| دل کے جا نور کو ذبح کریں قربان ہیں گر اللہ پر پھر ہمیں کا ہے کا ڈر؟ عبدالبصیر توحیدی
ایک طرف عبدیت و بندگی اور کامل خود سپردگی کی یہ حسین تصویریں ہیں جو اس عظیم پیغمبر صلعم کی زندگی میں نمایاں ہیں تو دوسری طرف انکار و اعراض اور غفلت و مدہوشی کی شرمناک تصویریں ہیں جو آج ہم پیش کر رہے ہیں۔ در اصل قربانی کا مقصد یہی نہیں کہ انسان کی ذات پر عائد ہونے والی قربانی کو جانور کی ذات پر منتقل یا محدود کر دیا جائے۔ بے شک جانور کو ذبح کرنے سے قربانی کا ظاہری روپ تو مکمل ہو گیا لیکن اس کا حقیقی اور باطنی روپ سامنے نہیں آیا۔ جس طرح روزہ رکھنے کا اصل مقصد ظاہری حواس سے نکل کر باطنی حواس میں داخل ہونا ہے ،اسی طرح قربانی کا اصل مقصد صرف جانور کے حلقوم پر چھری پھیر دینا ہر گز نہیں بلکہ جانور کے گلے پر چھری چلانے کی بعد قربانی دینے والے شخص پر فوراََ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کو ٹٹولے ، اپنے ضمیر کو دستک دے کہ کیا اس نے اپنی نفسیاتی خواہش سستے جذبات اور خود غرضانہ عادات کے گلے پر بھی چھری رکھ دی ہے یا نہیں ؟ اگر صرف جانور کے گلے پر چھری رکھی ہے اور اپنے مفادات کو صاف بچا لیا تو جان لے کہ اللہ تعالیٰ تک قربانی کا گوشت اور خون نہیں بلکہ صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔گوشت ہم کھا لیں گے ، کچھ غرباء کھانے کو لے جائیں گے ، کھالیں بھی کوئی جماعت ، ادارہ یا دارالعلوم والے لے جائیںگے لیکن اللہ تک کچھ نہیں پہنچے گا۔ اگر توجہ اور رجوع الی اللہ ، خشوع و خضوع ، بارِ گاہِ رب میں حضوری کا شعور و اِدراک ، انابت اور محبت الٰہی کی روح موجود نہیںہے۔ تقویٰ سے بے نیاز افراد خواہ وہ مسندِ اقتدار پر فائز ہوں یا محکومی اور مغلوبیت کی زندگی بسر کر رہے ہوں، اگر اپنی نا جائز خواہشات اور حد سے بڑھتی ہوئی ہوس پر چھری نہیں پھیر تے ، تجارت میں ، ملازمت میں ، پیشہ ورانہ مشاغل میں ، نا جائز اور حرام کو حلال بنانے میں ہیں تو وہ اچھی طرح جان لیں کہ ان کے اس ظاہری عمل کی بارگاہِ الٰہی میں کوئی حیثیت نہیں۔ اگر وہ اپنی ریاکاری ، منافقت ، دھوکہ دہی ، جھوٹ اور خود غرضی کو ذبح نہیں کرتے اور جانور پہ جانور قربان کئے جارہے ہیں تو جان لیں کہ وہ راہِ حیات میں خسارہ اُٹھانے والے مسافر ہیں۔ اس کے برعکس جس نے فدائیت کے جذبے سے ایک جانور لیا اور اس کو ذبح کرنے کے لئے چلا اور اس کا دل کہہ رہا تھا : یا بارالٰہا ! میں جانور کو نہیں خود اپنے آپ کو اور اپنی تمام خواہشات کو آپ کے حوالے کر رہا ہوں ، جانور کو مقرر طریقے پر ذبح کیا اور اس کی زبان سے نکلا : خُدایا ! یہ میری اپنی جان کا ہدیہ ہے جو میں آپ کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں اس کو قبول فرما ۔ قربانی کے دوران اگر اس کا دل پگھلتا رہا ، اس کی آنکھیں آنسوں بہاتی رہیں ، قربانی اس کے اندر نرمی پیدا کرکے ہر قسم کے بُرے جذبات کو نکالتی رہی ، کبر ، عداوت ، انتقام اور خود نمائی کے جذبات کو اللہ کے لئے قربان کرتا رہا ، تقویٰ کا تجربہ کرتا رہا ، اپنی اصلاح کی فکر میں لگ گیا ، حوصلے اور تمنائیں دُنیاوی چیزوں کے بجائے اُخروی چیزوں میں لگانے کی فکر میں لگا رہا ، اس نے گویا قربانی کا تقویٰ اللہ کو بھیجا تو یہ وہ قربانی ہے جس کے ذریعے اس کا ایمان و عملِ صالح اس کو اُن نفسیاتی پیچیدگیوں سے صاف و پاک کردیتا ہے جو کسی معاملے میں حق کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس طرح اس کا ایمان اس کو خُدائی راستہ پر چلا تارہتا ہے۔اس کے بعد خُدائے بر تر اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور کبھی بھی اس کواپنے سے الگ نہیں کرتا۔ اس کی رہنمائی بھی کرتا ہے اور اس کی مدد بھی۔اللہ کی منشاء اور پیغام کو ذہن نشین کریں تو آج سے ملت اسلامیہ کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوجائے گا۔ لیل و نہار تبدیل ہو جائیں گے ۔ ملت اسلامیہ کو وہی سر فرازیاں نصیب ہوں گی جو کبھی ہمارے بزرگ و آباء کو حاصل تھیں ۔غورطلب بات ہے کہ سورج ہمارے سروں پرچمک رہاہے،اور اس شان سے پورے عالم میں اپنی روشن کرنیں بکھیررہاہے۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ اس کی شان وشوکت اوراس کی تابناکیوں کارازکیاہے؟اس کاراز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے مالک وآقا کے بنائے ہوئے نظام اورضابطے کاپا بندہے۔ اس کے آقانے اس کے لئے جودائرہ متعین کردیاہے،وہ اسی دائرے میںگردش کررہاہے۔ اس کے طلوع وغروب کے لئے جواوقات مقررکردئے گئے ہیں،انہیں اوقات میںوہ طلوع وغروب ہوتاہے۔ اگرآج وہ اپنے محورکوچھوڑدے یااپنے دائرے سے باہرآجائے، خدانے اس کے لئے جوضابطہ بنایاہے،اگر وہ اس سے آزاد ہوجائے تودیکھتے ہی دیکھتے سورج کے بجائے راکھ کاڈھیر ہوجائے۔ لہٰذا ہمیں اللہ کی راہ میں کو ئی بھی قربانی پیش کر تے قربا نی کی اصل مقصدیت اوراپنی حیثیت اورمنصب کویادرکھناچاہیے۔ یہی قر بانی کاپیغام ہے جو ملت اسلامیہ کوہرعیدالاضحی پر ربانی انقلاب کو اپنے اندر سرایت کرنے کی ہدایت دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح اور اسکے منشاء کو کو سمجھنے اور اپنی شریعت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (آمین)
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar
|
Search This Blog
Showing posts with label HAJJ / EID AL-ADHA. Show all posts
Showing posts with label HAJJ / EID AL-ADHA. Show all posts
Friday, 2 November 2012
DIL KE JANWAR KO ZUBAH KAREIN
Tuesday, 30 October 2012
EID RUKHSAT HUI MAGAR
| عید رُخصت ہو ئی مگر کہ قربانی خو شی کا دیبا چہ محمد یوسف مکرو
قُربانی اعلیٰ ترین انسانی قدر (Human values) ہے۔ اسی کی کوکھ سے تمام روابط ورشتے پھوٹ پڑتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں اور زندگی کی کشمکش وگہما گہمی میں رَس گھول دیتے ہیں۔ بندے اوررب کا تعلق، ماں باپ اور اولاد کا رشتہ، زن وشو کی با ہمی رفاقت، رفیق وہمدم کی معیت، اقارب واعزہ کی شرکت، پڑوسی اور پڑ وسی کی محبت … یہ سب میل مو انست کی صورتیںہیں جن کی اساس قربانی اور جذ بۂ ایثارپر ہی اٹھتی ہے۔ عام طور پر ایک انسان قر با نیو ں کی مشقت اس لئے اٹھا تا ہے کیو نکہ ان سے اس کے ذاتی مفادا ت اور دلچسپیوں کا سر شتہ بند ھا ہو تا ہے۔ اس وجہ سے ان کا وہ مز ا کہاںجو خا ص طور اولو العزم انسانو ں کو اس نو ع کی انمول قر با نی سے ملتا ہے جو اپنے چھو ٹے بڑ ے مفاد یا نجی دلچسپی کے خم خا نہ سجا نے کے لئے بلکہ کسی اور اعلی وارفع مقصد کے ضمن میں دی جا تی ہے ۔ اس حو الے سے تاریخ انسا نیت میں ہمچو قسم کی قر با نیو ں کے ایے ایسے معرکو ںکی مرقع آ را ئیا ں ملتی ہیں جن کو دیکھ کر آج کے اس ما دی دوڑ دھو پ والے اس دور میں کسی بھی با لغ نظر انسان کو روحانی تسکین اور جذ با ت کی تشفی کا سامان مہیا ہو تا ہے ۔ ان تما م اوراقِ پر یشاں کو اگر یک جا ملا کر کتاب کی تربیب دی جا ئے تو اس کا سر نا مہ صرف دو ہی عظیم الشان پیغمبرانہ ہستیوں… خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ اور آ ں جنا ب کے فرزند ذبیح اللہ حضرت اسمٰعیل ؑ… کے نا م نا می سے ہی تر تیب پا ئے گااور با قی تما م اونچی اونچی ہستیوں کی قر با نیا ں اسی کتا ب ِ ایثار کے اوراق اور حو اشی قرار پا ئیں گی ۔ اللہ تعالیٰ نے بظا ہران دونو ں با پ بیٹوں کو ایک کڑی آزمائش کی بھٹی میں اپنی کا ر گا ہِ مشیت کا اتما م کر نے کے لئے جھونک دیا…لیکن سوال یہ ہے کہ آ خرکیوں؟ علما ئے کرام اس کا سیدھا جو اب یہ دیتے ہیں کہ صرف اور صرف اس واسطے کہ پروردگار عالم اور خالق کائنات آنجنابؑ کا اپنی ذاتِ بابرکت کے تئیں محبت وعقیدت جو مومنانہ زندگی کا شعار اور وطیرہ ہے اور جو ’’قربانی‘‘ ہی کے بطن سے پھوٹ پڑتا ہے کا جائزہ لے سکے اور عالم انسانیت کو قربا نی کے باب میں ایک رول ما ڈ ل عطا کرے… قربانی ہی رزمِ گاہِ حیات کا وہ ناقابل تسخیر اسلحہ ہے جو کٹر سے کٹر دشمن کو زیر کر کے دوستوں اور رفیقوں کے صف میں کھڑا کرتا ہے۔۔۔ قر با نیو ں کی اس مثا لی نقش ِ راہ کو اپنی سیر ت طیبہ ؐ کا اوڑھنا بچھو نا بنا نے والے پیغمبر اسلامؐ کی جلو ت ہا ئے حیا ت کو دیکھ کر آ دمی ورطہ ٔ حیر ت میں پڑ جا تا ہے کہ اسوۂ حسنہؐ میں کس طر ح میں ابو لا انبیا ء حضرت ابرا ہیم ؑ کی مہک گندھی ہو ئی ہے ۔ یہ آ پ ؐ کے اخلا ص اور ایثا ر کی ہی معجزہ نما ئی ہے کہ کٹر سے کٹر دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تٔیں عقیدت واحترام میں سراپا اطا عت ہو ا، قربانی کا یہی بیش قیمت جذبہ ہی تو تھا جس نے اندھیا روں میں بھی ہر خاص وعام کی زبان سے آپ ؐ کیلئے ’’الامین‘‘’’والصادق‘‘ ہی کے درخشندہ القاب دلو ائے ۔
یہ آ پؐ کے مجسمہ ٔ ایثار و قر با نی ہو نے کے اخلاقِ حمیدہ اور اوصاف کریمہ کی جلو ہ گر ی ہی تو تھی جس نے لڑاکو اور جا ہلیت پسندقوم کے درندہ صفت انسانی گوشت پوست کے پیکروں کو :میرے صحابیؓ آسمان ِ ہدایت کے تابناک ستارے ہیں… کے مقام علو یت پہ لا کھڑا کیا۔آپؐ کا یہ آبِ حیات ’’قربانی‘‘ ہی کے راستوں سے رواہو سلا م اس پر کہ جسنے گالیاں سنکر دُعائیں دیں ۔ گالیوں کا جواب دعائوں سے دینا ’’قربانی‘‘ نہیں تو اور کیا…قربانی ہی وہ قالب ہے جس میں ماں کی ’’مامتا‘‘ ڈھل کر اس نورانی پیکر کے پائوں تلے جنت جیسی ابدی آرام گاہ کی حسین وجمیل شکل اختیار کرتی ہے۔ ’’قربانی‘‘ ہی وہ جو ہر عظیم ہے جسکا پیکر بن کراصحاب رسولؐ ’’رضی اللہ عنہم ورضو عنہ‘‘ کے عظیم ترین صف میں کھڑا نظر آتے ہیں… ایک مفکر نے کیا خوب فرمایا ہے کہ قربانی کے ذریعہ تعمیر، یہ قدرت کا ایک عالمگیر قانون ہے۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ قدرت کا یہی اصول مادی دُنیا کیلئے بھی ہے اور یہی اصول انسانی دنیا کیلئے بھی… درخت کیا ہے، ایک بیج کی قربانی۔ ایک بیج جب اپنے کو فنا کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ سر سبز وشاداب درخت زمین پر کھڑا ہو۔ اینٹو ں سے اگر آپ پُوچھیں کہ مکان کس طرح بنتا ہے تو وہ زبانِ حال سے یہ کہیں گی کہ کچھ اینٹیں جب اس کے لئے تیار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے زمین میں دفن کردیں، اس کے بعد ہی وہ چیز اُبھرتی ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔۔۔ عمارت میں ایک گنبد ہوتا ہے اور ایک اس کی بنیاد، گنبد ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے مگر بنیاد کسی کو نہیں دکھائی دیتی کیونکہ وہ زمین کے اندر دفن رہتی ہے مگر یہی نہ دکھائی دینے والی بنیاد ہے جس پر پوری عمارت اور اس کا گنبد کھڑا ہے۔۔۔ یہی حال انسانی زندگی کی تعمیر کا ہے۔ انسانیت کے مستقبل کی تعمیراس وقت ممکن ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے کو بے مستقبل دیکھنے پر راضی ہو جائیں، ملت کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ جانتے بُوجھتے اپنے کو بنے ترقی کرلیں۔۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی ایک نتیجہ خیز عمل کے غیر مشہور حصہ میں اپنے کو دفن کردے۔ وہ اپنے کام میں اپنی کوشش صرف کرے جس میں دولت یا شہرت کی شکل میں کوئی قیمت ملنے والی نہ ہو، جو مستقبل کیلئے عمل کرے نہ کہ حال کیلئے۔ وہ اپنے کو دفن کرکے قوم کیلئے زندگی کا سامان فراہم کردے، مقصد کی رفعت ہی قربانی کی کمیت ونوعیت کو متعین کردیتی ہے۔۔۔ ابراہیم علیہ السلام کو عالمی اسلامی تحریک کی سربراہی وپیشوائی کا منصب جلیل جب ہی ملا جب اس مقصد عظیم کی راہ میں آپؑ نے اپنی تمام تر پونجی اور اپنا تمام تر اثاثہ خوشی خوشی لٹا دیا… مقصد کی راہ میں باپ سے، قوم سے، معبودانِ باطل سے، بادشاہ وقت سے، اپنے وطن سے اعلان برأت…اسلامی تاریخ کا عنوان ہی ’’قربانی‘‘ہے
غریب و سادہ ورنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتداء ہے اسماعیلؑ
بوڑھے باپ نے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیلؑ کے گلے پر چھری رکھ کر جس بے مثال و بے مثیل قربانی کی ابتدأ کی، حضرت حسینؓ نے اسی قربانی کا نتیجہ کر بلا کے ریگزار میں اپنی اور اپنے اہل وعیال کی شہادت کی شکل میں عالمِ انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ حضرت حسینؓ کی اس عظیم قربانی کوعلامہ مشرقؔنے یوں اشعار کا جامئہ رنگین پہنا دیا ہے ؎
بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس نبائے لالٰہ گردیدہ است
سرِ ابراہیمؑ واسماعیل بود
یعنی آں اجمال راتفصیل بود
ابراہیمؑ واسماعیلؑ کی اجمالی قربانی کی تفصیل امام حسینؓ نے ہی کربلا کی تپتی زمین پر پیش کی۔ واضح ہو ا کہ اسلام ’’قربانی‘‘ ہی کا دوسرا نام ہے۔ ایک مفکر یہ کیا خوب فرمایا ہے’’خدا کے نزدیک اس کا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی تمناوں کو اس کے لئے دفن کردے، جو اپنے آرام کو اس کی خاطر چھوڈدے، جو اپنی مشکلات کو نظر انداز کر کے اُس کی طرف چلا آئے، دنیا میں کسی شخص کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کیا کچھ حاصل کر لے بلکہ کامیاب دراصل وہ ہے جو خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ لُٹا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا ’’ سب سے افضل جہاد کونسا ہے؟آپؐ نے فرمایا ’’ وہ شخص جو اپنی بہترین سواری لے کر نکلا اور میدانِ جنگ میں اس کا گھوڑا مارا گیا اور وہ خود بھی شہید ہوگیا‘‘۔گویا سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو بالکل لٹا ہوا اپنے رب کے پاس پہنچے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اسکے اوپر انڈیل دیگا‘‘ ابراہیمؑ کے رب نے آنجنابؑ سے فرمایا اَسلِم (اسلام لے آ۔ اپنے اپ کو میرے سپرد کردے۔ میرا ہوکررہ) تو جوباًآنجنابؑ نے فرمایا اسلمت لرب لعالمین (میں نے اسلام قبول کیا۔ میں نے اپنے آپ کو اسکے سپرد کردیا۔ میں رب العالمین کا ہو کررہا)…سید مودودیؒ اس قول وقرار کے ضمن میں رقمطراز ہیں’’اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نبا کردیا۔ اسے رب العالمین کے خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور ایسی رسموں اور عقیدوںکو چھوڑا اور دنیا کے سارے فائدوں کو چھوڑا۔ اپنی جان کو آگ کے خطہ میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی اطاعت اوراس کے دین کی تبلیغ میں صرف کردیا اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لئے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا‘‘ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا خلاصہ اور لُبِ لباب کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے’’امتحان وآزمائش‘‘ جس کے لئے قرانِ حکیم کی جامع اصطلاح ’’ابتلائ‘‘ہے اور جب آزمایا ابراہیمؑ کواس کے رب نے بہت سی باتوں میں تو اُسنے ان سب کو پورا کردیا‘‘(البقرہ:۱۲۴) حیات دنیاوی بھی ربانی ارشاد کے مطابق ابتلاء وآزمائش ہی تو ہے ’’وہ جس نے پیدا کیا قوت اور زندگی کو کہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے اچھا عمل کے اعتبار سے‘‘(الملک:۲) ابتلاء وآزمائش کی راہ قربانیوں اور جانثاریوں کی ہی تو راہ ہے اور قربانیوں کی راہ میں آنجنابؑ (جیسا کہ اوپر عرض کیا) ہر مرحلہ اور ہر گام پر سرخرو ہی نکلے۔ ہم جن حالات میں عیدالاضحی گزار رہے ہیں وہ حالات انتاہی گھمبیر، انتہائی بھیانک، انتہائی حوصلہ شکن اور انتہائی روح فرساہیں۔ ہرسو آتش وآہن، قتل وخون، عفت وعصمت کا چاک دامن، کٹی گردنیں، لٹی لٹی عصمتیں، غیر یقینی صبح وشامیں، غیر محفوظ ساعتیں عیدالاضحی ایسے مقدس ترین ملی تہوار کو گھیری ہوئی ہیں۔ جانوروں کی قربانی جو اس روز ہم اللہ کے حضور اُسی کی رضا وخوشنودی کیلے پیش کرتے ہیں وہ سادہ طور قربانی نہیں بلکہ ربانی ارشاد کے مطابق ’’اللہ تک نہیں پہنچتا ان قربانیوں کا گوشت یا خون، ہاں اُس تک رسائی ہے تمہارے تقویٰ کی‘‘(الحج:۳۷)
یہاں تقویٰ کے کے معنی ہیں؟تقویٰ کے معنی کی عملی تفسیر وہی نیت ہے جو ہم جانور کو ذبح کرتے وقت اپنی زبان سے یو ادا کرتے ہیںــ:میری نماز، میری قربانی، میراسم عبودیت، میری زندگی، میری قوت سب اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے…گویا جانور کی قربانی ایک معنوی حقیقت کی ظاہری علامت ہے۔ اسی شخص کی قربانی حقیقی معنوں میں قربانی ہے جو جانور کو ذبح کرتے ہوئے اپنے وجود، اپنے اثاثہ اور مختصراً اپنی پوری زندگی کو اللہ کی رضا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے ہر آن کمر بستہ ہو وگر نہ یہ قربانی زیادہ سے زیادہ ایک رسم ہو سکتی ہے ابراہیمؑ کی سنت نہیں ؎
نماز و روزہ قربانی وحج
یہ سب باقی ہیں، تو باقی نہیں ہے
روحِ قربانی ہمارے عمل ہی سے نہیں وہم وخیال سے بھی کب کی غائب ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ارب ساٹھ کروڑ کی ہماری مسلم آبادی بے عزتی، بے غیرتی اور بے حمیتی کی زندگی گزار رہی ہے۔ ابراہیمیؑ روح ہمارے ہاں پیدا ہو تو گلوبل سطح امت کیلئے جو آتش نمرود وآر آن ٹرر(War on Terorr) کی شکل میں دہکائی گئی ہے وہ سنتِ الٰہی ہی تحت گل وگلزار میں بدل جائے گی۔۔ ضرور بدل جائے گی انشاء اللہ۔ قربانی سے متعلق سید سلمان ندوی کے زریں خیالات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں’’ملت ابراہیمی کی اصل بنیاد قربانی تھی اور یہی قربانی حضرت ابراہیمؑ کی پیغمبرانہ اور روحانی زندگی کی اصلی خصوصیت تھی اور اس امتحان اور آزمائش میں پورا اترنے کے سبب سے وہ اور ان کی اولاد ہر قسم کی نعمتوں اور برکتوں سے مالامال کی گئی لیکن یہ قربانی کیاتھی؟ یہ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی۔ یہ ماسِواء اللہ اور غیر کی محبت کی قربانی خدا کی راہ میں تھی۔ یہ اپنی عزیز ترین متاع کو خدا کے سامنے پیش کردینے کی نذر تھی۔ یہ خدا کی اطاعت عبودیت اور کامل بندگی کا بے مثال منظر تھا۔ یہ تسلیم ورضا اور صبر وشکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کئے بغیر دُنیا کی پیشوائی اور آخرت کی نیکی نہیں مل سکتی۔ یہ باپ کا پنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کردینا نہ تھا بلکہ خدا کے سامنے اپنے تمام جذبات خواہشوں، تمنائوں اور آرزووں کی قربانی تھی اور خدا کے حکم سامنے اپنے ہر قسم کے ارادے اور مرضی کو معدوم کردینا تھا اور جانور کی ظاہری قربانی اس اندرنی نقش کا ظاہری عکس اور اس خورشید حقیقت کا ظل مجاز تھا ؎
اس دور پر آشوب ہیں اے عید نہ آتو
آتی ہے تو اندازِ ابراہیمیؑ سکھاجا
|
Sunday, 28 October 2012
QURBANI
پروفیسر مولانا محمد یوسف خان
اللہ تعالیٰ قرآن مجید سورة الحج میں ارشاد فرماتے ہیں:۔
”اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ اللہ کا نام لیں ، ان جانوروں پر جو ہم نے ان کو عطا کئے ہیں“
قرآن مجید میں قربانی کیلئے تین لفظ آئے ہیں۔ ایک نسک اور دوسرا نحر تیسرا قربان ۔
نسک: یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے کہیں عبادت، کہیں اطاعت اور کہیں قربانی کے لئے جیسے سورہ حج کی آیت 34 میں فرمایا:۔
”اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کر دی ہے“
یہاں یہ لفظ جانور کی قربانی کے لئے ہی آ رہا ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد من بھیمتہ الانعام کا لفظ ہے یعنی ان چوپایوں پر اللہ کا نام لے کر قربانی کریں جو اللہ نے ان کو عطاءکئے۔ دوسرا لفظ قربانی کے لئے قران مجید میں نحر کا آیا ہے جو سورة الکوثر میں ہے:۔
”یعنی اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں“
اور قربانی کا لفظ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کی 27ویں آیت میں آیا ہے جہاں حضرت آدمؑ کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کے واقعہ کا ذکر ہے۔
”یعنی آپ ان لوگوں کو آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی“
ہم اردو میں لفظ قربانی ہی عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں قربانی کا ایک خاص مفہوم ہے جس کا تذکرہ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ:۔
”یعنی قربانی ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، چاہے وہ جانور ذبح کرکے ہو یا صدقہ و خیرات کرکے۔ چنانچہ عرف عام میں قربانی کا لفظ جانور کی قربانی کے لئے بولا جاتا ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق کسی حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کرنا آدمؑ ہی کے زمانے شروع ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق پہلے انبیاءکے دور میں قربانی کے قبول ہونے یا نہ ہونے کی پہچان یہ تھی کہ جس قربانی کو اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تو ایک آگ آسمان سے آتی اور اس کو جلا دیتی۔ جب رسول اللہ نے مدینہ طیبہ میں مقیم یہودیوں کو ایمان لانے کی دعوت دی تو سورہ آل عمران کی آیت 183میں بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا:۔
”یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ طے کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھا لے“
حالانکہ یہ یہودکی انتہائی غلط بیانی تھی لیکن امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص انعام ہے کہ قربانی کا گوشت ان کے لئے حلال کر دیا گیا لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت فرما دی کہ قربانی کا مقصد اور اس کا فلسفہ گوشت کھانا نہیں بلکہ ایک حکم شرعی کی تعمیل اور سنت ابراہیمی ؑ پر عمل کرتے ہوئے ایک جان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔ چنانچہ واضح الفاظ میں فرمایا:۔
”یعنی اللہ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“
یعنی قربانی کا گوشت کھانا کوئی مقصد نہیں بلکہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے خالص اللہ کے لئے جان قربان کرنا اصل مقصد ہے قرآن حکیم میں ارشاد ہوا:
”یعنی جب ابراہیمؑ کا بیٹا اسماعیل ؑاس قابل ہو گیا کہ باپ کے ساتھ چل کر ان کے کاموں میں مدد گار بن سکے تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتاﺅ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ سعادت مند بیٹا بھی تو خلیل اللہ کا بیٹا تھا۔ کہنے لگے: ابا جان آپ وہ کام کر گزریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ آپ انشاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
”جب باپ بیٹا قربانی کے لئے تیار ہو گئے اور باپ نے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے چہرہ کے بل کروٹ پر لٹا دیا“ تو ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
”اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا، اس کے ساتھ ہی ایک دنبہ حضرت اسماعیلؑ کے بجائے قربانی کے لئے نازل کر دیا“
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر ابراہیم خلیل اللہ کے اس عمل کو پسند فرما کر قیامت تک ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے قربانی ہر صاحب استطاعت پر واجب کر دی، ابراہیم خلیل اللہ کے کارناموں میں سے جو چیزیں کسی خاص مقام کے ساتھ مخصوص ہیں وہ صرف ان مقامات پر حاجی حضرات کے لئے خاص کر دی گئیں، جس میں جمرات ( کنکریاں مارنا) اور صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانا اور قربانی کرنا تمام امت مسلمہ کے استطاعت رکھنے والے افراد کے لئے واجب فرمایا۔
چنانچہ خود رسول اکرم اور تمام صحابہؓ اور پوری امت کے مسلمان ہر خطے اور ملک میں اس پر عمل کرتے رہے اور قربانی کو شعائر اسلام میں شمار کیا گیا۔ سورة حج کی آیت 36 میں فرمایا:۔
”یعنی قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے شعائر اللہ یعنی اللہ کی عظمت کا نشان بنایا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے“
اس لئے قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق قربانی کا فلسفہ اور اس کی حقیقت یہ معلوم ہوئی کہ انسان قربانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے لئے جان قربان کرتا ہے، اس میں گوشت کھانا مقصود نہیں اور نہ اس میں ریا کاری دکھاوا آئے اور نہ کوئی اور وسوسہ آنے پائے، یہ خاص اللہ کے لئے جان اور مال کو قربان کرنا ہے۔ اور رسول اللہ کو یہ حکم دیا گیا جو امت کے ایمان کا حصہ ہے کہ:
”آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہی ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“
اللہ رب العزت ہمیں اس اخلاص اور اس جذبہ سے قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
LABBAIK UMMATE WAHIDA KI PUKAR
| لبیک اُمتِ واحدہ کی پکار امامِ برحق تلاش کر کے سلامتی کی نما ز پڑ ھ لیں عبدالرافع رسول
حج اسلام کا بنیادی رکن ہو نے کی حیثیت سے جو اخلاقی ، روحا نی، معاشرتی ، اقتصادی ، سیاسی ، قومی و ملی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے ۔خدا وند کریم کے واضح حکم پرعلمبرداران توحیدگوشہ ہائے ارض سے جوق در جوق بری ،بحری اور فضائی راستوں سے سفر کرتے ہوئے خدا کے مقرر کر دہ اس سالانہ عالمگیراجتماعِ امت میںشریک لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے پوری دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ حج کایہ اجتماع مسلمانوں کی بین الاقوامی حیثیت کا عکاس ، اور ان کا امتِ واحد ہ ہو نے سب سے بلند معیار ہے۔ یہ مہتمم بالشان سالانہ اجتماع مرکز اسلام مکہ المکرمہ کے میدان عرفات میں منعقد ہوتا ہے کہ جہاں سے حق و سچائی کا چشمہ اُبلا اور اس نے دنیا کو سیراب کیا ۔بلد الامین روحانی علم و معرفت کا وہ مطلع صافی ہے جس کی کرنوں نے روئے زمین کے ذرے ذرے کو درخشاں کیااور تاقیام قیامت کر تا رہے گا ۔یہ وہ روح پرور شیرازہ ہے جس میں ملت کے وہ تمام نفوس بندھے ہوئے ہیں جو مختلف لباس پہنتے ، مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جو مختلف ملکوں اور اقلیموں میں بستے ہیں لیکن وہ سب کے سب باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیازات کے ایک ہی قبلے کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں۔ بیت اللہ ہی وحدت کا وہ رنگ ہے جو ان تمام امتیازات کو مٹا دیتا ہے۔
حج بیت اللہ کے سامنے’’ لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک ‘‘حاضرہوں اے میرے پروردگار !حاضر ہوں کے اعلان اور نعرے سے شروع ہوتا ہے ،فرزندان توحید لبیک کہتے ہوئے اورتوحید خالص کا اقرار کرتے ہوئے اپنی عبدیت کا صاف طور پر اظہار کررہے ہوتے ہیں۔حج کے اجتماع میں شریک وہ قولاً وفعلاً گو یااس امر کا اعتراف کررہے ہوتے ہیںکہ اے ہما رے اللہ عزوجل !تیری ذات کے سوا کسی کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان رہنااور خوشنودی حاصل کرنا ہر گز ہما را شیوہ نہیں اور ساتھ ساتھ وہ اس امر کے بھی معترف ہوتے ہیں کہ جوبھی نعمت مسلمان کو حاصل ہے وہ بس تیری ہی دی ہوئی ہے۔ یہ فرزندان توحید خدا کی اصل اور حقیقی حاکمیت کااقرار کرتے ہوئے یہ اقرار با لسان اور تصدیق با لقلب کررہے ہوتے ہیں کہ انہیں اس اصل حکمرانی کے سوا انہیںکرۂ ارض پر کسی کی حکمرانی قبول نہیں اور دنیا میںجہاں بھی تیرے دئے ہوئے نظام کیلئے تگ ودو جاری ہے وہ اس تگ ودو میں برابر کے شریک ہیں۔تلبیہ کہتے ہوئے وہ بزبانِ حال وقال یہ عہد دہرا رہے ہوتے ہیں کہ خداکے قانون کے بغیر وہ کسی بھی قانون کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے اور نہ مانتے ہیں۔تیرے دیئے ہوئے نظام کے پابند ہیں اور اسی کے نفاذ کیلئے وہ اپنا دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ سر کا ری اعداد وشمار کے مطا بق 30لاکھ سے زائد فرزندان توحید حج کے اس اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک ہی وردی میں ملبوس، بن سلے دوچادروںجسے احرام کہتے ہیں اور بیک آواز اللہ کی کبریائی کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے ہر طرح کی اورتمام تراونچ نیچ، تفرقے، فرقہ بندی،علاقائی اور لسانی تعصبات کوعملاً حرام قرار دیتے ہوئے کندھے سے کندھا ملا کر میدان عرفات کی طرف دوڑتے ہوئے یہ حجاج بنیان مرصوص کا عملی اظہار کررہے ہوتے ہیں اور سفید لباس میں ملبوس یہ فرزندان توحید ایک اور نیک ہونے کا خدا کے سامنے عملی مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں۔ ایام حج کے دوران دور سے نظر آرہے خیموں کے اس شہر میں رہنے والوں کے درمیان کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔
ہم آہنگی ، یگانگت ، اتحاد اور یکجہتی کا یہ فقید المثال مظاہرہ رسمی عبادت گزاری نہیں بلکہ سماجی زندگی کا وہ سلیقہ اور شعار ہے جسے اختیار کر کے اسلام کے پیروکار ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں ،جس میں کوئی ظالم اور سفاک قوت شگاف نہیں ڈال سکتی لیکن کیا وجہ ہے کہ اس ساری یکسانیت، یک رنگی اور یکجہتی کے باوجود ملت واحدہ عملا ًپارہ پارہ ہے؟ حج کے اجتماع کے ذریعے مسلمانان عالم کو ایک دوسرے کے حالات جاننے ،ضرورتوں میں مدد دینے ،باہمی معلومات اور علوم و فنون سے استفادے کی صورت نکالنے، مسائل حل کرنے کے لئے اخلاص کے ساتھ سوچ بچار کرنے کی صورت پیدا کی گئی لیکن افسوس ہے کہ آج امت مسلمہ کو حج کے اصل مقاصد سے جان بوجھ کر بے خبر رکھا جا رہا ہے۔مسلمان حج کے اجتماع میں شریک تو ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس اجتماع کے اصل روح سے بے خبرہیں حتیٰ کہ دنیا میں جاری اسلامی تحریکوں اور ان تحریکوں سے وابستہ جانثاروں،جانبازوںاور مظلومین کے حق میںحج کے دوران جمعہ کے خطبوں اورمیدان عرفات کے اہم خطبے میں ہمدردی کاایک لفظ تک نہیں کہا جاتا،ساتھ نبھانے کی بات دور کی ہے۔ دنیا بھر میںمسلمانوں کی ایک جماعت کو مخصوص امریکہ کی وضع کردہ اصطلاح کے تحت ’’دہشت گرد‘‘کا نام دے کر قتل کیا جارہا ہے۔ انہیںمختلف بہا نو ں سے تنگ طلب کیا جا رہا ہے اورتمام مسلمان قاتل کے خوف اور ڈر سے لرزاں وترساں سہمے بیٹھے ہیں ، ستم با لا ئے ستم یہ کہ حج کے اس عظیم الشان اور سب سے بڑے عالمی اجتماع میں اس طرف مطلقاً کوئی التفات نہیں ہو رہا ہے۔حتیٰ کہ جوقبلہ اول مدت سے یہود کے قبضے میں ہے حج کا یہ مہتم بالشان اجتماع قبلہ اول کو آج تک واپس نہ سکاکیو نکہ حج کے اس عظیم اجتماع سے ملت کا ضمیر جاگ نہیں اٹھتا یا اُسے جا گنے نہیں دیا جا تا۔
اس وقت امت مسلمہ کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔بالا دست اور طاغوتی قوتوں نے پوری ملت اسلامیہ کے مالی وسائل پر مختلف حیلوں سے قبضہ کرنے اور مسلمانوں کا مال شیر مادر سمجھ کر ہضم کرنے کو شعار بنا رکھا ہے۔دشمنان ِاسلام اپنے خوفناک اسلحہ و گولہ بارود کا نشانہ مسلم سر زمین کو بنا رہے ہیں اور خون مسلم کی ارزانی کے نت نئے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں دہشت گردی کا مضحکہ خیز الزام عائد کرنے کے بعد وہ ہمارے خلاف خبث ِباطن کے اظہار اور مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے شب و روز مصروف عمل ہیں جبکہ امت مسلمہ کے عوام و خواص دونوں ہی یہود ونصاریٰ اور دیگر ستم گران ِ زمین کے بڑھتے ہوئے مکر و فریب ، چیرہ دستیوں ، ریشہ دانیوں اور کہنہ مکرنیوں کے سد باب کی کسی عملی کوشش کی فکر سے تہی دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ بات بلاخوف و تردید کہی جا سکتی ہے کہ مسلم ممالک کے ارباب بست و کشاد کوحالات کی سنگینی کا احساس ہے نہ ہی معصوم بچوں ، خواتین اور بزرگوں سمیت امت مسلمہ کا بہتا ہوا لہو فرزندان توحید کی کسمپرسی ، لاچارگی اور بے بسی کی قابل رحم تصویر انہیں نظر آ رہی ہے۔ حج کے عالمگیر اجتما ع کے مو قع پر بھی اس حوالے سے زبا نو ں پر تا لے پڑ تے ہیں ۔ ایسا کیو ں ہو رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔
ہماری اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو گی کہ آج مسلمانوں کی سر زمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو رہی ہے اورمسلمان وحشیانہ مظالم کا شکار ہیں۔ ہمارے دشمن پوری دنیائے اسلام پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش منصوبہ بندی کر چکے ہیں لیکن دنیائے اسلام کی ان مسائل و معاملات پر حج کے عالمگیر میں اس پر فکری و نظریاتی ہم آہنگی کہیں نظر نہیں آتی اور ہمارے مشترکہ دشمن کے عزائم کو دن بدن تقویت مل رہی ہے۔ صلیبی علم بردار، زنا ری ظالم اور سامراجی عزائم رکھنے والے دیگر دشمنان ِدین دنیا میں ہونے والے ہر طرح کے تشدد کے پیچھے مسلمانوں کے ہاتھ کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے کر ان کے خلاف عالمی سطح پر نفرت و حقارت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔اگر پوری امت مسلمہ اپنے سیاسی طا قت،اقتصادی وسائل اور افرادی قوت کو امتِ واحدہ ہونے کی بنیاد پر یکجا کرلے تو نہ صرف اہل اسلام کا ایک نیا دور عروج وعظمت شروع ہو سکتا ہے بلکہ مسلمانوں کی محرومیوں اور مایوسیوں کا خاتمہ بھی ایک حقیقت بن کر ابھر سکتا ہے ، جس سے اسلامی تعلیمات کی برتری کا تصور تقویت پکڑے گا اور اسلام کے حلقہ اثر کو بھی فروغ حال ہو گا۔
یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ کے صاحبانِ بصیرت بااثرشخصیات کوایام میںحج آگے آکر اپنااثرورسوخ استعمال کر کے اپنے ممالک کے حکمران طبقے کواس بات پر آمادہ کرادیناچاہیے تھاکہ وہ او آئی سی کی تطہیرکراکے اسے ملت کے مجمو عی مفاد میں زیا دہ متحرک کر یں ،اس کے کپکپاتے گھٹنوں کو تقویت بخش دوا فراہم کر کے انہیں مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کریں،اس ملی پلیٹ فارم کی مکمل اوورہالنگ کرکے اسے تقویٰ اورپاکیزگی کے سانچوں میں ڈال کر ایک مجلس شوریٰ کی حیثیت دے دیں اور اس مجلس شوریٰ میں امت کے چنیدہ ،جیدحریت فکر کے علمبردار دانشوروں کو شامل کریںجو ملت اسلامیہ کو اپنی عظمت رفتہ یاد دلادیں، خواب غفلت سے بیدار کریںاورانہیں اغیار کی ذہنی وجسما نی غلامی سے نجات دلانے کی سطر عنوان پڑھا دیں۔ قسم باللہ امت میں ایسی بااثر شخصیات کی کوئی کمی نہیں جویہ کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں ع لیکن اے بساآرزو کہ خاک ۔
اس میں کوئی شبہ و ابہام نہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں مگر امت پر مسلط حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور امریکہ اور یورپ کی ناراضگی کے خدشات کی وجہ سے وہ خودمسلمان ممالک کے ایک متحد و منظم کمیونٹی کی صورت میں فعال ہونے کی راہ میں حائل ہیں ۔ جب تک یہ حکمران اپنی منفی فکر چھوڑ نہیں دیتے اور انہیںملت اسلامیہ کی فکر انہیں دامن گیر نہیں ہو جاتی اور اس کے بعد جب تک وہ پورے عزم بالجزم کے ساتھ امت کو متحد و منظم کرنے پر کمر بستہ نہیں ہوں گے اور دنیائے اسلام کے پاکیزہ اذہان کے حامل اہل دانش اپنی صلاحیتیں اتحاد بین المسلمین کے لئے وقف نہیں کریں گے تب تلک کبھی نتیجہ خیز اور موثر نتائج بر آمد نہیں ہوں گے۔اے کاش اوآئی سی کی مکمل اوورہالنگ کرنے کے بعداس پلیٹ فارم کو ایک مشترکہ پارلیمنٹ بناکر امت مسلمہ کو در پیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا حل سوچاجاتااور سلامتی سے متعلق امور پر لائحہ عمل مرتب کیاجاتااورپھراسی پلیٹ فارم کے ذریعے سے مسلمان ممالک کی مشترکہ منڈی، مشترکہ میڈیا پالیسی، مشترکہ کرنسی اور دوسرے اقدامات کے ذریعے امت مسلمہ کی فلاح وبہبود پر توجہ دی جاتی، کسی کوامت مسلمہ کے مفاد کے لئے کچھ کرنے کا سلیقہ ہوتاتوبلاشبہ ان مقاصدکے حصول کے لئے ایک باضابطہ سیکرٹریٹ قائم کرکے مسلم ممالک میں رابطے کا ایک نیٹ ورک مضبوط نظام بنایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ اس عظیم اور بڑے کام کا آغاز مرکز اسلام مکہ مکرمہ سے حج کے عالمگیر اور عظیم اجتماع سے ہی کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام دشمنوں کی معاشی اورسیاسی پالیسیوں نے امت پر مسلط حکمران ٹولے کی امت کی فلاح کے لئے سوچنے کی صلاحیت چھین رکھی ہے اوروہ عالمی طاغوت کے ہمہ تن ہمہ گوش نوکربن بیٹھے ہیں۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی شیرازہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ مسلمان دنیا بھر کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں۔ یہ افرادی طاقت خود بھی ایک انمول دولت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جنہیں موثر طور پر بروئے کار لانے اور درست طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے مگر مسلم ممالک میں اجتماعیت کے جذبے کے فقدان کے باعث امت مسلمہ کے وسائل بھی مسلمانوں کے کام آنے کی بجائے یہود و نصاریٰ اورہنودکے تصرف میں آرہے ہیں ۔ ہائے یہ عربستان کی دولت تیل کویہودونصاریٰ اورہنودکے حوالے کرنے کے ضمن میں عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسی علاقائی سطح پر اشتراک کی انجمنیںبنیںجنہوں نے فرسودہ عرب قومیت کا نعرہ دیکرامت مسلمہ کوفائدہ دینے کے بجائے عربستان کی اس دولت کو دشمنان اسلام کے قدموں پرنچھاور کردی ۔
کاش حج کے اس عالمگیر اجتماع میں57مسلمان ممالک کے صدوریا وزرائے جو بھی ہوں بالخصوص عربستان کے حکمرانوںکوبلاکرکان پکڑ واکربٹھایاجاتا اورکعبہ کے درپران سے ناک رگڑواکرغیراللہ کی غلامی سے توبہ کروائی جاتی اور ان سے اس امر کاعہد لیا جاتا کہ آج کے بعدتمہیں اپنے اپنے مما لک میںاسلام کے دئے ہوئے عادلانہ نظام کونافذکر کے امت مسلمہ کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہے جونہیں کرے گا اس کے ساتھ تمام قسم اورہرنوعیت کے تعلقات منقطع رہیں گے ۔اس سلسلے میںاگرچہ ٹھنڈی ہوا کاایک جھونکابہار عرب کے نام سے کئی عرب ممالک سے چل پڑا،تاہم ہماری اس آرزوکی تکمیل کے لئے ابھی تک عملی طورپر دور دورتک جلدازجلد کوئی ایسی راہ سمجھائی نہیں دیتی الایہ کہ جب خدا اس امت پر کوئی مہربانی فرمائے۔
دنیا بھر کے57 کے لگ بھگ آزاد خود مختار مسلمان ممالک اور ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی ان مسلمان ممالک کی افرادی قوت، قدرتی وسائل ، ان کی جغرافیائی اہمیت، دین کی بنیاد پران کے مابین فطری، نظریاتی و فکری ہم آہنگی کوزیر استعمال لانے اور فروغ دینے کے لئے مدت طویل سے اس امر کا شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ عالم اسلام کا ایک ایساامام برحق و سربراہ حاضر و موجود ہو جو اُمت مسلمہ کو بیدار کر سکے اور اسے زوال و انحطاط سے نجات دلا سکے ۔آج جب ہم امت مسلمہ کی محرومیوں، مایوسیوں، مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہیں تو بلا شبہ اس کے اسباب و علل میں اخوت اسلامی کے فقدان اور آپس کی ظلم و نا انصافی کے ساتھ ساتھ حج کے عظیم اجتماع کوبروئے کارنہ لانے اورآخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاحجۃ الوداع کے موقع پر فراہم کردہ چارٹرپرعملدرآمد نہ کرنا سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ امت مسلمہ کاخانوں میں تقسیم ہونایہی امت کے زوال اور پستی کی بنیادی وجہ ہے ۔
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar
|
Saturday, 27 October 2012
Khaleelullah ka Eisar Zabihullah ka Ikhlas
| عیدالاضحی خلیل اللہ کا ایثارذبیح اللہ کا اخلاص سید علی گیلانی
آج عیدالاضحی کا مقدس دن ہے۔ یہ دن پوری امت اور ملّتِ مرحومہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادیں تازہ کررہا ہے۔ آپؑ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رسالت کے منصب پر فائز کئے گئے تھے۔ یہ کونسا دور تھا، کونسا وقت اور زمانہ تھا اور جس قوم میں آپؑ معبوث فرمائے گئے اُس قوم کی حالت کیا تھی۔ یہ سب کچھ قرآن پاک کی وساطت سے بنی نوع انسان اور خاص طور اُمتِ مسلمہ کے لئے تفصیل اور وضاحت کے ساتھ سامنے رکھا گیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد آپؑ دوسرے پیغمبر ہیں جن کو عالمگیر حیثیت میں اﷲ کے پیغمبر اور رسول کی حیثیت سے معبوث فرمایا گیا تھا۔ آپؑ کی قوم شرک اور بُت پرستی پر یقین رکھتی تھی۔ آپؑ جس گھر میں پیدا ہوئے وہ گھر بُت تراشی اور بُت پرستی میں نمایاں اور امتیازی مقام رکھتا تھا۔ آذر اُن کے والد کا نام بتایا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے:’’ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں‘‘(الانعام، ۷۴)
اپنے باپ کے سامنے اُن کی بُت پرستی اور بُت تراشی پرضرب لگانے کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم کو مظاہرِ کائینات کا تعارف کرایا۔ آپؑ نے تاروں کو دیکھا اور کہا کہ یہ روشنی دینے والے ہیں، رات کی تاریکی میں چمکتے ہیں، آسمان اور زمین کی تاریکیوں میں روشنی اور درخشندگی پیدا کرتے ہیں۔ پتھروں سے بنے بتوں کے مقابلے میں یہی تارے پوجے جانے والے اور خدا ہونے چاہئیں۔ مگر جب یہ ڈوب گئے اور اِن کی روشنی مدھم پڑگئی اور ان کے مقابلے میں چاند زیادہ تابندگی کے ساتھ طلوع ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تارے ڈوب جانے سے ان کی ناپائیداری اور فنائیت کا ادراک کرکے اعلان کردیا کہ ’’میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا ہوں‘‘
ماہتاب کو دیکھ کر آپؑ نے کہا کہ تاروں کے مقابلے میں یہ زیادہ روشن ہے۔ یہی لائق عبادت اور بندگی ہے۔ مگر سورج طلوع ہوتے وقت تاروں اور چاند کی روشنی بھی ماند پڑ گئی۔ آپؑ نے کہا کہ یہی ربّ ہے اور سب سے بڑا کیونکہ تارے اور چاند اس کے مقابلے میں بے نور دکھائی دے رہے ہیں۔ سورج کے غروب ہونے تک آپؑ اس تصور میں رہے مگر جب آفتاب بھی اپنے انجام کو پہنچ کر غروب ہوگیا تو آپؑ نے اعلان کردیا:اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں نہیں ہوں۔(الانعام، ۷۸:۷۹)
اقبال علیہ الرحمہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے غروبِ آفتاب کا منظر دیکھ کر ربّ کائینات کی پہچان اور معرفت کا جو اعلان اور اقرار کیا۔ ایک شعر میں سمو دیا ہے
وہ سکوتِ شام صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشنی تر ہوئی چشم جہاں بین خلیلؑ
انسان کے اردگرد کائنات کے مناظر اور خود انسان کا اپنا وجود، آیات اور نشانیاں ہیں۔ جن پر انسان کو تدّبر اور غور وفکر کرکے خالقِ کائنات کا ادراک حاصل کرنے کی جو کوشش اور سعی کرنا چاہئے تھی وہ نہیں کررہا ہے۔ تحقیق اور تدّبر ہورہا ہے۔ بلاشک وشبہ مگر تدّبر اور تفکر آج کے انسان کو اﷲ کی معرفت اور وحدانیت کے بجائے یا تو الحاد کی طرف یا شرک اور مظاہر کائنات کی پرستش کی طرف ہی لے جارہا ہے اس کی بنیادی وجہ تحقیق اور تدّبر کرنے والوں کی فکر اورسوچ کی کمی ہے کہ وہ خالق کائینات کے وجود کی شناخت اور پہچان کیلئے مظاہر کائینات کی کھوج نہیں لگاتے ہیں، بلکہ اُن کے اپنے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ از خود پیدا ہوا ہے۔ اس کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لئے وہ اصلی صانع تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاند، تاروں اور آفتاب کو ڈوبتے اور بے نور ہوتے دیکھا تو اﷲ تعالیٰ نے اُس کے قلب وذہن کو اپنی ہدایت سے نوازا۔ اس واقعہ سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے سہارے خلاء میں پرندوں کی طرح پرواز کرنا اور سمندروں کے سینوں کو مچھلیوں کی طرح چیرنا، انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے مگر ہدایت اور خالقِ کائنات کے وجود کی شناخت انسان کے اپنے بس میں نہیں ہے جب تک اﷲ کی طرف سے اُس کو ہدایت نصیب نہ ہو۔
اﷲ کی معرفت حاصل ہوجانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اﷲ کی بندگی کی طرف دعوت دی۔ وقت کے حکمرانوں، جنہوں نے لوگوں کو اپنی بندگی اور غلامی کے شکنجے میں کسا تھا یہ کہہ کر کہ ہم تمہارے معبودوں کی نسل اور خاندان سے ہیں۔ اس لئے تمہارے مقابلے میں ہمیں برتری اور فوقیت حاصل ہے۔ اس بنیاد پر تم ہمارے احکامات اور ہماری ہدایات کے مطابق زندگی بسر کرو۔ یہاں یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشرکانہ تہذیب بُت پرستی تک ہی محدود نہیں رہتی ہے، بلکہ وہ اپنی چھاپ ِزندگی کے ہر شعبے پر حاوی کرنے کی پالیسی اختیار کرلیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے state کے جتنے ذرائع اور وسائل اُن کے پاس ہوتے ہیں وہ اُن کو اپنی چھاپ مسلط کرنے کیلئے استعمال میں لاتے ہیں۔ اس لئے توحید کے علمبرداروں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر قوتیں اور صلاحتیں معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے استعمال میں لائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوئہ حسنہ سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔ اُنہوں نے وقت کے نمرود کے دربار میں جاکر اﷲ کی بندگی کی دعوت دی۔ اُن کے ساتھ قوی استدلال کے ساتھ مباحثہ بھی کیا، وہ ناقابلِ تردید دلیل کے مقابلے میں مبہوت ہوکر رہ گیا۔ مگر ہدایت اور اﷲ کی وحدانیت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگیا:
’’تم جسے چاہو اسے ہدایت نہٰں دے سکتے، مگر اﷲ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔‘‘ (القصص، ۵۶)’’مگر اﷲ ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھایا کرتا‘‘
ظالم لوگوں کو اﷲ تعالیٰ اس لئے محرومِ ہدایت کردیتا ہے کہ انہوں نے بندگی کی حدود پھاند کر اپنے آپ کو ربّ اور اِلہٰ کے مرتبے تک پہنچایا ہوتا ہے۔ اقتدار اور حکومت وسلطنت پر قابض ہونے کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہمارے پاس قوت، طاقت اور سطوت ہے اس لئے ہم لازماً عام انسانوں سے برتر اور افضل ہیں۔ ہم کو کسی اور کی ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت نہیںہے۔ عام لوگ بھی چونکہ کمزور اعتقاد اور ایمان کے ہوتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کی جاہ وحشمت سے متاثر اور مرعوب ہوکر رہنمائی، اطاعت اور فرماں برداری کے لئے اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں نمرود نام کے بادشاہ نے لوگوں پر تسلط جمایا تھا۔ چونکہ ملک کے تمام ذرائع اور وسائل پر ان کا کنٹرول تھا وہ لوگوں کو زندگی کی ضروریات اور سہولیات فراہم کرنے کی دسترس رکھتا تھا۔ اس بنیاد پر وہ اُن کا پالنہار بن چکا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے معبوددانِ باطل پر ضرب کاری لگا کر ان کو حیران وششدر بنا دیا۔ جب ان کو بتایا گیا کہ تمہارے معبودوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اگر یہ بولنے اور بات کرنے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں تو ان سے پوچھو کہ ان کے ساتھ یہ سلوک اور رویہ کس نے روا رکھا؟ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔ یہ اُن کی سوچ اور فکر پر ایک کاری ضرب تھی کہ تم لوگ ان بے حس اور بے اختیار پتھروں کی پوجا کرتے ہو۔ جو یہ بات تک تم کو بتلا نہیں سکتے کہ ان کی توڑ پھوڑ کس نے کی ہے؟ آخر تم اپنی عقل اور سوچ سے کام کیوں نہیں لیتے؟ مادی طاقت کے نشے میں چُور جب دلیل اور استدلال کے سامنے لاجواب ہوجاتے ہیں تو وہ طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے مخالف آواز کو زیر کرنے کا غیر اخلاقی اور بہیمانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ یہی طرز عمل نمرود اور اُس کی قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف اختیار کیا۔ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کرلیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُس میں ڈال کر بھسم کرنا چاہا۔ ابراہیم علیہ السلام کے سامنے یہ بہت بڑا امتحان تھا کہ وہ اس آگ میں کود پڑیں گے اور اپنی جان کو قربان کریں گے۔ یا اپنی جان بچانے کیلئے نمرود اور اُس کی بُت پرست اور مشرک قوم کے سامنے سرنڈر کریں گے۔ عقل عام تو کہتی ہے کہ جان بچانی چاہئے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مظاہر کائنات کا عینی مشاہدہ کرنے کے بعد جس ذاتِ اقدس، خالق ومالکِ کائنات پر ایمان ویقین کا اعلان کیا تھا یہ شعوری اعلان اور ایمان تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنا سب کچھ اﷲ ربّ کائنات کی مرضی اور منشاء کے مطابق قربان کرنے کا عزم اور عقیدہ تھا۔ یہ رسمی اور غیر شعوری ایمان نہیں تھا۔ یہ شعور کی پوری بیداری کے ساتھ اعلان تھا۔ جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے:ترجمہ: ’’ کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اﷲ ربّ العالمین کیلئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘(الانعام: ۱۶۲، ۱۶۳)
آگ کا بھڑکتا ہوا الاؤ دیکھ کر، حضرت ابراہیم علیہ السلام میں کوئی خوف تردد، پریشانی اور تذبذب لاحق نہیں ہُوا۔ اُن کو اس بات کا یقین محکم تھا کہ اگر میرے آقا اور مولا کو میرا آگ میں جل جانا ہی قبول ہوگا تو مجھے کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے اور اگر اُس کو میری جان بچانا ہوگی تو آگ کسی حال میں مجھے جلا نہیں سکتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اﷲ ربّ کائنات کو اپنے بندے کی جان بچانا تھی۔ آگ اُن کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکی۔ آگ میں جلانے کی قوت اور صلاحیت آگ کے خالق اور مالک نے بخشی ہے۔ اگر صلاحیت اور قوت بخشنے والا ہی کسی وقت اس کو سلب کرے تو نہ آگ جلا سکتی ہے اور نہ ہی پانی ڈبو سکتا ہے۔ اﷲ برترو بزرگ نے آگ کو حکم دیا:’’ہم نے کہا، اے آگِ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی والی بن جا ابراہیمؑ پر‘‘(الانبیآئ، ۶۹)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچانا اور محفوظ رکھنا، اُن معجزات میں سے ایک معجزہ ہے جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اﷲ تبارک وتعالیٰ نے آگ کو گلزار میں بدل دیا۔ یہ اُس کی قدرت اور طاقت سے کچھ بعید نہیں تھا۔’’اگر کوئی شخص ان معجزات کی اس لئے تاویلیں کرتا ہے کہ اُسکے نزدیک خداکیلئے نظامِ عالم کے معمول (Routine) سے ہٹ کر کوئی غیر معمولی کام کرنا ممکن نہیں ہے، تو آخر وہ خدا کو ماننے ہی کی زحمت کیوں اٹھاتا ہے‘‘
(تفیم القرآن، جلد ۳، ص ۱۶۹)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ احکم الحاکمین کی ذاتِ اقدس کے ساتھ محبت اور لگاؤ ہی نہیں، بلکہ عشق کی حد تک تعلق اور وابستگی تھی۔ جہاں کسی ذات اور مقصدِ زندگی کے ساتھ محض ظاہری تعلق ہی نہیں بلکہ قلبی رشتہ اور عشق ہو وہاں اس مقصد کیلئے جان تک قربان کرنا، کوئی دُشوار مرحلہ نہیں ہوتا ہے۔ علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں کودنے کے عمل کو عشق سے ہی تعبیر کیا ہے۔
اﷲ کی مدد، نصرت اور چاہت سے آگ کے الاؤ سے صحیح وسلامت نجات پانے کے بعد آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا۔ سورہ الصّٰفٰت میں اس کا تذکرہ آیا ہے:’’ابراہیم نے کہا ’’میں اپنے ربّ کی طرف جاتا ہوں وہی میری رہنمائی کریگا۔ اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جوصالحین میں سے ہو۔‘‘(الصفٰت :۹۹ تا ۱۰۰)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اُن کی قوم بت پرستی اور بُت تراشی سے باز آکر اور تائب ہوکر بندگیٔ ربّ کا راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور میری رسالت پر ایمان لاکر میری اطاعت اور پیروی پر راضی نہیں ہورہی ہے بلکہ انہوں نے مجھے جان سے مار دینے کے لئے وحشیانہ اقدام کرکے آگ کے الاؤ میں جلانا چاہا تو انہوں نے اپنے وطن سے ہجرت کی۔ یہ سنت پیغمبری ہے کہ جس وطن میں اﷲ کے معبوث کئے ہوئے مرسلین کے دین اور مشن کے لئے ساز گار ماحول فراہم نہیں ہوتا ہے تو وہ وطن کو ترک کرکے اپنے مشن اور مقصدِ رسالت کو اولین ترجیح دیدیتے ہیں۔ ہم عملاً آخری رسولﷺ کی سیرت پاک میں بھی دیکھتے ہیں۔ اس سے وطن پرستوں کے نظریہء کا بطلان واضح ہوجاتا ہے جو دین، ایمان اور اِلٰہی مشن کے پھیلاؤ، تبلیغ، اشاعت اور غلبہ کے امکانات اپنے زادوبوم میں معدوم پانے کے بعد بھی وطن کو اولین درجہ اور مقام دیتے ہیں۔
وطنیت کے بُت نے امتِ مسلمہ کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ اسلام کے ابدی اور آفاقی پیغام کے مقابلے میں، وطن کا بُت پوجتے ہوئے اُمّتِ مسلمہ خدا پرست بن جانے کے بجائے وطن پرست بن گئی ہے۔ یہاں یہ غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے کہ وطن کے ساتھ محبت نہیں رکھنی چاہئے۔ یہ غیر فطری سوچ اور فکر ہے۔ جائے پیدائش اور جس سرزمین میں انسان نے جنم لیا ہو اُس کے ساتھ فطری طور محبت اور لگاؤ ہوتا ہے۔ اس فطری جذبے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس جذبے کو مسترد کیا جاسکتا ہے اور نہ اس فطری جذبے اور رحجان کو وطن پرستی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وطن پرستی کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو دین اور ضابطہ حیات شعور کی بیداری کے ساتھ قبول کیا ہے اُس میں اور آپ کے وطن میں جب تصادم اور ٹکراؤ پیدا ہوجائے اور آپ کے لئے دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو، تو اس انتخاب میں اگر آپ نے اپنے دین اور ایمان کے مقابلے میں وطن کو ہی ترجیح دی اور اُسی کو مقدم جان کر دین اور ایمانی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور ان کو ثانوی حیثیت دیدی تو وہی وطن پرستی ہے اور اسی سے اسلام نے روکا ہے اور اس کو سنت نبویﷺ سے انحراف قرار دیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وطن چھوڑ کر دین اور بندگیٔ ربّ کے نظام کو ترجیح اور فوقیت دیدی۔ آپؑ نے اولادِ صالح کے لئے دُعا مانگی، اﷲ تعالیٰ نے اُن کی دُعا قبول فرمائی اور اُن کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں ایک صالح فطرت فرزند عطا کیا۔ اس اولاد کی پیدائش سے حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک اور آزمائش میں ڈال دئے گئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جب اپنے باپ کی پرورش اور نگہبانی میں دوڑ دھوپ کو پہنچ گئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُن کو خواب میں دکھایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اس لاڈلے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔ پیغمبروں کا خواب وحی کے برابر ہوتا ہے۔ آپؑ نے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے پوچھا کہ میں نے خواب میں آپؑ کو ذبح کرتے دیکھا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ صالح اور برگزیدہ بیٹے نے جواب دیا:اُس نے کہا، ’’ابّا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے اسے کرڈالئے، آپ انشاء اﷲ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔‘‘(الصّافات، ۱۰۲)
لختِ جگر کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوجانا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بہت بڑی آزمائش تھی مگر جس طرح آپ آگ کے الاؤ میں کود پڑنے اور وطنِ عزیز کو ترک کرنے کی آزمائش میں پورے اُترے برابر اُسی طرح آپ اس بڑی آزمائش میں بھی معیار مطلوب پر پورے اُترے۔ اﷲ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا خون بہانا مطلوب نہیں تھا بلکہ اپنے دونوں برگزیدہ بندوں، باپ بیٹے کو پرکھنا تھا کہ وہ میرے حکم کی تکمیل میں کیا کردار ادا کریں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل لِٹا کر آپؑ نے اُن کے گلے پر چھری چلانا چاہی۔ اﷲ تعالیٰ نے وحی بھیجی ابراہیم علیہ السلام تم نے اپنا خواب پورا کردیا۔ آپ کے سامنے ایک دُنبہ لایا گیا جسے آپ نے ذبح کردیا اور اس طرح قربانی پوری ہوگئی اور قربانی کی یہ سنت تا صبحِ قیامت ملّت میں جاری وساری رکھی گئی۔ جیسا کہ رسول رحمتﷺ سے پوچھا گیا کہ یہ قربانی ہم کس حیثیت سے دے رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:’’یہ تمہارے ابا ابراہیمؑ کی سنت اور عمل ہے‘‘۔عیدالاضحی کو جانوروں کی قربانی دیکر اُمت مسلمہ یہی سنت پوری کررہی ہے۔ اس قربانی کی جو روح ہے وہ آج کے مسلمانوں کے عمل سے چھن گئی ہے اور یہ محض ایک رسم ہوکر رہ گئی ہے۔
جانوروں کی قربانی دینے کا مطلب مقصد اور مدعا یہ تھا کہ اﷲ کی رضامندی، خوشنودی اور اُس کے دین کے غلبہ کے لئے اگر ہم کو اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دینا پڑیں گی تو ہم اُس کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں اور کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں۔ آج ہم جانوروں کی قربانیاں تو دیتے ہیں مگر اﷲ کے دین کی مکمل پیروی سے دور بھاگ رہے ہیں۔ اﷲ کے احکامات اور اُس کی کتاب اور پیغمبرص کی اطاعت اور فرماں برداری کے لئے اپنے جذبات، خواہشات اور رسم ورواج کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم نے وطنیت اور شخصیت کے بُت تراشے ہیں۔ اُن کی محبت اور اطاعت میں ہم خدا کے پسندیدہ دین کو مکمل طور پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہم نے دین کی کامل پیروی سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لئے یہ گمراہ کن فلسفہ اپنا لیا ہے کہ دین اور سیاست الگ الگ ہے۔ دین کو ہم نے محض عبادت تک محدود کررکھا ہے۔ زندگی کے معاملات میں ہم سکیولر ڈیموکریسی، سوشلزم، کمیونزم، سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی، غلط رسم ورواج، مشرکانہ تہذیب کے خدوخال، سود خوری، شراب نوشی، حتیٰ کہ غیرمسلموں کے ساتھ ہمارے رشتے بھی ہورہے ہیں، پھر بھی ہم یہ دعویٰ کرنے سے شرماتے نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar
|
Subscribe to:
Posts (Atom)

