Search This Blog

Showing posts with label PSYCHOLOGY. Show all posts
Showing posts with label PSYCHOLOGY. Show all posts

Friday, 3 March 2017

جھوٹ سے کیسے بچا جائے

جھوٹ سے کیسے بچا جائے
تنویر اللہ خان

قانون کا خوف اور معاشرتی اقدار کی پابندیاں انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہیں، لیکن معاشرتی اقدار اور قانون ملکوں، شہروں اور فاصلوں کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ ہر انسانی معاشرے میں غلط اور صحیح کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں اور اُن کی مختلف درجے کی حساسیت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی معاشرے میں خواتین کا، اسکرٹ پہننا عام سی بات ہے اور کسی معاشرے میں عورت کا ناخن تک نظر آنا بہت خاص سمجھا جاتا ہے۔ کسی معاشرے میں عورت پر معاشی ذمہ داری لازمی ہوتی ہے اور اسے اچھا سمجھا جاتا ہے، لیکن کسی معاشرے میں عورت پر معاشی ذمہ داری بالکل نہیں ہوتی، بلکہ عورت کا معاش کمانا بُرا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے قریبی ممالک میں چین، تھائی لینڈ، فلپائن، سعودی عرب اور کچھ وسط ایشیائی ممالک کا اس معاملے میں تضاد بڑی مثال ہے۔

یہی معاملہ قانون کا ہے، مثلاً امریکا نے اپنی سرزمین پر موجود جیلوں میں بند قیدیوں کو جو قانونی حقوق دئیے ہیں وہ قانونی حقوق کیوبا میں موجود گوانتاناموبے کی جیل میں بند قیدیوں کو حاصل نہیں ہیں، حالانکہ ان دونوں جہگوں کی جیلیں امریکا کی بنائی ہوئی ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ قانون، رسم ورواج اور قانون پر عملدرآمد ملکوں، قوموں اور فاصلوں اور سرحدوں کی مرہونِ منت ہوتے ہیں۔
بعض اچھائیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہر معاشرے میں اچھی سمجھی جاتی ہیں، اسی طرح بعض برائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ہر معاشرے میں بُری سمجھی جاتی ہیں۔ ممکن ہے ان پر عمل کی کیفیت مختلف ہو اور ان کے بارے میں حسّاسیت کم یا زیادہ ہو، مثلاً جھوٹ ہر معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہے اوردیانت داری ہر معاشرے میں پسندیدہ ہے، جب کہ مسلمان معاشرے کے تمام اچھے اعمال دینِ اسلام کا حصہ ہیں۔ لہٰذا سچ بولنا، سچ پر قائم رہنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ سچ پر قائم رہنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے پر آخرت میں اچھے صلے کی امید بہت بڑا سہارا ہے۔

آخرت میں جواب دہی کا احساس انسان کو سیدھا رکھنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ آخرت میں حاضری مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ جب کہ دیگر مذاہب میں بھی اس کا تصور پایا جاتا ہے۔ آخرت میں جواب دہی کا خوف ایسا احساس ہے جس کی شدت اور حساسیت پر رسم ورواج، قانون، حالات اور فاصلوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
جسے آخرت میں جواب دینے کا احساس ہوگا اُسے کوئی پولیس والا نہ بھی دیکھ رہا ہو تب بھی وہ غلط کام کرنے سے باز رہے گا۔ آخرت میں جواب دینے سے ڈرنے والا امریکا میں بھی غلط کام سے باز رہے گا اور پاکستان میں بھی غلط کام سے بچے گا۔ وہ دن کی روشنی میں بھی غلط کام نہیں کرے گا اور گھپ اندھیرے میں بھی غلط کام کرنے سے دور رہے گا۔ زمین پر بھی وہ گناہ سے بچے گا اور آسمانوں میں بھی وہ بُرائی سے الگ رہے گا، اور تہہ خانوں میں بھی آخرت کی جواب دہی کا احساس اُسے غلط کاموں سے دور رکھے گا۔

جھوٹ سے بچنے کا بھی سب سے کارگر نسخہ آخرت کی جواب دہی کا احساس ہے۔ سب سے پہلے ہمیں آخرت میں اللہ کے حضور حاضری اور جواب دہی کا احساس اپنے اندر پیدا اور تازہ رکھنا چاہیے۔ یہ احساس جس قدر پختہ ہوگا اور جتنا زیادہ ہمارے دل ودماغ میں بسا رہے گا اُتنا ہی ہم جھوٹ سے بچیں گے۔ جھوٹے پر اللہ نے اپنی لعنت بھیجی ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن میں پیدائشی طور پر ساری خصلتیں ہوسکتی ہیں (خواہ وہ اچھی ہوں یا بُری) البتہ خیانت اور جھوٹ کی عادت نہیں ہوسکتی۔

جھوٹ اور آخرت کی فکر ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا آخرت کو دل میں بسا لیں، جھوٹ خودبخود آپ کے اندر سے نکل جائے گا۔ اس کے ساتھ اگر آپ چاہیں تو چند ایک تدابیر اور بھی کی جاسکتی ہیں۔

سب سے پہلے نظری اعتبار سے جھوٹ کو بُرا سمجھیں۔ آپ کو اپنے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ جھوٹ گناہ ہے، جھوٹ بولنے سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں اورجھوٹ دُنیاوی زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

جھوٹ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں۔۔۔ جھوٹ ہی پر کیا موقوف، دُنیا کا کوئی بھی کام ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا جھوٹ چھوڑنے کا ارادہ کریں اور اپنے ارادے پر استقامت سے جم جائیں۔ ارادے پر جم جانا اور مسلسل جدوجہد کرنا ایسا بابرکت کام ہے کہ اس کو کرنے والوں کی مدد کے لیے اللہ آسمان سے ملائکہ کو بھیجتا ہے۔
اپنے ہر دن کا آغاز کرتے ہوئے عزم کریں کہ میں آج جھوٹ نہیں بولوں گا، میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اور ’میں آج جھوٹ نہیں بولوں گا‘ میں زیادہ آسان ہدف ’کبھی نہیں‘ کے بجائے ’آج نہیں‘ کا نظر آتا ہے، لہٰذا اپنے لیے چھوٹا ہدف مقرر کریں۔ ایک دن ہدف کا پورا کرلینا اگلے دن کی ہمت بھی دیتا ہے۔ لہٰذا صبح بستر چھوڑنے سے پہلے جھوٹ نہ بولنے کا ہدف مقرر کریں اور رات بستر پر لیٹنے کے بعد اپنے ہدف کے پورا ہونے اور اپنی کوشش کا جائزہ لیں، اپنے بستر کے سامنے لکھ کر لگالیں ’’مومن کا آنے والا پَل گزرے پَل سے بہتر ہونا چاہیے‘‘۔
جینز یعنی ورثے میں ملی عادات کے بعد صحبت انسان پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ مشہور مثالیں ہیں کہ ’’انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے‘‘، ’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے‘‘، اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے‘‘۔ اس کُلیے کے مطابق اگر آپ دین دار اور سچوں کی صحبت اختیار کریں گے تو آپ میں سچائی پیدا بھی ہوگی اور نشوونما بھی پائے گی۔ صحبت اختیار کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیں، کیوں کہ کسی بھی جانب پہلا قدم اُٹھانا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے، اس کے بعد آپ کا ہر اگلا قدم آپ کے اختیار میں کمی کرتا جاتا ہے۔ مثلاً یہ آسان ہے کہ ہم ٹی وی نہ دیکھیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ہم ٹی وی دیکھیں اور لغویات سے بچے رہیں۔ جو لوگ ٹی وی پر مثبت چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں اُن کی نگاہ بھی لمحوں کے لیے ہی سہی، غلط پر پڑجاتی ہے۔ اسی طرح یہ تو ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو ٹچ موبائل نہ دیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ٹچ موبائل دے کر اُس کے استعمال کی نگرانی کرسکیں۔ یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ پینا شروع نہ کریں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ہم ساری زندگی دن میں صرف ایک سگریٹ ہی پیتے رہیں۔ لہٰذا اگر آپ جھوٹ سے بچنا چاہتے ہیں تو جھوٹوں کی صحبت سے بہت دور رہیں جھوٹوں کی صحبت میں بیٹھ کر جھوٹ نہ بولنا ناممکن ہے۔

جھوٹ سے بچنے کے لیے قریبی لوگوں سے مدد لیں۔ آپ کے ماں باپ اور دوست جھوٹ چھڑوانے میں آپ کی بہت مدد کرسکتے ہیں، لہٰذا ان سے ضرور مدد لیں۔
جھوٹ چھوڑنے کے لیے ڈاکٹر، استاد، مربی سے مدد لینا نہایت مؤثر ہوسکتا ہے۔ مغربی دُنیا میں ایسے ماہرین موجود ہیں جو آپ کے اندر اُتر کر آپ کی عادات، احساسات اورجذبات کو بدل سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اب کچھ ڈاکٹر یہ کام کررہے ہیں۔ اگر آپ کا دل ٹُھکتا ہو تو اس شعبے کے کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں۔ لیکن ڈاکٹر کے پاس جانا پیسے کا خرچ مانگتا ہے، جب کہ الحمدللہ ہمارے معاشرے میں ایسے دین دار لوگ بھی جابہ جا موجود ہیں جو اسپیچ تھراپی یا وعظ و نصحیت سے جھوٹ چھوڑنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے رابطہ کرنا اور اس رابطے کو جاری رکھنا جھوٹ چھوڑنے میں آپ کا بہت مددگار ہوسکتا ہے۔

بڑبولوں سے دور رہیں، بڑھکیں مارنے کا شوق جھوٹ اور سچ کی تمیز کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا بڑی بڑی باتیں کرنے والوں سے، ڈینگیں مارنے والوں سے دور رہیں۔ بڑبولے بلاضرورت بغیر کسی مقصد، بغیر کسی مفاد کے جھوٹ بولتے ہیں۔
کم بات کرنے کی عادت ڈالیں۔ کم بات کرنا ممکن ہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ زیادہ بولا جائے اور غلط بولنے سے بچا جاسکے۔ لہٰذا جب بولنا ضروری ہو اُس وقت خاموش نہ رہیں، لیکن جب بولنا ضروری نہ ہو اُس وقت خاموش رہنا بہت اچھا ہے۔ اکثر اوقات کم بولنے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا نقصان زیادہ بولنے سے ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے تقربیاً تمام ہی لوگ زیادہ بولنے کے بھی عادی ہوتے ہیں۔
جھوٹ بولنے کے اسباب سے بچیں۔ مثلاً اگر آپ چھپ کر سگریٹ پیتے ہیں اور کسی بڑے کے پوچھنے پر سگریٹ پینے سے انکار کردیتے ہیں، یا آپ اسکول جانے کے بجائے پارک میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ میں بلاناغہ اسکول جاتا ہوں، ایسے کام کرنے سے بچیں جن کی وجہ سے آپ کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

غلطی چھپانے کے لیے بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔ لہٰذا غلطی کا اعتراف کرنا سیکھیں۔ مثل مشہور ہے کہ انسان غلطی کا پُتلا ہے۔ غلطی کرنا اتنا بُرا نہیں جتنا اس کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا بُرا ہے۔ پھر ایک غلطی کو چھپانے کے لیے ایک نہیں بہت سارے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، جب کہ غلطی کا اعتراف کرنے کے لیے صرف ایک سچ ہی کافی ہوتا ہے۔

جھوٹ کے نتیجے میں اپنی زندگی میں ہونے والے نقصانات کا شمار کرتے رہیں، اسی طرح سچ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا حساب بھی جوڑتے رہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جھوٹ سے ہونے والے نقصانات کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔
اپنے پچھلے جھوٹ پر اللہ سے معافی مانگیں۔ توبہ میں اللہ نے ایک خاص قوت رکھی ہے، جو بندہ اپنے سابقہ گناہوں پر نادم ہوکر اللہ سے معافی کا طلب گار ہوتا ہے، اللہ نہ صرف اپنے اس بندے کے سابقہ گناہ معاف کرتے ہیں ساتھ ہی اُسے اپنی رحمت کی ڈھال بھی عطا فرماتے ہیں جو اُسے آئندہ گناہ سے بچا کر رکھتی ہے۔ لہٰذا اب تک جو جھوٹ بولا جاچکا ہے اُس پر دل سے اللہ سے مغفرت مانگیں۔ وہ ستارالعیوب ہیں، وہ معاف بھی کرتے ہیں اور پردہ بھی ڈالتے ہیں۔

بلاشبہ جو تھوڑا یا بہت خیر ہمارے اندر ہے وہ اللہ ہی کی عطا و توفیق کا نتیجہ ہے۔


Sunday, 22 July 2012

رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت

رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت

- مولانا عبدالرحمن سلفی

’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن مجید (اول اول) اُتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کے درمیان تمیز کی نشانیاں ہیں‘ تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے روزے رکھنا چاہیے البتہ جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں‘ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پورے کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ (سورۃ البقرہ آیت 185 پارہ 2) رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی شریعت میں انتہائی قدر ومنزلت کا حامل ہے۔ یہ ماہ مقدس متعدد وجوہ کی بنا پر ہمارے لیے نہایت درجہ اہمیت و فرضیت رکھتا ہے۔ لغوی اعتبار سے رمضان ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی جھلسا دینے‘ بھسم کردینے یا گرم ریت پر جلادینے کے ہیں۔ شرعی اعتبار سے رمضان کے معنی یہ ہوں گے کہ اس میں اہل ایمان کے گناہوں اور معصیات کو رب تعالیٰ ایسے ختم کردیتے ہیں جیسے آگ میں کسی چیز کو ڈالا جائے تو وہ اسے بھسم کرکے کھ دیتی ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو رمضان کی آزمائشی بھٹی میں ڈال کر کندن بنا دیتا ہے۔ گویا رمضان المبارک میں بندۂ مومن مختلف عبادتیں اور ریاضتیں کرکے اپنے مالک حقیقی کو اس طرح راضی کرلیتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر اپنے رب کی رضا حاصل کرتے ہوئے جنت کا حقدار ٹھیر جاتا ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہونے کی وجہ سے کائنات انسانی کے لیے رب تعالیٰ کی طرف سے آخری پیغام ہدایت نازل ہونے اور اتمام حجت کا واضح اعلان ہے۔ جیسا کہ درج بالا آیت میں واضح طور پر ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا‘ جو بنی نوع انسان کے لیے سامان رشد و ہدایت ہے اور اس کتاب میں کامیاب دنیاوی و اُخروی زندگی کے تمام سربستہ راز بیان کردیے گئے ہیں اور چونکہ یہ کتاب تاقیامت رہنمائی کے لیے اُتاری گئی ہے لہٰذا اس میں واضح کردیا گیا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ فرقان کہتے ہی اس کو ہیں جو مکمل طور پر حق و باطل میں فرق واضح کردے اور اس میں ذرہ برابر بھی شائبہ نہ ہو کہ شاید یہ صحیح ہوگا وہ صحیح ہوگا۔ نہیں بلکہ دونوں صورتیں مکمل طور پر واضح کردی گئیں کہ یہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی اور یہ غیر اللہ اور من چاہی راہ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ آیا وہ قرآن مجید و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا ہے یا اپنے آبائو اجداد اور من پسند افکار و نظریات اختیار کرکے اپنے خالق و مالک کی ناراضگی کا وبال اپنے سر لینا چاہتا ہے‘ تو معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی اہم ترین فضلیت نزول قرآن کی بدولت ہے۔ اس ماہ مقدس میں قرآنی احکامات کے تحت متعدد عبادات بجالائی جاتی ہیں جو اس کے فضائل ومناقب اور فرضیت و اہمیت کو چار چاند لگاتی ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ روزوں کا مہینہ بھی جو اللہ نے امت مسلمہ پر فرض کیے ہیں یعنی سال کے گیارہ مہینے ہم ہمہ وقت کھاتے پیتے ہیں لیکن رمضان المبارک کے مخصوص اوقات میں روزہ رکھ کر ہمیں حلال و پاکیزہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دے دیا گیا اور بھوک و پیاس کی شدت کو برداشت کرنے اور اس دوران ہر قسم کی لہو و لعب‘ فسق و فجور اور اللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیوں سے بچنے کی تلقین کی گئی اور ان امور کو روزہ کی مقبولیت کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ روزہ کی فرضیت اس لیے عائد کی گئی تاکہ ہمارے اندر تقویٰ و پرہیز گاری پیدا ہوجائے۔ نیز بھوکا پیاسا رہ کر اللہ تعالیٰ کی کئی مرضیات و حکمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ (1) تقویٰ حاصل ہوجاتا ہے کہ روزہ دار گھر میں سب کچھ موجود ہونے کے باوجود قبل از وقت تنہائی کے عالم میں بھی محض رب کی رضا کی خاطر حلال و پاکیزہ چیزیں بھی اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے اور وہ کچھ نہیں کھاتا پیتا۔ حالانکہ اگر چپکے سے کچھ کھاپی لے تو اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا‘ مگر اس کے دل میں یہ احساس موجود ہوتا ہے کہ میرا رب دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے روزے کو ضائع ہونے نہیں دیتا۔ (2) اسی طرح روزہ دار کے دل میں دیگر مفلوک الحال مسلمان بھائیوں کی بھوک پیاس کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو انواع و اقسام کی نعمتیں میسر نہیں‘ انہیں اپنے عیش و عشرت کے سامان میں شریک کرلیں اور ان کی غربت و افلاس کو اپنی بھوک پیاس کی شدت سے تقابل کرنے کی توفیق حاصل ہوسکتی ہے اور ایک طرف اپنے اوپر کی گئی فیوض و برکات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے تو دوسری طرف اللہ کے مجبور بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا خیال بھی نیکی پر آمادہ کرتا ہے۔ (3) روزے کے ذریعہ تربیت نفس بھی ہوتی ہے کہ اگر خدانخواستہ انسان کسی ابتلاو آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے قابل رہے۔ جیسا کہ ابتدائے اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امام کائنات علیہ الصلوٰۃ و السلام اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے انتہائی نامساعد حالات میں دین کی شمع فروزاں رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی اور مدنی زندگی دونوں انتہائی نامساعد حالات کا شکار رہی اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے کہ آقا علیہ السلام نے زندگی بھر کبھی میدے کی نرم روٹی تناول نہیں فرمائی۔ اسی طرح خلافت راشدہ کے دور میں بھی کم و بیش یہی صورتحال رہی تاہم جب فتوحات بڑھتی رہیں تو اہل اسلام بھی معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے لگے۔ البتہ یہ پُرمشقت زندگی اور اللہ‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا نتیجہ تھا کہ اسلام چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔ لہٰذا روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے جو صرف ماہ رمضان میں فرض کیے گئے اسی لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ترجمہ: ’’اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔‘‘ (البقرہ آیت 183 پارہ 2) گویا روزہ کے ذریعہ اہل ایمان رب کی خشیت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ (بخاری) رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت اس لحاظ سے بھی معروف ہے کہ اس ماہ مبارک میں انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ رمضان المبارک میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کی ادائیگی 70 فرضوں کے برابر ہے۔ (بیہقی) اس لیے عام طور پر لوگ زکواۃ‘ صدقات‘ خیرات اس ماہ مبارک میں بہت زیادہ کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں کے حصول میں سرگرداں رہتے ہیں۔ گرچہ زکواۃ سال ہونے پر ہی دی جاتی ہے تاہم حصول ثواب کے لیے ماہ رمضان کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ 70 فرضوں بلکہ قرآن کے مطابق سات سو گنا تک بھی اللہ تعالیٰ اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح اس ماہ مبارک میں عام صدقات و خیرات کے علاوہ صدقۃ الفطر بھی دیا جاتا ہے جو روزہ میں ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مفلوک الحال مسلمان کی اشک شوئی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ قارئین کرام! جیسا کہ عرض کیا گیا کہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مبینہ ہے۔ اس ماہ مقدس کے آخری عشرے کی جس رات میں یہ قرآن نازل کیا گیا اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کی برکت سے اس ایک رات کی عبادت کو بھی ہزار مہینوں سے افضل قرار دے دیا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ترجمہ: ’’تحقیق ہم نے اسے (قرآن مجید کو) قدر والی رات میں نازل کیا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس میں (ہرکام) کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (الامین) (جبرائیل) اُترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔ (سورۃ القدر آیت 5 پارہ 30) گویا اس میں ایک رات (جو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے) کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔ یہ امت مسلمہ پر رب تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ مختصر عبادتوں پر بے انتہا اجر و ثواب عطا فرما دیتا ہے تاکہ کل قیامت والے دن اہل ایمان کے اعمال میں نیکیوں کے انبار ہوں اور وہ کسی صورت جنت کے حقدار بن جائیں۔ رمضان المبارک میں ادا کی گئی نیکیاں مثلاً روزہ‘ نماز‘ تراویح (زکواۃ ‘ جو شرعی اعتبار سے امیر کے پاس بیت المال میں جمع کرانی چاہیے) صدقات‘ خیرات‘ تلاوت‘ سماعت قرآن مجید جیسی عبادتوں سے خالق کائنات اپنے بندوں پر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں ادائیگی عمرہ کی بڑی فضیلت ہے۔ احادیث مبارکہ میں ہے کہ رمضان المبارک کا عمرہ اجر و ثواب کے لحاظ سے حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری‘ مسلم) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور رات دن مسجد کے ایک گوشے میں دنیاوی معمولات اور تعلقات کو خیرباد کہہ کر یکسوئی سے یاد الٰہی میں مصروف ہوجاتے اور اس عبادت کی اتنی پابندی فرماتے کہ ایک مرتبہ اعتکاف نہ بیٹھ سکے تو شوال کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا (بخاری) اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں دس دن کے بجائے بیس دن کا اعتکاف فرمایا (بخاری) اس عبادت کا مقصد جہاں شب قدر کا حصول ہے وہاں اعتکاف کے معنی ہی ’’جھک کر یکسوئی سے بیٹھ رہنا‘‘ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ کے گھر میں یکسو ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے۔ چنانچہ وہ اس گوشہ خلوت میں بیٹھ کر توبہ و استغفار کرتا ہے‘ نوافل بکثرت ادا کرتا ہے‘ ذکر و تلاوت کرتا ہے‘ دعائیں و التجائیں کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادت ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہے۔ رمضان المبارک اپنی رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہورہا ہے اور یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان المبارک کی اول رات ہوتی ہے تو بڑے بڑے سرکش جن اور شیطان قید کرلیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور اللہ کی طرف سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ یعنی اب وقت ہے جو کچھ نیکی کرنا ہے کرلے، اور اے گناہ کرنے والے اب پیچھے ہٹ جا یعنی اس خیر و برکت کے مہینے میں شرم کر اور گناہوں سے باز آجا۔ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے جو آزادی کے مستحق ہیں اور یہ معاملہ ہر رات ہوتا ہے۔ (ترغیب و ترہیب‘ حاکم) اسی طرح رمضان المبارک کو صبر کا مہینہ قرار دیا گیا کہ جس طرح انسان روزے کی حالت میں بھوک پیاس کی شدت کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی صبر کا مظاہرہ کرے۔ چنانچہ فرمایا کہ جب کوئی روزے سے ہو تو لغو اور بے ہودہ بات نہ کرے اگر کوئی جھگڑے یا گالی گلوچ پر اتر آئے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں (بخاری) اسی طرح سحر و افطار کو بھی خیر و برکت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ سحری کھانے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اور فرشتے ان کے حق میں دعا کرتے ہیں (طبرانی‘ ترغیب) سحری تاخیر اور افطار جلدی کرنا چاہیے۔ حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ترجمہ: ’’دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میںجلدی کریں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں دیر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔‘‘ (ترمذی) کسی روزہ دار کا روزہ کھلانا بھی باعث اجر و ثواب ہے بلکہ روزہ کھلانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ارشاد خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ترجمہ: ’’جو حلال کمائی سے کسی مسلمان کو کھلا پلا کر روزہ افطار کرائے تو رمضان بھر فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور شب قدر میں جبرائیل اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔‘‘ (طبرانی‘ ترغیب) کھجور سے روزہ افطا رکرنا افضل ہے ورنہ پانی سے بھی کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی بے روزہ شخص کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ دار کے سامنے کھائے پیے تو اس مجاہدہ کی وجہ سے روزہ دار کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور فرشتے اس کے حق میں دعا مغفرت کرتے ہیں جب تک کہ اس کے سامنے کھانا کھایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’روزہ دار کے حق میں فرشتے استغفار کرتے ہیں جب تک اس کے سامنے کھایا جاتا ہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوجائے۔‘‘ (ترمذی) اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو صحیح معنوں میں رمضان المبارک کے مقدس نیکیوں کے موسم بہار سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہماری نماز‘ روزہ‘ تراویح‘ زکواۃ‘ صدقات‘ خیرات‘ عمرہ‘ اعتکاف اور ذکر و تلاوت جیسی عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں منظور مقبول فرما کر بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین

Sunday, 24 June 2012

خودی . شاہ نواز فاروقی

خودی

شاہ نواز فاروقی  
- اقبال کی شاعری ایک ایسی تہذیبی واردات ہے جس میں اسلام کی لازمانیت اور زمانیت کے ذائقے باہم آمیز ہوگئے ہیں۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ کبھی اسلام کی زمانیت کو اسلام کی لازمانیت میں دریافت کرتے ہیں، اور کبھی اسلام کی لازمانیت کا جلوہ اس کی زمانیت میں دکھاتے ہیں۔ اس کے بغیر اقبال کی شاعری اہم تو ہوسکتی تھی مگر عظیم نہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال کی شاعری میں اسلام کی زمانیت یا وقت کے تقاضوں کا غلبہ ہے، اور یہ بات ایک حد تک صحیح ہے۔ اقبال کی شاعری کے موضوعات، یہاں تک کہ ان کا اسلوب بھی امتِ مسلمہ کی ایک تاریخی اور تہذیبی ضرورت تھا۔ مثلاً اقبال کا ایک مستقل موضوع خودی ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو خودی کے تصور پر گفتگو مسلمانوں بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی ضرورت تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برصغیر پر انگریزوں کے تسلط نے مسلمانوں کے ایک بڑے حصے میں یہ صورت حال پیدا کردی تھی کہ مسلمان اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ پر شرمندہ ہونے لگے تھے اور انہیں انگریزوں کے مذہب، ان کی تہذیب اور ان کی تاریخ میں خوبیوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اقبال یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ غلامی محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات تہذیبی اور تاریخی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ غلامی افراد کیا اقوام کے ضمیر کو بدل دیتی ہے۔ چنانچہ اقبال نے کہا ہے ؎ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر اقبال اپنے وجود کی پوری قوت صرف کرکے مسلمانوں کو غلامی کے اثرات سے بچانا چاہتے تھے، اور جو لوگ غلامی کے اثرات کی زد میں آگئے تھے انہیں ان اثرات سے پاک دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے خودی کے تصور پر بہت اصرار کیا، لیکن جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں اقبال کے یہاں خودی کا تصور یک جہت یاSingle Dimensional نہیں ہے بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں۔ مثلاً اقبال کے بعض شعروں میں خودی کا تصور اَنا اور خودتکریمی یا Self Respect کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً اقبال نے کہا ہے ؎ خودی کی خلوتوں میں گُم رہا میں خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں نہ دیکھا آنکھ اٹھاکر جلوۂ دوست قیامت میں تماشا بن گیا میں ……… بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے ……… مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر اقبال کے پہلے دو شعر دراصل اُن کی ایک رباعی ہیں، اور اس رباعی میں اقبال نے اس ہولناک تجربے کی نشاندہی کی ہے کہ انا پرستی اتنا سنگین مرض ہے کہ اگر دنیا میں انسان کو اس کی عادت پڑجائے تو میدانِ حشر تک اس کا تعاقب کرتی ہے۔ ہماری کائنات اور ہماری دنیا خدا کی نشانیوں اور اس کے جلووں سے بھری ہوئی ہے، لیکن انا مرکز یا Ego Centric شخصیت کو اپنی شخصیت کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ ہر وقت اپنے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ محشر میں بھی جہاں خدا کے جلووں کا اثر ہر طرف غالب ہوگا، انا مرکز شخص اپنے آپ میں ڈوبا ہوا ہوگا، اور یہ بات اس کو محشر میں تماشا بنادے گی۔ اس لیے کہ محشر میں گناہ گار سے گناہ گار شخص بھی اپنے خالق اور اپنے مالک کی جانب متوجہ ہوگا، یہاں تک کہ اسے اپنے قریب ترین رشتوں کا بھی خیال نہ ہوگا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خودی ایک سماجی، معاشی، نسلی یا نفسیاتی حقیقت ہے، اور اس پر اصرار ایک منفی تجربہ ہے۔ مغرب میں خودی کا تصور مختلف لوگوں کے یہاں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے، اور مغرب میں قوم پرستی یا نسل پرستی دراصل اجتماعی خودی پر اصرار کی مختلف صورتیں ہیں، اور ان کا اثر مشرق اور خود اسلامی معاشروں پر بھی پڑا ہے۔ اقبال نے رباعی کے بعد والے شعر میں عشق اور خودی کو متضاد تصورات کے طور پر استعمال کیا ہے اور بتایا ہے کہ عشق انسان کو بیکرانی عطا کرتا ہے، لیکن خودی یا اقبال کے اپنے الفاظ میں خود نگہداری انسان کو محدود کردیتی ہے۔ عشق سمندر ہے تو خود نگہداری ساحل ہے۔ یہاں بھی خودی کا تصور انا یا سماجی و نفسیاتی حقیقت کی علامت ہے اور اقبال کو اس کی ضرر رسانی کا شعور ہے۔ ’’خودی نہ بیچ غلامی میں نام پیدا کر‘‘ والے شعر میں خودی کے تصور کی سطح کچھ بلند ہوئی ہے اور خودی ایک سطح پر سیاسی اور دوسری سطح پر اخلاقی تصور یا ایک معیار بن کر سامنے آتی ہے۔ اقبال کو اس بات کا دکھ تھا کہ انگریزوں کے لائے ہوئے نظام کے تحت مسلمان چھوٹے چھوٹے مالی فائدوں مثلاً نوکری یا جائداد کے لیے اپنی عزتِ نفس نیلام کررہے ہیں اور وہ انگریزوں کی طرح بن جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے فرزند کے ذریعے ملت اسلامیہ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے لیے غریبی شرم کا باعث نہیں بلکہ ہماری تہذیب میں وہ ہمیشہ ایک طرزِ حیات کے طور پر موجود رہی ہے، بلکہ اسے ایک قدر یا Value کا درجہ حاصل رہا ہے۔ لیکن اقبال کے یہاں خودی کا اسلامی تصور پوری آب و تاب اور جلال و جمال کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً اقبال نے کہا ہے ؎ خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ ……… خودی کا سرِ نہاں لاالہٰ الااللہ خودی ہے تیغ فساں لاالہٰ الااللہ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری نہ ہے زماں نہ مکاں لاالہٰ الااللہ یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لاالہٰ الااللہ ……… جوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودی آہ کہ ہے یہ تیغِ تیز سپردگیٔ نیام ابھی اسلام انسان کی عظمت کا جتنا قائل ہے دوسرے مذاہب اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، لیکن اسلام چاہتا ہے کہ انسان خرد سے گزرکر خدا تک پہنچ جائے۔ اور جب انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے تو خدا سے تعلق اور اس سے محبت کی وجہ سے اس کی ذات بھی اہم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اسلام کا تصورِ خودی یہ ہے کہ اصل وجود یا اصل Existence خدا کا ہے۔ اسی کا حکم اور اسی کا ارادہ ہر طرف جاری و ساری ہے، چنانچہ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ خدا کا اصل یا Real ہونا اور اپنا مجاز یا Appearance ہونا تسلیم کرلے۔ ایسا کرتے ہی انسان خودی کے حقیقی تصور تک پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ اقبال نے کہا ہے کہ خودی کا راز یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ چنانچہ انا پرستی یا Ego Assertion کی ہر صورت ایک تلوار ہے، اور اگر انسان کے پاس حوالہ الااللہ کی ڈھال نہ ہو تو انا کی تلوار انسان کا قیمہ بنادے۔ لیکن فی زمانہ انا پرستی کے مظاہر صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ فی زمانہ عقل زمان و مکان یعنی Time and Space کی مالا جپ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ جو کچھ ہیں زمان و مکان ہیں۔ لیکن اقبال نے بتایا ہے کہ زمان و مکان تو بیچارے خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں اور خالق کے سامنے مخلوق کے وجود کی کیا بساط! اللہ تعالیٰ جب چاہے زمان و مکان کو بے معنی بنا سکتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو زمان و مکان کی زنّاری ایک اجتماعی انا پرستی یا Collective Ego Assertion کی ایک صورت ہے۔ اسی طرح اقبال نے دکھایا ہے کہ مال و دولت اور رشتے اور تعلق کی محبتیں بھی وہم و گمان کے بتوں کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ خدا کی محبت کے سامنے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اقبال نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جس طرح زندگی کی اصل عشق ہے اور عشق کے بغیر زندگی زندگی نہیں بنتی، بالکل اسی طرح عشق کی اصل خودی ہے۔ یعنی جب تک عشقِ مجازی انسان کو خدا تک لے جانے والا نہ ہو، وہ عشق کہلانے کا حقدار نہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقبال خودی سے کیا کام لینا چاہتے ہیں؟ اس کی تفصیل اقبال کے شعروں میں بکھری ہوئی ہے۔ مثلاً خودی سے اس طلسمِ رنگ و بو کو توڑ سکتی ہیں یہی توحید تھی جس کو نہ تُو سمجھا نہ میں سمجھا ……… چڑھتی ہے جب فقر کی سان پر تیغِ خودی ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ ……… خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اقبال کے یہاں خودی کی بلند ترین سطح کیا ہے؟ اس شعر کا جواب اقبال کے دو شعر ہیں ؎ خودی کی جلوتوں میں مصطفائی خودی کی خلوتوں میں کبریائی زمین و آسمان و کرسی و عرش خودی کی زد میں ہے ساری خدائی