Search This Blog

Tuesday, 17 March 2015

اسلامی معاشی ماڈل کے خدوخال

اسلامی معاشی ماڈل کے خدوخال

پروفیسر خورشیداحمد/ ترجمہ: میاں محمد اکرم


اس وقت دنیا میں ہر پانچواں انسان مسلمان ہے۔ آج دنیا میں ایک ارب ۳۰کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ ان میں سے۹۰کروڑ مسلمان ۵۷مسلم مملکتوں اور۴۰کروڑ باقی دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں رہتے ہیں۔ وسط ایشیا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اور براعظم افریقہ کے بڑے حصے پر مسلم آبادیوں کا ارتکاز ہے، تاہم مسلمان دنیا کے ہرحصے میں موجود ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد ۳کروڑ سے زائد اور شمالی امریکا میں ۷۰لاکھ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔۵۷مسلم ممالک دنیا کے ۲۳فی صد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین بری، بحری اور فضائی راستے مسلم دنیا ہی سے گزرتے ہیں۔ مسلم دنیا اور باقی دنیا کا ایک دوسرے پر کافی انحصار ہے۔ مسلم ممالک میں وسائل کی فراوانی ہے لیکن وہ معاشی، اور صنعتی ترقی میں پس ماندہ ہیں۔ ان کے پاس بہت زیادہ مالیاتی وسائل ہیں لیکن ٹکنالوجی، انتظامیات اور پیداوار و ترقی کے جدید طریقوں کے استعمال میں وہ پیچھے ہیں۔ مسلم ممالک کی باہمی تجارت ۱۳فی صد ہے ، جب کہ ۸۷فی صد تجارت بقیہ دنیا کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقیاتی حوالے سے ۵کا تعلق اعلیٰ ۲۵کا تعلق وسط سے ہے ، جب کہ بقیہ ممالک کا تعلق نچلے گروہ سے ہے۔۱؂
مسلم دنیا کئی صدیوں تک تسلیم شدہ عالم گیر معاشی قوت کی حیثیت سے غالب رہی۔ معاشرتی برتری اور ٹکنالوجی میں ترقی صدیوں تک مسلم ممالک کا امتیازی نشان رہا ہے۔۲؂ البتہ گذشتہ ۳۰۰برسوں میں معاشی زوال ہوا ہے اور ان کی معاشی طاقت میں کمی و اقع ہوئی ہے۔ مسلم دنیا کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر دوبارہ سنبھلنے کا تصور موجودہ دور میں برسرِکار ہوا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا تنقیدی و فکری کام ہوا ہے کہ کیا خرابی پیدا ہوئی؟ اور مسلم دنیا کیسے دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت حاصل کرسکتی ہے؟ اس مناسبت سے اپنی اخلاقی اور نظریاتی ساکھ اور بنیاد کی تلاش اس جدوجہد کاایک حصہ ہے۔۳؂
اسلام ایک آفاقی دین ہے اور امت مسلمہ ایک عالم گیربرادری ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے، اور یہی ایمان مسلم امہ کی عالم گیر حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ یہی توحید کائنات کی، انسانیت کی اور زندگی کی وحدت (Unity) اور قانون کے آفاقی ہونے پر دلیل ہے۔ اسلام کسی خاص قوم ، لسانی یا علاقائی نسلی گروہ یا کسی خاص سماجی و معاشی طبقے کا دین نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام ایک نیا دین پیش کرنے کا دعوے دار نہیں ہے، بلکہ اس کے مطابق یہ رہنمائی ہے جو خالق نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے تخلیق انسان کے اول روز سے بہم پہنچائی ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کا مذہب (دین) اسلام ہی تھا۔

مسلمان حضرت آدمؑ سے لے کرحضرت نوحؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسٰی ؑ ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام کے لغوی معنی ’امن‘اور ’سلامتی‘ کے ہیں۔ یہ اللہ کے واحد معبود ہونے او راس کی بندگی کرنے اور اس کے انبیا ؑ پر ایمان لانے کا داعی ہے، جن کی زندگی اعلیٰ ترین نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت کے مطابق انسان کی مکمل سپردگی اور پیروی کا نام ہے۔ اسی طرح شریعت کچھ اقدار، اخلاقیات اور قوانین کے مجموعے کا نام ہے جو اسلامی طرزِ زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔
اسلام، ہر فرد کے اختیار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ عقیدہ و مذہب کے معاملے میں کسی زورزبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔۴؂ یہ انسانیت کے لیے ثقافتی لحاظ سے اورحقیقی طور پر تکثیریت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اختلاف راے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنااسلام کابنیادی اصول ہے۔ اسلام، انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں: ایمان، عبادت، شخصیت اور کردار ،فرد اور معاشرہ، معیشت اور معاشرت، قومی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق ہے۔ پھر اسلام غیرمذہبی معاملات کو بھی روحانیت کی مقدس چھتری کے تلے جمع کرتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں لادینی اور دنیاوی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرتابلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں کواخلاقی و روحانی طور پر باہم مربوط کرتا ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اخلاقی اور نظریاتی فکر ہے، جو عقیدے، رنگ، نسل، زبان اور علاقے سے بالاتر ہوکر انسان کو مخاطب کرتی ہے۔ یہ تکثیریت کو حقیقی اور قابل تکریم سمجھتا ہے۔ امت مسلمہ کے اندر بھی تنوع موجود ہے۔ اسلام کسی مصنوعی اتحاد اور زبردستی کی ہم آہنگی کا قائل نہیں ہے۔ یہ بقاے باہمی اور تعاون کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اسلامی طرزِ زندگی اور تمدن کا ایک اور پہلو، اس کا: مطلق ، کائناتی اور عالم گیر اقدار پر زور دینا ہے۔ یہ کچھ ایسے اداروں کا تعین کرتا ہے، جو اسلام کے مستقل ستون کی حیثیت سے کام کرتے ہیں،اور بدلے ہوئے حالات کی ضرورتوں کے مطابق لچک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقدار کا تانا بانا انسانی فطرت اور کائنات کے حقائق کے مطابق بنتا ہے اور انسان کو وہ مواقع فراہم کرتا ہے کہ انسان بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی اقدار اور اصولوں کا اطلاق کرے۔ اس کے لیے اسلام ایک خودکار نظامِ عمل فراہم کرتا ہے، تاہم انسانی حالات کی جزئی تفصیلات کے ضمن میں جامد قواعد و ضوابط سے احتراز کرتا ہے۔ یہ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے جو تمام مخلوقات میں اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے۔ ہرفرد اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ انسان صرف سماجی مشین کا اہم پُرزہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک معاشرہ ، ریاست، قوم اور انسانیت تمام ہی اہم ہیں اور ہرایک اپنا خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، آخرت میں ہر فرد کی جواب دہی انفرادی سطح پر ہی ہوگی۔ اس سے اسلامی نظام کے اندر فرد کی مرکزیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہر فرد کو معاشرے اور اس کے اداروں سے وابستہ کرتا ہے اور ان کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کرتا ہے۔
اسلامی اخلاقیات زندگی سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتیں بلکہ بھرپور زندگی گزارنے کے نظریے پر قائم ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام پہلو اور سرگرمیاں اخلاقی نظم و ضبط کے ذریعے پاکیزہ زندگی گزارنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ انفرادی تقویٰ اور اجتماعی اخلاقیات مل کر بھرپور زندگی کو فروغ دیتی ہیں، انفرادی اور معاشرتی بہبود میں اضافہ کرتی ہیں اور تمام لوگوں کے لیے فلاح کا باعث بنتی ہیں۔ اسلام میں ’دولت‘ ایک گالی نہیں۔ اگر اخلاقی اقدار اور امکانات کو پیش نظر رکھا جائے تو پیدایش دولت دراصل ایک پسندیدہ قدر ہے۔ ایک اچھی زندگی انسانی جستجو کابڑا ہدف ہے، فلاحِ دنیا اور فلاحِ آخرت کا ایک دوسرے پر انحصار ہے، اور یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ یہی وہ روحانیت ہے جو دنیاوی زندگی کے تمام پہلوؤں اور سرگرمیوں کو اخلاقی دائرہ کار میں لاکر اس طرح چھا جاتی ہے، کہ وہ انسان کو بیک وقت نہ صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل بنادیتی ہے،بلکہ ایک ایسامعاشرہ تشکیل دیتی ہے جس میں تمام لوگوں کی خواہشات عادلانہ طریقے پر پوری ہوتی ہیں۔
شخصی آزادی، حقوقِ ملکیت، کاروبار، منڈی کی میکانیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم، اسلامی معاشی نظام کے اہم حصے ہیں، تاہم مختلف سطحوں پر بہت سی اخلاقی بندشیں ہیں، مثلاً: انفرادی تحرک، ذاتی رجحان، سماجی طور طریقے، آجر اور اجیر کے رویے اور فرد اور ریاست کے باہمی تعلقات۔ اس نظام میں خاص طورپر نگرانی، رہنمائی اور ضروری قانون سازی کے دائرے میں ریاست اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ آزادی،معاشی مواقع کی فراہمی اور ملکیت کے حقوق کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔
اسلام ضروریات کی فراہمی کو اہمیت دیتا ہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دیناچاہتا ہے، جس میں معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی ہو۔ اوّلین طور پر ذاتی جدوجہد کے ذریعے اور محنت کا پھل ملنے کے رجحان کی بنیاد پر۔ لیکن ایک ایسے دوستانہ ماحول میں کہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں یا ان کا تعلق محروم طبقات سے ہو، ان کی اس طرح سے مدد کی جائے کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے فعال شریک بن جائیں۔ اسلام پیدایش دولت کی ایسی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے۔ اس کا ہدف ایسا عادلانہ اور مساویانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اسی صورت میں ایسا کیا جانا ممکن ہے کہ جب معاشرہ ایسا طریق کار وضع کرے کہ معاشرے کے محروم طبقات کو مؤثر مدد حاصل ہوسکے۔ یہ خاندان کے ادارے، معاشرے کے دوسرے اداروں اور ریاست کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اسلام معاشی طرز عمل میں آزادی کوذمہ داری کے ساتھ اور استعداد کار کو عدل کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ’عدل‘ بنیادی اسلامی اقدار میں سے ایک سب سے اہم قدر ہے اور انبیاعلیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی ایک مقصد عدل کا قیام ہے (الحدید ۵۷:۲۵)۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے اللہ کے ساتھ تعلق تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے انسانوں او رکائنات کے ساتھ عدل پر مبنی تعلق تک وسیع ہے۔

اسلام کا معاشی نظریہ
۞بنیادی خصوصیات: اسلام کے معاشی نظریے کی بنیادی خصوصیات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
۱۔ زندگی ایک مربوط اکائی ہے۔ انسان کی شخصیت کی طرح، عوامی ثقافت بھی ناقابل تقسیم ہے۔ پورا سماجی عمل ایک نامیاتی اکائی (organic unity)ہے۔ معاشی زندگی اور نظام کو ہم علیحدہ علیحدہ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ تخصیص کار اور تقسیم کار بہت اہم سہی، لیکن تمام چیزوں کو آپس میں مربوط ہونا چاہیے، تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وسیع تر اکائی بن سکے۔ معاشی نظریے کی بنیاد: ایمان، زندگی کے بارے میں نظریے اور عوام کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ہے کہ ایک باہم مربوط فکر کے ذریعے ہی انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو صحیح رخ دیا جاسکتا ہے۔

۲۔ اسلام کا تصورِ جہاں (World View) توحید، رسالت اور آخرت پر مبنی ہے۔ مرد اور عورت دونوں کی دنیا میں حیثیت اللہ کے خلیفہ (vicegerent) کی ہے۔ اسے اختیار کی آزادی، خواہش، علم اور محدود حد تک حاکمیت عطا کی گئی ہے۔ اس کے کردار، مقام اور فرضِ منصبی کو استخلاف کہا گیا ہے، یعنی زمین پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا،عدل قائم کرنا، احسان کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے حیات طیبہ کا انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے بلند معیار قائم کرنا۔
امام غزالی علیہ الرحمہ مقاصد شریعت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’شریعت کا مقصد تمام انسانوں کی بھلائی ہے، جو انسان کے ایمان،اس کے نفس، اس کی عقل، اس کی نسل اور اس کے مال کے تحفظ سے وابستہ ہے‘‘۔۵؂
۳۔ ’تقویٰ‘ کے بعد اسلامی نظام کی اہم ترین قدر ’عدل‘ اور اس کے ساتھ ’احسان‘ ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ’عدل‘ سے مراد ہر فرد کو اس کا حق بہم پہنچانا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں فقہا اور مفکرین ’عدل‘ کو اسلامی زندگی، معاشرے کی خاص صفت اور قانونی و سماجی اور معاشی عمل کا ایک ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔
امام ابو یوسفؒ (م:۷۹۸ء) نے خلیفہ ہارون الرشید (م:۸۰۹ء)کو معیشت کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’مجرموں کے ساتھ انصاف کرنے اور نا انصافی کے خاتمے کے نتیجے میں ترقی کی رفتار تیز تر ہوگی‘‘۔ امام ابوالحسن علی الماوردیؒ (م: ۱۰۵۸ء) نے فرمایا کہ: ’’جامع اور مختلف پہلوؤں سے انصاف کے نتیجے میں یک جہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، قانون کی عمل داری ہوتی ہے،ملک ترقی کرتا ہے، دولت بڑھتی ہے، آبادی میں افزایش ہوتی ہے، ملک کی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، اور نا انصافی سے بڑھ کر کوئی چیزنہیں جو دنیا کے لوگوں کے ضمیر اور شعور کو تباہ کرتی ہو‘‘۔ امام ابن تیمیہؒ (م: ۱۳۲۸ء) عدل کو توحید کا لازمی نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر چیز میں انصاف، اور ہر ایک کے لیے انصاف ہر ایک کاحق ہے،اور نا انصافی کسی چیز میں کسی بھی فرد کے لیے کسی طور پر جائز نہیں ہے ،چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، حتیٰ کہ ایک ظالم شخص کے معاملے میں بھی نہیں‘‘۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ء) علی الاعلان کہتے ہیں کہ: ’’عدل کے بغیر ترقی جائزنہیں ہے اور ظلم ترقی کا خاتمہ کرتا ہے،اور جایداد میں کمی ناانصافی اور ظلم کا لازمی نتیجہ ہے‘‘۔۶؂ پس، عدل اسلامی نظام کی روح اور سانس کادرجہ رکھتا ہے۔
۴۔ سماجی تبدیلی اور انسانی معاشرے کی تشکیل نو کے لیے اسلامی منصوبہ منفرد ہے۔ یہ منصوبہ ایسے طریق کار پر مبنی ہے جو اٹھارھویں صدی کے بعد یورپ اور امریکا میں ابھرنے والے معاشی و سیاسی نظریات سے بالکل مختلف ہے۔
موجودہ مغرب میں اس کے لیے جو طریق کار، اور حکمت عملی سامنے آئی ہے وہ اس تصور پر مبنی ہے کہ انسانوں میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے سماجی اداروں اور ماحول کو تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ان کے ہاں تمام زور بیرونی ڈھانچے کی تشکیل نو پر ہے۔ اس نظام کی ناکامی کی وجہ انسان کو، مرد ہو یا عورت، ان کے عقائد، محرکات، اقدار اور ذمہ داریوں کو ہدف بنانے کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ تمام انسانوں کے اندر تبدیلی لانے کے عمل کو نظر انداز کرتا ہے اور بیرونی عناصر میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم جس چیز کی ضرورت ہے وہ مکمل تبدیلی اور انقلاب ہے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے اندر بھی ہو اور ان کے سماجی و معاشی ماحول میں بھی۔ مسئلہ صرف ڈھانچا جاتی تبدیلی کا نہیں ہے، تاہم ڈھانچا جاتی تبدیلی بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ نقطۂ آغاز انسانوں کے دل و روح، ان کا حقیقت کا ادراک اور زندگی میں خود ان کا مقصد اور مقام ہونا چاہیے۔
۞سماجی تبدیلی کی بنیادیں: سماجی تبدیلی کے لیے اسلامی نقطۂ نظر کے حوالے سے کلیدی نکات حسب ذیل ہیں:
(الف) سماجی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کے عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، اگرچہ زندگی میں بہت سی رکاوٹوں اور بندشوں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ تبدیلی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے تحریک حاصل کرتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ تبدیلی با مقصد ہونی چاہیے، یعنی آئیڈیل کی طرف پیش قدمی۔
(ب) عوام ہی انقلاب کا فعال کردار ہیں۔ دنیا کی تمام دوسری قوتیں اللہ کے نائب اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے کائنات کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں اور جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان کے مطابق یہ انسان ہی ہے جو خود اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا ذمہ دار ہے۔
(ج) تبدیلی کی ضرورت صرف ماحول ہی میں نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں کے دل و روح کے اندر ، ان کے رویوں اور محرکات میں، اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے خارج کی دنیا میں ہے، اس کو مقاصد کی تکمیل کے لیے مجتمع کرنے کے عزم میں موجود ہے۔
(د) زندگی بہت سے باہمی رشتوں کا تانا بانا ہے۔ انقلاب کا مطلب ان رشتوں میں کئی جگہ ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اس لیے یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو۔ تاہم، اسلامی سماجی تبدیلی کے نتیجے میں اس طرح کا ٹکراؤ اور عدم توازن اپنی کم از کم سطح پر ہوگا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ اور باہم مربوط انداز میں چلائی گئی مہم کے نتیجے میں، توازن کے ایک مقام سے دوسرے اونچے مقام کا حصول اور عدم توازن سے توازن کا حصول ممکن ہوسکے گا۔ اس لیے تبدیلی کو متوازن، بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے، نیزجدت اور اختراع کے ساتھ مربوط بھی ہونا چاہیے۔ یہ منفرد اسلامی طریقہ ارتقائی راستے سے انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جائے گا۔
۵۔ انسانی زندگی میں ذاتی مفاد کا حصول ایک فطری قوتِ محرکہ ہے۔ لیکن ذاتی مفاد کو نیکی اور عدل کے وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا صلہ اور کوشش میں ناکامی پر نقصان، انسانی معاشرے اور معیشت کے لیے بہترین فریم ورک فراہم کرتا ہے۔۷؂ اسلام اس کی اہمیت اور اسے معاشی و سماجی کوششوں کا اولین اصول تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اسلام نے جدوجہد کے لیے ایک اخلاقی دائرہ کار بھی تشکیل دیا ہے، جو کچھ اقدار کے اپنانے اور کچھ اقدار سے پرہیز پر مبنی ہے، اور بتاتا ہے کہ کیا چیز درست اور جائز ہے اور کیا چیز اخلاقی، روحانی ، سماجی حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ حلال و حرام کا تصور انسان کی تمام جدوجہد کے لیے اخلاقی میزان کا کام کرتا ہے۔ اعتدال اور اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا اس اسکیم کا لازمی جزو ہے۔
صلہ (انعام) کے تصور کو دنیاوی صلے کے ساتھ ساتھ اُخروی صلے کے ساتھ مربوط کرکے اسے وسعت دی گئی ہے۔ ذاتی فائدے کے فطری تصور کو رد کیے بغیر یہ اچھے اور عادلانہ رویے کے لیے ایک مضبوط قوتِ محرکہ ہے۔ ذاتی ملکیت اور ذاتی کاروبار کو ناقابل تنسیخ حقوق اور معاشی سرگرمی کے فطری طریقے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اخلاقی اور قانونی ضابطوں کے ذریعے اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات پختہ کرکے، کہ مال و جایداد اپنی ہر شکل میں مادی، انسانی، مشینی قوت اور دماغی قوت کی صورت میں، انسان کے پاس ایک امانت ہے، مال و جایداد کے تصور کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور یہ ذہن نشین کرا دیا ہے کہ امانت ہونے کی وجہ سے ملکیت کے حقوق اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط ہیں اور ان کو مقاصد شریعت کی تکمیل سے مربوط کرتے ہیں۔
۶۔ معاشی سرگرمی، تعاون اور مقابلے کے عمل کے ذریعے فروغ پاتی ہے۔ منڈی کی سرگرمی، نجی ملکیت، کاروبار کی آزادی، منافع اور صلہ، قوتِ محرکہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔ الہامی ہدایت اور تاریخ کی گواہی اس بات پر شاہد ہے کہ تجارت، اشیا کی پیدایش میں اضافہ، اشیا و خدمات کا لین دین، مناسب منافع کا حصول، طلب و رسد کی قوتوں کے ذریعے قیمتوں کا تعین، منڈی میں لین دین کاتحفظ اور معاہدوں کی تکمیل کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، اسلامی معاشی نظام کے ستون ہیں۔ جدوجہد، اختراع و تخلیق، تقسیم کار، ٹکنالوجی اور مہارتوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ تعاون، ہمدردی، عدل، انفاق اور یک جہتی پر تمام بڑے مسلم مفکرین نے زور دیا ہے۔
ایڈم سمتھ (م: ۱۷۹۰ء) سے سات صدیاں قبل علامہ شمس الدین سرخسیؒ (م: ۱۰۹۰ء) لکھتے ہیں: ’’کسان کو اپنے لباس کے لیے جولاہے کے کام کی ضرورت ہے اورجولاہے کو اپنی خوراک اور کپڑوں کے لیے کسان کے کام کی ضرورت ہے۔۔۔ ان میں سے ہر ایک اپنے کام کے ذریعے دوسرے کی مدد کرتا ہے‘‘۔ علامہ سرخسیؒ سے ایک صدی بعد دوسرے عالم جعفردمشقیؒ (م:۱۱۷۵ء) اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مدت عمر قلیل ہونے کی وجہ سے کوئی فرد بھی تمام صنعتوں میں اپنے آپ کو نہیں کھپا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ کسی بھی صنعت میں اپنے آپ کو ماہر نہیں بناسکے گا۔ تمام صنعتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ تعمیر کے لیے بڑھئی کی ضرورت ہے اور بڑھئی کو لوہار کی ضرورت ہے، لوہار کو کان کن کی ضرورت ہے اور تمام صنعتوں کے لیے جگہ اور عمارت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے لوگوں کو مجبوراً اپنی ضرورت کے لیے شہروں میں یک جا ہونا پڑتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں‘‘۔
علامہ ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ء) نے ایڈم سمتھ سے تین صدیاں قبل تقسیمِ کار، معاشی ترقی میں تخصص اور انسانی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’یہ بات سب جانتے ہیں اور یہ بہت واضح ہے کہ انسان انفرادی طور پر اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرسکیں۔ انھیں اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ضروریات جو کہ افراد کا ایک گروہ مل کر باہمی تعاون سے پوراکرسکتا ہے، ان ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہیں جو وہ انفرادی طور پر پورا کرسکنے کے قابل ہیں‘‘۔ وہ اس بات کی سائنسی وجوہ بیان کرتے ہیں کہ تجارت کے نتیجے میں ترقی کو کیسے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ترقی کاانحصار ستاروں یا سونے چاندی کی کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار معاشی سرگرمی اور تقسیم کار کے اصول پر ہوتا ہے جو بذات خود منڈی کی وسعت اور اوزاروں (مشینوں) پر منحصر ہے ، جب کہ اوزاروں (مشینوں) کے لیے بچتوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ بچت کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ بچت ہے‘‘۔ منڈی کی وسعت میں اضافے کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی طلب تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں میں پھیلاؤ آتا ہے، آمدنیاں بڑھتی ہیں، سائنس اور ٹکنالوجی میں اضافہ ہوتاہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے‘‘۔۸؂
۞منڈی کی میکانیت: اسلامی نقطۂ نظر
۷۔ منڈی کی میکا نیت اسلامی معاشی نظریے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں اسلام نے چند بنیادی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ منڈیاں، ذاتی مفاد اور نفع اندوزی کی خواہش جیسی صورت حال کو جنم نہ دے دیں، جو سماجی لحاظ سے نقصان دہ ہو اور عدل اور راست بازی (fair play) کے تقاضوں کے خلاف ہو۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:
* ذاتی تحرک کی سطح پر اخلاقی ضوابط، حلال و حرام کی قیود،’ حسبہ‘ کے ادارے کا قیام، سماجی دباؤ اور خصوصی قانونی ضابطوں کی تشکیل۔
* سماجی و معاشی اکائی کے طور پر ’خاندان‘ کا ادارہ جو سماجی تحفظ اور یک جہتی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
* معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے اخلاقی، سماجی اور قانونی اقدامات آمدنی کی عادلانہ پالیسی کے لیے رہنما خطوط کا تعین۔
* سماجی تحفظ کاایک پھیلا ہوا انتظام: نجی دائرے میں صدقات و خیرات کی صورت میں اور ریاست کی سطح پر ضرورت مند لوگوں کے لیے زکوٰۃ سے سرکاری امداد کا نظام۔
* ’وقف‘ کے ادارے کے قیام کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کے جال، مارکیٹ کے ذریعے ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غیر تجارتی بنیادوں پر اشیا کی فراہمی، اسلامی معاشی اسکیم کا ایک لازمی جزو ہے۔
* پیداکار کے طور پر نہیں بلکہ ضروریات زندگی کی رسد میں منڈی کی ناکامی کی صورت میں جائزہ کاری، ضابطوں کا نفاذ اور عوام کی امداد کے پروگرامات، تاکہ معاشرے کا ہر فرد مذہبی، لسانی، صنفی ، قومیت یا عمر کے امتیازات سے بالاتر ہوکر معاشی زندگی میں متحرک طور پر حصہ لے۔
* اسلام وسائل کے ضیاع، ختم ہوتے قدرتی وسائل کے بے جا نقصان اور معاشی سرگرمی کے ماحولیاتی پہلو کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند ہے۔ اس کا اچھی زندگی کانظریہ اعتدال،توازن اور بندگی پر مبنی ہے اور ہر انسان کی معاشی زندگی کے دنیاوی اور ذاتی پہلوؤں کو مساوی طور پر اہمیت دیتا ہے ۔ اسلام کامعاشی نظام جزوی نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے۔ ایک طرف تو یہ انسان کے لیے، انفرادی آزادی، انتخاب کی آزادی، نجی ملکیت اور کاروبار،منافع کے محرک اور لامحدود جدوجہد اور اس کے صلے کو یقینی بناتا ہے، اور دوسری طرف زندگی کی مختلف سطحوں پر مؤثر اخلاقی ضابطوں کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ دائرے کے علاوہ سرکاری انتظامی ٹیم کے ذریعے ایسے ادارے قائم کرتا ہے، جن کے ذریعے معاشرے میں معاشی ترقی اور سماجی انصاف قائم ہوسکے۔ حتیٰ کہ خیرات کے تصور کو اس نے انقلابی طور پر قانونی ذمہ داری کا حصہ بنا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ oلِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o(المعارج ۷۰:۲۴۔۲۵) ’’جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘۔ اسلام نے دوسرے نظاموں کی طرح تقسیم دولت میں عدل اور سماجی تحفظ کو رضاکارانہ ضمیمے کی حیثیت نہیں دی بلکہ اس کو نظام کا تشکیلی جزو بنادیا ہے۔
۞غربت و استحصال سے تحفظ: اسلام میں سرمایے کے رضاکارانہ اور لازمی انتقال کے ذریعے غربت اور استحصال سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔۹؂
* آمدنی کے کچھ ذرائع کی ممانعت اسلامی معاشی نظام کا ایک اور اہم جزو ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم حرمت سود (الربا) ہے۔ اس کے علاوہ جوا، سٹہ بازی، دھوکا دہی، استحصال اور دولت کا زبردستی حاصل کرناشامل ہے۔ کاروباری اخلاق کا ایک جامع ضابطہ تشکیل دیاگیا ہے تاکہ دیانت داری اور معاملات کے شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالیاتی معاملات میں ذمہ داری کو یقینی بنایاجاسکے۔
حرمت سود کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام سرمایے کے استعمال پر کسی قسم کے صلے کاقائل نہیں۔ اسلام سرمایے کی پیداواریت کو تسلیم کرتا ہے اوراس کی حقیقی پیداواریت کے تناسب سے اس کے صلے کا قائل ہے۔ البتہ جس منصوبے میں سرمایہ لگایا گیا ہے اس کے اصل منافع کے علی الرغم ایک یقینی، مقررہ اور پہلے سے طے شدہ منافع کامخالف ہے۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اصل منافع میں سرمایہ دار اورآجر دونوں حصہ لینے کاحق رکھتے ہیں۔ وہ مقررہ منافع کے بجاے اصل ہونے والے منافع میں سے منافع لیں گے۔ اس کامطلب ہے کہ اسلام قرض کی بنیاد پر معیشت کے قیام کے بجاے شراکت کی بنیادپر، خطرے میں حصے داری اور ذمے داری میں شرکت کی بنیاد پر معیشت کے قیام کاخواہاں ہے۔ اس کے معیشت کے منتظمین اور معاشی و مالیاتی تنظیموں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی اصولوں پر قائم معیشت کارخ زری منافعوں کے بجاے حقیقی طور پر اثاثوں کی تخلیق کی طرف ہوگا۔ بلاشبہہ ایسی معیشت زیادہ مستحکم و زیادہ مادی ترقی کی طرف مائل، زیادہ مبنی بر مساوات اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے شراکتی ہوگی۔
* اسلام کا عالم گیریت کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے، تاہم اس کا عالم گیریت کا تصور کسی قوم کی اجارہ داری کے بجاے ’توحید‘ سے منسوب ہے۔ توحید میں انسانیت کی وحدت مضمر ہے۔ امت مسلمہ فکری اور تاریخی لحاظ سے ایک عالم گیر برادری ہے۔ انسانی تاریخ میں عالم گیریت کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے دور سے ہوا۔ پوری دنیا کو ایک عالم گیر بستی میں تبدیل کرنے کی حالیہ تبدیلیاں ایسے شان دار مواقع پیش کرتی ہیں، بشرطیکہ یہ عمل صحیح اور عادلانہ ہو۔ اسلام کا واسطہ عالم گیریت کے طور طریقوں کی نوعیت، سمت، سماجی و اخلاقی نتائج سے ہے۔ آج کی عالم گیریت بذاتِ خود کوئی پریشانی کامعاملہ نہیں ہے۔حقیقتاً یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل منصفانہ ہو اور اس کے پردے کے پیچھے طاقت ور قومیں، کمزوروں کااستحصال کرتے ہوئے ان پر اپنی بالادستی قائم نہ کریں۔
میں یہاں پر علامہ ابن خلدونؒ کے تجویز کردہ سماجی و معاشی تنظیم کے بین الاداراتی متحرک ماڈل کاخلاصہ پیش کروں گا، جو انھوں نے اپنے وقت کے حکمران کو پیش کیا تھا۔ آج کے زمانے میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔وہ کہتے ہیں:
* خلیفہ (الملک) کے بغیر شریعت کانفاذ نہیں ہوسکتا۔ * خلیفہ، عوام (الرجال) کے بغیر قوت حاصل نہیں کرسکتا ۔ * دولت (المال) کے بغیر عوام زندہ نہیں رہ سکتے ۔ * ترقی (العمارۃ) کے بغیر دولت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ * عدل (العدل) کے بغیر ترقی حاصل نہیں ہوسکتی ۔ * عدل وہ میزان(المیزان) ہے، جس پر اللہ تعالیٰ انسانوں کا حساب لے گا۔ * اور خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ عدل کو قائم کرے۔۱۰؂
۞عالمی معیشت و معاشرت کے لیے عادلانہ ماڈل:یورپی و امریکی سرمایہ داری کی بین الاقوامی پہنچ ، اور عالم گیر نظام سرمایہ داری ایک حقیقت ہے۔ قضیہ یہ نہیں ہے کہ ان مختلف ممالک اور علاقوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلافات ہیں جو سرمایہ داری کے راستے پر گامزن خیال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ خیال کرنا بھی غیرحقیقی اور دورازکارہے کہ دنیا کے تمام ممالک اس چھتری کے نیچے آنے کے خواہش مند ہیں۔ بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی تناظر میں بہت سے یورپی ممالک اور فکری و سیاسی قوتیں غیر مشروط اور مکمل طور پر نظام سرمایہ داری کے تحت آنے پر ناخوش ہوں گی۔ جاپان اس کی ایک مثال ہے۔ مغرب ان کو اپنے کیمپ میں شمار کرتا ہے، جب کہ جاپانی گذشتہ دو عشروں سے اس پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ مغربی اثر سے باہر رہیں۔
۞سرمایہ داری کا مستقبل:۱۹۸۰ء کے عشرے میں شروع ہونے والے معاشی جمود سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے تجربے کے بارے میں شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورت حال کے سایے بڑھتے جارہے ہیں۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد روس پورے جوش و خروش سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھا۔ لیکن اس باب میں بھی وہ اپنے آپ کو ناکام پاتا ہے۔ چین نے ایک ملک میں دونظام اپنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مشرقی ایشیاکی معیشتیں۹۸۔۱۹۹۷ء کے بحران کے بعد سے سکڑچکی ہیں اور ان کے خیالات بدل چکے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے اپنے تحفظات ہیں۔ مجموعی تصویر دھندلی اور شکوک پیدا کرنے والی ہے۔
میرے خیال میں عالم گیر معیشت اور معاشرت اتنے شکستہ اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ معیشت کا کوئی ایک ماڈل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ حقائق کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی لحاظ سے غیرمغربی دنیا کے لوگوں کی سوچ اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ایک سے زائد نظاموں (کثرتی نظاموں) پر مشتمل دنیا کا ایسامنظر پیش کیا جاسکے کہ جس کے نتیجے میں ایسا کھلا معاشرہ وجود میں آئے، جہاں خیالات، ٹکنالوجی، اشیا و خدمات، مالیات اور انسانوں کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر یہ عمل کامیاب بنانا مقصود ہو تو اسے بالکل شفاف اور باہمی برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد اصلاً مفادات طاقت وری اور بالاتری پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاملات کو عدل اور راست بازی کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔ بالاتری پر مبنی نظام تب تک ہی چل سکتا ہے جب تک طاقت کا توازن خراب نہیں ہوتا اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ طاقت کے توازن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۱۱؂ حقیقتاً تاریخ درجنوں سوپر پاورز کا قبرستان ہے۔ ہم نے اپنی زندگی ہی میں اس طرح کی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ پس، سبق یہی ہے متعلقہ مفکرین اس بات پر غور کریں کہ ایک بالاتر نظام کے بجاے یہ دنیا ایسی حقیقی کثرتی دنیا ہو، جس میں اندرونی تبدیلیوں کے باوجود ، تعاون اور مقابلے کی قوتیں کام کر رہی ہوں۔
میری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ مسلم دنیا کبھی خوشی کے ساتھ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گی۔ بلاشبہہ ہم مفید تعاون کے لیے خیالات و تجربات کے تعامل کے لیے آمادہ ہیں۔ سرمایہ داری میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو عالم گیر ہیں اور وہ دوسرے نظاموں کے اندر بھی موجود ہیں۔ لیکن اس میں بہت کچھ وہ ہے جو خصوصی طور پر اس کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی کی استعماری قوتوں کے ساتھ اس کا تعلق اور موجودہ دور میں صرف واحد سوپرپاور کے ساتھ اس کا تعلق ہونا، غیر مغربی دنیا میں اس کے داخلے کو مشکوک اور غیر متوازن بنادیتا ہے۔ مفادات ، تمناؤں اور اقدار کا فرق، اس کے عالم گیر نظام بننے کی راہ میں نہ صرف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، بلکہ اس نظام کے پسندیدگی کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کرنے کا سبب ہیں۔
نظام سرمایہ داری دنیا کے مختلف ممالک کے لیے کبھی بھی فائدہ مند نہیں رہا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے تجربات تو بہت تلخ ہیں۔ یورپ اور امریکا میں نظام سرمایہ داری کی کارکردگی قابلِ رشک نہیں اور دنیا کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے۔ معروف سرمایہ دارانہ ممالک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ترقی پذیر دنیا کے لوگوں کی کمرتوڑ رہا ہے بلکہ پوری دنیا کے لوگ اس سے پریشان ہیں۔ مالیاتی عدم استحکام کا جن بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا۔ بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی ناہمواریاں انسانیت کے جسم کا رستا ہوا ناسور ہیں۔ سرمایہ داری کو ابھی اپنا گھر درست کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، قبل اس کے کہ یہ بقیہ انسانیت کی توجہ کا مرکز بن سکے۔
اسی لیے اس تحریر کا مقصد موجودہ یا کلاسیکی سرمایہ داری کے مقدمے پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام کا وژن پیش کرنا ہے۔ نظام سرمایہ داری کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ہر مفہوم کے لحاظ سے ذمہ دار ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو اخلاقی پہلو معدوم ہیں ان کے ساتھ سرمایہ داری کے مستقبل کے بہتر بننے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے ذمہ دار عالمی نظام کے وژن کی ضرورت ہے، جہاں مختلف اعتقادات اور ثقافتوں پر مبنی دوسرے معاشی متبادلات کے لیے بھی یکساں مواقع موجود ہوں۔
جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اسے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان باہمی انحصار کی اہمیت کا ادراک ہے۔ مکالمہ، مشترکہ معاشی کاروبار، بڑھتی ہوئی تجارت، نظریات، اشیا اور انسانوں کا تبادلہ مستقبل کے تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ امرواقعہ ہے کہ عدل کے تقاضے پورے کیے بغیر اور ایسا سیاسی اور انتظامی ڈھانچا تشکیل دیے بغیر دنیا کی ریاستوں، معیشتوں اور لوگوں کے درمیان حقیقی عدل قائم کرنے کی خواہش اور پُرامن، خوش حال اور عالمی انسانی معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔
ہم نے اسلامی تناظر میں، عالم گیر سرمایہ داری کے چیلنج کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کی ہیں اور کچھ ایسے پہلوؤں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو سرمایہ داری کو بطور چیلنج درپیش ہوں گے۔ اگر سرمایہ داری واقعی ایک ’ذمہ دار نظام‘ (Responsible System) بن جاتا ہے تو بہت سے سماجی و معاشی نظاموں کے باہمی طور پر مل جل کر رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ امتحان اس بات میں پوشیدہ ہے کہ نظام سرمایہ داری کس حد تک صرف ایک نظام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام بننے کے لیے تیار ہے؟ بصورت دیگر نظام سرمایہ داری یورپ و امریکا کی بالادستی کے لیے ایک وسیلہ بنا رہے گا اور دوسری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکے گا۔ مزید برآں اس کے نتیجے میں مغربی دنیا کے اندر سے بھی پھوٹ اور چیلنجوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
۞مستقبل کا معاشی نظام: مسلم دنیا سیاسی و معاشی طور پر کمزور ہوسکتی ہے، لیکن مسلم مفکرین اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ اسلامی معاشی نظام اقدار پر مبنی ہے او راس کے اپنے بنیادی اصول اور ادارے ہیں۔ یہ اپنے نظام کے اندر فطری معیشت کے ایسے اہم عناصر رکھتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہیں، مثلاً انفرادی آزادی،حقوق ملکیت، منڈی کی میکانیت، منافع کا محرک اور دولت پیدا کرنے اور وسائل تقسیم اور فرد اور اجتماع کی بہبود کے لیے قانونی اور اداراتی انتظامات۔
اسلامی نظامِ معیشت منفرد تو ہے مگر خود مختار نہیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تہذیب کاایک جزو ہے اور مسلم علاقوں میں ایک ایسے عالم گیر اور کھلے معاشرے کاخواہش مند ہے، جس کا یہ خود بھی ایک حصہ ہو۔ اس سے ایک ایسا عالمی معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں مختلف ثقافتیں اور نظام بقاے باہمی کے اصول پر موجود ہوں۔ اگر سرمایہ داری کی کچھ اہم اقدار اور اسلامی نظام میں کچھ یکسانیت موجود ہے تو دوسری جانب اسلامی عقائد اور ثقافت کے منفرد اصولوں کی بنا پر بہت سے نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ اسلامی معاشی نظام اپنی ثقافت اور تہذیب کے تناظر میں روبہ عمل آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ماہرینِ معیشت، نظام سرمایہ داری کی کسی قسم کو اپنی دنیا میں برتر قوت نہیں دیکھنا چاہتے۔ سطحی رعایتیں یا مذہب و ثقافت پر مبنی اقدامات بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

عالم گیر میدان کش مکش میں مقابلہ کرنے والوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں کچھ اقدار یکساں نوعیت کی ہیں، جو باہمی تعلق، تعاون اور میل ملاپ کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ دنیا پر حاوی ہونے کا ایک ہی نظامِ سرمایہ داری کا نظریہ، تکثیریت (Pluralism) پر مبنی ایک ایسی دنیا کی نفی ہے، جو کسی کی بھی بالاتری اور برسرپیکار تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ سے آزاد ہو۔ میرے جیسے لوگوں کو جو بات اچھی لگتی ہے اور حوصلہ دیتی ہے، وہ ایک ایسی دنیا کاتصو رہے جس میں تمام شرکا کو یہ اعتماد حاصل ہوکہ وہ اپنی اقدار کے تحت زندگی بسر کرتے ہوئے ایک عالم گیر نظام کے باہم شراکت کار ہیں۔ موجود عالم گیر سرمایہ داری کاالمیہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہنے والے لوگوں کااعتماد حاصل کیے بغیر: باہمی اقدار اور رضامندی اور غیر رضامندی کی حدود کے بغیر،ایسی راہوں کو اختیار کیے بغیر جو معاشی ناہمواری کو کم کرسکیں، مفادات اور معاملات میں مطابقت پیدا کرسکیں، اور ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیے بغیر جس کے اپنے ادارے تمام لوگوں کے لیے آزادی، شراکت اور بہبود کو یقینی بناسکیں،بالادستی چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ عالم گیر سرمایہ داری کا بڑا علَم بردار، جارج سوروس اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود اور پرامن،خوش حال اور عادلانہ عالم گیر معاشرے کے قیام کے لیے منڈی کی میکانیت،انفرادی آزادی او رجمہوری اقدار ناگزیر ہیں اور مارکیٹ فنڈامنٹلزم (Market Fundamentalism) معاشی ترقی، مالیاتی وسائل، تکنیکی مہارتوں اور سیاسی قوت میں تفاوت صحت مند عالم گیریت کی راہ میں معاون نہیں بلکہ رکاوٹیں ہیں۔۱۲؂
آزادانہ تجارت بہت اچھی بات ہے، لیکن اسے استحصال کے بجاے شائستہ اور مناسب تجارت بننا چاہیے۔ ترقی ایک بہت پسندیدہ ہدف ہے، لیکن یہ ترقی سب کے لیے ہو۔ دولت خوش حالی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہ خوش حالی تمام لوگوں اور علاقوں کے لیے ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اخلاقی پہلوؤں کی برتری قائم ہو اور استعداد کار کے ساتھ ساتھ عدل کو عالم گیر نظام کابنیادی پتھر بنایا جائے۔

* خلاصہ بحث: سرمایہ داری کلی طور پر ذاتی مفاد کے محرک پر مبنی ہے، جس کا اظہار زیادہ سے زیادہ افادہ ، زیادہ سے زیادہ منافع اور زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی صورت میں ہوتا ہے۔ منڈی ہی پوری معیشت کی راہیں متعین کرتی ہے۔ اشتراکیت نے ساری توجہ پیداوار کے طریقوں اوران کو کنٹرول کرنے پر مرکوز کردی تھی۔ اس طرح منڈی پر حاکمانہ معیشت کو برتری حاصل ہوگئی تھی۔ دونوں نظام چند حقیقی عناصر رکھنے کے باوجود یک طرفہ ہونے کی وجہ سے غلط راہ پر چلے اور بعض اوقات بہت روشن ہونے کے باوجود ناکام ہوئے۔
اسلام انسان اور طریق پیداوار دونوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اور ان کو متوازن اور ہم آہنگ بناتا ہے۔ اصل مرکزِ توجہ انسان کو بناتا ہے اور ان کی خوش حالی اس کا اصل مقصد ہے۔ ذاتی مفاد، نجی ملکیت اور کاروبار اور محرک منافع کا پوری طرح تحفظ کرتا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت کو سب سے بڑا کردار حاصل ہے۔ اسلام منڈی سے بلند ہوکر تمام سطحوں پر اخلاقی اصولوں،اقدار اور احکام پر توجہ کرتا ہے جو کہ انسانی محرک ،اداروں اور عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فرد اور اجتماع کی بھلائی میں اشیا (Public Goods) میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے ذاتی مفاد کو اعتدال پر لانے کی بھی اسے فکر ہے۔
اعلیٰ انسانی مقاصد کی تکمیل کے لیے اسلام ایسے سماجی و معاشی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے افراد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت و تشکیل اور قانونی اداروں کا قیام عمل میں لاتا ہے۔ انفرادی آزادی، انسانی حقوق اور معاشی عمل کے لیے لامحدود مواقع کی فراہمی، اخلاقی اقدار، اخلاقی قوانین اور عدالتی و قانونی دائرۂ کار کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔ ریاست جابرانہ یا آمرانہ انداز اختیار کیے بغیر اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ تمام معاشی سرگرمیاں زندگی کے مقصدِ اعلیٰ کے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ثقافت اور معاشرے کے تناظر میں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

اس حوالے سے پروفیسر ڈننگ جان کی تین Cکے ساتھ۱۳؂ مزید چار Cکا اضافہ کرتے ہوئے اور ان کی معنویت کو وسیع تناظر میں پیش کیا جارہا ہے(یعنی حسب ذیل نکات کا پہلا حرف ’C‘ ہے)۔اسلامی نظام کی محرک قوتیں درج ذیل ہیں:
۱۔ ذمہ داری، لگن (Commitment): ایمان کی بنیاد پر قائم احساس ذمہ داری اور توحید (اللہ کی وحدانیت) پر مبنی تصورِ دنیا (World view) ، انسانیت کی وحدت اور مساوات، اس احساس ذمہ داری میں شرکت، کمیونٹی اور معاشرے کو مضبوط بنانے والی قوت ہے۔

۲۔ کردار (Character): تمام مردوں اور عورتوں میں جو معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی اکائیاں ہیں، ایک متوازن شخصیت کا ارتقا اسلام کے تصورِ تقویٰ، یعنی اخلاقی نظم و ضبط، اللہ اور عوام کے سامنے احتساب کے مضبوط احساس کی بنیاد پر۔

۳۔ تخلیق (Creativity): علم، ذاتی فائدے، تکنیکی جدت اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خدمت بلکہ دوسرے انسانوں کی خدمت، نیز اچھے کاموں میں شرکت اور زندگی میں اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ۔

۴۔مقابلہ، مسابقت (Competetion): آزادی، مواقع، جدوجہد اور مسلسل کوشش کے ذریعے ان مادی اور انسانی وسائل کو بروے کار لاکر ذاتی، معاشرتی، دنیاوی او راخلاقی مقاصد کے لیے مقابلہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن (البقرہ ۲:۱۴۸) خیر اورنیکی کے کاموں میں صحت مندانہ مسابقت کے اصول پر زور دیتا ہے۔

۵۔ تعاون (Cooperation): مقابلے کی قوتوں کی تقویت اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنے، نقصان پہنچانے والا بننے سے روکنے کے لیے تعاون۔ مقابلہ اور تعاون دونوں مل جل کر اتفاق باہمی، معاشرے اور انسانیت کے لیے اتفاق و اتحاد کا باعث بنتے اور جدت و ترقی کے لامحدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مقابلے و تعاون کے لیے جو ادارہ سب سے بنیادی اہمیت اور انفرادیت کا حامل ہے، وہ خاندان ہے۔ مزید برآں معاشرہ مقامی، قومی، علاقائی اور عالم گیر سطح کے اداروں کے ایک جال کے ذریعے ہر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بین الانسانی رشتوں، اعلیٰ ترین معاشی و سماجی شراکت کاایک ماڈل پیش کریں۔ رسول کریمؐ نے پوری انسانیت کو عیال اللّٰہ (اللہ کا کنبہ) فرمایا۔

۶۔ شفقت، ہمدردی (Compassion):اسلامی تناظر میں شفقت و ہمدردی اور عدل و احسان کا حسین امتزاج ہے۔ عدل کا مطلب تمام معاملات میں انصاف ہے اور اس سے مراد ہر ایک کو اس کا حق دینا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کااحترام اور ان حقوق کو پورا کرنا ہے۔ ’احسان‘ کا درجہ ’عدل‘ سے بھی اوپر ہے۔ اس سے مراد فیاضی، فضیلت، بہت اچھے طریقے سے کسی کام کو سرانجام دینا، رحم، محبت اور قربانی کے جذبے اور عمل میں ترقی ہے۔ یہاں تک حکم ہے کہ جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے اس سے بڑھ کر دوسروں کے لیے پسند کرے۔ یہ برابری کی وہ سطح ہے کہ جس پر باہم معاملات کرنے (reciprocity) سے بھی بڑھ جانا، یعنی دوسروں سے ہم وہ توقع کریں جو وہ ہم سے توقع کرتے ہیں۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص دوسرے کی بہتری کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دے دے۔ اطالوی ماہرمعاشیات ولفریڈو پاریٹو (م: ۱۹۲۳ء)کا نظریہ انسانی چناؤ (choice) کے اونچے درجے کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یوں ’عدل‘ کے ساتھ ’احسان‘ مل کر اسلام کے حقیقی شفقت کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔
۷۔ بقاے باہمی (Coexistence): اس کا مطلب ہے آزادی، برداشت، باہمی احترام اور مل جل کر رہنے کا عہد۔ یہ صحیح تکثیریت (plurality) ہے جہاں اپنی پسندیدگی کی قربانی دیے بغیر اور صحیح بات کے ساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے اختلاف (diversty) کو قبول کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے ’تکثیریت‘ دیانت داری کے ساتھ ہو اور اس سے ایسا باہمی میل جول وجود میں آتا ہے جو بغیر کسی کو نیچا دکھائے، برتری جتلائے یا آمرانہ طور پر اپنی بات منوائے۔ یہ نمونہ افراد، گروہوں، قوموں، ریاستوں، علاقوں، آبادیوں، اور مذاہب اور نظریات سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس کا فطری نتیجہ مکالمہ ہے نہ کہ زبردستی یا بے جا مداخلت۔ صحیح اختلافات اور تنوع اس فریم ورک کا مقصد ہیں۔ جس میں بہت سی لچک ہوسکتی ہے اور باہمی طور پر اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر کچھ لو اور دو (Give and Take) ہوسکتا ہے۔ بقاے باہمی کا یہ بھی تصور ہے کہ معاشرے میں ایسے مؤثر طریقے ہوں جو آپس میں مل جل کر رہنے اور اختلافات اور جھگڑوں کو حل کرنے کے قابل ہوں اور تمام اختلافات کے باوجود باہم مل کر رہنے کا عہد ہو۔ یہی عدل اور آزادی کے ساتھ امن کا ایک ماڈل ہوسکتا ہے۔

یہ تمام حکمت عملیاں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں۔ اسلامی تناظر میں دونوں پالیسیاں بیک وقت اختیار کی جاسکتی ہیں۔ ایک کو دوسرے کا حصہ بناکر اخلاقی اقدار، زری و مالی ترغیب، مادی انعام اور سزا، ایثار، قربانی،ہمدردی، روایت و رسم ، عوامی آرا، معاشرتی ادارے، قانون اور ریاست تمام اپنا لازمی لیکن محدود کردار ادا کرتے ہیں۔ حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین اپنی ذات کے اندر سے نافذ کرنے والے عمل مسلم معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ صرف جامع اور باہم، زیادہ مربوط طریقے سے ہی ایک عادلانہ و باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

آزاد نظریے کے مغربی نمونے میں مرکزی ہدف آزادی ہے اور اس معاشرت کی ہر شے اسی کے گرد گردش کرتی اور اس سے نکلتی ہے

Thursday, 5 February 2015

The Cognitive Heart: Lecture by Prof Amna Alfaki

The Cognitive Heart: Lecture by Prof Amna Alfaki
 
Dr Alshingieti and Dr AlFakiOn Friday January 23rd, Dr. Amna Mohamed Al Faki, Professor of Pediatric & Child Health, Omdurman Islamic University - Sudan, presented a synopsis of her research on the heart as a cognitive organ and not just a pumping machine. She defined the human heart as “fundamentally a cognitive organ that processes thought, makes decisions, and interacts with the brain to produce conscious experiences”. She pointed out that the cognitive abilities of the human heart depend mainly upon i) the anatomical structures, ii) the intrinsic functions of cardiac ganglia, and iii) the intra-mural cardiac neurons. Her hypothesis -published in the Medical Hypotheses journal in 2010- suggests that the neurons in the muscular tissues of the heart have perceptive sensory functions locally in the heart like sensory neurons of the brain.

Prof. AlFaki noted that cardiac information sent to the brain triggers consciousness. This is evident in the fact that the firing of cardiac neurons precedes that of the cortical neurons by a variable time period in goal-directed action or behavior in the conscious state. She noted that many educational institutions and health organization had started to use the cognitive abilities of the heart (emotions, intelligence, intuition reasoning etc.) in treating patients with post traumatic stresses and psychosis. She believes that her thesis, once backed up with concrete research results, will significantly impact how the heart is viewed.

Bio
Professor Amna Mohamed Al Faki is Professor of Pediatric & Child Health, Omdurman Islamic University. She is also General Manager of the Consciousness and Nervous System Sciences Organization (CANSSO), an NGO registered in Sudan. She held major positions as Director of the Omdurman Children Hospital; consultant pediatrician to the Ministry of Health, Sudan; lecturer at the Faculty of Medicine, University of Khartoum; and lecturer at the Sudan Medical Specialization Board.

Prof. Al Faki graduated from Cairo University, where she received a Bachelor of Medicine, and completed her MD in pediatric and child health from the University of Khartoum in 1980. She was a scholar at the University of Liverpool from 1980-1982. She has written several papers on the heart and consciousness and attended numerous medical conferences globally. She is a member of several professional organizations in the field of Medical Research, in Sudan and abroad.

Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of Jurisprudence

Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of

Jurisprudence

 
Dr Barzinji, Dr Alshingeiti, Dr Salem









On January 23rd, 2015, the International Institute of Islamic Thought (IIIT) commenced its Spring 2015 Lecture Series with an insightful presentation by Dr. Feryal Salem, of Hartford Seminary. The topic of her seminar was 

“Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of Jurisprudence.”

Dr. Feryal Salem is Assistant Professor of Islamic Scriptures and Law and a Co-Director of the Islamic Chaplaincy Program at Hartford Seminary in Hartford, Conn. She has a Ph.D. in Islamic Studies from the University of Chicago and she has also received a number of ijazat from Syria, in addition to her degree in hadith sciences from the Nuriyya Hadith Institute of Damascus.
The program began with an introduction by Ermin Sinanović, Director of Research at IIIT, followed by Dr. Salem’s talk and a Question and Answer session.

Islamic Law during Prophet’s Life
Dr. Salem introduced her topic by discussing how Islamic law was derived at the time of Prophet Muhammad, peace and blessings be upon him. She cited Qur’anic evidence to show that the Prophet’s legislative authority was established in the revelation and that wahy was of two types: recited (Qur’an) and not recited (Sunnah).
She then gave examples of how the Qur’an, Sunnah and Ijtihad were utilized in the Prophet’s (pbuh) time. Since the Qur’an was revealed piecemeal, it became an interactive, dynamic text, providing a connection with Allah, which strengthened the early Muslim community. The companions had easy access to the Prophet (pbuh) and would simply ask him. Furthermore, the Sunnah was actually being recorded during the Prophet’s (pbuh) life, with ‘Amr ibn al-‘As as a known writer of hadith.
Dr. Salem defined Ijtihad as a way to expand Islamic rulings, based on analogy or reasoning, on matters where there is no clear ruling from the Qur’an and Sunnah. There are several instances from the Sirah where Ijtihad was clearly employed by the Prophet (pbuh) or his companions, such as during the Battle of Badr, the Battle of Trench, and when a group of companions went to Banu Qurayzah.
Through these examples, Dr. Salem emphasized that “in allowing for diversity, we stay united.” She explained that the Companions and the Prophet (pbuh) were comfortable with differences – it is we who feel discomfort today with ikhtilaf. “When we are grounded in our traditions, we don’t feel threatened by differences,” she declared.

Basis of Difference among Islamic Legal Scholars
The second part of Dr. Salem’s presentation was devoted to the major reasons why the four Sunni madhabs differ from each other. Some of these include variance in the reading (qira’at) of the Qur’an, doubt in the reliability of a hadith, difference of opinion in how a verse of the Qur’an is understood, and multiple meanings of words. She supported each one with examples of how scholars have reached rulings based on their separate interpretations, at times reaching a consensus and other times settling on different opinions. In doing so, she stressed that we must be aware that a lot of sophistication goes into this process and hence, it should be respected.
Ermin Sinanović provided concluding words at the session, explaining that in a binary world of 0’s and 1’s, it is difficult for the modern mind to comprehend that two apparently contradictory positions can both be acceptable. Yet, such one-dimensional thinking is not supported in Islam where there is plenty of flexibility and room to have multiples schools of thoughts. He, then, invited the audience to ask Dr. Salem questions, during which she highlighted the modern problem of taking religion from books without understanding the human element which has been such an integral part of Islamic traditions from the very beginning.
The seminar closed with a brief evaluation by Jamal Barzinji, President of IIIT.

Sunday, 20 July 2014

زکوۃ اور ٹیکس . Zakat aur Tax

Monday, 12 May 2014

امام غزالی Imam Ghazali

امام غزالیؒ


0  | By Shams Khan
اسلام کے نہایت مشہور مفکر اور متکلم کا نام محمد، اور ابو حامد کنیت تھی، جبکہ لقب زین الدین تھا۔ ان کی ولادت 450ھ میں طوس میں ہوئی۔ آپ کے والد محمد بن محمد کا انتقال 465ھ میں اُس وقت ہوا جب آپ کی عمر پندرہ برس تھی۔ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت شیخ احمد غزالی کی عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔ابتدائی تعلیم طوس و نیشا پور میں ہوئی۔ نیشاپور اُن دنوں علم و فن کا عظیم مرکز تھا۔ بڑے بڑے جید اور قابل ترین اساتذہ کرام نیشاپور میں موجود تھے۔ آپ نے نیشاپور میں مدرسہ نظامیہ میں اپنے وقت کے مشہور عالم دین علامہ ابوالمعالی جوینی کے زیرسایہ داخلہ لے لیا۔ علامہ جوینی کو امام الحرمین کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی خدمت میں حاضر رہ کر امام غزالی نے دیگر علوم کے علاوہ علم مناظرہ، علم الکلام اور علم فلسفہ کی تکمیل کی اور ان علوم میں اس قدر کمال حاصل کیا کہ علامہ جوینی کے تین سو شاگردوں میں سبقت لے گئے اور تھوڑی سی مدت میں فارغ التحصیل ہوکر سند حاصل کرلی۔ آپ کی عمر صرف اٹھائیس برس تھی جب آپ نے تمام علوم اسلامیہ یعنی فقہ و حدیث، تفسیر، علم مناظرہ، علم کلام، ادبیات، فارسی و عربی، ولایت اور علم فلسفہ میں درجۂ کمال حاصل کرلیا۔ 478ء میں علامہ جوینی کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی علم شناسی، علم دوستی، قابلیت و اہلیت کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنے استادِ محترم کی زندگی میں ہی مدرسہ نظامیہ میں نائب مدرس مقرر کردیا گیا تھا، پھر کچھ عرصے کے بعد آپ مدرسہ کے مدرس اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ امام کی علمی قابلیت کا اعتراف ان کے استادِ محترم امام جوینی بھی کیا کرتے تھے اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ امام غزالی نے اپنی کتاب ’’منحول‘‘ تصنیف فرمائی تو اسے اپنے استاد محترم علامہ جوینی کی خدمت میں پیش کیا۔ استاد محترم نے کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد فرمایا ’’غزالی تم نے مجھے زندہ درگور کردیا ہے۔ یعنی یہ کتاب میری تمام شہرت پر حاوی ہوگئی اور میری شہرت دب کر رہ جائے گی‘‘۔ استاد محترم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات سچ ثابت ہوئی۔ امام غزالی آسمانِ علم و ہدایت کا ایک روشن ستارہ ہیں جس کی روشنی سے تاقیامت انسانیت مستفید ہوتی رہے گی۔ آپ کی کتاب’’المنقذ من الضلال‘‘ آپ کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ سیاسی انقلابات نے امام غزالی کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور وہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے، پھر حج کرنے چلے گئے اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔ آپ کی دیگر مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ آپ کا انتقال505ھ میں طوس میں ہوا۔
غلطی سے
اردو کے منفرد مزاح نگار شوکت تھانوی اپنی شاعری کی ابتدا کا ذکر ایک مختصر سی ریڈیائی تقریر ’’میری سرگزشت‘‘ میں اس طرح کرتے ہیں:
’’لکھنؤ کے ایک رسالے میں، جس کے نام سے ہی اس کا معیار ظاہر ہے یعنی ’’ترچھی نظر‘‘… میری ایک غزل چھپ گئی۔ کچھ نہ پوچھیے میری خوشی کا عالم۔ میں نے وہ رسالہ کھول کر ایک میز پر رکھ دیا تاکہ ہر آنے جانے والے کی نظر اس غزل پر پڑ سکے۔ مگر شامتِ اعمال کہ سب سے پہلے نظر والد صاحب کی پڑی اور انہوں نے غزل پڑھتے ہی ایسا شور مچایا کہ گویا چور پکڑ لیا ہو۔ والدہ محترمہ کو بلا کر کہا:
’’آپ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ:
ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
ترے کوچے میں ہم جا کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں
میں پوچھتا ہوں کہ ’’یہ جاتے ہی کیوں ہیں؟ کس سے پوچھ کر جاتے ہیں؟‘‘ والدہ بے چاری سہم کر رہ گئیں اور خوف زدہ آواز میں بولیں:
’’غلطی سے چلا گیا ہو گا!‘‘
دل کے اندھے
ایک دیہاتی کو اپنی پالتو گائے سے بہت محبت تھی۔ دن رات اس کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتا اور ہر دم اس کی دیکھ بھال میں لگا رہتا۔ ایک دن وہ گائے کو باڑے میں باندھ کر اچانک ضروری کام سے چلا گیا۔ اتفاق سے اس دن دیہاتی باڑے کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔ جنگل کا شیر کئی دنوں سے گائے کی تاک میں تھا۔ اس دن اسے موقع مل گیا۔ شیر رات کی تاریکی میں دبے پائوں آیا، باڑے کے اندر گھسا اور گائے کو چیر پھاڑ کر ہڑپ کر گیا۔ شیر گائے کو کھانے کے بعد وہیں باڑے میں بیٹھ گیا۔ دیہاتی رات گئے گھر واپس آیا اور گائے کو دیکھنے کے لیے پہلے سیدھا باڑے میں گیا۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا۔ شیر گائے کو کھا کر مست بیٹھا ہوا تھا۔ دیہاتی نے شیر کو اپنی گائے سمجھ کر پیار سے پکارا۔ پھر اس کے پاس بیٹھ کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ دیہاتی احمق کو اگر پتا چل جاتا کہ وہ جسے اپنی گائے سمجھ کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا ہے وہ آگے بیٹھا ہوا جنگل کا بادشاہ شیر ہے تو مارے دہشت کے اس کا جگر پھٹ جاتا اور دل خون ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کا نام ہم نے صرف پڑھا اور سنا ہے اور لفظ اللہ صرف زبان سے ہی پکارتے رہتے ہیں۔ اگر اس پاک ذات کی ذرا سی حقیقت بھی ہم پر واضح ہوجائے تو جو ہمارا حال ہوگا ہم اسے نہیں جان سکتے۔ کوہِ طور پر تجلی پڑنے سے جو اُس کا حال ہوا اس کی سب کو خبر ہے۔ اس پر مزید قلم کشائی میری بساط سے باہر ہے۔
درسِ حیات:
٭ تیرا نفس اس خونخوار شیر سے بھی زیادہ خطرناک ہے جسے تُو اندھے پن میں فریب خوردہ ہوکر اور گائے سمجھ کر پال رہا ہے۔ اس کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتا۔ ابھی وقت ہے اپنی اصلاح کرلے۔
(حکایت رومی)
کلام اقبال فارسی کا منظوم ترجمہ
شفق ہاشمی
’’پیامِ مشرق‘‘
’’رموزِ اقبال‘‘
ز انجم تا بہ انجم صد جہاں بوو
ستاروں میں بسے صدہا جہاںہیں
خرد ہر جا کہ پَر  زد  آسماں بود
خرد  جس جا گئی  وہ  آسماں  تھا
و لیکن چوں بخود  نگریستم من
مگر جب اندروں  دیکھا  تو پایا
کرانِ بیکراں در من نہاں بود
کہ خود میں بیکراں عالم نہاں تھا
آخری خواہش
سقراط کو سزا دینے سے پہلے پوچھا گیا: ’’تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں شہر کے سب سے اونچے مکان پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہوں کہ اے لوگو! حرص اور طمع کی وجہ سے اپنی زندگی کے بہترین اور پسندیدہ ترین دن مال و دولت جمع کرنے میں کیوں بسر کر رہے ہو! یہ قیمتی وقت اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کیوں نہیں لگاتے! جبکہ تم یہ ساری دولت چھوڑ کر خالی ہاتھ چلے جائو گے۔
(ماہنامہ پھول، لاہور۔ جون 1999ء صفحہ 4)
موبائل فون ایپس صارفین کی ’مجبوری‘
مارکیٹنگ ریسرچ فرم ’فلری‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسمارٹ فون کے عادی افراد کی تعداد میں حیرت انگیز اضافے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون ایپلی کیشنز ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دن میں 60 بار موبائل ایپلی کیشن کھولنے والے افراد موبائل فون کے عادی پائے جاتے ہیں، تاہم خواتین اس مسئلہ میں سب سے زیادہ گرفتار پائی گئی ہیں۔
’فرلی‘ کے تجزیہ کاروں نے کثرت سے موبائل فون استعمال کرنے والوں کے رویّے کا جائزہ لینے اور مشاہدہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشہور محقق میری میکر کی انٹرنیٹ رجحانات پر مبنی رپورٹ کے اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ گزشتہ برس کی اس تجزیاتی رپورٹ میں تحقیق کار میکر نے موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک عام صارف ہر روز دن میں اوسطاً 150 بار اپنی ڈیوائس چیک کرتا ہے۔ موبائل فون کے ساتھ لوگ کتنا جڑے ہوئے ہیں اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے ماہرین نے موبائل فون استعمال کرنے والوں کو تین درجوں میں منقسم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دن میں کم از کم 10 بار موبائل ایپ کا استعمال کرنے والا شخص اوسط صارف کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ سپر درجے میں ایسے افراد شامل ہیں جو ایک دن میں 16 سے زائد بار موبائل ایپ کھولتے ہیں۔ لیکن دن میں 60 بار سے زائد ایپلی کیشن کا استعمال کرنے والوں کو موبائل فون کا عادی بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے ایک سال میں موبائل فون کے عادی افراد کی تعداد میں 123 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موبائل فون کا عادی ہونے کے امکانات خواتین میں مردوں سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں نے موبائل فون کے عادی افراد کی عمروں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ نوجوانوں کے مقابلے میں درمیانی عمر کے افراد موبائل فون کے زیادہ عادی پائے گئے۔
جاپان: بچے کم، بوڑھے زیادہ
جاپان کی وزارت داخلہ اور مواصلات نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جاپان کی آبادی میں 2 لاکھ 84 ہزار افراد کی کمی ہوگئی ہے۔
آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرح 25.6 فیصد ہوگئی ہے جبکہ 14 سے کم عمر کے بچوں کا تناسب پہلے سے گر کر صرف 13 فیصد رہ گیا ہے۔ جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ جاپان میں 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے جو آبادی کا 25.6 فیصد ہے۔ اسی طرح جاپان میں چودہ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک لاکھ 60 ہزار کم ہے۔ آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں بوڑھوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اندازوں کے مطابق اگر جاپان میں آبادی کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2060ء تک جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 40 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ جاپان کی آبادی میں گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کمی ہورہی ہے۔ جاپانی حکومت کے اعلان کے مطابق آبادی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی 1950ء کے بعد سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رواں سال جاپان میں لمبے عرصے سے مقیم غیر ملکیوں کو بھی مردم شماری میں شامل کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس فوکوشیما میں ہونے والے جوہری حادثے کی وجہ سے غیر ملکی آبادی کے تناسب میں کمی ہوئی ہے اور غیر ملکی جاپان سے چلے گئے ہیں۔

Monday, 21 April 2014

قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن . Quran ka Shaer aur Shaer ka Quran

قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن

کالم نگار  |  نعیم مسعود

سن 1996 کے لگ بھگ کی بات ہے کہ پروفیسر عبدالحئی صدیقی میرے آفس میں آئے اور بڑی سنجیدگی سے سوال کیا کہ ’’کیا قائدؒ اور اقبالؒ بھی ’کلوننگ‘ سے پیدا کئے جا سکیں گے؟ ان دنوں کلوننگ کی تحقیق کا بہت چرچا تھا، روزانہ اخبارات میں جنیٹک انجینئرنگ اور بائیو ٹیکنالوجی کی باتیں چل رہی تھیں۔ میرے جیسے بائیالوجی کے طالب علم کیلئے یہ باتیں نئی نہ تھیں تاہم عام فہم یا وہ اساتذہ اور طلبہ جو حیاتیاتی علوم سے ناآشنا تھے اُن کیلئے یہ باتیں بہت عجیب اور نئی نئی تھیں۔ بہرحال پروفیسر صاحب کی بات کا جو جواب میں نے عرض کیا وہ یہ تھا کہ وہ ’’قائد اور اقبال‘‘ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں حالات، چیلنجز، فہم و فراست اور جذبوں کی صداقت قائد اور اقبال بناتی ہے، انہیں کلوننگ کے ذریعے پیدا کرنا ممکن نہیں مگر ان کے درس و تدریس اور پیغامات قوم میں اقبال اور قائد ضرور پیدا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی بیٹریاں ان کے افکار اور اقدامات سے چارج اور ری چارج ضرور ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ جنیٹک انجینئرنگ یا کلوننگ سے نہیں بن سکتے لیکن یہ خود اتنے بڑے سوشل انجینئر اور ’’جنیٹک انجنیئر‘‘ ہوتے ہیں کہ جن کے دم خم اور فکر و عمل سے اقبالیات کو پیدائش، نمو اور نشو و نما ملتی ہے  ؎

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
علامہ اقبال جدید دنیا کی وہ پہلی مسلمان شخصیت تھی جس نے اپنے تصورات اور پیغامات سے مسلمانوں کو یہ سبق سکھانے کی کوشش کی کہ آپ گلوبل ولیج میں ہیں۔ دنیا کے گلوبل ولیج ہونے کو اقبال نے سب سے پہلے ثابت کیا اور اس کی اہمیت پر زور دیا۔ آج کی قیادت اچانک بول کر کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے کہ ’تعلیم یہ، نوجوان وہ، جہاد ایسے اور فرنگی یوں! قیادت کی چشمِ بینا اور وسعت نظر صدیوں پرانی تاریخ کو مستقبل سے موازنہ کر کے دیکھتی ہے۔ قیادت اذان دینے کی صلاحیت، بات پر کھڑے رہنے کی ہمت اور اہمیت کے علاوہ دلیل کی طاقت اور مظاہراتی و انکشافی طرز عمل سے بخوبی آگاہ بلکہ اس کی پریکٹیکل شہادت ہوتی ہے۔ قیادت کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ صرف اشرافیہ کی نمائندہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات اور نفوذ ملت کے ہر فرد تک رسائی رکھتے ہیں۔ وہ ہر فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ سمجھتے ہیں۔ ایسی نیچرل اور باصلاحیت قیادت ’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ اور مال و متاع کے سمیٹنے سے اجتناب کرتی ہے۔ بگاڑ سے کہیں دور بسیرا اور بنائو کی تراش خراش ہی ان کا نظریہ اور نصب العین ہوتا ہے  ؎
ترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے
ڈاکٹر اقبال 21 اپریل 1938ء سے اس جہانِ فانی سے کوچ ضرور کر گئے لیکن ان کی بازگشت مؤثر پیغام بن کر تلاطم خیز موجوں کے سامنے ٹھہرنے کا کلیہ اور فارمولا بن کر دل و دماغ کی فضا میں موجود ہے۔ پیغامِ اقبال جب اپنے عروج پر تھا تو وہ برصغیر پاک و ہند کے ماحول کو دیکھ کر اقوال زریں بن کر کانوں تک پہنچتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح سے مولانا مودودی تک کی ہمت افزائی اقبال نے اُس وقت کی جب ان کے گرد فرسٹریشن کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ شاعر مشرق کے تدبر کو مغرب بھی مانتا تھا۔ خطبہ الہ آباد کا فکر مشرق و مغرب کیلئے حیرانی کا باعث بنا۔ مصور پاکستان نے صرف پاکستان کا خواب ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے منزل کی جانب والی شاہراہ کا تعین بھی کیا۔ وہ کہتے کہ مایوس نہیں ہونا، بڑھتے رہنا ہے، غم کو ہمت سے ختم کرنا ہے  ؎ 
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اقبال پُرعزم قیادت کے حق میں تھے ان کی فلاسفی تھی کہ اگر قحط الرجال نہ ہو تو ہر فرد مردِ مومن کی طرح سمجھ اور سوچ سکتا ہے۔ اسی لئے تو وہ کہتے تھے کہ ’’خالی ہے کلیموں سے کوہ و کمر ورنہ --- تو شعلۂ سینائی میں شعلہ سینائی‘‘ کرگس کا جہاں اور، اور شاہیں کا جہاں اور جیسی باتیں، گویا شہباز کی باتیں وہ قوم کی اٹھان کیلئے کرتے۔ ان کی شاعری امید کی شمع فروزاں کرتی تھی۔ تیرگی اور ظلمتوں کا سماں اُن کی فلاسفی، حکمت اور پیغام میں کوئی جگہ نہ رکھتا  ؎
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
شیخ سعدی شیرازیؒ نے جس طرح ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔ اقبال بھی ملت کا ایسا ہی غم رکھتے تھے اور نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر وہ مسلم کو ایک دیکھنا چاہتے تھے۔ اگر آج ہم ایک نہیں تو یہی وجہ ہے کہ شام و مصر، لبنان، عراق، ایران حتیٰ کہ پاکستان کے ساتھ عہدِ حاضر کے چودھری امریکہ کا رویہ کیا ہے۔ او آئی سی ہے مگر اُس کی بے توقیری اُس کے دامن کا لباس ہے۔ اپنی ہی سرزمین کو دیکھ لیں غیروں نے ہمیں طالبان، نسل پرست، شیعہ سُنی، بلوچ و غیر بلوچ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہمیں ہمارے مرکز اور نظریہ سے دور کر رکھا ہے۔ موساد، را، اور سی آئی اے نے ہمیں کمزور کرنے کیلئے ہمارے حقیقی مجاہدوں اور حقیقی طالبان کے مقابلے پر ’’اپنے طالبان‘‘ کھڑے کر دئیے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں سے اپنوں کی گردنیں کٹوائی جا رہی ہیں۔ ابھی وقت ہے کہ ہم صراطِ مستقیم پر آ جائیں  ؎
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
بابا فریدالدین گنج شکرؒ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’جو سچائی جھوٹ کے مشابہ ہو اسے اختیار مت کرو‘‘ گویا سچ کی سچائی کی دُہائی جو اقبال سے ملتی ہے وہ دیگر مفکرین اور شعراء کے ہاں نہیں پائی جاتی ہے  ؎
خُدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام!

مجددّ الف ثانی ؒسے علامہ اقبال ؒ. Mujaddid Alfsani se Allama Iqbal

مجددّ الف ثانی ؒسے علامہ اقبال ؒ

رانا عبدالباقی
 

تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ آریا ہندو سماج یا ہندوازم کے علمبردار 1700 سے1500 قبل مسیح کے دوران افغانستان میں پہلا پڑائو ڈالنے کے بعد موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی تہذیب کو شکست دے کر فاتحین کے طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے ۔ اُنہوں نے برّصغیر جنوبی ایشیا کو "بھارت ماتا" قرار دے کر ہندوستان کو اپنا وطن بنایا اور مقامی لوگوں کیساتھ ظالمانہ سلوک کرتے ہوئے اُنہیں غلاموں سے بدتر یعنی شودر اورملیچھ کی پوزیشن میں رکھ کے سیاسی اور سماجی طور پر مقامی آبادیوں پر غلبہ حاصل کرلیا ۔ آریا ہندو سماج یاہندوازم کے ماننے والے ذات پات کے نظام کے تابع تھے چنانچہ ذات پات کے نظام کو سماجی ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہوئے اُنہوں نے مقامی باشندوں کے علاوہ ہندوستان پر حملہ آور ہونے والی دیگر فاتح قوموں کے زوال پزیر ہونے پر اُنہیں بتدریج اپنے سماجی نظام میں جذب کرلیا۔ حتیٰ کہ وقت گزرنے کیساتھ ہندو سماج کے ذات پات کے ظالمانہ نظام کے خلاف جنم لینے والی مقامی سماجی تحریکوں جین مت اور بل خصوص بدھ مت جسے جنوبی ایشیا میں مضبوط مرکزی ہندو حکومت کے بانی چندرگپت موریا کے پوتے اشوک بادشاہ کے بودھ ازم قبول کرنے کے بعد کابل سے بنگال تک چند صدیوں تک عروج حاصل رہا کو کچھ عرصہ برداشت کرنے کے بعد ہندوازم نے انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ شکل اختیار کرتے ہوئے اِن دونوں مقامی تہذیبوں کو بھی شودر اور ملیچھ کے طور پر ہندوازم میں جذب ہونے پر مجبور کر دیا ۔ ہندوازم کے جذب و کمال کا یہ سلسلہ ہندوستان میں ظہور اسلام تک جاری و ساری رہا ۔ محمد بن قاسم کی سندھ کی فتوحات نے بلاآخر ہندوازم کی اِس سماجی قوت کو موثر طور پر چیلنج کیا اور بعد میں افغانستان کے راستے آنے والے اسلامی اثرات کے باعث مسلمان فاتحین نے ہندوستان میں سلطنتیں قائم کیں اور غلبہ اسلام کو ایک ہزار برس پر محیط کر دیا ۔ ہندوستان میں فکر اسلامی کے خلاف ہندوازم کی شدت پسندی ہندو مورخوں اور دانشوروں میں پیدا ہونے والی اِس سوچ کو بخوبی واضح کرتی ہے کہ ہندوازم نے ہندوستان میں آنے والے ہر مذہب اور قوم کو اپنے اندر جذب کرلیا لیکن یہ مسلمان کیسے لوگ ہیں جو شدہی سنگھٹن اور جبر و تشدد کے باوجود اسلامی تہذیب سے منحرف ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں ؟

 پروفیسر منّور کی یہ دلیل اپنی جگہ درست ہے کہ مسلم فاتحین کیساتھ لاکھوں مسلمان صحرائے عرب ، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ہندوستان میں آئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دینِ اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے لاکھوں مقامی ہندوئوں نے بھی اسلام قبول کیا اور پھر وہ دین اسلام پر ہی قائم رہے ۔ گو کہ ہندوستان میں مسلم حکومتوں کے دور میں مسلمانوں کی عددی تعداد ہندوئوں کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم رہی لیکن مسلم سلطنتوں کے زوال پزیر ہونے پر بھی ہندوازم اسلامی تہذیب کو ہندو سماج میں جذب کرنے میں ناکام رہا۔ہندوازم کی جانب سے ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کرنے کیلئے تین منظم کوششیں کی گئیں پہلی 1527 میں جب تاریخ میں رانا سانگا کے نام سے موسوم راجپوت جنگجو سردار کی قیادت میں ایک سو راجپوت راجوں اور مہاراجوں کی ایک لاکھ سے زیادہ پُر جوش افواج جن کے دلوں کو جنگی جنون سے گرمانے کیلئے ہزاروں ہندو خواتین و نوجوان بچے ہندو مذہبی جنگی ترانوں گاتے ہوئے آخری وقت تک میدان جنگ میں موجود رہے ، نے کنواح کے مقام پر جنگ کا آغاز کیا جہاں مغل بادشاہ ٔ اسلام ظہیرالدین بابر نے ہندوازم کی افواج کو شکست فاش دے دوچار کیا ۔ دوسری کوشش شہنشاہ اکبرا ور جہانگیر کے زمانے میں کی گئی جب راجپوت ہندو سرداروں نے دربار مغلیہ میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کرکے فکر اسلامی کو اندر سے کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن مجدّد الف ثانی ؒ نے اِس کوشش کو ہندوازم کی جانب سے بدھ مت اور جین مت کی طرز پر ہندوستان میں اسلام کو مٹانے کی جارہانہ سماجی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے مسلمان علماء و فقیہ کو خوابٔ خرگوش سے جگانے کیلئے تجدیدٔ احیائے دین کی موثر آواز بلند کی اور ہندوازم کی فکرِ اسلامی کو جذب کرنے کی پالیسی کا زور کسی حد تک توڑ ڈالا۔یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے بال جبریل میں مجدّد الف ثانی ؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا :
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
 جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
 اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار
درج بالا منظر نامے میں جب شہنشاہ شاہ جہاں کے بیٹوں کے درمیان جنگ تخت نشینی شروع ہوئی تو ہندوازم کے حمایت یافتہ شہزادہ دارالشکوہ کے خلاف مجدّد الف ثانی ؒ کی فکرِ اسلامی کے علمبرداروں نے خونریز جنگِ تخت نشینی میں اورنگ زیب عالمگیر کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ تیسری کوشش اورنگ زیب عالمگیر کی موت کے بعد زوال پزیر مغلیہ سلطنت کے خلاف 1761 میں منظم مرہٹہ افواج نے تخت دہلی کے ارد گرد کے تمام علاقوں پر قبضہ مستحکم بنانے کے بعد کی لیکن زوال پزیر مغلیہ سلطنت کی حالت زار کودیکھتے ہوئے اپنے وقت کے ولی ، شاہ ولی اللہ کی اپیل پر احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست فاش دیکر ہندوازم کی اِس کوشش کو بھی ناکام بنا دیا ۔ لیکن اِن کڑے امتحانوں سے سرخرو ہونے کے بعد حالات پر مسلمان امراء اور نوابین کے درمیان مفادات کی سوچ حاوی ہوگئی اور احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان سے واپسی پر ہندو پس پردہ سازشوں کے باعث مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہوکر مسلم نوابین و امراء میں تقسیم ہوتی چلی گئی چنانچہ ہندوازم نے اپنی حکمرانی کے احیاء کیلئے مسلمان نوابین کے خلاف اپنی سازشوں کو جاری رکھا اور بالآخر ہندوستان میں انگریز کمپنی بہادر کی اُبھرتی ہوئی طاقت کیساتھ گٹھ جوڑ کر کے 1857 کی جنگ آزادی میں تخت دہلی پر انگریزوں کے قبضے کے بعد ہندوستان میں مسلم حاکمیت کی آخری نشانی کو مٹا دیا گیا ۔ گو کہ 1857 کی تخت دہلی کی جنگ میں برہمن ہندو سماج سے بیزار چھوٹی ذات کے ہندوئوں نے بشمول مرہٹہ پیشوا کے جانشین المعروف نانا صاحب، جھانسی کی رانی وغیرہ نے اپنے مفادات کے پیش نظر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑنے سے گریز نہیں کیا لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے بیشتر ہندو راجوں مہاراجوں اور سکھوں کی مدد سے نہ صرف انگریزوں کو ہندوستان کی تقدیر کا مالک بنا دیا بلکہ 1857 کی جنگ آزادی کی تمام تر ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عائد کر کے مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی بدترین انتقامی کاروائی کو مہمیز دی ۔(جاری)

اقبالؒ اور احترام انسان . Iqbal aur Ihterame Insan

اقبالؒ اور احترام انسان

ڈاکٹر سید محمد اکرم 


اقبالؒ کے نزدیک انسان کائنات کی تخلیق کا عالی ترین مقصد ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم پر ہوئی ہے۔ اس کے فکروعمل کی وسعتوں کا کوئی حساب نہیں اس  کے ہنگامہ ہائے نوبہ نو کی کوئی انتہا نہیں۔ اقبال انسانی تہذیب کی روح ورواں اس بات کو قرار دیتے ہیں کہ انسان کا احترام کیا جائے:۔  …؎
برتر از گردوں مقام آدم است 
اصل تہذیب  احترام آدم است 
انہوں نے کہا میں انسان کے شاندار اور درخشاں مستقبل پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور میراعقیدہ ہے کہ انسان نظام کائنات  میں ایک مستقل عنصر کی حیثیت حاصل کرنے کی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہے۔ یہ عقیدہ میرے خیالات وافکار میں آپ کو عموماً جاری وساری نظر آئے گا۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک جو انسان کا احترا م نہیں کرنا وہ انسان دوست نہیں ہے وہ خدا دوستی اور خدا پرستی کا دعوی نہیں کر سکتا۔ مخلوق سے محبت ہی خالق سے محبت ہے۔ 
اقبالؒ جہاں انسان دوست قوتوں کا احترام کرتے ہیں وہاں انسان دشمن قوتوں کے رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں تاکہ آج پردہ تہذیب  میں جو غاری گری اور آدم کشی کا عمل جاری ہے اسے روکا جا سکے۔ اقبالؒ کے دور میں مغربی استعمار نے قبائے انسانی کو چاک کیا۔ یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس اقبالؒ نے مغربی تہذیب کے تباہ کن رویوں کے خلاف ہو گئے۔ ان کے کلام کا ایک عظیم حصہ لادین سیاست کی نفی اور بے رحم اور خودغرض ملوکیت کے خلاف آواز ہے۔ 
علامہ اقبالؒ نے کیمبرج میں کہا میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت ومادیت سے محفوظ رہیں۔ اہل یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مذہب وحکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی تہذیب اخلاق سے محروم ہو گئی۔لیگ آف نیشنز طاقتور اقوام نے کمزور اقوام کو اپنے تصرف میں لانے کا ایک ادارہ بنا لیا۔ اقبالؒ نے اسے کفن چوروں کی انجمن کا نام دیتے ہوئے کہا…؎ 
من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدے چند  
بہر تقسیم قبور انجمنے  ساختہ اند 
علامہ اقبالؒ کا تمام  کلام انسان کے احترام، اس کی حفظ وبقا اور ترقی وارتقا کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے پروفیسر نکلسن کے نام ایک خط میں لکھا:۔  
’’میری فارسی نظموں کا مقصد اسلام کی وکالت نہیں بلکہ میری طلب وجستجو تو صرف اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید  معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اور عقلاً  یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطع نظر کر لیا جائے جس کا مقصد وحید ذات پات، رتبہ ودرجہ اور رنگ ونسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ یورپ اس گنج گراں مایہ سے محروم ہے۔
تاریخ میں اکثر جنگوں کی بنیاد علاقائی، لسانی اور نسلی اختلافات ہیں۔ اسلام دنیا کا واحد نظام حیات جس نے ان فساد انگیز اور تباہ کن اختلافات کو ختم کرنے اور انسانی برادری کو انسانیت کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کی۔ پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا…’’تم میں کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔
اقبالؒ لکھتے ہیں:۔ ’’قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گوناں گوں روابط کا ایک اعلی اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔ قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے جس کے پیش نظر گوئٹے نے (بہ اعتبار ایک تعلیمی قوت) اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:۔ اس تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔ ہمارا کوئی نظام اور ہمیں پر کیا موقوف ہے کوئی انسان بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔  
ہر بڑا تخلیقی مفکر ایک مثالی انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ علامہ اقبالؒ سے کسی نے سوال کیا کہ انسان کامل کے متعلق آپ کا تصور کیا ہے تو انہوں نے کہا نبیؐ اکرم تمام انسانوں کے لئے کامل ترین نمونہ ہیں جو بھی آپؐ کے اخلاق کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے وہ انسان کامل بن جاتا ہے۔ اقبالؒ کی تمام تصنیفات اور منظومات و بیانات نبی علیہ اسلام کے اعلی اخلاق کی توصیف وتعریف سے مملو ہیں۔ اللہ تعالی نے آپؐ کے حلق کو خلق عظیم سے تعبیر فرمایا انک لعلی خلق عظیم۔ نبیؐ  اکرم نے فرمایا کہ میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث  ہوا ہوں۔ حضور علیہ السالم سراپا رحمت ہیں۔ مومنین کے لئے رئوف رحیم ہیں۔ رحمتہ للعالمین  ہیں یعنی سارے جہانوں کے لئے رحمت۔ فتح مکہ آپؐ کی رحمتہ للعالمینی کا وہ بے مثال مظاہرہ ہے جو چشم تاریخ نے اس سے پہلے  اور اس کے بعد کبھی نہ دیکھا۔ آپؐ نے فرعون  صفت تمام دشمنوں کو لاتژیب علیکم الیوم کہہ کر بلاشرط معاف فرما دیا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ رسولؐ پاک کی ذات میں تمہارے  لئے بہترین نمونہ ہے۔ لقدکام لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ۔ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ نبیؐ مکرم کے اسوہ حسنہ کو اپنے انفرادی  اور اجتماعی معاملات میں پیش نظر رکھیں اور سب انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آئیں۔  
اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات کا خلاصہ محبت و مساوات کی بنیاد پر ایک آفاقی معاشرے کی تشکیل ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان  کا یکساں احترام کیا جائے۔ اسلام ناگزیر طور پر عالم انسانی کے لئے امن کا مذہب ہے۔ کیونکہ اسلام اتحاد  انسانی کا عظیم داعی ہے۔ اسلام نے بنی نوغ انسان کے اتحاد کے ضمن میں جو پہلا قدم اٹھایا وہ ایک ہی نوع کے اخلاقی ضابطے رکھنے والوں کو اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔  قرآن کریم نے اعلان کیا کہ اے اہل کتاب آئو ہم اللہ تعالی کی توحید پر متحد ہو جائیں  جو ہم سب کے درمیان مشترک ہے۔‘‘ 
علامہ اقبالؒ نے اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر سال نو کے پیغام میں جو یکم جنوری 1938 کو ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا کہا:۔ 
’’تمام دنیا کے ارباب فکر دم بخود سوچ رہے ہیں کہ تہذیب کے اس عروج اور انسانی ترقی کے اس کمال کا انجام یہی ہونا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان و مال کے دشمن بن کر کرہ ارض پر زندگی کا قیام ناممکن بنا دیں۔  دراصل انسان کی بقا کا راز انسانیت کے احترام میں ہے اور جب تک دنیا کی تمام علمی قوتیں اپنی توجہ کو احترام انسانیت پر مرکوز نہ کر دیں یہ دنیا بدستور  درندوں کی بستی بنی رہے گی۔ قومی وحدت بھی ہرگز قائم دائم نہیں۔ وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے جو رنگ و نسل و زبان سے بالاتر ہے۔ جب تک اس نام نہاد جمہوریت، اس ناپاک قوم پرستی اور ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو مٹایا نہ جائے گا جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ ونسل کے اعتبارات کو ختم نہ کیا جائے گا اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح وسعادت کی زندگی بسر نہ کر سکے گا اور اخوت، حریت اور مساوات کے شاندار الفاظ شرمندہ معنی  نہ ہوں گے …؎ 
بہ آدمی نرسیدی خدا چہ می جوئی 
ز خود گریختہ ای آشنا چہ می ہوئی 

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال . ALLAMA IQBAL AUR NAWAB BHOPAL

علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال

ڈاکٹر محمد سلیم

سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی آخری خاتون حکمران تھیں۔ اپنے دو بڑے صاحبزادوں کے انتقال کے بعد‘ 1926ء میں وہ اپنے بیٹے پرنس حمید اللہ خاں کے حق دستبردار ہو گئیں۔ عنان حکومت سنبھالتے ہی نواب حمید اللہ خان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ وہ نہ صرف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے چانسلر مقرر ہوئے بلکہ چیمبر آف پرنسز کے چانسلر بھی منتخب ہو گئے۔ نواب حمید اللہ خاں (نواب بھوپال) کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ ایک بیدار مغزوالئی ریاست تھے۔ انہوں نے اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور تعلیمی و ثقافتی ترقی کے لئے بہت کام کیا۔ ان کا دور 1927ء سے شروع ہوا اور 1949ء میں ختم ہوگیا جب ریاست انڈین یونین میں ضم ہو گئی۔

نواب بھوپال شدید آرزو مند تھے کہ مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو ایک مرتبہ پھر حاصل کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے 10مئی 1931ء کو بھوپال میں جداگانہ اور مخلوط انتخابات کے حامی مسلمان رہنماؤں کی کانفرنس بلائی تاکہ ان میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس کانفرنس میں علامہ اقبالؒ‘ ڈاکٹر مختار انصاری، سر محمد شفیع، تصدق احمد شیروانی اور شعیب قریشی کے علاوہ خود نواب بھوپال بھی شریک ہوئے۔ علامہ اقبال لاہور سے 9 مئی بھوپال کے لئے روانہ ہوئے اور 10مئی بھوپال پہنچے۔ اقبال حسین خان، ندیم خاص (ADC) نے اسٹیشن پر ان کا استقبال کیا۔ محل تک کار میں آتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ بھئی ہمارے خیال میں تو ریاست کشمیر نواب بھوپال کو دے دی جائے اور بھوپال مہاراجہ کشمیر کو۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں ہندوؤں کی، اسی دن صبح گیارہ بجے علامہ اقبال کی نواب بھوپال سے ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد علامہ اقبال نے کہا‘ میں نہیں سمجھتا تھا کہ ہندوستان کا ایک والئی ریاست ایسا عالی دماغ بھی ہو سکتا ہے۔ نواب صاحب قوم و ملک کے لئے ایک قابل فخر ہستی ہیں‘‘۔
اسی شام مسلمان رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ 12 مئی کو علامہ اقبال‘ سر محمد شفیع‘ مولانا شوکت علی اور تصدق احمد خاں شیروانی کے دستخطوں سے یہ بیان شائع ہوا:‘‘ ہم 10مئی کو بھوپال میں ایک غیر رسمی اجلاس میں جمع ہوئے تاکہ ان اختلافات کو مٹائیں جن کی بنا پر مسلمان اس وقت دو سیاسی طبقوں میں تقسیم ہو رہے ہیں، ہمارا مقصد ہندو مسلم سوال کے حل کرنے میں آسانیاں پیدا کرنا تھا۔ ہماری متفقہ رائے ہے کہ اس منزل پر بحث و تمحیص کی تفصیلات شائع کرنا مفاد عامہ کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ہم خوشی سے بیان کرتے ہیں کہ طرفین کے درمیان انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوتی رہی۔۔۔ جون کا پہلا ہفتہ مزید گفت و شنید کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس وقت آخری اور تسلی بخش فیصلہ ہو جائے گا‘‘۔
لاہور پہنچنے پر انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی بھوپال سے واپسی پر شملہ میں گاندھی جی کے مکان پر گئے اور انہیں اطلاع دی کہ نواب بھوپال نے جن اصحاب کو مدعو کیا تھا۔ انہوں نے عارضی میثاق مرتب کر لیا ہے۔ اس میثاق میں جو فامولا پیش کیا گیا ہے اس میں جداگانہ اور مخلوط انتخاب کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ فارمولہ تقریباً دس سال تک نافذ رہے گا اور اس کے بعد ہر جگہ مخلوط انتخاب ہو گا۔ اس پر 15مئی 1931ء کو علامہ اقبالؒ نے ایک بیان میں  کہا: ’’چونکہ میں بھی مدعو تھا اس لئے میں یہ ظاہر کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر انصاری اور مسٹر شعیب نے بھوپال کانفرنس میں پیش کردہ ایسی تجاویز کو جن پر بحث بھی نہیں ہوئی بمنزلہ عارضی میثاق پیش کیا ہے تو انہوں نے یقیناً نہ صرف ان لوگوں کے ساتھ جن سے انہوں نے گفت و شنید کی بلکہ تمام مسلم قوم کے ساتھ برائی کی۔ میں اسے کامل طور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عارضی میثاق کی قسم کی کوئی چیز حاضرین جلسہ کے خیال میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔ ایسی تجاویز کو جن پر کسی قسم کی بحث بھی نہیں ہوئی، گاندھی جی کے پاس بھاگے بھاگے لے جانے اور انہیں عارضی میثاق کے نام سے تعبیر کرنے سے شبہ ہوتا ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس میںکوئی حقیقت ہے  تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال کانفرنس کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر اس مں کوئی حقیقت ہے تو مجھے کامل یقین ہے کہ بھوپال یا شملہ میں دوسرا جلسہ کرنا نہ صرف مفید نہ ہوگا بلکہ لازمی طور پر مسلمانون ہند کے مفاد کے لئے ضرر رساں ہوگا‘‘۔ اس طرح گاندھی جی کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر انصاری اور شعیب قریشی نے مسلم رہنماؤں کو متحد کرنے کی نواب بھوپال کی کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔ اس جلاس کے انعقاد سے پتہ چلتا ہے کہ نواب بھوپال سمجھتے تھے کہ جو چند افراد مسلمانوں  کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے بارے میں علامہ اقبال کی باتوں  سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ 10 مئی 1931ء کو ان سے پہلی دفعہ ملے اور پہلی ہی ملاقات میں ان کا یہ تاثر تھا کہ وہ عالی دماغ حکمران ہیں۔
سر راس مسعود نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو نواب بھوپال کے کہنے پر ان کی ریاست میں وزیر تعلیم و صحت و امور عامہ کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ اور نواب بھوپال کے تعلقات میں جو فروغ ہو اس میں سرراس مسعود کا اہم رول ہے۔ علامہ اقبال اپنے گلے کی بیماری کی وجہ سے سخت پریشان رہتے تھے کیونکہ کوئی علاج کارگر نہیں ہو رہا تھا۔ سر راس مسعود کو علامہ اقبال کی مسلسل علالت سے پریشانی تھی۔ نواب بھوپال بھی ان کی علالت سے فکر مند تھے۔ دونوں حضرات کی خواہش تھی کہ وہ بھوپال آکر بجلی کا علاج کرائیں۔ چنانچہ جب راس مسعود نے انہیں گلے کے علاج کے لئے بھوپال بلایا تو انہوں نے حامی بھر لی۔ 31 جنوری 1935ء کو اقبال بھوپال پہنچے۔ راس مسعود کے پرنسل سیکرٹری ممنون حسن خاں لکھتے ہیں: علامہ اقبالؒ کو لینے کے لئے سر راس مسعود اور میں ریلوے اسٹیشن گئے تھے۔ اگرچہ شاہی مہمان کی حیثیت سے نہیں آرہے تھے۔ پھر بھی نواب بھوپال نے اپنے ملٹری سیکرٹری کرنل اقبال محمد خاں کو اپنے نمائندے کو طور پر ان کے استقبال کے لئے بھیجا تھا۔ جب گاڑی آئی تو ایک صاحب افغانی ٹوپی شلوار اور پنجابی کوٹ میں  ملبوس پلیٹ فارم پر اترے ۔ یہ علامہ اقبالؒ تھے سر راس کی ان پر نظر پڑی، تو استقبال کے لئے تیزی سے ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔  کرنل اقبال محمد خاں نے آگے بڑھ کر کہا کہ نواب بھوپال نے سلام کے بعد کہا ہے کہ اگر آپ اور سرراس مسعود اجازت دیں تو آپ کے قیام کا انتظام شاہی مہمان خانے میں کیا جائے۔ آپ کے وہاں قیام سے نواب صاحب کو بے حد خوشی ہو گی۔ علامہ اقبالؒ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں تو اس وقت اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں۔ نواب صاحب سے ضرور ملوں گا۔ ان کو میرا سلام اور شکریہ پہنچا دیجئے گا۔ دوسرے دن نواب بھوپال سے ملاقات کے لئے علامہ اقبالؒ ’’قصر سلطانی‘‘ روانہ ہوئے۔ گاڑی محل آکر رکی تو نواب صاحب نیچے کی سیڑھی پر علامہ اقبالؒ کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ وہ (نواب بھوپال) ان سے بڑے احترام اور محبت سے ملے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی بزرگ سے مل رہے ہیں۔ پھر نواب صاحب علامہ (اقبالؒ) کو اپنے کمرے میں لے گئے جہاں ہم صرف چار آدمی تھے۔ میں سب سے پیچھے ایک گوشے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلد ہی کافی کا دور چلا۔ نواب صاحب نے صحت کے بارے میں پوچھا تو علامہ اقبالؒ نے بیماری اور علاج کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد گفتگو کا موضوع بدل گیا۔ نواب صاحب نے "An Interpretation of Holy Quran in the Light of Modern Philosophy" (جدید فلسفہ کی روشنی میں قرآن مجید کی تشریح) کے بارے میں دریافت کیا۔ علامہ اقبال نے بتایا کہ اس کتاب کا خاکہ میرے ذہن میں ہے۔ کچھ تیار بھی کر لیا ہے۔ لیکن کچھ کتابیںبیرون ملک ہیں انہیں دیکھ لینا چاہتا ہوں۔ یہ بھی کہا کہ مجھے آکسفورڈ اور کیمبرج میں توسیعی خطبات کے لئے بلایا جا رہا ہے۔ اگر میں وہاں گیا تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ان کتابوں کو دیکھنے کی کوشش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جائے تو ساری ملت اسلامیہ بلکہ ساری دنیا اسے قدر کی نگاہ دے دیکھے گی۔