Search This Blog

Showing posts with label POETRY. Show all posts
Showing posts with label POETRY. Show all posts

Friday, 27 April 2018

نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات


نعت، کچھ روایتی اور کچھ غیرروایتی معروضات
ناصر عباس نیّر

ہرزہ سرائی سے مراد محض دیگر اصناف شعر نہیں، جن کی اہمیت شاعر کی نظر میں کم ہوجاتی ہے،بلکہ نعت کہنے والی زبان، مختلف نقطہ ء نظر ، مختلف مذہب ومسلک کے حامل لوگوں کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرنے سے ابا کرتی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تمام طرح کے سماجی فساد ہرزہ سرائی سے شروع ہوتے ہیں۔اس بات پر باردگر زور دینے کی ضرورت ہے کہ عقیدت چوں کہ اس زبان کے ذریعے ثقافت کا حصہ بنتی ہے،جسے سب مذاہب کے لوگ ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں، اس لیے عقیدت سے تشکیل پذیر ہونے والی نشانیات ہندئوں ، سکھوں اور وسرے مذاہب کے شعرا کو بھی نعت لکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ان کی نعتیں ،پیمبر اعظم ﷺ کی ذات کی بے غرضانہ مدحت کے ساتھ ساتھ ، یہ امر بھی باور کراتی ہیں کہ سچائی،اپنے لیے عقیدت مند خود پیدا کرلیتی ہیں،اور یہ عقیدت مند سماجی ہم آہنگی کی قابل قدر علامت ہوتے ہیں۔
عشق کا جذبہ ،عقیدت کا مقابل نہیں ،مگر عقیدت سے کہیں زیادہ گہرا ہے ۔عقیدت میں رسمیت ہوسکتی ہے ،مگر عشق میں نہیں؛عقیدت میں ایک طرح کی اجتماعیت ہے ،مگر عشق انفرادی ،داخلی ،موضوعی ہے۔اگر عقیدت کے تحت لکھی گئی نعت ایک ثقافتی کردار اداکرتی ہے ،تو عشق ِ نبی ﷺ میں لکھی گئی نعتیں ،روحانی رفعت اور نفسیاتی قلبِ ماہیت ممکن بنانے کا غیر معمولی امکان رکھتی ہیں۔تاہم ایک فرد کی روحانی رفعت کبھی اس شخص کی ذات تک محدود نہیں رہتی؛چراغ کی مانند اس کی لو،ارد گرد کے افراد کی روحوں میں چھائی تاریکی کو مٹاتی ہے ،کبھی روحانی رفعت پانے والے کے عمل کے ذریعے، کبھی اس کے قول و گفتگو کے وسیلے سے ،اور کبھی سماج میں اس کی خاموش شرکت سے۔ واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جہاں عقیدت ہو،وہاں عشق بھی موجود ہو،مگر جہاں عشق ہوگا،وہاں عقیدت لازماً ہوگی۔دوسرے لفظوں میںکہا جاسکتا ہے کہ عشق،عقیدت کی انتہا بن سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں عشق بے بصر نہیں ہوتا؛ اس میں بھی سچائی پر یقین موجود ہوتا ہے۔عشق ِ نبی ﷺ ان عظیم صداقتوں پر اعتقاد کا حامل ہوتا ہے ،جن کا علم مستندمذہبی متون(تحریری وزبانی) کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
عشق نبی ﷺ کئی ایسی خصوصیات رکھتا ہے ،جو محض اسی سے مخصوص ہیں۔چوں کہ اس کی بنیاد میں عقیدت شامل ہوتی ہے، یعنی ’باخدا دیوانہ باش و بامحمد ﷺ ہوشیار‘ کی کیفیت ہوتی ہے، اس لیے اس کی وارفتگی اس بے تکلفی ، غیر رسمیت سے پاک ہوتی ہے ،جسے عام بشری عشق میں اختیار کیا جاتاہے۔ دوسرے لفظوں میں عشق نبیﷺ کی وارفتگی و دیوانگی در اصل ایک ایسی مقدس تجرید ،ایک مابعد الطبیعیاتی مگر عظیم الشان تصوریت کو مرکز بناتی ہے، جسے پورے طور پر انسانی ذہن گرفت میں لینے سے قاصر ہوتا ہے۔ یوں عاشق کے لیے ایک پیراڈاکسیائی صورتِ حال ہوتی ہے۔اس صورت ِ حال کا ایک رخ یہ ہے کہ اس تجرید کو اس الوہیت سے جدا رکھنا ہوتا ہے جو صرف خدا سے مخصوص ہے۔بہت سوں کے لیے یہ محال رہا ہے،اور اس کی وجہ لاعلمی کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی بشری بے بضاعتی بھی ہے ،جو عشق کے وفور میں اس نازک ترین فرق کو بھول جاتی ہے جو الوہیت ورسالت میں ہے۔یوں بھی عشق میں خود کو ہوشیار رکھنا آسان نہیں،لیکن عشق نبیﷺ میں ہوشیاری اور احتیاط لازمی شرائط ٹھہرتی ہیں،اور عشقِ نبی ﷺ کے سفر کو کڑا اور آزمائشوں بھرا بناتی ہیں۔اس کڑے سفر میں دعا سب سے اہم وسیلہ ہوتی ہے۔ احمد جاوید کا یہ شعر اسی طرف دھیان منتقل کراتاہے:
کا ش اس بات سے محفوظ رہیںیہ لب وگوش
جو مرے سید وسردار نے فرمائی نہیں
گویا بندے بشر کی استطاعت میں نہیں کہ وہ عشق میں ہوشیاری واحتیاط کا دامن تھامے رکھے، اس لیے وہ دعا کا سہارا لینے پر مجبور ہوتا ہے۔لیکن دعاایک بار پھر اسے اس مقدس تجرید کی طرف لے جاتی ہے۔ عشق نبی ﷺ کی پیراڈاکسیائی صورت حال کا ایک اور رخ یہ ہے کہ ایک طرف وہ عشق کا سچا، گہرا جذبہ محسوس کرتا ہے ،مگر اپنے محبوب کا تصور ایک مقدس تجرید کے طور پر کرتا ہے؛پیرا ڈاکس یہ ہے کہ جذبہ سامنے، حقیقی طور پر حسی وجود پر مرتکز ہونے کے بجائے ،تصوریت سے وابستہ ہوتا ہے۔اسی پیراڈاکس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ عاشقِ رسول ﷺکو ایک طرف اپنی خاکی نہاد کا منکسرانہ احساس ہوتا ہے ،اور دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مابعد الطبیعی تصوریت پر اپنی تمام حسی وذہنی صلاحیتوں کو مرکوز کرتا ہے،مگر یہی پیراڈاکسیائی صورتِ حال اس کے عشق کو ایک عجب ذائقہ ،ایک انوکھی بلندی، اور اس کے دل میں نئی آرزوئیں پیدا کرتی ہے۔ عاشق اپنی خاکی نہادکا منکسرانہ احساس تو رکھتا ہے ،مگر اسے حقیر،بے معنی ،بے مصرف و بے مقصد نہیں سمجھتا؛جو خاکی وجود ،ایک عظیم الشان تجرید کا تصور کرسکتا ہے ،وہ کیوں کر حقیر ہوسکتاہے؟یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں نعت سمیت دوسری مذہبی شاعری ،جدید شاعری سے ایک الگ راستہ اختیار کرتی ہے ۔جدید شاعری میں اپنے حقیر ہونے ، وجود کے لغو ہونے ،نفس میں موجو دتاریکیوں کو انسانی تقدیر سمجھ کر قبول کرنے کا رویہ موجود ہوتا ہے ۔(جدید شاعری ،اس حقیقت کو قبول کرکے در اصل اس کی ملکیت کا احساس پیدا کرتی ہے )۔جدید شاعری میں منفی قلب ِ ماہیت (آدمی کا کیڑا ،مکھی ،بھیڑیابن جانا)کا موضوع بھی تقریباً اسی راہ سے آیا ہے ،مگر نعتیہ شاعری میں انکسار ہوسکتا ہے ، حقیر ہونے کا احسا س ہرگز نہیں ۔نعت میں نفس کی تاریکی کا ادراک ظاہر ہوسکتا ہے ،مگر اسے انسانی تقدیر نہیں تصور کیا جاتا،اسے ایک عارضی صورت حال تصور کرکے ،اس سے نکلنے کا راستہ دکھایا جاتاہے۔ اگر نفس کی تاریکی کوانسانی تقدیر تصور کیا جائے تو یہ سیدھا سادہ مذہبی اعتقاد پر سخت تشکیک کا اظہار ہے۔نعت ، مذہبی حسیت کی حامل صنف ہونے کے ناطے،انسانی وجود کی تاریکیوں کو دور کرنے کا لازمی امکان بنتی ہے۔ حقیقی مذہبی حسیت ،لازماً رجائیت پسند ہوتی ہے ؛ وہ انسان کی حتمی صورتِ حال کا پرشکوہ رجائی تصور رکھتی ہے۔ بہ ہر کیف، خالد احمد کی نعت کا یہ شعر دیکھیے جس میں انکسار تو موجود ہے ، حقیرہونے کا احساس نہیں۔
زرگل ہوئی مری گرد بھی کہ ریاض عشق رسول ہوں
بڑی پاک خاک ہے یہ گلی، میں اسی کی دھول کا پھول ہوں
یوں عاشق کی بشریت ،اپنے اندر ایک غیر معمولی پن کا حقیقی روحانی تجربہ کرتی ہے۔غیر معمولی پن کا احساس ،محض تصوری اور نظری طور پر بھی ممکن ہے،مگر جب یہ عشق کی صورت اختیار کرتا ہے تو یہ تجربہ بن جاتا ہے،یعنی احساس، جذبے ،فکر ، تخیل ،عمل یعنی انسانی وجود کے سب پہلوئوں اور سب سطحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اس سے ایک طرف عاشق کی قلب ِ ماہیت ہوتی ہے،اس کے وجود کی تاریکی دور ہوتی ہے ،یا دور ہونے کا گہرا یقین پید اہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے دل میں نئی آرزوئیں جنم لیتی ہیں۔ نئی آرزوئیں بھی دراصل مذکورہ بالا پیراڈاکسیائی صورتِ حال سے پیدا ہوتی ہیں۔ عشق لازماً حسی ہدف چاہتاہے،لیکن یہاں ایک مقدس تجرید ہوتی ہے ، جسے تاریخ وسیرت ایک حسی سطح ضرور دیتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ذات اس درجہ وسیع اور تخیل کی حدوں سے ورا ہوتی ہے کہ اس کا قطعی متعین تصور ممکن نہیں ہوتا۔عشق ،حسی ہدف کی آرزو ترک نہیں کرسکتا، اور عشقِ نبی ﷺ میں یہ ممکن نہیں ہوتا تو اس کانتیجہ ان نئے ،عظیم الشان مقاصد کی آرزوئوں کی صورت میں نکلتاہے۔جو حقیقی، حسی ،مادی دنیا کو اپنا ہدف بناسکیں۔چوں کہ یہ عظیم آرزوئیں،عشق کا حاصل ہوتی ہیں،اس لیے وہ مادی دنیا کو جب ہدف بناتی ہیں تو اسے مسخ کرنے کے بجائے ، اس کی وسعتوں کو کھوجتی ہیں ،اوراس عمل کو خود اپنی ذات کی توسیع کی علامت تصور کرتی ہیں۔یوں ایک نئی ،بلند تر سطح کا رشتہ دنیا سے قائم ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
عالم بشریت کی زد میں آسمان ۔۔۔یعنی وہ بلند ترین مقام ،جسے انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،اور جس کے سبب،انسانی تخیل عظمت وبلندی کا تصور کرسکتا ہے۔۔۔کے ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی بساط کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ نبی ﷺکی معراج ،بشری دنیا کو یہ تحریک دیتی ہے کہ وہ خاک سے افلاک تک پہنچے۔یہی کچھ مقدس تجرید کے عشق میں ہوتا ہے۔
عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول ؐ
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسول ؐ
بیدم وارثی
میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا
(پیر نصیر الدین پیر(
مقد س تجرید کے عشق کی کیا کیفیت ہوتی ہے ،اسے جس طرح اقبال نے پیش کیا ہے ، اس کی کوئی دوسری مثال اردو شاعری میں نہیں ملتی۔اقبال کے یہاں عشق اس علامت کی طرح ہے ،جس میں اپنے معنی متعین کرنے کے خلاف باقاعدہ مزاحمت ہوتی ہے۔ وہ علامت ہونے کی بنا پر کئی معانی کی حامل ہوتی ہے ،مگر اس رمز کو بھی جانتی ہے کہ معنی کے تعین کی کوشش،در اصل اسے محدود کرنے کے عمل کاآغاز ثابت ہوتی ہے۔اقبال کے یہاں عشق کی علامت ، لامتناہی جستجو اوران تھک سفرکی محرک بنتی محسوس ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اقبال اس لامتناہی سفر کو ایک خیالی دنیا اور فنتاسی میں سفر میں نہیں بدلنے دینا چاہتے۔وہ عشق کی اس حسی، جذبی کیفیت کوقائم رکھنا چاہتے ہیں،جو انسانی دل میں حقیقی طور پر پیدا ہوتی ہے، اور جس کے ذریعے انسان خود اپنے بشری مرکز سے متصل رہتا ہے،اور اسی کو لامتناہی جستجو کا رخت سفر بنانا چاہتے ہیں،خود اپنی ذات میں ، تاریخ میں ، دنیا میں اور کائنات میں۔بہ قول اقبال :’عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک‘۔ اقبال نے عشق کا تصور واضح طور پر عشق رسول ﷺ سے لیا،اور اس پیراڈاکسیائی صورتِ حال کا حل بنا کر پیش کیا ،جس کا سامنا نبی ﷺ کی ذات کی مقدس تجرید کے عشق میں گرفتار ہونے سے ہوتا ہے۔یہ نظری حل نہیں۔ہوسکتا ہے نظری طور پر اسے واضح کرناہی محال ہو،لیکن اقبال بشری عالم کی اس انتہائی بنیادی خصوصیت سے واقف تھے کہ تمام عظیم کارنامے ، تمام بڑی تبدیلیاں ،تمام غیر معمولی فن پارے ان عظیم آرزوئوں سے جنم لیتے ہیں جو عشق کانتیجہ ہیں۔ عشق اور آرزو میںتعلق تو صدیوں سے معلوم بات ہے ،مگر اقبال نے دریافت کیا کہ عشق اور آزرو کی عظمت کا ایک ہی سرچشمہ ہے۔ اقبال کی شاہکار نظم’ مسجد قرطبہ ‘کے یہ اشعار ان معروضات کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے،جن میں عشق کی علامت ایک مخروطی صورت اختیار کرتی محسوس ہوتی ،اور جو تکمیل فن کا مظہر ہوتی ہے۔

مرد خد اکا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
تند وسبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصررواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیںجن کا نہیں کوئی نام
عشق دم جبریل ،عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کارسول ،عشق خدا کا کلام
عشق کے مضراب سے نغمہ ء تار حیات
عشق سے نورحیات، عشق سے نارحیات
آخر ی بات !اردو نعت کے موضوعات ،دیگر شعری اصناف کی طرح کبھی محدود نہیں رہے؛وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی ہے ۔نعت اسی طرح اپنے زمانے کی حسیت کو اپنی شعریات کا حصہ بناتی رہی ہے ،جس طرح دیگر شعری اصناف۔ کلاسیکی اردو شاعری کے عہد کی نعت کا اہم موضوع ،مدحت کے ساتھ ساتھ ،ثواب و مغفرت تھا، لیکن انیسویں صدی کے اواخرمیں نعت کے موضوعات میں تنوع پید اہونا شروع ہوا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نو آبادیاتی عہد میںجب مسلم قوم پرستی کا آغاز ہوا،اور جداگانہ مذہبی شناختوں پر اصرار بڑھا تو نعتیہ شاعری کے موضوعات بھی تبدیل ہونا شروع ہوئے۔شناختوں کو مسخ کرنے کی نو آبادیاتی سیاست ،اور یورپ کے کبیری بیانیے کے ردّ عمل میں، برصغیرکے مسلمانوں کے یہاں اپنی مذہبی شناخت پر اصرار بڑھا،اور وہ تاریخِ اسلام اور سیرت رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنے لگے۔پہلی مرتبہ اردو شاعری میں مذہبی ،قومی شناخت ایک اہم موضوع کے طور پر شامل ہوئی۔ نعتیہ شاعری مذہبی قومی شناخت کی تشکیل کا ذریعہ بنی،لیکن اس موضوع پر گفتگو کسی اور موقع پر!

نعتیں
افتخار عارف

دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے
میں خود یوں ہی تو نہیں آ گیا ہوں محفل میں
کہیں سے اذن ہوا ہے تو حاضری ہوئی ہے
خدا کا شکر غلامانِ شاہ بطحا میں
شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے
مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
میں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے
یہ سر اُٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے
عثمان انیس

مرے خوابوں میں آجائو مدینے جا نہیں سکتا
رُخِ زیبا دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
کرے روشن زمانے کو تُمہارا نُور ایسا ہے
میرے دِل میں سما جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ پانی کیا بجھائے گا مری ہے تِشنگی ایسی
کہ پھِر کوثر پِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
یہ مانا عشق کا میں نے بڑا گہرا سمندر ہے
مْجھے اِس میں ڈبا جائو مدینے جا نہیں سکتا
ہوا مدہوش کچھ ایسا پڑا ہوں خوابِ غفلت میں
مْجھے اِس سے جگا جائو مدینے جا نہیں سکتا
پڑا ہوں قبر میں کب سے کہ اَب جانا ہے جنت میں
مْجھے رستہ دِکھا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہارا امتی ہو کر پڑا ہوں آقا غُربت میں
مرے دِن بھی پھِرا جائو مدینے جا نہیں سکتا
نہیں ہے یاد اَب مْجھ کو سبق میں بھُول بیٹھا ہوں
مجُھے چْھٹی دِلا جائو مدینے جا نہیں سکتا
تُمہیں جو دیکھ لے عثماں بڑا ہی خُوب لِکھے گا
مجھے نعتیں سنا جائو مدینے جا نہیں سکتا
اسامہ امیر

ہم درد کے ماروں کو خزینے کی طرف سے
سرکار بلاتے ہیں مدینے کی طرف سے
یہ گل جو معطر ہے چمن زار میں اپنے
خوشبو ہے محمدؐ کے پسینے کی طرف سے
میں جائوں گا اک روز شہہِ طیبہؐ سے ملنے
آواز کوئی آتی ہے سینے کی طرف سے
حسانؓ کے صدقے سے مجھے نعت ملی ہے
میں ورنہ غزل گو ہوں قرینے کی طرف سے
آنکھوں پہ لگائوں گا انہیں روشنی دوں گا
میں خاک اٹھائوں گا دفینے کی طرف سے

Tuesday, 3 September 2013

نعت نگار شعراء کا اظہار عجز

نعت نگار شعراء کا اظہار عجز

ڈاکٹر عزیز احسن

ایک محفل میں اجمل سراج سے میرے مضمون’’تخلیقی ادب اور نعتیہ ادب کی موجودہ صورتِ حال‘‘ کے حوالے سے گفتگو چلی تو انہوں نے ڈاکٹر خورشید رضوی کا یہ شعر سنایا:
شان ان کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہوجائیے
وہ محفل تو برہم ہوگئی لیکن اجمل سراج کے سنائے ہوئے شعر نے مجھے فکر و خیال کے نئے سفر پر روانہ کردیا۔
اس شعر میں رضوی صاحب نے کہنا یہ چاہا ہے کہ نعت کہتے ہوئے اپنی محدودات، زبان کی بے بضاعتی، مقامِ رسالت کا عدم عرفان اور آپؐ کے شایانِ شان الفاظ رقم کرنے کی صلاحیت کا فقدان، یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ اس منزل پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نعت کہنا ہی نہیں چاہیے۔ جیسا کہ ہمارے کرم فرما احمد صغیر صدیقی نے اپنے طنزیہ لہجے میں ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ’’شاعر کیا یہ کہنا چاہتا ہے کہ نعتیہ شاعری مت کرو؟‘‘
’’چپ ہوجائیے‘‘ میں جو بات کی گئی ہے اس کا اصل مقصد سوچ میں کھو جانا ہے۔
کارل پوپر نے کہا تھا ’’معنی اور صداقت کے مابین ایک گہری مماثلت ہے‘‘۔ (فلسفہ، سائنس اور تہذیب ص 75)
یہاں ہمیں ’’چپ ہوجائیے‘‘ کے مشورے کا ماخذ صوفیانہ روایت کے اندر تلاش کرنا ہوگا۔ انتظار حسین نے بڑے پتے کی بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’خاموشی کی واردات تصوف میں اپنی منزل آپ ہے۔ خاموشی کی واردات ادب میں ایک نئے کلام کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘‘
(علامتوں کا زوال)
چنانچہ رضوی صاحب کے مشورے کو تخلیقی ادب میں نئے کلام کا خیمہ سمجھنا چاہیے۔
بات یہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے حوالے سے جو بات بھی کی جاتی ہے اس کو سند کی کسوٹی پر کسا جاتا ہے یا ایسا کرنا چاہیے۔ جبکہ شاعر صرف اپنے لمحاتی رجحان یا موڈ کو شعری جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ اُس وقت اس کے سامنے نہ تو مذہبی روایات ہوتی ہیں اور نہ ہی تاریخ و سِیَر کی کتب کے اسباق اسے ازبر ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم کا مطالعہ بھی ہر شاعر کا علماء کی سطح کا نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے بیشتر شعراء نے نعتیہ ادب تخلیق کرتے ہوئے اظہارِ عجز کا نقش بھی شعری صورت میں قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اہلِ علم کے سامنے اپنی کسی نادانستہ لغزشِ بیاں کا جواز پیش کرسکیں اور حشر میں بھی اپنی قلم کاری کی بے احتیاطیوں کے معاملے میں کچھ رعایت حاصل کرسکیں۔
ڈاکٹر خورشید رضوی تو ماشاء اللہ دینی اسکالر ہیں۔ انہیں تو عربی زبان و بیان پر غیر معمولی عبور حاصل ہے۔ عربی کے توسط سے قرآن ِ کریم اور احادیثِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے مضامین کی آگاہی اور مدحِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں انہیں خاص بصیرت بھی حاصل ہے۔ اس لیے وہ اپنے ’’تنقیدی شعور‘‘ کا بھرپور اظہار کرنے کے لیے یہ فرما رہے ہیں کہ
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہوجائیے
یعنی ذرا سوچیے کہ آپ کو کیا لکھنا ہے اور کیسے لکھنا ہے؟
یہ مصرع اگر خودکلامی کے انداز میں پڑھا جائے تو شاعر کی خود احتسابی یا خود ترغیبی (self suggestion)کا غماز ہے، اور اگر شاعر کی طرف سے مشورہ تصورکیا جائے تو یہ ایسے قارئین کے لیے قولِ زریں ہے جو شعر کہنے کی صلاحیت کو کافی سمجھ کر نعتیہ ادب تخلیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا خورشید رضوی کے اس مصرع میں ادب کی سماجی حیثیت کا بھرپور اظہار ہوا ہے، کیوں کہ ادب ’’روحِ عصر‘‘ کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ آج نعتیہ ادب کی تخلیق، تخلیقی ادب کی نمایاں صفت ہے اور اسی لیے اس کی تخلیق میں تربیت کا عنصر داخل کرنے کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔
چنانچہ ان کے مشورے سے جو نعتیہ ادب تخلیق ہوگا وہ حقیقی معانی میں نیا کلام ہوگا۔ جدید ذہنوں کو حُبِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے جوڑنے والا کلام!
ڈاکٹر خورشید رضوی کے ایک شعر سے گفتگو آگے بڑھی تو مجھے خیال آیا کہ میں ان کی مذکورہ نعت کے اشعار بھی نقل کردوں اور اپنے پچھلے مضمون کی فکری رو کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے کچھ اشعار بھی پیش کردوں جن میں شعراء نے اپنے عجزِ بیاں کا اظہار کیا ہے۔
مطلع کے بعد خورشید رضوی کہتے ہیں:
سونپ دیجے دیدۂ تر کو زباں کی حسرتیں
اور اس عالم میں جتنا بن پڑے رو جایئے
یا حصارِ لفظ سے باہر زمینِ شعر میں
ہوسکے تو سرد آہوں کے شجر بو جائیے
اے زہے قسمت کسی دن خواب میں پیشِ حضورؐ
فرطِ شادی سے ہمیشہ کے لیے سو جائیے
اے زہے قسمت اگر دشتِ جہاں میں آپؐ کے
نقشِ پا پر چلتے چلتے نقشِ پا ہوجائیے
پچھلے مضمون میں میرا روئے سخن ان شعراء یا تُک بند مدح گزاروں کی طرف تھا جو صرف اپنے جذبات کو رہنما بناکر شعر گوئی کرتے رہتے ہیں اور زبان، بیان اور موضوع کی جان کاری کی بالکل پروا نہیں کرتے…آج میرا ارادہ ہے کہ کچھ شعراء کا تنقیدی شعور ان کے شعروں کی روشنی میں پیش کروں تاکہ میرے مخاطب کچھ فنی بصیرت حاصل کرنے کی طرف بھی دھیان دے سکیں!
چنانچہ اب ایسے اشعار کا انتخاب پیشِ خدمت ہے جن میں شعراء نے عجزِ بیاں کا پیرایہ اپنایا ہے۔
نزاکتِ خیال اور لفظوں میں شبیہ تراشی (imagery)  کا عمل دیکھنا ہو تو ذرا صبیح رحمانی کا یہ شعر بھی ملاحظہ فرمالیجیے جس میں ثنائے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال نے شاعر کے آبگینۂ فکر کو پگھلا کے رکھ دیا ہے:
صبیح ان کی ثنا اور تُو کہ جیسے برف کی کشتی
کرے سورج کی جانب طے سفر آہستہ آہستہ
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے منسوب یہ مشہور شعر تو آپ نے سنا ہی ہوگا:
لا یمکن الثناء کما کانہ حقہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
اس شعر کے پہلے مصرع میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و توصیف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے…دوسرے مصرع میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ کریم کی ذات کے بعد کائنات کی سب سے بزرگ ہستی صرف حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ والا صفات ہے۔
آج کے موضوع کے حوالے سے درجِ بالا شعر کا صرف پہلا مصرع ہی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کیوں دوسرے مصرع کی شعری تمثیلات پیش کرنے کے لیے تو دفتر درکا ر ہیں۔
تو آئیے نعتیہ ادب کے خزانے سے اظہارِ عجز کے چند موتیوں کی تاب و تب دیکھتے ہیں:
خدا در انظار حمد ما نیست
محمدؐ چشم بر راہِ ثنا نیست
خدا مدح آفرینِ مصطفیٰؐ بس
محمد حامد حمدِ خدا بس
مناجاتے اگر باید بیاں کرد
بہ بیتے ہم قناعت میتواں کرد
محمد از تو می خواہم خدا را
الٰہی از تو حب مصطفیٰؐ را
دگر لب وا مکن مظہر فضولیست
سخن از حاجت افزوں تر فضولیست
حضرت میرزا مظہر جانِ جاناں کے درجِ بالا اشعار کامنظوم ترجمہ پروفیسر سحر انصاری نے بڑی خوبی سے کیا ہے۔ دل چاہتا ہے وہ بھی آپ ملاحظہ فرمالیں:
ہماری حمد کا طالب خدا نئیں
محمد چشم بر راہِ ثنا نئیں
خدا ہے محوِ حمد مصطفے بس
محمد حامدِ حمدِ خدا بس
دعا کی ہو اگر خواہش ہی ایسی
قناعت چاہیے اس شعر پر ہی
رہوں خواہاں محمد سے خدا کا
خدا سے وصف حب مصطفیٰ کا
نہیں مظہر مناسب بالارادہ
سخن کرنا ضرورت سے زیادہ
(میرزا مظہر جانِ جاناں؍سحر انصاری…نعت رنگ 3)
میرزا مظہر جانِ جاناں، تصوف کی روایت کے علم بردار تھے، اس لیے وہ بھی نعتیہ شعر کہنے کے لیے کچھ پابندیاں لگانے کے حق میں تھے۔ امت کا زوال اسی طرح شروع ہوا تھا کہ دعوے بہت تھے لیکن عمل ناپید تھا اور مظہر جانِ جاناں باتوں کے آدمی نہیں تھے۔ وہ حقیقی معانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی استدعا کرتے تھے کہ حضور! مجھے اللہ تک پہنچادیجیے!…اور اللہ تعالیٰ سے ان کی دعا یہی ہوا کرتی تھی کہ ’’میرے دل کو حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھردے!‘‘۔یہ بھی خیال رہے کہ ان کے ہاں حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد قلب و روح میں بس جانے والی خوشبو کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال کی وہ شکل بھی تھی جو ’’حبِ رسولؐکا خود اظہار ہوا کرتی ہے۔ان کی فکر عملی جامہ پہن کر ان کی ذات اور ان کے حلقے کے لوگوں کے لیے تحریک (movement) بن چکی تھی۔وہ صرف نظری طورپر حبِ رسولؐ کے خواہاں اور پِرْچارَک یا مُبَلِّغْ نہیں تھے۔ ان کی مثال اقبال کے اس شعر سے دی جاسکتی ہے:
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گاہی کا نَم
بہرحال نعتیہ شاعری میں عجزِ بیاں کے مظاہر دیکھیے!
لکھوں نعت اس کی میں کس طرح ساری
براق ایک ادنیٰ تھا جس کی سواری
(سعادت یار خاں رنگین دہلوی)
خدا تیرا معرف ہے ملک تیرے موصف ہیں
نہیں حد بشر کہنا ترے اوصافِ بے حد کا
(شیخ امام بخش، ناسخ لکھنوی)
غالبؔ ثنائے خواجہ بیزداں گزاشتم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
ترجمہ:
غالب، خدا پہ چھوڑ دی مدحت رسولؐ کی
آگاہ بس وہی تو ہے شانِ حضورؐ سے
(اسلم انصاری)
حریف نعت پیمبر نہیں سخن حالی
کہاں سے لائیے اعجاز اس بیاں کے لیے
(الطاف حسین حالی)
حق گزار مدح او کس نیست جز یزدان پاک
رائے من ایں شد و شد روح الامیں ہم رائے من
کارِ نعت مصطفیؐ را بر خدا بگزاشتم
نعت شہؐ او خوب کردن میتواند جائے من
(میرا خیال تھا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت کا حق سوائے اللہ کے کوئی ادا نہیں کرسکتا۔تو جبریلِ امین نے بھی میری رائے کی تائید فرمائی۔ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کا کام اللہ پر چھوڑا، کیوں کہ وہی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت خوب بیان فرماتا ہے …میں نہیں)
(مولیٰنا احمد حسن محدث بچھرایونی نیازی)
ارادہ جب کروں اے ہم نشیں مدح پیمبر کا
قلم لے آؤں پہلے عرش سے جبریل کے پر کا
(آغا شاعر قزلباش دہلوی)
مدحت شاہِ دو سرا مجھ سے بیاں ہو کس طرح
تنگ مرے تصورات پست مرے تخیلات
(نواب بہادر یار جنگ، خلق)
ہفت افلاک سے یا کاہکشاں سے لاؤں
نعت کہنے کے لیے لفظ کہاں سے لاؤں
دل میں ہے مدحتِ حضرتؐ کی تمنا لیکن
روئے قرطاس پہ کیا عجزِ بیاں سے لاؤں
(رفعت سلطان)
ثنا تیری بیاں کیا ہو، صفت تیری رقم کیا ہو
نہ اس قابل زباں نکلی، نہ اس لائق قلم نکلا
(آزاد بیکانیری)
مرے بیان و زباں کی بساط ہی کیا ہے
ترے جمال کی تعریف خود خدا نے کی
(ازہر درانی)
عجز ادراک سے ہے تیری ثنا کا آغاز
کس کو دعویٰ ہے کہ سمجھا ہے وہ رتبہ تیرا
کس عبارت سے کریں تیرے شمائل کا بیاں
کون لکھ سکتا ہے لفظوں میں سراپا تیرا
(اسلم انصاری)
مجھ کو اس بزم میں کیا جرأت گویائی ہو
جس میں حسانؓ کی گفتار بھی شرمائی ہو
(محمد افضل کوٹلوی)
شرط لازم ہے جو اوصافِ نبیؐ کی خاطر
وہ جزالت نہ فصاحت نہ بلاغت اپنی
ہاتھ آیا کوئی پیرایۂ اظہار کہاں
ہوسکی قید نہ الفاظ میں چاہت اپنی
(سید انور ظہوری)
نعت کہنے کو جب بھی اٹھایا قلم
میرے جذبات کو جانے کیا ہوگیا
خامشی لب پہ مدحت سرا ہوگئی
اشک آنکھوں میں حرفِ دعا ہوگیا
(انور جمال)
یہاں پھر ذرا ’’خاموشی‘‘ کا ادراک کیجیے اور اس بنیادی نکتے کوذہن میں لائیے کہ ’’خاموشی کی واردات، ادب میں ایک نئے کلام کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘‘۔
ثنا خواں کس طرح ہو کوئی اس محبوبؐ یکتا کا
زباں میں یہ کہاں قدرت، قلم کو یہ کہاں یارا
(صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
ورائے فکر و نظر اس کی رفعتوں کے مقام
جو ایک گام میں طے کرگیا نظر کی حدود
ثنائے خواجہؐ کروں یہ کہاں بساط مری
کہ میرا فکر بھی عاجز، خیال بھی محدود
(حافظ لدھیانوی)
کیوں کر حیاتؔ اس کی تعریف کوئی لکھے
خلاق ہر دو عالم خود جس کا مدح خواں ہے
(حیات وارثی لکھنوی)
میری کہاں بساط، کہوں نعت مصطفیٰؐ
جو شعر بھی ہوا ہے، ہوا آپ کے طفیل
(خالد شفیق)
کس رخ سے تیری مدح ترے مدح جو کریں
کس تار سے حروف کے دامن رفو کریں
(خالد احمد)
ان کا کرم نہ کرتا اگر رہبری خلیل
مقدور کب تھا مجھ کو ثنائے حضورؐ کا
(مفتی خلیل خاں برکاتی)
ثنا کس منہ سے ہو خورشیدؔ ان کی
خدائے پاک جن کا مدح خواں ہے
(خورشید ایلچ پوری)
کہاں سے لاؤں زبان و قلم کے پیمانے
ہے بیکراں تری عظمت، مری نظر محدود
(احسان دانش)
تری نعت اور روحیؔ تہی فکر
تری محفل میں کیا بندہ چلے گا
(روحی کنجاہی)
نعت اس کی کہاں، کہاں یہ زباں
ہاں نکلتی ہے صرف دل کی بھڑاس
(صبا اکبر آبادی)
تیری توصیف کہاں اور کہاں میرا قلم
فکر ناقص مرا، تو مظہر اسرار قدم
(طاہر شادانی)
یوں تو کہنے کو کہیں سینکڑوں نعتیں طاہرؔ
کون سی نعت کہی آپ نے شایانِ رسولؐ
(طاہر سردھنوی)
ذکرِ پاک ان کا اور تو فضلیؔ
بے ادب سیکھ عشق کے آداب
(فضل احمد کریم فضلی)
دامنِ نعت کے قابل کوئی گوہر لائے
کون ایسا ہے جو مٹھی میں سمندر لائے
(قیصر بارہوی)
تصویر تحیر ہے عالم یارائے بیاں زیبا ہی نہیں
امکان ثنائے ختم رسلؐ لفظوں میں سما سکتا ہی نہیں
(ہوش ترمذی)
دل نعتِ رسولِ عربی کہنے کو بے چین
عالم ہے تحیر کا زباں ہے نہ قلم ہے
(مولیٰنا مفتی محمد شفیع)
بندۂ عاجز، فقیرِ کج بیاں
کیا کرے گا مدح ممدوح خدا
(ڈاکٹر سید انعام احسن، فقیر)
منزلِ نعتِ نبی افسرؔ نہ ہم سے طے ہوئی
پاؤں رکھتے ہی یہاں ہوش اڑ گئے ادراک کے
(منظور احمد صدیقی، افسر امروہوی)
مدحِ سرکارؐ ہے کس کے امکان میں
آپؐ کی مدحتیں تو ہیں قرآن میں
(محشر بدایونی)
نعت سرکارِ دو عالم کی میں لکھوں کیونکر
میں گنہگار، وہ معصوم، میں عامی، وہ رسول
(راغب مرادآبادی)
ان کی مدحت کا جریدہ نہ مکمل ہو گا
جتنے ممکن ہیں شماروں پہ شمارے لکھنا
(رازؔ کاشمیری)
جب ان کی ثنا کا وقت آیا
لفظوں کا وجود ڈگمگایا
(شمس قادری)
تیری توصیف کو تحریر میں لاؤں کیسے
حسن خورشید کو آئینہ دکھاؤں کیسے
(صفدر صدیق رضیؔ)
مجال انسان کی کیا ہے کہ ہو مداح حضرت کا
کلام اللہ جب ناطق ہوا خوئے محمدؐ کا
(شیخ امیر الدین آزاد)
لکھوں کس طرح نعتِ مصطفٰےؐ کیا میرا رتبہ ہے
خدا قرآن میں تعریف ان کی آپ کرتا ہے
(محمد اشفاق علی اشفاق)
جز خداوند دو عالم کس سے مدحت ہوسکے
وصف میں ان کے سبھی جن و بشر ناچار ہیں
(خواجہ احمد شمسؔ)
رفعت کو دیکھتے ہوئے اٹھتی نہیں نگاہ
کیا وصفِ حدِ عظمتِ آقاؐ کریں گے ہم
(محمد سعادت حسین، شیداؔ)
یہ نام وہ ہے کہ جس کی ثنا نہیں ممکن
کہ آپ کہتا ہے سبحان، یارسول اللہ
(مرزا عباس بیگ، عباس)
نور ہے خالق کا اور ممدوح خالق کا ہے وہ
خلق کا منہ مدح کہنے کے بھی کب قابل ہوا
(محمد حسن علمیؔ)
صفت لکھنے کو نور مصطفیٰؐ کی
زباں لاؤں کہاں سے میں خدا کی
(سید محسن علی، محسنؔ)
جو ان کا حق تعالیٰ مدح خواں ہے
لکھوں میں نعت، کیا تاب و تواں ہے؟
(سید سلطان احمد، نامی)
نعتیہ ادب کی تخلیق کے اس میدان میں شاعرات بھی پیش پیش رہی ہیں اس لیے ان کے بھی کچھ اشعار ملاحظہ فرمالیجیے:
میں کس طرح سے نام شہ دو سرا کا لوں
بہر کلام لفظ نہ طاقت سخن میں ہے
(بیگم سلطانہ ذاکر، اداؔ)
بشر کیا خدا بھی ہے جس کا ثنا خواں
کروں اس کی توصیف میں کس زباں سے
(قمر سلطانہ سید)
ہو بشر سے کس طرح وصف محمدؐ کا بیاں
کس طرح سے بند کوزے میں ہو بحرِ بے کراں
(نور بدایونی)
ادا حق مدحت خیرالبشر ہو کس طرح نوریؔ
تُو حافظ ہے نہ رومی ہے نہ سعدی ہے نہ جامی ہے
(مسرت جہاں نوری)
اوصاف بیاں آپؐ کے کس طرح ہوں مجھ سے
کیا منہ جو کروں مدحت سردارِ دو عالم
(شاہد سلطانہ، نازؔ)
نعتیہ شاعری میں عجزِ بیاں کے بے شمار اشعار ملے۔ تقریباً ہر شاعر نے نعت کہنے میں اپنی بے بضاعتی کا اظہار کیا ہے۔لیکن عاصیؔ کرنالی نے ایک جدا انداز اور منفرد آہنگ میں اپنی بے بضاعتی کو فکری اور تخلیقی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ اردو نعتیہ شعری سرمائے میں اس سے بہتر عجزِ بیاں کی مثال ملنا مشکل ہے۔وہ کہتے ہیں:
ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ
جناب! وادیٔ حیرت میں گم ہوں، کیا سوچوں!
زبان! مرحلۂ مدح پیش ہے، کچھ بول
مجالِ حرف زدن ہی نہیں ہے کیا بولوں؟
قلم! بیاضِ عقیدت میں کوئی مصرع لکھ
بجا کہا، سر تسلیم خم ہے کیا لکھوں؟
شعور! ان کے مقامِ پیمبری کو سمجھ
میں قید حد میں ہوں وہ بے کراں میں کیا سمجھوں؟
خرد! بقدرِ رسائی تو ان کے علم کو جان
میں نا رسائی کا نقطہ ہوں ان کو کیا جانوں؟
خیال! گنبدِ خضریٰ کی سمت اُڑ پر کھول
یہ میں ہوں اور یہ مرے بال و پر ہیں، کیا کھولوں؟
طلب مدینے چلیں نیکیوں کے دفتر باندھ
یہاں یہ رختِ سفر ہی نہیں ہے کیا باندھوں؟
نگاہ دیکھ ! کہ ہے روبرو دیارِ جمال
ہے ذرہ ذرہ یہاں آفتاب، کیا دیکھوں؟
دل! ان سے حرفِ دعا، شیوۂ تمنا مانگ
بِلا سوال وہ دامن بھریں تو کیا مانگوں؟
حضورؐ! عجزِ بیاں کو بیاں سمجھ لیجے
تہی ہے دامنِ فن، آستاں پہ کیا لاؤں؟
(ڈاکٹرعاصی کرنالی)
عجز ِ بیاں کی شعری بنت میں ہر شاعر کے ہاں ایک ہی خیال الفاظ کا جامہ پہن کر نمودار ہوتا ہے یعنی ’’میں اس قابل نہیں ہوں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کہہ سکوں‘‘۔
درجِ بالا اشعار میں چونکہ ایک ہی خیال کی تکرار ہے اس لیے یاس یگانہ چنگیزی جیسے مزاج کے ناقدینِ فن فوراً تاریخِ ادب کی ورق گردانی پر توجہ دیں گے اور پھر متقدمین کی شعری نظیریں ملاحظہ فرما کر متاخرین پر سرقے کا الزام لگا دیں گے۔ لیکن آج کے شعری ذوق اور تنقیدی رجحان سے آگاہ اہلِ نظر اس شعری سرمائے کو متنی ہم رشتگی یا بین متنیت (intertextuality)کے تناظر میں دیکھیں گے۔

اظہارِ عجز کے اتنے مظاہر دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارا اجتماعی لاشعور تقریباً ہر شاعر کو نعتیہ ادب تخلیق کرنے کے مرحلے پر متنبہ کرتا ہے کہ ’’نعت کہنا تلوار کی دھار پر چلنا ہے‘‘…اور جو لوگ اس روایت سے انحراف کرتے ہیں وہ ادبی روایت سے عدم آگاہی کا ثبوت دیتے ہیں۔ان کا یہ رویہ خود ان کے لیے باعث ِخسران اور نعتیہ ادب کی تخلیق کے لیے انتہائی غیر مناسب ہے۔