Search This Blog

Showing posts with label QURANIC STUDIES. Show all posts
Showing posts with label QURANIC STUDIES. Show all posts

Tuesday, 28 May 2019

Quran and Moashra قرآن اور معاشرہ

قرآن اور معاشرہ

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی
یہ بات بالکل درست اور صحیح ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو چودہ سو سال سے آج تک اللہ ربّ العالمین کا ایک معجزہ ہے۔ اس قرآن کو پڑھ کر آپ اللہ ربّ العالمین کی جیسی بھی مدد مانگنا چاہیں مانگ سکتے ہیں۔ ہر طرح کا اجر و ثواب حاصل کرسکتے ہیں۔ رزق میں برکت کے لیے قرآن کی کوئی آیت موجود ہے۔ قرضدار ہو تو اس کے لیے کوئی آیت موجود ہے۔ روح قبض ہونے میں مشکل ہو یا دم آخر ہو تو قرآن کو کھولا جاتا ہے۔ پورا سال ہم قرآن کو کھول کر نہیں دیکھتے اور پھر رمضان شروع ہوتے ہی تین روزہ، پانچ روزہ، دس روزہ، پندرہ روزہ، بیس روزہ، پچیس روزہ تراویح کا اہتمام انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا اللہ نے کہیں بھی نزول قرآن کے مقاصد میں ان مندرجہ بالا باتوں کا ذکر کیا ہے؟ لیکن قرآن کی پہلی آیت ہی ہمیں نزول قرآن کا مقصد بتاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اگر کچھ بھی ہے ہماری زندگی سے لے کر اور تمام کی تمام نعمتیں اس کے لیے تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔ کیونکہ ساری نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اور پھر فوراً ہی بتلادیا گیا ہے کہ تمہیں شتر بے مہار بنا کر نہیں پیدا کیا گیا بلکہ تمہیں صراط مستقیم پر چلنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ کیونکہ پھر تم سے یقینا حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور اس حساب کتاب والے دن کا حاکم، بادشاہ، فرمانروا، جج، منصف، قاضی مالک عرش عظیم اللہ ربّ العالمین بذات خود ہو گا۔ پھر وہ اللہ فیصلہ کرے گا کہ اس دنیا میں کو ن صراط مستقیم پر چلا کہ ان کو ربّ العالمین اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور جنت عطا کرے گا۔ اور کون ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات سے روگردانی کی اور وہ اس گروہ میں ہوگئے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ اب سورۂ بقرہ کی دوسری آیت ہی لے لیں۔ اللہ ربّ العالمین اس قرآن کو ہدایات قرار دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں یہ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے‘‘۔
اس عظیم کتاب کو جس کا مصنف ربّ العالمین خود ہے۔ اس ربّ نے اس کتاب کو ہمارے لیے ایک ہدایت نامہ، شاہراہ ہدایت، معاشرتی علوم، کتاب قانون، کتاب عبادت اور اللہ کے رنگ میں رنگنے کے لیے ہدایات دیں ہیں۔ جب تک ہم ان ہدایات کو پڑھیں گے نہیں تو کیسے اللہ کے رنگ میں رنگیں گے۔ اللہ سورۃ الزمر 9میں فرماتا ہے۔ ’’کیا وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں‘‘۔
پہلی وحی ہی پڑھنے کی ہے اور جب انسان نے پڑھنے سے انکار کیا تو جبرائیل ؑ جیسے فرشتے نے انسان کو بھینچ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ اپنے ربّ کے نام سے پڑھنا شروع کرو۔ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے اللہ کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کم از کم قرآن کا علم لازم حاصل کرلے۔ علم حاصل کرنے کے بارے میں قرآن میں مرتبہ آیا ہے۔ اللہ سب سے پہلے اس قرآن میں
اپنی وحدانیت، طاقت، عظمت و اقتدار، خالق و مالک اور یوم حشر میں حساب کتاب پر کلی اختیار کا یقین دلانا چاہتا ہے۔ اللہ بتاتا ہے کہ جب تم کچھ بھی نہ تھے تو ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ تاکہ تم ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلو۔ اور بتایا ہوا راستہ یہ قرآن عظیم جیسی کتاب میں درج ہے۔ اور پھر اللہ خود فرماتا ہے کہ ’’اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ تو کوئی ہے کہ سوچے، سمجھے۔ (سورۃ القمر ۲۷)۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے’’اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۔ (الزمر ۲۳)۔ جب تک ہم قرآن کو سمجھیں گے نہیں تو کس طرح اس قرآن کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں گے۔ جب کہ قرآن کا تو مقصد ہی یہی ہے کہ اس کو سمجھ کر ہم اپنی زندگی کا دستور العمل بنائیں۔
اصل بات تو یہ ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اللہ کے حلال و حرام کردہ امور کو سمجھیں اور ان سے اجتناب کریں۔ اگر ہم تلاوت قرآن پاک کرنے کے باوجود ہر اس برائی میں مبتلا ہوں جسے مٹا دینے کا اللہ ربّ العزت نے حکم دیا ہو۔ تو ہم تلاوت قرآن کرنے کے باوجود اللہ کے نافرمان لوگوں میں ہی شامل ہوںگے۔ اللہ تو ایک مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے ماں باپ کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے کھٹکھٹانے سے لے کر، ناپ تول کے احکامات، سچائی پر مبنی معاشرہ، سود سے پاک معاشرہ، آپس میں صلہ رحمی کا طرز عمل اختیار کرنے والا معاشرہ، انصاف پر مبنی معاشرہ، اللہ کا خوف، اس کے رسول پر مکمل یقین رکھنے والا معاشرہ، بے حیائی اور لہو ولعب سے پاک معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس کے لیے مکمل رہنمائی کے لیے اللہ نے قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’’جو لوگ اللہ کے قوانین کے مطابق معاشرے کی تشکیل کریں گے اللہ ان کی مغفرت کرے گا اور عزت کی روزی دے گا۔ اور جو اللہ کے نظام کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے اللہ ان لوگو ں کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگے انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے‘‘۔ (سورۃ بنی اسرائیل ۱۰:۹)۔ ایک اور جگہ اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں ’’حق تو یہ ہے کہ جو ان احکامات کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے روز اللہ ہر گز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھیرائے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا۔ عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۱۷۴:۷۵)

Monday, 13 May 2019

Quranic lessons from animals

Quranic lessons from animals

The Quran gives us many opportunities to stop and reflect on Allah’s creation to teach us about becoming better human beings. Here are three examples where Allah demonstrates life lessons about animals.
Spiders: Not every house is a home.
"The likeness of those who choose other patrons than Allah is as the likeness of the spider when she taketh unto herself a house, and lo! the frailest of all houses is the spider's house, if they but knew" (Quran 29:41).
After mating, the female spider eats the male. Spider babies eat their mother.
This horrifying reality of nature mirrors the emotional tragedies that exist in human families. If parents do not rectify their affairs, their children will grow up in a broken home and will eventually push them out to repeat the vicious cycle for the next generation. If family members do not get along, they need to identify the root cause as quickly as possible to remedy solutions. Left unchecked, the home will metaphorically resemble the destructive spider’s house.

Bees: Architectural Wonder + Human Healing
“And your Lord inspired the bee, saying, “Take you habitations in the mountains and in the trees and in what they erect. Then, eat of all fruits, and follow the ways of your Lord made easy (for you). There comes forth from their bellies, a drink of varying colour wherein is healing for people. Verily, in this is indeed a sign for people who think” (Quran 16:68-69).
Due to the angles and compartmentalized nature, the hexagonal structure is the optimum shape for bees to build honeycombs. Mathematicians and architects learn from the bee’s efficiency and ability to construct their workspaces.   
In addition, Prophet Muhammad, peace and blessings be upon him, highlighted the importance of honey with this statement: “You should take the two that bring healing: Honey and the Quran.” (Sunan Ibn Majah 3452).
We could make our days a little sweeter with more honey.
Donkeys: The Worst Sound
“And be moderate in your pace and lower your voice; indeed, the most disagreeable of sounds is the voice of donkeys" (31:19).
The tone of your voice matters in daily conversations. When you are in a family gathering or talking one-on-one with a stranger, watching the tone matters. Sometimes, when people do not get their way, they start acting up and producing harsh sounds to bully the other. Or they shout obscenities to garner attention.
Being mindful of how you speak is a strong indication of your inner self.  
Let us all take a page out of nature to become better human beings. The more we study how Allah showcases these timeless examples, the richer our life will be.


Friday, 3 March 2017

انبیاء علیہم السلام کے واقعات سنانے سے قراان کا مقصد

انبیاء علیہم السلام کے واقعات سنانے سے قراان کا مقصد

سید مہر الدین افضل

( ماخوذ اَزحاشیہ نمبر:50)
رکوع 8 آیت نمبر 59 تا 64 ارشاد ہوا:۔ ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔اس نے کہا ’’اَے بَرادرانِ قوم، اَللہ کی بندگی کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دِن کے عَذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔‘‘ نوحؑ نے کہا ’’اَے برادرانِ قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں، بلکہ میں ربّ العالمین کا رَسول ہوں، تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں، اَور مجھے اَللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے، جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا تمہیں اِس بات پرتعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے ربّ کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے؟‘‘ مگر انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخرِکار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی، اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، یقیناًوہ اندھے لوگ تھے۔
وہ انبیا جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے:۔

مسند احمدؒ کی روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا آئے، جن میں 315 صاحب کتاب تھے۔ قرآن مجید میں ہمیں حضرت محمدؐ کے علاوہ 25 انبیا کا ذکر ملتا ہے، جِن کے نام ہیں۔۔۔ حضرت آدمؑ ، حضرت نوحؑ ، حضرت ادریسؑ ، حضرت الیسعؑ ، حضرت ہودؑ ، حضرت صالحؑ ، حضرت شعیبؑ ، حضرت اِبراہیمؑ ، حضرت اِسماعیلؑ ، حضرت اِسحاقؑ ، حضرت لوطؑ ، حضرت یعقوبؑ ، حضرت یوسفؑ ، حضرت موسیٰؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت داودؑ ، حضرت سلیمانؑ ، حضرت عزیرؑ ، حضرت اِلیاسؑ ، حضرت اَیوبؑ ، حضرت ذلکفلؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت ذکریاؑ ، حضرت یحییٰؑ ، حضرت عیسیٰؑ ، ان انبیا کے ذکر کا اہم سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے سب سے پہلے سننے والے عرب، اِن میں سے کافی لوگوں کو اللہ کا پیغمبر مانتے تھے خاص کر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو وہ اپنا جدَّ اَعلیٰ مانتے تھے اور اِن کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور اِسی نسبت سے بیت اللہ کے متولِّی تھے، اور اسے اپنے لیے بڑا اعزاز مانتے تھے، اور اس نسبت کی وجہ سے کچھ امتیازی حقوق بھی رکھتے تھے۔ آج بھی آسمانی مذاہب کے ماننے والے ان لوگوں کو اللہ کا پیغمبر اور برگزیدہ انسان مانتے ہیں، مثلا آج دنیا میں حضرت نوحؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔۔ قرآن مجید میں اِن میں سے بعض کا ذکر تفصیل سے آیا ہے اور بعض کا مختصر، اِن کے ذکر میں انسانوں کی تاریخ کے اہم واقعات بتائے گئے ہیں۔

انبیا کے واقعات سنانے سے قرآن کا مقصد کیا ہے؟
قرآن مجید تاریخی وا قعات کو قصّہ کہانی بنا کر ہماری دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بیان نہیں کر تا بلکہ سبق دینے کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے ہر جگہ تاریخی واقعات کے بیان میں وہ قصّے کے صرف ان اہم حِصّوں کو پیش کرتا ہے جو اِس کے مقصد سے تعلق رکھتے ہیں، باقی تمام تفصیلات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ قرآن ایک پیغمبر کے قصّے کو کئی سورتوں میں بیان کرتا ہے اور ہر جگہ ایک نیا سبق دینا چاہتا ہے۔۔۔ اس سبق کی مناسبت سے واقعے کی تفصیلات بھی مختلف طور پر پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ الاعراف میں حضرت نوحؑ کے قصے کے بیان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر کی دعوت کو جھٹلانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جب کہ سورہ عنکبوت آیت نمبر 14 میں جہاں یہ قصّہ اس غرض کے لیے بیان ہوا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کی تلقین کی جائے وہاں خاص طور پر دعوتِ نوحؑ کی طویل مدّت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء اپنی چند سال کی تبلیغی کوشش اور محنت کو نتیجہ خیز ہوتے نہ دیکھ کر بددل نہ ہوں اور یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ کہ جو دعوت سیدنا محمدؐ پیش کر رہے ہیں، یہی دعوت سیدنا نوحؑ نے پیش کی تھی، اور تمہارا رد عمل بھی وہی ہے جو قوم نوحؑ کا تھا، اب تمہارا انجام بھی وہی ہو گا جو قوم نوحؑ کا ہوا تھا۔۔۔آج ہمارے لیے یہ پیغام ہے کہ حضرت نوحؑ کے صبر کو دیکھیں جنہوں نے لمبی مدت تک دل توڑ دینے والے حالات میں دعوتِ حق کی خدمت انجام دی اور ذرا ہمت نہ ہاری۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ شروع میں حق کے دشمن چاہے کتنے ہی کامیاب ہوں، مگر آخری کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوتی ہے، جو اللہ سے ڈر کر فکر و عمل کی غلط راہوں سے بچتے ہوئے، مقصدِ حق کے لیے کام کرتے ہیں۔ اور یہ کہ اللہ کے فیصلے میں دیر چاہے کتنی ہی لگے، مگر فیصلہ آخرِ کار ہو کر رہتا ہے، اور وہ لازماً اہل حق کے حق میں اور اہل باطل کے خلاف ہوتا ہے۔

آج عذاب کیوں نہیں آتا؟:۔
اِس موقع پر ایک اور شک بھی دلوں میں کھٹکتا ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ جب ہم قرآن میں بار بار ایسے واقعات پڑھتے ہیں کہ فلاں قوم نے نبی کو جھٹلایا اور نبی نے اسے عذاب کی خبر دی اور اچانک اس پر عذاب آیا اور قوم تباہ ہوگئی، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قسم کے واقعات اب کیوں نہیں پیش آتے؟ اگر چہ قومیں گرتی بھی ہیں اور ابھر تی بھی ہیں، لیکن اس عروج و زوال کی نوعیت دوسری ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں ہوتا کہ ایک نوٹس کے بعد زلزلہ یا طوفان یا صاعقہ آئے اور قوم کی قوم کو تباہ کر کے رکھ دے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت میں اخلاقی اور قانونی اعتبار سے اس قوم کا معاملہ جو کسی نبی کی براہ راست مخاطب ہو، دوسری تمام قوموں کے معاملے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ جس قوم میں نبی پیدا ہوا ہو، اور وہ بلا واسطہ اس کو خود اسی کی زبان میں خدا کا پیغام پہنچائے، اور اپنی شخصیت کے اندر اپنی صداقت کا زندہ نمونہ اس کے سامنے پیش کر دے، اس پر خدا کی حجت پوری ہو جاتی ہے۔۔۔ اس کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور خدا کے پیغمبر کو دو بہ دو جھٹلا دینے کے بعد وہ اس کی مستحق ہو جاتی ہے کہ اِس کا فیصلہ اسی وقت چُکا دیا جائے۔ یہ نوعیتِ معاملہ ان قوموں کے معاملے سے بنیادی طور پر مختلف ہے جن کے پاس خدا کا پیغام براہ راست نہ آیا ہو بلکہ مختلف واسطوں سے پہنچاہو۔ پس اگر اب اس طرح کے واقعات پیش نہیں آتے جیسے انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں پیش آئے ہیں تو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، اِس لیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ مگر اِس کے یہ معنی بھی نہیں ہیں کہ اب ان قوموں پر عذاب آنے بند ہو گئے ہیں جو خدا سے پھری ہوئی اور فکری و اخلاقی گمراہیوں میں بھٹک رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی ایسی تمام قوموں پر عذاب آتے رہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے تنبیہی عذاب بھی اور بڑے بڑے فیصلہ کن عذاب بھی لیکن کوئی نہیں جو انبیا علیہِم السلام اور کتبِ آسمانی کی طرح، ان عذابوں کے اخلاقی معنی کی طرف انسان کو توجہ دلائے۔ بلکہ آج صرف ظاہر کو دیکھنے والے سائنس دانوں، اور حقیقت سے ناواقف تاریخ دانوں اور فلسفیوں، کا ایک بڑا گروہ انسانوں کے دل و دماغ پر مسلط ہے، جو اس قسم کے تمام واقعات کی وضاحت فزکس کے قوانین یا تاریخی اسباب سے کر کے ان کو بھلا وے میں ڈالتا رہتا ہے، اور انہیں کبھی یہ سمجھنے کا موقع نہیں دیتا کہ۔۔۔ اوپر کوئی خدا بھی موجود ہے، جو غلط کار قوموں کو پہلے مختلف طریقوں سے ان کی غلط کاری پر متنبہ کرتا ہے، اور جب وہ اس کی بھیجی ہوئی تنبیہات سے آنکھیں بند کر کے، اپنی ٹیڑھی چال پر اصرار کیے چلی جاتی ہیں تو آخر کار انہیں تباہی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بھی اپنی زمین اور اس کی بے شمار چیزوں پر اقتدار عطا کر کے بس یونہی اس کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ اِس کی آزمائش کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو کس طرح استعمال کر رہی ہے۔ قوم نوح کے ساتھ جو کچھ ہوا اِسی قانون کے مطابق ہوا اور دوسری کوئی قوم بھی اللہ کی ایسی چہیتی نہیں ہے کہ وہ بس اسے مزے لوٹنے کے لیے آزاد چھوڑ دے۔ اِس معاملے سے ہر ایک کو لازماً سابقہ پیش آنا ہے۔

اَللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اِس فہم کے مطابق، دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔
وآخر دعوانا انالحمد و للہ رب العالمین۔


قران کریم رشد و ہدایت اور علم و حکمت کا سرچشمہ


Sunday, 27 November 2016

ایمان عظیم دولت


ایمان عظیم دولت 

سید قطب شہیدؒ


ابن عساکر نے عبداللہ ابن حذیفہ کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ یہ صحابی تھے، ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا اور اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کہا کہ آپ نصرانی بن جائیں میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اگر تُو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے اس کے عوض کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لیے، تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا: تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا: تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا۔ پھر اس نے تیراندازوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ اور پیروں کے قریب تیر ماریں۔ چنانچہ وہ تیر مارتے رہے اور بادشاہ ان کو نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو سولی سے اتار دیں۔ چنانچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تانبے کی ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر بادشاہ نے ان پر اپنا دین پیش کیا۔ پھر انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس دیگ میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اُس وقت بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں، تو بادشاہ نے انہیں بلایا اور رونے کا سبب پوچھا۔ وہ بولے: میں رویا اس لیے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور وہ بھی ابھی اس دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی، لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔
ایک روایت میں ہے کہ بادشاہ نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی رہی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ بادشاہ نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو ہاتھ کیوں نہ لگایا؟ انہوں نے کہا: یہ چیزیں اِس وقت تو میرے لیے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس پر بادشاہ نے کہا: چلو میرے سر ہی کو چوم لو میں تمہیں اس کے عوض رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا: کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے؟ بادشاہ نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور بادشاہ نے وہ تمام قیدی رہا کردیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمرؓ بن الخطاب نے فرمایا: ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ عبداللہ ابن حذیفہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا ’’کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہاں‘‘۔ پھر اس نے کہا: ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں؟‘‘ توانہوں نے کہا: ’’میں نہیں سن رہا۔‘‘ وہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا۔ وہ یہی جواب دیتے رہے، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں شہید ہوگئے۔

یہ اس لیے کہ عقیدہ اور نظریہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریے میں کمزوری نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے، کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کی پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

(فی ظلال القرآن۔ جلد چہارم۔ تفسیر سورۂ النحل)

Saturday, 20 July 2013

مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں!

مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں!

بلاشبہ رمضان المبارک کی عظمت نزول قرآن سے وابستہ ہے اور قرآن بنی نوع انسان کو جو مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے اسی کی پیروی میں دنیوی واخروی زندگی کی فلاح ہے اور لاریب کہ یہ فیضِ فکر عمل انسان کی متاع عزیز ہے۔ اور کس قدر خوش قسمت ہیں وہ نفوس جو ان فیوض وبرکات کو اپنی زندگی کا اثاثہ بنارہے ہیں اور اپنی فردا کو سنوار رہے ہیں، وہ انسان کا مستقبل اس کے ہاتھ میں تھماتا ہے کہ چاہے تو درخشاں بنائے اور چاہے تو تاریک تر! اور قوموں کے حالات اور عذابوں کے تذکرے بھی اسی لیے ہیں کہ ماضی کی امتوں کے حالات واقعات سے عبرت حاصل کریں اور اپنے مستقبل کی فکر کریں۔

یہ کتاب بیکراں… تدبر وفکر کا جہاں… پُر زور تاثیر کی حامل… مقفیّٰ اور مسجع بیان… متحیرکن اسلوب… خالقِ کائنات کی صناعی کی مظہر… انسان کو حسن وجمال سے آشنا کرنے والی… نور حق سے منور اور باطل کے چنگل سے چھڑانے والی… عبدیت کا اظہار ذی شان، جس میں پنہاہ بندے کا عزت ووقار… انسان کو انسانیت سے سرفراز فرمانے والا کلام … جس میں تخلیق کی رفعت کا شعور پنہاں ہے… امتیازات پر ضرب کاری اور وحدت الہٰ کا درسِ عظیم… نور تحقیق کا منبع… وہ کلام جو دعوت دیتا ہے کہ تحقیق کی بنیاد علم اور حکمت کو بنائو اور تحقیقات کے بل پر عمل تسخیر کو اپنی متاع حیات بنالو! ’’اولی الالباب‘‘ کو پکارتے یہ کتاب مقدسہ کے اوراق… جن میں فہم وفراست اور علم وحکمت کے خزانے پوشیدہ ہیں… یہ کتاب جس کے فیوض وبرکات پر جتنی تحقیق کی جارہی ہے اتنے ہی نئے نئے حقائق منکشف ہورہے ہیں۔ قرآن کا یہ اعجاز کہ بندے کو ہر روز نئی شان اور جستجو کا نیا جہان عطا کرتا ہے۔ جس کو اقبال نے کہا
’’ہر لحظ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘

مگر ہم نے قولاً اور عملاً اس کتاب کا کیا تعارف پیش کیا دنیا کے سامنے…؟ اگر یہ دیکھنا ہے تو دیکھیں کہ ہم نے سماج میں کیا مرتبہ متعین کیا اس کتاب مقدس کا۔ اور کیا مقام ہے ہماری زندگی میں اس کتاب کا… کیا رویہ ہے ہمارا اس کے آفاقی پیغام کے ساتھ…!

میں ایکسپو سینٹر میں بک فیئر کے موقع پر تاج کمپنی کے اسٹال پر موجود قرآن کی طباعت کے مختلف انداز دیکھ رہی تھی۔ کہ معاً ایک باریش صاحب نے اسٹال پر آتے ہوئے با آواز بلند کہا ’’مولانا فلاں‘‘ کا قرآن ہے آپ کے پاس؟ میں نے چونک کر نظریں اٹھائیں کہ قرآن ’’مولانا فلاں‘‘ کا کیسے ہوگیا؟ تھوڑی دیر میں میں نے دیکھا کہ اسٹال پر موجود نو عمر لڑکا کسی کو قرآن کے مختلف نسخے دکھاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ یہ ہے مولانا عثمانی کا قرآن۔ یہ ہے مولانا تھانوی کا قرآن… یہ نئی طباعت میںمولانا اصلاحی کا قرآن،مولانا دریا آبادی اور مولانا مودودی کے قرآن بھی موجود ہیں۔ ان سب کے بیچ اللہ تعالیٰ کا قرآن کہاں کھو گیا؟ ایک انتہائی تکلیف دہ احساس وہاں کھڑے کھڑے رگ وپے میں سرایت کرگیا۔ کہ آہ… ہوئے کس درجہ فقہیانِ حرم بے توفیق، جب میں نے اسٹال کے ذمہ دار فرد سے بات کی کہ یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ قرآن مولانائوں کے نام سے فروخت ہورہے ہیں۔ تو فرد متعلقہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نسخے زیادہ تر اپنے شارحسین ومفسرین کے ناموں سے ہی فروخت ہوتے ہیں۔ مگر میں ایک سوال ذہن سے چپکا ہوالے کر اسٹال سے ہٹ گئی کہ کیا بات واقعی اتنی ہی سادہ ہے؟ اور قرآن سے وہ تعلق محسوس ہوا جو کسی مظلوم سے محسوس ہوتا ہے۔ اور قرآن کے ساتھ ایک عجیب ’’بے چارگی‘‘ کا تعلق تو بچپن میں اس وقت قائم ہوا تھا جب محلہ میں دو نابینا بھائی جو ہر جمعرات کو بھیک مانگنے آیا کرتے تھے وہ محلے میں کھڑے ہو کر اس وقت تک با آواز بلند تلاوت کرتے رہتے تھے جب تک ان کی جیب میں مطلوبہ رقم نہ آجاتی یا محلے کے ہر گھر سے آٹھ آنے یا 4 آنے نہ مل جاتے۔ اور کتنی خواہش تھی امی جان مرحومہ کی کہ بھائی قرآن حفظ کرے۔ جتنی بار اسے محلے کی مسجد میں بھیجا وہ مدرسے کے نابینا حافظ جی کی گیلی قمچیوں کی شدید ضربوں سے ہیبت زدہ ہو کر بھاگ کھڑا ہوتا…! اور پھر وہ خود قرآن سے ہی خوف زدہ ہوگیا اور کسی سے بھی پڑھنے پر آمادہ نہ ہوتا۔ بلکہ ابا جی مرحوم مجبور کرتے تلاوت کے لیے تو قرآن کو جزدان سے نکالتے ہوئے اس کی رنگت پیلی پڑجاتی۔ اور اکثر گھروں میں علاوہ ماہ رمضان، قرآن ان سپاروں کی مدد سے پڑھا جاتا گاہے بگاہے جو اپنے مرحومین کی ایصال ثواب کے لیے ان کی برسی پر گھروں میں پہنچا دیے جاتے۔ جو نسبتاً مہذب لوگ ہوتے وہ اپنے گھروں میں قرآن خوانی رکھ لیا کرتے۔ اور اس قرآن خوانی کو معتبر بنانے اور ’’ختم‘‘ کو اعتبار بخشنے کے لیے اکثر مدرسے کے بچے آتے۔ وہ جس انداز میں قرآن پڑھتے تو اس وقت کا ننھا ذہن سوچا کر تاکہ کیا اللہ میاں اونچی آواز سنتے ہیں؟ (معاذ اللہ) ان مدرسے کے بچوں کا حلق کے آخری سرے سے پڑھنا اور انتہائی متحرک جسم، تو وہ بے چارے ایک سپارہ پڑھ کر ہانپنے لگتے جو بریانی یا مٹھائی کے شوق میں ہر ایسے موقع پر محلے کے ہر گھر میں موجود ہوتے۔ بچپن کے ذہن میں قرآن کے ساتھ نہ معلوم کیوں غم کا تصور پیوستہ تھا۔ اور حافظ جی کے ساتھ نابینا کا۔ کیونکہ خوشی کے موقع پر کبھی کسی کو قرآن پڑھتے دیکھا ہی نہ تھا۔ قرآن موت کے گھر میں، میت کے سرہانے، سوئم، چالیسویں، برسی کے موقع پر ہی ختم کیا جاتا تھا مجالس میں۔ ہاں مجھے محلے کی وہ خالہ بھی رمضان مقدس میں اکثر یاد آتی ہیں جو رمضان شریف سے قبل نئے جزدان سنہری بیلوں اور ستاروں سے مزین تیار کرتی تھیں اور محلے بھر کی عورتیں (قرآن کی سالگرہ کا جشن منانے کے لیے) ماہ رمضان میں قرآن کو نئے لباس سے مزین کرتیں۔ تب گھر میں موجود تمام قرآن گھر کی بلند جگہوں سے جھاڑ جھاڑ کر اتارے جاتے اور میز کی زینت بنتے کہ رمضان میں بہرحال تلاوت تو گھر کے ہر فرد کو کرنا ہے۔ لہٰذا سالانہ ضرورت پڑتی تھی نصف درجن قرآن کے نسخوں کی جو عموماً ہر گھر میں موجود تھے اور گھر کی کسی بلند ترین جگہ پر رکھتے ہوئے۔ سہ ماہی، ششماہی دھول البتہ جھاڑی جاتی ان پر سے کہ کتاب مقدس ہے ’’بے ادبی‘‘ نہ ہوجائے۔ اور بچوں کے تو قرآن کو ہاتھ لگانے کا تصور بھی محال۔ کہ بے ادبی ہوجائے گی۔ نانی جان مرحومہ کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے آواز لگاتیں کہ یہ میرے ہاتھ سے قرآن لے کر رکھ دو تو وہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کے ہاتھ میں دینا پسند کرتیں…! یوں لگتا تھا کہ ایسی مقدس کتاب ہے کوئی کہ بس فرشتے ہی چھوسکتے ہیں… نہ معلوم آج بھی اس کتاب سے کون کسی درجہ کا تعلق اور تعارف رکھتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں کیا سلوک روا رکھتا ہے۔ دنیا کی سب سے مظلوم کتاب کہا جائے کتاب مقدسہ کو تو بے جانہ ہوگا۔ ماہ مبارک قرآن کی سالگرہ کا جشن… سالگرہ کے موقع پر گردش ایام یوں پیچھے چلی جاتی ہے کبھی کبھی…
اللہ کرے کہ اس کتاب سے فیض یاب ہونا سیکھیں اس کے فیض کو عام کرنا سیکھ جائیں۔ کہ اقبال نے تو کہا کہ

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

Wednesday, 9 January 2013

کیاہم یاجوج وماجوج کے دور میں ہیں؟

حبیب چودھری«

کیاہم یاجوج وماجوج کے دور میں ہیں؟
قرآن وحدیث کے مطالعے سے یہ بات ہمارے علم میں آتی ہے کہ اس دنیا کے آخری دور میں بہت سے واقعات ایسے ہوں گے جن کا آپس میں ایک تعلق بھی ہوگا۔ اگر ہم اُن کے آپسی تعلقات کو سمجھ لیں گے تو بہت سی باتوں کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
وہ واقعات یہ ہیں:
 یاجوج وماجوج کا چھوڑ دیاجانا، ہلاک شدہ بستی کا پلٹ آنا، مسیح الدجال کا مسیح موعود بن کر ظاہر ہونا،مہدی علیہ السلام کا ظاہر ہونا، مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا، مسیح علیہ السلام کا مسیح الدجال کو قتل کرنا، قوم یہود کا ہلاک ہونا، اور اس کے بعد قیامت واقع ہونا۔
اس وقت میں سورۃ الانبیاء  کی چند آیات کے مطابق یاجوج وماجوج کے کھول دیے جانے کے تذکرے کے ساتھ ایک بستی جو ہلاک کردی گئی تھی واپس پلٹ آنے کے واقعے پر جو کچھ میں نے پڑھا اور سمجھا ہے اُسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
سورۃ الانبیاء  کی آیات ۹۵، ۹۶ کے ترجمہ اور حواشی کو تفہیم القرآن سے نقل کر رہا ہوں:
’’اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو وہ پھر پلٹ سکے۔۹۲یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے‘‘۔
مولانا مودودیؒ  نے حاشیہ نمبر ۹۲ لکھا ہے:
اس آیت کے تین مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جس قوم پر ایک مرتبہ عذاب الٰہی نازل ہوچکا وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتی اُس کی نشاۃ الثانیہ اور اُس کی حیات نو ممکن نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہلاک ہوجانے کے بعد پھر اس دنیا میں اُس کا پلٹنا اور اسے دوبارہ امتحان کا موقع ملنا غیرممکن ہے۔ تیسرے یہ کہ جس قوم کی بدکاریوں ، زیادتیوں اور ہدایت حق سے پیہم روگردانیاں اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ اللہتعالیٰ کی طرف سے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے اُسے پھرر جوع وتوبہ وانابت کا موقع نہیں دیاجاتا۔ اس کے لئے پھر یہ ممکن نہیں رہتا کہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹ سکے۔
مولانا مودودی ؒ  نے حاشیہ نمبر ۹۲ میں آیت کے تین مطلب بیان کیے ہیں۔ تینوں میں پہلے اور تیسرے کا تعلق اس دنیوی زندگی سے ہے اور دوسرے کا تعلق قیامت میں سارے انسانوں کے یکبارگی اٹھائے جانے سے ہے۔
پہلے مطلب کو اگرآیت کے اگلے ٹکڑے سے ملاکر پڑھیں تو بات کچھ اس طرح سے بنے گی:
جس قوم پر ایک بار عذاب نازل ہوچکا وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتی اُس کی نشاۃ الثانیہ اور اس کی حیات نو ممکن نہیں ہے یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیے جائیں گے تو ایسا ہونا بظاہر ممکن نظر آئے گا۔ اس بات کو ہم یہودیوں کے ارض مقدس میں لاکر بسائے جانے اور قیام ریاست یہود کے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ اُن کی نشاۃ الثانیہ اور حیات نو برطانیہ امریکہ اور فرانس وغیرہ کی مرہون منت ہے۔ جیسا کہ آیت میں اشارہ پایاجاتا ہے:
’’یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمے یا انسانوں کے ذمے میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کردی گئی ہے اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے۔ ﴿سورۃ آل عمران: ۱۱۲
تفہیم القرآن کے حاشیے کا آخری ٹکڑا یہ ہے : ’’اسی طرح بسا اوقات انھیں دنیا میں کہیں زور پکڑنے کا موقع بھی مل گیا لیکن وہ بھی اپنے زور بازو سے نہیں بلکہ محض ’’بپائے مردی ہمسایہ‘‘
اور اسی طرح مولانا مودودی ؒ  نے جو تیسرا مطلب اس آیت کا بیان کیا ہے اگر اسے بھی آیت کے اگلے ٹکڑے سے ملاکر پڑھیں تو بات کچھ اس طرح بنے گی:
’’جس قوم کی بدکاریوں اور زیادتیوں اور ہدایت حق سے پیہم روگردانیاں اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے اسے پھر رجوع و توبہ و انابت کا موقع نہیں دیاجاتا اس کے لیے پھر یہ ممکن نہیں رہتا کہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹ سکے اور اگر غور کریں تو متذکرہ قوم ، قوم یہود ہے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور مسیح الدجال کے قتل کردیے جانے کے بعد تک کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے اور جو دو ہزار سالوں تک اللہ تعالیٰ کے غضب کے شکار بن کر دنیابھر میں تتربتر ہوگئے تھے اور جواب نہ صرف ارض مقدس میں پلٹ پڑی ہیں بلکہ ان کی ریاست بھی قائم ہوگئی ہے اور وہ یہود ہی ہیں‘‘۔
 اگر ہم آیت کے اس ٹکڑے کو یہود کے لیے مان لیں تو یہ بات اس طرح سے سمجھی جاسکتی ہے کہ یہود ہدایت حق سے روگردانیوں اور قتل انبیاء  جیسے شنیع فعل کے کرنے کے نتیجے میں سنت الٰہی کی زد میں آچکے ہیں اور ان کے لیے ایمان میں داخل ہونا حرام ہوچکا ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی پاداش میں ان کے لیے عذاب الٰہی مقدر ہوچکا ہے جو ان کے آخری دور میں ارض مقدس کو لوٹ آنے ،ان کی ریاست کے قیام اور اس ریاست کے سربراہی کے مقام پر دجالی کے فائز ہونے اور مسیح علیہ السلام کے اُسے قتل کرنے کے بعد نافذ ہوگا جس کا واضح ثبوت احادیث میں ملتاہے۔
اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر حق ثابت ہوئی کہ یاجوج وماجو کھول دیے گئے ہیں اوروہ دنیا پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ ہم یاجوج وماجوج کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس بات کو جب ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کو ختم کردیا تھا اور یروشلم کو فتح کرلیا تھا تب علامہ اقبال نے اس حقیقت کو پالیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا:
’’کھل گئے‘‘ یاجوج وماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ’’ینسلون‘‘
علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی فیض الباری صفحہ ۲۵ پر اسی واقعے سے متاثر ہوکر لکھا تھا:
’’روسیوں کا تعلق یاجوج سے ہے او راہل برطانیہ ماجوج سے منسوب ہیں‘‘۔
سورۃ الکہف کی آیت میں ہے:
’’ذوالقرنین کہنے لگا کہ یہ تو میرے پروردگار کی خاص الخاص مہربانی ہے اب جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق ہے‘‘۔
مفتی محمد تقی عثمانی اپنی کتاب ’’ تکملۂ فتح الملہم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اس پوری بحث کی بنیاد یہ ہے کہ ذوالقرنین نے جو ’’وعدہ ربی‘‘ کے الفاظ کہے ہیں ان کی تفسیر یہ کی جائے کہ اس کی تعمیر کردہ سد قرب قیامت تک ٹوٹنے والی نہیں اور ’’وعدہ ربی‘‘ کو یوم قیامت پر محمول کیا جائے۔ جب کہ علماء ے کرام کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ آیت مذکورہ کی یہ مراد نہیں بلکہ اس میں ’’وعدہ ربی ‘‘ سے اس کا مقررہ وقت مراد ہے۔ ’’یوم قیامت‘‘ نہیں۔‘‘﴿فتنہ یاجوج وماجوج: مولانا ظفر اقبال﴾
 چنان چہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ   ’’فیض الباری ج ۴ ص ۲۳﴾ میں فرماتے ہیں:
’’قرآن میں یہ کہیں نہیں ہے کہ یاجوج وماجوج کے خروج کا واقعہ دیوار کے ڈھے جانے کے ساتھ ہی پیش آجائے گا۔ بلکہ دیوار کے ڈھے جانے کا وعدہ صرف سورہ الکہف والی آیت میں کیاگیا ہے اور دیوار حسب وعدہ ڈھے گی۔ لیکن یہبات کہ دیوار ڈھے جانے کے ساتھ ہی بغیر کسی وقفہ کے یاجوج وماجوج نکل پڑیں گے ۔ قرآن میں کوئی حرف ایسا نہیں پایا جاتا جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے‘‘۔  ﴿دجالی فتنہ کے نمایاں خدوخال، مولانا مناظر احسن گیلانی﴾
ایک حدیث میں ہے:
’’حضرت زینب بنت حجش ؓ  فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوتے تو آپﷺ  کا چہرۂ مبارک سرخ ہورہا تھا۔ اورآپ ﷺ  کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے: لا الٰہ الا اللہ اہل عرب کے لیے قریب آنے والے شر میں تباہی ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا اور سفیان نے انگلی بند کرکے دکھائی۔ کسی نے پوچھا کہ نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی کیا ہم ہلاک ہوسکتے ہیں؟ فرمایا۔ ہاں! جب گندگی بڑھ جائے‘‘۔ ﴿البخاری، مسلم،ترمذی، ابن ماجہ﴾
اس حدیث سے ہمارے علما نے یہ سمجھا ہے کہ سید ذوالقرنین کے استحکام کی مدت ختم ہوگی اور اب اس میں رخنہ پڑنے کی ابتداء ہوچکی ہے گویا وہ اب آہستہ آہستہ شکست وریخت سے دوچار ہوجائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شر کی اطلاع دے رہے ہیں جس کا اثر یہ ہوگا کہ عرب کے لیے سخت ہلاکت کا سامنا ہوگا اور خلافت قریش زوال پذیر ہوگی۔ شارح بخاری کرمانی بعض علماء  سے نقل کرتے ہیں کہ اس حدیث میں ایسے حادثے کا ذکر کیاگیا ہے جس کا ظہور قیامت کی علامت سے مختلف درمیانی وقفے میں پیش آنے والا ہے جو باعث ہوگا عرب کے زوال کا اور ’’فتح ردم‘‘ استعارہ ہے اس بات سے کہ جو حادثہ آئندہ پیش آنے والا ہے اس کی ابتدائ ہوگئی ہے اور یہ وہ حادثہ ہے جو معتصم باللہ خلیفہ عباسی کے زمانے میں ’’فتنہ تاتار‘‘ کے نام سے برپا ہوا اور جس نے عرب طاقت یعنی خلافت قریش کا خاتمہ کردیا۔  ﴿عمدۃ القاری﴾ ﴿فتنہ یاجوج وماجوج﴾
بالفرض ہمارے یہ علماء ے سلف آج کے حالات یعنی جنگ عظیم اول جس کے نتیجے میں خلافت کے ادارے کا ہی خاتمہ، ریاست یہود کا قیام، مشرق وسطیٰ کے جنگی حالات، خاک وخون کو دیکھ پاتے تو یا جوج وماجوج کے کھول دیے جانے سے تعبیر کرتے۔
تفہیم القرآن میں مختلف آیات کی وضاحت میں موجودہ حالات کی پیشین گوئیاں موجود ہیں جنھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق احادیث پیش کرنے کے بعد اور اسرائیلی ریاست کے ایک فوجی قوت بن جانے اور گرد وپیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرہ عظیم بن جانے کے اظہار کے بعد مولانا مودودیؒ  فرماتے ہیں :
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھ کر فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اس دجال اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج تیار ہوچکا ہے‘‘۔
مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  سورۃ الانبیاء  کی آیت ۹۵ کے حاشیے میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’’لیکن قرآن مجید اور احادیث میں یاجوج وماجوج کے متعلق جو کچھ بیان کیاگیا ہے اس سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہ یہ دونوں متحد ہوں گے اور مل کر دنیا پر ٹوٹ پڑیں گے۔ ہوسکتا ہے قیامت کے قریب زمانے میں یہ دونوں آپس میں لڑجائیں اور پھر ان کی لڑائی عالمگیر فساد کی موجب بن جائے‘‘۔
جیسا کہ عرض کیاگیا کہ علامہ اقبال ؒ ، مولانا انور شاہ کشمیری ؒ  اور بھی دیگر علماء  نے روس، چین وغیرہ کو یاجوج اور امریکہ، برطانیہ، فرانس اوردیگر مغربی ممالک کو ماجوج سمجھا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں دو عالم گیر جنگیں ہوچکی ہیں۔ مولانا مودودی ؒ  نے بھی درپردہ ان دونوں گروہوں کو ہی یاجوج وماجوج مانا ہے۔ اور عالم گیر فساد وہ آخر فساد ہوگا جو یاجوج وماجوج کے آخری طاقت ور گروہوں کے درمیان ہوگا جس کا مقابلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے روک دیے جانے کی وجہ سے نہ کریں گے اور اس حکم کے تحت مسلمانوں کو لے کر طور پہاڑ پر لے کر چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وجہ سے یاجوج وماجوج ہلاک ہوجائیں گے اور اس وقت سے متعلق حدیث میں ہے کہ قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ، نہیں کہہ سکتے کب وہ بچہ جن دے رات کو یا دن کو۔
مولانا مناظر احسن گیلانی   ؒ  نے یاجوج وماجوج کے چار دور گنائے ہیں۔پہلے دور میں ان کی قومی خصوصیت جو قرآن حکیم نے بیان کی ہے وہ زمین میں فساد پیدا کرنے کی ہے۔ دوسرے دور میں ذوالقرنین کی دیوار تعمیر ہوجانے کے بعد غیروں سے مایوس ہوجانے کے بعد آپس میں ہی لڑتے بھڑتے اور باہم دست وگریباں ہوتے رہتے۔ تیسرے دور کا تذکرہ سورۃ الانبیاء  کی آیت میں کیاگیا ہے یعنی ’’یہاں تک کہ کھول دیے گئے یاجوج وماجوج اور وہ ہر حدب سے تیزی کے ساتھ چل نکلے۔چوتھے دور کا تذکرہ سورۃ الکہف کی آیت ’’پھونک دیا جائے‘‘ سور پھر ہم ان کو یعنی یاجوج وماجوج کو اچھی طرح سمیٹ کر سمیٹ لیں گے۔
یاجوج وماجوج کی قومی زندگی کا تیسرا دور یعنی منقطع ہونے کے بعد پھر غیر قوموں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا موقع ان کو قیا م قیامت سے پہلے دیاجائے گا۔ ان کی قومی زندگی کے اس دور کی تعبیر فتح یاجوج وماجوج یا خروج یاجوج وماجوج سے کی جاتی ہے۔
بخاری میں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یاجوج وماجوج والے بند میں اس کے برابر اشارہ ایسا سوراخ آج کھول دیا گیا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ بہت ہی باریک سوراخ ہوگیا اس بند میں آپ کو دکھایا گیا‘‘۔
بہ ہر حال اس مشہور روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس کی اطلاع دے چکے تھے کہ یاجوج وماجوج کی قومی زندگی کے تیسرے دور کے ظہور کے احکام آپ ہی کے زمانے میں قریب آچکے تھے— بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر کوئی کہناچاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ ظہور کے آغاز کی کرن عہد نبوت میں پھوٹ چکی تھی۔
بہ ہرحال یہ مسئلہ کہ خروج کے سارے سازوسامان اور زمین کی تیاری کا کام عہد نبوت میں جو شروع ہوچکا تھا اس کی تکمیل کا وقت بھی کیا کوئی متعین کیاگیا ہے۔ اسی سورۃ الانبیاء  کی آیت ’’تا آں کہ کھول دیے گئے یاجوج وماجوج اور ہر حدب سے تیزی سے چلتے ہوئے وہ نکل پڑے‘‘۔ کے آخری ٹکڑے یعنی ’’ہر حدب سے تیز چلتے ہوئے وہ نکل پڑے‘‘ یعنی زمین کے سارے معمورے میں پھیل پڑیں گے اور اس طرح پھیل پڑیں گے کہ ان کی آمد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بڑی تیزی کے ساتھ آباد حصوں میں گھسنے لگیں گے تب سمجھا جائے گا کہ عہد نبوت میں جس خروج کے لیے سوراخ پیدا ہوا تھا وہ مکمل ہوگیا اور کھول دیے گئے یاجوج وماجوج کی پیش گوئی تکمیلی شکل میں سامنے آگئی۔ اس لیے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ  کا خیال یہ تھا کہ یاجوج وماجوج کے خروج کا واقعہ دفعتاً پیش آنے والا ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ ان کے یہ خروج یکے بعد دیگرے پیش آتے رہیں گے۔                        
﴿دجالی فتنہ کے نمایاں خدوخال، مولانا مناظر احسن گیلانی﴾
ذیل میں ہم ایک حدیث بیان کریں گے جس سے ان کے تین مختلف وقتوں کے خروج کا پتا لگتا ہے۔ اسرائیل کے قریب ایک جھیل ہے طبریاس۔ اس کا پانی اسرائیل اور غالباً شام استعمال کرتے ہیں اور آج کل اس کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ یاجوج وماجوج کی پہلی آمد پر وہ وہاں پانی پئیں گے دوسری آمد پر وہاں پانی نہیں کیچڑ ہوگا اور تیسری بار کی آمد پر وہاں پانی کا نام ونشان نہیں ہوگا۔ جھیل کے پانی کے بالکل ہی خشک ہونے کی حدت کئی سال ہی ہوسکتی ہے:
’’نواس ابن سمانؓ  سے روایت ہے ’ان حالات میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا۔ میں نے ایسے بندے تمھارے پاس بھیجے ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے گا۔ تم انھیں ﴿مسلمانوں کو﴾ حفاظت سے طورپر لے جاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو بھیجے گا اور وہ تمام بلندیوں سے اترتے نظر آئیں گے۔ جب ان میں سے پہلا طبریاس کی جھیل سے گزرے گا تو اس سے پانی پیے گا اور جب آخری آدمی گزرے گا تو کہے گا ’’یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔ عیسیٰؑ  طور پر محصور ہوجائیں گے اور ﴿خوراک کی کمی کے سبب﴾ ایک بیل کی قیمت سو دینار سے زیادہ ہوجائے گی‘‘۔ ﴿صحیح مسلم﴾
ایک اور حدیث میں ان کے تین گروہوں کا تذکرہ ہے۔
اس حدیث سے اور ایسی ہی دوسری احادیث سے جن میں یاجوج وماجوج اور ارض مقدس کا تذکرہ ساتھ ساتھ آتا ہے جس طرح کہ سورۃ الانبیاء  کی آیت۹۵ اور ۹۶ میں ہلاک شدہ بستی کا تذکرہ یاجوج وماجوج کے کھول دیے جانے کے ساتھ ساتھ کیا گیا ہے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ وہ بستی جو ہلاک ہوجانے کے بعد پلٹ آئی وہ ارض مقدس ہے اور یہودی جو اللہ کے عذاب کی زد میں آکر وہاں سے نکالے گئے تھے یاجوج وماجوج کے فساد برپا کرنے کے نتیجے کے طور پر انہیں پھر سے لاکر بسایا گیا ہے۔
جنگ عظیم اول سے پیدا شدہ حالات نے ہمیں سورۃ الانبیاء  کی بیشتر آیات کو صحیح رخ سے سمجھنے پر متوجہ کیا ہے۔ حالات کی تبدیلی نے ان آیات پر پڑے پردے کو ہٹا دیا ہے اس پس منظر میں ہمیں ان آیات پر نئے سرے سے غور کرناچاہیے۔
سورہ حم سجدہ کی آیات ۵۳ بھی اس طرف توجہ دلاتی ہیں:
’’عن قریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی۔ یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حکیم واقعی برحق ہے کیایہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہرچیز کا شاہد ہے‘‘۔
سورۃ الانبیاء  کے رکوع ۵ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا تذکرہ ہے اُس کے بعد اُن کی ارض مقدس کی ہجرت کا تذکرہ ہے۔ پھر مشرق وسطیٰ کے خطے میں آنے والے مختلف انبیاء  علیہم السلام کے خاص خاص واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ بیان حضرت مریم  ؑ  کے تذکرے پر ختم ہوتا ہے۔ اس سلسلۂ کلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اب ہم اپنی تحریر کو یہاں روکتے ہوئے تفہیم القرآن میں سورۃ الاحزاب میں ختم نبوت والی آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر کے آخری حصے کی کچھ باتوں کو نقل کرتے ہیں:
’’حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعدجب بنی اسرائیل پے درپے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ آخرکار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بناکر زمین میں تتربتر کردیا، تو انبیاء ے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ’’مسیح‘‘ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بنا پر یہودی ایک ایسے مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہوکر ، لڑکر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لاکر فلسطین میں جمع کردے اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کردے... یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات کا علاقہ ﴿جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں﴾ انھیں واپس دلائے گا۔
﴿۱﴾ ’’حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اتریں گے تمھارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اورخنزیر کو ہلاک کریں گے، جنگ کا خاتمہ کردیں گے۔ ﴿دوسری روایت میں حرب کی بجائے جزیہ کا لفظ ہے، یعنی جزیہ ختم کردیں گے﴾ اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور ﴿حالت یہ ہوجائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور﴾ ایک سجدہ کرلینا دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا‘‘۔ ﴿مسلم،ترمذی، مسند احمد، مرویات ابی ہریرہؓ ﴾
درج بالا تحریر کردہ تفصیلات کو ذہن میں رکھیں اور سورۃ الانبیاء  کے پانچویں رکوع کی تفصیلات کو پھر ایک بار یاد کرلیں کہ حضرت مریم  ؑ  کے تذکرے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں کیاگیا ہے۔ اب آیت نمبر ۱۰۵ پر غور فرمائیں وہ اس طرح ہے:
’’اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے‘‘۔
اس آیت میں بڑی خبر یہ ہے کہ لفظ ارض کہہ کر ارض مقدس مراد ہے۔ جس طرح آیات ۷۱، اور ۸۱ میں ارض مقدس کا تذکرہ ہے۔ آیت نمبر ۱۰۵ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فلسطین پر حکومت کا تذکرہ ہے یا یوں کہیے کہ اُن کی ساری دنیاپر حکومت ہوگی اور فلسطین اُس کا دارالخلافہ ہوگا۔
جب دجال ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا دعوہ لے کر اٹھے گا تب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شام کی کسی مسجد کے سفید مینار پر نازل فرمائے گا اور مسیح الدجال اُن کے ہاتھوں قتل ہوگا اور یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان کی ہلاکت کے بارے میں نافذ ہوگا اور وہ سارے کے سارے مارے جائیں گے۔ اور ساری دنیا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکومت ہوگی۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سورۃ الانبیاء  میں حضرت مریم ؑ  کے تذکرے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ پوشیدہ طور پر موجود ہے۔
اس طرح وہ بستی جس کی ہلاکت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرلیا تھا دنیابھر میں بکھر جانے کے باوجود یاجوج وماجوج کی سرکشی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار بن جانے کے لئے ارض مقدس میں واپس پلٹ آتی ہے اور اس ہلاکت کے فیصلے کا نفاذ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ہوگا اور یہ وہ زمانہ ہوگا جب اسلام ساری دنیا پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب ہوگا۔
آخر میں پھر ایک بار حدیث میں کہی بات کو دہراتا ہوں کہ ’آج ﴿یعنی دور نبوت ہی میں﴾ یاجوج وماجوج کی دیوار میں سوراخ ہوگیا ہے اور عربوں کے لیے اس میں تباہی ہے‘۔