Search This Blog

Showing posts with label PERSONALITIES. Show all posts
Showing posts with label PERSONALITIES. Show all posts

Friday, 5 January 2018

بن الہیثم ایک عظیم مسلمان سائنس دان ۔ Al-Haitam a great scientist




ابن الہیثم
ایک عظیم مسلمان سائنس دان

(امیر سیف اللہ سیف)
یورپی ماہرین عام طور پر یہ باور کراتے ہیں کہ نشاط ثانیہ کے دور کے تمام عرصے میں دنیا میں کوئی بڑی سائنسی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مغربی یورپ کی حد تک تو اس بیان میں حقیقت ضرور ہے کیونکہ اس عرصے میں تمام مغربی یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ لیکن یہ بات دنیا کے دوسرے حصوں اور خاص طور پر عرب دنیا کی حد تک قطعی غیر حقیقی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ مغربی مورخین اپنےحسد اور تعصب کے باعث اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکا ر کرتے ہیں یا کم از کم اس حقیقت کو بیان کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
نویں اور تیرہویں صدی کے درمیانی عرصے میں عرب اور مسلمان سائنس دانوں نے سائنس کی مختلف شاخوں میں جوتحقیق کی اور تجربات کی روشنی میں جو اصول وضع کیے وہ موجودہ ترقی یافتہ سائنس کے لئے بنیادبنے۔ اس عرصے میں عرب دنیا میں ریاضی، فلکیات، طب، طبعیات، کیمیا اور فلسفے کے میدان میں بہت کام کیا گیا۔ اس دور میں مسلمان سائنس دانوں نے محیر العقول تحقیق کی اور ان کے قائم کردہ نظریات کو جدید ترین تحقیق بھی غلط ثابت نہیں کر سکی۔ اس تمام عرصے میں عرب اور خاص طورپر مسلمان دنیا میں سائنسی علوم میں جس قدر تحقیق و ترقی ہوئی وہی جدید سائنس کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اس دور کے بڑے ناموں میں ابن الہیثم کا نام شاید سب سےزیادہ نمایاں اور روشن ہے۔
ابن الہیثم کا پورا نام ”ابو علی الحسن بن الہیثم“ہےلیکن ان کی عمومی شہرت، ابن الہیثم کے نام سے ہے۔ ان کی پیدائش عراق کے شہر بصرہ میں 354 ہجری (965ء)اور وفات 430 ہجری میں ہوئی ۔ وہ طبعیات ، ریاضی ، انجنیئرنگ، فلکیات اورادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔
تقریباً تمام درسی کتب میں لکھا ہے کہ جدید بصری علوم کے بانی آئزک نیوٹن تھے۔ عدسوں اورمنشور پر کئے گئے روشنی کے تجربات مثلاً روشنی کا انعکاس،ا نعطاف اور منشور سےسفید روشنی گزار کر اس کے مختلف رنگوں کا مشاہدہ وغیرہ سب نیوٹن سے منسوب ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئزک نیوٹن دنیا کے عظیم ماہر طبعیات تھے لیکن یہ گمان کہ بصری علوم کے پہلے ماہر نیوٹن تھے، تاریخی شواہد کی رو سے قطعاً غلط ہے۔ نیوٹن سے سات سو سال قبل ابن الہیثم نے بصریات پر تحقیق کی اور قدیم نظریات کو غلط ثابت کیا۔
ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ ان کی کتاب ”کتاب المناظر“بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے افلاطون، بطلیموس اوراس وقت کے کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی کی شعاع نکل کر کسی جسم سے ٹکراتی ہے تو ہمیں وہ جسم نظر آتا ہے۔ ابن الہیثم نے اس نظریہ کو قطعاً رد کیا اور ثابت کیا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ روشنی کی شعاع آنکھ سے نکل کر جسم سے نہیں ٹکراتی بلکہ جسم سے منعکس ہونے والی روشنی ہماری آنکھ کے عدسے پر پڑتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو ریاضی کی مدد سے ثابت بھی کیا جواس وقت تاریخ میں پہلی مثال تھی۔
ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف دریافت کیا۔ انہوں نے نظر کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے عدسوں کا استعمال کیا۔ ان کی سب سے اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی ہے. انہوں نے آنکھ کے ہر حصہ کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں آج کی جدید سائنس رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکی۔ ابن الہیثم نے آنکھ کا ایک دھوکا یا وہم بھی دریافت کیا جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیز دور اور دور کی چیز نزدیک نظر آتی ہے۔
ابن الہیثم نے روشنی، انعکاس اور انعطاف کے عمل اور شعاؤں کے مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ زمین کی فضا کی بلندی ایک سو کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔
ابن ابی اصیبعہ ”عیون الانباء فی طبقات الاطباء“میں کہتے ہیں: “ابن الہیثم فاضل النفس، سمجھدار اور علوم کے فن کار تھے، ریاضی میں ان کے زمانے کا کوئی بھی سائنسدان ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا۔ وہ ہمیشہ کام میں لگے رہتے تھے۔ وہ نہ صرف کثیر التصنیف تھے بلکہ زاہد بھی تھے”۔
یورپی تاریخ نویسوں کی اکثریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ جدید سائنسی طرز عمل سترہویں صدی کے اوائل میں فرانسس بیکن اور رینے ڈیکارٹ نے متعارف کروایا تھا۔ تاہم تاریخی شواہد اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابن الہیثم ہی نے اس جدید سائنسی ضابطۂ عمل کو متعین کیا اور ان ہی کو اس کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جس کو سائنسدان معلومات کے حصول، معلومات کی درستگی، الگ الگ معلومات کو ملا کر نتیجہ اخذ کرنے اورمشاہدے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کو بنیاد بنا کر سائنسدان اپنا تحقیقی کام کرتے ہیں۔
ابن الیثم 996 ء میں فاطمی خلافت، مصر کے دربار سے منسلک ہو گئے تھے۔ انہوں نے دریائے نیل پر اسوان کے قریب تین طرف بند باندھ کر پانی کا ذخیرہ کرنے کی تجویز پیش کی لیکن ناکافی وسائل کی وجہ سے اسے ترک کرنا پڑا۔ اب اسی جگہ مصر کا سب سے بڑا ڈیم یعنی اسوان ڈیم قائم ہے۔
قفطی کی ”اخبار الحکماء“میں ابن الہیثم کی زبانی یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

“لو کنت بمصر لعملت بنیلھا عملاً یحصل النفع فی کل حالہ من حالاتہ من زیادہ ونقصان”
ترجمہ: ”اگر میں مصر میں ہوتا تو اس کی نیل کے ساتھ وہ عمل کرتا کہ اس کے زیادہ اور نقصان کے تمام حالات (یعنی اس میں پانی کم ہوتا یا زیادہ) میں نفع ہی ہوتا”
ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ نیل کے پانی کو آبپاشی کے لیے سال کے بارہ مہینے دستیاب کر سکتے تھے، ان کا یہ قول مصر کے حاکم الحاکم بامر اللہ الفاطمی کو پہنچا تو انہوں خفیہ طور پر کچھ مال بھیج کر انہیں مصر آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی اور مصر کی طرف نکل کھڑے ہوئے جہاں الحاکم بامر اللہ نے انہیں اپنی کہی گئی بات پر عمل درآمد کرنے کو کہا۔ ابن الہیثم نے نیل کے طول وعرض کا سروے شروع کیا اور جب اسوان تک پہنچے (جہاں اس وقت “السد العالی” (السد العالی ڈیم) قائم ہے) تو ان کو اندازہ ہوا کہ اس وقت کےموجودہ وسائل اور تکنیکی سہولتوں کی ناکافی دستیابی کے باعث یہ کام ناممکن ہے اور انہوں نے جلد بازی میں ایک ایسا دعوی کردیا ہے جسے پورا کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا اور الحاکم بامراللہ سےمعذرت کر لی۔ الحاکم بامراللہ نے ان کے عذر کو قبول کر لیا۔ چند شواہد کی بنیاد پر ابن الہیثم نے الحاکم بامراللہ کی خاموشی کو وقتی چال سمجھا اور سزا سے بچنے کے لئے پاگل پن کا مظاہرہ شروع کردیا۔ الحاکم بامر اللہ کی موت تک ابن الہیثم نے یہ مظاہرہ جاری رکھا۔ یہ عرصہ1011ء سے 1021ء تک، دس سال کی طویل مدت پر مبنی تھا۔ ایک اور حوالے کے مطابق ابن الہیثم کو دریائے نیل پر بند باندھنے میں ناکامی کی پاداشت میں دس سال کی مدت تک نظر بند کر دیا گیا تھا۔ حقیقت کچھ بھی ہو،کہتے ہیں کہ اس مدت کے اختتام پر ابن الہیثم نے جامعہ ازہر کے پاس ایک کمرے میں رہائش اختیار کر لی تھی اور اپنی باقی زندگی کو تحقیق وتصنیف کے لیے وقف کردیا تھا۔
جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ نے کہا وہ واقعی کثیر التصنیف تھے، سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی 237 تصنیفات شمار کی گئی ہیں۔ سکندریہ میں ایک محقق نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے پاس ابن الہیثم کا فلکیات کے موضوع پر تحریر کردہ ایک مقالہ موجود ہے جو حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔اس مقالے میں ابن الہیثم نے سیاروں کے مدار کی وضاحت کی تھی جس کی بنیاد پر بعد میں کوپر نیکس، گیلیلیو، کیپلر اور نیوٹن جیسے یورپی سائنسدانوں نے کام کیا۔ ابن الہیثم کی کچھ تصانیف درج ذیل ہیں۔
1.کتاب المناظر.2. کتاب الجامع فی اصول الحساب.3. کتاب فی حساب المعاملات.
4.کتاب شرح اصول اقلیدس فی الہندسہ والعدد.5.کتب فی تحلیل المسائل الہندسیہ.6. کتاب فی الاشکال الہلالیہ.
7.مقالہ فی التحلیل والترکیب.8.مقالہ فی برکار الدوائر والعظام.9.مقالہ فی خواص المثلث من جہہ العمود.
10. مقالہ فی الضوء.11.مقالہ فی المرایا المحرقہ بالقطوع.12.مقالہ فی المرایا المحرقہ بالدوائر.
13.مقالہ فی الکرہ المحرقہ.14.کقالہ فی کیفیہ الظلال.15.مقالہ فی الحساب الہندی.
16. مسألہ فی الحساب.17. مسألہ فی الکرہ.18.کتاب فی الہالہ وقوس قزح.
19.کتاب صورہ الکسوف.20. اختلاف مناظر القمر.21. رؤیہ الکواکب ومنظر القمر.
22.سمت القبلہ بالحساب.23. ارتفاعات الکواکب.24. کتاب فی ہیئہ العالم.
بعض محققین کا خیال ہے کہ ابن الہیثم نے طب اور فلسفہ کے موضوعات پر بھی مقالے تحریر کئے تھے۔

Monday, 12 May 2014

امام غزالی Imam Ghazali

امام غزالیؒ


0  | By Shams Khan
اسلام کے نہایت مشہور مفکر اور متکلم کا نام محمد، اور ابو حامد کنیت تھی، جبکہ لقب زین الدین تھا۔ ان کی ولادت 450ھ میں طوس میں ہوئی۔ آپ کے والد محمد بن محمد کا انتقال 465ھ میں اُس وقت ہوا جب آپ کی عمر پندرہ برس تھی۔ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت شیخ احمد غزالی کی عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔ابتدائی تعلیم طوس و نیشا پور میں ہوئی۔ نیشاپور اُن دنوں علم و فن کا عظیم مرکز تھا۔ بڑے بڑے جید اور قابل ترین اساتذہ کرام نیشاپور میں موجود تھے۔ آپ نے نیشاپور میں مدرسہ نظامیہ میں اپنے وقت کے مشہور عالم دین علامہ ابوالمعالی جوینی کے زیرسایہ داخلہ لے لیا۔ علامہ جوینی کو امام الحرمین کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی خدمت میں حاضر رہ کر امام غزالی نے دیگر علوم کے علاوہ علم مناظرہ، علم الکلام اور علم فلسفہ کی تکمیل کی اور ان علوم میں اس قدر کمال حاصل کیا کہ علامہ جوینی کے تین سو شاگردوں میں سبقت لے گئے اور تھوڑی سی مدت میں فارغ التحصیل ہوکر سند حاصل کرلی۔ آپ کی عمر صرف اٹھائیس برس تھی جب آپ نے تمام علوم اسلامیہ یعنی فقہ و حدیث، تفسیر، علم مناظرہ، علم کلام، ادبیات، فارسی و عربی، ولایت اور علم فلسفہ میں درجۂ کمال حاصل کرلیا۔ 478ء میں علامہ جوینی کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی علم شناسی، علم دوستی، قابلیت و اہلیت کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنے استادِ محترم کی زندگی میں ہی مدرسہ نظامیہ میں نائب مدرس مقرر کردیا گیا تھا، پھر کچھ عرصے کے بعد آپ مدرسہ کے مدرس اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ امام کی علمی قابلیت کا اعتراف ان کے استادِ محترم امام جوینی بھی کیا کرتے تھے اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ امام غزالی نے اپنی کتاب ’’منحول‘‘ تصنیف فرمائی تو اسے اپنے استاد محترم علامہ جوینی کی خدمت میں پیش کیا۔ استاد محترم نے کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد فرمایا ’’غزالی تم نے مجھے زندہ درگور کردیا ہے۔ یعنی یہ کتاب میری تمام شہرت پر حاوی ہوگئی اور میری شہرت دب کر رہ جائے گی‘‘۔ استاد محترم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات سچ ثابت ہوئی۔ امام غزالی آسمانِ علم و ہدایت کا ایک روشن ستارہ ہیں جس کی روشنی سے تاقیامت انسانیت مستفید ہوتی رہے گی۔ آپ کی کتاب’’المنقذ من الضلال‘‘ آپ کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ سیاسی انقلابات نے امام غزالی کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور وہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے، پھر حج کرنے چلے گئے اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔ آپ کی دیگر مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ آپ کا انتقال505ھ میں طوس میں ہوا۔
غلطی سے
اردو کے منفرد مزاح نگار شوکت تھانوی اپنی شاعری کی ابتدا کا ذکر ایک مختصر سی ریڈیائی تقریر ’’میری سرگزشت‘‘ میں اس طرح کرتے ہیں:
’’لکھنؤ کے ایک رسالے میں، جس کے نام سے ہی اس کا معیار ظاہر ہے یعنی ’’ترچھی نظر‘‘… میری ایک غزل چھپ گئی۔ کچھ نہ پوچھیے میری خوشی کا عالم۔ میں نے وہ رسالہ کھول کر ایک میز پر رکھ دیا تاکہ ہر آنے جانے والے کی نظر اس غزل پر پڑ سکے۔ مگر شامتِ اعمال کہ سب سے پہلے نظر والد صاحب کی پڑی اور انہوں نے غزل پڑھتے ہی ایسا شور مچایا کہ گویا چور پکڑ لیا ہو۔ والدہ محترمہ کو بلا کر کہا:
’’آپ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ:
ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
ترے کوچے میں ہم جا کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں
میں پوچھتا ہوں کہ ’’یہ جاتے ہی کیوں ہیں؟ کس سے پوچھ کر جاتے ہیں؟‘‘ والدہ بے چاری سہم کر رہ گئیں اور خوف زدہ آواز میں بولیں:
’’غلطی سے چلا گیا ہو گا!‘‘
دل کے اندھے
ایک دیہاتی کو اپنی پالتو گائے سے بہت محبت تھی۔ دن رات اس کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتا اور ہر دم اس کی دیکھ بھال میں لگا رہتا۔ ایک دن وہ گائے کو باڑے میں باندھ کر اچانک ضروری کام سے چلا گیا۔ اتفاق سے اس دن دیہاتی باڑے کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔ جنگل کا شیر کئی دنوں سے گائے کی تاک میں تھا۔ اس دن اسے موقع مل گیا۔ شیر رات کی تاریکی میں دبے پائوں آیا، باڑے کے اندر گھسا اور گائے کو چیر پھاڑ کر ہڑپ کر گیا۔ شیر گائے کو کھانے کے بعد وہیں باڑے میں بیٹھ گیا۔ دیہاتی رات گئے گھر واپس آیا اور گائے کو دیکھنے کے لیے پہلے سیدھا باڑے میں گیا۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا۔ شیر گائے کو کھا کر مست بیٹھا ہوا تھا۔ دیہاتی نے شیر کو اپنی گائے سمجھ کر پیار سے پکارا۔ پھر اس کے پاس بیٹھ کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ دیہاتی احمق کو اگر پتا چل جاتا کہ وہ جسے اپنی گائے سمجھ کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا ہے وہ آگے بیٹھا ہوا جنگل کا بادشاہ شیر ہے تو مارے دہشت کے اس کا جگر پھٹ جاتا اور دل خون ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کا نام ہم نے صرف پڑھا اور سنا ہے اور لفظ اللہ صرف زبان سے ہی پکارتے رہتے ہیں۔ اگر اس پاک ذات کی ذرا سی حقیقت بھی ہم پر واضح ہوجائے تو جو ہمارا حال ہوگا ہم اسے نہیں جان سکتے۔ کوہِ طور پر تجلی پڑنے سے جو اُس کا حال ہوا اس کی سب کو خبر ہے۔ اس پر مزید قلم کشائی میری بساط سے باہر ہے۔
درسِ حیات:
٭ تیرا نفس اس خونخوار شیر سے بھی زیادہ خطرناک ہے جسے تُو اندھے پن میں فریب خوردہ ہوکر اور گائے سمجھ کر پال رہا ہے۔ اس کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتا۔ ابھی وقت ہے اپنی اصلاح کرلے۔
(حکایت رومی)
کلام اقبال فارسی کا منظوم ترجمہ
شفق ہاشمی
’’پیامِ مشرق‘‘
’’رموزِ اقبال‘‘
ز انجم تا بہ انجم صد جہاں بوو
ستاروں میں بسے صدہا جہاںہیں
خرد ہر جا کہ پَر  زد  آسماں بود
خرد  جس جا گئی  وہ  آسماں  تھا
و لیکن چوں بخود  نگریستم من
مگر جب اندروں  دیکھا  تو پایا
کرانِ بیکراں در من نہاں بود
کہ خود میں بیکراں عالم نہاں تھا
آخری خواہش
سقراط کو سزا دینے سے پہلے پوچھا گیا: ’’تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں شہر کے سب سے اونچے مکان پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہوں کہ اے لوگو! حرص اور طمع کی وجہ سے اپنی زندگی کے بہترین اور پسندیدہ ترین دن مال و دولت جمع کرنے میں کیوں بسر کر رہے ہو! یہ قیمتی وقت اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کیوں نہیں لگاتے! جبکہ تم یہ ساری دولت چھوڑ کر خالی ہاتھ چلے جائو گے۔
(ماہنامہ پھول، لاہور۔ جون 1999ء صفحہ 4)
موبائل فون ایپس صارفین کی ’مجبوری‘
مارکیٹنگ ریسرچ فرم ’فلری‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسمارٹ فون کے عادی افراد کی تعداد میں حیرت انگیز اضافے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون ایپلی کیشنز ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دن میں 60 بار موبائل ایپلی کیشن کھولنے والے افراد موبائل فون کے عادی پائے جاتے ہیں، تاہم خواتین اس مسئلہ میں سب سے زیادہ گرفتار پائی گئی ہیں۔
’فرلی‘ کے تجزیہ کاروں نے کثرت سے موبائل فون استعمال کرنے والوں کے رویّے کا جائزہ لینے اور مشاہدہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشہور محقق میری میکر کی انٹرنیٹ رجحانات پر مبنی رپورٹ کے اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ گزشتہ برس کی اس تجزیاتی رپورٹ میں تحقیق کار میکر نے موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک عام صارف ہر روز دن میں اوسطاً 150 بار اپنی ڈیوائس چیک کرتا ہے۔ موبائل فون کے ساتھ لوگ کتنا جڑے ہوئے ہیں اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے ماہرین نے موبائل فون استعمال کرنے والوں کو تین درجوں میں منقسم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دن میں کم از کم 10 بار موبائل ایپ کا استعمال کرنے والا شخص اوسط صارف کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ سپر درجے میں ایسے افراد شامل ہیں جو ایک دن میں 16 سے زائد بار موبائل ایپ کھولتے ہیں۔ لیکن دن میں 60 بار سے زائد ایپلی کیشن کا استعمال کرنے والوں کو موبائل فون کا عادی بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے ایک سال میں موبائل فون کے عادی افراد کی تعداد میں 123 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موبائل فون کا عادی ہونے کے امکانات خواتین میں مردوں سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں نے موبائل فون کے عادی افراد کی عمروں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ نوجوانوں کے مقابلے میں درمیانی عمر کے افراد موبائل فون کے زیادہ عادی پائے گئے۔
جاپان: بچے کم، بوڑھے زیادہ
جاپان کی وزارت داخلہ اور مواصلات نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جاپان کی آبادی میں 2 لاکھ 84 ہزار افراد کی کمی ہوگئی ہے۔
آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرح 25.6 فیصد ہوگئی ہے جبکہ 14 سے کم عمر کے بچوں کا تناسب پہلے سے گر کر صرف 13 فیصد رہ گیا ہے۔ جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ جاپان میں 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے جو آبادی کا 25.6 فیصد ہے۔ اسی طرح جاپان میں چودہ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک لاکھ 60 ہزار کم ہے۔ آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں بوڑھوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اندازوں کے مطابق اگر جاپان میں آبادی کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2060ء تک جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 40 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ جاپان کی آبادی میں گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کمی ہورہی ہے۔ جاپانی حکومت کے اعلان کے مطابق آبادی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی 1950ء کے بعد سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رواں سال جاپان میں لمبے عرصے سے مقیم غیر ملکیوں کو بھی مردم شماری میں شامل کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس فوکوشیما میں ہونے والے جوہری حادثے کی وجہ سے غیر ملکی آبادی کے تناسب میں کمی ہوئی ہے اور غیر ملکی جاپان سے چلے گئے ہیں۔

Sunday, 7 October 2012

IMAM HASNUL BANNA

امام حسن البنا
مصر ی انقلا ب کا ایک لا زوال مرقع
محمد یوسف مکروہ

مال بے مثال ہو تو تعریف مشکل ہو جاتی ہے اور یہ حسنِ اخلاق اور اعمال و کردار کی رعنا ئیو ں سے مزّ ین ہو تو قلم یا زبان سے اس کا احاطہ کرنا مشکل تر بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ پروردگارِ عالم نے انبیائے کرام ؑعالمِ انسانیت کی ہدایت ورہنما ئی کے لئے مبعوث فرما ئے اوران کے مخلص و جاں نثار متبعین کی شکل میں ہرزما نے میںکئی ایسے مومنین صادقین پیدا فرمائے جن کا ذکر تاریخ و تذکار کے اورق میںجمیل مشک و عنبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی اکرم اور پیغمبر اعظم و آ خر صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ کرامؓ کی مثال آسما نِ رسالت کے درخشندہ ستاروں کی مانند ہے۔ ان کے بعد تا بعین اور تبع تا بین کی تا بنا ک ہستیا ں رُشد و ہدایت کی مسند پر جلوہ افروز ہیں۔ بعدازاں شہداء ،صلحا ئ، اتقیائ، اولیا ء ، مجددین ، علما ئے ربا نین، داعیانِ حق اور صوفیائے عظام کا وہ قافلہ سخت جا ں تاریخ دعوت وعزیمت کا ہم رکاب وہمسفر ہو ا جن کی پاک سیرتو ں اور بیش قیمت خدمات اور احسانات کا قرضہ امت اسلا میہ پر ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ انہی برگزیدہ اور چنیدہ شخصیات میں ایک نامو ر ہستی اخوان المسلمین مصر کے پہلے مرشد عام حسن البنا شہیدؒ ہیں۔ اُن کی نصف صدی پر محیط قابل رشک انقلا بی زندگی اور پوری صدی پر محیط اس کے خوشگواراثرات و ثمرات کا بہ نظر غائر مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تجدیدِ دین ہی کے لیے پیدا کیا تھا۔ حسن البنا کی شخصیت میں ایک غیر معمولی سحر انگیزی اور دِل کش جاذبیت کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ایسا دکھا ئی دیتا ہے جیسے حسن البنا کے قالب میں کا رخا نۂ قدرت سے ایک ایسی بے چین روح سمو ئی گئی تھی جو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے اُس کی مرضی وہدایت کی ر وشنی میں دنیا کو بدل ڈالنے اور اسے مالک و خالق کی اطاعت میں لانے کے لئے ہر آں سرگرم عمل اور مضطرب ہے۔ یہ کیفیت اُن کے بچپن سے لے کر جوانی اور پھر شہادت کے لمحات تک رواں دواں نظر آتی ہے۔ امام حسن البنا کی آپ بیتی یا دعوتی سفر کی یاد داشتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسی عظیم شخصیت کے حامل انسان تھے۔ ان کی حیاتِ مستعار کی ورق گردانی کر تے ہوئے ہر ایک انوکھامنظر چشم بصیرت کو وا کر تا ہے اور یہ یقین ثقہ کر دیتا ہے کہ آ پ میں فطری طور پر اللہ جل شانہ کی مہر با نی سے نیکیا ں اورخو بیا ں کو ٹ کو ٹ کر بھر ہو ئی تھیں۔ اس نیک نہا د بچے کی عمر ابھی چھ سات سال ہی تھی کہ گویا اشارہ ٔ غیب پر اس کا دل دینی جذبات کا اُمنڈتا ہوا سر چشمہ بنا۔ پھر یہی بچہ سترہ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ کر قاہرہ اور اسکندریہ کے ریستورانوں، قہوہ خانوں اور سماجی محفلوں حتیٰ کہ تفریحی مقامات پر جا جا کر اور وہا ں مو جو د مختلف المزاج لوگوں سے بہت ہی پیا رے اوردل کو چھو نے والے اسلو ب میں علمی اور تذکیری مذاکرات کر تے اور انہیں ایک اللہ کی بند گی کی طرف بلا تے تو ان کی شان دو بالا ہو تی۔ دعوت کا یہ کام کر تے ہو ئے انہیں لو مت لا ئم کا ڈر تھا نہ نتا ئج وعواقب کا خو ف، حکومتی عتاب کا واہمہ لا حق تھانہ مخا لفین کی ریشہ دوانیو ں کا کو ئی ادنیٰ سا وسوسہ۔ بس انسانیت کے ساتھ ایک غیر مشروط محبت اور عہدِ وفا نبھانے کی بے کلی اور بے چینی تھی جو انہیں ہر جگہ ایک مثا لی خدائی خدمت گار کے روپ میں پیش کر تی ۔ اسلام کے نظا م رحمت سے روحانی ا ور وجدانی اُنس ، قرآن مجید کا حقیقی فہم، پیغمبر آ خرالزما ںؐ سے بے محا بہ عشق اور مسلما نوں کی غفلت و بے شعوری پر قلبی اضطراب… انہی اوصاف حمیدہ نے حسن البنا ؒ میں بے چین روح ودیعت کر دی تھی اور ان کی شخصیت کومحبت ومٹھا س کی دلآ ویز قالب میں ڈھا لاتھا کہ الفا ظ اس کا احا طہ کر نے سے قاصر ہیں ۔ ویسے یہ لا یق صد ستا ئش صفات اور کیفیا ت ہر اُس اصول پر ست داعیٔ دین کا گہنہ ہو تی ہیں جو اپنے مالک سے محبت اور تعلق خاطر کی لذت سے سرشار ہو کر تما م انسانوں کو فی اللہ وللہ خالق کا ئنات سے جو ڑنے کا بیڑہ اٹھا ئے۔ البتہ یہ با ت بلا مبا لغہ کہ اپنے دیگر ہم عصر وہم قدم داعیو ں میں مصر کی اس تا ریخ ساز شخصیت کا زیادہ خوبصورت اور نما یا ں پہلو یہ ہے کہ وہ نیکی اور پاکیزگی ، کامیابی اور ابدی کامرانی کی اس لذت آ شنا ئی کے قرآ نی تصور کو کچھ زیا دہ ہی انہما ک بلکہ اضطرابِ قلب کے ساتھ اللہ کے دوسرے بندوں تک منتقل کر نے میں عزیمت کی راہ پر گا مز ن ہوئے تاکہ ان کے ہم وطن اللہ کے غضب سے بچ جا ئیں اور ان کی پوری قوم بلکہ دنیا ئے انسا نیت بندگی ٔ رب کے رنگ میں رنگ جا ئے ۔ یہ اسی خلو ص ، عقل سلیم اور فعالیت کا نتیجہ ہے کہ ۱۲ سال کے اندر ہی اندرمصر کا ہی نہیں بلکہ عالمِ عرب کا پورا فکری اور ایما نی نقشہ بدل گیا اور عرب ممالک میں کا فی عرصہ تک خدا فرامو شی اور خو د فرامو شی کی آندھیاں چلنے کے بعد یہ یک قلم تھم گئیں اور حسن البنا کی شروع کردہ اخوان کی تحر یک سے ایک روحانی، اخلا قی اوراصلا حی انقلا ب بر پا ہو اجس نے دنیا میں ایک تہلکہ سا مچا دیا۔

1928 ء میں اسماعلیہ کے مقام پر منظم انداز سے دعوت دین کا آغاز کرنے والے حسن البنا نے دوسرے حق پر ستو ںکی طرح بہت جلد اپنے دشمن اور مخالفین پیدا کئے ۔ ہردور کے استبدادی حکمران کی طرح جمال نا صر کی حکو مت کے لئے اس دعوتی تحریک کی کا میا بی کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ اپنا بو ریا بسترہ لپیٹ دے۔ چونکہ اس کا راج تاج خدا پر ستا نہ اصولوںکی بیخ کنی پر استوار تھا، اس لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنی با طل حکومت ، سیا سی دبدبے اور عیا شیو ں کی قیمت پر سچے اور بے عیب جمہو ری سسٹم کو پنپنے کی اجازت دیتا؟ حسن البنا کی تحریک کا گلا گو نٹھنے کے لئے نا صر جو خو د کو مصری قومیت کا علمبردار جتلا تا اور فخر کے ساتھ اپنے آپ ’فراعنہ کی اولا د‘ کہلوا نا پسند کر تا تھا، امام البنا کے انقلا ب کو اپنے لئے بجا طو ر پیغام اجل سمجھ رہا تھا۔ چنا نچہ اس نے سازشوں کا تا نہ بانہ بُن کر اپنی دانست میں راستے کے اس کا نٹے کو ہٹا دیا لیکن تاریخ نے اُسے جھٹلا یا کیونکہ تعذیب و تخریب کے جملہ یزیدی حربے آ زما نے کے با وجو د اخوان کی تحریک جاری وساری رہی اور آ ج کی تا ریخ میں اخو ان کے ہی رہنما محمد مرسی مصر کی کرسیٔ صدارت پر براجما ن ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جھوٹ چا ہیے اپنے سارے لا ؤ لشکر کے ساتھ حق کو پسپا کر نے کے لئے کتنا ہی ایڑی چو ٹی کا زورلگا ئے سچ کا سورج طلو ع ہو کر رہتا ہے۔ بہر صورت فروری 1949 ء میں حسن البنا ؒ کو سرراہ گو لی ما رکرجامِ شہادت نوش پلا یا گیا۔ ان کی شہادت کے وقت پورے مصر میں اخوان کے لاکھوں وابستگان تھے اور ۲؍ہزار سے زیادہ شاخیں تھیں، جب کہ صرف قاہرہ میں 200 تنظیمی حلقے سرگرم تھے۔

ا مام البنا مہینے میں بیس با ئیس دن مسلسل دعوتی سفر پر رہتے تھے۔ شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں سے ملتے جلتے اور ان سے مخاطب ہو کر ایک عام فہم اور دل میں اُتر نے والے مخلصانہ طرز بیان میں ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ ان کی یہ ادا دیکھ کر لگتا گویاکنواں خود پیاسوں کے پاس پہنچتا، رات دن کی پرواہ کئے بغیر، نیند اور تھکن کو خاطر میں لائے بغیر، قلب و روح کے دروازوں پر دستک دینے والے اس محسن کا احسا نات کا قرضہ شاید ہی ان کی قوم چکا سکتی ہے ۔ جن دنوں وہ طو یل دعوتی سفر میں نہیں ہوتے تھے، ان ایام میں جہاں کہیں بھی اُن کا مستقر ہوتا وہیں پر دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی مسجد، کوئی محلہ حتیٰ کہ وہ جگہیں بھی جنہیں سادہ لو ح لوگ بالعموم اہل تقویٰ کے لئے کوئی بہت اچھی جگہ نہیں سمجھتے، مثلاً کلب اور ریستوران جہاں نغمہ و سرور اور لذت کام ودہن کی کی محفلیں برپاہوتیں، وہ وہاں بھی پہنچ جا تے ۔ یو ںحسن البنا نے ملک میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی جہاں انہوں نے مقدرو بھر شہادت حق کا فریضہ ادا نہ کیا ہو۔ شہید حسن البنا کو اپنے مقدس کاز اور مشن سے کس درجہ والہانہ عقیدت اور اس کا کس درجہ فہم و ادراک تھا، اس کا انداز اس خطبے سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے 1938 ء کو اخو ان کے پانچویں اجلاس میں دیا تھا۔ انہوں نے فرمایا تھا ’’اخوان فکر و عمل کی سطحیت پر ریجھ جانے والے نہیں ہیں بلکہ وہ گہری فکر اور وسیع زاویۂ نظر کے حامل ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی چیز کی گہرائیوں میں ڈوب کر نہ دیکھیں… وہ جانتے ہیں کہ قوت کی مدارج کیا ہیں ،ان میں اوّلیت عقیدہ و ایمان کی قوت کو حاصل کرنا ہے۔ اس کے بعد وحدت و ارتباط کی قوت کا حصول ہے اور ان دونوں کے بعد زورِ بازو کا درجہ آتا ہے… الاخوان متشددانہ انقلاب کے بارے قطعی طور پر کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے ۔ وہ کسی حال میں اس طریق کار پر اعتماد نہیں کرتے اور نہ اس کا نفع بخش اور نتیجہ خیز ہونا انہیں تسلیم ہے… تاہم اگر حالات کی رفتار یہی رہے گی اور اصحابِ اقتدار اس کا علاج نہیں سوچیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ متشددانہ انقلاب کی صورت میں ظاہر ہو گا لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اس میں اخوان کا ہاتھ ہو گا بلکہ یہ حالات کے دباؤاور اصلاح سے گریز کا لازمی نتیجہ ہو گا۔ ضرورت یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی کے سیاۃ و سفید پر قابض طبقے اپنی ذمہ داری اور صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں۔‘‘ (ترجمان القرآن حسن البنا شہید نمبر مئی 2oo7 ء صفحہ نمبر 42 )۔ عالمی سطح پر تحریک اسلام جو مختلف ممالک میں مختلف ناموں کے تحت طاغوتی قوتوں سے پنجہ آزمائی میں مصروف ہے، کی قیادت کے لئے شہید حسن البنا نہ صرف مشعل راہ ثا بت ہو ئے ہیں بلکہ جدید حالات میں رول ماڈل بھی… کیوں ؟ امام حسن البنا نے بنیادی طور پر صرف ایک ہی ہدف کو اپنا نصب العین بنایا جو باقی تمام متعلقہ اہداف کا سرچشمہ ہے۔ وہ تمام آرزوئیں اور خواہشات اس سے خارج ہو جاتی ہیں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر انسانی زندگی کو لاحق ہو تی رہی ہیں۔ بنیادی ہدف کو بالکل واضح بلند اور محبوب ہونا چاہیے۔ اس مقام کو صرف وہ حا صل کر سکتا ہے جو اسے خوب اچھی طرح سمجھ لے اور اس کے حصول کے لئے اپنے دل میں اخلاص اور جان کھپا نے کی جرأت وقوت پیدا کرلے۔ وہ پہلے مرحلے میں لوگوں کو اللہ سے جوڑے اور دوسرے مرحلے میں فا نی دنیا کی آرزوؤں کو جنت کے لئے مؤخر کر لے۔ یہ بلند نصب العین اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے جس کے لیے امام حسن البنا نے تگ و دو کی، اسے اپنا شعار بنایا اور لوگوں کو دعوت دی کہ اس کو اپنے نفس اور اپنی زندگی میں ڈھال دیں تاکہ وہ اللہ والے بن جائیں۔ اللہ والا بن جانا تو اُسی باایمان کی غایت اولیٰ ہے جس کا شعار ہی ربانی یاد میں جینا بن جائے۔ اس فقیر کا پسندیدہ شعر تھا    ؎

مالذۃ العیش الا صحبۃ الفقراء ھم اسلاطین و السادات والامرء

(زندگی کا لطف اللہ والوں کی صحبت ہی میں ہے۔

 دراصل وہی ہمارے سلطان، سردار اور راہنما ہیں)

اخوان المسلمون نے اس اصولی وایما نی ہدف کو امامؒ کی زندگی میں اور اُن کی شہادت کے بعد اپنی دعوت ِرجو ع الی اللہ:’’ اللہ ہمارا مقصود ہے‘‘ کے ذریعے دوام بخشا۔ چنانچہ امام کی زندگی ہی میں انہوں نے بھر پور جرأت اور اعتماد کے ساتھ اپنے زور دار اور پر تا ثیر دعوتی کام کے ذریعے زمین کو  اقامت دین کے لئے ہمو ارکر کے رکھ دیا۔اسلام کا احیا ء نو محض نعرہ نہیں تھابلکہ یہ ایک قابلِ تنقید پروگرام اور قابل عمل رویہ ہے جو قرآ ن کریم کا مقصود اور سیرت مبا رکہ ؐ کا اصل الاصول ہے۔ آئیے اخوان کی دعوت کا جا یزہ لے کر اس بات کا پتہ لگا ئیں کہ امام اور اُن کے ممبران کی روحانی اور ایما نی زندگی کی کیفیت و کمیت کس درجہ کی تھی … ان کا واضح منشور یہ ہے : اللہ ہمارا مقصود ہے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قائد ہیں… قرآن ہمارا دستور ہے …جہاد ہمارا راستہ ہے اور حق و صداقت کی راہ میںشہادت ہماری اعلیٰ ترین آرزو ہے۔ یہ منشور نہ صرف نشاط انگیز بلکہ میدانِ عمل ما رنے کے لئے کسی قابل عمل دستو رِ حیات سے کم نہیں…یہ منشورالفاظ کا پلندہ ہے نہ خالی خو لی نعرہ بلکہ حسن البنا نے اسے قرآ ن کریم اور سیر ت طیبہ ؐ کے گہرے اور عارفا نہ مطا لعہ کے بعد قبو ل کر کے اس کو اپنی روح اور اپنے ضمیرکے روئیں روئیں میں اور زندگی کے ہر سانس میں جذ ب کرکے اُتار لیا تھا۔ منشور کے ہر لفظ کو ایک عہد وپیمان سمجھ کر اپنی روح میں اُتارکر اسی جذبے اور تابانیٔ روح کو اپنے ساتھیوں کے دلوں میں منتقل کیا اور اپنے ظاہر و باطن کو اس کے انو ارات سے اُجلا کر دیا۔  یوںحسن البناؒ نے اپنے مخا طبین اور حامیو ں کے ذہن وقلب میں اسلام کا حقیقی تصور اُجاگر کیا۔
لوگوں نے یہ جان لیا کہ اسلام ہی مکمل ضابطۂ حیات ہے اور یہ سلطنت، وطن، حکومت کا احا طہ کر کے اس پر چلنے والے ہرفرد کو ایک ضابطۂ اخلاق اور روحا نی طاقت سے معمور کر تا ہے، اس کو رحم ، عدل، پرہیزگاری، متوازن ثقافت، معتدل تہذیب ،قابل عمل قانون اور بہترین اسلوب معیشت و معاشرت عطا کر تا ہے، اور یہ سب خا صیتیں ایما ن یا فتہ سما ج میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔ اسلام دعوت بھی ہے او رمجا ہدہ بھی۔ حسن البنا شہید کی دوررس نگاہ نے تزکیہ نفس کے بعض مروجہ طریقوں کی خامیو ں اور کو تا ہیو ںکے بارے میں لوگوں کا ذہن صاف کیا۔ دلیل کی روشنی میں حقیقت تک پہنچنے کی راہ سمجھائی۔

انہو ں نے اپنے ساتھیو ں کو اس عہدکا پابندبنا یا کہ وہ نیک لوگوں سے تعلقات بنائیں، نیک صحبت اختیار کریں اور ان کو اس جانب متوجہ کیا کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ سب اِس کی تلاش میں اور اس کے حصول میں کوشاں رہیں۔ اُن کے تر بیتی نظام میں’’فہم‘‘ پہلا نکتہ تھا جس کو انہوں نے ایک عہد و پیمان کی طرح لوگوں کی روح و قلب میں اُتار دیا اور ساتھ ہی اخلاص کا وہ رنگ زندگی کے تمام گو شو ں میں میں پختہ کر دیا کہ وہ صرف اللہ رب العالمین کو اپناحزر جان اور کعبۂ مقصود بنا ئیں ۔ چو نکہ پختہ فہم و اخلاص کا لازمی نتیجہ ’’عمل ‘‘ صا لحہ ہے اور اس عمل سے مراد ایسافعل ہے جو فہم اور اخلاص کا میٹھاپھل ہو۔اس پھل کو حاصل کرنے کے لئے کچھ منازل طے کرنا پڑتے ہیں۔ ان منازل کو طے کرانے کے لئے حسن البنا شہید نے خصوصی تربیتی کورس کروائے۔ سب سے پہلے مرحلے میں مضبوط جسم کے لیے صحت کا خیال رکھنا۔ اس کے لئے ورزش، محنت، مشقت ، خواہشاتِ نفس پر کنٹرول پا نے کی تربیت، نفس کے خلاف جہاد اور اس سلسلے میں اپنا کڑا محاسبہ اور امتحان لیتے رہنا جیسے امور شامل ہیں۔ دوسرا مرحلہ: اپنے گھر کے ہر فرد میں حتیٰ کہ خادموں کی تربیت اور حقوق کا دینی شعور پیدا کرنا۔

تیسرا مرحلہ:- معاشرے کی اصلاح کرکے رائے عامہ کو اسلامی فکر کے لئے ہموار کرنا۔

چوتھا مرحلہ:- اپنے وطن کو بے خدا نظام کے چنگل سے چھڑا نے کی داعیا نہ جدوجہد کرنا۔

پانچواں مرحلہ:- حکومت کی اصلاح تاکہ وہ صحیح اور صالح نظا م کا کل پر زہ بنے اور حکومت کو صحیح اسلامی خطوط پہ استوار رکھنے کے لیے اس کی رہنمائی کرنا۔

چھٹا مرحلہ: -اُمت مسلمہ کے حاکمانہ وجود کا احیاء کرنا، اس کے لئے اُمت مسلمہ کی شیرازہ بندی کرنا اور اُمت مسلمہ کی مایوسی ، پژمردگی، غلامانہ ذہنیت کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنا۔ اسی تر بیتی سسٹم میں حکمت اور مصلحت جو قرآن کے سکھلا ئے ہو ئے اصول ہیں، ان دونوں کا مفہوم سیرت پاک کے مطالعے سے متعین ہوجاتا ہے۔ اسلامی تحریکوں کو ہر زما ں و مکا ں میں چاہیے کہ وہ ان اصولوں کو اپنی پالیسی کا حصہ بنا کر شہادتِ حق، تطہیر افکار اور تعمیر معاشرہ کا راستہ اپنائیں۔ اس راستے کا انتخاب کرتے ہوئے غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن غلطی تو اس صورت میں بھی ہو سکتی ہے کہ آپ پورے معاشرے سے کٹ کر کسی جنگل بیابان میں چلے جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اجتہادی غلطی کا بھی ایک اجر ہے اور اگر اجتہاد صحیح ہے تو اس کے دو اجر ہیں۔ اسی اسلا می فریم ورک کے اندر اخوان کے لئے بھی اور ہمارے لیے بھی آئیندہ آ نے والی پشتوں کے لئے بھی اہم سبق ہے۔ وہ کارواں جو حو صلہ شکن اور صبر آ زما حا لا ت میں امام حسن البنااور اُن کے چند ساتھیوں کی جدوجہد سے شروع ہوا تھا، زمانے کے تمام ترستم سہنے کے باوجود آج کہیں حماس کی صورت میں ناقابلِ شکست بن چکا ہے، کہیں یہ اخوان المسلمون کی کا میا بیا ں اپنی جھو لی میں بھر رہا ہے ۔ اس اعتبار سے مصر میں اخوان المسلمون کی حالیہ کامیابی نہ صرف استعماری اور سامراجی قوتوںبلکہ صہیونیت کے خونین چہرے پر زور دار طمانچہ ہے۔ ما ضی میں اس کا رواں کی آ ہٹیںالجزائر کی اسلا مک سالو یشن فرنٹ کی انتخا بی کا میابی کی صورت میں سنا ئی دیں۔ بے شک اس قافلہ کے سا لار اوراخوان المسلمون کے محبوب قائد کو شہید کیا گیا، اُن کے ساتھیوں میں سے بھی کئی عدالتی قتل کی سولی پر چڑھا ئے گئے ،ہزاروں کی تعداد میں انہیں جیلو ں کی صعوبتیں برداشت کر نا پڑ یں ، بہت سارے اسی راہ ِ عزیمت میں ستائے گئے یا آزمائے گئے اور انہیں اُن کے گھر والوں کو حال اور مستقبل کے حوالے سے آزمائش میں ڈالا گیا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ انہی چیز و ں کی بدولت ا خوان کی ایمانی حرارت اور ثابت قدمی میں اضافہ بھی ہو تا رہا اور اقبال ؒ کے اس فرما ن کی صدا قت پت مہر تصدیق ثبت ہو ئی  ع   

کہ خو ن صد ہز ار انجم سے ہو تی ہے سحر پیدا

آخر میں امام شہیدؒ کی دس ہدایات یا وظا ئف حیا ت ملاحظہ ہوں جن سے ان کے وسیع تحریکی کینو اس ،وژن اور روحانی ارتقاء کا تصور ہی پردہ ذہن پر منعکس نہیں ہو تا بلکہ یہ ایمانی زندگی میں نکھار اور تازگی کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ یہ ہدایات یوں ہیں:

(۱)-جب اذان کی آواز مکان میں پڑے تو نماز کے لئے اُٹھ کھڑے ہو۔ (۲) -تم قرآن کی تلاوت کرو یا مطالعہ یا دوسروں سے قول صا لحہ سنو۔ (۳)-اپنے وقت کا کوئی بھی حصہ بے مقصد کام میں صرف نہ کرو۔ (۴)-گفتگو ہمیشہ صاف ستھری زبان میں کرو۔ یہ شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ (۵)-معاملات میں زیادہ بحث و تکرار سے کام نہ لو۔ (۶)-زیادہ نہ سنو کہ اس سے دلوں میں سختی آتی ہے۔ (۷)- بلند آواز میں گفتگو نہ کرو اس میں تکبر بھی ہے اور دوسروں کے لئے اذیت بھی۔ (۸) -مسخرہ پن اختیار نہ کرو، مجاہد سنجیدہ ہوتے ہیں۔ (۹) -غیبت اور الزام تراشی سے بچو، تمہاری زبان سے خیر کے سوا کوئی کلمہ نہ نکلے۔(۱۰)-جس رفیق سے بھی تمہاری ملاقات ہو، اسے اپنا تعارف کراؤ، خواہ اس نے یہ چاہا ہو ، اظہار کیا ہو، یا نہ کیا ہو کیونکہ ہماری د عوت محبت اور تعارف پر استوار ہے۔ کام زیادہ ہے اور وقت کم، لہٰذا تم اپنے دوسرے رفقا ء کی اس میں مدد کرو تا کہ وہ اپنے وقت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ اگر تمہارے ذمہ کوئی خاص مہم ہو تو اسے کم سے کم وقت میں پایۂ تکمیل تک پہنچاؤ۔ 

(ختم شد)

Sunday, 9 September 2012

The Marvels of Shaykh ‘Abdul Qadir Jilani


The Marvels of Shaykh Abdul Qadir Jilani

Sayyidi wa Imami, Imam Abdallah ibn Alawi al-Haddad, Rady Allahu ‘Anhu, (1044-1132 A.H) in expounding on tawakkul (trust and reliance on Allah) in his spiritual masterpiece Risalat u’l Muawanah (The Book of Assistance) explains the signs of tawakkul and supports his position with the example of Shaykh Abdul Qadir Jilani, Rady Allahu ‘Anhu whom he calls “sayyidi” (“my master”).
“The one whose reliance is sincere has three marks. The first is that he neither has hopes in nor fears other than God. The sign of this is that he upholds the truth in the presence of those in whose regard people usually have hope or fear, such as princes and rulers. The second is that worrying about his sustenance never enters his heart, because of his confidence in God’s guarantee, so that his heart is as tranquil when in need as when his need is fulfilled, or even more. The third is that his heart does not become disturbed in fearful situations, knowing that that which has missed him could never have struck him, and that which has struck him could never have missed him. An example of this was related of my lord Abdal-Qadir al-Jilani, may God spread his benefit. He was once discoursing on Destiny when a great viper fell on him, so that his audience panicked. The viper coiled itself around the shaykh’s neck, then entered one of his sleeves and came out from the other while he remained firm and unperturbed, and did not interrupt his discourse”. (Risalat u’l MuawanahThe Book of Assistance, translated by Dr. Mostafa al-Badawi, p. 121-122).
This incident demonstrates that Shaykh Abdul Qadir Jilani was matchless in a very special way. It also reminds us about the following verses of the Holy Qur’an on the awliya Allah (friends of Allah):
Surely, on the friends of Allah, there is no fear, nor do they grieve. Those who believed and guarded (against evil). For them are glad tidings in this world’s life and in the Hereafter; there is no changing the words of Allah; that is the Supreme Triumph. (10:62-64)
It has been narrated in the biographies of Shaykh Abdul Qadir Jilani that once he saw a dazzling light which filled the whole sky. Then a human frame appeared in it and told him he was his lord and that he had made everything that was prohibited in Islam lawful for him. Shaykh Abdul Qadir Jilani recognized him as the devil and told him to get lost. Then the sky turned dark and the human frame fizzled out into smoke. Following this, ShaykhAbdul Qadir Jilani heard someone say to him that he had misled seventy people in this way but that his knowledge and piety had saved him. To this the Shaykh responded that it was through the Grace of Allah that he had been saved! The machinations of shaytan could obviously never make ShaykhAbdul Qadir Jilani abandon the shari’a (sacred Muslim law).
Professor Shetha al-Dargazelli and Dr. Louay Fatoohi explain in their “Introduction” to  the translation of Jila al-Khatir how Shaykh Abdul Qadir Jilani came to be called Muhyiddin. Once on a Friday in the year 511 A.H, Shaykh Abdul Qadir Jilani came across a frail old invalid who greeted him and asked him to help him to sit up. When he helped him to sit up, he became well again and his whole condition improved. He told Shaykh Abdul Qadir Jilani that he was the religion of Islam which had been forgotten but which he had helped to revive. Following this incident, Shaykh Abdul Qadir Jilani went to the congregational mosque where people greeted him as “Muhyid Din” (Reviver of Religion). He had never been called by that name before!
All the biographers of Shaykh Abdul Qadir Jilani marvel at his miracles. Dr. Muhammad Haroon Rahmatullahi ‘alayh of the Raza Academy in England has described the miracles of the Shaykh in detail in "The World Importance of Ghawth al Azam Hadrat Sheikh Muhyiddin Abdul Qadir Jilani". To gainbaraka (blessings), let us at this juncture recall one of these miracles which relates to fasting in the month of Ramadan. It is related that as it was cloudy, the new moon had not been sighted and people were confused whether to fast or not to fast. They came to Ummul Khayr and asked if the child had taken milk that day. As he had not, they surmised that they had to fast. His mother relates; "My son 'Abdul Qadir was born in the month of Ramadan. No matter how hard I tried he refused to suckle in the daytime. Throughout his infancy he would never take food during the month of fasting." (Sirr al-Asrar, “Introduction” by Shaykh Tosun al-Jerrahi al-Halveti, p. XIII)
This is how Shaykh Tosun al-Jerrahi al-Halveti explains about the daily life of Shaykh Abdul Qadir Jilani, Rady Allahu ‘Anhu: "He himself had given all of himself to Allah. His nights passed with little or no sleep in secluded prayer and meditation. He spent his days like a true follower of the Prophet in the service of humanity. Three times a week he would deliver public sermons to thousands of people. Every day in the morning and the afternoon he gave lessons in Qur'anic commentary, Prophetic traditions, theology, religious law and sufism. He spent the time after the midday prayer giving advice and consultation to people, whether beggars or kings, who would come from all parts of the world. Before sunset prayers, rain or shine, he took to the streets to distribute bread among the poor. As he spent all his days in fasting he would eat only once a day, after sunset prayer, and never alone. His servants would stand at his door asking passers-by if they were hungry, so that they could share his table." (Sirr al-Asrar, p. XLIV)
Shaykh Hammad al-Dabbas Rahmatullahi ‘alayh had predicted that one day Shaykh Abdul Qadir Jilani would be commanded to proclaim that his foot is on the neck of every Waliyallah (friend of Allah). This prediction was fulfilled when Shaykh Abdul Qadir Jilani declared at one of his majalis (religious sessions) in the presence of more than forty mashaayikh (spiritual masters) of Iraq that his foot was on the neck of every Waliyallah. All themashaayikh, those that were present as well as those in far off lands and places acknowledged and accepted this fact. Qutb ul Irshad Imam Abdallah ibn Alawi al-Haddad has versified on this spiritual reality in one of his qasaaid (eulogies) in Ad-Durr ul Manzum li Dhawil Uqul wa’l Fuhum (Poetic Pearls For Discerning and Understanding Minds). A’la Hadrat Imam Ahmad Raza Khan Rahmatullahi ‘alayh has versified on it in his “Salaams”, while Shaykh Abdul Haqq Muhaddith Dehlawi has expounded on its spiritual reality in Akhbar u’l Akhyar (Narrations About The Chosen Ones).
But the initiate sometimes wonders why Shaykh Abdul Qadir Jilani revealed so many spiritual secrets when most other shuyukh (spiritual masters) are reticent. To answer this question, we will need to turn to Sayyidi wa Imami Qutb ul Irshad al-Habib Mawlana ‘Abdallah ibn Alawi al-Haddad, Rady Allahu ‘Anhu. In It-haaf i’s-saail (Gifts for the Seeker), he explains that Shaykh Abdul Qadir Jilani, Rady Allahu ‘Anhu had received permission to divulge these spiritual secrets - "for the man who receives such permission is under an order which he can but obey - and the secret of the permission granted in such matters is itself one that cannot be divulged." (Gifts for the Seeker, translation by Dr. Mostafa al-Badawi, p.11).
Yaa Hayyu Yaa Hayyu Yaa Qayyum
Yaa Hayyu Yaa Hayyu Yaa Qayyum

A POEM OF SHAIKH SADI FROM THE BURSTAN


from "The Bustan"
English Translation

Poem by Sheikh Moslehedin Saadi Shirazi
from "The Bustan"
Translated By G.M. Wickns
Poem in Farsi
 
On Justice, Management, and good Judgment
I've heard that, while he yielded up his soul,
Thus spoke to Hurmuz, Nushirwan:
Be a guardian of the poor man's mind,
Lie not in the bonds of your own ease!
 No one in your land is easy,
When your own ease is all you seek;
No wise man will approve the case
Where the shepherd sleeps and the wolf's among the sheep.
Go! Keep watch upon the poor and needy,
For by virtue of the people the emperor holds his crown.
The people are like a root, the ruler is the tree;
The tree, my son, from the root draws its strength.
So far as you are able, hurt not the hearts of men;
If you do, you but tear up your own roots!
 Do you need a highway, straight?
The road of the devout is that of Hope and Fear;
Nature, this becomes to a man in prudence:
In hope of good and fear of evil;
If in a prince these both you find,
You find a solid footing for his clime and realm:
For indulgence he brings to the hopeful,
In hope that the Maker will be indulgent;
He does not look with favour on any persons' harm,
Fearing that harm may come to his realm.
 But if this temper be not in his composition,
In that land there's no hope of rest.
If you are hobbled, practice resignation;
But if galloping at will, then make your own way!
Look not for amplitude in that march and land,
Where you see the people distressed by the emperor.
Fear the bold and proud ones,
But fear also the one who fears not the just One!
Only in dreams will he see a land prosper,
Who ruins the hearts of the land's inhabitants:
From tyranny derive ruination and ill-repute;
The foresighted one will plumb these words.
Unjustly, the people may not be slain,
For they are authority's asylum and support;
For your own sake, care for the yeoman,
For the happy labourer does more work!
It is not manly to do evil to one
From whom you have received much good.
I've heard that Khusrau said to Shiruya,
As sleep befell his eyes that used to see:
So be that all you purpose
Envisages the people's welfare.
Turn your head never from Justice and Good judgment, 
That men turn not their footsteps from your hand!
The people from the unjust one flee,
Making his ugly name a byword in the world;
Not long it is before his own foundation
He uproots, who laid a bad foundation.