Search This Blog

Monday, 26 March 2012

’ترجیحات‘

تمہید

علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی (قطر) | ترجمہ: گل زادہ شیرپاؤ



آج کل ہمارے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ’ترجیحات‘ کا ہے۔ میں نے اپنی کئی کتابوں میں اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے میں اپنی کتابوں میں۔۔۔ خاص طور پر الصَّحوۃُ الاسلامیۃُ بینَ الجُحُودِ والتَّطرُّفِ میں۔۔۔ اسے ’مراتبِ اعمال کا مسئلہ‘ کہا کرتا تھا۔ اس سے میری مراد یہ تھی کہ احکامِ شریعت، قومی اَقدار اور اعمال میں سے ہر چیز کو پورے اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جائے۔ اس ترتیب کا معیار اور اس کی بنیاد شریعت ہو۔ ان امور میں سے بعض کا ادراک نورِ وحی سے ہوتا ہے اور بعض کا نورِ عقل سے: نُوْرٌ عَلٰی نُوْرِ (النور:۳۵)
ان میں سے جو پہلے ہو اُسے پہلے درجے پر رکھا جائے اور جو بعد میں ہو اُسے بعد میں رکھا جائے۔ نہ غیراہم کو اہم پر مقدم کیا جائے اور نہ اہم کو اہم تر پر۔ اسی طرح مرجوع کو راجح سے پہلے نہ رکھا جائے اور مفضول کو فاضل یا افضل پر ترجیح نہ دی جائے۔
پوری باریک بینی کے ساتھ مقدم اسی چیز کو کیا جائے جو تقدیم کی مستحق ہو اور مؤخر بھی وہی ہو جو تاخیر کے قابل ہو۔ چھوٹی چیز کو بڑھا کر پیش نہ کیا جائے اور بڑی چیز کو چھوٹا کر کے نہ دکھایا جائے۔ بلکہ [قرآنی اصطلاح کے مطابق] قسطاسِ مستقیم کے ساتھ ہر چیز کو اپنے صحیح مقام پر رکھا جائے۔ اس میں کسی طرح کی کمی بیشی بالکل نہ کی جائے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالسَّمَآءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَo اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِo وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَo (الرحمن:۷۔۹)
’’اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔‘‘
اس کی بنیاد یہ ہے کہ اَقدار، اعمال اور ان کے احکام شریعت کی نظر میں بہت مختلف اور متفاوت ہوتے ہیں۔ ان ساری چیزوں کا ایک رتبہ نہیں ہوتا۔ ان میں سے کوئی چھوٹی ہوتی ہے کوئی بڑی۔ کوئی اصل ہوتی ہے کوئی فرع۔ کوئی رکن ہوتی ہے اور کوئی تکملہ۔ اسی طرح ان میں سے بعض چیزیں وہ ہوتی ہیں جن کا مقام متن میں ہوتا ہے اور بعض ایسی جو حاشیے میں رکھنے کے قابل ہوتی ہیں؛ ان میں سے کوئی اعلیٰ ہوتی ہے اور کوئی ادنیٰ، کوئی فاضل اور کوئی مفضول۔
یہ بات بھی نصوص سے واضح ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا ہے جو ایمان لایا اﷲ پر، اور روزِ آخر پر، اور جس نے جاں فشانی کی اﷲ کی راہ میں؟ اﷲ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اﷲ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ اﷲ کے نزدیک تو انہی لوگوں کا بڑا درجہ ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں‘‘۔ (التوبہ: ۱۹۔۲۰)
اسی طرح رسولِ کریمﷺ فرماتے ہیں:
’’ایمان کے ۷۰ کے لگ بھگ شعبے ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ شعبہ لا الہ الا اﷲ ہے اور ادنیٰ یہ کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا جائے۔‘‘
صحابۂ کرامؓ اس بات کے بہت زیادہ شوقین رہتے تھے کہ وہ اعمال میں اعلیٰ اور ادنیٰ کو پہچانیں، تاکہ وہ اس سے تقرب الی اﷲ حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے کئی مواقع پر یہ بات روایت کی گئی ہے کہ وہ اﷲ کے ہاں افضل الاعمال اور احب الاعمال کے بارے میں سوال کرتے تھے، جیسا کہ حضرت ابن مسعودؓ ، حضرت ابو ذرؓ اور دیگر صحابۂ کرام کے سوال اور نبیﷺ کی طرف سے ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی بنا پر احادیث میں اس چیز کا بہت ذکر آتا ہے کہ اﷲ کے ہاں افضل الاعمال یہ ہے اور اس کے ہاں احب الاعمال یہ ہے۔
’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ تم ایسی حالت میں صدقہ دو جب تم صحت مند اور تندرست ہو، تجھے غریبی کا خوف بھی ہو اور مال داری کی امید بھی‘‘۔ ’’بہترین جہاد یہ ہے کہ جابر امام یعنی حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہا جائے‘‘۔ ’’اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہوتا ہے جسے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو‘‘۔ ’’تمہاری بہترین دین داری وہ ہے جس میں آسانی ہو‘‘ وغیرہ۔
یہاں ہم اس حدیث پر اکتفا کریں گے:
حضرت عمرو بن عبسۃؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یارسول اﷲ! اسلام کیا ہے؟

آپﷺ
نے فرمایا: اَنْ یُّسْلِمَ اﷲِ قَلْبُکَ، اَ اَنْ یَّسْلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِکَ وَیَدِکَ ’’یہ کہ تیرا دل اﷲ کے آگے جھک جائے اور تیرے ہاتھ اور تیری زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: اَلْاِیْمَانُ۔ ایمان۔

اس نے پوچھا: ایمان کیاہے؟

آپﷺ
نے فرمایا:اَنْ تُؤْمِنَ بِاﷲِ وَمَلَاءِکَتِہٖ، وَ کُتُبِہٖ، وَ رُسُلِہٖ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔ ’’یہ کہ تم اﷲ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر یقین کر لو۔‘‘
اس نے پوچھا: کون سا ایمان افضل ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: اَلْھِجْرَۃُ۔ ہجرت۔

اس نے پوچھا: ہجرت کیا ہے؟

آپٌ نے فرمایا: اَنْ تَھْجُرَ السُّوْء ’’یہ کہ تم برائی کو چھوڑ دو۔
‘‘
اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: اَلْجِھَادُ۔ جہاد۔ اس نے پوچھا: جہاد کیا ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: اَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ اِذَا لَقِیْتَھُمْ ’’یہ کہ جب کفار کے ساتھ مڈبھیڑ ہو جائے تو اُن کے خلاف لڑو۔
‘‘
اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: مَنْ عُقِرَ جَوَادُہٗ
وَاَھْرِیْقَ دَمُہٗ۔ ’’اس شخص کا جہاد جس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹی جائیں اور وہ اس سے گر کر شہید ہو جائے۔‘‘
قرآن و سنت میں اس حوالے سے کسی سوال کے جواب یا کسی حقیقت کے اظہار اور بیان کے سلسلے میں جو تعلیمات وارد ہوئی ہیں، جو شخص ان کی تحقیق کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ہمارے سامنے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں جن کے ذریعے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں افضل، اولیٰ اور سب سے زیادہ پسندیدہ اَقدار و اعمال کیا ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ بعض احادیث میں ان کے درمیان جو نسبت ہوتی ہے وہ بھی بیان کی گئی ہے۔ جیسے:
’’نمازِ باجماعت انفرادی نماز سے ۲۷ درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘
’’ایک درہم ہزار درہموں پر غالب آگیا‘‘۔
[ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے۔ اس نے ان میں ایک لے کر صدقہ کردیا (یعنی اس نے اپنے آدھے مال کا صدقہ کیا، حالانکہ وہ خود اس کے لیے محتاج تھا) دوسرا آدمی تھا جس کے پاس بہت سارا مال تھا۔ اس نے اپنے مال کے ایک کونے سے ایک لاکھ روپے لیے اور ان کو صدقہ کیا]
’’ایک دن رات اﷲ کی راہ میں پہرہ دینا اس سے بہتر ہے کہ آدمی ایک عرصے تک دن کو روزہ رکھے اور رات کو نماز پڑھتا رہے۔‘‘
’’اﷲ کی راہ میں ایک لمحے کے لیے کھڑا ہونا گھر میں ستّر سال تک نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘
دوسری طرف برے اعمال کے لیے بھی کچھ معیار مقرر کیے گئے ہیں اور اﷲ کے ہاں ان کے تفاوت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ صغائر ہیں، کچھ کبائر، بعض مشتبہات ہیں اور بعض مکروہات۔
بعض اوقات ان کی آپس میں نسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ جیسے:
’’اگر ایک آدمی جان بوجھ کر ایک درہم سود کھائے تو یہ اس سے زیادہ شدید ہے کہ ایک شخص ۳۶ بار زنا کا مرتکب ہو جائے۔‘‘
نیز بعض چیزوں سے محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جسے شریعت نے دوسرے اعمال کے مقابلے میں زیادہ اور بدتر قرار دیا ہے۔ جیسے:
’’آدمی کی بدترین صفت بے صبری میں مبتلا کرنے والی حرص اور بے انتہا بزدلی ہے۔‘‘
’’بدترین آدمی وہ ہے جو اﷲ کے نام پر مانگتا ہے (مگر جب اس سے مانگا جائے تو) پھر نہیں دیتا۔‘‘
’’میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو منہ ٹیڑھا کر کے فضول بولتے رہتے ہیں اور اَکڑ کر چلتے ہیں۔ اور بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔‘‘
’’سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے، اس طرح کہ وہ رکوع اور سجدہ ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کرتا۔ اور سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بھی بخل کرتا ہے۔‘‘
اس طرح قرآن پاک نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ سارے لوگ مرتبے کے لحاظ سے آپس میں برابر نہیں ہیں، اگرچہ انسانیت کے لحاظ سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ علم و عمل کے لحاظ سے لوگوں کے درمیان میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اﷲ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘۔ (الحجرات: ۱۳)
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَط (الزمر:
۹)
’’ان سے پوچھو: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟‘‘
’’مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اﷲ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اﷲ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اﷲ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے۔ مگر اُس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ اُن کے لیے اﷲ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت و رحمت ہے، اور اﷲ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (النساء:۹۵۔۹۶)
وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی
وَالْبَصِیْرُo وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُo وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُo وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُط (فاطر:۲۹۔۲۲)
’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے، نہ تاریکی اور روشنی یکساں ہیں، نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں۔‘‘
’’پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔ اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اﷲ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے‘‘۔ (فاطر:۳۲)
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان بھی اسی طرح فرق اور باہمی فضیلت پایا جاتا ہے جس طرح کہ اعمال آپس میں متفاوت اور متفاضل ہیں۔ مگر لوگوں کے درمیان جو تفاوت اور تفاضل ہے، وہ صرف علم، عمل، تقویٰ اور جہاد کی بنیاد پر ہے۔

اسلام میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق


 اسلام میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق

قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

ڈاکٹر سید حیدر شاہ


اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بنی نوع اانسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ تاکہ لوگ ضلالت کے گڑھے سے نکل کر راہ راست پر گامزن ہوسکیں۔ انبیاء علیھم السلام کے مقدس سلسلے کے اختتام پر حضرت محمدﷺ مبعوث ہوئے۔ آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ دین اسلام کو دیگر تمام مذاہب پر غالب کردیا جائے۔ ارشاد عزوجل ہے:
’’وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ اور سچا دین دے کر کہ اس کو بلند کرے سب ادیان پر اور چاہے بُرا مانیں سب شرک کرنے والے۔‘‘ (الصف:۹)
حضورﷺ کی مکی زندگی میں دعوت الی اللہ و تبلیغ دین پُرامن تھی۔ مگر کفار مکہ نے اس کے خلاف جارحیت و تشدد کا راستہ اختیارکیا۔ جس کے جواب میں کئی سال بعد مدینہ میں مسلمانوں کو قتال کی اجازت ملی۔ اس کے ذریعے سرکش قوتوں کو مطیع کرنا مطلوب تھا۔ اسلام میں جہاد و قتال اگرچہ فرض کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ان کا مقصد کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں بلکہ جارحیت و تشدد پر آمادہ قوتوں کا انسداد مقصود ہوتا ہے۔ جب مخالف قوتیں اپنی سرکشی چھوڑ کر مطیع بننے پر آمادہ ہوں تو انہیں اسلامی ریاست میں بطور اہل الذمہ شامل کیا جاتا ہے۔ جہاں وہ تمام بنیادی حقوق کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ معمولات زندگی میں وہ مسلم رعایا کے مساوی درجے پر آجاتے ہیں۔
’’اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسولﷺ نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں۔ ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں۔‘‘ (التوبۃ:۲۹)
جارح قوتوں کے خلاف قتال واجب ہے یہاں تک کہ وہ ہتھیار رکھ کر اسلامی ریاست کے اطاعت گزار نہ بن جائیں۔ اور جزیہ کی ادائیگی ان کی اطاعت شعاری کا ثبوت ہوگی۔ اس آیت میں حکم تو اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے متعلق ہے۔ مگر جوخصائل (کفر) ان کی بیان ہوئی ہیں۔ وہ ان سے کہیں زیادہ دیگر مشرکین میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اُن سے قتال بدرجہ اولیٰ واجب ہے۔ اور مُشرکین عرب کو چھوڑ کر باقی علاقوں کے مشرکین کے اظہار اطاعت کی صورت میں ان سے جزیہ وصول کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضورﷺ نے مجوس یمن سے لیا حالانکہ وہ اہل کتاب نہ تھے۔
مشرکین عرب کا جزیہ سے استثناء حضورﷺ کے فرمان کی بنا پر ہے۔ جس میں جزیرۃ العرب کو قیامت تک کے لیے توحید کا جغرافیائی مرکز قرار دیا گیا ہے، اس کی حدود کے اندر کفرو شرک کی اجازت کسی شرط پر نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے مشرکین عرب کے لیے جزیہ نہیں بلکہ دو ہی صورتیں تھیں کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا جزیرۃ العرب سے باہر نکل جائیں۔
جزیہ کے معنی بدلہ اور عوض کے ہیں یعنی وہ رقم جو اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا سے ان کے جان و مال کی حفاظت کے معاوضہ میں وصول کرتی ہے۔ یہ لوگ فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہوتے ہیں اور ان پر زکوٰۃ بھی لاگو نہیں ہوتی جبکہ مسلم رعایا پر فوجی خدمات نیز صاحب نصاب لوگوں پر زکوٰۃ دونوں چیزیں لاگو ہوتی ہیں۔ اس طرح ذمی اقوام معمولی ساجزیہ ادا کرکے زیادہ سہولت میں رہتی ہیں۔ جزیہ بھی صرف صاحب استطاعت اور بر سرروزگار لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ ان کے مفلس و محتاج، معذور، عورتیں اور بچے اس سے مستثنیٰ ہیں۔[دورِ جدید میں فوجی ضروریات کی تکمیل انکم ٹیکس وغیرہ سے ہوتی ہے جو کہ مسلم و غیرمسلم دونوں سے لیا جاتا ہے، اس لیے اب جزیہ کے حوالے سے کوئی بھی اسلامی مملکت اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرے گی (مدیر، معارف مجلہ تحقیق)]
مفتوحین پر قبول اسلام میں تو کوئی جبر نہیں مگر انہیں اسلامی ریاست کا ماتحت و مطیع بن کر امن و سلامتی سے رہنا ہوتا ہے۔ جس کی علامت ان کی طرف سے جزیہ کی ادائیگی ہے۔ ایسے لوگوں کو اسلامی اصطلاح میں اہل الذمہ یا ذمی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مسلم حکومت کے ذمہ میں آجائیں۔ جدید اصطلاح میں غیر مسلم رعایا کے لیے مذہبی اقلیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔ مثلا ذمی جو مفتوح ہو کر جزیہ ادا کرتے ہوں۔ دوسرے وہ معاہدین جو بغیر جنگ کیے مصالحت کے ذریعے مسلمانوں کے زیر انتظام آگئے ہوں۔ تیسرے مستامن۔ یعنی وہ لوگ جو مسلمانوں سے امن لیکر اسلامی ریاست میں آئے ہوں۔ مثلا تاجر۔ وفود اور سفیر وغیرہ۔ اور چوتھے وہ جنگی قیدی ہیں جو مسلمانوں کی قید میں ہوں۔ اسلام نے ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا درس دیا ہے۔ الغرض ان تمام مذہبی اقلیتوں کوقرآن مجید کے حوالے سے جو حقوق حاصل ہیں وہ درج ذیل ہے۔

۱۔ حفاظتِ جان:

قرآن مجید میں قتل ناحق کی سخت مذمت آئی ہے۔ کسی بے گناہ شخص کا خون پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اور کسی بے قصور شخص کو مارے جانے سے بچالینے کو ساری انسانیت کی حفاظت کے برابر قرار دیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔
’’جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلاعوض جان یا بغیر فساد کے ملک میں تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو تو گویا زندہ رکھا سب لوگوں کو۔‘‘ (المائدۃ:۳۲)
یہاں صرف مسلمانوں کے قتل ناحق کی ممانعت نہیں بلکہ اسلامی مملکت کے سب شہریوں کے خون ناحق سے روکا گیا ہے۔اگر کوئی شخص ناحق قتل کیاجائے تو شرع اسلامی نے مقتول کے اولیاء کو چارہ جوئی کا حق دیا ہے۔ اور اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قاتل کو سزا دے۔
ارشاد ربانی ہے:
’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُ س کی مدد کی جائے گی۔‘‘ (بنی اسرائیل:۳۳)
اس میں یہ شرط نہیں کہ مقتول مسلمان ہو بلکہ ذمی و معاہد (مقتول) کے ورثا کو بھی قصاص لینے کا حق حاصل ہے۔ اس کے متعلق قرآن مجید میں وارد ہے۔
’’اے ایمان والو فرض ہوا تم پر (قصاص) برابری کرنا مقتولوں میں۔‘‘ (البقرۃ:۱۷۸)
قصاص لینے میں مسلم و ذمی کی کوئی تمیز نہیں۔ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں:
’’مقتول ذمی کے بدلے میں قاتل مسلمان کا قتل واجب ہے۔ کیونکہ (عام حقوق میں) ایک ذمی اور ایک مسلمان کے مابین کوئی فرق نہیں ہے اور قصاص کے واجب ہونے کا حکم عام ہے سب میں۔ اس آیت کریمہ کی رو سے (عام معاملات میں) ایک کافر اور ایک مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ قصاص کا حکم دونوں پر جاری ہوگا۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے کہ جو مظلوم قتل ہوا ہو ہم نے اس کے ولی کو دعویٰ کا حق دیا ہے۔‘‘

۲۔ ذمی و معاہد کی دیت:

قرآن مجید میں قتل خطا کے بدلہ میں دیت یعنی خون بہا کی ادائیگی اور کفارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ مقتول مسلم ہو یا ذمی دونوں کے دیت و کفارہ مساوی رکھے گئے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے:
’’اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی سے تو آزاد کرے ایک گردن مسلمان کی اور خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو مگریہ کہ وہ معاف کردیں۔۔۔ اور اگر وہ تھا ایسی قوم میں سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے تو خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی۔‘‘ (النساء:۹۲)
دور جہالت میں دیت کا نصاب سو اونٹ تھا۔ اسلام نے بھی اسے برقرار رکھا۔ یعنی قاتل مقتول کے ورثا کو سو اونٹ یا ان کی قیمت دے گا۔ اس حکم کی تفسیر میں ابوبکر جصاص لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے جہاں مسلمانوں کی دیت کا ذکر فرمایا ہے۔ وہیں عطف کر کے معاہد او ر ذمی کی دیت بھی وہی قرار دی ہے۔ جو مسلمان کی ہے۔ یہ دیت ایک بدیہی چیز تھی کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دیت کالفظ استعمال نہ ہوتا۔ اس لیے کہ دیت تو ایک مقدار معلوم کا نام ہے کسی جان کے بدلے میں،اس میں نہ اضافہ ہوسکتا ہے نہ کمی ہو سکتی ہے اور لوگ مقاد یر دیات سے پہلے ہی واقف تھے مگرمسلم و کافر کی دیت کے فرق سے ناواقف تھے، پس واجب ہوا کہ کافر (ذمی و معاہد) کی دیت بھی وہی ہو جو مسلمان کی تھی۔‘‘
اسلام نے مسلم و ذمی (معاہد) کا خون بہا مساوی رکھا ہے۔ اس میں کسی طرح کا امتیاز روانہ رکھ کر یہ ثابت کردیاہے۔ کہ دنیاوی معاملات میں وہ صرف انسانیت کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اور کافر و مسلم میں فرق رکھ کر مسلمانوں کی بالادستی قائم نہیں کرتا بلکہ مساوات کامل کا اصول پیش کرتا ہے۔

۳۔ تحفظِ ناموس:

قرآن مجیدمیں کسی اجنبی عورت سے جنسی تعلق کو حرام بتایا گیا ہے۔ اسے بے حیائی اور بدچلنی قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اس قبیح فعل کے قریب پھٹکنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اور حکم عدولی کی صورت میں مرد و عورت دونوں کے لیے سزا مقرر فرمائی جسے شرعی اصطلاح میں حد کہا جاتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔
’’بدکاری کرنے والی عورت اور بدکار مرد، سو مارو ہرایک کو دونوں میں سے سو سو دُرے۔‘‘ (النور:۲)
قرآن مجید میں زنا کی ممانعت نیز ارتکاب کی صورت میں سزا کا حکم اس امر کی دلالت کرتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے میں فحاشی و بدچلنی کا مکمل انسداد چاہتا ہے۔ اس میں صرف مسلم ہی نہیں بلکہ معاشرے میں شامل سب کی عصمت کا تحفظ مطلوب ہے۔ مولانا مودودی ؒ لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید کی رو سے بدکاری مطلقاََ حرام ہے خواہ وہ کسی عورت سے کی جائے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ عورت مسلمان ہو یا غیر مسلم (ذمی) اپنی قوم کی ہو یا غیر قوم کی۔ دوست ملک کی ہو یا دشمن ملک کی۔‘‘
اسلام حاکم قوم(یعنی مسلمانوں) کو ا س کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ محکوم رعایا (یعنی ذمیوں) کی عزت و عصمت پر ہاتھ ڈالیں۔ حکم عدولی کی صورت میں ان پر وہی حدنافذ ہوگی جو کسی مسلمان خاتون کی عصمت دری پر مقرر ہے۔

۴۔ حدِّ قذف:

مسلم معاشرے میں کسی پاک دامن پر تہمت زنا لگانا شدید جرم ہے،جس کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے:
’’اور جو لوگ عیب لگاتے ہیں حفاظت والیوں کو پھر نہ لائے چار مرد شاہد تو مارو انہیں اَسّی (۸۰) دُرے اور نہ مانو ان کی گواہی او ر وہی لوگ ہیں نافرمان۔‘‘ (النور:۴)
اس آیت میں پاکدامن عورتوں پر تہمت زنا لگا کر اس کا شرعی ثبوت (یعنی چار عاقل بالغ اور مسلمان گواہ) پیش نہ کرنے والے پر حد قذف لگانے کا حکم ہے۔ پاکدامن ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں، بلکہ وہ غیر مسلم خواتین بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی ذمی عورت پر تہمت لگائے تو اس پر بھی یہ حد جاری ہوگی۔ در مختار میں لکھا ہے کہ
’’یہ حدنافذ ہوگی چاہے آزاد ہو یا غلام۔ اسی طرح چاہے ذمی ہو یا عورت ہو۔‘‘

۵۔ معاشی تحفظ:

معاشرے میں نادار و مفلس افراد کے لیے مالی معاونت کے متعلق ارشاد قرآنی ہے۔
’’اور ان کے اموال میں مانگنے والوں اور (نہ مانگنے والوں) محروم دونوں کا حق ہے۔‘‘ (الذاریات:۱۹)
یعنی سائل اور غیر سائل مساکین و محتاج لوگوں کی کفالت مسلم معاشرے اور حکومت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ ان کا مسلمان ہونا شرط نہیں بلکہ اگر محتاج ذمی بھی ہو تو اس کی کفالت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس کفالت کی ترغیب میں ارشاد ہے:
’’اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔‘‘ (الدھر:۸)
اسلامی ریاست میں محتاج و یتیم ذمی بھی ہوسکتے ہیں جنھیں کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بتایا گیا ہے۔ اور جہاں تک قیدیوں کا تعلق ہے تو دور نبویﷺ میں قیدی تو صرف حربی کفار ہی ہوتے تھے۔ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں کہ
’’یہ بات تو بالکل ظاہر ہے اس لیے کہ دارالاسلام میں کوئی اسیر جنگ مشرک ہی ہو سکتا ہے۔‘‘
مثلاً غزوہ بدر کے قیدی مشرکین مکہ تھے جنہیں مسلمان اپنی نسبت بہتر کھانا کھلاتے تھے۔ غیر مسلموں پر خرچ کرنے کے متعلق ارشاد ربانی ہے:
’’تیرے ذمہ نہیں ان کو راہ پر لانا اور لیکن اللہ راہ پر لاوے جس کو چاہے۔ اور جو کچھ خرچ کرو گے تم مال میں سے سو اپنے ہی واسطے۔‘‘ (البقرۃ:۲۷۲)
اس جگہ عام اُصول بیان کیا گیا ہے۔ کہ اللہ کی راہ میں جس کو مال دو گے تمھیں اس کا ثواب دیا جائیگا۔ مسلم و غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر مستحق کو دیا جا سکتا ہے۔ ابن حنفیہ سے روایت ہے کہ لوگ اسے نا پسند کرتے تھے کہ مشرکین کو صدقہ دیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اب لوگ (نادار) مشرکوں کو بھی صدقہ دینے لگے۔
ان آیات قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے مساکین و محتاج کی کفالت کرنا مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ معاشی مشکلات میں ان کے ساتھ تعاون کیا کریں۔

۶۔ تحفظِ ملکیت:

لوگوں کے ذاتی و جائیداد کی حفاظت کے متعلق ارشاد الٰہی ہے:
’’اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق۔‘‘ (البقرۃ:۱۸۸)
ناحق مال کھانے سے مراد چوری، خیانت، دغابازی، رشوت ستانی اور غصب وغیرہ کے ذریعے کسی کا مال و جائیداد ہتھیانا ہے۔ یہ حکم بھی عام ہے کہ مسلم و ذمی کسی کے مال کو اُن مذکورہ بالا ذرائع سے حاصل کرنا حرام ہے۔ اور حکم عدولی کرنے والا مجرم اور مستوجب سزا ہوگا۔ مثلا اگر کوئی شخص کسی ذمی کے مال کی چوری کرے گا تو سزا میں اس کاہاتھ کاٹا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کی شراب اور خنزیر (جن کی انہیں اجازت ہے) کو تلف کرے گا تو اسے توان دینا پڑ ے گا۔جیسا کہ در مختار میں ہے:
ویضمن المسلم قیمۃ خمرہ و خنزیرہ اذا اتلفہ۔

۷۔ تحفظِ عزت و آبرو:

آبرو کا تحفظ بھی انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ اس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے:
’’تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے،ممکن ہے یہ اس سے بہتر ہو(یعنی بلحاظ انجام وہ اس سے بہتر ہو)۔‘‘ (الحجرات:۱۱)
ایسامذاق جس سے دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہو ممنوع ہے۔ اس میں مسلم و ذمی کی
کوئی تخصیص نہیں۔ بلاوجہ کسی کے ساتھ تمسخرکی اجازت نہیں ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
’’اور نہ کسی کو بُرے القاب دو۔‘‘ (الحجرات:۱۱)
یعنی ایسے القاب و نام رکھنا جس سے کسی کو تکلیف ہو حرام ہے۔ اس میں بھی مسلم و ذمی کی کوئی تخصیص نہیں۔ فقہا ء اسلام نے ارشاد فرمایا ہے:
’’کہ کسی ذمی کو کافریا مشرک کہہ کر پکارنے سے اسے اگر بُرا لگتا ہو توایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور خلاف ورزی کرنے والا مستوجب سزا ہوگا۔‘‘
آگے ارشاد ہے:
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔‘‘ (الحجرات:۱۲)
غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ اس میں بھی مسلم و ذمی کی کوئی قید نہیں، اس سے سب کو تکلیف ہوتی ہے، اور ذمی کو گالی یا غیبت کے ذریعے تکلیف پہنچانا ممنوع ہے۔ابن نجیم لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی مسلمان اسے گالی وغیرہ کے ذریعے تکلیف پہنچائے گا تو وہ مستوجب سزا ہوگا۔‘‘

۸۔ نجی زندگی کا تحفظ:

اسلام نے لوگوں کے ذاتی معالات میں دخل اندازی کو بھی منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں ارشاد ربانی ہے۔
’’اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لو۔‘‘ (النور:۲۷)
ایک اور ارشاد ہے:
’’اور کسی کا بھید نہ ٹٹولا کرو۔‘‘ (الحجرات:۱۲)
ان احکام کا مقصدیہ ہے کہ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت نہ کی جائے یہاں بھی مسلم و ذمی کی کوئی تمیز نہیں۔ کسی ذمی کے گھر بلا اجازت داخل ہونا۔ یا بلاوجہ اس کی عیب جوئی کے لیے اس کی ٹوہ میں رہنا اسے تکلیف پہنچانے والی حرکات ہیں۔ ذمی کو تکلیف پہنچانا ناجائز و حرام ہے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر کسی یہودی نے حضورﷺ سے بعض افراد کے اُ ن کے گھروں میں داخل ہونے کی شکایت کی تو آپؐ نے مسلمانوں کو اس حرکت سے منع فرمایا۔

۹۔ عدل و انصاف:

انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہے کہ انبیاء علھیم السلام کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا ایک اہم مقصد نظام عدل کاقیام بتایا ہے۔ ارشاد ہے:
’’ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر۔‘‘ (الحدید:۲۵)
جہالت و بے دینی انسانی معاشرے میں ظلم و ستم کا باعث ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کو آسمانی تعلیمات دے کر اس لیے بھیجا تاکہ انسانیت راہ حق پر گامزن ہو کر عدل و انصاف کی خوگر بن جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا معاملہ چاہتا ہے۔ جس کے متعلق ارشاد ہے۔
’’اور جب تم لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ (النساء:۵۸)
اسلامی تعلیمات میں مسلم و غیر مسلم سب انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا حکم ہے۔ قیام عدل میں کسی قوم کی دشمنی و عداوت سے متاثر ہونے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ تمام خواہشات و جذبات سے بالاتر ہو کر صرف اللہ کے لیے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اے ایمان والو کھڑے ہو جایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی۔ اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو۔ عدل کرو۔ یہی بات نزدیک ہے تقویٰ سے۔اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ (المائدہ:۸)
دین اسلام کی یہ امتیازی شان ہے کہ کفارو مشرکین کی جانب سے اظہار نفرت و عداوت کے باوجود مسلمانوں کو راہ اعتدال سے سرموہٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ انہیں ہر حال میں نیکی اور تقویٰ پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ کلام پاک میں ارشاد ہے:
’’اور باعث نہ ہو تم کو کسی قوم کی دشمنی جو کہ تم کو روکتی تھی حرمت والی مسجد سے اس پر کہ زیادتی کرنے لگو۔ اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور نہ مدد کرو گناہ پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘ (المائدہ:۲)
عدل و انصاف کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے۔
’’بے شک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ سمجھادے تجھ کو اللہ اور تو مت ہو دغا بازوں کی طرف سے جھگڑنے والا۔‘‘ (النساء:۱۰۵)
اس آیت کی تفسیر میں ابوبکر جصاص نے لکھا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ یہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے ایک ذرہ چرالی تھی اور جب اندیشہ ہوا کہ چوری کھل جائے گی تو وہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی۔ جب یہودی کے گھر میں ذرہ پائی گئی تو اس نے چوری سے انکار کیا اور اصل چور اس یہودی پر الزام دھرنے لگا اور مسلمانوں کی ایک جماعت نے یہودی کے مقابلے میں مسلمان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ رسولﷺ بھی مسلمانوں کے قول کی طرف مائل ہونے لگے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اصل واقعہ کی اطلاع دی اور یہودی کو چوری سے بری قرار دیا۔ اور اس کے خلاف فیصلہ دینے سے روک دیا۔
یعنی عدل و انصاف کے معاملے میں ایک یہودی کے مقابلے میں ایک مسلمان کی طرف ذرا سے میلان پر آپؐ کو فوراََ متنبہ کیا گیا اور بذریعہ وحی آپؐ کو عدل پر قائم رہنے کا اہتمام کیا گیا۔

۱۰۔ مذہب کا تحفظ:

اسلام رواداری اور برداشت سکھاتا ہے۔ مذہب و عقیدے میں تنگ نظری کا قائل نہیں قرآن مجید میں ارشاد ہے:
’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرۃ:۲۵۶)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’اور کہو سچی بات جو ہے تمہارے رب کی طرف سے، پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے۔‘‘ (الکہف:۲۹)
ایک اور ارشاد ہے:
’’تم کہو میں تو اللہ کو پوجتا ہوں خالص کر کر اپنی زندگی اس کے واسطے اب تم پوجو جس کو چاہو اس کے سوا۔‘‘ (الزمر:۱۴۔۱۵)
حضورﷺ کی بے انتہا خواہش تھی اور اسی سلسلہ میں سعی بلیغ فرماتے تھے کہ سب لوگ اسلام میں داخل ہوں۔ لہٰذا ہر وقت متفکر و پریشان رہا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد الٰہی ہوا:
’’اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ ہم نے تم کو ان پر کوئی محافظ (مقرر) نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے وکیل ہو (کہ انہیں بھٹکنے نہ دو)۔‘‘ (الانعام:۱۰۷)
اسی مضمون کی ایک اور آیت ہے:
’’اگر تمہارارب چاہتا تو دنیا کے تمام لوگ سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کر سکتے ہو۔‘‘ (یونس:۹۹)
کلام پاک میں غیر مسلموں کی الگ مذہبی حیثیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادہے۔
’’ان غیر مسلموں سے کہہ دو کہ تمہارے لیے تمہارا دین ہے۔ اور میرے لیے میرا دین۔‘‘ (الکافرون:۶)
ان قرآنی آیات سے یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ردو قبول میں لوگوں کو آزاد رکھا ہے۔ قتال کا مقصد لوگوں کو مسلمان بنانا نہیں بلکہ ان کی سرکشی و شرارت ختم کر کے انہیں مطیع و پُرامن بنانا ہے۔ اسلام کی دعوت رشد و ہدایت سب کے لیے عام ہے۔ مگراس معاملہ میں کسی پرجبر نہیں۔ اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے اور اسی کی اشاعت و ترویج کے لیے پورا نظام دعوت و جہاد قائم ہوا ہے۔ قرآن مجید نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ اور اس سے مکمل بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود غیر مسلموں کے دیوتاؤں اور مذہبی تقدس کی حامل اشیاء کو بُرا بھلا کہہ کر ان کی دل آزاری سے منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں ارشاد ہے۔
’’اور تم لوگ بُرا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا۔ پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بے ادبی سے بدون سمجھے۔ اسی طرح ہم نے مُزین کر دیا ہے۔ ہر ایک فرقہ کی نظر میں ان کے اعمال کو۔‘‘ (الانعام:۱۰۸)
اسلام غیر مسلموں کے مذہبی اداروں کا بھی احترام سکھاتاہے۔ اور قتال کی ایک غرض محض ان شرپسند قوتوں کا خاتمہ قرار دیتاہے۔ جن کے سبب مذہبی مراسم کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور اگر نہ ہوتا دور کرنا اللہ کا بعض کو بعض سے۔ البتہ ڈھائے جاتے خلوت خانے درویشوں کے اور عبادت خانے نصاریٰ کے اور عبادت خانے یہود کے اور مساجد، کہ لیا جاتا ہے بیچ ان کے نام اللہ کا بہت۔‘‘ (الحج:۴۰)
تاریخ گواہ ہے کہ ان قرآنی تعلیمات کے پیش نظر مسلم فاتحین نے غیر مسلم اقوام کے ساتھ جہاد و قتال میں ان کی مذہبی عبادت گاہوں کو عمومََا نقصان نہیں پہنچایا۔ اور نہ ان مذہبی رہنماؤں اور راہبوں وغیرہ سے کوئی تعارض کیا جن کا مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کوئی کردار نہ تھا۔ محمود غزنوی کے سومنات کے مندرکو ڈھانے کی وجہ مذہبی تعصب نہیں بلکہ عسکری ضرورت تھی۔ کیونکہ وہ مندر مسلمانوں کے خلاف مدافعت میں اہم کردار کا حامل تھا۔ اس کے برعکس زمانہ رسالت اور خلفائے راشدین بلکہ بنوامیہ اور بنو عباس کے خلفاء کی طرف سے عطا کردہ امان ناموں میں ان کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ (۔۔۔ جاری ہے!)
(بشکریہ: ششماہی ’’معارف مجلۂ تحقیق‘‘ کراچی۔ جولائی۔دسمبر ۲۰۱۱ء)


صالح معاشرے کی تعمیر اور اداروں کا کردار


صالح معاشرے کی تعمیر اور اداروں کا کردار

ڈاکٹر محمد رفعت | (مدیر ماہنامہ زندگی نو)


فرد کی شخصیت ظاہر اور باطن کا امتزاج ہوتی ہے۔ چنانچہ شخصیت کے متوازن ارتقاء کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ظاہر کی بھی اصلاح کی جائے اور باطن کی بھی۔ دونوں پہلو اہم ہیں لیکن اساس کی حیثیت بہرحال باطن کو حاصل ہے۔ فرد کے خیالات و افکار اس کے باطن کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر افکاردرست، واضح اور مستحکم ہوں تو فرد کی شخصیت کے ارتقا کی توقع کی جاسکتی ہے۔ فرد کی شخصیت کی طرح ہر معاشرہ بھی اپنی ایک ’’شخصیت‘‘ رکھتا ہے جو باطن اور ظاہر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ معاشرے کا باطن اْن اقدار سے عبارت ہوتا ہے جو اْس معاشرے میں رائج ہوں۔ یہ اقدار معاشرے کے اندازِ فکرکی عکاس ہوتی ہیں۔ دو سری طرف معاشرے کا ظاہر اُس کے عملی رویے سے جھلکتا ہے۔ معاشرے کا یہ عملی رویہ معاشرے کے اداروں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ چنانچہ جو باہمت افراد معاشرے کی اصلاح کا مشن لے کر اٹھیں اْن کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ان دونوں پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ ایک طرف اُن کا کام یہ ہے کہ معاشرے کے ردوقبول کے پیمانوں (یعنی اقدار) کی اصلاح کریں اور دوسری جانب اْن کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے اداروں کو درست خطوط پر قائم کریں۔ تعمیر معاشرہ کی اس سعی کا ہدف مسلمان معاشرہ بھی ہوسکتا ہے اور عام انسانی معاشرہ بھی۔
جہاں تک مسلمان معاشرے کا تعلق ہے اْس کے اجتماعی اداروں کے چلانے والوں کو اس امر کی شعوری کوشش کرنی چاہیے کہ اْن کے زیر اہتمام ادارے اسلامی خطوط پر کام کریں اور اْن کی کارکردگی معیاری ہو۔ اِس مطلوبہ معیار کے حصول کی راہ میں بعض مشکلات حائل ہوتی ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ کمزوریاں ہیں جو اداروں کو لاحق ہوجاتی ہیں۔ اِن کمزوریوں کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے: (۱لف) شعور کی کمی، (ب) اضمحلال اور (ج) تفرقہ۔ مسلم معاشرے کی تعمیر کی کامیاب سعی کے لیے اِن کمزوریوں پر قابو پانا ضروری ہے۔

شعور کی کمی

مسلمان معاشرے کے کسی اجتماعی ادارے کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ادارے کے چلانے والوں کا اسلامی شعور بیدار ہو اور وہ اسلامی فکر کے حامل ہوں۔ اداروں کے سیاق میں اسلامی فکر سے تین امور مراد ہیں: (الف) بحیثیت مجموعی اْمت کے مشن کا شعور (ب) اُس ادارے کے مقصد کا واضح تصور اور (ج) اسلامی حدود و آداب سے واقفیت۔ اس معیار پر جانچا جائے تو مسلمان معاشرے کے اداروں کی عمومی صورتحال کچھ تسلی بخش نظر نہیں آتی۔ یہ واقعہ ہے کہ مسلمان تعلیمی ادارے بھی چلا رہے ہیں اور خدمتِ خلق کے ادارے بھی لیکن مسلمان معاشرے میں یہ شعور عام نہیں ہے کہ ادارے کا طرزِ عمل اْمت کے مجموعی مشن سے ہم آہنگ اور اس کا تابع ہونا چاہیے۔
ہر باشعور مسلمان جانتا ہے کہ امت کے مشن کے کلیدی عناصر حق کی شہادت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہیں۔ ان عناصر پر محیط مشن جہدِ پیہم کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جدوجہد سے جو نتیجہ مطلوب ہے وہ باطل کی شکست اور حق کی فتح ہے۔ اس امر کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر ادارہ اس طرز پر کام کرے کہ ادارے کے تحت کی جانے والی سعی بالآخر حق کی فتح کے آخری مقصد کے حصول میں معاون ہوسکے۔ کسی معاشرے میں حق کا غلبہ ایک ایسا مظہر ہے جو سطحی کوششوں سے نمودار نہیں ہوسکتا بلکہ حقیقی و بنیادی تبدیلی چاہتا ہے۔ اس تبدیلی کا جَوہر معاشرے کی قیادت کی تبدیلی ہے۔ جو مخلص افراد حق کے غلبے کے خواہش مند ہوں ان کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کو غیر صالح قیادت سے نجات دلائیں اور صالح قیادت کے تحت اْس کو منظم کریں۔ مسلمانوں کے ہر ادارے کو اپنے مقصد اور طریق کار کا تعین اِسی طرز پر کرنا چاہیے کہ معاشرے میں قیادت کی یہ تبدیلی واقع ہوسکے۔ اس تبدیلی کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام کے اندر صالح قیادت سے وابستگی اور غیر صالح قیادت سے بیزاری کے جذبات فروغ پائیں۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اسلامی مشن کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ہماری جدوجہد کا آخری مقصود انقلابِ امامت ہے۔ یعنی دنیا میں ہم جس انتہائی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فساق وفجار کی امامت ختم ہوکر امامت صالحہ کا نظام قائم ہو، اوراسی سعی وجہد کو ہم دنیا وآخرت میں رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔۔۔ دراصل فساق و فجار کی قیادت ہی نوع انسانی کے مصائب کی جڑ ہے۔ اور انسان کی بھلائی کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا کے معاملات کی سربراہ کاری صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔۔۔ اب اگر کوئی شخص دنیا کی اصلاح چاہتا ہو اور فساد کو صلاح سے، اضطراب کو امن سے، بداخلاقیوں کو اخلاق صالحہ سے اور برائیوں کو بھلائیوں سے بدلنے کا خواہش مند ہو تو اس کے لیے محض نیکیوں کا وعظ اور خدا پرستی کی تلقین اور حْسن اخلاق کی ترغیب ہی کافی نہیں ہے بلکہ اْس کا فرض ہے کہ نوعِ انسانی میں جتنے صالح عناصر اْس کو مل سکیں انہیں ملاکر وہ اجتماعی قوت بہم پہنچائے جس سے تمدن کی زمامِ کار فاسقوں سے چھینی جاسکے اور امامت کے نظام میں تغیر کیا جاسکے‘‘۔ (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)
جاہلی معاشرے میں قیادت کا منصب، اقتدار کے طالبین کے پاس ہوتا ہے۔ زوال سے دوچار مسلمان معاشرہ اگر جاہلیت کے اثرات سے متاثر ہوتو اس میں بھی اْن افراد کا احترام کیا جانے لگتا ہے جو اقتدار رکھتے ہوں یا دولت وثروت اْن کو حاصل ہو خواہ اخلاق و کردار،دین سے وابستگی اور علم وفہم کے اعتبار سے وہ پست درجے کے لوگ ہوں۔ جب پورا معاشرہ اِس صورتحال سے دوچار ہوتو بظاہر اچھے اور نیک مقاصد کے لیے کام کرنے والے ادارے بھی با اثر فساق و فجار کی سرپرستی کے طالب ہوتے ہیں اور اْن کی نگاہِ التفات کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ’’نیک‘‘ لوگوں کا یہ طرز عمل عوام الناس کے لیے نمونہ بنتا ہے اور بدکردار لوگوں کی قیادت ختم ہونے کے بجائے معاشرے میں مزید مستحکم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس طرح تعمیری مقاصد رکھنے والا ادارہ اْمت کے مشن کی راہ میں روڑا بن جاتا ہے اور اْس کے ذریعے انجام پانے والا خیر کا کام بالآخر دنیا میں شر کے غلبے کا سبب بنتا ہے۔ اس خرابی سے بچنے کے لیے اِ س امر کا اہتمام ضروری ہے کہ معاشرے کی خدمت کرنے والے اداروں کے ذمے داران اور کارکنان، سب میں اْمت کے مشن کا واضح شعور پیدا کیا جائے تاکہ وہ اپنے ادارے کو فی الواقع انقلاب امامت کے مقصد کا خادم بنا سکیں۔ اِس مقصد کی راہ کا پہلا مرحلہ یہی ہے کہ غیر صالح قیادت سے عوام الناس کو نجات دلائی جائے۔

ادارے کے مقصد کا واضح تصور

مسلمانوں کے تحت چلنے والے ہرادارے کے مقصد کا تعین اسلامی فکر کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر تعلیم کو لیجیے۔ مسلمانوں کے درمیان تعلیم کا جو تصورعموماً رائج ہے، اس کا جائزہ لیتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’ہمارے یہاں معاملہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ تمام اوقات (گھنٹوں) میں تو ہم وہ علوم پڑھائیں جو مغربی مصنفین کی کتابوں میں ملتے ہیں اور صرف ایک پیریڈ میں لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا جائے کہ ایک ہستی کا نام خدا بھی ہے جسے تم کو جاننا چاہیے اور ایک ہستی کو اللہ نے رسولؐ بناکر بھیجا تھا، لیکن اس خدا اور اُس رسولﷺ کا مظاہرہ (Function) اْن کو باقی اسباق میں نظر نہیں آتا ، بلکہ اس کے برعکس تمام علوم و فنون اْس طرز پر پڑھائے جارہے ہیں جس طرز پر اہل مغرب نے انہیں مرتب کیا ہے‘‘۔ (علمی تحقیقات کیوں اور کس طرح؟)
یہ جو کچھ ہورہا ہے اس پر مولانا مودودیؒ کی تنقید تھی۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو تعلیم کے سلسلے میں کرنا کیا چاہیے؟ اس بارے میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’سب سے پہلا کام ہم یہ کرناچاہتے ہیں کہ مغربی فکر اور مغربی فلسفہ حیات کا جو طلسم بندھا ہوا ہے اس کو توڑ ڈالا جائے۔ ایک معقول اور مدلل تنقید کے ذریعے یہ بات ثابت کی جائے کہ مغربی علوم وفنون میں جتنے حقائق اور واقعات ہیں وہ دراصل تمام دنیا کا مشترک علمی سرمایہ ہیں اور اْن کے ساتھ کسی تعصب کا کوئی سوال نہیں ہے۔ لیکن ان معلومات و حقائق کو جمع کرکے جو فلسفہ حیات اہل مغرب نے بنایا ہے وہ قطعی باطل ہے۔ یہ پہلا ضروری کام ہے جس کے ذریعے سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ مسلمانوں پر مغربی فکر وفلسفے کا جو سحر ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ اس وقت تک تو مسلمانوں کا کام آنکھیں بند کرکے اہلِ مغرب کے پیچھے چلنا ہے۔ اِس حالت کو آپ نہیں بدل سکتے جب تک اِس سحر کو نہ توڑ دیں اوراس حقیقت کو واضح نہ کر دیں کہ علمی حقائق اور چیز ہیں اور علمی حقائق کو ترتیب دے کر ایک فلسفۂ زندگی اور نظامِ حیات مرتب کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ اِس کے آگے جو دوسرا کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے تمام علوم وفنون کو نئے اسلوب اور نئے طریقے پر مرتب کیا جائے تاکہ وہ ایک اسلامی تہذیب کی بنیاد بن سکیں۔۔۔ جتنے بھی علوم عمرانی ہیں اُن میں سے ہر ایک کو باقاعدہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک اْن کو اسلامی نقطۂ نظر سے مرتب نہ کیا جائے گا اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہ علوم نہ پڑھائے جائیں گے اس وقت تک آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ یہاں کبھی اسلامی تہذیب اٹھ سکتی ہے۔ اس کے بعد جو تیسرا کام ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ ایک نصاب مرتب کیا جائے جو اِس طرز پر تعلیم کے قابل کتابیں تیار کرے‘‘۔ (ایضاً)
ایک دوسری مثال لیجیے۔ اداروں کی ایک اہم قسم خدمتِ خلق کے ادارے ہیں۔ مسلمانوں کے زیراہتمام خدمتِ خلق میں مصروف اداروں کے سامنے خدمت کا تصور واضح ہونا چاہیے جو اسلام نے دیا ہے۔ مولانا سید جلال الدین عمری اِس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جن لوگوں میں خدا کا خوف ہوتا ہے اور جو صحیح معنوں میں اْس کے عبادت گزار ہوتے ہیں، انسانوں کے ساتھ اْن کا رویہ بھی ہمدردی اور خیرخواہی کا ہوتا ہے۔۔۔ وہ کسی ذاتی غرض یا خارجی دباؤ کے بغیر انسانوں کی خدمت کرتے ہیں، اْن کے سامنے کوئی دنیوی مفاد نہیں ہوتا، وہ اسے شہرت اور ناموری کا ذریعہ نہیں بناتے اور اِس بہانے سے لوگوں کو قریب کرنا اور ان پر اپنی حکمرانی اور سیادت قائم کرنا نہیں چاہتے بلکہ اسے ایک فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ وہ صرف اللہ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں اور اْسی سے صلہ کی تمنا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ خدمت خلق کے لیے خدا اور مذہب پر ایمان ضروری نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی خدمت ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ثبوت میں مغربی قوموں کا ذکر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے پوری دنیا میں زبردست رفاہی کام کیے ہیں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ اِنسان کی فطرت میں اپنے ابناء نوع کی خدمت کا جذبہ پایاجاتاہے۔ یہ اسی کا اظہار ہے، لیکن جب اِس جذبے سے ذاتی اور قومی مفادات ٹکراتے ہیں تو وہ مضمحل ہوکر رہ جاتا ہے اور اس کے بالکل منافی رَوِش انسان اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ یہی اقوام مغرب جن کی رفاہی خدمات کا ہر طرف چرچا ہے، اپنے مفادات کی خاطر مخالف قوموں کی معاشی ناکہ بندی کرتی ہیں، اْن پر سیاسی دباؤ قائم رکھتی ہیں اور جبر واستحصال کے تمام حربے استعمال کرتی ہیں۔ اِس طرح انہیں تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ (اِس کے برعکس) خدا پرستی اِس (رَوش) سے افراد اور اقوام کو محفوظ رکھتی ہے اور خدمت کے فطری جذبے پر مفادات کو غالب آنے نہیں دیتی‘‘۔ (اسلام میں خدمت خلق کا تصور)
تعلیمی اور رفاہی اداروں پر دیگر اداروں کو بھی قیاس کیاجاسکتا ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ مسلمانوں کے زیراہتمام تمام اداروں کے مقاصد کی صورت گری اسلامی تصورات و اقدار کی روشنی میں کی جائے۔

اسلامی حدود و آداب کا التزام

اداروں کی ایک اہم قسم ذرائع ابلاغ ہیں۔ اسلامی حدود و آداب پر گفتگو ان اداروں کے ضمن میں کی جاسکتی ہے۔ عموماً ذرائع ابلاغ کے تین مقاصد قرار دیے جاتے ہیں: (الف) خبریں اور اطلاعات فراہم کرنا (ب) واقعات اور حالات کا تجزیہ پیش کرنا اور (ج) تفریح کا سامان فراہم کرنا۔ اسلام ان تینوں مقاصد کو جائز مقاصد شمار کرتا ہے البتہ وہ اِن کے حصول کو بعض آداب کا پابند بناتا ہے۔ اسلام نے یہ اصول پیش کیا ہے کہ ہر اہم خبر کی تحقیق کی جائے۔ بلا تحقیق اہم امور کے بارے میں کوئی فیصلہ کرلینا ممنوع ہے:
’’اے ایمان لانے والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو‘‘۔ (الحجرات: ۶)
مولانا مودودیؒ اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
:
’’اِس آیت میں مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر ، جس پر کوئی بڑا نتیجہ مترتب ہوتا ہو، تمہیں ملے تو اس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبرلانے والا کیسا آدمی ہے۔ اگر وہ کوئی فاسق شخص ہو یعنی جس کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ اْس کی بات اعتماد کے لایق نہیں ہے، تو اس کی دی ہوئی خبر پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امرِ واقعہ کیا ہے‘‘۔ (ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی)
دوسرا اصول اسلام نے یہ پیش کیا ہے کہ اگر خبر کسی نازک معاملے سے متعلق ہوتو اسے عام نہ کیاجائے بلکہ اسے ذمے داروں کے علم میں لایا جانا چاہیے۔
’’یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذِمّہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے‘‘۔ (النساء: ۸۳)
اس آیت کے ذیل میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’چونکہ (جنگ کا موقع) ہنگامہ کا موقع تھا اس لیے ہر طرف افواہیں اُڑ رہی تھیں۔ کبھی خطرے کی بے بنیاد مبالغہ آمیز اطلاعات آتیں اور ان سے یکایک مدینہ اور اْس کے اطراف میں پریشانی پھیل جاتی۔ کبھی کوئی چالاک دشمن کسی واقعی خطرے کو چھپانے کے لیے اطمینان بخش خبر یں بھیج دیتا اور لوگ انہیں سن کر غفلت میں مبتلا ہو جاتے۔ عام لوگوں کو اندازہ نہ تھا کہ اِس قسم کی غیر ذمے دارانہ افواہیں پھیلانے کے نتائج کس قدر دور رس ہوتے ہیں۔ ان کے کان میں جہاں کوئی بھنک پڑ جاتی اُسے لے کر جگہ جگہ پھونکتے پھرتے تھے۔ ان ہی لوگوں کو اس آیت میں سرزنش کی گئی ہے اور انہیں سختی کے ساتھ متنبہ فرمایا گیا ہے کہ افواہیں پھیلانے سے باز رہیں اور ہر خبر جو اُن کو پہنچے اُسے ذِمّہ دارلوگوں تک پہنچا کر خاموش ہوجائیں‘‘۔ (ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی)
اسلام کے نزدیک واقعات و حالات کا تجزیہ منصفانہ ہونا چاہیے۔ شہادت حق کا تقاضا یہی ہے۔ بقول اقبال: مسلمانوں کا فریضہ’’ احتساب کائنات ‘‘ ہے۔ لیکن یہ کام اْسی وقت نتیجہ خیز اور مفید ہوسکتا ہے جب وہ دیانت داری اور حقیقت پسندی کے ساتھ انجام دیا جائے۔
تفریح انسان کی ایک جائز ضرورت ہے۔ اخلاقی حدود کے احترام کے ساتھ تفریح کا سامان فراہم کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک صالح سماج کے اندر انسان کے سفلی جذبات کو ابھارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح تفریح کے ایسے مشاغل جو انسان کو اْس کی ذمّہ داریوں اور فرائض سے غافل کردیں، قابل قبول نہیں ہیں۔
اسلام سماج میں برائی کی اشاعت کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ جرائم اور بے حیائی کی خبروں کی بِلا کسی حقیقی تمدنی ضرورت کے) تشہیر کو معاشرے کی خدمت نہیں کہا جاسکتا۔ اسلامی آداب کے پابند ذرائع ابلاغ سے توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے طرزِعمل سے برائیوں کی اشاعت میں تعاون نہیں کریں گے۔
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم وکرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق ورحیم ہے (تو یہ چیز جوابھی تمھارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھادیتی)۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا رحم وکرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔ (النور: ۱۹۔۲۱)
مندرجہ بالاہدایت کی تشریح کے ذیل میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بدکاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بداخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اْس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی اِس صف میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیاجاتا ہے۔ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں۔ صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہیے‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن ، سورۂ نور۔ حاشیہ ۶۱)
ایک فتنہ جو آج کل اخبارات پھیلا رہے ہیں تصویر کافتنہ ہے۔ عورتوں کی تصویریں عام ہیں اور بزعم خود دین پسند حلقوں کے اخبارات ورسائل میں بھی یہ تصویریں چھپ رہی ہیں جبکہ کوئی حقیقی تمدنی ضرورت ان تصاویر کی اشاعت کا تقاضا نہیں کرتی۔ اسی طرح دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات کی تصاویر بھی شائع کی جارہی ہیں جب کہ اہم شخصیات کی تصویریں انسانی تاریخ میں شخصیت پرستی کی ابتداء میں اہم رول ادا کرتی رہی ہیں۔ کمیونسٹ ممالک میں کمیونسٹ رہنماؤں کی تصاویر، ہمارے ملک میں سیاسی لیڈروں کی تصاویر اور عرب ممالک میں آمروں اور ڈکٹیٹروں کی تصاویر کو اسی لیے نمایاں کیاجاتا ہے کہ عوام الناس پر اْن کی سیادت کا سکہ بیٹھ سکے اور اگر مشرکانہ ماحول بھی موجود ہو تو عقیدت کے جذبات کو پرستش کے مرحلے تک پہنچایا جاسکے۔ ہمارے ملک میں مذہبی شخصیات کی تصاویر کی تو بلا تکلف پرستش ہوہی رہی ہے۔ اس پس منظر کی موجودگی میں اہم شخصیات کی تصاویر کی قباحت بالکل واضح ہے۔
اسلامی شعور یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو اخبارات اور ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے کنٹرول میں ہیں اْن کا بے لاگ احتساب کیا جائے اور اْن کو اسلامی حدود کا پابند بنایا جائے۔ اُسی صورت میں ابلاغ کے یہ ذرائع معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بصورت دیگر اُن کا رول تخریبی قرار پائے گا۔

اضمحلال

شعور کی کمی کے علاوہ دوسری کمزوری جو معاشرے میں پائے جانے والے اداروں کو لاحق ہوتی ہے وہ اضمحلال ہے۔ اضمحلال کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں: (الف) مخلص کارکنوں کا نہ ملنا (ب) ادارے کوفعال بنانے کے لیے درکار مطلوبہ اوصاف کی عدم موجودگی اور (ج) وسائل کی کمی۔
یہ حقیقت ہے کہ اْمت کی آبادی کا بہت قلیل حصہ دینی ، ملی اور سماجی خدمات کے لیے اپنا کچھ وقت دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد وہ ہوتے ہیں جو اپنے معاشی اور دیگر مشاغل میں لگے رہتے ہیں اور معاشرے کی تعمیر کے لیے اپنے وقت اور صلاحیتوں کا کوئی جْز استعمال نہیں کرتے۔ اِس صورتحال کو بدلنے کے لیے ان افراد کے ایمان کو زندہ کرنے کی اور جذبۂ عمل کو جگانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اِس امر کی بھی ضرورت ہے کہ جن افراد کا پورا وقت لیا جانا ناگزیر ہو اْن کی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لیے معقول نظم کیا جائے تاکہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ موجودہ صورتحال کا یہ پہلوخاص طور پر اصلاح طلب ہے اور اس کی درستی کے لیے قابل عمل صورتیں سوچی جانی چاہئیں۔
یہ بھی واقعہ ہے کہ اداروں کو چلانے کے لیے محض اخلاص کافی نہیں ہے بلکہ معلومات اور فنی تربیت بھی درکار ہے۔ کارکنوں کی اس پہلو سے تربیت کو مسلمانوں کے اداروں کی منصوبہ بندی میں اہم مقام ملناچاہیے۔ ابھی تک مسلمانوں کے اداروں میں یہ مطلوبہ منصوبہ بندی نہیں پائی جاتی۔ اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ وسائل کی کمی اداروں کی کارکردگی میں ایک حقیقی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ تمام مناسب تدابیر سے وسائل کی فراہمی کی کوشش کے علاوہ ادارے کے خادموں کو حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ وہ چھوٹے پیمانے پر کام پر قناعت کرلیں اور اسے کافی سمجھیں، لیکن اصولوں کی خلاف ورزی کو گوارا نہ کریں اور کام کی نوعیت جس معیار کا تقاضا کرتی ہے، ادارے کی کارکردگی کو اْس معیار سے نیچے نہ جانے دیں۔ یہ رویہ بھی صبر ہی کاایک پہلو ہے اوراس صبر کے پیدا کیے جانے کی ضرورت ہے۔

تفرقہ

اِداروں کی ایک بڑی کمزوری تفرقہ ہے ،جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا کوئی ادارہ اپنے کو اْمت کا خادم سمجھنے کے بجائے محض کسی خاص مسلک یا مکتبِ فکر سے وابستہ افراد کا ادارہ سمجھتا ہے۔اِس طرز عمل سے اْمت کے اندر تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں وہ نظرانداز ہونے لگتے ہیں۔
اس معاملے میں مطلوبہ معیار یہ ہے کہ: (الف) مسلمانوں کا ہر ادارہ اپنے آپ کو ساری اْمت کا ادارہ سمجھے (ب) بِلا کسی تفریق کے سارے مسلمانوں کی خدمت انجام دے اور کسی کو اپنے فیض سے محروم نہ کرے (ج) تمام مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کرے اور درکار وسائل تمام مسلمانوں سے فراہم کرے (د) حتی الامکان تمام مخلص اور دیانت دار افراد کو ادارے کے انتظام میں شریک رکھے اور (ہ) پورے معاشرے کو اپنی کارکردگی اور حساب کتاب سے باخبر رکھے۔ اور سب کے مشورے حاصل کرے تاکہ لوگ اطمینان کے ساتھ ادارے کے ساتھ تعاون کرسکیں۔
اگر مسلمانوں کے ادارے اپنی کمزوریوں پر قابو پالیں تو توقع کی جاسکتی ہے کہ معاشرے کی صالح تعمیر کی راہ ہموار ہوسکے گی۔
(بشکریہ: ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ نئی دہلی۔ جنوری ۲۰۱۲ء)