Search This Blog

Showing posts with label SEERAT. Show all posts
Showing posts with label SEERAT. Show all posts

Friday, 27 April 2018

نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات


نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات
ناصر عباس نیّر

ہرزہ سرائی سے مراد محض دیگر اصناف شعر نہیں، جن کی اہمیت شاعر کی نظر میں کم ہوجاتی ہے،بلکہ نعت کہنے والی زبان، مختلف نقطہ ء نظر ، مختلف مذہب ومسلک کے حامل لوگوں کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرنے سے ابا کرتی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تمام طرح کے سماجی فساد ہرزہ سرائی سے شروع ہوتے ہیں۔اس بات پر باردگر زور دینے کی ضرورت ہے کہ عقیدت چوں کہ اس زبان کے ذریعے ثقافت کا حصہ بنتی ہے،جسے سب مذاہب کے لوگ ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں، اس لیے عقیدت سے تشکیل پذیر ہونے والی نشانیات ہندئوں ، سکھوں اور وسرے مذاہب کے شعرا کو بھی نعت لکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ان کی نعتیں ،پیمبر اعظم ﷺ کی ذات کی بے غرضانہ مدحت کے ساتھ ساتھ ، یہ امر بھی باور کراتی ہیں کہ سچائی،اپنے لیے عقیدت مند خود پیدا کرلیتی ہیں،اور یہ عقیدت مند سماجی ہم آہنگی کی قابل قدر علامت ہوتے ہیں۔
عشق کا جذبہ ،عقیدت کا مقابل نہیں ،مگر عقیدت سے کہیں زیادہ گہرا ہے ۔عقیدت میں رسمیت ہوسکتی ہے ،مگر عشق میں نہیں؛عقیدت میں ایک طرح کی اجتماعیت ہے ،مگر عشق انفرادی ،داخلی ،موضوعی ہے۔اگر عقیدت کے تحت لکھی گئی نعت ایک ثقافتی کردار اداکرتی ہے ،تو عشق ِ نبی ﷺ میں لکھی گئی نعتیں ،روحانی رفعت اور نفسیاتی قلبِ ماہیت ممکن بنانے کا غیر معمولی امکان رکھتی ہیں۔تاہم ایک فرد کی روحانی رفعت کبھی اس شخص کی ذات تک محدود نہیں رہتی؛چراغ کی مانند اس کی لو،ارد گرد کے افراد کی روحوں میں چھائی تاریکی کو مٹاتی ہے ،کبھی روحانی رفعت پانے والے کے عمل کے ذریعے، کبھی اس کے قول و گفتگو کے وسیلے سے ،اور کبھی سماج میں اس کی خاموش شرکت سے۔ واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جہاں عقیدت ہو،وہاں عشق بھی موجود ہو،مگر جہاں عشق ہوگا،وہاں عقیدت لازماً ہوگی۔دوسرے لفظوں میںکہا جاسکتا ہے کہ عشق،عقیدت کی انتہا بن سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں عشق بے بصر نہیں ہوتا؛ اس میں بھی سچائی پر یقین موجود ہوتا ہے۔عشق ِ نبی ﷺ ان عظیم صداقتوں پر اعتقاد کا حامل ہوتا ہے ،جن کا علم مستندمذہبی متون(تحریری وزبانی) کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
عشق نبی ﷺ کئی ایسی خصوصیات رکھتا ہے ،جو محض اسی سے مخصوص ہیں۔چوں کہ اس کی بنیاد میں عقیدت شامل ہوتی ہے، یعنی ’باخدا دیوانہ باش و بامحمد ﷺ ہوشیار‘ کی کیفیت ہوتی ہے، اس لیے اس کی وارفتگی اس بے تکلفی ، غیر رسمیت سے پاک ہوتی ہے ،جسے عام بشری عشق میں اختیار کیا جاتاہے۔ دوسرے لفظوں میں عشق نبیﷺ کی وارفتگی و دیوانگی در اصل ایک ایسی مقدس تجرید ،ایک مابعد الطبیعیاتی مگر عظیم الشان تصوریت کو مرکز بناتی ہے، جسے پورے طور پر انسانی ذہن گرفت میں لینے سے قاصر ہوتا ہے۔ یوں عاشق کے لیے ایک پیراڈاکسیائی صورتِ حال ہوتی ہے۔اس صورت ِ حال کا ایک رخ یہ ہے کہ اس تجرید کو اس الوہیت سے جدا رکھنا ہوتا ہے جو صرف خدا سے مخصوص ہے۔بہت سوں کے لیے یہ محال رہا ہے،اور اس کی وجہ لاعلمی کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی بشری بے بضاعتی بھی ہے ،جو عشق کے وفور میں اس نازک ترین فرق کو بھول جاتی ہے جو الوہیت ورسالت میں ہے۔یوں بھی عشق میں خود کو ہوشیار رکھنا آسان نہیں،لیکن عشق نبیﷺ میں ہوشیاری اور احتیاط لازمی شرائط ٹھہرتی ہیں،اور عشقِ نبی ﷺ کے سفر کو کڑا اور آزمائشوں بھرا بناتی ہیں۔اس کڑے سفر میں دعا سب سے اہم وسیلہ ہوتی ہے۔ احمد جاوید کا یہ شعر اسی طرف دھیان منتقل کراتاہے:
کا ش اس بات سے محفوظ رہیںیہ لب وگوش
جو مرے سید وسردار نے فرمائی نہیں
گویا بندے بشر کی استطاعت میں نہیں کہ وہ عشق میں ہوشیاری واحتیاط کا دامن تھامے رکھے، اس لیے وہ دعا کا سہارا لینے پر مجبور ہوتا ہے۔لیکن دعاایک بار پھر اسے اس مقدس تجرید کی طرف لے جاتی ہے۔ عشق نبی ﷺ کی پیراڈاکسیائی صورت حال کا ایک اور رخ یہ ہے کہ ایک طرف وہ عشق کا سچا، گہرا جذبہ محسوس کرتا ہے ،مگر اپنے محبوب کا تصور ایک مقدس تجرید کے طور پر کرتا ہے؛پیرا ڈاکس یہ ہے کہ جذبہ سامنے، حقیقی طور پر حسی وجود پر مرتکز ہونے کے بجائے ،تصوریت سے وابستہ ہوتا ہے۔اسی پیراڈاکس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ عاشقِ رسول ﷺکو ایک طرف اپنی خاکی نہاد کا منکسرانہ احساس ہوتا ہے ،اور دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مابعد الطبیعی تصوریت پر اپنی تمام حسی وذہنی صلاحیتوں کو مرکوز کرتا ہے،مگر یہی پیراڈاکسیائی صورتِ حال اس کے عشق کو ایک عجب ذائقہ ،ایک انوکھی بلندی، اور اس کے دل میں نئی آرزوئیں پیدا کرتی ہے۔ عاشق اپنی خاکی نہادکا منکسرانہ احساس تو رکھتا ہے ،مگر اسے حقیر،بے معنی ،بے مصرف و بے مقصد نہیں سمجھتا؛جو خاکی وجود ،ایک عظیم الشان تجرید کا تصور کرسکتا ہے ،وہ کیوں کر حقیر ہوسکتاہے؟یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں نعت سمیت دوسری مذہبی شاعری ،جدید شاعری سے ایک الگ راستہ اختیار کرتی ہے ۔جدید شاعری میں اپنے حقیر ہونے ، وجود کے لغو ہونے ،نفس میں موجو دتاریکیوں کو انسانی تقدیر سمجھ کر قبول کرنے کا رویہ موجود ہوتا ہے ۔(جدید شاعری ،اس حقیقت کو قبول کرکے در اصل اس کی ملکیت کا احساس پیدا کرتی ہے )۔جدید شاعری میں منفی قلب ِ ماہیت (آدمی کا کیڑا ،مکھی ،بھیڑیابن جانا)کا موضوع بھی تقریباً اسی راہ سے آیا ہے ،مگر نعتیہ شاعری میں انکسار ہوسکتا ہے ، حقیر ہونے کا احسا س ہرگز نہیں ۔نعت میں نفس کی تاریکی کا ادراک ظاہر ہوسکتا ہے ،مگر اسے انسانی تقدیر نہیں تصور کیا جاتا،اسے ایک عارضی صورت حال تصور کرکے ،اس سے نکلنے کا راستہ دکھایا جاتاہے۔ اگر نفس کی تاریکی کوانسانی تقدیر تصور کیا جائے تو یہ سیدھا سادہ مذہبی اعتقاد پر سخت تشکیک کا اظہار ہے۔نعت ، مذہبی حسیت کی حامل صنف ہونے کے ناطے،انسانی وجود کی تاریکیوں کو دور کرنے کا لازمی امکان بنتی ہے۔ حقیقی مذہبی حسیت ،لازماً رجائیت پسند ہوتی ہے ؛ وہ انسان کی حتمی صورتِ حال کا پرشکوہ رجائی تصور رکھتی ہے۔ بہ ہر کیف، خالد احمد کی نعت کا یہ شعر دیکھیے جس میں انکسار تو موجود ہے ، حقیرہونے کا احساس نہیں۔
زرگل ہوئی مری گرد بھی کہ ریاض عشق رسول ہوں
بڑی پاک خاک ہے یہ گلی، میں اسی کی دھول کا پھول ہوں
یوں عاشق کی بشریت ،اپنے اندر ایک غیر معمولی پن کا حقیقی روحانی تجربہ کرتی ہے۔غیر معمولی پن کا احساس ،محض تصوری اور نظری طور پر بھی ممکن ہے،مگر جب یہ عشق کی صورت اختیار کرتا ہے تو یہ تجربہ بن جاتا ہے،یعنی احساس، جذبے ،فکر ، تخیل ،عمل یعنی انسانی وجود کے سب پہلوئوں اور سب سطحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اس سے ایک طرف عاشق کی قلب ِ ماہیت ہوتی ہے،اس کے وجود کی تاریکی دور ہوتی ہے ،یا دور ہونے کا گہرا یقین پید اہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے دل میں نئی آرزوئیں جنم لیتی ہیں۔ نئی آرزوئیں بھی دراصل مذکورہ بالا پیراڈاکسیائی صورتِ حال سے پیدا ہوتی ہیں۔ عشق لازماً حسی ہدف چاہتاہے،لیکن یہاں ایک مقدس تجرید ہوتی ہے ، جسے تاریخ وسیرت ایک حسی سطح ضرور دیتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ذات اس درجہ وسیع اور تخیل کی حدوں سے ورا ہوتی ہے کہ اس کا قطعی متعین تصور ممکن نہیں ہوتا۔عشق ،حسی ہدف کی آرزو ترک نہیں کرسکتا، اور عشقِ نبی ﷺ میں یہ ممکن نہیں ہوتا تو اس کانتیجہ ان نئے ،عظیم الشان مقاصد کی آرزوئوں کی صورت میں نکلتاہے۔جو حقیقی، حسی ،مادی دنیا کو اپنا ہدف بناسکیں۔چوں کہ یہ عظیم آرزوئیں،عشق کا حاصل ہوتی ہیں،اس لیے وہ مادی دنیا کو جب ہدف بناتی ہیں تو اسے مسخ کرنے کے بجائے ، اس کی وسعتوں کو کھوجتی ہیں ،اوراس عمل کو خود اپنی ذات کی توسیع کی علامت تصور کرتی ہیں۔یوں ایک نئی ،بلند تر سطح کا رشتہ دنیا سے قائم ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
عالم بشریت کی زد میں آسمان ۔۔۔یعنی وہ بلند ترین مقام ،جسے انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،اور جس کے سبب،انسانی تخیل عظمت وبلندی کا تصور کرسکتا ہے۔۔۔کے ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی بساط کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ نبی ﷺکی معراج ،بشری دنیا کو یہ تحریک دیتی ہے کہ وہ خاک سے افلاک تک پہنچے۔یہی کچھ مقدس تجرید کے عشق میں ہوتا ہے۔
عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول ؐ
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسول ؐ
بیدم وارثی
میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا
(پیر نصیر الدین پیر(
مقد س تجرید کے عشق کی کیا کیفیت ہوتی ہے ،اسے جس طرح اقبال نے پیش کیا ہے ، اس کی کوئی دوسری مثال اردو شاعری میں نہیں ملتی۔اقبال کے یہاں عشق اس علامت کی طرح ہے ،جس میں اپنے معنی متعین کرنے کے خلاف باقاعدہ مزاحمت ہوتی ہے۔ وہ علامت ہونے کی بنا پر کئی معانی کی حامل ہوتی ہے ،مگر اس رمز کو بھی جانتی ہے کہ معنی کے تعین کی کوشش،در اصل اسے محدود کرنے کے عمل کاآغاز ثابت ہوتی ہے۔اقبال کے یہاں عشق کی علامت ، لامتناہی جستجو اوران تھک سفرکی محرک بنتی محسوس ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اقبال اس لامتناہی سفر کو ایک خیالی دنیا اور فنتاسی میں سفر میں نہیں بدلنے دینا چاہتے۔وہ عشق کی اس حسی، جذبی کیفیت کوقائم رکھنا چاہتے ہیں،جو انسانی دل میں حقیقی طور پر پیدا ہوتی ہے، اور جس کے ذریعے انسان خود اپنے بشری مرکز سے متصل رہتا ہے،اور اسی کو لامتناہی جستجو کا رخت سفر بنانا چاہتے ہیں،خود اپنی ذات میں ، تاریخ میں ، دنیا میں اور کائنات میں۔بہ قول اقبال :’عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک‘۔ اقبال نے عشق کا تصور واضح طور پر عشق رسول ﷺ سے لیا،اور اس پیراڈاکسیائی صورتِ حال کا حل بنا کر پیش کیا ،جس کا سامنا نبی ﷺ کی ذات کی مقدس تجرید کے عشق میں گرفتار ہونے سے ہوتا ہے۔یہ نظری حل نہیں۔ہوسکتا ہے نظری طور پر اسے واضح کرناہی محال ہو،لیکن اقبال بشری عالم کی اس انتہائی بنیادی خصوصیت سے واقف تھے کہ تمام عظیم کارنامے ، تمام بڑی تبدیلیاں ،تمام غیر معمولی فن پارے ان عظیم آرزوئوں سے جنم لیتے ہیں جو عشق کانتیجہ ہیں۔ عشق اور آرزو میںتعلق تو صدیوں سے معلوم بات ہے ،مگر اقبال نے دریافت کیا کہ عشق اور آزرو کی عظمت کا ایک ہی سرچشمہ ہے۔ اقبال کی شاہکار نظم’ مسجد قرطبہ ‘کے یہ اشعار ان معروضات کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے،جن میں عشق کی علامت ایک مخروطی صورت اختیار کرتی محسوس ہوتی ،اور جو تکمیل فن کا مظہر ہوتی ہے۔

مرد خد اکا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
تند وسبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصررواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیںجن کا نہیں کوئی نام
عشق دم جبریل ،عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کارسول ،عشق خدا کا کلام
عشق کے مضراب سے نغمہ ء تار حیات
عشق سے نورحیات، عشق سے نارحیات
آخر ی بات !اردو نعت کے موضوعات ،دیگر شعری اصناف کی طرح کبھی محدود نہیں رہے؛وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی ہے ۔نعت اسی طرح اپنے زمانے کی حسیت کو اپنی شعریات کا حصہ بناتی رہی ہے ،جس طرح دیگر شعری اصناف۔ کلاسیکی اردو شاعری کے عہد کی نعت کا اہم موضوع ،مدحت کے ساتھ ساتھ ،ثواب و مغفرت تھا، لیکن انیسویں صدی کے اواخرمیں نعت کے موضوعات میں تنوع پید اہونا شروع ہوا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نو آبادیاتی عہد میںجب مسلم قوم پرستی کا آغاز ہوا،اور جداگانہ مذہبی شناختوں پر اصرار بڑھا تو نعتیہ شاعری کے موضوعات بھی تبدیل ہونا شروع ہوئے۔شناختوں کو مسخ کرنے کی نو آبادیاتی سیاست ،اور یورپ کے کبیری بیانیے کے ردّ عمل میں، برصغیرکے مسلمانوں کے یہاں اپنی مذہبی شناخت پر اصرار بڑھا،اور وہ تاریخِ اسلام اور سیرت رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنے لگے۔پہلی مرتبہ اردو شاعری میں مذہبی ،قومی شناخت ایک اہم موضوع کے طور پر شامل ہوئی۔ نعتیہ شاعری مذہبی قومی شناخت کی تشکیل کا ذریعہ بنی،لیکن اس موضوع پر گفتگو کسی اور موقع پر!

نعتیں
افتخار عارف

دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے
میں خود یوں ہی تو نہیں آ گیا ہوں محفل میں
کہیں سے اذن ہوا ہے تو حاضری ہوئی ہے
خدا کا شکر غلامانِ شاہ بطحا میں
شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے
مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
میں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے
یہ سر اُٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے
عثمان انیس

مرے خوابوں میں آجائو مدینے جا نہیں سکتا
رُخِ زیبا دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
کرے روشن زمانے کو تُمہارا نُور ایسا ہے
میرے دِل میں سما جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ پانی کیا بجھائے گا مری ہے تِشنگی ایسی
کہ پھِر کوثر پِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ مانا عشق کا میں نے بڑا گہرا سمندر ہے
مْجھے اِس میں ڈبا جائو مدینے جا نہیں سکتا
ہوا مدہوش کچھ ایسا پڑا ہوں خوابِ غفلت میں
مْجھے اِس سے جگا جائو مدینے جا نہیں سکتا
پڑا ہوں قبر میں کب سے کہ اَب جانا ہے جنت میں
مْجھے رستہ دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہارا امتی ہو کر پڑا ہوں آقا غُربت میں
مرے دِن بھی پھِرا جائو مدینے جا نہیں سکتا
نہیں ہے یاد اَب مْجھ کو سبق میں بھُول بیٹھا ہوں
مجُھے چْھٹی دِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہیں جو دیکھ لے عثماں بڑا ہی خُوب لِکھے گا
مجھے نعتیں سنا جائو مدینے جا نہیں سکتا
اسامہ امیر

ہم درد کے ماروں کو خزینے کی طرف سے
سرکار بلاتے ہیں مدینے کی طرف سے
یہ گل جو معطر ہے چمن زار میں اپنے
خوشبو ہے محمدؐ کے پسینے کی طرف سے
میں جائوں گا اک روز شہہِ طیبہؐ سے ملنے
آواز کوئی آتی ہے سینے کی طرف سے
حسانؓ کے صدقے سے مجھے نعت ملی ہے
میں ورنہ غزل گو ہوں قرینے کی طرف سے
آنکھوں پہ لگائوں گا انہیں روشنی دوں گا
میں خاک اٹھائوں گا دفینے کی طرف سے

Monday, 12 December 2016

رسول اللہ ص اور شہری منصوبہ بندی


سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم

سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم
شاہنواز فاروقی

انبیاء و مرسلین دنیا کے عظیم ترین انسان تھے۔ لیکن بعض انبیاء کو اپنی قوموں اور اپنے اصحاب سے اچھے تجربات میسر نہیں آئے۔ حضرت نوح ؑ ساڑھے نوسو سال تک تبلیغ کرتے رہے مگر ان کی قوم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ چنانچہ حضرت نوح ؑ کی پوری قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا گیا۔ طوفانِ نوح آیا تو حضرت نوح ؑ کے ساتھ چالیس سے کم افراد تھے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوح ؑ کی قوم کے بدقماش لوگ حضرت نوحؑ کو زدوکوب کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ انہیں بوری میں بند کرکے مارتے تھے۔ اس تشدد سے حضرت نوح ؑ اکثر بے ہوش ہوجاتے۔

حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بہت سوال کرنے والی تھی۔ اس سلسلے میں قربانی کی گائے کا واقعہ قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کبھی پوچھ رہی تھی کہ گائے بوڑھی ہو یا جوان ہو؟ اورکبھی سوال کررہی تھی کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟ حضرت موسیٰ ؑ پہاڑ پر گئے اور مقررہ دن سے زیادہ پہاڑ پر رک گئے تو ان کی قوم نے بچھڑا ایجاد کرلیا اور اس کو پوجنے لگی۔ حالانکہ حضرت موسیٰ ؑ اپنے چھوٹے بھائی حضرت شعیب ؑ کو اپنی قوم کے پاس چھوڑ کر گئے تھے جو خود بھی پیغمبر تھے۔ ایک موقع پر جنگ کا مرحلہ آیا تو حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کے لوگوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہہ دیا کہ ہم جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، آپ کو لڑنا ہے تو آپ لڑیں اور آپ کا خدا لڑے۔ حضرت عیسیٰ ؑ پانچ اولوالعزم انبیاء میں سے ایک ہیں، لیکن آپ ؑ کے ایک حواری Judas یہودی نے ہی آپؑ کی مخبری کرکے آپؑ کو گرفتار کرایا اور صلیب تک پہنچایا۔ اسلام کی گواہی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو صلیب پر چڑھائے جانے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ حالت میں آسمان پر اٹھا لیا، مگر حضرت عیسیٰ ؑ کے حواری نے انہیں قتل کرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
سیرتِ طیبہ کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ بلاشبہ اہلِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں رہنے نہ دیا۔ اہلِِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبِ ابی طالب میں طویل عرصے تک محصور رکھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اصحاب فراہم ہوئے اُن جیسے لوگ نہ چشم فلک نے پہلے دیکھے تھے اور نہ بعد میں دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپؐ پر فدا تھے۔ آپؐ ان کے سامنے تشریف فرما ہوتے تو وہ اتنے ادب سے گردن جھکا کر بیٹھ جاتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ذرا سی جنبش سے ان کے اڑ جانے کا اندیشہ ہو۔ آپؐ وضو کرتے تو آپؐ کے اصحاب وضو کا پانی زمین پر نہ گرنے دیتے۔ اسے پی جاتے یا جسم پر مَل لیتے۔ آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مدینہ ہجرت کی تو راستے میں حضرت ابوبکرؓ کبھی آپؐ کے دائیں ہوجاتے، کبھی بائیں۔ کبھی ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلنے لگتے، کبھی پیچھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو پوچھا کہ ابوبکر کیا بات ہے؟ آپؐ کے استفسار پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ مجھے آپؐ پر دائیں جانب سے حملے کا خوف ہوتا ہے تو میں دائیں جانب ہوجاتا ہوں، بائیں جانب سے حملے کا اندیشہ ہوتا ہے تو میں بائیں جانب آجاتا ہوں۔

یہ تو خیر اصحاب کا معاملہ ہے۔ عام مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ عشق کرتے تھے۔ غزوۂ احد میں کفار اور مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید ہونے کی افواہ اڑا دی۔ افواہ مدینہ پہنچی تو پورا مدینہ بے تاب ہوگیا۔ ایک خاتون بے تاب ہوکر گھر سے باہر نکل آئیں۔ انہیں میدانِ کارزار سے لوٹنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ تمہارا بھائی شہید ہوگیا ہے۔ ان خاتون نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ ایک اور شخص سے ان کو اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا بھی جنگ میں کام آگیا ہے، انہوں نے کہا: یہ بتاؤ رسول اللہ کس حال میں ہیں؟ تھوڑی دیر بعد انہیں ایک اور صاحب نے مطلع کیا کہ آپ کے شوہر بھی شہید ہوگئے ہیں تو انہوں نے سوال کیا کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں۔ یہ سن کر ان خاتون نے کہا کہ پھر مجھے کسی بات کا غم نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو شدتِ محبت اور شدتِ غم کے باعث حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ رسول اللہ کا انتقال ہوگیا ہے تو میں اپنی تلوار سے اُس کا سر اڑا دوں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر ایک عام عورت کا تبصرہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کا مظہر تھا۔ اس عورت نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے اور انہیں بھی ایک دن دنیا سے رخصت ہونا تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہونے سے آسمان اور زمین کے درمیان رابطہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوگیا ہے۔ یعنی اب زمین پر کبھی وحی کا نزول نہ ہوگا۔
سیرتِ طیبہؐ کا یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کی جانب دیکھا اور فرمایاکہ میں نے اتنا خوبصورت چہرہ کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے ابوجہل کا گزر ہوا، اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھا اور منفی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے درست کہا۔ صحابۂ کرام نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے دو مختلف باتوں کے جواب میں ایک ہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں ایک آئینہ ہوں، میرے اندر سب کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔ اور یہ بات بالکل درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس انسانوں کی تعریف متعین کرنے والی یا ان کے اصل کو Define کرنے والی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رابطے میں آئے اُن کی پانچ اقسام تھیں۔ پہلی قسم اُن لوگوں کی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح جانتے تھے، جن کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ان لوگوں نے کسی سوال یا تردد کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ ان لوگوں میں حضرت ابوبکرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت خدیجہؓ شامل تھیں۔ کچھ لوگ ایسے تھے جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست میل ملاقات نہ تھی۔ ان کے لیے قرآن مجید یا اللہ کا کلام تھا۔ چنانچہ انہوں نے جیسے ہی قرآن مجید سنا اُن کے دل کی دنیا بدل گئی۔ اُن کے دل نے گواہی دی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال عمر فاروقؓ ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے نکلے تھے مگر قرآن کا تھوڑا سا حصہ سن کر ہی انہیں معلوم ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں۔ کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے ایمان لانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا۔ ان لوگوں کی دو اقسام تھیں۔ ایک وہ جنہوں نے معجزہ طلب کیا، معجزہ دیکھا اور ایمان لے آئے۔ دوسرے وہ جنہوں نے معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ تو جادو ہے، اور وہ ایمان نہیں لائے۔ لیکن کچھ لوگوں نے معجزے کو جادو کیوں کہا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی روحانی اور نفسیاتی استعداد اتنی ہی تھی، وہ جادو کو پہچان سکتے تھے مگر معجزے کو نہیں پہچان سکتے تھے۔ انسانوں کی پانچویں قسم اُن لوگوں پر مشتمل تھی جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔ یہ وہ لوگ تھے جو سیاسی بالادستی یا طاقت کے غلبے کو اہم سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب اسلام کو سیاسی غلبہ یا طاقت حاصل ہوگئی تو ان لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ اب جزیرہ نمائے عرب میں اسلام ہی کا سکہ چلے گا۔ اس طرح کے لوگوں کی سب سے بڑی مثال ابوسفیان ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انسانوں کی یہ اقسام صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک تک محدود نہ تھیں۔ انسانوں کی یہ اقسام رہتی دنیا تک اسی طرح نمودار ہوتی رہیں گی جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں نمودار ہوئی تھیں۔ فرق یہ ہوگا کہ اب دنیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں، چنانچہ اب جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر ہوں گے وہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو دیکھیں گے۔ اسی طرح معجزے کا پہلو اب اسلام کی اُن جہات سے متعلق ہوگا جو دنیا میں موجود فکر کے دوسرے دھاروں سے زیادہ متاثر کن ہوں گی۔

غور کیا جائے تو سیرتِ طیبہ کے ساتھ ہمارے تعلق کی تین بنیادی جہتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی درجے کی عقیدت ہو۔ دوسرے یہ کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو زندہ رکھیں۔ تیسرے یہ کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی درجے کی محبت ہو۔ عصرِ حاضر میں ان جہتوں کا معاملہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی درجے کی عقیدت ہے۔ عقیدت کا تقاضا جاں نثاری ہوتا ہے۔ آپ جس سے عقیدت رکھتے ہیں اس پہ اپنی جان نثار کردیتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے سامنے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی ایک کلمہ بھی کہہ دے تو مسلمان اپنی جان دے بھی سکتا ہے اور ایسا کلمہ کہنے والی کی جان لے بھی سکتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کا حال یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں درود و سلام، نعتیہ محفلوں اور میلاد کا سلسلہ عام ہے۔ لیکن اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ اکثر مسلمان ان محفلوں کے انعقاد کو کافی سمجھتے ہیں اور ان کا جذبہ مزید آگے بڑھ کر سیرتِ طیبہؐ کے سانچے میں نہیں ڈھلتا۔ سیرتِ طیبہؐ سے ہمارے تعلق کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمیں رسول اللہ سے انتہائی درجے کی محبت ہو۔ محبت کا تقاضا اتباع اور پیروی ہوتی ہے۔ انسان جس شخص سے محبت کرتا ہے اس کے جیسا بن جانا چاہتا ہے۔ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر ہمارے فکر و عمل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی جھلک کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے، اور محض دعوے سے نہ انفرادی زندگی میں انقلاب برپا ہوتا ہے نہ اجتماعی زندگی انقلاب سے ہمکنار ہوتی ہے۔ اقبال نے جوابِ شکوہ میں خدا کی زبان سے کہلوایا ہے:

کی محمدؐ سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں ’محمدؐ سے وفا‘ کا مفہوم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے سوا کچھ نہیں۔

نبی اکرم ﷺ بحیثیت مدبر اور ماہرسیاست

نبی اکرم ﷺ بحیثیت مدبر اور ماہرسیاست

(سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لیے جو دین بھیجا، وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی کا دین ہے، اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی کا بھی دین ہے۔ جس طرح وہ عبادت کے طریقے بتاتا ہے، اسی طرح وہ سیاست کے آئین بھی سکھاتا ہے، اور جتنا تعلق اس کا مسجد سے ہے اتنا ہی تعلق اس کا حکومت سے بھی ہے۔
اس دین کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا اور سکھایا بھی، اور ایک وسیع ملک کے اندر اس کو عملاً جاری و نافذ بھی کردیا۔ اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح بحیثیت ایک مزکیِ نفوس اور ایک معلّم اخلاق کے ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے، اسی طرح بحیثیت ایک ماہرِ سیاست اور ایک مدبرِ کامل کے بھی اسوہ اور مثال ہے۔
آج کی اس صحبت میں، اس کانفرنس کے محترم داعیوں کے ارشاد کی تعمیل میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اسی پہلو سے متعلق چند باتیں مَیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
نئی شیرازہ بندی
اس امرِ واقع سے آپ میں سے ہرشخص واقف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب قوم سیاسی اعتبار سے ایک نہایت پست حال قوم تھی۔ مشہور مؤرخ علّامہ ابن خلدون نے تو اُن کو اُن کے مزاج کے اعتبار سے بھی ایک بالکل غیرسیاسی قوم قرار دیا ہے۔ ممکن ہے ہم میں سے بعض لوگوں کو اس رائے سے پورا پورا اتفاق نہ ہو، تاہم اس حقیقت سے تو کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اہلِ عرب اسلام سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں کبھی وحدت اور مرکزیت سے آشنا نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ہمیشہ ان پر نراج اور انارکی کا تسلط رہا۔ پوری قوم جنگ جُو اور باہم نبرد آزما قبائل کا ایک مجموعہ تھی، جس کی ساری قوت و صلاحیت خانہ جنگیوں اور آپس کی لوٹ مار میں برباد ہورہی تھی۔ اتحاد، تنظیم، شعور، قومیت اور حکم و اطاعت وغیرہ جیسی چیزیں، جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں، ان کے اندر یکسر مفقود تھیں۔ ایک خاص بدویانہ حالت پر صدیوں تک زندگی گزارتے گزارتے ان کا مزاج نراج پسندی کے لیے اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ ان کے اندر وحدت و مرکزیت پیدا کرنا ایک امرِمحال بن چکا تھا۔ خود قرآن نے ان کو قوما لُدا کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، جس کے معنی جھگڑالو قوم کے ہیں اور ان کی وحدت و تنظیم کے بارے میں فرمایا کہ: لَو اَنفَقتَ مَا فِی الاَرضِ جَمِیعًا مَّآ اَلَّفتَ بَینَ قُلُوبِھِم (الانفال 8:62) ’’اگر تم زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کرڈالتے جب بھی ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ نہیں سکتے تھے‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 23برس کی قلیل مدت میں اپنی تعلیم و تبلیغ سے اس قوم کے مختلف عناصر کو اس طرح جوڑ دیا کہ یہ پوری قوم ایک بنیانِ مرصوص بن گئی۔ یہ صرف متحد اور منظم ہی نہیں ہوگئی بلکہ اس کے اندر سے صدیوں کے پرورش پائے ہوئے اسبابِ نزاع و اختلاف بھی ایک ایک کرکے دور ہوگئے۔ یہ صرف اپنے ظاہر ہی میں متحد و مربوط نہیں ہوگئی بلکہ اپنے باطنی عقائد و نظریات میں بھی ہم آہنگ اور ہم رنگ ہوگئی۔ یہ صرف خود ہی منظم نہیں ہوگئی بلکہ اس نے پوری انسانیت کو بھی اتحاد و تنظیم کا پیغام دیا اور اس کے اندر حکم اور اطاعت دونوں چیزوں کی ایسی اعلیٰ صلاحیتیں ابھر آئیں کہ صرف استعارے کی زبان میں نہیں بلکہ واقعات کی زبان میں یہ قوم شتربانی کے مقام سے جہاں بانی کے مقام پر پہنچ گئی اور اس نے بلااستثنا دنیا کی ساری ہی قوموں کو سیاست اور جہاں بانی کا درس دیا۔
اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد
اس تنظیم و تالیف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بالکل اصولی اور انسانی تنظیم تھی۔ اس کے پیدا کرنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو قومی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ قومی حوصلوں کی انگیخت سے کوئی کام لیا، نہ دُنیوی مفادات کا کوئی لالچ دلایا، نہ کسی دشمن کے ہوّے سے لوگوں کو ڈرایا۔ دنیا میں جتنے بھی چھوٹے یا بڑے مدبر اور سیاست دان گزرے ہیں، انھوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی منصوبوں کی تکمیل میں انھی محرکات سے کام لیا ہے۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے تو یہ بات آپؐ کی قوم کے مزاج کے بالکل مطابق ہوتی، لیکن آپؐ نے نہ صرف یہ کہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ان میں سے ہرچیز کو ایک فتنہ قرار دیا اور ہر فتنے کی خود اپنے ہاتھوں سے بیخ کنی فرمائی۔
آپؐ نے اپنی قوم کو صرف خدا کی بندگی اور اطاعت، عالم گیر انسانی اخوت، ہمہ گیر عدل و انصاف، اعلائے کلمۃ اللہ اور خوفِ آخرت کے محرکات سے جگایا۔ یہ سارے محرکات نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تھے۔ اس وجہ سے آپؐ کی مساعی سے دنیا کی قوموں میں صرف ایک قوم کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ایک بہترین امت ظہور میں آئی جس کی تعریف یہ بیان کی گئی: (ترجمہ) ’’تم دنیا کی بہترین امت ہو، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہو‘‘۔(آلِ عمران 3:110)
ہرقیمت پر اصولوں کی پاس داری
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپؐ جن اصولوں کے داعی بن کر اٹھے، اگرچہ وہ جیسا کہ مَیں نے عرض کیا: فرد، معاشرہ اور قوم کی ساری زندگی پر حاوی تھے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ہرگوشہ ان کے احاطے میں آتا تھا لیکن آپؐ نے اپنے کسی اصول کے معاملے میں کبھی کوئی لچک قبول نہیں کی، نہ دشمن کے مقابل میں، نہ دوست کے مقابل میں۔ آپؐ کو سخت سے سخت حالات سے سابقہ پیش آیا، ایسے سخت حالات سے کہ لوہا بھی ہوتا تو ان کے مقابل میں نرم پڑجاتا، لیکن آپؐ کی پوری زندگی گواہ ہے کہ آپؐ نے کسی سختی سے دب کر کسی اصول کے معاملے میں کوئی سمجھوتا گوارا نہیں فرمایا۔ اسی طرح آپؐ کے سامنے پیش کش بھی کی گئی اور آپؐ کو مختلف قسم کی دینی و دنیوی مصلحتیں بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن اس قسم کی تدبیریں اور کوششیں بھی آپؐ کے کسی اصول کو بدلوانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ آپؐ جب دنیا سے تشریف لے گئے تو اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپؐ کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی ہربات اپنی اپنی جگہ پر پتھر کی لکیر کی طرح ثابت و قائم تھی۔ دنیا کے مدبروں اور سیاست دانوں میں سے کسی ایسے مدبر اور سیاست دان کی نشان دہی آپ نہیں کرسکتے، جو اپنے دوچار اصولوں کو بھی دنیا میں برپا کرنے میں اتنا مضبوط ثابت ہوسکا ہو کہ اس کی نسبت یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ اس نے اپنے کسی اصول کے معاملے میں کمزوری نہیں دکھائی یا کوئی ٹھوکر نہیں کھائی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پورا نظامِ زندگی کھڑا کردیا، جو اپنی خصوصیات کے لحاظ سے زمانے کے مذاق اور رجحان سے اتنا بے جوڑ تھا کہ وقت کے مدبرین اور ماہرینِ سیاست اس انوکھے نظام کے پیش کرنے کے سبب سے حضورؐ کو دیوانہ کہتے تھے، لیکن حضورؐ نے اس نظامِ زندگی کو عملاً دنیا میں برپا کرکے ثابت کردیا کہ جو لوگ حضورؐ کو دیوانہ سمجھتے تھے، وہ خود دیوانے تھے۔
صرف یہی نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذاتی مفاد یا مصلحت کی خاطر اپنے کسی اصول میں کوئی ترمیم نہیں فرمائی بلکہ اپنے پیش کردہ اصولوں کے لیے بھی اپنے اصولوں کی قربانی نہیں دی۔ اصولوں کے لیے جانی اور مالی اور دوسری تمام محبوبات کی قربانی دی گئی۔ ہر طرح کے خطرات برداشت کیے گئے اور ہر طرح کے نقصانات گوارا کیے گئے، لیکن اصولوں کی ہر حال میں حفاظت کی گئی۔ اگر کوئی بات صرف کسی خاص مدت تک کے لیے تھی تو اس کا معاملہ اور تھا، اس کی مدت ختم ہوجانے کے بعد وہ ختم ہوگئی یا اس کی جگہ اس سے بہتر کسی دوسری چیز نے لے لی، لیکن باقی رہنے والی چیزیں ہرحال اور ہر قیمت پر باقی رکھی گئیں۔ آپؐ کو اپنی پوری زندگی میں یہ کہنے کی نوبت کبھی نہیں آئی کہ میں نے دعوت تو دی تھی فلاں اصول کی لیکن اب حکمتِ عملی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ پر فلاں بات بالکل اس کے خلاف اختیار کرلی جائے۔
اصولی سیاست
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اس اعتبار سے بھی دنیا کے لیے ایک نمونہ اور مثال ہے کہ آپؐ نے سیاست کو عبادت کی طرح ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔
آپؐ جانتے ہیں کہ سیاست میں وہ بہت سی چیزیں مباح بلکہ بعض حالات میں مستحسن سمجھی جاتی ہیں جو شخصی زندگی کے کردار میں مکروہ اور حرام قرار دی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے جھوٹ بولے، چال بازیاں کرے، عہد شکنیاں کرے، لوگوں کو فریب دے یا ان کے حقوق غصب کرے تو اگرچہ اِس زمانے میں اقدار اور پیمانے بہت کچھ بدل چکے ہیں، تاہم اخلاق بھی ان چیزوں کو معیوب ٹھیراتا ہے اور قانون بھی ان باتوں کو جرم قرار دیتا ہے۔ لیکن اگر ایک سیاست دان اور ایک مدبر یہی سارے کام اپنی سیاسی زندگی میں اپنی قوم یا اپنے ملک کے لیے کرے تو یہ سارے کام اُس کے فضائل و کمالات میں شمار ہوتے ہیں۔ اُس کی زندگی میں بھی اُس کے اس طرح کے کارناموں پر اُس کی تعریفیں ہوتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی انھی کمالات کی بنا پر وہ اپنی قوم کا ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ سیاست کے لیے یہی اوصاف و کمالات عرب جاہلیت میں بھی ضروری سمجھے جاتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جو لوگ ان باتوں میں شاطر ہوتے تھے وہی اُبھر کر قیادت کے مقام پر آتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیاسی زندگی سے دنیا کو یہ درس دیا کہ ایمان داری اور سچائی جس طرح انفرادی زندگی کی بنیادی اخلاقیات میں سے ہے، اسی طرح اجتماعی اور سیاسی زندگی کے لوازم میں سے بھی ہے، بلکہ آپؐ نے ایک عام شخص کے جھوٹ کے مقابل میں ایک صاحبِ اقتدار اور ایک بادشاہ کے جھوٹ کو کہیں زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔ آپؐ کی پوری سیاسی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ اس سیاسی زندگی میں وہ تمام مراحل آپؐ کو پیش آئے ہیں، جن کے پیش آنے کی ایک سیاسی زندگی میں توقع کی جاسکتی ہے۔
آپؐ نے ایک طویل عرصہ نہایت مظلومیت کی حالت میں گزارا اور پھر کم و بیش اتنا ہی عرصہ آپؐ نے اقتدار اور سلطنت کا گزارا۔ اس دوران میں آپؐ کو حریفوں اور حلیفوں دونوں سے مختلف قسم کے سیاسی اور تجارتی معاہدے کرنے پڑے، دشمنوں سے متعدد جنگیں کرنی پڑیں، عہد شکنی کرنے والوں کے خلاف جوابی اقدامات کرنے پڑے، قبائل کے وفود سے معاملے کرنے پڑے، آس پاس کی حکومتوں کے وفود سے سیاسی گفتگوئیں کرنی پڑیں اور سیاسی گفتگوؤں کے لیے اپنے وفود ان کے پاس بھیجنے پڑے، بعض بیرونی طاقتوں کے خلاف فوجی اقدامات کرنے پڑے۔ یہ سارے کام آپؐ نے انجام دیے لیکن دوست اور دشمن ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپؐ نے کبھی کوئی وعدہ جھوٹا نہیں کیا، اپنی کسی بات کی غلط تاویل کرنے کی کوشش نہیں فرمائی، کوئی بات کہہ چکنے کے بعد اس سے انکار نہیں کیا، کسی معاہدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی۔ حلیفوں کا نازک سے نازک حالات میں بھی ساتھ دیا اور دشمنوں کے ساتھ بدتر سے بدتر حالات میں بھی انصاف کیا۔ اگر آپ دنیا کے مدبرین اور اہلِ سیاست کو اس کسوٹی پر جانچیں تو مَیں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو بھی آپ اس کسوٹی پر کھرا نہ پائیں گے۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ سیاست میں عبادت کی سی دیانت اور سچائی قائم رکھنے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سیاست میں کبھی کسی ناکامی کا تجربہ نہیں کرنا پڑا۔ اب آپ اس چیز کو چاہے تدبر کہیے یا حکمتِ نبوت۔
خوں ریزی سے پاک انقلاب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ آپؐ نے عرب جیسے ملک کے ایک ایک گوشے میں امن و عدل کی حکومت قائم کردی۔ کفار و مشرکین کا زور آپؐ نے اس طرح توڑ دیا کہ فتح مکہ کے موقع پر فی الواقع انھوں نے گھٹنے ٹیک دیے، یہود کی سیاسی سازشوں کا بھی آپؐ نے خاتمہ کردیا، رومیوں کی سرکوبی کے لیے بھی آپؐ نے انتظامات فرمائے۔ یہ سارے کام آپؐ نے کرڈالے لیکن پھر بھی انسانی خون بہت کم بہا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی تاریخ بھی شہادت دیتی ہے اور آج کے واقعات بھی شہادت دے رہے ہیں کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے انقلابات میں بھی ہزاروں لاکھوں جانیں ختم ہوجاتی ہیں اور مال و اسباب کی بربادی کا تو کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے جو انقلاب برپا ہوا، اس کی عظمت اور وسعت کے باوجود شاید اُن نفوس کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہوگی جو اس جدوجہد کے دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے شہید ہوئے یا مخالف گروہ کے آدمیوں میں سے قتل ہوئے۔
پھر یہ بات بھی غایت درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ دنیا کے معمولی معمولی انقلابات میں بھی ہزاروں لاکھوں آبروئیں فاتح فوجوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں اور مفتوحہ ملک کی سڑکیں اور گلیاں حرام کی نسلوں سے بھرجاتی ہیں۔ اِس تہذیب و تمدن کے عہد میں بھی اس صورتِ حال پر اربابِ سیاست شرمندگی اور ندامت کے اظہار کے بجائے اس کو ہرانقلاب کا ایک ناگزیر نتیجہ قرار دیتے ہیں، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں دنیا میں جو انقلاب رونما ہوا، اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کوئی ایک واقعہ بھی ہم کو ایسا نہیں ملتا کہ کسی نے کسی کے ناموس پر دست درازی کی ہو۔
دنیوی کرّوفر کے بجائے فقر و درویشی
اہلِ سیاست کے لیے طمطراق بھی سیاست کے لوازم میں سے سمجھا جاتا ہے۔ جو لوگ عوام کو ایک نظام میں پرونے اور ایک نظم قاہر کے تحت منظم کرنے کے لیے اُٹھتے ہیں وہ بہت سی باتیں اپنوں اور بے گانوں پر اپنی سطوت جمانے اور اپنی ہیبت قائم کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ یہ ساری باتیں ان کی سیاسی زندگی کے لازمی تقاضوں میں سے ہیں۔ اگر وہ یہ باتیں نہ اختیار کریں گے تو سیاست کے جو تقاضے ہیں وہ انہیں پورا کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے جب وہ نکلتے ہیں تو بہت سے لوگ ان کے جلو میں چلتے ہیں، جہاں وہ بیٹھتے ہیں ان کے نعرے بلند کرائے جاتے ہیں، جہاں وہ اُترتے ہیں ان کے جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں میں ان کے حضور میں ایڈریس پیش کیے جاتے ہیں اور ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ جب وہ مزید ترقی کرجاتے ہیں تو ان کے لیے قصرو ایوان آراستہ کیے جاتے ہیں، ان کو سلامیاں دی جاتی ہیں، ان کے لیے بَرّی و بحری اور ہوائی خاص سواریوں کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ جب وہ کبھی کسی سڑک پر نکلنے والے ہوتے ہیں تو وہ سڑک دوسروں کے لیے بند کردی جاتی ہے۔
اُس زمانے میں ان چیزوں کے بغیر نہ کسی صاحبِ سیاست کا تصور دوسرے لوگ کرتے اور نہ کوئی صاحبِ سیاست ان لوازم سے الگ خود اپنا کوئی تصور کرتا، لیکن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے بھی دُنیا کے تمام اہلِ سیاست سے الگ رہے۔ جب آپؐ اپنے صحابہؓ میں چلتے تو کوشش فرماتے کہ سب کے پیچھے چلیں، مجلس میں تشریف رکھتے تو اس طرح گھل مل کر بیٹھتے کہ یہ امتیاز کرنا مشکل ہوتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ کھانا کھانے کے لیے بیٹھتے تو دوزانو ہوکر بیٹھتے اور فرماتے کہ میں اپنے رب کا غلام ہوں اور جس طرح ایک غلام کھانا کھاتا ہے، اس طرح مَیں بھی کھانا کھاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک بدو اپنے اس تصور کی بنا پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اُس کے ذہن میں رہا ہوگا، سامنے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کانپ گیا۔ آپؐ نے اُس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ڈرو نہیں، میری ماں بھی سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی، یعنی جس طرح تم نے اپنی ماں کو بدویانہ زندگی میں سوکھا گوشت کھاتے دیکھا ہوگا، اس طرح کا سوکھا گوشت کھانے والی ایک ماں کا بیٹا مَیں بھی ہوں۔ نہ آپؐ کے لیے کوئی خاص سواری تھی، نہ کوئی خاص قصر و ایوان تھا، نہ کوئی خاص باڈی گارڈ تھا۔ آپؐ جو لباس دن میں پہنتے، اس میں شب میں استراحت فرماتے اور صبح کو وہی لباس پہنے ہوئے ملکی اور غیرملکی وفود اور سفرا سے مسجد نبویؐ کے فرش پر ملاقاتیں فرماتے اور تمام اہم سیاسی امور کے فیصلے فرماتے۔
یہ خیال نہ فرمایئے کہ اُس زمانے کی بدویانہ زندگی میں سیاست اس طمطراق اور ٹھاٹ باٹ سے آشنا نہیں ہوئی تھی، جس طمطراق اور جس ٹھاٹ باٹ کی وہ اب عادی ہوگئی ہے۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ سیاست اور اہلِ سیاست کی تو آشا ہی ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔ فرق اگر ہوا ہے تو محض بعض ظاہری باتوں میں ہوا ہے۔ البتہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئے طرز کی سیاسی زندگی کا نمونہ دنیا کے سامنے رکھا، جس میں دنیوی کرّوفر کے بجائے خلافتِ الٰہی کا جلال اور ظاہری ٹھاٹ باٹ کی جگہ خدمت اور محبت کا جمال تھا، لیکن اس سادگی اور اس فقر و درویشی کے باوجود اس کے دبدبے اور اس کے شکوہ کا یہ عالم تھا کہ روم و شام کے بادشاہوں پر اس کے تصور سے لرزہ طاری ہوتا تھا۔
اہل اور تربیت یافتہ رفقا کی تیاری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا ایک اور پہلو بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ آپؐ نے اپنی حیاتِ مبارک ہی میں ایسے لوگوں کی ایک بہت بڑی جماعت بھی تربیت کرکے تیار کردی جو آپؐ کے پیدا کردہ انقلاب کو اس کے اصلی مزاج کے مطابق آگے بڑھانے، اس کو مستحکم کرنے اور اجتماعی و سیاسی زندگی میں اس کے تمام مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لیے پوری طرح اہل تھے۔ چنانچہ اس تاریخی حقیقت سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس انقلاب نے عرب سے نکل کر آس پاس کے دوسرے ممالک میں قدم رکھ دیا اور دیکھتے دیکھتے اس کرۂ ارض کے تین براعظموں میں اس نے اپنی جڑیں جمالیں اور اس کی اس وسعت کے باوجود اس کی قیادت کے لیے موزوں اشخاص و رجال کی کمی نہیں محسوس ہوئی۔ میں نے جن تین براعظموں کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کے متعلق یہ حقیقت بھی ہرشخص جانتا ہے کہ ان کے اندر وحشی قبائل آباد نہیں تھے بلکہ وقت کی جبار و قہار سلطنتیں نہایت ترقی یافتہ تھیں، لیکن اسلامی انقلاب کی فوجوں نے جزیرۂ عرب سے اٹھ کر اُن کو اُن کی جڑوں سے اس طرح اکھاڑ پھینکا گویا زمین میں اُن کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی اور اُن کے ظلم و جَور کی جگہ ہرگوشے میں اسلامی تہذیب و تمدن کی برکتیں پھیلا دیں جن سے دنیا صدیوں تک متمتع ہوتی رہی۔
دنیا کے تمام مدبرین اور اہلِ سیاست کی پوری فہرست پر نگاہ ڈال کر غور کیجیے کہ ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر آتا ہے جس نے اپنے دوچار ساتھی بھی ایسے بنانے میں کامیابی حاصل کی ہو جو اس کے فکر و فلسفہ اور اس کی سیاست کے ان معنوں میں عالم اور عامل رہے ہوں، جن معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے عالم و عامل ہزاروں صحابہؓ تھے۔
نبیِ خاتمؐ اور پیغمبر عالمؐ
آخر میں ایک بات بطور تنبیہ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصلی مرتبہ اور مقام یہ ہے کہ آپؐ نبیِ خاتمؐ اور پیغمبرِعالمؐ ہیں۔ سیاست اور تدبر اس مرتبۂ بلند کا ایک ادنیٰ شعبہ ہے۔ جس طرح ایک حکمران کی زندگی پر ایک تحصیل دار کی زندگی کے زاویے سے غور کرنا ایک بالکل ناموزوں بات ہے، اس سے زیادہ ناموزوں بات شاید یہ ہے کہ ہم سیّدکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ایک ماہرِ سیاست یا ایک مدبر کی زندگی کی حیثیت سے غور کریں۔
نبوت و رسالت ایک عظیم عطیۂ الٰہی ہے۔ جب یہ عطیہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو بخشتا ہے تو وہ سب کچھ اس کو بخش دیتا ہے، جو اس دنیا میں بخشا جاسکتا ہے۔ پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ خاتم الانبیاؐ تھے۔ صرف رسول ہی نہیں تھے بلکہ سیّدالمرسلؐ تھے۔ صرف اہلِ عرب ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور آپؐ کی تعلیم و ہدایت صرف کسی خاص مدت تک ہی کے لیے نہیں تھی بلکہ ہمیشہ باقی رہنے والی تھی۔ اور یہ بھی ہرشخص جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی دینِ رہبانیت کے داعی بن کر نہیں آئے، بلکہ ایک ایسے دین کے داعی تھے جو روح اور جسم دونوں پر حاوی اور دنیا و آخرت دونوں کی حسنات کا ضامن تھا، جس میں عبادت کے ساتھ سیاست اور درویشی کے ساتھ حکمرانی کا جوڑ محض اتفاق سے نہیں پیدا ہوگیا تھا بلکہ یہ عین اس کی فطرت کا تقاضا تھا۔ جب صورتِ حال یہ ہے تو ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سیاست دان اور مدبر اور کون ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ چیز آپؐ کا اصلی کمال نہیں بلکہ جیسا کہ مَیں نے عرض کیا آپؐ کے فضائل و کمالات کا محض ایک ادنیٰ شعبہ ہے۔

اتباع رسول ص ۔۔۔ ایمان کی اساس اور بنیاد


سلام اس پر جو دنیا کے لیے رحمت ہی رحمت ہے


Sunday, 27 November 2016

افتخار اسلام

افتخار اسلام

رضا الدین صدیقی


حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے زمانہ جاہلیت ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت تھی ۔میں نے اگرچہ ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن آپ سے دلی محبت رکھتا تھا۔ آپ ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لے گئے مجھے اس دوران میں یمن جانے کاموقع ملا۔ وہاں بازار میں حمیر کے امیر ذی یزن کا جوڑا پچاس درھم میں بک رہا تھا۔اس نے اسے اس نیت سے خرید لیا کہ میں اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔ میں وہ جوڑا لے کرمدینہ طیبہ حاضر ہوا اوراسے آپ کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا لیکن آپ نے اسے قبول نہیں فرمایا،میںنے بہت کوشش کی لیکن آپ رضامند نہ ہوئے اورارشادفرمایا :ہم مشرکوں سے کچھ نہیں لیتے ۔البتہ آپ نے فرمایا :ہاں اگر تم اس کی قیمت وصول کرلو تو ہم اسے خرید لیتے ہیں چنانچہ میںنے قیمت لے کر وہ جوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودے دیا۔ پھر میں نے ایک دن دیکھا کہ آپ نے وہ جوڑا زیب تن فرمالیا ہے۔اورمنبر پر فروکش ہیں۔آپ اس جوڑے میں اس قدر حسین نظر آرہے تھے کہ میں نے کبھی کوئی شخص اتنا حسین نہیں دیکھا ۔آپ یوں لگ رہے تھے جیسے چودھویں کا چاند۔آپ کودیکھتے ہی بے ساختہ یہ اشعار میری زباں پر جاری ہوگئے۔”جب ایک روشن اورچمک دارایسی منور ہستی ظاہر ہوگئی ہے۔جس کا چہرہ،ہاتھ ،پاﺅںسبھی درخشاں ہیں تواب اس کے بعد حکام،حکم دیتے ہوئے سوچیں گے۔
(یعنی اب آپ کا سکہ چلے گا نہ کہ دوسرے حاکموں اورسرداروں کا)“”جب یہ حکام بزرگی اورشرافت میں ان کا مقابلہ کریں گے تو یہ اُن سے بڑھ جائیں گے۔کیونکہ ان پر یہ مجدوشرافت اس کثرت سے بہائی گئی ہے ۔جیسے کسی پر پانی سے بھرے ہوئے بڑے بڑے ڈول ڈالے گئے ہوں۔ “حضور علیہ الصلوٰة والتسلیم یہ اشعار سن کرمسکرانے لگے۔ پھر آپ نے وہ جوڑا (آزاد کردہ غلام کے بیٹے) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو عطاءفرمادیا۔جب میںنے اسامہ کو وہ لباس پہنے ہوئے دیکھا توانھیں کہا اے اسامہ (تمہیں خبر ہے)تم نے ذی یزن (بادشاہ)کا جوڑا پہن رکھا ہے۔انھوں نے بڑی رسان سے کہا میں ذی یزن سے بہتر ہوں میرا باپ اسکے باپ سے اورمیری ماں اسکی ماں سے بہترہے۔ جب میں مکہ واپس آیا تووہاں کے لوگوں کو اسامہ بن زید کی بات سنائی وہ ایک آزاد کردہ غلام کے فرزند کے اپنے دین پر ناز اورافتخار سے بڑے حیران ہوئے۔(طبرانی ،حاکم)

Monday, 21 November 2016

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیف سیرت سرور عالم ایک مطالعہ

*  ڈاکٹر احسان اللہ فہد
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیف
سیرت سرور عالم ایک مطالعہ
اردو سیرت نگاری بڑی حدتک علامہ شبلی نعمانیؒ(۱۸۵۷ء۔۱۹۱۴ء) اوران کے شاگرد رشید سید سلیمان ندویؒ (۱۸۸۴ء۔ ۱۹۵۳ء) کی مرہون منت ہے ۔ جدید اردو سیرت نگاروں نے کسی حدتک انہی دونوں ائمہ کی پیروی کی ہے ۔ ان میں سے بیش تر نے علامہ شبلی نعمانیؒ اور سید سلیمان ندویؒ کے مواد منہج کو اپنے الفاظ میں پیش کردیا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ء۔ ۱۹۷۸ء) ان سیرت نگاروں میں اس حیثیت سے ممتاز ومنفرد ہیں کہ انہوںنے نقش شبلی اوررنگ سلیمانی سے اکتساب توکیا مگر اپنے علم ومطالعہ ، فہم وذکا، نقد وتبصرہ ،تجزیہ کی جدید تکنیک اورتنقیح واستدراک کا قدیم طرزاپنا کر اپنی دل کش اورخوبصورت تحریر کے ذریعہ ’’سیرت سرور عالم‘‘ کو انفرادیت بھی عطا کی۔
’’سیرت سرور عالم‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے بلکہ وہ ان کی تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور دوسری تحریروں میں بکھرے ہوئے مواد سیرت پر مشتمل ایک مجموعہ ہے ، جس کو مولانا نعیم صدیقیؒ (۱۹۱۶ء۔ ۲۰۰۲ء) اورمولانا عبدالوکیل علوی نے نگارشات مودودی کے عظیم ووسیع ذخیرے سے مرتب کیا ہے ۔ نعیم صدیقی’’سیرت سرور عالم‘‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں :
’’اس کتاب کواس طرز پر مرتب کیا گیا ہے کہ جناب موصوف کے مقالات اورمختلف عبارات کو مختلف عنوانات کے تحت ایسی شکل سے ترتیب دیا جائے کہ مضمون پوری طرح مربوط ہو اورضروری معلومات مناسب ترتیب کے ساتھ سامنے آتی جائیں۔ تھوڑے سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاںمرتبین کواپنی طرف سے یا کسی کتاب سے اخذ کرکے کوئی زائد عبارت شامل کرنی پڑی۔ (اس کا حوالہ بھی دےدیا گیا ) حواشی دو قسم کے ہیں: ایک وہ جومحترم مولف کی اپنی ہی تحریروں پر مشتمل ہیں اور دوسرے وہ ہیں جومرتبین کی طرف سے لکھے گئے ہیں ۔ ان دونوں صورتوں کوالگ الگ واضح کردیا گیا ہے ۔ خود مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ہمارے کئے ہوئے کام کو پڑھ ڈالا اورمختلف مقامات پر ترامیم بھی کیں۔‘‘(۱)
سیرت سرور عالم کے مواد کوبنیادی طور سے دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ کتاب کا ایک حصہ اصولی مباحث سے متعلق ہے اوراصولی مباحث کا تعلق سیرت نگاری سے نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ اس کی بحثیں اسلامی فکر وفلسفہ کے ذیل میں آتی ہیں۔ ان اصولی مباحث کے سیرت سرور عالم کوبہتر طور سے سمجھنے اورفہم واستدراک پیدا کرنے میں مدد تو ملتی ہے مگر وہ سیرت نبوی کے دائرے سے بہر حال باہر ہیں ۔ اسی لئے مشہور تجزیہ نگار ڈاکٹر انور محمود خالد نے لکھاہے:
’’سیرت سرور عالم کی جلد اول حقیقی معنوں میں سیرت کی کتاب نہیں بنتی۔‘‘ (۲)
سیرت سرور عالم کی جلد دوم بھی مکمل سیرت نبوی پر مشتمل نہیں ہے اس میں بھی چند ابواب اصولی مباحث سے متعلق ہیں لیکن زیادہ تر ابواب خالصتاً سیر ت نبوی سے متعلق ہیں ۔ مثال کے طور پر باب دوم، سوم ، چہارم ، ہفتم، ہشتم، نہم، دہم، یازدہم، دوازدہم ، سیزدہم ، چہاردہم اور پنج دہم وغیرہ ابواب خالص سیرت نبوی پر محیط ہیں ۔ اس جلد کے دو ابواب پنجم وششم دعوت حق کی ہدایات الٰہی اور دعوت اسلامی کی حقیقی نوعیت پر مشتمل ہیں اورکل ۷۶۳ صفحات میں سے نصف سے زائد کو محیط ہیں ۔ اصل کتاب سیرت صرف نصف حصے پر مشتمل ہے۔
مآخذ ومصادر:
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے سیرت سرور عالم میں قدیم اور بنیادی مصادر سے مواد لینے کے ساتھ ثانوی اورجدید مآخذ سے بھی استفادہ کیا ہے ۔ لیکن ہم عصر سیرت نگاروں کی تحریروں سے استفادہ کی کوشش نہیں کی ہے ۔ سید مودودیؒ کے یہاں بنیادی مآخذ میں اولیت قرآن کریم کی آیات کوحاصل ہے۔ جن واقعات ونظریات کا حوالہ قرآن پاک میں موجود ہےان تمام واقعات یا ان میں بیش تر متعلقہ آیات کریمہ کووہ متعلقہ باب میں جمع کردیتےہیں ۔ دوسرے درجے میں الجامع الصحیح للبخاری اور الجامع الصحیح للمسلم ا وردوسری کتب حدیث کی روایات سے استفادہ کرتے ہیں۔ قدیم ترین اوربنیادی کتب سیرت تو لازمی طور سے ان مآخذ میں شامل ہوتی ہیں ۔ ان کے علاوہ بہت سی جدید اورثانوی کتب سیرت سے بھی ر وایات نقل کرتے ہیں ۔ مولانا مودودیؒ نے سابقہ کتبِ آسمانی توریت، زبور، انجیل وغیرہ سے بھی روایات واقتباسات لئے ہیں۔
بحیریٰ راہب کے قصے میں ترمذی، بیہقی کے دلائل ، ابن عساکر ، حاکم ، ابونعیم ا ورابن ابی شیبہ کی روایات کے علاوہ ابوسعید نیسا پوری کی شرف المصطفیٰ کے حوالے سے اصابہ اورذہبی کی تجرید الصحابہ کی روایات موجود ہیں۔(۳)
’’قریش کے تمام خاندانوں کودعوت‘‘ کی مختصر فصل بخاری ، مسلم، مسند احمد، ترمذی، نسائی اور تفسیر ابن جریر کی روایات واحادیث پر مبنی ہیں ۔(۴)
سیرت سرور عالم کے تمام ابواب میں کثرت مآخذ کا ثبوت ملتا ہے ۔ جدید اردو سیرت نگاروں میں مولانا مودودیؒ مآخذ کی جامعیت کے اعتبار سے سر فہرست نظر آتے ہیں ۔ شاید ہی کسی سیرت نگار نے ان کی طرح دستیاب مآخذ سے استفادہ کیا ہو۔
مواد کی جامعیت:
سیرت نگار کی حیثیت سے مولانا مودودیؒ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ متعدد مآخذ سے بکثرت روایات لیتے ہیں اور پھران کی بنیاد پر ایک جامع، ہمہ گیر اورکامل بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر حضرت خدیجہ سے نکاح کے بعد بالعموم سیرت نگار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد امجاد کاتذکرہ نہیں کرتے لیکن مولانا مودودیؒ نے حضرت خدیجہؓ کے بطن سے آپ کے دو فرزندوں حضرت قاسمؓ اورحضرت عبداللہ ؓ اور چار صاحب زادیوں حضرت زینب ؓ، حضرت رقیہ ؓ، حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ کا ذکر ایک جامع انداز میں کیا ہے اوران کے اولاد نبوی ہونے پر بحث کی ہے اس کے بعد ازدواجی زندگی اورخوش حالی کا دور اور آپؐ کے اخلاقی فضائل کے نمایاں ہونے پر گفتگو کی ہے ۔ ان میں حضرت خدیجہؓ کے ساتھ پچیس سالہ رفاقت کا جامع تجزیہ کیا ہے اور تعدد ازدواج پر ایک علمی گفتگو بھی کی ہے ۔ دوسری فصل کے حوالے سے آپ کی معاشرتی زندگی کا عمدہ اورجامع نقشہ پیش کیا ہے ۔(۵)
دعوت عام کے باب میں مولانا مودودیؒ نے دوسرے سیرت نگاروں کے روایتی طریقے سے ہٹ کر مختلف مباحث کو پیش کیا ہے اوران کوایک تاریخی اور منطقی ترتیب کے ساتھ اس طرح پرودیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے وابستہ وپیوستہ نظر آتے ہیں ۔ نماز اعلانیہ کے ذریعے اظہار اسلام ، قریب ترین اعزہ کودعوت اور قریش کی دعوت عام کو اسی سے وابستہ کیا ہے ۔ اسلام اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابولہب ہاشمی کا کردار ، عداوت اورکرتوتوں کا اتنا جامع ومدلل اورمفصل بیان دوسری کسی کتاب سیرت میں نہیںملتا۔ تبلیغ عام کی بحث بھی جامع و مدلل اورمفصل ہے اوروہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغی مساعی اور صحابہ کی جاں فشانی کا عمدہ تذکرہ پیش کرتی ہے ۔(۶)
مولانا مودودیؒ کی سیرت نگاری کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ متعدد مآخذ سے بکثرت روایات جمع کرنے کے بعد ان روایات سے حاصل شدہ نتیجہ اور فکر بھی پیش کرتے ہیں مثال کے طور پر شق صدر کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اپنے مختصر حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’واضح رہے کہ یہ شق صدر کا واقعہ اسرا رالٰہی میں سے ہے جس کی کنہ کو انسان نہیں پہنچ سکتا۔ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایسے عجیب واقعات بے شمار پیش آئے جن کی کوئی توجیہہ نہیں کی جاسکتی ، لیکن توجیہہ کا ممکن نہ ہونا اس کے لئے کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ ان کا انکار کردیا جائے ۔‘‘ (۷)
روایات کا محاکمہ:
سیرت سرور عالم کی یہ خصوصیت بھی نمایاں طور پر واضح ہےکہ مولانا مودودیؒ نے سیرت کی مختلف اورمتصادم روایات کا موازنہ اورمقابلہ کرکے صحیح روایت کو ترجیحی بنیاد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ وصف سیرت سرور عالم کے تقریباً تمام ابواب میں جا بجا پایا جاتا ہے ۔ کعبہ کی مرکزیت اورحضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ کی اس سے وابستگی اورذبح اسماعیل کے اثبات پر آپ کی بحثیں اس کی مثال ہیں ۔ دونوں عظیم انبیاء کے ضمن میںانہوں نے یہودی اورمسیحی روایات پر محاکمہ کرکے ان میں سے بیش تر کو غلط ثابت کیا ہے اورقرآن وحدیث اورعربی روایات کی بنیاد پر حضرت اسماعیلؑ کے ذبیح ہونے کواصل واقعہ قرار دیا ہے ۔ ان مسلمان علماء ومفسرین پر جو حضرت اسحاقؑکے ذبیح ہونے کے قائل ہیں مولانا مودودیؒ کا تجزیہ قابل تعریف ہے ۔(۸)
اسی طرح تاریخ نزولِ قرآن کے بارے میں معتبر احادیث کے عنوان سے مختلف کتب  احادیث سے روایات نقل کی گئی ہیں ۔ قرآن مجید کا واضح بیان ہے کہ اس کے نزول کا سلسلہ لیلۃ القدر میں شروع ہوا ۔ نزول قرآن کی پہلی رات تو لیلۃ القدر تھی مگروہ رمضان کی کون سی رات تھی اس پرروایات کا اختلا ف ہے ۔ اس میں۲۷؍ویں شب کی روایات زیادہ ہیں اورمتعدد روایات میں۲۱؍ویں ، ۲۵؍و یں، ۲۷؍  ویں اور ۲۹؍ویں شب کے لیلۃ القدر ہونے کا امکان بتایا گیا ہے ۔ مولانا مودودیؒ نے روایات پر محاکمہ کرکے واضح کیا ہے کہ ۲۷؍ویں رات ہی لیلۃ القدر ہوتی ہے، کیوں کہ علمائے سلف کی بڑی تعداد یہی سمجھتی ہے ۔
نقدواستدراک
سیرت سرور عالم کا بنیادی اور عظیم ترین وصف مولانا مودودیؒ کا مختلف روایات ومرویات پر نقد و استدراک ہے ۔ سیرت نبوی کے پس منظر میں اولین نقد واستدراک کا عمدہ ترین نمونہ حضرت ابراہیمؑ وحضرت اسماعیلؑ کے حوالےسے بائبل کی ان روایات وبیانات میں نظر آتا ہے جویہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ کی شادی ان کی اپنی سگی بھتیجی سے ہوئی تھی اوران کا باپ آزر ان کے ساتھ ہجرت میں شریک تھا ۔(۱۰)
تاریخی واقعات میں حضرت عائشہؓ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح پر مولانا مودودیؒ کا نقد واستدراک آب وتاب سے نظر آتا ہے ۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات صرف اس صورت میں پیدا ہوتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت عائشہؓ کے نکاح کو ایک عام مرد اورایک عام لڑکی کا نکاح سمجھ لیا جائے حالانکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تھے جن کے سپرد انسانی زندگی میں ایک ہمہ گیر انقلاب برپاکرنا اورمعاشرے کواس انقلاب کے لیے تیار کرنا تھا اور حضرت عائشہؓ ایک غیر معمولی قسم کی لڑکی تھیں جنہیں اپنی عظیم ذہنی صلاحیتوں کی بنا پر اس انقلابی معاشرے کی تعمیر میں حضورؐ کے ساتھ مل کر اتنا بڑا کام کرنا تھا جتنا دوسری تمام ازدواج مطہرات سمیت اس وقت کی کسی عورت نے نہیں کیا ۔ اسے مبالغہ پر محمول نہیں کیا جانا چاہیے کہ دنیا کے کسی رہنما کی بیوی اپنے شوہر کے کام کی تکمیل میں ایسی زبردست مددگار نہیں بنی جیسی حضرت عائشہؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد گار ثابت ہوئیں ۔(۱۱) اس کے بعد مولانا مودودیؒ نے ایک ایک اعتراض کا جواب دیا ہے اورناقدین پر ان کا نقد لوٹا دیا ہے ۔
زبان وبیان:
سیرت سرور عالم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مصنف کی زبان نہایت شیریں سلیس ، فصیح وبلیغ ، سادہ اوردل چھولینے والی ہے ۔ اس خوبی نے سیرت سرور عالم کودوسری کتب سیرت کے مقابلے میں ممتاز کردیا ہے اوراس پر کشش ، دل پذیر اورمعنیٰ آفریں زبان نے ایک مخصوص طرز تحریر اورمعیاری اسلوب کا روپ دھارا ہے اوربجا طور پر اسے مودودی اسلوب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس اسلوب پر تبصرہ کرتے ہوئے کرنل محمد خاں لکھتے ہیں:
’’برصغیر میں بے شمار اچھی نثر لکھنےوالے ہیں اس ضمن میںہر قاری کی اپنی پسند ہے ۔ میرے پسندیدہ نثرنگار دو۲ ہیں۔ مولانا مودودیؒ مرحوم اورسید ضمیر جعفری ۔ دونوں کے موضوع مختلف ہیں۔ مولانا کا دین اورضمیر کا نیا اورہر دونے بالترتیب دین ودنیا کواس قدر حسین ودل نشین نثر میں پیش کیا ہے کہ جی چا ہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے دیگر اعمال صالح کے علاوہ ایسی لازوال اردو نثر لکھنے کا اجر دے ۔‘‘ (۱۲)
کتاب سیرت میں دین ودنیا سے زیادہ اس ذات گرامی سے ربط خاص ہوتا ہے جوہر مسلمان کے دل میں خون حیات افزا کی مانندرواں دواں رہتا ہے ۔ قدم قدم پر محبت وعقیدت سے آپؐ کے اعلیٰ مقام ومرتبہ کا خیال رکھنا ہر مصنف کے لئے ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ زبان میں جمال اور بیان میں کمال پیدا ہوتا ہے ۔ مولانا مودودیؒ اپنی نثر میں زبان  و  اسلوب کے تمام تر معیار پر کھرے اترتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ولادت نبوی کی تمہید مولانا مودودیؒ یوں حوالۂ ناظرین کرتے ہیں:
’’آخر کار وہ وقت آپہنچا جس کے لیے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی ذریت کے ایک حصے کو مکے کی بے آب وگیاہ وادی میں لا کربسایا تھا اورجس کے لئے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت انہوں نے اوران کے صاحب زادے حضرت اسماعیلؑ نے دعا مانگی تھی :
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ(البقرہ:۱۲۹)
’’اے ہمارے رب! اورتو ان لوگوں میں خودانہی کی قوم سے ایسا رسول اُٹھائیوجوانہیں تیری آیات سنائے ۔ ان کوکتاب وحکمت کی تعلیم دے اوران کی زندگیاں سنوارے۔‘‘(۱۳)
سیرت سرور عالم کا مطالعہ کسی بھی زاویہ سے کیا جائے تواس میں نہ تو الفاظ و تراکیب کی غرابت ملتی ہے اورنہ ثقیل عربی تعبیرات کی ثقالت۔ پوری کتاب خالص اردو نثر کی منفرد کتاب ہے اوریہی بات کتاب کے ساتھ ساتھ صاحب کتاب کوبھی مؤقر ومحترم بنادیتی ہے۔
حوالہ جات
(۱) نعیم صدیقی، دیباچہ سیرت سرور عالم ، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۱۹۸۹ء ، ج ۱ ، ص ۱۲۔۱۱
(۲) ڈاکٹر انور خالد محمود، اردو نثر میں سیرت رسول، اقبال اکادمی ، لاہور پاکستان ۱۹۸۹ء ، ص ۷۳۶
(۳) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، سیرت سرور عالم ، مرکزی مکتبہ اسلامی ، دہلی ۱۹۸۹ء ، ج ۲ ، ص ۱۰۶
(۴) نفس مصدر، ص ۴۹۶                           (۵) نفس مصدر ، ص ۱۱۴۔ ۱۱۹
(۶) نفس مصدر،ص ۴۹۳۔۵۰۴                (۷) نفس مصدر ،  ص ۹۷ حاشیہ :۱
(۸) نفس مصدر، ص ۴۹۔۷۳                     (۹) نفس مصدر، ص ۱۴۲
(۱۰) نفس مصدر، ص ۵۱                            (۱۱) نفس مصدر، ص ۶۳۰
(۱۲) کرنل محمد خاں، (دیباچہ ) اڑتے خاکے ، سید ضمیر جعفری، ایک کارنر جہلم، ۱۹۸۵ء ، ص ۱۴۔۱۵
(۱۳) مولانا سید ابوالاعلیٰ مود ودی ، سیرت سرور عالم، حوالہ بالا ، ج ۲ ، ص ۹۳)