Search This Blog

Tuesday, 17 March 2015

اسوۂ رسولؐ : استقامت او راُمید کا پیغام

اسوۂ رسولؐ : استقامت او راُمید کا پیغام

حافظ محمد ادریس



اس عالم رنگ وبو میں خالق کائنات نے انسان کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا اور اس کے ذمے یہ کام لگا کہ وہ اللہ اور صرف اللہ کی بندگی اختیار کرے۔ ساری مخلوق اس کے لیے مسخر کی گئی اور اسے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا پابند بنایا گیا۔ انسان کا مقصدِ حیات رضاے الٰہی اور فلاح اخروی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ انسان اپنے اس مقصد سے عموماً دور بھاگتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ o’’اورمیرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں‘‘ (سباء۳۴:۱۳)۔ جو مخلص اہلِ ایمان اللہ کی رضا اور اس کے دین کے غلبے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، ان کے سامنے مشکلات، آزمایش وابتلا اور کٹھن مراحل کا آنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس قافلے کو اپنے عظیم مقاصد کے حصول کی خاطر جان کی بازی بھی لگانا پڑتی ہے اور قیدوبند، دارورسن کے علاوہ بھوک، خوف اور نقصانِ اموال کی منزلوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کمزور ہے، اسے حوصلہ پانے کے لیے کوئی سہارا درکار ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات ہی اصل سہارا ہے اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی ایمان افروز زندگیاں اس کو استقامت وعزیمت کی راہ دکھلاتی ہیں۔ آج امت پر انتہائی کڑا وقت آن پڑا ہے۔ ان پرآشوب حالات میں سیرتِ رسولؐ کا مطالعہ محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ اس کی حقیقی روح کے ساتھ ضروری ہے۔
دنیا میں ہر عظیم مقصدتک پہنچنا، عظیم قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے ہی میں ممکن ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے جو فریضہ سونپا گیا تھا وہ بہت مشکل تھا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنا اور باطل کے ہر جھنڈے کو سرنگو ں کردینا، اللہ کی شریعت کا نفاذ اور ادیانِ باطلہ کو شکست سے دوچار کردینا بعثتِ رسولؐ کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اس مقصد کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ قرآن پاک میں تین مرتبہ ایک ہی انداز اور یکساں الفاظ میں اسے دہرایا گیا ہے: ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ o( التوبۃ۹:۳۳) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔(سورۂ فتح، آیت۲۸ اور سورۂ صف، آیت۹ بھی اسی موضوع پر ہیں)۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کے مطابق مکہ اور اس کے گرد ونواح میں دعوت دین کا کام شروع کیا تو جاہلی معاشرے میں ہل چل مچ گئی، جیسے آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔ آپؐ کی مخالفت میں قریش کے تمام سردار اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور تو اور آپؐ کا حقیقی چچا ابولہب مخالفت میں ان سب سے آگے آگے تھا۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے کا ہرحربہ اختیار کرتا۔ آنحضوؐر کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے اپنے مکان کی چھت سے آنحضوؐر کے گھر میں غلاظت پھینکنے سے بھی باز نہ آتا۔کبھی کبھار تو ہنڈیا پک رہی ہوتی تو بدبخت اوپر سے غلاظت پھینک دیتا۔ ابولہب کے علاوہ آپ کے دیگر پڑوسی بھی اسی قماش کے لوگ تھے، مثلاً عقبہ بن ابی معیط، حَکم بن عاص اور عدی بن حمراء۔ ان سب کی حرکات بھی ابولہب کی طرح ہی کی تھیں۔ یہ کس قدر اذیت ناک بات تھی اس کا اندازہ ہر شخص کرسکتا ہے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی ہمت ہاری اورنہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات کہی جو آپؐ کے شایان شان نہ ہو۔ آپؐ اتنا فرماتے:’’ اے بنو عبدمناف تم کیسے ہمسایے ہو، کیا ہمسایگی اسی کو کہتے ہیں؟‘‘ ۔ (تفہیم القرآن،ج۶،دیباچہ سورۂ لہب، ص۱۱۱۔ بحوالہ بیہقی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عساکر، ابن ہشام)
اس سارے عرصے اور مشکل منزلوں میں آپؐ کی سرپرستی کا حق آپؐ کے چچا جنابِ ابوطالب نے خوب ادا کیا۔ ہرچند کہ انھوں نے اسلام تو قبول نہ کیا،مگر اپنے بھتیجے کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے۔ شعب ابی طالب میں بھی انھوں نے آپؐ کا ساتھ دیا، جہاں تین سال اہلِ ایمان اور بنوہاشم کو (ماسواے ابولہب اور اس کے اہل وعیال کے) مقید رکھا گیا۔ اس دور کی تلخ یادیں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ بھولیں، حتیٰ کہ فتح مکہ کے وقت بھی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس گھاٹی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ اے جابر! تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟ جب انھوں نے لاعلمی ظاہر کی تو آپؐ نے فرمایا : ’’یہ شعب ابی طالب ہے، جہاں ہم لوگوں کو تین سال تک مقید رکھا گیا۔ ہمارے بچے بھوک سے بلبلاتے رہے، ماؤں کی چھاتیوں میں دودھ تک خشک ہوگئے تھے اور ہم لوگ درختوں کے پتے اور چھال کھانے پر مجبور کردیے گئے تھے‘‘۔ (البدایۃ والنہایۃ، المجلد الاول، ص۵۰۷)
ان سخت آزمایشوں میں بھی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ آپؐ نہ صرف خود ڈٹے رہے بلکہ تمام اہلِ ایمان کو بھی حوصلہ دیتے رہے۔ اس سب کچھ کے ساتھ وہ واقعہ بھی اپنی جگہ بڑا ایمان افروز ہے، جب سردارانِ قریش نے ایک قومی وفد بنا کر آپؐ کے چچا ابوطالب کے پاس بھیجا اور کہا کہ تمھارے بھتیجے نے گھر گھر میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے ہر مطالبے کو پورا کردیں گے۔ اس پر جناب ابوطالب نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور سردارانِ قریش کی پیش کش آپؐ کی خدمت میں رکھی۔ آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا: اُرِیْدُ مِنْھُمْ کَلِمَۃً وَاحِدَۃً یَقُوْلُوْنَھَا تَدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّی اِلَیْھِمْ بِھَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ ،’’چچا جان! میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں کہ اسے تسلیم کرلیں تو سارے عرب ان کے مطیعِ فرمان ہوجائیں اور پورا عجم ان کو جزیہ دینے لگے‘‘۔ جب آپؐ نے ان کے سامنے کلمۂ طیبہ رکھا تو سب نے انکار کردیا۔ پھر آپؐ نے اپنے چچاسے کہا: ’’چچا جان ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند لاکر رکھ دیں اور مجھ سے کہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں تو میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا۔ یا تو اللہ اس دین کو غالب کردے گا یا میں اس راستے میں اپنی جان قربان کردوں گا‘‘(سیرت ابن ہشام، ج۲،ص۱۰۱۔ البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۴۸۴۔۴۸۵)۔دیگر کئی مواقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکل ترین حالات میں بارہا یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور غالب کرے گا۔ حضرت مقداد بن اسودؓ کی روایت کے مطابق آپؐ نے فرمایا: ’’ کرۂ ارض پر کوئی پکا اور کچا گھر گھروندہ، کوئی چمڑے اور اون کا خیمہ ایسا نہیں ہوگا جس میں یہ دین داخل نہ ہو۔عزت والے عزت کے ساتھ اس میں داخل ہوں گے اور انکار کرنے والوں کو بھی آخر ذلت کے ساتھ اس میں آنا پڑے گا‘‘۔ (مسنداحمد، ج۶،ص۴)
حضرت خدیجہؓ اور جناب ابوطالب ۱۰نبوی میں وفات پاگئے۔ اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں شخصیات سے بے پناہ محبت تھی اور دونوں نے آپؐ کے مشن میں آپؐ کا ساتھ نبھانے کا حق بھی بطریق احسن ادا کیا۔ غم کے باوجود آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمت ہار کر بیٹھ نہیں گئے بلکہ مکہ سے ذرا فاصلے پر عرب کے دوسرے بڑے شہر طائف کا دعوتی سفر اختیار کیا۔ طائف میں آپؐ کی دعوت ووعظ کو سن کر وہاں کے ظالم لوگوں نے آپؐ پر ہرجانب سے پتھر برسانا شروع کردیے۔ حضرت زید بن حارثہؓ جو رفیق سفر تھے، آپؐ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہر سے باہر لائے۔ آپؐ کو بری طرح زخمی کیا گیا تھا جس سے آپؐ بے ہوش بھی ہوگئے تھے۔ حضرت زید بن حارثہؓ نے چشمے کے پانی سے آپؐ پر چھینٹے ڈالے تو آپؐ ہوش میں آئے۔ وادیِ نخلہ کی وہ رات بڑی یادگار تھی جب اچانک آپؐ کے پاس حضرت جبریل ؑ اور پہاڑوں کا نگران فرشتہ حاضر ہوئے اور آپ کو سلام عرض کرنے کے بعد اجازت چاہی کہ اہلِ طائف کو اس ظلم وسفاکی کی پاداش میں دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دیا جائے، مگر آپ نے فرمایا: ’’نہیں ہرگز نہیں۔ میں ان لوگوں کی تباہی کے لیے کیوں دعا کروں اگر یہ لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا؟ امید ہے کہ ان کی آیندہ نسلیں ضرور ایک اللہ پر ایمان لے آئیں گی‘‘۔ (تاریخ طبری،ج۲، ص۳۴۵)
اس رات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے جو دعا مانگی وہ بھی بہت عظیم ہے: ’’الٰہی میں اپنی کمزوری، بے سروسامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں۔ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے۔ مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے، کیا بیگانہ ترش رُوکے یا اس دشمن کے جو میرے معاملات پر قابو رکھتا ہے، لیکن مجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے اس کی کچھ پروا نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لیے زیادہ وسیع ہے، میں تیری ذات کے نور کی پناہ چاہتا ہوں، جس سے سب تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا ودین کے کام اس سے ٹھیک ہوجاتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری نارضامندی مجھ پر وارد ہو۔ مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت، مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے۔ (مسلم، عن عائشہؓ، کتاب الجہاد والسیر،حدیث۱۷۹۵، رحمۃ للعالمینؐ،ج۱،ص۷۴، از قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری، مطبوعہ ادارہ، معارف اسلامی،لاہور)
نبوت کے تیرھویں سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے پر مجبورکردیا گیا۔ ہجرت کی رات آپؐ نے مکہ کی طرف منہ کرکے یہ کہا تھا :’’ اے ارض مکہ! تو اللہ کی بہترین زمین ہے۔ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تیرے اندر اللہ کا گھر ہے، میں تجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا، مگر تیرے رہنے والوں نے مجھ پر زمین تنگ کردی ہے ‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۵۷۸)۔ ہجرت کا سفر شروع ہوا تو قدم قدم پر مشکلات اور جان کا خطرہ، مگر مجال ہے کسی مقام پر آپؐ کے قدم ڈگمگائے ہوں یا بد دلی و مایوسی کا اظہار کیاہو۔ محسنِ انسانیتؐ نے ہر مشکل مرحلے میں امیدوں کے چراغ جلائے اور حوصلوں کو مہمیز دی۔ غارِ ثور میں یارِ غار کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ دشمن کھوج لگاتے ہوئے وہاں تک آپہنچے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن آپہنچے ہیں، ہم پکڑے گئے ہیں، مگر آپ نے فرمایا: مَاظَنُّکَ بِاِثْنَیْنِ اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا یَا اَبَابَکْرٍ لَاتَخَفْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا، یعنی اے ابوبکر!تجھے ان دو کے بارے میں کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جن کا تیسرا ساتھی خود اللہ ہے، ہرگز نہ ڈرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۵۶۴)۔ اسی مضمون کو سورۂ توبہ میں اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے: ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبۃ۹:۴۰) ’’(یاد کرو)جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا، غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔
ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں سفر ہجرت کی تفصیلات میں فرماتے ہیں کہ غار کے دھانے پر مکڑی نے فوراً جالا تان لیا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے۔ مشہور شاعر صرصری نے اپنی نعت کے ایک شعر میں لکھا:
فَغَمٰی عَلَیْہِ الْعَنْکَبُوْتُ بِنَسْجِہٖ
وَ ظَلَّ عَلَی الْبَابِ الْحَمَامُ یَبِیْضٗ
(ایضاً، ص۵۶۴۔۵۶۵)
سیرت کا مشہور واقعہ ہے کہ اسی سفر ہجرت میں انعام حاصل کرنے کے لالچ میں دیگر مہم جو نوجوانوں کی طرح سراقہ بن مالک بن جعشم بھی آپؐ کے تعاقب میں نکلا اور آپؐ کے قریب پہنچ گیا، مگر اس کے گھوڑے کے پاؤں دو مرتبہ زمین میں دھنس گئے۔ وہ خوف زدہ ہوا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: ’’اے ابن عبدالمطلب! مجھے معاف کردو‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میں نے تجھے معاف کردیا‘‘۔ اس نے کہا کہ ازراہِ احسان اپنی امان مجھے لکھ کر بھی دے دیجیے۔ اس زمانے میں جو قلم وقرطاس کا زمانہ نہیں تھا اور اس کیفیت میں آپ کو اپنے گھر سے نکال دیا گیاتھا، سفر کی حالت میں یہ مطالبہ بظاہر کتنا عجیب بلکہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے، مگر دیکھیے کہ نبیِ رحمتؐ اس حال میں بھی سرتاپا جود وسخا کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ایمرجنسی میں قیصروکسریٰ بھی کسی کو پروانہ لکھ کر نہ دے سکتے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہؓ(یا بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ) سے کہا کہ اسے لکھ کر دے دیجیے۔ چنانچہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر اسے امان لکھ کر دی گئی۔ اسی موقع پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کو یہ خوش خبر بھی سنائی تھی کہ ایک دن شہنشاہِ ایران کسریٰ کے سونے کے کنگن اس کے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔ (البدایۃ والنہایۃ، الاول، ص۵۶۶ ۔۵۶۷)۔ دیکھیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکل ترین حالات میں بھی کس قدر جرأت مند، فیاض اور مستقبل کے حالات اور اسلام کی کامیابی سے پرامید تھے۔
ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ ۲؍ہجری میں ابوجہل کی سرکردگی میں قریش مکہ کا ایک ہزار کا لشکر جرّار پورے سازوسامان سے لیس، مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے باہر ۸۰ میل کے فاصلے پر بدر کے مقام پر اس لشکر کا مقابلہ کیا۔ آپؐ کے ساتھ صرف۳۱۳جانثار تھے، جن کے پاس نہ تو پورا اسلحہ تھا، نہ ہی جنگی لباس تھا اور نہ کھانے پینے کے لیے وافر خوراک اور راشن ہی تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے میدان میں پہنچ کر مختلف مقامات پر اپنے نیزے سے نشان لگائے اور فرمایا کہ قریش کا فلاں سردار اس جگہ اور فلاں اس جگہ قتل ہوجائے گا اور لوگوں نے دیکھا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ کفار کا لشکر بدترین شکست سے دوچار ہوا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مشکل گھڑی میں اتنے ثابت قدم تھے کہ آپ نے کفار سے ذرا برابر مرعوبیت اور خوف محسوس نہیں کیا بلکہ صحابہؓ کو بھی اتنا حوصلہ دیا کہ وہ لشکرجرار سے بے جگری سے لڑے اور ۷۰ کفار کو قتل کرنے کے علاوہ ستر دشمن جنگی قیدی بنا لیے۔ (ایضاً،ص۶۰۸،۶۱۱)
غزوۂ احد، خندق اور حنین سخت ترین معرکے تھے۔ احد میں تو بالخصوص صحابہؓ کی ایک اجتہادی غلطی کے نتیجے میں فتح شکست میں بدل گئی۔ ستر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ آنحضور کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کی لاش کا مُثلہ کیا گیا۔ اس کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم استقامت کا پہاڑ بنے میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: إِذْ تُصْعِدُوْنََ وَلَا تَلْوُوْنََ عَلٰٓی أحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرَاکُمْ فَأَثَابَکُمْ غَمًَّام بِغَمٍّ لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَآ أَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَo(اٰلِ عمرٰن۳:۱۵۳)’’یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمھیں نہ تھا، اور رسول تمھارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ اس وقت تمھاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمھیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آیندہ کے لیے تمھیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمھارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے‘‘۔
احادیث میں جنگِ اُحد کے حوالے سے یہ تذکرہ ملتا ہے کہ آپ میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل کہہ رہے تھے: اِلََیَّ عِبَادَاللّٰہ (تفہیم القرآن،ج۱،ص۲۹۵)۔ ابوسفیان نے جب پہاڑ کے نیچے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ ہم نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کردیا ہے۔ پھر بڑ ہانکی کہ ہم نے ابوقحافہ کے بیٹے ابوبکرؓ کو بھی قتل کردیا ہے، تو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاموش رہو۔ پھر اس نے کہا کہ ہم نے جری جوان عمربن خطاب کو بھی قتل کردیا ہے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! جواب دو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نَحْنُ کُلُّنَا اَحْیَاءٌ نَسْمَعُ کَلَامَکَ یَا عَدُوَّاللّٰہِ،’’یعنی اے دشمن خدا ہم سب زندہ ہیں اور تیرا کلام سن رہے ہیں‘‘۔ پھر اس نے کہا ’’ہُبل سربلند ہوا‘‘اور اس کے ساتھ ہی کہا ’’ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے‘‘۔ اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کہا : اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ لَا سِوَاءَ، قَتَلَانَا فِی الجَنَّۃِ وَقَتَلَاکُمْ فِی النَّارِ،’’یعنی اللہ ہی بلندوبالا اور شان والا ہے ۔ بدر کا بدلہ تم کیسے لے سکتے ہو، ہمارے شہدا جنت میں چلے گئے ہیں اور تمھارے مقتولین دوزخ میں۔ ابوسفیان نے کہا اگلے سال پھر ہمارا تمھارا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو جواب دو کہ ہمیں یہ چیلنج قبول ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۶۸۶۔۶۸۷، تفہیم الاحادیث، ج۶، ص۱۰۷، ستمبر۲۰۰۰ء)۔اگلے سال آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ بدر کے میدان میں گئے، مگر ابوسفیان اور اس کی فوج کو ہمت نہ پڑی کہ وہ مقابلے کے لیے نکلتے۔
اسی موقعے پر شہدا کی تدفین کے بعد جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس پہنچے تو خبر ملی کہ ابوسفیان پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ مالِ غنیمت اور قیدی مکہ لے جائے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو پکارا جو کمال جرأت وعزیمت کے ساتھ تیار ہوکر اللہ کے راستے میں نکلے۔ اس واقعہ کا تذکرہ خود قرآن مجید میں سورۂ آلِ عمران میں اللہ رب العزت نے شان دار الفاظ میں کیا ہے۔ آیت نمبر۱۷۲سے لے کر ۱۷۵ تک صحابہ کرامؓ کو اللہ نے وہ تمغہ عطا فرمایا ہے کہ جس کا کوئی بدل دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب منافقین اور یہودیوں نے اہلِ ایمان کو خوف زدہ کرنا چاہا تو انھوں نے کہا: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ،’’یعنی ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسازہے‘‘۔ ابوسفیان کا ارادہ واقعی واپس پلٹ کے حملہ کرنے کا تھا، مگر صحابہ کی جرأت واستقامت کی خبر پا کر وہ مدینہ کی طرف آنے کے بجاے مکہ کی طرف بھاگ گیا۔ اس جنگ کو غزوۂ حمراء الاسد کہا جاتا ہے۔
غزوہ خندق بھی بہت مشکل مرحلہ تھا۔ سورۃ الاحزاب میں اس کی شدت کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: اِذْ جَآءُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنََ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنََا (الاحزاب۳۳:۱۰) ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے ، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔ اتنے مشکل حالات میں صادق الایمان اہلِ مدینہ ڈٹے رہے اور خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے محاذ پر قیادت کا حق ادا کرتے رہے۔ آپؐ کا حوصلہ اتنا بلند اور فکر اتنی عظیم تھی کہ آپؐ مستقبل کی خوش خبریاں سنا رہے تھے۔ خندق کی کھدائی کے دوران بھی چٹان کو کدال سے توڑتے ہوئے آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو جزیرہ نماے عرب سے باہر کی فتوحات کی بشارتیں دی تھیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے اس جنگ کے دوران نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لن تغزوکم قریش بعد عامکم ہذا ولکنکم تغزونھم،یعنی اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے۔ ‘‘(دلائل النبوۃ للبیہقی، ج۳،ص۴۵۸)
غزوۂ حنین اور غزوۂ تبوک کے واقعات بھی قرآن وسنت میں تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں مشکل مرحلے تھے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے میدان میں بھی پیچھے ہٹنے کے بجاے آگے بڑھ رہے تھے اور مسلسل فرمارہے تھے: اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ، اَنَا بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔ اسی طرح غزوۂ تبوک میں بھی جب صحابہؓ نے کچھ سستی دکھائی تو اللہ نے بھی سورۂ توبہ میں ان کو جھنجھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت موثر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپؐ نے کہا: ’’اگر کوئی بھی قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ نکلا تو میں تن تنہا (اللہ کے بھروسے پر) اس کے مقابلے کے لیے نکلوں گا اور اسے عرب کی سرحد پر جا کر روکوں گا‘‘۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۹۰۴)
سیرت کے یہ سارے واقعات امت کو حوصلہ دینے، پرامید رہنے اور ہمیشہ کمرِ ہمت باندھے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آج امت کے ہر چھوٹے بڑے کو شدید ضرورت ہے کہ وہ سیرت کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے کرے کہ ان پُرآشوب حالات میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے کیا درس فراہم کرتی ہے۔ قرآن کا حکم ہے: وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘۔ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۳۹)۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک ایک ورق اس آیت کی عملی تفسیرہے۔ دنیا سے قیصروکسریٰ کی نام نہاد سپریمیسی ہمارے اسلاف نے ختم کردی تھی۔ آج ہم انھی کے اَخلاف ہونے کے باوجود ، دورِ جدید کی نام نہاد سپر طاقتوں سے مرعوب اور اپنی حقیقت سے بے خبر ہیں، نہ وہ روح ہے ، نہ سوچ، نہ ایمان ہے نہ سوزویقین۔ بس اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اسلام دنیا کا غالب دین بن کر رہے گا:
خداے لم یزل کا دستِ قدرت ُ تو ، زباں ُ تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے
مٹایا قیصروکسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا ، زورِ حیدرؓ ، فقرِ ُ بوذرؓ ، صدقِ سلمانیؓ

اسلام کا تصورِ رواداری

اسلام کا تصورِ رواداری

ڈاکٹر اختر حسین عزمی



بنیاد پرستی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے الفاظ کی معنویت کو جس طرح آج مغرب نے دھندلا دیا ہے، ایسے ہی مکالمہ بین المذاہب، انسان دوستی (humanism)، اعتدال پسندی، امن اور رواداری (tolerance) کے خوش کن الفاظ کو وہ اپنے مفہوم کا لبادہ اُوڑھانے پر مُصر ہے۔ اس طرح اُس نے اہلِ دین کو دفاعی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ مغالطے کی اس دُھول میں شرک کا رد، حاکمیت الٰہی کا مطالبہ، اپنی تہذیب و ثقافت کے احیا پر مسلمانوں کا اصرار اور یہود و نصاریٰ کی دوستی کے بارے میں ان کی احتیاط کی روش، بدامنی اور شدت پسندی میں اضافے کا سبب قرار پاتے ہیں، جب کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے لاکھوں انسانوں کو اپاہج، عراق میں ۵لاکھ بچوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا شکار کرنے والا امریکا اور فکری آزادی کے نام پر فرانسیسی شاتمِ رسولؐ جریدے کی پشت پر کھڑا یورپ اور دیگر ممالک کے ۴۰حکمران رواداری کے ’معلّم‘ قرار پاتے ہیں۔

قرآن اور اسوۂ رسولؐ میں اپنے عقائد و افکار پر غیرمتزلزل یقین اور دوسروں کے جذبات کا لحاظ رکھنے کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، اس سے رواداری کے حقیقی مفہوم سے آشنائی حاصل ہوتی ہے اور عصرِحاضر میں اس کے فروغ کی راہیں بھی نظر آتی ہیں۔ اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں رواداری کے تصور کی وسعت اور گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یورپ آج جس رواداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، وہ محض خیالات کی لیپاپوتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اسوۂ رسولؐ کی روشنی سے مغرب کی طرف سے رواداری کے فروغ کے نام پر برپا تحریک کے مکروہ عزائم بھی نظر آئیں گے اور یہ بھی کہ مغرب اور ہمارے تصورِ رواداری میں کیا فرق ہے اور اگر اس فرق کو ہم نے نظرانداز کردیا تو پھر ہم خود اپنی روایات و اقدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
مغرب جو لبرلزم اور رواداری کے نام پر ہم سے ہماری اقدار چھیننا چاہتا ہے، خود کس قدر متشدد ہے اس کا اندازہ یورپ میں مسلمان خاتون کے سر پر اسکارف اور مساجد کے میناروں پر عائد ہونے والی پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ محض اسکارف کی پابندی کرنے والی خاتون کو مقدمے کی سماعت کے دوران عین کمرۂ عدالت میں پولیس کی موجودگی میں قتل کرنا بقول اقبال مغرب کے ’اندروں چنگیز سے تاریک تر‘ کا منظر دکھاتا ہے۔ اس لیے ہمیں مغرب سے متاثر ہوئے بغیر رواداری کی ان بنیادوں کو تلاش کرنا ہے جو امنِ عالم کے قیام میں انسانیت کے کام آسکیں اور تمام اقوام کو اُن کی تہذیب وثقافت کے تحفظ کا احساس دلا سکیں، نہ کہ رواداری کے نام پر ان کی اقدار پر ڈاکا مارنے اور کمزور اقوام کی خودداری چھیننے کا سنہری جال ہوں۔
کیا رواداری کا فروغ دو مخالف اور متصادم نظریات کی محض لیپاپوتی سے ممکن ہے؟ اس کا جواب اگر نفی میں ہے تو پھر مخالف نظریات کی موجودگی میں دیگر اقوام کا مل جل کر رہنے کا کیا طریقۂ کار ہو؟یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں جواب تلاش کرنا ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں غلط اور صحیح کی بنیادیں اور ہیں اور اہلِ اسلام کے ہاں اور۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ایک کے ہاں درست ہیں اور دوسرے کے ہاں غلط۔ اگر کچھ باتوں میں اشتراک پایا بھی جاتا ہے، تو بہت سی باتوں میں ٹکراؤ بھی ہے۔ ٹکراؤکی صورت میں دونوں سے سازگاری ممکن نہیں۔

۞رواداری کا مفہوم
رواداری سے مراد کسی انسانی اجتماعیت کا ان باتوں کو جنھیں وہ نظریاتی طور پر اپنے دائرے میں غلط اور ناپسندیدہ سمجھتی ہے، دوسرے انسانوں کو جو انھیں پسند کرتے ہیں، ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں اختیار کرنے کا حق دینا اور ناپسندیدگی کے باوجود برداشت کرنا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب تک انسانوں کو ارادہ و عمل کی آزادی ہے، وہ ایک ہی نظامِ فکر کے پابند نہیں ہوسکتے اور جزوی تفصیلات میں تو ان کے درمیان اختلاف کا ہونا ان کے مزاج اور ذوق کے تنوع کے باعث ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی دعوت و تذکیر ہی قرار دیا ہے: فَذَکِّرْ ط اِِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ o(الغاشیہ ۸۸:۲۱)، اور ساتھ ہی آپ کو بتایا کہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں: لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍo(الغاشیہ ۸۸:۲۲)۔ لہٰذا اس فرمان کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تذکیر اور یاد دہانی میں انتہائی نرمی اختیار کی۔ ایک طرف اہلِ کفر کو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ(الکافرون۱۰۹:۶)کہہ کر ان کے مشرکانہ عقائد سے براء ت و بے زاری کا اعلان کیا تو دوسری طرف لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ۲:۲۵۶) فرما کر انسانیت کے اس حق کو بھی باو رکرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قبولِ ہدایت کے لیے کسی قسم کے جبر کو پسند نہیں کرتا۔

۞اہمیت و ضرورت
حق و باطل کے معرکے میں نظریاتی جنگ بہرحال انسانی اذہان کے میدان میں لڑی جائے گی۔ اس لیے باطل کو ختم کرنا اور انسان کو آخری حد تک باطل سے نتھی رہنے سے بچانے کی کوشش کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ جیساکہ فرمایا: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔ یہ اسی لیے فرمایاکہ جذباتِ انسانی کو کم سے کم ٹھیس پہنچا کر ان کے دل جیت لیے جائیں۔ حق اور باطل کا مقابلہ بھی ناگزیر ہے لیکن یہ مقابلہ انسان کی تکریم کے لیے ہے نہ کہ اس کی تذلیل کے لیے۔ انسانوں پر حق کو بہ جبر مسلط کرنے میں انسان کی تکریم ہے اور نہ حق کی، بلکہ ان دونوں کی تکریم اس میں ہے کہ انسان آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کرے: فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکھف۱۸:۲۹) ’’اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے ایک ایک مظہر پر ضرب لگائی۔ اہلِ شرک کی کٹ حجتیوں کا مدلل جواب دیا۔ اہلِ کفر کی ایک ایک خامی کو نمایاں کیا لیکن سواے ایک مقام کے اہلِ کفر کو بھی ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ بتوں کی کمزوریوں کو نمایاں کیا لیکن آپؐ نے بتوں کی تضحیک و استہزا کو اپنا شعار نہ بنایا، کیونکہ اللہ کا حکم تھا: وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوً م ا بِغَیْرِ عِلْمٍ ط (الانعام۶:۱۰۸)’’اور جن کو یہ کافر اللہ کے مقابلے میں پکارتے ہیں تم انھیں گالیاں مت دو ورنہ وہ بھی اللہ کو بغیر علم کے دشنام دیں گے‘‘۔
تمام انبیا ؑ اپنی قوموں کے شرک اور غلط کاریوں پر جب تنقید کرتے ہیں تو بار بار وہ مخاطبین کو یٰقُوْمِ (اے میری قوم) کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ قرآن نے منافقین کے رذائل کو کھول کھول کر سورۂ بقرہ، سورۂ منافقون، سورۂ احزاب اور دیگر سورتوں میں بیان کیا ہے لیکن ایک مقام پر بھی یاایھاا لمنافقون کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا گیا۔ انھیں اہلِ ایمان کے صیغۂ خطاب میں ہی یاایھا الذین امنوا کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی وفات پر اس کے کفن کے لیے اپنی قمیص بھی پیش کردی(بخاری، رقم الحدیث ۵۷۹۵)۔ آپؐ نے ایک یہودی کا جنازہ گزرتے ہوئے دیکھا تو آپؐ مجلس میں اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ (بخاری، رقم الحدیث، ۱۳۱۲)
قریش کے ایک سردار عتبہ بن ربیعہ نے آپؐ سے سمجھوتا کرنے کے لیے دولت، عورت اور حکومت کی جو پیش کش کی وہ آپؐ کی بلندیِ کردار اور مقاصدِ جلیلہ کے مقابلے میں انتہائی گھٹیاتھی، لیکن آپؐ نے اپنے مقام و مرتبہ سے فروتر ان باتوں کو نہ صرف صبروتحمل سے سنا بلکہ اپنی بات شروع کرنے سے قبل آپؐ نے اس سے استفسار کیا کہ اے ابوالولید! کیا تم نے اپنی بات مکمل کرلی؟ گویا اس کی بات کو مکمل سننا ضروری سمجھا گیا۔ مزید یہ کہ عتبہ کو اس کی کنیت ابوالولیدسے پکار کر آپؐ نے گویا اُمت کو یہ سبق دیا کہ کافر خواہ کتنی ہی گھٹیا بات کرے، اس کا ادب و احترام تر ک نہیں کیا جائے گا۔
میثاقِ مدینہ کی شرائط میں یہود و مشرکین کی مذہبی آزادیوں کے تحفظ کا شامل کرنا، حقوقِ انسانی اور بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ واضح طور پر ملتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق کے الفاظ یہ ہیں: لِلْیَھُودِ دِیْنُھُمْ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ دِیْنُھُمْ (یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین)۔ (ڈاکٹر محمد حمیداللہ، The First Written Constitution in the World، ص ۲۴)
مذہبی اختلاف جسے قریش نے ذاتی عناد میں تبدیل کرلیا تھا، جنگِ بدر میں قیدیوں سے حُسنِ سلوک کا مظاہرہ اور مخالفین اسلام سے مسلمان بچوں کی تعلیم کی خدمت لینا، رواداری کی عظیم مثال ہے۔ جس جہاد کو آج رواداری کا دشمن باور کرایا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک وہی جہاد درحقیقت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے: وَ لَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط (الحج۲۲:۴۰) ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کرڈالی جائیں‘‘۔
نجرانی عیسائیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ تھی: اَنْ لَا تُھَدَمَ لَھُمْ بِیْعَۃٌ ، وَلَا یُخْرَجَ لَھُمْ قِسٌّ ، وَلَا یُفْتَنُوا عَنْ دِیْنِھِمْ ، مَا لَمْ یُحْدِثُوا حَدَثًا اَوْ یَأکُلُوا الرِّبٰوا ،’’ان کے کسی معبد کو منہدم نہیں کیا جائے گا نہ کسی پادری کو نکالا جائے گا۔ تبدیلی مذہب کے لیے انھیں مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جب تک وہ کوئی نئی بات نہ نکالیں یا سود نہ کھائیں، معاہدہ برقرار رہے گا‘‘۔(سنن ابوداؤد، رقم الحدیث: ۲۶۴۴)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں اہلِ حیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک شق امام ابویوسفؒ نے یہ بیان کی ہے: وَلَا یُمْنَعُوا مِنْ ضَرْبِ النَّوَاقِیْسِ، وَلَا مِنْ اِخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِیْ یَوْمِ عِیْدِھِمْ ، ’’ان کو کلیسا کی گھنٹیاں بجانے یا اپنی عید کے دن صلیب نکالنے سے منع نہیں کیا جائے گا‘‘۔ (ابویوسف، کتاب الخراج، ص ۱۵۴)
عہدفاروقی میں عیسائیوں کو ناقوس بجانے کی کتنی فراخ دلانہ آزادی دی گئی، اس کا کچھ اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے: اَنْ یَضْرِبُوْا نَوَاقِیْسَھُمْ فِیْ أَیِّ سَاعَۃٍ شَآؤُوْا مِنْ لَیْلٍ وَنَھَارٍ اِلَّا فِیْ اَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ ’’کہ وہ نمازوں کے اوقات کے ماسوا دن اور رات کے جس پہر میں بھی چاہیں، اپنی گھنٹیاں بجا سکیں گے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۵۸)
امنِ عالم کا قیام اور روے زمین پر آباد افراد و اقوام کو اس قابل بنانا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کی فضا میں سانس لے سکیں، جس میں ہرفرد کو اپنی راے رکھنے کا حق حاصل ہو اور باہمی افہام و تفہیم کا موقع ملے، وقت کی ضرورت ہے تاکہ باہمی میل جول (interaction) کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور حکمت اہلِ کفر پر واضح ہوسکے۔ باہمی میل جول کا فائدہ ہمیشہ اس نظریاتی تحریک کو ہوتا ہے جس کا نظریہ ذہنوں کو مسخر کرنے اور دلوں کو موہ لینے کی صلاحیت (potential) رکھتا ہو۔

۞غیرمسلم اہلِ علم کا اعتراف
نجران کے عیسائیوں کا وفد (۹ہجری) مدینہ حاضر ہوا اور آپؐ نے مسجد نبویؐ میں انھیں اپنی رسوم و عبادات ادا کرنے کی اجازت دی (شبلی نعمانی، سیرۃ النبیؐ، ج۲،ص ۵۱) ،اور ایک ایسا منصفانہ اور ہمدردانہ معاہدہ کیا کہ ولیم میور جیسا متعصب مستشرق بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ لکھتا ہے:
محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کو یہ تحریر دی کہ ان کے گرجاگھروں اور خانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ، کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا اور ان کے اختیارات، حقوق میں کسی قسم کا تغیر نہ کیا جائے گا اور جبر وتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ (ولیم میور، Life of Mohammad،ص ۱۵۸)
فاضل ہندو محقق شری سندر لال جی اپنے مضمون ’آنحضرت کی زندگی‘ میں لکھتا ہے: ’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی ریاست کے اندر رہتے ہوئے، اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فریضہ قرار دیا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ مدنی آیت ہے اور محمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویر ہے‘‘۔
برطانوی مصنفہ آرم اسٹرونگ سیرتِ طیبہؐ پر اپنی کتاب میں یوں اعترافِ حقیقت کرتی ہے:
محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] نے ایک ایسے مذہب اور روایت کی بنیاد ڈالی جو مغربی تصور کے باوجود تلوار کی ثقافت پر مبنی نہیں تھی،اور جس کا نام اسلام ، امن و سلامتی کی علامت ہے۔(آرم اسٹرانگ ، Muhammad a Western Attempt to Understand Islam،ص ۲۶۶)
برٹرینڈرسل لکھتا ہے: ’’عیسائیت اور ان کے علَم برداروں نے ہمیشہ اسلام اور حضرت محمدؐ کے خلاف باطل پروپیگنڈا جاری رکھا ہے، جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمدؐ ایک عظیم انسان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔(برٹرینڈرسل، Why I am not Christian، ص ۵۲)

۞رواداری __ ایک حقیقت پسندانہ عمل
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حضوؐر نہ تو مردم بیزار اور گوشہ نشین ہستی تھے اور نہ شدت پسندی آپؐ کے مزاج کا حصہ تھی۔ آپؐ کی گوشہ نشینی کی زیادہ سے زیادہ مدت وہی ہے جو نزولِ وحی سے قبل آپؐ نے غارِحرامیں اختیار کی۔ نزولِ وحی کے بعد آپؐ کبھی غارِحرا میں زاویہ نشین نہ ہوئے۔اس کے بعد آپ انسانوں کے اندر ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔ قبل از بعثت آپؐ ایک بھرپور کاروباری زندگی گزار رہے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مکہ کی مال دار اور کاروباری خاتون حضرت خدیجہؓ آپؐ سے متاثر ہوئیں۔ بعثت سے قبل آپؐ ایک سرگرم سماجی زندگی گزارتے تھے جس کا ثبوت معاہدہ ’حلف الفضول‘ میں آپؐ کی شرکت اور حجراسود کی تنصیب میں آپؐ کی فہم و فراست اور اہلِ مکہ کاآپؐ پر اعتمادہے۔ ایک ایسا شخص جس کی جوانی ایک بھرپور عملی زندگی کا تاثر رکھتی ہے، جب وہ الہامی ہدایت کی روشنی میں لوگوں کو اصلاح و ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس کی شخصیت کے سابقہ عمل اور تجربات اس کی دعوتی زندگی میں نظر آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسوۂ رسولؐ میں ہمیں اس بات کا اظہار ملتا ہے کہ آپ جہاں ایک طرف ٹھیٹھ عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر ایک اجتماعیت کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے وہاں آپؐ معاشرے میں انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک عملی انسان تھے۔ ایک عملی انسان میں جہاں اپنے نظریات و عقائد اور زندگی کے تصورات پر کاربند ہونے اور اس کے ابلاغ کی تڑپ ہوتی ہے، وہاں دوسروں کے جذبات کا لحاظ کرنا بھی اس کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔

۞رواداری کی حدود
بظاہر تو رواداری کی صدا اس طبقے کی طرف سے بلند ہونی چاہیے جو کمزور اور اقلیت میں ہو لیکن امرواقع یہ ہے کہ اس کا پُرزور مطالبہ بالعموم status quoکی حامی قوتوں کی طرف سے ہوتا ہے، جیساکہ اہلِ مکہ نے حضوؐر کے پیغام کی قوتِ تاثیر سے ڈر کر آپ کو سمجھوتے کی میز پر لانے کی کوشش یہ کہہ کر کی: اِءْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ھَذَا اَوْ بَدِّلَہٗ ، اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آؤ یا اسے تبدیل کردو، تو اللہ نے حضوؐر سے کہلوایا کہ:قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآءِ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج (یونس ۱۰:۱۵)’’کہو کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں، میں تو اس وحی کا پابند ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ غیروں کی خوش نودی کے لیے اگر مسلمان اپنے دین کے اصولوں میں کتربیونت کرتے ہیں تو اللہ کے نزدیک اس سے بڑھ کر ظلم کوئی نہیں۔ وہ اللہ کے ہاں مجرم قرار پائیں گے اور انھیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہ ہوگی: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ o(یونس ۱۰:۱۷) ’’پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے‘‘۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کے معاملے میں کسی لاگ لپیٹ اور مفاہمت خواہانہ رویے (compromising attitude) سے اللہ نے اپنے رسولؐ اور ان کے صحابہؓ کو منع فرمایا: وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ o(القلم۶۸:۹) ’’یہ کافر تو چاہتے ہیں کہ تم کچھ مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں‘‘۔
مداہنت جس کا ذکر یہاں اللہ نے ناپسندیدگی کے ساتھ کیا ہے، کیا ہوتی ہے؟ اس کی وضاحت مفسرین کی آرا کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: لَوْ تُرَخِّصْ لَہُمْ فَیُرَخِّصُوْنَ اَوْتَلِیْنُ فِیْ دِیْنِکَ فَیَلِیْنُوْنَ فِیْ دِیْنِھِمْ ’’کچھ تم ان کے لیے ڈھیل نکالو تو پھر یہ تمھارے لیے ڈھیل پیدا کریں یا یہ کہ تم اپنے دین میں نرمی لے آؤ تو یہ بھی اپنے دین میں نرمی لے آئیں‘‘۔(تفسیر ابن جریر ،ج ۱۹، ص ۲۸)
امام قرطبیؒ کے مطابق: فَاِنَّ الْاِدِّھَانَ: اَللِّیْنُ وَالْمُصَانِعُ، وَقِیْلَ: مُجَامَلَۃُ الْعَدُوِّ مُمَایَلَتُہٗ ، وَقِیْلَ: مُقَارَبَۃٌ فِی الْکَلَامِ وَالتَّلْیِیْنُ فِیْ الْقَوْلِ ’’ادھان کا مطلب ہے ڈھیل پیدا کرلینا اور سازگاری چاہنا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے مخالف کے ساتھ لحاظ کا رویہ اختیار کرلینا اور میلان باہمی چاہنا۔ دوسرے قول کے مطابق: اس سے مراد کلام میں ایک دوسرے سے قربت پیدا کرنا اور بات میں ملائمت لے آنا‘‘۔ (تفسیر قرطبی، ج ۹، ص ۲۳۰)
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: حضرت عبداللہؓ بن عباس سے مروی ہے کہ ’’اللہ کے اس فرمان سے مراد ہے کہ تم ان کے لیے معاملہ کچھ ڈھیلا کرو تو پھر یہ بھی تمھارے لیے ڈھیل پیدا کرلیں گے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر،ج ۴، ص ۴۰۳)
قرآن کے نزدیک کسی بھی عقیدے یا نظریے کو قبول کرنے یا رد کرنے، صحیح کہنے یا غلط کہنے کا اختیار تو انسانوں کو حاصل ہے لیکن یہ اختیار نہ اس عقیدے کے مخالفین کو حاصل ہے اور نہ اس کے ماننے والوں کو کہ وہ اس عقیدہ کی تشریح و تعبیر اس کے اصل مراجع سے ہٹ کر کریں۔ جذبات انسانی کا احترام بجا مگر حق کا احترام اس سے بڑی چیز ہے اور حق کے احترام کی بات کرنا، باطل کے خلاف دعوت و تبلیغ کرنا، رواداری کے خلاف نہیں۔ البتہ یہ رواداری کے خلاف ہے کہ تلوار کے زور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوایا جائے۔
اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ حسنِ سلوک، نرمی اور رواداری انسانوں کے ساتھ کرنے کا ہمیں حکم ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ۲:۸۳) ’’لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘، چاہے و ہ باطل پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن خود باطل نظریات کسی رواداری کا استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ ان سے رواداری حق کی بھینٹ دیے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقابلہ تو حق و باطل پر مبنی نظریات و رجحانات کے درمیان ہوگا لیکن اس کو بہرحال انسانی قلوب و اذہان میں برپا ہونا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حق و باطل کی اس مڈبھیڑ میں اس سرزمین کا نقصان کم سے کم ہو، اور انسانی جذبات کم سے کم برانگیختہ ہوں۔ جیسے ایک ڈاکٹر کی اصل جنگ مرض کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ جنگ اسے مریض کے جسم کے حساس اعضا کے درمیان لڑنا ہوتی ہے۔ وہ کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ محض کسی اذیت کے خوف سے مریض کا علاج ترک نہیں کردیتا۔ گویا کوئی معاملہ بھی، جس میں اللہ اور رسولؐ نے کسی بات کا فیصلہ کردیا ہو، اس میں کسی گروہ کی پسندوناپسند کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک رواداری نہیں۔ البتہ ایسی بات یا موضوع جسے دین نے مباح رکھا ہو یا جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہو، اس میں لوگوں کے رجحانِ طبع، آسانی اور پسند کا لحاظ کرنا اور شدت و غلو اور انتہاپسندی سے بچنا ہی اسوۂ رسولؐ ہے۔
اس موقف کی تائید ایک روایت کرتی ہے جو مداہنت اور رواداری کے درمیان حضوؐر کے متوازن اسوۂ کو نمایاں کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَھُوْدَّیَّۃِ وَلَا بِالنَّصْرَانِیَّۃِ وَلٰکِنِّیْ بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِیَّۃِ الْسُّمْحَۃِ ’’مجھے نہ تو یہود کے اندازِ دین داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور نہ نصرانی مذہبیت کے ساتھ، مجھے اس موحدانہ طرزِ بندگی کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے جس میں وسعت و آسایش ہے‘‘۔(مسند احمد، رقم ۲۱۶۲۰)
اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلٰی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ الْسُّمْحَۃُ’’دین داری کا انداز اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، وہ ٹھیٹھ موحدانہ طرز کی بندگی، جس میں خوب نرمی و میانہ روی ہو‘‘ (بخاری، رقم الحدیث ۳۷، طبرانی، رقم ۷۵۶۲)۔ یہ الفاظ اس طویل حدیث کا حصہ ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی لوگ عید کے روز آئے اور انھوں نے مسجد میں ایک رقص نما کھیل پیش کیا۔ تب نبیؐ نے مجھے بھی بلا لیا۔ میں آپ کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر ان کا کھیل دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کی طرف سے توجہ پھیر لی۔(مسند احمد، مسلم)
حضرت عروہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لِتَعْلَمَ الیَھُوْدُ اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃٍ سُمْحَۃٍ (مسنداحمد، رقم ۲۳۷۱۰)۔ علامہ البانی نے خُذُوْا یَابُنَیَّ رفدہ! حَتّٰی تَعْلَمَ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ ’’شاباش حبش کے جوانو! تاکہ عیسائی و یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں بڑی وسعت ہے‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔(ناصرالدین البانی: السلسلۃ الصحیحہ)
زمانۂ جاہلیت میں شرک و بت پرستی کو غلط جاننے اور عام بُرائیوں سے دامن کش رہنے والے صاحبِ عزم انسانوں کو ’حنیف‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے قرآن نے حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حنف یحنف کا مطلب مڑا ہونا بھی ہے اور سیدھا ہونا بھی۔ میلان ختم کرلینا بھی ہے اور میلان پیدا کرلینا بھی۔ ایک طرف سے ٹوٹنا دوسرے سے جڑنا۔ گویا حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی طرف سے بالکل ہٹ کر کسی اور طرف کا ہو لے۔ چنانچہ حنیفیت کا معروف معنی ہے سب معبودوں سے ناتا توڑ کر ایک ہی معبود کا ہو رہنا۔ سمحہ کے معنی ہیں میانہ روی، معقولیت، اعلیٰ ظرفی، وسعت نظر کے ساتھ آسانی و نرمی، رواداری و رحم دلی۔ گویا اسلام مذہبی جکڑبندیوں کا نام نہیں۔ اسلام میں جائز خواہشات کو دبا دینا اور جذبات و احساسات کا قتل جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہمیں حنیفیہ اور سمحہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ایک طرف ایسے اصول ہیں جن پر کوئی مفاہمت نہیں، یعنی باطل سے کوئی مفاہمت نہیں، یکسو ہوکر ایک رب کا ہورہنا ہے۔ دوسری طرف دعوت و تربیت، ابلاغ اور قائل کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ دعوتی عمل میں معقولیت، مخاطبین کی سہولت کا خیال ، نہ ماننے والوں سے کسی الجھاؤ کا شائبہ تک نہ ہونا، لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے شرک بے زار اعلان کے ساتھ ہر ایک کو بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا کی نوید جاں فزا ۔ (مسلم ، رقم ۳۲۶۲ )
اصولی مسائل میں جب خاندان میں آپؐ کے واحد پشتی بان چچا ابوطالب نے بھی سردارانِ قریش کے دباؤ اور اپنی مجبوریوں کا احساس دلا کر ایک موقعے پر آپؐ کو کچھ مفاہمت کی راہ دکھانا چاہی، تو آپؐ کا یہ فرمانا کہ واللہ !اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں تو بھی میں اس دعوت سے باز نہیں آؤں گا۔ آپؐ کے اس اسوہ میں ہمارے لیے یہ رہنمائی موجود ہے کہ دینی اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ عتبہ بن ربیعہ کی طرف سے کلمہ کی دعوت چھوڑنے کے نتیجے میں حکومت و دولت کی پیش کش کو آپؐ کی طرف سے ٹھکرا یا جانا معمولی بات نہیں۔ کوئی دانش ور کہہ سکتا ہے کہ آپؐ پہلے حکومت بنالیتے اور پھر حکومت کی طاقت سے توحید کی دعوت کی ترویج کرتے لیکن آپ نے اصولِ توحید کی تنفیذ کے لیے مشرکانہ سیادت کا بارِ احسان ہونا گوارا نہ کیا۔
اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں ایک مسلمان کا کام دین کو بلاکم و کاست انسانوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب کوئی اللہ کے نازل کردہ دین کو نہیں مانتا تو اس زندگی میں اسے اس کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس کا فیصلہ روزِ محشر اللہ نے کرنا ہے، ہم نے نہیں۔ البتہ دنیا میں باطل کے پرستاروں پر ان کی غلطی واضح کرنا اور انھیں عذابِ الٰہی سے ڈرانا ہماری ذمہ داری ہے۔

۞مسلم مکاتبِِ فکر کے درمیان رواداری
اب تک ہم نے دیگر اقوام و مذاہب کے معاملے میں رواداری کے مفہوم کے تعیین کی کوشش کی ہے۔ اب خود مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جس رواداری کی ضرورت ہے، اسے سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
اس میں شک نہیں کہ آج مسلمانوں میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو کسی کی توحید مشکوک نظر آتی ہے تو کوئی کسی دوسرے کو منکرِ رسولؐ قراردیتا ہے۔ عقائد اور معاملات میں کہیں کہیں بڑے انحرافات بھی نظر آتے ہیں۔ ان پر تنقید نہ کرنا بھی اُمت کے مفاد میں نہیں۔ اُمت کو اصل دین پر قائم رکھنے کے لیے اصل دین کا اُجاگر کرتے رہنا ضروری ہے۔ لیکن اس تنقیدوتحقیق کو ایسے اصولوں کا پابند رکھنا ضروری ہے جو ہمیں اسوۂ رسولؐ سے حاصل ہوتے ہیں۔
لوگوں پر کفروشرک کے فتوے لگانا، جب کہ وہ کلمہ گو ہوں، یہ نبویؐ دعوت کا اسلوب نہیں ہے، خصوصاً جب ان پر کوئی دعوتی حجت بھی قائم نہ ہوئی ہو۔ حضوؐر پر تو منافقین کا نفاق واضح تھا، آپؐ نے کبھی کسی منافق کو بھی منافق کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا۔ قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یایھا المنافقون کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ منافقین کے رذائل بیان ہوئے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان یا مسلمانوں کے کسی گروہ کی خامی حضوؐر کے علم میں آتی تو آپؐ برسرِ منبر اس خرابی پر توجہ ضرور دلاتے لیکن ان افراد کا نام کبھی نہ لیتے تھے۔
اگر کسی امر پر دلیل ملتی ہو اور اُمت کے معتبر اہلِ علم کی گواہی بھی موجود ہو تو اس کی روشنی میں یہ کہنا کہ یہ کام شرک ہے، یا یہ رویّہ کفر ہے، یہ گناہ ہے یا فسق ہے، اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی متعین فرد یا گروہ کا نام لے کر اُسے کافرومشرک، بدعتی یا منافق کہنا بہت سے پہلوؤں سے تحقیق و تفتیش کا متقاضی ہے۔ لوگوں کو خدا کا حق بتانے میں پُرحکمت اور مؤثر انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔
جہاں حق بات کے اظہار کی استطاعت و اہلیت نہ ہو یا جہاں باطل کو رد کرنے کی حالات اجازت نہ دیتے ہوں، وہاں وقتی طور پر خاموش رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت موسٰی ؑ جب ۴۰روز بعد بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے اور انھیں گؤپرستی میں مبتلا پایا تو انھوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون ؑ سے پوچھا: مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا oاَلَّا تَتَّبِعَنِط (طٰہٰ۲۰:۹۲۔۹۳) ’’تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ تم میرے طریقے پر عمل نہ کرو‘‘۔ تو حضرت ہارون ؑ نے جواب میں کہا: اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ (طٰہٰ۲۰:۹۴) ’’مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔
حضرت موسٰی ؑ کے بعد قوم نے جو بت پرستی اور سرکشی کی راہ اختیار کی، سورۂ اعراف کے مطابق حضرت ہارون ؑ کو اپنی جان کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں قوم کے انتشار کا خطرہ محسوس ہوا تو انھوں نے حضرت موسٰی ؑ کی واپسی کے انتظار تک جو مصلحت اختیار کی، قرآن نے اسے ناپسندیدہ قرار نہیں دیا۔
دین کے اجتہادی و فروعی معاملات میں حضوؐر نے مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو نہ صرف برداشت کرنے کی تربیت دی بلکہ اس عمل کو حصولِ فضیلت کا ذریعہ قرار دیا۔ فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَ اِنْ کَانَ مُحِقًّا ’’میں اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔(ابی داؤد، رقم ۴۸۰۰)
قوم کے فتنہ و ہیجان میں مبتلا ہونے کے خطرے کے پیش نظر آپ نے اپنے پسندیدہ عمل کو بھی ترک کردیا۔ خانہ کعبہ کی عمارت ادبارِ زمانہ کے باعث ان بنیادوں پر موجود نہ تھی جن پر اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا، حضوؐر ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن فتنہ پیدا ہوجانے کے اندیشے سے ایسا نہ کیا۔ ایک دن حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت انھی بنیادوں پر تعمیرکروں جہاں اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا لیکن اس وجہ سے رُک جاتا ہوں کہ تیری قوم نئی نئی مسلمان ہوئی ہے‘‘۔ (بخاری، رقم ۱۴۸۳)
اللہ کے رسولؐ جنھوں نے دعوتِ حق کے بیان میں کبھی سختیوں اور مخالفتوں کی پروا نہ کی اور نہ کسی ملامت کا خوف کھایا، وہ اس بات سے کیوں محتاط ہیں کہ خانہ کعبہ کی نئی تعمیر سے قوم بگڑ جائے گی۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ دین کا اساسی مسئلہ نہ تھا کہ جسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کسی بھی ملامت کا خوف نہ کھاتے۔ چونکہ یہ مسئلہ فروعی نوعیت کا تھا اس لیے آپؐ نے لوگوں کے جذبات کا لحاظ کرکے کعبہ کی تعمیرنوپر ترجیح دی۔ گویا مسلمانوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ فروعی معاملات میں آپس میں اُلجھنے سے زیادہ اُمت کے اتحاد کو اہمیت دیں اور باہمی رواداری کا رویّہ اپنائیں۔
اسوۂ رسولؐ میں ہمیں احکامِ شریعت کے فہم و استنباط میں توسّع اور تنوع کی اتنی گنجایش نظر آتی ہے کہ اس میں تعدّد مسالک کا قبول کیا جانا، ہمارے اَسلاف کی شان دار علمی روایت کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ذریعے سے انسان کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور تعمیری و تحقیقی عمل کے لیے ایک سازگار ماحول بنانے میں بے حد متوازن آداب و حدود رہنمائی کا کام دے سکتے ہیں۔
بخاری میں ہے کہ حضوؐر نے بنی قریظہ کی طرف ایک دستے کو روانہ کرتے ہوئے نصیحت کی: لَایُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلَّا فِیْ بَنِی قُرَیْظَۃَ ’’کوئی بھی شخص بنی قریظہ کی بستی کے سوا نمازِعصر نہ پڑھے‘‘۔ صحابہ کرامؓ ابھی راستے میں تھے کہ انھیں محسوس ہوا کہ وہ نمازِ مغرب سے پہلے کسی طرح بھی بنی قریظہ کی بستی میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے ایک گروہ نے نماز قضا ہونے کے اندیشے کے پیش نظر کہا کہ نمازِ عصر یہیں ادا کرلینی چاہیے۔ دوسروں نے کہا کہ آپؐ کا حکم بنی قریظہ میں پہنچ کر نمازِ عصر ادا کرنے کا ہے۔
پہلے گروہ نے اس کی تاویل کی کہ آپؐ کا مقصد تھا کہ ہم جلد از جلد وہاں پہنچیں لیکن اب ایسا ممکن نہیں، جب ہم نمازِعصر کے دورانیے میں وہاں نہیں پہنچ سکتے تو نماز قضا نہ کریں۔ لہٰذا ایک گروہ نے عصر کی نماز راستے میں پڑھی، جب کہ دوسرے گروہ نے منزل پر پہنچنا ضروری سمجھا لیکن ان کی نماز قضا ہوگئی۔ آپ سے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے کسی کی بھی سرزنش نہ فرمائی: فَذُکِرْ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْھُمْ (بخاری، رقم ۴۱۱۹)
ایک اور حدیث جس کے راوی حضرت ابوسعید خدریؓ اور عطاءؓ بن یسار ہیں، کے مطابق دوصحابی سفر پر تھے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر مزید سفر پر روانہ ہوگئے۔ ادا کی گئی نماز کا وقت ابھی باقی تھا کہ پانی میسر آگیا۔ ایک صحابی نے کہا کہ اب ہمارا عذر ختم ہوگیا ہے اور نماز کا وقت بھی باقی ہے، لہٰذا ہمیں وضو کرکے نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔دوسرے نے کہا کہ میں تو نہیں دہراؤں گا کیونکہ جس وقت ہم نے تیمم سے نماز پڑھی تھی اس وقت ہمارا عذر موجود تھا۔ جب بارگاہِ رسالتؐ میں رہنمائی کے طلب گار ہوئے تو جس نے نماز نہیں دُہرائی تھی آپؐ نے اس سے کہا کہ تو سنت کو پاگیا اور تیرے لیے تیری نماز کافی ہوگئی، جب کہ نماز دہرانے والے سے فرمایا کہ تمھارے لیے دہرا اجر ہے۔ (ابوداؤد) گویا آپؐ نے دونوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ میں بھی مختلف علمی ذوق و مزاج اور علمی سطح کے افراد موجود تھے اور حضوؐر نے قرآن و حدیث کے فہم و تعبیر میں ان کے اختلاف کو جائز قرار دیا۔ اس لیے کہ دونوں آرا رکھنے والوں کو قولِ رسولؐ کی حجیت اور اہمیت سے انکار نہیں تھا لیکن پیش آمدہ نئی صورت حال میں آپؐ کے الفاظ کی تفہیم و تعبیر میں اختلاف ہوا۔ اس لیے آپؐ نے کسی پر گرفت نہیں کی۔
اسوۂ رسولؐ کے اسی پہلو کے پیش نظر اَسلاف میں وہ روادارانہ طرزِعمل دکھائی دیتا ہے جس کا تذکرہ شاہ ولی اللہ کی کتاب الانصاف میں ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے کہا کہ آپ کے مجموعہ احادیث موطا کی فقہی آرا کا کیوں نہ تمام اُمت کو سرکاری طور پر اس کا پابند کردیا جائے، تو امام مالکؒ نے انھیں یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ امیرالمومنین ایسا نہ کریں۔ مختلف دیار میں محدثین و فقہا پہنچ چکے ہیں جن کے علم و تقویٰ پر وہاں کے لوگوں کا اعتماد قائم ہے۔ آپ زبردستی کرکے ان پر زیادتی کریں گے۔ اسی طرح امام شافعیؒ جو نمازِ فجر میں دعاے قنوت پڑھنے کے قائل تھے۔ جب انھوں نے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ کے مدرسے میں نمازِ فجر پڑھائی اور دعاے قنوت نہ پڑھی، تو لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ نے دعاے قنوت نہیں پڑھی، تو آپ نے فرمایا کہ آج میں ان کے شہر میں ہوں جو ایسا نہیں کرتے۔ لہٰذا میں نے اس کے خلاف کرنا مناسب نہ جانا۔ ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، ص ۴۱)
آج کے عالمی گاؤں (GlobalVillage) ،نئی دنیا میں جس تہذیبی اور ثقافتی کش مکش سے ہمیں واسطہ ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں ایک طرف دین کے ٹھیٹھ اور واضح تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہاں داعیانِ دین کے لیے زمانہ شناس ہونا بھی ضروری ہے۔ اپنے زمانے کو سمجھے بغیر اگر ہم نے کوئی اقدام کیا تو اس کمزوری کا فائدہ کفر ہی کو ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن موضوعات پر آج بین الاقوامی سطح پر بحث ہورہی ہے، ان کے بارے میں کسی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک رہنما خطوط متعین کیے جائیں، تاکہ ایک طرف ہم اپنی اقدار و روایات کا تحفظ کرسکیں تو دوسری طرف دیگر اقوام کے سامنے اسلام کا تشخص پیش کرسکیں۔
_______________

اسلامی معاشی ماڈل کے خدوخال

اسلامی معاشی ماڈل کے خدوخال

پروفیسر خورشیداحمد/ ترجمہ: میاں محمد اکرم


اس وقت دنیا میں ہر پانچواں انسان مسلمان ہے۔ آج دنیا میں ایک ارب ۳۰کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ ان میں سے۹۰کروڑ مسلمان ۵۷مسلم مملکتوں اور۴۰کروڑ باقی دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں رہتے ہیں۔ وسط ایشیا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اور براعظم افریقہ کے بڑے حصے پر مسلم آبادیوں کا ارتکاز ہے، تاہم مسلمان دنیا کے ہرحصے میں موجود ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد ۳کروڑ سے زائد اور شمالی امریکا میں ۷۰لاکھ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔۵۷مسلم ممالک دنیا کے ۲۳فی صد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین بری، بحری اور فضائی راستے مسلم دنیا ہی سے گزرتے ہیں۔ مسلم دنیا اور باقی دنیا کا ایک دوسرے پر کافی انحصار ہے۔ مسلم ممالک میں وسائل کی فراوانی ہے لیکن وہ معاشی، اور صنعتی ترقی میں پس ماندہ ہیں۔ ان کے پاس بہت زیادہ مالیاتی وسائل ہیں لیکن ٹکنالوجی، انتظامیات اور پیداوار و ترقی کے جدید طریقوں کے استعمال میں وہ پیچھے ہیں۔ مسلم ممالک کی باہمی تجارت ۱۳فی صد ہے ، جب کہ ۸۷فی صد تجارت بقیہ دنیا کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقیاتی حوالے سے ۵کا تعلق اعلیٰ ۲۵کا تعلق وسط سے ہے ، جب کہ بقیہ ممالک کا تعلق نچلے گروہ سے ہے۔۱؂
مسلم دنیا کئی صدیوں تک تسلیم شدہ عالم گیر معاشی قوت کی حیثیت سے غالب رہی۔ معاشرتی برتری اور ٹکنالوجی میں ترقی صدیوں تک مسلم ممالک کا امتیازی نشان رہا ہے۔۲؂ البتہ گذشتہ ۳۰۰برسوں میں معاشی زوال ہوا ہے اور ان کی معاشی طاقت میں کمی و اقع ہوئی ہے۔ مسلم دنیا کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر دوبارہ سنبھلنے کا تصور موجودہ دور میں برسرِکار ہوا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا تنقیدی و فکری کام ہوا ہے کہ کیا خرابی پیدا ہوئی؟ اور مسلم دنیا کیسے دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت حاصل کرسکتی ہے؟ اس مناسبت سے اپنی اخلاقی اور نظریاتی ساکھ اور بنیاد کی تلاش اس جدوجہد کاایک حصہ ہے۔۳؂
اسلام ایک آفاقی دین ہے اور امت مسلمہ ایک عالم گیربرادری ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے، اور یہی ایمان مسلم امہ کی عالم گیر حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ یہی توحید کائنات کی، انسانیت کی اور زندگی کی وحدت (Unity) اور قانون کے آفاقی ہونے پر دلیل ہے۔ اسلام کسی خاص قوم ، لسانی یا علاقائی نسلی گروہ یا کسی خاص سماجی و معاشی طبقے کا دین نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام ایک نیا دین پیش کرنے کا دعوے دار نہیں ہے، بلکہ اس کے مطابق یہ رہنمائی ہے جو خالق نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے تخلیق انسان کے اول روز سے بہم پہنچائی ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کا مذہب (دین) اسلام ہی تھا۔

مسلمان حضرت آدمؑ سے لے کرحضرت نوحؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسٰی ؑ ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام کے لغوی معنی ’امن‘اور ’سلامتی‘ کے ہیں۔ یہ اللہ کے واحد معبود ہونے او راس کی بندگی کرنے اور اس کے انبیا ؑ پر ایمان لانے کا داعی ہے، جن کی زندگی اعلیٰ ترین نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت کے مطابق انسان کی مکمل سپردگی اور پیروی کا نام ہے۔ اسی طرح شریعت کچھ اقدار، اخلاقیات اور قوانین کے مجموعے کا نام ہے جو اسلامی طرزِ زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔
اسلام، ہر فرد کے اختیار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ عقیدہ و مذہب کے معاملے میں کسی زورزبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔۴؂ یہ انسانیت کے لیے ثقافتی لحاظ سے اورحقیقی طور پر تکثیریت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اختلاف راے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنااسلام کابنیادی اصول ہے۔ اسلام، انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں: ایمان، عبادت، شخصیت اور کردار ،فرد اور معاشرہ، معیشت اور معاشرت، قومی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق ہے۔ پھر اسلام غیرمذہبی معاملات کو بھی روحانیت کی مقدس چھتری کے تلے جمع کرتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں لادینی اور دنیاوی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرتابلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں کواخلاقی و روحانی طور پر باہم مربوط کرتا ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اخلاقی اور نظریاتی فکر ہے، جو عقیدے، رنگ، نسل، زبان اور علاقے سے بالاتر ہوکر انسان کو مخاطب کرتی ہے۔ یہ تکثیریت کو حقیقی اور قابل تکریم سمجھتا ہے۔ امت مسلمہ کے اندر بھی تنوع موجود ہے۔ اسلام کسی مصنوعی اتحاد اور زبردستی کی ہم آہنگی کا قائل نہیں ہے۔ یہ بقاے باہمی اور تعاون کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اسلامی طرزِ زندگی اور تمدن کا ایک اور پہلو، اس کا: مطلق ، کائناتی اور عالم گیر اقدار پر زور دینا ہے۔ یہ کچھ ایسے اداروں کا تعین کرتا ہے، جو اسلام کے مستقل ستون کی حیثیت سے کام کرتے ہیں،اور بدلے ہوئے حالات کی ضرورتوں کے مطابق لچک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقدار کا تانا بانا انسانی فطرت اور کائنات کے حقائق کے مطابق بنتا ہے اور انسان کو وہ مواقع فراہم کرتا ہے کہ انسان بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی اقدار اور اصولوں کا اطلاق کرے۔ اس کے لیے اسلام ایک خودکار نظامِ عمل فراہم کرتا ہے، تاہم انسانی حالات کی جزئی تفصیلات کے ضمن میں جامد قواعد و ضوابط سے احتراز کرتا ہے۔ یہ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے جو تمام مخلوقات میں اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے۔ ہرفرد اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ انسان صرف سماجی مشین کا اہم پُرزہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک معاشرہ ، ریاست، قوم اور انسانیت تمام ہی اہم ہیں اور ہرایک اپنا خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، آخرت میں ہر فرد کی جواب دہی انفرادی سطح پر ہی ہوگی۔ اس سے اسلامی نظام کے اندر فرد کی مرکزیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہر فرد کو معاشرے اور اس کے اداروں سے وابستہ کرتا ہے اور ان کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کرتا ہے۔
اسلامی اخلاقیات زندگی سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتیں بلکہ بھرپور زندگی گزارنے کے نظریے پر قائم ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام پہلو اور سرگرمیاں اخلاقی نظم و ضبط کے ذریعے پاکیزہ زندگی گزارنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ انفرادی تقویٰ اور اجتماعی اخلاقیات مل کر بھرپور زندگی کو فروغ دیتی ہیں، انفرادی اور معاشرتی بہبود میں اضافہ کرتی ہیں اور تمام لوگوں کے لیے فلاح کا باعث بنتی ہیں۔ اسلام میں ’دولت‘ ایک گالی نہیں۔ اگر اخلاقی اقدار اور امکانات کو پیش نظر رکھا جائے تو پیدایش دولت دراصل ایک پسندیدہ قدر ہے۔ ایک اچھی زندگی انسانی جستجو کابڑا ہدف ہے، فلاحِ دنیا اور فلاحِ آخرت کا ایک دوسرے پر انحصار ہے، اور یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ یہی وہ روحانیت ہے جو دنیاوی زندگی کے تمام پہلوؤں اور سرگرمیوں کو اخلاقی دائرہ کار میں لاکر اس طرح چھا جاتی ہے، کہ وہ انسان کو بیک وقت نہ صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل بنادیتی ہے،بلکہ ایک ایسامعاشرہ تشکیل دیتی ہے جس میں تمام لوگوں کی خواہشات عادلانہ طریقے پر پوری ہوتی ہیں۔
شخصی آزادی، حقوقِ ملکیت، کاروبار، منڈی کی میکانیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم، اسلامی معاشی نظام کے اہم حصے ہیں، تاہم مختلف سطحوں پر بہت سی اخلاقی بندشیں ہیں، مثلاً: انفرادی تحرک، ذاتی رجحان، سماجی طور طریقے، آجر اور اجیر کے رویے اور فرد اور ریاست کے باہمی تعلقات۔ اس نظام میں خاص طورپر نگرانی، رہنمائی اور ضروری قانون سازی کے دائرے میں ریاست اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ آزادی،معاشی مواقع کی فراہمی اور ملکیت کے حقوق کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔
اسلام ضروریات کی فراہمی کو اہمیت دیتا ہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دیناچاہتا ہے، جس میں معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی ہو۔ اوّلین طور پر ذاتی جدوجہد کے ذریعے اور محنت کا پھل ملنے کے رجحان کی بنیاد پر۔ لیکن ایک ایسے دوستانہ ماحول میں کہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں یا ان کا تعلق محروم طبقات سے ہو، ان کی اس طرح سے مدد کی جائے کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے فعال شریک بن جائیں۔ اسلام پیدایش دولت کی ایسی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے۔ اس کا ہدف ایسا عادلانہ اور مساویانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اسی صورت میں ایسا کیا جانا ممکن ہے کہ جب معاشرہ ایسا طریق کار وضع کرے کہ معاشرے کے محروم طبقات کو مؤثر مدد حاصل ہوسکے۔ یہ خاندان کے ادارے، معاشرے کے دوسرے اداروں اور ریاست کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اسلام معاشی طرز عمل میں آزادی کوذمہ داری کے ساتھ اور استعداد کار کو عدل کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ’عدل‘ بنیادی اسلامی اقدار میں سے ایک سب سے اہم قدر ہے اور انبیاعلیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی ایک مقصد عدل کا قیام ہے (الحدید ۵۷:۲۵)۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے اللہ کے ساتھ تعلق تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے انسانوں او رکائنات کے ساتھ عدل پر مبنی تعلق تک وسیع ہے۔

اسلام کا معاشی نظریہ
۞بنیادی خصوصیات: اسلام کے معاشی نظریے کی بنیادی خصوصیات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
۱۔ زندگی ایک مربوط اکائی ہے۔ انسان کی شخصیت کی طرح، عوامی ثقافت بھی ناقابل تقسیم ہے۔ پورا سماجی عمل ایک نامیاتی اکائی (organic unity)ہے۔ معاشی زندگی اور نظام کو ہم علیحدہ علیحدہ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ تخصیص کار اور تقسیم کار بہت اہم سہی، لیکن تمام چیزوں کو آپس میں مربوط ہونا چاہیے، تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وسیع تر اکائی بن سکے۔ معاشی نظریے کی بنیاد: ایمان، زندگی کے بارے میں نظریے اور عوام کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ہے کہ ایک باہم مربوط فکر کے ذریعے ہی انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو صحیح رخ دیا جاسکتا ہے۔

۲۔ اسلام کا تصورِ جہاں (World View) توحید، رسالت اور آخرت پر مبنی ہے۔ مرد اور عورت دونوں کی دنیا میں حیثیت اللہ کے خلیفہ (vicegerent) کی ہے۔ اسے اختیار کی آزادی، خواہش، علم اور محدود حد تک حاکمیت عطا کی گئی ہے۔ اس کے کردار، مقام اور فرضِ منصبی کو استخلاف کہا گیا ہے، یعنی زمین پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا،عدل قائم کرنا، احسان کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے حیات طیبہ کا انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے بلند معیار قائم کرنا۔
امام غزالی علیہ الرحمہ مقاصد شریعت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’شریعت کا مقصد تمام انسانوں کی بھلائی ہے، جو انسان کے ایمان،اس کے نفس، اس کی عقل، اس کی نسل اور اس کے مال کے تحفظ سے وابستہ ہے‘‘۔۵؂
۳۔ ’تقویٰ‘ کے بعد اسلامی نظام کی اہم ترین قدر ’عدل‘ اور اس کے ساتھ ’احسان‘ ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ’عدل‘ سے مراد ہر فرد کو اس کا حق بہم پہنچانا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں فقہا اور مفکرین ’عدل‘ کو اسلامی زندگی، معاشرے کی خاص صفت اور قانونی و سماجی اور معاشی عمل کا ایک ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔
امام ابو یوسفؒ (م:۷۹۸ء) نے خلیفہ ہارون الرشید (م:۸۰۹ء)کو معیشت کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’مجرموں کے ساتھ انصاف کرنے اور نا انصافی کے خاتمے کے نتیجے میں ترقی کی رفتار تیز تر ہوگی‘‘۔ امام ابوالحسن علی الماوردیؒ (م: ۱۰۵۸ء) نے فرمایا کہ: ’’جامع اور مختلف پہلوؤں سے انصاف کے نتیجے میں یک جہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، قانون کی عمل داری ہوتی ہے،ملک ترقی کرتا ہے، دولت بڑھتی ہے، آبادی میں افزایش ہوتی ہے، ملک کی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، اور نا انصافی سے بڑھ کر کوئی چیزنہیں جو دنیا کے لوگوں کے ضمیر اور شعور کو تباہ کرتی ہو‘‘۔ امام ابن تیمیہؒ (م: ۱۳۲۸ء) عدل کو توحید کا لازمی نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر چیز میں انصاف، اور ہر ایک کے لیے انصاف ہر ایک کاحق ہے،اور نا انصافی کسی چیز میں کسی بھی فرد کے لیے کسی طور پر جائز نہیں ہے ،چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، حتیٰ کہ ایک ظالم شخص کے معاملے میں بھی نہیں‘‘۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ء) علی الاعلان کہتے ہیں کہ: ’’عدل کے بغیر ترقی جائزنہیں ہے اور ظلم ترقی کا خاتمہ کرتا ہے،اور جایداد میں کمی ناانصافی اور ظلم کا لازمی نتیجہ ہے‘‘۔۶؂ پس، عدل اسلامی نظام کی روح اور سانس کادرجہ رکھتا ہے۔
۴۔ سماجی تبدیلی اور انسانی معاشرے کی تشکیل نو کے لیے اسلامی منصوبہ منفرد ہے۔ یہ منصوبہ ایسے طریق کار پر مبنی ہے جو اٹھارھویں صدی کے بعد یورپ اور امریکا میں ابھرنے والے معاشی و سیاسی نظریات سے بالکل مختلف ہے۔
موجودہ مغرب میں اس کے لیے جو طریق کار، اور حکمت عملی سامنے آئی ہے وہ اس تصور پر مبنی ہے کہ انسانوں میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے سماجی اداروں اور ماحول کو تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ان کے ہاں تمام زور بیرونی ڈھانچے کی تشکیل نو پر ہے۔ اس نظام کی ناکامی کی وجہ انسان کو، مرد ہو یا عورت، ان کے عقائد، محرکات، اقدار اور ذمہ داریوں کو ہدف بنانے کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ تمام انسانوں کے اندر تبدیلی لانے کے عمل کو نظر انداز کرتا ہے اور بیرونی عناصر میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم جس چیز کی ضرورت ہے وہ مکمل تبدیلی اور انقلاب ہے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے اندر بھی ہو اور ان کے سماجی و معاشی ماحول میں بھی۔ مسئلہ صرف ڈھانچا جاتی تبدیلی کا نہیں ہے، تاہم ڈھانچا جاتی تبدیلی بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ نقطۂ آغاز انسانوں کے دل و روح، ان کا حقیقت کا ادراک اور زندگی میں خود ان کا مقصد اور مقام ہونا چاہیے۔
۞سماجی تبدیلی کی بنیادیں: سماجی تبدیلی کے لیے اسلامی نقطۂ نظر کے حوالے سے کلیدی نکات حسب ذیل ہیں:
(الف) سماجی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کے عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، اگرچہ زندگی میں بہت سی رکاوٹوں اور بندشوں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ تبدیلی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے تحریک حاصل کرتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ تبدیلی با مقصد ہونی چاہیے، یعنی آئیڈیل کی طرف پیش قدمی۔
(ب) عوام ہی انقلاب کا فعال کردار ہیں۔ دنیا کی تمام دوسری قوتیں اللہ کے نائب اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے کائنات کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں اور جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان کے مطابق یہ انسان ہی ہے جو خود اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا ذمہ دار ہے۔
(ج) تبدیلی کی ضرورت صرف ماحول ہی میں نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں کے دل و روح کے اندر ، ان کے رویوں اور محرکات میں، اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے خارج کی دنیا میں ہے، اس کو مقاصد کی تکمیل کے لیے مجتمع کرنے کے عزم میں موجود ہے۔
(د) زندگی بہت سے باہمی رشتوں کا تانا بانا ہے۔ انقلاب کا مطلب ان رشتوں میں کئی جگہ ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اس لیے یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو۔ تاہم، اسلامی سماجی تبدیلی کے نتیجے میں اس طرح کا ٹکراؤ اور عدم توازن اپنی کم از کم سطح پر ہوگا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ اور باہم مربوط انداز میں چلائی گئی مہم کے نتیجے میں، توازن کے ایک مقام سے دوسرے اونچے مقام کا حصول اور عدم توازن سے توازن کا حصول ممکن ہوسکے گا۔ اس لیے تبدیلی کو متوازن، بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے، نیزجدت اور اختراع کے ساتھ مربوط بھی ہونا چاہیے۔ یہ منفرد اسلامی طریقہ ارتقائی راستے سے انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جائے گا۔
۵۔ انسانی زندگی میں ذاتی مفاد کا حصول ایک فطری قوتِ محرکہ ہے۔ لیکن ذاتی مفاد کو نیکی اور عدل کے وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا صلہ اور کوشش میں ناکامی پر نقصان، انسانی معاشرے اور معیشت کے لیے بہترین فریم ورک فراہم کرتا ہے۔۷؂ اسلام اس کی اہمیت اور اسے معاشی و سماجی کوششوں کا اولین اصول تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اسلام نے جدوجہد کے لیے ایک اخلاقی دائرہ کار بھی تشکیل دیا ہے، جو کچھ اقدار کے اپنانے اور کچھ اقدار سے پرہیز پر مبنی ہے، اور بتاتا ہے کہ کیا چیز درست اور جائز ہے اور کیا چیز اخلاقی، روحانی ، سماجی حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ حلال و حرام کا تصور انسان کی تمام جدوجہد کے لیے اخلاقی میزان کا کام کرتا ہے۔ اعتدال اور اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا اس اسکیم کا لازمی جزو ہے۔
صلہ (انعام) کے تصور کو دنیاوی صلے کے ساتھ ساتھ اُخروی صلے کے ساتھ مربوط کرکے اسے وسعت دی گئی ہے۔ ذاتی فائدے کے فطری تصور کو رد کیے بغیر یہ اچھے اور عادلانہ رویے کے لیے ایک مضبوط قوتِ محرکہ ہے۔ ذاتی ملکیت اور ذاتی کاروبار کو ناقابل تنسیخ حقوق اور معاشی سرگرمی کے فطری طریقے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اخلاقی اور قانونی ضابطوں کے ذریعے اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات پختہ کرکے، کہ مال و جایداد اپنی ہر شکل میں مادی، انسانی، مشینی قوت اور دماغی قوت کی صورت میں، انسان کے پاس ایک امانت ہے، مال و جایداد کے تصور کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور یہ ذہن نشین کرا دیا ہے کہ امانت ہونے کی وجہ سے ملکیت کے حقوق اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط ہیں اور ان کو مقاصد شریعت کی تکمیل سے مربوط کرتے ہیں۔
۶۔ معاشی سرگرمی، تعاون اور مقابلے کے عمل کے ذریعے فروغ پاتی ہے۔ منڈی کی سرگرمی، نجی ملکیت، کاروبار کی آزادی، منافع اور صلہ، قوتِ محرکہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔ الہامی ہدایت اور تاریخ کی گواہی اس بات پر شاہد ہے کہ تجارت، اشیا کی پیدایش میں اضافہ، اشیا و خدمات کا لین دین، مناسب منافع کا حصول، طلب و رسد کی قوتوں کے ذریعے قیمتوں کا تعین، منڈی میں لین دین کاتحفظ اور معاہدوں کی تکمیل کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، اسلامی معاشی نظام کے ستون ہیں۔ جدوجہد، اختراع و تخلیق، تقسیم کار، ٹکنالوجی اور مہارتوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ تعاون، ہمدردی، عدل، انفاق اور یک جہتی پر تمام بڑے مسلم مفکرین نے زور دیا ہے۔
ایڈم سمتھ (م: ۱۷۹۰ء) سے سات صدیاں قبل علامہ شمس الدین سرخسیؒ (م: ۱۰۹۰ء) لکھتے ہیں: ’’کسان کو اپنے لباس کے لیے جولاہے کے کام کی ضرورت ہے اورجولاہے کو اپنی خوراک اور کپڑوں کے لیے کسان کے کام کی ضرورت ہے۔۔۔ ان میں سے ہر ایک اپنے کام کے ذریعے دوسرے کی مدد کرتا ہے‘‘۔ علامہ سرخسیؒ سے ایک صدی بعد دوسرے عالم جعفردمشقیؒ (م:۱۱۷۵ء) اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مدت عمر قلیل ہونے کی وجہ سے کوئی فرد بھی تمام صنعتوں میں اپنے آپ کو نہیں کھپا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ کسی بھی صنعت میں اپنے آپ کو ماہر نہیں بناسکے گا۔ تمام صنعتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ تعمیر کے لیے بڑھئی کی ضرورت ہے اور بڑھئی کو لوہار کی ضرورت ہے، لوہار کو کان کن کی ضرورت ہے اور تمام صنعتوں کے لیے جگہ اور عمارت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے لوگوں کو مجبوراً اپنی ضرورت کے لیے شہروں میں یک جا ہونا پڑتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں‘‘۔
علامہ ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ء) نے ایڈم سمتھ سے تین صدیاں قبل تقسیمِ کار، معاشی ترقی میں تخصص اور انسانی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’یہ بات سب جانتے ہیں اور یہ بہت واضح ہے کہ انسان انفرادی طور پر اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرسکیں۔ انھیں اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ضروریات جو کہ افراد کا ایک گروہ مل کر باہمی تعاون سے پوراکرسکتا ہے، ان ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہیں جو وہ انفرادی طور پر پورا کرسکنے کے قابل ہیں‘‘۔ وہ اس بات کی سائنسی وجوہ بیان کرتے ہیں کہ تجارت کے نتیجے میں ترقی کو کیسے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ترقی کاانحصار ستاروں یا سونے چاندی کی کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار معاشی سرگرمی اور تقسیم کار کے اصول پر ہوتا ہے جو بذات خود منڈی کی وسعت اور اوزاروں (مشینوں) پر منحصر ہے ، جب کہ اوزاروں (مشینوں) کے لیے بچتوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ بچت کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ بچت ہے‘‘۔ منڈی کی وسعت میں اضافے کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی طلب تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں میں پھیلاؤ آتا ہے، آمدنیاں بڑھتی ہیں، سائنس اور ٹکنالوجی میں اضافہ ہوتاہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے‘‘۔۸؂
۞منڈی کی میکانیت: اسلامی نقطۂ نظر
۷۔ منڈی کی میکا نیت اسلامی معاشی نظریے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں اسلام نے چند بنیادی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ منڈیاں، ذاتی مفاد اور نفع اندوزی کی خواہش جیسی صورت حال کو جنم نہ دے دیں، جو سماجی لحاظ سے نقصان دہ ہو اور عدل اور راست بازی (fair play) کے تقاضوں کے خلاف ہو۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:
* ذاتی تحرک کی سطح پر اخلاقی ضوابط، حلال و حرام کی قیود،’ حسبہ‘ کے ادارے کا قیام، سماجی دباؤ اور خصوصی قانونی ضابطوں کی تشکیل۔
* سماجی و معاشی اکائی کے طور پر ’خاندان‘ کا ادارہ جو سماجی تحفظ اور یک جہتی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
* معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے اخلاقی، سماجی اور قانونی اقدامات آمدنی کی عادلانہ پالیسی کے لیے رہنما خطوط کا تعین۔
* سماجی تحفظ کاایک پھیلا ہوا انتظام: نجی دائرے میں صدقات و خیرات کی صورت میں اور ریاست کی سطح پر ضرورت مند لوگوں کے لیے زکوٰۃ سے سرکاری امداد کا نظام۔
* ’وقف‘ کے ادارے کے قیام کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کے جال، مارکیٹ کے ذریعے ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غیر تجارتی بنیادوں پر اشیا کی فراہمی، اسلامی معاشی اسکیم کا ایک لازمی جزو ہے۔
* پیداکار کے طور پر نہیں بلکہ ضروریات زندگی کی رسد میں منڈی کی ناکامی کی صورت میں جائزہ کاری، ضابطوں کا نفاذ اور عوام کی امداد کے پروگرامات، تاکہ معاشرے کا ہر فرد مذہبی، لسانی، صنفی ، قومیت یا عمر کے امتیازات سے بالاتر ہوکر معاشی زندگی میں متحرک طور پر حصہ لے۔
* اسلام وسائل کے ضیاع، ختم ہوتے قدرتی وسائل کے بے جا نقصان اور معاشی سرگرمی کے ماحولیاتی پہلو کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند ہے۔ اس کا اچھی زندگی کانظریہ اعتدال،توازن اور بندگی پر مبنی ہے اور ہر انسان کی معاشی زندگی کے دنیاوی اور ذاتی پہلوؤں کو مساوی طور پر اہمیت دیتا ہے ۔ اسلام کامعاشی نظام جزوی نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے۔ ایک طرف تو یہ انسان کے لیے، انفرادی آزادی، انتخاب کی آزادی، نجی ملکیت اور کاروبار،منافع کے محرک اور لامحدود جدوجہد اور اس کے صلے کو یقینی بناتا ہے، اور دوسری طرف زندگی کی مختلف سطحوں پر مؤثر اخلاقی ضابطوں کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ دائرے کے علاوہ سرکاری انتظامی ٹیم کے ذریعے ایسے ادارے قائم کرتا ہے، جن کے ذریعے معاشرے میں معاشی ترقی اور سماجی انصاف قائم ہوسکے۔ حتیٰ کہ خیرات کے تصور کو اس نے انقلابی طور پر قانونی ذمہ داری کا حصہ بنا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ oلِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o(المعارج ۷۰:۲۴۔۲۵) ’’جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘۔ اسلام نے دوسرے نظاموں کی طرح تقسیم دولت میں عدل اور سماجی تحفظ کو رضاکارانہ ضمیمے کی حیثیت نہیں دی بلکہ اس کو نظام کا تشکیلی جزو بنادیا ہے۔
۞غربت و استحصال سے تحفظ: اسلام میں سرمایے کے رضاکارانہ اور لازمی انتقال کے ذریعے غربت اور استحصال سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔۹؂
* آمدنی کے کچھ ذرائع کی ممانعت اسلامی معاشی نظام کا ایک اور اہم جزو ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم حرمت سود (الربا) ہے۔ اس کے علاوہ جوا، سٹہ بازی، دھوکا دہی، استحصال اور دولت کا زبردستی حاصل کرناشامل ہے۔ کاروباری اخلاق کا ایک جامع ضابطہ تشکیل دیاگیا ہے تاکہ دیانت داری اور معاملات کے شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالیاتی معاملات میں ذمہ داری کو یقینی بنایاجاسکے۔
حرمت سود کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام سرمایے کے استعمال پر کسی قسم کے صلے کاقائل نہیں۔ اسلام سرمایے کی پیداواریت کو تسلیم کرتا ہے اوراس کی حقیقی پیداواریت کے تناسب سے اس کے صلے کا قائل ہے۔ البتہ جس منصوبے میں سرمایہ لگایا گیا ہے اس کے اصل منافع کے علی الرغم ایک یقینی، مقررہ اور پہلے سے طے شدہ منافع کامخالف ہے۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اصل منافع میں سرمایہ دار اورآجر دونوں حصہ لینے کاحق رکھتے ہیں۔ وہ مقررہ منافع کے بجاے اصل ہونے والے منافع میں سے منافع لیں گے۔ اس کامطلب ہے کہ اسلام قرض کی بنیاد پر معیشت کے قیام کے بجاے شراکت کی بنیادپر، خطرے میں حصے داری اور ذمے داری میں شرکت کی بنیاد پر معیشت کے قیام کاخواہاں ہے۔ اس کے معیشت کے منتظمین اور معاشی و مالیاتی تنظیموں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی اصولوں پر قائم معیشت کارخ زری منافعوں کے بجاے حقیقی طور پر اثاثوں کی تخلیق کی طرف ہوگا۔ بلاشبہہ ایسی معیشت زیادہ مستحکم و زیادہ مادی ترقی کی طرف مائل، زیادہ مبنی بر مساوات اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے شراکتی ہوگی۔
* اسلام کا عالم گیریت کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے، تاہم اس کا عالم گیریت کا تصور کسی قوم کی اجارہ داری کے بجاے ’توحید‘ سے منسوب ہے۔ توحید میں انسانیت کی وحدت مضمر ہے۔ امت مسلمہ فکری اور تاریخی لحاظ سے ایک عالم گیر برادری ہے۔ انسانی تاریخ میں عالم گیریت کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے دور سے ہوا۔ پوری دنیا کو ایک عالم گیر بستی میں تبدیل کرنے کی حالیہ تبدیلیاں ایسے شان دار مواقع پیش کرتی ہیں، بشرطیکہ یہ عمل صحیح اور عادلانہ ہو۔ اسلام کا واسطہ عالم گیریت کے طور طریقوں کی نوعیت، سمت، سماجی و اخلاقی نتائج سے ہے۔ آج کی عالم گیریت بذاتِ خود کوئی پریشانی کامعاملہ نہیں ہے۔حقیقتاً یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل منصفانہ ہو اور اس کے پردے کے پیچھے طاقت ور قومیں، کمزوروں کااستحصال کرتے ہوئے ان پر اپنی بالادستی قائم نہ کریں۔
میں یہاں پر علامہ ابن خلدونؒ کے تجویز کردہ سماجی و معاشی تنظیم کے بین الاداراتی متحرک ماڈل کاخلاصہ پیش کروں گا، جو انھوں نے اپنے وقت کے حکمران کو پیش کیا تھا۔ آج کے زمانے میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔وہ کہتے ہیں:
* خلیفہ (الملک) کے بغیر شریعت کانفاذ نہیں ہوسکتا۔ * خلیفہ، عوام (الرجال) کے بغیر قوت حاصل نہیں کرسکتا ۔ * دولت (المال) کے بغیر عوام زندہ نہیں رہ سکتے ۔ * ترقی (العمارۃ) کے بغیر دولت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ * عدل (العدل) کے بغیر ترقی حاصل نہیں ہوسکتی ۔ * عدل وہ میزان(المیزان) ہے، جس پر اللہ تعالیٰ انسانوں کا حساب لے گا۔ * اور خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ عدل کو قائم کرے۔۱۰؂
۞عالمی معیشت و معاشرت کے لیے عادلانہ ماڈل:یورپی و امریکی سرمایہ داری کی بین الاقوامی پہنچ ، اور عالم گیر نظام سرمایہ داری ایک حقیقت ہے۔ قضیہ یہ نہیں ہے کہ ان مختلف ممالک اور علاقوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلافات ہیں جو سرمایہ داری کے راستے پر گامزن خیال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ خیال کرنا بھی غیرحقیقی اور دورازکارہے کہ دنیا کے تمام ممالک اس چھتری کے نیچے آنے کے خواہش مند ہیں۔ بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی تناظر میں بہت سے یورپی ممالک اور فکری و سیاسی قوتیں غیر مشروط اور مکمل طور پر نظام سرمایہ داری کے تحت آنے پر ناخوش ہوں گی۔ جاپان اس کی ایک مثال ہے۔ مغرب ان کو اپنے کیمپ میں شمار کرتا ہے، جب کہ جاپانی گذشتہ دو عشروں سے اس پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ مغربی اثر سے باہر رہیں۔
۞سرمایہ داری کا مستقبل:۱۹۸۰ء کے عشرے میں شروع ہونے والے معاشی جمود سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے تجربے کے بارے میں شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورت حال کے سایے بڑھتے جارہے ہیں۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد روس پورے جوش و خروش سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھا۔ لیکن اس باب میں بھی وہ اپنے آپ کو ناکام پاتا ہے۔ چین نے ایک ملک میں دونظام اپنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مشرقی ایشیاکی معیشتیں۹۸۔۱۹۹۷ء کے بحران کے بعد سے سکڑچکی ہیں اور ان کے خیالات بدل چکے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے اپنے تحفظات ہیں۔ مجموعی تصویر دھندلی اور شکوک پیدا کرنے والی ہے۔
میرے خیال میں عالم گیر معیشت اور معاشرت اتنے شکستہ اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ معیشت کا کوئی ایک ماڈل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ حقائق کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی لحاظ سے غیرمغربی دنیا کے لوگوں کی سوچ اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ایک سے زائد نظاموں (کثرتی نظاموں) پر مشتمل دنیا کا ایسامنظر پیش کیا جاسکے کہ جس کے نتیجے میں ایسا کھلا معاشرہ وجود میں آئے، جہاں خیالات، ٹکنالوجی، اشیا و خدمات، مالیات اور انسانوں کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر یہ عمل کامیاب بنانا مقصود ہو تو اسے بالکل شفاف اور باہمی برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد اصلاً مفادات طاقت وری اور بالاتری پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاملات کو عدل اور راست بازی کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔ بالاتری پر مبنی نظام تب تک ہی چل سکتا ہے جب تک طاقت کا توازن خراب نہیں ہوتا اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ طاقت کے توازن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۱۱؂ حقیقتاً تاریخ درجنوں سوپر پاورز کا قبرستان ہے۔ ہم نے اپنی زندگی ہی میں اس طرح کی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ پس، سبق یہی ہے متعلقہ مفکرین اس بات پر غور کریں کہ ایک بالاتر نظام کے بجاے یہ دنیا ایسی حقیقی کثرتی دنیا ہو، جس میں اندرونی تبدیلیوں کے باوجود ، تعاون اور مقابلے کی قوتیں کام کر رہی ہوں۔
میری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ مسلم دنیا کبھی خوشی کے ساتھ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گی۔ بلاشبہہ ہم مفید تعاون کے لیے خیالات و تجربات کے تعامل کے لیے آمادہ ہیں۔ سرمایہ داری میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو عالم گیر ہیں اور وہ دوسرے نظاموں کے اندر بھی موجود ہیں۔ لیکن اس میں بہت کچھ وہ ہے جو خصوصی طور پر اس کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی کی استعماری قوتوں کے ساتھ اس کا تعلق اور موجودہ دور میں صرف واحد سوپرپاور کے ساتھ اس کا تعلق ہونا، غیر مغربی دنیا میں اس کے داخلے کو مشکوک اور غیر متوازن بنادیتا ہے۔ مفادات ، تمناؤں اور اقدار کا فرق، اس کے عالم گیر نظام بننے کی راہ میں نہ صرف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، بلکہ اس نظام کے پسندیدگی کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کرنے کا سبب ہیں۔
نظام سرمایہ داری دنیا کے مختلف ممالک کے لیے کبھی بھی فائدہ مند نہیں رہا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے تجربات تو بہت تلخ ہیں۔ یورپ اور امریکا میں نظام سرمایہ داری کی کارکردگی قابلِ رشک نہیں اور دنیا کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے۔ معروف سرمایہ دارانہ ممالک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ترقی پذیر دنیا کے لوگوں کی کمرتوڑ رہا ہے بلکہ پوری دنیا کے لوگ اس سے پریشان ہیں۔ مالیاتی عدم استحکام کا جن بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا۔ بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی ناہمواریاں انسانیت کے جسم کا رستا ہوا ناسور ہیں۔ سرمایہ داری کو ابھی اپنا گھر درست کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، قبل اس کے کہ یہ بقیہ انسانیت کی توجہ کا مرکز بن سکے۔
اسی لیے اس تحریر کا مقصد موجودہ یا کلاسیکی سرمایہ داری کے مقدمے پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام کا وژن پیش کرنا ہے۔ نظام سرمایہ داری کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ہر مفہوم کے لحاظ سے ذمہ دار ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو اخلاقی پہلو معدوم ہیں ان کے ساتھ سرمایہ داری کے مستقبل کے بہتر بننے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے ذمہ دار عالمی نظام کے وژن کی ضرورت ہے، جہاں مختلف اعتقادات اور ثقافتوں پر مبنی دوسرے معاشی متبادلات کے لیے بھی یکساں مواقع موجود ہوں۔
جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اسے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان باہمی انحصار کی اہمیت کا ادراک ہے۔ مکالمہ، مشترکہ معاشی کاروبار، بڑھتی ہوئی تجارت، نظریات، اشیا اور انسانوں کا تبادلہ مستقبل کے تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ امرواقعہ ہے کہ عدل کے تقاضے پورے کیے بغیر اور ایسا سیاسی اور انتظامی ڈھانچا تشکیل دیے بغیر دنیا کی ریاستوں، معیشتوں اور لوگوں کے درمیان حقیقی عدل قائم کرنے کی خواہش اور پُرامن، خوش حال اور عالمی انسانی معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔
ہم نے اسلامی تناظر میں، عالم گیر سرمایہ داری کے چیلنج کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کی ہیں اور کچھ ایسے پہلوؤں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو سرمایہ داری کو بطور چیلنج درپیش ہوں گے۔ اگر سرمایہ داری واقعی ایک ’ذمہ دار نظام‘ (Responsible System) بن جاتا ہے تو بہت سے سماجی و معاشی نظاموں کے باہمی طور پر مل جل کر رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ امتحان اس بات میں پوشیدہ ہے کہ نظام سرمایہ داری کس حد تک صرف ایک نظام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام بننے کے لیے تیار ہے؟ بصورت دیگر نظام سرمایہ داری یورپ و امریکا کی بالادستی کے لیے ایک وسیلہ بنا رہے گا اور دوسری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکے گا۔ مزید برآں اس کے نتیجے میں مغربی دنیا کے اندر سے بھی پھوٹ اور چیلنجوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
۞مستقبل کا معاشی نظام: مسلم دنیا سیاسی و معاشی طور پر کمزور ہوسکتی ہے، لیکن مسلم مفکرین اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ اسلامی معاشی نظام اقدار پر مبنی ہے او راس کے اپنے بنیادی اصول اور ادارے ہیں۔ یہ اپنے نظام کے اندر فطری معیشت کے ایسے اہم عناصر رکھتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہیں، مثلاً انفرادی آزادی،حقوق ملکیت، منڈی کی میکانیت، منافع کا محرک اور دولت پیدا کرنے اور وسائل تقسیم اور فرد اور اجتماع کی بہبود کے لیے قانونی اور اداراتی انتظامات۔
اسلامی نظامِ معیشت منفرد تو ہے مگر خود مختار نہیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تہذیب کاایک جزو ہے اور مسلم علاقوں میں ایک ایسے عالم گیر اور کھلے معاشرے کاخواہش مند ہے، جس کا یہ خود بھی ایک حصہ ہو۔ اس سے ایک ایسا عالمی معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں مختلف ثقافتیں اور نظام بقاے باہمی کے اصول پر موجود ہوں۔ اگر سرمایہ داری کی کچھ اہم اقدار اور اسلامی نظام میں کچھ یکسانیت موجود ہے تو دوسری جانب اسلامی عقائد اور ثقافت کے منفرد اصولوں کی بنا پر بہت سے نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ اسلامی معاشی نظام اپنی ثقافت اور تہذیب کے تناظر میں روبہ عمل آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ماہرینِ معیشت، نظام سرمایہ داری کی کسی قسم کو اپنی دنیا میں برتر قوت نہیں دیکھنا چاہتے۔ سطحی رعایتیں یا مذہب و ثقافت پر مبنی اقدامات بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

عالم گیر میدان کش مکش میں مقابلہ کرنے والوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں کچھ اقدار یکساں نوعیت کی ہیں، جو باہمی تعلق، تعاون اور میل ملاپ کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ دنیا پر حاوی ہونے کا ایک ہی نظامِ سرمایہ داری کا نظریہ، تکثیریت (Pluralism) پر مبنی ایک ایسی دنیا کی نفی ہے، جو کسی کی بھی بالاتری اور برسرپیکار تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ سے آزاد ہو۔ میرے جیسے لوگوں کو جو بات اچھی لگتی ہے اور حوصلہ دیتی ہے، وہ ایک ایسی دنیا کاتصو رہے جس میں تمام شرکا کو یہ اعتماد حاصل ہوکہ وہ اپنی اقدار کے تحت زندگی بسر کرتے ہوئے ایک عالم گیر نظام کے باہم شراکت کار ہیں۔ موجود عالم گیر سرمایہ داری کاالمیہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہنے والے لوگوں کااعتماد حاصل کیے بغیر: باہمی اقدار اور رضامندی اور غیر رضامندی کی حدود کے بغیر،ایسی راہوں کو اختیار کیے بغیر جو معاشی ناہمواری کو کم کرسکیں، مفادات اور معاملات میں مطابقت پیدا کرسکیں، اور ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیے بغیر جس کے اپنے ادارے تمام لوگوں کے لیے آزادی، شراکت اور بہبود کو یقینی بناسکیں،بالادستی چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ عالم گیر سرمایہ داری کا بڑا علَم بردار، جارج سوروس اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود اور پرامن،خوش حال اور عادلانہ عالم گیر معاشرے کے قیام کے لیے منڈی کی میکانیت،انفرادی آزادی او رجمہوری اقدار ناگزیر ہیں اور مارکیٹ فنڈامنٹلزم (Market Fundamentalism) معاشی ترقی، مالیاتی وسائل، تکنیکی مہارتوں اور سیاسی قوت میں تفاوت صحت مند عالم گیریت کی راہ میں معاون نہیں بلکہ رکاوٹیں ہیں۔۱۲؂
آزادانہ تجارت بہت اچھی بات ہے، لیکن اسے استحصال کے بجاے شائستہ اور مناسب تجارت بننا چاہیے۔ ترقی ایک بہت پسندیدہ ہدف ہے، لیکن یہ ترقی سب کے لیے ہو۔ دولت خوش حالی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہ خوش حالی تمام لوگوں اور علاقوں کے لیے ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اخلاقی پہلوؤں کی برتری قائم ہو اور استعداد کار کے ساتھ ساتھ عدل کو عالم گیر نظام کابنیادی پتھر بنایا جائے۔

* خلاصہ بحث: سرمایہ داری کلی طور پر ذاتی مفاد کے محرک پر مبنی ہے، جس کا اظہار زیادہ سے زیادہ افادہ ، زیادہ سے زیادہ منافع اور زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی صورت میں ہوتا ہے۔ منڈی ہی پوری معیشت کی راہیں متعین کرتی ہے۔ اشتراکیت نے ساری توجہ پیداوار کے طریقوں اوران کو کنٹرول کرنے پر مرکوز کردی تھی۔ اس طرح منڈی پر حاکمانہ معیشت کو برتری حاصل ہوگئی تھی۔ دونوں نظام چند حقیقی عناصر رکھنے کے باوجود یک طرفہ ہونے کی وجہ سے غلط راہ پر چلے اور بعض اوقات بہت روشن ہونے کے باوجود ناکام ہوئے۔
اسلام انسان اور طریق پیداوار دونوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اور ان کو متوازن اور ہم آہنگ بناتا ہے۔ اصل مرکزِ توجہ انسان کو بناتا ہے اور ان کی خوش حالی اس کا اصل مقصد ہے۔ ذاتی مفاد، نجی ملکیت اور کاروبار اور محرک منافع کا پوری طرح تحفظ کرتا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت کو سب سے بڑا کردار حاصل ہے۔ اسلام منڈی سے بلند ہوکر تمام سطحوں پر اخلاقی اصولوں،اقدار اور احکام پر توجہ کرتا ہے جو کہ انسانی محرک ،اداروں اور عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فرد اور اجتماع کی بھلائی میں اشیا (Public Goods) میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے ذاتی مفاد کو اعتدال پر لانے کی بھی اسے فکر ہے۔
اعلیٰ انسانی مقاصد کی تکمیل کے لیے اسلام ایسے سماجی و معاشی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے افراد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت و تشکیل اور قانونی اداروں کا قیام عمل میں لاتا ہے۔ انفرادی آزادی، انسانی حقوق اور معاشی عمل کے لیے لامحدود مواقع کی فراہمی، اخلاقی اقدار، اخلاقی قوانین اور عدالتی و قانونی دائرۂ کار کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔ ریاست جابرانہ یا آمرانہ انداز اختیار کیے بغیر اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ تمام معاشی سرگرمیاں زندگی کے مقصدِ اعلیٰ کے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ثقافت اور معاشرے کے تناظر میں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

اس حوالے سے پروفیسر ڈننگ جان کی تین Cکے ساتھ۱۳؂ مزید چار Cکا اضافہ کرتے ہوئے اور ان کی معنویت کو وسیع تناظر میں پیش کیا جارہا ہے(یعنی حسب ذیل نکات کا پہلا حرف ’C‘ ہے)۔اسلامی نظام کی محرک قوتیں درج ذیل ہیں:
۱۔ ذمہ داری، لگن (Commitment): ایمان کی بنیاد پر قائم احساس ذمہ داری اور توحید (اللہ کی وحدانیت) پر مبنی تصورِ دنیا (World view) ، انسانیت کی وحدت اور مساوات، اس احساس ذمہ داری میں شرکت، کمیونٹی اور معاشرے کو مضبوط بنانے والی قوت ہے۔

۲۔ کردار (Character): تمام مردوں اور عورتوں میں جو معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی اکائیاں ہیں، ایک متوازن شخصیت کا ارتقا اسلام کے تصورِ تقویٰ، یعنی اخلاقی نظم و ضبط، اللہ اور عوام کے سامنے احتساب کے مضبوط احساس کی بنیاد پر۔

۳۔ تخلیق (Creativity): علم، ذاتی فائدے، تکنیکی جدت اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خدمت بلکہ دوسرے انسانوں کی خدمت، نیز اچھے کاموں میں شرکت اور زندگی میں اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ۔

۴۔مقابلہ، مسابقت (Competetion): آزادی، مواقع، جدوجہد اور مسلسل کوشش کے ذریعے ان مادی اور انسانی وسائل کو بروے کار لاکر ذاتی، معاشرتی، دنیاوی او راخلاقی مقاصد کے لیے مقابلہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن (البقرہ ۲:۱۴۸) خیر اورنیکی کے کاموں میں صحت مندانہ مسابقت کے اصول پر زور دیتا ہے۔

۵۔ تعاون (Cooperation): مقابلے کی قوتوں کی تقویت اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنے، نقصان پہنچانے والا بننے سے روکنے کے لیے تعاون۔ مقابلہ اور تعاون دونوں مل جل کر اتفاق باہمی، معاشرے اور انسانیت کے لیے اتفاق و اتحاد کا باعث بنتے اور جدت و ترقی کے لامحدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مقابلے و تعاون کے لیے جو ادارہ سب سے بنیادی اہمیت اور انفرادیت کا حامل ہے، وہ خاندان ہے۔ مزید برآں معاشرہ مقامی، قومی، علاقائی اور عالم گیر سطح کے اداروں کے ایک جال کے ذریعے ہر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بین الانسانی رشتوں، اعلیٰ ترین معاشی و سماجی شراکت کاایک ماڈل پیش کریں۔ رسول کریمؐ نے پوری انسانیت کو عیال اللّٰہ (اللہ کا کنبہ) فرمایا۔

۶۔ شفقت، ہمدردی (Compassion):اسلامی تناظر میں شفقت و ہمدردی اور عدل و احسان کا حسین امتزاج ہے۔ عدل کا مطلب تمام معاملات میں انصاف ہے اور اس سے مراد ہر ایک کو اس کا حق دینا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کااحترام اور ان حقوق کو پورا کرنا ہے۔ ’احسان‘ کا درجہ ’عدل‘ سے بھی اوپر ہے۔ اس سے مراد فیاضی، فضیلت، بہت اچھے طریقے سے کسی کام کو سرانجام دینا، رحم، محبت اور قربانی کے جذبے اور عمل میں ترقی ہے۔ یہاں تک حکم ہے کہ جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے اس سے بڑھ کر دوسروں کے لیے پسند کرے۔ یہ برابری کی وہ سطح ہے کہ جس پر باہم معاملات کرنے (reciprocity) سے بھی بڑھ جانا، یعنی دوسروں سے ہم وہ توقع کریں جو وہ ہم سے توقع کرتے ہیں۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص دوسرے کی بہتری کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دے دے۔ اطالوی ماہرمعاشیات ولفریڈو پاریٹو (م: ۱۹۲۳ء)کا نظریہ انسانی چناؤ (choice) کے اونچے درجے کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یوں ’عدل‘ کے ساتھ ’احسان‘ مل کر اسلام کے حقیقی شفقت کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔
۷۔ بقاے باہمی (Coexistence): اس کا مطلب ہے آزادی، برداشت، باہمی احترام اور مل جل کر رہنے کا عہد۔ یہ صحیح تکثیریت (plurality) ہے جہاں اپنی پسندیدگی کی قربانی دیے بغیر اور صحیح بات کے ساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے اختلاف (diversty) کو قبول کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے ’تکثیریت‘ دیانت داری کے ساتھ ہو اور اس سے ایسا باہمی میل جول وجود میں آتا ہے جو بغیر کسی کو نیچا دکھائے، برتری جتلائے یا آمرانہ طور پر اپنی بات منوائے۔ یہ نمونہ افراد، گروہوں، قوموں، ریاستوں، علاقوں، آبادیوں، اور مذاہب اور نظریات سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس کا فطری نتیجہ مکالمہ ہے نہ کہ زبردستی یا بے جا مداخلت۔ صحیح اختلافات اور تنوع اس فریم ورک کا مقصد ہیں۔ جس میں بہت سی لچک ہوسکتی ہے اور باہمی طور پر اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر کچھ لو اور دو (Give and Take) ہوسکتا ہے۔ بقاے باہمی کا یہ بھی تصور ہے کہ معاشرے میں ایسے مؤثر طریقے ہوں جو آپس میں مل جل کر رہنے اور اختلافات اور جھگڑوں کو حل کرنے کے قابل ہوں اور تمام اختلافات کے باوجود باہم مل کر رہنے کا عہد ہو۔ یہی عدل اور آزادی کے ساتھ امن کا ایک ماڈل ہوسکتا ہے۔

یہ تمام حکمت عملیاں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں۔ اسلامی تناظر میں دونوں پالیسیاں بیک وقت اختیار کی جاسکتی ہیں۔ ایک کو دوسرے کا حصہ بناکر اخلاقی اقدار، زری و مالی ترغیب، مادی انعام اور سزا، ایثار، قربانی،ہمدردی، روایت و رسم ، عوامی آرا، معاشرتی ادارے، قانون اور ریاست تمام اپنا لازمی لیکن محدود کردار ادا کرتے ہیں۔ حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین اپنی ذات کے اندر سے نافذ کرنے والے عمل مسلم معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ صرف جامع اور باہم، زیادہ مربوط طریقے سے ہی ایک عادلانہ و باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

آزاد نظریے کے مغربی نمونے میں مرکزی ہدف آزادی ہے اور اس معاشرت کی ہر شے اسی کے گرد گردش کرتی اور اس سے نکلتی ہے

Thursday, 5 February 2015

The Cognitive Heart: Lecture by Prof Amna Alfaki

The Cognitive Heart: Lecture by Prof Amna Alfaki
 
Dr Alshingieti and Dr AlFakiOn Friday January 23rd, Dr. Amna Mohamed Al Faki, Professor of Pediatric & Child Health, Omdurman Islamic University - Sudan, presented a synopsis of her research on the heart as a cognitive organ and not just a pumping machine. She defined the human heart as “fundamentally a cognitive organ that processes thought, makes decisions, and interacts with the brain to produce conscious experiences”. She pointed out that the cognitive abilities of the human heart depend mainly upon i) the anatomical structures, ii) the intrinsic functions of cardiac ganglia, and iii) the intra-mural cardiac neurons. Her hypothesis -published in the Medical Hypotheses journal in 2010- suggests that the neurons in the muscular tissues of the heart have perceptive sensory functions locally in the heart like sensory neurons of the brain.

Prof. AlFaki noted that cardiac information sent to the brain triggers consciousness. This is evident in the fact that the firing of cardiac neurons precedes that of the cortical neurons by a variable time period in goal-directed action or behavior in the conscious state. She noted that many educational institutions and health organization had started to use the cognitive abilities of the heart (emotions, intelligence, intuition reasoning etc.) in treating patients with post traumatic stresses and psychosis. She believes that her thesis, once backed up with concrete research results, will significantly impact how the heart is viewed.

Bio
Professor Amna Mohamed Al Faki is Professor of Pediatric & Child Health, Omdurman Islamic University. She is also General Manager of the Consciousness and Nervous System Sciences Organization (CANSSO), an NGO registered in Sudan. She held major positions as Director of the Omdurman Children Hospital; consultant pediatrician to the Ministry of Health, Sudan; lecturer at the Faculty of Medicine, University of Khartoum; and lecturer at the Sudan Medical Specialization Board.

Prof. Al Faki graduated from Cairo University, where she received a Bachelor of Medicine, and completed her MD in pediatric and child health from the University of Khartoum in 1980. She was a scholar at the University of Liverpool from 1980-1982. She has written several papers on the heart and consciousness and attended numerous medical conferences globally. She is a member of several professional organizations in the field of Medical Research, in Sudan and abroad.

Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of Jurisprudence

Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of

Jurisprudence

 
Dr Barzinji, Dr Alshingeiti, Dr Salem









On January 23rd, 2015, the International Institute of Islamic Thought (IIIT) commenced its Spring 2015 Lecture Series with an insightful presentation by Dr. Feryal Salem, of Hartford Seminary. The topic of her seminar was 

“Reasons for Disagreements among Four Sunni Schools of Jurisprudence.”

Dr. Feryal Salem is Assistant Professor of Islamic Scriptures and Law and a Co-Director of the Islamic Chaplaincy Program at Hartford Seminary in Hartford, Conn. She has a Ph.D. in Islamic Studies from the University of Chicago and she has also received a number of ijazat from Syria, in addition to her degree in hadith sciences from the Nuriyya Hadith Institute of Damascus.
The program began with an introduction by Ermin Sinanović, Director of Research at IIIT, followed by Dr. Salem’s talk and a Question and Answer session.

Islamic Law during Prophet’s Life
Dr. Salem introduced her topic by discussing how Islamic law was derived at the time of Prophet Muhammad, peace and blessings be upon him. She cited Qur’anic evidence to show that the Prophet’s legislative authority was established in the revelation and that wahy was of two types: recited (Qur’an) and not recited (Sunnah).
She then gave examples of how the Qur’an, Sunnah and Ijtihad were utilized in the Prophet’s (pbuh) time. Since the Qur’an was revealed piecemeal, it became an interactive, dynamic text, providing a connection with Allah, which strengthened the early Muslim community. The companions had easy access to the Prophet (pbuh) and would simply ask him. Furthermore, the Sunnah was actually being recorded during the Prophet’s (pbuh) life, with ‘Amr ibn al-‘As as a known writer of hadith.
Dr. Salem defined Ijtihad as a way to expand Islamic rulings, based on analogy or reasoning, on matters where there is no clear ruling from the Qur’an and Sunnah. There are several instances from the Sirah where Ijtihad was clearly employed by the Prophet (pbuh) or his companions, such as during the Battle of Badr, the Battle of Trench, and when a group of companions went to Banu Qurayzah.
Through these examples, Dr. Salem emphasized that “in allowing for diversity, we stay united.” She explained that the Companions and the Prophet (pbuh) were comfortable with differences – it is we who feel discomfort today with ikhtilaf. “When we are grounded in our traditions, we don’t feel threatened by differences,” she declared.

Basis of Difference among Islamic Legal Scholars
The second part of Dr. Salem’s presentation was devoted to the major reasons why the four Sunni madhabs differ from each other. Some of these include variance in the reading (qira’at) of the Qur’an, doubt in the reliability of a hadith, difference of opinion in how a verse of the Qur’an is understood, and multiple meanings of words. She supported each one with examples of how scholars have reached rulings based on their separate interpretations, at times reaching a consensus and other times settling on different opinions. In doing so, she stressed that we must be aware that a lot of sophistication goes into this process and hence, it should be respected.
Ermin Sinanović provided concluding words at the session, explaining that in a binary world of 0’s and 1’s, it is difficult for the modern mind to comprehend that two apparently contradictory positions can both be acceptable. Yet, such one-dimensional thinking is not supported in Islam where there is plenty of flexibility and room to have multiples schools of thoughts. He, then, invited the audience to ask Dr. Salem questions, during which she highlighted the modern problem of taking religion from books without understanding the human element which has been such an integral part of Islamic traditions from the very beginning.
The seminar closed with a brief evaluation by Jamal Barzinji, President of IIIT.

Sunday, 20 July 2014

زکوۃ اور ٹیکس . Zakat aur Tax