Search This Blog

Showing posts with label RELIGION. Show all posts
Showing posts with label RELIGION. Show all posts

Wednesday, 9 January 2013

غلبۂ دین کی بشارتیں

ڈاکٹر تنویر احمد خاں«
غلبۂ دین کی بشارتیں
اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مبعوث کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ لوگوں کو بشارت و خوش خبری دینے والے اور بُرے انجام سے ڈرانے والے ہوتے تھے۔
رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔                 ﴿النسآء:۱۶۵
’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجے گئے‘‘۔
پھر اُن کے نزدیک بشارت کا واضح تصور یہ ہوتا تھا کہ انسان آخرت میں جہنم کی آگ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیاجائے ۔اِسی خوش خبری کو ہی قرآن حکیم نے بڑی کامیابی کہا ہے۔مگر اسلام محض آخرت ہی کی کامرانی کی بشارت نہیں دیتا بلکہ اس دنیا میں بھی کامیابی کا سہرا انسانیت کے سر باندھتا ہے، اُس نے اپنے فرماں برداروں کو یہ دعا سکھائی ہے :
      رَبَّنَآ اٰ تِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔﴿بقرہ: ۲۰۱
’’اے ہمارے پروردگار ہم کو دنیا میں بھی بھلائی دے آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا‘‘۔
اس سے ظاہر ہوا کہ انبیاء  ورسل جس مقصد کے لیے بھیجے گئے، اس کا دوسرا حصہ دنیا میں غلبۂ دین کی بشارت ہے ،جس کا وعدہ اُن سے اور اُن پر ایمان لانے والوں سے کیاگیا ہے۔
وَأُخْرَیٰ تُحِبُّونَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔  ﴿سورہ الصف:۱۳
’’اوردوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمھیں دے گا اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی حاصل ہوجانے والی فتح ۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو‘‘
یوں تو تمام انبیاء  علیہم السلام غلبۂ دین ہی کے لیے سعی وجہد کرتے رہے مگر نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فضیلت میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ قرآن کریم میں تین مرتبہ یہ آیت نازل فرمائی گئی ہے:
ہُوَ الَّذِیٓ أَرْسَلَ رَسُولَہ‘ بِالْہُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ‘ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٰ ۔              ﴿الصفٓ اور الفتح﴾
’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق لے کر بھیجا ہے تاکہ تمام وہ جنس دین پر اللہ کے دین کو غالب کردے‘‘۔
 بقول حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ  یہی قرآن حکیم کی مرکزی آیت ہے جس کے گرد قرآن کریم کی تمام آیات گردش کرتی ہیں۔
 بعثت رسولﷺ  کے دو پہلو ہیں : ایک بعثت خاص جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی عربی یا نبی اُمی کہہ کر پکارا گیا ہے جس میں غلبۂ دین کی سعی وجہد براہ راست آپ کو ادا کرنی تھی، دوسری آپﷺ  کی بعثتِ عام جس میں آپﷺ  کو خاتم النبیین اور رحمتہ للعالمینﷺ  کہہ کر مخاطب کیاگیا ہے اور اس حیثیت سے غلبۂ دین کی بشارت آپﷺ  کی تیار کردہ امت مسلمہ کے ذریعے پوری ہوگی۔
جہاں تک آپ ﷺ  کی بعثت ِ خاص کا تعلق ہے تو آپﷺ  نے اللہ کی تائید اور نصرت سے اپنی زندگی میں ہی دین کو ایسا غالب کرکے دکھا دیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی اور وہ منظر پیشین گوئی جو نَصْرُ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیب کے الفاظ میں وارد ہوئی تھی بہ درجہ کمال و تمام عرب میں اُنھیں الفاظ میں پوری ہوئی جس کی تصویر قرآن حکیم نے سورۃ النصر میں کھینچی ہے۔مگر آپ ﷺ  کی بعثت ِ عام جس کا تعلق عالمی غلبے سے ہے اور جس کا ذریعہ امتِ مسلمہ بنے گی، وہ بھی اسی طرح پایۂ تکمیل تک پہنچے گی جس طرح بعثت ِ خاص کی بشارت پایۂ تکمیل پہنچی ہے۔ مگر وہ غلبۂ دین کی بشارت کی تکمیل ابھی باقی ہے بہ قول اقبال:       
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
مگر اب جو آپ دنیا میں ایک تبدیلی دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا ایک گاؤں بن گئی ہے تو یہ اسی نورِ توحید کے اتمام کی تیاری ہے جو مشیت خداوندی کے ذریعے کی جارہی ہے اور یہ جو New World Order ﴿نیا عالمی نظام﴾ کانعرہ ہے یہ اصلاً Jeue world order ﴿یہودی عالمی نظام﴾ کا نعرہ ہے جس نے پوری دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔ مگر حقیقت میں اسلام کا منصفانہ نظام آنے والا ہے ۔ ان شاء اللہ امت مسلمہ کے ہاتھوں غلبۂ دین کی بشارت کی تکمیل ہوگی اور قرائن بتا رہے ہیں کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اوّل دینکم نبوۃٌ ورحمۃٌ وتکون فیکم ماشائ اللّٰہ ان تکون ثم یرفعہااللہ جل جلالہ‘ ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ ماشائ اللّٰہ ان تکون ثم یرفعہااللّٰہ جل جلالہ‘ ۔
’’تمھارے دین کی ابتدائ نبوت اور رحمت سے ہے اور وہ تمھارے درمیان رہے گی جب تک اللہ چاہے گا ۔ پھر اللہ جل جلالہ اس کو اٹھا لے گا۔ پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہوگی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا‘‘۔
ثم تکون ملکاً عاضاً فیکون ماشائ اللّٰہ ان یکون ثم یرفعہ اللّٰہ جل جلالہ‘۔
’’پھر بداطوار بادشاہی ہوگی اور جب تک اللہ چاہے گا رہے گی۔ پھر اللہ اسے بھی اٹھالے گا‘‘۔
 ثم تکون ملکاً جبریۃً فتکون ماشائ اللّٰہ ان تکون ثم یرفعہااللّٰہ جل جلالہ‘۔
’’پھر جبر کی فرماں روائی ہوگی اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ۔ پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا‘‘۔
ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ تعمل فی الناس بسنۃ النبی ویلقی السلام بجرانہ فی الارض یرضیٰ عنہا مساکن السماء
’’پھر وہی خلافت بطریق نبوت ہوگی جو لوگوں کے درمیان نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گی اور اسلام زمین میں پائوں جمائے گا ۔ اس حکومت سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے‘‘۔
ومساکن الارض لاتدع السمائ من قطرالاصبۃ مدراراً ولا تدع الارض من نباتہا وبرکاتہا شیئاً الا أخرجتہ‘۔
’’ ہوں گے اور زمین والے بھی۔ آسمان دل کھول کر اپنی برکتوں کی بارش کرے گا اور زمین اپنے پیٹ کے سارے خزانے اگل دے گی‘‘۔
اس ارشاد نبویﷺ  میں پوری انسانی تاریخ کو پانچ ادوار میں منقسم کیا گیا ہے ،جس کی ابتدا نبوت و رحمت اور جس کی انتہا خلافت بہ طریق نبوت ہے۔ درمیان میں دو ادوار ہیں بد اطوار بادشاہت اور جبر کی فرماں روائی۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بداطوار بادشاہت ماضی کا حصہ بن چکی ہے اور جبر کی فرماں روائی وہ لعنت ہے جس سے آج پوری دنیا پریشان ہے۔ جس طرح بدترین دشمنی وہ ہوتی ہے جو دوستی کے لباس میں کی جائے، اسی طرح بدترین جبر و استبداد وہ ہے جو آزادی ومساوات کے پردے میں کیاجائے  ۔
حدیث کے الفاظ ملکاً جبریۃٌ ﴿جبر کی فرماں روائی﴾ کو سمجھنے کے لئے فراست مومن درکار ہے۔
غلبۂ دین کی بشارت کے سلسلے میں دو احادیث بڑی واضح ہیں ایک تو وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں حضرت مقداد بن اسودؓ  سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ’’دنیا میں نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا مکان باقی رہے گا نہ کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ‘‘ جس میں اللہ اسلام کو داخل نہیں کرے گا‘‘
دوسری حدیث صحیح مسلم میں حضرت ثوبان ؓ  کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر دکھادیا۔ چنان چہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور مغرب بھی! اور یقین رکھو کہ میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر ہوکر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے ہیں‘‘۔
دور ِ حاضر کے اس مرحلے پر غلبۂ دین کی بشارتوں کی تکمیل کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے خوش نصیب افراد کے بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی خوش خبریاں منقول ہیں۔ مثلاً آپﷺ  نے فرمایا:
’’میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت رکھنے والے لوگ میرے بعد ہوں گے، ان میں سے کوئی تمنا کرے گا کہ کاش اپنے اہل وعیال کے بدلے مجھے دیکھے‘‘۔ ﴿بہ روایت حضرت ابوہریرہؓ ، مسلم﴾
ایک موقع پر آپﷺ  نے فرمایا:
’’کاش! میں اپنے بھائیوں کو دیکھ پاتا! صحابہ کرامؓ  نے عرض کیا ہم آپ ﷺ  کے بھائی نہیں، آپﷺ  نے فرمایا: ’’ َانتم اصحابی‘‘ تم تو میرے دوست ہو، میرے بھائی تو وہ ہیں جو بعدکے زمانے میں آئیں گے‘‘۔
عمروبن شعیب،اپنے والد ماجد، اپنے جدامجد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ’’ایمان کے لحاظ سے کون سی مخلوق تمھیں زیادہ پسند ہے؟ لوگ عرض گزار ہوئے فرشتے۔ فرمایا اُنھیں ایمان لانے میں کیا رکاوٹ ہے جب کہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں؟ عرض گزار ہوئے انبیاء ے کرام ؑ ۔ فرمایا انھیں ایمان لانے میں کیا رکاوٹ ہے جب کہ اُن پر وحی نازل ہوتی ہے۔ عرض گزار ہوئے کہ ہم۔ فرمایا تمھیں ایمان لانے میں کیا رکاوٹ ہے جب کہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں‘‘۔چنان چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہ لحاظ ایمان میرے نزدیک وہ لوگ زیادہ پسندیدہ ہیں جو میرے بعد ہوں گے اور قرآن مجید میں لکھے ہوئے کے مطابق ایمان لائیں گے‘‘۔ ﴿مشکوٰۃ شریف بابُ ثواب ھٰذِہ الامۃ﴾
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ہم سے بہتر ہوسکتا ہے جب کہ ہم مسلمان ہوئے اور آپﷺ  کی معیت میں جہاد کیا؟ فرمایا : ’’ہاں وہ لوگ جو میرے بعد میں ہوں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالاں کہ انھوں نے مجھے دیکھانہیں ہوگا‘‘۔ ﴿رواہ احمد﴾
بشارتوں کی تاریخ میں یہ پہلو بڑاعبرتناک ہے کہ بعض گروہ صرف بشارتوں پر آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کرنے کی سعی وجہد نہیں کرتے جو غلبۂ دین کے لئے مطلوب ہیں ۔ پھر اللہ کسی دوسری جماعت کو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے اور یہ گروہ دونوں جہاں کی ناکامی پر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے ۔یہی بات ہے جس کو سورۂ مائدہ میں اس طرح فرمایا گیا ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ﴿تو پھر جائے﴾ اللہ دوسرے بہت سے ایسے لوگوں کو پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے،یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریک اسلامی کے کارکنوں کو اپنے فکر وعمل کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم ان صفات سے کتنے قریب ہیں؟

Sunday, 7 October 2012

Zikr Allah najaz ka rasta

ذکرِاللہ نجا ت کا سفینہ
ایمان کاگہنہ عملِ صالحہ کا قرینہ

اسلام میں ذکرِ اللہ کر نے ، اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے، اس کی نا زل کردہ آ زما ئشوں پر صبر کر نے کو عبادت کا ہم معنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ کا فرما ن ہیـ: تم مجھ کو یاد کیا کرو میں تم کو یاد رکھوںگااور میری شکرگزاری کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔(سورہ بقرہ آیت نمبر۱۵۲)قرآن وحدیث میں اللہ کویاد کرنے یا ذکراللہ کی بہت تاکید آئی ہے۔ اس کی بہت زیادہ فضیلت اور ثواب ہے لہٰذا جس قدر ہو سکے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ جب اللہ کا ذکر کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے تو ایسے آسان اور سہل کام میں سستی اور لاپرواہی کر کے حکم کی خلا ف ورزی کرنا اور اتنا بڑا ثواب کھو کر اپنا نقصان کرنا کیسی بے جا اور برُی بات ہے۔ ربِ کائنات خالق رب السموٰت والارض کا نام لینے میں نہ کسی کے لئے ایمان اور ادب کے بغیرکسی طرح کی کوئی پابندی ہے اور نہ بے جا بند شیںبلکہ ذاکر با للہ کے واسطے شرعی حدود میں ہر طرح کی آزادی اور اختیار ہے۔ تسبیح رکھنے سے ذکراللہ میں مدد ملتی ہے لیکن تسبیح ہاتھ میں رکھنا کوئی دکھلاوا بھی نہیں ہو نا چا ہیے۔ اگر دل میں دکھاوے کی ادنیٰ نیت بھی نہیں تو تسبیح رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، البتہ اس گمان سے کہ تسبیح رکھنے سے ریا کا شائبہ پیداہو رہا ہے تسبیح چھوڑنی چاہے کیونکہ اصل مطلوب اللہ کا ذکر اور دعا و مناجا ت ہے ۔ اس میںاگر شیطان دخل اندازی کر کے کو ئی چال چلے یا دھوکہ دے کہ اس طرح سے ذاکر کوبہکا کر ثواب سے محروم رکھنا چاہے تو اس کا تو ڑ کر نا لازمی ہے۔ ویسے شیطان کبھی انسان کوکبھی دھوکہ دیتا ہے کہ جب دل دنیا کے کاموں میں مشغول ہے تو پھر ذکر کرنے کا کیا فائدہ ؟ یہ بھی غلط انداز فکر ہے ۔ دل سے نیت کر لی تو ذکر کرنے کی، ممکنہ طور اب اگر دل ادھر ادھر بھٹکنے بھی لگے تو ذکر کرنا تب بھی نہیں چھوڑنا چاہے۔ اللہ کا نام لینے پر برابر ثواب ملتا رہے گا ۔ ہا ں پوری کوشش یہ ہو نی چاہے کہ جب ذکر کریں تو دل بھی حاضر وموجودہو اور خشوع وخضو بھی قائم رہے ۔ہم یا درکھیں کہ خالی تسبیح کے دانے ہی نہیں پھیرتے رہنا چاہے کہ نہ دل حاضر ہے اور نہ زبان سے اللہ اللہ کہا جا رہا ہے تو یہ غلط ہے۔ چلتے پھرتے استغفار درود شریف کو کثرت کے ساتھ پڑھتے رہنا چاہے ۔جب گناہ پر ایک مو من کا دل ندامت اور عجز وانکساری کی وجہ سے مغموم اور پریشاںہو تو اسے چا ہیے کہ استغفار کرے اور دل میں بے صبری اور بے قراری سی ہو تو بے شمار درود شریف پڑھنا چاہے ۔ کو شش یہ ہو نی چا ہیے کہ جہاں پر ذکر اللہ کے حلقے ہوں ان سے اپنے کو آ پ کو جڑ نا چاہیے ۔اپنا کوئی رہنمائے تزکیۂ نفس بنا کر شرعی پا بندیو ں کے اندر ذکر بالجہر کی اجازت لے کر یہ کیا جا نا چاہے۔ اس سے دل پر جلدی اثر پڑتا ہے ۔
ذکرکے متعلق اللہ اور اللہ کے رسول صلعم کا ارشاد متعدد جگہ پر آیا ہے۔ سورہ اعراف میں ارشاد ربانی ہے کہ’’اپنے رب کی یاد کیا کر، خواہ اپنے دل میں یعنی آہستہ آواز سے عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ ‘‘ سورہ رعد میں ہے کہ ’’جن لوگوں کو اللہ تعالی اپنی طرف رسائی دیتا ہے، وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ۔خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر میں ایسی ہی خاصیت ہے کہ اس سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے‘‘۔ اس طرح سے کہ اس سے حق تعالیٰ میں اور بندہ میں تعلق بڑھ جاتا ہے اور اطمینان کے لئے بنیاد تعلق با للہ پر ہے…’’مسجدوں میں ایسے لوگ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں کہ ان کو نہ کسی چیز کا خریدناغفلت میں ڈالتا ہے اور نہ کسی چیز کا بیچنا اللہ تعالی کی یاد سے اور نمازپڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے‘‘ (سورہ نور)اور اللہ تعالیٰ کی یاد بہت بڑی چیز ہے یعنی اس میں بہت بڑی فضیلت ہے (سورہ عنکبوت۔اے ایمان والو! تم اللہ کو بہت کثرت سے یاد کرو(سورہ احزاب)۔اے ایمان والو !تم کو تمہارے مال اور اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے (سورہ منافقون)۔اور اپنے رب کا نام لیتے رہواور سب سے الگ ہو کر اسی کے ہوجاؤ الگ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ کا تعلق دوسرے سارے تعلقات پر غالب آجائے (سورہ مزمل)مرادکو پہنچا جو شخص بُرے عقیدوں اور بُرے اخلاق سے پاک ہو گیا اور اپنے رب کانام لیتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ (سورہ اعلیٰ)
حضرت ابوہریرہؓ اور ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان پر خدا کی رحمت چھا جاتی ہے اور ان پر چین وسکون کی کیفیت اُترتی ہے(مسلم شریف)۔حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص ذکر نہ کرتا ہو ان کی حالت مردہ اور زندہ کی سی ہے یعنی پہلا شخص مثل زندہ کے ہے اور دوسرا مثل مردہ کے ،کیونکہ روح کی زندگی بھی اللہ کی یاد ہے ،یہ نہ ہو تو روح مردہ ہے (بخاری ومسلم)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ اللہ تعالی فرماتاہے کہ میں اپنے بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو پھر اگر وہ میرا ذکر اپنے جی میں کرتا ہے تو میں اپنے جی میں اس کا ذکر کرتا ہوں اور اگر وہ مجمع میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کا ذکر ایسے مجمع میں کرتا ہوں جو اس مجمع سے بہتر ہے یعنی فرشتوں اور پیغمبروںؑ کے مجمع میں ۔(بخاری ومسلم)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ جب تم جنت کے باغوں میں گزرا کرو تواس کے میوے منہ چھٹ کھایا کرو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں؟ آپ صلعم نے فرمایا کہ ذکر کے حلقے اور مجمعے(ترمذی)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ جو شخص کسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس پر گھاٹا ہو گا اور جو شخص کسی جگہ لیٹے جس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گھاٹا ہو گا (ابوداود )۔ عبداللہ بن بسرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ کہ ایک شخص نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ صلعم اسلام کے شرعی اعمال مجھ پر بہت ہو گئے، مراد یہ کہ نفلی اعمال ہیں کیونکہ تاکیدی اعمال بہت نہیں ہیں مطلب یہ کہ ثواب کے کام اتنے ہیں کہ سب کا یاد رکھنا اور عمل کرنا بہت مشکل ہے ،اس لئے آپ ؐمجھ کو کوئی ایسی چیز بتا دیجئے کہ اس کا پابند ہو جا ؤں اور وہ سب کے بدلے میں کافی ہو جائے ۔آپ صلعم نے فرمایا کہ اس کی پابندی کروکہ تمہاری زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں رہے (ترمذی ابن ماجہ )۔حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا سے سوال کیا گیا کہ بندوں میں سب سے افضل اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اور سب سے برتر کون ہو گا؟آپ صلعم نے فرمایا کہ جو مرد کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور جو عورتیں اسی طرح کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی ہیں۔ (ترمذی)حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ ہر شیٔ کی ایک قلعی ہے اور دلوں کی قلعی اللہ کا ذکر ہے۔(بیہقی)حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ شیطان آدمی کے قلب پر چمٹا رہتا ہے جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ہٹ جاتا ہے اور جب یاد سے غافل ہو جاتا ہے تو وسوسہ ڈالنے لگتا ہے۔ (بخاری)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ اللہ کے سوا بہت کلام مت کیا کرو کیونکہ ذکراللہ کے سوا بہت کلام کرنا قلب میں سختی پیدا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اللہ سے دور وہ قلب ہے جس میں سختی ہو۔ (ترمذی)ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اصل صفائی اچھے عملوں سے ہوتی ہے اور اصل سختی برے عملوں سے اور دونوں عملوں کی جڑ قلب کا ارادہ ہے اور ارادہ کی جڑ خیال ،پس جب ذکر میں کمی ہوتی ہے تو شیطان برے برے خیال دل میں پیدا کرتا ہے جس سے بُرے بُرے ارادوں کی نوبت آجاتی ہے اور نیک ارادوں کی ہمت نہیں رہتی ،نیک کام نہیں ہوتے اور برے کام ہونے لگتے ہیں اور جب ذکر کی کثرت ہوتی ہے تو بُرے خیال قلب میں پیدا نہیں ہوتے پس بُرا ارادہ بھی نہیں ہوتا اور گناہ بھی نہیں ہوتے اور نیک کاموں کا ارادہ اور نیک کام ہوتے ہیں ۔اس طرح صفائی اور روشنی قلب میں پیدا ہوتی ہے مگر یہ باتیں خود بخود نہیں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خالی ذکر کرے اور نیک کاموں کے کرنے کا ارادہ اور برے کاموں سے بچنے کا ارادہ اور ہمت نہ کرے تو وہ دھوکہ میں ہے ۔ابوسعیدؓ خدری سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ بہت لوگ دنیا میں نرم نرم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہوں گے ،اللہ تعالی ان کو اونچے اونچے درجوں میں داخل کر دے گا ۔انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا اس کثرت سے اللہ کا ذکر کرو کہ لوگ مجنون کہنے لگیں ۔طبرانی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایاکہ اتنا اللہ کا ذکر کرو کہ منافق یعنی بددین لوگ تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ذکر کامطلب صرف اللہ اللہ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ قرآن کی تلاوت کرنا یہ بھی ذکر ہے، دینی کتب کا ہدایت طلبی پڑھنا یہ بھی ذکر اللہ ہے ،کسی کو دین کی بات سنانا یا کسی جگہ پر بیٹھ کر دین کی بات سننا یہ بھی ذکر حق ہے ۔اللہ کرے کہ ہم اس کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے والے بن جائیں کہ مرتے مرتے زبان خود بول پڑے اللہ اللہ۔ یہی ہماری کا میا بی اور سرخروئی کا نسخہ ہے۔
muftia786@gmail.com

Friday, 27 July 2012

تمباکو نوشی ترک نہ کر نا بے ہو شی

تمباکو نوشی ترک نہ کر نا بے ہو شی
اس عادت ِ بد سے کریں سو بار الحذر


آج کل بہت لوگ ہیں جو تمباکو نوشی کی عادت کا شکار نظر آتے ہیں۔اگر ان سے تمباکو نوشی کی ضرورت یا وجہ دریافت کی جاتی ہے توعموما بغلیں جھانکنے لگتے ہیں اور ان سے کوئی جواب بن نہیں پڑتا ہے۔ اگر کسی وقت مجبور ہو جائیں تو بجائے کسی ناصح مشفق کی ہدایت سے فائدہ اٹھاکر اس کا مشکور ہونے کے اُلٹا بحث کرنے اور جھو ٹ موٹ فرضی مفاد بتلانے اور نا معقول وجوہات پیش کرکے ٹالنے لگ جاتے ہیں

جن سے کہ عقلمند یا ناصح یا معترض کی تسلی خاک بھی نہیں ہوتی۔ ہاں ان کے جواب اس وقت عوام میں ایک غلط فہمی ضرور پھیلتی ہے جس کا رفع کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً
پہلی وجہ:وہ یہ بتلاتے ہیں کہ چونکہ امراء و غرباء اور بعض علماء ارو درویش لوگ اور وقت کے بادشاہ انگریز بھی اس کا استعمال کرتے ہیں ،اس لئے ہم تمبا کوپیتے ہیں۔
دوسری وجہ: بتاتے ہیں کہ تمباکو قبض کشا ہے ۔ پاخانہ یا فراغت آسانی سے ہو جا تی ہے ۔ اگر سویرے بسترے سے اٹھتے ہی حقہ کشید نہ کریں تو دن بھر قبض رہتا ہے ۔
تیسری وجہ: یہ کہ گندی رطوبت اور بلغم وغیرہ خارج ہوکر معدہ صاف ہوجاتا ہے ۔اگر بلغم اندر کی اندر ہی رہے تو بیمار ہونے کا اندیشہ ہے۔
چوتھی وجہ: یہ کہ فرصت اور تنہائی کا ساتھی ہے اور نہایت اچھا شغل ہے۔ دن کا کا ٹنابڑے آرام سے ہوجاتا ہے ، ورنہ بیکاری اور تنہائی کے وقت انسان کرے بھی تو کیا کرے ؟
پانچویں وجہ: یہ کہ اگر اس کو استعمال میں نہ لانا تھا تو خدا نے اس کو پیدا ہی کیوں کیا تھا؟کیا کوئی چیز دنیا میں بے فائدہ ہوسکتی ہے ؟
چھٹی وجہ: یہ کہ اگر کوئی ملاقاتی یا مہمان گھر پر آجائیں تو اس کی خاطر تواضع کا کام بہت اچھی طرح سے نکل سکتا ہے اور صرف ایک تمباکو ہی ہے جس پر کم خرچ بالا نشین والی مثل صادق آتی ہے۔ خرچ نہایت کم اور نہ کرنے کے برابر کرنا پڑتا ہے اور نام بہت ہو جاتا ہے ۔
ساتویں وجہ: یہ کہ تمباکو مختلف بیماریوں کے جراثیم کو ہلاک کرکے انسان کی صحت کو ٹھیک رکھتا ہے۔ المختصر تمبا کو نو شی کے عادی اسی قسم کی نا معقول اور بے بنیاد وجوہات اور فرضی مفاد ثابت کردیتے ہیں۔
چونکہ یہ تمام وجوہات نا تسلی بخش اور عوام کو گمراہ کرنے والی ہیں، اس لئے لازم ہے کہ ان تمام مفاد اور وجوہات پر ایک محققانہ نظر ڈال کر ان کے حسن و قبح کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا جائے۔
پہلی وجہ: جو تمباکو نوشی کے حق میں پیش کی گئی ہے ، اس کے نا تسلی بخش اور نامعقول ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان خواہ میر ہو، خواہ غریب ،ہندوستانی ہو خواہ انگریز… انسان ہونے کی حالت میں مساوی ہے۔ اس لئے امارت و ریاست کی بدولت اگرکوئی چکر ورتی راجہ اور ادبار فلاکت کے لحاظ سے دو مڑی کا کنگال کیوں نہ ہو اور پیدائش کے لحاظ سے سوپشت سے انگلستان کا رہنے والا کیوں نہ ہو چونکہ وہ ا نسان ہے، اس لئے غلطی کا شکار ہوسکتا ہے اور پھر جن لوگوں کو تمباکو نوشی کی عادت کا شکار بتلا کر معترض کو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یہ بھی نہیں کہ ان لوگوں کیلئے اصولاً یا مذہبا ًتمباکو نوشی بجائے خود اچھی اور مفید چیز ہے ۔ اندھی تقلید نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی بے دلیل تقلید کرنا کسی صاحب نظر اور عقلمند آدمی کا کام ہے ۔ دانائوں کا قول ہے کہ اچھائی حیوان سے بھی لے لینی چاہئے لیکن بری چیز کسی بڑے سے بڑے انسان سے بھی نہ لینی چاہئے۔پس صرف یہ دیکھ کر کہ چونکہ ہر درجہ اور طبقہ کے لوگ پیتے ہیں ہم کو بھی لینا چاہئے، اندھی تقلید اور بڑی بھول ہے ۔
دوسری وجہ بھی قطعی غلط اور بالکل الٹی ہے کیونکہ تمباکو کا دھواں قابض تو ضرور ہے لیکن قبض کشا نہیں ہے کیونکہ وہ گرم خشک ہے۔ایسی چیز کو قبض کشا کہنا عقل ودانش کے خلاف ہے ۔
تیسری وجہ بھی بالکل غلط اور بے معنی ہے۔ بھلا وہ لوگ جو تمباکو نہیں پیتے ہیں کثرت بلغم کی وجہ سے جلدی موت یا بیماری کا شکار کیوں نہیں ہوجاتے؟ ان کی چھاتی اور سینہ زیادتی بلغم کی وجہ سے بالکل کیوں نہیں رک جاتا؟ حقیقت حال یہ ہے کہ تمباکو کا زہریلا دھواں جس طرح حقے کا پانی کو ناپاک اور غلیظ کردیتا ہے ، اسی طرح انسان کے اندر جاکر اس کی رطوبت یعنی خون اور چربی وغیرہ کو رقیق اور خراب کردیتا ہے ۔چونکہ حقہ کا پانی ہر روز ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اس واسطے سالہاسال کے دھوئیں کی تاثیر کی پوری کیفیت اس پانی سے معلوم نہیں ہو سکتی ہے ۔ اگر اس پانی کو چند ہفتوں یا مہینوں تک بھی تبدیل نہ کیا جائے تو پھر بغیر عینک کے نظر آجائے گاکہ تمباکو کا خوفناک دھواں اس پانی کو کس قدر غلیظ سیاہ اور متعفن کردیتا ہے ۔ ممکن ہے کئی چھوٹے چوٹے کیڑے پیدا ہونے لگیں جو عموما گندے سڑے پانیوں کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں۔ ادھر چربی اور خون تبدیل نہیں کیا جاتا ہے، ادھر اس فاسد اورزہریلے مادے کو جو دھوئیں کی بدولت ان میں پیدا ہوتا رہتا ہے ، زیادہ عرصہ تک قدرت قائم نہیں رکھ سکتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح گندے سڑے پانی پر غلیظ جھاگ سی آنے لگتی ہے ،اسی طرح اندر کی رطوبت خراب ہوکر بلغم کی صورت اختیار کرکے خارج ہونے لگتی ہے ۔ چرس کا دھواں چونکہ تمباکو سے زیادہ بدبودار اور زہریلا ہوتا ہے، اس لئے چرس پینے والوں کو جلدی اور زیادہ مقدار میں بلغم آنی شروع ہوتی ہے اور جن لوگوں کی بلغم جس قدر زیا دہ مقدار میں ہر روز خارج ہوتی ہے، اسی قدر آئے دن ان کی صحت بگڑتی چلی جاتی ہے۔ وہی لوگ عموما دمہ اور کھانسی وغیرہ بیماریوں میں مبتلا اور پیش از وقت موت کا شکار ہتے ہیں۔ اکثر کے چہرو ں پر عالم جوانی میں ہی جھریاں پڑ جاتی اور بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ برخلاف اس کے جو لوگ تمباکو کو قطعا ًاستعمال نہیں کرتے ہیں۔ مقابلتاً زیادہ توانا اور طاقتور دیکھے جاتے ہیں ۔ مثلا سکھوں کی قوم جو کہ تمباکو کے استعمال کو مذہباً حرام سمجھتے ہیں ، جن کے اندر سے بلغم تو درکنار کبھی تھوک بھی بے ضرورت خارج نہیں ہوتی، وہ کیسے تندرست اور صحیح سلامت ہوتے ہیں ؟ چنانچہ یہی لوگ عموماً فوجوں میں بھرتی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ تیسری وجہ کس قدر فضول اور نامعقول اورے بے بنیاد ہے ۔
چوتھی وجہ بھی بالکل فضول اور مضحکہ خیز ہے۔ اس پر غور کرنے سے علاوہ اور نقصانات کے اس سے سخت جہالت اور بیوقوفی کی بوُ آتی ہے۔ بھلا اس سے بڑھ کر اور کون بیوقوف ہوگا جو اپنے وقت کی قیمت نہ جانتا ہواور اس کو بوجھ خیال کرتا ہواور مجبور ہوکر حقہ نوشی جیسی بد عادت میں اسے صرف کرتا ہو؟اگر اسی وقت کے چھوٹے چھوٹے حصوں کو جمع کرکے دیکھا جائے تو انہی کا نام زندگی ہوجاتا ہے۔ جس وقت سارا وقت ختم ہوجاتا ہے گویا اس وقت زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر کوئی شخص لاکھ کوشش کرے ایک منٹ بھی دستیاب نہیں ہوسکتا ہے ، نہ قیمتاً نہ عاریتاً ۔سلطنت ہاتھ سے جاتی  رہے تو ممکن ہے کہ پھر کبھی ہاتھ لگ جائے لیکن وقت کا ایک چھوٹے سے چھوٹا حصہ جو ایک دفعہ گذر جائے دوبارہ لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کرنے پر بھی واپس نہیں مل سکتا ہے۔ اس وجہ سے دانا لوگ اپنے وقت کو نہایت قیمتی کاموں میں صرف کرتے ہیںاور ایک لمحہ بھی فضول کاموں میں ضائع نہیں ہونے دیتے ہیںمگر افسوس کہ ہمارے حقہ نوش بھائی نہایت کوتاہ اندیشی سے ا پنی زندگی کی گھڑیاں نہایت برے شغل اور طریقے سے کاٹتے ہیں ۔ کوئی ان بھلے مانسوں سے پوچھے کہ کیا یہ وقت لکھنے پڑھنے اور مطالعہ کتب و اخبارات وغیرہ نہیں گذارا جاسکتا ہے؟ جو تم اپنے کلیجہ جلانے اور صحت خراب کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔
پانچویں وجہ بالکل کمزور اور لغو ہے۔ دنیا میں ہزاروں ایسی چیزیں قدرت نے پیدا کی ہیںجس کے پورے پورے خواص تمام و کمال اوصاف اور صحیح طریق استعمال سے لوگ تاحال ناواقف ہیں، شاید صدیوں تک ناواقف ہی رہیں گے۔ تو کیا اگر لوگ ان کا استعمال نہیں کرتے تو وہ گنہگار ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ کوئی مخلوق شدہ چیز خواہ وہ کوئی کی ہو۔ا گر استعمال کرنے سے مضر ثابت ہو۔ تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ ا بھی اس کے جائز استعمال سے ہم واقف نہیں ہوتے ہیں ۔ دنیا میں ہزاروں چیزیں ہوں گی ۔ جن کو لوگوں نے ابھی تک دیکھا ہی نہیں ہوگا۔ تو پھر کیا ایسی حالت میں لوگ ان کے استعمال نہ کرنے سے گنہگار ہیں۔ ہرگز نہیں۔
المختصر لوگوں کو دنیوی چیزوں سے راحت اور زندگی حاصل کرنی چاہئے نہ کہ دکھ اور موت یعنی ہر ایک چیز کی نسبت دیکھنا یہ چاہئے کہ وہ انسانوں کیلئے مفید کس طرح ہو سکتی ہے نہ یہ کہ چونکہ اس کو قدرت نے پیدا کیا ہے اس لئے استعمال کرنا چاہئے۔ پیدا کرنے کو تواس نے بے شمار چیزیں پیدا کئے ہیں۔ جن میں لکڑی پتھر اور نا پا ک جیسی چیزیں بھی شامل ہیں مگر ہر چیز اپنے اپنے موقع و محل پر کار آمد اور قابل استعمال ہوسکتی ہے نہ کہ ہر ایک موقع ار ہر ایک حال میں ۔
وجہ ششم بھی از سر تا پا غلط اور نامعقول ہے۔ تمباکو نوشی میں خرچ کم نہیں ہوتا ہے بلکہ دوسری چیزوں سے زیادہ ہوتا ہے ، ہاں لوگ محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ جس طرح مینہ یعنی بارش کی ننھی ننھی بوندیں ظاہر ہیں نہایت چھوٹی اور کم مقدار نظر آتی ہے مگر تھوڑی دیر کی لگاتار جھڑی سے جو ہڑ، تالات، اور دریائوں کو اچھال دیتی ہے، اسی طرح تمباکو کوکا خرچ ظاہر میں کم اور تھوڑا معلوم  ہوتا ہے لیکن نتیجہ پر جاکر تمام نشیلی چیزوں سے بڑھ جاتا ہے ۔ اگر ایک دن میں دو چار پیسے کے سگریٹ سگار پھونک دینا ایک نئی روشنی والے جنٹلمین کے واسطے معمولی بات ہے تو امراء اور کوٹھی داروں کے خرچ کی تو کچھ پوچھئے ہی نہیں ۔ بکسوں کے بکس ایک دن میں اُڑ جاتے ہیں۔ ہاں غریب لوگ ایک دو پیسہ کا تمبا کو( واضح رہے یہ مقا لہ ڈوگرہ راج میں مہا جر ملت ؒ نے تحریر فرما یا تھا ، اس لئے آ ج کے مقابلے میں تمباکو سگریٹ کی قیمت ارزاں ہو ا کر تی تھیں ) شاید ایک دو روز میں خرچ کرتے ہوں گے مگر عام طور پر وہ بھی آج کل فیشن کی لہر میں بہہ رہے ہیں۔ بعض ظاہر دار لوگ اپنی غریبی کی وجہ سے دودھ گھی کا استعمال کریںیا نہ کریں ، خوراک پیٹ بھر کر کھائیں نہ کھائیں لیکن سگریٹ دو چار پیسے روزانہ ضرور پھونک ڈالیں گے ۔ غرض کہ اگر ہم ا وسط خرچ ایک پیسہ روزانہ بھی فی شخص لگادیں جو بالکل معمولی ار ہر طرح سے قابل اعتبار ہے ۔ چونکہ اس وقت ہندوستان میں ۳۲ کروڑ کے لگ بھگ انسان آباد ہیں۔ اگر ان میں سے تمباکو پینے والے ۲۰ ہی کروڑ قرار دئے جائیں تو دس کروڑ روپیہ ماہوار کا خرچ تمباکو کا ہوا،اور سال بھر کا خرچ  ۱۲۰ کروڑ روپیہ سمجھئے۔ غالباً اتنا بڑا خرچ باقی تمام نشیلی چیزوں کا نہیں ہوگا۔
یہی ایک پیسہ روز اگر کوئی غریب شخص جمع کرنے لگے تو صرف دس سال کے عرصہ میں ساٹھ روپیہ کے قریب جمع ہوسکتے ہیں جوا س کے واسطے غیر معمولی رقم ہے ۔ اس کا کوئی کپڑا یا برتن خریدا جاسکتا ہے ۔ اس کو بیوپار میں لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے اور کئی کام ہوسکتے ہیں جس کو محض  غلطی سے آگ کی نذر کی اجاتا ہے۔ لہٰذا یہ وجہ ہفتم بھی غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ تمباکو کے دریافت کو صرف چار سو سال کے لگ بھگ گذرے ہوں گے اس سے پہلے اس کو کوئی جانتابھی نہ تھا۔تمباکو کو تاریخی حیثیت سے اہالیان جنوبی امریکہ تمباکو نوشی کے کثرت سے عادی تھے ۔ ۱۴۹۲ء میں جب کولمبس ( جس نے جنوبی امریکہ معلوم کیا) کا جہاز ’’ موضع کوبا‘‘ میں پہونچا تو کولمبس نے دو اادمیوں کو اس جزیرہ کے حالات معلوم کرنے کیلئے ر وانہ کیا۔ واپس ہونے پر ان دو آدمیوں نے اور بہت سے عجائبات بیان کرنے کے علاوہ یہ بھی بتلایا کہ وہاں کے لوگ ایک قسم کی چیز استعمال کرکے اپنے ناک اور منہ سے دھواں نکالتے ہیں ۔ اس کے بعد اور بہت سے دیگر سیاح اس عجیب و غریب عادت کو دیکھ کر اظہار تعجب کرتے رہے لیکن خوش قسمتی سے دنیا کی اکثر آبادی مدتوں تک اس عادت قبیحہ سے محفوظ رہی۔ اگرچہ یہ صحیح طور سے نہیں بتایا جاسکتا کہ اس کا رواج انگلستان اور دوسرے ممالک میںکس وقت آغاز پذیر ہوا۔ تاہم یہ پتہ چلتا ہے کہ پندرھویں صدی عیسوی میں انگلستان میں سب سے پہلے جس شخص نے تمباکو نوشی کی وہ سروالٹرریلی تھا۔ چنانچہ مشہور ہے کہ سروالٹر ریلی کے وفادار نوکر نے جب اس کے منہ سے دھواں نکلتے دیکھا تو فوراً یہ سمجھ کر کہ میرے آقا کے جسم میں آگ لگ گئی ہے ،پانی سے بھری ہوئی بالٹی اس کے جسم پر ڈال دی۔ اس کے بعد تمباکونوشی کا رواج آہستہ آہستہ عالمگیر ہوتا گیااور سترھویں صدری عیسوی کے آغاز عہد اکبری میں پرتگالی لوگ اپنے ہمراہ ہندوستان لائے۔
تمباکو کے برے نتائج اور اس کے روک تھام:
تمباکو کے کثرت استعمال سے جب طرح طرح کی مضرتیں اور نقصانات بالعموم ظاہر ہونے لگے اور لوگوں کی جسمانی حالات کو کافی سے زیادہ نقصان پہنچنے لگا تو مختلف ممالک کے بادشاہوں نے اس کو ترقی کو روکنے کے لئے متفقہ کوششیں کیںاور تمباکو نوشی کو قانوناً جرم قرار دیا۔ چنانچہ انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے تمباکو نوشی کی ممانعت میں تحریری حکم نا مہ نافذ کیا اور جہانگیر بادشاہ نے اپنے عہد حکومت میں یہاں تک تمباکو نوشی کی ممانعت کردی کہ جو کوئی تمباکو پیئے گا اس کے ہونٹ کاٹ دئے جائیں گے۔
تمباکو کے نقصانات
اس کے استعمال سے بوڑھوں کی نسبت جوانوں میں اور جوانوں کی نسبت نوجوانوں میں اس کے نقصانات زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ خاص کر دماغی محنت کرنے والے اور طالب علم میں ، کیونکہ اس کا اثر خاص کر قلب و دماغ پر پڑتا ہے ۔ چنانچہ دن رات اکثرت بات مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ اگر کسی کو پہلے پہل تمباکو کھانے یا سگریٹ یا حقہ پینے کا اتفاق پڑ جائے تو اس کے سر میں چکر آنے لگتا ہے اور یہ کمزوری و متلی معلوم ہونے لگتی ہے ، اختلاج قلب کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور بعض اوقات جس پر پسینہ آجاتا ہے ۔ یہ سب علامتیں زبان حال سے سمجھاتی ہیں کہ تمباکو کسی صورت میں مفید نہیں۔
تمباکو میں کہربائی کا ایک جوہر ہوتا ہے جس کو ’’نیکوٹین‘‘ کہتے ہیں ۔ قلب اور نفس کے مرکز پر اس کا نہایت مضر اثر ہوتا ہے ۔ بسا اوقات ’’نیکوٹین‘‘ کے دو تین قطرہ پینے سے موت واقع ہوتی ہے۔ جو لوگ تمباکو کھاتے یا پیتے ہیں ان کا نظام عصبی کمزور ہوجاتاہے ،جس کے عضلات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور خون رقیق ہوجاتاہے اور اس کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دماغی پرورش نہیں ہوتی ہے۔ دماغی امراض مثلا ًڈرد سر ضعف ِحافظہ ، سکتہ، فالج، مراق، بے خوابی، ضعف بصارت، کھانسی، سل، دق، اختلاج قلب ، دمہ اور ضعف باہ وغیرہ وغیرہ امراض پیدا ہوجاتے ہیں ۔
وجہ ہشتم بھی بالکل غلط اور لوگوں کو سخت دھوکے میںڈالنے والی ہیں۔ لہٰذا ذیل میں دنیا کے بعض نامور ڈاکٹروں کی رائیں اور حکام کے احکام مختصر درج کئے جاتے ہیں جن کے مطالعہ سے قارئین کو خود ہی معلوم ہوجائے گاکہ آیا تمباکو جس کے استعمال سے مختلف بیماریوں کے جر مز ( مراد جرثو مے) کا ہلا ک ہونا بتایا گیا ہے، کہاں تک درست ہے ؟ اور آیا اس کا استعمال مختلف بیماریوں کے جراثیم کو ہلاک کرتا ہے یایہ کہ الٹا متعدد مہلک امراض کا باعث بن جاتا ہے ۔ڈاکٹروں کی رائیں:
(۱ڈاکٹر ولیم ہمنڈ لکھتے ہیں کہ اس میں ہر گزشک نہیں کہ تمباکو نوجوانوں اور بچوں کی تکمیل جسمانی میں ہارج ہوتا ہے اور قد و قامت اور روئیدگی کو مار دیتا ہے ۔
(۲ڈاکٹر ولیم پار کر لکھتے ہیں کہ جو لوگ تمباکو کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں وہ بہت جلد سکتہ اور صرع( مرگی) کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔
(۳)ڈاکٹر ٹیلر صاحب لکھتے ہیں کہ تمباکو نوشی کا اثر دل اور دماغ دونوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔امرا ض دل سکتہ اور مرگی اکثر لاحق ہوتے ہیں ۔
(۴)ڈاکٹر رچرڈسن اپنے تجربہ کی بنا پر لکھتے ہیں کہ’’نیکوٹین‘‘ جو تمباکو کاست اور جوہر ہے ،نہایت سخت زہر ہے ۔ اس کا ایک قطرہ انسان کو جان سے مار دینے کیلئے کافی ہے ۔
 (۵)ڈاکٹر سال صاحب ایک شخص کے دعویٰ کے جواب میں یوں لکھتے ہیں کہ میں تمہارے اس دعویٰ کو سراسر نادانی اور عدم واقفیت سمجھتا ہوں کہ تمباکو ملیریا کے واسطے مفید ہے ۔
 (۶)ڈاکٹر پیڈک صاحب لکھتے ہیں کہ تمباکو دل اور دماغ دونوں کے حق میں زہر قاتل ہے ۔
 (۷)ڈاکٹر ابراہام سپو لکھتے ہیں کہ پہلے عام خیال تھا کہ سکتہ اور مرگی شراب کے استعمال سے ہوتا ہے لیکن اب ثابت ہوگیا اور اس میں ذرا بھی شک نہیں رہا کہ یہ تمباکو کے نتائج بھی ہیں ۔
(۸)ڈاکٹر ہیگ کہتے ہیں کہ تمباکو مرگی کا خوفناک باعث ہے اور اعصابی امراض کی جڑ ہے ۔
(۹)ڈاکٹر ہرشل لکھتے ہیں کہ قریباً دنیا کے تمام اطباء اس بات پر متفق الرائے ہیںکہ تمباکو ایک ایسی زہر ہے کہ جس کو چھونا بھی مضر صحت ہے اور حقیقت میں جو شخص تمباکو کو استعمال کرتا ہے وہ گویا موت کو اپنے ہاں مہمان بلاتا ہے ۔
(۱۰ڈاکٹر ردوائی لکھتے ہیں کہ تمباکو طالب علموں اور نو عمروں کے حق میں نہایت ہی مضر ہے ۔
(۱۱)ڈاکٹر بلایلتھ کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی سے اکثر وں کو بدہضمی، جلدی بیماریاں اور خفقان بھی دیکھا گیا ہے مگر یہ امراض غریبوں کو زیادہ اور امیروں کو بسبب مقوی غذا کھانے کے کم کم ہوتے ہیں اور دوران خون میں خرابی پڑ جاتی ہے ۔ جو لوگ امراض چشم سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بصارت کے واسطے بالخصوص حقہ نوشی سخت مضر ہے ارو اس سے بعض ایسی بیماریاں عائد ہوتی ہے جن کا نتیجہ اندھا پن اور علاج ناممکن ہے ۔
 (۱۲)ڈاکٹر جے ایچ کیلاگ ایم ڈی کا قول ہے کہ تمباکو نوشی سے انسان کا خون معمول سے زیادہ پتلا ہوجاتا ہے ۔ اعصابی اور دماغی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو زہر ، ورنہ اس کی کم مقدار مضر اورنقصان رسان ضرور ہے ۔ خون فاسد،دماغ بھاری ،اور دل مضحمل ہوجاتا ہے۔ جلد نیلی، بصارت کم جگر کا فعل خراب،رگ اور پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ سانس لینے کے مقام پر داغ پڑ جاتے ہیں ۔
(۱۳)ڈاکٹر جی جیس کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ ۹ سے ۲۵ سال تک کی عمر کے کچھ لڑکوں کی صحت کا جو تمباکو پینے کی عادی تھے امتحان لیا۔ ان میں سے ۲۲ لڑکوں کے خون میں خرابی ۔ہاضمہ میں فرق اور دماغ بالکل بیکار تھے اور ان کو اختلاج قلب (دل کا دھڑکنا) کا مرض تھا۔ آٹھ لڑکوں کے خون کو عمل تحلیل الاجزاء سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے خون میں سرخ دانے بالکل کم تھے۔ ۱۲ کو نکسیر کی شکایت تھی۔ ۱۰ ان میں سے خرابی بینائی کے شاکی تھے ۔القصہ ایک لڑکا بھی ان میں کامل تندرست نہیں تھا۔
ایک پروفیسر کی رائے:
            پروفیسر باسکم لکھتے ہیں کہ میں تمباکو کا نام بھی سننا نہیں چاہتا ہوں نہ اس سے انسان کو فائدہ نہ حیوان کو بلکہ الٹا سراسر اس سے نقصان ۔ آدمی کے بدن میں ہزاروں امراض پیدا کردیتا ہے اور بیٹھے بٹھائے جان کو معرض خطرہ میں ڈالتا ہے ۔
سلاطین ِسلف اور تمباکو:
            سلاطینِ سلف تمباکو کو نہایت مضر اور رعایا کے حق میں سم قاتل سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کے انسداد کی غرض سے تمباکو استعمال کرنے والوں کے لئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کررکھی تھیں۔
(۱)پوپ اربن ہشتم کا یہ حکم تھا کہ جو کئی تمباکو پئے گا۔ مذہب سے خارج کیا جائے گا۔
(۲)ایک دفعہ شاہ ایران نے اپنے ملک میں ایک قانون جاری کیا جس کی رُو سے تمباکو نوش عام مجرموں کی طرح گرفتار کیا جاتا تھا اور اس جرم کے بدلے اس کی ناک کاٹ دی جاتی تھی۔
(۳)ماسکو کے گرینڈ ڈیوک نے حکم دیا تھا کہ جو شخص پہلی مرتبہ تمباکو نوشی کے جرم میں گرفتار ہوا۔ اس کو جسمانی سزا دی جائے گی اور جو دوسری دفعہ پکڑا جائے گا اس کو جان سے مار دیا جائے گا۔
(۴ایک دفعہ شاہ جان حکمران حبش کا اعلان جاری ہواکہ اگر کوئی شخص نسوار لیتا گرفتار کیا جائے تو اس کی ناک کاٹی جائے گی اور اگر تمباکو کو پیتا پکڑا جائے گا تو قتل کیا جائے گا۔
(۵)ایک دفعہ ۱۶۶۳ء میں حکمران ترکی نے بھی اپنے ملک میں اعلان کیا تھا کہ جو شخص تمباکو پئے گاجان سے مارا جائے گا۔
(۶)لیپولین ٹالٹ نے ۱۸۶۲ء میں ملک کے تمام مدرسوں میں حکماً تمباکو نوشی کی ممانعت کردی تھی۔
(۷)جیمس اول بادشاہ انگلستان نے اپنے زمانے میں ملک کے اندر حکم نافذ کیا تھا کہ جو شخص حقہ پئے گا اس کی ناک کٹوادی جائے۔
(۸)بادشاہ ایمورتھ چہارم نے تمباکو کے استعمال کو ایک بڑا بھاری گناہ قرار دے کر یہ حکم دیا تھا کہ جو شخص اس کا استعمال کرے گا اس کو سزائے موت دی جائے گا۔
(۹)جہانگیر بادشاہ اپنے عہد میں تمباکو پینے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دیا کرتا تھا اور یہاں تک کہ بعضوں کی ناک کٹوا کر گدھے پر سوار کرکے ان کو سارے شہر میں پھرایا کرتا تھا تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور تمباکو کا پینا مذہباً اوراخلاقاً ناجائز قرار دیا تھا۔
امریکہ کی سرکاری رپورٹ:
امریکہ میں طلباء تمباکو نوشی کی وجہ سے جو برا اثر پڑا ،اس کے متعلق سرکاری رپورٹ میں یوں درج ہوا:
اعضاء و قویٰ کی کمزوری، اعصاب پر برا اثر ، ہاضمہ میں فرق، درد سر، خیالات کی پریشانی، حافظہ کی خرابی، توجہ میں خلل، کمیٔ اشتہائ، اختلاجِ قلب(یعنی دل کا دھڑکنا) رعشہ، بے خوابی، دماغ میں گھبراہٹ، وغیرہ تمباکو نوشی کے نتائج ہیںاور یہ عام اثرات تعلیم کے حاصل کرنے میں حارج اور مانع ہوتے ہیں۔
مر سلہ: عوامی مجلس عمل جمو ں وکشمیر: -  یہ فکرانگیز مقالہ میر واعظ مو لا نا محمد یو سف شاہ کا رشحۂ قلم ہے جسے ماہ صیام کی منا سبت سے افادہ ٔ عامہ کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔( ادارہ)
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar

Tuesday, 24 July 2012

This worldly life is like an unchaste woman



This worldly life is like an unchaste woman

by Ibn Qayyim al-Jawziyyah
This worldly life is like an unchaste woman, who is not satisfied with one husband. So! be satisfied with whatever Allah grants you from this worldy life. Walking thereon is like walking in a land that is filled with beasts, and water that teams with crocodiles. That which causes delight, turns to be the source of grief. Pain is found in the midst of pleasures, and delights are derived from its sorrows. As a bird sees the wheat, so does one’s insight perceive polytheism, while vain desires render its holder blind. Lusts were granted in abundance to humans, but those who believed in the unseen turned away from them! while those who follow their lusts were caused to regret. The first category, are those, in which Allah says,which means,
 They are on (true) guidance from their Lord, and they are the successful. (AI-Baqarah, 2:5) 

However, the other category, are those to whom Allah says which means,

 (0 you disbelievers)! Eat and enjoy yourselves (in this worldly life) for a little while. Verily, you are the MujrimGn (polytheists, disbelievers, sinners, criminals, etc.) (AI-Mursalat,77:46) 

When the successful ones are aware of the reality of this worldly life being sure of the inferiority of its degree, they overcame their vain desires for the sake of the Hereafter. They have been awakened from their heedlessness to remember what their enemies took from them during their period of idleness. Whenever they perceive the distant journey they must undertake, they remember their aim, so it appears easy for them. Whenever life becomes bitter, they remember this verse, in which Allah says, which means,

 “This is your Day which you were promised”. (AI Anbiya’, 21:103) 

Monday, 9 July 2012

دعوتِ دین کے عالمی اثرات

ڈاکٹر اقبال مسعود ندوی*
دعوتِ دین کے عالمی اثرات

اسلام کی دعوت پہلے دن سے ہی جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت دینے کے لیے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دینے والا بناکر بھیجا۔یہ دعوت اسلام کی طرف بھی ہے اور اسلام پر چلنے کی بھی ہے۔ حکمت ، موعظت اور نصح و خیرخواہی کے ساتھ ۔ 
ارشاد باری ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ﴾۔                                          ﴿النحل:۱۲۵
’’اے نبی! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔
یہ دعوت انبیاءؑ  کے لیے بھی مطلوب تھی اور یہی دعوت سب کے لئے ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً قُلْ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْن۔                      ﴿حٰمٓ سجدہ: ۳۳
’’وہ کس قدر بہتر بات کرنے والا ہے جو اللہ کی طرف بلائے ، عمل صالح کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں‘‘۔
یہ دعوت اسلام کے ماننے والوں کے لیے بھی ہے کہ ان کو تذکیر سے یاد دہانی سے دعوت دی جائے۔ یہ دعوت کے ساتھ حکم بھی ہے۔ قانون بھی ہے کہ اس میں داعی، مدعو سب کے حقوق ہیں سب کی ذمے داریاں ہیں اور سب کے حدود کار ہیں۔ مگر ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ حق کی دعوت ہے۔ حق کے لیے ہے ، اللہ کے لیے ہے۔پھر اس میں مضمون بھی درست ہے اور اسلوب بھی مناسب کہ معنی بھی ٹھیک اور ادائی بھی کہ یہی ابلاغ ہے۔ پھر یہ ایک مسلسل عمل ہے :
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ الَی الْخَیْرِ۔            ﴿آل عمران: ۱۰۴
’’تم میں ﴿ہمیشہ﴾ ایسی امت رہے کہ خیر کی دعوت دیتی رہے ، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے‘‘۔
اس کارِ خیر کی ضرورت اس وقت بھی رہتی ہے جب اسلام ابتدائی دور میںہو اور اس وقت بھی جب اسلام غالب ہو۔ اسلام کی تاریخ میں یہ کام ہمیشہ جاری رہا ،کبھی بھرپور طور پر ، کبھی کمزوری کے ساتھ۔ کبھی حکومت کے وسائل کے ساتھ کبھی صرف افراد کے اپنے وسائل کے ساتھ۔ کبھی اسلام کو کھول کر بیان کرکے کبھی اسلام کا دفاع کرکے ، کبھی اسلام پر اعتراضات دور کرکے کبھی مسلمانوں کے اندر پھیلی کمزوریوں اور انحرافات پر توجہ دلاکر کبھی تجدیدی کام کرکے کبھی اصلاح کے ذریعے کبھی کلمۂ حق کہہ کر۔کبھی ایسے افراد تیار کرکے جو ایسی مہمات میں حصہ لیں کبھی علمی اداروں کے قیام سے علم و دعوت دونوں کے افراد کار تیار کرکے۔
جب مسلمانوں کے اندر زوال آیا تو وہ اپنا منصب بھولے اور وہ ادارے کمزور ہوئے جو امت کے اپنے منصب پر قائم رہنے کے لیے ضروری تھے۔ افراد کی حد تک تو کبھی انقطاع نہیں ہوا مگر انفرادی جدوجہد سے بڑھ کر نظام کو وجود میں نہ لاسکے۔
پھر المیہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا سیاسی زوال جب ہوا تو تعلیمی نظام بھی بکھرا، معاشی بدحالی بھی آئی، معاشرتی نظام بھی بکھرا اور فکری لحاظ سے ایک حیرانی اور سرگردانی کی کیفیت ہوئی۔ دوسری طرف وہ طاقتیں اٹھیں جو علمی وفکری لحاظ سے تازہ دم تھیں ۔ سیاسی لحاظ سے ایک نظام سے مربوط تھیں، عسکری طور پر ترقی یافتہ تھیں اور مادی لحاظ سے بہت آگے تک جانے کے لیے تیار افراد بھی تربیت یافتہ تھے۔ ادارے بھی فعال اور جاندار تھے اور ہدف کے لحاظ سے بھی وہ یکسو تھے۔
دھیرے دھیرے مسلمان ممالک محکومی کا شکار ہوئے۔ شروع میں مزاحمت ہوئی مگر قربانی کے علاوہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ مغربی استعمار نے دھیرے دھیرے سیاسی، قانونی، تعلیمی، معاشرتی اور ثقافتی اثرات پھیلائے اور نشانہ یہ رہا کہ مسلمان پھر سے متحدنہ ہوں۔ اس لیے اُنھیں قومیتوں میں تقسیم کیاگیا۔ اسلام کا نظام تعلیم ختم کیاگیا۔ مغربی قوانین کے ذریعے لادینی نظام کی حکمرانی ہوئی، ایسے نظریات اٹھائے گئے کہ مسلمان خود ہی اسلام سے دور ہوں یا اسلام کو مغرب کے رنگ میں رنگیں۔ مغرب سے مرعوبیت کا دور ایسا تھا کہ مغرب ہی حق وباطل کا معیار بن گیا ۔ لیکن پھر ایسی تحریکات اٹھیں جو ایک طرف مسلمانوں کو مغرب کی مرعوبیت سے نکالنے کا ذریعہ بنیں ، دوسری طرف اسلام کی طرف واپسی اور اسلام کی سربلندی کے لیے اٹھیں۔ آزادی کی تحریکوں نے بھی سیاسی میدان میں کام کیا ۔ملک آزاد ہوئے۔
پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ یہ توقع ہوئی کہ اسلام نافذ ہوگا ،مگر ایسے افراد کے ہاتھوں میں باگ ڈور آئی جو نہ صرف مغرب پرست تھے بل کہ اسلام سے متنفر یا کم از کم اس سے بیزار تھے اور اسلام کے آج کے دور میں قابل عمل نہ ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ مگر اسلام سے وابستگی اور مسلمان کہلانا ان کی مجبوری بھی تھی۔ اس لحاظ سے تحریکات کی انرجی ایسے افراد اور نظریات کے خلاف لگی۔ اسی کے ساتھ اسلام کے نمایندہ افراد میں جو مجرد روایت پرستی آگئی تھی اور جس طرح سے دین کے مسائل، فروعی نزاعی مسئلوں تک محدود ہوگئے تھے، اس وجہ سے تحریکات کو روایتی علماکی مخالفت سے واسطہ پڑا اور عوام میں اسلام کے پھیلنے میں یہ کش مکش بڑی رکاوٹ بنی۔
ایک دور ایسا گزرا جب یہ محسوس ہوگیا کہ یہ تحریکات ہی مغرب کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ اس لیے ان کو روکنے میں ہر طرح کے جائز اور ناجائز سب راستے اختیار کیے گئے اور اس کی وجہ سے قید وبند کی سزائوں کے سخت سے سخت مراحل آئے۔ دعوت کا کام رکا تو نہیں مگر عوامی قبولیت سے دوری رہی۔ اس لیے کہ سخت ترین ماحول میں سامنے آنے والے کم ہی ہوتے ہیں۔ پھر یہ طے تھا کہ مغرب ایسی کسی تحریک کو اوپر آنے ہی نہیں دے گا۔مغرب کا کمال یہ تھا کہ ایک طرف ساری مجلس سجائی تھی، جمہوریت کے نام سے مساوات کے نام سے، حقوق انسانی کے نام سے ،انصاف کے نام سے مگر معیار صرف یہ تھا کہ یہ ساری اصطلاحات مغرب کے حق میں ہی رہیں اسلام کو ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا ہے اورنہ فائدہ پہنچانے دیا جاسکتا ہے۔
 پھر نائن الیون کا واقعہ برپا کیاگیا۔ جس کے بعد اسلام کے ذمے ایسی تہمت لگادی گئی کہ اب اسلام مترادف ہوا دہشت گردی ، انتہا پسندی ، غیر مسلموں، اقلیتوں، خواتین کے ساتھ زیادتی کا۔ اور پھر اس دور کے شروع ہونے سے انصاف کا خود اپنا بنایاہواپیمانہ ہی نہ رہا۔ شک وشبہ ہی جرم کے لیے کافی ہوا۔ سزا، عدالت، جرم کا ثابت ہونا غیر ضروری ہوگئے۔ بس پکڑو، مارو، ختم کرو، ستائو، کہ یہی انصاف ہے۔ اس سلسلے میں جو طاقتیں مدمقابل تھیں، وہ تو دو رخی تھیں۔ ایک طرف اسلام تھا۔ دوسری طرف مغرب۔ مگر اسلام کے نام سے مغرب کے ہم نوا افراد، ادارے بھی سرگرم تھے اور ان سب کی قیادت کہنے کوتو امریکہ کے ہاتھ میں تھی، مگر اصل باگ ڈور یہود کے ہاتھ میں تھی۔
لطف یہ ہے کہ یہودی مقاصد اور تھے مغربی مفادات کچھ اور۔ مگر اسلام دشمنی اور اسلام کو اوپر آنے سے روکنے کی خواہش پر اتفاق تھا۔ مغرب کو یہ سمجھایاگیا کہ عالم اسلام میں وسائل غلط ہاتھوں میں ہیں۔ اس لیے مغرب ان پر قبضہ کرلے۔ عالمی نظام کا نعرہ لگایا گیا ۔ عیسائی انتہا پسند گروہ یہودی ریاست کے بچاؤکے لیے کھڑے کیے گئے اور اس کش مکش کو مذہبی رنگ دیا گیا۔مگر خود یہودی مقصد عالمی یہودی غلبہ تھا۔ جس میں افراددوسروں کے استعمال ہوں وسائل دوسروں کے ہوں ، یہود صرف پس پردہ رہ نمائی کریں۔ صورت حال یہ بنائی گئی کہ مغرب اسلام کے مدمقابل ہے اور یہودی مغرب کے ساتھ ہیں۔ مگر یہودی مغرب کو بھی صرف آلۂ کار ہی دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک دونوں طاقتوں کا لڑ کر ختم ہونا ہی یہودی کے اوپر آنے کی لازمی شرط ہے۔ وہ نہ مسلمانوں کے ہمدرد تھے نہ مغرب کے۔ وہ تو صرف اپنے منصوبے کے تحت مغرب کے دوست نما بنے ہوئے تھے۔
مغرب میں کتنے ہی ان منصوبوں سے پریشان تھے مگر یہود نے مغرب کی جو رگ جاں اپنے ہاتھ میں لی تھی اس کے بعد کھل کر کہہ دینا بھی مشکل تھا۔ یہود کی مشکل یہ تھی کہ جس طرح سے وہ عیسائیت کو قابو میں کرچکے تھے۔ اس طرح اسلام پر بس نہیں چلا تھا۔اس لیے ان کے نزدیک حل یہی تھا کہ مسلمان کو سکون سے نہ رہنے دو الجھائے رکھو اور اندر سے باہر سے ہر طرح سازشوں سے فتنوں سے جنگوں سے ان کو اپنے اصل مقصود، مشن پر نہ آنے دو۔
ان کے منصوبوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تحریکات تھیں، جو نہ صرف تحفظ اسلام میں لگی ہوئی تھیں بل کہ مسلمانوں میں بیداری بھی لا رہی تھیں۔ پھر مغرب کے منصوبوں سے آگاہ بھی تھیں اور مغرب کی سازشوں کا توڑ ہی نہیں بل کہ مغرب کا متبادل بھی بن رہی تھیں۔ یہ وہ صورت حال تھی جو نائن الیون نے پیدا کی۔لیکن اللہ تعالیٰ کا بھی ایک منصوبہ تھا۔
مغرب بنیادی طور پر جن اوصاف کی بنا پر دنیا کی حکمرانی کر رہا تھا، وہ تھے قانون کی حکمرانی، انصاف، دیانت داری کے ساتھ اپنے قائم کردہ نظریے سے وابستگی۔ عوام کی خدمت ، انسانیت کی عظمت،اداروں کاقیام، دنیاوی سرگرمیوں میں جدت، ظلم سے مقابلہ، نائن الیون نے جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا وہ یہ تھا کہ مغرب کا نظام جس جمہوری انداز، مشورے اور مہارت اور اہل قیادت پر مبنی تھا وہ کمزور ہونے لگا ۔ خود کے بنائے اصول ٹوٹنے لگے۔ ظلم کی لے بڑھتی گئی ، شبہ پر فیصلے ہونے لگے۔ خفیہ ایجنسیوں کی معلومات پر قسمتوں کے فیصلے ہونے لگے ، غرض مغرب کی قیادت کا جواز ختم ہونے لگا۔ اسی وقت مسلمانوں میں ہلچل مچی۔نیند سے بیداری شروع ہوئی اور دین کی طرف واپسی بھی ہوئی۔ اس دنیا کے چلانے کے اصول بھی سامنے آنے لگے۔ وہ ہوا جس کو قرآن کہتا ہے : ’’ہم نے طے کیا کہ کمز ور کو اوپر لائیں اقتدار سے نوازیں‘‘۔
اس کام میں آدھا کام تو مغرب نے کردیا کہ اسلام کے سامنے کی رکاوٹیں مغرب نے دور کرنے کا کام انجانے میں کرڈالا ۔ اسلام جب نشانہ بنا تو سارے مسلمان دہشت گردبنے اور پھر اس طرح سے وہ قومیتوں سے نکلے اور ایک امت کی شکل دکھائی دینے لگے ۔ سیکولرزم کو راستے سے ہٹاکر اب مذہبی جذبے کو ابھارا گیا اور اس طرح مذہب مذہب کے مقابل آگیا۔ گویا اب نظریہ نظریے کے مدمقابل تھا۔ اور یہی نہیں بل کہ حق کانظریہ باطل کے نظریے کے مدمقابل آیا اور اب یہ طے ہونا ہے کہ حق جیتتا ہے یا باطل۔ ورنہ اس سے پہلے سیکولرزم کے نام سے مذہب کو معرکے سے تو ہٹایا گیا تھا، منظر سے بھی غائب کردیاگیا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ مغرب نے جو خود ساختہ اصول بنائے تھے ، مغرب نے خود ہی ان کو توڑ دیا۔ اب نہ عالمی قانون رہا نہ عالمی اصول انصاف۔ نہ بین الاقوامی تعلقات ، نہ انسانی حقوق ، نہ مساوات اور نہ غیر جانبدارانہ انداز سے مسئلے حل کرنا ۔ اس طرح سے اب دنیا ایک خلا میں جی رہی ہے کہ سابقہ اصول ٹوٹ چکے ہیں۔ اسلام کے لیے موقع پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے اصول سامنے لائے اور ان کو متبادل بنائے۔ پھر یہ ہوا کہ قوانین اس طرح سے توڑے گئے کہ ظالم کے لیے ایک پیمانہ اور مظلوم کے لیے دوسرا ، طاقتور کے لیے ایک کمزور کے لیے دوسرا۔ اس طرح سے انصاف پسند کفر کے جواز کا راستہ بھی بند ہوگیا۔
’’اللہ عدل کرنے والی حکومت کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ کافر انہ ہی کیوں نہ ہو‘‘
ان حالات میں تحریکات کی بالکل دوسری اہمیت سامنے آئی ۔ ایک طرف تو کوشش کی گئی کہ بے ضرر اسلام پیش کیا جائے۔ اس کا نام صوفی اسلام رکھیں ، لبرل رکھیں یا تمام مذاہب کے ساتھ رواداری کا اسلام کہیں دوسری طرف ایک متشدد عنصر کو ابھارا جائے اور نمایاں کیا جائے۔ بلکہ تیار کیا جائے کہ اس کو دیکھ کر اسلام سے تنفر پیدا ہوجائے اور اس طرح سے اصل نمایندہ اسلام اور مستند نمایندوں کو نظرانداز کیا جائے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ خود اسلام ہی نشانہ بن گیا جو نوجوان ادھر نہ آئے وہ مغرب کی طرف بھی نہ گئے۔ لیکن اس صورت حال میں تبدیلی ادھر سے آئی جہاں سے کسی کو توقع نہ تھی۔ عالم عرب میں تبدیلی کی لہرچلی تو پوری قوم شریک ہوگئی اور شرکت بھی اس طرح کہ خوف کا عنصر ہی نکل گیا ۔ جان دینا مسئلہ نہ رہا۔ اچانک زندگی کے متوالے عزت کے متوالے نظام وقت سے بے زار عوام اٹھے تو سارا نظام خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔ مغرب کے جمے جمائے مہرے کہیں کے نہ رہے۔ عرب قومیت کا کہیں وجود نہ رہا اورپتا چلا کہ اچانک اسلام پسند ہی آگئے ہیں۔ مگر سوچنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال میں قیادت کو ابھرنے نہ دیاگیا۔ دو نسلوں کو بگاڑا گیا۔ ادارے تباہ کیے گئے۔ خریدے افراد بھرے گئے ، دوسرے ملکوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والے اور ذاتی فائدے حاصل کرنے والے ہر جگہ چھائے رہے۔ ایسے میں نظام ہٹا تو مگر متبادل کے لیے رکاوٹیں بھی ہیں اور وقت بھی درکار ہے۔ پھر کاروبار مملکت چلانے کا تجربہ بھی چاہیے۔ اس لحاظ سے اب اس وقت تحریکات جس دور سے گزر رہی ہیں وہ آگے بڑھنے کا تو ہے مگر رکاوٹوں کو عبور کرکے۔ چیلنج سے گزرکے مقاصد کو سامنے رکھ کر غیر ضروری کام کو پیچھے کرکے ترجیحات متعین کرکے اور سب سے بڑھ کر اسلام کو مرغوب بناکے کہ لوگ زبردستی نہ مانیں بل کہ اس کے فوائد اور انعامات ان کو اس کا گرویدہ بنائیں۔
اس میں معاون نکات یہ ہیں:
﴿۱﴾ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تحریکات مختصر دائروں سے نکل کر عوامی دائرے تک پہنچی ہیں اور عوام کے جذبات کی ترجمان بھی بنی ہیں اور عوام کی رہ نما بھی ۔ ﴿۲﴾جمہوریت، آزادی، انتخابات کے ذریعے مسلم ممالک میں جو آئے گا وہ اسلام ہوگا۔ بہ شرطے کہ صحیح اور منصفانہ انداز سے ووٹ کا موقع ملے۔ ﴿۳﴾ مغرب پہلی بار مجبور ہوا کہ وہ اسلام پسندوں کو تسلیم کرے، ان سے معاملہ کرے اور ان کا کھیل بگاڑنے کے بجائے ان سے ہی مذاکرات کرے اور اسلام پسندوں کو موقع ملا ہے کہ وہ عزت نفس کی برابری کی بنیاد پر اصولوں پر رہتے ہوئے بات کریں۔ ﴿۴﴾ انسانیت کے لیے یہ موقع ملا ہے کہ کش مکش کے بجائے افہام وتفہیم کا ماحول بنے اور اس میں اسلام کے مثبت تعمیر اور مفید پہلو سب کو نہ صرف محسوس ہوں،بلکہ نظر آئیں اور اسلام نجات دہندہ لگے نہ کہ موقع پرست ﴿۵﴾ مغرب کا مسئلہ تو محض مفادات کی بقا کا ہے مگر یہودی ریاست کے لیے پہلی مرتبہ ایک حقیقی چیلنج پیدا ہوا ہے ۔ اب یہ ہوسکا کہ وہ افہام وتفہیم سے کام لے تو اس کو موقع مل سکتا ہے۔ ورنہ کش مکش کا دائرہ بڑھے گا۔مغرب کا نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ اسلام کو دفن کرچکا تھا، مسلمان محکوم تھے، پھر کمزور بھی تھے ۔ پھر وہ پسماندہ ہیں غیر منظم ہیں۔ اس لیے ان کو برابری کا درجہ کیسے دیں اور مغرب کی نظر میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب اسلام ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کے پاس جو مہارت ہے یا جو معلومات ہیں یا جو تجربہ ہے وہ اُسے دوسروں کو دینے کے بجائے اس سے فائدہ ہی نہیں بل کہ استحصال کرناچاہتے ہیں۔ کیوں کہ مغرب کااصول ہے کمزور کو دبائونہ کہ کمزور کے کام آؤ۔ ہاں کبھی ترس کھالوتو خوب مشہور کردو لیکن بہ ہرحال یہ حقیقت مغرب سمجھ لے تو اس کے لیے بہتر ی ہوگی۔ ورنہ اب ٹیکنالوجی کسی کی ملکیت ہے نہ اجارہ داری ﴿۶﴾اس وقت دنیا میں ایک ارتکازی کیفیت ہے۔Polarization میں کہنے کو دو سپر پاور یا ایک سپر پاور ہیں مگر درحقیقت اس وقت حق وباطل کی حد بندی اور دائرہ بندی کا عمل دو طرح سے چل رہا ہے۔ ایک خبیث اور طیب کی چھانٹ دوسرا اہل ایمان کی چھان پھٹک۔ یہ وہ عمل ہے جو جاری ہے مگر اب اس میں تیزی بھی آئی ہے اور اس کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ ﴿۷﴾ اس وقت امکانات کی ایک نئی دنیا آباد ہورہی ہے اور یہ امکانات اسلام کے حق میں جارہے ہیں ۔ اور ان امکانات کا وہ حصہ جو اسلام کی راہ کی رکاوٹ دور کرنے سے ہے وہ مغرب خود ہی انجام دے رہا ہے کہ ایک طرف مغرب کے اصول نکمے ثابت ہورہے ہیں دوسری طرف اسلام کی عالمیت کے وہ اسباب سامنے آرہے ہیں جو کہنے کو تو مغرب نے اپنے لیے بنائے ہیں مگر صرف اسلام ہی وہ نظریہ ہے جس کے پاس عالمیت کے اصول ہیں۔
جب تک نظریہ عالمی نہ ہو عالمیت کا خواب بے معنی ہے۔ کسی قوم کو کسی مفاد کو، کسی طاقت کو، کسی مادی ضرورت کو عالمیت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ یہ صرف اسلام ہے جو سارے جہاں کا ایک رب، ساری انسانیت کی وحدت، سارے لوگوں کے لیے ایک اصول ، ایک معیار حق، ایک معیار خیر اورایک معیار اتحاد کا پیغام دیتا ہے ۔ عالمیت کی یہ بنیاد ہی ہے جس کو اپناکر عالمی نظام قائم ہوسکتا ہے۔ مغرب کی یہ کوشش کہ وہ عالمی طاقت ہے خواہش اور دھونس کی حد تک تو ہے مگر یہ اللہ کے منصوبے کا وہ حصہ ہے کہ اپنے دین کا کام وہ ان سے لیتا ہے، جو اس کے ماننے والے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ اس وقت اس طرح سے مغرب وہ ساری حد بندیاں ختم کرا رہا ہے، جو اس عالمیت میں رکاوٹ ہیں۔
یہودی اپنے منصوبے میں لگے ہیں کہ مغرب کی طاقت استعمال کرکے یہ کام کروائیں اور خود عالمی طاقت بن کر ابھریں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کام ان سے لے تو لیا ہے مگر اس کے ثمرات اسلام کو ہی ملنے ہیں ﴿۸﴾ اس وقت اسلام ایک نظریہ ہے، ایک دعوت ہے ایک قوت عمل ہے ، ایک طریق کار ہے ، ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ تحریکات نے جب یہ دعوت دی تھی اس وقت تو نہ صرف غیر مسلموں سے اس پر اعتراضات سنے تھے ،بل کہ خود سکّہ بند مسلمانوں کے لیے یہ ایک اضافی کام تھا ۔ رخصتوں کی دنیا میں رہنے والوں کے لیے یہ ایک سرپھرا سا خواب تھا۔ مگر اب یہ ایک حقیقت بنتا جارہا ہے اور اب عوامی طور پر اس کی طرف رغبت بڑھی ہے﴿۹﴾ اب طے یہ کرنا ہے کہ تحریکات کا دائرۂ کار صرف چند ضابطوں کی حد تک ہی کام کرنے میں ہے کہ کچھ مہم چلاکر ۔ کچھ منصوبے بناکر کچھ افراد تیار کرکے اور کچھ تنظیمی خاکے بناکر ذمے داری سے بری ہوں۔ یا اب پور ے اسلام کی، پوری انسانیت کے لیے ،اس طرح سے تفہیم و تنفیذ کرنی ہے کہ اسلام عملاً نافذ ہوتا دکھائی دے اس کے اثرات انسان سمیٹے۔ اب تحریک صرف مزاحمت کا نام نہیں ،بل کہ متبادل فراہم کرنے کا نام ہے﴿۱۰﴾اس مہم میں تحریک نظریاتی ہراول دستے کا کام کرے گی، اس میں ہر صاحب صلاحیت ہر خیر خواہ جس حیثیت میں ہو ، ان کو وسیع تر منصوبے کے اندر لاکر فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ بنیادی طور پر تحریک کا اگلا مرحلہ ہے اور اس کے لیے تیاری بھی چاہیے اورذہنی ہم آہنگی بھی۔ اس کے لیے قدیم پر اصرار کے ساتھ جدید کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ یہ کام تسلسل کا تقاضا کرتا ہے ۔﴿۱۱﴾یہ کام ترجیحات کے ساتھ انجام دینے کا ہے۔ اس میں دفعِ مضرت پہلے ہے کہ انسانیت کی تذلیل کے اسباب دور ہوں۔ اسلام کی نعمتوں سے انسان نہ صرف مستفید ہوں بل کہ اسلام کی خیرخواہی کے دل سے معتقد ہوں۔﴿۱۲﴾ یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف یہ عظیم الشان منصوبہ ہے دوسری طرف مسلمانوں کی کم اہلی کا مسئلہ ہے۔ پھر حق وباطل کی کش مکش بھی ہے ۔ کھل کر بھی چھپ کر بھی۔ تاریخ سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے اور مستقبل کے بارے میں دی گئی خبروں میں بھی یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس کش مکش کے مقامات مشرق اوسط سے لے کر ہندو پاک تک ہیں۔ مگر یہ اسلام کی برتری اور اسلام کی پیش قدمی کے مراحل ہیں اور اسی کے ساتھ اس میں ان قوموں، افراد اور اداروں کا بھی حصہ ہے جو مغرب میں بسے ہیں یا مغرب کے علوم وفنون کے ماہر ہیں اور جن کی عصری مہارت اور دینی جذبے سے اسلام کو تقویت ملے گی۔ ﴿۱۳﴾ اس سلسلے میں ایک بہت ضروری کام یہ ہے کہ یہ امت ردعمل سے نکلے ۔ ایک مثبت نظریے کے لئے مثبت رخ اپنائے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہم ادارے وجود میں لائیں اور اداروں کو چلانے کی تربیت حاصل کریں۔ افراد سے وابستگی اور عقیدت حدود میں رہ کر تو ٹھیک ہے مگر اجتماعی نظم اسی وقت چلے گا جب اداروں سے وابستگی ہو او ریہ سمجھ کر ہو کہ یہ ہم میں سے ہر ایک کی ذمے داری ہے اور ہر ایک اس کا حصہ ہے ۔ یہ چند افراد کا کام نہیں ہے۔ یہ پوری امت کا کام ہے اور پوری امت کو اس میں حسب استطاعت حصہ لینا ہے۔﴿۱۴﴾ یہ کام یہیں ختم نہیں ہوتا ہے کہ ہم دعوت کے عالمی اثرات ثابت کرکے مطمئن ہوجائیں، بل کہ یہ طے کریں کہ اب اس امت کو امت بنانا ہے اور اس امت کو سربلند کرنا ہے اور حق کو بلند کرکے اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے۔
***