Search This Blog
Showing posts with label FEATURE. Show all posts
Showing posts with label FEATURE. Show all posts
Friday, 10 August 2012
Monday, 16 July 2012
برما کے مسلمانوں کا قتل عام اوراُمت ِ مسلمہ کی خاموشی !
برما کے مسلمانوں کا قتل عام اوراُمت ِ مسلمہ کی خاموشی !
-ماہ ِ شعبان کی۲۲ تاریخ ۴۹۲ہجری کوجب عیسائی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے حیوانیت کی حد کرتے ہوئے شہر میں ایک مسلمان کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ حتیٰ کہ عورتوں ، ضیعف مردوںاور دودھ پیتے بچوں تک کو ذبح کردیا۔ بیت المقدس پر قبضے کے دوران عیسائیوں نے ظلم اور سفاکی کی وہ نظیرقائم کی کہ تفصیلات سُن کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ درد مندی کے، رحم کے جذبات کشت خون میں مخل نہیں ہوتے مارتے ہیں جوبے قصوروں کواُن کے سینوں میں دل نہیں ہوتے (انور شعور) یہ مسلمانوں کی نسل کشی کا وہ دور تھا ، جب دوسوسال تک مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا جاتا رہا۔ ہرطرف سے مسلمانوں پر حملے ، لوٹ مارجاری تھی، قتل وغارت کا وہ بازار گرم تھا کہ جس کی مثال تاریخ ِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ یہی حال آج اُمت مسلمہ کا ہے۔ سارے کا سارا کفر اکٹھا ، ایک دوسرے کا حمائیتی اور یکجاہو چُکا ہے۔ مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کا قتل ِ عام ہورہا ہے۔ لیکن بکھری ہوئی اُمت کے حکمران، راہنما، میڈیا کفر کے ہاتھوں اس قدربے بس اور مجبور ہوچکے ہیں کہ ہرطرف خاموشی اور بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ِ ہے کہ جوشخص کسی ناجائز امرکوہوتے ہوئے دیکھے اگر اس پر قدرت ہوکہ اس کو ہاتھ سے بند کردے تو اس کو بند کردے۔ اگراتنی قدرت نہیںزبان سے اس پر انکار کردے، اگر اتنی بھی قدرت نہ ہوتو دل سے اس کو بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا بہت ہی کم درجہ ہے۔ برما کے مسلمانوں پر جوقیامت برپا ہے اس دُکھ ، مصیبت کی گھڑی میں ترقی پسند اور نام نہاد امن پسند غیر مسلم طاقتوں کی اپنے ایجنڈے کی تکمیل پر خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن پوری دُنیا میں اسلامی ریاستوں کے سربراہوں سے لے کر مذہبی اورسیاسی راہنما تک اس انسانیت سوزواقع پر خاموش اورشرم ناک رویہ اختیارکئے ہوئے ہیں۔ برما میں ہزاروں عورتوں،بوڑھوں، بچوں کے قتل ِ عام سے دیہات کے دیہات لاشوں اور خون سے بھرے ہیں، ندی نالوں،سڑکوں، جنگلوں میں برما کے مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔اس درندگی میں مسلمانوں کے شہر، بستیاں اور دیہات جلا کر خاکستر اورصفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں۔اس ظلم اور بربریت کے خلاف مناسب طریقے سے احتجاج تودور کی بات ہے،مناسب الفاظ میں ان مظالم کی مذمت تک نہیں کی جارہی۔خاص کربے مقصد چیخنے چلانے اور بریکنگ نیوزکے لئے ہر وقت مضطرب ،بے چین آزاد میڈیا نے برماکے مسلمانوں کے ساتھ دل دہلا دینے والے مظام پر دانستہ ،مصلحتاً خاموشی اور بے حسی کی انتہا کردی ہے۔ آج تمام اقوام غیر آپس کے اختلافات بھلاکر اسلام کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور تمام غیرمسلم بھوکے بھیڑیوں کی طرح ہم مسلمانوں پر جھپٹ رہے ہیں۔غیر مسلم طاقتیںایک طرف تمام مسلم ممالک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہی ہیںتو دوسری جانب انہیں وسائل کواُمت مسلمہ کے چھوٹے اور معصوم بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل ِ عام کرنے سمیت اُمت مسلمہ کے درمیان مزید اختلافات اور پھوٹ ڈالنے کی حکمت عملی پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں۔ ہم ہیں کہ خود فریبی میںمبتلا ہوکر دُنیا وآخرت سے بے فکر ، جھوٹ ، مکروفریب اوردھوکا دہی میں لگے ہیں۔ آج دُنیا کی محبت اور چاہ نے ہمیں ایسے مواقع پراپنے اسلاف کا کردار، شاندار ماضی اور آخرت سب کچھ بھلادیا ہے۔ بقول حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ہر کوئی مست ہے ذوقِ تن ِ آسانی ہے ۔ تم مسلمان ہو ؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے ؟ حیدری ؓ فقر ہے نے دولت ِ عثمانی ؓ ہے تم کو اسلاف سے کیا نسبت ِ روحانی ہے؟ وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور تم خوار ہوئے تار ک ِ قرآن ہو کر حکامات الٰہی سے غفلت، لالچ اور حب ِ دنیا کی اسی روش نے ہمیں کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ غیرمسلم اسلام کی مخالفت میں سخت اور دلیر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بجائے ایک امت کے ذاتی اغراض کا شکار ہو کر مختلف فرقوںمیں بٹ گئے اور پورے عالم میں صرف مسلم ممالک ہی انتشار، بدامنی، خانہ جنگی اور غیر مسلموں کے عتاب کا شکار ہیں۔آج اُمت مسلمہ نے اپنے رب کی بجائے نیٹو،امریکا اور ڈالرپر بھروسہ کرلیا، اپنے رب کو بھلادیا اور رب نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ رجمہ-:اگر اللہ تمھاری مدد کرے گا تو تم پر کوئی غالب نہ ہوسکے گا اور اگر اس نے مدد چھوڑ دی تو پھر ایسا کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مددکر سکے اور مومنین کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (سورۃ آل ِ عمران 160) دنیائے اسلام کے تمام مسلمانوں کو جسم واحد سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کہ جیسے جسم کے کسی حصہ میں تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر دُنیاکے کسی حصہ میں کسی کومسلمان کوکو ئی تکلیف پہنچے تو ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے لیے بے چین ہوجانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ہرکوئی اپنی کردارکا بخوبی اندازہ لگا سکتاہے۔ ہم تو وہ بدنصیب قوم ہیں جن کے حکمران ، غیروں کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔ جو اپنے ہی ہمسائے اور بھائی کے مارے جانے میں ہرممکن مدد اور تعاون کر رہے ہیں۔ آج پوری اُمت مسلمہ میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی جیسانہیں،جو اللہ سے ڈرنے والا ، قانون ، انصاف کا پابند اورصاحب کردارہو جو مسلمانوں کا کھویا ہوا وقار دوبارہ واپس دلا سکے اورجوپوری دُنیامیں پھیلے مسلمانوںکی نمائندگی کرتے ہوئے ،برما سمیت دنیا بھرمیں ہزاروں بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل ِ عام کے خلاف آواز اُٹھا سکے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔کہ جو شخص ایسے وقت میںمسلمان کی مدد نہ کرے کہ اُس کی آبروریزی ہو رہی ہوتو اللہ جل شانہ،اس کی مدد سے ایسے وقت میں اعراض فرماتے ہیںجبکہ وہ مدد کا محتاج ہو۔ اے رب العزت ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمارے ملک سمیت پُورے عالمِ اسلام میںامن و سکون عطاء فرما (آمین ثم آمین یارب العالمین)۔ nn
|
امانت اوردیانت Amanat aur Dayanat
امانت اوردیانت
سجاد حیدر
-اللہ کے ایک بندے نے 1928ء میں ایک تنظیم کی بنیادرکھی۔ اس تنظیم کا مقصد واحدانسانوں کو انسانوں کی محکومیت سے نکال کر اللہ کی عبدیت میں لاناتھا۔ یہ وہ دور تھا جب عالم اسلام کے ساتھ ساتھ مصربھی برطانوی اوردیگر مغربی قوتوں کی محکومی تلے کراہ رہاتھا۔ حسن البناء شہیدنے انفرادی تربیت کو اجتماعی قوت میں ڈھال کر عالم اسلام کو پیغام عمل سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ مغربی استعماراوراس کے مقامی آلہ کاروں نے اس پیغام عمل کو دبانے کے لیے ظلم وشقاوت کی انتہاکردی۔ ایک جانب عالمی اور ریاستی قوتوں کاجبرتشدد اور دوسری جانب حسن البناء شہیدکے تربیت یافتہ اخوان کے صبروبرداشت نے جدوجہد کی ایک نئی مثال رقم کردی۔ لیکن یہ تحریک قوت ایمان کی جس شان سے ابھری تھی ‘ ریاستی جبروتشددنے اس کو مزاحمت کی بجائے مدافعت کی ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں اسلام کی اجتماعیت پھرانفرادی تربیت تک محدودہوکررہ گئی ۔ اس انفرادی تربیت تک ہی محدود ہونے کے باعث اخوان المسلمین ایک تحریک کے طورپراپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ یہی وجودبدکردار حکمران طبقے کے مقابل خدمت وایثار سے بھرپورمتبادل کرداربھی پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ اخوان المسلمین اسی کردارکے بل پر ریاستی جبروتشدد اور شیطانی ہتھکنڈوں اورتمام ترسرکاری شرائط کو قبول کرتے ہوئے انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہی۔ ایسے انتخابات جہاں اخوان المسلمین کے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے دیواروں پر سیڑھیاں لگاکرپولنگ اسٹیشنوںکے اندرکودنا پڑتا کہ ان کے ووٹوں کو صندوقچی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کے دروازوں پرفوج اورپولیس کے ناکے لگے ہوتے تھے‘ اس حدتک صبروبرداشت کی وجہ صرف اور صرف وہ ملکی اورعالمی حالات تھے جن کو ابدی حقیقت سمجھ کر ان سے سمجھوتا کرلیا گیاتھا۔ صرف اسی حدتک آگے بڑھنے اور کچھ حاصل کرنے کو ہی اپنی قربانیوں اور جدوجہدکا حاصل سمجھ لیاگیا تھا جس حدتک مصری حکومت آگے بڑھنے کی اجازت دینے کوتیار تھی۔ لیکن پھرتیونس میں بھڑک اٹھنے والی عوامی بغاوت کی آگ نے دیگرعرب ممالک کے ساتھ ساتھ مصرکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ التحریرمیدان میں عوام اورحسنی مبارک کی فوج کے درمیان معرکہ تاریخ رقم ہونے لگی۔ بالآخرہزاروں مصری مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے صلے میں تیس سال سے مسلط حسنی مبارک نام کی لعنت سے مصرکو نجات دلادی۔ جبکہ مصری عوام میں دوردورتک جڑیں رکھنے والی اخوان المسلمین نے حسنی مبارک کی یقینی رخصتی تک اس تحریک سے لاتعلقی کا رویہ اپنائے رکھا۔ عام مصریوں اوراخوان المسلمین کے کارکنوں اور حمایتیوںکے برعکس اخوان قیادت نے دہائیوں پر مبنی مصلحت آمیزپالیسی کے تحت خودکو اس تحریک کا حصہ بننے سے روکے رکھا۔ اس مصلحت آمیزپالیسی کے تحت ہی (فوجی حکمرانوں کے خوف اور خدشات کو دورکرنے کے لیے) اخوان نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں آدھی سے کم نشستوں پرالیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد صدارتی انتخابات کے حوالے سے اخوان المسلمین نے اپنا امیدوارکی یقینی کامیابی کا خوف ختم کرناتھا۔ اخوان قیادت کو خوف تھا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت اورصدارتی عہدے پر اخوان کی موجودگی کو روکنے کے لیے حکمران ٹولہ کسی بھی انتہاتک جاسکتاہے۔ بعد میں جب عوامی مزاحمت نے فوج کو پے درپے پسپاہونے پرمجبورکیا تو اس عوامی مزاحمت کے بھروسے اوراعتمادپر نہ صرف پارلیمنٹ کے انتخاب میں پورے جوش وخروش سے حصہ لیا گیا بلکہ ان انتخابات میں ریکارڈ کامیابی سے نموپانے والے جذبوں کے بل پر صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیاگیا۔ اخوان المسلمین کی قیادت کے تمام تراندیشوں اورمصلحتوں کے باوجود جس طرح مصری عوام نے اخوان امیدوارمحمدمرسی کو اپنے اعتمادسے نواز کر صدارتی عہدے پرفائزکیا ہے اس کے بعد اصولاً مصری عوام کی تحریک آزادی کو حتمی منزل تک پہنچ جاناچاہیے۔ ڈیڑھ سال سے زائد جاری تحریک آزادی میں ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے بعد ووٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی صدارت اب اخوان المسلمین کے پاس ایسی امانت ہے جس کو دیانت سے مصری عوام تک پہنچانے کی راہ میں کسی مصلحت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اخوان المسلمین نے جن خدشات اور مصلحتوں کی آڑ میں مصرکے صدارتی منصب پربیٹھنے کا سفرطے کیاہے ان مصلحتوں کی فہرست نہ صرف انتہائی طویل بلکہ انتہائی قریب کی بھی ہے۔ عین صدارتی انتخاب سے چند دن قبل اخوان کی اکثریت کی حامل پارلیمنٹ کو بیک جنبش قلم برخاست اورصدارتی اختیارات کو عوام کے منتخب صدرکی بجائے فوجی کونسل کو منتقل کردیاگیا۔ اخوان قیادت نے عوامی قوت کی ناقابل تردید مظہرہونے کے باوجود عوامی حق پر اس دن دہاڑے ڈاکے پراحتجاج کی بجائے مطالبات اوردرخواستوں کی راہ اپنائی۔ اخوان کے اس مصلحت آمیزرویوں کے بعد نظر تو یہی آتاہے کہ پارلیمانی اورصدارتی انتخابات میں بے پناہ عوامی حمایت کے باوجود اب ایک جانب امریکی‘ اسرائیلی‘ یورپی اوران کے کاسہ لیس عرب حکمرانوں کے مفادات کی نگران ومحافظ مصری فوج ہے اور دوسری جانب تنہاکسی بھی اختیارسے محروم نومنتخب صدر محمدمرسی ‘ تنہا اس لیے کہ جن مصری عوام نے قربانیوں کی بدولت اس تنہا فردکو دنیا بھرکی شیطانی قوتوں کے مقابل کھڑا کیاہے اس فرد اور اس کی جماعت کے شعور میں ابھی تک عوامی قوت کا وہ یقین واعتماد جاگزین نہیں ہوا جس عوامی قوت کے یقین نے 32 برس قبل مصرسے بھی بدترشکنجے میں جکڑے ہوئے ایران کو آزادی وخودمختاری کی راہ پرگامزن کردیاتھا۔ مصرکے صدارتی عہدے پرمحمدمرسی نامی سادہ رو اور سادہ مزاج فردکی موجودگی ایک ایسا ناقابل یقین واقعہ ہے جس کا پانچ دس سال تو کیا پانچ دس ماہ قبل تصوربھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔ یہ انہونی اپنے طورپرمصرتک محدودرہنے کی بجائے تمام ترعالم عرب اورعالم اسلام میں انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ضرورت ہے تو صرف اس یقین واعتماد کی جس کی ایک زندہ وتابندہ مثال ایران کی صورت میں پہلے سے موجود ہے۔ اگراس یقین واعتماد کی بجائے خوف وخدشات کا رویہ اپنایاجاتا رہا تو اس کا انجام عالم اسلام میں ایک اورمایوسی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ایسی مایوسی جس کی توقع پر اخوان المسلمین کی قیادت کو صدارت کے منصب پر براجمان ہونے کی اجازت دی گئی۔ التحریرمیدان میں آزادی کے بھڑکے ہوئے جن شعلوں نے حسنی مبارک کا تخت راکھ کردیا تھا وہ شعلے حسنی مبارک کے ساتھ ساتھ اس نظام کو بھی راکھ کرسکتے تھے جس کی کوکھ سے حسنی مبارک جیسی لعنتیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ فیصلہ اب اخوان قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دہائیوں پر مبنی مصلحتوں اورخدشات کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے گلے سڑے اور متعفن نظام سے سمجھوتے کی راہ اپناتے ہیں یاحسن البناء شہیداورسید قطب شہیدکی ایمانی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے مصری عوام کے ووٹوںکی امانت کو دیانت کے ساتھ لوٹانے کا حق اداکرتے ہیں۔ nn
|
Friday, 13 July 2012
زبانِ یار مَن ترکی…؟ Zabane yaare maan turki
زبانِ یار مَن ترکی…؟
- شعیب احمد ہاشمی
میں نے اپنے بچپن میں اباجی سے خلافتِ عثمانیہ کا اکثر تذکرہ سنا تھا۔ وہ میرے ماموں کو بتایا کرتے تھے کہ ’’خلافت ختم نہ ہوتی تو مسلمانوں کا یہ حال نہ ہوتا‘‘ ۔’’تحریک خلافت میں برصغیر کے مسلمانوں نے جو جوش و جذبہ دکھایا تھا وہ بہت دیدنی تھا‘‘۔ ’’گاندھی جی کو بھی مجبوراً خلافت بچائو مہم کا حصہ بننا پڑا۔‘‘ ’’مسلمان عورتیں اپنے زیور تک اتار اتار کر خلافت بچائو مہم پر نچھاور کیا کرتی تھیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے درجنوں جملے میں نے اتنی بار سنے تھے کہ وہ میرے کمزور حافظے کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ خلافتِ عثمانیہ کس بلا کا نام ہے، اسے بچانے کی کیا ضرورت تھی، میرا بچپن ان سوالات کا متحمل نہ تھا، مگر جب چھٹی ساتویں کی معاشرتی علوم میں اتاترک کا تذکرہ پڑھا تو یادداشتوں کے تصویری البم میں ایک ایسے شخص کا اضافہ ہوا جو جدید ترکی کا معمار ہے اور ترکی کو ترقی کی منزلوںسے روشناس کرانے والا باکمال لیڈر ہے۔ وقت کچھ اور آگے بڑھا، تاریخ کے مطالعہ کا جونہی ذوق پیدا ہوا تو یہ تصویر بھی دھندلانے لگی۔ معلوم ہوا کہ کمال اتاترک تو اسلامی اقدار و روایات سے منہ موڑ کر مغربی سیکولرازم اور بے راہ روی کو فروغ دینے والا باغی انسان تھا، ایک ایسا لیڈر جو عربی رسم الخط، عربی اذان، عربی نماز اور عربی قرآن تک پر پابندی لگا چکا تھا۔ کیا جدید ترکی حضرت ایوب انصاریؓ، محمد فاتح اور مولانا رومی کے ترکی سے اپنے آپ کوآزاد کرپائے گا؟ یہ سوال اکثر میرے ذہن میں کلبلاتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ میں یونیورسٹی میں آن پہنچا۔ پھر اچانک پاکستان کے حالات نے اتنے ہچکولے کھانے شروع کئے کہ مسلم امہ اور مسلمان ملکوں کے بارے میں پڑھنا اور سوچنا تو درکنار، خود اپنے وطن کی شکل پہچاننا بھی مشکل ہونے لگا۔ وقت اور تاریخ کو کون لگام دے سکتا ہے! میں پنجاب یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو مزید تعلیم کے شوق نے امریکہ کے سفر پر آمادہ کردیا۔ اسی دوران ایران سے اچھی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ ایرانی قوم نے اپنی عظیم جدوجہد سے امریکی استعمار اور رضا شاہ کی غلامی سے آزادی حاصل کرلی تھی۔ ذلتوں اور غلامیوں میں جکڑی ہوئی مسلم امہ کے لئے یہ ایک بڑی جانفزاء خبر تھی۔ کچھ ہی مدت بعد یہ خبر بھی مل گئی کہ خالصتاً جمہوری عمل کے ذریعے ترکی کی سعادت پارٹی نے ترکی میں حکومت حاصل کرلی ہے اور مسلم روایات و اقدار کے احیاء کا دور شروع ہوگیا ہے۔ ترکی کی کچھ خواتین ارکان پارلیمنٹ نے سر پر اسکارف بھی اوڑھنا شروع کردیا ہے۔ ایسے لگا جیسے تاریخ کے صحرا کے آر پار چلچلاتی دھوپ میں سفر کرنے والے مسافر کو کسی نے روح افزاء کا جام پیش کردیا ہو۔ اچانک خبر ملی ترک فوج نے جو خود کو ترک سیکولر دستور کی محافظ سمجھتی ہے، حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے، اور پھر تیز لُو کا ایک اور تھپیڑا آیا، اسکارف اوڑھنے کے جرم میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کو نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ ترکی کی شہریت سے بھی محروم کرکے اسے جلا وطن کردیا گیا۔ پارلیمنٹ توڑ دی گئی اور فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ترک عوام داد کے مستحق ہیں، انہوں نے ہڑتالیں کیں نہ آگ لگائی، شیشے توڑے نہ سڑکیں بلاک کیں۔ سوچ سمجھ کر طے کیا کہ وہ پرامن جمہوری راستے ہی کو اختیار کریں گے۔ انہوں نے خاموشی سے بلدیاتی اداروں میں چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ انسانی خدمت اور گڈ گورننس کو اپنا مقصد بنایا۔ استعمار سے فوری ٹکر لینے کے بجائے ترکی کے حالات کو سنبھالنے کی فکر کی، اور پھر سچ مچ کمال کردکھایا۔ طیب ایردوان اور عبداللہ گل کی شکل میں ترکی اور مسلم امہ کے لئے امید کے دو نئے چراغ روشن ہوگئے۔ ترکی کے ماضی کی یہی یادیں لئے جب میں پہلی بار27 اپریل کو استنبول ائیرپورٹ پر اترا تو آپ میری اندرونی کیفیات کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں اور الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے نائب صدر ڈاکٹر اقبال خلیلIFRDکی سینٹر ل ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے ایک باوقار ہوٹل گرینڈ جواہر کی طرف رواں دواں تھے۔ ہمارے میزبان یونس صاحب دورانِ سفر استنبول سے ہمیں روشناس کراتے چلے جارہے تھے: ’’یہ جس آبنائے کے ساتھ ساتھ ہم گزر رہے ہیں یہ گولڈن ہارن کہلاتی ہے‘‘، ’’اس آبنائے پر جو پل آپ کو نظر آرہا ہے یہ ایشیاء کو یورپ سے ملاتا ہے۔ ابھی ہم ایشیاء میں ہیں اور چند ہی لمحوں بعد یورپ میں ہوں گے‘‘۔ ’’اُس پار جو وہ مینار اور گنبد آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسجد سلیمانیہ(Blue Mosque) ہے۔ ہم ان شاء اللہ کل اُسے دیکھنے جائیں گے‘‘۔ ’’وہ جو اس پل کے پار دوسرا پل ہے ناں، اس کے بالکل پہلو میں حضرت ایوب انصاریؓ کا مزار ہے‘‘۔ جس طرح ہجرت کے موقع پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حضرت ایوب انصاریؓ کو ملا اسی طرح ترکوں کو حضرت ایوب انصاریؓ کی استنبول آمد پر میزبانی کا شرف حاصل ہوا، اور جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا اسی طرح حضرت ایوب انصاریؓ نے ترکی کو اپنا مستقل ٹھکانہ قرار دے لیا۔ ترکی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وفا شعار ساتھی کی میزبانی پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ میزبان یونس صاحب ہمیں استنبول کی سنہری تاریخ سے روشناس کروا رہے تھے اور ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں۔ جلد ہی ہم گرینڈ جواہر ہوٹل پہنچ گئے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (I.F.R.D) جس کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ہم استنبول آئے تھے، مسلمان رفاہی تنظیموں کی ایک چھتری ہے۔ اس تنظیم میں پاکستان سمیت 11 تنظیمیں شامل ہیں۔I.F.R.D حال ہی میں اس خیال کے تحت وجود میں آئی ہے کہ قدرتی آفات یا انسانوں کے ہاتھوں آنے والی تباہیوں میں مؤثر رابطوں اور وسائل کی یک جائی سے دنیا بھر کے آفت زدوں کی بہتر خدمت کی جاسکے۔ تنظیم کا ہیڈ کوارٹر کوالالمپور (ملائیشیا) میں ہے اور اس کے اجلاس جگہ بدل بدل کر مختلف ملکوں میں ہوتے ہیں۔ اس بار میزبانی کا شرف ترکی کی تنظیم جانسویو (Cansuyo)کو حاصل ہوا۔ جانسویو ترکی کی ایک بڑی رفاہی تنظیم ہے اور پاکستان میں آنے والے زلزلے، سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں میں الخدمت کے ساتھ مل کر مؤثر کام کرچکی ہے۔ جانسویو کے پاس ترکی بھر میں جفاکش کارکنان کی مؤثر ٹیم اور د فاتر موجود ہیں، اور اس کانفرنس کے لئے ان کارکنان نے رہائش اور پروگرام کے انعقاد کے شاندار انتظامات کررکھے تھے۔ استنبول میں ہماری آمد کا سبب اگرچہ اس کانفرنس میں شرکت تھی، تاہم جدید ترکی کے بارے میں جاننے کا شوق ہمیں چین سے نہ بیٹھنے دے رہا تھا۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا: حضرت ایوب انصاریؓ کے مزار پر جانے کا اچھا وقت کون سا ہے؟ یونس صاحب نے بلا توقف کہا: نماز فجر سے ایک گھنٹہ قبل۔ میں نے کہا: مگر اتنے سویرے ہمارے پہنچنے کا بندوبست کس طرح ہوگا؟ یونس صاحب بولے: صبح ساڑھے تین بجے میں آپ کے کمرے کی گھنٹی بجادوں گا۔ اتنا متحرک اور تعاون کرنے والا میزبان میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ صبح ساڑھے تین بجے شوق نے بیدار کرکے وضو بھی کروادیا، میں اور ڈاکٹر اقبال خلیل اپنے میزبان کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ سڑکیں تقریباً خالی تھیں، اس لئے ہم پندرہ منٹ میں پہنچ گئے۔ مسجد کے قریب پہنچے تو مردوں، خواتین اور اسکول کے بچوں کا ایک جم غفیر مسجد کی طرف رواں دواں نظر آیا، ہمارے اندر داخل ہونے تک مسجد کھچا کھچ بھر چکی تھی۔ انتہائی خوبصورت لہجے میں سورۃ فرقان کی تلاوت ہورہی تھی۔ ترکی کی ساری ہی مساجد فن تعمیر میں اپنا جواب نہیں رکھتیں، اور یہ مسجد بھی وسعت، سکون اور حسن انتظام میں لاجواب تھی۔ ترکوں کی ہر مسجد کے ہال میں اذان کا ایک چبوترہ ہوتا ہے، جس پر سیدنا بلال ؓکا نام جلی حروف میں درج ہوتا ہے۔ ترک موذنِ رسول سیدنا بلالؓ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اس لئے یہ چبوترے حضرت بلال ؓ کے نام سے منسوب ہوتے ہیں۔ اذان، فرض نماز اور دعائوں کے خوبصورت انداز کے بعد تلاوت کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا اور ہم لوگ سیدنا ایوب انصاریؓ کے مزار کی طرف آگے بڑھے۔ خیال آیا دھرتی نے ایسا خوش قسمت انسان اور کہاں دیکھا ہوگا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو ایک جہاں میزبانی کے لئے بے قرار ہورہا تھا، مگر یہ تو صرف سیدنا ایوب انصاریؓ کے نصیب میں لکھا تھا۔آپ میزبانِ رسول ٹھیرے، پھر اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ سنا کہ ’’جو لشکر قسطنطنیہ فتح کرے گا، جنتی ہوگا‘‘ تو اس سعادت کے حصول کے لئے بڑھاپے تک انتظار کیا، آخری عمر میں جب معلوم ہوا کہ قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے لشکر روانہ ہورہا ہے تو بااصرار اس میں شرکت کی اور استنبول (قسطنطنیہ) پہنچ کر اپنی جان مالکِ حقیقی کے سپرد کردی۔ سورج کی کرنیں صحابیٔ رسول کے مزار کو جگمگانے لگیں توہمیں واپسی کا خیال آیا۔ اردگرد بے شمار ریسٹورنٹ ناشتہ کے لئے منتظر زائرین سے بھر چکے تھے۔ ہم اپنے میزبان کے ہمراہ واپس اپنے ہوٹل لوٹ آئے۔ ترکی کی مساجد میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ سروں پر اسکارف اوڑھے جب وہ مسجدوں سے باہر نکلتی ہیں تو عجیب سماں بندھتا ہے۔ میں یہ منظر مسجد سلیمانیہ کے باہر کھڑا آدھے گھنٹے تک دیکھتا رہا اور اس سوچ میں غوطہ زن رہا کہ یہ واقعی وہی ترکی ہے جس میں خواتین کا سر پر اسکارف لینا قابلِ تعزیر جرم تھا! میرے قریب کھڑے ڈاکٹر اقبال خلیل نے کہا ’’ترکی اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے‘‘۔ ’’لیکن اپنے اصل کی طرف لوٹتے ہوئے ترکی کے تیزی سے ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رکے تو نہیں۔ کیا یہ ایک عجیب معما نہیں!‘‘ میں نے کہا۔ ڈاکٹر اقبال خلیل نے میری طرف دیکھا اور کہا ’’ہرگز نہیں۔ یہ محض پراپیگنڈہ ہے۔ دنیا بھر کے سیکولر پرچارکوں نے اس پراپیگنڈے کو ہوا دی ہے کہ اسلامی اقدار و روایات کی طرف لوٹنے کا مطلب ترقی سے منہ موڑنا ہے۔ ترکی کی معیشت اس وقت دنیا کی تیسری تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے۔ ترکی اپنے معاشی، معاشرتی اور سیاسی اثرات یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاء میں پھیلا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترکی اور ترقی اب لازم و ملزوم ہوگئے ہیں۔ ترکی کی گلیاں اور بازار ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کا منظر پیش کرتے ہیں۔‘‘ ہم اپنے ہوٹل گرینڈ جواہر پہنچ چکے تھے۔ سیدھا ناشتے کی میز پر چلے گئے۔ دن بھرI.F.R.Dکی کانفرنس میں گزرا، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین کے ذہن و زبان پر استنبول ہی سوار تھا۔ رات ایک ٹی وی چینل (چینل فور) نے I.F.R.D کے ذمہ داران کو انٹرویو کے لئے اپنے اسٹوڈیو بلایا۔I.F.R.Dکے صدر، نائب صدر اور سیکرٹری کے ہمراہ میں اسٹوڈیو میں موجود تھا۔ لہٰذا I.F.R.Dکی سرگرمیاں اور ترکی کے بارے میں تاثرات موضوع گفتگو رہے۔ کانفرنس کے خاتمے کے اگلے روز میزبانوں نے مندوبین کو استنبول کی سیر کرائی۔ بہت سارے تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد ہم گولڈن ہارن کے کنارے ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے بیٹھ گئے۔ میزبان یونس نے ایک جانب کشتیوں کے پڑائو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’یہ وہ مشہور جگہ ہے جہاں سے فلسطینیوں کی مدد کے لئے فلوٹیلا روانہ ہوا تھا، وہی فلوٹیلا جہاز جس پر بین الاقوامی سمندر میں اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کرکے ترکی کے آٹھ رضاکاروں کو شہید کیا تھا اور دنیا بھر میں رسوائی کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا تھا۔‘‘ اس واقعہ نے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں ایسی خلیج پیدا کردی جس کے خاتمے کا شاید اب کوئی امکان نہیں۔ نماز ظہر کے بعد ہم اپنی میزبان تنظیم جانسویو کے دفتر گئے۔ ہر چہرہ تمتما رہا تھا۔ میزبانوں میں ایک کے سوا کوئی انگلش نہ جانتا تھا اور مہمانوں میں کسی کو بھی ترکی نہ آتی تھی، لیکن سبھی پرجوش اور خوش باش تھے۔ میں نے مترجم کے ذریعے اپنے میزبانوں کو فارسی کی مشہور ضرب المثل سنائی’’زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم‘‘۔ یعنی ’’جس شخص کو میں چاہتا ہوں اس کی زبان ترکی ہے۔ مگر صد افسوس مجھے ترکی زبان نہیں آتی‘‘۔ پھر میں نے کہا کہ میرے ترک بھائیو! یہ تو محض محاورہ ہے، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب آپ بولتے یا آپ کے ہونٹ مسکراتے ہیں تو ہمیں آپ کی ہر بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ سارے میزبان کھلکھلا کے ہنس پڑے۔ اسی شام ترکی کی بیش بہا خوشگوار یادیں ذہن میں سمیٹے ہم واپسی کے لئے اپنے جہاز پر سوار ہوچکے تھے۔ |
اراکانی مسلمانوں کا قتل عام Massacre of Burmese Muslims
اراکانی مسلمانوں کا قتل عام
- ڈاکٹر ساجد خاکوانی
ایک اخباری اطلاع کے مطابق جون 2012ء میں برما کے وسطی علاقہ میں دس مسلمانوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف جب مسلمانوں نے اپنے اکثریتی صوبے میں احتجاج کیا تو برما کی پولیس نے مسلمانوں پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے ہزاروں مظاہرین موقع پر ہی جاں بحق اور بے شمار زخمی ہوئے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ’’ٹونگوپ‘‘ نامی شہر میں3 جون کو مسلمانوں کی بس پر بدھوں نے حملہ کیا جو نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے، اور بعض اطلاعات کے مطابق بدھوں نے پرانا کوئی حساب چکانے کے لیے مذہبی عصبیت کی بنیاد پر بس کے مسافروں کو اس بے دردی سے زدوکوب کیا کہ دس مسلمان شہید ہوگئے۔ ردعمل میں مسلمانوں نے 8 جون کو ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا جس میں بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ سے آنکھ مچولی بھی ہوئی۔ معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے 10جون کو ریاست کے صدر کی طرف سے مسلمانوں کے علاقے شمالی اراکان میں زبردست قسم کی ہنگامی حالت نافذکرکے عسکری اداروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ کسی قسم کی تحقیقات و دستاویزی ثبوت کے بغیر مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کریں۔ عسکری اداروں نے پوری بدمعاشی کے ساتھ مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بولا، خوب پکڑ دھکڑ اور بازاروں میں لوٹ مار کے بعد عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سمیت پوری آبادی کو زدوکوب اور ماردھاڑ کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق ٹرکوں میں مسلمانوں کو بھربھر کر نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا اور اب تک ان کا کوئی پتا نہیں۔ یہ ساری گرفتاریاں اور ماردھاڑ بغیر کسی قانونی کارروائی کے عمل میں آئی اور بعض آزاد ذرائع کی طرف سے ہزاروں افراد کے قتل اور بعض مقامات پر مسلمانوں کے زندہ نذرِآتش کرنے کی خبریں بھی آئیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کسی بین الاقوامی ادارے کے صحافی کو جانے کی اجازت نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ہزاروں مسلمان لاپتا ہیں اور اس تعداد میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ حالات کے مارے لٹے پٹے مسلمانوں نے جب ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیش کی طرف رخ کیا تو وہاں کی ’’سیکولر‘‘ قیادت نے ان ’’انسانوں‘‘کو قبول کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ سیکولرازم صرف ان کو انسان مانتا ہے جو مغربی تہذیب کی گنگاجمنا میں نہائے ہوئے ہوں۔ فرزندانِ توحید، عاشقانِ مصطفی، غلامانِ اہلِ بیت اورداڑھی، ٹوپی، پگڑی اور مقامی لباسوں میں ملبوس لوگ سیکولرازم کے نزدیک انسان نہیں ہیں بلکہ یہ تو ان کے جانوروں کے برابر بھی ’’انسانی حقوق‘‘ نہیں رکھتے۔ پس اب تک وہاں مہاجرین کے خیموں کی لمبی لمبی بستیاں قائم ہوچکی ہیں جنہیں کوئی ریاست قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، صرف اس لیے کہ وہ کلمہ گو ہیں۔ برما کے مسلمانوں پر یہ کوئی نیا شب خون نہیں ہے، یہاں کے مسلمان گزشتہ کئی نسلوں سے اپنی بقا کی سیاسی و نیم عسکری جنگ لڑرہے ہیں۔ 1050ء میں ’’بیاط وائی‘‘ نامی مسلمان سردار کا ذکر ملتا ہے جسے ’’مان‘‘خاندان کے بادشاہ نے اس لیے قتل کردیا تھاکہ وہ قوت جمع کررہا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن… سامراج کے جہاز کرۂ ارض کے سمندروں پر قابض رہیں اور ان کی ظالم افواج باراتوں اور جنازوں پر بمباری کرتی رہیں تو بھی وہ امنِ عالم کے ٹھیکیدار ہیں، جبکہ مسلمان اپنے گھر میں دفاعی جنگ لڑے تو بھی دہشت گرد اور عسکریت پسند ہے۔ برما کے مشہور تاریخی ہیرو بادشاہ ’’کیان سیتھا‘‘ نے اپنے وقت کے مسلمان سردار ’’رحمان خان‘‘ کو سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنیاد پر قتل کرادیا تھا، اور اس مسلمان کے قتل کے لیے اس بادشاہ نے جلاد کو خصوصاً اپنی ذاتی تلوار دی تھی۔ 1652ء میں ہندوستان کے بادشاہ شہنشاہ خرم شاہجہاںکے دوسرے بیٹے شاہ شجاع کو اس کی بدقسمتی برما لے گئی، اس نے وہاں سے نکلنے کے لیے بھاری رقم برما کے بادشاہ ’’سانٹھا سدھاما‘‘ کو پیش کی اور کہاکہ اس رقم کے عوض اسے ایک بحری جہاز دے دیا جائے تاکہ وہ حج پر جاسکے، برما کے لالچی بادشاہ نے آدابِ سفارت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی شہزادے کو قتل کردیا، اس کی دولت پر قبضہ کرلیا اور اس کی عورتوں کو پس زنداں ڈال دیا جہاں وہ بھوک پیاس سے ہلاک ہوگئیں۔ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف جب برما کے مسلمانوں نے بے چینی کا اظہارکیا تو ہر داڑھی والے کو مسلمان سمجھ کر تہہ تیغ کردیا گیا، جو بچ گئے وہ مجبوراً ہجرت کرکے ہندوستان آگئے۔ 1589ء میں برمی بادشاہ ’’بے انٹاؤنگ‘‘ نے ریاست کے بچے کھچے مسلمانوں کو زبردستی بدھ مذہب میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن پھر بھی کچھ مسلمان استقامت پذیر رہے اور انہوں نے برما میں شمع ایمان روشن رکھی۔ 1760ء میں ’’النگ پایا‘‘ نامی برمی بادشاہ نے ذبیحے پر پابندی لگاکر مسلمانوں کو حلال گوشت سے محروم کردیا۔ 1819ء میں برمی بادشاہ ’’بداوپایا‘‘ نے چار علمائے دین کو خنزیرکا گوشت کھانے پر مجبور کیا، انکار پر اس ظالم بادشاہ نے چاروں کو قتل کرادیا۔ مشہور ہے کہ ان ائمہ اربعہ کی شہادت کے بعد سات دن تک برما میں مکمل اندھیرا رہا جس کے باعث بادشاہ نے توبہ اور ندامت کا اظہارکیا تب اجالا نمودار ہوا۔ برطانوی دور حکومت میں 1921ء کے سروے کے مطابق برما میں نصف ملین سے زائد مسلمان آباد تھے لیکن انگریز کی ’’سیکولر جمہوریت‘‘ ہندوستان کی طرح وہاں بھی غیر مسلموں پر ہی مہربان رہی۔1945ء میں برما مسلم کانگریس (BMC) بنی، عبدالرزاق اس کے صدر منتخب ہوئے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی بدھوں کی مذہبی کتاب کی قدیمی زبان سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ مسلمانوں نے اس پلیٹ فارم سے برما کی آزادی میں بھی بھرپور کردار اداکیا لیکن آزادی کے بعد 1955میں مسلمانوں کی اس تنظیم کو ختم کردیا گیا۔ بعد کی حکومتوں نے محسن کش رویہ اختیارکرتے ہوئے برما کو بدھ ریاست قرار دے دیا اور ذبیحے تک پر پابندی لگادی اور حاجیوں کے راستے میں بھی روڑے اٹکائے جانے لگے۔ 1962ء میں ’’جنرل نی ون‘‘ کے دور کاآغاز ہوا جو مسلمانوں کے ابتلا و آزمائش کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ فوج سے مسلمانوں کو مکمل طور پر نکال باہر کیا گیا، انہیں جانوروں کا قاتل قرار دیا گیا اور معاشرے میں ان کے لیے’’کالا‘‘ کا لفظ بول کر ان کی معاشرتی تذلیل و تحقیرکی جانے لگی اور مسلمانوں کے لیے اپنی شریعت پر چلنا بھی دشوار تر کردیاگیا۔ افغانستان کے اندر ’’بامیان‘‘ کے مجسموں کے معاملے کے بعد برما میں بدھوں کے بلوے نے مسلمانوں کی مساجد اور کئی بستیاں نذر آتش کیں اور قتل و غارت گری کا بازارگرم کیے رکھا، حالانکہ اگر بامیان کا معاملہ غلط بھی تھا تو برما کے مسلمان تو اس کے ذمہ دار نہیں تھے۔ اس بہت بڑے سانحے کے بعد بعض مسلمان نوجوانوں نے ریاست سے ٹکرانے کا عندیہ بھی ظاہر کیا کہ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘کے مصداق یہ ایک فطری معاملہ تھا، لیکن مسلمانوں کی بیدار مغز قیادت نے انہیں اس امر سے باز رکھا۔ 16مارچ 1997ء کو بدھوں کا ایک بہت بڑا گروہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھا اور مسلمانوں کی مسجد کو آگ لگادی، اس کے بعد مسلمانوں کی مقدس کتب کو جمع کرکے نذرآتش کیا، پھر مسلمانوں کی املاک اور دکانوں میں لوٹ مار کی، کئی لوگوں کو قتل کیا اور بے شمار لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس سارے عمل میں ریاست تماشائی بنی رہی۔15مئی 2001ء کو ایک بار پھر بدھوں نے مسلمانوں کی گیارہ مساجد مسمار کیں، چار سو سے زائد گھروں کو آگ لگادی اور دوسو افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا جن میں سے بیس افراد وہ تھے جو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے، انہیں اس قدر پیٹاگیاکہ وہ جان کی بازی ہار گئے۔ بدھوں کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کی مساجد کو مسمار کردیا جائے جسے حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مان لیا اور متعدد مساجد زمین بوس کردی گئیں اور بعض کو مقفل کردیا گیا۔ مسلمان اپنے گھروں پر عبادت کے لیے مجبور کیے گئے اور بعض نے ہجرت کرلی۔ اب تک لاکھوں برمی مسلمان ہجرت کرکے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی سرحدوں پر خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔2009ء میں تھائی لینڈ کی فوج نے برمی مسلمان مہاجرین کو بے دردی سے مارا پیٹا اور پھر انہیں کشتیوں میں بٹھاکرکھلے سمندر میں دھکیل دیا جہاں بے رحم موجیں ان مسلمانوں کو نگل گئیں اور مشرق سے مغرب تک پوری دنیا خاموش رہی۔ اس دوران حکومت ِبرما اور بین الاقوامی اداروں کے بہت سے وعدے، مذاکرات، بیانات، رپورٹس، قراردادیں اور سروے مگرمچھ کے آنسوؤںسے زیادہ ثابت نہ ہوئے جس کی تفصیل کے لیے ایک علیحدہ دفتر درکار ہے۔ برمی مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ امتِ محمدیہ کا حصہ ہیں۔ اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتے یا کم از کم گوری رنگت کے ہی حامل ہوتے تو پوری دنیا کا میڈیاآسمان سر پر اٹھا لیتا، نیٹوکی افواج امنِ عالم کا نعرہ بلند کرتی ہوئی پہنچ جاتیں، امریکی قیادت کے دورے ہی ختم نہ ہوتے، یورپی یونین فوراً سے پیشتر پابندیاں عائد کردیتی، ادارہ اقوام متحدہ حقوقِ انسانی کی پامالی پر قراردادیں منظور کرتا ہوا اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتا، عرب شیوخ اتنی بڑی بڑی رقوم کے چیک پیش کرتے کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں، عالمی اداروں کے نمائندے اپنے کارندوں کے ہمراہ مظلومین کے ایک ایک فرد کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں بنواتے، اور وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی این جی اوز ان کے حالات پر دستاویزی فلمیں اور ڈرامے بناکر عالمی ایوارڈ حاصل کرچکی ہوتیں، اور مسلمانوں کے حکمران ان کے غم میں ہلکان ہوچکے ہوتے۔ افسوس ہے ان سیکولرازم کے پیروکاروں پر جن کا قبلہ مغرب، جن کا خدا پیٹ اور جن کا مذہب پیٹ سے نیچے کی خواہش ہے۔ انہیں مملکت ِخداداد پاکستان کے کسی دور دراز گاؤں میں پٹتی ہوئی عورت تو نظر آتی ہے لیکن نسلوں سے خون میں نہاتے ہوئے، جمہوریت کے اس دور میں حقِ خودارادیت ومذہبی آزادی تک کے حق سے محروم برمی مسلمان نظر نہیں آتے۔ لیکن آخر کب تک…! ظلم کی رات کتنی ہی تاریک ہو، آخر اسے ختم ہونا ہے۔ پوری دنیا پر یورپ کی غلامی کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوا لیکن برمی مسلمانوں پر انگریزکی غلامی کے بعد اس سے بدتر غلامی مسلط کردی گئی، اور سیکولرازم کی لگی اندھی عینک سے دنیا کی قیادت کو صرف وہی نظر آتا ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں ’’عالمی برادری‘‘کے نام پر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سجھادیتی ہیں۔ امتِ مسلمہ کی عملی جدوجہد کے باعث گزشتہ صدی ہٹلر اور سرخ سویرے جیسے ہاتھیوں کو نگل گئی اور اِس صدی کا سورج امریکہ کے زوال کی خوشخبری لے کر طلوع ہوا ہے۔ سامراج اپنے استعماری نعروں سمیت غرقاب ہوگا اور پسِ دیوارِ افق فاران کی چوٹیوں سے پھوٹنے والی روشنی ایک بار پھر عالمِ انسانیت کو اپنی آسودگی و راحت بھری گود میں بھرلے گی، انشاء اﷲ تعالیٰ۔ |
Tuesday, 10 July 2012
مصر: اخوان ایوانِ صدارت میں
مصر: اخوان ایوانِ صدارت میں
عبدالغفار عزیز
کہنے کو تو یہ ایک لفظ تھا لیکن مصر میں یہ ایک مکمل پیغام اور ایک قومی تحریک بن گیا۔ فُلُول، یعنی شکست خوردہ اور فاسد ٹولے کی باقیات۔ اس وقت مصر میں کسی شخص یا گروہ کے لیے فُلُول کا لیبل لگ جانے سے زیادہ معیوب اور باعثِ عار بات شاید کوئی نہ ہو۔پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں اس ایک لفظ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لَا لِلْفُلُول کا نعرہ اس قدر زباں زد عام ہوگیا کہ اگر کہیں صرف ’لا‘ ہی لکھا ہوتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ ڈکٹیٹر کی باقیات کو مسترد کیا جارہا ہے۔ ۲۴جون ۲۰۱۲ء کو مصری تاریخ کے پہلے حقیقی صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہورہا تھا تو ملک کے ہر شہر اور قصبے کی طرح قاہرہ کے تاریخی میدان التحریر میں بھی لاکھوں لوگ جمع تھے اور پورے میدان میں ایک بڑے بینر پر صرف ’لا‘ ہی پڑھا جارہا تھا۔ کئی جملوں پر لکھی پوری عبارت پڑھنے کا تکلف کیے بغیر ہی ’لا‘ پورا پیغام واضح کررہا تھا۔
مصری تاریخ میں یہ پہلے صدارتی انتخاب تھے کہ جس کے نتائج انتخاب سے پہلے ہی معلوم نہ تھے۔ مصر ہی نہیں اکثر عرب انتخابات میں حکمران ۹ء۹۹فی صدووٹ لے کر کامیاب ہوا کرتے تھے۔ عوامی انقلابات نے لوگوں کو پہلی بار اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا۔ یہ حقیقت ہر مخلص اور بے تعصب مسلمان کے لیے باعث طمانیت ہے کہ ان پہلے آزادانہ انتخابات میں عوام کی اکثریت نے اسلامی تحریک پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
الاخوان المسلمون مصر کے اُمیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی بحیثیت صدر مملکت جیت، خطے میں دیگر تمام کامیابیوں کا تاج ثابت ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یقیناًپورے مشرق وسطیٰ میں مصر کی مرکزی حیثیت ہے۔ مصر میں فی الحال تمام تر اختیارات صدر مملکت کے پاس ہیں۔دوسری اہم وجہ یہ بنی کہ اخوان کے صدارتی اُمیدوار کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے اندرون ملک مخالفین سے زیادہ مصر کے تمام بیرونی دشمن بے تاب تھے۔
صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ۱۳اُمیدوار تھے۔ حسنی مبارک کا آخری وزیراعظم اور ۱۰سال تک اس کا وزیر ہوا بازی رہنے والا لیفٹیننٹ جنرل احمد شفیق وہ اکلوتا اُمیدوار تھا جس پر انتخابی مہم کے دوران ملک کے اکثر اضلاع میں عملاً جوتوں کی بارش ہوئی۔حتیٰ کہ وہ جب اپنا ووٹ ڈالنے آئے تو اپنے آبائی پولنگ سٹیشن کے باہر بھی ’ پُرجوش ‘جوتا باری کا سامنا کرنا پڑا۔ اُمیدواروں میں اگرچہ طویل عرصے تک حسنی مبارک کا وزیر خارجہ اور پھر عرب لیگ کا سیکریٹری جنرل رہنے والا عمروموسیٰ بھی تھا۔ ایک سابق انٹیلی جنس چیف حسام خیر اللہ بھی تھا۔ ناصری ذہن کا سرخیل حمدِین صبَّاحی اور بائیں بازو کے کئی دیگر اُمیدوار بھی تھے، لیکن ۱۳اُمیدواروں میں سب سے زیادہ عوامی نفرت کا سامنا جنرل شفیق ہی کو کرنا پڑا۔ اس سب کچھ کے باوجود جب پہلے مرحلے کے نتائج آئے تو جنرل صاحب سب سے زیادہ ووٹ لینے والوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ دوسرے مرحلے میں مقابلہ ان کے اور پہلے نمبر پر آنے والے اخوان کے اُمیدوار ڈاکٹر محمدمُرسی کے مابین ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں ۵۰فی صد ووٹ حاصل کرنے کی شرط بھی نہیں ہے اور اگر فلول کا لیبل سجائے جنرل صاحب، ایک ووٹ بھی زیادہ لے گئے تو وہ مصر کے آیندہ صدر ہوں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شفیق کا دوسرے نمبر پر آجانا، جہاں سب کے لیے باعث حیرت تھا وہیں مصر کے ازلی دشمن ’اسرائیل‘ کے لیے یہ اُمید کی اہم نوید تھی۔ اسرائیلی ذمہ داران حسنی مبارک کے دور کو اسرائیل کے لیے ’اہم ترین اسٹرے ٹیجک خزانہ‘ قرار دیتے ہیں۔ احمد شفیق کا نام دوسرے مرحلے میں آگیا تو اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ اور حالیہ نائب وزیراعظم نے بیان دیا کہ ’’اسرائیل کے اہم ترین اسٹرے ٹیجک خزانے کی واپسی کی اُمیدیں جوان ہوگئی ہیں‘‘۔ سابق ملٹری انٹیلی جنس چیف عاموس یادلین گویا ہوئے: ’’ سقوطِ مبارک کے بعد اسرائیل کے گردو نواح میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آسکتی تھی کہ ترکی یا ایران جیسی کسی علاقائی طاقت کے ساتھ مل کر مصر کوئی اسرائیل دشمن بلاک نہ تشکیل دے دے۔ احمد شفیق کی جیت کی صورت میں ایسا ہر امکا ن ختم کیا جاسکتاہے ‘‘ - اعلیٰ تعلیم کے اسرائیلی وزیر گدعون ساعر نے کہا: ’’مبارک نظام کے اہم رکن جنرل شفیق کی جیت سے عالمِ عرب کی اجتماعی سوچ پر بہت اہم اثرات مرتب ہوں گے۔اس جیت سے ان عرب حکومتوں کے خلاف عوامی انقلاب کی خواہش دم توڑ جائے گی کہ جن کا باقی رہنا ہمارے اسٹرے ٹیجک مفادات کا ضامن ہے‘‘- سابق وزیر دفاع بنیامین الیعازر جو حسنی مبارک کے قریبی احباب میں شمار ہوتا تھا نے تبصرہ کیا: ’’شفیق کی جیت کا مطلب ہے کہ مصر اسرائیل کے ساتھ اپنا گیس سپلائی کا معاہدہ منسوخ نہیں کرے گا۔ امریکا جنرل شفیق کو بآسانی قائل کرلے گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اشتراک عمل جاری رکھے‘‘۔ اسرائیلی وزیر خارجہ لیبرمین کا تبصرہ تھا ’’مبارک کے بغیر مصر ہمارے لیے کسی ایٹمی خطرے سے بھی بڑا خطرہ تھا۔ ہمیں اس صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے کم از کم چار بریگیڈ فوج مصری سرحدوں پر کھڑی کرنا پڑے گی۔ اب یہ خطرہ ٹلنے کی اُمید ہے‘‘۔واضح رہے کہ اسرائیلی دفاعی تجزیہ نگاروں نے انقلاب مصر کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوجی اخراجات میں ۳۰؍ ارب ڈالر اضافے کا اندازہ لگایا ہے، جس سے ملک بڑے اقتصادی بحران سے دوچار ہو جائے گا۔
لبنان سے شائع ہونے والے مؤقر ہفت روزہ الأمان نے اسرائیلی ذمہ داران کے درج بالا تبصروں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان بیانات میں ’’اسرائیلی قومی سلامتی کے تحقیقاتی ادارے کے رکن جنرل (ر) رون ٹیرا کا یہ فرمان بھی شامل ہے کہ ’’مبارک دور نے اسرائیل کو مثالی اسٹرے ٹیجک شراکت عطا کی۔ اس شراکت داری کی بنیاد پر ہم ۲۰۰۶ء میں لبنان پر اور ۲۰۰۸ء غزہ پر حملہ آور ہوسکے۔ اگر مصری انتخابات میں مبارک کے ساتھیوں کے بجاے کوئی،نیشنلسٹ، اسلامسٹ، حتیٰ کہ کوئی لبرل شخص بھی برسر اقتدار آگیا تو اس کا مطلب ہے کہ عرب ملکوں پر حملے کی اسرائیلی صلاحیت انتہائی کمزور ہوجائے گی‘‘۔
ان تمام بیانات اور تبصروں کے مطالعے کے بعد اب اندازہ لگائیے کہ جنرل شفیق کو کامیاب کروانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے گئے ہوں گے۔ غریب اور اَن پڑھ ووٹروں کے ووٹ خریدنے کے لیے اندرونی اور بیرونی خزانوں کے منہ کھل گئے۔ تمام سرکاری اور پرائیویٹ ٹی وی چینل اور اخبارات نے اخوان کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید ترین یلغار کردی۔ اخوان کی طرف سے یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ جنرل شفیق کے حق میں فوج، پولیس اور مختلف ایجنسیوں کے تقریباً ۱۵لاکھ ان افراد کے ووٹ بھی ڈلوائے گئے جنھیں ووٹ کا حق نہیں تھا۔
اخوان سے ان کی جیت چھیننے کے لیے جو دیگر ناپاک ، مہیب اور خطر ناک اقدامات اٹھائے گئے ان میں ایک سرفہرست اقدام یہ تھا کہ پولنگ سے صرف ڈیڑھ دن پہلے، یعنی ۱۴جون کی شام، چند ماہ پہلے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا گیا۔ گویا ہر سیاسی کارکن اور ووٹر کو پیغام دیا گیا کہ اخوان کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ہمیں جس آخری حد تک بھی جانا پڑا، ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ووٹ ضائع نہ کرو، اخوان کواقتدار میں آنے کی اجازت کسی صورت نہ ملے گی۔ اسی دوران میں ایک اہم اقدام یہ اٹھایا گیا کہ حسنی مبارک اور اس کے ساتھیوں کے خلاف گذشتہ تقریبا ڈیڑھ برس سے سنے جانے والے مقدمے کا فیصلہ اچانک ۲جون کو سنادیا گیا۔ ۳۰سال سے سیاہ و سفید کے مالک حکمران کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ اس مرحلے پر فیصلہ سنانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ حسنی مبارک کے خلاف پائی جانے والی گہری عوامی نفرت کو تسکین پہنچاتے ہوئے ،اسے فوجی کونسل اور اس کے نمایندہ سمجھے جانے والے صدارتی اُمیدوار کے حق میں ہموار کیا جائے۔
صرف قرآن کریم کا فرمان ہی ازلی و ابدی سچی حقیقت ہے کہ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ ط (الفاطر۳۵:۴۳ ) ’’حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘۔ یہ تمام حکومتی چالیں بھی چلنے والوں کی گردن کا پھندا بن گئیں۔ اگر ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابل جنرل شفیق کے بجاے کوئی بھی اور اُمیدوار ہوتا،تو عوام کی اتنی اکثریت کبھی اخوان کے اُمیدوار کے گرد اکٹھی نہ ہوپاتی۔ جنرل شفیق کو سامنے دیکھ کر ابوالفتوح جیسے مضبوط اُمیدوار کو بھی مجبوراً اور علانیہ طور پر ڈاکٹر مرسی کی حمایت کرنا پڑی اور بڑی تعداد میں حمدین صباحی کے ووٹرز بھی ان کے ساتھ آگئے۔ اگرچہ خود حمدین نے دوسرے مرحلے کا بائی کاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عملاً جنرل شفیق کو فائدہ پہنچایا۔ اس دوران ایک دل چسپ اشتہار سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اخوان کے اُمیدوار کی جہازی سائز تصویر تھی اور اس پر لکھا تھا:أنا مش اخوان، ہأدعم دکتور مرسی، ’’میں اخوانی نہیں لیکن میں ڈاکٹرمرسی کو ووٹ دوں گا‘‘۔ اسی طرح حسنی مبارک کو سزا دینے کا ’اعزاز‘ بھی عوام کی نظر میں عبوری حکومت کا جرم ٹھیرا۔ فیصلہ سنتے ہی وسیع و عریض کمرۂ عدالت میں بیٹھے سیکڑوں وکلا اور شہداء کے ورثا نے نعرہ لگایا: الشعب یرید تغییر القضاء، عوام عدلیہ کی تبدیلی چاہتی ہے۔ اور پھر ملک بھر میں دوبارہ مظاہرے شروع ہوگئے کہ سیکڑوں افراد کے قاتل حسنی مبارک کوبا سہولت عمر قیدنہیں، پھانسی دو۔
رہا اسمبلی توڑنے کا فیصلہ تو اگرچہ یہ ایک انتہائی گھناؤنا جرم تھا لیکن اس نے بھی عوام کو مایوس کرنے اور اخوان کا ساتھ چھوڑ دینے پر آمادہ کرنے کے بجاے انھیں اس بات پر یکسو کردیا کہ اگر عوامی فیصلے کی حفاظت کرنا ہے تو باقیات کو مسترد کرنا ہوگا۔ اسمبلی تحلیل کرنے کا پورا فیصلہ ہی مکمل طور پر بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔ قومی اسمبلی یعنی ’مجلس الشعب‘ کے انتخاب کے لیے ضابطہ کار، عسکری کونسل اور سیاسی پارٹیوں کی باہمی مشاورت اور اتفاق راے سے طے پایا تھا۔ اس متفق علیہ ضابطے کے مطابق ۴۹۸سیٹوں پر مشتمل ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ دو تہائی سیٹیں متناسب نمایندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے لیے رکھی گئیں اور ایک تہائی براہِ راست انفرادی اُمیدواروں کے لیے۔ ووٹنگ تین مرحلوں میں ہوئی، ہر مرحلے کے دو اَدوار تھے۔ اس طرح کاغذات نامزدگی داخل کروانے، انتخابی مہم چلانے اور ووٹنگ مکمل ہونے کا عمل کئی ماہ جاری رہا۔ پھر ارکان اسمبلی کی باقاعدہ حلف برداری ہوئی اور دستور سازی کا عمل شروع ہوگیا۔ لیکن اچانک دستوری عدالت میں ایک اعتراض داخل کیا گیا، کہ انفرادی نشستوں پر اُمیدواروں نے پارٹیوں کی طرف سے نہیں آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنا تھا۔ اور پھر پولنگ سے عین ڈیڑھ دن قبل،۳/۱ارکان کی رکنیت منسوخ کرتے ہوئے نومنتخب اسمبلی تحلیل کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر فاروق سلطان ہی دستوری عدالت کے سربراہ بھی ہیں۔ بالفرض اگر کچھ ارکان کا انتخاب واقعی خلاف ضابطہ تھا، تب بھی صرف ان ارکان کا انتخاب دوبارہ کروایا جاسکتا تھا۔ کروڑوں عوام کے ووٹ، اربوں روپے کے اخراجات اور پوری قوم کے کئی ماہ، یعنی کروڑوں گھنٹے صرف کرکے منتخب ہونے والی پہلی حقیقی اسمبلی تحلیل کرنے کا جواز بدنیتی کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ ساری بحث صرف قومی اسمبلی کے ایک تہائی ارکان کے بارے میں تھی، لیکن بات پوری پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی پھیلائی جاتی رہی حالانکہ ۲۷۰؍ارکان پر مشتمل، عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی مجلس شوریٰ (یعنی سینٹ) جوں کی توں موجود، بحال اور فعال ہے اور اس میں بھی اکثریت اخوان اور حزب النور ہی کی ہے۔
اخوان نے اس نازک موقع پر انتہائی صبر و حکمت کا ثبوت دیا۔ ’پارلیمنٹ‘ تحلیل کردینے کی خبر پوری قوم پر بجلی بن کر گری۔ ممکن تھا کہ لوگ فوری طور پر اس فیصلے کے خلاف میدان میں آجائیں۔ فوج انھیں کچلنے کے لیے قوت استعمال کرے اورپھر ان فسادات کی آڑ میں صدارتی انتخاب کا پورا عمل ہی لپیٹ دیا جائے۔ اخوان نے دستوری عدالت کا فیصلہ آنے کے چند گھنٹے بعد اپنے موقف کا اعلان کرتے ہوئے ایک اصولی اعلان کیا کہ اس وقت کسی دستوری شق میں کسی بھی فرد یا ادارے کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہماری ساری توجہ صدارتی انتخاب پر مرکوز رہنی چاہیے۔ لوگ میدان تحریر کی طرف ملین مارچ کرنے کے بجاے، پولنگ سٹیشنوں کی طرف لانگ مارچ کریں اور ووٹ کا حق استعمال کریں۔ پھر جیسے ہی ووٹنگ کا عمل تکمیل کو پہنچا اور پورے ملک کے پولنگ سٹیشنوں سے نتائج کی سرکاری دستاویزات جاری ہوگئیں، تو میدان التحریر سمیت ملک کے کونے کونے میں بڑے مظاہرے شروع ہوگئے کہ ہم اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔
گنتی کے پہلے روز ہی نتائج واضح ہوگئے تھے، متعدد بار جیل جانے والے ڈاکٹرمحمد مرسی تقریباً ۱۰لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے ایک کروڑ ۳۲لاکھ ۳۰ہزار ایک سو ۳۱ووٹ (۷۳ء۵۱)لے کر جیت گئے تھے۔ لیکن اچانک جنرل شفیق نے دعویٰ شروع کردیا کہ وہ ۵۲فی صد ووٹ لے کر جیتے ہیں اور اصل نتیجہ سرکاری نتیجہ ہو گا۔ سرکاری نتائج ۲۱جون کو آنا تھے، لیکن عین آخری لمحے چیف الیکشن کمشنرنے عذر پیش کیا کہ بہت بڑی تعداد میں ووٹوں پر اعتراضات سامنے آگئے ہیں،اور ان اعتراضات کی تحقیق کرنے کے لیے ہمیں مزید وقت چاہیے۔ ’’فلول‘‘ کے دعوے اور سرکاری نتائج میں تاخیر سے عوام پھر شکوک و شبہات کا شکار ہوگئے۔ الجزائر کے انتخابات یاد آنے لگے اور انقلاب کے ثمرات ضائع ہوتے دکھائی دینے لگے، تو عوام مزید جوش و جذبے سے میدان التحریر میں جمع ہونے لگے۔ ۱۸جون سے کئی شہروں میں دھرنے شروع ہوگئے۔ ۲۴جون کی شام تک نتائج کے انتظار نے، شرکا کی تعداد بلامبالغہ کئی ملین تک پہنچا دی۔
بالآخرڈاکٹر مرسی کی کامیابی کا اعلان ہوا،اور مصر ہی میں نہیں، پورے خطے میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔ میدان التحریر میں نعروں کے ساتھ ہی ساتھ شرکا نے عید کی تکبیرات شروع کردیں۔ اللّٰہ اکبر ۔۔اللّٰہ اکبر۔ لا الٰہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر..... ان کا کہنا تھا کہ یہ عید الدیمقراطیۃ ، ’’عید جمہوریت ہے‘‘۔خوشی کے ان تمام جذبات سے اہم بات یہ ہے کہ ان شرکا نے اپنا یہ دھرنا تب تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے کہ جب تک نومنتخب اسمبلی بحال کرنے اور فوجی کونسل کے بلاحدود اختیارات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے اسی ہنگامے میں، فوجی عبوری کونسل کے سربراہ فیلڈمارشل محمد حسین طنطاوی نے ایک ’ضمنی دستوری اعلان‘ جاری کرتے ہوئے صدر مملکت کے اکثر اختیارات یا تو خود حاصل کرلیے ہیں یا انھیں فوجی مرضی سے مشروط کر دیا ہے۔اس اعلان کے مطابق فوجی عبوری کونسل کو اسمبلی کی عدم موجودگی میں مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔کونسل کو ہرطرح کے احتساب سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ اسے فوجی افسروں کے تقرر و ترقی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔اسمبلی کی منتخب کردہ دستور ساز کمیٹی کے بجاے نئی کمیٹی مقرر کرنے اور اس کی سفارشات آجانے کے ۱۵روز کے اندر اندر ان پر عوامی ریفرنڈم کرواتے ہوئے ملک کا نیادستور بنا دینے کے لیے روڈمیپ دے دیا گیا ہے۔بندوق کے زور پر بننے والے عبوری کونسل کے سربراہ کو براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے صدر مملکت کے برابر حقوق و اختیاردیتے ہوئے،کسی بھی دستوری شق پر اعتراض کرنے اور اسے واپس پارلیمنٹ بھجوانے کا حق دے دیا گیا ہے ۔ اور پارلیمنٹ کے اصرار کرنے کی صورت میں اس شق کو دستوری عدالت کو بھجوانے کا حکم جاری کیا گیاہے۔
اس وقت میدانوں میں بیٹھے لاکھوں عوام اس دستوری اعلان کی منسوخی اور اسمبلی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اگر فوجی کونسل ملک کو پھر سے تباہی کے گڑھے میں پھینک دینے پر مصر نہ ہوئی، تو اسے بالآخر عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ عوام کے لیے قوت واعتماد کا اصل سہارا رب ذوالجلال کی ذات ہے۔ا سی ذات نے ڈاکٹر مرسی کو جیل کی کوٹھڑی سے نکال کر ایوانِ صدر میں پہنچادیا ہے۔نومنتخب صدر نے کامیابی کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے خلیفہ منتخب ہونے کے موقع پر کہے جانے والے یہ الفاظ متعدد بار دہرائے: ’’لوگو مجھے تمھارا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں ۔ لوگو! میں اللہ کی اطاعت کروں تو تم میری بات مانو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو ہرگز میری اطاعت نہ کرو‘‘ ۔انھوں نے قومی اوربین الاقوامی امور پر دوٹوک موقف واضح کرتے ہوئے کہا :’’ میں کسی ایک فرد یا گروہ کا نہیں پوری مصری قوم کا نمایندہ ہوں، تم سب میرے لیے برابر ہو۔میرے حامی ،میرے مخالف،مسلم ،مسیحی، سب میرے لیے یکساں ہیں۔
ڈاکٹر مرسی کی پوری تحریک کا شعار تھا: النہضۃ ارادۃ الشعب، نہضت عوام کا فیصلہ ہے۔ ساتھ ہی لکھا تھا: مصر کی تعمیرو ترقی،اسلامی تعلیمات کے مطابق ۔واضح رہے کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں اور عالمی یونی ورسٹیوں سے انجینیرنگ میں ڈاکٹریٹ بھی کی ہوئی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: ’’ ہم سب سے برابری اور انصاف کی بنیاد پر باہمی تعلقات مستحکم کریں گے۔ قومی مفادات کی روشنی میں بین الاقوامی معاہدوں کی پاس داری کریں گے۔ پھر دوٹوک انداز میں کہا: ’’ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ، لیکن کسی کو بھی اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے ‘‘۔ انھوں نے اپنی تقریر کااختتام کرتے ہوئے کہا:’’ میرے عزیز ہم وطنو! میں تمھارے معاملے میں اور اپنے وطن کے معاملے میں اللہ رب العزت سے کبھی خیانت نہیں کروں گا‘‘۔تقریر ختم ہونے کے چند منٹ بعد صدر محمد مرسی کے بیٹے عبد اللہ محمد مرسی نے فیس بُک پر پیغام لکھتے ہوئے کہا : ’’ بابا! یقیناًہم صرف اللہ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت کریں گے، اللہ کی نافرمانی ہوئی تو آپ کی نہیں اپنے رب کی اطاعت کریں گے‘‘۔
جب بیٹا بھی باپ اور صدر مملکت کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت سے مشروط کر دے، توپھر رب ذوالجلال کی رحمتیں اورنصرت بھی یقیناًشامل حال ہوتی ہیں ۔ وہی تو ہے جو اقتدار دیتا اورچھینتا ہے ، عزت دیتا یا ذلت کے گڑھوں میں پھینک دیتا ہے ( قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ اٰلِ عمران۳:۲۶)
Friday, 8 June 2012
روس، چین، امریکہ اور مسلم اُمہ
روس، چین، امریکہ اور مسلم اُمہ
- پروفیسر شمیم اختر
روس اور چین قریب ہوتے جارہے ہیں، اور یہ دونوں طاقتیں امریکہ اور اس کے فوجی ٹولے ناٹو کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کے سدباب کے لیے سفارتی اور تزویراتی سطحوں پر تعاون کرتی رہی ہیں۔ روس اور چین کو توقع تھی کہ روس میں اشتراکیت کے خاتمے اور چین میں مائو کے سخت گیر نظریاتی رویوں کو خیرباد کہنے اور سرمایہ دار ممالک سے تجارت کرنے سے کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور فوجی معاہدوں کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے معاہدۂ وارسا کو ختم کردیا، لیکن اس کی توقع کے برخلاف امریکہ نے روس کے اس اقدام کو اس کی کمزوری پر محمول کرتے ہوئے ناٹو میں توسیع کا عمل شروع کردیا اور معاہدۂ وارسا کی رکن سابق مشرقی یورپی ریاستوں کی کھیپ کی کھیپ بھرتی کرنا شروع کردی، یہاں تک کہ جارجیا، یوکرین اور قازقستان پر بھی ڈورے ڈالنے شروع کردیئے۔ اب ناٹو کی رکن ریاستوں کی تعداد 16 سے بڑھ کر 28 ہوگئی۔ پہلے تو ناٹو کا دائرۂ اختیار صرف یورپ تک تھا، لیکن سوویت یونین کے خاتمے سے ایک سال قبل اس نے عراق پر چڑھائی کردی جس کے لیے جارج بش اول نے سلامتی کونسل کی قرارداد کی خود تاویل کرتے ہوئے اپنے جارحانہ اقدام کو جائز قرار دیا۔ اُس وقت سوویت روس کے صدر میخائل گورباچوف اندرونی تبدیلیوں کی وجہ سے کوئی راست اقدام نہ کرسکے، جب کہ چین بھی اندرون ملک امریکی سی آئی اے کی برپا کی ہوئی بغاوت سے نبرد آزما ہونے کے باعث کچھ نہ کرسکا… اور یوں بھی چین کی پالیسی انتہائی خودغرضی پر مبنی ہے، اور اس نے کبھی استعمار کے خلاف افرایشیائی لاطینی امریکی عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت نہیں کی، البتہ مائوزے تنگ کے زمانے میں چین استعمار کے خلاف زبانی جمع خرچ ضرور کرتا رہا ہے۔ اس نے انیسویں صدی میں زارِ روس سے کیے گئے معاہدے کے ذریعے ولاڈی واسٹک، استراخان اور نواحی علاقے کی روس کو منتقلی کا تنازع کھڑا کرکے 80 کے تمام عشرے میں مغربی استعمار کے بجائے سوویت یونین کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھی جس کے باعث ناٹو کو کھل کھیلنے کا موقع ہاتھ آگیا، جب کہ استعمار مخالف طاقتیںکمزور پڑگئیں۔ سوویت یونین اندرون ملک بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث مفلوج ہوگئی اور ناٹو کو کھلا میدان ہاتھ آگیا۔ اب بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کس حد تک اپنے سب سے بڑے تجارتی ساجھے دار امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو لگام دے سکتا ہے۔ جیسا میں نے عرض کیا کہ چین کی پالیسی انتہائی خودغرضی پر مبنی ہے اور وہ ہر مسئلے کو اپنے قومی مفاد کے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے، اور اس کا ہر قدم اسی سمت بڑھتا ہے جدھر وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ لیکن اب اسے امریکہ کچوکے لگا رہا ہے تو وہ بلبلا اٹھا۔ سب سے پہلے تو بارک اوباما نے تائیوان کو جدید جنگی طیاروں اور میزائلوں سے مسلح کردیا ہے اور اس کے اشارے پر تائیوان نے ان میزائلوں کو ساحلوں پر نصب کرکے ہانگ کانگ کو نشانے پر رکھ لیا ہے، جب کہ اس کا ساتواں بحری بیڑا سمندری علاقے میں متحرک ہے۔ شمالی بحرالکاہل میں جاپان اور جنوبی کوریا پر امریکی افواج بالترتیب 67 اور 62 سال سے قابض ہیں، اسی طرح جرمنی پر بھی 62 سال سے قابض ہیں، لہٰذا یہ ممالک عملاً امریکہ کے مقبوضہ علاقے ہیں جن کے لیے اتحادی کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ ولادی میر پیوٹن کے دورِِ صدارت میں روس اپنے پائوں پر کھڑا ہونے لگا اور گیس اور تیل کے ذخائر کے ذریعے نہ صرف کثیر زرمبادلہ کمایا بلکہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا۔ روس نے TNK-BP کمپنی میں برٹش پیٹرولیم (BP) کے سارے حصص جو پچاس فیصد تھے، خرید کر برطانوی کمپنی کی چھٹی کردی اور اس کے سربراہ Bob Dudley کو 2008ء میں ملک سے نکال باہر کیا، کیونکہ برطانوی کمپنی کاروبار کی آڑ میں روس مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ (ڈان 3 جون 2012ئ) اب روس کی Gazprom اور Rosneft کمپنیوں کو تیل اور گیس کے کاروبار پر مکمل اجارہ داری حاصل ہے۔ چین روس کے تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے کیونکہ اسے اپنی تیز رفتار صنعتی ترقی کے لیے وافر مقدار میں توانائی درکار ہے۔ 2009ء میں چین نے روس سے تیس سال تک کے لیے 70 ارب کیوبک میٹر سالانہ گیس کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا لیکن قیمت کے تعین پر طرفین میں اختلافات تھے۔ امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس منعقدہ بیجنگ کے موقع پر یہ سودا بھی طے پا جائے گا (ڈان 4 جون 2012ئ)۔ چین اپنی ضرورت کے لیے 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے جو جنوبی بحرالکاہل سے گزرتا ہوا چین آتا ہے، اور اس کی یورپ، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کو جانے والی برآمدات کی گزرگاہ بھی یہی سمندری شاہراہ ہے۔ اس لیے چین جنوبی بحیرہ چین کے زیادہ سمندری علاقے کو اپنی تجارت کے لیے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں اسی سمندر میں واقع Parcel اور Spratley نامی جزائر میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں جنہیں چین استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن تائیوان، ویت نام، برونائی، فلپائن اور ملائیشیا بھی ان جزائر اور نواحی سمندری علاقے پر اپنا اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ اسی سمندر میں ماہی گیری پر چین اور فلپائن کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تمام علاقائی ریاستیں سارے بحیرہ چین پر اس کے دعوے کو تسلیم نہیںکرتیں اور چین پر جارحانہ عزائم کا الزام لگاتی ہیں۔ اس صورت حال سے امریکہ نے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا اور تائیوان اور فلپائن سے اپنے فوجی معاہدے کے بل پر وہ جنوبی بحیرہ چین کے تنازع میں فریق بن گیا ہے اور فلپائن اور تائیوان کو خاص کر یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر چین نے ان پر حملہ کیا تو مذکورہ معاہدے کے تحت وہ ان کا دفاع کرے گا۔ اس پر چین نے امریکہ کو بحیرہ چین میں مداخلت سے باز رہنے کا انتباہ کیا ہے۔ (3 جون 2012ئ) چین کا کہنا ہے کہ وہ اس سمندری شاہراہ کو دوستی اور تعاون کا خطہ بنانا چاہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 1982ء کے سمندری قانون کی رو سے ہر ملک کو اپنے ساحل سے 200 میل تک سمندری علاقے میں بلاشرکت غیرے وہاںکے قدرتی وسائل پر تصرف کا حق حاصل ہے، اور اگر ساحلی ریاستوں کے 200 میل کے خصوصی اقتصادی منطقات دونوں کی حدود میں آتے ہیں تو اسے ثالثی یا عدالتی فیصلے یا مذاکرات سے طے کرلیا جانا چاہیے، لیکن یہ درست نہیں ہوگا کہ کوئی بڑی ریاست دوسری ساحلی ریاست کے اقتصادی خطے (Exclusive Economic Zone) یا اس کے زیادہ حصے پر طاقت کے زور پر قبضہ کرلے جو چین چاہتا ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کوئی جزیرہ یا سمندری علاقہ ایک سے زیادہ ریاستوں کے خصوصی اقتصادی منطقہ میں واقع ہو تو ان کے قدرتی وسائل بقدرِ حصہ فریقین میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ چین اس تنازع سے امریکہ کو خارج کرنے کے لیے اسے جنوب مشرقی ایشیائی تنظیم کی کی سطح (ASEAN FORUM) پر حل کرنا چاہتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ روس اس تنازع میں چین کی حمایت کرے گا` کیونکہ اس کے ویتنام، لائوس اور کمبوڈیا سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ یہ روس ہی تھا جس نے دس سالہ ویتنام جنگ میں امریکی جارحیت کے خلاف کھل کر اس کی حمایت کی تھی، جب کہ چین نے تو ویتنام پر حملہ بھی کردیا تھا جسے اس ریاست نے پسپا کردیا۔ جہاں تک مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کا تعلق ہے تو وہ کیوں تائیوان پر چین کا ساتھ دیں، جب کہ چین اسرائیل کو تسلیم کیے بیٹھا ہے اور شام میں بشارالاسد کے ہاتھوں مقامی آبادی کے قتلِ عام کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح چین اور روس نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والی سرب حکومت کی بھرپور حمایت کی تھی جبکہ زنجیانگ اور شیشان میں چین اور روس کی جانب سے مسلمان آبادیوں پر ریاستی تشدد، ماورائے عدالت قتل روز کا معمول بن گیا ہے۔ اگر ہم مسلم امہ کے نقطہ نظر سے ان بڑی طاقتوں کے کرتوت دیکھیں تو ہمیں ان دونوں سے کراہیت ہوتی ہے۔ بھلے سے شنگھائی تنظیم برائے تعاون امریکہ/ ناٹو سے اپنا حساب چکتا کرتی رہے، مسلم امہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے، نہ ہی وہ شکار پر ان بھیڑیوں کی لڑائی میں فریق بننا چاہتی ہے۔ کیا چین اور روس سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پابندیوں سے متعلق مسودۂ قرارداد کے خلاف ویٹو نہیں لگا سکتے تھے؟ اس کے برعکس وہ استعماری ٹولے سے مل گئے اور ان نامنصفانہ قراردادوں کو منظور کردیا۔ مسلم ریاستوں کو حقیقی ناوابستہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور باہمی تعاون سے اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر غربت، جہالت، بیماری، پسماندگی کا خاتمہ کردینا چاہیے۔ اس کے لیے انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔ |
Subscribe to:
Posts (Atom)
