Search This Blog

Showing posts with label URDU ARTICLES. Show all posts
Showing posts with label URDU ARTICLES. Show all posts

Monday, 28 May 2018

اسراف اور ضیاع ، رزق کی ناقدری

اسراف اور ضیاع ، رزق کی ناقدری
ایاز الشیخ

حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک کھجور کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ کھجور کا یہ دانہ صدقے والی کھجوروں میں سے ہے، تو میں اسے کھا لیتا۔(متفق علیہ)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ روٹی کا ایک ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھایا، صاف کیا پھر کھالیا، اور فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں تمہاری پڑوسی بن جائیں، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئو (حسنِ سلوک سے پیش نہ آئو گے تو بھاگ جائیں گی) اور جس قوم سے یہ بھاگ جاتی ہیں، ان کی طرف واپس لوٹ کر نہیں آتیں۔ (ابن ماجہ(
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ شیطان تمہارے پاس ہر کام کے وقت آجاتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی آجاتا ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھالے۔ اس کے ساتھ جو مٹی لگ گئی ہو اسے دور کردے، پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ جب فارغ ہوجائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، پتا نہیں کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے، پلیٹ کو صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ برکت کس حصے میں ہے۔ (مسلم)
آج صبح، دوپہر، شام کے معمول کے ناشتوں اور کھانوں، دعوتوں اور ضیافتوںم شادیوں اور ولیموں میں رزق کی جو ناقدری، اسراف اور ضیاع ہوتا ہے، اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا آتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جی چاہتا تو کھالیتے، چاہت نہ ہوتی تو واپس کردیتے، لیکن کھانے کی کبھی برائی بیان نہ کی۔ آج اگر ہم اپنے گھروں، ہوٹلوں، دعوتوں اور تقریبات میں کھانے کو ضائع کرنا چھوڑ دیں، ضرورت کے مطابق کھانا پکائیں اور ضرورت کے مطابق پلیٹ میں ڈال کر کھائیں تو ہر گھر اور کھانے کی ہر تقریب میں رزق کی اتنی بچت ہوجائے کہ ایک ایک گھر سے دو، دو اور تین تین آدمیوں کو کھانا دیا جاسکے۔ کھانا ضائع ہونے کے بجائے کسی بھوکے کے کام آجائے گا۔ گھروں میں بھی احتیاط نہیں ہوتی، پلیٹوں میں کھانا بچ جاتا ہے جسے کوئی دوسرا آدمی کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے گٹر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ روٹیاں بھی ضرورت سے زائد ہوتی ہیں، انہیں بھی ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے، اور تقریبات میں تو بعض اوقات سو آدمیوں کے لیے اتنا کھانا پکایا جاتا ہے جو دو سو، تین سو کے لیے کافی ہو۔ نتیجتاً بہت سارا کھانا بچ جاتا ہے اور ضائع کردیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نامعقول عمل پر نکیر فرمائی۔ زمین پر کھجور کے ایک دانے، روٹی کے ایک معمولی ٹکڑے، پلیٹ میں بچے ہوئے تھوڑے سے سالن کو چھوڑ کر ضائع کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، اسے نعمت کی ناقدری اور ناشکری قرار دیتے ہوئے، اس سے محرومی کا سبب قرار دیا۔
آج معاشرہ کا دولت مند اور نو دولتمند طبقہ دولت کا جو ضیاع کرتا ہے، انکی نقالی میں متوسط طبقہ بھی اسی روش پر گامزن ہے۔ ان کے ہاں کھانے اور اللہ کی دیگر نعمتوں کی جس طرح اسراف و تبذیر ہوتی ہے، وہ عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایک طرف لوگوں کا یہ حال ہے کہ انہیں اتنی روٹی نہیں ملتی کہ اپنا پیٹ بھر سکیں، اناج  کے حصول کے لیے راشن کی دکانوں پر پر لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں، اور دوسری طرف ایک ایک آدمی کے کھانے پر ہزاروں روپے خرچ ہورہے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی اس دولت کے ضیاع کو روکنا چاہیے۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ناآشنا ہیں، ان کو تو اس کا ہوش نہیں ہے، لیکن اسلام کو سینے سے لگانے والوں کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔ اپنے گھروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی روشنی میں، اپنی معیشت میں رزقِ حلال کی قدر اور اسے ضیاع سے بچانے کا ضروری اہتمام کرنا چاہیے، کہ یہ شکر گزاری کا تقاضا ہے۔  اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہمیں جہنم تک پہنچا سکتی ہے۔اللہ ہمیں  اسراف و تبذیر اور نعمتوں کی ناقدری سے بچائے اور شکر گذار بندہ بنائے۔ آمین
(استفادہ تحریر مولانا عبدالمالک، کلام نبوی ﷺ کی کرنیں)


Friday, 17 February 2017

متروکاتِ سخن

متروکاتِ سخن

اردو کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جو متروک تو نہیں ہوئے لیکن ان کا استعمال محدود ہوگیا ہے۔ کوئی استعمال کر بیٹھے تو مطلب پوچھنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہی الفاظ کبھی عام بول چال میں شامل تھے۔ گزشتہ دنوں بارش رک جانے کے بعد بھی چھجے سے پانی ٹپک رہا تھا تو ہمارے ایک ساتھی نے کہا ’’اولتی‘‘ ٹپک رہی ہے۔ عرصے بعد یہ لفظ سنا تھا، خوشی ہوئی کہ ابھی اس کا استعمال ہے۔ اولتی ہندی سے اردو میں آئی ہے اور مونث ہے۔ مطلب اس کا واضح ہے کہ سائبان یا چھت کا وہ کنارہ جہاں سے بارش کا پانی نیچے گرتا ہے۔ ایک محاورہ ہے ’’اولتی کا پانی یلینڈی نہیں چڑھتا‘‘۔ لیجیے ایک اور مشکل لفظ آگیا۔ یلینڈی جھونپڑی (یا جھوپڑی) کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ کمینہ شرافت کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح ایک ناممکن امر کی نسبت کہتے ہیں۔ یہ شعر دیکھیے:
دل کو اس سرو کے یہ اشک کریں کیا پانی
اولتی کا تو یلینڈی نہیں چڑھتا پانی

اسی ضمن میں ایک لفظ ’’اُول‘‘ پر نظر پڑی۔ اس کو تو بالکل ہی متروک جانیے کہ اب پڑھنے، سننے میں نہیں آتا۔ یہ لفظ ہندی میں مونث ہے لیکن امیر مینائی نے امیراللغات میں مذکر لکھا ہے۔ مطلب ہے ضمانت۔ روپیہ ادا نہ ہونے یا کسی وعدے کے ایفا تک اپنے کسی عزیز کو ضمانت کے طور پر کسی کے حوالے کردیتے ہیں، اسی کو اُول کہتے ہیں۔ داغ دہلوی مزے میں آکر کہتے ہیں:
آنے کا وعدہ کرتے ہو کیا اس کا اعتبار
بلوا دو اپنی اُول میں میرے رقیب کو
اُول دینا، رکھنا، لینا کے ساتھ۔ ایک مصرع ہے
جان لینے کے لیے اُول میں دل رکھتے ہیں

اُول کے مطلب سے خواہ واقف نہ ہوں لیکن یہ عمل گاؤں، دیہات میں تو بہت عام ہے۔ کسی کسان یا مزدور پر قرض چڑھ جائے تو زمیندار، وڈیرے یا جاگیردار پورے پورے خاندان کو بطور ضمانت رکھ لیتے ہیں۔ بھٹہ مزدور بھی ضبط کرلیے جاتے ہیں اور پھر کبھی کبھی عدالت اپنا نمائندہ بھیج کر رہائی دلواتی ہے، لیکن جنہوں نے قید میں رکھا تھا، ان کو یہی کارروائی دوہرانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اُول ان معنیٰ میں تو لغت میں رہ گیا لیکن ’’اول جلول‘‘ کا استعمال عام ہے۔ یہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کا حلیہ خراب ہو۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ اکثر ’’نظر نواز‘‘ ہوتا ہے ادیبہ، شاعرہ، محققہ، دانشورہ، لکھاریہ، صحافیہ، یا پھر خاتون شاعرہ، خاتون ادیبہ، خاتون دانشورہ وغیرہ۔ درست کیا ہے؟ بھائی مجاز، حقیقت تو یہ ہے کہ سوال مشکل ہے۔ یوں بھی خواتین کے بارے میں ہے۔ ادیبہ، شاعرہ، لکھاریہ، محققہ سے ظاہر ہے کہ یہ کسی خاتون کی صفات ہیں۔ شاعرہ، ادیبہ وغیرہ کے ساتھ خاتون کا سابقہ تو مضحکہ خیز ہے۔ جہاں تک دانشورہ، لکھاریہ، صحافیہ کا تعلق ہے تو یہ نامانوس الفاظ ہیں۔ بہتر ہے کہ ان سے پہلے خاتون لگا دیا جائے۔ اور محققہ تو اتنا ثقیل لفظ ہے کہ خواتین سے ادائیگی بھی مشکل ہوگی۔ بہتر ہے کہ اس میں بھی خاتون کا سابقہ لگا دیا جائے۔ لیکن افتخار مجاز کس کھکھیڑ میں پڑتے ہیں۔

گزشتہ دنوں انجمن ترقی اردو کی جاری کردہ ایک اطلاع نظر نواز ہوئی۔ یہ پریس ریلیز انجمن کے شعبۂ نشرواشاعت نے بغرضِ اشاعت نشر کی تھی۔ خبر کے مطابق ’’اردو زبان کے مایا ناز شاعر‘‘ کے حوالے سے کوئی تقریب ہوئی تھی۔ اب چوں کہ یہ اردو کے ایک ’مایا ناز‘ ادارے کی طرف سے تھی تو ہم شش و پنج میں پڑ گئے کہ یہ ’’مایاناز‘‘ کیا ہوتا ہے۔ غالباً وہ جس پر مایا، ناز کرے۔ مایا تو غالباً ہندی میں روپے، پیسے، دولت وغیرہ کو کہتے ہیں جیسے ایک مثل ہے ’’مایا ری مایا تیرے تین نام۔ پرسو، پرسا، پرس رام‘‘۔ ایک غریب شخص پرس رام کے پاس جب مایا یعنی دولت نہیں تھی تو سب اسے ’’پرسو‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ کچھ پیسہ آگیا تو وہ پرسا صاحب ہوگیا۔ اور جب دولت میں کھیلنے لگا تو احتراماً سب اسے پرس رام کہنے لگے۔ اس پر اُس نے کہا کہ مایا ری مایا تیرے تین نام۔ یہ رواج آج بھی ہے۔ کوئی اللہ دتہ صرف ’دتو‘ کہلاتا ہے، کچھ پیسہ آجائے تو اللہ دتہ، اور جب شہرت و منصب حاصل ہوجائے تو خود ہی والدین کے رکھے ہوئے نام میں تبدیلی کرکے ’’اے ڈی اظہر‘‘ یا اے ڈی خواجہ ہوجاتا ہے۔ لیکن صاحب، کسی شاعر و ادیب کا مایا ناز ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔ غالبا یہ ’’مایۂ ناز‘‘ ہوگا۔ شاعروں اور ادیبوں کے پاس صرف یہی ناز رہ جاتا ہے، مایا تو عموماً کترا کر نکل جاتی ہے۔
سنسکرت میں مایا خدا کی قدرت کو بھی کہتے ہیں۔ رحم، دَیا، کرپا کو بھی۔۔۔ اور دھوکا، فریب، دھن دولت کو بھی۔ مایا جال تو اردو میں بھی مستعمل ہے۔ تلسی داس کا یہ مصرع تو سنا ہوگا
مایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ
انجمن ترقی اردو کے ذمے داران اپنے ادارے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر خود بھی ایک نظر ڈال لیا کریں۔ رہی بات ’’مایۂ ناز‘‘ کی، تو اس کا مطلب ہے فخر و ناز کا سبب۔ مصحفی کا شعرہے:
ہوش کا اس کی میں کشتہ ہوں کہ وہ مایۂ ناز
شب رہا گھر مرے اور غیر نے جانا نہ رہا

مایہ کثیر المعنیٰ لفظ ہے اور اس کا مطلب بھی پونجی، مقدار، سرمایہ وغیرہ ہے۔
اپنے صحافی بھائیوں، کمپوزروں اور پروف پڑھنے والوں کی توجہ کے لیے۔ شبہ، تہ، وجیہ وغیرہ میں غیر ضروری طور پر ایک ’ہ‘ بڑھا دی جاتی ہے یعنی شبہہ، تہہ، وجیہہ وغیرہ لکھا جارہا ہے، یہ غلط ہے۔ خاص طور پر اگر وجیہہ لکھا جائے تو یہ وجیہ کی مونث بن جاتی ہے، یعنی وجی ہہ۔ تہ تہے پڑھا جاتا ہے۔
ہم نے اب تک ’’ہڑبونگ‘‘ پڑھا اور بولا۔ اس میں ’ڑ‘ کا استعمال ’’ہڑ‘‘ کا مزہ دیتا ہے لیکن لغت کہتی ہے کہ یہ ’’ہربونگ‘‘ ہے۔ اور ہندی سے اردو میں آیا ہے۔ مطلب ہے اندھیر، بدنظمی، شورش وغیرہ۔ کہیں دھماکا ہوجائے تو ہر طرف ہربونگ مچ جاتا ہے۔ ویسے ہم اس کو مونث ہی سمجھتے رہے۔ واجد علی شاہ اختر کا شعر ہے:
بزم میں سر پہ قیامت کو اٹھا رکھا ہے
یار لوگوں نے تو ہربونگ مچا رکھا ہے
ہربونگ بھیڑ بھاڑ کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ شعر دیکھیے:
جا نہیں سکتی نگاہ شوق تک
اس گلی میں اس قدر ہربونگ ہے
ہم پھر اصرار کریں گے کہ ہر بونگ میں ’ڑ‘ ہی مزا دیتاہے، ورنہ اس کے بغیر ہڑبونگ کا پورا تصور ہی نہیں آتا۔

Tuesday, 17 March 2015

اسلام کا تصورِ رواداری

اسلام کا تصورِ رواداری

ڈاکٹر اختر حسین عزمی



بنیاد پرستی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے الفاظ کی معنویت کو جس طرح آج مغرب نے دھندلا دیا ہے، ایسے ہی مکالمہ بین المذاہب، انسان دوستی (humanism)، اعتدال پسندی، امن اور رواداری (tolerance) کے خوش کن الفاظ کو وہ اپنے مفہوم کا لبادہ اُوڑھانے پر مُصر ہے۔ اس طرح اُس نے اہلِ دین کو دفاعی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ مغالطے کی اس دُھول میں شرک کا رد، حاکمیت الٰہی کا مطالبہ، اپنی تہذیب و ثقافت کے احیا پر مسلمانوں کا اصرار اور یہود و نصاریٰ کی دوستی کے بارے میں ان کی احتیاط کی روش، بدامنی اور شدت پسندی میں اضافے کا سبب قرار پاتے ہیں، جب کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے لاکھوں انسانوں کو اپاہج، عراق میں ۵لاکھ بچوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا شکار کرنے والا امریکا اور فکری آزادی کے نام پر فرانسیسی شاتمِ رسولؐ جریدے کی پشت پر کھڑا یورپ اور دیگر ممالک کے ۴۰حکمران رواداری کے ’معلّم‘ قرار پاتے ہیں۔

قرآن اور اسوۂ رسولؐ میں اپنے عقائد و افکار پر غیرمتزلزل یقین اور دوسروں کے جذبات کا لحاظ رکھنے کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، اس سے رواداری کے حقیقی مفہوم سے آشنائی حاصل ہوتی ہے اور عصرِحاضر میں اس کے فروغ کی راہیں بھی نظر آتی ہیں۔ اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں رواداری کے تصور کی وسعت اور گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یورپ آج جس رواداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، وہ محض خیالات کی لیپاپوتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اسوۂ رسولؐ کی روشنی سے مغرب کی طرف سے رواداری کے فروغ کے نام پر برپا تحریک کے مکروہ عزائم بھی نظر آئیں گے اور یہ بھی کہ مغرب اور ہمارے تصورِ رواداری میں کیا فرق ہے اور اگر اس فرق کو ہم نے نظرانداز کردیا تو پھر ہم خود اپنی روایات و اقدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
مغرب جو لبرلزم اور رواداری کے نام پر ہم سے ہماری اقدار چھیننا چاہتا ہے، خود کس قدر متشدد ہے اس کا اندازہ یورپ میں مسلمان خاتون کے سر پر اسکارف اور مساجد کے میناروں پر عائد ہونے والی پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ محض اسکارف کی پابندی کرنے والی خاتون کو مقدمے کی سماعت کے دوران عین کمرۂ عدالت میں پولیس کی موجودگی میں قتل کرنا بقول اقبال مغرب کے ’اندروں چنگیز سے تاریک تر‘ کا منظر دکھاتا ہے۔ اس لیے ہمیں مغرب سے متاثر ہوئے بغیر رواداری کی ان بنیادوں کو تلاش کرنا ہے جو امنِ عالم کے قیام میں انسانیت کے کام آسکیں اور تمام اقوام کو اُن کی تہذیب وثقافت کے تحفظ کا احساس دلا سکیں، نہ کہ رواداری کے نام پر ان کی اقدار پر ڈاکا مارنے اور کمزور اقوام کی خودداری چھیننے کا سنہری جال ہوں۔
کیا رواداری کا فروغ دو مخالف اور متصادم نظریات کی محض لیپاپوتی سے ممکن ہے؟ اس کا جواب اگر نفی میں ہے تو پھر مخالف نظریات کی موجودگی میں دیگر اقوام کا مل جل کر رہنے کا کیا طریقۂ کار ہو؟یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں جواب تلاش کرنا ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں غلط اور صحیح کی بنیادیں اور ہیں اور اہلِ اسلام کے ہاں اور۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ایک کے ہاں درست ہیں اور دوسرے کے ہاں غلط۔ اگر کچھ باتوں میں اشتراک پایا بھی جاتا ہے، تو بہت سی باتوں میں ٹکراؤ بھی ہے۔ ٹکراؤکی صورت میں دونوں سے سازگاری ممکن نہیں۔

۞رواداری کا مفہوم
رواداری سے مراد کسی انسانی اجتماعیت کا ان باتوں کو جنھیں وہ نظریاتی طور پر اپنے دائرے میں غلط اور ناپسندیدہ سمجھتی ہے، دوسرے انسانوں کو جو انھیں پسند کرتے ہیں، ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں اختیار کرنے کا حق دینا اور ناپسندیدگی کے باوجود برداشت کرنا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب تک انسانوں کو ارادہ و عمل کی آزادی ہے، وہ ایک ہی نظامِ فکر کے پابند نہیں ہوسکتے اور جزوی تفصیلات میں تو ان کے درمیان اختلاف کا ہونا ان کے مزاج اور ذوق کے تنوع کے باعث ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی دعوت و تذکیر ہی قرار دیا ہے: فَذَکِّرْ ط اِِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ o(الغاشیہ ۸۸:۲۱)، اور ساتھ ہی آپ کو بتایا کہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں: لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍo(الغاشیہ ۸۸:۲۲)۔ لہٰذا اس فرمان کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تذکیر اور یاد دہانی میں انتہائی نرمی اختیار کی۔ ایک طرف اہلِ کفر کو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ(الکافرون۱۰۹:۶)کہہ کر ان کے مشرکانہ عقائد سے براء ت و بے زاری کا اعلان کیا تو دوسری طرف لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ۲:۲۵۶) فرما کر انسانیت کے اس حق کو بھی باو رکرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قبولِ ہدایت کے لیے کسی قسم کے جبر کو پسند نہیں کرتا۔

۞اہمیت و ضرورت
حق و باطل کے معرکے میں نظریاتی جنگ بہرحال انسانی اذہان کے میدان میں لڑی جائے گی۔ اس لیے باطل کو ختم کرنا اور انسان کو آخری حد تک باطل سے نتھی رہنے سے بچانے کی کوشش کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ جیساکہ فرمایا: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔ یہ اسی لیے فرمایاکہ جذباتِ انسانی کو کم سے کم ٹھیس پہنچا کر ان کے دل جیت لیے جائیں۔ حق اور باطل کا مقابلہ بھی ناگزیر ہے لیکن یہ مقابلہ انسان کی تکریم کے لیے ہے نہ کہ اس کی تذلیل کے لیے۔ انسانوں پر حق کو بہ جبر مسلط کرنے میں انسان کی تکریم ہے اور نہ حق کی، بلکہ ان دونوں کی تکریم اس میں ہے کہ انسان آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کرے: فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکھف۱۸:۲۹) ’’اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے ایک ایک مظہر پر ضرب لگائی۔ اہلِ شرک کی کٹ حجتیوں کا مدلل جواب دیا۔ اہلِ کفر کی ایک ایک خامی کو نمایاں کیا لیکن سواے ایک مقام کے اہلِ کفر کو بھی ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ بتوں کی کمزوریوں کو نمایاں کیا لیکن آپؐ نے بتوں کی تضحیک و استہزا کو اپنا شعار نہ بنایا، کیونکہ اللہ کا حکم تھا: وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوً م ا بِغَیْرِ عِلْمٍ ط (الانعام۶:۱۰۸)’’اور جن کو یہ کافر اللہ کے مقابلے میں پکارتے ہیں تم انھیں گالیاں مت دو ورنہ وہ بھی اللہ کو بغیر علم کے دشنام دیں گے‘‘۔
تمام انبیا ؑ اپنی قوموں کے شرک اور غلط کاریوں پر جب تنقید کرتے ہیں تو بار بار وہ مخاطبین کو یٰقُوْمِ (اے میری قوم) کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ قرآن نے منافقین کے رذائل کو کھول کھول کر سورۂ بقرہ، سورۂ منافقون، سورۂ احزاب اور دیگر سورتوں میں بیان کیا ہے لیکن ایک مقام پر بھی یاایھاا لمنافقون کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا گیا۔ انھیں اہلِ ایمان کے صیغۂ خطاب میں ہی یاایھا الذین امنوا کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی وفات پر اس کے کفن کے لیے اپنی قمیص بھی پیش کردی(بخاری، رقم الحدیث ۵۷۹۵)۔ آپؐ نے ایک یہودی کا جنازہ گزرتے ہوئے دیکھا تو آپؐ مجلس میں اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ (بخاری، رقم الحدیث، ۱۳۱۲)
قریش کے ایک سردار عتبہ بن ربیعہ نے آپؐ سے سمجھوتا کرنے کے لیے دولت، عورت اور حکومت کی جو پیش کش کی وہ آپؐ کی بلندیِ کردار اور مقاصدِ جلیلہ کے مقابلے میں انتہائی گھٹیاتھی، لیکن آپؐ نے اپنے مقام و مرتبہ سے فروتر ان باتوں کو نہ صرف صبروتحمل سے سنا بلکہ اپنی بات شروع کرنے سے قبل آپؐ نے اس سے استفسار کیا کہ اے ابوالولید! کیا تم نے اپنی بات مکمل کرلی؟ گویا اس کی بات کو مکمل سننا ضروری سمجھا گیا۔ مزید یہ کہ عتبہ کو اس کی کنیت ابوالولیدسے پکار کر آپؐ نے گویا اُمت کو یہ سبق دیا کہ کافر خواہ کتنی ہی گھٹیا بات کرے، اس کا ادب و احترام تر ک نہیں کیا جائے گا۔
میثاقِ مدینہ کی شرائط میں یہود و مشرکین کی مذہبی آزادیوں کے تحفظ کا شامل کرنا، حقوقِ انسانی اور بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ واضح طور پر ملتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق کے الفاظ یہ ہیں: لِلْیَھُودِ دِیْنُھُمْ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ دِیْنُھُمْ (یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین)۔ (ڈاکٹر محمد حمیداللہ، The First Written Constitution in the World، ص ۲۴)
مذہبی اختلاف جسے قریش نے ذاتی عناد میں تبدیل کرلیا تھا، جنگِ بدر میں قیدیوں سے حُسنِ سلوک کا مظاہرہ اور مخالفین اسلام سے مسلمان بچوں کی تعلیم کی خدمت لینا، رواداری کی عظیم مثال ہے۔ جس جہاد کو آج رواداری کا دشمن باور کرایا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک وہی جہاد درحقیقت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے: وَ لَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط (الحج۲۲:۴۰) ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کرڈالی جائیں‘‘۔
نجرانی عیسائیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ تھی: اَنْ لَا تُھَدَمَ لَھُمْ بِیْعَۃٌ ، وَلَا یُخْرَجَ لَھُمْ قِسٌّ ، وَلَا یُفْتَنُوا عَنْ دِیْنِھِمْ ، مَا لَمْ یُحْدِثُوا حَدَثًا اَوْ یَأکُلُوا الرِّبٰوا ،’’ان کے کسی معبد کو منہدم نہیں کیا جائے گا نہ کسی پادری کو نکالا جائے گا۔ تبدیلی مذہب کے لیے انھیں مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جب تک وہ کوئی نئی بات نہ نکالیں یا سود نہ کھائیں، معاہدہ برقرار رہے گا‘‘۔(سنن ابوداؤد، رقم الحدیث: ۲۶۴۴)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں اہلِ حیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک شق امام ابویوسفؒ نے یہ بیان کی ہے: وَلَا یُمْنَعُوا مِنْ ضَرْبِ النَّوَاقِیْسِ، وَلَا مِنْ اِخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِیْ یَوْمِ عِیْدِھِمْ ، ’’ان کو کلیسا کی گھنٹیاں بجانے یا اپنی عید کے دن صلیب نکالنے سے منع نہیں کیا جائے گا‘‘۔ (ابویوسف، کتاب الخراج، ص ۱۵۴)
عہدفاروقی میں عیسائیوں کو ناقوس بجانے کی کتنی فراخ دلانہ آزادی دی گئی، اس کا کچھ اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے: اَنْ یَضْرِبُوْا نَوَاقِیْسَھُمْ فِیْ أَیِّ سَاعَۃٍ شَآؤُوْا مِنْ لَیْلٍ وَنَھَارٍ اِلَّا فِیْ اَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ ’’کہ وہ نمازوں کے اوقات کے ماسوا دن اور رات کے جس پہر میں بھی چاہیں، اپنی گھنٹیاں بجا سکیں گے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۵۸)
امنِ عالم کا قیام اور روے زمین پر آباد افراد و اقوام کو اس قابل بنانا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کی فضا میں سانس لے سکیں، جس میں ہرفرد کو اپنی راے رکھنے کا حق حاصل ہو اور باہمی افہام و تفہیم کا موقع ملے، وقت کی ضرورت ہے تاکہ باہمی میل جول (interaction) کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور حکمت اہلِ کفر پر واضح ہوسکے۔ باہمی میل جول کا فائدہ ہمیشہ اس نظریاتی تحریک کو ہوتا ہے جس کا نظریہ ذہنوں کو مسخر کرنے اور دلوں کو موہ لینے کی صلاحیت (potential) رکھتا ہو۔

۞غیرمسلم اہلِ علم کا اعتراف
نجران کے عیسائیوں کا وفد (۹ہجری) مدینہ حاضر ہوا اور آپؐ نے مسجد نبویؐ میں انھیں اپنی رسوم و عبادات ادا کرنے کی اجازت دی (شبلی نعمانی، سیرۃ النبیؐ، ج۲،ص ۵۱) ،اور ایک ایسا منصفانہ اور ہمدردانہ معاہدہ کیا کہ ولیم میور جیسا متعصب مستشرق بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ لکھتا ہے:
محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کو یہ تحریر دی کہ ان کے گرجاگھروں اور خانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ، کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا اور ان کے اختیارات، حقوق میں کسی قسم کا تغیر نہ کیا جائے گا اور جبر وتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ (ولیم میور، Life of Mohammad،ص ۱۵۸)
فاضل ہندو محقق شری سندر لال جی اپنے مضمون ’آنحضرت کی زندگی‘ میں لکھتا ہے: ’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی ریاست کے اندر رہتے ہوئے، اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فریضہ قرار دیا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ مدنی آیت ہے اور محمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویر ہے‘‘۔
برطانوی مصنفہ آرم اسٹرونگ سیرتِ طیبہؐ پر اپنی کتاب میں یوں اعترافِ حقیقت کرتی ہے:
محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] نے ایک ایسے مذہب اور روایت کی بنیاد ڈالی جو مغربی تصور کے باوجود تلوار کی ثقافت پر مبنی نہیں تھی،اور جس کا نام اسلام ، امن و سلامتی کی علامت ہے۔(آرم اسٹرانگ ، Muhammad a Western Attempt to Understand Islam،ص ۲۶۶)
برٹرینڈرسل لکھتا ہے: ’’عیسائیت اور ان کے علَم برداروں نے ہمیشہ اسلام اور حضرت محمدؐ کے خلاف باطل پروپیگنڈا جاری رکھا ہے، جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمدؐ ایک عظیم انسان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔(برٹرینڈرسل، Why I am not Christian، ص ۵۲)

۞رواداری __ ایک حقیقت پسندانہ عمل
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حضوؐر نہ تو مردم بیزار اور گوشہ نشین ہستی تھے اور نہ شدت پسندی آپؐ کے مزاج کا حصہ تھی۔ آپؐ کی گوشہ نشینی کی زیادہ سے زیادہ مدت وہی ہے جو نزولِ وحی سے قبل آپؐ نے غارِحرامیں اختیار کی۔ نزولِ وحی کے بعد آپؐ کبھی غارِحرا میں زاویہ نشین نہ ہوئے۔اس کے بعد آپ انسانوں کے اندر ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔ قبل از بعثت آپؐ ایک بھرپور کاروباری زندگی گزار رہے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مکہ کی مال دار اور کاروباری خاتون حضرت خدیجہؓ آپؐ سے متاثر ہوئیں۔ بعثت سے قبل آپؐ ایک سرگرم سماجی زندگی گزارتے تھے جس کا ثبوت معاہدہ ’حلف الفضول‘ میں آپؐ کی شرکت اور حجراسود کی تنصیب میں آپؐ کی فہم و فراست اور اہلِ مکہ کاآپؐ پر اعتمادہے۔ ایک ایسا شخص جس کی جوانی ایک بھرپور عملی زندگی کا تاثر رکھتی ہے، جب وہ الہامی ہدایت کی روشنی میں لوگوں کو اصلاح و ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس کی شخصیت کے سابقہ عمل اور تجربات اس کی دعوتی زندگی میں نظر آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسوۂ رسولؐ میں ہمیں اس بات کا اظہار ملتا ہے کہ آپ جہاں ایک طرف ٹھیٹھ عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر ایک اجتماعیت کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے وہاں آپؐ معاشرے میں انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک عملی انسان تھے۔ ایک عملی انسان میں جہاں اپنے نظریات و عقائد اور زندگی کے تصورات پر کاربند ہونے اور اس کے ابلاغ کی تڑپ ہوتی ہے، وہاں دوسروں کے جذبات کا لحاظ کرنا بھی اس کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔

۞رواداری کی حدود
بظاہر تو رواداری کی صدا اس طبقے کی طرف سے بلند ہونی چاہیے جو کمزور اور اقلیت میں ہو لیکن امرواقع یہ ہے کہ اس کا پُرزور مطالبہ بالعموم status quoکی حامی قوتوں کی طرف سے ہوتا ہے، جیساکہ اہلِ مکہ نے حضوؐر کے پیغام کی قوتِ تاثیر سے ڈر کر آپ کو سمجھوتے کی میز پر لانے کی کوشش یہ کہہ کر کی: اِءْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ھَذَا اَوْ بَدِّلَہٗ ، اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آؤ یا اسے تبدیل کردو، تو اللہ نے حضوؐر سے کہلوایا کہ:قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآءِ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج (یونس ۱۰:۱۵)’’کہو کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں، میں تو اس وحی کا پابند ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ غیروں کی خوش نودی کے لیے اگر مسلمان اپنے دین کے اصولوں میں کتربیونت کرتے ہیں تو اللہ کے نزدیک اس سے بڑھ کر ظلم کوئی نہیں۔ وہ اللہ کے ہاں مجرم قرار پائیں گے اور انھیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہ ہوگی: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ o(یونس ۱۰:۱۷) ’’پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے‘‘۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کے معاملے میں کسی لاگ لپیٹ اور مفاہمت خواہانہ رویے (compromising attitude) سے اللہ نے اپنے رسولؐ اور ان کے صحابہؓ کو منع فرمایا: وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ o(القلم۶۸:۹) ’’یہ کافر تو چاہتے ہیں کہ تم کچھ مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں‘‘۔
مداہنت جس کا ذکر یہاں اللہ نے ناپسندیدگی کے ساتھ کیا ہے، کیا ہوتی ہے؟ اس کی وضاحت مفسرین کی آرا کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: لَوْ تُرَخِّصْ لَہُمْ فَیُرَخِّصُوْنَ اَوْتَلِیْنُ فِیْ دِیْنِکَ فَیَلِیْنُوْنَ فِیْ دِیْنِھِمْ ’’کچھ تم ان کے لیے ڈھیل نکالو تو پھر یہ تمھارے لیے ڈھیل پیدا کریں یا یہ کہ تم اپنے دین میں نرمی لے آؤ تو یہ بھی اپنے دین میں نرمی لے آئیں‘‘۔(تفسیر ابن جریر ،ج ۱۹، ص ۲۸)
امام قرطبیؒ کے مطابق: فَاِنَّ الْاِدِّھَانَ: اَللِّیْنُ وَالْمُصَانِعُ، وَقِیْلَ: مُجَامَلَۃُ الْعَدُوِّ مُمَایَلَتُہٗ ، وَقِیْلَ: مُقَارَبَۃٌ فِی الْکَلَامِ وَالتَّلْیِیْنُ فِیْ الْقَوْلِ ’’ادھان کا مطلب ہے ڈھیل پیدا کرلینا اور سازگاری چاہنا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے مخالف کے ساتھ لحاظ کا رویہ اختیار کرلینا اور میلان باہمی چاہنا۔ دوسرے قول کے مطابق: اس سے مراد کلام میں ایک دوسرے سے قربت پیدا کرنا اور بات میں ملائمت لے آنا‘‘۔ (تفسیر قرطبی، ج ۹، ص ۲۳۰)
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: حضرت عبداللہؓ بن عباس سے مروی ہے کہ ’’اللہ کے اس فرمان سے مراد ہے کہ تم ان کے لیے معاملہ کچھ ڈھیلا کرو تو پھر یہ بھی تمھارے لیے ڈھیل پیدا کرلیں گے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر،ج ۴، ص ۴۰۳)
قرآن کے نزدیک کسی بھی عقیدے یا نظریے کو قبول کرنے یا رد کرنے، صحیح کہنے یا غلط کہنے کا اختیار تو انسانوں کو حاصل ہے لیکن یہ اختیار نہ اس عقیدے کے مخالفین کو حاصل ہے اور نہ اس کے ماننے والوں کو کہ وہ اس عقیدہ کی تشریح و تعبیر اس کے اصل مراجع سے ہٹ کر کریں۔ جذبات انسانی کا احترام بجا مگر حق کا احترام اس سے بڑی چیز ہے اور حق کے احترام کی بات کرنا، باطل کے خلاف دعوت و تبلیغ کرنا، رواداری کے خلاف نہیں۔ البتہ یہ رواداری کے خلاف ہے کہ تلوار کے زور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوایا جائے۔
اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ حسنِ سلوک، نرمی اور رواداری انسانوں کے ساتھ کرنے کا ہمیں حکم ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ۲:۸۳) ’’لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘، چاہے و ہ باطل پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن خود باطل نظریات کسی رواداری کا استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ ان سے رواداری حق کی بھینٹ دیے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقابلہ تو حق و باطل پر مبنی نظریات و رجحانات کے درمیان ہوگا لیکن اس کو بہرحال انسانی قلوب و اذہان میں برپا ہونا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حق و باطل کی اس مڈبھیڑ میں اس سرزمین کا نقصان کم سے کم ہو، اور انسانی جذبات کم سے کم برانگیختہ ہوں۔ جیسے ایک ڈاکٹر کی اصل جنگ مرض کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ جنگ اسے مریض کے جسم کے حساس اعضا کے درمیان لڑنا ہوتی ہے۔ وہ کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ محض کسی اذیت کے خوف سے مریض کا علاج ترک نہیں کردیتا۔ گویا کوئی معاملہ بھی، جس میں اللہ اور رسولؐ نے کسی بات کا فیصلہ کردیا ہو، اس میں کسی گروہ کی پسندوناپسند کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک رواداری نہیں۔ البتہ ایسی بات یا موضوع جسے دین نے مباح رکھا ہو یا جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہو، اس میں لوگوں کے رجحانِ طبع، آسانی اور پسند کا لحاظ کرنا اور شدت و غلو اور انتہاپسندی سے بچنا ہی اسوۂ رسولؐ ہے۔
اس موقف کی تائید ایک روایت کرتی ہے جو مداہنت اور رواداری کے درمیان حضوؐر کے متوازن اسوۂ کو نمایاں کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَھُوْدَّیَّۃِ وَلَا بِالنَّصْرَانِیَّۃِ وَلٰکِنِّیْ بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِیَّۃِ الْسُّمْحَۃِ ’’مجھے نہ تو یہود کے اندازِ دین داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور نہ نصرانی مذہبیت کے ساتھ، مجھے اس موحدانہ طرزِ بندگی کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے جس میں وسعت و آسایش ہے‘‘۔(مسند احمد، رقم ۲۱۶۲۰)
اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلٰی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ الْسُّمْحَۃُ’’دین داری کا انداز اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، وہ ٹھیٹھ موحدانہ طرز کی بندگی، جس میں خوب نرمی و میانہ روی ہو‘‘ (بخاری، رقم الحدیث ۳۷، طبرانی، رقم ۷۵۶۲)۔ یہ الفاظ اس طویل حدیث کا حصہ ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی لوگ عید کے روز آئے اور انھوں نے مسجد میں ایک رقص نما کھیل پیش کیا۔ تب نبیؐ نے مجھے بھی بلا لیا۔ میں آپ کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر ان کا کھیل دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کی طرف سے توجہ پھیر لی۔(مسند احمد، مسلم)
حضرت عروہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لِتَعْلَمَ الیَھُوْدُ اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃٍ سُمْحَۃٍ (مسنداحمد، رقم ۲۳۷۱۰)۔ علامہ البانی نے خُذُوْا یَابُنَیَّ رفدہ! حَتّٰی تَعْلَمَ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ ’’شاباش حبش کے جوانو! تاکہ عیسائی و یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں بڑی وسعت ہے‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔(ناصرالدین البانی: السلسلۃ الصحیحہ)
زمانۂ جاہلیت میں شرک و بت پرستی کو غلط جاننے اور عام بُرائیوں سے دامن کش رہنے والے صاحبِ عزم انسانوں کو ’حنیف‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے قرآن نے حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حنف یحنف کا مطلب مڑا ہونا بھی ہے اور سیدھا ہونا بھی۔ میلان ختم کرلینا بھی ہے اور میلان پیدا کرلینا بھی۔ ایک طرف سے ٹوٹنا دوسرے سے جڑنا۔ گویا حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی طرف سے بالکل ہٹ کر کسی اور طرف کا ہو لے۔ چنانچہ حنیفیت کا معروف معنی ہے سب معبودوں سے ناتا توڑ کر ایک ہی معبود کا ہو رہنا۔ سمحہ کے معنی ہیں میانہ روی، معقولیت، اعلیٰ ظرفی، وسعت نظر کے ساتھ آسانی و نرمی، رواداری و رحم دلی۔ گویا اسلام مذہبی جکڑبندیوں کا نام نہیں۔ اسلام میں جائز خواہشات کو دبا دینا اور جذبات و احساسات کا قتل جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہمیں حنیفیہ اور سمحہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ایک طرف ایسے اصول ہیں جن پر کوئی مفاہمت نہیں، یعنی باطل سے کوئی مفاہمت نہیں، یکسو ہوکر ایک رب کا ہورہنا ہے۔ دوسری طرف دعوت و تربیت، ابلاغ اور قائل کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ دعوتی عمل میں معقولیت، مخاطبین کی سہولت کا خیال ، نہ ماننے والوں سے کسی الجھاؤ کا شائبہ تک نہ ہونا، لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے شرک بے زار اعلان کے ساتھ ہر ایک کو بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا کی نوید جاں فزا ۔ (مسلم ، رقم ۳۲۶۲ )
اصولی مسائل میں جب خاندان میں آپؐ کے واحد پشتی بان چچا ابوطالب نے بھی سردارانِ قریش کے دباؤ اور اپنی مجبوریوں کا احساس دلا کر ایک موقعے پر آپؐ کو کچھ مفاہمت کی راہ دکھانا چاہی، تو آپؐ کا یہ فرمانا کہ واللہ !اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں تو بھی میں اس دعوت سے باز نہیں آؤں گا۔ آپؐ کے اس اسوہ میں ہمارے لیے یہ رہنمائی موجود ہے کہ دینی اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ عتبہ بن ربیعہ کی طرف سے کلمہ کی دعوت چھوڑنے کے نتیجے میں حکومت و دولت کی پیش کش کو آپؐ کی طرف سے ٹھکرا یا جانا معمولی بات نہیں۔ کوئی دانش ور کہہ سکتا ہے کہ آپؐ پہلے حکومت بنالیتے اور پھر حکومت کی طاقت سے توحید کی دعوت کی ترویج کرتے لیکن آپ نے اصولِ توحید کی تنفیذ کے لیے مشرکانہ سیادت کا بارِ احسان ہونا گوارا نہ کیا۔
اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں ایک مسلمان کا کام دین کو بلاکم و کاست انسانوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب کوئی اللہ کے نازل کردہ دین کو نہیں مانتا تو اس زندگی میں اسے اس کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس کا فیصلہ روزِ محشر اللہ نے کرنا ہے، ہم نے نہیں۔ البتہ دنیا میں باطل کے پرستاروں پر ان کی غلطی واضح کرنا اور انھیں عذابِ الٰہی سے ڈرانا ہماری ذمہ داری ہے۔

۞مسلم مکاتبِِ فکر کے درمیان رواداری
اب تک ہم نے دیگر اقوام و مذاہب کے معاملے میں رواداری کے مفہوم کے تعیین کی کوشش کی ہے۔ اب خود مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جس رواداری کی ضرورت ہے، اسے سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
اس میں شک نہیں کہ آج مسلمانوں میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو کسی کی توحید مشکوک نظر آتی ہے تو کوئی کسی دوسرے کو منکرِ رسولؐ قراردیتا ہے۔ عقائد اور معاملات میں کہیں کہیں بڑے انحرافات بھی نظر آتے ہیں۔ ان پر تنقید نہ کرنا بھی اُمت کے مفاد میں نہیں۔ اُمت کو اصل دین پر قائم رکھنے کے لیے اصل دین کا اُجاگر کرتے رہنا ضروری ہے۔ لیکن اس تنقیدوتحقیق کو ایسے اصولوں کا پابند رکھنا ضروری ہے جو ہمیں اسوۂ رسولؐ سے حاصل ہوتے ہیں۔
لوگوں پر کفروشرک کے فتوے لگانا، جب کہ وہ کلمہ گو ہوں، یہ نبویؐ دعوت کا اسلوب نہیں ہے، خصوصاً جب ان پر کوئی دعوتی حجت بھی قائم نہ ہوئی ہو۔ حضوؐر پر تو منافقین کا نفاق واضح تھا، آپؐ نے کبھی کسی منافق کو بھی منافق کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا۔ قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یایھا المنافقون کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ منافقین کے رذائل بیان ہوئے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان یا مسلمانوں کے کسی گروہ کی خامی حضوؐر کے علم میں آتی تو آپؐ برسرِ منبر اس خرابی پر توجہ ضرور دلاتے لیکن ان افراد کا نام کبھی نہ لیتے تھے۔
اگر کسی امر پر دلیل ملتی ہو اور اُمت کے معتبر اہلِ علم کی گواہی بھی موجود ہو تو اس کی روشنی میں یہ کہنا کہ یہ کام شرک ہے، یا یہ رویّہ کفر ہے، یہ گناہ ہے یا فسق ہے، اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی متعین فرد یا گروہ کا نام لے کر اُسے کافرومشرک، بدعتی یا منافق کہنا بہت سے پہلوؤں سے تحقیق و تفتیش کا متقاضی ہے۔ لوگوں کو خدا کا حق بتانے میں پُرحکمت اور مؤثر انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔
جہاں حق بات کے اظہار کی استطاعت و اہلیت نہ ہو یا جہاں باطل کو رد کرنے کی حالات اجازت نہ دیتے ہوں، وہاں وقتی طور پر خاموش رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت موسٰی ؑ جب ۴۰روز بعد بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے اور انھیں گؤپرستی میں مبتلا پایا تو انھوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون ؑ سے پوچھا: مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا oاَلَّا تَتَّبِعَنِط (طٰہٰ۲۰:۹۲۔۹۳) ’’تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ تم میرے طریقے پر عمل نہ کرو‘‘۔ تو حضرت ہارون ؑ نے جواب میں کہا: اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ (طٰہٰ۲۰:۹۴) ’’مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔
حضرت موسٰی ؑ کے بعد قوم نے جو بت پرستی اور سرکشی کی راہ اختیار کی، سورۂ اعراف کے مطابق حضرت ہارون ؑ کو اپنی جان کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں قوم کے انتشار کا خطرہ محسوس ہوا تو انھوں نے حضرت موسٰی ؑ کی واپسی کے انتظار تک جو مصلحت اختیار کی، قرآن نے اسے ناپسندیدہ قرار نہیں دیا۔
دین کے اجتہادی و فروعی معاملات میں حضوؐر نے مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو نہ صرف برداشت کرنے کی تربیت دی بلکہ اس عمل کو حصولِ فضیلت کا ذریعہ قرار دیا۔ فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَ اِنْ کَانَ مُحِقًّا ’’میں اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔(ابی داؤد، رقم ۴۸۰۰)
قوم کے فتنہ و ہیجان میں مبتلا ہونے کے خطرے کے پیش نظر آپ نے اپنے پسندیدہ عمل کو بھی ترک کردیا۔ خانہ کعبہ کی عمارت ادبارِ زمانہ کے باعث ان بنیادوں پر موجود نہ تھی جن پر اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا، حضوؐر ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن فتنہ پیدا ہوجانے کے اندیشے سے ایسا نہ کیا۔ ایک دن حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت انھی بنیادوں پر تعمیرکروں جہاں اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا لیکن اس وجہ سے رُک جاتا ہوں کہ تیری قوم نئی نئی مسلمان ہوئی ہے‘‘۔ (بخاری، رقم ۱۴۸۳)
اللہ کے رسولؐ جنھوں نے دعوتِ حق کے بیان میں کبھی سختیوں اور مخالفتوں کی پروا نہ کی اور نہ کسی ملامت کا خوف کھایا، وہ اس بات سے کیوں محتاط ہیں کہ خانہ کعبہ کی نئی تعمیر سے قوم بگڑ جائے گی۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ دین کا اساسی مسئلہ نہ تھا کہ جسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کسی بھی ملامت کا خوف نہ کھاتے۔ چونکہ یہ مسئلہ فروعی نوعیت کا تھا اس لیے آپؐ نے لوگوں کے جذبات کا لحاظ کرکے کعبہ کی تعمیرنوپر ترجیح دی۔ گویا مسلمانوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ فروعی معاملات میں آپس میں اُلجھنے سے زیادہ اُمت کے اتحاد کو اہمیت دیں اور باہمی رواداری کا رویّہ اپنائیں۔
اسوۂ رسولؐ میں ہمیں احکامِ شریعت کے فہم و استنباط میں توسّع اور تنوع کی اتنی گنجایش نظر آتی ہے کہ اس میں تعدّد مسالک کا قبول کیا جانا، ہمارے اَسلاف کی شان دار علمی روایت کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ذریعے سے انسان کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور تعمیری و تحقیقی عمل کے لیے ایک سازگار ماحول بنانے میں بے حد متوازن آداب و حدود رہنمائی کا کام دے سکتے ہیں۔
بخاری میں ہے کہ حضوؐر نے بنی قریظہ کی طرف ایک دستے کو روانہ کرتے ہوئے نصیحت کی: لَایُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلَّا فِیْ بَنِی قُرَیْظَۃَ ’’کوئی بھی شخص بنی قریظہ کی بستی کے سوا نمازِعصر نہ پڑھے‘‘۔ صحابہ کرامؓ ابھی راستے میں تھے کہ انھیں محسوس ہوا کہ وہ نمازِ مغرب سے پہلے کسی طرح بھی بنی قریظہ کی بستی میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے ایک گروہ نے نماز قضا ہونے کے اندیشے کے پیش نظر کہا کہ نمازِ عصر یہیں ادا کرلینی چاہیے۔ دوسروں نے کہا کہ آپؐ کا حکم بنی قریظہ میں پہنچ کر نمازِ عصر ادا کرنے کا ہے۔
پہلے گروہ نے اس کی تاویل کی کہ آپؐ کا مقصد تھا کہ ہم جلد از جلد وہاں پہنچیں لیکن اب ایسا ممکن نہیں، جب ہم نمازِعصر کے دورانیے میں وہاں نہیں پہنچ سکتے تو نماز قضا نہ کریں۔ لہٰذا ایک گروہ نے عصر کی نماز راستے میں پڑھی، جب کہ دوسرے گروہ نے منزل پر پہنچنا ضروری سمجھا لیکن ان کی نماز قضا ہوگئی۔ آپ سے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے کسی کی بھی سرزنش نہ فرمائی: فَذُکِرْ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْھُمْ (بخاری، رقم ۴۱۱۹)
ایک اور حدیث جس کے راوی حضرت ابوسعید خدریؓ اور عطاءؓ بن یسار ہیں، کے مطابق دوصحابی سفر پر تھے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر مزید سفر پر روانہ ہوگئے۔ ادا کی گئی نماز کا وقت ابھی باقی تھا کہ پانی میسر آگیا۔ ایک صحابی نے کہا کہ اب ہمارا عذر ختم ہوگیا ہے اور نماز کا وقت بھی باقی ہے، لہٰذا ہمیں وضو کرکے نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔دوسرے نے کہا کہ میں تو نہیں دہراؤں گا کیونکہ جس وقت ہم نے تیمم سے نماز پڑھی تھی اس وقت ہمارا عذر موجود تھا۔ جب بارگاہِ رسالتؐ میں رہنمائی کے طلب گار ہوئے تو جس نے نماز نہیں دُہرائی تھی آپؐ نے اس سے کہا کہ تو سنت کو پاگیا اور تیرے لیے تیری نماز کافی ہوگئی، جب کہ نماز دہرانے والے سے فرمایا کہ تمھارے لیے دہرا اجر ہے۔ (ابوداؤد) گویا آپؐ نے دونوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ میں بھی مختلف علمی ذوق و مزاج اور علمی سطح کے افراد موجود تھے اور حضوؐر نے قرآن و حدیث کے فہم و تعبیر میں ان کے اختلاف کو جائز قرار دیا۔ اس لیے کہ دونوں آرا رکھنے والوں کو قولِ رسولؐ کی حجیت اور اہمیت سے انکار نہیں تھا لیکن پیش آمدہ نئی صورت حال میں آپؐ کے الفاظ کی تفہیم و تعبیر میں اختلاف ہوا۔ اس لیے آپؐ نے کسی پر گرفت نہیں کی۔
اسوۂ رسولؐ کے اسی پہلو کے پیش نظر اَسلاف میں وہ روادارانہ طرزِعمل دکھائی دیتا ہے جس کا تذکرہ شاہ ولی اللہ کی کتاب الانصاف میں ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے کہا کہ آپ کے مجموعہ احادیث موطا کی فقہی آرا کا کیوں نہ تمام اُمت کو سرکاری طور پر اس کا پابند کردیا جائے، تو امام مالکؒ نے انھیں یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ امیرالمومنین ایسا نہ کریں۔ مختلف دیار میں محدثین و فقہا پہنچ چکے ہیں جن کے علم و تقویٰ پر وہاں کے لوگوں کا اعتماد قائم ہے۔ آپ زبردستی کرکے ان پر زیادتی کریں گے۔ اسی طرح امام شافعیؒ جو نمازِ فجر میں دعاے قنوت پڑھنے کے قائل تھے۔ جب انھوں نے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ کے مدرسے میں نمازِ فجر پڑھائی اور دعاے قنوت نہ پڑھی، تو لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ نے دعاے قنوت نہیں پڑھی، تو آپ نے فرمایا کہ آج میں ان کے شہر میں ہوں جو ایسا نہیں کرتے۔ لہٰذا میں نے اس کے خلاف کرنا مناسب نہ جانا۔ ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، ص ۴۱)
آج کے عالمی گاؤں (GlobalVillage) ،نئی دنیا میں جس تہذیبی اور ثقافتی کش مکش سے ہمیں واسطہ ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں ایک طرف دین کے ٹھیٹھ اور واضح تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہاں داعیانِ دین کے لیے زمانہ شناس ہونا بھی ضروری ہے۔ اپنے زمانے کو سمجھے بغیر اگر ہم نے کوئی اقدام کیا تو اس کمزوری کا فائدہ کفر ہی کو ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن موضوعات پر آج بین الاقوامی سطح پر بحث ہورہی ہے، ان کے بارے میں کسی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک رہنما خطوط متعین کیے جائیں، تاکہ ایک طرف ہم اپنی اقدار و روایات کا تحفظ کرسکیں تو دوسری طرف دیگر اقوام کے سامنے اسلام کا تشخص پیش کرسکیں۔
_______________

Friday, 6 September 2013

فتنے فساد، عذاب، قتل خون ریزی…!

فتنے فساد، عذاب، قتل خون ریزی…!

کالم نگار  |  طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک)


ابو برزہ اسلمی صحابی ؓ کے پاس کچھ لوگوں نے یزید کی بیعت کی بابت پوچھا تو انہوں نے فرمایا ’’عرب کے لوگو!  تم جانتے ہو (نبی کریمؐ کی نبوت سے) پہلے تمہارا کیا حال تھا، جہاں بھر کے ذلیل و خوار اور گمراہی کا شکار پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کے طفیل سے اور اپنے پیغمبر برحق کے صدقے سے تم کو اس بری حالت سے نجات دی، یہاں تک کہ تم اس مرتبے کو پہنچے کہ دنیاکے حاکم اور سردار بن گئے، پھر اس دنیا نے تم کو خراب کر دیا، دیکھو یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے (مروان) دنیا کے لئے لڑتا ہے اور یہ خارجی لوگ جو تمہارے گردا گرد ہیں، خدا کی قسم یہ بھی دنیا کے لئے لڑتے ہیں، آج کے منافق کم بخت ان منافقوں سے بھی بدتر ہیں جو نبی کریمﷺ کے زمانے میں تھے، وہ تو اپنا نفاق چھپاتے تھے، یہ تو اعلانیہ نفاق کرتے ہیں۔ نفاق تو نبی کریمﷺ کے زمانے تک تھا، اللہ آپؐ کو بتلا دیتا تھا کہ فلاں شخص منافق ہے لیکن اس زمانہ میں تو یا آدمی مومن ہے یا کافر (بخاری،کتاب الفتن)۔ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ان سے حجاج بن یوسف کے مظالم اور مصیبتوں کا شکوہ کیا تو حضرت انسؓ نے فرمایا ’’اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ اس کے بعد جو زمانہ آئے گا وہ اس سے بھی بدتر ہو گا اور اسی طرح ہمیشہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ تم اپنے پروردگار سے مل جائو گے‘‘۔ (بخاری) 
ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر لکھتے لکھتے جب انگلیاں شل ہوجائیں توتفاسیر و احادیث کی کتب کھول کر بیٹھ جاتی ہوں۔ مسلمانوں پر عذاب کی جو صورتحال بن چکی ہے، اس سے نجات کا واحد راستہ اللہ اور اس کے نبیؐ کے گھر کو جاتا ہے۔ مسلمانوں کو ہمیشہ ایک ہی گلہ رہا ہے کہ یہودو نصاریٰ ان کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور امت مسلمہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر موجودہ حالات کے تناظر میں نہ تو مسلمان امت ہونے  کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نہ یہودو نصاریٰ اکیلے ان کے خلاف متحد ہیں، الا ما شا ء اللہ مسلمان حکومتیں یہودو نصاریٰ کے ساتھ کھڑی ہیں، یہی نہیں یہود و نصاریٰ کو نہ صرف اپنے مسلمان بھایئوں کے خلاف بمباری پر اکسا رہی ہیں بلکہ ان کی مالی معاونت بھی کر رہی ہیں۔ انگریز اقوام کی عراق پر حملے کی طرح شام پر حملے کی شدید مخالفت نے انگریز سرکار کو امریکہ کی منصوبہ بندی کا حصہ بننے سے روک دیا، ادھر امریکی عوام نے بھی شام پر حملے کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جس کے بعد اوباما حکومت بھی احمقانہ اقدام اٹھانے سے پہلے کانگریس کی منظوری کی منتظر ہے۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ امریکی سرکار بھی شام پر حملے کو محض دھمکیوں تک محدود رکھے گی لیکن سعودی عرب امریکی سرکار کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کے حق میں نہیں۔ مذہبی منافرت کو سیاسی ایشو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم لوگ اللہ کے رسولﷺ کی خبروں سے زیادہ میڈیا کی خبروں پر یقین کرنے لگے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ کی پیشگوئیوں سے زیادہ نجومیوں، بابوں اور نام نہاد عالموں کی پیشگوئیوں پر اعتقاد کرنے لگے ہیں۔ ایک آج کا زمانہ ہے کہ بری سے بری خبر سن کر بھی لوگوں کو کچھ نہیں ہوتا اور ایک وہ زمانہ تھا جب اللہ کے رسولﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والی خبروں اور پیشگوئیوں کو سن کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’زمانہ جلدی گزرنے لگے گا اور نیک اعمال گھٹ جائیں گے اور بخیلی دلوں میں سما جائے گی اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور قتل خون ریزی بہت ہو گی‘۔ (بخاری) حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں ٹپک رہے ہیں‘ (بخاری ) ام المومنین زینب بن جحشؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرمﷺ سوتے سے جاگے، آپؐ کا منہ گھبراہٹ سے سرخ تھا، فرمانے لگے ’ایک بلا ہے جو نزدیک آن پہنچی عرب کی خرابی ہونے والی ہے‘ ام المومنین حضرت زینب ؓ نے عرض کیا ’یا رسول اللہؐ! کیا نیک لوگوں کے رہنے پر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے(اللہ کا عذاب اترے گا ؟) آپ ؐ نے فرمایا’ہاں جب برائی بہت پھیل جائے گی (بخاری ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا ’کوئی تم میں سے کوئی اپنے بھائی پر ہتھیار نہ اٹھائے کہ مسلمان کو مار کر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے‘۔ ایک مقام پر حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا‘(بخاری)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے مختلف مقام پر فرمایا کہ ’’کئی ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھ رہنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے جو شخص ان فتنوں کو جھانکے گا وہ ان میں مبتلا ہو جائے گا ،ایسے وقت میں جو شخص پناہ کی جگہ پائے وہاں پناہ پکڑے‘‘۔ (بخاری)

Tuesday, 27 August 2013

علم وعمل کے بغیر دعا ؟

علم وعمل کے بغیر دعا ؟

مولانا ابوالکلام آزاد
صلیبی جہاد نے ازمنہ وسطیٰ کے یورپ کو مشرق وسطیٰ کے دوش بدوش کھڑا کردیا تھا۔ یورپ اس عہد کے مسیحی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا اور مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے دماغ کی۔ اور دونوں کی متقابل حالت سے ان کی متضاد نوعیتیں آشکارا ہوگئی تھیں۔ یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا عَلم بردار تھا اور مسلمان علم و دانش کے عَلم بردار۔ یورپ دعائوں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتا تھا اور مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا خدا کی مدد پر تھا لیکن خدا کے پیدا کئے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا۔ پہلے نے معجزوں کے ظہور کا انتظار کیا، دوسرے نے نتائجِ عمل کے ظہور کا۔ معجزے ظاہر نہیں ہوئے لیکن نتائج عمل نے ظاہر ہوکر فیصلہ کردیا۔
ژاویل کی سرگزشت میں بھی یہ متضاد تقابل ہر جگہ نمایاں ہے۔ جب مصری فوج نے منجنیقوں کے ذریعے سے آگ کے بان پھینکنے شروع کئے تو فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، بالکل بے بس ہوگئے۔
ژاویل اس سلسلے میں لکھتا ہے:
’’ایک رات جب ہم ان برجیوں پر جو دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھیں، پہرہ دے رہے تھے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جسے پٹریری (یعنی منجنیق) کہتے ہیں، لاکر نصب کردیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر میرے لارڈ والٹر نے جو ایک اچھا نائٹ تھا، ہمیں یوں مخاطب کیا: ’’اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آگیا ہے کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگا دی تو ہم بھی برجیوں کے ساتھ جل کر خاک ہوجائیں گے، لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ ہم ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچائو کرسکے۔ میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جوں ہی مسلمان آگ کے بان چلائیں ہمیں چاہیے کہ گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔‘‘
چنانچہ ہم سب نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا، ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہوگئے۔ یہ بان اتنے بڑے تھے کہ جیسے شراب کے پیپے، اور آگ کا جو شعلہ ان سے نکلتا تھا اس کی دم اتنی لمبی ہوتی تھی جیسے ایک بہت بڑا نیزہ، جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں۔ اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے ایک آتشیں اژدھا ہوا میں اڑ رہا ہے۔ اس کی روشنی نہایت تیز تھی۔ چھائونی کے تمام حصے اس طرح اجالے میں آجاتے تھے جیسے دن نکل آیا ہو۔‘‘
اس کے بعد خود لوئس کی نسبت لکھتا ہے:’’ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت بادشاہ سنتا تھا تو بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا تھا اور روتے روتے ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہمارے نجات دہندہ سے التجائیں کرتا: مہربان مولیٰ ہمارے آدمیوں کی حفاظت کر۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے بادشاہ کی ان دعائوں نے ہمیں ضرور فائدہ پہنچایا۔‘‘
لیکن فائدے کا یہ یقین خوش اعتقادانہ وہم سے زیادہ نہ تھا، کیونکہ بالآخر کوئی دعا بھی سودمند نہ ہوئی اور آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کردیا۔
یہ حال تو تیرہویں صدی مسیحی کا تھا، لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورتِ حال یکسر الٹ چکی تھی۔ اب دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے، اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کرلیا تھا۔
اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علماء کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کردینا چاہیے کہ نجات کے لیے تیر بہدف ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم، ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کردیا۔ شیخ عبدالرحمن الجبرتی نے اس عہد کے چشم دید حالات قلمبند کیے ہیں اور یہ بڑے ہی عبرت انگیز ہیں۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیر بخارا نے اسے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ اُدھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کررہی تھیں، اِدھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے یا مقلب القلوب، یامحول الاحوال کے نعرے لگا رہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلے کا نکلنا تھا، جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو دوسری طرف ختم خواجگان۔ دعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں مگر انہی کو پہنچاتی ہیں جو عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ بے ہمتوں کے لیے تو وہ ترک ِعمل اور تعطلِ قویٰ کا حیلہ بن جاتی ہیں۔
(بحوالہ غبار خاطر سوئے حرم۔ ماہ جولائی 2008ئ)
مولانا ابوالکلام آزاد

مصر سیکولر قوتوں کی وحشت و درندگی

مصر سیکولر قوتوں کی وحشت و درندگی

سید وجہیہ حسن

مصر کا بحران سنگین تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ 14 اگست کے دن اخوان کے احتجاجی دھرنا کیمپوں پر فوجی حملے اور قتل عام کے بعد جنرل السیسی کی حکومت کو ہر طرف سے ہی تنقید کا سامنا ہے۔ اس قتلِ عام کے بعد عام خیال یہی تھا کہ اخوان اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں گے اور ممکن ہے اس کے نتیجے میں جنرل السیسی کے فوجی اقتدار کے ساتھ کسی شراکت کے فارمولے پر بات آگے بڑھے۔ لیکن فوج کی طرف سے روا رکھے جانے والے ظلم و جبر کے باوجود اخوان کے مؤقف میں تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیئے ہیں۔ پچھلا پورا ہفتہ اس حال میں گزرا ہے کہ فوج کی طرف سے کرفیو اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے باوجود اخوان کے کارکنان اور حامیوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے ہیں اور فوجی حکومت سے اپنی بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ فوجی حکومت کا ظلم و ستم بھی اپنے عروج پر ہے۔ اب تک حکومتی تشدد کے نتیجے میں 3 سے 4 ہزار مصری شہید ہوچکے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں‘ جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ اخوان کے مرشدِ عام محمد بدیع گرفتار کرکے نظربند کردیے گئے ہیں‘ جبکہ دیگر اہم رہنمائوں سمیت ہزاروں افراد گرفتار ہیں۔ گرفتار افراد پر بہیمانہ تشدد اور دورانِ حراست گرفتار افراد کے قتل کی خبریں اخباروں کی زینت بن رہی ہیں۔ دوسری طرف فوجی جنتا اخوان المسلمون اور اس کے سیاسی ونگ ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ پر پابندی عائد کرنے کے متعلق غور و خوض کررہی ہے۔ ایسی صورت حال میں مصری عوام کا مستقبل اخوان المسلمون کی جدوجہد کے نتائج سے براہِ راست وابستہ ہوگیا ہے۔ اخوان کی کامیابی کا مطلب ملک میں جمہوریت کا فروغ‘ اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کی بحالی ہوگا، جب کہ خدانخواستہ جنرل السیسی کی اخوان المسلمون کو کچل دینے کی حکمت عملی کی کامیابی کا نتیجہ حسنی مبارک دور کی واپسی ہوگا۔ حسنی مبارک کے وکیل نے دو دن قبل ہی بیان دیا ہے کہ حسنی مبارک جلد ہی رہا کردیئے جائیں گے۔ ایسے میں مصر میں ملٹری ڈکٹیٹر شپ کی واپسی کے آثار گہرے ہوتے نظر آرہے ہیں۔
صدر مرسی کی حکومت کا خاتمہ دراصل مصری فوج‘ خلیجی ریاستوں‘ امریکہ اور مصر کے لبرل عناصر کی مشترکہ سازش کا مرہونِ منت تھا۔ مصری فوج تو دیگر مسلم ممالک کی افواج کی طرح اقتدار اور ڈالروں کی حرص میں مبتلا اور اسلام سے الرجک ہے۔ اخوان کے برسراقتدار آنے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مصری فوج کو نہ صرف اپنے لامحدود اختیارات میں عوام کو شریک کرنا پڑے گابلکہ اس کی شاہ خرچیاں بھی جاری نہ رہ سکیں گی۔ چنانچہ جوں ہی امریکہ اور خلیجی ممالک کی طرف سے گرین سگنل ملا، اس نے مصر کے لبرل عناصر کو مجتمع کرنا شروع کردیا۔
مصر کے لبرل عناصر قبطی عیسائیوں‘ شیعہ فرقہ اور لبرل اشرافیہ پر مشتمل ہیں۔ یہ تینوں کسی نہ کسی طرح حسنی مبارک کے اقتدار سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ چنانچہ امریکی آشیرباد اور ڈالروں کی مدد سے ان سب کو یکجا کرنا مشکل نہ تھا۔ ان کے ساتھ پروپیگنڈہ کے لیے مصری میڈیا مشین موجود تھی۔ چنانچہ ’’تمرد‘‘(Tamarrod) تحریک وجود میں آگئی، اور عوامی مظاہروں اور قرارداد کے ذریعے جنرل السیسی سے اپیل کی گئی کہ وہ ملک کی بقاء اور جمہوریت کے فروغ کی خاطر صدر مرسی کی منتخب حکومت کو برطرف کرکے اقتدار سنبھال لیں۔
خلیجی ریاستوں میں سعودی حکمرانوں کے پاس یہ سنہری موقع موجود تھا کہ وہ مصر کی 60 سالہ تاریخ کی پہلی منتخب حکومت کا ساتھ دیتے اور پوری عرب دنیا میں مقبول اخوان المسلمون کے محسن بن جاتے۔ لیکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے اخوان کی مقبولیت کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے مصری فوج کو ایک بار پھر مصری عوام پر مسلط کرنے میں مدد دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان ریاستوں ہی کا اثر و رسوخ تھا کہ مصر کی سیاست میں موجود دوسری مقبول ترین پارٹی (نور پارٹی)جو سلفی نظریات کی حامل ہے، اس نے اخوان کو دھوکا دیتے ہوئے لبرلز‘ امریکہ اور فوجی جنرلوں کا ساتھ دیا۔ یہی حال جامعہ الازہر کا تھا۔ ایک لکھنے والے نے لکھا ہے کہ نور پارٹی اور جامعہ الازہر کا جرنیلوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ دراصل مصر کے مذہبی طبقات کو اخوان کی متوقع جدوجہد سے دور رکھنے کی شعوری کوشش تھی۔ سعودی حکمران تو اخوان کی مخالفت میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ انہوں نے مصری افواج کی طرف سے اخوان کے حامیوں کے قتل عام اور تشدد کو ’’دہشت گردی اور شدت پسندی‘‘ کے خلاف لائقِ تحسین اقدام قرار دے دیا۔
صدر مرسی کی حکومت کا خاتمہ تو بلاشبہ مصری فوج‘مصر کے لبرل عناصر‘ خلیجی عرب ریاستوں اور امریکہ کا مشترکہ ہدف تھا، لیکن فوج کے اقتدار میں آجانے کے بعد اب ان سب کے اہداف مختلف نظر آتے ہیں۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ’’عرب بہار‘‘ کی پذیرائی کے پیچھے واضح امریکی مقاصد ہیں۔ لیکن ان مقاصد کی راہ میں اخوان المسلمون کی مقبولیت رکاوٹ ہے۔ امریکہ نے اس کا حل ’’سول وار‘‘ کی شکل میں ڈھونڈا ہے۔ چنانچہ لیبیا ہو یا شام… امریکہ کو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان دونوں ممالک میں امریکہ‘ اقوام متحدہ کے ذریعہ فوری انتخابات کا مطالبہ کرسکتا تھا جو عوام کا مطالبہ تھا۔ لیکن اس کے برعکس امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ذریعہ ان دونوں ممالک میں اپوزیشن کے ہاتھ میں ہتھیار تھما دیے ہیں۔ کیوں؟ جواب واضح ہے، انتخابات کے نتیجے میں اخوان یا کوئی اور مذہبی گروہ ہی برسراقتدار آئے گا۔ چنانچہ ان دونوں ممالک کی حکومتیں مسلح باغیوں سے لڑنے کے لیے ہر طرح کا اسلحہ استعمال کررہی ہیں اور امریکی سینیٹر جان مکین مسلح باغیوں سے خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں۔ یوں دو اہم مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بج رہی ہے۔ امریکہ مصر میں بھی ایسی ہی ’’سول وار‘‘ کا خواہشمند ہے۔ لیکن یہ اخوان کی دانشمندی ہے جس نے ابھی تک یہ صورت حال پیدا نہیں ہونے دی ہے۔
خلیجی ریاستیں ’’اسٹیٹس کو‘‘ چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ جنوری 2011 ء سے پہلے والا مصر واپس آجائے۔ یعنی حسنی مبارک یا اس کے کسی جانشین کی آمریت ایک بار پھر طویل عرصہ کے لیے مصر پر مسلط ہوجائے۔ کیونکہ اگر اخوان کی عوامی اسلامی حکومت کا تجربہ مصر میں کامیاب ہوگیا تو پھر اس تجربے کو دیگر ملکوں کے عوام میںبھی پذیرائی ملے گی اور کئی دہائیوں پر مشتمل چودھراہٹ کا نظام خطرے میں پڑجائے گا۔
مصر کے لبرل عناصر اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ مصر ایک بار پھر فوجی آمریت کی طرف جارہا ہے۔ چنانچہ ان کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ جنرل السیسی اپنے چنیدہ کچھ افراد کے ذریعے آئین نہ تشکیل دیں بلکہ اس کے لیے غیر متنازع افراد کو ذمہ داری دی جائے۔ پھر انہیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ حسنی مبارک دور کے فوجی جرنیلوں کو مصر کے مختلف صوبوں کا گورنرنامزد کردیا گیا ہے۔
ایسے میں اصل امتحان اخوان المسلمون کی قیادت کی سیاسی بصیرت اور وسیع القلبی کا ہے۔ اخوان کی قربانیوں نے بلاشبہ ان کے سیاسی مخالفین کے دل میں بھی ان کے لیے نرم گوشہ پیدا کردیا ہے۔ اخوان اس موقع پر ا پنے مخالفین کے ساتھ کسی کم از کم مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہوکر ایک نئی مشترکہ جدوجہد شروع کرسکتے ہیں۔ ایک ایسی جدوجہد جو مصر کی موجودہ ’’فوج بمقابلہ اخوان المسلمون‘‘ کشمکش کو ’’بمقابلہ مصری عوام‘‘ جدوجہد میں تبدیل کردے۔
بلاشبہ مصر میں اخوان کی جدوجہد نے پورے مشرق وسطیٰ میں امکانات کے نئے در کھول دیے ہیں۔ مصر میں تبدیلی مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی بنیاد ہوگی۔ اسی طرح مصر میں ڈکٹیٹرشپ کی واپسی کے اثرات بھی پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

خاندان کا ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہے؟

خاندان کا ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہے؟

…شاہنواز فاروقی…

ایک وقت تھا کہ خاندان ایک مذہبی کائنات تھا۔ ایک تہذیبی واردات تھا۔ محبت کا قلعہ تھا۔ نفسیاتی حصار تھا۔ جذباتی اور سماجی زندگی کی ڈھال تھا… ایک وقت یہ ہے کہ خاندان افراد کا مجموعہ ہے۔ چنانچہ جون ایلیا نے شکایت کی ہے   ؎
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
ٹوکنے کا عمل اپنی نہاد میں ایک منفی عمل ہے۔ مگر آدمی کسی کو ٹوکتا بھی اسی وقت ہے جب اُس سے اس کا ’’تعلق‘‘ ہوتا ہے۔ جون ایلیا کی شکایت یہ ہے کہ اب خاندان سے ٹوکنے کا عمل بھی رخصت ہوگیا ہے۔ یہی خاندان کے افراد کا مجموعہ بن جانے کا عمل ہے۔ لیکن خاندان کا یہ ’’نمونہ‘‘ بھی بڑی نعمت ہے۔ اس لیے کہ بہت سی صورتوں میں اب خاندان افراد کا مجموعہ بھی نہیں رہا۔ اسی لیے شاعر نے شکایت کی ہے   ؎
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
بعض لوگ اس طرح کی باتوں کو مشترکہ خاندانی نظام کے ٹوٹ جانے کا سانحہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام مشترکہ خاندانی نظام پر نہیں صرف خاندان پر اصرار کرتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے تو اپنی خرابیوں کی وجہ سے ٹوٹ رہا ہے اور اسے ٹوٹ ہی جانا چاہیے۔ اور اب اگر لوگ الگ گھر بناکر رہ رہے ہیں تو اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے! لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے، بلکہ  یہ ہے کہ جو جہاں بھی رہتا ہے محبت کے ساتھ دوسرے سے نہیں ملنا چاہتا۔ ایک وقت تھا کہ لوگ کسی ضرورت کے تحت خاندان سے سیکڑوں بلکہ ہزاروں میل دور جاکر آباد ہوجاتے تھے، مگر یہ فاصلہ صرف جغرافیائی ہوتا تھا… نفسیاتی، ذہنی اور جذباتی نہیں ہوتا تھا۔ اب لوگ ایک گھر میں رہتے ہیں تو ان کے درمیان ہزاروں میل کا نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی فاصلہ ہوتا ہے… اور یہی فاصلہ اصل خرابی ہے، یہی فاصلہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہے، یہی ہمارے عہد کا ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس المیے کی وجہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خاندان اپنی اصل میں ایک مذہبی تصور ہے۔ کائناتی سطح کے مفہوم میں مرد اللہ تعالیٰ کی ذات اور عورت اللہ تعالیٰ کی صفت کا مظہر ہے، چنانچہ شادی کا ادارہ ذات اور صفت کے وصال کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں شادی کی غیرمعمولی اہمیت ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو نصف دین کہا ہے۔ مرد اور عورت کے تعلق کی اسی نوعیت کی وجہ سے اسلام طلاق کو سخت ناپسند کرتا ہے، کیونکہ اس سے انسانی سطح پر ذات اور صفت میں علیحدگی ہوجاتی ہے۔ لیکن مرد اور عورت کے اس تعلق کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی ذات نے انسانوں کو ’’جوڑے‘‘ کی صورت میں پیدا کیا۔ اسی ذات نے زوجین کے درمیان محبت پیدا کی۔ اسی ذات نے بچوں کی پیدائش کو عظیم نعمت اور رحمت میں تبدیل کیا اور اسی ذات نے بچوں کی پرورش پر بے پناہ اجر رکھا۔ مذہبی معاشروں میں خاندان کا یہ تصور انسانوں کے شعور میں پوری طرح راسخ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان کا ادارہ لاکھوں یا ہزاروں سال کا سفر طے کرنے کے باوجود بھی نہ صرف یہ کہ باقی اور مستحکم رہا بلکہ اس میں کروڑوں انسان ایک حسن و جمال اور ایک گہری رغبت بھی محسوس کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی خدا انسانوں کے باہمی تعلق سے غائب ہوا خاندان کا ادارہ اضمحلال، انتشار اور انہدام کا شکار ہوگیا۔
مذہب کی وجہ سے خاندان کے ادارے کی ایک تقدیس تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ تھا۔ اس میں کائناتی سطح کی معنویت تھی جس کا کچھ نہ کچھ ابلاغ بہت کم پڑھے لکھے لوگوں تک بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا تھا۔ مذہبی بنیادوں کی وجہ سے خاندان میں ایک برکت تھی اور اس کے ساتھ اجروثواب کے درجنوں تصورات وابستہ تھے۔ لیکن خدا کے تصور کے منہا ہوتے ہی اور مذہب سے رشتہ توڑتے ہی خاندان اچانک صرف ایک حیاتیاتی، سماجی اور معاشی حقیقت بن گیا۔ یعنی انسان محسوس کرنے لگے کہ خاندان انسانی نسل کی بقا اور تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ خاندان نہیں ہوگا تو انسانی نسل فنا ہوجائے گی۔ خاندان کے خالص حیاتیاتی تصور نے مرد اور عورت کے باہمی تعلق کو صرف جسمانی تعلق تک محدود کردیا۔ اس تعلق کی اہمیت تو بہت تھی مگر اس میں معنی کا فقدان تھا، اور اس سے کوئی تقدیس وابستہ نہ تھی۔ خدا اور مذہب سے بے نیاز ہوتے ہی انسان کو محسوس ہونے لگا کہ خاندان صرف ہماری سماجی ضرورت ہے۔ انسان ایسی حالت میں پیدا ہوتا ہے کہ اسے طویل عرصے تک ماں باپ اور دوسرے خاندانی رشتوں کی ’’ضرورت‘‘ ہوتی ہے، لیکن ضرورت ایک ’’مجبوری‘‘ اور ایک ’’جبر‘‘ ہے اور اس کی کوئی اخلاقیات نہیں۔ چنانچہ مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں نے اس مجبوری اور جبر کے طوق کو گلے سے اتار پھینکا۔ انسان صرف سماجی نفسیات کا اسیر ہوجاتا ہے تو اس سے ’’معاشی ضرورت‘‘ کے نمودار ہونے میں دیر نہیں لگتی، اور معاشی ضرورت دیکھتے ہی دیکھتے سماجی ضرورت کو بھی ’’ثانوی ضرورت‘‘ بنادیتی ہے۔ خاندان کے ادارے کے حوالے سے یہی ہوا۔ خاندان کے سماجی ضرورت ہونے کے تصور سے معاشی ضرورت کا تصور نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے خاندان کے ادارے کے تشخص کا نمایاں ترین پہلو بن گیا۔
خاندان کے ادارے کے حوالے سے خدا اور مذہب کے بعد سب سے زیادہ اہمیت محبت کے تصور کو حاصل ہے۔ محبت انسانی زندگی میں کتنی اہم ہے اس کا اظہار میر تقی میرؔ نے اس سطح پر کیا ہے جس سے بلند سطح کا تصور ذرا مشکل ہے۔ میرؔ نے کہا ہے  ؎
محبت نے کاڑھا ہے ظلمت سے نور
نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
میرؔ نے اس شعر میں محبت کو پوری کائنات کی تخلیق کا سبب قرار دیا ہے۔ محبت نہ ہوتی تو یہ کائنات ہی وجود میں نہ آتی۔ محبت کے حوالے سے میرؔ کا ایک اور شعر بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا ہے   ؎
محبت مسبّب محبت سبب
محبت سے ہوتے ہیں کارِ عجب
محبت کے ’’کارِ عجب‘‘ کرنے کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف کائنات ہوتا ہے، لیکن محبت شادی کی صورت میں دو کائناتوں کو اس طرح ایک کردیتی ہے کہ ان کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی کش مکش باقی نہیں رہتی۔ یہ عمل معجزے سے کم نہیں، مگر محبت نے اس معجزے کو تاریخ و تہذیب کے سفر میں اتنا عام کیا ہے کہ یہ معجزہ کسی کو معجزہ ہی نظر نہیں آتا۔ بچوں کو پالنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس میں ماں باپ کی شخصیت کی اس طرح نفی ہوتی ہے کہ اس کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں۔ بچوں کی پرورش ماں باپ کی نیندیں حرام کردیتی ہے، ان کا آرام چھین لیتی ہے، ان کی ترجیحات کو تبدیل کردیتی ہے۔ لیکن ماں باپ کی محبت ہر قربانی کو سہل کردیتی ہے۔ ماں باپ کے دل میں بچوں کے لیے محبت نہ ہو تو وہ بچوں کو پالنے سے انکار کردیں، یا ان کو ہلاک کر ڈالیں۔ لیکن محبت، بے پناہ مشقت کو بھی خوشگوار بنادیتی ہے اور انسان کو تکلیف میں بھی ’’راحت‘‘ محسوس ہونے لگتی ہے، پریشانی بھی بھلی معلوم ہوتی ہے، قربانی میں بھی بے پناہ لطف کا احساس ہوتا ہے۔ بچوں کو ماں باپ کی محبت کا جو تجربہ ہوتا ہے وہ ان کی شخصیت کو ایسا بنادیتا ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہوجاتے ہیں تو اکثر بچے اسے لوٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ محبت ہی ہے جو بچوں ہی نہیں بڑوں کو بھی اس لائق بناتی ہے کہ وہ اپنے وقت، خوشیوں اور وسائل میں دوسروں کو شریک کریں۔ لیکن مغرب میں انسان خدا اور مذہب سے دور ہوا تو اس کے دل میں محبت کا کال پڑگیا، اور محبت کے قحط نے والدین کے لیے بچوں اور بچوں کے لیے والدین کو بوجھ بنا دیا۔ یہاں تک کہ شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے کو ایک وقت کے بعد ’’اضافی‘‘ نظر آنے لگے۔ مغرب کا یہ ہولناک تجربہ اب مشرق میں بھی عام ہے، یہاں تک کہ اسلامی معاشرے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی اور غیر اسلامی معاشروں میں فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشروں میں خدا اور مذہب لوگوں کی زندگی سے یکسر خارج ہوچکے ہیں، جبکہ اسلامی معاشروں میں مذہب آج بھی اکثر لوگوں کے لیے ایک زندہ تجربہ ہے۔ البتہ جدید دنیا کے رجحانات کا دبائو اتنا شدید ہے کہ مسلم معاشروں میں بھی مذہب پیش منظر سے پس منظر میں چلا گیا ہے۔ چنانچہ مسلم معاشروں میں بھی خاندان کا ادارہ اضمحلال، انتشار اور انہدام کا شکار ہورہا ہے۔
مادی دنیا حقیقی خدا کے انکار تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے دولت کی صورت میں اپنا خدا پیدا کرکے دکھایا، اور وہ معاشرے جو کبھی ’’خدا مرکز‘‘ یا God Centric تھے وہ دولت مرکز یا Money Centric بنتے چلے گئے۔ ان معاشروں میں دولت ہر چیز کا نعم البدل بن گئی۔ اس نے حسب نسب کی صورت اختیار کرلی۔ وہی شرافت اور نجابت کا معیار ٹھیری۔ اسی سے علم و ہنر منسوب ہوگئے، اسی سے انسانوں کی اہمیت کا تعین ہونے لگا، اسی نے خوشی اور غم کی صورت اختیار کرلی۔ یہاں تک کہ دولت ہی ’’تعلق‘‘ بن کر رہ گئی۔ دولت کی اس بالادستی اور مرکزیت نے معاشروں میں قیامت برپا کردی۔ مغرب کی تو بات ہی اور ہے، ہم نے اپنے معاشرے میں دیکھا ہے کہ والدین تک معاشی اعتبار سے کامیاب بچوں کو اپنے اُن بچوں پر ترجیح دینے لگتے ہیں جو معاشی اعتبار سے نسبتاً کم کامیاب ہوتے ہیں، خواہ معاشی اعتبار سے کمزور بچوں میں کیسی ہی انسانی خوبیاں کیوں نہ ہوں۔ پاکستان اور دوسرے ملکوں میں مشرق وسطیٰ جانے کا رجحان پیدا ہوا تو کروڑوں لوگ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر بہتر معاشی مستقبل کے لیے عرب ملکوں میں جا آباد ہوئے۔ یہ لوگ دس پندرہ اور بیس سال کے بعد لوٹے تو ان کے پاس دولت تو بہت تھی مگر وہ اپنے بچوں کے لیے تقریباً اجنبی تھے۔ یہاں تک کہ ان کی بیویوں اور ان کے درمیان بھی ’’نیم اجنبی‘‘ کا تعلق استوار ہوچکا تھا۔ انسانوں کی شخصیتوں کی جڑیں معاشیات میں اتنی گہری پیوست ہوئیں کہ ہم نے متوسط طبقے کے بہت سے بچوں کو یہ کہتے سنا کہ ہمیں ہمارے باپ نے دیا ہی کیا ہے؟ حالانکہ ان کے پاس شرافت کی دولت تھی، ایمان داری کا سرمایہ تھا، علم کی میراث تھی، تخلیقی رجحانات کا ورثہ تھا۔ لیکن انہیں ان میں سے کسی چیز کی موجودگی کا شعور نہ تھا، کسی چیز کی موجودگی کا احساس نہ تھا۔ انہیں شعور اور احساس تھا تو صرف اس چیز کا کہ ان کے پاس دولت نہیں ہے۔ کار اور کوٹھی نہیں ہے۔ بینک بیلنس نہیں ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شادی بیاہ کے معاملات میں دولت تقریباً واحد معیار بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں مذہبی اور سیکولر کی کوئی تخصیص نہیں۔ دولت کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ اس کے بعد بھی لوگ سوال کرتے ہیں کہ خاندان کا ادارہ کیوں کمزور پڑرہا ہے!

Friday, 2 August 2013

قدس۔۔ دشمن کون؟

 قدس۔۔  دشمن کون؟
عالم نقوی

مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور بیت المقدس کو صہیونی قبضے سے چھڑانے کے لئے امت مسلمہ اورمسلم ممالک کیا کر رہے ہیں ؟'کچھ نہیں 'کے مایوسانہ فقرے کے سوا اس سوال کے جواب میں اور کیا کہا جاسکتاہے ؟مسلم ممالک کی کوئی متحدہ کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔حماس اورحزب اللہ کے سوا'امت کا کوئی دوسرا گروہ ایسا نہیں جو اس وقت بھی آزادی فلسطین کی راہ میں آزادانہ طور پر سرگرم ہو۔ مرحوم یاسر عرفات کی ''الفتح'' تواسی روز مردہ ہو گئی تھی جب اس نے غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے پردستخط کردئیے تھے۔کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو امن معاہدوں نے انتفاضہ کے خاتمے کے صہیونی منصوبے پرعمل درآمد کو ممکن بنانے کے سوا اورکچھ نہیں کیا۔ یاسر عرفات میں چونکہ حمیت وغیرت کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انہیں پہلے پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر راملہ میں خانہ قید کردیاگیا اورپھر موقع ملتے ہی ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیاگیا۔فتح کی موجودہ قیادت سے صہیونیت کو کوئی خطرہ نہیں۔ان حالات میں فلسطین کی سپریم اسلامک کونسل کے چیرمین اورمسجد اقصیٰ کے خطیب وامام شیخ عکرمہ صبری کا شکوہ حق بجانب ہے کہ امت مسلمہ اور بالخصوص عرب اورمسلم ممالک نے فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ شیخ عکرمہ صبری نے گذشتہ ہفتے الجزیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے القدس کی حفاظت کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا اوربالکل صحیح کہا کہ القدس شہر اسیر مغموم اور یتیم ہو کر رہ گیا ہے اور پورا عالم اسلام اس سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر کئے ہوئے ہے۔ رہا امریکہ توایک طرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نام نہاداسرائیل مخالف بیان دیتا ہے اوردوسری طرف وہ یروشلم (بیت المقدس شہر)میں فلسطینیوں سے جبراً خالی کرائی گئی زمینوں پرغاصبانہ یہودی آبادکاری کو قانونی حیثیت دینے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوںنے غلط نہیںکہا کہ امریکہ کا نام نہاد نیا امن منصوبہ فی الواقع مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالے رکھنے کی ایک سازش ہے۔ رہے مذاکرات توغاصب اسرائیل سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ محض وقت گزاری کے لئے مذاکرات کی رٹ لگاتا ہے۔ فلسطینی عربوں کے مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اس کی طرف سے کبھی دکھائی نہیں دی۔مسجد اقصیٰ کی بازیابی اوربیت المقدس کی آزادی صرف اس لیے ممکن نہیں ہو پارہی ہے کہ عرب اورمسلم ممالک متحد نہیں ہیں۔ صہیونی مقتدرہ نہیں چاہتا کہ عرب کبھی متحد ہوں لہٰذا اگر ایک طرف عربی وعجمی عصبیت کو ہوا دی جاتی رہتی ہے تو دوسری طرف مذہبی ومسلکی عصبیت کا استحصال بہت بڑے پیمانے پرجاری رہتا ہے۔ صہیونی مقتدرہ کے سب سے بڑے عمیل اسرائیل اورامریکہ آج عرب ممالک ،ایران ،افغانستان، عراق ،پاکستان اورہندوستان وغیرہ میںجوکام سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ کر رہے ہیں وہ یہی کہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر متحد نہ ہونے دیں۔ہم پچھلے کئی برسوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوںکے داخلی اورمسلکی اختلافات کو اچھالنے کی کوششوںمیں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔سنی شیعہ اختلاف ہی کیا کم تھا کہ اب مْقلّد غیر مْقلد حنفی ،شافعی اور بریلوی ،دیوبندی اختلافات کو بھی نئے سرے سے اٹھایا اوربڑھایا جا رہا ہے اور خطہ عرب میں اس پروپیگنڈے کو ہوادی جا رہی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل سے زیادہ عرب ممالک کے لئے خطرناک ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صہیونی پروپیگنڈہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خالص ابلیسی ہے۔عربوں کو ایران کے خلاف بھڑکانا اورمسلمانوں کے داخلی اختلافات کو ہوادینا ایک ہی سازش کا حصہ ہیں۔ جس کے پیچھے صہیونیت کا یہ خوف ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی اس کی موت ہے۔دنیا کے ڈیڑھ پونے دوارب مسلمان اور پچاس پچپن مسلم ممالک آج متحد ہو کر کلمة اللہ ھ العلیائ کے پرچم کے نیچے متحد ہو جائیں تودوسرا لمحہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس (یروشلم ) کی آزادی پرمنتج ہوگا۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ جو لوگ مسلمانوںکے باہمی انتشار کو ہوا دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شیعہ سنی،بریلوی ،دیوبندی مقلد غیر مقلداتحاد ممکن نہیں وہی وطن عزیز میں برادران وطن کی اکثریت سے اتحاد کے پرچم اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اگر اس ملک میںہندومسلم اتحادممکن ہے اورمغرب میں یہودی،مسلم اورعیسائی مسلم اتحاد ممکن ہے توآخر جنوبی وسطی اورمغربی ایشیائ میں مسلم۔مسلم اتحادکیوں ممکن نہیں؟بیت المقدس کی آزادی اتحاد امت کے ساتھ مشروط ہے اورآج جو شخص بھی خواہ وہ بظاہر کتنا ہی ''بڑا اورمقدس ''کیوں نہ ہو اتحاد بین المسلمین کے خلاف ہے وہ صہیونیت کا دوست اورمسلمانوں کادشمن ہے۔ فہل من مدکر؟(عالم نقوی)

Wednesday, 20 February 2013

تکبر

تکبر
شاہنواز فاروقی
تکبر اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں تکبر کتنا ناپسندیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے اثبات سے شروع نہیں ہوتابلکہ تمام ممکنہ جھوٹے خدائوں کی نفی سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، بلکہ اس نے فرمایا کہ ’’نہیںہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے‘‘۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’نہیں ہے کوئی الٰہ‘‘ تو یہ پوری کائنات ازل سے ابد تک تمام جھوٹے خدائوں سے پاک ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی موجودگی کی گواہی پوری کائنات میں گونج بن کر پھیل جاتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تکبراتنا ناپسند کیوں ہے؟
اس سوال کے جواب کی پانچ بنیادیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ازلی و ابدی ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس سوال کے جواب کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ اس سوال کے جواب کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اس سوال کے جواب کی چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رازق ہے۔ اس سوال کے جواب کی پانچویں بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ چونکہ ان صفات کو اللہ کے سوا کسی سے وابستہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے صرف اللہ ہی بڑا ہے، اور تکبر کرنا صرف اسی کے لیے روا ہے۔
اس کائنات میں اگر تکبر روا ہوتا تو انبیاء و مرسلین کے لیے ہوتا، اس لیے کہ ان کے پاس ’’کتاب‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’ہدایت‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’معجزہ‘‘ تھا۔ بے شمار انسانوں نے ان کی ’’پیروی‘‘ کی تھی۔ لیکن انبیاء و مرسلین کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے زیادہ منکسرالمزاج دنیا میں کوئی اور نہیں ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سردار الانبیاء ہیں مگر انہوں نے فرمایا: کتاب میری نہیں ہے، اللہ کی ہے۔ ہدایت دینے والا بھی وہی ہے، معجزہ بھی اسی کی عطا ہے، پیروی کی بنیاد بھی اسی کی ذات ہے۔ اس سلسلے میں احتیاط کا عالم یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا ہر لفظ اور اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید کے بعد حدیثِ قدسی کا مقام ہے، اور حدیثِ قدسی کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی زبان نبی کی ہے مگر مفہوم اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہے۔ حدیثِ قدسی کے بعد عام حدیث کا معاملہ ہے، اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ نبیؐ کا قول ہے، مگر نبیؐ اپنے نفس کی خواہش سے کچھ نہیں کہتے۔ اس طرح آسمانی علم کی تمام بنیادیں غیر شخصی یا Non Personal ہوگئیں اور علم کی تمام اعلیٰ سطحیں خدا ہی سے منسوب ہوگئیں۔ اس منظرنامے میں اگر سردارالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکبر کی گنجائش نہیں نکلتی تو دوسرے انبیاء اور عام انسانوں کے لیے کہاں سے نکل سکتی ہے؟ چنانچہ اسی لیے تکبر کو اللہ تعالیٰ کی چادر کہا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو شخص یہ چادر کھینچے گا وہ راندۂ درگاہ ہوگا اور دنیا و آخرت میں ذلت و خواری اس کا مقدر بن کر رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تکبر اپنی اصل میں کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تکبر اپنی شخصیت کا ایسا انتہائی مبالغہ آمیز تصور ہے جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کائنات میں سب سے پہلا تکبر کرنے والا عزازیل تھا جسے اس کی عبادت و ریاضت نے جن ہونے کے باوجود فرشتوں کا ہمسر بنادیا تھا، لیکن عزازیل نے تکبر کیا اور اس کے تکبر نے اسے کائنات کی سب سے پست مخلوق بنادیا۔ لیکن عزازیل کے تکبر کی بنیاد کیا تھی؟ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے سجدہ کیا مگر عزازیل نے سجدے سے انکار کیا۔ اس سے انکار کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا: میں آگ سے بنا ہوں اور آدم کو مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ غور کیا جائے تو عزازیل نے ایک ایسی بات کہی جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہ تھی، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے ہی سے یہ نہیں بتا رکھا تھا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے۔ چنانچہ ابلیس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس کی کوئی علمی بنیاد نہ تھی۔ مطلب یہ کہ اس نے اپنی شخصیت کا ایک ایسا تصور قائم کیا جس کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ عزازیل یہ بات بھی بھول گیا کہ اصل چیز مٹی یا آگ نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ عزازیل اللہ کے حکم کے سامنے اپنی حقیر ’’رائے‘‘ لے کر کھڑا ہوگیا۔ یہ بھی ہولناک حد تک مبالغہ آمیز بات تھی۔ بھلا کہاں خدا کا حکم اور کہاں عزازیل کی ’’رائے‘‘! دنیا میں انسانوں کے تکبر کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر متکبر نے عزازیل کے طرزفکر اور طرزعمل کی پیروی کی۔
اس کی ایک مثال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودی ہیں۔ یہودیوں کو اپنی کتاب کے علم کی بنیاد پر یقینی طور پر معلوم ہوگیا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں، مگر وہ اس کے باوجود آپؐ پر ایمان نہ لائے۔ یہودیوں کی اصل تکلیف یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں سے کیوں ہیں، بنی اسرائیل میں سے کیوں نہیں ہیں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ محمدؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرے گا؟ کیا خدا رسول اکرمؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرنے کا پابند تھا؟ اگر نہیں تو بنی اسرائیل نے رسول اکرمؐ کے سلسلے میں جو طرزعمل اختیار کیا وہ بے بنیاد اور مبالغے کی ایک انتہائی صورت تھی۔
اس وقت برہمن ازم دنیا میں اجتماعی تکبر کی بدترین صورت ہے اور اس میں بھی مبالغے کی ایک ایسی صورت موجود ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مہا بھارت میں صاف لکھا ہے کہ ایک برہمن کے گھر میں شودر پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ برہمن اور شودر انسانوں کی روحانی یا نفسیاتی قسم ہیں، کوئی نسلی حقیقت نہیں۔ لیکن برہمنوں نے برہمنوں اور شودروں کو ایک نسلی حقیقت بناکر رکھ دیا ہے۔ ہٹلر نے جرمنی میں جرمن نسل پرستی کو فروغ دیا تو اس نے پہلے جرمنوں کے برتر نسل ہونے کا تصور پیش کیا، اور پھر اس تصور کو درست ثابت کرنے کے لیے سائنس تک کو Fiction بنا ڈالا۔ کہا گیا کہ جرمن نسل کے لوگوں کا دماغ بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ تمام انسانوں سے برتر ہیں۔ ان کا خون ملاوٹ سے پاک ہے اس لیے وہ تمام انسانوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں تکبر کی ایک اور بدترین صورت طاقت اور دولت کی بنیاد پر بروئے کار آئی ہے۔ نمرود نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ مجھ میں اور تمہارے خدا میں فرق ہی کیا ہے، وہ بھی انسانوں کو مارتا اور بچاتا ہے اور یہ کام میں بھی کرتا ہوں، تو اُس وقت اس کے پاس طاقت اور دولت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا… اور اگر کوئی شخص دنیا کی ساری طاقت اور ساری دولت پر قابض ہوجائے تو بھی وہ خدائی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے دعوے میں موجود مبالغے کا شعور تھا چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر نمرود کے مبالغے کے غبارے سے ہوا نکال دی کہ میرا خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ لیکن طاقت اور دولت میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ انسان کو متکبر بناتی ہیں؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ طاقت اور دولت انسان کے ’’محدود اختیار‘‘ میں ’’مطلق اختیار‘‘ کا رنگ پیدا کردیتی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ طاقت اور دولت ہر خوبی کا قائم مقام بن جاتی ہیں۔ یعنی طاقت ور اور دولت مند کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ صرف طاقتور اور دولت مند نہیں ہے بلکہ وہ نجیب بھی ہے، شریف بھی، صاحبِ علم بھی ہے اور ذہین بھی۔ ایسا نہ ہوتا تو اس کے پاس طاقت اور دولت کیوں ہوتی؟ مطلب یہ کہ طاقت اور دولت کے نشے میں شرافت‘ نجابت‘ علم اور ذہانت کا نشہ بھی شامل ہوجاتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ طاقت اور دولت کا شرافت‘ نجابت اور علم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن تکبر صرف طاقت اور دولت سے متعلق نہیں۔ طاقت اور دولت کا تکبر تو ظاہر ہوجاتا ہے مگر تقوے کا تکبر تو معلوم بھی نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو شخص اپنے نیک ہونے کے گمان میں مبتلا ہوجائے اُس کو خیال بھی نہیں آتا کہ وہ خود کو اچھا اور دوسروں کو برا سمجھتا ہے، اور دوسروں کو برا سمجھنے کا تعلق اس کے خود کو اچھا سمجھنے سے ہے۔ شیخ سعدیؒ کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ ایک رات تہجد کے لیے اٹھے تو ان کا بیٹا بھی تہجد کے لیے اٹھ گیا۔ شیخ سعدیؒ کے بیٹے نے دیکھا کہ وہ اور شیخ سعدی ؒ نمازکے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور باقی سب لوگ سو رہے ہیں۔ اس نے یہ دیکھا تو باپ سے کہا: یہ لوگ پڑے سورہے ہیں اور ہم نماز کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ سعدیؒ نے یہ سنا تو کہا: اگر تجھے یہی دیکھنا اور کہنا تھا تو اس سے اچھا تھا کہ تُو تہجد کے لیے اٹھا ہی نہ ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی نظر میں ’’متقی‘‘ ہوجاتے ہیں تو انہیں لاکھوں کروڑوں انسان ’’گناہ گار‘‘ نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان سے گناہ گاروں کی طرح ہی معاملات کرنے لگتے ہیں۔ یہی تکبر ہے۔ علم کا تکبر بھی کم ہولناک نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اکثر علم والوں کو ’’جاہل‘‘ لوگوں کے خلاف اپنا ردعمل فطری اور شعور پر مبنی نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسلام تقویٰ اور علم کو فضیلت کہتا ہے اور وہ پورے معاشرے کی تعمیر ان دو فضیلتوں پر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن فضیلتوں کا حامل ہونے اور متکبر ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔