Search This Blog

Showing posts with label HEALTH. Show all posts
Showing posts with label HEALTH. Show all posts

Thursday, 9 May 2019

روزے کے انسانی صحت پر مثبت اثرات Positive impact of fasting on health

روزے کے انسانی صحت پر مثبت اثرات
سلیم انور عباسی
رمضان المبارک میں روزہ رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ چشم پوشی صرف اسی صورت ممکن ہے جب کسی مرض میں مبتلا ہوں، تاہم ایسی صورت میں صحت یابی کے بعد روزے پورے کرنا لازم ہے اور اگرمرض ایسا ہے جس میں مستقبل میں بھی روزے رکھنے کا امکان نہ ہو تو پھر مسکین کو کھانا کھلانا ہوتا ہے۔ روزہ تزکیہ نفس کا نام ہے، ساتھ ہی جب ہم دن بھر کچھ کھاتے پیتے نہیں تو کئی عوارض سے بھی نجات پاتے ہیں۔
تمباکو نوشی جیسی بُری عادتوں سے نجات
مضان المبارک کو پان،گٹکا،سگریٹ جیسی بری عادتوں پر قابو کرنے کے لیے بہترین مہینہ مانا جاتا ہے۔ انسان اپنی علت و جبلت پر قابو پاکر خود کو خواہشوں کی غلامی سے چھٹکارا دلاتا ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے رمضان المبارک کوتمباکو نوشی اور منشیات کو خیر بادکہنے کے لیے بہترین مہینہ قرار دیا ہے۔ کوئی بھی شخص جو سگریٹ، پان اور گٹکے کے بغیر ایک گھنٹہ نہیں رہ پاتا، وہ روزے کی حالت میںاپنی قوتِ مدافعت سے تقریباً14گھنٹے ان سے دور رہتا ہے۔ اگر کوئی اس بات کا ارادہ کرلے کہ اس نے سگریٹ نہیں پینی،پان اورگٹکاوغیرہ نہیں کھانا تو ماہِ صیام کا مبارک مہینہ ان بری عادتوں کو چھوڑنے کا سب سے اچھا موقع ہے۔
دماغی صلاحیت بڑھنا
امریکی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق رمضان کے دوران روزہ داروں کی ذہنی توجہ بڑھ کر دماغ کے نیوروٹک فیکٹر کو متحرک کرتی ہے،جس سےزیادہ برین سیلز پیدا ہوکر دماغ کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ برین فنکشن کے بہتر انداز میں کام کرنے سے تخلیقی صلاحیتیں اُجاگر ہوتی ہیں۔ روزے کی حالت میں گردے کے غدود سے خارج ہونے والے کارٹیسول ہارمون کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے،جس سےدماغ پر دباؤ اور تناؤ کی کیفیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ روزے کی حالت میں خون میں اینڈرونز کی سطح بہتر ہوجاتی ہے جو آپ کو غنودگی سے بچاکر متحرک و بیدار رکھ کردماغی وذہنی صحت کے لیے سودمند ثابت ہوتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول ہونا
ذیابطیس ٹائپ 2میں مبتلا خواتین وحضرات کے لیے کئی تحقیقی مطالعے خوشخبری ساتھ لائے ہیں کہ روزہ رکھنے سے شوگر لیول کنٹرول رہتا ہے جب کہ انسولین کی مدافعت کم ہوکر خلیے زیادہ روانی سے گلوکوز بناتے ہیں۔ سوجن کم ہوکرامراض قلب، سرطان وغیرہ جیسے امراض سے نجات دلاتی ہے۔
دل کی بہتر صحت
دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں لیکن روزے دار کو ان شکایات کاسامنا نہیں کرنا پڑتا۔ نظام انہضام بہتر انداز میں کام کرتے ہوئے خون کی گردش رواں رکھتا ہے، جس سے شریانوں اور پٹھوں میں کھنچا ؤ نہیں ہوتا اور آپ چاق و چوبند رہتے ہیں۔ الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں میں مبتلا افراد بھی روزہ رکھ کر صحت مند رہ سکتے ہیں۔
موٹاپے سے نجات
رمضان المبارک میں اگر ہم فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی غذاؤں سے دور رہتے ہیں تو ہمارا نظام ہضم درست انداز میں کام کرتا ہے۔ کیلوریز کی کم مقدار لینے سے وزن گھٹ کر موٹاپے سے نجات دلاتا ہے۔ اتناہی نہیں، جسم سےزہریلے اورفاسد مادے بھی ختم ہوجاتے ہیں اور بد ہضمی کی جملہ شکایات دور ہوجاتی ہیں۔
جوڑوں کے درد، جگر کی سوزش میں کمی
برلن یونیورسٹی اسپتال کے طبی ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ، جس میں1400افراد نے حصہ لیا، کے مطابق روزے سے جوڑوں کے درد اور جگر کی سوزش میں کمی ہوتی ہے ۔سردرد اور بے خوابی کی شکایات نہیں رہتی، کولیسٹرول نارمل اور موٹاپا کم ہوتا ہے۔

جِلد کی صحت، بیکٹریا سے نجات
طبی ماہرین کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں ایسے ہارمونز متحرک ہوجاتے ہیںجو جِلد کی خوبصورتی، ناخنوں کی چمک اور بالوں کو مضبوط کرتے ہیںاور ان کی وجہ سے انفیکشن اور بیکٹریا کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔یہ ہارمونز جینز میں تبدیلی کرکےعمر رسیدگی کے اثرات روک کر جِلد کو مضبوط اور جھریوں کو کم کرکے سدا بہار جوانی سے ہمکنار کرتے ہیں۔
سحری وافطاری کے مابین متوازن غذا
ہمارے ہاں سحری وافطار کے موقع پر شاہی اہتمام کرتے ہوئے ناشتے اور دوپہر کی بھوک کو مٹانے کے لیے اتنا زیادہ کھالیا جاتا ہے کہ پھر پورا دن غذا کا بوجھ سوار رہتا ہے۔ روزے کے طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے مناسب وموزوں مقدار میں صرف اتنا پانی اور غذا استعمال کیجئے کہ جسم بخارات کا شکار نہ ہو۔ ماہرین طب کھجور میں شامل اجزا کو متوازن غذا کا جوہر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سحری و افطارکے دوران تین کھجور آپ کو31گرام کاربو ہائیڈریٹس دیتی ہیں، جو توانائی کی سب سے بڑی مقدار مانی جاتی ہے۔ کھجور میں فولاد، پوٹاشیم، میگنیشیم اور وٹامن بی کی زیادہ مقدار اسے روزے دار کے لیےبہترین غذا ثابت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف کھجور سے سحری کرنے والے روزہ دار بھی دن بھر ہشاش بشاش رہتے ہیں۔
میٹابولزم کا درست کام کرنا
پورا دن کچھ نہ کھانے سے روزے دار کا میٹابولزم درست انداز میں کام کرتے ہوئے غذا کو جذب کرکے نیوٹریشنر کی مقدار بڑھاتا ہے، اس طرح جسم کی صفائی ہوجاتی ہے۔

Saturday, 19 May 2018

رمضان اور ہماری صحت Ramadan and Health

رمضان اور ہماری صحت

روزے کے روحانی فائدے ہیں وہاں ان گنت جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جس طرح روزہ ہماری روحانی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے اسی طرح جسم کے فاسد مادوں کو زائل کرنے کے لیے روزہ ضروری ہے۔ جسم سے فاسد مادے خارج ہو کر ہمارے جسم و روح صاف کر دیتے ہیں۔روزے کے معاشرتی فائدوں کے ساتھ ساتھ صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
1994میں پہلی ’’صحت اور رمضان‘‘ کانفرنس کاسابلانکامیں ہوئی۔ جس میں تقریباً 50تحقیقاتی مقالے پڑھے گئے۔ جن میں روزہ کی برکت اور جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کی بدولت تمام اعضا کی کارکردگی جن میں گردے دل جگر وغیرہ شامل ہیں‘ کا جائزہ لیا گیا۔ رمضان کی اضافی عبادت تراویح کی بدولت ہر رکعت میں 10کلوریز خرچ ہوتی ہیں اور روزہ افطار کے بعد تراویح و نماز کی بدولت جو ورزش ہوتی ہے۔ اس سے ہاضمے میں بہت مدد ملتی ہے اور فالتو کیلوریز بھی خرچ ہوتی رہتی ہیں۔ گوکہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا لیکن اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے ہر پہلو میں ایک نہیں کئی فائدے پنہاں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بچوں‘ بزرگوں‘ بیماروں‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے روزے میں چھوٹ رکھی ہے لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن میں روزہ رکھا جاسکتا ہے لیکن ایک خوف اور جھجک ہمیں روزہ رکھنے سے روکتی ہے۔ ان میں ذیابیطس بھی شامل ہے۔

کیا شوگر کے مریض کو روزہ رکھنا چاہئے؟
شوگر کے مریضوں میں یہ بات بہت عام ہے کہ شوگر کے مریض روزہ نہیں رکھ سکتے۔ میں بہت سے ایسے شوگر کے مریضوں کو جانتی ہوں جو روزہ رکھتے ہیں۔ میری ساس شوگر کی مریضہ تھیں باقاعدگی سے نہ صرف روزہ رکھتیں بلکہ سارا دن معمول کے کام بھی کرتی تھیں۔ روزہ کی حالت میں Hypoglycemiaکے شکار وہ مریض زیادہ ہوتے ہیں جو انسولین لگا رہے ہوتے ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے ایک ماہ قبل ہی ایسے مریض اپنے ڈاکٹر سے مل کر انسولین یا شوگر کی دوا کو Adjust کروا لیں اور ڈائٹیشن سے خوراک کے متعلق تفصیلات حاصل کر کے اس پر عمل کریں تو وہ آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ شوگر کے مریض اپنی جسمانی سرگرمیوں کو کم کریں تاکہ Hypoglycemia سے بچا جا سکے۔ شوگر کے مریض اکثر روزہ کھولتے وقت دوا لینا بھول جاتے ہیں کھانا۔ زیادہ کھا لینے سے بھی ان کے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

پانی کی کمی
گرم موسم میں پانی کا اخراج پسینے کی صورت میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔کیا روزہ کے دوران خون میں شوگر چیک کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟یہ نظریہ غلط ہے بلکہ ایک بار شوگر چیک کر لینے سے شوگر کی جانچ ہوتی رہتی ہے اگر خون میں شوگر کی مقدار بہت کم یا بہت زیادہ ہو تو روزہ توڑ دینا چاہئے۔
کیا رمضان میں دوائیں کھانی چاہئیں؟
ہاں ادویات ضرور لینی چاہئیں‘ بس اس کے اوقات میں ردوبدل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ڈاکٹر کے مشورے سے ہونی چاہیے۔
ذیابیطس کے مریض سحری میں کیا کھائیں؟
جَو (Oats)کھانا سنت بھی ہے اور صحت بھی۔ غذائی اعتبار سے یہ کاربوہائیڈریٹ کا بہترین ذریعہ ہے۔ فائبر زیادہ ہونے کے باعث پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیر تک رہتا ہے۔ وٹامنز کا بہترین ذریعہ ہے۔ گندم کی روٹی بمعہ چھان کھائیے ‘دہی اور چپاتی کھائی جا سکتی ہے۔ White Wheat breadانڈے کا آملیٹ اور دار چینی ملے قہوہ کے ساتھ لیجئے۔ شوگر کے مریضوں کے علاوہ رمضان مٹاپے کے شکار لوگوں کے لیے وزن کم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریضوں کو بھی مرض کنٹرول کرنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ سحری اور افطاری کے لیے صحت بخش غذائیں 1987 میں رمضان کے آخری عشرے میں مجھے عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں علم ہوا کہ ہمارے اور سعودی عرب کے کھانوں میں بہت فرق ہے۔ ہم زبان سے دوستی اور معدہ سے دشمنی کرتے ہیں۔ یعنی ذائقے اور چسکے کے لیے پکوڑے‘ سموسے‘ رول‘ کچوری اور دہی بھلے وغیرہ کھاتے ہیں اس کے علاوہ Fizzy Drink استعمال کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں ہمارا معدہ خالی ہوتا ہے۔ جسے ہم افطار کے وقت ثقیل کھانوں اور تیزابیت والی خوراک سے بھر دیتے ہیں۔ نتیجتاً معدے کی جلن‘ تیزابیت‘ بدہضمی‘ زیادہ تیل اور مصالحوں والے کھانوں کی بدولت پیاس کی زیادتی‘ قبض‘ وغیرہ کی شکایت عام ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے لوگ کھجور کو تھوڑے سے پانی میں بھگو کر اس کا گودا نکال کر روٹی پر لیپ کر کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی تھوڑا سا زیتون کا تیل کھاتے ہیں جو بہترین افطار ہے۔ کھجور سے آپ کو بہترین طاقت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ پھل اور ان کے رس یا دہی اور لسی افطاری کے بہترین کھانے ہیں۔ ہم مدینے میں اپنے کزن کے گھر ٹھہرے۔ ان کے پڑوسی عربی تھے اور انتہائی مہمان نواز بھی‘ افطار میں ایک بڑا سا تھال آتا جس میں کھجوریں‘ تازہ سلاد‘ زیتون اور پنیر ہوتا تھا۔ پھل اور ایک سوپ نما کھانا ہوتا تھا۔ جس میں جَو‘ Mutton اور کچھ نوڈلز ہوتے تھے اور ان کی Bakedکی ہوئی روائتی مٹھائیاں ہوتی تھیں۔
یقین کریں رمضان میں ہر گھر کا تیل اور چینی کا خرچ تین گنا نہیں تو ڈھائی گنا ضرور بڑھ جاتا ہو گا۔ کیونکہ پکوڑے‘ سموسے‘ دہی بھلے‘ رول‘ کچوری‘ چناچاٹ‘ فروٹ چاٹ کے بغیر تو روزہ کھل ہی نہیں سکتا یہ ایک غلط تصور Concept ہے۔ وہ وقت جورب ذوالجلال سے دعا مانگنے کا ہوتا ہے وہ ہم کھانے کی ترکیبوں اور کھانے بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے روزے کے معاشرتی پہلو پر غور کیا ہے۔ اللہ کو اس کی پروا نہیں ہے کہ ہم کچھ کھائیں یا بھوکے رہیں۔ وہ تو ہم میں تقویٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے روزے کی بھوک یا کمزوری میں مفلس و نادار لوگوں کی بھوک کو محسوس کیا۔ وہ پیسہ جو ہم اپنے دسترخوان سجانے اور افطار پارٹیوں میں خرچ کرتے ہیں‘ کبھی ان مفلس و نادار لوگوں کو اس خیال سے دیاکہ ہماری بھی کچھ آخرت سنور جائے؟

سحر و افطار کی صحت بخش غذائیں
افطار میں تین سے چار کھجوریں کھا لینے سے خون میں شوگر کی مقدار جلد بہتر ہو جاتی ہے اور Hypoglycemia کی وجہ سے ہونے والے سردرد میں افاقہ ہوتا ہے۔
چنا چاٹ آلو اور رنگ برنگی موسمی سبزیوں کا سلاد‘ اخروٹ‘ بادام اور زیتون کے ساتھ بنانا چاہئے۔
مختلف پھلوں کی چاٹ بغیر چینی کے بنائیے
رمضان میں Syntheticجوسز‘ کولڈ ڈرنکس کے بجائے جو اور شکر کا شربت‘ لسی‘ آڑو کا شربت‘فالسے کا شربت یا تربوز کا جوس استعمال کریں۔
بریانی کے مصالحوں میں Anti Oxidantsاور Poly Phenols موجود ہوتے ہیں جو جسم کو کئی بیماریوں کے خلاف مدافعت فراہم کرتے ہیں۔
اپنے کھانوں میں یکسانیت کے بجائے تنوع پیدا کریں
تلے ہوئے کھانوں کے بجائے کم چکنائی اور Bakeکئے ہوئے کھانے استعمال کریں۔ سحر و افطار میں غذائیت سے بھرپور نارمل کھانا کھائیں۔
بہت زیادہ چکنائی نمک اور چینی سے پرہیز کریں
اپنے کھانوں میں پکی ہوئی اور کچی سبزیاں‘ پھل‘ دالیں‘ گوشت‘ مچھلی اور انڈے شامل کریں۔ رمضان میں سگریٹ نوشی ترک کرنا نہایت آسان ہے۔ تھوڑا نفس کو مار کر مضبوط اعصاب کے ساتھ کوشش کیجئے۔

جب ہم روزے کی حالت میں ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں موجود چربی توانائی میں تبدیل ہوتی رہتی ہے جس کی بدولت جسم میں موجود فالتو چربی کم ہو جاتی ہے اور وزن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر Razeen Mahrof جو آکسفورڈمیں Anesthetistہیں‘ کہتے ہیں کہ غذا اور صحت کا تعلق بہت مضبوط ہے۔ گو کہ رمضان وزن کم کرنے والوں کے لیے ایک زبردست Opportunity ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اس کے روحانی فائدے ہیں۔ بیک وقت ہم جسمانی اور روحانی فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔
رمضان نفس کے خلاف لڑنے کی اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں کے آگے بے بس ہونے کے بجائے اللہ کی رضا کو فوقیت دینے کی ہماری تربیت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی رحمتوں‘ برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ زیادہ سے زیادہ عبادات نوافل تلاوت قرآن پاک اور قضا روزوں کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہماری روح اور جسم کو بیماری سے پاک کر دے۔ پرانے رشتے استوار کیجئے۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی اللہ سے مانگیے اور رب کے بندوں سے بھی کیونکہ اللہ اپنے حقوق معاف فرما دیں گے اپنے بندوں کے نہیں۔

Sunday, 10 March 2013

آآآ آٹزم۔۔۔۔۔بچوں کی ایک انوکھی بیماری

آآآ آٹزم۔۔۔۔۔بچوں کی ایک انوکھی بیماری


ایک ٹی وی چینل پر سیریل ’’آپ کی انترا‘‘ دیکھنے کے بعد ایک دُکھی ماں کو ایسا لگا کہ جیسے اس کی تین سالہ بیٹی ہی سیریل کی مرکزی کردار ’’انترا‘‘ ہے ۔ اُسے یوں لگا جیسے اس کی بیٹی بھی انترا کی طرح ’’آٹزم‘‘ میں مبتلا ہے ۔ اس نے فون پر مجھ سے کچھ سوالات پوچھے جن کامیں نے جواب دیا لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئی ،پھر اُس نے خواہش ظاہر کی کہ میں ’’فکر صحت ‘‘ کالم میں تفصیل سے اس بیماری کے متعلق لکھو۔اُس دکھیاری ماں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں نے کمسن بچوں کی انوکھی بیماری آٹزم کے متعلق یہ مضمون لکھا ۔ آپ بھی پڑھئے اور اس بیماری کے بارے میں جانکاری حاصل کریں ۔
آٹزم کے لغوی معنی خود فکری ، خیال پرستی ، اپنے تصورات کے سمندر میں ڈوبے رہنا ،بیرونی حقائق سے لاتعلقی ظاہرکرنا ہیں، یعنی اس بیماری میں مبتلا بچہ ’’اپنی دنیا‘‘ میں گم ہوکے رہ جاتاہے ، اسے بیرونی دنیا سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ اس کی توجہ صر ف اپنے نفس یا ’’خودی‘‘ پر ہوتی ہے ۔
1943ء میں معروف آسٹریائی ماہر امراض نفسیات لیوکینر (Leo Kanner) نے دو سے تین سال کی عمر کے بچوں میں ایک انوکھا سینڈروم دریافت کیا جس میں مبتلا بچہ صرف اپنی دنیا اور اپنے خیالوں میں گم رہتاہے ۔اس سینڈروم کو اس نے ابتدائی خود فکریٔ اطفال (Early Infantile Autism) کا نام دیاہے ۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ یہ بیماری لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اوراس مرض کی عجیب وغریب ’’دماغی کیفیت‘‘ زندگی کے پہلے سال کے آخر ی مہینوں میں (کسی بھی صورت میںدوسرے سال کے بعد نہیں)نمایاں ہوتی ہے ۔
ایک نارمل صحت مند بچہ تین برس کی عمر کے بعد اپنے ماں باپ اور ’’دوسرے اپنوں‘‘ کے ساتھ ایک سماجی بندھن باندھنے کے اہل ہوجاتاہے لیکن آٹزم میں مبتلا بچہ ایسا کرنے میں ناکام رہتاہے ۔ وہ سماجی زنجیر سے کٹا ہوا حلقہ لگتاہے اور دوسرے نارمل بچوں کے برعکس بیرونی حقائق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ہے ۔ وہ خیال پرستی کا شکا رہوجاتاہے اور اپنے ہی خیالات کے قفس میں مقید ہوجاتاہے ، وہ ارد گرد کے ماحول کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی ’’خودی‘‘ اور ’’نفس ‘‘ کا اسیر ہوکے رہ جاتاہے ۔
تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ آٹزم میں مبتلا بچے کے والدین ذہنی، محنتی اور پیشہ وارانہ و اقتصادی طور کامیاب ہوتے ہیں ، وہ زندگی کی شاہراہ پر کچھ حاصل کرنے کے لئے بہت تیزی سے دوڑتے ہیں ۔ وہ اپنی سائنسی ، علمی ، ادبی یافنکارانہ سرگرمیوں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ انہیں بیرونی دنیا کی کوئی خبر نہیں ہوتی ہے ۔ ایسے والدین کی نجی زندگی بالکل سطحی اور ’’سرد‘‘ ہوتی ہے او ربچے کو ان کی طرف سے صحیح معنوں میں وہ محبت اور شفقت نصیب نہیں ہوتی جس کا ایک بچہ حقدار ہوتاہے ۔ ماں باپ بچے کے تئیں سردمہری کا اظہار کرتے ہیں ، خاص کر ماں اپنے بچے پر ممتا کے پھول نچھاور کرنے میں کوتاہی اور سردمہری سے کام لیتی ہے ۔
جب آٹزم میںمبتلا بچے کو ماہر امراضِ نفسیات کے پاس لایا جاتاہے تو اس کے والدین یہ باور کرچکے ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ ذہنی طور ناقص یا پیدائشی پاگل ہے یا پھر عقب ماندگی فکری (Mental Retardation) کا شکارہے ۔ انہیں اپنے بچے کی اصلی بیماری کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہوتی ۔ اکثر والدین بچے کی بیماری کو بھوت پریت ، آسیب یا جن پری وغیرہ کا سایہ مانتے ہیں اور ڈاکٹروں یا ماہرامراض نفسیات سے مشورہ کرنے کی بجائے نقلی پیروں فقیروں کے درباروں میںحاضری دیتے ہیں ۔
آٹزم جیسی انوکھی بیماری میں مبتلا بچہ تین چار سال کی عمر میں خاموش رہنا پسند کرتاہے ۔ وہ دوسروں سے باتیں کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتاہے ،کسی کے سوال کا جواب دینے کی بجائے سرجھکائے اپنے ہی خیالوں میں گم صم رہنے کو ترجیح دیتاہے اور اگر کوئی اس سے بار بار سوالات پوچھے تو وہ غصّے کی آگ میں جلنے لگتاہے ۔ اس میں دوسروں کے احساسات او ر جذبات سمجھنے کی صلاحیت بالکل موجود نہیں ہوتی ہے وہ اپنی تنہائی کے کمرے میں محصور ہوکر سبھی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلیتاہے ۔وہ ہروقت اُداسی اور خاموشی کے ویران جنگل میں بھٹکتا رہتاہے اور اگر کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتاہے تو وہ زخمی شیرنی کی طرح بپھراٹھتا ہے ۔ کوئی اس سے کچھ الفاظ یا کوئی جملہ کہے تو وہ طوطے کی طرح وہی الفاظ یا جملہ دہراتارہتاہے ۔ آٹزم میں مبتلا بچے میں ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو’’تم‘‘ سے اور سامنے والے کو ’’میں‘‘ سے مخاطب کرتاہے ۔ اسے دوسرے لوگوں سے کسی بھی قسم کی دلچسپی نہیں ہوتی ہے لیکن وہ اپنے پسندیدہ کھیلوں میں حد سے زیادہ دلچسپی لیتاہے ، وہ کئی گھنٹوں تک اپنی پسندیدہ چیزوں یا کھلونوں کے ساتھ سرگرم رہتاہے اور اسے کبھی’’ تھکاوٹ‘‘ محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ وہ ہرممکن طریقے سے اپنی یکسوئی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتاہے ۔ وہ کمرے کی چیزوں کو ہر وقت ایک ہی ’’اسٹائل‘‘ میں دیکھتے رہنے سے یک گونہ خوشی محسوس کرتاہے ، اسے ہروقت یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کوئی اس کے کمرے کی چیزوں کی ترتیب بدل نہ دے ۔ماحول اور اطراف سے حد درجہ بے خبری اور لاپرواہی اور دوسروں کی طرف بے توجہی سے بچے کو قریب سے دیکھنے والا یہ نتیجہ اخذکرتاہے کہ بچہ ذہنی طور ناخیز یا دماغی طور بہت کمزور ہے مگر درحقیقت ایسا بچہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتاہے ۔ اس کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو عام بچوں میں نہیں ہوتی ہے ۔ جب بچے کو غور سے دیکھا جاتاہے تو اس کے چہرے پر سنجیدگی کے گہرے بادلوں کے علاوہ تنائو بھی نظر آتاہے لیکن جب اس کے ماں باپ یا چاہنے والے ذرا سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو وہ ظاہری طور ذہین نظر آتاہے ۔ اس کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے اور وہ رٹہ لگانے میں خاصی مہارت رکھتاہے ۔ وہ کچھ بھی بار بار دہرا کر ذہن میں محفوظ کرسکتاہے ۔ وہ کاغذات کے ایک شیٹ پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتے کھینچتے کوئی حیران کن ’’پینٹنگ‘‘ بناسکتاہے ۔ ان سب اوصاف کے باوجود بھی آٹزم میں مبتلا بچہ ایک جذباتی خلاء میں زندگی گذارتاہے اور عمر بھر دوسرے نارمل بچوں کے مقابلے میں (دیکھنے والوں کی نظروں میں) ذہنی طور ناقص ہی رہتاہے ۔ اس مرض میں مبتلا بعض بچے پانچ یا چھ سال کی عمر کے بعد کسی حد تک ذہنی طور پختہ ہوکر دوسروں کی طرف توجہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ کچھ نارمل قسم کے حرکات انجام دینا سیکھ جاتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو پھر بھی وہ حرکات عجیب وغریب یا ابنارمل ہی لگتے ہیں ۔
تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ ایسے بچوں کے مرکزی نظام اعصاب میں کوئی موروثی نقص موجود ہوتاہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے نارمل بچوں کے مقابلے میں ’’ایک مختلف اندازمیں‘‘ پروان چڑھتے ہیں ۔ اس بیماری کی کوئی مخصوص وجہ مشخص نہیں ہوسکی ہے ۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے لئے والدین یا بچہ خودذمہ دار نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی سائنس دان یا ڈاکٹر ابھی تک اس دماغی نقص کا پتہ نہیں لگا سکاہے جس سے یہ بیماری بچے کی زندگی کے پہلے سال میں شروع ہوتی ہے ۔ کچھ محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بیماری کے وجوہات میں مو روثی محرکات کا اہم رول ہے ۔
علامات:
آٹزم میں مبتلا بچے میں درج ذیل علامات پائے جاتے ہیں ۔
زبان ۱
آٹزم میں مبتلا بچہ
بہت دیر کے بعد زبان (بولنا )سیکھتاہے ۔
کوئی سوال پوچھنے پر جواب دینے کی بجائے وہی سوال دہراتاہے ۔ مثلاً اگر آپ آٹسٹک بچے سے پوچھیں ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ تو وہ بلا فاصلا جواب میں کہے گا ’’ تمہارا نام کیاہے؟‘‘۔
جو کچھ بولتاہے اس کے معنی واضح نہیں ہوتے ہیں ،الفاظ سننے والے کی سمجھ میں نہیں آتے ہیں ۔
بار بار ایک ہی لفظ ،جملہ یا گیت کے بول دہراتاہے ۔
بات چیت کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتاہے ۔
بات چیت شروع بھی کرے تو بیچ میں ہی ادھوری بات چھوڑ کر چلا جاتاہے  ۔
۲-سماجی طور:
تنہا کھیلنے کو ترجیح دیتاہے ۔
اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ گھل مل جانے سے کتراتاہے ۔
اپنے سے کمسن یا اپنے سے بڑے بچوں کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتاہے ۔
دوست بنانے میں دلچسپی نہیں لیتاہے ۔
سامنے والے کے ساتھ آنکھیں نہیں ملاتا ہے ،ہر وقت آنکھیں چرانے کی کوشش کرتاہے ۔
اپنی خوشیاں دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی کوشش نہیں کرتاہے ۔
کوئی اسے گلے لگائے ،پیا رکرے یا چومے تو اسے اچھا نہیں لگتاہے ۔
غیر فطری برتاؤ:
ہرو قت حددرجہ ’’یکسانیت ‘‘پسند کرتاہے ۔
اپنے طرزِ زندگی میں کسی بھی قسم کے بدلائو سے ناراض ہوجاتاہے ۔
چیزوں کو گھمانے میں بے حد دلچسپی دکھاتاہے ۔مثلاً لٹّو کو دن بھر گھماسکتاہے ۔ پہیے، پنکھے یا ایسی گھومنے والی چیزوں کی طرف فوری متوجہ ہوجاتاہے ۔
دیکھنے والے کو چہرے اور جسم کے عجیب وغریب حرکات دکھاتاہے۔
اُچھلنے اور تالی بجانے میں بے حد دلچسپی لیتاہے ۔
کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے بار بار اور زور زور سے ہنستاہے ۔
بغیر کسی وجہ کے ’’سٹپٹا جاتا‘‘ اور روٹھ جاتاہے ۔
درد کی شدت محسوس نہیں کرتا ہے ۔
گرمی یا سردی کی طرف بے حسی ظاہر کرتاہے ۔
آوازوں یا موسیقی کی طرف بہت زیادہ یا بہت کم توجہ دیتاہے ۔
علاج:
            بدقسمتی سے ابھی تک آٹزم کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ۔ ماہر نفسیات ، کونسلر اور سکول میں استاد ، گھر میں والدین اور دوسرے آشنا بچے کی مدد کرسکتے ہیں اور اس کی طرف مخصوص توجہ دے کر اسے سماجی زندگی کے دائرے کے اندر لانے میں اپنا رول نبھا سکتے ہیں ۔ آٹزم میں مبتلا بچے کی فنکارانہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا والدین اور استاد وں کا فرض ہے ۔

Wednesday, 20 February 2013

آپ پریشان ہیں۔۔۔۔لیکن کیوں؟

آپ پریشان ہیں۔۔۔۔لیکن کیوں؟


لٹریچر میں اٹھارہویں صدی کو ’’ایجادات کی صدی‘‘ انیسویں صدی کو ترقی کی صدی اور بیسویں صدی کو’’پریشانی کی صدی‘‘ گردانا گیا ہے۔ روز مرہ کے زندگی کے مسائل و مشکلات کا مقابلہ کرتے وقت، عجیب و غریب حوادث سے دوچار ہو کر، ذہنی دبائو، کھچائو اورتنائو کے شعوری احساس سے ’’پریشانی‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔یہ احساس جذباتی، جسمانی، نفسیاتی یا تینوں کے ایک ساتھ مل جانے سے پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح احساسات ناخوشگواری سے جب جسمانی علائم شروع ہوتے ہیں تو انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ بنی نوع انسان کا پریشان ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ آغازِ زندگی ہی سے پریشانیوں میں مبتلا رہا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آج کے مادی دور اورتیز رفتار زندگی میں ’’پریشانی‘‘ ہر انسان کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ سکول جانے والے بچے نصابی کتابوں کے بوجھ سے پریشان ہیں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء مشکوک مستقبل کی بناء پر پریشان ہیں،سند یافتہ بے کار نوجوان تلاش روزگار سرگردانی میں پریشان ہیں ۔عام لوگ اور ملازمت پیشہ افراد نامساعد حالات اور اپنے کام کاج سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔تجارت پیشہ افراد مادیات کی دوڑ میں شامل ہو کر پریشانی میں مبتلا ہیں، عمر رسیدہ لوگ زندگی سے بیزار ہو کر احساس تنہائی اورگمشدگی عمر سے پریشان ہیں’’ جو پریشان نہیں وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ وہ کیوں پریشان نہیں ہیں‘‘۔ غرض ہر انسان زندگی کی شاہراہ پر چلتے چلتے پریشانی کو اپنے ہمراہ سائے کی طرح ساتھ لئے چل رہا ہے اور اگر کوئی پریشان نہیں ہے تو شاید آج کی اصطلاح میں وہ ’’نارمل انسان‘‘ کہلانے کا مستحق نہیں ہے یعنی پریشانی اور زندگی لازم و ملزوم ہیں۔ پریشان ہونے کے باوجود اگر انسان اپنے روز مرہ کے معمولات بخود احسن انجام دے پارہا ہے تو کوئی بات نہیں مگر جب پریشانی زندگی کے روز مرہ معمولات میں دخل اندازی کرنے لگے تو یہ ایک بیماری یا نفسیاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ مثلاً اگر ایک ڈاکٹر پریشانی کی وجہ سے مریضوں کا مناسب و موزوں علاج نہیں کرسکتا ہے تو وہ بیمار ہے۔ ایک اکاونٹنٹ پریشان رہتا ہے اور حساب و کتاب کا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کرپاتا تو وہ بیمار ہے۔ ایک طالب علم پریشان رہنے کے باعث اپنا ہوم ورک نہیں کرسکتا تو پریشانی اس کے لئے ایک مسئلہ یا مرض بن چکی ہے اور اس کا بروقت ، مناسب اور موزوں علاج بے حد ضروری ہے۔’’ڈاکٹر صاحب پچھلے تین برسوںسے مجھے نیند نہیں آتی ہے، میرے سارے بدن میں درد رہتا ہے، میرا سر بھاری بھاری سا رہتا ہے،سینے پر ایک عجیب سا دبائو محسوس کرتی ہوں، مجھے بھوک نہیں لگتی، میں بے قرار رہتی ہوں، میری سانس پھولتی ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے، اکثر بے ہوش ہو جاتی ہوں، جی چاہتا ہے چیخوں،چلائوں اور پھر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لوں۔ مجھے گھر میں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ ہر وقت ایک ڈر سا لگتا ہے……‘‘
یہ تیس سالہ فاطمہ بانو کا بیان ہے، جو پچھلے تین برسوں میں چھ بار ہسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے بستری کی گئی ہے۔ ہسپتال جانے سے پہلے وہ بے قرار ہو جاتی، اس کے سینے میں عجیب سا شدید درد جاگ اٹھتا اور وہ چیخنے چلانے لگتی اور پھر بے ہوش ہو جاتی، گھر والے اسے فوری ہسپتال پہنچا دیتے جہاں اسے’’مریض قلب‘‘ سمجھ کر اس کا علاج کیا جاتا۔ ہسپتال میں سبھی Test انجام دیئے جاتے جو بالکل نارمل ہوتے تھے، اسے ہسپتال سے مریض کیا جاتا تو وہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس جاکر علاج کرواتی۔ مختلف ڈاکٹروں نے مختلف دوائیاں دے کر کوشش کی تھی مگر’’بیماری‘‘ دور نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹروں کے علاوہ تجارتی پیروں فقیروں نے اس کا علاج کیا مگر وہ کبھی صحت یاب نہ ہو سکی کیونکہ کسی بھی معالج نے مریض کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی، اس کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد بیماری کی ’’اصلی وجہ‘‘جاننے کی کوشش نہیں کی۔ مریض کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح اور عیاں ہوگئی کہ وہ زبردست پریشانی میں مبتلا تھی، اس کے ذہن میں ایک تضاد تھا جو برسوں سے اسے پریشان کر رہا تھا’’پریشانی‘‘ اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں جمع ہوتی رہی اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیمانہ صبر لبریز ہوا اور پریشانی جسمانی علائم اور درد کی صورت میں چھلکنے لگی۔ اُس کی پریشانی کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنا ایک الگ گھر بسانا چاہتی تھی مگر وہ ساس سسر سے ڈرتی تھی کہ کہیں وہ اس کی تجویز سے ناراض نہ ہوں۔ ایک طرف چاہت اور دوسری طرف ڈر ان دو احساسات نے اس کے ذہن میں ایک تضاد (Conflict) پیدا کیا تھا جو اس کی پریشانی کا باعث بنا تھا(تضاد ہی پریشانی کا اصل سبب ہے جو انسان کسی تضاد میں مبتلا ہوتے ہیں پریشانی ان کو گھیر لیتی ہے)اس کے شوہر اور ساس سسر کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد مسئلہ حل ہوگیا۔ اسے اپنا ایک الگ گھر بسانے کی اجازت ملی اور اس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک الگ دنیا بسالی اور وہ اس نئی دنیا میں پریشانی سے آزاد ایک خوشحال زندگی گذارنے لگی۔ اسے کسی دوائی کی ضرورت نہیں پڑی، اس کے سارے جسمانی علائم دور ہوگئے۔ اسے کبھی ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔اب وہ ایک صحت مند زندگی گذار رہی ہے‘‘۔
آج کل اکثر مریض جسمانی علائم کا معالجہ کروانے کیلئے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں مگر معائینہ کے بعد کوئی بھی ایسی نشانی نہیں ملتی جس سے یہ واضح ہو کہ مذکورہ مریض کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو، سارے Testsنارمل ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مریض کسی جسمانی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتا ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر صاحبان ڈھیر ساری دوائیاں تجویز کر کے مریض کی خواہش پوری کر کے اسے راضی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان وقت اورقوت برداشت کی کمی کے سبب اس کی بیماری کے اسباب میں دلچسپی نہیں لیتے، اس کی بکھری ہوئی شخصیت کے اندر جھانکنے کی بجائے اس سے کہتے ہیں’’تم ایک عجیب ذہنی مریض ہو،تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے، تمہیں صرف ٹینشن ہے۔تم میرا وقت ضایع کرتے ہو تم بہانے بازی سے کام لے رہے ہو‘‘۔ اور مریض ایسے غیر موزوں الفاظ سن کر بددل ہو کر، ڈاکٹروں سے بیزار ہو جاتا ہے اور دوسری’’ڈاکٹری دکانوں‘‘ کا رُخ کر لیتا ہے دراصل ’’پریشانی‘‘ کی وجہ سے ظاہر ہونے والے جسمانی علائم ایسے عجیب و غریب اور پیچیدہ ہوتے ہیں کہ مریض ان کو بیان کرنے اور ڈاکٹر سمجھنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں ہمارے سماج میں مشترکہ کنبہ (Joint Family) ایک اہم رول نبھاتا تھا۔ مشترکہ کنبے میں زندگی گذارنے سے پریشان فرد کو گھر کے بزرگوں کا سہارا ملتا تھا اور وہ اس سے آزاد ہو جاتا تھا مگر آج کل جبکہ ہر ایک اپنا اپنا ڈیڑھ اینٹ کا گھر بسانے کارواج یا فیشن شروع ہوا ہے تو نوجوان مردوں اور عورتوں کو پریشان صورتحال میں بزرگوں کا سہارا نہیں ملتا اس لئے وہ ہر وقت پریشانی کے سمندر میں ڈولتے رہتے ہیں اور بالآخر وہ ذہنی بیماریوں کے علاوہ جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات مریض کی اصلی کہانی سنے بغیر، جلد بازی میں آٹھ دس دوائیاں لکھ کر مریض کو وقتی طور سکون کی وادی میں دھکیلتے ہیں مگر دوائیوں کا استعمال ترک کرنے کے بعد مریض پھر سے ’’پریشانی‘‘ کے جسمانی علائم میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ وقتی طور دوائیاں کھانے سے کسی خاص مدت کیلئے علائم غائب ہو جاتے ہیں مگر پریشانی کی ’’اصل وجہ‘‘ اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
موجودہ دور میں ماہرین نفسیات و روحانیات’’ پریشانی‘‘ کو ایک ایسی کیفیت سے تعبیر کرتے ہیں جس میں مبتلا فرد خوف اور غیر یقینیت محسوس کرتا ہے جس پر قابو پانے میں وہ ناکام ہوتا ہے اور جب کوئی انسان کسی اندرونی تضاد کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ بے چینی، اضطراب، بے قراری، خوف، احساس زودخستگی، بے خوابی، بے اشتہائی، جنسی کمزوری، احساس کمتری، بے توجہی، مایوسی وغیرہ جیسے علائم کا اظہار کرتا ہے۔ اسے زندگی گذارنے میں کوئی لطف نہیں آتا، وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے وہ ہر وقت دوسروں سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی اسے چھیڑے تو وہ غصہ سے بے قابو ہو کر چیخنے چلانے لگتا ہے اسے ہر وقت عجیب سا ڈر اور خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ نہ ہو، وہ نہ ہو، ایسا نہ ہو، ویسا نہ ہو اور وہ روزمرہ کے معمولات کو انجام دینے میں بالکل ناکام رہتا ہے۔
پریشانی اور پریشان رہنا کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی ذہنی،نفسیاتی، جسمانی،سماجی، روحانی مسئلہ کی ایک اہم علامت ہے اس لئے اُس ’’وجہ‘‘ کا پتہ لگانا مریض اور معالج دونوں کیلئے بے حد ضروری ہے۔ وجہ جانے بغیر ذہنی پریشانی کے لئے کوئی بھی دوائی استعمال کرنا نہ صرف غیر موزوں و نامناسب ہے بلکہ خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ضد پریشانی دوائیاں کھانے سے پریشانی میں کمی ہونے کے بجائے اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے اور فرد ان کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر ان کے اثرات جانبی سے مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے پریشانی کی حالت میں کوئی بھی دوائی لینے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے اور اگر معالج سے اطمینان قلب حاصل نہ ہو تو کسی مذہبی یا روحانی پیشوا سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے جو کوئی ایسا مشورہ دے کہ دوائیوں کی ضرورت نہ پڑے۔ پریشانی سے بچنے کیلئے، دوائیوں کے استعمال کے بجائے سکون کے ساتھ دبائو اور کھنچائو کا مقابلہ کیجئے۔’’کہنا آسان ہے مگر کرنا ممکن نہیں‘‘ ہو سکتا ہے کہ یہ کوشش بہت ہی مشکل ہو اوربعض اوقات بے سود ثابت ہومگر بار بار کوشش کرنے سے کامیابی کسی نہ کسی دن قدم چوم لے گی۔ کوئی اگر یہ پوچھے تو بے جا نہ ہوگا کہ کیا صرف یہ کہنے سے کہ میں فکر نہیں کروں گا تفکرات دور ہو جائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کے لئے جو پریشانیوں میں مبتلا ہو یہ مشکل ہو لیکن جو اس خیال کا حامل ہو کہ بیمار پڑنا حماقت کی بات ہے اور صحت مند ہونے کی فکر میں بیمار رہتا ہو اس کے لئے ذہنی پریشانیوں سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔ لیکن آخرالذکر بھی ایک عملی امکان کی بات ہے۔یہاں ایمائی نفسیات کی وجہ سے ممکن ہے کہ اکثر بیماریوں سے جو بظاہر جسمانی نوعیت کی ہیں نجات مل جائے…کسی بھی ڈاکٹر سے سوال کیجئے وہ درجواب کہے گا’’سرکاری ہسپتالوں، پرائیویٹ کلینکوں،نرسنگ ہوموں میں علاج و معالجہ کے لئے رجوع کرنے والے مریضوں میں ستر فیصد مریض ایسے ہیں جو پریشانیوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جسمانی بیماریوں کے شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ ان مریضوں کا علاج دوائیوں سے نہیں بلکہ مثبت ایمائی نفسیات سے کیا جاسکتا ہے ایسے بیماروں کو کوئی غور سے سننے والا اور سمجھانے والا ہمدرد چاہئے، وہ محض قرص سکون آور یا خواب آور سے اپنی پریشانیوں پر قابو نہیں پاسکتے طبیعت کا سکون حاصل کرنے کیلئے ان کو کچھ ایسے مشورے دیئے جاسکتے ہیں جو قوتِ ارادی سے بالاتر ہوں۔ اچھا ہے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ لوگ مصائب میں مبتلا ہونے کے باوجود عام طور پر زندگی کا لطف اٹھاتے رہیں…اگر ہر انسان’’ یہ وقت بھی گذر جائے گا‘‘ ذہن نشین کر ے تو بے شمار پریشانیوں سے نجات مل سکتی ہے۔
٭مذہبی اقدار کو ذہنی پریشانی دور کرنے کیلئے اسعتمال کیجئے انسان کی شخصیت کے چار پہلو ہیں: جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی۔ ذہٓنی حفظانِ صحت کے بڑے بڑے ماہرین اور ماہرین امراض نفسیات فرد کی متوازن اور ذہنی طور پر صحت مند نشو و نما میں مذہب کو ایک اہم مقام دیتے ہیں صدیوں سے مذہب کی پابندی ذہنی پریشانی سے چھٹکارا پانے کا وسیلہ رہا ہے جس طرح ہم اپنے پیشے میں کام کے بغیر حسن کارکردگی پیدا نہیں کرسکتے اسی طرح بغیر عمل کے مذہبی اقدار بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں اس سلسلے میں عبادت گاہوں میں مشارکت پہلا اور بنیادی قدم ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ روحانی فرائض کا معیاری طور پر اعادہ کرایا جائے عبادت گاہوں میں جانے سے اس تغیر پذیر دنیا میں استحکام اور دوام کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عبادت گاہوں میں فعال مشارکت کے ذریعہ اپنے لوگوں سے رابطہ پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے اور اپنی پریشانیاں بانٹنے کا صحیح ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
٭          خلاصہ یہ کہ اگر آپ پریشان ہیں تو ’’اس کی وجہ‘‘تلاش کرنے کی بھرپور سعی کریں اور اس کا حل ڈھونڈیں۔ عارضی سہاروں(مسکن اور سکون و خوب آور دوائیاں،سگریٹ ، چرس،شراب)کا سہارا نہ لیں اگر کوئی حل نہ ملے تو کسی ماہر معالج سے مشورہ کریں یا کسی مذہبی، روحانی پیشواسے صلاح لیں۔
٭اپنا طرز زندگی بدل لیں۔ مذہب کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔
٭چند منتخب اور بالغ نظر اشخاص سے رازدارانہ تعلقات پیدا کریں۔
٭ورزش کو اپنا معمول بنالیں۔
٭ناگزیر دبائو، کھنچائو اور شدت جذبات سے دوچار ہونے کی عادت ڈالیں۔اس بات پر بھی متوجہ ہونا چاہئے کہ ان عناصر سے جو زندگی کے جزولاینفک میں خود کو ہم آہنگ کریں کسی شخص کو معمولی قابلیت کے اصول پر کاربند نہیں ہونا چاہئے اور نہ اکملیت کے تصور کے پیش نظر مایوس ہونا چاہئے بلکہ بس بھر خوب سے خوب تر کی کوشش کرنی چاہئے۔بہت سے لوگوں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ زندگی کے روحانی پہلو سے مکمل زندگی گذارنے میں مدد ملتی ہے اور کوئی پریشانی لاحق نہیں رہتی ہے۔ آخر میں پریشانی سے بچنے کیلئے عمر خیام کی اس رباعی پر عمل کر کے دیکھ لیں   ؎
از دی کہ گذشت ہیچ از و یاد مکن
فردا کہ نیامدہ ست فریاد مکن
برماندہ و گذشتہ را بنیاد مکن
حالی خوش باش عمر را برباد مکن

Friday, 2 November 2012

NAZLA ZUKAM

نزلہ زکام
بہتی ناک تنگ کرے تو کیا کریں؟

سچ تو یہ ہے کہ نزلہ زکام بارہ مہینوں کا مرض ہے۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ موسمی تغیر و تبدل کے باعث نزلہ زکام حملہ آور ہوتا ہے مگر ماحولیاتی آلودگی اور نت نئے وائرس بھی اس مرض کا باعث ہیں۔ ڈاکٹر اور حکماء بھی اس بات پر اب متفق ہیں کہ نزلہ زکام کو فوری نہیں روکنا چاہیے اور نہ اسٹیرائیڈز ادویات دینی چاہئیں۔ اس مرض کا علاج سیدھا سادہ ہے جو صدیوں کا آزمودہ ہے۔ اب جدید طب کے حامی بھی اسے مفید اور موثر تسلیم کرنے لگے ہیں۔ ان شکایات کا مقابلہ کرنے کے لیے جو دس گر بتائے جارہے ہیں یقینا آپ بھی ان سے مستفید ہوسکتے ہیں: پہلا گُر.... آرام: نزلہ دراصل آپ کے جسم کا اعلان ہوتا ہے کہ اب اسے آرام کی ضرورت ہے۔ اس کا نظام مدافعت چھینکوں اور ناک کے ذریعے یہی بتاتا ہے کہ اب کم از کم ایک دو روز تک آرام کیا جائے اور بھاگ دوڑ سے بچا جائے۔ بڑی بوڑھیاں یہی مشورہ دیتی تھیں کہ بستر میں لیٹ جاو۔ ان کا مشورہ تین روز آرام کا ہوتا تھا۔ ضروری نہیں کہ آپ سارا وقت لیٹے ہی رہیں بس معمول کی مصروفیات سے بچیے۔ لیٹ کر دیکھئے نیند آجائے تو سوجایئے کہ جسم کو اسی کی ضرورت تھی۔ دوسرا گُر.... گٹھڑی بن جایئے بڑے بوڑھوں کا مشورہ یہ بھی ہوتا تھا کہ خوب اچھی طرح اوڑھ لپیٹ کر گٹھڑی بن کر لیٹ جائیں۔ اس طرح جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور اس کا نظام مدافعت چوکس ہوجاتا ہے دُکھتے عضلات کو آرام ملتا ہے۔ تیسرا گُر.... بیڑی بند کیجیے: تمباکو اور اس کا دھواں ناک اور گلے میں سوجن بڑھا دیتا ہے اس سے جسم میں حیاتین (وٹامن سی) کی سطح بھی گرجاتی ہے جس کے معنی قوتِ مدافعت میں کمی کے ہوتے ہیں۔ تمباکو کے دھویں سے پھیپھڑوں کے اندر واقع باریک روئیں بھی سست ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے بلغم خارج ہونے کی رفتار سست پڑجاتی ہے اور وہ ناک حلق سے خارج ہونے کے بجائے پھیپھڑوں کے اندر گرنے یا ٹپکنے لگتا ہے، اس طرح پیچیدگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ چوتھاگُر…پانی خوب پیجئے:نزلہ زکام کے دوران یہ ضروری ہے کہ آپ ہر دو گھنٹے بعد آٹھ اونس پانی پئیں۔ اس سلسلے میں یہ ضرور یاد رہے کہ ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات نہ پئے جائیں۔ بہتر ہے کہ نیم گرم پانی باقاعدگی سے دو گھنٹے بعد پیا جائے۔ پانی کی جگہ دارچینی کی چائے، سادہ ہلکی چائے، بنفشہ کی چائے، گندم کی چھٹی ہوئی بھوسی (چوکر)کا جوشاندہ، شکر یا نمک کالی مرچ کے ساتھ یا گرم پانی میں شہد گھول کر بھی پی سکتے ہیں۔ اس گرم مشروب میں لیموں کا رس شامل کرنے سے یہ اور بھی مفید ہوجاتا ہے بشرطیکہ کھانسی نہ ہو۔ مرغی کا سوپ یعنی یخنی نزلے کا بہترین علاج ہے۔ دن بھر میں اس کی دو تین پیالیاں ہلکے نمک مرچ کے ساتھ استعمال کرنا بھی مفید تدبیر ہے۔ سیال اشیاء کے استعمال سے رطوبت زیادہ خارج ہوتی ہے جو دراصل نزلے کے جراثیم سے لدی ہوتی ہے۔ یہ جتنی زیادہ خارج ہوگی نزلے کے مضر اثرات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ مرغی کی جگہ کالے چنوں کی یخنی بھی استعمال کی جاسکتی ہے یا پھر مونگ مسور کی پتلی دال بھی بطور شوربا پی جاسکتی ہے۔ ان میں ادرک لہسن ہری مرچ پیس کر ملا لینے سے جسم میں توانائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ نزلاوی رطوبت کا اخراج اچھی طرح ہوتا ہے۔ پانچواں گُر.... رومال استعمال کیجیے:یہ بہت اہم گر ہے۔ ہمارے ہاں لوگ اس پر بالکل عمل نہیں کرتے۔ نزلے کی حالت میں بڑی بے تکلفی سے ہر چیز چھوتے رہتے ہیں۔ گلاس برتن پیالی اور کٹورے استعمال کرکے دوسروں کو بھی نزلے کا شکار بننے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ جہاں جی چاہے ناک صاف کرکے فرش کپڑوں اور چادروں کو آلودہ کردیتے ہیں۔ نزلہ ہوجائے تو صاف ستھرے نیپکن تولیے اور رومال سے ناک صاف کیجیے۔ اسے کسی کو چھونے نہ دیجیے اور کھولتے گرم پانی اور صابن سے دھوکر دھوپ میں خشک کرتے رہیے۔ آج کل ٹشو پیپر کی وجہ سے یہ کام اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ انہیں کسی ڈبے اگال دان میں ڈھک کر رکھئے اور جمع ہوجائیں تو بہادیجئے یا جلا دیجئے۔ کپڑے کے مقابلے میں ٹشو پیپر زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں جراثیم جلد ہلاک ہوتے ہیں۔ ہاتھ بھی بار بار دھوتے رہیے۔ چھٹا گُر.... غرارے کیجیے:ناک کھلی رکھنے اور گلے کی خراش دور کرنے کے لیے نیم گرم نمک پانی بہترین علاج ثابت ہوتا ہے۔ دن میں پانچ چھ مرتبہ نمکین پانی ناک میں وضو کی طرح چڑھایئے۔ اس سے ناک کی اندرونی سطح کا ورم کم ہونے کے علاوہ نزلے کے جراثیم بہہ کر خارج ہوجائیں گے۔ سانس لینے میں آسانی ہوگی اور سر کا بھاری پن بھی دور ہوجائے گا۔ اسی طرح نیم گرم نمکین پانی کے غراروں سے گلا صاف ہوگا جراثیم کی یلغار کم ہوگی اور خراش اور درد میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ اگر ہوا اور گلا خشک ہو تو مصری کی چھوٹی سی ڈلی منہ میں چوستے رہیے یا پھر لونگ یا دارچینی کا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسنے سے بھی گلا صاف اور تر رہے گا۔ ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا چائے کا چمچہ نمک گھول کر غرارے کرنے چاہئیں۔ گلے کی خراش کے ساتھ اگر 101درجے بخار بھی ہو تو یہ گویا گلے میں چھوت کی علامت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بھی غرارے مفید ہوتے ہیں۔ ساتواں گُر.... پانی کی پٹی:اوپر بیان کی ہوئی تدابیر کے ساتھ ساتھ خاص طور پر 100درجے سے زیادہ بخار کی صورت میں طبّی امداد لینی چاہیے۔ بخار کم رکھنے کے لیے پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹی رکھیں اور بُخار کم کرنے والی دوائیں استعمال کریں اور تکلیف بڑھنے لگے تو معالج سے ضرور رجوع کریں۔ بخار کے ساتھ گردن اکڑتی محسوس ہو سر میں سخت درد اور جسم پر سرخ دھبے نظر آئیں تو فوراً معالج سے رجوع کریں کیوں کہ یہ ورم دماغ یا گردن توڑ بُخار کی علامات ہوسکتی ہیں۔ آٹھواں گُر.... بند ناک کھلی رکھیے:اس کے لیے سیال اشیاء کے استعمال کے علاوہ گرم پانی کی بھاپ لینی چاہیے۔ اس میں بام ڈال کر بھاپ لینے سے ناک کھل جاتی ہے۔ جو خواتین حاملہ ہوں بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں یا وہ افراد جو قلب کی تکلیف اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں یا فالج کے مریض رہے ہوں انہیں بند ناک کے سلسلے میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔ نواں گُر.... کھانسی نہ روکیے:نزلے اور گلے کی تکلیف کے ساتھ ساتھ کھانسی بھی ہو اور بلغم خارج ہورہا ہو تو اسے روکنے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ اس کے اخراج میں مدد دینے کے لیے مصری وغیرہ چوستے رہیے۔ گرم بھاپ لیجیے تاکہ گلے کی خراش کم ہو اور بلغم بھی آسانی سے خارج ہوتا رہے لیکن اگر کھانسی بڑھتی جائے خون آلود بلغم آنے لگے سینے میں درد ہو اور اس سے آواز آنے لگے تو معالج سے فوراً رجوع کیجیے۔ ممکن ہے آپ نمونیا میں مبتلا ہوں۔ دسواں گُر.... نباتی ادویات استعمال کیجیے:نزلے کی ابتداء میں سپستان عناب اور بہی دانہ 3-3 گرام کو جوش دے کر چھان کر مصری یا شکر سے میٹھا کرکے پیتے رہیں۔ آپ شکر کی جگہ شہد یا بنفشہ کا شربت بھی شامل کرسکتے ہیں۔ شکر مضر ہو تو سادی استعمال کیجیے۔ اس سے حرارت بھی نہیں ہوگی اور نزلاوی رطوبت بھی آسانی سے خارج ہوتی رہے گی۔ اسی طرح جوشاندہ استعمال کرنا بھی بہت مفید علاج ہے۔ نزلے کو جلد روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے بظاہر نزلہ خشک ہوجاتا ہے لیکن کان آنکھ گلے دماغ اور پھیپھڑوں پر مضر اثرات دیر تک برقرار رہتے ہیں۔ بسا اوقات اسے روک دینا دمے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔  

Sunday, 7 October 2012

Pacemaker

پیس میکر


دور حاضرہ میں شاید ہر کسی نے کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں پیس میکر کے بارے میں ضرور سنا ہوگا لیکن عام لوگوں کو اس حیرت انگیز طبی آلہ کے بارے میں کوئی خاص جانکاری نہیں ہوتی ہے۔ وہ اِس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ یہ چھوٹا سا آلہ کس طرح اِنسان کا طرز زندگی بدلتا ہے اور اُس کے دل کو صحت مند رکھتا ہے۔
پیس میکر لاطینی لفظ (PASSUSقدم۔ میسین(Macian)بڑھانا) سے ماخوذ ہے یعنی کوئی بھی چیز جو کسی عمل یا حرکت کی رفتار و نظم پر ’دقدرت ‘‘رکھتا ہو۔ علم طب(علم قلب)میں پیس میکر خصوصی خلیات کے ایک ایسے مجموعہ کا نام ہے جو از خود ایسی ’’جنبش‘‘ پیدا کرتا ہے جو دل کے باقی حصوں تک پھیل جاتی ہے۔ دل کا طبیعی(نارمل) پیس میکر ایس اے نوڈ(SINOATRIAL NODE) ہے جو دل کے بائیں جانب کے بالائی خانے میں مخصوص وریدسپیر پروینا کیوا(SUPERIOR VENA CAVA) کے نزدیک ہوتا ہے۔ اسی پیس میکر سے دل کی رفتار کا آغاز ہوتا ہے اگر یہ کسی بیماری کی وجہ سے ’’ناکامی‘‘ کا شکار ہو جائے تو دل کی دھڑکن بند ہو جاتی ہے پیس میکر قدرتی، مصنوعی، داخلی، خارجی، عارضی یا دائمی ہوتا ہے۔
قدرتیس پیس میکر دل کا لازمی حصہ ہے اس کے بغیر دل کا دھڑکنا ناممکن ہے۔ مصنوعی پیس میکر ایک ایسا برقی آلہ ہے جو مسلسل برقی رومیں پیدا کر کے دل کی رفتار کا آغاز کر کے اسے قابو اور اعتدال میں بھی رکھت اہے۔ اس کے ساتھ شامل الیکٹروڈ(Electrode)اگر چھاتی کے باہر والے حصے پر نصب کئے جائیں تو اسے بیرونی خارجی پیس میکر اور اگر الیکٹروڈ چھاتی کے اندر نصب کئے جائیں تو اسے اندرونی یا داخلی پیس میکر کا نام دیا جاتا ہے بعض مریضوں میں یہ ایک مخصوص مدت کیلئے نصب کیا جاتا ہے(عارضی پیس میکر) یا بعض مریضوں میں اسے ہمیشہ کیلئے(تا آخر عمر)نصب کیا جاتا ہے(دائمی پیس میکر)
مصنوعی پیس میکر بیٹری پر چلنے والا ایک چھوٹا سا ٓلہ ہے جو بوقت ضرورت انسان کے دل کے برقی نظام کو جاری رکھ سکتا ہے۔ اس میں تار،لیڈ، الیکٹروڈ سسٹم اور پیس میکر ہوتا ہے۔ برخلاف اس باطل عقیدہ کے کہ پیس میکر کی ضرورت صرف عمر رسیدہ بزرگوں کو پڑتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ پیس میکر کی ضرورت کسی بھی نسل سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد (مرد و زن)کو کسی بھی عمر میں پڑ سکتی ہے۔ امریکہ میں ہر سال مختلف عوارضات قلب میں مبتلا مختلف عمر کے لوگوں کیلئے ایک لاکھ سے زائد پیس میکر تجویز کئے جاتے ہیں۔
پیس میکر دو حصوں والا سسٹم ہے ۔جس میں آغازکنندہ نبض کے علاوہ پیسنگ لیڈ (Pacing Lead) بھی ہوتی ہے۔پلس جنریٹر(Pulse Generator) میں بیٹری اور الیکٹرانک سرکٹری(جو دل کو دھڑکاتے رکھنے کیلئے برقی حرکت شروع کرتی ہے)ہوتی ہے۔ پلس جنریٹر عمومی طور بہت ہی چھوٹے سائز کا ہوتا ہے اسے چھاتی کے بالائی حصے ، دائیں یا بائیں طرف جلد کے نیچے(کالربون Coller Bone) کے نیچے نصب کیا جاتا ہے۔ پیسنگ لیڈ(لیڈز) ایک باریک تار(Insulated) ہے جو وریدی راہ سے داخل کی جاتی ہے تاکہ پلس جنریٹر کو دل کے ساتھ جوڑا جائے۔
مصنوعی پیس میکر کب اور کیوں؟
پیس میکر اس فرد کیلئے تجویز کیا جاتا ہے جو کسی عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد درج ذیل علائم کا اظہار کرے:
٭احساس خستگی۔٭کمزوری٭بے ہوشی ٭سر کا خالی خالی سا لگنا٭تنگی نفس٭معمولی کام کے بعد ایک دم تھکاوٹ کا احساس٭ دل کی دھڑکنوں میں حد سے زیادہ سست رفتاری
جب دل کی دھڑکنوں کی رفتار میں حد سے زیادہ کمی واقع ہو جاتی ہے تو جسم کے مختلف حصوں تک خون کے ذریعہ طبعی مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتا ہے اور مذکورہ بالا علائم کا آغاز ہوتا ہے دل کی دھڑکنوں میں شدید کمی، دل کے اپنے پیس میکر(ایس اے نوڈ)کی بیماریوں کی وجہ سے بھی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ متذکرہ بالا علائم ظاہر ہوتے ہی کسی ماہر امراض قلب سے مشورہ کرنا اورپیس میکر کے بارے میں معلومات حاصل کرنالازمی ہے…اگر ماہر معالج نے پیس میکر لگوانے کا مشورہ دیا تو بلاکسی جھنج و خوف اس کے مشورہ پر فوری عمل کرنا چاہئے۔
پیس میکر نصب کرنے سے پہلے آمادگی
٭          چھ سے بارہ گھنٹے تک آپ کو کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
٭          آپ کے دائیںیا بائیں بازوں میں وریدی لائن (Intravenous Line) چالو کی جائے گی۔
٭          آپ کو خاص قسم کا ضِد جراثم صابون دیکر، ہدایت دی جائے گی کہ کس طرح گردن سے پیچھے چھاتی تک کا حصہ اچھی طرح دھوکر پاک و صاف کریں۔
٭          آپریشن سے پہلے آپ کو وریدی لائن سے ذریعہ انٹی بویاٹیک ادویات دی جائیں گی۔
٭          آپ کو ایک سکون یا خواب آور دوائی بھی دی جائے گی تاکہ آپ درد محسوس نہ کریں۔
پیس میکر کیسے نصب کیا جاتا ہے
آپ کو ایک مخصوص لیبارٹری(Cardiac Cath Lab)یا کسی آپریشن تھیٹر میں لیجاکرایکسرے میز پر لٹایا جائے گا۔ آپ کو آپریشن اور پیس میکر کے متعلق مفصل جانکاری دی جائے گی۔ جب آپ ذہنی طور آمادگی کا اظہار کریں گے تو ڈاکٹر جراحی کا عمل شروع کرے گا۔
٭          الیکٹرانک ای کے جی (EKG) لیڈزآپ کی چھاتی کے ساتھ چپکائی جائیں گی تاکہ آپ کے دل کی دھڑکنوں کی’’رفتار‘‘ اور’’نظم‘‘ کا لگاتار جائزہ لیا جاسکے۔
٭          کاندھے کے نزدیک سینے کابالائی حصہ (جہاں پیس میکر نصب کیا جاتا ہے) ایک ضد عفونی محلول سے پاک و صاف کیا جائے گا۔
٭          پیس میکر چھاتی کے دائیں یا بائیں طرف نصب کیا جاسکتا ہے۔یہ فیصلہ عمومی طور ڈاکٹر اور مریض دونوں کی ترجیحات پر مبنی ہوتا ہے۔
٭          آپ کا جسم پاک و صاف کپڑے سے ڈھانپا جائے گا۔
٭          ایک انجکشن کے ذریعہ پیس میکر نصب کرنے کی جگہ کو بے حِس کیا جائے گا۔
اس تیاری کے بعد کالربون(Collar Bone) کے نیچے سے دو چار انچ تک جلد کاٹی جائے گی اور نزدیکی ورید میں ایک سوئی کے ذریعے لیڈ کو آپ کے دل میں رکھا جائے گا۔ اس وقت ڈاکٹر ایکسرے تصویروں کے ذریعہ لیڈ کا بغور جائزہ لیتا رہے گا۔پیس میکر اورلیڈز نصب کرتے وقت آپ تھوڑا سا دبائو محسوس کریں گے اگر وہ دبائو ناقابل برداشت ہو تو ڈاکٹر سے کہہ دیں تاکہ وہ کچھ اضافی ادویات سے اُس حصہ کو مزید بے حِس کرے گا جب لیڈز اپنی مطلوبہ جگہ نصب ہوں تو آپ کو زور زور سے سانس لینے یا زور سے کھانسنے کیلئے کہا جائے گا اُس وقت ڈاکٹر آپ کے دل کا ایکسرے ملاحظہ کر رہا ہوگا تاکہ اسے یقین ہو کہ لیڈز صحیح جگہ پر نصب ہو چکی ہیں۔
پیس میکر نصب کرنے کے بعد
آپ کو ایک یا دو دن ہسپتال میں گذارنے پڑیں گے، اکثر مریض اس دوران ہارٹ مانیٹر (ٹیلی میٹری)پر ہوتے ہیں اور انہیں مخصوص قسم کی انٹی بویاٹیک ادویات دی جاتی ہیں۔ بعض افراد پیس میکر نصب کئے جانے کی جگہ میں درد محسوس کرتے ہیں اُنہیں مسکن اور ضِددرد ادویات دی جاتی ہیں۔
جب ہسپتال سے اپنے گھر لوٹ آئے تو
کچھ دیر تک آپ اپنے سینے میں ایک خاص ’’درد‘‘ محسوس کریں گے۔ آپ کو احساس پیس میکر ہوگا جو قدرتی بات ہے۔ یہ احساس وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خودبخودڈ ختم ہوگا اور آپ کو پھر کبھی اس بات کا احساس بھی نہ ہوگا کہ آپ کے سینے میں کوئی ننھا منا سا مہربان مہمان آبسا ہے   ؎
ذرا سال دل ہے لیکن کم نہیں ہے
اس میں کون سا عالم نہیں ہے
بعض اوقات پیس میکر کی جگہ چھاتی پر سیاہ نیلے دھبے ظاہر ہوسکتے ہیں۔یہ جراحی کی وجہ سے ہیں اور وقت گذرنے کے ساتھ خودبخود ناپید ہوں گے اگر زخم کی جگہ سرخی، حرارت، بخار یا زیادہ درد شروع ہوتو دوسرے چیک اَپ کا انتظار کئے بغیر ڈاکٹر کو فوری اطلاع دیں۔
آپریشن کے بعد ایک ہفتہ مکمل آرام کریں۔ تین چار ہفتوں تک اپنے بازوئوں کو زیادہ نہ ہلائیں۔ آپ غسل کب کریں اور روزہ مرہ کے معمولات کب شروع کریں اِس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپریشن میں کس قسم کے بخئے(Stitiches) اور کس قسم کی ڈریسنگ کا استعمال ہوا ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے اس بارے میں تفصیلات معلوم کریں۔
یاد رہے:
٭          آپ کا پیس میکر گھروں میں استعمال ہونے والے مائیکروویو اوون،الیکٹرک کمبل یا بجلی پر چلنے والے دوسرے آلات کے اثر سے خراب نہیں ہوگا۔
٭          ایئرپورٹ پر میٹل ڈیٹکٹر پر سے گذرنے سے پیس میکر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
احتیاطی تدابیر:
آپ کو بڑے بڑے بجلی کے ٹرانسفارمروں کے نزدیک(چند فٹ) کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جہاں ویلڈنگ کی جاتی ہو وہاں سے دور ہنے میں بہتری ہے۔ بجلی، ویلڈنگ یا کسی اورب رقی لہر کے اثر سے آپ کا پیس میکر خراب تو نہیں ہوگا ہاں امکان یہ ہے کہ اس کے اندرونی کارکردگی کسی حد تک متاثر ہو۔اگر آپ کسی برقی آلے پر کام کرنے پر مجبور ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ جب بھی آپ کسی خاص قسم کی آزمائش (Test)، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، ایکسرے وغیرہ کرنے جائیں تو طبی عملہ سے پیس میکر کے بارے میں کہنا بھول نہ جائیں۔
چیک اَپ
مناسب وقفوں کے درمیان اپنے ڈاکٹر سے معائینہ کروانا لازمی ہے تاکہ پتہ چلے آپ کا پیس میکر صحیح ڈھنگ سے کام کر رہا ہے اور آپ کے جسم کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ ڈاکٹر آپ کا معائینہ کرے گا، اس میں بہت کم وقت لگتا ہے اور کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی ہے۔ آپ کے ڈاکٹر کے پاس ایسے آلات ہیں کہ وہ جراحی کے بغیر ہی آپ کے سینے کے اندر چھپے پیس میکر کے بارے میں تفصیلات فراہم کرسکتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ وہ کتنے وقفے کے بعد آپ کے پیس میکر کے بارے میں ’’جاننے‘‘ کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
پیس میکر آخر کب تک؟
پیس میکر ایک ایسا آلہ ہے جس پر پورا پورا بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ عمومی طور پیس میکر کی بیٹریاں چار سے چودہ سال تک رہتی ہیں(اوسط ۸ سال)یعنی پیس میکر نصب کرنے کے بعد مریض چودہ برس تک اپنے دل پر بھروسہ کرسکتا ہے۔ مقررہ معائینہ کے دوران آپ کا ڈاکٹر یہ کہنے کے اہل ہوگا’’آپ کے دل کی عمر کتنی ہے؟‘‘ اس لئے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت پڑے تو پیس میکر لگائیے اور زندگی کی شاہراہ پر دوڑتے رہیں۔