Search This Blog

Showing posts with label Fasting. Show all posts
Showing posts with label Fasting. Show all posts

Saturday, 19 May 2018

رمضان اور ہماری صحت Ramadan and Health

رمضان اور ہماری صحت

روزے کے روحانی فائدے ہیں وہاں ان گنت جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جس طرح روزہ ہماری روحانی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے اسی طرح جسم کے فاسد مادوں کو زائل کرنے کے لیے روزہ ضروری ہے۔ جسم سے فاسد مادے خارج ہو کر ہمارے جسم و روح صاف کر دیتے ہیں۔روزے کے معاشرتی فائدوں کے ساتھ ساتھ صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
1994میں پہلی ’’صحت اور رمضان‘‘ کانفرنس کاسابلانکامیں ہوئی۔ جس میں تقریباً 50تحقیقاتی مقالے پڑھے گئے۔ جن میں روزہ کی برکت اور جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کی بدولت تمام اعضا کی کارکردگی جن میں گردے دل جگر وغیرہ شامل ہیں‘ کا جائزہ لیا گیا۔ رمضان کی اضافی عبادت تراویح کی بدولت ہر رکعت میں 10کلوریز خرچ ہوتی ہیں اور روزہ افطار کے بعد تراویح و نماز کی بدولت جو ورزش ہوتی ہے۔ اس سے ہاضمے میں بہت مدد ملتی ہے اور فالتو کیلوریز بھی خرچ ہوتی رہتی ہیں۔ گوکہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا لیکن اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے ہر پہلو میں ایک نہیں کئی فائدے پنہاں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بچوں‘ بزرگوں‘ بیماروں‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے روزے میں چھوٹ رکھی ہے لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن میں روزہ رکھا جاسکتا ہے لیکن ایک خوف اور جھجک ہمیں روزہ رکھنے سے روکتی ہے۔ ان میں ذیابیطس بھی شامل ہے۔

کیا شوگر کے مریض کو روزہ رکھنا چاہئے؟
شوگر کے مریضوں میں یہ بات بہت عام ہے کہ شوگر کے مریض روزہ نہیں رکھ سکتے۔ میں بہت سے ایسے شوگر کے مریضوں کو جانتی ہوں جو روزہ رکھتے ہیں۔ میری ساس شوگر کی مریضہ تھیں باقاعدگی سے نہ صرف روزہ رکھتیں بلکہ سارا دن معمول کے کام بھی کرتی تھیں۔ روزہ کی حالت میں Hypoglycemiaکے شکار وہ مریض زیادہ ہوتے ہیں جو انسولین لگا رہے ہوتے ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے ایک ماہ قبل ہی ایسے مریض اپنے ڈاکٹر سے مل کر انسولین یا شوگر کی دوا کو Adjust کروا لیں اور ڈائٹیشن سے خوراک کے متعلق تفصیلات حاصل کر کے اس پر عمل کریں تو وہ آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ شوگر کے مریض اپنی جسمانی سرگرمیوں کو کم کریں تاکہ Hypoglycemia سے بچا جا سکے۔ شوگر کے مریض اکثر روزہ کھولتے وقت دوا لینا بھول جاتے ہیں کھانا۔ زیادہ کھا لینے سے بھی ان کے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

پانی کی کمی
گرم موسم میں پانی کا اخراج پسینے کی صورت میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔کیا روزہ کے دوران خون میں شوگر چیک کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟یہ نظریہ غلط ہے بلکہ ایک بار شوگر چیک کر لینے سے شوگر کی جانچ ہوتی رہتی ہے اگر خون میں شوگر کی مقدار بہت کم یا بہت زیادہ ہو تو روزہ توڑ دینا چاہئے۔
کیا رمضان میں دوائیں کھانی چاہئیں؟
ہاں ادویات ضرور لینی چاہئیں‘ بس اس کے اوقات میں ردوبدل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ڈاکٹر کے مشورے سے ہونی چاہیے۔
ذیابیطس کے مریض سحری میں کیا کھائیں؟
جَو (Oats)کھانا سنت بھی ہے اور صحت بھی۔ غذائی اعتبار سے یہ کاربوہائیڈریٹ کا بہترین ذریعہ ہے۔ فائبر زیادہ ہونے کے باعث پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیر تک رہتا ہے۔ وٹامنز کا بہترین ذریعہ ہے۔ گندم کی روٹی بمعہ چھان کھائیے ‘دہی اور چپاتی کھائی جا سکتی ہے۔ White Wheat breadانڈے کا آملیٹ اور دار چینی ملے قہوہ کے ساتھ لیجئے۔ شوگر کے مریضوں کے علاوہ رمضان مٹاپے کے شکار لوگوں کے لیے وزن کم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریضوں کو بھی مرض کنٹرول کرنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ سحری اور افطاری کے لیے صحت بخش غذائیں 1987 میں رمضان کے آخری عشرے میں مجھے عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں علم ہوا کہ ہمارے اور سعودی عرب کے کھانوں میں بہت فرق ہے۔ ہم زبان سے دوستی اور معدہ سے دشمنی کرتے ہیں۔ یعنی ذائقے اور چسکے کے لیے پکوڑے‘ سموسے‘ رول‘ کچوری اور دہی بھلے وغیرہ کھاتے ہیں اس کے علاوہ Fizzy Drink استعمال کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں ہمارا معدہ خالی ہوتا ہے۔ جسے ہم افطار کے وقت ثقیل کھانوں اور تیزابیت والی خوراک سے بھر دیتے ہیں۔ نتیجتاً معدے کی جلن‘ تیزابیت‘ بدہضمی‘ زیادہ تیل اور مصالحوں والے کھانوں کی بدولت پیاس کی زیادتی‘ قبض‘ وغیرہ کی شکایت عام ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے لوگ کھجور کو تھوڑے سے پانی میں بھگو کر اس کا گودا نکال کر روٹی پر لیپ کر کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی تھوڑا سا زیتون کا تیل کھاتے ہیں جو بہترین افطار ہے۔ کھجور سے آپ کو بہترین طاقت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ پھل اور ان کے رس یا دہی اور لسی افطاری کے بہترین کھانے ہیں۔ ہم مدینے میں اپنے کزن کے گھر ٹھہرے۔ ان کے پڑوسی عربی تھے اور انتہائی مہمان نواز بھی‘ افطار میں ایک بڑا سا تھال آتا جس میں کھجوریں‘ تازہ سلاد‘ زیتون اور پنیر ہوتا تھا۔ پھل اور ایک سوپ نما کھانا ہوتا تھا۔ جس میں جَو‘ Mutton اور کچھ نوڈلز ہوتے تھے اور ان کی Bakedکی ہوئی روائتی مٹھائیاں ہوتی تھیں۔
یقین کریں رمضان میں ہر گھر کا تیل اور چینی کا خرچ تین گنا نہیں تو ڈھائی گنا ضرور بڑھ جاتا ہو گا۔ کیونکہ پکوڑے‘ سموسے‘ دہی بھلے‘ رول‘ کچوری‘ چناچاٹ‘ فروٹ چاٹ کے بغیر تو روزہ کھل ہی نہیں سکتا یہ ایک غلط تصور Concept ہے۔ وہ وقت جورب ذوالجلال سے دعا مانگنے کا ہوتا ہے وہ ہم کھانے کی ترکیبوں اور کھانے بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے روزے کے معاشرتی پہلو پر غور کیا ہے۔ اللہ کو اس کی پروا نہیں ہے کہ ہم کچھ کھائیں یا بھوکے رہیں۔ وہ تو ہم میں تقویٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے روزے کی بھوک یا کمزوری میں مفلس و نادار لوگوں کی بھوک کو محسوس کیا۔ وہ پیسہ جو ہم اپنے دسترخوان سجانے اور افطار پارٹیوں میں خرچ کرتے ہیں‘ کبھی ان مفلس و نادار لوگوں کو اس خیال سے دیاکہ ہماری بھی کچھ آخرت سنور جائے؟

سحر و افطار کی صحت بخش غذائیں
افطار میں تین سے چار کھجوریں کھا لینے سے خون میں شوگر کی مقدار جلد بہتر ہو جاتی ہے اور Hypoglycemia کی وجہ سے ہونے والے سردرد میں افاقہ ہوتا ہے۔
چنا چاٹ آلو اور رنگ برنگی موسمی سبزیوں کا سلاد‘ اخروٹ‘ بادام اور زیتون کے ساتھ بنانا چاہئے۔
مختلف پھلوں کی چاٹ بغیر چینی کے بنائیے
رمضان میں Syntheticجوسز‘ کولڈ ڈرنکس کے بجائے جو اور شکر کا شربت‘ لسی‘ آڑو کا شربت‘فالسے کا شربت یا تربوز کا جوس استعمال کریں۔
بریانی کے مصالحوں میں Anti Oxidantsاور Poly Phenols موجود ہوتے ہیں جو جسم کو کئی بیماریوں کے خلاف مدافعت فراہم کرتے ہیں۔
اپنے کھانوں میں یکسانیت کے بجائے تنوع پیدا کریں
تلے ہوئے کھانوں کے بجائے کم چکنائی اور Bakeکئے ہوئے کھانے استعمال کریں۔ سحر و افطار میں غذائیت سے بھرپور نارمل کھانا کھائیں۔
بہت زیادہ چکنائی نمک اور چینی سے پرہیز کریں
اپنے کھانوں میں پکی ہوئی اور کچی سبزیاں‘ پھل‘ دالیں‘ گوشت‘ مچھلی اور انڈے شامل کریں۔ رمضان میں سگریٹ نوشی ترک کرنا نہایت آسان ہے۔ تھوڑا نفس کو مار کر مضبوط اعصاب کے ساتھ کوشش کیجئے۔

جب ہم روزے کی حالت میں ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں موجود چربی توانائی میں تبدیل ہوتی رہتی ہے جس کی بدولت جسم میں موجود فالتو چربی کم ہو جاتی ہے اور وزن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر Razeen Mahrof جو آکسفورڈمیں Anesthetistہیں‘ کہتے ہیں کہ غذا اور صحت کا تعلق بہت مضبوط ہے۔ گو کہ رمضان وزن کم کرنے والوں کے لیے ایک زبردست Opportunity ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اس کے روحانی فائدے ہیں۔ بیک وقت ہم جسمانی اور روحانی فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔
رمضان نفس کے خلاف لڑنے کی اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں کے آگے بے بس ہونے کے بجائے اللہ کی رضا کو فوقیت دینے کی ہماری تربیت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی رحمتوں‘ برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ زیادہ سے زیادہ عبادات نوافل تلاوت قرآن پاک اور قضا روزوں کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہماری روح اور جسم کو بیماری سے پاک کر دے۔ پرانے رشتے استوار کیجئے۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی اللہ سے مانگیے اور رب کے بندوں سے بھی کیونکہ اللہ اپنے حقوق معاف فرما دیں گے اپنے بندوں کے نہیں۔

رمضان المبارک، اہتمام اور تقاضے


رمضان المبارک، اہتمام اور تقاضے
مولانا محمد یوسف اصلاحی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ رمضان آنے سے پہلے آپؐ رمضان کے استقبال کے لیے لوگوں کے ذہن تیار کرتے تھے، تاکہ رمضان سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھا سکیں۔ احادیث میں ایسے خطبوں کا تذکرہ آتا ہے جو خاص اس مقصد کے لیے، آپؐ نے رمضان کی آمد سے پہلے خطاب فرمائے ہیں۔ خاص طور پر وہ خطبہ تو بہت ہی طویل اور مشہور ہے جو شعبان کی آخری تاریخ کو آپؐ نے دیا ہے اور جس کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ ہیں۔ فرمایا:’’تم لوگوں پر جلد ہی ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے‘‘۔اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کے مختلف پہلو پیش فرمائے، روزے کے فیوض اور برکات کا ذکر فرمایا اور اس طرح ذہنوں کو تیار کیا کہ اس سنہری موقعے سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کے لیے انسان پورے ذوق و شوق اور یکسوئی کے ساتھ کمربستہ ہوجائے۔

استقبالِ رمضان اور خود احتسابی
رمضان سے پوری طرح استفادے اور اس کی خیر و برکت کا واقعی مستحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اس کے لیے ذہن و فکر اور قلب و روح کو پوری طرح تیار کرلے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ رمضان کی پہلی رات چھانے سے پہلے انسان اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ سے بھی معاف کرائے اور اللہ کے بندوں سے بھی۔ وہ سنجیدگی سے سوچے کہ وہ خدا کے حقوق ادا کرنے میں کیا کیا کوتاہیاں کررہا ہے، کن کن نافرمانیوں میں مبتلا رہا ہے اور اس کی زندگی کے بہترین اوقات کن خرافات میں گزرتے رہے ہیں۔ سچے دل سے توبہ کرے اور اللہ سے پختہ عہد کرے کہ: ’’پروردگار، جو کچھ ہوچکا،سو ہوچکا۔ اب یہ تیرا بندہ تیرا وفادار رہے گا اور نافرمانیوں سے دامن پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اگر نمازیں قضا ہوئی ہیں تو رمضان کے دنوں میں ان کو ادا کرنے کی فکر کرے۔ اگر زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے تو اسی رمضان میں حساب لگاکر ادا کرنے کا ارادہ کرلے۔ قدرے تکلیف اُٹھا کر جتنی ادا کرسکتا ہو ادا کرے، جو رہ جائے اللہ سے عہد کرے کہ رمضان کے بعد اہتمام کے ساتھ ادا کرے گا۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو، کسی کو ناحق ستایا ہو، یا کسی کا دل دکھایا ہو، یا کسی کا نقصان کیا ہو تو یہ ان سب سے معافی طلب کرے اور جب تک یہ لوگ معاف نہ کریں، اطمینان کا سانس نہ لے۔ اس لیے کہ بندوں کے حقوق جب تک بندے خود معاف نہ کردیں اللہ معاف نہیں کرتا۔
اصلاحِ حال کے معاملے میں عام طور پر ایک اور کوتاہی بھی عام ہے، وہ یہ کہ جب بھی انسان پر نیکی کے جذبات چھانے اور نیکیاں کرنے کا داعیہ اُبھرتا ہے، تو ادھر نگاہ نہیں جاتی کہ وہ کن کن بڑے اور چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہے،بلکہ اس کا ذہن کچھ نوافل و اذکار اور صدقات و خیرات کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور آدمی یہ سب کرکے اطمینان محسوس کرتا ہے کہ اس نے دین دارانہ زندگی اپنالی ہے اور فرماں بردار بندوں میں شامل ہوگیا ہے۔ حالانکہ اذکار و نوافل اور صدقات و خیرات کا اہتمام کرنے سے پہلے سوچنے اور کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ کن کن گناہوں میں وہ مبتلا ہے؟ کبیرہ گناہوں سے مخلصانہ توبہ کرے اور اللہ سے پختہ عہد کرے کہ آئندہ ان گناہوں کو جانتے بوجھتے کبھی نہیں دُہرائے گا۔ صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کرے۔ اگرچہ صغیرہ گناہ تو اللہ تعالیٰ نیکیوں کی برکت سے معاف کردیتا ہے، مگر کبیرہ گناہ وہ ہرگز معاف نہیں فرماتا۔ کبیرہ گناہ توبہ ہی کے ذریعے معاف ہوتے ہیں اور یہ توبہ ہی بندے کا وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ انتہائی خوش ہوتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ: ایک شخص ایک بے آب و گیاہ ریگستان میں سفر کررہا تھا، اُونٹ پر اس کے کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا۔ ایک جگہ وہ سستانے کے لیے رُکا تو اتفاق سے اس کی آنکھ لگ گئی۔ آنکھ جب کھلی تو اُونٹ غائب، وہ اِدھر اُدھر دوڑا، اُونٹ کو تلاش کیا مگر اُونٹ کا کچھ پتا نہ چلا۔ اب وہ زندگی سے مایوس ہوگیا کہ اس بے آب و گیاہ ریگستان میں اس کا کھانا پینا سب کچھ اُونٹ پر لدا ہوا تھا اور اُونٹ غائب ہے۔ پھر اس کی آنکھ لگ گئی۔ اب جو آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ اُونٹ سامنے کھڑا ہے۔ اس نے اُونٹ کی لگام پکڑی اور خوشی کی انتہائی مدہوشی میں کہتا ہے: اے اللہ! تُو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب! خوشی کی انتہا میں اُلٹا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جب اس کا بھٹکا ہوا بندہ توبہ کے ذریعے واپس ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس اُونٹ والے بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔(مسلم(

حقیقی توبہ کے تقاضے
رمضان سے واقعی فیض یاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ رمضان آنے سے پہلے ہی توبہ کرلے، تمام گناہوں سے رُک جائے اور اللہ سے سچا معاہدہ کرے کہ اب وہ کبھی ان گناہوں کی دلدل کے قریب نہ جائے گا۔ توبہ کے سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ انسان سارے گناہوں سے توبہ کرلے، خواہ وہ چھوٹے گناہ ہوں یا بڑے۔ یہ انداز صحیح نہیں ہے کہ کچھ گناہوں سے تو توبہ کرلے اور کچھ کے سلسلے میں اللہ سے معاملہ کرنے بیٹھ جائے کہ فلاں فلاں گناہ کچھ عرصہ اور کرتا رہوں گا، یا صرف رمضان تک ان سے باز رہنے اور ان کو ملتوی رکھنے کا عہد کرتا ہوں۔ یہ آدھی پونی توبہ پسندیدہ توبہ نہیں ہے۔ اللہ بندے سے کہتا ہے کہ میں سارے گناہ معاف کردوں گا، تو پھر اللہ کی معافی کو کچھ گناہوں کے حق میں اس لیے ملتوی رکھنا کہ ان سے ابھی اور لذت اندوز ہونے کی خواہش ہے۔ حقیقت میں یہ توبہ کی صحیح اسپرٹ نہیں ہے۔ سارے ہی گناہوں سے توبہ کرکے انسان کو چاہیے کہ خود کو اللہ کے حوالے کردے۔ اللہ کس پیار بھرے انداز میں اپنے بندے کو اپنے دربار میں معافی نامہ داخل کرنے کے لیے بلاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۵۳ (الزمر ۳۹:۵۳) (اے نبیؐ!) کہہ دیجیے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمھارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ وہ بڑا ہی معاف کرنے والا اور انتہائی رحم فرمانے والا ہے۔
اللہ تو کہے کہ میں سارے ہی گناہ معاف کردوں گا اور بندہ کچھ ہی گناہ معاف کرانے کا معاملہ کرے، تو یہ درحقیقت قلب کی صفائی کا وہ معاملہ نہیں ہے جو مطلوب ہے۔
توبہ کی تین شرطیں ہیں اور اگر بندے نے کسی انسان کا حق مارا ہے اور کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو پھر چار شرطیں ہیں:
٭ پہلی شرط یہ ہے کہ گناہ سے پوری طرح باز آجائے۔
٭ دوسری شرط یہ ہے کہ واقعی اپنے گناہوں پر شرمسار ہو۔
٭ تیسری شرط یہ ہے کہ وہ پختہ عزم کرے کہ اب کبھی کسی گناہ کو دوبارہ نہیں کرے گا۔
٭ اور اگر بندے کا حق مارا ہے ، اس کی کوئی چیز ناحق لی ہے تو وہ اس کو واپس کرے، خواہ جس طرح کی چیز بھی ہو۔ اگر اس کو کوئی اور تکلیف پہنچائی ہے تو اس کو بدلہ لینے کا موقع دے، یا یہ کہ وہ معاف کردے، اور اگر کوئی الزام لگایا ہے یا غیبت کی ہے، تو معاف کرالے کہ بندے سے معاملہ صاف کرلینا توبہ کی لازمی شرط ہے۔
توبہ کے بعد ہی آدمی اس لائق بنتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کا شایانِ شان استقبال کرسکے اور اس حال میں رمضان کا آغاز کرے کہ وہ فی الواقع رمضان سے فائدہ اُٹھانے کے لائق ہو۔ آپ کسی زمین میں اگر لہلہاتی کھیتی اور رنگارنگ مہکتے پھول کھلے دیکھنا چاہتے ہیں تو بیج ڈالنے سے پہلے زمین کے جھاڑ جھنکار صاف کرنا، اینٹ روڑے نکال باہر کرنا اور زمین کو پہلے نرم کرنا ضروری ہے۔ آپ سنگلاخ زمین میں یا جھاڑ جھنکار سے ڈھکی ہوئی زمین میں لہلہاتی کھیتی اور مہکتے پھول دیکھنے کی توقع پوری نہیں کرسکتے، اگر واقعی یہ سنجیدہ خواہش ہے کہ دل کی سرزمین میں نیکیوں کی بہار آئے، تو دل کی سرزمین کو پہلے گناہوں اور اللہ کی نافرمانیوں سے پوری طرح صاف کیجیے۔ تب ہی توقع کیجیے کہ اس میں نیکیوں اور بھلائیوں کی بہار آئے گی اور آپ اس بہار سے فیض یاب ہوسکیں گے۔
اس پہلی شرط کو پورا کرنے کے بعد آپ اس لائق ہیں کہ اب رمضان کا استقبال کریں اور یہ آرزو کریں کہ رمضان کے فیوض و برکات سے اللہ تعالیٰ آپ کا دامن بھردے، اور پھر آپ اس تلقین، تشویق اور ترغیب کے واقعی مخاطب ہیں، جو اللہ کے سچے اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبوں میں رمضان کی آمد کے مواقع پر دی ہے۔ آپ ان خطبات کے مخاطب بھی ہیں اور آپ کا یہ حق بھی ہے کہ آپ رمضان کی برکتوں سے مالا مال ہونے کے لیے سعی و جہد کریں۔
شعبان سے ہی فکرمندی
ذہنی تیاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ رمضان کے سارے روزوں سے فیض یاب ہوں۔ کوئی ایک روزہ اور کسی ایک شب کی تراویح بھی آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ اس لیے کہ رمضان کی کسی عبادت کے فیض سے محروم ہونے کے بعد اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے:
جس شخص نے رمضان کا کوئی ایک روزہ بھی کسی عُذر اور بیماری کے بغیر چھوڑ دیا، تو اس کی تلافی نہیں ہوسکتی، خواہ وہ زندگی بھر روزے رکھتا رہے۔ (بخاری، ابی ہریرہ ، ترمذی، ابواب الجمعۃ، ابواب الصوم عن رسولؐ اللہ، باب ماجاء فی الافطار متعمداً، حدیث ۶۸۷)
اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ رمضان کا صحیح صحیح حساب لگانے کے لیے شعبان کی تاریخیں محفوظ رکھنے کا پورا پورا اہتمام کرو۔ آپؐ نے اُمت کو بھی یہ تاکید فرمائی اور خود بھی آپؐ کا یہی عملِ مبارک تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں، فرمایا اللہ کے رسولؐ نے: شعبان کا چاند معلوم کرنے کا اہتمام رکھو، رمضان کی صحیح تاریخ معلوم کرنے کی خاطر۔(ترمذی،ابواب الصوم عن رسولؐ اللہ، باب ماجاء فی احصاء ھلال شعبان لرمضان ، حدیث ۶۵۵)
اور حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے کی تاریخوں کو یاد رکھنے کا اتنا اہتمام فرماتے تھے کہ کسی اور مہینے کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر جب چاند نظر آجاتا تو روزہ رکھنے لگتے اوراگر بدلی چھائی رہتی تو پھر شعبان کے ۳۰دن پورے کرتے۔(ابوداؤد، کتاب الصوم، باب اذا أغمی الشھر، حدیث: ۱۹۹۳(
روزہ اور حصولِ تقویٰ
اس ابتدائی اہتمام اور ذہنی تیاری کے بعد رمضان کی جن عبادتوں میں آپ دل کی لگن اور کامل شوق کے ساتھ لگیں گے، ان میں سب سے اہم روزہ ہے۔ روزہ فرض ہے اور اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ قرآن و سنت نے بھی اس کو فرض اور رکن قرار دیا ہے، اور اُمت کا بھی اس پر اجماع اور تعامل ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ (البقرہ ۲:۱۸۳) اے ایمان لانے والو! روزہ تم پر فرض کردیا گیا، جس طرح ان اُمتوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں۔
كُتِبَ کے معنی ہیں: ’لکھ دیا گیا‘۔ یہ لفظ ’فرض کردینے‘ کے معنی میں آتا ہے۔ یہ خطاب آپ ہی سے ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ ایمان لانے والے ہیں۔ روزہ ایمان والوں پر ہی فرض کیا گیا ہے اور ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اس فرض کا پورا پورا حق ادا کریں۔ پھر یہ روزہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہی پر فرض نہیں کیا گیا، بلکہ قرآن کے فرمان کے مطابق پچھلی اُمتوں پر بھی فرض رہا ہے اور کسی اُمت کا نظام عبادت روزے سے خالی نہیں رہا ہے۔ قرآن کے اس اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ انسان کی تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے ہر اُمت کے نظامِ عبادت میں روزہ لازماً شامل رہا ہے۔ روزے کا مقصود کیا ہے؟ اس کو بھی قرآن نے اسی آیت میں بیان کردیا ہے:
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(البقرہ ۲:۱۸۳) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
یعنی یہ کہ روزہ تقویٰ پیدا کرنے کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان حرام چیزوں سے اجتناب کرے بلکہ بے زاری دکھائے، اور حلال چیزوں کو نہ صرف اختیار کرے بلکہ جائز اور حلال چیزوں کا حریص ہو۔ اللہ کی عبادت، اطاعت اور فرماں برداری میں اسے لذت محسوس ہو، اور اللہ کی نافرمانی اور منکرات سے اس کا اندرون بے زار اور متنفر ہو۔ یہ کیفیت اور یہ جوہرِ ایمان پیدا کرنے میں روزہ اس قدر مؤثر اور کامیاب ہے کہ کوئی بھی دوسری عبادت اس کا بدل نہیں بن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی شہادت کے مطابق روزہ ہر اُمت کے نظامِ عبادت میں لازمی جز کی حیثیت سے شامل رہا ہے۔
اب، جب کہ ہم پر رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے، اگر ہم اپنے روزوں سے واقعی جوہرِ تقویٰ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں چند چیزوں کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے:
٭پہلی چیز یہ کہ ہم حلال روزی حاصل کریں۔ حرام کے قریب نہ پھٹکیں۔ سود، دھوکا، فریب اور حرام چیزوں سے قطعی اجتناب کریں۔ حرام روزی کے ساتھ کوئی بھی عبادت قبول نہیں اور کوئی بھی عمل، عملِ صالح نہیں۔
٭دوسرے یہ کہ ہم اپنی زبان پر قابو رکھیں، زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ غیبت، چغلی، بدکلامی وغیرہ سے اپنی زبان کو محفوظ رکھیں اور اگر کوئی ہمارے ساتھ سخت کلامی کرے یا لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہو، تو ہم اُس سے کہہ دیں کہ ہم روزے سے ہیں اور روزہ رکھ کر ہم یہ حرکات نہیں کرسکتے۔ ان حرکات سے زندگی کو پاک کرنے کے لیے ہی تو مَیں روزہ کا اہتمام کررہا ہوں۔ مَیں روزہ رکھ کر یہ کیسے کرسکتا ہوں۔
٭تیسرے یہ کہ اگر ہمارے ذمے کسی کا کوئی مالی حق ہے یا کسی کا کوئی حق ہم نے دبا رکھا ہے، یا کسی پر کوئی زیادتی کی ہے یا کسی کا ہم پر کوئی قرضہ ہے، تو اوّلین فرصت میں صاحب ِ معاملہ کا حق ادا کردیں، اور اگر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اُس سے مل کر معاملہ ضرور صاف کرلیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حق تو معاف کردیتا ہے، لیکن بندے کا حق اُسی وقت معاف کرتا ہے جب بندہ خود معاف کردیتا ہے۔
قرآن سے خصوصی تعلق
رمضان المبارک کی دوسری اہم عبادت تلاوتِ قرآن ہے۔ قرآن کو رمضان سے خصوصی مناسبت بھی ہے۔ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا ہے:
اِنَّـآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۝۱ۚۖ (القدر۹۷:۱) ہم نے اس کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔
اور یہ لیلۃ القدر یقینا رمضان المبارک ہی کی ایک رات ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی ہے۔ اس لیے کہ دوسری جگہ خود قرآن میں ارشاد ہے کہ:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ (البقرہ ۲:۱۸۳) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ یہ ارشادات قطعی شہادت ہیں، اس حقیقت کے کہ قرآن مجید رمضان کے مہینے میں نازل ہوا۔
ایک اہم مناسبت قرآن اور رمضان میں یہ بھی ہے کہ روزہ انسان میں جوہرِ تقویٰ پیدا کرتا ہے اور یہی جوہرِ تقویٰ انسان کو اس لائق بناتا ہے کہ وہ قرآنِ پاک سے ہدایت پائے۔ ارشاد ہے:
ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرہ ۲:۲) یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔
قیامِ لیل، یعنی تراویح میں تلاوتِ قرآن، قرآن کی سماعت،قرأت اور قرآن سے شغف اور استفادے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ قرآن بغیر سمجھے پڑھنا اور سننا بھی باعث ِ اجر و ثواب اور قلب کو گرمانے کا وسیلہ ہے، لیکن اسی پر اکتفا کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی ایسے حافظ و قاری کے پیچھے قرآن سنیں جو نمازِ تراویح کے بعد قرآن کے پڑھے ہوئے حصے کے بارے میں آپ کو کچھ بتا بھی سکے، اور خود بھی دن میں ترجمے سے قرآن پڑھنے کا اہتمام کریں۔ اگر اللہ کے فضل و کرم سے آپ عربی جانتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ ختم تراویح کے علاوہ بطور خود بھی تدبر اور غور و فکر کے ساتھ ایک بار قرآنِ پاک کا مطالعہ ضرور کریں۔
اعتکاف کا اہتمام
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بھی سنّت ہے۔ یہ سنّت مؤکدہ کفایہ ہے۔ کچھ لوگ ادا کرلیں تو سب کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے، اور اگر بستی کا کوئی آدمی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب گناہ گار ہوتے ہیں۔ یہ اعتکاف پورے دس دن کا ہوتا ہے، اور اگر ۲۹ کا چاند ہوجائے تو نو دن کا رہ جاتا ہے۔ اعتکاف کے معنی یہ ہیں کہ رمضان کے پورے آخری عشرے میں آدمی اللہ کا ہورہے اور مسجد میں آکر پڑجائے۔ ذکر و فکر، تسبیح و تہلیل، نماز و تلاوت، قرآن اور دینی کتب کا مطالعہ وغیرہ ہی اس کا مشغلہ ہو۔ اور ایک اہم عبادت صدقۂ فطر بھی ہے جو نمازِ عید سے پہلے ادا کیا جانا چاہیے۔

روزے اور رمضان کی فضیلت

روزے اور رمضان کی فضیلت
سید ابوالااعلیٰ مودودی

روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور آدمی کے جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ (ابن ماجہ(
حقیقت میں تو تمام عبادتیں ایک لحاظ سے زکوٰۃ ہی کی تعریف میں آتی ہیں لیکن بطور اصطلاح صرف مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ سے تعبیر کیا گیا ہے… زکوٰۃ اصل میں یہ ہے کہ اللہ کا دیا ہوا جو کچھ آپ کے پاس ہے اُس پر اللہ کا حق تسلیم کریں اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ چنانچہ روزہ آدمی کے جسم کی زکوٰۃ ہے، اور اس زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ آپ روزہ اس احساس کے ساتھ رکھیں کہ میرے رب نے مجھ پر جو بے شمار احسانات کیے ہیں اور مجھے جسم جیسا عظیم الشان خادم عطا فرمایا ہے، یہ روزہ مَیں اس کے شکرانے کے طور پر رکھ رہا ہوں۔ اگر کسی شخص نے محض اپنی صحت درست کرنے کے لیے روزہ رکھ لیا تو وہ جسم کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ وہ جسم کی زکوٰۃ اُس وقت شمار ہوگا جب کہ وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے جسم میں اس کا حق مان کر رکھا جائے… اسی طرح آپ کے اوقات کی زکوٰۃ ہے، جو وقت بھی آپ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے صرف کریں گے وہ لامحالہ آپ کے وقت کی زکوٰۃ ہوگی… اسی طرح آپ کی قابلیتوں کی زکوٰۃ ہے، جو کچھ قابلیتیں اللہ نے آپ کو عطا کی ہیں اگر آپ اُن کو خدا کا دین پھیلانے میں، لوگوں کو اس کے دین کا قائل کرنے میں، اور کفر و الحاد کا مقابلہ کرنے میں صرف کرتے ہیں تو یہ چیز آپ کی دماغی اور علمی قابلیتوں کی زکوٰۃ ہوگی… چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی آپ کو دی ہے اُس پر اللہ کا حق ہے، اور جب آپ یہ حق ادا کرتے ہیں تو گویا اس چیز کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
)کتاب الصوم، نومبر 2000ء، ص 243-242(

روزے کی غیر معمولی فضیلت
دوسری تمام نیکیاں آدمی کسی نہ کسی ظاہری فعل سے انجام دیتا ہے۔ مثلاً نماز ایک ظاہری فعل ہے۔ نماز پڑھنے والا نماز میں اٹھتا اور بیٹھتا ہے، رکوع اور سجدہ کرتا ہے، اس طرح یہ ایک نظر آنے والی عبادت ہے۔ اسی طرح حج اور زکوٰۃ کا معاملہ ہے۔ لیکن اس کے برعکس روزہ کسی ظاہری فعل سے ادا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا مخفی فعل ہے جو فقط آدمی اور اس کے خدا کے درمیان ہوتا ہے… اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ روزہ دراصل اللہ کے حکم کی تعمیل کی ایک مخفی شکل ہے۔ مثلاً نہ کھانا اور نہ پینا، اور اسی طرح جن دوسری چیزوں سے منع کیا گیا ہے اُن سے باز رہنا۔ اس مخفی فعل کو یا تو آدمی خود جان سکتا ہے یا اس کا رب… کسی تیسرے کو معلوم نہیں ہوسکتا کہ مخفی فعل اس نے کیا ہے یا نہیں۔ مثلاً اگر ایک آدمی چھپ کر کھا پی لے تو کسی کو اس کا علم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ روزہ نہ رکھتے ہوئے بھی کہہ سکتا ہے کہ میں روزے سے ہوں، اور کوئی شخص یقین کے ساتھ یہ نہیں جان سکتا کہ آیا وہ روزے سے ہے یا نہیں۔ اگر وہ روزے سے ہے تو اس بات کو صرف وہ جانتا ہے، اور اگر روزے سے نہیں تو اس کو بھی اُس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اسی وجہ سے روزے کا معاملہ صرف اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہوتا ہے، اور اسی بنا پر اس میں ریا کا امکان نہیں ہوتا۔ ایک آدمی دنیا کو دکھانے کے لیے بے شک یہ کہتا پھرے کہ میں روزے سے ہوں لیکن حقیقتِ صوم کے اندر اس ریاکاری کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ وہ خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کی اس غیر معمولی فضیلت و قبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ روزہ دار اپنی شہوتِ نفس اور کھانے پینے کو صرف اللہ ہی کی خاطر چھوڑتا ہے، اس لیے وہ بھی اسے آخرت میں بے حد و حساب اجر سے نوازے گا۔
)کتاب الصوم، نومبر 2000ء، ص 36-35(

نیکی کی حرص پیدا کرنا
دوسری احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ روزے کی حالت میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے چاہئیں اور ہر بھلائی کا شوقین بن جانا چاہیے۔ خصوصاً اس حالت میں اُس کے اندر اپنے دوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ تو پوری شدت کے ساتھ پیدا ہوجانا چاہیے، کیونکہ وہ خود بھوک پیاس کی تکلیف میں مبتلا ہوکر زیادہ اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے کہ دوسرے بندگانِ خدا پر غریبی اور مصیبت میں کیا گزرتی ہوگی۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ خود سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں عام دنوں سے زیادہ رحیم اور شفیق ہوجاتے تھے۔ کوئی سائل اس زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سے خالی نہ جاتا تھا۔ اور کوئی قیدی اس زمانے میں قید نہ رہتا تھا۔
)خطبات، دسمبر 2004ء، ص 167(

انفاق فی سبیل اللہ
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’یہ صبر اور مواخاۃ کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے تو اس کے گناہوں کی مغفرت کا اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہوگا، اور اس کے لیے اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اس روزہ دار کا روزہ رکھنے کا ہے بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔‘‘ (بیہقی(
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رب کعبہ کی قسم وہ لوگ بہت خسارے میں ہیں جو بڑے دولت مند اور سرمایہ دار ہیں، ان میں سے خسارے سے محفوظ وہی لوگ ہیں جو اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں (ہر طرف خیر کے مصارف ہیں)، اپنی دولت کشادہ دستی سے خرچ کرتے ہیں۔ مگر دولت مندوں اور سرمایہ داروں میں ایسے بہت کم ہیں‘‘۔ (متفق علیہ(

رمضان معرفت رب کا مہینہ


رمضان معرفت رب کا مہینہ
جمعہ امین عبدالعزیز
ترجمہ: محمد ظہیرالدین بھٹی

رمضان مکرم کی آمد پر مسلمانوں کا خوش ہونا برحق ہے، کیوں کہ یہ تمام بھلائیوں کو لے کر آتا ہے۔ اس کا دن روزہ، اس کی رات قیام اور اس کے شب و روز نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے ہیں۔ یہ بخشش کا موسم ہے۔ اس میں نیکیوں کے اجر و ثواب میں اضافہ ہے۔ لہٰذا، اس کی نعمتوں، عطیّوں اور مہربانیوں سے مسرور ہونا ہر مسلمان کا حق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’تمھارے زمانے کے ایام میں تمھارے رب کے تمھارے لیے عطیات ہوا کرتے ہیں، لہٰذا ان عطیات کو حاصل کرنے میں لگے رہو‘‘۔
یہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مقدس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس ماہ میں نفل کی ادایگی فرض کی مانند ہے اور اس میں فرض ادا کرنا غیر رمضان میں ۷۰فرضوں کی ادایگی کی طرح ہے۔ اس ماہ کی ان ہی برکات کی خاطر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رجب ہی سے اس کے استقبال کی تیاری شروع فرماتے تھے۔
رمضان نفس و روح کی راحت کا مہینہ اور دل کی خوشی کا زمانہ ہے۔ اس میں ایمان کے مظاہر ہر طرف نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت ہوتی ہے، خود غرضی نہیں بلکہ ایثار ہوتا ہے۔ اس میں سختی و تشدد نہیں بلکہ کرم و مہربانی ہوتی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں مسلمان کو خواہ کوئی کتنا ہی برانگیختہ کر دے یا اسے کوئی کتنا ہی غصے میں لے آئے، یااگرخدانخواستہ اسے کوئی گالی بکے یا اس پر کوئی الزام تراشے، ان تمام صورتوں میں مسلمان بس یہ کہتا ہے کہ: ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکالتا جو بے معنی ہو، جو نفس کی گہرائیوں میں ثبت نہ ہو، جو اس کے ایمان کی ترجمانی نہ کرتا ہو، جس سے شیاطین جِنّ و انس پر اسے فتح و کامیابی نہ ملتی ہو۔ مسلمان ’’میں روزے سے ہوں‘‘ کے الفاظ دہراتا ہے تو اس کا ظاہر و باطن ہم آہنگ ہوتا ہے۔ وہ ایک اخلاقی اسلامی شخصیت کا مظہرِ کامل بن کر یہ الفاظ ادا کرتا ہے۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، سرکش جنوں کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے، دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہنے دیا جاتا۔ بہشت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اوراس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہنے دیا جاتا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ! اور اے شر کے طلب گار پیچھے ہٹ!‘‘۔ اس نداے ربانی پر لبیک کہنے کے لیے کیا مسلمان نیکی کی چاہت میں آگے نہ بڑھے گا؟ ضروربڑھے گا۔
اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ آپ اس ماہِ مبارک میں نازل ہونے والی کتاب کی تلاوت کیجیے اور اس میں خوب تدبر کیجیے۔ آپ غور کیجیے تو آپ کی سماعت سے مخاطب ہو کر کوئی کہہ رہا ہوگا: فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَo )الانفطار ۸۲:۸) ’’اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا‘‘۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کی نوک پلک سنواری، اسے پیدا کیا اور اسے راہ نمائی دی۔
دورانِ تلاوت ہی کوئی آپ سے مخاطب ہو کر آپ کو ایک زندہِ جاوید حقیقت سے آگاہ کررہا ہوگا: یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّک کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ) الانشقاق ۸۴:۶) ’’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے اور اُس سے ملنے والا ہے‘‘۔
لہٰذا، توبہ کے لیے جلدی کیجیے، اپنے ربّ کی طرف رجوع کیجیے تاکہ آپ تروتازہ چہرے کے ساتھ اس سے ملاقات کر سکیں۔ آپ جلدی قدم بڑھائیے اور اس کے جودو سخا، کرم و لطف اورمغفرت و احسان کے عطیات کو سمیٹ لیجیے۔
آپ اپنے حواس خمسہ پر غور کیجیے، اپنی پیدایش کے بارے میں تدبر کیجیے، اپنی ذات کے بارے میں سوچیے۔ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے جسم کے ہر جز کو خالقِ ارض و سما نے بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے۔ پھر اس نے ہر عضو کو جو کام کرنا ہے اس سے ہم آہنگ کیا ہے۔ دیکھیے آنکھیں، زبان، ہونٹ اور جسم کے مختلف اعضا اور نظام اپنے اپنے افعال کے ساتھ کیسی مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ کون سی ہستی ہے جس نے انھیں اس کام کو کرنے کے ہدایت کی ہے؟ کوئی عضو سننے کے لیے ہے، کوئی دیکھنے کے لیے ہے، کوئی چکھنے اور کوئی چھونے کے لیے ہے، کوئی ہضم کرنے کے لیے ہے۔ انسان اگر اپنے تمام اعضا کو اپنے خالق کی مرضی کے مطابق استعمال کرے تو وہ جنت کا حق دار ٹھیرتا ہے۔
اگر اس ماہِ مبارک میں اترنے والی کتاب نہ اتری ہوتی تو یقینا انسان بھٹکتا رہتا، اور اپنے آپ پر غور و فکر سے محروم رہتا۔ انسان کو کون بتاتا کہ وہ اپنی پیدایش میں، اپنے حواس میں، اوراپنے جسم کے مختلف نظاموں میں ایک معجزہ ہے، قدرت کا شاہکار ہے۔ اس کا جسم اور اس کے تمام اعضا اس کائنات کے ساتھ کس قدر ہم آہنگ ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی سلب کر لی جائے تو انسان اورکائنات کے مابین رابطہ واتصال ختم ہو جائے۔ ایسی صورت میں انسان کسی آرزو کو پورا کرنے یا کسی چیز کو دیکھنے یا کسی معاملے میں غور و فکر کرنے سے قاصر رہ جائے۔
بلاشبہہ اللہ ہی خالق ہے ، قادر ہے، کائنات کا اور انسان کا پیدا فرمانے والا ہے۔ وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ)الذٰریٰت ۵۱:۲۱) ’’اور خود تمھارے اپنے وجود میں بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم کو سوجھتا نہیں‘‘۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّط یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عِلْمًا)الطلاق ۶۵:۱۲) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قِسم سے بھی اُنھی کے مانند۔ اُن کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمھیں اِس لیے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے‘‘۔
روزے کی حالت میں ان تمام امور پر غوروفکر سے آپ عبادت کے سا تھ ساتھ ایمان کی لذت سے بھی آشنا ہوں گے۔ آپ کی عبادت محض رسم نہیں رہے گی۔
آپ اپنے رب کو پہچانیے، اپنے آپ پر غور کیجیے، اس کائنات کو دیکھیے جس نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ آپ اپنے اور کائنات کے مابین موازنہ کیجیے، اور قرآن کے الفاظ میں اپنے آپ سے دریافت کیجیے: ’’کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا، اس کی چَھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا، اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔ اس کے بعد اس نے زمین کو بچھایا، اُس کے اندر سے اس کا پانی اورچارہ نکالا، اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے‘‘۔ (النّٰزٰعت ۷۹: ۲۷-۳۳)۔ قرآن مجید میں غور کرنا چاہیے۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا)سورۃمحمد ۴۷:۲۴) ’’کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘
انسان اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے ساتھ خود زیادتی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان خیانت کیوں کرتا ہے؟ اپنے پروردگار کی معصیت کیوں کرتا ہے؟ وہ تکبر کیوں کرتا ہے؟ اپنے آپ کو بڑا کیوں سمجھتا ہے؟ کیا غور وفکر تجھے اللہ کے شایانِ شان قدر دانی کی دعوت نہیں دیتا کہ تو اللہ کی رحمت کی امید رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرے؟ قرآن نے اس ماہِ مبارک میں نازل ہو کر تجھے وہ کچھ بتا دیا جو تو نہیں جانتا تھا اور یوں اللہ نے تجھ پر فضلِ عظیم کیا۔
امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں: ’’سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تم اللہ کو جانتے ہو اور پھر اس سے محبت نہیں کرتے۔ اس کے منادی کی پکار سنتے ہواور پھر جواب دینے اور لبیک کہنے میں تاخیر سے کام لیتے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں کتنا نفع ہے مگر تم دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتے پھرتے ہو۔ تم اس کے غضب کی جانتے بوجھتے مخالفت کرتے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ اس کی نافرمانی کی سزا کتنی بھیانک ہے مگر پھر بھی تم اس کی اطاعت کرکے اس کے طالب نہیں بنتے ہو‘‘۔
افسوس کہ تم اس ماہ مبارک کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتے ہو اور ان کے دوران اللہ کے قرب کو تلاش نہیں کرتے۔ ابن قیمؒ نے کیا ہی خوب فرمایا ہے: روزے دار اپنے معبود کی خاطر اپنی لذتوں کو ترک کرتا ہے۔ وہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کو اپنے نفس کی لذات پر ترجیح دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جو کوئی بندہ، اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اس دن کی وجہ سے اللہ جہنم کواس شخص کی ذات سے ۷۰ خریف دُور کر دیتا ہے‘‘۔
امام حسن البناؒ فرماتے ہیں: ’’لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو کوئی بھلائی کرتا ہے یا نیکی کی بات کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا فوری معاوضہ ملے۔ اس کے بدلے میں مال ملے جسے وہ جمع کرے، یا اسے شہرت و نیک نامی ملے، یا اسے کوئی مرتبہ و عہدہ ملے، یا اسے کوئی لقب ملے کہ اس لقب کے ساتھ اس کا شہرہ ہر طرف ہو۔ دوسرا وہ ہے جس کا ہر قول و فعل محض اس لیے ہوتا ہے کہ وہ خیر کو خیر ہونے کی وجہ سے چاہتا ہے۔ وہ حق کا احترام کرتا ہے اور حق سے اس کے حق ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ دنیا کے معاملے کا سدھار صرف اورصرف حق و خیر سے ہی ہے۔ انسان کی انسانیت دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو حق و خیر کے لیے وقف کر دے‘‘۔
اے میرے مسلمان بھائی! آپ ان دو قسموں میں سے کون سی قسم کے مسلمان بننا چاہتے ہیں؟ کتنا اچھا ہو کہ آپ دوسری قسم میں داخل ہوں اور ایسے مسلمان بن جائیں جو حکم کو بجالاتا ہے، جس سے منع کیا گیا ہے اسے ترک کر دیتا ہے، جو کچھ مل گیا ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ انعام ملے تو شکر کرتا ہے، آزمایش آئے تو صبر کرتا ہے، گناہ کرے تو مغفرت طلب کرتا ہے۔ آپ بھی ایسے ہی ہو جائیے۔ ایسے لوگوں میں شامل ہو جائیے جن کا دایاں ہاتھ صدقہ دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔ آپ کم زور کی مدد کیجیے۔ صلہ رحمی کیجیے۔ لوگوں کے بوجھ اٹھایئے، لوگوں کی حصولِ حق میں مدد کیجیے۔ ضرورت مند کا ساتھ دیجیے اور اس کی مدد کے لیے تعاون کیجیے۔ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھیے، بیوہ کی سرپرستی کیجیے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو خطرے میں ہے ان کے لیے دعائیں کیجیے۔ آپ اُن مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کیجیے، جن کے گھروں کو منہدم کیا گیا اور انھیں ان کے علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا۔
آپ صلاح الدین ایوبی کا یہ قول یاد رکھیے: ’’میں کیسے ہنسوں، جب کہ اقصیٰ اسیر ہے؟‘‘
آپ رات میں ضرور نوافل ادا کیجیے تاکہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’راتوں کو کم ہی سوتے تھے، پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے، اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے‘‘۔(الذٰریٰت ۵۱: ۱۷۔۱۹(
دعا مومن کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ دعا کیجیے کہ اللہ ظالموں کے مقابلے میں اہلِ ایمان کی مدد فرمائے۔ دعا میں الحاح دزاری ضرور کیجیے۔ اللہ ظالم سامراجیوں، ان کے آلۂ کاروں کو برباد کرے۔
شیطان کے پھندے سے بچنے کی کوشش کیجیے۔ یہ شیطان انسانوں میں سے ہوں یا جنوں میں سے۔ یہ شیطان، آپ کے روزے کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ وہ آپ کو تراویح اور تہجد سے ہٹا کر فلمیں دیکھنے پر آمادہ کریں گے۔ وہ آپ کو موسیقی اور لغویات میں الجھائیں گے، اور آپ ان کے چکّر میں آ کر روزوں کے مقاصد فراموش کر دیں گے اور پھر صیام و قیام کو ہی نظر انداز کردیں گے۔ حالاںکہ رات کے قیام کے بارے میں رب العزت فرماتا ہے:
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق عَسٰٓـے اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا o(بنی اسرائیل ۱۷:۷۹) اوررات کو تہجد پڑھو، یہ تمھارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمھارا رب تمھیں مقامِ محمود پر فائز کردے۔
شیطان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ رمضان میں مومن ایک ایسی شخصیت بن جاتا ہے جس پر ایمان کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہی شخصیت شرعاً مطلوب ہے۔ اسی شخصیت کے ہاتھوں نصرت ملتی ہے۔ اس لیے شیطان آپ کے اور اس شخصیت کی تشکیل کے مابین حائل ہو جائے گا، کیوں کہ ایسی شخصیت کی تشکیل میں اس کی ہلاکت ہے۔ اگر بحمدللہ، رمضان کے اثرات سے اسلام کی مطلوب شخصیت وجود میں آئے تو یہ انسانیت کی فتح ہے۔
رمضان کے اس پیغام اور وقت کی اس آواز کو توجہ سے سنیے اور اس پر غور کیجیے۔ اس طرح آپ کامران و کامیاب لوگوں میں شامل ہو جائیںگے اور ناکام و نامراد نہ ہوں گے۔

روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے

روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے
پروفیسر خورشید احمد

روزہ ایک عظیم عبادت اور دین کے اُن ستونوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے جن پر اس کی پوری عمارت مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر ایک بہت ہی عظیم الشان انعام ہے اور اس نعمت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
اللہ کے اس انعام کا ایک پہلو ایسا ہے جو اسے عبادات اور احکامِ الٰہی میں منفرد بنادیتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس کا گواہ اللہ اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز عمادالدین ہے مگر وہ دل کی حضوری کے ساتھ جسم کے ایسے اعمال و اظہار پر مشتمل ہے جن کی وجہ سے جماعت ہی میں نہیں، تنہائی میں، حتیٰ کہ گھر کی چار دیواری میں ادا کی جانے والی نماز بھی دوسروں کی نظر سے اوجھل نہیں ہوسکتی۔ حج تو پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اجتماع ہے ہی۔ اسی طرح زکوٰۃ اگر مکمل اخفا کے ساتھ ادا کی جائے تب بھی کم از کم ایک شخص، یعنی اس کا وصول کرنے والا تو اس راز میں شریک ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص سب کے ساتھ سحری کرے اور سب کے ساتھ افظار کرے، تب بھی تنہائی میں اس کے کھانے پینے سے احتراز کرنے کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص دنیا کو دھوکا دینے کے لیے روزے کے تمام اجتماعی آداب کا احترام کرے لیکن تنہائی میں کھا پی لے، تو دنیا کی کوئی آنکھ اس کے روزے پر شک نہیں کرے گی، البتہ اللہ اس کی حرکات سے بخوبی واقف ہوگا۔
روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا گواہ ہے۔ اس طرح بندے کے رب سے تعلق کا یہ پہلو روزے کی امتیازی شان ہے کہ جلوت اور خلوت سب اللہ کے حکم اور اس کی رضا کے پابند ہیں۔ روزہ اپنے تمام اجتماعی پہلوؤں کے باوجود صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب کریم نے یہ مژدہ بھی سنا دیا ہے کہ صرف وہ اس کا اصل اجر دینے کا ذمے دار ہے۔ گویا روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے اور صرف رب کا بندہ بن جانے کی علامت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو اسے اسلام کی روح اور اس کے اصل جوہر کا مظہر بناتی ہے۔
صرف اللہ کابندہ بننے اور اس کی رضا کے لیے بھوک، پیاس اور شہوت کی جائز ذرائع سے تسکین سے بھی اجتناب، انسان کو تقویٰ کی اس نعمت سے مالامال کرتا ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور جو انسان میں وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے جو اسے اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہونے میں ممد و معاون ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے جن کو اہل قرار دیا ہے وہ اصحاب تقویٰ ہی ہیں (البقرۃ2:2)۔ روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے جو اسے ہدایت ربانی سے مستفید ہونے اور اس کا علم بردار بننے کے لائق بناتا ہے :’’اے ایمان لانے والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہوسکے‘‘۔(البقرہ2: 183) رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے اور روزے اور قرآن کا تعلق ایک جان اور دو قالب جیسا ہے۔ ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کہ روزے رکھے۔(البقرہ2:185)
ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز غار حرا میں ہوا جہاں حضورﷺ مسلسل عبادت فرماتے اور روزے رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ ؑکو جب تورات سے نوازا گیا تو ان ایام میں آپ بھی روزے کا اہتمام فرمارہے تھے۔ روزہ اور قرآن کا یہی ناقابلِ انقطاع تعلق ہے جس کا تجربہ اور جس کی شہادت امتِ مسلمہ ماہِ رمضان میں قرآن سے تعلق کی تجدید کرکے کرتی ہے۔ اس طرح روزہ ہماری زندگیوں میں ہدایت ربانی کو حرزِ جاں بنانے کا ذریعہ اور وسیلہ بن جاتا ہے۔یہ اللہ کا عظیم ترین انعام نہیں تو اور کیا ہے؟
اس انعام الٰہی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ روزے کی حقیقت کو ٹھیک سے سمجھا جائے اور محض روایتاً یا مسلم معاشرے کے ایک معمول کے طور پر نہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ اور اس کے مقاصد اور آداب کے پورے ادراک اور اہتمام کے ساتھ روزہ رکھا جائے، نیز رمضان میں حاصل کی جانے والی تربیت کی روشنی میں سال کے باقی ایام گزارے جائیں۔ جس طرح چارجنگ کے بعد گاڑی کی بیٹری اپنا کام ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہے، اسی طرح انسانی جسم اور زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے رمضان کے روزے اور قرآن سے تجدیدِ عہد، انسانی جسم و جان کی بیٹری کو چارج کرتے ہیں اور پھر باقی گیارہ مہینے اس قوت کے سہارے یہ گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔ اس سے بڑا انعام ہمارے رب کی طرف سے اور کیا ہوسکتا ہے؟
بندے کے اپنے رب سے تعلق کے تین پہلو ہیں: پہلا اور سب سے اہم رب کو پہچاننا، اس سے عہدِ وفا باندھنا، ہر لمحے اس عہد کا ادراک رکھنا اور ہر دوسری غلامی اور وفاداری سے نجات پاکر صرف اللہ، اپنے خالق اور مالک کا بندہ بن جانا ہے۔ دوسرا پہلو فرد کی اپنی ذات کی تربیت، تزکیہ اور ترقی ہے تاکہ وہ اپنے رب کے انسانِ مطلوب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کرسکے۔ اس کے لیے نمونہ اللہ کے پیارے رسولﷺ کا اسوہ مبارکہ اور سنتِ مطہرہ ہے۔ اپنی ذات کی مسلسل اصلاح کی کوشش اصلاحِ ذات اور بندگی رب کا اولین اور مستقل تقاضا ہے۔اس تعلق کا تیسرا پہلو دنیا اور اس کے رہنے والوں سے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی یہ رہنمائی بھی دیتی ہے کہ دوسرے انسانوں، معاشرے، ریاست، انسانیت اور کائنات، ہر ایک سے کس طرح معاملہ کیا جائے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور حق و انصاف کے قیام کے ذریعے انسانوں کی زندگی خیر و فلاح کا نمونہ بن جائے۔
اسلام ان تینوں جہتوں کے باب میں صحیح رویے کا نام ہے۔ یہ سب اللہ کی بندگی کے ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں اور کسی بھی جہت کو نظرانداز کرنا یا عبدیت کے دائرے سے باہر تصور کرنا شرک، بغاوت اور طاغوت کا بندہ بننے کے مترادف ہے۔ روزہ ان تینوں میدانوں میں بیک وقت بندے کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے اور اس تعلق کی روشنی میں زندگی کے ہر دائرے اور پہلو کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق گزارنے اور نور ربانی سے منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔