تھا چنانچہ جب بادِ صبا چلتی تو وہ اونٹ جمع کرکے ان کی خدمت میں ہدیۃً پیش کردیتے تھے اور وہ انہیں ذبح کرکے لوگوں کو کھلا دیتے۔ اس طرح ان کا عہد اور ارمان دونوں پورے ہوجاتے تھے۔ ……٭٭٭…… اربابِ سِیَر نے حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کے محاسنِ اخلاق کی بے حد تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ نہایت مخیر، فیاض، شہسوار، شجاع اور صادق القول تھے۔ جاہلیت میں بھی معزز اور شریف تھے اور اسلام میں بھی۔ ابن قتیبہؒ نے ان کے سلیم الفطرت ہونے کے ثبوت میں یہ شعر پیش کیا ہے جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں کہا تھا؎ وکل امری یومًا سیعلم سعیہ اذا کشفٍ عندالا لہ المحاصل (اور ہر انسان کو اپنی کوششوں کا نتیجہ اُس وقت معلوم ہو گا جب اس کے نتائج اللہ کے سامنے ظاہر ہوں گے) عرب کے فحول شعراء میں حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ ایک دفعہ عرب کا نامور شاعر فرزوق ان کا یہ شعر سن کر بے اختیار سجدے میں گر گیا: رجلا السیول عن الطول کانھا زبر تجد متونھا اقلامھا (اور سیلاب نے ٹیلوں کو اس طرح مجلّیٰ کردیا گویا وہ کتاب کے صفحات ہیں جن کے متن کو قلم نے درست کیا) لوگوں نے فرزوق سے پوچھا: ’’یہ کیسا سجدہ ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’یہ سجدۂ شعر ہے، جس طرح لوگ قرآن کے مقاماتِ سجدہ کو جانتے ہیں، میں شاعری کے مقامِ سجدہ کو پہچانتا ہوں۔‘‘ حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کا دیوان چھپ چکا ہے اور اس کی جرمن زبان مین شرح بھی لکھی جا چکی ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Sunday, 29 July 2012

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ

- عابد علی جوکھیو
آپ کا نام عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی اور ابوعبیدہؓ کنیت ہے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے دعوتِ اسلام پر لبیک کہنے میں پہل کی۔ آپؓ ابوبکر صدیقؓ کے اسلام لانے کے دوسرے دن حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور ابوبکر صدیقؓ کے دستِ مبارک پر آپؓ نے اسلام قبول کیا۔ پھر عبدالرحمن بن عوف، عثمان بن مظعون اور ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہم ایک ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کلمۂ حق کا اعلان کیا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ مکہ کی زندگی میں آپ ؓ پر بھی طرح طرح کے مصائب ڈھائے گئے، سختیاں کی گئیں، لیکن آپؓ نے تمام سختیاں جھیلیں۔ آپؓ کو امتِ محمدیہ کا امین ہونے کا لقب حاصل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قریش کے تین آدمی سب سے زیادہ درخشندہ رو، سب سے زیادہ خوش اخلاق اور سب سے زیادہ باحیا ہیں۔ اگر وہ تم سے بات کریں گے تو کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، اور اگر تم ان سے بات کرو گے تو کبھی تمہاری تکذیب نہیں کریں گے۔ وہ ہیں ابوبکر صدیقؓ، عثمان بن عفانؓ، اور ابوعبیدہ بن جراحؓ۔‘‘ جنگ ِبدر کے موقع پر آپؓ کے والد عبداللہ بن جراح کفار کی صفوں میں شامل تھے، جبکہ ابوعبیدہؓ مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ آپؓ کے والد بار بار آپ کے سامنے مقابلے کے لیے آتے لیکن آپؓ ان سے مقابلہ کرنے سے کتراتے رہتے، بالآخر آپ کے والد عبداللہ نے آپؓ کے تمام راستے بند کردیے کہ ان کی ایمانی قوت و غیرت کا امتحان لیں سکیں۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ نے دیکھا کہ اب ان سے مقابلے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تو آپؓ نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے والد کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے کردیے۔ اس موقع پر حضرت ابوعبیدہؓ اور ان کے والد کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ) ’’تم کبھی بھی یہ نہ پائو گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہلِ خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو پکا کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان لوگوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو! اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (المجادلہ: 22) حضرت سعید بن مسیبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوعبیدہؓ اردن میں طاعون میں مبتلا ہوئے تو حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میں تم لوگوں کو ایک وصیت کرتا ہوں، اگر تم لوگوں نے اسے مان لیا تو ہمیشہ بھلائی میں رہوگے۔ نمازیں پڑھتے رہنا، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا، صدقہ کرنا، حج اور عمرہ کرنا، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے رہنا، اپنے امراء کو نصیحت کرنا اور امراء کے پاس آمد و رفت زیادہ نہ رکھنا۔ سنو! دنیا تم لوگوں کو موت سے غافل نہ کردے۔ اگر کسی آدمی کو ہزار سال کی عمر بھی دی جائے لیکن اُس کے لیے اس جگہ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا جہاں تم دیکھ رہے ہو کہ میں جارہا ہوں۔ اللہ پاک نے اولادِ آدم کے لیے موت لکھ دی ہے، پس سبھی مریں گے۔ ان میں ہوشیار و دانا وہی ہے جو اس کے بندوں میں سے اپنے رب کا زیادہ فرماں بردار ہے، اور یوم آخرت کے لیے عمل کرنے میں پیش پیش ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اے معاذ بن جبل! لوگوں کو نماز پڑھائو‘‘۔ یہ کہہ کر آپؓ کا انتقال ہوگیا۔ اللہ ان کے حال پر رحم فرمائے۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت معاذؓ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر کہا: ’’اے لوگو! اللہ سے اپنے گناہوں پر توبہ کرو، اس لیے کہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ پاک سے ملے، اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کی مغفرت کردے۔ جس کے اوپر قرضہ ہو وہ اس کو ادا کردے، اس لیے کہ بندہ قرض کے معاملے میں پکڑا جائے گا۔ تم میں سے جس کسی نے اپنے بھائی کو چھوڑ رکھا ہو (ناراض ہو) اس سے جا ملے اور صلح کرلے، کسی مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔ اے مسلمانو! ہم ابھی ایسے شخص کی وفات سے افسردہ ہوئے ہیں جو بالکل صاف دل والا، دھوکا نہ دینے والا، عام لوگوں سے زیادہ محبت کرنے والا اور تمام لوگوں کو نصیحت کرنے والا تھا، میں نے ان سے زیادہ ایسے عمل کرنے والا شخص نہیں دیکھا۔ مسلمانو! ان کے لیے نزولِ رحمت کی دعا کرو اور ان کے جنازے کی نماز کے لیے جمع ہوجائو۔‘‘ (الطبری) حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ بہادر اور نڈر مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ اس دنیا کی رنگینیوں اور رونقوں سے بھی کوسوں دور رہے۔ آپؓ ایک عظیم سپہ سالار تھے لیکن آپؓ کی زندگی انتہائی سادگی سے گزری۔ آپؓ نے کبھی بھی دنیوی عیش و آرام کو ترجیح نہ دی۔ بڑی بڑی فتوحات اور مال غنیمت کی فراوانی آپؓ کو کچھ بھی متاثر نہ کرسکی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جو بھی مال عنایت کرتے آپؓ اسے اللہ کے بندوں میں خرچ کردیتے۔ حضرت عمرؓ نے آپؓ کو کئی مرتبہ مال دیا کہ آپؓ اس کے ذریعے اپنی حالت کو بہتر بنا سکیں، لیکن آپؓ بجائے اس مال کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے، اللہ ہی کی راہ میں دے دیتے۔ بیت المقدس کی فتح عظیم کے وقت بھی آپؓ کا خیمہ دنیوی عیش و مسرت کی چیزوں سے خالی تھا۔ جب حضرت عمرؓ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر وہاں گئے تو کئی لوگوں نے امیرالمومنین کی دعوت کی۔ ایک موقع پر امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے کہا کہ بھائی! یہاں سب لوگوں نے میری دعوت کی ہے لیکن آپؓ نے نہیں کی؟ اس پر حضرت ابوعبیدہؓ نے جو اُس وقت اسلامی فوج کے سپریم کمانڈر تھے، کہا کہ اے امیرالمومنین! آپؓ کو میرے گھر میں سوائے آنسوئوں کے کچھ نہ ملے گا۔ اس کے باوجود حضرت عمرؓ نے ان سے دعوت لی۔ اور جب حضرت عمرؓ ان کے خیمے میں گئے تو آپؓ نے اپنے خیمے کے ایک کونے میں سے سوکھی روٹی کو چند ٹکڑے نکالے اور ان کو پانی میں بھگو کر امیرالمومنین کے سامنے پیش کیا۔ یہ دیکھ کر امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور آپؓ رو پڑے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوعبیدہؓ نے ان سے مخاطب ہوکر کہا: میں نے آپ کو کہا تھا کہ میرے خیمے میں آپؓ کو سوائے آنسوئوں کے کچھ نہ ملے گا۔ حضرت مالک الدارؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے چار سو دینار لیے اور ان کو ایک تھیلی میں رکھ کر غلام سے کہا کہ انہیں حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے پاس لے جائو، پھر تھوڑی دیر کے لیے انہیں چھوڑ دینا تاکہ تم دیکھ سکو کہ وہ ان کا کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ غلام وہ رقم لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ امیر المومنین فرما رہے ہیں کہ آپؓ انہیں اپنی ضروریات پر خرچ کریں۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے دعا دی کہ اللہ ان کو اپنا دیدار نصیب فرمائے اور ان کے حال پر رحم فرمائے، اس کے بعد اپنی خادمہ سے فرمایا کہ یہ سات تو فلاں کے پاس لے جائو اور یہ پانچ فلاں کے پاس، اور یہ پانچ فلاں کے پاس… یہاں تک کہ وہ ساری رقم ختم کردی۔ وہ غلام حضرت عمرؓ کے پاس واپس آیا اور آپؓ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ (الترغیب) حضرت اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنی تمنا و خواہش کا اظہار کرو۔ ایک نے کہا کہ میرے پاس یہ کوٹھری بھر درہم ہوتے جنہیں میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ تم لوگ اپنی کسی اور خواہش کا اظہار کرو، دوسرے نے کہا کہ میری تمنا یہ ہے کہ گھر بھر سونا ہوتا اور میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ اپنی خواہش کا اظہار کرو۔ ایک اور ساتھی نے کہا کہ اس گھر بھر موتی جواہرات ہوتے (یا اس جیسی کسی اور چیز کی تمنا کا اظہار کیا) اور میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر کہا کہ اپنی تمنا کا اظہار کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب ہم کسی تمنا کا اظہار نہیں کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: لیکن میں اس بات کا خواہش مند ہوں کہ اس گھر بھرکر ابوعبیدہ بن جراحؓ، معاذ بن جبلؓ اور حذیفہ بن یمانؓ جیسے آدمی ہوتے اور انہیں میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے عامل بناتا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت حذیفہؓ کی طرف مال بھیجا اور لے جانے والے سے یہ فرمایا کہ دیکھنا وہ اس مال کا کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ان کے پاس مال پہنچا تو انہوں نے فوراً تقسیم کردیا، اس کے بعد حضرت معاذ بن جبلؓ کے پاس مال بھیجا اور انہوں نے بھی لگے ہاتھوں تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے پاس مال بھیجا اور کہا کہ دیکھنا وہ کیا کرتے ہیں؟ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تم سے جو بات کرنی تھی وہ میں نے کہہ دی۔ (الطبرانی) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب عام رماد (ایک مشہور قحط سالی کا نام ہے) ہوا اور زمین خشک ہوگئی تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے ایک کام کرایا۔ جب آپؓ یہ کام کرکے واپس لوٹے تو حضرت عمرؓ نے آپ کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے، حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے کہا کہ اے ابن خطابؓ! میں نے تمہارے لیے یہ کام نہیں کیا، میں نے تو اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور اس کی اجرت کے طور پر آپؓ سے کچھ بھی نہ لوں گا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ ہم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے کاموں کے لیے بھیجا ہے اور ہم کو عطیات بھی دیے ہیں، میں ان کے لینے کو برا سمجھا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ ہم ان کا دیا ہوا قبول نہ کریں، لہٰذا اے ابن آدم! اسے قبول کرلو اور اس کے ذریعے اپنے دین اور دنیا میں بہتری لائو۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ نے اسے قبول کرلیا۔ (بیہقی) مسلم بن اکیس مولیٰ (غلام) عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے ملنے والوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوعبیدہؓ کو روتا ہوا پایا تو دریافت کیا کہ اے ابوعبیدہؓ! آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟ حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا: میں اس لیے روتا ہوں کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز ان فتوحات کا تذکرہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ عنقریب مسلمانوں کو عطا کرے گا اور ان کے مالِ غنیمت کا بھی تذکرہ کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کی فتح کا بھی تذکرہ فرمایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوعبیدہ! اگر تم کچھ دن زندہ رہے تو تمہارے لیے تین خادم کافی ہوں گے، ایک جو تمہاری خدمت کے کام انجام دے، اور ایک خادم جو تمہارے ساتھ سفر میں رہے، اور ایک خادم جو تمہارے گھر کی خدمت کرے، اور تمہارے پاس آیا جایا کرے۔ اور گھوڑوں میں سے تمہارے لیے تین گھوڑے کافی ہیں، ایک تمہارے سفر کے لیے اور ایک تمہاری بار برداری کے لیے اور ایک تمہارے غلام کے لیے۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد دیکھ رہا ہوں کہ میرا گھر غلاموں سے بھرا ہوا ہے، اور جب اصطبل پر نظر جاتی ہے تو وہ اونٹوں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائوں گا؟ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو وصیت فرمائی تھی کہ تم میں سے مجھے زیادہ محبوب اور تم میں سے مجھ سے زیادہ قریب وہ آدمی ہوگا جو مجھ سے اسی حال میں ملے جس حال پر میں اسے چھوڑ کر جارہا ہوں۔ (الترغیب) حضرت عروہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ حضرت ابوعبیدہؓ کے پاس تشریف لائے۔ آپؓ اپنے کجاوے کی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور گٹھری کا تکیہ بنا رکھا تھا۔ حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایاکہ کیا تم نے وہ نہیں لیا جو تمہارے ساتھیوں نے لیا ہے؟ کہنے لگے: اے امیرالمومنین! یہ بستر مجھے میری خواب گاہ (قبر) تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ حضرت معمرؓ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ ملک شام تشریف لائے تو وہاں بڑے بڑے لوگ اور عوام الناس آپ سے ملاقات کے لیے آئے، حضرت عمرؓ نے دریافت کیا: میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا: کون بھائی؟ آپؓ نے فرمایا: ابوعبیدہؓ! لوگوں نے کہا کہ ابھی آپ کے پاس آئیں گے۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ آپؓ کے پاس آئے تو آپؓ سواری پر سے اترے اور ان سے معانقہ کیا، اس کے بعد ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گھر میں ان کی تلوار، ان کی ڈھال اور ان کے کجاوے کے علاوہ اور کچھ نہ دیکھا۔ (ابو نعیم) حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے اپنی زندگی سادگی سے گزاری۔ فتوحات اور مالِ غنیمت کی کثرت کی وجہ سے اکثر مسلمانوں کا طرز زندگی بدل چکا تھا، لیکن ان تمام مالی آسودگیوں اور فراوانیوں نے آپؓ کو بالکل بھی متا ثر نہیں کیا۔ مسلمانوںکے سپہ سالار کی حیثیت سے جب بیرونی وفود آپؓ سے ملنے آتے تو انہیں یہ پہچاننے میں مشکل ہوجاتی کہ مسلمانوں میں سے ان کا سپہ سالار کون ہے۔ جب حضرت عمر فاروقؓ ملک شام کے سفر کو گئے تو وہاں مسلمانوں کو اعلی لباس میں دیکھ کر سخت غصہ ہوئے اور اپنے گھوڑے سے اترکر ان پر غصہ کرکے سوال کیا کہ کیا تم پر اتنی جلد عجمیوں کا اثر ہوگیا ہے؟ لیکن یہیں انہوں نے امینِ امت اسلامی فوج کے سپہ سالار کو دیکھا کہ وہ اپنے اسی معمولی عربی لباس میں تھے، ان کے گھر جاکر دیکھا تو وہاں امیرالمومنین کو سوائے تلوار، ڈھال اور اونٹ کے کجاوے کے کچھ نہ ملا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کچھ سامانِ راحت کا بھی انتظام کرلیں۔ لیکن آپؓ نے بے نیازی کے عالم میں جواب دیا کہ: امیر المومنین میرے لیے یہی کافی ہے

Sunday, 22 July 2012

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت سعید بن عامر جمحیؓ

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت سعید بن عامر جمحیؓ

- عابد علی جوکھیو
نام سعید، سلسلہ نسب یہ ہے، سعید بن عامر بن خدیم بن سلمان بن ربیعہ بن سعد ابن جمح بن عمرو بن بصیص بن کعب، ماں کا نام ارویٰ تھا، ننہالی سلسلہ نسب یہ ہے اروی بنت ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف (ابن سعد) غزوہ خیبر کے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے، اسلام لانے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے جس میں کفار مکہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، اس واقعے کے وقت آپؓ حلقہ بگوش اسلام نہ ہو ئے تھے، حضرت خبیبؓ کی شہادت کو اس وقت کفار مکہ اور آپؓ کے مابین ہونے والے مکالمے نے حضرت سعید بن عامرؓ کی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا اور اس واقعے کے بعد آپ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے یہیں سکونت اختیار کرلی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور صحبت میں رہنے لگے خیبر اور اس کے بعد ہونے والے غزوات میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پوری زندگی میں حضرت سعیدؓ سے خوش رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے ملاقات بھی اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعید بن عامرؓ سے ان کی خدمات کی وجہ سے خوش تھے آپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں بھی آپؓ نے اسلام کے لیے اپنے خدمات پیش کیں اور ایک ایسی زندگی بسر کی جو مسلمانوں کے لیے کردار کا نمونہ ثابت ہوئی جنھوں نے دنیا کو بیچ کر آخرت کا سودا کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کو اپنی خواہشات کے مقابلہ میں اپنا اصل مقصد بنا کر مقدم جانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دونوں خلیفہ حضرت سعید بن عامرؓ کی صداقت اور تقویٰ کو خوب جانتے تھے، لہٰذا ان کی نصیحتوں کو غور سے سنتے اور ان کی باتوں پر عمل کرتے۔ حضرت عمرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد ہی حضرت سعید بن عامرؓ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا: اے عمرؓ میں تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ لوگوں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں (اس کے احکامات کی بجا آوری میں) لوگوں سے کبھی نہ ڈرنا اور یہ کہ تمہارے قول و فعل میں تضاد کبھی نہ ہونا چاہیے اس لیے کہ انسان کی بہترین گفتگو وہی ہوتی ہے جس کی تصدیق اس کا کردار کرے۔ اے عمرؓ: اللہ رب العزت نے جن مسلمانوں کا تمہیں نگران بنایا ہے ان کے معاملات کی طرف خصوصی دھیان دیتے رہنا، ان کے لیے وہی پسند کرنا جو خود تمہیں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے پسند ہو اور ان کے لیے ہر اس شے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنا جو خود تمہیں اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے لیے ناپسند ہو۔ مشکلات و مصائب کا سامنا کرنے سے نہ گھبرانا اور راہِ حق پہ مضبوطی سے جمے رہنا اور حق کی راہ میں کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہ لانا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے! سعیدؓ بھلا کس میں یہ ہمت ہے کہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو سکے؟ سعیدؓ نے فرمایا: آپ اس کے اہل ہیں آپؓ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی کا فریضہ سونپا ہے آپؓ ایک ایسے شخص ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپؓ سے زیادہ اور کوئی اس کا مستحق نہیں۔ اس گفتگو کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت سعیدؓ کو اس بار خلافت میں اپنی نصرت و تائید کے لیے دعوت دی اور فرمایا: اے سعیدؓ ہم تمہیں علاقہ حمص کا گورنر مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت سعیدؓ نے اس کے جواب میں فرمایا: ’’اے امیر المومنین! اللہ کے واسطے مجھے اس آزمائش میں نہ ڈالیے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے اس پر خفا ہو کر فرمایا: ’’بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم نے خلافت کا بار تنہا میری گردن پر ڈال دیا اور خود اس سے الگ تھلگ ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔‘‘ خدا کی قسم میں آپؓ کو ایسے چھوڑنے والا نہیں اس کے بعد آپؓ نے حضرت سعید بن عامرؓ کو صوبہ حمص کا گورنر مقرر کر دیا۔ جب حضرت عمرؓ نے حضرت سعیدؓ کو حمص کا گورنر مقرر کیا تو ان سے فرمایا: ’’کیا میں تمہارے لیے تنخواہ نہ مقرر کردوں؟‘‘ آپؓ نے جواب دیا کہ اے! امیرالمومنین مجھے اس کی ضرورت نہیں، مجھے بیت المال سے جو وظیفہ ملتا ہے وہ بھی ضروریات سے زیادہ ہے۔ یہ کہہ کر حضرت سعید بن عامرؓ حمص کے لیے روانہ ہوگئے۔ آپؓ کے حمص جانے کے کچھ ہی عرصے بعد اہل حمص کے کچھ معززین حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ مجھے اپنے یہاں کہ فقراء اور حاجتمندوں کے نام لکھ کردے دو تاکہ میں ان کی ضروریات پوری کرنے کا انتظام کر سکوں۔ جب انہوں نے حمص کے فقراء اور ضرورت مندوں کی فہرست پیش کی تو فہرست میں دیگر ناموں کے علاوہ ایک نام سعید بن عامرؓ بھی تھا۔ حضرت عمرؓ یہ نام دیکھ کر حیران ہوئے؟ اور پوچھا کہ یہ سعید بن عامر کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے گورنر…… حضرت عمرؓ نے مزید حیرت سے پوچھا کہ کیا تمہارا گورنر فقیر ہے؟ وفد نے جواب دیا کہ جی ہاں امیر المومنین! بخدا کتنے دنوں تک ان کے گھر کا چولھا نہیں جلتا… یہ سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے اور کافی دیرتک روتے رہے حتیٰ کہ ان کی ڈاڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ پھر وہ اٹھے اور ایک ہزار دینار ایک تھیلی میں رکھ کر اسے انہیں حوالے کرتے ہوئے فرمایا: ’’سعیدؓ سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ امیرالمومنین نے یہ مال آپؓ کے لیے بھیجا ہے تاکہ آپؓ اس سے اپنی ضرورتیں پوری کریں۔‘‘ وہ لوگ یہ تھیلی لے کر حضرت سعید بن عامرؓ کی خدمت میں پہنچے اور ان کے سامنے یہ تھیلی پیش کردی۔ حضرت سعید ؓ سے اس تھیلی کو دور ہٹاتے ہوئے کہا ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ جیسے ان پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو۔ ان کی آواز سن کر ان کی بیوی گھبرائی ہوئی ان کے پاس آئیں اور پوچھا: سعید کیا بات ہے؟ کیا امیرالمومنین کا انتقال ہو گیا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ نہیں، اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔ بیوی نے پھر پوچھا کیاکسی جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی ہے؟ آپؓ نے کہا نہیں، اس سے بڑی آفت آ پڑی ہے۔ بیوی نے پوچھا بھلا اس سے بڑی آفت کیا ہو سکتی ہے؟ آپ ؓ نے بڑی پریشانی کی حالت میں بتایا کہ دنیا میرے گھر میں داخل ہوگئی ہے تاکہ میری آخرت کو تباہ کردے۔ ابھی بیوی کو معلوم بھی نہ تھا کہ اصل حقیقت کیا ہے لیکن انہوں نے مشورہ دیا کہ پھر آپؓ جلد اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔ آپؓ نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا تم اس معاملے میں میری مدد کر سکتی ہو انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر حضرت سعید بن عامرؓ نے تمام دیناروں کو بہت سی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں رکھ کر انہیں غریب اور حاجتمند مسلمانوں میں تقسیم کروا دیا۔ ابھی اس بات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک اور واقعہ پیش آیا۔ حضرت خالد بن معدانؓ فرماتے ہیں کہ حمص میں ہم لوگوں پر حضرت عمرؓ نے حضرت سعید بن عامر جمحیؓ کو عامل (گورنر) مقرر کیا، جب حضرت عمر ؓ حمص تشریف لائے تو آپؓ نے حمص کو لوگوں سے پوچھا کہ تم نے اپنے گورنر کو کیسا پایا؟ ان لوگوں نے حضرت عمرؓ سے حضرت سعیدؓ کی شکایت کردی، چونکہ حمص کو لوگ اپنے عاملین کی شکایتیں زیادہ کیا کرتے تھے اس لیے اہل حمص کو کویفۃ الصغریٰ (چھوٹا کوفہ) کہا جاتا تھا۔ اہل حمص نے امیرالمومنین کے سامنے حضرت سعیدؓ کی چار شکایتیں پیش کیں، جن میں سے ہر ایک شکایت پہلی سے بھی بڑی تھی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس بات کے بعد میں نے انہیں اور حضرت سعیدؓ کو ایک جگہ جمع کیا اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ وہ سعیدؓ کے متعلق میرے حسن ظن کو صدمہ نہ پہنچائے، کیونکہ میں ان کے متعلق بہت زیادہ خوش گمان تھا۔ جب شکایت کرنے والے اور ان کے امیر (حضرت) سعید بن عامرؓ میرے پاس آئے تو میں نے دریافت کیا کہ تم لوگوں کو اپنے امیر سے کیا شکایت ہے؟ پہلی شکایت یہ کی گئی کہ جب تک خوب دن نہیں چڑھ آتا یہ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ میں (حضرت عمرؓ) نے دریافت کیا کہ سعیدؓ! تم اس شکایت کے متعلق کیا کہتے ہو؟ سعیدؓ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر بولے خدا کی قسم میں اس بات کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا مگر اب اس بات کو ظاہر کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ بات یہ ہے کہ میرے گھر میں کوئی خادمہ نہیں ہے۔ اس لیے ذرا سویرے اٹھتا ہوں تو پہلے آٹا گوندھتا ہوں، پھر تھوڑی دیر انتظار کرتا ہوں تا کہ اس کا خمیر اٹھ جائے، پھر روٹیاں پکا تا ہوں۔ اس کے بعد وضو کر کے لوگوں کی ضرورت کے لیے باہر نکلتا ہوں۔ میں نے اہل حمص سے پوچھا کہ تمہاری دوسری شکایت کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ رات کے وقت کسی کا جواب نہیں دیتے۔ میں نے پوچھا کہ سعید اس شکایت کے متعلق تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں اس بات کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا، میں نے دن کے اوقات کو ان لوگوں کے لیے اور رات کے اوقات کو اپنے رب کے لیے مخصوص کر رکھے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تیسری شکایت بیان کرو۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہینے میں ایک بار دن بھر گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ میں نے دریافت کیا کہ سعیدؓ تم اس شکایت کا کیا جواب دیتے ہو؟ سعیدؓ نے کہا کہ امیر المومنین! میرے پاس کوئی خادم نہیں ہے اور جسم کے ان کپڑوں کو سوا میرے پاس اور کوئی کپڑا بھی نہیں ہے، میں ان کو مہینے میں صرف بار ایک دھوتا ہوں اور ان کے خشک ہونے کا انتظار کرتا ہوں اور سوکھنے کے بعد دن کے آخری حصے میں انہیں پہن کر باہر آتا ہوں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اب تمہاری آخری شکایت کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کو وقفے وقفے سے غشی کے شدید دورے پڑتے ہیں اور یہ اپنے گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا، سعیدؓ تمہارے پاس اس شکایت کا کیا جواب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں خبیب بن عدیؓ کے قتل کے موقع پر موجود تھا اور اس وقت میں مشرک تھا۔ میں نے قریش کو دیکھا کہ وہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو کاٹتے جاتے اور ساتھ ہی یہ کہتے جاتے کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ آج تمہاری جگہ پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے اور تم اس تکلیف سے نجات پا جاتے؟ تو وہ جواب دیتے کہ خدا کی قسم مجھے تو یہ پسند نہیں کی میں اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے اہل و عیال میں بیٹھا رہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوؤں میں ایک تنکا بھی لگ جائے۔ خدا کی قسم جب مجھ کو وہ منظر یاد آتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یاد آتا ہے کہ میں نے اس وقت ان کی مدد کیوں نہ کی تو مجھے اس بات کا شدید خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی میری اس کوتاہی کو ہرگز معاف نہیں کرے گا اور پھر اسی وقت میرے اوپر غشی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ سن کے میں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے سعیدؓ کے متعلق میرے حسن ظن کو صدمہ نہیں پہنچنے دیا۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کے لیے ایک ہزار دینار بھیجے تاکہ ان سے وہ اپنی ضروریات پوری کریں۔ جب ان کی اہلیہ نے ان دیناروں کو دیکھا تو بولیں کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو آپؓ کی خدمات سے بے نیاز کردیا۔ اب آپ اس رقم سے ہمارے لیے ایک غلام اور ایک خادمہ خریدیے۔ یہ سن کر حضرت سعیدؓ نے کہا کہ کیا تم کو اس سے بہتر چیز کی خواہش نہیں ہے؟… اس سے بہتر؟… اس سے بہتر کیا چیز ہو سکتی ہے؟… اہلیہ نے پوچھا۔ آپؓ نے فرمایا کہ یہ رقم ہم اس کے پاس جمع کردیں جو اسے ہم کو اس وقت واپس کردے جب ہم اس کے زیادہ ضرورت مند ہوں۔ اہلیہ نے کہا وہ کیسے؟ آپؓ نے فرمایا کہ ہم یہ رقم اللہ تعالی کو قرض حسنہ دے دیں۔ اہلیہ نے کہا ہاں یہ بہتر ہے۔ اللہ آپؓ کو جزائے خیر دے۔ پھر حضرت سعیدؓ وہیں بیٹھے، آپؓ نے ان تمام دیناروں کو بہت سی تھیلوں میں رکھ کر اپنے گھر کے ایک آدمی کو کہا کہ انہیں فلاں قبیلے کی بیوائوں، فلاں قبیلے کے یتیموں، فلاں قبیلے کے مسکینوں اور فلاں قبیلے کے حاجتمندوں میں تقسیم کردو۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ حضرت عبد الرحمن بن سابط جمحی کی روایت ہے کہ جب سعیدؓ کو اس طرح کا عطیہ یا تحفہ ملتا تو وہ اس سے اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا سامان خریدتے اور باقی کو صدقہ کر دیا کرتے تھے۔ ان کی بیوی ان سے پوچھتی کہ تمہارا باقی وظیفہ کہاں گیا؟ یہ فرماتے کہ میں نے اسے صدقہ کردیا ہے۔ حضرت سعیدؓ کے پاس کچھ لوگوں نے آکر کہا کہ آپؓ کی بیوی کا بھی آپؓ کے اوپر حق ہے اور آپؓ کے اہل کا بھی آپ کے اوپر حق ہے، حضرت سعیدؓ نے جواب دیا کہ میں حورعین کی طلب میں لوگوں میں سے کسی کی رضا مندی کا نہ تو متلاشی ہوں اور نہ میں ان کی طلب میں ان لوگوں کو ترجیح دوں گا، اور اگر جنت کی حوروں میں سے کوئی حور جھانکے تو اس کی وجہ سے پوری روئے زمین اس طرح چمک جائیگی جیسے کہ سورج چکمتا ہے اور میں تو اگلے لوگوں سے ہرگز پیچھے رہنا نہیں چاہتا۔ حضرت عبداللہ بن زیادؓ بیان کرتے ہیں کی حضرت عمرؓ نے حضرت سعید بن عامرؓ کو ایک ہزار دینار دیے، سعیدؓ نے کہا کہ مجھے ان کی کچھ ضرورت نہیں، آپؓ یہ انہیں دیجیے جو مجھ سے زیادہ مستحق اور ضرورتمند ہیں، حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا ذرا رک جائو، میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی، پھر تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو اسے قبول کرو یا نہ کرو۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے کچھ چیزیں دیں تو میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی بات کہی جو ابھی تم نے کہی ہے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز آدمی کو کوئی بغیر سوال اور بغیر کسی خواہش کے دی جائے وہ اللہ کی جانب سے رزق ہے، اسے چاہیے کہ اسے قبول کرے اور لینے سے انکار نہ کرے، حضرت سعیدؓ نے پوچھا کہ کیا آپؓ نے خود یہ بات رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ حضرت سعیدؓ نے اسے قبول کر لیا۔ (الکنز العمال) آپؓ نے ہر حالت میں دنیا کے بدلے آخرت کو ترجیح دی اور گورنری کے زمانے میں بھی سادگی، قناعت اور خوف الہی کی وہ مثال قائم کی جو ایک مومن کا ہی سرمایہ حیات ہو سکتی ہے۔

Sunday, 8 July 2012

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ

- عابد علی جوکھیو

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے تھے۔ آپؓ نے اپنے والد کے ساتھ اسلام قبول کیا، جبکہ اُس وقت آپ سنِ بلوغت کو بھی نہ پہنچے تھے۔ غزوہ بدر کے وقت آپ چھوٹے تھے اس لیے جنگ میں شریک نہ ہوسکے۔ سب سے پہلی جنگ، جس میں آپؓ نے شرکت کی تھی وہ غزوہ خندق تھی۔ غزوہ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ شرکت کی تھی۔ آپؓ جنگ یرموک اور فتح مصر و افریقہ میں شامل تھے۔ آپؓ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حد اتباع کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے وہیں آپؓ اترتے، جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی وہاں نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے تھے تو حضرت ابن عمرؓ اس کو پانی دیا کرتے تھے کہ خشک نہ ہوجائے۔ نافعؓ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمرؓ نے اپنی ایک زمین دو سو اونٹوں کے عوض بیچ دی، ان میں سے سو اونٹنیاں جہاد کے لیے دے دیں، اور جسے دی تھیں اسے یہ تاکید کی کہ جب تک تم ان اونٹنیوں کو لے کر وادی قریٰ سے نکل نہ جائو اُس وقت تک انہیں نہ بیچنا۔ (ابونعیم) حضرت نافعؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ بیمار پڑگئے، ان کے لیے انگوروں کا ایک خوشہ ایک درہم میں خرید کر لایا گیا۔ اتنے میں ایک مسکین نے صدا دی، حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اسے دے دو، اور وہ اسے دے دیا گیا۔ ایک شخص اس سائل کے پیچھے چلا گیا۔ اس نے وہ خوشہ اسی سائل سے ایک درہم میں واپس خریدا اور اس کو لے کر حضرت عبداللہ ؓ کے پاس آگیا۔ اتنے میں وہی مسکین دوبارہ آگیا اور سوال کیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اس کو دے دو۔ اس کے بعد ایک اور شخص اس سائل کے پیچھے گیا اور اس سے یہ خوشہ ایک درہم میں خریدکر آپؓ کی خدمت میں لے آیا۔ پھر تیسری مرتبہ وہی مسکین آیا اور اس نے سوال کیا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: یہ خوشہ اسے دے دو، اور وہ دے دیا گیا۔ پھر ایک اور شخص اس مسکین کے پیچھے چلا اور اس سے پھر ایک درہم کے عوض وہ خوشہ لے لیا، اس مسکین نے ارادہ کیا کہ پھر مانگنے جایا جائے، مگر اسے وہاں جانے سے منع کردیا گیا۔ بالآخر وہ خوشہ حضرت ابن عمرؓ کو کھانے کے لیے دے دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ اگر ابن عمرؓ کو یہ پتا چل جاتا کہ اس خوشہ کی وجہ سے اس مسکین کو روکا گیا ہے تو وہ اسے ہرگز نہ چکھتے۔ (ابونعیم) ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ ابن عمرؓ کو انگور کی خواہش ہوئی اور آپؓ بیمار بھی تھے، چنانچہ آپؓ کے لیے میں نے ایک درہم میں انگور کا خوشہ خریدا اور اسے لے کر آپؓ کے سامنے رکھ دیا، باقی واقعہ پہلی حدیث جیسا ہی ہے۔ مگر آخر میں اس طرح ہے کہ ہر دفعہ سائل لوٹ کر آتا اور حضرت ابن عمرؓ ہر مرتبہ وہ خوشہ اسے دینے کا حکم فرماتے، یہاں تک کہ میں نے سائل سے تیسری یا چوتھی مرتبہ کہا: تجھ پر بڑا افسوس ہے، تجھے شرم نہیں آتی! اور میں یہ خوشہ اسی سائل سے ایک درہم میں خریدکر حضرت ابن عمرؓ کے پاس آیا اور آپؓ نے اسے کھالیا۔ (الاصابہ) محمد بن قیسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بغیر مساکین کے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کا جسم کمزور ہوگیا تھا۔ بعض دفعہ مساکین ہی میسر نہ آتے اور بعض دفعہ پورا کھانا مسکینوں کو ہی کھلا دیتے اور خود کچھ بھی نہ کھاتے یا کم کھاتے۔ ابی بکر بن حفضؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اُس وقت تک کھانا نہ کھاتے جب تک کہ ان کے دسترخوان پر کوئی یتیم نہ ہوتا۔ (ابونعیم) حضرت حسنؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ جب صبح یا شام کھانا کھاتے تو آس پاس کے یتیموںکو بلاکر شریک کرتے۔ ایک دن صبح کا کھانا کھانے بیٹھے، کسی یتیم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا، وہ یتیم نہ ملا۔ آپؓ کے پاس گھلا ہوا ستو ہوتا تھا جس کوکھانا کھانے کے بعد پی لیا کرتے تھے۔ لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے، اب آپؓ اپنے ہاتھ میں ستوئوں کا پیالا لیے اسے پینے ہی والے تھے کہ اتنے میں وہ یتیم بھی آپہنچا۔ آپ ؓ نے ستو اس یتیم کو دے دیا اور فرمایا: اسے لو، میرا یہ خیال ہے کہ تم خسارے میں نہیں رہے۔ میمون بن مہرانؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ کی بیوی سے لوگوں نے شکایت کی کہ آپ اپنے میاں کی طرف توجہ نہیں کرتیں؟ آپؓ کی اہلیہ نے جواب دیا کہ میں ان کا کیا کروں؟ جب بھی ہم ان کے لیے کھانا بناتے ہیں تو یہ اس کھانے پر کسی نہ کسی کو بلاکر اسے کھلا دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ان کی اہلیہ نے ان مسکینوں کی طرف (جو ان کے راستے میں اس انتظار میں بیٹھے رہتے تھے کہ آپؓ مسجد سے نکلیں اور ہم ساتھ ہولیں) پہلے سے ہی کھانا بھیج دیا، اور انہیں کہہ دیا کہ اگر وہ تم کو بلائیں تو ان کے پاس نہیں آنا۔ اور ہوا بھی ایسا کہ مسکین نہیں آئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ کیا تم لوگوں کا یہ ارادہ ہے کہ آج رات میں کھانا نہ کھائوں؟ چنانچہ اس رات آپؓ نے کھانا نہیں کھایا۔ (ابن سعد) حضرت ابوجعفر قاریؓ کہتے ہیں کہ مجھ کو میرے مالک نے حکم دیا کہ تم حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ رہو اور ان کی خدمت کیا کرو۔ ابوجعفر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ جس بھی بستی میں جاتے وہاں کے رہنے والوں کو بلاتے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے، اس کھانے میں اس بستی کے چھوٹے، بڑے سب شریک ہوتے۔ کسی آدمی کے حصے میں دو لقمے اور کسی کے حصے میں تین لقمے آتے۔ ایک مرتبہ آپؓ جُحفہ میں پہنچے، آپؓ کو دیکھ کر لوگ جمع ہوگئے، وہاں ایک حبشی غلام برہنہ بھی تھا، حضرت ابن عمرؓ نے اس کو بھی بلایا۔ اس غلام نے کہا کہ مجھے لوگوں کی بھیڑ میں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس غلام کو اپنی چھاتی سے لگالیا۔ (ابونعیم) دوسری روایت اس طرح ہے کہ ابو جعفر قاریؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے لیے نکلا، حضرت ابن عمرؓ کے پاس ثرید (ایک قسم کا کھانا) کا ایک بڑا پیالہ تھا۔ اس پیالہ پر ان کے بیٹے، ان کے ساتھی اور جو کوئی بھی آتا جمع ہوجاتا اور کھاتا، یہاں تک کہ ان میں سے بعض، جگہ کی تنگی کی وجہ سے کھڑے ہوکر کھاتے۔ حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ ان کا ایک اونٹ تھا، اس پر چمڑے کے دو مشکیزے ہوتے جو نبیذ اور پانی سے بھرے ہوتے تھے، ہر آدمی کو اس نبیذ کے ستو کا ایک بڑا پیالہ ملتا جس سے وہ پیٹ بھرتا اور اس کی کوکھ نکل آتی۔ (ابن سعد) معنؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمرؓ دسترخوان تیار کرتے، اور ان کے پاس سے کوئی ایسا آدمی گزرتا جس کی کچھ شان و شوکت ہوتی تو اس کو دسترخوان پر نہ بلاتے جبکہ دیگر لوگ ان شان و شوکت والوں کے اپنے دسترخوان پر بلاتے۔ جب کوئی مسکین انسان گزرتا توآپؓ اس کو بلالیتے اور یہ امیر لوگ اس کو نہ بلاتے۔ ان کے اس عمل پر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ تم لوگ ایسوں کو بلاتے ہو جو اس کی خواہش نہیں رکھتے، اور ایسوں کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں اس کی خواہش (ضرورت) ہے۔ (ابن سعد) حضرت میمون بن مہران ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس بارہ ہزار دینار آئے، اُس وقت میں بھی وہیں تھا۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے ہی آپؓ نے ان سب کو تقسیم کردیا۔ حضرت نافعؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت ابن عمرؓ کے پاس ایک لاکھ کی رقم بھیجی۔ ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان کے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا۔ حضرت ایوب بن وائلؓ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو مجھ سے ابن عمرؓ کے ایک پڑوسی نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس چار ہزار حضرت معاویہؓ کے پاس سے، چار ہزار ایک اور آدمی کے پاس سے، اور دو ہزار ایک تیسرے آدمی کے پاس سے آئے ہیں اور چادریں بھی آئی ہیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ حضرت ابن عمرؓ بازار آئے کہ اپنی اونٹنی کے لیے ایک درہم ادھار چارا خریدیں، جبکہ مجھے یہ معلوم تھا کہ ان کے پاس اتنا مال آیا ہے، میں ان کی خادمہ کے پاس گیا اور کہا کہ میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تم مجھے یہ بات سچ سچ بتادو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست نہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس چار ہزار تو حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے آئے تھے، چار ہزار ایک اور آدمی کے پاس سے، اور دو ہزار کسی اور کی جانب سے، اور چادریں بھی آئیں؟ اس نے کہا: ہاں بے شک یہ چیزیں آئی تھیں۔ میں نے اس خادمہ سے کہا کہ میں نے تو حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کے لیے چارا ادھار خرید رہے تھے… خادمہ نے کہا کہ حضرت ابن عمرؓ صبح ہونے سے پہلے ہی اسے تقسیم کرچکے ہیں۔ رات ہی ایک چادر میں یہ مال ڈال کر چلے گئے، اس کے بعد اس چادر کو خالی واپس لائے۔ وہ پڑوسی کہتا ہے کہ تب میں نے جاکر تاجروں سے کہا: اے تاجروں کے گروہ! تم دنیا کے ساتھ کیا کررہے ہو؟ ابن عمرؓ کے پاس گزشتہ رات دس ہزار کھرے درہم آئے اور آج صبح وہ اپنی سواری کے جانور کے لیے ایک درہم کا چارا ادھار طلب کررہے ہیں۔ حضرت نافعؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس بیس ہزار درہم سے زیادہ کی رقم آئی، لیکن جب اپنی مجلس سے کھڑے ہوئے تو اس حال میں کہ سارا مال وہیں خرچ کرچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ ہمیشہ صدقہ کیا کرتے تھے۔ بعض ایسے لوگوں سے ادھار لیتے جن کو انہوں نے عطیہ دیا ہوتا اور وہ اسی سے انہیں ادھار دیتے۔ میمونؓ کہتے ہیں کہ کہنے والا ان کو بخیل کہتا تھا۔ خدا کی قسم اس نے جھوٹ بولا۔ وہ نفع پہنچانے والی چیز میں ہرگز بخیل نہیں تھے۔ (مال کو صدقہ و خیرات کرنے میں) حضرت میمونؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے عمرو بن العاصؓ کو حضرت ابن عمرؓ کے دل کی بات معلوم کرنے کے لیے جاسوس مقرر کیا کہ آیا وہ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ حضرت عمرو بن العاص ؓ نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ کو یہاں سے نکلنے (بیعت کے لیے) سے کس چیز نے روکا ہے کہ ہم آپؓ سے بیعت کرلیں؟ آپؓ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور امیرالمومنین کے صاحبزادے بھی، آپ تمام لوگوں میں سے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا: ہاں سب کا اتفاق ہے سوائے چند لوگوں کے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: اگر تین موٹے عجمی آدمی ہجر (مقام) کے رہنے والے بھی باقی رہ جائیں گے تو مجھے بیعتِ خلافت کی ضرورت نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمرو بن العاص ؓ نے جان لیا کہ آپؓ کا جنگ کا ارادہ نہیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا کہ آپ کو اس بات کی خواہش ہے کہ آپ ایسے آدمی سے بیعت کریں جس کی بیعت پر عنقریب تمام لوگ جمع ہونے والے ہیں؟ اور وہ ہونے والا امیر آپ کے لیے زمینیں اور وہ مال لکھ دے جس کے بعد آپ اور آپ کے بعد آپ کی اولاد محتاج نہ رہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: تم پر بڑا افسوس ہے! تم یہاں سے چلا جائو اور پھر میرے پاس نہ آنا، تمہارے لیے خرابی ہو، بیشک میرا دین تمہارے دینار اور درہم پر نہیں، اور میں یہ امید کرتا ہوں کہ میں دنیا سے اس طرح جائوں کہ میرے دونوں ہاتھ سفید اور صاف ہوں۔ (ابن سعد) حضرت میمون بن مہرانؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنے ایک غلام کو مکاتب (وہ غلام جس سے یہ معاہدہ ہوکہ وہ کچھ رقم ادا کرلے تو آزاد ہوجائے گا) بنادیا اور اس پر کتابت کے بدلے (معاہدے کی رقم) کی قسطیں مقرر کردیں۔ جب پہلی قسط کی ادائیگی کا وقت آیا تو آپ کے پاس وہ مکاتب قسط لے کر آیا، آپؓ نے اس سے پوچھا کہ یہ قسط (رقم) کہاں سے حاصل کی؟ اس نے جواب دیا کہ میں کام بھی کرتا رہا اور مانگتا بھی رہا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: تم میرے پاس لوگوں کا میل لائے ہو؟ اور کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے لوگوں کا میل کھلاؤ؟ جاؤ تم اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہو، اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو یہ بھی میری طرف سے تمہارا ہوا۔ (ابو نعیم) حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بہت کھانا ہوتا جب بھی پیٹ بھر کر نہ کھاتے، اور کھاتے بھی تب جب اپنے ساتھ اور کھانے والے (مساکین، یتامیٰ) پا لیتے۔ ابن مطیعؓ حضرت ابن عمرؓ کے پاس عیادت کے لیے آئے، دیکھا کہ آپؓ کا جسم بہت لاغر ہوگیا ہے تو حضرت صفیہؓ سے کہا کہ آپ ان کے ساتھ مہربانی کیجیے (ان کی خوراک کا خیال رکھیے)، شاید کہ ان کے جسم میں کچھ جان آجائے۔ حضرت صفیہؓ نے جواب دیا کہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں لیکن یہ سب گھر والوں اور مسکینوں، یتیموں کو اس کھانے پر بلالیتے ہیں۔ تم خود اس بارے میں ان سے گفتگو کرلو۔ چنانچہ ابن مطیعؓ آپؓ سے ملے اور فرمایا: اے ابوعبدالرحمنؓ! آپ کوئی کھانا پکوا لیا کیجیے کہ آپ کے جسم میں کچھ جان آجائے۔ یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: مجھے آٹھ سال گزر رہے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ (یا اس طرح فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ پیٹ بھر کرکھایا ہے) اب تم چاہتے ہو کہ میں اپنا پیٹ بھروں؟ جب کہ میری عمر میں گدھے کی پیاس کے برابر حصہ باقی رہ گیا ہے (یعنی بہت تھوڑا حصہ۔ گدھے کی مثال اس لیے کہ وہ پانی پینے کے تھوڑی دیر بعد ہی پیاسا ہوجاتا ہے)۔ (ابونعیم) حضرت عمر بن حمزہ بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد حمزہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی گزرا، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے یہ بتائیے کہ جس دن آپ میرے والد (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے مقام حرف میں ملے تو انہیں دیکھ کر کیا کہا تھا؟ اس گزرنے والے نے کہا: میں نے کہا تھا کہ اے ابوعبدالرحمن! تمہاری بوٹیاں پتلی پڑ گئی ہیں (تم دبلے ہوگئے ہو) اور تمہاری عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ تمہارے پاس بیٹھنے والے (گھر والے) تمہارے حق اور تمہاری شرافت کو نہیں پہچانتے، کاش! تم اپنے گھر والوں کو حکم دیتے کہ وہ تمہارے لیے کچھ تیار کردیتے۔ جب تم ان کی طرف (گھر) لوٹ کر جاتے تو وہ تمہیں نرم غذا کھلاتے۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے جواب دیا تھا کہ تجھ پر بڑا افسوس ہے! میں نے چودہ سال سے ایک مرتبہ بھی پیٹ نہیں بھرا، اب میں کیسے اپنا پیٹ بھروں جب کہ میری عمر بھی بہت کم رہ گئی ہے! حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے غلام عبیداللہ ؓ بن عدی عراق سے واپس آئے تو حضرت ابن عمرؓ کے پاس سلام کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ کہا کہ میں آپ کے لیے ایک ہدیہ لایا ہوں۔ پوچھا: کیا ہے؟ کہا: جوارش لایا ہوں۔ فرمایا: یہ جوارش کیا چیز ہے؟ کہا: کھانا ہضم کردیتی ہے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: میں نے چالیس سال سے پیٹ نہیں بھرا، میں اس جوارش کا کیا کروں؟ (ابو نعیم) حضرت ابن سیرینؒ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کہ میں آپ کے لیے جوارش بناؤں گا۔ آپؓ نے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جب کھانا ہضم نہ ہورہا ہو اور نقصان کا باعث بنے تو یہ بآسانی اسے ہضم کردے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: میں نے کتنے عرصے سے پیٹ بھرا ہی نہیں اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ مجھے کھانا نہیں ملتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایک ایسی قوم کے ساتھ عرصۂ دراز گزارا ہے جو ایک مرتبہ کھاتی اور ایک مرتبہ بھوکی رہتی ہے۔ (ابن سعد) حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہیں رکھی (کوئی مکان نہیں بنایا) اور نہ میں نے کوئی پودا لگایا۔ (ابو نعیم و ابن سعد) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے دنیا پائی، اور وہ دنیا کی طرف اور دنیا اس کی طرف مائل نہ ہوئی سوائے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے۔ سدیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چند صحابہؓ کو دیکھا جن کا یہ کہنا ہے کہ صحابہ کرام ؓمیں سے کوئی بھی اپنی اس حالت پر نہیں رہا جس حالت پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑا تھا، سوائے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے۔ (الاصابۃ)