Search This Blog

Wednesday, 21 August 2013

اردو کی حمدیہ شاعری میں جدید اسالیب کی دھنگ

اردو کی حمدیہ شاعری میں جدید اسالیب کی دھنگ

لغوی اعتبار سے حمد وہ نثر پارہ یا شعری مرقع ہوتا ہے جس میں خالقِ کائنات کی تعریف کی جائے۔ میرے خیال میں حمدیہ شاعری وہ شعری کاوش ہے جس میں تعلق مع اللہ ظاہر ہو اور رب کائنات کو اس کے ذاتی یا صفاتی ناموں سے اس طرح پکارا جائے کہ اس کی عظمت و جلالت، رحمت و رافت اور محبوبیت کا اظہار ہوتا ہو، اور کسی نہ کسی سطح پر بندے کا اپنے معبود سے تعلق خاطر ظاہر ہو۔ اللہ کی عظمت اس کی مخلوقات کے حوالے سے بیان ہو، انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں اور اس کی فتوحات کے توسط سے عظمتِ خالق کا تذکرہ آئے یا انسانی عجز و انکسار کا احساس اشعار میں ڈھل جائے۔ کائنات کی وسعتوں کے ذریعے تکبیر رب کا پہلو نکلتا ہو یا معرفتِ نفس کے راستے سے رب تک پہنچنے کی خواہش کا شعری مرقع بنتا ہو۔ اللہ کی بڑائی کے تصور کے ساتھ آفاق (کائنات) سے مکالمہ ہو یا انفس (اپنی ذات) سے، یا براہِ راست ربّ العالمین سے… ہر قسم کی شعری آواز (Poetic Voice) حمد کے ذیل میں آئے گی۔
جدید اسالیب کا ذکر نکلا ہے تو یہ بھی دیکھتے چلیں کہ ذاتِ قدیم کی تعریف میں اسلوب کی جدت کے کیا معانی ہوسکتے ہیں۔ سو عرض ہے کہ کائنات کی ہر شے تغیر پذیر ہے، کیوںکہ اس کا خالق ہر آن نئی شان سے جلوہ گر ہوتا ہے۔ کل یوم ھو فی شان (29) الرحمن۔ (اللہ ہر آن نئی شان میں ہے) یعنی اس کی بنائی ہوئی کائنات کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور ربّ تعالیٰ اسے ہر بار ایک نئی صورت دیتا ہے جو پچھلی صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔
ذاتِ باری تعالیٰ قدیم ہے اور کائنات حادث۔ انسان کی تخلیق کائنات کی تخلیق کے بہت بعد میں عمل میں آئی ہے، اس لیے حادث مخلوقات میں انسان جدید ترین مخلوق ہے۔ کائنات میں اس جدید مخلوق کو شعور، علم، احساس اور تخیل کی دولت سے مالامال کرکے اس کی فطرت میں تغیر پسندی ودیعت فرما دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے تخلقوا باخلاق اللہ (خود کو اللہ کے اخلاق سے آراستہ کریں) کی تعلیم بھی دے دی گئی۔ اخلاقِ عالیہ کا بنیادی تصور وہی ہے جو سورۃ رحمن کی درج بالا آیت میں مذکور ہوا، یعنی رب کائنات ہمہ وقت نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ پھر مومن کو ہدایت کی گئی کہ اس کے دو دن یکساں نہیں گزرنے چاہئیں۔
اسلام دین فطرت ہے، اس لیے انسان کو قوانین فطرت کے عین مطابق خود کو ڈھالنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تغیرپذیری بھی فطرت کا اٹل قانون ہے جس پر انسان کچھ تو بحالت ِمجبوری (بے اختیارانہ) عمل پیرا ہے اور کچھ شعوری طور پر خود کو اس قانون سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اسے شعوری طورپر ایسا کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
تکرار (Repetition) نہ تو کائنات کے خمیر میں رکھی گئی ہے اور نہ ہی انسان کے ضمیر میں یکسانیت (غیر متبدل ماحول) کو قبول کرنے کا داعیہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ یکسانیت سے اکتا کر انسان شعوری طور پر خود کو اور اپنے ماحول کو بدلتا رہتا ہے۔ تبدیلی کا یہ عمل انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثرانداز ہوتا ہے۔
ادب چوںکہ زندگی کا آئینہ ہوتا ہے اس لیے لسانی رویوں، لفظیات اور نثری و شعری تخلیقات میں تبدیلی عہد بہ عہد جاری رہتی ہے۔ جس طرح انسان کی انفرادی زندگی میں اس کی عمر کے ہر حصے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اسی طرح معاشرے کی اجتماعی زندگی کی عہد بہ عہد ضروریات مختلف ہوتی ہیں جن کا عکس کم و بیش ہر ادبی تخلیق پر پڑتا ہے۔ چناںچہ انفرادی اسلوب (Style) اگر فکر کے انفرادی زاویے، ترتیب الفاظ سے معانی پیدا کرنے کی مخصوص صلاحیت، تخلیق کے مواد یا مافیہ (Content) اور اس کی صورت، ہیئت یا پیکر (Form)، لفظ برتنے کے مخصوص ڈھنگ، بات کرنے کے خاص آہنگ یعنی انفرادی لہجہ (گو یہ شعر گوئی میں بڑی مشکل بات ہے۔ انفرادی لہجہ ہزاروں شعرا میں سے صرف دو چار ہی کو میسر آتا ہے)، زندگی کے عکس قبول کرنے کے ذاتی نقطہ نظر اور انفرادی افتاد طبع کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح کسی خاص عہد کے اجتماعی اسلوب میں زبان کے عصری استعمالات، سائنسی اکتشافات کے ادراک، فکری بلوغت کی عمومی سطح اور فکر غالب کی مخصوص رَو (روحِ عصر) نیز عمرانی حالات سے طبائع پر پڑنے والے اجتماعی اثرات سے پیدا ہونے والی حسیت کی وہ زیریں رو (Undercurrent) بھی شامل ہوتی ہے… جو کاریز کی طرح کسی عہد کی تمام تخلیقی تحریروں میں لفظوں کی ساخت (یا زمین) کے نیچے تیزی سے بہہ رہی ہوتی ہے۔گویا اجتماعی سطح پر ادب میں بننے والا اسلوب کسی خاص عہد کا مکمل اسلوبِ زندگی ہوتا ہے۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حمدِ باری تعالیٰ کے ضمن میں اردو شاعری کی دنیا میں کیسے کیسے رنگ ابھرے اور کیسی کیسی آوازیں سنائی دیں۔
اردو کی پہلی معلومہ تصنیف مثنوی ’’کدم رائو پدم رائو‘‘ فخرالدین نظامی نے سن 839ھ تا 860ھ مطابق 1421ء تا 1435ء کے درمیانی عرصے میں لکھی تھی۔ آج اس مثنوی کی زبان کے دو تین فی صد الفاظ ہی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ اس مثنوی کی ابتدا حمدیہ اشعار سے ہوئی ہے۔ اردو کی ابتدائی شکل دیکھنے کے لیے اس کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
گسائیں تمہیں ایک دنہ جگ ادار
برو برد نہ جگ تہیں دینہار
آقا مالک تُو ہی دونوں جہانوں (یا زمانوں) کا سہارا ہے۔ ٹھیک ٹھیک بحروبر، خشکی و تری دونوں جہانوں کا دینے والاہے۔
چنہار انگھے رچنہار توں
رہنبار بہ بچھیں رہنہار توں
بنانے والا آگے بنانے والا تُو، رہنے والا پیچھے رہنے والا تُو۔
اس شاعری کا اسلوب نہایت سادہ ہے جس میں صداقت بلا کم و کاست، بالکل غیر جذباتی انداز میں بیان کر دی گئی ہے۔لیکن الفاظ سمجھنے مشکل ہیں۔اب ذرا بعد کی مروج زبان سے اس کا موازنہ کیجیے!
سراج اورنگ آبادی (پیدائش 1124ھ وفات 1177ھ، 1714ء تا 1767ئ) تک آتے آتے زبان کس قدر صاف ہوگئی اور بیان میں کیسا لوچ پیدا ہوگیا، اس کا اندازہ ان کے حمدیہ اشعار سے ہوگا:
دیکھا ہے سراج آتش و خاک آب و ہوا کوں
سب میں صفتِ ذاتِ الٰہی نظر آئی
میں سمجھتا تھا کہ اس یار کا ہے نام و نشاں
یار بے نام و نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
سامنے ہے جس کوں حسن لایزال
دم بدم خوش حال ہیں ہر حال میں
تجلیاتِ الٰہی کا اوس میں پرتو ہے
ہوا ہے جب سیں دل آئینہ دار گلشنِ حسن
سراج کا کلام تین سو سال بعد کا ہے۔ ان کی لفظیات آج کے لسانی ڈھانچے سے مختلف ہونے کے باوجود غیر مانوس نہیں ہیں۔ سراج اورنگ آبادی کی حمدیہ شاعری میں تلاشِ حق کی روداد بھی ہے، احساسات کی بو قلمونی بھی اور قلبی واردات کا عکس بھی۔
رفتہ رفتہ تصوف کی آمیزش نے شاعری کا رخ مجاز سے حقیقت کی طرف موڑ دیا۔ حمدیہ شاعری علیحدہ صنفِ سخن کے طور پر تو بہت کم ہوئی لیکن محبوب ِحقیقی کا حسن، قدما کی غزل کے بیشتر اشعار میں جھلکنے لگا، مثلاً:
مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا
پردے کو تعین کے درِ دل سے اٹھا دے
کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا
(سوداؔ)
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منھ دکھا سکے
(خواجہ میر دردؔ)
یاں خار و خس کو بے ادبی سے نہ دیکھنا
ہاں عالمِ شہود ہے آئینہ ذات کا
(شیفتہؔ)
دل ہو کہ جان تجھ سے کیوں کر عزیز رکھیے
دل ہے سو چیز تیری جاں ہے سو مال تیرا
(حالیؔ)
محبوبِ حقیقی کے تصور میں شعر گوئی کی ایک مضبوط روایت قائم تو ہوئی لیکن اس شاعری میں بیشتر بیانیہ لہجہ اور سادہ اسلوب ہی سامنے آسکا۔ فلسفیانہ خیالات کی پیچیدہ بیانی اور مابعد الطبیعاتی مسائل کی گہرائی غالب کے قلم کی محتاج تھی۔ غالب نے اردو شاعری کو فکری بلندی اور فلسفیانہ عمق سے آشنا کیا اور وحدت الوجودی افکار کو شعری جمالیات سے اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ان کی شاعری زمان و مکان کی حدود سے بہت آگے کی چیز بن گئی۔ غالب روشِ عام پر چلنے والے شاعر نہ تھے، اس لیے انھوں نے خاص اہتمام سے حمدیہ شاعری نہیں کی بلکہ اپنے دیوان کی ابتداء ایسے شعر سے کی جو وحدت الوجودی فکر کی گہرائی، اسلوب کی جدت اور امیجری کی ایک نادر مثال ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
غالب کی غزلوں میں تصوف کا فکری نظام ان کی تخلیقی دانش کا اس طرح حصہ بن گیا تھا کہ انھوںنے جہاں محبوبِ حقیقی کی بات کی، خیال کی رفعت اور بیان کی ندرت نے شاعری کو شعری لطافت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ قلبی حرارت بھی عطا کردی۔غالب نے کہیں تو خالق کو اپنی ذات میں جھانک کر اپنے اور خالق کے موازنے کے توسط سے عرفان کی کوشش کی، کہیں شکوۂ نارسی کیا اور کہیں اپنی حیرت کے احساس سے نگارخانۂ تخلیق کو حیرت کدہ بنا دیا، مثلاً:
کس کی برقِ شوخیٔ رفتار کا دلدادہ ہے
ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے
گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
آئینہ داریِ یک دیدۂ حیراں مجھ سے
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں
غالب کے اس شاعرانہ رویّے اور اسلوب نے اردو شاعری کو اعتبار اور موضوعاتِ شاعری کو وقار عطا کیا۔ اس طرح حمدیہ مضامین کے حوالے سے بھی غالب اردو شاعری میں جدید رجحانات اور نادر طرزِ احساس کا اولین شاعر قرار پایا۔ غالب کے بعد اقبال کو اپنا پورا نظامِ تخلیق انہی خطوط پر استوار کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جن کی وجہ سے شعری پردے پر محبوبِ حقیقی کے صفاتی نقوش اُبھر رہے تھے۔ اقبال کی فکری اساس مابعدالطبیعاتی تفکر پر تو تھی لیکن انھوںنے وحدت الوجودی فلسفہ ٔ تصوف کے بر عکس ایک الگ نظام فکر کی بنا رکھی جس میں عبد و معبود کے اتحاد کا شائبہ تک نہ تھا۔ انھوںنے عبد کو الگ تشخص دیا اور خود کو (یا انسان کو) ایک پروانۂ ہوش مند بنا کر پیش کیا۔ جو وصل کو مرگِ آرزو سمجھ رہا تھا اور ہجر کی لذتِ طلب کو ایک نعمت ِغیرمترقبہ جانتا تھا۔
اقبال کی شاعری میں فرد کی انائے جزوی انائے کلی میں کہیں مدغم نہیں ہوئی، جب کہ انائے کلی کے قریب ہونے کی آرزو کو اس نے مختلف جہتوں سے دیکھا اور اپنے داخلی احساسات کو فکری اصابت کے ساتھ تخلیقی تجربے کا جزو بنایا۔ اقبال کی شاعری عبد و معبود کے درمیان مکالمہ بھی ہے اور عشقِ حقیقی کی کیفیتوں کا اظہار بھی۔ اس کی شاعری میں آفاق کی تسخیر کی فکری حرارت بھی ہے اور کائنات میں غورو خوض کے نتیجے میں حقیقت ِکبریٰ تک رسائی کا اشاریہ بھی۔ اقبال کو اس کے ہمہ وقتی مکالماتِ عبدو معبود نے جرأتِ رندانہ بھی عطا کی جس میں وہ نازِ عبودیت کے زیر اثر عبد ِبے باک نظر آتے ہیں۔ اس رویّے نے اقبال کی پوری شاعری کو ایک نوع کی حمدیہ شاعری کا پیکر دے دیا، کیوںکہ اس شاعری کے مطالعے سے تصورِ خالق ہی کے مختلف لونی عکس (Shades) ظاہر ہوتے ہیں۔
اقبال کی شاعری میں حمدیہ شاعری کی روح اس طرح جاری و ساری ہے کہ اس میں حمد کے تمام امکانات جلوہ ریز ہیں۔ شکوہ جواب شکوہ تو بیانیہ قسم کی نظمیں ہیں، لیکن ’’جگنو‘‘ ان کی ایسی نظم ہے جس میں مظاہرِ قدرت کو بڑی فنکارانہ چابکدستی اور ہنرمندی سے شعری جامہ پہنایا گیا ہے۔
ہر چیز کو جہاں میں قدرت نے دلبری دی
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی
رنگیں نوا بنایا مرغانِ بے زباں کو
گل کو زبان دے کر تعلیمِ خامشی دی
نظارۂ شفق کی خوبی زوال میں تھی
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی
رنگیں کیا سحر کو بانکی دلہن کی صورت
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی
اس قسم کی مثالوں کی اقبال کے تخلیقی نگار خانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ بالِ جبریل کی بیشتر غزلوں میں اقبال اپنے رب سے مکالمہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
تُو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی
خطا کس کی ہے یا ربّ لامکاں تیرا ہے یا میرا
محمدؐ بھی ترا جبریلؑ بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوالِ آدمِ خاکی زیاں ترا ہے یا میرا
تُو ہے محیطِ بے کراں میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خذف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر
نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر
یہ مشتِ خاک یہ صرصر یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم، تیری لذتِ ایجاد
قصور وار، غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کرسکے آباد
مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشتِ سادہ وہ تیرا جہانِ بے بنیاد
مقامِ شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
کیا عشق ایک زندگی مستعار کا
کیا عشق پائیدار سے نا پائیدار کا
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
میری بساط کیا ہے تب و تاب یک نفس
شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
کر پہلے مجھ کو زندگیٔ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا
کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب وہ درد جس کی کسک لازوال ہو
اقبال کے ہاں حمدیہ مضامین کا تنوع دیدنی ہے اور عبد کا اپنے معبود سے مکالمہ بالکل نئے انداز کا ہے۔ اقبال کی شاعری میں تصورِ الہ کی تفہیم فلسفیانہ سطح پر بھی ہوئی ہے اور ایمانیاتی نہج پر بھی، لیکن ان کی تفہیم میں بنیادی عنصرعشق کاہے جوسب تفہیمات پر غالب ہے۔
حمدیہ مضامین کا غزلوں میں منعکس ہونا اقبال کے بعد تقریباً معدوم ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تصوف کی روایت نے ادب پر جو کچھ اثرات مرتب کیے تھے زندگی کے بے رحم مادّی تقاضوں نے اس روایت ہی کا گلا گھونٹ دیا۔ اقبال کی سطح کا شاعر اقبال سے قبل اور ان کے بعد تلاش کرنا سعی لاحاصل ہے، اس لیے اس حقیقت کا اعتراف کرلینے میں عافیت ہے کہ اقبال کا لہجہ اور فکری نظام اقبال پر ہی ختم ہوگیا۔ اب کسی شاعر پر اقبال کی چھوٹ تو پڑسکتی ہے، اس کی کلّیت کا دوبارہ ظہور ممکن نہیں ہے۔
لیکن اقبال کے بعد شعری اسالیب میں جو تبدیلیاں آئیں اور شاعری میں، بالخصوص نظم گوئی میں جو فکری رو داخل ہوئی اُس کے اثرات آج کی حمدیہ شاعری پر پڑے، اور ان اثرات کی وجہ سے حمدیہ شاعری بھی شعری جمالیات سے قریب تر ہوگئی اور اس شاعری میں صرف مافیہ، مواد یا متن (Text) ہی لائقِ توجہ نہ رہا بلکہ اسلوبِ بیاں بھی مرکز ِنگاہ بننے لگا۔
پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد شعراء و ادبا کو اپنی شناخت کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا تو کچھ شعراء و ادباء تو پاکستانی ثقافت کی بنیادوں کی تلاش میں دور تک نکل گئے اور کچھ ان بنیادوں میں دہریت (Secularism) کے عناصر داخل کرنے میں مصروف ہوگئے۔ لیکن جن شعراء و ادبا نے تحریک پاکستان کے اصل مقاصد سے وابستگی کو اپنی بقا کے لیے ضروری جانا، انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا رخ اسلامی ادب و شعر کی آبیاری کی طرف موڑ دیا۔ نتیجتاً حمدونعت کی شاعری کا ایک واضح رجحان پیدا ہوگیا جس کے باعث نعتیہ شاعری کو ادبی سطح پر اس طرح ابھر نے کا موقع ملا کہ اس عہد کی شعری تحریکوں میں نعت گوئی کی تحریک ہی غالب تحریک ٹھیری۔ نعت کے مقابلے میں حمد کم لکھی گئی جس کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ انسان کی نظر خوگرِ پیکر محسوس ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ والا صفات ورالوریٰ ہے۔ حمد و نعت کی طرف شعراء کے عمومی میلان نے یہ اثر دکھایا کہ وہ شعراء بھی اس طرف متوجہ ہونے لگے جو شعر گوئی کی نزاکتوں اور ادبی ضرورتوں سے آگاہ تھے، چناں چہ ان شعراء نے جب حمدو نعت کے موضوعات کو اپنایا تو اپنا شاعرانہ وقار برقرار رکھا اور اس طرح شاعری کی ان اصناف پر بھی جدید شاعری کے وہ تمام اسالیب اثرانداز ہونے لگے جو عمومی شاعری کو اپنی گرفت میں لے چکے تھے۔
اسلوب (Style) موضوع کے انسلاک سے بھی بنتا ہے، صنفِ سخن کی ہیئت کے حوالے سے بھی وجود میں آتا ہے، اور زندگی پر پڑنے والے اجتماعی عمرانی اثرات کے تخلیقی انعکاس سے بھی اپنی نمود پاتا ہے۔ انفرادی اسلوب، ذاتی لہجہ اور مخصوص شاعرانہ طرزِ ادا پانے والے شعرا تو دنیا کی تمام زبانوں کی طرح اردو میں بھی گنے چنے ہیں۔ اس مضمون میں تو ایسے شاعروں میں سے صرف دو ہی مذکور ہوئے ہیں: غالب اور اقبال۔ لیکن شاعری کی اجتماعی فضا پر تخلیقی رجحانات، ادبی میلانات، عصری حسیت، لسانی رویوں، سائنسی شعور اور طرز احساس نے جو اثرات بھی مرتب کیے ہیں ان اثرات کا انعکاس حمدیہ شاعری پر بڑا واضح ہے۔
ایسے سوالات کے ذریعے وجودِ باری تعالیٰ ثابت کرنے کی کوشش کرنا جن کا جواب صرف اور صرف اثبات ہی میں دیا جاسکے، متکلمین کا وتیرہ رہا ہے۔ شعرا میں غالب نے استفہامیہ لہجہ اختیار کیا۔ ہمارے عہد میں اس سوال پر بھرپور طریقے سے سوچا گیا اور اس سوال کے مختلف رنگ حمدیہ شاعری میں بکھیرے گئے ہیں۔ حفیظ تائب نے مظاہرِ کائنات کی مادی صداقتوں کے حوالے سے اس سوال پر غور کیا اور صنعت ترصیع و تکرار لفظی کے جمالیاتی تاثر سے اپنی حمدیہ شاعری کو ایک خوبصورت تخلیقی پیکر میں ڈھالا ہے۔ واضح رہے کہ صنعتوں کو محض صنعت گری کے لیے برتنے والے شاعر عام طور سے لفظوں کے بڑھئی (Carpenter of words) تو بن جاتے ہیں، شاعر نہیں بن پاتے۔ لیکن حفیظ تائب نے بہ یک وقت دو شعری صنعتوں کو اپنی تخلیقی جینئس کا حصہ بناکر حمد کہی ہے جس سے شاعری میں دلکشی بھی پیدا ہوگئی ہے اور فلسفیانہ گہرائی بھی۔
کس کا نظام راہ نما ہے اُفق اُفق
کس کا دوام گونج رہا ہے اُفق اُفق
شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل
رنگِ جمال کس کا جما ہے اُفق اُفق
کس کے لیے نجوم بکف ہے روش روش
بابِ شہود کس کا کھلا ہے اُفق اُفق
کس کے لیے سرودِ صبا ہے چمن چمن
کس کے لیے نمودِ ضیاء ہے اُفق اُفق
مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے اُفق اُفق
کس کی طلب میں اہلِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے اُفق اُفق
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائبؔ نفس نفس
فرقت میں کس کی شعلہ نوا ہے اُفق اُفق
وجودِ باری تعالیٰ کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوال کی پر چھائیاں بڑے شاعرانہ اسلوب اور خلاقانہ عمل کے ساتھ عاصی کرنالی نے اپنی حمدیہ شاعری میںاُبھاری ہیں۔ فکری ترفع اور تخلیقی لطافتِ احساس کا مرقع دیکھنا ہو تو ان کی درج ذیل حمد ملاحظہ فرمائیے:
مشتِ گِل کو آدم زندہ بنا دیتا ہے کون
دل میں احساسات کی شمعیں جلا دیتا ہے کون
کون میرے ذہن میں کرتا ہے مضمونوں کی کاشت
میرے آگے شعر کے خرمن لگا دیتا ہے کون
ہاتھ کس کا شب کی زلفوں میں پروتا ہے نجوم
صبح کے رخسار پر سورج سجا دیتا ہے کون
کس کا دشتِ نقش گر کرتا ہے مٹی پر عمل
فرش پر خوش رنگ تصویریں بچھا دیتا ہے کون
کون رکھ دیتا ہے شب کو نطق بلبل میں غزل
صبح دم کلیوں میں چھپ کر مسکرا دیتا ہے کون
جب مسافر کے قدم رک جائیں ہمت ٹوٹ جائے
منزلِ امید پر آکر صدا دیتا ہے کون
کس کا پا کر حکم پھر جاتے ہیں طوفانوں کے رُخ
ڈوبتی کشتی کو ساحل پر لگا دیتا ہے کون
جب حجاب روبرو چھونے کو ہوتی ہے نظر
دیدۂ تحقیق پر پردے گرا دیتا ہے کون
جس کے دریا میں سفینوں کی طرح بہتے ہیں ہم
ہاں اسی نادیدہ قوت کو خدا کہتے ہیں ہم
ریاضؔ حسین چوہدری نے بھی اسی حوالے سے نقشِ فن ابھارے ہیں۔ ان کی کاوشِ فن میں اسلوب کی جدت، لفظیات کی نادرہ کاری اور اپنی داخلی کیفیات کے حوالے سے ربِّ کائنات کی حمدکرنے کا رجحان جھلکتا ہے:
لذتِ غم کو محیطِ داستاں کس نے کیا
دل کی ہر دھڑکن کو پابندِ فغاں کس نے کیا
کس نے مجھ کو بخش دی لوح و قلم کی مملکت
آب و گل کی کشمکش کا ترجماں کس نے کیا
کس کے اذنِ عام سے سرگوشیاں کرتا ہے دل
منحرف چہروں کا اس کو رازداں کس نے کیا
ان ہوائوں کو دیا کس نے تغیر کا نصاب
آبشاروں کو پہاڑوں سے رواں کس نے کیا
ہر کلی کے دامنِ صد چاک میں رکھ کر گلاب
ہر برہنہ شاخ کو رشکِ جناں کس نے کیا
نام کس کا ہے جزیروں کی سحر کے وردِ لب
پھر ہوا کو کشتیوں کا بادباں کس نے کیا
کس نے لکھی ہے درودوں سے کتابِ ارتقا
حور و غلماں کو بھی اپنا ہم زباں کس نے کیا
کس نے مدحت کے چراغوں کو شعاعِ نور دی
ایک شاعر کو حریفِ کہکشاں کس نے کیا
خوشبوئوں کو کس نے بخشا ہے تکلم کا ہنر
تتلیوں کو ملک گل کا حکمراں کس نے کیا
آخرِ شب کون سلجھاتا ہے میری اُلجھنیں
ماسوا اس کے علاجِ دردِ جاں کس نے کیا
کس نے توصیفِ پیمبر کا کیا منصب عطا
مجھ کو مداح شہؐ کون و مکاں کس نے کیا
تابش نعت نبیؐ کو کس نے بخشا ہے دوام
میرے فن کی چاندنی کو جاوداں کس نے کیا
ہر قدم پر منزلوں نے نقشِ پا چومے ریاضؔ
اپنی رحمت کو شریکِ کارواں کس نے کیا
تشکیک، لاادریت (Agnosticism) اور بے یقینی و لادینی کے زیراثر وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں مختلف النوع سوالات اُبھرتے رہے ہیں۔ متکلمین، فلاسفہ، علمائے دین اور اہلِ دانش و بینش اپنے اپنے انداز میں ان سوالات کے جوابات دیتے رہے ہیں۔ شاعر، ان سوالات پر غور کرتا ہے تو تخلیقی لطافت، فکری نظافت اور لہجے کی صباحت میں جواب دیتا ہے۔ شاعر کا جواب سازِ اندروں کے تار چھیڑنے کے لیے مضراب کا کام کرتا ہے۔ غالب نے کہا تھا:
محرم نہیں ہے تُو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
اور افتخار عارف بے یقینی کے گنبد میں اس طرح اذانِ یقین دیتے ہیں:
ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
جو خلعتِ انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
حجاب کو رمزِ نور کہتا ہے اور پر تو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
’’کوئی نہیں ہے‘‘
کہیں نہیں ہے
یہ خوش یقینوں کے، خوش گمانوں کے واہمے ہیں
جو ہر سوالی سے
بیعتِ اعتبار لیتے ہیں
اس کو اندر سے ماردیتے ہیں
کون ہے وہ جو لوحِ آبِ رواں پہ سورج کو ثبت کرتا ہے
اور بادل اچھالتا ہے
جو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اور بطنِ صدف میں
خورشید ڈھالتا ہے
وہ سنگ میں آگ، آگ میں رنگ، رنگ میں روشنی کے
امکان رکھنے والا
وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف، حرف میں زندگی کے سامان رکھنے والا
نہیں کوئی ہے
کہیں کوئی ہے
کوئی تو ہوگا! (مکالمہ)
(جاری ہے)
افتخار عارف نے بے یقینی کے گنبد میں دراڑیں ڈالیں تو صبیح رحمانی نے احساس کی قندیل روشن کرتے کرتے براہِ راست رب تعالیٰ کے وجود کی نشاندہی کردی اور یقین کی کیفیت کو حسیاتی سطح پر بیان کی روشنی سے ہم کنار کردیا:
فصیل پر ہیں ہوا کی، روشن چراغ جس کے
سیاہ راتوں میں جس نے روشن شجر کیے ہیں
رقم چٹانوں پہ راز ہائے ہنر کیے ہیں
وہ جس کی رحمت نے دشت کے دشت
سبزہ و گل سے بھر دیے ہیں
وہ جس کی مدحت میں حرف و آواز گنگنائیں
خموشیاں جس کے گیت گائیں
وہ جس کے جلوے اُفق اُفق ہیں
وہ جس کی کرنیں شفق شفق ہیں
ازل سے پہلے
ابد سے آگے
اسی کو ہر اختیار حاصل
اسی کو عزو وقار حاصل
وہ ایک مالک
اسی کا سب ہے
وہی تو رب ہے
کائنات کے مشاہدے کے ذریعے نگاہِ تصور سے ذاتِ واجب الوجود تک رسائی اور غیب الغیب حقیقتِ کبریٰ کا ادراک، شعرا کو وجدانی سطح پر ہوتا ہے اور وہ اس ادراک کو جب شعر کا جامہ پہناتے ہیں تو اپنے تجربے کو اس طرح بھی جزوِ ہنر بناتے ہیں جس طرح محسن احسان نے اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالا ہے:
سرِ افلاک ہے وہ اور تہہِ دریا وہ ہے
ذرۂ خاک سے ہر آن ہویدا وہ ہے
شبنمِ صبح میں وہ اور شفقِ شام میں وہ
کتنی شکلوں سے مری روح میں اترا وہ ہے
اس کا احساس دلاتی ہے سیاہی شب کی
نورِ خورشید میں ہر لمحہ دمکتا وہ ہے
پپڑیاں جمتی ہیں جب خشک زمیں کے لب پر
رحمتیں بن کے گھٹائوں سے برستا وہ ہے
سینۂ سنگ میں کرمک کو بھی دے رزق مدام
یہ حقیقت ہے کہ ہر ذات کا داتا وہ ہے
نوک ہر خار پہ جب رقص میں ہو اوس کی بوند
دل پہ یہ راز کھلے ارفع و اعلیٰ وہ ہے
آدمی نے کئی اصنام تراشے لیکن
آخرش سمجھا فقط لائقِ سجدہ وہ ہے
اک نظر دیکھ کہ اے بے خبر کاوشِ رنگ
پس ہر پردۂ گل انجمن آرا وہ ہے
نعمتیں اس کی میں جھٹلائوں تو جھٹلا نہ سکوں
میرا رازق، مرا مالک، مرا ملجا وہ ہے
اس حمدیہ کاوشِ ہنر میں کائناتی مشاہدہ، اپنی ذات کا روحانی سفر، تاریخی شعور اور احساسِ تشکر اس خوب صورتی سے شعری پیکر کا حصہ بنے ہیں کہ قاری کو عظمتِ خالق کا احساس بھی ہوتا ہے اور ایک قسم کی روحانی مسرت بھی میسر آتی ہے۔ متصوفانہ شاعری میں قرآن کریم کی آیت ’’ونحن اقرب الیہ من حبل الورید‘‘ (آیت 16 سورہ ق پ26) (اور ہم اس کی رگِ گردن سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہیں) کے داخلی تجربات کو بھی بیان کیا گیا ہے اور اس طرح کی باتیں کی گئی ہیں کہ میری جان بھی تُو ہے، میرا ایمان بھی تُو ہے اور میرا سب کچھ تُو ہی ہے۔ مقبول نقش نے اس تجربے کو شاعرانہ نقشِ جمیل میں اس طرح ڈھالا ہے کہ ان کا ذاتی احساس کائناتی حوالہ معلوم ہونے لگا ہے۔ مقبول نقش کے بیان میں شعریات کی باز آفرینی کا عمل بھی ہے اور جدید اسلوب کا نمونہ بھی!
حاصلِ ہر نفس بھی تُو، منزلِ ہر نظر بھی تُو
شوقِ تمام کے لیے زادِ رہِ سفر بھی تُو
فکر مری شکستہ پا، ذکر ترا کروں تو کیا
واقعہ بعد ازاں بھی تُو، قصۂ پیشتر بھی تُو
کیسا نشیب اور فراز، یہ تو ہے اک حجابِ راز
شاخِ بلند تر بھی تُو، حسرتِ بال و پر بھی تُو
حسنِ نظر کی بات ہے، ذوقِ سفر کی بات ہے
منزلِ دل نشیں بھی تُوُ، جلوۂ رہ گزر بھی تُو
پھیلے ہوئے ہیں میرے ہاتھ اور اسی یقیں کے ساتھ
فلسفۂ دعا بھی تُو، فلسفۂ اثر بھی تُو
ہنستا ہے مجھ پہ آج بھی یہ مرا دامنِ تہی
پھول بھی تُو ثمر بھی تُو، شاخ بھی تُو، شجر بھی تُو
اہلِ نظر کی این و آں، نقش کے واسطے کہاں
نقش کا رنگِ فن بھی تُو، نقش کا نقش گر بھی تُو
حمدِ باری تعالیٰ کے بہت سے پہلو تو صرف انسان کی اپنی ذات اور اس وسیع کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنے سے ہی نکل آتے ہیں۔ شاعر اپنے موضوع کے ساتھ جتنا مخلص اور شعری آہنگ سے جتنا مانوس ہوتا ہے، فکر کے موتی اور فن کے گوہر اسی قدر دامن قرطاس میں بھر لیتا ہے۔ شاعر اپنی سانسوں کی آمد و شد پر غور کرتا ہے تو اسے ہر دھڑکن اور سانسوں کے زیر وبم میں حمد کی آواز سنائی دیتی ہے:
اپنے رب کی حمد و ثناء میں
دھڑکن کا مدھم آہنگ ہو
یا سانسوں کے زیر وبم کا
اک بے نام تسلسل
کیا ہے؟
اگر یہ تسبیح و تہلیل نہیں ہے؟
(وظیفہ گردش لہو، سرشار صدیقی)
شاعر تو جب اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں پر بھی غور کرتا ہے تو اسے ہر اسم میں حمد مضمر نظر آتی ہے۔
خوبیوں کے تری شایاں کلمہ ہے نہ کلام
تیرے ہر اسم میں مضمر ہے مگر حمد تمام
(حشمت یوسفی)
منور بدایونی نے اپنی ذات کا سفر کیا تو یہ حقیقت کھلی کہ ان کا دل ہی چراغِ طور بن گیا ہے۔
منور میں نے جب دل پر نظر کی
منور اک چراغِ طور دیکھا
(منوربدایونی)
پہلے حمد ربّ العزت میں اس کے جلال کی ہیبت کا احساس جھلکتا تھا تو اب جدید شاعر رب کائنات کے جمالِ جہاں آراء کا متلاشی ہو کر اسے نیم رومانی لہجے میں یاد کرتا ہے اور حمدیہ شاعری کرتے ہوئے اپنی شخصیت کا بھرپور تداخل (Involvement) ظاہر کرتا ہے۔
اے خدا!
میری دعا ہے
کہ گجر دم کی پر اسرار فضائوں میں
ترانطق
کسی شاخِ برہنہ پہ اترتی ہوئی چڑیا کی طرح
میرے دل میں
کسی بے نام سے احساسِ مسرت سے
مسلسل چہکے!
(احمد ندیم قاسمی)
رب تعالیٰ سے اس طرح مخاطب ہونے میں مُلَّا کی خشیت کے بجائے صوفی کی بے باکی ظاہر ہوتی ہے، لیکن اس پکار میں داخلی کیفیات کا بھرپور عکس موجودہ ہے۔ آج کی شعری کاوشوں میں داخلیت کا عنصر اس لیے غالب ہے کہ خارجی ماحول ایک عذاب بن گیا ہے۔ آشوبِ امروز کا علاج قوموں اور افراد نے ہمیشہ داخلیت کی پناہ میں جاکر کیا ہے۔ شعرا کا تو وتیرہ ہی یہ رہا ہے کہ جہاں عیش و آرام کی زندگی میسر آئی انھوں نے ظاہر پرستی شروع کردی اور خارجی ماحول کی رنگینیوں کو شعر کا موضوع بنا لیا… لیکن جہاں زمانے نے آنکھیں پھیریں اور دن کڑے ہونے لگے، وہ داخلی دنیا میں کھو گئے۔ لکھنوی اور دہلوی دبستانوں کا فرق یہی تو ہے۔
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ آج پوری دنیا میں جو خوف و ہراس کا عذاب آیا ہوا ہے اور دانشِ حاضر نے جو قیامت برپا کررکھی ہے اس کا اثر ادب میں مختلف قسم کے رجحانات کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ حمدیہ شاعری میں جو تصورِالٰہ اُبھرا ہے اس میں بھی رومانویت کے عناصر صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان عناصر کو ملائیت قبول کرے یا نہ کرے، تصوف کی روایت سے آگاہ اور شعر کی داخلیت کے پرستار اس رجحان کو ضرور سراہیں گے۔ دیکھیے اسی طرز احساس نے حنیف اسعدی کو رب سے شاعرانہ مکالمہ (Poetic discourse) کرنے کا کیسا سلیقہ ارزانی کیا ہے:
روح میں، تن میں، رگ و پے میں اتاروں تجھ کو
اور پھر دل کی صدا بن کے پکاروں تجھ کو
تیرے مظہر ہیں مری ذات کے زنداں میں اسیر
خود کو پامال کروں اور ابھاروں تجھ کو
(حنیف اسعدی)

Tuesday, 13 August 2013

پردہ ڈالنے سے حقیقت مٹ نہیں سکتی

پردہ ڈالنے سے حقیقت مٹ نہیں سکتی

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے اور حقیقت پر کتنا ہی دبیز پردہ ڈال دیا جائے‘ وہ ایک نہ ایک دن ضرور سامنے آتی ہے، اور جن حقائق پر زیادہ دنوں تک پردہ پڑا رہتا ہے اور وہ جب سامنے آتے ہیں تو سنسنی پھیل جاتی ہے اور پھر اعتراف اور کچھ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ کچھ ایسا ہی حال جنگِ آزادی میں علماء کی خدمات‘ قربانیوں اور کردار کا رہا ہے۔ کہاں مسلمانوں کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا جاتا! علماء کا کردار تو بہت دور کی چیز ہے‘ وہ بھی اس نئی نسل کے ذریعے جس کی پرورش کہنے کو آزاد ہندوستان کی آزاد فضا میں ہوئی ہے‘ لیکن اس آزاد فضا پر مذہبی تعصب اس قدر حاوی رہا کہ نئی نسل نہ تو اس سے زیادہ دیکھ سکی جتنا اسے دکھایا گیا، نہ اس سے زیادہ پڑھ سکی جتنا اس کو پڑھایا گیا، اور نہ اس سے زیادہ سوچ سکی جتنا اسے ذہن نشین کرایا گیا۔ رہی بات آزاد ہندوستان کی حکومتوں کی، جن کی ذمے داری تھی کہ وہ جنگِ آزادی میں شروع سے آخر تک خدمات انجام دینے والی شخصیات اور ان کی قربانیوں کو دیانت داری کے ساتھ جمع کراتیں اور آزادی میں ان کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرکے شہریوں کو ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کرتیں تاکہ قربانی دینے والوں نے آزاد ہندوستان میں جس جذبے، اتحاد اور یک جہتی کا خواب دیکھا اور ’پھوٹ ڈالو حکومت کرو‘ کی انگریزوں کی پالیسی کو للکارا تھا‘ آزاد ہندوستان کی تعمیر ان ہی بنیادوں پر ہوتی تو آج کسی کو بھی حق تلفی، زیادتی، نا انصافی، عدم مساوات اور پسماندگی کی شکایت نہ ہوتی۔

جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں خصوصاً علماء کا کردار ایک ایسا باب ہے جو اب تک کھولا ہی نہیں گیا ہے۔ اس معاملے میں تاریخ کے صفحات پر بھی اور حکومت کی پالیسی میں بھی مکمل بے حسی طاری رہی۔ اب بھی مولانا محمودحسن دیوبندی کی قربانیوں کے اعتراف میں جو ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا اس سے اگرچہ امید کی کرن نظر آرہی ہے اور اس بند باب کے کھلنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی ہے کہ قربانیوں کا اعتراف یا اعزاز صرف ان ہی تک محدود نہ رہ جائے اور جدوجہدِ آزادی کی پیشی پر بھی موجودہ اقلیت کی اصطلاح غالب نہ ہوجائے۔ کیونکہ تجربہ یہی کہتا ہے اور ملک کی پالیسی بھی یہی کہتی ہے کہ اقلیتوں کو نہ تو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرو اور نہ انہیں زیادہ اوپر اٹھائو۔ آزاد ہندوستان سے پہلے بھی اور آزاد ہندوستان کے بعد بھی ملک کی تعمیر میں ان کی نمائندگی برائے نام ہونی چاہیے۔ اس لیے جو لوگ جنگ آزادی کی صرف ایک مسلم اور مذہبی شخصیت کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ کے اجرا سے خوش ہیں‘ انہیں زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ علماء کی خدمات کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرانے اور ملک کی تاریخ میں انہیں ایک اہم مقام دلانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، تب ہی مسلمانوں کے بارے میں بھی سوچ بدلے گی اور سیدھے سادے اور مذہبی وضع قطع میں نظر آنے والے علماء کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی دور ہوسکتی ہے کہ وہ صرف مذہبی کام ہی کرسکتے ہیں، ملک میں سیاسی انقلاب نہیں لاسکتے۔ آج کل ویسے بھی پوری دنیا میں یہ ماحول بنا ہوا ہے کہ اسلام پسندوں کو انقلاب لانے میں مہارت حاصل ہے اور وہ جس طرح ذہن سازی کرسکتے ہیں اس سے فکری‘ سیاسی‘ سماجی‘ تعلیمی‘ معاشی غرض یہ کہ ہر طرح کا انقلاب آسکتا ہے‘ پھر ہندوستانی علماء نے جنگِ آزادی میں اس ہنر کا استعمال کیوں نہیں کیا ہوگا! اور آگے بھی انہیں موقع ملا تو وہ ملک و قوم کے مفاد میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے مختلف مسائل میں ملک و قوم خصوصاً مسلمانوں کی رہنمائی کی اور اب بھی کررہے ہیں۔ ویسے بھی دنیا میں حقیقی اور ابدی انقلاب صرف اسلام ہی لاسکا، تو یہ کام اس کے سچے پیروکاروں سے زیادہ اور کون اچھی طرح کرسکتا ہے!

جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں خصوصاً علماء کا کردار نہ تو کسی سے مخفی ہے اور نہ ہی آزادی کی تاریخ ان کی خدمات کے تذکرے کے بغیر پوری ہوسکتی ہے۔ مذہبی تعصب تو آزادی سے پہلے بھی تھا‘ چونکہ اُس وقت آزادی کے متوالوں کی منزل صرف برطانوی حکومت کا خاتمہ تھا اس لیے مٹھی بھر لوگوں کا یہ تعصب اور اوپر سے انگریزوں کی ریشہ دوانیاں سماج کو تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں‘ لیکن آزادی کے فوراً بعد بلکہ آزادی کے حصول کے آخری ایام میں ہی جب انگریزوں کا ہندوستان سے جانا طے ہوگیا تھا۔
مذہبی تعصب نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا اور اس کے شکار مسلمان ہوئے۔ اسی وجہ سے ملک تقسیم ہوا‘ پھر آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت‘ مذہب اور ہر طرح کی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی زبان اردو پر حملہ ہوا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پہلی سرکاری زبان بنانے کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں ہندی اور اردو کو برابر ووٹ ملنے کے باوجود خصوصی اختیار کے ذریعے صرف اردو کو پیچھے نہیں کیا گیا تھا بلکہ مسلمانوں کو حاشیے پر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اگرچہ اسے ایک اتفاقی واقعہ کہہ کر نظرانداز کردیا گیا‘ لیکن بعد کے واقعات سے ظاہر ہوگیا کہ وہ ایک گہری سازش تھی۔ اردو اُس وقت ہندی کی مدمقابل تھی لیکن آج تعصب اور نظرانداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اپنی بقا کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ اُس وقت تک ہندوستان میں مسلمانوں کی پوری تاریخ یا کلچر فارسی اور ہندی میں محفوظ تھا۔ انہیں جب حاشیے پر ڈال دیا گیا تو مسلمانوں کی تاریخ اور کلچر بھی حاشیے پر چلے گئے۔ اگر آزادی کے بعد سرکاری سطح پر اردو کو وہ مقام حاصل رہتا جو ہندی کو اب تک حاصل رہا ہے تو جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی خدمات فراموش نہ کی جاتیں۔ خصوصاً علماء کی قربانیاں تو صرف اردو میں ہی محفوظ ہیں۔ اگر محبانِ اردو ان کو محفوظ نہ رکھتے اور انہیں لکھتے پڑھتے نہیں تو آج شیخ الہند کی خدمات کا اعتراف بھی حکومت نہ کرتی۔ اب بھی اس بات کا اندیشہ ہے کہ تحریک آزادی کے مسلم لیڈروں کی فہرست میں ایک نام کا اضافہ کرکے حکومت پھر سے معنی خیز خاموشی اختیار کرلے، اور جب حکومت خاموشی اختیار کرلے گی تو نئی نسل بھی مسلمانوں خصوصاً علماء کی خدمات سے نابلد رہے گی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس باب کو اسکول‘ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر شاملِ نصاب کیا جائے تاکہ کوئی اسے نظرانداز بھی کرنا چاہے تو نہ کرسکے۔

آزادی کے بعد صرف مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی کو ہی نظرانداز نہیں کیا گیا بلکہ مذہبی تعصب نے ہر میدان میں مسلمانوں کو حاشیے پر ڈالنے‘ حقوق سے محروم کرنے اور انہیں پسماندہ بنانے کا کام کیا۔ آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں‘ وہ اسی متعصبانہ سوچ‘ نظریے اور عمل کی دَین ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح آزادی کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار برائے نام تھا‘ اسی طرح آج یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار ہی برائے نام نہیں ہے بلکہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حیثیت بھی ثانوی درجے کی ہے۔ کچھ تو اس میں ہماری غلطی ہے کہ ہم نے علماء کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اُن دانشوروں کو اہمیت دی جنہوں نے مسلمانوں کی پہچان بنانے کے بجائے اپنی پہچان بنانے کا کام کیا اور اب بھی کررہے ہیں، تو علماء کے بارے میں حکومت سے حسنِ ظن کی توقع کیسے کرسکتے ہیں! علماء کی خدمات کا اعتراف اور انہیں شاملِ نصاب کرنا ہی جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو اہم مقام دلاسکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اسی پہلو سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ آزادی کے66برس بعد مسلمانوں کی خدمات کا اعتراف تو کرلیا گیا لیکن یہ اعتراف بھی ایک رسم بن کر پھر نظروں سے اوجھل ہوجائے گا

Monday, 5 August 2013

الوداع الوداع ماہ رمضان

الوداع الوداع ماہ رمضان

الوداع الوداع ماہ رمضان 

قلب ای عاشق ہے اب پرہ پرہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

کلفت ای حجرت او فرقت نے مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرے آنے سے دل خوش ہوا تھا
اور زوق ای عبادت بڑا تھا

آہ ! اب دل پہ ہے غم کا غلبہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

مسجدوں میں بہار آ گئی تھی
جوق دور جوق آتے نمازی

ہو گیا کم نمازوں کا جذبہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرے دیوانے اب رو رہے ہیں
مضطرب سب کے سب ہو رہے ہیں

ہے اب وقت ای رخصت ہے آیا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرا غم سب کو تڑپا رہا ہے
آتش شوق بھڑکا رہا ہے

پھٹ رہا ہے تیرے غم میں سینہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

بزم افطار سجتی تھی کیسی !
خوب سحری کی رونق بھی ہوتی

سب سامان ہو گیا سونا سونا
الوداع الوداع ماہ رمضان

یاد رمضان کی تڑپا رہی ہے
آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ہے

کہہ رہا ہے یہ ہر ایک قطرہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

دل کے ٹکڑے ہوئے جا رہے ہیں
تیرے عاشق مرے جا رہے ہیں

رو رو کہتا ہے ہر اک بیچارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

تم پے لاکھوں سلام ماہ رمضان
تم پے لاکھوں سلام ماہ غفراں

جاؤ حافظ خدا اب تمھارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

نیکیاں کچھ نا ہم کر سکے ہیں
آہ ! اسیاں میں ہی دن کٹے ہیں

ہے ! غفلت میں تجھ کو گزارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

واسطہ تجھ کو میٹھے نبی کا
حشر میں ہم کو مت بھول جانا

روز ای مہشر ہمیں بخشوانا
الوداع الوداع ماہ رمضان

جب گزر جائیں گے ماہ گیارہ
تیری آمد کا پھر شور ہو گا

کیا میری زندگی کا بھروسہ
الوداع الوداع ماہ رمضان 

Friday, 2 August 2013

آخری عشرہ میں شب بیداری


قدس۔۔ دشمن کون؟

 قدس۔۔  دشمن کون؟
عالم نقوی

مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور بیت المقدس کو صہیونی قبضے سے چھڑانے کے لئے امت مسلمہ اورمسلم ممالک کیا کر رہے ہیں ؟'کچھ نہیں 'کے مایوسانہ فقرے کے سوا اس سوال کے جواب میں اور کیا کہا جاسکتاہے ؟مسلم ممالک کی کوئی متحدہ کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔حماس اورحزب اللہ کے سوا'امت کا کوئی دوسرا گروہ ایسا نہیں جو اس وقت بھی آزادی فلسطین کی راہ میں آزادانہ طور پر سرگرم ہو۔ مرحوم یاسر عرفات کی ''الفتح'' تواسی روز مردہ ہو گئی تھی جب اس نے غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے پردستخط کردئیے تھے۔کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو امن معاہدوں نے انتفاضہ کے خاتمے کے صہیونی منصوبے پرعمل درآمد کو ممکن بنانے کے سوا اورکچھ نہیں کیا۔ یاسر عرفات میں چونکہ حمیت وغیرت کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انہیں پہلے پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر راملہ میں خانہ قید کردیاگیا اورپھر موقع ملتے ہی ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیاگیا۔فتح کی موجودہ قیادت سے صہیونیت کو کوئی خطرہ نہیں۔ان حالات میں فلسطین کی سپریم اسلامک کونسل کے چیرمین اورمسجد اقصیٰ کے خطیب وامام شیخ عکرمہ صبری کا شکوہ حق بجانب ہے کہ امت مسلمہ اور بالخصوص عرب اورمسلم ممالک نے فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ شیخ عکرمہ صبری نے گذشتہ ہفتے الجزیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے القدس کی حفاظت کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا اوربالکل صحیح کہا کہ القدس شہر اسیر مغموم اور یتیم ہو کر رہ گیا ہے اور پورا عالم اسلام اس سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر کئے ہوئے ہے۔ رہا امریکہ توایک طرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نام نہاداسرائیل مخالف بیان دیتا ہے اوردوسری طرف وہ یروشلم (بیت المقدس شہر)میں فلسطینیوں سے جبراً خالی کرائی گئی زمینوں پرغاصبانہ یہودی آبادکاری کو قانونی حیثیت دینے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوںنے غلط نہیںکہا کہ امریکہ کا نام نہاد نیا امن منصوبہ فی الواقع مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالے رکھنے کی ایک سازش ہے۔ رہے مذاکرات توغاصب اسرائیل سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ محض وقت گزاری کے لئے مذاکرات کی رٹ لگاتا ہے۔ فلسطینی عربوں کے مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اس کی طرف سے کبھی دکھائی نہیں دی۔مسجد اقصیٰ کی بازیابی اوربیت المقدس کی آزادی صرف اس لیے ممکن نہیں ہو پارہی ہے کہ عرب اورمسلم ممالک متحد نہیں ہیں۔ صہیونی مقتدرہ نہیں چاہتا کہ عرب کبھی متحد ہوں لہٰذا اگر ایک طرف عربی وعجمی عصبیت کو ہوا دی جاتی رہتی ہے تو دوسری طرف مذہبی ومسلکی عصبیت کا استحصال بہت بڑے پیمانے پرجاری رہتا ہے۔ صہیونی مقتدرہ کے سب سے بڑے عمیل اسرائیل اورامریکہ آج عرب ممالک ،ایران ،افغانستان، عراق ،پاکستان اورہندوستان وغیرہ میںجوکام سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ کر رہے ہیں وہ یہی کہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر متحد نہ ہونے دیں۔ہم پچھلے کئی برسوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوںکے داخلی اورمسلکی اختلافات کو اچھالنے کی کوششوںمیں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔سنی شیعہ اختلاف ہی کیا کم تھا کہ اب مْقلّد غیر مْقلد حنفی ،شافعی اور بریلوی ،دیوبندی اختلافات کو بھی نئے سرے سے اٹھایا اوربڑھایا جا رہا ہے اور خطہ عرب میں اس پروپیگنڈے کو ہوادی جا رہی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل سے زیادہ عرب ممالک کے لئے خطرناک ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صہیونی پروپیگنڈہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خالص ابلیسی ہے۔عربوں کو ایران کے خلاف بھڑکانا اورمسلمانوں کے داخلی اختلافات کو ہوادینا ایک ہی سازش کا حصہ ہیں۔ جس کے پیچھے صہیونیت کا یہ خوف ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی اس کی موت ہے۔دنیا کے ڈیڑھ پونے دوارب مسلمان اور پچاس پچپن مسلم ممالک آج متحد ہو کر کلمة اللہ ھ العلیائ کے پرچم کے نیچے متحد ہو جائیں تودوسرا لمحہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس (یروشلم ) کی آزادی پرمنتج ہوگا۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ جو لوگ مسلمانوںکے باہمی انتشار کو ہوا دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شیعہ سنی،بریلوی ،دیوبندی مقلد غیر مقلداتحاد ممکن نہیں وہی وطن عزیز میں برادران وطن کی اکثریت سے اتحاد کے پرچم اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اگر اس ملک میںہندومسلم اتحادممکن ہے اورمغرب میں یہودی،مسلم اورعیسائی مسلم اتحاد ممکن ہے توآخر جنوبی وسطی اورمغربی ایشیائ میں مسلم۔مسلم اتحادکیوں ممکن نہیں؟بیت المقدس کی آزادی اتحاد امت کے ساتھ مشروط ہے اورآج جو شخص بھی خواہ وہ بظاہر کتنا ہی ''بڑا اورمقدس ''کیوں نہ ہو اتحاد بین المسلمین کے خلاف ہے وہ صہیونیت کا دوست اورمسلمانوں کادشمن ہے۔ فہل من مدکر؟(عالم نقوی)

مسجد اقصیٰ ۔۔ قبلہء اول بھی اور زینہء معراج بھی

مسجد اقصیٰ ۔۔  قبلہء اول بھی اور زینہء معراج بھی 
علامہ یوسف القرضاوی

             اسراء سے مراد وہ سفر ہے کہ جس میں رب تعلی نبی محمدۖ کو مکہ سے بیت المقدس لے گیا ۔گویا عظمتوں کا ایسا سفر جس کا آغاز کعبتہ اللہ والے شہر سے ہوا ۔پڑائو مسجد اقصیٰ کے شہر بیت المقدس میں اور منزل آسمانوں کی رفعتوں پر اللہ سبحانہ و تعلی سے ملاقات تھی ۔قرآن حکیم میں بھی اس واقعے کو ایک غیر معمولی حوالے کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔
ترجمہ: '' پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے ۔تاکہ  اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ۔حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ۔''(سورة الاسراء : آیت نمبر ١) اللہ سبحانہ تعلی نے مسجد اقصیٰ اور اس کے قرب و جوار کو با برکت بنایا اور اس کے با برکت ہونے کا تذکرہ نبیۖ کی مکہ سے مدینہ ہجرت اور مسجد نبوی کی  تعمیر سے بھی قبل کیا گیا مسجد اقصیٰ کی اہمیت کا اندازہ  اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب مسلمانوں پر نماز فرض ہوئی تو اس وقت قبلہ مسجد اقصیٰ تھی اور لازم تھا کہ اسلام کے پیرو کار دوران نماز اس کی طرف رخ کریں ۔مکہ میں مسلمان نماز کی فرضیت کے بعد تین سال تک مسجد اقصیٰ کی طرف ہی رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے اور ہجرت مدینہ کے بعد بھی 16مہینے تک وہ مسجد اقصیٰ کی طرف ہی رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعلی نے تبدیلی ء قبلہ کا حکم دے دیا ۔
               اس سے ثابت ہوتا ہے کے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے بعد بیت المقدس کو مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کی حیثیت حاصل ہے ۔اللہ سبحانہ چاہتے تھے کہ مسجد اقصیٰ کا تقدس اور تکریم ۔مسلمانوں کے دلوں میں بٹھا دیں تاکہ مسلمان اس سے کبھی بھی الگ تھلگ نہ ہوں ۔مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو اتنا ہی متبرک اور با برکت سمجھیں جتنا کہ وہ کعبتہ اللہ اور روضہ رسول کو  سمجھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان طاقتور تھے تو ان کی بھر پور کوشش تھی کہ مسجد اقصیٰ کو اپنے اقتدار اور اپنی مملکت میں شامل رکھیں ۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے  کہ آج بھی مسلمان اس چیز کو اپنے سامنے سے محونہ ہونے دیں کہ ان کی تاریخ میں بیت المقدس کو کیا مقام و مرتبہ حاصل رہا ہے ۔نیز یہ کہ ان کے مذہب میں اور ان کی زندگی میں اس کا کیا مقام و مرتبہ اور اہمیت ہے ۔
اللہ تبارک و تعلیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم سفر معراج اور '' الاسراء '' کی یاد منائیں ۔تو اس کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کی عظمت و بزرگی کو بھی اپنے ذہنوں اور قلوب میں تازہ کریں ۔مسجد اقصیٰ کو جن بد ترین حالات کا سامنا ہے ۔ہمیں اس سے بھی با خبر رہنا چاہئے ۔مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی حفاظت کے لئے بطور مسلمان ہمیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا چاہئے ۔بر اور ان خواہران اسلام : یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس سے ہم کسی بھی وقت صرف نظر نہیں کر سکتے ۔یہودیوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ ( فلسطین کی سر زمین پر ) ایک ریاست قائم کریں گے اور وہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب ہو گئے ۔اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اس امید سے دستبردار نہ ہونا چاہئے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ جب مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس ہمارے زیر انتظام آئیں گے ۔ہمیں اپنا حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے ۔چاہے حالات اس کے حق میں نظر نہ آتے ہوں ۔ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تبارک و تعلی ہمارے ساتھ ہے اور وہ اسلام کو غلبہ عطا کرے گا ۔کیونکہ اللہ سبحانہ و تعلی ہمیشہ حق پر یقین رکھنے والوں کی مدد کرتا ہے ۔امام احمد  اور طبرانی  نے ابو امامہ الباہلی ( اللہ ان سے راضی ہو ) کی یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا '' میری  امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اسے اپنے دشمن پر ہمیشہ بر تری حاصل رہے گی ۔ان کے دشمن کا کوئی نقصان نہ کر سکیں گے ۔ان کو صرف ایک نقصان پہنچ سکتا ہے ۔اور وہ ( جسمانی ) ہے اور وہ اس حالات میں قیامت کے دن تک رہیں گے ۔جب آپ  سے سوال کیا گیا کہ وہ اللہ کے بندے کہاں ہوں گے ۔اس کا جواب دیا گیا کہ وہ بیت المقدس اور اس کے قرب و جوار میں ہوں گے ۔اسراء اور معراج سے جو دوسرا سب سے اہم سبق ہمیں ملتا ہے وہ نماز کے بارے میں ہے ۔یہ بات معروف ہے کہ نماز اس موقع پر فرض ہوئی تھی ۔نماز کو یہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ اللہ تعلی نے اس کو آسمانوں میں فرض کیا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو رات کے سفر پر بلایا اور آپ کو آسمانوں پر طلب کیا اور اس موقع پر نماز کے دائمی فریضہ کی ادائیگی کے بارے میں مطلع کیا گیا ۔ یاد رہنا چاہئے کہ دیگر تمام احکامات زمین پر نازل ہوئے ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نماز کی کس قدر اہمیت ہے ۔نماز ۔انسان کی آسمان پر معراج سے مماثل ہے یہ مسلمان کی روحانی معراج کی علامت ہے ۔نماز ایک ایسا تحفہ ہے جو آسمانوں سے نبی علیہ السلام لائے تھے تاکہ مسلمان با آسانی اپنے رب کی عبادت کر سکیں ۔نماز کا مسجد اقصی سے اہم تعلق ہے مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے ۔یہ بات درست ہے کہ معراج کا واقعہ نبوت کے دسویں سال میں روپذیر ہوا تا ہم اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا قبلہ تین برس تک مسجد اقصیٰ ہی رہی ۔اس کے بعد ہجرت مدینہ ہوئی اور ہجرت مدینہ کے سولہ ماہ بعد تک قبلہ ء اول یعنی مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی رہی ۔پھر اللہ تعالیٰ نے تبدیلی ء قبلہ کا حکم دیا ۔یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔لو ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ۔جسے تم پسند کرتے ہو ۔مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔اب جہاں کہیں تم ہو اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ۔( البقرہ آیت : ٤٤١) جب قبلہ تبدیل ہو گیا تو یہودیوں نے اس پر اعتراض دائر کر نے شروع کر دیئے ۔سورة البقرہ میں آتا ہے : 
'' نادان لوگ ضرور کہیں گے : انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ۔اس سے یکا یک پھر گئے ؟ اے نبی  ان سے کہو : '' مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں ۔اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ۔اور اسی طرح تو ہم تمہیں ایک '' امت وسط '' بنایا ہیتا کہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو ۔( البقرہ آیت :١٤٢) 
          مختصرآپ کہہ سکتے ہیں کہ نماز ایک عمل ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنے رب تک پہنچ سکتا ہے ( جس طرح نبی علیہ السلام اپنے وجود سمیت تشریف لے گئے تھے )۔(یو این این)

مسجد الا قصیٰ کے تعلق سے ایک غلط فہمی

مسجد الا قصیٰ  کے  تعلق سے ایک غلط فہمی 
وقار علی روغا نی

 گذشتہ دنوں پو رے عالم اسلام میں شبِ معراج مذہبی جو ش و جذبے کے ساتھ منا یا گیا ۔ واقعہ معراج اگر ایک جا نب حضور نبی کریم ۖ کی ذات اقدس کی بزر گی اور محبو ب خدا ہو نے پر مہر تصدیق ثبت کر تی ہے تو دوسری جا نب یہ انسا نیت کی معراج بھی ہے کیو نکہ ایک انسا ن ہی کو اللہ تعا لیٰ نے اپنی جناب میں رفعتوں سے سر فراز کیا ۔
اس دن کی منا سبت سے ملک کے تمام اخبارات نے خصو صی ایڈیشنز شائع کئے اور اس واقعہ کی منا سبت سے قابل قدر مضا مین منظر عام پر آئے۔ایک غلط فہمی ،جس کی جا نب میں اشا رہ کر نا ضروری سمجھتا ہوں،یہ ہے کہ اس دن اور دیگر مواقع پر جو تصویر اخبارات کی زینت بنتی ہیں اور جسے عام طور مسجد الا قصیٰ سمجھا جا تا ہے وہ صحیح نہیں۔ اس تصویر میں سنہری گنبد کی ایک ہشت پہلو عمارت دکھا جا تی ہے اور عام لو گ اسے ہی مسجد الا قصیٰ سمجھتے ہیں جو کہ صحیح نہیں کیونکہ یہ تصویر گنبد الصخرا کی ہے جسے انگریزی میں Dome of the Roch کہا جا تا ہے ۔آئیے!میں آپ کے ساتھ یر و شلم ،بیت المقدس ،مسجد القصیٰ اور گنبد الصخرا سے متعلق مختصراً کچھ معلو ما ت شیئر کر لوں ۔ یر و شلم شہر دنیا کا قدیم شہر ہے جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس کے تین اطراف میںفلسطینی اتھا رٹی کا علا قہ ''مغر بی کنا رہ ''واقع ہے ۔یر و شلم دنیا کا واحد شہر ہے جو تینوں آسما نی اور وحدا نی مذا ہب اسلام ،عیسائیت اور یہو دیت کے ما ننے والوں کے لئے مقد س اور قابل احترام ہے کیو نکہ اس میں تینوں مذاہب  ما ننے والوں کے مقدس مقامات مو جو د ہیں۔
حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد مصر سے واپسی پر بنی اسرائیل نے فلسطین میںمضبو ط حکو مت اور ریاست قائم کی ۔حضرت دائود ۖ اور حضرت سلیمانۖ کا دور حکو مت بنی اسرائیل کا ممتاز ترین اور سنہری دور تھا ۔اس علا قے پر بنی اسرائیل کی حکو مت تقریباً 120بر س تک رہی ۔حضرت سلیمان اپنے دور  حکو مت میں یہاں''ہیکل سلیما نی ''تعمیر کی اور یہی ہیکل بنی اسرائیل کا مقد س ترین مقام ہے ۔یہ در اصل ایک عما رتی کمپلیکس تھا جس میں حضرت سلیمان کا سیکریٹریٹ بھی واقع تھا ۔ یہ ہیکل جس خطے پربنا یا گیا تھا اسے
 بیت المقد س کہا جا تا ہے ۔اس کی لمبا ئی 460 گز اور چو ڑا ئی 330گز ہے ۔ 
300قبل مسیح میں جب با بل کے با دشاہ بنو کد نصر نے یر وشلم پر حملہ کرکے اس کو تباہ کیا تو اس کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا ۔بنو کد نصر نے یرو شلم پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کی حکو مت ختم کی اور انہیں غلام بنا لیا ۔ 
پچاس بر س بعد ایران کے سائر س نے جب یہ علا قہ فتح کیا تو یہو دیوں کو ہیکل سلیما نی دو بارہ تعمیر کر نے کی اجازت ملی اور اسے دو بارہ تعمیرکر لیا گیا ۔تا ہم 70ء میں رو میوں نے حملہ کر کے ہیکل سمیت پو رے یر و شلم کو ایک مر تبہ پھر تبا ہ کر دیا اور یہو دیوں کا قتل عام کیا ۔جاس تبا ہی میں ہیکل سلیما نی کی شر قی دیوار ایک حصہ سلامت رہ گیا جسے دیوار گر یہ  (Willing Wall)کے نام سے جا نا جا تا ہے اور اب یہ یہو د کا مقد س تر ین مقام اور قبلہ ہے ۔جہاں وہ آکر اپنے سنہری دور کو یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں اور عبادت کر تے ہیں۔
300بر س بعد638ء میں سید نا عمر  کے دور خلافت میںمسلما نوں نے یرو شلم فتح کیا اور سید نا عمر  خو د شہر کی چا بیاں لینے کے لئے یر و شلم تشریف لے گئے ۔ اس وقت ہیکل سلیما نی کی پو ری عمارت کھنڈر بنا ہوا تھا اور گناد سے اٹھا پڑا تھا ۔حضرت عمر جب وہاں تشریف لے گئے تو خو د اپنے ہاتھوں سے اس احا طے کی صفا ئی شروع کی اور اس طرح وہاںسے سا را گندا ٹھوا کر اس کو صاف کروا دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اس احا طے کے جنو بی حصے میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مخصو ص کر دی ۔ یہی آج کا مسجد الا قصیٰ ہے۔مسجد کی کل لمبا ئی 220گز اور چو ڑا ئی 103گز ہے ۔غالباًاسی مقام پر حضرت سلیما ن  کے دور حکو مت میں بھی مسجد آبا د تھی ۔بعد ازاں یہ علا قہ ساڑھے چار سو بر س تک مسلما نوں کے قبضے میں رہا ۔ یہ تو ہوابیت المقدس ،مسجد الا قصیٰ اور یر و شلم کا تعارف  اب آتے ہیں قبتہ الصخرا کی طرف ۔''صخرا ''عر بی زبان میں چٹا ن کو کہتے ہیں۔اس سے متعلق بہت کم معلو ما ت مو جو د ہیں ۔اس چٹا ن کی اونچا ئی پا نچ فٹ ہے اور اس کے ار د گر د لکڑی کا کٹہرا لگا ہوا ہے ۔اس کے او پر وہ سنہری گنبد ہے جو عام طور پر تصاویر میں نظر آتا ہے اور جسے لو گ مسجد الاقصیٰ سمجھتے ہیں۔
یہ مسجد الا قصیٰ کا حصہ نہیں اور نہ ہی یہ کو ئی الگ مسجد ہے ۔ بس ایک چٹا ن  ہے جس پر یہ عمارت تعمیر ہو ئی ہے ۔ اس کی داستان بھی بڑی دلچسپ ہے ۔ صحا بہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دور میں اس کی کو ئی اہمیت نہ تھی ۔ نہ اسے کو ئی تقد س حاصل تھی ۔بنو امیہ کے دور میں ولید بن عبد الما لک نے ا س پر گنبد تعمیر کروا یا او ر لو گوں کو خا نہ کعبہ کی بجا ئے اس کی زیارت کر نے کی تر غیب دلا ئی کیو نکہ اس وقت مکہ معظمہ میںعبد اللہ بن زبیر کی حکو مت تھی ا وررجولوگ حج کر نے مکہ معظمہ جاتے وہ وہاں ان سے بیعت لیتے تھے ۔اس اعتبار سے ولید بن عبد الما لک کا یہ اقدام مذہبی نہیں بلکہ خالص سیا سی اقدام تھا ۔ اس ضمن میں بہت سی احادیث بھی گھڑ لی گئیں جو احا دیث کے چھ اہم کتا بوں میں جگہ نہ پا سکیں اور تمام اہل علم نے انہیں ضعیف کہا ۔ابن القیم  اور البا نی  جیسے علما ء حدیث نے انہیں جھو ٹا اور من گھڑت قرار دیا۔ یہ چٹا ن مسجد الاقصیٰ سے شمال کی جانب 175گز کے فا صلے پر واقع ہے چو نکہ مسجد میں قبلہ جنو ب کی طر ف ہے اس لئے نمازی جب نماز پڑھتے ہیں تو ان کی پشت اس چٹا ن کی جا نب ہو تی ہے ۔رہا یہ مسئلہ کہ قبة الصخرا کیوں اتنی مشہو ر ہو ئی تو اس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ پی ایل او سمیت آزا دی فلسطین کی تمام تنظیمیں اوائل میں سیکو لر تھیں اور انہوں نے قصداً ایک مسجد کو اپنے شعار کے طر زپر نہیں اپنا یا بلکہ مسجد الا قصیٰ کی بجائے قبة الصخرا کو شعار کے طور پراپنا یا گیا اور یہیں سے مو جو دہ زما نے میں اس عمارت کو شہر ت ملی ۔ (یواین این )

Wednesday, 31 July 2013

تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے!

تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے!

سورۃ القدر میں جس رات کا ذکر ہے اس رات نے درحقیقت پوری کائنات کو ایک خوشی اور سرشاری سے ہمکنار کیا۔ یہ عرش وزمین کے باہمی اتصال کی کتنی خوبصورت کتنی حیرت انگیز رات تھی۔ ایسی رات جس کا اس زمین اور آسمان نے آج تک مشاہدہ نہ کیا تھا۔ انسانی فہم وادراک جتنا بھی ترقی کر جائے وہ اس عظیم رات کی عظمت کا ادراک کرنے سے قاصر رہے گا۔ کہ وَماَ اَدْرَکٰ مَالَیْلَۃُ الَقْدرہ تم ادراک نہیں کرسکتے لیلتہ القدر کا! کیسا حسین اور وجد میں لانے والا منظر قرآن پیش کرتا ہے کہ فرشتوں کے جھمگٹ میں روح الامین زمین کی جانب رواں دواں ہیں۔ اہل زمین کے لیے سوغات لے کر، کائنات کا سب سے عظیم تحفہ لے کر، آسمان دنیا سے زمین تک ہر طرف نور ہے اور پوری کائنات سراپا نور ہے۔ نہ صرف یہ رات سلامتی ہے طلوع صبح تک بلکہ یہ رات جو عظیم پیغام لے کر آئی ہے وہ پیغام رہتی انسانیت تک کے لیے سلامتی کا پیغام ہے۔
یہ کون سی رات ہے؟ اس میں بہت سی روائتیں ہیں لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ یہ آخری عشرے کی راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اور قدر والی رات ہے اور قدر کا مفہوم کہیں علماء ’’تدبیرامر‘‘ بیان کرتے ہیں اور کہیں ’’قدروقیمت‘‘ حقیقتاً دونوں ہی مفہوم اس لفظ ’’قدر‘‘ میں مخفی ہیں۔ کیونکہ وہ عظیم الشان فیصلہ اور توجیح جو اس رات میں کی گئی اس نے واقعتا رہتی دنیا تک کے بندوں کی تقدیر بدل کے رکھ دی۔ ہزاروں مہینوں اور ہزاروں سالوں میں انسانیت کی فلاح کے لیے وہ کام نہیں ہوا جو اس ایک رات میں انجام پایا کہ قرآن کی شکل میں جو عقیدہ، جو قانون، جو آئین، جو اصول وضوابط وضع کیے گئے رہتی دنیا تک انسانوں کی سلامتی ان ہی پر عمل سے وابستہ ہے۔ اس قدر والی رات میں انسانیت کو نئی قدروں سے روشناس کرایا گیا۔ صدیوں سے رائج جاہلیت کے دور کی سب قدریں، سب پیمانے، کُل کی کُل تہذیب اور تمدن سب کو مسترد کردیا گیا۔ اب انسانیت کو ہمیشہ رہنے والی عظیم قدریں اور نئے پیمانے دیے گئے۔ نسلی، نصبی غرور خاک میں ملا دیے گئے ایک دوسرے پر شرف اور برتری کے پیمانے یکلخت تبدیل کردیے گئے!!
اس ایک رات کی عظمت رہتی دنیا تک ثبت کردی گئی… کہ انسانیت اس عظیم ترین یادگار واقعے کو فراموش نہ کردے، اس سے غافل نہ ہوجائے۔ لہٰذا رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہر سال اس عظیم رات کے شایانِ شان اس کا استقبال کریں۔اس عظیم واقعہ کی یاد کو زندہ کریں۔ اس رات کو تلاش کریں۔ صحیحین کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس کسی نے شب قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور احتساب کی حالت میں کی اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘ شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ اللہ کی عبادت کہ اپنے گزرئے ہوئے روزوشب کا تنہائی میں جائزہ لیا جائے اپنا بے لاک احتساب کیا جائے، جو رعائتیں ہم نے اپنے نفس کو دے دے کر اسے گناہوں کا خوگر بنا دیا ہے آج کی رات وہ حقیقی آئینہ بن جائے جس میں ہم بے لاگ اور بے رحمانہ طریقے سے بغیر خود کو رعائتیں دیے ہوئے اپنا احتساب کرلیں کہ ابھی تو رجوع کا وقت ہے، ابھی تو توبہ النصوح کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ نہ معلوم آنے والے سال میں ہمیں یہ ایمان واحتساب کی قدر والی رات نصیب بھی ہو کہ نہ ہو لہٰذا اس بار ان گھڑیوں کو غنیمت جانتے ہوئے آئندہ کی بہتری کے جو امکانات ہوسکتے ہیں، یہ قدر والی رات دراصل اسی بہتر زندگی کی طرف دعوت دینے والی رات ہے۔ کہ سچی استغفار کریں اپنا کڑا محاسبہ کریں جو نافرمانیاں کرچکے ان پر مذامت کے آنسو بہائیں جو نیکیاں نہ کرسکے آج کی رات میں ان کی توفیق طلب کرلیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بندۂ خاکی اگر اس رات کی حقیقی قدر پہچان لے تو اس ایک رات میں وہ خدا کے قرب کی اتنی منزلیں طے کرسکتا ہے جتنی ہزار راتوں میں بھی ممکن نہیں کہ اس رات کے پردے میں جو خزانے چھپے ہیں آج کی رات کی تلاش میں جو گرم دم جستجو ہوگا وہی ان خزانوں کو پاسکے گا۔
حضرت ابن اسی حاتم نے روایت کیا ہے کہ رسول خدا صلی علیہ وسلم نے نبی اسرائیل کے ایک مجاہد کا ذکر کیا ہے جو ایک ہزار مہینے تک مسلسل مشغول جہاد رہا اور اس نے کبھی ہتھیار نہیں اتارے۔ مسلمانوں یہ سن کر تعجب اور رشک کرتے تھے جس پر یہ سورۂ قدر نازل ہوئی اور امت کے لیے صرف ایک رات کی عبادت کو اس مجاہد کی عمر بھر کی عبادت یعنی ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ قدر نازل فرما کر اس امت کی فضیلت سب پر ثابت کردی۔ اس طرح شب قدر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیازات میں سے ایک امتیاز ہے۔ یہ وہی عظیم رات جس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہے ’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو ایک با برکت رات میں اتارا ہے یقینا ہم (قرآن کے ذریعے) لوگوں کو خبردار کرنے والے ہیں۔ اس رات میں تمام حکیمانہ امور ہمارے حکم سے طے ہوتے ہیں بے شک ہم بھی رسول بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے رب کی رحمت کے باعث ہے یقینا وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے (الدخان ۴۴:۳۔۶) یعنی رمضان المبارک کی اس رات میں  قرآن مجید کے نزول کی ابتدا ہوئی تاکہ آپ اللہ کے بندوں تک اس کی تعلیمات کو پہنچا دیں۔
ہم اہلیان پاکستان جو اس ماہ مبارک میں اپنی آزادی کا 64 واں جشن منانے جارہے ہیں اور شب قدر کی کسی ایسی ہی عظیم رات کو ہمیں یہ لاالہٰ کی سرزمین عطا ہوئی تھی ہم اس کے وارث بنائے گئے تھے کہ یہاں ایک اللہ کی حکمرانی کے خواب کو شرمندہ تعمیر کریں گے جشن آزادی کی تیاریوں کے ساتھ جب ہم شب قدر کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوں تو اس جائزے اور احتساب کا اس سے بہتر موقع اور کبھی ہمیں نصیب نہ ہوگا کہ ہم بے لاگ احتساب کریں کہ لاالہٰ کی وراث اس سرزمین پر جن فتنوں نے آج سر اٹھایا ہوا ہے آج روزوشب معصوم کلمہ گو مسلمانوں کا لہو اس مٹی میں جذب ہورہا ہے اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں کون سی آزمائش ہے جس کی بھٹی میں ہم اس وقت نہیں سلگ رہے۔ ہم اللہ کی حدوں کو توڑنے رہے اور اس کی نعمتوں سے محروم ہوتے رہے شب قدر میں ملنے والی سعادت (پاکستان) کی ہم نے قدر نہ کی تو شقاوت اور بدبختی  ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی۔ ہماری جہالت اور غفلت نے ہمیں آج یہاں لا کھڑا کیا کہ نہ سرحدیں محفوظ ہیں نہ گھر نہ قومی حمیت باتی ہے نہ انسانی جان کی کوئی قیمت ہے۔ یہ سلامتی والی رات یاد دہانی ہے ہمارے لیے کہ حقیقی سلامتی، ہمارے معاشرے کی سلامتی، ہمارے ایمان کی سلامتی، ہمارے کردار کی سلامتی، ہمارے گھروں کی سلامتی، ہمارے دلوں کا سکون وسلامتی سب اس شب قدر میں ہے۔ ہمارا مادّی ارتقاد ہمارے روحانی ارتقاء سے وابستہ ہے۔ اسی سے ہماری تہذیب وتمدن کا ارتقاء وابستہ ہے۔
یہ نورانی رات مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہمیں پھر اسی نورر کی طرف دعوت دے رہی ہے جو 14 سو برس قبل انسانیت کی روح میں جب چمکا تھا تو عرب وعجم ان کے غلام ہوگئے تھے، شرق وغرب میں ان کے اقتدار کا غلبہ تھا۔ وہ عظیم رات جو ملاء اعلیٰ سے ربطہ وتعلق کی رات ہے جس میں جبرائیل امین کا نزول فرشتوں کے جھرٹ میں اہل زمین کی طرف ہوتا ہے۔ ہماری تمام تر محرومیوں اور شقاوت کے باوجود ایک بار پھر یہ عظیم رات ہمیں نصیب ہورہی ہے، لازم ہے کہ ہم اپنی روح اور قلب پر اس کے اثرات کو محسوس کریں اور اسلامی عبادات محض ایک رسم یا وظائف میں اعدادوشمار کی ایک گنتی یا تعداد کے ساتھ کچھ نفلی نمازوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس رات کو ایمان واحتساب کے ساتھ گزارنے کا حکم ہی اس لیے کہ ہمارا قلب زندہ بیدار ہو۔ ہم اللہ سے اور قرآن سے اپنے حقیقی تعلق کا جائزہ لیں اور یہ عبادت کی راتیں ہمیں وہ شعور وبصیرت دے جائیں کہ ہم حقائق پر غوروفکر کرنے کے عادی ہوجائیں اور صرف وہ چند راتوں کی عبادت اور چند گھنٹوں کی حیثیت اور رجوع الی اللہ کی کیفیت نہ ہو بلکہ ہمارے دل کی دنیا اس انقلاب سے دوچار ہو کہ ہمارے عمل سے اس کے ثمرات ظاہر ہوں اور پوری معاشرتی زندگی کے لیے قوت محرکہ بن جائیں۔
بلاشبہ یہ رات بہترین اسلامی نظام تربیت کا ایک جزو ہے۔ اگر ہم اس کو پورے شعور اور ادراک کے ساتھ گزارنے والے بن جائیں۔

Saturday, 27 July 2013

اعتکاف کیسے مفید بنایا جاسکتا ہے

اعتکاف کیسے مفید بنایا جاسکتا ہے

ہم یہاں اعتکاف کے ضمن میں محض رہنمائی کی خاطربطور نمونہ ٹائم ٹیبل تجویز کر رہے ہیں۔اس کی روشنی میں آپ اپنا پروگرام خود مرتب کرسکتے ہیں۔بیسواں روزہ آپ مسجد میں افطار فرمائیں گے اور آخری روزہ افطار کرکے بعد نماز مغرب اعتکاف سے فارغ ہوں گے۔اس لیے ہم شام سے شام تک کا پروگرام دے رہے ہیں۔خواتین بھی بیسواں روزہ افطار کرتے ہی گھرمیں مختص مقام(مُعْتَکَفْ ) میں مقیم ہوجائیں اور نیا چاند نظر آنے تک وہیں رہیں۔
1-افطار سے قبل اور بعد
افطار سے پہلے انفرادی دعا قابل ترجیح ہے مگر اجتماعی دعا بھی کی جا سکتی ہے ۔نمازِ مغرب اور افطاری کے بعد عشاء کے درمیان تراویح میں پڑھی جانے والی منزل کا ترجمہ اور خلاصہ دیکھ لیا جائے تو تراویح میں پڑھی جانے والی منزل کی سماعت کا زیادہ لطف اور اس سے حلاوتِ ایمانی کے نموکا زیادہ موقع پیدا ہوگا۔
2-نماز عشا ء و تراویح کی ادایگی کے بعد
تراویح کے بعد نمازیوں کے سامنے متعلقہ منزل کا خلاصہ کوئی ساتھی پیش کرے۔ا گر مسجد میں پہلے سے اس کا اہتمام ہو تو اسے سماعت فرمائیں۔ پروگرام کے آخر میں اس موضوع سے متعلق سوالات کے جواب دیے جائیں۔ خواتین کا جہاں اجتماعی اعتکاف ممکن ہو وہاں خواتین بھی اس کا اہتمام کرسکتی ہیں۔خواتین کی امامت کوئی صاحبِ علم وفضل اور حافظہ خاتون کر سکتی ہیں۔فرق یہ ہے کہ وہ مرد امام کی طرح آگے الگ کھڑی ہونے کے بجائے صف کے درمیان میں دیگر خواتین کے برابرہی کھڑی ہوں گی۔
3-اجتماعی مطالعہ
تراویح سے فارغ ہونے کے بعد ایک گھنٹہ کے لیے اجتماعی مطالعہ کیا جائے اور پندرہ منٹ باہمی تبادلہ خیالات ، سوال و جواب اور وضاحت وغیرہ کے لیے رکھے جائیں۔سوال و جواب کا مقصد افہام و تفہیم ہو،لایعنی تکرار اور طولانی مباحث سے اجتناب برتا جائے۔ماحول دوستانہ اور خوشگوار رکھنا فرض ہے۔
4-آرام
مطالعے سے فارغ ہو کر فوراً سونے کی تیاری کی جائے اور با وضو سونے کی کوشش کی جائے۔مسنون دعائیں پڑھتے ہوئے بسترپر دراز ہو جائیں اور جب تک نیند نہ آئے دل میں تلاوت کرتے رہیں۔وقت بہت قیمتی متاع ہے۔اس کے ضیاع سے ہمیشہ بچنا چاہیے مگر اعتکاف میں تو ہر لمحہ سوچ سمجھ کر گزارناضروری ہے۔سال بھر میں محض یہ ایک عشرہ ہے، اس لیے اس کی بڑی قدر ہے۔
5-سحر خیزی اور نماز فجر
سحری کے وقت سے حسب توفیق ایک دو یا اڑھائی گھنٹے قبل اٹھیں۔ تیاری کرکے نوافل ادا کریں۔نوافل کے بعد مسنون دعائیں یا احادیث یاد کرنے کی کوشش کریں۔سحری کا وقت ختم ہونے سے قبل سحری سے فارغ ہو جائیں اور اپنے مُعْتَکَفْ سے مسجد کے ہال میں پہنچ کر صفِ اوّل میں نمازفجرباجماعت ادا کریں۔نماز کے بعد مختصر وقت کے لیے تفہیم القرآن یا کسی بھی تفسیرِ قرآن کا اجتماعی مطالعہ کیجیے۔ہمت ہوتوسورج نکلنے تک تلاوت کیجیے اور سورج نکلنے کے بعد نماز چاشت ادا کرکے کچھ دیرکے لیے آرام کرلیجیے۔
6-بیداری
کم و بیش دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد بیدار ہوکر وضو کیجیے۔تحیۃ الوضو کے نفل ادا کیجیے اور پھر تلاوت قرآن مجیدکم از کم ایک پارہ کا اہتمام کیجیے۔تلاوت کے بعد مطالعہ میں وقت گزاریے،ذکر اللہ کے فضائل،سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہؓ کے واقعات سے ایک دوسرے کو تذکیر اور اپنے ایمان کی نمو کا اہتمام فرمائیں۔دنیوی اور لایعنی باتوں سے مکمل اجتناب ازحد ضروری ہے۔
7-نماز ظہر اور ما بعد
نماز ظہر ادا کرنے کے بعدہر ساتھی اپنے ذوق کے مطابق آرام کرنا چاہے تو آرام کرے، تلاوت ونوافل اورمطالعہ کی توفیق ملے تو اس میں اپنا وقت صرف کریں۔کوئی ساتھی سوال پوچھنا چاہے تو اہل علم ساتھی اس کی تشفی کا اہتمام کریں۔سوال و جواب کی یہ محفل سنجیدہ،پرُوقار اور علمی افہام و تفہیم کا نمونہ ہو نہ کہ بحث و مجادلہ کا میدان۔آوازیں پست اور لب و لہجہ شیریں ہونا چاہیے۔ مُعْتَکِفْ حضرات کو اتنی دھیمی آواز میں علمی تبادلۂ خیال کرنا چاہیے کہ دیگرنمازیوں کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔
8-نماز عصر اور مابعد
نماز عصر ادا کرنے کے بعد درسِ قرآن ،درسِ حدیث یا کسی موضوع پر گفتگو کی جائے جس کے بعد تمام ساتھی اپنے جذبات وخیالات کا اظہار کریں۔یہ خیالات اپنے آپ کو اور دوسرے احباب کو اللہ سے جوڑنے،آخرت کی فکر پیدا کرنے اور تزکیہ نفس کی منزل پالینے پر مرکوز ہونے چاہییں۔
9-افطار
افطار سے قبل کچھ وقت بالکل تنہائی میں خود احتسابی کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ اپنا جائزہ لیا جائے کہ منزل کی جانب پیش قدمی کی رفتار کیا ہے۔ افطاری اجتماعی طور پر کرنی چاہیے۔مسجد میں موجود نمازیوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر خاموشی یا مسنون دعائیں ہر مُعْتَکِفْ کا امتیازی وصف ہونا چاہیے۔عام قسم کی گفتگو سے اجتناب برتا جائے۔یہ قبولیت دعا کا خصوصی وقت ہوتا ہے اور دعا میں عاجزی سے حسن پیدا ہوتا ہے۔
سب سے اہم بات مُعْتَکِفْ کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ذاتی برتائو اور حسن سلوک ہے۔ایثار وقربانی پر بہترین تقریر کرنے سے وہ اثر نہیں ہو سکتا جو عملی مظاہرے سے ہوتا ہے۔جن نئے ساتھیوں کو آپ اعتکاف کی دعوت دے کر اپنے ساتھ شامل کریں گے،ان سے اعتکاف کے بعد مسلسل رابطہ رکھیے۔ان شاء اللہ اس تجربے سے آپ اپنا حلقہ احباب وسیع کرنے اور تحریک کے اثرات پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اعتکاف کے دوران فون،ریڈیو،اخبارات سے تعلق منقطع کرلیں گے تو اعتکاف کے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن ہوگی۔ یہ چیزیں اس انہماک کے منافی ہیں جو اعتکاف کا مقصودِ حقیقی ہے۔
10-مسجد سے رخصتی
جب ماہِ شوال کا چاند نظر آجائے تو اعتکاف کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔نماز مغرب کے بعد مُعْتَکِفْ حضرات اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں مگریہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ غیرضروری تکلفات اور لایعنی اعمال کا اہتمام کرتے ہیں۔مُعْتَکِفْ کو ہار پہنائے جاتے ہیں،مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور چراغاں کیا جاتا ہے۔افسوس ہے کہ بعض لوگ پٹاخے بھی چھوڑتے ہیں۔ ان اعمال کی ہرگز کوئی شرعی حیثیت نہیں بلکہ یہ سب بدعات وخرافات ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔ان کی جگہ صدقہ کرنے،تذکیر و نصیحت اور دعاو توبہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔ یہی مسنون طریقہ ہے اورامت کی کامیابی کا راز اتباع سنت ہی میں پنہاں ہے۔
مطالعہ کے لیے کتب
ماہِ رمضان میں سب سے زیادہ وقت تلاوت قرآن مجید کے لیے ہی وقف کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ دیگر دینی واسلامی کتب کا مطالعہ بھی تزکیۂ نفس میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ کتب ذوق کے مطابق بھی منتخب کی جاسکتی ہیں تاہم یہاں راہ نمائی کے لیے چند کتب کے نام درج ہیں:
تفہیم القرآن، تفہیم الاحادیث (خصوصاً جلد چہارم)، محسن انسانیت، سیرت سرورِعالمؐ، اذکارِ مسنونہ، رحمان کے سائے میں، سیرت صحابہ وصحابیات پر کوئی سی کتب، تزکیۂ نفس، تحریک اور کارکن، فضائل قرآن، کتاب الصوم، خطبات(سید مودودیؒ)، تزکیۂ نفس پر مولانا امین احسن اصلاحی اور مولاناصدرالدین اصلاحی کی تصانیف مفید رہیں گی۔

مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشی

مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

٭امریکی صدر باراک اوبامہ نے مصر میں فوجی کارروائی کو ”سازش نہیں بلکہ انقلاب“ قرار دیا ہے جبکہ جنرل فتح نے فوجی مداخلت کو ” عوامی خواہشات کے احترام میں ملکی مستقبل کیلئے کامیاب سیاسی و نظریاتی جدوجہد“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ( اس کا موازنہ پاکستان کی مسلح افواج کے اٹھائے جانیوالے عہد نامے سے بآسانی کیا جاسکتا ہے جس میں درج ہے کہ: ”آئین پاکستان کو ہر حال میں مقدم رکھوں گا جو عوام کی خواہشوںکا ترجمان ہے۔“ اس فرض کی ادائیگی کیلئے آرمی چیف کاغیر سیاسی ہونا ضروری ہے لیکن آرمی چیف اگر غیرسیاسی ہوگاتو وہ آئین کی پاسداری کس طرح کریگا؟ یہی سبب ہے کہ آئین کی پاسداری میںجنرل فتح سیاسی بن گیا اور سیاسی بساط الٹ کے رکھ دی۔
٭مصر میں رونما ہونیوالے حالات نے تمام عرب دنیا کے اسلام پسند عناصر کو مصر کی جانب راغب کیا ہے کیونکہ الاخوان کا تعلق اسلام کے مکتب فکر‘ سلسلہءقادریہ سے ہے جو سوڈان‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ تیونس‘ الجیریا‘ عراق‘ اردن‘ شام‘ یمن‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا تک پھیلا ہوا ہے۔
٭آرمی نے اس امید پریہ جوا کھیلا تھاکہ وہ جلد ملک کی صورتحال پر قابو پا لے گی لیکن تیس (30)سیاسی جماعتوں کی صدر مرسی کے ساتھ یکجہتی اور مکمل تائید نے حالات کو گمبھیر بنا دیا ہے اس طرح ”مصر ایک تاریخی جال میں پھنس چکاہے۔اسکی مثال نوآبادیاتی دور کی پہیلی کی طرح ہے جس نے مصر سے پاکستان تک کے ممالک کیلئے سیاسی اسلام کے خواب کی امیدوں کو روشن کردیا ہے۔“ پیٹر پروفام (Peter Profam, The Independent)
٭صدر مرسی کے حامیوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ”ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم آزاد انقلابی ہیں اور ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔“
انکے مد مقابل اب فوج ہے جو ملک کی حکمران ہے۔یہ وہی فوج ہے جو حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد اقتدار میں آئی تھی اوراٹھارہ ماہ تک اپنے ہی شہریوں کو قتل کرتی رہی۔اقتدار کی کشمکش اب شروع ہو چکی ہے۔
فوجی مداخلت نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے جس کے سبب مصر سے لے کر ترکی‘ پاکستان اور بنگلہ دیش تک اسلام پسند اور آزاد/سیکولر طبقات کے مابین سیاسی و نظریاتی تصادم کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ پاکستان میں عوام نے ایسے تصادم کو ووٹ کی طاقت سے ناکام بنایا اور اب وہی طاقتیں ’ یعنی عدلیہ ‘ آرمی اور روشن خیال‘ سیکولر اور اسلام پسند ‘ملک میں سیاسی توازن قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جو ماضی میں حالات کی خرابی کا باعث بنتی رہی ہیں ۔
مغربی میڈیا اس بات کو سچ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ مصر میں ”سیاسی اسلام“ کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے حالانکہ اس نظام کو اپنی افادیت منوانے کیلئے مناسب وقت ہی نہیں دیا گیا۔اور اگر مصر میں یہ تجربہ ناکام ہو گیا تو اس کا الزام مصر میں فوجی مداخلت کی ذمہ دار قوتوں یعنی امریکہ‘ یورپی یونین اور مشرق وسطی میں طاقت کا کھیل کھیلنے والی قوتوں کے سرہے ‘ جنہوں نے ”عوامی خواہشات کے آئینہ دارآئین کو مقدم رکھنے“ کے بجائے فوج کو مداخلت پر اکسایا ہے۔
الاخوان کی محاذ آرائی کی ایک طویل داستان ہے جو1954 ءمیں صدر ناصر کے دور میں شروع ہوئی اور 1970 ءتک رہی ۔اسکے بعد تین دہائیوں تک صدر حسنی مبارک کے مظالم کا شکار رہنے کے بعد2012 ءکے انتخابات میں اسے کامیابی نصیب ہوئی۔اب انہیں جنرل فتح کا سامنا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ”جہاں جمال ناصر جیسی طلسماتی شخصیت کامیاب نہیں ہو سکی وہاں جنرل فتح کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
 مصری عوام عرصہ دراز سے سیاسی اسلام کا خواب دیکھ رہے ہیں جسے ختم کرنا جنرل فتح کے بس کی بات نہیں“۔ وقت الاخوان کے ساتھ ہے اور افغانی طالبان کی طرح وہ بھی پرسکون ہیں اور اپنے مقصدسے مخلص ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ غیر ملکی آقاﺅں کے مفادات کی نگران فوج کیخلاف انکی پرامن مزاحمت ضرور کامیاب ہوگی اور وہ دن رات اس ورد میں مصروف ہیں ۔ ”حسبی اللہ و نعم الوکیل“ .... 

فضائے بدر پیدا کر Fazaye Badr paida kar


Saturday, 20 July 2013

مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں!

مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں!

بلاشبہ رمضان المبارک کی عظمت نزول قرآن سے وابستہ ہے اور قرآن بنی نوع انسان کو جو مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے اسی کی پیروی میں دنیوی واخروی زندگی کی فلاح ہے اور لاریب کہ یہ فیضِ فکر عمل انسان کی متاع عزیز ہے۔ اور کس قدر خوش قسمت ہیں وہ نفوس جو ان فیوض وبرکات کو اپنی زندگی کا اثاثہ بنارہے ہیں اور اپنی فردا کو سنوار رہے ہیں، وہ انسان کا مستقبل اس کے ہاتھ میں تھماتا ہے کہ چاہے تو درخشاں بنائے اور چاہے تو تاریک تر! اور قوموں کے حالات اور عذابوں کے تذکرے بھی اسی لیے ہیں کہ ماضی کی امتوں کے حالات واقعات سے عبرت حاصل کریں اور اپنے مستقبل کی فکر کریں۔

یہ کتاب بیکراں… تدبر وفکر کا جہاں… پُر زور تاثیر کی حامل… مقفیّٰ اور مسجع بیان… متحیرکن اسلوب… خالقِ کائنات کی صناعی کی مظہر… انسان کو حسن وجمال سے آشنا کرنے والی… نور حق سے منور اور باطل کے چنگل سے چھڑانے والی… عبدیت کا اظہار ذی شان، جس میں پنہاہ بندے کا عزت ووقار… انسان کو انسانیت سے سرفراز فرمانے والا کلام … جس میں تخلیق کی رفعت کا شعور پنہاں ہے… امتیازات پر ضرب کاری اور وحدت الہٰ کا درسِ عظیم… نور تحقیق کا منبع… وہ کلام جو دعوت دیتا ہے کہ تحقیق کی بنیاد علم اور حکمت کو بنائو اور تحقیقات کے بل پر عمل تسخیر کو اپنی متاع حیات بنالو! ’’اولی الالباب‘‘ کو پکارتے یہ کتاب مقدسہ کے اوراق… جن میں فہم وفراست اور علم وحکمت کے خزانے پوشیدہ ہیں… یہ کتاب جس کے فیوض وبرکات پر جتنی تحقیق کی جارہی ہے اتنے ہی نئے نئے حقائق منکشف ہورہے ہیں۔ قرآن کا یہ اعجاز کہ بندے کو ہر روز نئی شان اور جستجو کا نیا جہان عطا کرتا ہے۔ جس کو اقبال نے کہا
’’ہر لحظ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘

مگر ہم نے قولاً اور عملاً اس کتاب کا کیا تعارف پیش کیا دنیا کے سامنے…؟ اگر یہ دیکھنا ہے تو دیکھیں کہ ہم نے سماج میں کیا مرتبہ متعین کیا اس کتاب مقدس کا۔ اور کیا مقام ہے ہماری زندگی میں اس کتاب کا… کیا رویہ ہے ہمارا اس کے آفاقی پیغام کے ساتھ…!

میں ایکسپو سینٹر میں بک فیئر کے موقع پر تاج کمپنی کے اسٹال پر موجود قرآن کی طباعت کے مختلف انداز دیکھ رہی تھی۔ کہ معاً ایک باریش صاحب نے اسٹال پر آتے ہوئے با آواز بلند کہا ’’مولانا فلاں‘‘ کا قرآن ہے آپ کے پاس؟ میں نے چونک کر نظریں اٹھائیں کہ قرآن ’’مولانا فلاں‘‘ کا کیسے ہوگیا؟ تھوڑی دیر میں میں نے دیکھا کہ اسٹال پر موجود نو عمر لڑکا کسی کو قرآن کے مختلف نسخے دکھاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ یہ ہے مولانا عثمانی کا قرآن۔ یہ ہے مولانا تھانوی کا قرآن… یہ نئی طباعت میںمولانا اصلاحی کا قرآن،مولانا دریا آبادی اور مولانا مودودی کے قرآن بھی موجود ہیں۔ ان سب کے بیچ اللہ تعالیٰ کا قرآن کہاں کھو گیا؟ ایک انتہائی تکلیف دہ احساس وہاں کھڑے کھڑے رگ وپے میں سرایت کرگیا۔ کہ آہ… ہوئے کس درجہ فقہیانِ حرم بے توفیق، جب میں نے اسٹال کے ذمہ دار فرد سے بات کی کہ یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ قرآن مولانائوں کے نام سے فروخت ہورہے ہیں۔ تو فرد متعلقہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نسخے زیادہ تر اپنے شارحسین ومفسرین کے ناموں سے ہی فروخت ہوتے ہیں۔ مگر میں ایک سوال ذہن سے چپکا ہوالے کر اسٹال سے ہٹ گئی کہ کیا بات واقعی اتنی ہی سادہ ہے؟ اور قرآن سے وہ تعلق محسوس ہوا جو کسی مظلوم سے محسوس ہوتا ہے۔ اور قرآن کے ساتھ ایک عجیب ’’بے چارگی‘‘ کا تعلق تو بچپن میں اس وقت قائم ہوا تھا جب محلہ میں دو نابینا بھائی جو ہر جمعرات کو بھیک مانگنے آیا کرتے تھے وہ محلے میں کھڑے ہو کر اس وقت تک با آواز بلند تلاوت کرتے رہتے تھے جب تک ان کی جیب میں مطلوبہ رقم نہ آجاتی یا محلے کے ہر گھر سے آٹھ آنے یا 4 آنے نہ مل جاتے۔ اور کتنی خواہش تھی امی جان مرحومہ کی کہ بھائی قرآن حفظ کرے۔ جتنی بار اسے محلے کی مسجد میں بھیجا وہ مدرسے کے نابینا حافظ جی کی گیلی قمچیوں کی شدید ضربوں سے ہیبت زدہ ہو کر بھاگ کھڑا ہوتا…! اور پھر وہ خود قرآن سے ہی خوف زدہ ہوگیا اور کسی سے بھی پڑھنے پر آمادہ نہ ہوتا۔ بلکہ ابا جی مرحوم مجبور کرتے تلاوت کے لیے تو قرآن کو جزدان سے نکالتے ہوئے اس کی رنگت پیلی پڑجاتی۔ اور اکثر گھروں میں علاوہ ماہ رمضان، قرآن ان سپاروں کی مدد سے پڑھا جاتا گاہے بگاہے جو اپنے مرحومین کی ایصال ثواب کے لیے ان کی برسی پر گھروں میں پہنچا دیے جاتے۔ جو نسبتاً مہذب لوگ ہوتے وہ اپنے گھروں میں قرآن خوانی رکھ لیا کرتے۔ اور اس قرآن خوانی کو معتبر بنانے اور ’’ختم‘‘ کو اعتبار بخشنے کے لیے اکثر مدرسے کے بچے آتے۔ وہ جس انداز میں قرآن پڑھتے تو اس وقت کا ننھا ذہن سوچا کر تاکہ کیا اللہ میاں اونچی آواز سنتے ہیں؟ (معاذ اللہ) ان مدرسے کے بچوں کا حلق کے آخری سرے سے پڑھنا اور انتہائی متحرک جسم، تو وہ بے چارے ایک سپارہ پڑھ کر ہانپنے لگتے جو بریانی یا مٹھائی کے شوق میں ہر ایسے موقع پر محلے کے ہر گھر میں موجود ہوتے۔ بچپن کے ذہن میں قرآن کے ساتھ نہ معلوم کیوں غم کا تصور پیوستہ تھا۔ اور حافظ جی کے ساتھ نابینا کا۔ کیونکہ خوشی کے موقع پر کبھی کسی کو قرآن پڑھتے دیکھا ہی نہ تھا۔ قرآن موت کے گھر میں، میت کے سرہانے، سوئم، چالیسویں، برسی کے موقع پر ہی ختم کیا جاتا تھا مجالس میں۔ ہاں مجھے محلے کی وہ خالہ بھی رمضان مقدس میں اکثر یاد آتی ہیں جو رمضان شریف سے قبل نئے جزدان سنہری بیلوں اور ستاروں سے مزین تیار کرتی تھیں اور محلے بھر کی عورتیں (قرآن کی سالگرہ کا جشن منانے کے لیے) ماہ رمضان میں قرآن کو نئے لباس سے مزین کرتیں۔ تب گھر میں موجود تمام قرآن گھر کی بلند جگہوں سے جھاڑ جھاڑ کر اتارے جاتے اور میز کی زینت بنتے کہ رمضان میں بہرحال تلاوت تو گھر کے ہر فرد کو کرنا ہے۔ لہٰذا سالانہ ضرورت پڑتی تھی نصف درجن قرآن کے نسخوں کی جو عموماً ہر گھر میں موجود تھے اور گھر کی کسی بلند ترین جگہ پر رکھتے ہوئے۔ سہ ماہی، ششماہی دھول البتہ جھاڑی جاتی ان پر سے کہ کتاب مقدس ہے ’’بے ادبی‘‘ نہ ہوجائے۔ اور بچوں کے تو قرآن کو ہاتھ لگانے کا تصور بھی محال۔ کہ بے ادبی ہوجائے گی۔ نانی جان مرحومہ کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے آواز لگاتیں کہ یہ میرے ہاتھ سے قرآن لے کر رکھ دو تو وہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کے ہاتھ میں دینا پسند کرتیں…! یوں لگتا تھا کہ ایسی مقدس کتاب ہے کوئی کہ بس فرشتے ہی چھوسکتے ہیں… نہ معلوم آج بھی اس کتاب سے کون کسی درجہ کا تعلق اور تعارف رکھتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں کیا سلوک روا رکھتا ہے۔ دنیا کی سب سے مظلوم کتاب کہا جائے کتاب مقدسہ کو تو بے جانہ ہوگا۔ ماہ مبارک قرآن کی سالگرہ کا جشن… سالگرہ کے موقع پر گردش ایام یوں پیچھے چلی جاتی ہے کبھی کبھی…
اللہ کرے کہ اس کتاب سے فیض یاب ہونا سیکھیں اس کے فیض کو عام کرنا سیکھ جائیں۔ کہ اقبال نے تو کہا کہ

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف