Search This Blog

Showing posts with label LITRARY ARTICLES. Show all posts
Showing posts with label LITRARY ARTICLES. Show all posts

Friday, 27 April 2018

نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات


نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات
ناصر عباس نیّر

ہرزہ سرائی سے مراد محض دیگر اصناف شعر نہیں، جن کی اہمیت شاعر کی نظر میں کم ہوجاتی ہے،بلکہ نعت کہنے والی زبان، مختلف نقطہ ء نظر ، مختلف مذہب ومسلک کے حامل لوگوں کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرنے سے ابا کرتی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تمام طرح کے سماجی فساد ہرزہ سرائی سے شروع ہوتے ہیں۔اس بات پر باردگر زور دینے کی ضرورت ہے کہ عقیدت چوں کہ اس زبان کے ذریعے ثقافت کا حصہ بنتی ہے،جسے سب مذاہب کے لوگ ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں، اس لیے عقیدت سے تشکیل پذیر ہونے والی نشانیات ہندئوں ، سکھوں اور وسرے مذاہب کے شعرا کو بھی نعت لکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ان کی نعتیں ،پیمبر اعظم ﷺ کی ذات کی بے غرضانہ مدحت کے ساتھ ساتھ ، یہ امر بھی باور کراتی ہیں کہ سچائی،اپنے لیے عقیدت مند خود پیدا کرلیتی ہیں،اور یہ عقیدت مند سماجی ہم آہنگی کی قابل قدر علامت ہوتے ہیں۔
عشق کا جذبہ ،عقیدت کا مقابل نہیں ،مگر عقیدت سے کہیں زیادہ گہرا ہے ۔عقیدت میں رسمیت ہوسکتی ہے ،مگر عشق میں نہیں؛عقیدت میں ایک طرح کی اجتماعیت ہے ،مگر عشق انفرادی ،داخلی ،موضوعی ہے۔اگر عقیدت کے تحت لکھی گئی نعت ایک ثقافتی کردار اداکرتی ہے ،تو عشق ِ نبی ﷺ میں لکھی گئی نعتیں ،روحانی رفعت اور نفسیاتی قلبِ ماہیت ممکن بنانے کا غیر معمولی امکان رکھتی ہیں۔تاہم ایک فرد کی روحانی رفعت کبھی اس شخص کی ذات تک محدود نہیں رہتی؛چراغ کی مانند اس کی لو،ارد گرد کے افراد کی روحوں میں چھائی تاریکی کو مٹاتی ہے ،کبھی روحانی رفعت پانے والے کے عمل کے ذریعے، کبھی اس کے قول و گفتگو کے وسیلے سے ،اور کبھی سماج میں اس کی خاموش شرکت سے۔ واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جہاں عقیدت ہو،وہاں عشق بھی موجود ہو،مگر جہاں عشق ہوگا،وہاں عقیدت لازماً ہوگی۔دوسرے لفظوں میںکہا جاسکتا ہے کہ عشق،عقیدت کی انتہا بن سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں عشق بے بصر نہیں ہوتا؛ اس میں بھی سچائی پر یقین موجود ہوتا ہے۔عشق ِ نبی ﷺ ان عظیم صداقتوں پر اعتقاد کا حامل ہوتا ہے ،جن کا علم مستندمذہبی متون(تحریری وزبانی) کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
عشق نبی ﷺ کئی ایسی خصوصیات رکھتا ہے ،جو محض اسی سے مخصوص ہیں۔چوں کہ اس کی بنیاد میں عقیدت شامل ہوتی ہے، یعنی ’باخدا دیوانہ باش و بامحمد ﷺ ہوشیار‘ کی کیفیت ہوتی ہے، اس لیے اس کی وارفتگی اس بے تکلفی ، غیر رسمیت سے پاک ہوتی ہے ،جسے عام بشری عشق میں اختیار کیا جاتاہے۔ دوسرے لفظوں میں عشق نبیﷺ کی وارفتگی و دیوانگی در اصل ایک ایسی مقدس تجرید ،ایک مابعد الطبیعیاتی مگر عظیم الشان تصوریت کو مرکز بناتی ہے، جسے پورے طور پر انسانی ذہن گرفت میں لینے سے قاصر ہوتا ہے۔ یوں عاشق کے لیے ایک پیراڈاکسیائی صورتِ حال ہوتی ہے۔اس صورت ِ حال کا ایک رخ یہ ہے کہ اس تجرید کو اس الوہیت سے جدا رکھنا ہوتا ہے جو صرف خدا سے مخصوص ہے۔بہت سوں کے لیے یہ محال رہا ہے،اور اس کی وجہ لاعلمی کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی بشری بے بضاعتی بھی ہے ،جو عشق کے وفور میں اس نازک ترین فرق کو بھول جاتی ہے جو الوہیت ورسالت میں ہے۔یوں بھی عشق میں خود کو ہوشیار رکھنا آسان نہیں،لیکن عشق نبیﷺ میں ہوشیاری اور احتیاط لازمی شرائط ٹھہرتی ہیں،اور عشقِ نبی ﷺ کے سفر کو کڑا اور آزمائشوں بھرا بناتی ہیں۔اس کڑے سفر میں دعا سب سے اہم وسیلہ ہوتی ہے۔ احمد جاوید کا یہ شعر اسی طرف دھیان منتقل کراتاہے:
کا ش اس بات سے محفوظ رہیںیہ لب وگوش
جو مرے سید وسردار نے فرمائی نہیں
گویا بندے بشر کی استطاعت میں نہیں کہ وہ عشق میں ہوشیاری واحتیاط کا دامن تھامے رکھے، اس لیے وہ دعا کا سہارا لینے پر مجبور ہوتا ہے۔لیکن دعاایک بار پھر اسے اس مقدس تجرید کی طرف لے جاتی ہے۔ عشق نبی ﷺ کی پیراڈاکسیائی صورت حال کا ایک اور رخ یہ ہے کہ ایک طرف وہ عشق کا سچا، گہرا جذبہ محسوس کرتا ہے ،مگر اپنے محبوب کا تصور ایک مقدس تجرید کے طور پر کرتا ہے؛پیرا ڈاکس یہ ہے کہ جذبہ سامنے، حقیقی طور پر حسی وجود پر مرتکز ہونے کے بجائے ،تصوریت سے وابستہ ہوتا ہے۔اسی پیراڈاکس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ عاشقِ رسول ﷺکو ایک طرف اپنی خاکی نہاد کا منکسرانہ احساس ہوتا ہے ،اور دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مابعد الطبیعی تصوریت پر اپنی تمام حسی وذہنی صلاحیتوں کو مرکوز کرتا ہے،مگر یہی پیراڈاکسیائی صورتِ حال اس کے عشق کو ایک عجب ذائقہ ،ایک انوکھی بلندی، اور اس کے دل میں نئی آرزوئیں پیدا کرتی ہے۔ عاشق اپنی خاکی نہادکا منکسرانہ احساس تو رکھتا ہے ،مگر اسے حقیر،بے معنی ،بے مصرف و بے مقصد نہیں سمجھتا؛جو خاکی وجود ،ایک عظیم الشان تجرید کا تصور کرسکتا ہے ،وہ کیوں کر حقیر ہوسکتاہے؟یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں نعت سمیت دوسری مذہبی شاعری ،جدید شاعری سے ایک الگ راستہ اختیار کرتی ہے ۔جدید شاعری میں اپنے حقیر ہونے ، وجود کے لغو ہونے ،نفس میں موجو دتاریکیوں کو انسانی تقدیر سمجھ کر قبول کرنے کا رویہ موجود ہوتا ہے ۔(جدید شاعری ،اس حقیقت کو قبول کرکے در اصل اس کی ملکیت کا احساس پیدا کرتی ہے )۔جدید شاعری میں منفی قلب ِ ماہیت (آدمی کا کیڑا ،مکھی ،بھیڑیابن جانا)کا موضوع بھی تقریباً اسی راہ سے آیا ہے ،مگر نعتیہ شاعری میں انکسار ہوسکتا ہے ، حقیر ہونے کا احسا س ہرگز نہیں ۔نعت میں نفس کی تاریکی کا ادراک ظاہر ہوسکتا ہے ،مگر اسے انسانی تقدیر نہیں تصور کیا جاتا،اسے ایک عارضی صورت حال تصور کرکے ،اس سے نکلنے کا راستہ دکھایا جاتاہے۔ اگر نفس کی تاریکی کوانسانی تقدیر تصور کیا جائے تو یہ سیدھا سادہ مذہبی اعتقاد پر سخت تشکیک کا اظہار ہے۔نعت ، مذہبی حسیت کی حامل صنف ہونے کے ناطے،انسانی وجود کی تاریکیوں کو دور کرنے کا لازمی امکان بنتی ہے۔ حقیقی مذہبی حسیت ،لازماً رجائیت پسند ہوتی ہے ؛ وہ انسان کی حتمی صورتِ حال کا پرشکوہ رجائی تصور رکھتی ہے۔ بہ ہر کیف، خالد احمد کی نعت کا یہ شعر دیکھیے جس میں انکسار تو موجود ہے ، حقیرہونے کا احساس نہیں۔
زرگل ہوئی مری گرد بھی کہ ریاض عشق رسول ہوں
بڑی پاک خاک ہے یہ گلی، میں اسی کی دھول کا پھول ہوں
یوں عاشق کی بشریت ،اپنے اندر ایک غیر معمولی پن کا حقیقی روحانی تجربہ کرتی ہے۔غیر معمولی پن کا احساس ،محض تصوری اور نظری طور پر بھی ممکن ہے،مگر جب یہ عشق کی صورت اختیار کرتا ہے تو یہ تجربہ بن جاتا ہے،یعنی احساس، جذبے ،فکر ، تخیل ،عمل یعنی انسانی وجود کے سب پہلوئوں اور سب سطحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اس سے ایک طرف عاشق کی قلب ِ ماہیت ہوتی ہے،اس کے وجود کی تاریکی دور ہوتی ہے ،یا دور ہونے کا گہرا یقین پید اہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے دل میں نئی آرزوئیں جنم لیتی ہیں۔ نئی آرزوئیں بھی دراصل مذکورہ بالا پیراڈاکسیائی صورتِ حال سے پیدا ہوتی ہیں۔ عشق لازماً حسی ہدف چاہتاہے،لیکن یہاں ایک مقدس تجرید ہوتی ہے ، جسے تاریخ وسیرت ایک حسی سطح ضرور دیتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ذات اس درجہ وسیع اور تخیل کی حدوں سے ورا ہوتی ہے کہ اس کا قطعی متعین تصور ممکن نہیں ہوتا۔عشق ،حسی ہدف کی آرزو ترک نہیں کرسکتا، اور عشقِ نبی ﷺ میں یہ ممکن نہیں ہوتا تو اس کانتیجہ ان نئے ،عظیم الشان مقاصد کی آرزوئوں کی صورت میں نکلتاہے۔جو حقیقی، حسی ،مادی دنیا کو اپنا ہدف بناسکیں۔چوں کہ یہ عظیم آرزوئیں،عشق کا حاصل ہوتی ہیں،اس لیے وہ مادی دنیا کو جب ہدف بناتی ہیں تو اسے مسخ کرنے کے بجائے ، اس کی وسعتوں کو کھوجتی ہیں ،اوراس عمل کو خود اپنی ذات کی توسیع کی علامت تصور کرتی ہیں۔یوں ایک نئی ،بلند تر سطح کا رشتہ دنیا سے قائم ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
عالم بشریت کی زد میں آسمان ۔۔۔یعنی وہ بلند ترین مقام ،جسے انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،اور جس کے سبب،انسانی تخیل عظمت وبلندی کا تصور کرسکتا ہے۔۔۔کے ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی بساط کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ نبی ﷺکی معراج ،بشری دنیا کو یہ تحریک دیتی ہے کہ وہ خاک سے افلاک تک پہنچے۔یہی کچھ مقدس تجرید کے عشق میں ہوتا ہے۔
عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول ؐ
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسول ؐ
بیدم وارثی
میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا
(پیر نصیر الدین پیر(
مقد س تجرید کے عشق کی کیا کیفیت ہوتی ہے ،اسے جس طرح اقبال نے پیش کیا ہے ، اس کی کوئی دوسری مثال اردو شاعری میں نہیں ملتی۔اقبال کے یہاں عشق اس علامت کی طرح ہے ،جس میں اپنے معنی متعین کرنے کے خلاف باقاعدہ مزاحمت ہوتی ہے۔ وہ علامت ہونے کی بنا پر کئی معانی کی حامل ہوتی ہے ،مگر اس رمز کو بھی جانتی ہے کہ معنی کے تعین کی کوشش،در اصل اسے محدود کرنے کے عمل کاآغاز ثابت ہوتی ہے۔اقبال کے یہاں عشق کی علامت ، لامتناہی جستجو اوران تھک سفرکی محرک بنتی محسوس ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اقبال اس لامتناہی سفر کو ایک خیالی دنیا اور فنتاسی میں سفر میں نہیں بدلنے دینا چاہتے۔وہ عشق کی اس حسی، جذبی کیفیت کوقائم رکھنا چاہتے ہیں،جو انسانی دل میں حقیقی طور پر پیدا ہوتی ہے، اور جس کے ذریعے انسان خود اپنے بشری مرکز سے متصل رہتا ہے،اور اسی کو لامتناہی جستجو کا رخت سفر بنانا چاہتے ہیں،خود اپنی ذات میں ، تاریخ میں ، دنیا میں اور کائنات میں۔بہ قول اقبال :’عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک‘۔ اقبال نے عشق کا تصور واضح طور پر عشق رسول ﷺ سے لیا،اور اس پیراڈاکسیائی صورتِ حال کا حل بنا کر پیش کیا ،جس کا سامنا نبی ﷺ کی ذات کی مقدس تجرید کے عشق میں گرفتار ہونے سے ہوتا ہے۔یہ نظری حل نہیں۔ہوسکتا ہے نظری طور پر اسے واضح کرناہی محال ہو،لیکن اقبال بشری عالم کی اس انتہائی بنیادی خصوصیت سے واقف تھے کہ تمام عظیم کارنامے ، تمام بڑی تبدیلیاں ،تمام غیر معمولی فن پارے ان عظیم آرزوئوں سے جنم لیتے ہیں جو عشق کانتیجہ ہیں۔ عشق اور آرزو میںتعلق تو صدیوں سے معلوم بات ہے ،مگر اقبال نے دریافت کیا کہ عشق اور آزرو کی عظمت کا ایک ہی سرچشمہ ہے۔ اقبال کی شاہکار نظم’ مسجد قرطبہ ‘کے یہ اشعار ان معروضات کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے،جن میں عشق کی علامت ایک مخروطی صورت اختیار کرتی محسوس ہوتی ،اور جو تکمیل فن کا مظہر ہوتی ہے۔

مرد خد اکا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
تند وسبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصررواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیںجن کا نہیں کوئی نام
عشق دم جبریل ،عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کارسول ،عشق خدا کا کلام
عشق کے مضراب سے نغمہ ء تار حیات
عشق سے نورحیات، عشق سے نارحیات
آخر ی بات !اردو نعت کے موضوعات ،دیگر شعری اصناف کی طرح کبھی محدود نہیں رہے؛وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی ہے ۔نعت اسی طرح اپنے زمانے کی حسیت کو اپنی شعریات کا حصہ بناتی رہی ہے ،جس طرح دیگر شعری اصناف۔ کلاسیکی اردو شاعری کے عہد کی نعت کا اہم موضوع ،مدحت کے ساتھ ساتھ ،ثواب و مغفرت تھا، لیکن انیسویں صدی کے اواخرمیں نعت کے موضوعات میں تنوع پید اہونا شروع ہوا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نو آبادیاتی عہد میںجب مسلم قوم پرستی کا آغاز ہوا،اور جداگانہ مذہبی شناختوں پر اصرار بڑھا تو نعتیہ شاعری کے موضوعات بھی تبدیل ہونا شروع ہوئے۔شناختوں کو مسخ کرنے کی نو آبادیاتی سیاست ،اور یورپ کے کبیری بیانیے کے ردّ عمل میں، برصغیرکے مسلمانوں کے یہاں اپنی مذہبی شناخت پر اصرار بڑھا،اور وہ تاریخِ اسلام اور سیرت رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنے لگے۔پہلی مرتبہ اردو شاعری میں مذہبی ،قومی شناخت ایک اہم موضوع کے طور پر شامل ہوئی۔ نعتیہ شاعری مذہبی قومی شناخت کی تشکیل کا ذریعہ بنی،لیکن اس موضوع پر گفتگو کسی اور موقع پر!

نعتیں
افتخار عارف

دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے
میں خود یوں ہی تو نہیں آ گیا ہوں محفل میں
کہیں سے اذن ہوا ہے تو حاضری ہوئی ہے
خدا کا شکر غلامانِ شاہ بطحا میں
شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے
مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
میں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے
یہ سر اُٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے
عثمان انیس

مرے خوابوں میں آجائو مدینے جا نہیں سکتا
رُخِ زیبا دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
کرے روشن زمانے کو تُمہارا نُور ایسا ہے
میرے دِل میں سما جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ پانی کیا بجھائے گا مری ہے تِشنگی ایسی
کہ پھِر کوثر پِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ مانا عشق کا میں نے بڑا گہرا سمندر ہے
مْجھے اِس میں ڈبا جائو مدینے جا نہیں سکتا
ہوا مدہوش کچھ ایسا پڑا ہوں خوابِ غفلت میں
مْجھے اِس سے جگا جائو مدینے جا نہیں سکتا
پڑا ہوں قبر میں کب سے کہ اَب جانا ہے جنت میں
مْجھے رستہ دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہارا امتی ہو کر پڑا ہوں آقا غُربت میں
مرے دِن بھی پھِرا جائو مدینے جا نہیں سکتا
نہیں ہے یاد اَب مْجھ کو سبق میں بھُول بیٹھا ہوں
مجُھے چْھٹی دِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہیں جو دیکھ لے عثماں بڑا ہی خُوب لِکھے گا
مجھے نعتیں سنا جائو مدینے جا نہیں سکتا
اسامہ امیر

ہم درد کے ماروں کو خزینے کی طرف سے
سرکار بلاتے ہیں مدینے کی طرف سے
یہ گل جو معطر ہے چمن زار میں اپنے
خوشبو ہے محمدؐ کے پسینے کی طرف سے
میں جائوں گا اک روز شہہِ طیبہؐ سے ملنے
آواز کوئی آتی ہے سینے کی طرف سے
حسانؓ کے صدقے سے مجھے نعت ملی ہے
میں ورنہ غزل گو ہوں قرینے کی طرف سے
آنکھوں پہ لگائوں گا انہیں روشنی دوں گا
میں خاک اٹھائوں گا دفینے کی طرف سے

Saturday, 7 September 2013

ADB ادب

ادب

…شاہنواز فاروقی …

اسلامی تہذیب کے دائرے میں مسلمانوں کے علم، ذہانیت اور توانائی کا بڑا حصہ دو چیزوں پر صرف ہوا ہے۔ ایک مذہب پر اور دوسرا ادب پر۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مذہبی علم کی اتنی بڑی روایت پیدا کی ہے کہ اس کے آگے تمام ملتوں کا مجموعی مذہبی علم بھی ہیچ ہے۔ اسلامی تہذیب کے دائرے میں موجود ادب کی روایت کو دیکھاجائے تو اس کا معاملہ بھی یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن آج مسلم معاشروں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ کروڑوں پڑھے لکھے کہلانے والے افراد بھی چاقو مارنے کے انداز میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ادب کا فائدہ کیا ہے؟ آخر ادب کیوں تخلیق کیا جائے اور اسے کیوں پڑھا جائے…؟
فائدے کے اس سوال کا تعلق عصر حاضر کی اس عمومی معاشرتی صورت حال سے ہے جس میں پیسہ اعلان کیے بغیر معاشرے کا خدا بن کر بیٹھ گیا ہے اور کروڑوں لوگ اعلان کے بغیر اس کی پوجا کررہے ہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ادب کی تخلیق اور اس کے مطالعے کی افادیت کے بارے میں سوال اٹھانے والے دراصل شاعروں ادیبوں کی معاشی حالت اور ادب کے مطالعے کے معاشی اور سماجی فائدے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسی فضا میں ادب کیا مذہبیت تک ’’افادی‘‘ ہوجاتی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبیت کا ایک پہلو افادی ہوتا جارہا ہے۔ لیکن بعض لوگ جب ادب کے فائدے کا سوال اٹھاتے ہیں تو وہ دراصل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زندگی میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔ اس کا وظیفہ یا Function کیا ہے اور کیا ادب کی تخلیق اور اس کا مطالعہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔؟ جہاں تک پہلی قسم کے لوگوں کے سوال کے جواب اور اس مسئلہ کے طے حل کا تعلق ہے تو اس کے لیے شاعروں، ادیبوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کھلاڑیوں کی طرح ہمارے بینک شاعروں ادیبوں کو لاکھوں روپے کے مشاہرے پر ملازم رکھنے لگیں تو ادب کی افادیت کے سلسلے میں سوال اٹھانے والے اپنے بال بچوں کو شاعر ادیب بنانے کے لیے بیتاب ہوجائیں گے البتہ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو معاشرے میں ادب کے کردار یا اس کے وظیفے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان کے سوال کا قدرے تفصیل سے جواب دینا ضروری ہے۔ اس لیے کہ ہمارے زمانے میں ادب کیا مذہب کے حقیقی کردار کی تفہیم بھی دشوار ہوگئی ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ معاشرے میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔؟
اسلامی تہذیب میں ادب کی حیثیت مذہب کے تو سیعی دائرے کی ہے۔ ہماری تہذیب میں ادب نہ کبھی معنی کا سرچشمہ رہا ہے نہ وہ کبھی مذہب سے جدا ہوا ہے۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب میں ایک زمانہ وہ تھا جب ادب کی ضرورت ہی کا انکار کردیا گیا اور پھر ایک دور وہ آیا جس میں کہا گیا کہ مذہب ختم ہوگیا اب ادب مذہب کی جگہ لے گا۔ ہماری تہذیب میں ادب کے حوالے سے یہ افراط وتفریط کبھی موجود نہیں رہی۔ اس لیے کہ اسلامی تہذیب میں معنی کا چشمہ مذہب ہے چنانچہ ہماری تہذیب میں ادب کا کام یہ ہے کہ وہ معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنائے۔ ادب کے اس کردار نے ہماری روایت میں حقیقت اور مجاز یا Reality اور Appearance کی اصطلاحوں کو جنم دیا ہے اور ہمارے یہاں بڑا ادب اس کو سمجھا جاتا ہے جو بیک وقت حقیقت اور مجاز سے متعلق ہو۔ ہماری تہذیب میں حقیقت کا مطلب خدا اور مجاز کا مطلب ایک سطح پر انسان اور دوسری سطح پر یہ پوری مادی کائنات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حقیقت اور مجاز میں تعلق کیا ہے؟ ہماری تہذیبی اور ادبی روایت میں مجاز حقیقت کا جلوہ، اس کی علامت اور اس کا ایک اشارہ ہے اور ان کے درمیان تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ انسان مجاز کے ذریعے حقیقت سے رشتہ استوار کرتا ہے۔ اس کا فہم حاصل کرتا ہے۔ اس طرح مجاز کی محبت بھی حقیقت کی محبت بن جاتی ہے۔ ہمارے ادب میں محبت اور ہوس کی اصطلاحیں مروج ہیں۔ محبت کو اچھا اور ہوس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ مگر لوگ ان اصطلاحوں کے فرق پر مطلع نہیں ہیں۔ محبت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مجاز کے وسیلے سے بیک وقت مجاز اور حقیقت دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے برعکس محبت ہوس سے اس وقت تبدیل ہوتی ہے جب انسان صرف مجاز میں الجھ کر رہ جائے اور مجاز کے ذریعے حقیقت سے تعلق پیدا نہ کر پائے یا اسے مجاز میں حقیقت کا جلوہ نظر آنا بند ہوجائے۔ ایک شعر ہے۔
ہر بو الہوس نے حُسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ شعور حسن صرف مجاز تک محدود ہوگیا ہے اور نظر کی اس کوتا ہی نے محبت کو ہوس میں تبدیل کردیا ہے لیکن ہوس میں مبتلا لوگوں کو اس کا ادراک نہیں چنانچہ وہ ہوس پرستی کو بھی محبت سمجھے چلے جارہے ہیں۔ ہماری شاعری بالخصوص غزل کی شاعری اور داستان کی روایت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حقیقت اور مجاز کی یکجائی اور پیشکش کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ یہ اتنا بڑا تخلیقی اور تہذیبی کارنامہ ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کارنامے کے ذریعے معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنایا گیا ہے۔ ہماری غزل کی شاعری کا قابل ذکر حصہ حقیقت اور مجاز کی وحدت کا حامل ہے اور داستانوں میں ایک سطح پر روحانی تجربے کا بیان ہے اور دوسری سطح پر عام کہانی کا بیان ہے۔ لیکن ادب معلوم کو محسوس مجرد کو ٹھوس اور غیب کو حضور کیسے بناتا ہے؟ اس کی ایک مثال اقبال کی شاعری ہے۔ اقبال کی شاعری میں مومن اور شاہین دو تصورات کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اقبال نے جذبے، احساس اور مخصوص تہذیبی اور تاریخی تناظر کے ذریعے انہیں کروڑوں لوگوں کا تجربہ بنادیا ہے۔ اقبال کی شاعری کے پردے پر مومن اور شاہین ٹھیک اسی طرح طلوع ہوتے ہیں جیسے سینما کے پردے پر ہیروز نمودار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کی ایک اور مثال قرۃ العین کے ناول ہیں۔ تاریخ ایک فلسفہ اور ایک مجرد تصور ہے۔ لیکن قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں وہ انسانی کرداروں ان کی آرزئوں تمنائوں اور عمل کی صورت میں سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جبلت اور جعلی اخلاقیات دو تصورات ہیں لیکن غلام عباس نے اپنے معرکہ آراء افسانے آنندی میں اخلاقیات اور جبلت کی کشمکش اور جبلت کی جعلی اخلاقیات پر فتح کے حوالے سے ایک شہر آباد ہوتا دکھا دیا ہے۔ معلوم کو محسوس، مجرد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنانے کی اس اہلیت کی وجہ سے ادب کو باقی تمام علوم وفنون پر فوقیت حاصل ہے۔ لیکن ادب کی اہمیت کا معاملہ یہیں تک محدود نہیں۔
سلیم احمد نے کہا ہے۔
کوئی نہیں جو پتا دے دلوں کی حالت کا
کہ سارے شہر کے اخبار ہیں خبر کے بغیر
یہ اخبار کی رسائی اور نارسائی دونوں کا بیان ہے۔ اخبار اور ادب میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اخبار ظاہر کا ادب اور ادب باطن کا اخبار ہے۔ ظاہر کا ادب صرف یہ بتاسکتا ہے کہ ظاہر میں کیا ہورہا ہے لیکن انسان، معاشرے اور تہذیب کے باطن کی خبردینا صرف ادب کا کام ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ سرسید احمد خان ہمارے معاشرے میں جدیدیت کی پہلی اور سب سے بڑی علامت ہیں لیکن سلیم احمد نے اپنی کتاب غالب کون میں دکھایا ہے کہ وہ زندگی جس کا تجربہ آج ہم کررہے ہیں اس کا شعور غالب کے یہاں بہت پہلے سے موجود تھا۔ اسی طرح اقبال نے عہد غلامی میں اسلام اور مسلمانوں کے عروج کے ترانے گائے ہیں اور جس وقت یہ ترانے تخلیق ہورہے تھے بہت سے لوگ انہیں ’’مجذوب کی بڑ‘‘ سمجھتے تھے لیکن حالات وواقعات نے ثابت کیا کہ اقبال کا تخلیقی تصور اس دنیا کو وضاحت کے ساتھ دیکھ رہا تھا جو ابھی پیدا ہونی تھی۔ دوستو وسکی کا زمانہ روسی انقلاب سے پہلے کا زمانہ ہے لیکن دوستو وسکی کے ناولوں میں انقلاب کی چاپ کو صاف طور پر سنا جاسکتا ہے۔ ادب کے متن یا Text کی کثیر الجہتی یا Multi Dimensionality ادب کا ایک اور بہت بڑا امتیاز ہے۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ تمام علوم اپنی روایت اور اپنے مخصوص تناظر کی پاسداری کرتے ہیں۔ نفسیات، نفسیات کی روایت اور تناظر کو کام میں لاتی ہے۔ عمرانیات اپنی مخصوص روایت اور تناظر کی اسیر ہوتی ہے لیکن ادب تجربے کی تشکیل اور ابلاغ کے سلسلے میں بے انتہاء وسیع المشرب ہوتا ہے چنانچہ ادب میں مذہب، فلسفے، نفسیات، عمرانیات اور طبیعات کے دھارے باہم مدغم ہو کر ایک نئی صورت اختیار کررہے ہوتے ہیں۔ یہ کام شاعری میں بھی ہوتا ہے اور افسانے اور ناول میں بھی۔ یہاں تک کہ ادب کی اعلیٰ تنقید بھی ادب کی وسیع المشربی سے فیض یاب ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو اردو ادب میں فراق، عسکری اور سلیم احمد اور انگریزی میں ڈی ایچ لارنس اور ٹی ایس ایلیٹ کی تنقید پڑھنی چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تنقید کو بھی تہذیبی بنا دیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کی معنویت اور قوت کا اظہار یا تو مذہب میں ہوتا ہے یا ادب میں۔ اعلیٰ مذہبی اور ادبی متن کا فرق یہ ہے کہ مذہبی متن قاری کو لفظ اور معنی کی گہرائی سے آشنا کرتا ہے اور ادبی متن لفظ اور معنی کے تنوع سے۔ چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں کہ مذہب اور ادب کے مطالعے کے بغیر کسی کو زبان آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ادب بالخصوص شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں مگر لوگ اس مسئلے پر زیادہ غور نہیں کرتے۔ ادب کے دو پہلو ہیں ایک تفہیمی اور دوسرا تاثیری۔ تفہیم کا تعلق خیال سے ہوتا ہے اور خیال کا ترجمہ بڑی حد تک ممکن ہے مگر تاثیر کا تعلق کسی زبان کی پوری تہذیب، تاریخ، اظہار کے سانچوں اور اسالیب سے ہے چنانچہ اس کا ترجمہ ممکن نہیں ہوپاتا۔ اس نکتہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ادب کسی قوم اور کسی زبان کی پوری تہذیب اور مزاج کا اظہار ہوتا ہے اس لیے ادب کے مطالعے کے ذریعے ہم کسی تہذیب کی روح تک پہنچ سکتے ہیں۔


Wednesday, 21 August 2013

ادب اور سنجیدگی

ادب اور سنجیدگی

رضی مجتبی
میں ادب اور سنجیدگی کے باہمی اور گہرے رشتے کا پوری سنجیدگی سے قائل ہوں، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ادب میں جس چیز کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہم محسوس کرتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح کی سنجیدگی ہے۔ لہٰذا اگر اعلیٰ اور ادنیٰ ادب میں فرق کے حوالے سے یہ کہا جائے کہ اس میں ایک بہت بنیادی کردار سنجیدگی ادا کرتی ہے، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ یہ سنجیدگی ہی ہوتی ہے جو کسی ادب پارے کو انسانی احساس کی کایا کلپ کرنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ اس سنجیدگی کا اظہار دونوں طرح سے ہوتا ہے، یعنی کسی فن پارے کے جہانِ معنی کی سطح پر بھی، اور اُس کے تخلیق کار (ادیب یا شاعر) کے رویّے کی سطح پر بھی۔ ادیب یا شاعر کے رویّے کا اندازہ اُس کے اندازِ نگارش یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلوبِ فن کی بنیاد بننے والے عناصر سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ عناصر موضوع اور ہیئت کے انتخاب سے لے کر الفاظ اور تکنیک تک کے استعمال میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
لفظوں میں تھوڑا بہت ردو بدل ہوسکتا ہے لیکن ویسے کچھ اسی طرح کے خیالات تھے جن کا اظہار میں نے گزشتہ دنوں اپنے قریبی دوستوں کی ایک مختصر سی محفل میں کیا تھا۔ میری بات سن کر ایک دوست نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سب سے پہلے تو ایک سوال کیا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ادب کے لیے سنجیدگی ایک لازمی شرط ہے؟‘‘
میں نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں ادب کے لیے سنجیدگی کو ایک لازمی شرط سمجھتا ہوں۔
بس میرے یہ کہنے ہی کی دیر تھی کہ محفل کا رنگ بدل گیا اور ایک بحث چھڑ گئی۔ ایک صاحب نے جو غالب کے بڑے پرستار ہیں اور انھیں غالب کا شاید پورا نہیں تو آدھا دیوان ضرور حفظ ہوگا، مجھے مخاطب کرکے کہا: ’’میں کوئی ادیب یا دانش ور تو نہیں ہوں، اس لیے آپ سے کوئی علمی وادبی بحث نہیں کر سکتا، لیکن مجھے آپ کی بات سے اتفاق نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ آپ کو اپنی الگ رائے رکھنے کا پورا حق ہے۔ اس پر انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو غالب کے کچھ شعر سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: ضرور ضرور، بسم اﷲ کیجیے۔ اس لیے کہ غالب کا تو میں خود بڑا عاشق ہوں، لہٰذا اُس کو ہر بار سننا یا پڑھنا میرے لیے قندِ مکررکی طرح ہوتا ہے۔ موصوف نے غالب کے شاید درجن بھر سے زیادہ شعر سنا ڈالے، جن میں سے چند میں یہاں درج کرتا ہوں:
گو نہ سمجھوں اُس کی باتیں ، گو نہ پائوں اُس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
———
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرماویں گے کیا
———
یہ مسائلِ تصوف ، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
———
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
———
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اُس محفل میں ہے
———
کعبہ کس منہ سے جائو گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
اشعار سنانے کے بعد انھوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ غالبؔ کے ان شعروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ یہ سارے کے سارے اشعار قابلِ توجہ ہیں۔ ان کو سن کر آدمی محظوظ بھی ہوتا ہے اور ان کے معانی پر غور بھی کرتا ہے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ لگ بھگ یہ سب وہ اشعار ہیں جو غالب کو غالب ثابت کرتے ہیں۔ وہ صاحب بولے کہ یوں نہیں، صاف لفظوں میں بتائیے کہ یہ شعر اچھے ہیں یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جو اشعار غالب کو واضح طور پر غالب ثابت کرتے ہیں، ان کے اچھا ہونے میں بھلا کیا شبہ ہے! یہ غالب کے کرافٹ اور اسٹائل کو اُس کی انفرادیت کا ایسا جواز ثابت کرتے ہیں جو پوری اردو شاعری میں کسی اور کا حصہ نہیں۔ ساتھ ہی میں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس فقرے میں، مَیں نے اسٹائل کے وہی معنی لیے ہیں جو Style is the man والے بیان میں استعمال ہوتے تھے۔
میرے اس جواب پر وہ دوست مسکرائے اور بولے: بس تو پھر آپ کا مقدمہ رد ہوگیا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ہوگیا؟ کہنے لگے: اس لیے کہ ان میں سے کسی شعر میں وہ سنجیدگی تو نہیں پائی جاتی، جس کی آپ نے ادب کے لیے شرط عائد کی تھی۔
میں ابھی اس بات کا کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ محفل میں موجود ایک اور صاحب نے جو ہمارے دوستوں میں بہت پڑھاکو مشہور ہیں اور طنز ومزاح کے تو وہ ان تھک قاری ہیں، کہا کہ اگر آپ کے اس سنجیدگی والے ایشو کو سامنے رکھ لیا جائے تو پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، کرنل محمد خاں، شفیق الرحمن، ابنِ انشا، مشتاق احمد یوسفی، ضمیر جعفری، دلاور فگار اور عطاء الحق قاسمی وغیرہ میں سے کسی کو بھی بڑا ادیب قرار نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ ان میں سے کسی نے بھی ایسا ادب تخلیق نہیں کیا جو آپ کی سنجیدگی والے معیار پر پورا اُتر سکے۔ بحث میں خاصی گرما گرمی آگئی تھی اور دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے تھے۔ جو لوگ شامل نہیں تھے، وہ بھی اس گفتگو کو دل چسپی سے سن رہے تھے۔ بہرحال پھر یہ ہوا کہ میرے جواب سے قبل ایک اور صاحب نے بات آگے بڑھائی اور بولے: اس طرح طنز ومزاح کا تو پورا کا پورا ذخیرہ ہی ادب سے خارج ہوجائے گا، کیوں کہ اس میں تو آپ کو سنجیدگی کا نام ونشان تک نہیں ملے گا۔ اس حوالے سے کیا کہیں گے آپ؟
مجھے پوری سچائی کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ان میں سے کسی بات نے ایک لمحے کے لیے بھی مجھے پریشان نہیں کیا، نہ ہی کوئی الجھن پیدا ہوئی اور نہ ہی غصہ آیا… بلکہ اگر آپ کو اندر کی بات بتائوں تو میں کہوں گا کہ ان باتوں یا سوالوں سے مجھے دل ہی دل میں یک گونہ خوشی ہورہی تھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ میں جن لوگوں کے ساتھ اس وقت بیٹھا ہوں، وہ نہ صرف یہ کہ ادب پڑھتے ہیں، بلکہ پوری توجہ اور سنجیدگی سے پڑھتے ہیں۔ صرف پڑھتے ہی نہیں بلکہ اُس کے بارے میں سوچتے بھی ہیں اور اُس کے لیے اپنی ایک رائے بھی قائم کرتے ہیں۔ میرے لیے زیادہ خوشی کی بات اس گفتگو میں یہ تھی کہ میرے وہ سب دوست جو اس محفل میں تھے، ان میں سے کسی ایک نے بھی ادب کو اپنا کیریئر نہیں بنایا تھا، بلکہ سب کے سب پیشے کے لحاظ سے بینکر تھے۔ ہاں اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو شعر کہتے یا افسانہ لکھتے رہے ہیں، شاید اب بھی لکھتے ہیں۔ بہرحال دیکھا جائے تو ہم انھیں باقاعدہ ادیب یا شاعر کہنے کے بجائے شوقیہ فن کار کہہ سکتے ہیں۔ سو مجھے اسی بات کی زیادہ خوشی تھی کہ اس گفتگو کے دوران کسی طرح کی ادیبانہ یا شاعرانہ خودسری یا نظریہ بازی کا مظاہرہ نہیں ہورہا تھا، اور نہ ہی کسی کو اپنی بات کو منوانے کی ضد اور عجلت تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ سب ادب کے اچھے اور سنجیدہ قاری تھے۔ اُن کی طرح میں بھی خود کو صرف اور صرف ادب کا ایک ادنیٰ قاری سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اس بات چیت کا مقصد اس نکتے یا مسئلے کو سمجھنا سمجھانا تھا، خود کو دانش ور ثابت کرنا ہرگز نہیں تھا۔
ہمارے درمیان خاصی بحث ہوتی رہی۔ اپنے اپنے نکتۂ نظر کا اظہار سب نے پورے زور شور سے کیا۔ جس کے ذہن میں جو بات آئی اور جو دلائل سمجھ میں آتے رہے، انھیں پیش کیا گیا۔ بہرحال خلاصہ یہ کہ نشست کے اختتام پر میں خوش تھا، بلکہ ہم سب خوش تھے کہ ہم نے بہت اچھا وقت گزارا اور بہت اچھی باتیں ہوئیں۔ مجھے زیادہ خوشی تھی، اس بات کی کہ میں اپنی بات واضح کرنے اور اپنا نکتۂ نظر دوستوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا اور یہ کہ ساری بحث و تمحیص کے بعد بھی ہم میں سے کوئی hurt نہیں ہوا تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس نشست کا اختتام ایک طرح سے اتفاقِ رائے پر اور خوشی کے ساتھ ہوا۔
اس گفتگو کے نتیجے میں یہ خیال میرے ذہن میں آیا کہ میں اپنی تحریروں میں بارہا ادب کے لیے سنجیدگی کا سوال اٹھاتا رہا ہوں اور اعلیٰ ادب کے لیے high seriousness کی بات کرتا رہا ہوں۔ اس کا پورا امکان ہے کہ میرا یہ بیان کچھ لوگوں کے لیے الجھن کا سبب بنتا رہا ہو۔ سو کیا مضائقہ ہے اگر میں اس حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کردوں۔ اس لیے آئندہ سطور میں یہی کوشش کروں گا۔ تاہم اس سے پہلے میں اپنے اُن دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اس گفتگو کا محرک بنے۔ ان کی باتوں نے نہ صرف مجھے اپنے اس نکتۂ نظر کی وضاحت کی تحریک دی، بلکہ خود میرے ذہن میں اس کے کئی اور پہلو روشن کیے جو شاید پہلے اتنے روشن اور واضح نہ تھے۔
ادب میں یہ سوال یعنی high seriousness کا تقاضا سب سے پہلے مغرب میں میتھیو آرنلڈ نے کیا تھا۔ بعد ازاں اور بھی کئی لوگوں نے اس مسئلے پر بات کی اور یہ ایک باقاعدہ مکتبِ فکر سا بن گیا۔ اب میں جن نکات کو بیان کرنے جارہا ہوں، وہ اصل میں زیادہ تر اسی مکتبِ فکر سے ماخوذ ہیں اور مغرب کے اُن نمائندہ دانش وروں اور ادیبوں کی آرا پر مبنی ہیں جنھوں نے اس مسئلے پر بات کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بیان میں میرا اپنا زاویۂ نظر بھی شامل ہوگیا ہے۔ میں یہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ میرے اپنے زاویۂ نظر سے اصل میں میری مراد یہ ہے کہ میں نے مغربی اہلِ دانش اور اہلِ ادب کی اس بحث میں جن باتوں کو قبول کیا ہے، ان میں اپنے مشرقی ذہن کی بھی کچھ نہ کچھ چیزیں شامل کردی ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس گفتگو میں، ساری نمائندگی صرف مغرب کی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ اپنے کلاسیکی ادب (جس میں شاعری اور داستان دونوں کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے) کے علاوہ جو تھوڑا بہت فارسی ادب میں نے پڑھا ہے اور اس سے جتنا کچھ اور جس طرح سمجھا ہے، اس کو بھی ان نتائج میں شامل کرلیا ہے۔
ادب میں سنجیدگی سے مراد ہے ایک ذمہ دارانہ اور باشعور رویّے کا اظہار۔ یہ اظہار موضوع کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے، اُس کے ٹریٹمنٹ کے مرحلے میں بھی ہوتا ہے، اسلوبِ بیان کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رویّے کا اظہار لفظیات میں اور متن کے سانچے میں بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ معنی کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے معنی کے معنی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک لکھنے والے کے لیے سنجیدگی دراصل ایک ذہنی رویّے کا درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایک سطح پر اسے طرزِ فکر بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح کسی نظریے یا فلسفے کے ضمن میں ہم دیکھتے ہیں اس طرح سنجیدگی کے کوئی set parameters تو نہیں ہیں کہ جن کو اختیار کرنا ہر ایک کے لیے لازمی ہو۔ ہر ادیب، شاعر اس سلسلے میں آزاد ہے کہ وہ اسے اپنے انداز اور اپنے طریقے سے اختیار کر سکتا ہے۔ بس اُس کے لیے ایک بات ناگزیر ہے کہ وہ اس کے لیے جو چاہے طریقہ اختیار کرے، لیکن وہ اسے شعوری طور پر اختیار کرے گا اور اس ضمن میں اپنے ہر اقدام کا ذمہ دار ہوگا۔ میتھیو آرنلڈ کا کہنا ہے کہ کسی نظم (ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی شعری اظہار) کو پرکھنے کے لیے ہمارے پاس بنیادی طور سے دو معیارات ہوتے ہیں، ایک اس میں ’’اعلیٰ صداقت‘‘ اور دوسرے ’’اعلیٰ سنجیدگی‘‘ کا اظہار۔ برطانیہ کا بے مثال (مگر اتنا ہی متنازع یا بدنام) ڈراما نگار آسکر وائلڈ تو یہ کہتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی ہی اتنی اہم شے ہے کہ اُس کے لیے سنجیدگی کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ مجھے اُس کی اس بات پر غور کرتے ہوئے اکثر یہ خیال گزرتا ہے کہ اپنی زندگی کے ایک غیر سنجیدہ تجربے نے شاید آسکر وائلڈ کو اس نتیجے تک پہنچایا ہوگا۔ بہرحال، سارتر نے اس سلسلے میں بہت اہم اور قابلِ غور بات کہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’سنجیدگی کی روح‘‘ دراصل یہ یقین ہے کہ اشیا میں ایک معروضی اور خود مختار اچھائی (خیر) ہوتی ہے، جسے لوگ اپنے اپنے انداز سے دریافت کرتے ہیں۔
میتھیو آرنلڈ کے پیش کردہ سنجیدگی کے اس تصور کو جہاں ہم خیال اور تائید کرنے والے لوگ میسر آئے وہیں اس تصور کو مسترد کرنے والے بھی کچھ لوگ سامنے آئے اور نمایاں ہوئے۔ اس خیال کو رد کرنے والوں کا کہنا تھا کہ سنجیدگی کو اوپر سے کسی فن پارے میں شامل کرنا اُسے مصنوعی بنا دیتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سنجیدگی فن پارے کی تروتازگی ختم کرکے اُسے بوسیدہ بنا دیتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ جس طرح ایک اہم اور غور طلب تصور یا نظریے کے ساتھ ہوتا ہے کہ اُسے حق میں بولنے والوں کے ساتھ ساتھ خلاف بولنے والے بھی ملتے ہیں، ایسا ہی میتھیو آرنلڈ کے سنجیدگی کے تصور کے ساتھ بھی ہوا۔ انیسویں صدی کی اس بحث کے دو طرفہ دلائل آج مغربی ادب کی فکری تاریخ کا حصہ ہیں۔
اہلِ مشرق کے ہاں دیکھا جائے تو سنجیدگی کے اس تصور پر الگ سے کوئی بحثیں نہیں ملتیں۔ اس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے انفرادی حیثیت میں دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ اس لیے کہ مشرق کا مزاج کلیت کا ہے۔ یہاں fragmentationکے بجائے اپروچ کو composite رکھنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ بہرحال مشرق ہو یا پھر مغرب، ادب میں سنجیدگی سے مراد یبوست، خشکی یا پژمردگی ہرگز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں نہ ہی اس طرزِ فکر سے مراد یہ ہے کہ کسی ادب پارے کو غیر ضروری طور پر ادق یا گنجلک بنایا جائے یا اُسے فلسفیانہ رنگ دیا جائے۔ سنجیدگی کے نکتۂ نظر کا مقصود یہ بھی نہیں ہے کہ ادب سے عوام کو دور کر دیا جائے اور اسے صرف اور صرف خواص کی ایک سرگرمی بنا کر رکھ دیا جائے۔
پھر آخر یہ سنجیدگی ہے کیا؟ سنجیدگی سے مراد ہے (جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا) تخلیقِ ادب میں شعور اور ذمہ داری کے ساتھ اختیار کیا گیا ایسا طرزِ عمل جو متانت اور خلوص کا اظہار کرتا ہے اور اپنے قاری کے اندر انھی جذبوں کو سب سے پہلے بیدار بھی کرتا ہے۔ ادب میں سنجیدگی کرافٹ اور اسٹائل کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ انھیں زیادہ مؤثر اور معنی خیز بنادیتی ہے۔ ادب انسانی جذبوں اور احساسات کی اگر تہذیب کرتا ہے تو سنجیدگی اس تہذیب کے نقش کو زیادہ اُبھارتی اور روشن کرتی ہے۔ یہ سنجیدگی ہی ہے جو کسی ادب پارے کے ذریعے قاری کے دل اور دماغ کی صورتِ حال پر سب سے پہلے اثرکرتی ہے اور اکثر اوقات انسانی ذہن کی کایا کلپ کردیتی ہے۔
اب یہ سوال کہ اگر سنجیدگی کو ادب کا جزوِ لازم گردانا جائے تو پھر وہ نگارشاتِ ادب جو طنز ومزاح کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں، اور سنجیدہ فن پاروں کے وہ اجزا جن میں مزاح کا عنصر شامل ہوتا ہے، کیا انھیں ادب کے زمرے میں شامل نہیں کیا جائے گا؟ میرا خیال ہے کہ یہ رائے، یہ خیال یا یہ سوال سراسر ایک بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اب اس غلط فہمی کو مکمل طور پر دور ہوجانا چاہیے۔ اس لیے کہ مندرجہ بالا سطور میں اس بات کی وضاحت بالکل صاف لفظوں میں کر دی گئی کہ سنجیدگی سے مراد یبوست یا خشکی نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ہے لکھنے والے کی متانت، خلوص اور ذمہ داری کا اظہار اور اس کے پورے شعور کے ساتھ۔ چناں چہ وہ تحریریں جو مزاح کے پیرائے میں پیش کی جاتی ہیں، انھیں ادب سے خارج کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ ادب کا حصہ ہیں بشرطے کہ وہ ادب کے اپنے داخلی معیارات پر کما حقہٗ پوری اُترتی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا لکھنے والا بھی اتنا ہی کمیٹڈ ہوتا ہے، جتنا کسی بھی دوسری صنفِ ادب کا لکھنے والا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مزاح کی تحریریں خواہ وہ نثر میں ہوں یا شعر میں، ان کی تخلیق کے لیے بھی گہری سنجیدگی درکار ہوتی ہے، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ان کے لیے تخلیق کار کو زیادہ سنجیدگی سے کام لینا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اسی متانت اور خلوص کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کسی دوسری صنفِ ادب کے لیے مطلوب ہوتی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو غالب کے ایسے اشعار:
کعبہ کس منہ سے جائو گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
———
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
سیر کے واسطے تھوڑی سی جگہ اور سہی
یا اقبال کے ایسے اشعار:
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اقبال بڑا اُپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا
میں ان اشعار میں مزاح کے عنصر سے انکار نہیں کرتا۔ وہ یقینا موجود ہے، لیکن یہ مزاح ایک گہری سنجیدگی، متانت اور خلوص کا پیدا کردہ ہے۔ مزاح ان اشعار میں صرف تفریحِ طبع کا سامان نہیں ہے، بلکہ جب میں ایسے شعروں پر غور کرتا ہوں تو مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ تخلیق کار نے ان میں اپنی بات کو آسانی اور شگفتگی کے ساتھ بیان کردیا ہے، ورنہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، جس نکتے کی طرف اشارہ کر رہا ہے، وہ بہت گہرا اور دقیق ہے۔ اسی اصول کا اطلاق پورے مزاحیہ ادب پر ہوتا ہے، خواہ وہ نثر میں تخلیق کیا گیا ہو یا شعر میں۔ یعنی بات اصل میں اس شعور اور احساس کی ہے جو کسی فن پارے کے پس منظر میں کارفرما ہوتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں نثری ادب سے پطرس بخاری کے دو مضامین ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘‘ اور ’’میبل اور میں‘‘ کا حوالہ دوں گا۔ اس کے بعد کرنل محمد خاں کی ’’جنگ آمد‘‘ کا، ابنِ انشا کی ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ یا مشتاق احمد یوسفی کی ’’آبِ گم‘‘ کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کسی فن پارے پر ذرا توجہ اور سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اندازہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ مصنف نے بیان کی ساری شگفتگی کے باوجود اس میں پیش کیے گئے نکتے کو پوری ذمہ داری، متانت اور خلوص کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اور یہ کہ اس کا منشا یہ ہے کہ اس کے قارئین ذرا ان پہلوئوں پر دوسرے زاویے سے بھی غور کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ایک بڑی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے اور نہایت سنجیدگی سے ہی سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ تو بس یہی وہ نکتہ ہے جس کے ذریعے ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ادب کے لیے سنجیدگی ایک ناگزیر شے ہے اور یہی سنجیدگی تخلیق کار کے رویّے کا تعین کرتی ہے اور اس کے ذریعے ادب زیادہ بامعنی اور باوقار ہوتا ہے۔


Sunday, 7 October 2012

IS DHUN MEIN BASE HAIN

اس دُھن میں بسے ہیں کیا کیا گُن؟


کو ئی چینل آ ن کرو تو دُھن کا دھوم دھڑاکا، ریڈ یو آن کریں تو دُھن کا تڑاخ پڑاخ دھما کہ… موبائل رنگ ٹیون کے ہو ا ہو ائی سر تال ، بے ُسرے سروں کا سنگم،رو مانی دُھنوں کا سرگم، سارے گا ما پا مینڈکی زکام ، ریپ میو زک کی دھنادھن ،شیطا ن کی دادی اماں کے پسند یدہ بنگڑے،انسان کو سردرد کا تحفہ دینے والے ڈھو ل تاشے، فرمائشی دُھن ، بے تکے باجے گا جے …کل ملا کے دیکھیں تو یہی پٹا خے ماڈرن انسان کی کل متاع ہے۔ سچ میں یہ ہمارے جدید تمدن کا زیور کہلاتا ہے۔ اسی کلچر میںحلوہ پو ری کی مٹھاس، سموسے پکوڑے کی سو گندھ، تعمیروترقی کا سرکس، گیس چولہو ں کی سردی و گرمی، وازوان کی لذتیں اور نہ جانے کیا کیا شرارتیں بھری ہیں۔ ہم ٹھہرے ہر دیگ کے چمچ، ہر سنگیت کے دل پھینک عاشق ، ہر پکوان کے شیدائی اور ہر شہر کے سودائی اورہر جا ئی، ہر قائد کے قافلہ کی نفری اور ہر لیڈر کی دوکانِ سیاست کی سوغات ۔ اس بے ہنگم دھن دار تمدن سے ہماری سانسوں کا اتار چڑھاؤ، ہماری امیدوں کی خر ید وفروخت اور ہمارے خو ابو ں کی منڈیا ں آ با د ہیں۔ ہم بڑے سیا نے لو گ ہیں جو اسی دھن والی دوکا نِ تمدن سے سودا سلف لاتے ہیں۔ پھر اسی سے اپنے پکوان پکا تے ہیں اور انگلیا ں چا ٹتے ہوئے ان کے گن گا ن کر کے مدہو شی میںدن رات صبح و شام یہی جام ِشریں نو ش کر تے ہیں۔حا لا نکہ اس بے ربط دھن والے تمدن کی ایک ایک چیز سے بد بو اور گھن آتی ہے۔جد ھر سے چلو تو بس دُھن اسی کی سوار ہو۔ گاڑی میں بیٹھو تو بس دُھن۔ کلاس روم میں دُھن۔ د فتروں میں دُھن۔ سیا سی ، سما جی ، نجی ، ما تمی اور مسرت آ گیں مجا لس میں دُھن۔ ارے بھا ئی سن پیا ر کے گُن۔رنگ ٹیون کے دُھن ،نیا تمدن،صدا ئے بے ھنگم۔ ہوائے ردی، ناک بند کرو ، ورنہ ہا ضمہ خراب اور ذائقہ کرا کرا ہو جا ئے گا۔ اندر کا سارا کھا یا پیا باہر آ جا ئے گا۔پھر ہسپتال جا نا پڑے گااور اگر ہسپتال میں بھی دُھن جا ری ہوئی تو؟اور دُھن سُن کر اُلٹی آ جا ئے تو!۔کہاں جا ئو  گے؟یا کیجو لٹی میں ڈا کٹر اپنے سا تھیوں کے سا تھ دُھن کے گُن گا رہا ہو تو پھر ما تمی دُھن ہی بجا نا پڑ ے گا۔یہ ما ڈرن تمدن کاد یو قامت جن کی طرح ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ہیڈ فو ن سے اس نے ہمارے کان اور ناک میں دم کر ر کھا ہے اور ہم بھو ت کی طر ح سڑ کوں اور شا ہر اہوںپر گھوم ر ہے ہیں۔کان بند کر کے پا گلوں کی طرح ہا تھ پیر ہلا ر ہے ہیں۔ا د ھر اُدھر ما ر رہے ہیں،سلام اور پیام میں اتنا کھو جا تے ہیں پھر بجلی کے کھمبوں، دیوا روں، پیڑ پو دوں کو سلامی دیتے ہیں۔ہمیں یاد بھی نہیں رہتا ہے کہ ہم شا ہراہ عام پرسے گز ر تے ہیں اور شا ہراہ پر ٹر یفک کا دبا ئو بھی ہے۔کبھی کبھی دُھن سنتے سنتے یہ جن ہمیں گاڑی کے ٹا ئر کے نیچے لے جا تا ہے اور فٹا فٹ دو سری دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔اُد ھر ڈ را ئیور کا ایک ہا تھ سٹیرنگ پر دو سرا ہا تھ کان کے ساتھ دُھن میں مگن،نتیجہ ظا ہر ہے یا تیرا سر یا میرا سر،دُھن کے شُعار اور کا روبا ر نے ہمیں انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔مشکلات سے دو چار کر دیا ہے ،حا لانکہ ہمارے نیچے سے زمین کھسک ر ہی ہے۔ اس تہذیب اور تمدن کی عما رت زمین بوس ہو ر ہی ہے۔حا لت یہ ہے کہ سکول کالج میں سر اور میڈم تک اپنے سٹو ڈنٹس کے ساتھ راز و نیاز کے انداز میں بات کر تے ہیں۔ طلباء نہ سر یا میڈم کا ڈر نہ شرم نہ تعلیم کا کو ئی اثر۔و حشیانہ جذ با ت کی سو غات، حیوانی جذ بات،دو لت ، ثر وت، عشرت، عجیب قسم کی عقلیت پنپ ر ہی ہے۔وہ بھی رو ما نی دُھن گا ر ہی ہے اور یہ بھی سُن بھا ئی سُن پیا ر کے گُن گا رہا ہے۔وہ لیلیٰ کی طرح مجنون پر مر تی ہے اس کا جیب کا ٹ کر اپنا جیب بھر تی ہے اور یہ بھی فر ہاد کی طر ح کدال کندھے پر لے کر جو ئے شیر کی تلاش میں سر گر دا ں رہتا ہے۔بے کار اور بے مصرف مخلو ق، بس بھو ک،اقتدار کی بھوک، جنسی بھوک ،ھل من مزیدآ سمان اب دھمکیاں نازل کررہا ہے۔کبھی کبھی ہما ری حا لت د یکھ کر زا رو قطار رو رہا ہے۔تا ر یکی اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ بے ایمانی اور بد دیا نتی کے بڑ ے بڑے شا پنگ ما ل لوٹ کھسو ٹ کے ہول سیل بازار۔ لگتا ہے اب کو ئی اور مخلوق تشر یف لا کر ہمیں بے دخل کر دے گی۔جس طر ح ہم نے حیوا نات کو بے د خل کر د یا ہے یا پھر آ سماں غضب ناک ہو کر کڑک کے ساتھ گر کر ہمیں فنا کر دے گاکیو نکہ اصلاح کی دور دور تک کو ئی راہ نظر نہیں آتی ہے۔اندھیرا دھند و حشت نا ک تا ریکی ،اصلاح کر نے والے امر با المعر وف کے دا عی خود منکرات کو گلے لگا رہے ہیں۔نہ جا نے ہم نے ہر اچھی چیز کوmisuseکر نے کی قسم کیوں کھا ر کھی ہے۔یہاں محا فظ بھی مس یوز ہو رہا ہے۔احسان مندی اور نیاز مندی کے عوض بھی شر مندگی اٹھا نی پڑ تی ہے۔گھٹا لوں اور گھپلوں کے با زار،نقلی سما چار، باتھ روم سماچار،زرد سما چا ر،نقلی مال کے سما چار۔ یہ انسان بہت زیادہ ہو شیار اور ہو نہار ہو تا جا رہا ہے کہ ذلیل خوار اس کا فیصلہ آپ ہی کر لیجئے کیونکہ اند ھیر نگری میں کچھ بھی د کھائی نہیں دے ر ہا ہے۔یہ تمدن اور تہذ یب بظا ہر دیدہ ز یب ہے مگر پر فر یب،اس کا فر یب بھی سا نپ کی ٹا نگوںکی طرح invisibleہے، کیو نکہ ڈ اکہ ز نی اور قلم ز نی بھی فنی اور تمدنی لباس پہنے ہو ئے ہیں۔اس جدید فن نے مرد و زن کو صرف دو لت ، عیش عشرت اور دھن کا پجاری بنا د یا ہے۔ز ند گی عدم توا زن کے بحربیکراں میں غرق ہو رہی ہے۔ مسلک ومشرب اور سیا ست کی تجارت کر نے وا لے بس انتہا پسندی پسند کر رہے ہیں،فکر میںجمود،ذکر میں مبا لغہ ،لغو یات فسا دات ،استبداد بیداد بس ارشاد ارشاد،غور و فکر کو خیر باد، نہ نقطہ اعتدال، نہ توا زن نہ ترکیب۔ اسی لئے ہم فر یب کھا رہے ہیں۔ اپنے ہی گھر اپنے ہی ہا تھوں ڈ ھا رہے ہیں۔
mjlone10@gmail.com؛  موبائل نمبر:- 9797111614

QADEEM WA MAROOF HINDU MUSANEFEENE URDU part 1

Courtesy: UrduTimes Bombay

Wednesday, 3 October 2012

MAZHAB AUR ADAB مذہب اور ادب

مذہب اور ادب

مذہب اور ادب کے موضوع پر غور کرتے ہوئے مجھے اکثر یہ خیال گزرا ہے کہ ان دونوں کی اساس ایک ہی ہے۔ مذہب وہ رشتہ ہے جو ذاتِ مطلق اور انسان کے درمیان ہمیشہ سے استوار رہا ہے۔ مذہب کا تعلق اس Substance (کسی شے کی اصل) سے ہے جو Phenomena (ایسے واقعات جن کا مشاہدہ ان کی وجہ اور جواز کا طالب ہو) کے پسِ پردہ ہوتا ہے۔ اور ان فرائض اور ذمہ داریوں سے بھی جو انسان پر اس ذات کے حوالے سے واجب ہیں کہ جو آفاقی، جاوداں اور بے کراں ہے۔ مذہب اپنے خاص تناظر میں ان سوالوں کا جواب فراہم کرتا ہے کہ ہم کیا ہیں؟ کہاں سے اس دنیا میں وارد ہوئے اور کدھر جارہے ہیں؟ ادب بھی مآلِ کار ذاتِ مطلق سے اسی وابستگی کی شرح اور تعبیر کرتا ہے۔ صرف شرح و تعبیر ہی نہیں کرتا بلکہ اس کی توجیہہ بھی پیش کرتا ہے اور انسان کو ان ذمے داریوں کا جو مذہب کی رو سے اس پر عائد ہوتی ہیں، ان پر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے، ان کی تاویلات کرتا ہے اور انسان کے دل کو زندگی کو سلیقے سے بسر کرنے میں جو دشواریاں اور مشکلات پیش آتی ہیں یا آسکتی ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے ڈھارس اور قوت عطا کرتا ہے۔
آپ نے یقینا دنیا کے سب سے پہلے عظیم ترین شاعر ہومر، جس کا تعلق یونان سے تھا، کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہوگا۔ اس کی نظمیں مذہبی ماحول میں سانس لیتی ہیں اور ایسے حیرت ناک واقعات سے بھری پڑی ہیں جو انسان کو اس ذاتِ مطلق و جاوداں کی اطاعت پر راغب کرتی ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو ہدایت بخشتا ہے، نیکی کی ترغیب اور بدی سے پناہ مانگنے کے لیے۔ یونان کے الم ناک ڈراموں میں تو مذہب کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ ایک الوہی نظام، ہمیشگی یا بے کرانیت، آفاقیت اور قانونِ خدا کی غیر تغیر پذیری، اس قانون کی خلاف ورزی کی سزا کی ناگزیریت اور اس پر قائم رہنے کا اجر یونانی المیوں کے اٹل عناصر تھے۔ ورجل کی شاعری بھی مذ ہب کی سریت اور انسان کی اس کے سامنے سپردگی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ لیو کریٹس کا شاہکار: De rerum natura انسانی ذہن کی اس کاوش میں ڈوبا ہوا تھا جو اس کائنات کی اور من حیث الکل وجود و عدم کی گتھیاں سلجھانے کی روداد کا آئنہ دار تھا۔ جنوب کے عیسائیوں کا دیو مالائی ادب اور ازمنۂ وسطیٰ کے ادب کا موضوع بھی وجودِ مطلق اور اس سے پیدا ہونے والے سسٹم سے وابستہ تھا اور اسکینڈے نیوین ممالک میں تو ادب اور مذہب کا سنگم عروج پر تھا۔
ادب اور مذہب دونوں ہی زندگی کی بہتر تشکیل و تعمیر کے خوگر ہیں۔ دونوں ہی عقل و دانش کے منظم استعمال کے قائل ہیں اور دونوں انسانی جذبات مثلاً محبت، احترام، خوف و ہراس اور سچ کی جستجو کے قائل ہیں۔ ادب اور مذہب دونوں ہی انسان کے ضمیر اور اس کے ارادے کے تقاضوں اور انسان کی آزادی، بھلائی اور اس کی قوتِ ارادی کے دائرۂ عمل کے قائل ہیں۔ دونوں انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر تسلط قائم کرنے والے عناصر کو فوکس کرتے ہیں اور اس کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ہی دراصل انسانی شرف اور وقار اور اس کی اہمیت اور ضرورت کو مانتے ہیں اور اسے سراہتے ہیں۔ مذہب اور ادب کے عظیم موضوعات میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ موضوعات انتہائی حیات آفریں ہیں مثلاً محبت، جذبات، انسان کی قوتِ ارادی اس کا گناہ اور اس کی سزا اور اس سے نجات حاصل کرنے کے طریقے اور جبر و قدر کا مسئلہ، انسانی خود مختاری کی وسعتیں اور اس کی حدود یہ سب باتیں ادب اور مذہب میں مشترک ہیں۔ مغرب میں ان موضوعات پر دانتے، چوسر اور شیکسپیئر سے لے کر آج کے ناول نگاروں اور شاعروں تک سب نے بہت کچھ لکھا ہے اور بہت خوب لکھا ہے۔
جہاں تک ادب اور مذہب کے اسلوب کا تعلق ہے، اس میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں زندگی کی معنویت کو اجاگر کرنے میں سائنس سے زیادہ آرٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ دینیات کو، جو مذہب کی سائنس سمجھی جاتی ہے، اگر ہم تجزیاتی استغراق سے پڑھیں اور سمجھیں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بھی بالآخر انسانی جذبات اور قلبی واردات کی تعبیر و شرح سے گہرا تعلق رکھتی اور اسے خاص اہمیت دیتی ہے۔ لیکن اپنے خاص انداز اور مخصوص اسلوب میں دونوں کا طریقہ منطق، فلسفے اور سائنس سے الگ ہوتا ہے۔ ادب اور مذہب دونوں ہی دلائل پر انحصار تو کرتے ہیں لیکن ان میں بہت کچھ عقل و خرد اور فلسفہ و منطق سے بالاتر ہوتا ہے، لہوذا دونوں زندگی کے اسرار و رموز ہمیں بیشتر اوقات اشاروں اور کنایوں میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی میں بھی حتمی تعقلاتی فیصلے نہیں ملتے۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں انسان کی نجی زندگی اور اس کی محسوساتی شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، وہ تعقلاتی سطح پر بھی پورا اترتا ہے چونکہ وہ انسانی ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے۔
مذہب ادب کو بہت ہی عمیق اور وسعت سے بھرپور موضوعات بخشتا ہے۔ آسمانی صحیفوں میں آپ ایسے استعارے اور کنایے اور تشبیہات پائیں گے جو شاید دنیا کی بہترین شاعری میں یا ادب میں بھی نایاب ہیں۔ اس کے چند نمونے مغرب کے مشہور ترین شعرا کی نظموں سے پیشِ خدمت ہیں۔ مغرب کے شعرا کی شاعری کو پڑھنا اس لیے لازم ہے کہ کیا ہمارے افسانے، کیا ناول اور کیا جدید شاعری، مغرب کے ادب نے مشرق کے ادب کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ اب تو وہ اس کا ایک جزوِ لاینفک بن گیا ہے۔ بعد میں مذہبِ اسلام نے مشرق کے ادب میں جو وسعتیں پیدا کیں، ان کی اہمیت اور ان کی خیر و برکت سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ ساری باتیں ہم اک ذرا تفصیل سے اگلی قسط میں کریں گے۔ اس کالم میں ہم صرف مغرب کی اس شاعری کے نمونے پیش کریں گے جس سے مذہب اور ادب کا صدیوں پرانا سنگم ہمارے لیے سمجھنا زیادہ آسان ہو جائے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ذیل میں آپ جن نظموں کے ٹکڑوں کے تراجم پڑھیں گے، وہ دراصل نظموں کے تراجم سے زیادہ ان کے مفاہیم ہیں۔ ترجمے سے گریز اس لیے لازم ہے کہ ایک تو اس کی ضرورت نہیں، دوسرے یہ کہ یہ کالم کو بلا ضرورت طوالت کا شکارکر دے گا۔ تو آئیے دیکھتے ہیں شہرۂ آفاق برطانیہ کے شاعر پوپ اور جرمنی کے شاعر گوئٹے اور برطانیہ ہی کے شاعر ورڈز ورتھ کی شاعری میں مذ ہب اور ادب کا تال میل کس طرح نظر آتا ہے:
یہ ہیں پوپ جن کی نظم ایک ’’آفاقی مناجات‘‘ سے اقتباس پیشِ خدمت ہے: ’’اے ذاتِ قدیم تو جو میرے ادراک کے محیط سے ماورا ہے میں تیرے بارے میں بس اتنا ہی سمجھ سکا ہوں کہ تو خیرِ کل ہے اور میں نابینا ہوں لیکن پھر بھی تو نے مجھے اس گھور اندھیرے میں خیر و شر کو پرکھنے کی صلاحیت بخشی مجھے مقدر کا تابع کرنے کے بعد بھی مجبورِ محض نہیں کیا بلکہ میرے اندر نت نئے ارادوں کو باندھنے کا اختیار بھی پیدا کیا!‘‘ اسی نظم میں پوپ نے یہ دعائیہ کلمات بھی لکھے کہ اے خدا مجھے دوسروں کے دکھ بانٹنے کی توفیق عطا کر اور دوسروں کے عیب چھپانا اور ان سے ہمدردی کرنا سکھا اور انسان سے محبت کی اتھاہ گہرائیوں میں گم کردے۔
ورڈز ورتھ کہتا ہے: ’’ہماری روح کا مسکن اگرچہ آسمانوں میں ہے لیکن وہ نہ ہم سے بہت ہی دُور ہے نہ ہم پر عیاں۔ جنتِ گم گشتہ ہمارے بچپن کی معصومیت میں پنہاں ہیں اور جوں جوں ہم عمر رسیدہ ہوتے جاتے ہیں، ہم پراس دنیا کے قید خانے کی مادیت پرستی کی سلاخوں کے سایے گہرے ہوتے جاتے ہیں۔‘‘
اور یہ ہیں گوئٹے کے فائوسٹ کے چند الفاظ: ’’اے خدا جو ساری کائنات کو سنوارے اور سنبھالے ہوئے ہے، میں تجھے نہ دیکھتے ہوئے بھی دیکھتا ہوں، آسمانوں میں، زمین پر اور اپنی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون میں ترے وجود کو محسوس کرتا ہوں۔‘‘
آخر میں ٹینی سن کے یہ الفاظ: ’’خدا صرف کائنات ہی میں نہیں، ہمارے اندر بھی موجود ہے۔‘‘
اب اس کے بعد ہم مشرق کا رخ کریں گے اور دیکھیں گے کہ ادب اور مذہب مشرق میں کس رنگ اور طور سے بہم ہیں۔

…آخری قسط…

پچھلے کالم میں ہم نے مغرب کے حوالے سے بات کی تھی اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ مشرق، خاص طور سے برصغیر میں مذہب اور ادب کس طرح اور کب سے باہم ہیں؟ اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذہب اور شاعری پر بات کرتے ہوئے ہم مذہبی شاعری پر بھی بات کریں گے لیکن ان دونوں باتوں میں جو فرق پایا جاتا ہے اس کو اگر ملحوظِ خاطر نہ رکھا گیا تو ہم یقینا اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر پائیں گے، اس لیے کہ مذہبی شاعری تو ایک طرح سے مذہب کی تبلیغ یا اُس کی پیغام رسانی کا ذریعہ ہوتی ہے جب کہ مذہب کا شاعری میں ایک فکر یا ایک اصول یا پھر ایک قدر کی حیثیت سے در آنا نہ تو کوئی مذہبی بھاشن ہوتا ہے اور نہ مذہبی تبلیغ بلکہ یہ تو حقیقت میں ادب اور مذہب کے روابط کا ایک وجدانی اور محسوساتی یا کہ تخلیقی سطح پر اظہار ہوتا ہے۔ مذہبی ادب بیشتر تمثیلی ہوتا ہے اور اس میں استعمال ہونے والی علامتیں اور تشبیہات سب تمثیلی ہوتی ہیں۔ جب کہ وہ شاعری جو مذہبی نہیں ہوتی بلکہ جس کو مذہب نے نمو بخشا ہوتا ہے، وہ اپنی روح میں مذہبی ہوتی ہے اور اپنی ہیئت میں شاعرانہ محاسن کو سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ یہ بات آگے چل کر ادبی حوالوں سے اور شاعری کے اقتباسات سے زیادہ واضح ہو جائے گی۔
چلیے تو اب بات کرتے ہیں مشرق میں مذہب اور ادب کے تال میل کی۔ جب بھی انڈیا کے ادب کی بات چھڑے گی تو ’’مہابھارت‘‘ اور ’’رامائن‘‘ کا تذکرہ سب سے پہلے آئے گا۔ یہ دو نظمیں جو کہ اپنی اصل میں رزمیہ ہیں، ان میں انسانی فلاح و بہبود کے فروغ کی خاطر صفحات کے صفحات بھرے پڑے ہیں جن میں اخلاقیات کی پاس داری اور مذہبی احکامات کی پابندی کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ یوں یہ نظمیں مذہبی ادب کے زمرے میں شامل کیے جانے کی مستحق ہیں۔ ان میں جو عقائد بیان کیے گئے یا جو فلسفہ یا آئیڈیالوجی ہے، ہم اس کو نظرانداز کرکے بھی ان سے محظوظ ہوسکتے ہیں، بشرطے کہ ہم اپنے مذہبی اختلاف کو بالائے طاق رکھ دیں، جیسے کہ مغرب کے ٹی ایس ایلیٹ نے کیا اور آئرلینڈ کے شاعر ییٹس نے۔
(اپنے اپنے عقیدے کے سیاق میں) نثر میں منشی پریم چند اور ڈپٹی نذیر احمد وہ بڑے نام ہیں جنھوں نے ادب اور مذہب کو اتنا قریب کردیا اپنے فن کے کمال سے کہ ان کے ناول اور افسانے پڑھ کر آپ کے دل میں یہ بات اُتر کر رہتی ہے کہ مذہب یقینا ادب کا سرچشمہ ہے اور ادب اس سرچشمے سے بہتا ہوا جھرنا۔ اب رہی شاعری کی بات تو کون ہے جو اس سلسلے میں سب سے پہلے مسدسِ حالیؔ کی بات نہیں کرے گا۔ مگر میں پھر آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مسدس کو پوپؔ کی عالمی مناجات کی طرح کی چیز سمجھنا ہوگا اور یوں وہ ایک مذہبی ادب پارہ ہے، جس میں مسلمانوں کی پس ماندگی، ان کے زوال کا نقشہ بیان ہوا ہے اور ان کی فلاح کی دعائیں مانگی گئی ہیں، بہت پرخلوص اورعاجزانہ انداز میں۔ یوں مسدس ایک مرقع ہے، اسلام سے محبت کا اور مسلمانوں کی بدحالی پر ایک پر گداز اظہار کا۔
اس سے پہلے کہ ہم اقبال کی شاعری میں مذہب کے انسلاکات کا ذکر کریں، غالبؔ کے بارے میں بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ غالب کے یہاں بھی بہت بلند شعر مذہب کے وسیلے سے تخلیق ہوئے، خصوصاً تصوف کے ذیل میں، لیکن غالب کی ظرافت نے جو کہیں کہیں مذہبی تصورات سے چھیڑ خانی کی ہے اس پر کچھ لوگ انھیں برا بھلا کہتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں۔ حالانکہ ان کے اس شعر کو جو اکثر لوگ دُہراتے رہتے ہیں، اگر اپنے اندر ذرا سی ظرافت پیدا کرکے پڑھیں تو آپ غالب کی عمیق مذہبیت اور اس سے جنم لینے والی شاعرانہ لطافت کے قائل ہو جائیں گے۔ ان کے یہ اشعار:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
یا
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
یہ اشعار صرف کٹھ ملائیت کو جز بز کرنے کے سوا اور کوئی مقصد نہیں رکھتے اور غالب کی اس طرح کی شوخی اور چھیڑ خوباں والی عادت پر سنجیدہ ہوجانے اور تنقید کرنے والوں کے بارے میں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غالبـ ہی کو نہیں سمجھتے۔ بہرحال اس نقطۂ نظر کے حق میں اور اس کے خلاف بھی لکھنے والوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں اور دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں کی بات میں اپنی اپنی جگہ وزن بھی نظر آتا ہے، لیکن اس وقت اگر ہم اس بحث کو چھیڑیں گے تو بات لمبی ہوجائے گی، جس کی اس کالم میں گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسئلہ ہمارے زیرِ مطالعہ موضوع سے ایسا کوئی خاص تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اس بحث کو یہیں ختم کرکے ہم اس شاعر کی بات کرتے ہیں جس کی شاعری نے مذہب اور شاعری کے سنگم کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا اور وہ ہے اقبالؔ۔ ان کا مذہب کا مطالعہ، کیا مشرق اور کیا مغرب، کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن ان کی شاعری میں اسلام سے وابستگی کا اظہار ہند و پاک کی تاریخ کے اس موڑ پر ہوا جو سیاسی، اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی لحاظ سے اپنا ایک الگ سیاق و سباق رکھتا تھا۔ اس دور کے اپنے کچھ تقاضے تھے، جن پر مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور قومی زندگی اور اُن کے مستقبل کا انحصار تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی شاعری میں اقبال کے لیے اسلام سے یہ وابستگی ایک بہت ہی گہرا تجربہ اور فکر انگیز امر تھا۔ ویسے تو حقیقت یہ ہے کہ صرف اقبالؔ ہی کیا، دنیا کے ہر بڑے شاعر کے ساتھ مذہب سے وابستگی کے تجربے میں ایسا ہی ہوا، مثلاً دانتےؔ، رلکےؔ، ییٹسؔ اور ٹی ایس ایلیٹؔ۔ ان تمام شعرا نے مذہبی تجرنے کو لاشعوری نہیں بلکہ شعوری طور پر قبول کیا۔ اقبال اور ہر بڑے شاعر کے الفاظ اس کے مذہبی تجربے اور اس کے مذہبی جذبات کے عکاس ہوتے ہیں۔ لیکن اقبال کا معاملہ دوسرے شعرا سے کچھ الگ یا مختلف اس لیے ہو جاتا ہے کہ وہ انفرادی حیثیت کے ساتھ ہی ساتھ اپنی قومی اور ملّی سطح کی بھی نمائندگی کر رہے تھے۔ وہ شخصی احساسات کے علاوہ قومی رُجحانات کی آواز بھی تھے۔ تاہم اقبال کی شاعری اور ان کی نثر پڑھ کر اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اُن جیسا بڑا شاعر اپنے مذہبی اعتقادات کی تشہیر نہیں کرتا بلکہ اس احساس کو اجاگر کرتا ہے جو مذہبی تجربے سے گزرنے کے بعد اس پر مرتب ہوتے ہیں، اور اس کو اجاگر کرتے ہوئے وہ جس طرزِ بیاں سے کام لیتے ہیں اور جو وہ علامتیں، تشبیہات اور کنایے استعمال کرتے ہیں، اُن کے توسط سے مذہبی تجربے کی الوہیت ہم کو ایک شاعرانہ اور ادبی سحر میں لے لیتی ہے۔ یہیں سے آپ ادب اور مذہب کی اساس کے ایک ہونے کے قائل ہوتے ہیں۔ اس طور سے ہم ایسے ادب سے جس کے سوتے مذہبی تجربے سے پھوٹے ہوں، صرف مذہبی آگاہی سے فیض یاب نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسی استعداد سے مستفید ہوتے ہیں، جس کے ذریعے ہم اپنے ارد گرد اور اطراف پھیلی ہوئی دنیا میں مذہب کی روح کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنے اندر اس کو اترتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ ۱قبال کی نظم ’’اسرارِ خودی‘‘ میں جو انھوں نے کہا ہے کہ زندگی کا راز اس کی جستجو اور اس کے جوہر کی تلاش کی تمنا میں مضمر ہے، وہ ادب اور مذہب کے کُل تعلق کو محیط ہے۔ ہر زبان کا ادب ہر مذہب کی طرح انسان کو مذہبی رواداری، انسانیت، خیر کے فروغ کی خاطر شر سے جنگ کرتے رہنے، آپس داری، غم گساری اور بھائی چارے کی تلقین کرتا ہے اور یوں ہم کو شرفِ انسانیت سے متعارف کراتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ ادب بھی جو مذہب کی رسمیاتی سطح سے متصادم ہوتا ہے، اس کی گہرائی میں بھی مذہب ہی کی روشنی پھیلی ہوتی ہے، مثلاً دوستوئیفسکی کے ناولوں کے کفر بکتے ہوئے کردار بھی اپنے دل میں مذہب ہی کی اَن مٹ پیاس لیے ہوئے ملتے ہیں۔ ان سب باتوں کو سمیٹتے ہوئے ہم لازماً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ادب مذہب سے محبت اور بظاہر فرار یا بیزاری دونوں طرح کے تجربوں میں یکساں کارفرما ہوتا ہے۔
مذہب اور ادب دونوں ہی زندگی میں اور اس دنیا میں امن و امان اور انسانی بھائی چارے کے پرچارک ہیں اور مجھے تو اکثر ان کو ایک دوسرے سے الگ دیکھتے ہوئے سوائے اندھیرے کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

Sunday, 9 September 2012

A POEM OF SHAIKH SADI FROM THE BURSTAN


from "The Bustan"
English Translation

Poem by Sheikh Moslehedin Saadi Shirazi
from "The Bustan"
Translated By G.M. Wickns
Poem in Farsi
 
On Justice, Management, and good Judgment
I've heard that, while he yielded up his soul,
Thus spoke to Hurmuz, Nushirwan:
Be a guardian of the poor man's mind,
Lie not in the bonds of your own ease!
 No one in your land is easy,
When your own ease is all you seek;
No wise man will approve the case
Where the shepherd sleeps and the wolf's among the sheep.
Go! Keep watch upon the poor and needy,
For by virtue of the people the emperor holds his crown.
The people are like a root, the ruler is the tree;
The tree, my son, from the root draws its strength.
So far as you are able, hurt not the hearts of men;
If you do, you but tear up your own roots!
 Do you need a highway, straight?
The road of the devout is that of Hope and Fear;
Nature, this becomes to a man in prudence:
In hope of good and fear of evil;
If in a prince these both you find,
You find a solid footing for his clime and realm:
For indulgence he brings to the hopeful,
In hope that the Maker will be indulgent;
He does not look with favour on any persons' harm,
Fearing that harm may come to his realm.
 But if this temper be not in his composition,
In that land there's no hope of rest.
If you are hobbled, practice resignation;
But if galloping at will, then make your own way!
Look not for amplitude in that march and land,
Where you see the people distressed by the emperor.
Fear the bold and proud ones,
But fear also the one who fears not the just One!
Only in dreams will he see a land prosper,
Who ruins the hearts of the land's inhabitants:
From tyranny derive ruination and ill-repute;
The foresighted one will plumb these words.
Unjustly, the people may not be slain,
For they are authority's asylum and support;
For your own sake, care for the yeoman,
For the happy labourer does more work!
It is not manly to do evil to one
From whom you have received much good.
I've heard that Khusrau said to Shiruya,
As sleep befell his eyes that used to see:
So be that all you purpose
Envisages the people's welfare.
Turn your head never from Justice and Good judgment, 
That men turn not their footsteps from your hand!
The people from the unjust one flee,
Making his ugly name a byword in the world;
Not long it is before his own foundation
He uproots, who laid a bad foundation.