Search This Blog

Showing posts with label IQBALIYAT. Show all posts
Showing posts with label IQBALIYAT. Show all posts

Friday, 5 January 2018

علّامہ اقبال اور عطائی Allama Iqbal aur Atai

علّامہ اقبال اور عطائی
عرفان صدیقی
زندگی ایسے واقعات کے تسلسل کا نام ہے، جو بڑی حد تک انسان کی اپنی گرفت میں نہیں ہوتا۔ بلاشبہہ انسان کے اپنے عزم، محنت، جدوجہد اور تگ و تاز کی بھی بڑی اہمیت ہے، لیکن ’لالے کی حنا بندی‘ میں اہم کردار فطرت ہی کا ہوتا ہے۔ پردۂ تقدیر میں کیا چھپا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ اس میں بھی خالقِ ارض و سما کی ان گنت حکمتیں پوشیدہ ہیں، وگرنہ معلوم نہیں انسان کی زندگی کیسا بے ذوق تماشا  بن جاتی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اُس کی زندگی میں کب، کس مرحلے پر، کس آن کون سا سعید لمحہ، سینۂ افلاک سے پھوٹ کر، اُس کے دامن کو مالا مال کر جائے گا۔ یکایک اُس کے دامن کے سب داغ دھبے دُھل جائیں گے، اور وہ صبح ازل کی طرح اجلا اور شفاف ہو جائے گا۔ اسی طرح کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کس آن، کوئی لمحہ ایک سانحہ سا بن کر اُس کی زندگی میں آ ٹپکے گا اور چشم زدن میں اس کی عمر بھر کی کمائی کو گٹھڑی میں باندھ کر غائب ہو جائے گا، اور وہ بھرے شہر میں بے سروساماں ہوکر رہ جائے گا۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘ کہ اللہ کسی پر مہرباں ہو، اُس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے، اُسے کسی ایسے کارِ خاص کے لیے چُن لے، جو اُس کے لیے زندگی بھر کا ہی نہیں، آنے والے کئی زمانوں کے لیے بھی اثاثہ اور صدقۂ جاریہ بن جائے۔ اس کرم و عطا کی حکمت آموز مثالیں ہمیں کثرت سے ملتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آفتابِ رسالت طلوع ہوا اور غار حرا سے اسلام کے مہرِتاب دار نے انگڑائی لی، تو کچھ عالی نصیب ایسے تھے، جنھیں ایمان کی بے بہا دولت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی رفاقت کا بلند اعزاز عطا ہوا۔ مگر اُسی شہر مکہ میں کچھ ایسے بد نصیب بھی تھے، جو بدستور تاریکیوں میں بھٹکتے اور اپنے لیے آگ سمیٹتے رہے:
حسنؓ ز بصرہ، بلالؓ از حبش، صہیبؓ از روم
زخاکِ مکہ ابوجہل، ایں چہ بو العجبی ست
)
کیا عجیب بات ہے کہ بصرہ سے حسن بصریؓ، حبشہ سے بلال حبشیؓ اور روم سے صہیب رومیؓ جیسے صحابہ کرامؓ پیدا ہوئے اور خود مکہ کی خاک پاک سے ابوجہل نے جنم لیا۔(
اس ’بوالعجبی‘ کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا ہے۔ کسی پر اللہ نے رحمتوں اور برکتوں کے دَروا کر دیے اور وہ محبوب و مقبول ٹھیرا۔ کسی کے لیے محرومیاں اور نامرادیاں مقدر کر دی گئیں اور وہ راندۂ درگاہ قرار پایا۔ اس کا معیار کیا ہے؟ اللہ کس کسوٹی پر پرکھتا ہے؟ کس ترازو میں تول کر مقبول و مردود کے فیصلے صادر کرتا ہے؟ ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ انسان کی محدود عقل اس راز کو پانے کی قدرت نہیں رکھتی:
یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
٭

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنھیں چُن لیا جاتا ہے۔ اللہ انھیں اپنی بے پایاں عنایات کی آغوش میں لے لیتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قربتوں اور اس عہدِسعید کی برکتوں سے براہِ راست فیض یاب ہوئے،مگر ایسے بامراد ہر دور میں گزرے ہیں، جن کے دلوں میں عشقِ رسولؐ کا چراغ روشن ہوا اور ان کی زندگی کے ہر لمحے کو فروزاں کر گیا۔
ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک پٹھان،اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اُس کا نام محمد رمضان [م:۷ جمادی الاول ۱۳۸۸ھ/۲؍اگست۱۹۶۸ء] رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی اے کے بعد بی ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر، سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سرکارِ انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنت رسولؐ سے سجا تھا۔ ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اورکندھے پر بڑا سا تولیہ ڈالے رکھتے۔ فارسی اور اُردو میں شعر کہتے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے عشاق میں سے تھے۔ اُن کے کئی اشعار پر تضمین کہی، جو علامہ نے بہت پسند کی۔ مولانا فیض محمد شاہ جمالی کے مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسویؒ کے حلقہ نشین تھے۔ ایک سیاسی خاندان کے نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگائو کے باعث عطائی تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔
یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ اسکول میں تعینات تھے۔ تب اُن کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی[م:۱۹۶۴ء]، ڈیرہ غازی خان میں سب جج تھے [جو ڈیرہ کے علاوہ، لدھیانہ، امرتسر، ہوشیارپور میں سب جج اور ۱۹۴۷ء کے بعد ریٹائرمنٹ تک لاہور میں سیشن جج رہے۔] ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحب علم شخصیت تھے۔ آپ انیس ناگی [م:۲۰۱۰ء] کے والد اور معروف صحافی واصف ناگی کے دادا تھے۔ علامہ اقبال سے گہری محبت رمضان عطائی اور ابراہیم ناگی کے درمیان دوستانہ قربت کی قدرِ مشترک تھی۔ مولانا ابراہیم کو   علّامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ایک دن مولانا محمدابراہیم لاہور گئے اور علامہ اقبال سے ملاقات ہوئی ۔ واپس آئے تو سرِشام معمول کی محفل جمی اور علامہ اقبال سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولاناابراہیم نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا، او رکہنے لگے: ’’لوعطائی، علامہ صاحب کی تازہ رُباعی سنو‘‘۔ پھر وہ عجب پُر کیف انداز میں پڑھنے لگے:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہاے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر
مولانا محمد ابراہیم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم ِ وجد میں فرش پر گرے، چوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئے۔ رُباعی اُن کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اُٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہتے۔ اُنھی دنوں حج پر گئے۔ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ: ’جب حجاج اوراد اور وظائف میں مصروف ہوتے تو میں زاروقطار روتا اور علامہ کی رُباعی پڑھتا رہتا۔‘ حج سے واپسی پر عطائی کے دل میں ایک عجیب آرزو کی کونپل پھوٹی: ’’کاش! یہ رُباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی‘‘۔
یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا: ’’آپ سر ہیں، فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار، لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی‘‘۔ انھوںنے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے چیدہ چیدہ فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’’فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رُباعی مجھے عطا فرما دیں‘‘۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اُنھیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
’’
جناب محمد رمضان صاحب عطائی
سینئر انگلش ماسٹر، گورنمنٹ ہائی سکول، ڈیرہ غازی خان
جنابِ من! میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رُباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
      
فقط
لاہور: ۱۹ فروری۱۹۳۷ء     محمد اقبال
علامہ کی یہ عطا، جنابِ عطائی کے لیے توشۂ دو جہاں بن گئی۔ علامہ نے یہ رُباعی اپنی نئی کتاب ارمغانِ حجاز کے لیے منتخب کر رکھی تھی، مگر عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انھوں نے اسے کتاب سے خارج کرکے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رُباعی کہی جوارمغانِ حجاز  میں شامل ہے:
بہ پایاں چوں رسد ایں عالمِ پیر
شَود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکُن رُسوا حضورِ خواجہؐ ما را
حسابِ مَن زچشمِ او نہاں گیر
)
اے میرے رب! جب (روز قیامت) یہ جہانِ پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اُس دن مجھے میرے آقا ومولاؐ کے حضور رُسوا نہ کرنا اور میرا نامۂ اعمال آپؐ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا۔(
عطائی ایم اے فارسی کا امتحان دینے لاہور گئے تو شکریہ ادا کرنے کے لیے حضرت ِ علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانے والے چودھری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا: ’’بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے‘‘۔
علامہ ایک کُھرّی جھلنگا چارپائی پر سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے: ’’عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘۔ رُباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب و کیف سے پڑھنا شروع کیا: ’’تو غنی از ہر دوعالم…‘‘ علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔ اتنا روئے کہ سفید چادر کے پلو بھیگ گئے۔ اس کے بعد عطائی کی علامہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔
محمد رمضان عطائی کی آخری ملاقات علامہ اقبال سے ان کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر۱۹۳۷ء میں ہوئی۔ انھوں نے علامہ سے کہا: ’’سنا ہے جناب کو دربارِ نبویؐ سے بلاوا آیا ہے‘‘۔ علامہ آبدیدہ ہو گئے… آواز بھرا گئی۔ بولے:’’ہاں! بے شک، لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے۔ آنکھوں میں موتیا اُتر آیا ہے۔ یار کے دیدار کا لطف دیدۂ طلب گار کے بغیر کہاں؟‘‘ عطائی نے کہا: ’’جانا ہو تو دربار نبویؐ میں وہ رُباعی ضرور پیش فرمائیے گا، جو اَب میری ہے‘‘۔ علامہ زاروقطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا: ’’عطائی! اس رُباعی کو بہت پڑھا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے‘‘۔
۲۱؍اپریل۱۹۳۸ء کو علامہ اقبال انتقال فرما گئے۔ عرصے بعد بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی سیڑھیوں سے متصل اُن کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی، تو ہر ہفتے اور اتوار کو ایک مجذوب سا شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پہ آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پر نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک زاری شروع کر دیتا، کبھی مزار کے گرد چکر کاٹنے لگتا۔ اُس پروانے کا نام محمد رمضان عطائی ہی تھا۔
مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے: ’’ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گہر تو اُڑا لے گیا۔ بخدا، اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نوازؔ  (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے، تو میں اپنی تمام جایداد دے کر یہ رُباعی حاصل کر لیتا اورمرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا‘‘۔
محمد رمضان عطائی سنیئر انگلش ٹیچر نے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے قبل اپنی وصیت میں لکھا: ’’میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پر لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا‘‘۔ مجھے معلوم نہیں پسِ مرگ اُن کے کسی وارث نے اس عاشقِ رسولؐ کی پیشانی پر وہ رباعی لکھی یا نہیں۔
چند سال قبل، مَیں خاص طور پر محمد رمضان عطائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے ڈیرہ غازی خان گیا۔ ’ملا قائد شاہ‘ کے قدیم قبرستان میں ایک پرانی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ لوحِ مزار پر کندہ تھا:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہِ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر


Monday, 21 April 2014

اقبالؒ اور احترام انسان . Iqbal aur Ihterame Insan

اقبالؒ اور احترام انسان

ڈاکٹر سید محمد اکرم 


اقبالؒ کے نزدیک انسان کائنات کی تخلیق کا عالی ترین مقصد ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم پر ہوئی ہے۔ اس کے فکروعمل کی وسعتوں کا کوئی حساب نہیں اس  کے ہنگامہ ہائے نوبہ نو کی کوئی انتہا نہیں۔ اقبال انسانی تہذیب کی روح ورواں اس بات کو قرار دیتے ہیں کہ انسان کا احترام کیا جائے:۔  …؎
برتر از گردوں مقام آدم است 
اصل تہذیب  احترام آدم است 
انہوں نے کہا میں انسان کے شاندار اور درخشاں مستقبل پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور میراعقیدہ ہے کہ انسان نظام کائنات  میں ایک مستقل عنصر کی حیثیت حاصل کرنے کی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہے۔ یہ عقیدہ میرے خیالات وافکار میں آپ کو عموماً جاری وساری نظر آئے گا۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک جو انسان کا احترا م نہیں کرنا وہ انسان دوست نہیں ہے وہ خدا دوستی اور خدا پرستی کا دعوی نہیں کر سکتا۔ مخلوق سے محبت ہی خالق سے محبت ہے۔ 
اقبالؒ جہاں انسان دوست قوتوں کا احترام کرتے ہیں وہاں انسان دشمن قوتوں کے رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں تاکہ آج پردہ تہذیب  میں جو غاری گری اور آدم کشی کا عمل جاری ہے اسے روکا جا سکے۔ اقبالؒ کے دور میں مغربی استعمار نے قبائے انسانی کو چاک کیا۔ یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس اقبالؒ نے مغربی تہذیب کے تباہ کن رویوں کے خلاف ہو گئے۔ ان کے کلام کا ایک عظیم حصہ لادین سیاست کی نفی اور بے رحم اور خودغرض ملوکیت کے خلاف آواز ہے۔ 
علامہ اقبالؒ نے کیمبرج میں کہا میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت ومادیت سے محفوظ رہیں۔ اہل یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مذہب وحکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی تہذیب اخلاق سے محروم ہو گئی۔لیگ آف نیشنز طاقتور اقوام نے کمزور اقوام کو اپنے تصرف میں لانے کا ایک ادارہ بنا لیا۔ اقبالؒ نے اسے کفن چوروں کی انجمن کا نام دیتے ہوئے کہا…؎ 
من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدے چند  
بہر تقسیم قبور انجمنے  ساختہ اند 
علامہ اقبالؒ کا تمام  کلام انسان کے احترام، اس کی حفظ وبقا اور ترقی وارتقا کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے پروفیسر نکلسن کے نام ایک خط میں لکھا:۔  
’’میری فارسی نظموں کا مقصد اسلام کی وکالت نہیں بلکہ میری طلب وجستجو تو صرف اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید  معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اور عقلاً  یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطع نظر کر لیا جائے جس کا مقصد وحید ذات پات، رتبہ ودرجہ اور رنگ ونسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ یورپ اس گنج گراں مایہ سے محروم ہے۔
تاریخ میں اکثر جنگوں کی بنیاد علاقائی، لسانی اور نسلی اختلافات ہیں۔ اسلام دنیا کا واحد نظام حیات جس نے ان فساد انگیز اور تباہ کن اختلافات کو ختم کرنے اور انسانی برادری کو انسانیت کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کی۔ پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا…’’تم میں کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔
اقبالؒ لکھتے ہیں:۔ ’’قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گوناں گوں روابط کا ایک اعلی اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔ قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے جس کے پیش نظر گوئٹے نے (بہ اعتبار ایک تعلیمی قوت) اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:۔ اس تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔ ہمارا کوئی نظام اور ہمیں پر کیا موقوف ہے کوئی انسان بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔  
ہر بڑا تخلیقی مفکر ایک مثالی انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ علامہ اقبالؒ سے کسی نے سوال کیا کہ انسان کامل کے متعلق آپ کا تصور کیا ہے تو انہوں نے کہا نبیؐ اکرم تمام انسانوں کے لئے کامل ترین نمونہ ہیں جو بھی آپؐ کے اخلاق کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے وہ انسان کامل بن جاتا ہے۔ اقبالؒ کی تمام تصنیفات اور منظومات و بیانات نبی علیہ اسلام کے اعلی اخلاق کی توصیف وتعریف سے مملو ہیں۔ اللہ تعالی نے آپؐ کے حلق کو خلق عظیم سے تعبیر فرمایا انک لعلی خلق عظیم۔ نبیؐ  اکرم نے فرمایا کہ میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث  ہوا ہوں۔ حضور علیہ السالم سراپا رحمت ہیں۔ مومنین کے لئے رئوف رحیم ہیں۔ رحمتہ للعالمین  ہیں یعنی سارے جہانوں کے لئے رحمت۔ فتح مکہ آپؐ کی رحمتہ للعالمینی کا وہ بے مثال مظاہرہ ہے جو چشم تاریخ نے اس سے پہلے  اور اس کے بعد کبھی نہ دیکھا۔ آپؐ نے فرعون  صفت تمام دشمنوں کو لاتژیب علیکم الیوم کہہ کر بلاشرط معاف فرما دیا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ رسولؐ پاک کی ذات میں تمہارے  لئے بہترین نمونہ ہے۔ لقدکام لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ۔ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ نبیؐ مکرم کے اسوہ حسنہ کو اپنے انفرادی  اور اجتماعی معاملات میں پیش نظر رکھیں اور سب انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آئیں۔  
اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات کا خلاصہ محبت و مساوات کی بنیاد پر ایک آفاقی معاشرے کی تشکیل ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان  کا یکساں احترام کیا جائے۔ اسلام ناگزیر طور پر عالم انسانی کے لئے امن کا مذہب ہے۔ کیونکہ اسلام اتحاد  انسانی کا عظیم داعی ہے۔ اسلام نے بنی نوغ انسان کے اتحاد کے ضمن میں جو پہلا قدم اٹھایا وہ ایک ہی نوع کے اخلاقی ضابطے رکھنے والوں کو اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔  قرآن کریم نے اعلان کیا کہ اے اہل کتاب آئو ہم اللہ تعالی کی توحید پر متحد ہو جائیں  جو ہم سب کے درمیان مشترک ہے۔‘‘ 
علامہ اقبالؒ نے اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر سال نو کے پیغام میں جو یکم جنوری 1938 کو ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا کہا:۔ 
’’تمام دنیا کے ارباب فکر دم بخود سوچ رہے ہیں کہ تہذیب کے اس عروج اور انسانی ترقی کے اس کمال کا انجام یہی ہونا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان و مال کے دشمن بن کر کرہ ارض پر زندگی کا قیام ناممکن بنا دیں۔  دراصل انسان کی بقا کا راز انسانیت کے احترام میں ہے اور جب تک دنیا کی تمام علمی قوتیں اپنی توجہ کو احترام انسانیت پر مرکوز نہ کر دیں یہ دنیا بدستور  درندوں کی بستی بنی رہے گی۔ قومی وحدت بھی ہرگز قائم دائم نہیں۔ وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے جو رنگ و نسل و زبان سے بالاتر ہے۔ جب تک اس نام نہاد جمہوریت، اس ناپاک قوم پرستی اور ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو مٹایا نہ جائے گا جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ ونسل کے اعتبارات کو ختم نہ کیا جائے گا اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح وسعادت کی زندگی بسر نہ کر سکے گا اور اخوت، حریت اور مساوات کے شاندار الفاظ شرمندہ معنی  نہ ہوں گے …؎ 
بہ آدمی نرسیدی خدا چہ می جوئی 
ز خود گریختہ ای آشنا چہ می ہوئی 

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال . ALLAMA IQBAL AUR NAWAB BHOPAL

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال

ڈاکٹر محمد سلیم

سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی آخری خاتون حکمران تھیں۔ اپنے دو بڑے صاحبزادوں کے انتقال کے بعد‘ 1926ء میں وہ اپنے بیٹے پرنس حمید اللہ خاں کے حق دستبردار ہو گئیں۔ عنان حکومت سنبھالتے ہی نواب حمید اللہ خان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ وہ نہ صرف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے چانسلر مقرر ہوئے بلکہ چیمبر آف پرنسز کے چانسلر بھی منتخب ہو گئے۔ نواب حمید اللہ خاں (نواب بھوپال) کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ ایک بیدار مغزوالئی ریاست تھے۔ انہوں نے اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور تعلیمی و ثقافتی ترقی کے لئے بہت کام کیا۔ ان کا دور 1927ء سے شروع ہوا اور 1949ء میں ختم ہوگیا جب ریاست انڈین یونین میں ضم ہو گئی۔

نواب بھوپال شدید آرزو مند تھے کہ مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو ایک مرتبہ پھر حاصل کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے 10مئی 1931ء کو بھوپال میں جداگانہ اور مخلوط انتخابات کے حامی مسلمان رہنماؤں کی کانفرنس بلائی تاکہ ان میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس کانفرنس میں علامہ اقبالؒ‘ ڈاکٹر مختار انصاری، سر محمد شفیع، تصدق احمد شیروانی اور شعیب قریشی کے علاوہ خود نواب بھوپال بھی شریک ہوئے۔ علامہ اقبال لاہور سے 9 مئی بھوپال کے لئے روانہ ہوئے اور 10مئی بھوپال پہنچے۔ اقبال حسین خان، ندیم خاص (ADC) نے اسٹیشن پر ان کا استقبال کیا۔ محل تک کار میں آتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ بھئی ہمارے خیال میں تو ریاست کشمیر نواب بھوپال کو دے دی جائے اور بھوپال مہاراجہ کشمیر کو۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں ہندوؤں کی، اسی دن صبح گیارہ بجے علامہ اقبال کی نواب بھوپال سے ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد علامہ اقبال نے کہا‘ میں نہیں سمجھتا تھا کہ ہندوستان کا ایک والئی ریاست ایسا عالی دماغ بھی ہو سکتا ہے۔ نواب صاحب قوم و ملک کے لئے ایک قابل فخر ہستی ہیں‘‘۔
اسی شام مسلمان رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ 12 مئی کو علامہ اقبال‘ سر محمد شفیع‘ مولانا شوکت علی اور تصدق احمد خاں شیروانی کے دستخطوں سے یہ بیان شائع ہوا:‘‘ ہم 10مئی کو بھوپال میں ایک غیر رسمی اجلاس میں جمع ہوئے تاکہ ان اختلافات کو مٹائیں جن کی بنا پر مسلمان اس وقت دو سیاسی طبقوں میں تقسیم ہو رہے ہیں، ہمارا مقصد ہندو مسلم سوال کے حل کرنے میں آسانیاں پیدا کرنا تھا۔ ہماری متفقہ رائے ہے کہ اس منزل پر بحث و تمحیص کی تفصیلات شائع کرنا مفاد عامہ کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ہم خوشی سے بیان کرتے ہیں کہ طرفین کے درمیان انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوتی رہی۔۔۔ جون کا پہلا ہفتہ مزید گفت و شنید کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس وقت آخری اور تسلی بخش فیصلہ ہو جائے گا‘‘۔
لاہور پہنچنے پر انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی بھوپال سے واپسی پر شملہ میں گاندھی جی کے مکان پر گئے اور انہیں اطلاع دی کہ نواب بھوپال نے جن اصحاب کو مدعو کیا تھا۔ انہوں نے عارضی میثاق مرتب کر لیا ہے۔ اس میثاق میں جو فامولا پیش کیا گیا ہے اس میں جداگانہ اور مخلوط انتخاب کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ فارمولہ تقریباً دس سال تک نافذ رہے گا اور اس کے بعد ہر جگہ مخلوط انتخاب ہو گا۔ اس پر 15مئی 1931ء کو علامہ اقبالؒ نے ایک بیان میں  کہا: ’’چونکہ میں بھی مدعو تھا اس لئے میں یہ ظاہر کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر انصاری اور مسٹر شعیب نے بھوپال کانفرنس میں پیش کردہ ایسی تجاویز کو جن پر بحث بھی نہیں ہوئی بمنزلہ عارضی میثاق پیش کیا ہے تو انہوں نے یقیناً نہ صرف ان لوگوں کے ساتھ جن سے انہوں نے گفت و شنید کی بلکہ تمام مسلم قوم کے ساتھ برائی کی۔ میں اسے کامل طور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عارضی میثاق کی قسم کی کوئی چیز حاضرین جلسہ کے خیال میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔ ایسی تجاویز کو جن پر کسی قسم کی بحث بھی نہیں ہوئی، گاندھی جی کے پاس بھاگے بھاگے لے جانے اور انہیں عارضی میثاق کے نام سے تعبیر کرنے سے شبہ ہوتا ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس میںکوئی حقیقت ہے  تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس مں کوئی حقیقت ہے تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال یا شملہ میں دوسرا جلسہ کرنا نہ صرف مفید نہ ہوگا بلکہ لازمی طور پر مسلمانون ہند کے مفاد کے لئے ضرر رساں ہوگا‘‘۔ اس طرح گاندھی جی کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی نے مسلم رہنماؤں کو متحد کرنے کی نواب بھوپال کی کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔ اس جلاس کے انعقاد سے پتہ چلتا ہے کہ نواب بھوپال سمجھتے تھے کہ جو چند افراد مسلمانوں  کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے بارے میں علامہ اقبال کی باتوں  سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ 10 مئی 1931ء کو ان سے پہلی دفعہ ملے اور پہلی ہی ملاقات میں ان کا یہ تاثر تھا کہ وہ عالی دماغ حکمران ہیں۔
سر راس مسعود نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو نواب بھوپال کے کہنے پر ان کی ریاست میں وزیر تعلیم و صحت و امور عامہ کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال کے تعلقات میں جو فروغ ہو اس میں سرراس مسعود کا اہم رول ہے۔ علامہ اقبال اپنے گلے کی بیماری کی وجہ سے سخت پریشان رہتے تھے کیونکہ کوئی علاج کارگر نہیں ہو رہا تھا۔ سر راس مسعود کو علامہ اقبال کی مسلسل علالت سے پریشانی تھی۔ نواب بھوپال بھی ان کی علالت سے فکر مند تھے۔ دونوں حضرات کی خواہش تھی کہ وہ بھوپال آکر بجلی کا علاج کرائیں۔ چنانچہ جب راس مسعود نے انہیں گلے کے علاج کے لئے بھوپال بلایا تو انہوں نے حامی بھر لی۔ 31 جنوری 1935ء کو اقبال بھوپال پہنچے۔ راس مسعود کے پرنسل سیکرٹری ممنون حسن خاں لکھتے ہیں: علامہ اقبالؒ کو لینے کے لئے سر راس مسعود اور میں ریلوے اسٹیشن گئے تھے۔ اگرچہ شاہی مہمان کی حیثیت سے نہیں آرہے تھے۔ پھر بھی نواب بھوپال نے اپنے ملٹری سیکرٹری کرنل اقبال محمد خاں کو اپنے نمائندے کو طور پر ان کے استقبال کے لئے بھیجا تھا۔ جب گاڑی آئی تو ایک صاحب افغانی ٹوپی شلوار اور پنجابی کوٹ میں  ملبوس پلیٹ فارم پر اترے ۔ یہ علامہ اقبالؒ تھے سر راس کی ان پر نظر پڑی، تو استقبال کے لئے تیزی سے ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔  کرنل اقبال محمد خاں نے آگے بڑھ کر کہا کہ نواب بھوپال نے سلام کے بعد کہا ہے کہ اگر آپ اور سرراس مسعود اجازت دیں تو آپ کے قیام کا انتظام شاہی مہمان خانے میں کیا جائے۔ آپ کے وہاں قیام سے نواب صاحب کو بے حد خوشی ہو گی۔ علامہ اقبالؒ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں تو اس وقت اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں۔ نواب صاحب سے ضرور ملوں گا۔ ان کو میرا سلام اور شکریہ پہنچا دیجئے گا۔ دوسرے دن نواب بھوپال سے ملاقات کے لئے علامہ اقبالؒ ’’قصر سلطانی‘‘ روانہ ہوئے۔ گاڑی محل آکر رکی تو نواب صاحب نیچے کی سیڑھی پر علامہ اقبالؒ کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ وہ (نواب بھوپال) ان سے بڑے احترام اور محبت سے ملے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی بزرگ سے مل رہے ہیں۔ پھر نواب صاحب علامہ (اقبالؒ) کو اپنے کمرے میں لے گئے جہاں ہم صرف چار آدمی تھے۔ میں سب سے پیچھے ایک گوشے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلد ہی کافی کا دور چلا۔ نواب صاحب نے صحت کے بارے میں پوچھا تو علامہ اقبالؒ نے بیماری اور علاج کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد گفتگو کا موضوع بدل گیا۔ نواب صاحب نے "An Interpretation of Holy Quran in the Light of Modern Philosophy" (جدید فلسفہ کی روشنی میں قرآن مجید کی تشریح) کے بارے میں دریافت کیا۔ علامہ اقبال نے بتایا کہ اس کتاب کا خاکہ میرے ذہن میں ہے۔ کچھ تیار بھی کر لیا ہے۔ لیکن کچھ کتابیںبیرون ملک ہیں انہیں دیکھ لینا چاہتا ہوں۔ یہ بھی کہا کہ مجھے آکسفورڈ اور کیمبرج میں توسیعی خطبات کے لئے بلایا جا رہا ہے۔ اگر میں وہاں گیا تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ساری ملت اسلامیہ بلکہ ساری دنیا اسے قدر کی نگاہ دے دیکھے گی۔

Wednesday, 20 February 2013

پروفیسر جگن ناتھ آزاد۔۔۔۔ ’’نسیم حِجاز‘‘ کا مدّاح

پروفیسر جگن ناتھ آزاد۔۔۔۔ ’’نسیم حِجاز‘‘ کا مدّاح



گذشتہ چار عشروں سے مجھے برِ صغیر کے سرکردہ ادیبوں ، عالموں ، شاعروں اور مسلم و غیر مسلم دانشوروں کو سرینگر دوردرشن ، کشمیر یونیورسٹی اورملک کے متعدد شہروں میں دوران سفر قریب سے دیکھنے ، سننے اور ان کے بلند افکار و نظریات سے بلواسطہ اور بلاواسطہ فیضاب ہونے کا موقعہ فراہم ہواہے۔ معروف اردو شاعر، عالمی شہرت یافتہ ماہر اقبالیات، مدّاح رسالت مآب ؐ اور ایک نہایت ہی سلیم الفطرت انسان پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ کے ساتھ میرے مراسم ان ایام سے جڑے ہوئے تھے جب وہ سرینگر میں مرکزی محکمہ اطلاعات میں بحیثیت پبلسٹی آفیسر کام کررہے تھے ۔ ادبیات، اسلامیات اور اقبالیات ان کے پسندیدہ موضوعات تھے ۔ ان کے حریف و حلیف دونوں انہیں اقبال کی چلتی پھرتی ڈکشنری تصور کرتے تھے ، سوائے چند اُدباء کے جنہیں خواہ مخواہ ان سے عناد اور الرجی تھی ، لیکن آزادؔ کی یہ عالی حوصلگی تھی کہ اپنے حریفوں یا معاصرانہ چشمک رکھنے والوں کے متعلق ایک جملہ بھی کبھی زبان پر نہیں لایا جس میں بدگوئی کا پہلو موجود ہوتا ۔ ہندوستان میں انتہائی نامساعد حالات میں آزادؔ نے جہاں ترجمان الحقیقت علامہ محمد اقبال کے فکر و فن پر کتابین لکھیں اور توسیعی خطبات دیئے وہاں اپنے نظام شعر میں حضرت سرورِ کائنات ؐ کے انسانی دنیا پر احسانات و عطیات کا تذکرہ اپنے مختلف شعری مجموعوں میں متفرق مقامات پر ادب و تعظیم کے سارے لوازمات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بعد مین ’’نسیم حجاز ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر لایا ہے۔ ویسے بھی کئی ہنود شعراء نے کشادہ دلی اور رواداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بارگاہ رحمۃ العالمینی ؐ میں شعر و سخن اور مدح و ثناء کے عطر بار گلدستے پیش کئے ہیں ۔ آزادؔ نے لاہور ، دہلی اور جموں میں وقتاًفوقتاً سیرتی اور نعتیہ محافل میں شمولیت کرکے اقبال کے زیر اثر کمال درجے کے مدحیہ اشعار پڑھے ہیں۔ طُوطئی ہندحضرت امیر خسروؒ نے دربارِ نبویؐ کی منظر نگاری’’خُدا خود میرِ محفل بود شب جائے کہ من بودم ‘‘ کی الہامی کیفیت کے حامل لفظوں میںکی تھی اور ادھر آزادؔ اپنے دلکشا مجموعہ شعر ’’نسیم حِجاز ‘‘ میں اس عظیم ادب گاہ کا نقشہ ’’محفل نعت میں ایک رات‘‘ والی نظم میں یوں پیش کرچکے ہیں۔   ؎
وہاں کل رات جنّت کا نظارا تھا جہاں میںتھا
عجب اک کیفِ پیہم آشکارا تھا جہاں میں تھا
زمیں سے عرش تک تھا ایک کیف ِبے خودی طاری
کہ اک نام مقدّس ؐ جلوہ آرا تھا جہاں میں تھا
یہ تھی وہ سرمدی محفل کہ اس محفل کا ہر لمحہ
عقیدت نے محبت سے سنوارا تھا جہاں میں تھا
وہ دانائے سبل ، ختم الرسلؐ کا ذکر تھا جس کا
میسّر اہل ِ باطن کو سہاراتھا جہاں میں تھا
دراصل ماحول ، تربیت ، تعلیم اور صحبت وہ عناصر اربعہ ہیں ، جو ایک شخصیت کی ساخت و پر داخت میںکلیدی حصّہ ادا کرتے ہیں۔ آزادؔ تلوک چندمحروم ؔ جیسے بلند قامت شاعر کے نورِ نظر تھے اور لاہور، جو عروس البلاد کہلاتا تھا ، علامہ تاجو رؔ نجیب آبادی ،سید عابد علی عابد ؔ اور عبد المجید سالکؔ جیسے ادیب بقید حیات تھے۔ ان کی مصاحبت اور پھر 1947 ؁ء کے بعد آزادؔ کا دہلی اور جموں میں قیام اور ہر طرح کی علمی سرگرمیوں میں بھر پور حصّہ انکی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں معاون ثابت ہوا۔ ’’نسیم حجاز ‘‘ کے مضامین آزادؔ کی شاعری کے انسانی ، اخلاقی اور عربی رنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ حمد و نعمت ، دعا، ولادت، باسعادت ِمیلاد النبی ؐ، سلام ،دہلی کی جامع مسجد ، بھارت کے مسلمان ، قرطبہ سے ویلنشیا تک ، مرثیہ ، بابری مسجد اور اقبال جیسے عنوانات مقرر کرکے جگن ناتھ آزادؔ بحیثیت ایک غیر مسلم کے ان شاندار خدمات اور تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے جو ملّت اسلامیہ کے جلیل المرتبت اشخاص نے اور مسلمانان ِہندنے تاریخ کا شاندار تسلسل قائم رکھنے کے لئے دنیا کے سامنے پیش کی ہیں ۔ آزادؔ نے اپنی ایک طویل نظم ’’جمہور نامہ‘‘ میں ولادت باسعادت کا ذکر کرتے ہوئے یقینا نعت نگاری کا حق ادا کیا ہے ۔ چند اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں تاکہ قارئیں اس امر کا انداز ہ لگا سکیں کہ ایک غیر متعصب اور پاکیزہ سرشت انسان کن حسین الفاظ کا استعمال کرکے پیغمبر اکرم ؐ کا ذکر خیر کرتا ہے ۔    ؎
پلادے معرفت کی جس قدر بھی ہے مئے باقی
کہ میرے لب پہ ذکرِ فخرِ موجودات ہے ساقی
جہان ِ شاعری میں آج رہ جائے بھرم میرا
سخن سنجوں کی صف میں ہو نہ شرمندہ قلم میرا
مجھے اک محسنِ انسانیت ؐ کا ذکر کرنا ہے
مجھے رنگِ عقیدت فکر کے سانچے میں بھر نا ہے
بتانا ہے کہ جب انسان سچیّ راہ بھولا تھا
یہ جب نازاں تھا کج بینی پہ گمراہی پہ پھولاتھا
تو کیوں کر غیب سے انسانیت کا رہنما آیا
شفاعت کا لئے ساماں بشر کا آسرا آیا
چنانچہ منظوم اور تاریخی انداز میں آزادؔ نے سرزمین عرب کی وہ غمناک صورت سامنے لائی ہے جو حضورؐ کی بعثت سے پہلے اور پھر انکی حیات ِ طیبہ میں نمایاں تھی ۔ آپ ؐ کی تشریف آوری نے کیسا صالح انقلاب برپا کردیا ، رنگ ونسل کی تفریق کیسے مٹادی ، انسانی اخوت کے عالمگیر نظریے کو عملاً کیسے اپنا یا اور عدل و رحمدلی کا لافانی درس نسل انسانی کے لئے کس کس انداز میں پیش کیا، آزادؔ صاحب نے بڑے موثر پیرایہ بیان میں نہایت عاجزی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔
وہ آیا فقر فخری رتبہ ہے جسکی قناعت کا
وہ آیا جو معلّم ہے جہاں میںدینِ فطرت کا
وہ آیا جس کو کہیے فخرِ آدم ہادیِ اکرم
وہ آیا جس کو کہیے زندگی کا محسن ِ اعظم
سراپا علم بن کر صاحب ِ امّ الکتاب آیا
زمین تشنہ لب کی زندگی بن کر سحاب آیا
آقائے کونین ؐ کے حضور مین اُردو کے کئی شعراء نے نعت وسلام کی نہایت ہی اعلیٰ عقیدتی و توصیفی نظمیں تحریر کی ہیں۔ آزادؔ بھی ظفر علی خان ، ماہرالقادری ، کوثرنیازی ، ابوالمجاہد زاہد ، اور محسن کاکوروی کے اسلوب میں اپنا ہدیہ سلام نذر کرتے ہوئے یوں رطبُ اللسان ہیں۔
 سلام اے آسمانِ قدس کے مہرِ جہاں آراء
سلام اے کیف و رنگ ِ نَوبہار اے گلستاں آرا
سلام اے بیکسوں کو ارجمندی بخشنے والے
سلام اے پست حالوں کو بلندی بخشنے والے
سلام اے دیوِ باطل کی کلائی موڑنے والے
سلام اے آدمی کا حق سے رشتہ جوڑنے والے
متذکرہ اشعار کی فکری اور فنّی خوبیوں سے محظوظ ہو کر معروف اسلامی اسکالر اور محقّق ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے جگن ناتھ آزادؔ کی پوری نعتیہ نظم کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیاہے۔
جگن ناتھ آزادؔ کے تقریباً ایک درجن شعری مجموعے راقم الحروف نے بارہا پڑھے ہیں اور ہر بار انکی  پاکیزگی فکر کا اندازہ اور علامہ اقبال سے فرطِ عقیدت کا احساس ہوتا ہے۔ ’’وطن میں اجنبی ‘‘ سے لیکر ’’نسمِ حِجاز ‘‘ تک ہر مقام پر آزادؔ اعلیٰ انسانی اقتدار اور عالمی میراث کی مشترکہ قدروں کے ترجمان نظر آئے ہیں۔ قرطبہ ، مرسیہ ، غرناطہ ، اجمیراوردہلی میں آزاد ؔکو شاندار اسلامی تاریخ و تہذیب کے انمٹ نقوش نظر آئے ہیں۔ وہ دہلی کی مسجد جامع کو عالم فانی میںایک نقش دوامی خیال کرتے ہیں۔ انہیں اس عظیم سلطنت کے ذرّے ذرّے میں روح ِاسلامی اور عظمت ِ انسانی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
اے جذب ِ طہارت کی امیں مسجد جامع
روشن دل و تابندہ جبیں مسجدِ جامع
اے جلوائہ انوار ِ یقیں مسجد جامع
اے خاتم ِ دہلی کی نگیں مسجد ِ جامع
ہے آج بھی تسکینِ نظر تیرا نظارا
تو آج بھی ہے روح کی دنیا کا سہارا
اُردو شعر و ادب کی دنیا آئے دن سونی سونی سی نظر آرہی ہے اور آزاد ؔجیسے نکتہ رس، سخن سبخ ، کشادہ ذہن اور شعر اقبال کے باکمال ترجمان ڈھونڈے سے بھی نہیں مل پائیں گے ۔ میں نے بارہا گاندھی نگر جموں میں آزادؔ کو فکر وفن کی دنیا میں غرق اپنی لائبریری تو لگائے دیکھا ہے اور بعد میں اپنی وصیت کے مطابق کتابوں کی ایک بڑی تعداد علامہ اقبال لائبریری کشمیر یونیورسٹی کو تحفتاً مرحمت فرمائی۔ کہاں گئے ایسے آزادؔ منش اور سادھومزاج لوگ؟
رابطہ
اقبال انسٹچوٹ کشمیر یونیورسٹی
خطرناک اور تیزبارشوں سے پھل والے درختوں کو بھی نقصان پہنچا اور بھوکے لوگوں نے سیب اور ناشپاتی کے شگوفے اور توت کے کچے پھل کھائے۔ اُسی پر بس نہیں ہوا۔ اُس کے بعد انہوں نے جھاڑیوں، دلدلوں اور درختوں کی جڑوں سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانا شروع کی جس سے طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوکر وہ مرنے لگے۔ کتنا دلدوز منظر رہا ہوگا جب بے گور و کفن لاشیں کونوں، کھدروں، جو ہڑوں اور کنوئوں میں پڑی سڑتی رہیں اور آوارہ کتوں کی خوب خوب ضیامت کا سامان مہیا ہوتا رہا۔ شہروں میں شال باف حد سے زیادہ اس وبا کا شکار ہوئے اور یہاں یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اہل ہنود فاقوں کے کم ہی شکار ہوگئے تھے۔‘‘ ویلیؔ از ڈبلیو ایچ لارنس)
آج سے بتیس چونتیس سال قبل پروفیسر نیپالؔ سنگھ سابق سیکریٹری، مسٹر جے مزیراؔ سابق اکیڈمک آفیسر اور مسٹرکے شرماؔ سابق چیف اکائوٹنٹ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن بھوپالؔ مدھیہؔ پردیش کے ساتھ میری ملاقات گلمرگ میں ہوئی۔ جب ذرا بے تکلفی ہوئی تو مذکورہ پروفیسر صاحب نے بڑے بے تکلفانہ انداز میں ایک چبھتا ہوا سال جھاڑدیا، کہ کشمیریوں کو جھوٹا، دروغ گو سجھا جاتا رہا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے اور اس بارے میں میری کیا رائے ہے۔ آئیں بائیں شائیں کے بغیر میں نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ ایسا سو فی صد دُرست ہے۔ یہ دو ٹوک، برجستہ اور خلاف توقع جواب سُن کر موصوف حیران رہ گیا اور میری طرف غور سے دیکھنے لگاکہ کہیں میں مذاق تو نہیں کر رہا ہوں اور پھر میں نے اپنے جواب کی تو ضیح کی۔ میں نے لارنس کی کتاب ویلیؔ (جس کا تذکرہ آگے ہی کرچکا ہوں) سے ایک حوالہ دیا جس میں مورخ یوں رقم طراز ہے:۔
’’ایک کشمیری کو ضصیف الاعتقادی نے ڈرپوک جبرو استبدار نے جھوٹا، دروغ گوجبکہ آفاتِ سماوی نے خود غرض اور شقی القلب بنادیا ہے۔‘‘
دوسری ایک اور جگہ فرماتے ہیں:۔
’’کشمیری وہی کچھ ہے جو اُسے اُس کے حکمرانوں نے بنادیا ہے۔‘‘
یقینا ساری بات، ساری تاریخ، سارے مفروضات اور سارے اعتراضات و الزامات کی تفسیر اسی ایک جملے میں ہے۔ یہ فقط ایک جملہ ہی نہیں ایک پوری ایک داستان ہے۔ ایک پوری تاریخ ہے۔ عزبت وبے چارگی کی، افلاس و درماندگی کی، ظلم و استحصال کی، ٹیس اور رستے ناسوروں کی، آہ و بکا اور آنسوئوں کی، کسک و کراہ کی، کرب و بلا کی اور اُس کشمیری مسلمان کی جو اِس زمانے میں بھی لالٹین اور شمع جلا کر اپنے بچوں کے اُترے چہرے دیکھتا ہے کہ وہ ہوم ورک کرنے کی سراسیمگی میں ہیں جب کہ چاند پرجانے کیلئے ٹکٹوں کی بکنگ شروع ہونے والی ہے۔
مندرجہ بالا سطور سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت جس کی بھی رہی ہو مگر ہر دور میں یہی کشمیری مسلمان دستِ تطاول کا شکار رہا ہے۔ اُس کے برعکس کشمیر پر مہابھارت کے زمانے سے ہندئوں کی حکومت رہی، بڈشاہ کے دور حکومت میں انہوں نے فارسی پڑھی تو نہ صرف حکومت کے کارکن کہلائے بلکہ اُمرا ٔاور وزرأبھی ہوگئے۔ سکھوں کے دور حکومت میں اُن کی بہت بہتر پوزیشن تھی اور حکومت میں رسائی تھی اور ڈوگرہ دور حکومت کے ایک سو سال میں ڈوگرہ برائے نام حکومت کرتے تھے جبکہ اصلی حکمران کشمیری پنڈت ہی تھے۔ سرکاری عہدوں کے علاوہ اُن کے پاس زمینیں اور جاگیریں تھیں۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک خط پڑھوانے کا معاوضہ ایک کشمیری پنڈت مسلمان سے ایک دن کی مزدوری لیتا تھا اور خط لکھوانے کی صورت میں خط پوسٹ بکس میں مسلمان ہی ڈالتا تھا مگر وہ خط کس کے نام ہوتا تھا یہ معلوم نہیں اور لکھوانے والے پر کمال امروہی والا معاملہ ہی پیش آتا تھا کہ      ؎
برسوں جواب یار کا
دیکھا کئے ہم راستہ
بات کو یوں بھی ایک چھوٹی سی مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے کہ جب 1877ء کے قحط عظیم میں چھ لاکھ مسلمان لقمہ اجل بن گئے (بلکہ اجل کے بعد لقمہ سگ بھی بن گئے) تو دو سال کے بعد مہاراجہ رنبیر سنگھ نے عظیم جانی نقصان کے بارے میں کم و بیش سُناتو اُسے صدمہ ہوا ورنہ اُسے قحط سالی سے ہوئے اموات کے بارے میں کانوں میں بھنک تک پڑنے نہیں دی گئی تھی، علی الرغم اُسے بتایا گیا تھا کہ بھوک سے رعایا میں کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا۔
جاری ہے
رابطہ :- پوسٹ باکس نمبر :691
جی پی او سرینگر -190001، کشمیر
موبائل نمبر: 9419475995

بہ شکرءیہ کشمیر عظمی