Search This Blog

Monday, 21 April 2014

قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن . Quran ka Shaer aur Shaer ka Quran

قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن

کالم نگار  |  نعیم مسعود

سن 1996 کے لگ بھگ کی بات ہے کہ پروفیسر عبدالحئی صدیقی میرے آفس میں آئے اور بڑی سنجیدگی سے سوال کیا کہ ’’کیا قائدؒ اور اقبالؒ بھی ’کلوننگ‘ سے پیدا کئے جا سکیں گے؟ ان دنوں کلوننگ کی تحقیق کا بہت چرچا تھا، روزانہ اخبارات میں جنیٹک انجینئرنگ اور بائیو ٹیکنالوجی کی باتیں چل رہی تھیں۔ میرے جیسے بائیالوجی کے طالب علم کیلئے یہ باتیں نئی نہ تھیں تاہم عام فہم یا وہ اساتذہ اور طلبہ جو حیاتیاتی علوم سے ناآشنا تھے اُن کیلئے یہ باتیں بہت عجیب اور نئی نئی تھیں۔ بہرحال پروفیسر صاحب کی بات کا جو جواب میں نے عرض کیا وہ یہ تھا کہ وہ ’’قائد اور اقبال‘‘ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں حالات، چیلنجز، فہم و فراست اور جذبوں کی صداقت قائد اور اقبال بناتی ہے، انہیں کلوننگ کے ذریعے پیدا کرنا ممکن نہیں مگر ان کے درس و تدریس اور پیغامات قوم میں اقبال اور قائد ضرور پیدا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی بیٹریاں ان کے افکار اور اقدامات سے چارج اور ری چارج ضرور ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ جنیٹک انجینئرنگ یا کلوننگ سے نہیں بن سکتے لیکن یہ خود اتنے بڑے سوشل انجینئر اور ’’جنیٹک انجنیئر‘‘ ہوتے ہیں کہ جن کے دم خم اور فکر و عمل سے اقبالیات کو پیدائش، نمو اور نشو و نما ملتی ہے  ؎

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
علامہ اقبال جدید دنیا کی وہ پہلی مسلمان شخصیت تھی جس نے اپنے تصورات اور پیغامات سے مسلمانوں کو یہ سبق سکھانے کی کوشش کی کہ آپ گلوبل ولیج میں ہیں۔ دنیا کے گلوبل ولیج ہونے کو اقبال نے سب سے پہلے ثابت کیا اور اس کی اہمیت پر زور دیا۔ آج کی قیادت اچانک بول کر کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے کہ ’تعلیم یہ، نوجوان وہ، جہاد ایسے اور فرنگی یوں! قیادت کی چشمِ بینا اور وسعت نظر صدیوں پرانی تاریخ کو مستقبل سے موازنہ کر کے دیکھتی ہے۔ قیادت اذان دینے کی صلاحیت، بات پر کھڑے رہنے کی ہمت اور اہمیت کے علاوہ دلیل کی طاقت اور مظاہراتی و انکشافی طرز عمل سے بخوبی آگاہ بلکہ اس کی پریکٹیکل شہادت ہوتی ہے۔ قیادت کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ صرف اشرافیہ کی نمائندہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات اور نفوذ ملت کے ہر فرد تک رسائی رکھتے ہیں۔ وہ ہر فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ سمجھتے ہیں۔ ایسی نیچرل اور باصلاحیت قیادت ’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ اور مال و متاع کے سمیٹنے سے اجتناب کرتی ہے۔ بگاڑ سے کہیں دور بسیرا اور بنائو کی تراش خراش ہی ان کا نظریہ اور نصب العین ہوتا ہے  ؎
ترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے
ڈاکٹر اقبال 21 اپریل 1938ء سے اس جہانِ فانی سے کوچ ضرور کر گئے لیکن ان کی بازگشت مؤثر پیغام بن کر تلاطم خیز موجوں کے سامنے ٹھہرنے کا کلیہ اور فارمولا بن کر دل و دماغ کی فضا میں موجود ہے۔ پیغامِ اقبال جب اپنے عروج پر تھا تو وہ برصغیر پاک و ہند کے ماحول کو دیکھ کر اقوال زریں بن کر کانوں تک پہنچتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح سے مولانا مودودی تک کی ہمت افزائی اقبال نے اُس وقت کی جب ان کے گرد فرسٹریشن کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ شاعر مشرق کے تدبر کو مغرب بھی مانتا تھا۔ خطبہ الہ آباد کا فکر مشرق و مغرب کیلئے حیرانی کا باعث بنا۔ مصور پاکستان نے صرف پاکستان کا خواب ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے منزل کی جانب والی شاہراہ کا تعین بھی کیا۔ وہ کہتے کہ مایوس نہیں ہونا، بڑھتے رہنا ہے، غم کو ہمت سے ختم کرنا ہے  ؎ 
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اقبال پُرعزم قیادت کے حق میں تھے ان کی فلاسفی تھی کہ اگر قحط الرجال نہ ہو تو ہر فرد مردِ مومن کی طرح سمجھ اور سوچ سکتا ہے۔ اسی لئے تو وہ کہتے تھے کہ ’’خالی ہے کلیموں سے کوہ و کمر ورنہ --- تو شعلۂ سینائی میں شعلہ سینائی‘‘ کرگس کا جہاں اور، اور شاہیں کا جہاں اور جیسی باتیں، گویا شہباز کی باتیں وہ قوم کی اٹھان کیلئے کرتے۔ ان کی شاعری امید کی شمع فروزاں کرتی تھی۔ تیرگی اور ظلمتوں کا سماں اُن کی فلاسفی، حکمت اور پیغام میں کوئی جگہ نہ رکھتا  ؎
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
شیخ سعدی شیرازیؒ نے جس طرح ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔ اقبال بھی ملت کا ایسا ہی غم رکھتے تھے اور نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر وہ مسلم کو ایک دیکھنا چاہتے تھے۔ اگر آج ہم ایک نہیں تو یہی وجہ ہے کہ شام و مصر، لبنان، عراق، ایران حتیٰ کہ پاکستان کے ساتھ عہدِ حاضر کے چودھری امریکہ کا رویہ کیا ہے۔ او آئی سی ہے مگر اُس کی بے توقیری اُس کے دامن کا لباس ہے۔ اپنی ہی سرزمین کو دیکھ لیں غیروں نے ہمیں طالبان، نسل پرست، شیعہ سُنی، بلوچ و غیر بلوچ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہمیں ہمارے مرکز اور نظریہ سے دور کر رکھا ہے۔ موساد، را، اور سی آئی اے نے ہمیں کمزور کرنے کیلئے ہمارے حقیقی مجاہدوں اور حقیقی طالبان کے مقابلے پر ’’اپنے طالبان‘‘ کھڑے کر دئیے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں سے اپنوں کی گردنیں کٹوائی جا رہی ہیں۔ ابھی وقت ہے کہ ہم صراطِ مستقیم پر آ جائیں  ؎
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
بابا فریدالدین گنج شکرؒ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’جو سچائی جھوٹ کے مشابہ ہو اسے اختیار مت کرو‘‘ گویا سچ کی سچائی کی دُہائی جو اقبال سے ملتی ہے وہ دیگر مفکرین اور شعراء کے ہاں نہیں پائی جاتی ہے  ؎
خُدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام!

مجددّ الف ثانی ؒسے علامہ اقبال ؒ. Mujaddid Alfsani se Allama Iqbal

مجددّ الف ثانی ؒسے علامہ اقبال ؒ

رانا عبدالباقی
 

تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ آریا ہندو سماج یا ہندوازم کے علمبردار 1700 سے1500 قبل مسیح کے دوران افغانستان میں پہلا پڑائو ڈالنے کے بعد موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی تہذیب کو شکست دے کر فاتحین کے طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے ۔ اُنہوں نے برّصغیر جنوبی ایشیا کو "بھارت ماتا" قرار دے کر ہندوستان کو اپنا وطن بنایا اور مقامی لوگوں کیساتھ ظالمانہ سلوک کرتے ہوئے اُنہیں غلاموں سے بدتر یعنی شودر اورملیچھ کی پوزیشن میں رکھ کے سیاسی اور سماجی طور پر مقامی آبادیوں پر غلبہ حاصل کرلیا ۔ آریا ہندو سماج یاہندوازم کے ماننے والے ذات پات کے نظام کے تابع تھے چنانچہ ذات پات کے نظام کو سماجی ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہوئے اُنہوں نے مقامی باشندوں کے علاوہ ہندوستان پر حملہ آور ہونے والی دیگر فاتح قوموں کے زوال پزیر ہونے پر اُنہیں بتدریج اپنے سماجی نظام میں جذب کرلیا۔ حتیٰ کہ وقت گزرنے کیساتھ ہندو سماج کے ذات پات کے ظالمانہ نظام کے خلاف جنم لینے والی مقامی سماجی تحریکوں جین مت اور بل خصوص بدھ مت جسے جنوبی ایشیا میں مضبوط مرکزی ہندو حکومت کے بانی چندرگپت موریا کے پوتے اشوک بادشاہ کے بودھ ازم قبول کرنے کے بعد کابل سے بنگال تک چند صدیوں تک عروج حاصل رہا کو کچھ عرصہ برداشت کرنے کے بعد ہندوازم نے انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ شکل اختیار کرتے ہوئے اِن دونوں مقامی تہذیبوں کو بھی شودر اور ملیچھ کے طور پر ہندوازم میں جذب ہونے پر مجبور کر دیا ۔ ہندوازم کے جذب و کمال کا یہ سلسلہ ہندوستان میں ظہور اسلام تک جاری و ساری رہا ۔ محمد بن قاسم کی سندھ کی فتوحات نے بلاآخر ہندوازم کی اِس سماجی قوت کو موثر طور پر چیلنج کیا اور بعد میں افغانستان کے راستے آنے والے اسلامی اثرات کے باعث مسلمان فاتحین نے ہندوستان میں سلطنتیں قائم کیں اور غلبہ اسلام کو ایک ہزار برس پر محیط کر دیا ۔ ہندوستان میں فکر اسلامی کے خلاف ہندوازم کی شدت پسندی ہندو مورخوں اور دانشوروں میں پیدا ہونے والی اِس سوچ کو بخوبی واضح کرتی ہے کہ ہندوازم نے ہندوستان میں آنے والے ہر مذہب اور قوم کو اپنے اندر جذب کرلیا لیکن یہ مسلمان کیسے لوگ ہیں جو شدہی سنگھٹن اور جبر و تشدد کے باوجود اسلامی تہذیب سے منحرف ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں ؟

 پروفیسر منّور کی یہ دلیل اپنی جگہ درست ہے کہ مسلم فاتحین کیساتھ لاکھوں مسلمان صحرائے عرب ، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ہندوستان میں آئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دینِ اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے لاکھوں مقامی ہندوئوں نے بھی اسلام قبول کیا اور پھر وہ دین اسلام پر ہی قائم رہے ۔ گو کہ ہندوستان میں مسلم حکومتوں کے دور میں مسلمانوں کی عددی تعداد ہندوئوں کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم رہی لیکن مسلم سلطنتوں کے زوال پزیر ہونے پر بھی ہندوازم اسلامی تہذیب کو ہندو سماج میں جذب کرنے میں ناکام رہا۔ہندوازم کی جانب سے ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کرنے کیلئے تین منظم کوششیں کی گئیں پہلی 1527 میں جب تاریخ میں رانا سانگا کے نام سے موسوم راجپوت جنگجو سردار کی قیادت میں ایک سو راجپوت راجوں اور مہاراجوں کی ایک لاکھ سے زیادہ پُر جوش افواج جن کے دلوں کو جنگی جنون سے گرمانے کیلئے ہزاروں ہندو خواتین و نوجوان بچے ہندو مذہبی جنگی ترانوں گاتے ہوئے آخری وقت تک میدان جنگ میں موجود رہے ، نے کنواح کے مقام پر جنگ کا آغاز کیا جہاں مغل بادشاہ ٔ اسلام ظہیرالدین بابر نے ہندوازم کی افواج کو شکست فاش دے دوچار کیا ۔ دوسری کوشش شہنشاہ اکبرا ور جہانگیر کے زمانے میں کی گئی جب راجپوت ہندو سرداروں نے دربار مغلیہ میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کرکے فکر اسلامی کو اندر سے کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن مجدّد الف ثانی ؒ نے اِس کوشش کو ہندوازم کی جانب سے بدھ مت اور جین مت کی طرز پر ہندوستان میں اسلام کو مٹانے کی جارہانہ سماجی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے مسلمان علماء و فقیہ کو خوابٔ خرگوش سے جگانے کیلئے تجدیدٔ احیائے دین کی موثر آواز بلند کی اور ہندوازم کی فکرِ اسلامی کو جذب کرنے کی پالیسی کا زور کسی حد تک توڑ ڈالا۔یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے بال جبریل میں مجدّد الف ثانی ؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا :
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
 جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
 اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار
درج بالا منظر نامے میں جب شہنشاہ شاہ جہاں کے بیٹوں کے درمیان جنگ تخت نشینی شروع ہوئی تو ہندوازم کے حمایت یافتہ شہزادہ دارالشکوہ کے خلاف مجدّد الف ثانی ؒ کی فکرِ اسلامی کے علمبرداروں نے خونریز جنگِ تخت نشینی میں اورنگ زیب عالمگیر کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ تیسری کوشش اورنگ زیب عالمگیر کی موت کے بعد زوال پزیر مغلیہ سلطنت کے خلاف 1761 میں منظم مرہٹہ افواج نے تخت دہلی کے ارد گرد کے تمام علاقوں پر قبضہ مستحکم بنانے کے بعد کی لیکن زوال پزیر مغلیہ سلطنت کی حالت زار کودیکھتے ہوئے اپنے وقت کے ولی ، شاہ ولی اللہ کی اپیل پر احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست فاش دیکر ہندوازم کی اِس کوشش کو بھی ناکام بنا دیا ۔ لیکن اِن کڑے امتحانوں سے سرخرو ہونے کے بعد حالات پر مسلمان امراء اور نوابین کے درمیان مفادات کی سوچ حاوی ہوگئی اور احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان سے واپسی پر ہندو پس پردہ سازشوں کے باعث مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہوکر مسلم نوابین و امراء میں تقسیم ہوتی چلی گئی چنانچہ ہندوازم نے اپنی حکمرانی کے احیاء کیلئے مسلمان نوابین کے خلاف اپنی سازشوں کو جاری رکھا اور بالآخر ہندوستان میں انگریز کمپنی بہادر کی اُبھرتی ہوئی طاقت کیساتھ گٹھ جوڑ کر کے 1857 کی جنگ آزادی میں تخت دہلی پر انگریزوں کے قبضے کے بعد ہندوستان میں مسلم حاکمیت کی آخری نشانی کو مٹا دیا گیا ۔ گو کہ 1857 کی تخت دہلی کی جنگ میں برہمن ہندو سماج سے بیزار چھوٹی ذات کے ہندوئوں نے بشمول مرہٹہ پیشوا کے جانشین المعروف نانا صاحب، جھانسی کی رانی وغیرہ نے اپنے مفادات کے پیش نظر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑنے سے گریز نہیں کیا لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے بیشتر ہندو راجوں مہاراجوں اور سکھوں کی مدد سے نہ صرف انگریزوں کو ہندوستان کی تقدیر کا مالک بنا دیا بلکہ 1857 کی جنگ آزادی کی تمام تر ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عائد کر کے مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی بدترین انتقامی کاروائی کو مہمیز دی ۔(جاری)

اقبالؒ اور احترام انسان . Iqbal aur Ihterame Insan

اقبالؒ اور احترام انسان

ڈاکٹر سید محمد اکرم 


اقبالؒ کے نزدیک انسان کائنات کی تخلیق کا عالی ترین مقصد ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم پر ہوئی ہے۔ اس کے فکروعمل کی وسعتوں کا کوئی حساب نہیں اس  کے ہنگامہ ہائے نوبہ نو کی کوئی انتہا نہیں۔ اقبال انسانی تہذیب کی روح ورواں اس بات کو قرار دیتے ہیں کہ انسان کا احترام کیا جائے:۔  …؎
برتر از گردوں مقام آدم است 
اصل تہذیب  احترام آدم است 
انہوں نے کہا میں انسان کے شاندار اور درخشاں مستقبل پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور میراعقیدہ ہے کہ انسان نظام کائنات  میں ایک مستقل عنصر کی حیثیت حاصل کرنے کی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہے۔ یہ عقیدہ میرے خیالات وافکار میں آپ کو عموماً جاری وساری نظر آئے گا۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک جو انسان کا احترا م نہیں کرنا وہ انسان دوست نہیں ہے وہ خدا دوستی اور خدا پرستی کا دعوی نہیں کر سکتا۔ مخلوق سے محبت ہی خالق سے محبت ہے۔ 
اقبالؒ جہاں انسان دوست قوتوں کا احترام کرتے ہیں وہاں انسان دشمن قوتوں کے رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں تاکہ آج پردہ تہذیب  میں جو غاری گری اور آدم کشی کا عمل جاری ہے اسے روکا جا سکے۔ اقبالؒ کے دور میں مغربی استعمار نے قبائے انسانی کو چاک کیا۔ یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس اقبالؒ نے مغربی تہذیب کے تباہ کن رویوں کے خلاف ہو گئے۔ ان کے کلام کا ایک عظیم حصہ لادین سیاست کی نفی اور بے رحم اور خودغرض ملوکیت کے خلاف آواز ہے۔ 
علامہ اقبالؒ نے کیمبرج میں کہا میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت ومادیت سے محفوظ رہیں۔ اہل یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مذہب وحکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی تہذیب اخلاق سے محروم ہو گئی۔لیگ آف نیشنز طاقتور اقوام نے کمزور اقوام کو اپنے تصرف میں لانے کا ایک ادارہ بنا لیا۔ اقبالؒ نے اسے کفن چوروں کی انجمن کا نام دیتے ہوئے کہا…؎ 
من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدے چند  
بہر تقسیم قبور انجمنے  ساختہ اند 
علامہ اقبالؒ کا تمام  کلام انسان کے احترام، اس کی حفظ وبقا اور ترقی وارتقا کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے پروفیسر نکلسن کے نام ایک خط میں لکھا:۔  
’’میری فارسی نظموں کا مقصد اسلام کی وکالت نہیں بلکہ میری طلب وجستجو تو صرف اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید  معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اور عقلاً  یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطع نظر کر لیا جائے جس کا مقصد وحید ذات پات، رتبہ ودرجہ اور رنگ ونسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ یورپ اس گنج گراں مایہ سے محروم ہے۔
تاریخ میں اکثر جنگوں کی بنیاد علاقائی، لسانی اور نسلی اختلافات ہیں۔ اسلام دنیا کا واحد نظام حیات جس نے ان فساد انگیز اور تباہ کن اختلافات کو ختم کرنے اور انسانی برادری کو انسانیت کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کی۔ پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا…’’تم میں کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔
اقبالؒ لکھتے ہیں:۔ ’’قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گوناں گوں روابط کا ایک اعلی اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔ قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے جس کے پیش نظر گوئٹے نے (بہ اعتبار ایک تعلیمی قوت) اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:۔ اس تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔ ہمارا کوئی نظام اور ہمیں پر کیا موقوف ہے کوئی انسان بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔  
ہر بڑا تخلیقی مفکر ایک مثالی انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ علامہ اقبالؒ سے کسی نے سوال کیا کہ انسان کامل کے متعلق آپ کا تصور کیا ہے تو انہوں نے کہا نبیؐ اکرم تمام انسانوں کے لئے کامل ترین نمونہ ہیں جو بھی آپؐ کے اخلاق کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے وہ انسان کامل بن جاتا ہے۔ اقبالؒ کی تمام تصنیفات اور منظومات و بیانات نبی علیہ اسلام کے اعلی اخلاق کی توصیف وتعریف سے مملو ہیں۔ اللہ تعالی نے آپؐ کے حلق کو خلق عظیم سے تعبیر فرمایا انک لعلی خلق عظیم۔ نبیؐ  اکرم نے فرمایا کہ میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث  ہوا ہوں۔ حضور علیہ السالم سراپا رحمت ہیں۔ مومنین کے لئے رئوف رحیم ہیں۔ رحمتہ للعالمین  ہیں یعنی سارے جہانوں کے لئے رحمت۔ فتح مکہ آپؐ کی رحمتہ للعالمینی کا وہ بے مثال مظاہرہ ہے جو چشم تاریخ نے اس سے پہلے  اور اس کے بعد کبھی نہ دیکھا۔ آپؐ نے فرعون  صفت تمام دشمنوں کو لاتژیب علیکم الیوم کہہ کر بلاشرط معاف فرما دیا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ رسولؐ پاک کی ذات میں تمہارے  لئے بہترین نمونہ ہے۔ لقدکام لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ۔ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ نبیؐ مکرم کے اسوہ حسنہ کو اپنے انفرادی  اور اجتماعی معاملات میں پیش نظر رکھیں اور سب انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آئیں۔  
اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات کا خلاصہ محبت و مساوات کی بنیاد پر ایک آفاقی معاشرے کی تشکیل ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان  کا یکساں احترام کیا جائے۔ اسلام ناگزیر طور پر عالم انسانی کے لئے امن کا مذہب ہے۔ کیونکہ اسلام اتحاد  انسانی کا عظیم داعی ہے۔ اسلام نے بنی نوغ انسان کے اتحاد کے ضمن میں جو پہلا قدم اٹھایا وہ ایک ہی نوع کے اخلاقی ضابطے رکھنے والوں کو اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔  قرآن کریم نے اعلان کیا کہ اے اہل کتاب آئو ہم اللہ تعالی کی توحید پر متحد ہو جائیں  جو ہم سب کے درمیان مشترک ہے۔‘‘ 
علامہ اقبالؒ نے اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر سال نو کے پیغام میں جو یکم جنوری 1938 کو ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا کہا:۔ 
’’تمام دنیا کے ارباب فکر دم بخود سوچ رہے ہیں کہ تہذیب کے اس عروج اور انسانی ترقی کے اس کمال کا انجام یہی ہونا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان و مال کے دشمن بن کر کرہ ارض پر زندگی کا قیام ناممکن بنا دیں۔  دراصل انسان کی بقا کا راز انسانیت کے احترام میں ہے اور جب تک دنیا کی تمام علمی قوتیں اپنی توجہ کو احترام انسانیت پر مرکوز نہ کر دیں یہ دنیا بدستور  درندوں کی بستی بنی رہے گی۔ قومی وحدت بھی ہرگز قائم دائم نہیں۔ وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے جو رنگ و نسل و زبان سے بالاتر ہے۔ جب تک اس نام نہاد جمہوریت، اس ناپاک قوم پرستی اور ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو مٹایا نہ جائے گا جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ ونسل کے اعتبارات کو ختم نہ کیا جائے گا اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح وسعادت کی زندگی بسر نہ کر سکے گا اور اخوت، حریت اور مساوات کے شاندار الفاظ شرمندہ معنی  نہ ہوں گے …؎ 
بہ آدمی نرسیدی خدا چہ می جوئی 
ز خود گریختہ ای آشنا چہ می ہوئی 

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال . ALLAMA IQBAL AUR NAWAB BHOPAL

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال

ڈاکٹر محمد سلیم

سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی آخری خاتون حکمران تھیں۔ اپنے دو بڑے صاحبزادوں کے انتقال کے بعد‘ 1926ء میں وہ اپنے بیٹے پرنس حمید اللہ خاں کے حق دستبردار ہو گئیں۔ عنان حکومت سنبھالتے ہی نواب حمید اللہ خان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ وہ نہ صرف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے چانسلر مقرر ہوئے بلکہ چیمبر آف پرنسز کے چانسلر بھی منتخب ہو گئے۔ نواب حمید اللہ خاں (نواب بھوپال) کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ ایک بیدار مغزوالئی ریاست تھے۔ انہوں نے اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور تعلیمی و ثقافتی ترقی کے لئے بہت کام کیا۔ ان کا دور 1927ء سے شروع ہوا اور 1949ء میں ختم ہوگیا جب ریاست انڈین یونین میں ضم ہو گئی۔

نواب بھوپال شدید آرزو مند تھے کہ مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو ایک مرتبہ پھر حاصل کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے 10مئی 1931ء کو بھوپال میں جداگانہ اور مخلوط انتخابات کے حامی مسلمان رہنماؤں کی کانفرنس بلائی تاکہ ان میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس کانفرنس میں علامہ اقبالؒ‘ ڈاکٹر مختار انصاری، سر محمد شفیع، تصدق احمد شیروانی اور شعیب قریشی کے علاوہ خود نواب بھوپال بھی شریک ہوئے۔ علامہ اقبال لاہور سے 9 مئی بھوپال کے لئے روانہ ہوئے اور 10مئی بھوپال پہنچے۔ اقبال حسین خان، ندیم خاص (ADC) نے اسٹیشن پر ان کا استقبال کیا۔ محل تک کار میں آتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ بھئی ہمارے خیال میں تو ریاست کشمیر نواب بھوپال کو دے دی جائے اور بھوپال مہاراجہ کشمیر کو۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں ہندوؤں کی، اسی دن صبح گیارہ بجے علامہ اقبال کی نواب بھوپال سے ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد علامہ اقبال نے کہا‘ میں نہیں سمجھتا تھا کہ ہندوستان کا ایک والئی ریاست ایسا عالی دماغ بھی ہو سکتا ہے۔ نواب صاحب قوم و ملک کے لئے ایک قابل فخر ہستی ہیں‘‘۔
اسی شام مسلمان رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ 12 مئی کو علامہ اقبال‘ سر محمد شفیع‘ مولانا شوکت علی اور تصدق احمد خاں شیروانی کے دستخطوں سے یہ بیان شائع ہوا:‘‘ ہم 10مئی کو بھوپال میں ایک غیر رسمی اجلاس میں جمع ہوئے تاکہ ان اختلافات کو مٹائیں جن کی بنا پر مسلمان اس وقت دو سیاسی طبقوں میں تقسیم ہو رہے ہیں، ہمارا مقصد ہندو مسلم سوال کے حل کرنے میں آسانیاں پیدا کرنا تھا۔ ہماری متفقہ رائے ہے کہ اس منزل پر بحث و تمحیص کی تفصیلات شائع کرنا مفاد عامہ کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ہم خوشی سے بیان کرتے ہیں کہ طرفین کے درمیان انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوتی رہی۔۔۔ جون کا پہلا ہفتہ مزید گفت و شنید کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس وقت آخری اور تسلی بخش فیصلہ ہو جائے گا‘‘۔
لاہور پہنچنے پر انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی بھوپال سے واپسی پر شملہ میں گاندھی جی کے مکان پر گئے اور انہیں اطلاع دی کہ نواب بھوپال نے جن اصحاب کو مدعو کیا تھا۔ انہوں نے عارضی میثاق مرتب کر لیا ہے۔ اس میثاق میں جو فامولا پیش کیا گیا ہے اس میں جداگانہ اور مخلوط انتخاب کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ فارمولہ تقریباً دس سال تک نافذ رہے گا اور اس کے بعد ہر جگہ مخلوط انتخاب ہو گا۔ اس پر 15مئی 1931ء کو علامہ اقبالؒ نے ایک بیان میں  کہا: ’’چونکہ میں بھی مدعو تھا اس لئے میں یہ ظاہر کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر انصاری اور مسٹر شعیب نے بھوپال کانفرنس میں پیش کردہ ایسی تجاویز کو جن پر بحث بھی نہیں ہوئی بمنزلہ عارضی میثاق پیش کیا ہے تو انہوں نے یقیناً نہ صرف ان لوگوں کے ساتھ جن سے انہوں نے گفت و شنید کی بلکہ تمام مسلم قوم کے ساتھ برائی کی۔ میں اسے کامل طور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عارضی میثاق کی قسم کی کوئی چیز حاضرین جلسہ کے خیال میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔ ایسی تجاویز کو جن پر کسی قسم کی بحث بھی نہیں ہوئی، گاندھی جی کے پاس بھاگے بھاگے لے جانے اور انہیں عارضی میثاق کے نام سے تعبیر کرنے سے شبہ ہوتا ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس میںکوئی حقیقت ہے  تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس مں کوئی حقیقت ہے تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال یا شملہ میں دوسرا جلسہ کرنا نہ صرف مفید نہ ہوگا بلکہ لازمی طور پر مسلمانون ہند کے مفاد کے لئے ضرر رساں ہوگا‘‘۔ اس طرح گاندھی جی کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی نے مسلم رہنماؤں کو متحد کرنے کی نواب بھوپال کی کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔ اس جلاس کے انعقاد سے پتہ چلتا ہے کہ نواب بھوپال سمجھتے تھے کہ جو چند افراد مسلمانوں  کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے بارے میں علامہ اقبال کی باتوں  سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ 10 مئی 1931ء کو ان سے پہلی دفعہ ملے اور پہلی ہی ملاقات میں ان کا یہ تاثر تھا کہ وہ عالی دماغ حکمران ہیں۔
سر راس مسعود نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو نواب بھوپال کے کہنے پر ان کی ریاست میں وزیر تعلیم و صحت و امور عامہ کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال کے تعلقات میں جو فروغ ہو اس میں سرراس مسعود کا اہم رول ہے۔ علامہ اقبال اپنے گلے کی بیماری کی وجہ سے سخت پریشان رہتے تھے کیونکہ کوئی علاج کارگر نہیں ہو رہا تھا۔ سر راس مسعود کو علامہ اقبال کی مسلسل علالت سے پریشانی تھی۔ نواب بھوپال بھی ان کی علالت سے فکر مند تھے۔ دونوں حضرات کی خواہش تھی کہ وہ بھوپال آکر بجلی کا علاج کرائیں۔ چنانچہ جب راس مسعود نے انہیں گلے کے علاج کے لئے بھوپال بلایا تو انہوں نے حامی بھر لی۔ 31 جنوری 1935ء کو اقبال بھوپال پہنچے۔ راس مسعود کے پرنسل سیکرٹری ممنون حسن خاں لکھتے ہیں: علامہ اقبالؒ کو لینے کے لئے سر راس مسعود اور میں ریلوے اسٹیشن گئے تھے۔ اگرچہ شاہی مہمان کی حیثیت سے نہیں آرہے تھے۔ پھر بھی نواب بھوپال نے اپنے ملٹری سیکرٹری کرنل اقبال محمد خاں کو اپنے نمائندے کو طور پر ان کے استقبال کے لئے بھیجا تھا۔ جب گاڑی آئی تو ایک صاحب افغانی ٹوپی شلوار اور پنجابی کوٹ میں  ملبوس پلیٹ فارم پر اترے ۔ یہ علامہ اقبالؒ تھے سر راس کی ان پر نظر پڑی، تو استقبال کے لئے تیزی سے ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔  کرنل اقبال محمد خاں نے آگے بڑھ کر کہا کہ نواب بھوپال نے سلام کے بعد کہا ہے کہ اگر آپ اور سرراس مسعود اجازت دیں تو آپ کے قیام کا انتظام شاہی مہمان خانے میں کیا جائے۔ آپ کے وہاں قیام سے نواب صاحب کو بے حد خوشی ہو گی۔ علامہ اقبالؒ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں تو اس وقت اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں۔ نواب صاحب سے ضرور ملوں گا۔ ان کو میرا سلام اور شکریہ پہنچا دیجئے گا۔ دوسرے دن نواب بھوپال سے ملاقات کے لئے علامہ اقبالؒ ’’قصر سلطانی‘‘ روانہ ہوئے۔ گاڑی محل آکر رکی تو نواب صاحب نیچے کی سیڑھی پر علامہ اقبالؒ کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ وہ (نواب بھوپال) ان سے بڑے احترام اور محبت سے ملے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی بزرگ سے مل رہے ہیں۔ پھر نواب صاحب علامہ (اقبالؒ) کو اپنے کمرے میں لے گئے جہاں ہم صرف چار آدمی تھے۔ میں سب سے پیچھے ایک گوشے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلد ہی کافی کا دور چلا۔ نواب صاحب نے صحت کے بارے میں پوچھا تو علامہ اقبالؒ نے بیماری اور علاج کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد گفتگو کا موضوع بدل گیا۔ نواب صاحب نے "An Interpretation of Holy Quran in the Light of Modern Philosophy" (جدید فلسفہ کی روشنی میں قرآن مجید کی تشریح) کے بارے میں دریافت کیا۔ علامہ اقبال نے بتایا کہ اس کتاب کا خاکہ میرے ذہن میں ہے۔ کچھ تیار بھی کر لیا ہے۔ لیکن کچھ کتابیںبیرون ملک ہیں انہیں دیکھ لینا چاہتا ہوں۔ یہ بھی کہا کہ مجھے آکسفورڈ اور کیمبرج میں توسیعی خطبات کے لئے بلایا جا رہا ہے۔ اگر میں وہاں گیا تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ساری ملت اسلامیہ بلکہ ساری دنیا اسے قدر کی نگاہ دے دیکھے گی۔

Monday, 30 December 2013

اسلام، دہشت گردی یا ایک مثالی دین Islam daheshatgardi ya ek Misali deen

غلام نبی کشافیؔ
’’اسلام، دہشت گردی یا ایک مثالی دین‘‘؟

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
یہ عنوان ایک کتاب کا نام ہے جس کے مصنف کوئی عالم دین یا کوئی مسلم دانشور نہیں بلکہ ہندو اسکالر اور صوفی سنت جناب سوامی لکشمی شنکر اچاریہ ہیں۔ موصوف کی پیدائش ۱۹۵۳ء میں اُتر پردیش کے ضلع کانپور میں ایک برہمن خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد جناب سیتا رام ترپاٹھی اور والدہ محترمہ کوشلیا دیوی ٹیچر تھے۔ سوامی جی نے کانپور اور الٰہ آباد سے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ٹھیکیداری کے پیشہ سے جڑ گئے۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی انھوں نے مادیت کو چھوڑ کر روحانیت کی طرف رُخ کرلیا۔ اس درمیان اسلام کے خلاف کئے جارہے پروپگنڈے سے متاثر ہو کر سوامی جی نے ایک کتاب ’اسلامک آتنک واد کا اتہاس‘ لکھی۔ ہندو حلقوں میں کتاب کی زبردست پذیرائی ملنے کے بعد اس کا انگریزی میں ترجمہ The History of Islamic Terrorism کے نام سے ممبئی سے شائع ہوا۔ جبکہ اس سے پہلے اس کا ہندی ایڈیشن لکھنو سے شائع ہوا تھا۔ لیکن بعد میں حق کا علم ہونے پر سوامی جی نے اس پہلی کتاب پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ہندی زبان میں ایک اور کتاب ’’اسلام آتنک یا آدرش‘‘لکھی جو لکھنو سے شائع ہوئی اور اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’اسلام، دہشت گردی یا ایک مثالی دین‘‘ کے نام سے بھی لکھنو سے شائع ہوا ہے۔ چنانچہ پچھلے دنوں میرے ایڈرس پر بھی اس کتاب کی ایک کاپی موصول ہوئی ہے۔ اس کتاب کے صفحات کی تعداد ۱۰۴ ہے۔ مجھے یہ کتاب موضوع و مضمون کے اعتبا رسے اس قدر پسند آئی کہ میں نے اسے ایک ہی نشست میں پڑھ لیا۔ یہ کتاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور اسلامی جہاد کی حقیقت سمجھنے کے لیے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب کا پسِ منظر اور اس کے لکھنے کے وجوہات اور محرکات کے بارے میں مصنف کتاب جناب سوامی لکشمن شنکر اچاریہ ایک جگہ ’جب میںحق سے آشنا ہوا‘ کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
’’کئی سال قبل میں نے ’’دینک جاگرن‘‘ (ہندی اخبار) میں جناب بلراج مدھوک کا مضمون ’’فسادات کیوں ہوتے ہیں؟ پڑھا تھا، اس مضمون میں ہند و مسلم فسادات ہونے کے اسباب قرآن مجید میں کافروں سے لڑنے کے لیے اللہ کے فرمان بتائے گئے تھے۔ مضمون میں قرآنِ مجید کی آیتیں بھی درج کی گئی تھیں۔
اس کے بعد دہلی سے شائع کردہ ایک پمفلٹ (پرچہ) ’’قرآن کی چوبیس آیتیں‘‘ جو دیگر مذاہب کے لوگوں سے جھگڑا کرنے کا حکم دیتی ہیں کسی شخص نے مجھے دیا۔ اسے پڑھنے کے بعد میرے دل میں طلب پیدا ہوئی کہ میں قرآن پڑھوں۔ اسلامی کتابوں کی دکان سے قرآن کا ہندی ترجمہ مجھے ملا۔ قرآن مجید کے اس ہندی ترجمہ میں وہ سبھی آیتیں ملیں جو پمفلٹ میں درج تھیں اس لیے میرے دل میں یہ غلط تصور قائم ہوا کہ تاریخ میں ہندوراجاؤں او رمسلم بادشاہوں کے درمیان جنگ میں ہوئی مار کاٹ اور آج کے فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی کا سبب اسلام ہے۔ دماغ میں غلط فہمی بیٹھ چکی تھی۔ اس لیے ہر دہشت گردانہ واقعہ مجھ کو اسلام سے وابستہ دکھائی دینے لگا۔
اسلام، تاریخ اور آج کے واقعات کو جوڑتے ہوئے میں نے ایک کتاب لکھ ڈالی، اسلامی دہشت گردی کی تاریخ، جس کا انگریزی ترجمہ The History of Islamic Terrorism کے نام سے سُدرشن پرکاشن، سیتا کنج، لبرٹی گارڈن، روڈ نمبر ۳، ملاڈ (مغرب) ممبئی ۴۰۰۰۶۴ سے شائع ہوا۔
حال ہی میں میں نے اسلام دھرم کے عالموں کے بیانات کو پڑھا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام تو محبت،خیر سگالی اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ کسی بے گناہ کو قتل کرنا اسلام دھرم کے منافی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فتوے بھی جاری ہوئے۔
اس کے بعد میں نے قرآنِ مجید میں جہاد کے متعلق وارد آیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مسلم علماء سے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ قرآن مجید کی آیتیں اس وقت کے مختلف حالات کے تناظر میں نازل ہوئیں۔ اس لیے قرآن مجید کے صرف ترجمے ہی کو نہ دیکھ کر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کون سی آیت کس حالت اور سیاق میں اتری۔ تبھی اس کا صحیح مفہوم اور مقصد کا پتا چل پائے گا۔
ساتھ ہی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید اسلام کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارا گیا تھا۔ اس لیے قرآن کو صحیح معنی میں جاننے کے لیے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقفیت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
مسلم علماء نے مجھ سے کہا کہ اسلام کے متعلق صحیح معلومات نہ ہونے کے سبب لوگ قرآن مجید کی مقدس آیتوں کا مطلب سمجھ نہیں پاتے۔ اگر آپ نے پورے قرآن مجید کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا مطالعہ کیا ہوتا تو آپ غلط فہمی کا شکار نہ ہوتے۔
مسلم علماء کے مشوروں کے مطابق میں نے سب سے پہلے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا مطالعہ کیا۔ سیرت کی اس کتاب (جیونی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مصنف محمد عنایت اللہ سبحانی مترجم نسیم غازی فلاحی) کامطالعہ کرنے کے بعد اس نظریئے سے جب خلوص نیت کے ساتھ قرآن مجید کا مطالعہ از اول تا آخر کیا تو قرآن مجید کی آیتوں کا صحیح مطلب اور مقصد میری سمجھ میں آنے لگا۔
حق کے واضح ہونے کے بعد اپنی بھول کا احساس ہوا کہ میں لاعلمی کے سبب غلط فہمی کا شکار تھا اور اسی وجہ سے میں نے اپنی مندرجہ بالا کتاب ’’اسلامی دہشت گردی کی تاریخ‘‘ میں دہشت گردی کا تعلق اسلام سے جوڑا ہے جس کا مجھے بے حد افسوس اور دلی قلق ہے۔میں اللہ کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے اور سبھی مسلمان بھائیوں سے علی الاعلان اجتماعی طور پر معافی مانگتا ہوں اور لاعلمی میں لکھے بولے ہوئے الفاظ کو واپس لیتا ہوں، عوام سے میری اپیل ہے کہ ’’اسلامی دہشت گردی کی تاریخ‘‘ (The History of Islamic Terrorism) نامی میری کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اسے صفر سمجھیں‘‘۔ (ص: ۹تا۱۱)
علمی اور اخلاقی دنیا میں سب سے بڑا اور سخت مرحلہ وہ ہوتا ہے جب آدمی کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اصل میں یہ صاحب عزیمت لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ میں نے اس طرح کے بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو اپنی غلطی مان کر معافی مانگیں۔ سوامی جی نے اس سلسلہ میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر دور دور تک نظر نہیں آتی ہے۔
کتاب کے صفحہ ۷ پر ’’چند اسلامی اصطلاحات‘‘ کے عنوان کے تحت ’’ایمان، اہل کتاب، کافر، رسول، نبی اور جہاد کے لغوی اور اصطلاحی معانی بتائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ ’’کافر‘‘ کی وضاحت سوامی جی اس طرح فرماتے ہیں۔
’’کافر، کفر کرنے والا یعنی انکار کرنے والا، سچائی کو چھپانے وال، ناشکرا، وہ لوگ جو ان سچائیوں کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں جن کی تعلیم خدا کے پیغمبر نے دی ہے۔ ’کافر‘ لفظ لغوی اعتبار سے اسم صفت ہے، یہ ہتک آمیز لفظ نہیں ہے۔ قرآن میں جہاں بھی خدا اور اس کی تعلیمات اور اس کے احکام کا انکار کرنے والوں کے لیے ’کافر‘ لفظ کا استعمال ہوا ہے تو اس کامقصد گالی، نفرت اور تذلیل نہیں، بلکہ ان کے انکار کرنے کے سبب اظہار حقیقت کے لیے ایسا کہا گیا ہے، کافر، لفظ ہندو کا مترادف بھی نہیں جیسا کہ غلط پروپگنڈا کیا جاتا ہے۔ کافر، لفظ کا تقریباً ہم معنی ’ناستک‘ ہے اسلام کی نگاہ میں کسی شخص کے بھی اس انکار کے سبب نہ تو اسے اس دنیا میں کوئی سزا دی جاسکتی ہے اور نہ کسی انسانی حق سے اسے محروم رکھا جاسکتا ہے۔ وہ دنیاوی معاملات میں مساوی حقوق رکھتا ہے۔
ہر دھرم میں اُس دھرم کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے الگ الگ مخصوص الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہند دھرم میں ان لوگوں کے لیے ناستک، اناریہ، اسبھیہ، دسیو اور ملیچھ الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ جو ہندو دھرم کے پیرو نہ ہوں‘‘۔
اور اسی طرح جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
’’جہاد، انتھک جد وجہد کرنا، مقصد کے حصول کے لیے پوری طاقت لگادینا، جنگ کے لیے قرآن میں ’’قتال‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جہاد کا مفہوم قتال کے معنی میں کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ جو شخص سچائی کے فروغ کے لیے اپنے مال، اپنے قلم، اپنی زبان وغیرہ سے کوشش میں مصروف ہو اور اس کے لیے خود کو تھکاتا ہو، وہ جہاد ہی کررہا ہے۔ سچائی کے لیے جنگ بھی کرنی پڑسکتی ہے اور اس کے لیے جانوں کو قربان بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی جہاد کا ایک حصہ ہے۔ جہاد کو اس وقت اسلامی جہاد کہا جائے گا جبکہ وہ خدا کے لیے ہو اور خدا کی ہدایت کے موافق ہو، نہ کہ مال و دولت کے حصول کے لیے‘‘۔ (ص: ۷،۸)۔
آگے پھر ایک عنوان ایک ’’منصوبہ بند سازش‘‘ کے تحت ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’شروعات کچھ اس طرح ہوئی کہ ہندوستان سمیت دنیا میں اگر کہیں بھی دھماکہ ہوا یا کسی فرد یا افراد کا قتل ہوا اور اس حادثے میں اتفاق سے کوئی مسلمان شامل ہوا تو اسے اسلامی دہشت گردی سے موسوم کیا گیا۔
تھوڑی ہی مدت میں میڈیا سمیت کچھ طاقتوں نے اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اسے خوبصورت منصوبہ بندی کے ذریعے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح میں تبدیل کردیا۔ اس منصوبہ بند سازش کے تحت کئے گئے اس پروپگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج کہیں بھی بم دھاکہ ہوجائے تو اسے فوراً اسلامی دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔اسی ماحول میں پوری دنیا میں عوام کے درمیان میڈیا کے ذریعے سے اور مغربی دنیا سمیت کئی الگ الگ ممالک میں الگ الگ زبانوں میں سینکڑوں کتابیں لکھ لکھ کر اس بات کو پھیلایا گیا کہ دنیا میں دہشت گردی کی جڑ اسلام ہے۔ اس غلط پروپگنڈے میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ کی آیتیں مسلمانوں کو حکم دیتی ہیں کہ وہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں یعنی کافروں سے لڑیں۔ انھیں بے رحمی سے قتل کریں۔ یا انھیں خوف زدہ کر کے زبردستی مسلمان بنائیں۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کریں، یہ جہاد ہے اور اس جہاد کرنے والوں کو اللہ جنت عطا کرے گا۔ اس طرح منصوبہ بند طریقے سے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اسے بے گناہوں کا قاتل دہشت گرد مذہب قرار دے دیا گیا اور جہاد کا مطلب دہشت گردی بتایا گیا‘‘۔ (ص: ۱۲)
آگے پھر سوامی جی نے اسلام کے تئیں بنیادی ماخذ قرآن، سیرت نبوی اور احادیث کو بنیاد بنا کر واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے تاہم انھوں نے قرآن سے استدلال و استشہاد کرنے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت مقدسہ پر ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مختصر سوانح حیات‘‘ کے عنوان کے تحت انتہائی جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے کہ دوران مطالعہ یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ ہم کسی مسلم مصنف کی نہیں بلکہ ایک ایسے ہندو مصنف کی کتاب کو دیکھ رہے ہیں کہ جو کبھی خود اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر افشانی او رہرزہ سرائی کرتے تھے اور دہشت گردی کا رشتہ اسلام اور مسلمانوں سے جوڑتے تھے۔ انھوں نے آپؐ کی سیرت طیبہ کو صرف ۱۳ صفحات میں اس طرح سمیٹ دیا ہے کہ جیسے کہتے ہیں کہ سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔ سیرت طیبہ کے اس مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں :’’پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سیرت پاک سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد اصلی دنیا میں سچائی اور امن کا قیام اور دہشت گردی کی مخالفت ہے۔ لہٰذا اسلام کو تشدد اور دہشت گردی سے جوڑنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اگر کوئی (تشدد کا) واقعہ ہوتا ہے تو اس کواسلام سے یا پوری مسلم امت سے جوڑا نہیں جاسکتا‘‘۔ (ص: ۲۶)
صفحہ ۲۷ تا ۳۳ تک ’’اسلام او ردہشت گردی‘‘ کے عنوان سے ایک پُر مغز اور بصیرت افروز مضمون ہے۔ جس میں سوامی جی نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا اسلام دہشت گردی کا نام ہے یا پھر وہ ایک مثالی دین؟ اس سلسلہ میں وہ قرآن کی چند آیات پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک مثالی اور امن پسند دین ہے اور انھوں نے اس مضمون میں یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی سورتوں اور آیتوں کا پس منظر جانے بغیر قرآن کا مطالعہ نہ کریں او رنہ کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھیں کیا کرنا چاہے؟ آگے پھر تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید کاترجمہ کرتے وقت اس بات کا خاص لحاظ رکھنا پڑتا ہے کہ کسی بھی آیت کا مفہوم ذرا بھی تبدیل نہ ہونے پائے۔ کیونکہ کسی قیمت پر بھی تبدیلی روا نہیں۔ اس لیے الگ الگ زبانوں میں الگ الگ مترجموں کے لکھے ہوئے ترجمے کا مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔ غیر مسلم بھائی اگر اس ترجمے کے مشکل الفاظ کو نہ سمجھ پائیں تو وہ --- مولانا محمد فاروق خان کا ترجمہ کردہ ’’پوتر قرآن‘‘ (ہندی) کا بھی سہارا لے سکتے ہیں‘‘۔ (ص: ۲۷)
مزید آگے پھر درجنوں آیات کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور قرآن کے تعلیمات میں کہیں پر بھی دہشت گردی کا نام و نشان تک نہیں ملتا ہے۔ جیسا کہ وہ مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں:
’’پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک اور قرآن مجید کی ان آیتوں کو دیکھنے کے بعد واضح ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور قرآن کی تعلیمات میں کہیں بھی دہشت گردی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی ناقص معلومات رکھنے والے ہی لاعلمی کے سبب اسلام کو دہشت گردی (آتنک واد) سے جوڑتے ہیں‘‘۔ (ص: ۳۳)
صفحہ ۳۴تا ۶۰ ’’قرآن کی وہ چوبیس آیتیں‘‘ کا مضمون ہے جس میں سوامی جی واضح کرتے ہیں کہ قرآن کی جن چوبیس آیات کو لے کر بعض غیر مسلم دانشور یہ شوشہ پھیلاتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی (آنتک واد) پھیلاتا ہے اور وہ قرآن کی ان آیات کو ان کے سیاق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات وہ پوری آیت بھی نقل نہیں کرتے ہیں اور پھر ان کی من مانی تاویل و تعبیر کرتے عام ہندؤوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے مصنف کتاب سوامی جی نے اپنے اس مضمون میں ان تمام چوبیس آیات کو ان کے سیاق اور پسِ منظر کے ساتھ نقل کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان آیات کا کسی مفروضہ اسلامی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں مصنف کتاب اپنے بارے میں خود ہی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وہ کیسے غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں۔ چنانچہ اس مضمون کے آغاز ہی میں تحریر فرماتے ہیں:
’’کچھ لوگ قرآن کی ۲۴ آیتوں والا ایک پمفلٹ کئی برسوں سے ملک کے عوام کے درمیان تقسیم کررہے ہیں جو ہندوستان کے تقریباً سبھی علاقائی زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ اس پمفلٹ کا عنوان ہے ’’قرآن کی کچھ آیتیں جو ایمان والوں (مسلمانوں) کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے کا حکم دیتی ہیں‘‘ جیسا کہ کتاب کی ابتداء میں ’جب میں حق سے آشنا ہوا‘ میںمیںنے لکھا ہے کہ اس پرچہ کو پڑھ کر میں غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا تھا‘‘۔ (ص: ۳۴)
اس کے بعد قرآن کی ان چوبیس آیات کی وضاحت تفصیل کے ساتھ کرتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’عوام ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں، جو اپنے سیاسی مفاد کے لیے اس طرح کے کاموں سے ملک میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ کیا نہیں جانتے کہ دوسروں سے عزت پانے کے لیے پہلے خود دوسروں کی عزت کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ پہلے خلوصِ دل سے قرآن کو اچھی طرح پڑھ لیں اور اسلام کو جان لیں، پھر اس کے بعد ہی اسلام پر تنقید و تبصرہ کریں ورنہ نہیں‘‘۔ (ص: ۵۹)
اسی طرح صفحہ ۶۱ تا ۷۷ تک ’’قرآن کی اعلیٰ تعلیمات‘‘ کے عنوان سے بھی ایک جامع مضمون پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس مضمون کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفِ کتاب نے قرآن کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور انھوں نے اپنے مضمون میں درجنوں قرآنی آیات کا ترجمہ دیا اور واضح کیا کہ اسلام نہ صرف مثالی اور عدل پر مبنی دین ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ فلاح انسانیت کے لیے قابل عمل نمونہ صرف اسلام میں ہے۔ جیسا کہ وہ ایک جگہ اسلام کے اعلیٰ ترین نظام عدل کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’اسلام کے اعلیٰ ترین نظام عدل کے سبب ہی اسلامی ملکوں میں (جہاں یہ نظام نافذ ہے) قتل، ڈکیٹی، راہ زنی، عصمت دری، زنا اور چوری وغیرہ نہیں ہے۔ دنیا کے لوگ بڑی حیرت سے دیکھتے ہیں کہ دو بئی، ایران، عراق، سعودی عرب، کویت وغیرہ مسلم ممالک میں جمعہ کی اذان ہوتے ہی دکاندار اپنی اپنی دکانوں میں کروڑوں کی قیمت کا کنٹلوں سونا چھوڑ کر نماز پڑھنے کے لیے چل دیتے ہیں، دکان میں کسی کے نہ رہنے پر بھی کبھی کوئی چوری نہیں ہوتی۔ آج ساری دنیا میں نوجوانوں کو افیون سے بنی نشیلی دوائیں ڈس رہی ہیں۔ لیکن یہ اسلامی نظام عدل کا ہی کمال ہے کہ اسلامی نظام عدل کا نفاذ کرنے والے ممالک ان سماجی برائیوں سے محفوظ ہیں‘‘۔ (ص: ۷۳)
اسی طرح صفحہ ۷۸تا ۸۰ تک ایک مضمون ’’پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور ہدایات‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں سوامی جی نے واضح کردیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احادیث اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے احکام و تعلیمات کا ہی نام اسلام ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بہت سی مستند حدیثیں بخاری شریف کے حوالے سے نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ اسلام کا پیغام سچائی اور انسانیت کا پیغام ہے اور اس میں دہشت گردی کی تعلیم دی گئی ہے او رنہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق۔ چنانچہ مضمون کے آخر میں سوامی جی تحریر فرماتے ہیں:
’’اس سے خود بہ خود ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں کہیں بھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کی مخالفت ہی ہے اور جہاد دہشت گردی نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے دہشت گردی کے خلاف ایک کوشش ہے۔
جیسے میں نے اپنی کتاب ’’اسلامک آتنک واد کا اتہاس‘‘ (اسلامی دہشت گردی کی تاریخ) میں ہندو راجاؤں و مسلم بادشاہوں کے درمیان جنگ میں ہوئے خون خرابے کا ذکر کیا تھا اس کے بارے میں اب میری سمجھ میں آیا ہے کہ خون ریزی جنگ کی تھی، خاص فرد کی تھی نہ کہ اسلام کی، جنگ کے دوران میں ایسے خون خرابے ہر ملک میں ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں۔ جیسے تاریخ میں سکندر سے لے کر ہٹلر تک یہی کرتے رہے، اپنے ملک ہندوستان میں اشوک کی کلنگ فتح میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے تھے، ان کے ان دہشت گردانہ کاموں کے لیے ان کا دھرم (دین) مجرم نہیں ہے۔ مسلم بادشاہوں کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا‘‘۔ (ص: ۸۰)
صفحہ ۸۱ تا ۹۸ تک ایک مضمون ’’سنساتن ویدک اور اسلام‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں سوامی جی نے ہندو دھرم کی قدیم کتابوں کے حوالے سے ہندو دھرم اور اسلام کے درمیان توحید کے معاملے میں حیرت انگیز یکسانیت و مماثلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح انھوں نے واضح کردیا ہے کہ ہندو دھرم کی اصل توحید ہے۔ لیکن بعد میں توحید کی جگہ شرک اور بہت سے خداؤں کا غلط نظریہ داخل ہوگیا ہے۔ جیسا کہ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’یہاں بدقسمتی کی بات ہے کہ توحید کی اس حقیقت کو بتلانے والے سنساتن ویدک دھرم آج کتابوں میں ہی سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس کی جگہ شرک اور بہت سے خداؤں کا غلط نظریہ داخل ہوگیا ہے۔ یہاں آج بھی نئے نئے دیوتا، خدا کے نئے نئے اوتار بنتے جارہے ہیں۔ اگر ٹی وی یا کسی فلم میں کسی شخص کو ایشور کا اوتار بنادیا جائے، بڑائی کا پرچار کردیا جائے تو یہاں عوام اس کی پوجا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ان میں سے کئی کئی تو خود کو مجسم خدا ہی کہتے پھر رہے ہیںاور عوام ان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ افسوس اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ باطل اور جھوٹ کا جتنا بول بالا ہمارے یہاں ہے اتنا کہیں نہیں ہے۔ خدا سب کو عقل سلیم دے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ اپنی عقل و شعور دونوں سے ہی کام نہیں لے رہے ہیں‘‘۔ (ص: ۹۳)
سنساتن دھرم (یعنی قدیم ہندو مذہب) کی بنیادی کتابوں -وید، اُپ نشد، گیتا - کی شکل میںموجود ہے اور ان کتابوں میں توحید کا تصور پایا جاتا ہے مگر ان میں بہت سے غلط چیزیں شامل ہونے کی وجہ سے اب ان کے ماننے والوں میں شرک، بت پرستی اور کروڑوں خداؤں کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ بلکہ اب تو ہندو دھرم کے ماننے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے دھرم میں اصل میں ایک ہی خدا کا تصور پایا جاتا ہے۔اس طرح لوگوں کے لیے سوامی جی کی یہ کتاب چشم کشا بھی ہے اور لائق مطالعہ بھی۔
صفحہ ۹۹ پر ’’ہم سب کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان کے تحت مصنف کتاب نے واضح کیا ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ وہ انسانیت کے لیے ہے اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔ نیز انھوں نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںہے اور یہ بھی بتایا کہ دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی بڑی منصوبہ بند سازش کی جارہی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دہشت گرد اگر مسلمان ہی ہوتے تو دہشت گردانہ حملے مسلمانوں پر نہ ہوتے۔ حیدر آباد کی مکہ مسجد اور مالیگاؤں (مہاراشٹر) کی عید گاہ پر یہ حملے نہ ہوتے اور آگے مزید لکھتے ہیں۔
’’مسلم مدرسوں او ردینی وسماجی تنظیموں نیز مسلم علماء کے بارے میں یہ غلط پروپگنڈہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔ اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے میں نے تقریباً تمام معروف سماجی و دینی مسلم تنظیموں کا مطالعہ کیا۔ لیکن وہاں مجھے کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی موید نہیں ملا۔ کہا جاتا ہے کہ مدرسوں میں دہشت گرد بنائے جاتے ہیں۔ مدرسوں میں بنائے گئے ان دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے میں لکھنو میںقائم مدرسہ ندوہ کالج سمیت کئی دیگر مدرسوں میں گیا۔ لیکن وہاں دہشت گردی کی جگہ پر مجھے امن وسلامتی، نظم وانصرام، تہذیب، بڑوں کا احترام اور انسانیت کے تئیں محبت دیکھنے کو ملی--- یہ کتاب لکھنے سے پہلے ہی متعدد مسلم علماء سے میں مل چکا تھا۔ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی الحسنی الندوی (علی میاں) کے ذریعہ قائم کردہ پیام انسانیت فورم نے ملک کے مختلف حصوں میں سیمینار منعقد کئے، جن میں انسانیت پر اظہار خیال کرنے کے لیے مجھے مدعو کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ ملک کی مختلف مسلم تنظیموں اور اداروں نے بھی مجھے اپنے عوامی پروگرواموں میں اظہارِ خیال کا موقع دیا۔ ان سبھی مواقع پر میں بہت سے علماء سے ملا۔ ان سبھی علماء کی سادگی، شرافت اور انسانیت کے لیے ان کے دل کی تڑپ نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مسلم سماجی و دینی تنظیموں او رمسلم علماء سے ملنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ عوام کے درمیان جان بوجھ کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے‘‘۔ (ص: ۱۰۰)
غرض یہ کہ زیر نظر کتاب ’’اسلام دہشت گردی یا ایک مثالی دین‘‘ نہ صرف اول سے آخر تک بلکہ اس کی ایک ایک سطر اور اس کا ایک ایک لفظ پڑھنے اور غور کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف غیر مسلم بھائیوں کو بلکہ عام مسلمانوں کو بھی کرنا چاہئے۔ سوامی جی نے اپنی اس کتاب کو جس محنت وعرق ریزی او رخلوص و محبت سے لکھا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرکے عام مسلمانوں سے معافی بھی مانگی ہے۔ اس سے انھوں نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے دل بھی جیتے ہیں تو وہاں دوسری طرف انھوں نے اپنے سچے اور سلیم الفطرف انسان ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ بلاشبہ اس کتاب کے لکھنے پر سوامی جی خراج تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔
لیکن آخر پر میں اپنے دل کی بھی ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ سوامی جی نے اپنی اس کتاب کو جس تحقیق و جامعیت کے ساتھ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلام کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا ہے اور اسلام کے آفاقی و الہامی دین ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے اور اسے دین انسانیت اور نجات کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے بلکہ کتاب کے مطالعہ کے دوران سطور کے ساتھ بین السطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فطرت سلیمہ شرک و بت پرستی اور ایک سے زائد خداؤں کے تصور سے بھی آیا کرتی ہے۔ اس طرح اس ساری تفصیل و صورت حال کو دیکھنے کے بعد میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ سوامی جی کو اسلام قبول کرکے اپنے ایمان او راعمال صالحہ کے ذریعہ اپنی اخروی ابدی و دائمی زندگی کو کامیاب او رجنت الفردوس میں اپنی جگہ یقینی بنانا چاہئے۔لیکن یہ سب تو اللہ تعالیٰ کی توفیق پر منحصر ہے تاہم ایک بندے کو بھی حق کی تلاش میں کوشش کرنی چاہئے۔ اور میں دعا کرتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ سوامی جی کو قرآن کی اس آیت کا حقیقی مصداق بنا کر انھیں قبولِ اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔
فَمَنْ يُّرِدِ اللہُ اَنْ يَّہْدِيَہٗ يَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ۝۰ۚ (الانعام: ۱۲۵)
پس اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔
فکر عقبیٰ نہ خوف خدا ہے
کیسا نادان وہ آدمی ہے
شرک کرتا ہے زندگی بھر لیکن
سوچتا ہے کہ جنت ملے گی

حکومت کا قیام - اسلامی نقطہ نظر ---- ایک مطالعہ

crtsy: Munsif Hyderabad

Ye Shahdat gahe ulfat mein qadam rakhna hai یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

crtsy: Munsif Hyderabad

Half Alfuzul ki Zarurat حلف الفضول کی ضرورت

crtsy: Munsif daily Hyderabad

Saturday, 7 September 2013

ADB ادب

ادب

…شاہنواز فاروقی …

اسلامی تہذیب کے دائرے میں مسلمانوں کے علم، ذہانیت اور توانائی کا بڑا حصہ دو چیزوں پر صرف ہوا ہے۔ ایک مذہب پر اور دوسرا ادب پر۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مذہبی علم کی اتنی بڑی روایت پیدا کی ہے کہ اس کے آگے تمام ملتوں کا مجموعی مذہبی علم بھی ہیچ ہے۔ اسلامی تہذیب کے دائرے میں موجود ادب کی روایت کو دیکھاجائے تو اس کا معاملہ بھی یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن آج مسلم معاشروں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ کروڑوں پڑھے لکھے کہلانے والے افراد بھی چاقو مارنے کے انداز میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ادب کا فائدہ کیا ہے؟ آخر ادب کیوں تخلیق کیا جائے اور اسے کیوں پڑھا جائے…؟
فائدے کے اس سوال کا تعلق عصر حاضر کی اس عمومی معاشرتی صورت حال سے ہے جس میں پیسہ اعلان کیے بغیر معاشرے کا خدا بن کر بیٹھ گیا ہے اور کروڑوں لوگ اعلان کے بغیر اس کی پوجا کررہے ہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ادب کی تخلیق اور اس کے مطالعے کی افادیت کے بارے میں سوال اٹھانے والے دراصل شاعروں ادیبوں کی معاشی حالت اور ادب کے مطالعے کے معاشی اور سماجی فائدے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسی فضا میں ادب کیا مذہبیت تک ’’افادی‘‘ ہوجاتی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبیت کا ایک پہلو افادی ہوتا جارہا ہے۔ لیکن بعض لوگ جب ادب کے فائدے کا سوال اٹھاتے ہیں تو وہ دراصل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زندگی میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔ اس کا وظیفہ یا Function کیا ہے اور کیا ادب کی تخلیق اور اس کا مطالعہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔؟ جہاں تک پہلی قسم کے لوگوں کے سوال کے جواب اور اس مسئلہ کے طے حل کا تعلق ہے تو اس کے لیے شاعروں، ادیبوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کھلاڑیوں کی طرح ہمارے بینک شاعروں ادیبوں کو لاکھوں روپے کے مشاہرے پر ملازم رکھنے لگیں تو ادب کی افادیت کے سلسلے میں سوال اٹھانے والے اپنے بال بچوں کو شاعر ادیب بنانے کے لیے بیتاب ہوجائیں گے البتہ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو معاشرے میں ادب کے کردار یا اس کے وظیفے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان کے سوال کا قدرے تفصیل سے جواب دینا ضروری ہے۔ اس لیے کہ ہمارے زمانے میں ادب کیا مذہب کے حقیقی کردار کی تفہیم بھی دشوار ہوگئی ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ معاشرے میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔؟
اسلامی تہذیب میں ادب کی حیثیت مذہب کے تو سیعی دائرے کی ہے۔ ہماری تہذیب میں ادب نہ کبھی معنی کا سرچشمہ رہا ہے نہ وہ کبھی مذہب سے جدا ہوا ہے۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب میں ایک زمانہ وہ تھا جب ادب کی ضرورت ہی کا انکار کردیا گیا اور پھر ایک دور وہ آیا جس میں کہا گیا کہ مذہب ختم ہوگیا اب ادب مذہب کی جگہ لے گا۔ ہماری تہذیب میں ادب کے حوالے سے یہ افراط وتفریط کبھی موجود نہیں رہی۔ اس لیے کہ اسلامی تہذیب میں معنی کا چشمہ مذہب ہے چنانچہ ہماری تہذیب میں ادب کا کام یہ ہے کہ وہ معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنائے۔ ادب کے اس کردار نے ہماری روایت میں حقیقت اور مجاز یا Reality اور Appearance کی اصطلاحوں کو جنم دیا ہے اور ہمارے یہاں بڑا ادب اس کو سمجھا جاتا ہے جو بیک وقت حقیقت اور مجاز سے متعلق ہو۔ ہماری تہذیب میں حقیقت کا مطلب خدا اور مجاز کا مطلب ایک سطح پر انسان اور دوسری سطح پر یہ پوری مادی کائنات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حقیقت اور مجاز میں تعلق کیا ہے؟ ہماری تہذیبی اور ادبی روایت میں مجاز حقیقت کا جلوہ، اس کی علامت اور اس کا ایک اشارہ ہے اور ان کے درمیان تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ انسان مجاز کے ذریعے حقیقت سے رشتہ استوار کرتا ہے۔ اس کا فہم حاصل کرتا ہے۔ اس طرح مجاز کی محبت بھی حقیقت کی محبت بن جاتی ہے۔ ہمارے ادب میں محبت اور ہوس کی اصطلاحیں مروج ہیں۔ محبت کو اچھا اور ہوس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ مگر لوگ ان اصطلاحوں کے فرق پر مطلع نہیں ہیں۔ محبت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مجاز کے وسیلے سے بیک وقت مجاز اور حقیقت دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے برعکس محبت ہوس سے اس وقت تبدیل ہوتی ہے جب انسان صرف مجاز میں الجھ کر رہ جائے اور مجاز کے ذریعے حقیقت سے تعلق پیدا نہ کر پائے یا اسے مجاز میں حقیقت کا جلوہ نظر آنا بند ہوجائے۔ ایک شعر ہے۔
ہر بو الہوس نے حُسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ شعور حسن صرف مجاز تک محدود ہوگیا ہے اور نظر کی اس کوتا ہی نے محبت کو ہوس میں تبدیل کردیا ہے لیکن ہوس میں مبتلا لوگوں کو اس کا ادراک نہیں چنانچہ وہ ہوس پرستی کو بھی محبت سمجھے چلے جارہے ہیں۔ ہماری شاعری بالخصوص غزل کی شاعری اور داستان کی روایت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حقیقت اور مجاز کی یکجائی اور پیشکش کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ یہ اتنا بڑا تخلیقی اور تہذیبی کارنامہ ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کارنامے کے ذریعے معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنایا گیا ہے۔ ہماری غزل کی شاعری کا قابل ذکر حصہ حقیقت اور مجاز کی وحدت کا حامل ہے اور داستانوں میں ایک سطح پر روحانی تجربے کا بیان ہے اور دوسری سطح پر عام کہانی کا بیان ہے۔ لیکن ادب معلوم کو محسوس مجرد کو ٹھوس اور غیب کو حضور کیسے بناتا ہے؟ اس کی ایک مثال اقبال کی شاعری ہے۔ اقبال کی شاعری میں مومن اور شاہین دو تصورات کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اقبال نے جذبے، احساس اور مخصوص تہذیبی اور تاریخی تناظر کے ذریعے انہیں کروڑوں لوگوں کا تجربہ بنادیا ہے۔ اقبال کی شاعری کے پردے پر مومن اور شاہین ٹھیک اسی طرح طلوع ہوتے ہیں جیسے سینما کے پردے پر ہیروز نمودار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کی ایک اور مثال قرۃ العین کے ناول ہیں۔ تاریخ ایک فلسفہ اور ایک مجرد تصور ہے۔ لیکن قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں وہ انسانی کرداروں ان کی آرزئوں تمنائوں اور عمل کی صورت میں سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جبلت اور جعلی اخلاقیات دو تصورات ہیں لیکن غلام عباس نے اپنے معرکہ آراء افسانے آنندی میں اخلاقیات اور جبلت کی کشمکش اور جبلت کی جعلی اخلاقیات پر فتح کے حوالے سے ایک شہر آباد ہوتا دکھا دیا ہے۔ معلوم کو محسوس، مجرد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنانے کی اس اہلیت کی وجہ سے ادب کو باقی تمام علوم وفنون پر فوقیت حاصل ہے۔ لیکن ادب کی اہمیت کا معاملہ یہیں تک محدود نہیں۔
سلیم احمد نے کہا ہے۔
کوئی نہیں جو پتا دے دلوں کی حالت کا
کہ سارے شہر کے اخبار ہیں خبر کے بغیر
یہ اخبار کی رسائی اور نارسائی دونوں کا بیان ہے۔ اخبار اور ادب میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اخبار ظاہر کا ادب اور ادب باطن کا اخبار ہے۔ ظاہر کا ادب صرف یہ بتاسکتا ہے کہ ظاہر میں کیا ہورہا ہے لیکن انسان، معاشرے اور تہذیب کے باطن کی خبردینا صرف ادب کا کام ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ سرسید احمد خان ہمارے معاشرے میں جدیدیت کی پہلی اور سب سے بڑی علامت ہیں لیکن سلیم احمد نے اپنی کتاب غالب کون میں دکھایا ہے کہ وہ زندگی جس کا تجربہ آج ہم کررہے ہیں اس کا شعور غالب کے یہاں بہت پہلے سے موجود تھا۔ اسی طرح اقبال نے عہد غلامی میں اسلام اور مسلمانوں کے عروج کے ترانے گائے ہیں اور جس وقت یہ ترانے تخلیق ہورہے تھے بہت سے لوگ انہیں ’’مجذوب کی بڑ‘‘ سمجھتے تھے لیکن حالات وواقعات نے ثابت کیا کہ اقبال کا تخلیقی تصور اس دنیا کو وضاحت کے ساتھ دیکھ رہا تھا جو ابھی پیدا ہونی تھی۔ دوستو وسکی کا زمانہ روسی انقلاب سے پہلے کا زمانہ ہے لیکن دوستو وسکی کے ناولوں میں انقلاب کی چاپ کو صاف طور پر سنا جاسکتا ہے۔ ادب کے متن یا Text کی کثیر الجہتی یا Multi Dimensionality ادب کا ایک اور بہت بڑا امتیاز ہے۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ تمام علوم اپنی روایت اور اپنے مخصوص تناظر کی پاسداری کرتے ہیں۔ نفسیات، نفسیات کی روایت اور تناظر کو کام میں لاتی ہے۔ عمرانیات اپنی مخصوص روایت اور تناظر کی اسیر ہوتی ہے لیکن ادب تجربے کی تشکیل اور ابلاغ کے سلسلے میں بے انتہاء وسیع المشرب ہوتا ہے چنانچہ ادب میں مذہب، فلسفے، نفسیات، عمرانیات اور طبیعات کے دھارے باہم مدغم ہو کر ایک نئی صورت اختیار کررہے ہوتے ہیں۔ یہ کام شاعری میں بھی ہوتا ہے اور افسانے اور ناول میں بھی۔ یہاں تک کہ ادب کی اعلیٰ تنقید بھی ادب کی وسیع المشربی سے فیض یاب ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو اردو ادب میں فراق، عسکری اور سلیم احمد اور انگریزی میں ڈی ایچ لارنس اور ٹی ایس ایلیٹ کی تنقید پڑھنی چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تنقید کو بھی تہذیبی بنا دیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کی معنویت اور قوت کا اظہار یا تو مذہب میں ہوتا ہے یا ادب میں۔ اعلیٰ مذہبی اور ادبی متن کا فرق یہ ہے کہ مذہبی متن قاری کو لفظ اور معنی کی گہرائی سے آشنا کرتا ہے اور ادبی متن لفظ اور معنی کے تنوع سے۔ چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں کہ مذہب اور ادب کے مطالعے کے بغیر کسی کو زبان آجائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ادب بالخصوص شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں مگر لوگ اس مسئلے پر زیادہ غور نہیں کرتے۔ ادب کے دو پہلو ہیں ایک تفہیمی اور دوسرا تاثیری۔ تفہیم کا تعلق خیال سے ہوتا ہے اور خیال کا ترجمہ بڑی حد تک ممکن ہے مگر تاثیر کا تعلق کسی زبان کی پوری تہذیب، تاریخ، اظہار کے سانچوں اور اسالیب سے ہے چنانچہ اس کا ترجمہ ممکن نہیں ہوپاتا۔ اس نکتہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ادب کسی قوم اور کسی زبان کی پوری تہذیب اور مزاج کا اظہار ہوتا ہے اس لیے ادب کے مطالعے کے ذریعے ہم کسی تہذیب کی روح تک پہنچ سکتے ہیں۔