Search This Blog

Monday, 21 November 2016

جنگ و امن اور انسانی اقدار اسلام کا بے مثال کارنامہ

*محمد اسامہ
جنگ و امن اور انسانی اقدار
اسلام کا بے مثال کارنامہ
 مغرب میں جدید دورکا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں ہوا۔ سائنسی فکر کے فروغ اور ارتقا کے نتیجے میں مغرب ایک صنعتی اور مشینی کلچر میں ڈھل گیا جس کے ذریعہ تیار شدہ مال کی کھپت کے لیے نئی نئی منڈیوں کی تلاش ایک ناگزیر ضرورت بن گئی۔ سستے خام مال کی ضرورت نے بھی یورپی اقوام کو ایشیائی ممالک کی طرف پہلے جھانکنے، پھر داخل ہونے اور بالآخر قابض ہونے کے محرکات فراہم کیے۔
 سترہویں صدی عیسوی میں مغرب کو مشرق کی سلطنتو ں تک پہنچنے پھر انہیں سیاسی طور پر اپنا غلام بنانے کے مواقعے ملے۔  آج مغرب اپنی مادّی ترقیات اور سائنسی فتوحات سے حاصل کردہ قوت و سبقت کو ایک عالمی غلبے کی صورت دینا چاہتا ہے اور اب وہ اسلامی تہذیب یا مشرقی تہذیبوں کو نگل کر ایک عالمی تہذیب کا خواب دیکھ رہا ہے ۔
صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے ممالک،قومیں اور افراد امن قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے مختلف عالمی ادارے اور تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں، جیسے،’ورلڈ پیس مومنٹ‘ (World Peace Movement)، ’سیکورٹی کونسل‘(Security Council)،’ہیومن رائٹ واچ‘ (Human Right Watch)اور ’کنٹرول آرم کمپین‘ (Control Arm Companion)وغیرہ۔امن امان کے نام پر مختلف نظریات کا ہجوم ہے، جیسے ’پیسف ازم‘(Pacifism)، گاندھی ازم(Gandhism)، سوشلزم(Socialism)، نیشنلزم(Nationalism)، کمیونزم(Communism) اور سیکولرزم(Secularism) وغیرہ، ان کے تحت دنیا میںامن وامان کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرام ،سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ان سب کا مقصد ایک ہے کہ دنیا میں امن و امان رہے اور دویا دو سے زائد ملکوں میں جنگ نہ ہو۔لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے باوجود چھوٹی بڑی جنگیں ہوتی رہیں اور ان میں انسانی اقدار کی پامالی کے ساتھ لاکھوں اربوں انسانی جانیں ضائع ہوتی رہی ہیں۔ ماضی قریب میں دو عالمی جنگیں ’جنگ عظیم اول ‘ (۱۹۱۴ء) اور’جنگ عظیم دوم‘ (۱۹۳۹ء) اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔(۱) اس کے علاوہ موجودہ دور میں افغانستان، عراق، شام،مصر،لیبیا،تیونس کے ساتھ بعض دیگر ممالک بھی جنگ کا شکار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امن وامان قائم کرنے کا نعرہ لگانے والے ممالک اسلحے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ا مریکی ویب سائٹ ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ (Congressional Research Service)نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ عالمی سطح پرہتھیاروں کی تجارت ساٹھ ارب ڈالرسالانہ ہے جس میں چالیس فیصد امریکا کا ہے ۔(۲)
نوئما(Knoema World Data Atlas)کی2013کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ کی فروخت میں سرفہرست بالترتیب روس،امریکہ،چین،فرانس اور برطانیہ ہیں اور ان کی خریداری میں 2014 کی رپورٹ کے مطابق سرفہرست بالترتیب ہندوستان،سعودی عرب،ترکی،چین اور انڈونیشیا ہیں۔ دفاعی بجٹ کی بات کی جائے تو 2014کی رپورٹ کے مطابق سرفہرست عمان 11.06% ،سعودی عرب 10.04%،جنوبی سوڈان 09.03%،لیبیا 06.02%،کومبو 05.06%اور ہندوستان 02.04%اپنی مجموعی گھریلو پیداوار (G.D.P)کا خرچ کرتے ہیں۔(۳)
اسلام پر ایک بے جا اعتراض
 جدید دور میں مخالفینِ اسلام اور مستشرقین نے اسلام پر ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ وہ ایک خوں خوار مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو خوںریزی اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ، اس کی اشاعت تلوار سے ہوئی ہے اوراس کی بنیاد طاقت و قوت پر ہے ۔یہ اعتراض جنگ وامن کے سلسلے میں اسلام کی تعلیمات سے صحیح طور پر آگہی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اس اعتراض کی غیر معقولیت مولانا مودودی ؒنے ان الفاظ میں واضح کی ہے:
’’اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروانِ اسلام کی شمشیر خاراشگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا اورفی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خوں ریز تعلیم کانتیجہ ہوں۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس بہتان کی پیدائش آفتابِ عروجِ اسلام کے غروب ہونے کے بہت عرصہ بعد عمل میں آئی۔اس کے خیالی پتلے میں اس وقت روح پھونکی گئی جب اسلام کی تلوار تو زنگ کھا چکی تھی مگر خود اس کے بہتان کے مصنف،یورپ کی تلوار بے گناہوں کے خون سے سرخ ہو رہی تھی اور اس نے دنیا کی کم زور قوموں کو نگلنا شروع کردیا تھا۔‘‘(۴)
اسلام کا نظریۂ امن
اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو عطا کردہ مختلف نعمتوںمیں سے ایک بڑی نعمت ’امن‘ ہے۔اگر انسانی زندگی میں یہ نہ ہو تو سارا سامانِ عیش و راحت بے کار اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںانسانوں کو اس نعمت کو یاد دلا کر شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے:
فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ ہَذَا الْبَیْتِ۔الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَہُم مِّنْ خَوْفٍ۔ (۵)’’لہٰذا ان کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریںجس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔‘‘
اسلام نے سب سے پہلے انسانی نفوس اور اعراض واملاک کی قدرو قیمت و حرمت کو ذہن نشین کرایا۔ سارے انسانوں کوایک ماں باپ کی اولادبتایااور انہیں آپس میں بھائی بھائی قراردیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاءً۔(۶)’’اے لوگو!اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔‘‘
قرآن کریم نے ان انسانوں کی شدید مذمت کی جن کا کام زمین میں تخریب و فساد اور حرث و نسل کو برباد کرنا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ۔(۷) ’’اور جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے ،تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے،کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے-حالاں کہ اللہ(جسے وہ گواہ بنا رہاتھا)فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘
اسلام نے انسانوں کو ان تمام کاموں سے روکا جن سے لوگوں کے درمیان عداوت و نفرت پیدا ہوتی ہے۔جیسے غیبت،چغل خوری،جھوٹ،تجسس،بدگمانی اور ایک دوسرے کا مذاق اڑانا وغیرہ۔قرآن کہتا ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاء  مِّن نِّسَاء  عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِیْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتاً فَکَرِہْتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ تَوَّابٌ رَّحِیمٌ۔(۸)
’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو!نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں،اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ایمان لانے کے بعد تو فسق کا نام بھی برا ہے۔اور جو لوگ اس روش سے توبہ نہ کریں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو۔اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو۔کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے؟تم نے تو اس کو ناگوار جانا۔اللہ سے ڈرو،بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا،مہربان ہے۔‘‘
قُولُواْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَمَا أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔(۹) ’’مسلمانو!کہو:ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیمؑ،اسمٰعیلؑ، اسحقؑ ، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔‘‘
دین ِاسلام نے دوسری قوموں اور ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے،ان سے لین دین، تجارت اوران کی صنعت و حرفت سے مستفید ہونے سے منع نہیںکیا ہے۔مزید یہ کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو انہیں اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق عمل کرنے کی پوری اجازت دی ہے اور مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے والوں  کے ساتھ انصاف کرنے اور حسن سلوک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قرآن کہتا ہے:
لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔(۱۰)’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتاجنھوںنے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے ۔اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘
 ان اصول و مبادی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن و امان کو کیا حیثیت دی گئی ہے۔ خود قرآن کریم کی ۱۳۳ سے زیادہ آیتوں میں لفظ ’سلم‘ اور اس مادے کے دیگر الفاظ موجود ہیں۔دریں اثنا لفظ ’حرب-جنگ‘پر مشتمل صرف چھ آیات ہیں۔اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے جملہ اغراض و مقاصد میں امن و سلامتی کی فکر کو اہم مقام حاصل ہے۔
اسلام کا نظریۂ جنگ
اسلام نےجنگ کی اجازت صرف فتنہ و فساد اور ظلم وزیادتی کو روکنے، بدامنی کے ماخذوں کو ختم کرنے،امن وامان قائم کرنے ،انسانی زندگی کی جائز حفاظت اور حقیقی اقدار کے لیے دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
 وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء  وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَـذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً۔(۱۱) ’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا،ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔‘‘
اسلام دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھی جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔قرآن اسی کو ’جہاد فی سبیل اللہ‘سے تعبیر کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے انسانوں کو مذہبی آزاد ی  دی ہے۔قرآن کہتا ہے:
لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ۔(۱۲)
’’دین کو قبول کرنے کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔‘‘
 اسلام اس لیے جنگ کا حکم دیتا ہے کہ امت کو خارجی مظالم سے نجات دلائے اور ساری قوموں کے لیے بھی دنیا میں امن و سکون ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّہ۔(۱۳)
’’ان سے جنگ کرو تا آں کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
مسلمانوں کو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مال دولت کے حصول کے لیے جنگ کریں ۔ تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ محض ملک کی توسیع یا معاشی فائدے کے لیے جنگ کرنا جائز نہیں ہے۔
جنگ میں انسانی اقدارکے تحفظ کے احکام
اسلام نے سب سے پہلے جنگ کے سلسلے میں گذشتہ طریقوں کی اصلاح کی، اس کے بعد اس کے لیے ایسے پاکیزہ اصول طے کیے کہ یہی جنگ، جس کا نام سنتے ہی روح کانپ اٹھتی تھی، اب انسانیت کی بے راہ روی اور اخلاقی، جانی اور مادی تحفظ کا ذریعہ بن گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فوجوں کو روانہ کرتے وقت انسانی اقدار سے متعلق باقاعدہ ہدایات دی  جا تی تھیں۔چناں چہ آپؐ سپہ سالار اور فوج کو پہلے تقویٰ اور خوفِ خدا کی نصیحت کرتے پھر ارشاد فرماتے:
اغزوا بسم اللہ، و فی سبیل اللہ،قاتلوا من کفر باللہ،ولا تغلّوا، و لا تغدروا، و لا تمثلوا، و لا تقتلوا ولیداً۔(۱۴)’’جاؤاللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں،لڑو ان لوگوں سے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں مگر جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کرو،غنیمت میں خیانت نہ کرو،مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو۔‘‘
 انسانی اقدار کے اصول و ضوابط میں سے چند کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
ضرورت کے بہ قدر جنگ
اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حدود مقرر کر دیے ہیں اور اس سے آگے بڑھنے سے منع کردیا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّہِ ۔(۱۵)
’’ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے۔‘‘
صلح قبول کرنا
اسلام امن و سلامتی کو ترجیح دیتا ہے۔اس لیے اس نے دشمن کی طرف سے صلح کی درخواست کو قبول کرلینے کا حکم دیا ہے۔قرآن کہتا ہے:
وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔(۱۶)
’’اگر وہ صلح کے لیے جھکیں تو تم بھی جھک جاؤاور اللہ پر بھروسہ رکھو کہ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘
اب اگر وہ صلح کی خلاف ورزی کریں تو بھی ان سے اچانک جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں جنگ شروع کرنے سے پہلے باخبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اب ہمارے درمیان کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانبِذْ إِلَیْہِمْ عَلَی سَوَاء  إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الخَائِنِیْنَ۔(۱۷)
’’اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو اعلانیہ اس کے آگے پھینک دو،یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
سفراء کے قتل پر روک
اسلام نے سفیروں کو قتل کرنے سے بھی روکا ہے،خواہ وہ کتنا ہی گستاخانہ پیغام لائیں۔مسیلمہ کذاب کا سفیر عبادہ بن الحارث جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا:
لولا أنک رسول لضربت عنقک۔(۱۸)
’’اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تیری گردن مار دیتا۔‘‘
عمومی تباہی و بربادی پر روک
اسلام سے قبل جنگ کے لیے جب فوج نکلتی تو وہ راستے میں آنے والی ہر چیز، مثلاً درخت ،پیڑ پودے،فصل اور آبادیوں وغیرہ کو تباہ و برباد کر دیتی تھی۔اسلام نے اس سے منع کیا اور اسے فساد سے تعبیر کیا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ ۔(۱۹) ’’اور جب وہ حاکم بنتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور فصلوں اور نسلوں کو برباد کرے،مگر اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘
ہاں جنگی مصلحت کے تحت درختوں اور عمارتوں وغیرہ کوتباہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی نضیر کے موقع پر کیا تھا۔اسی طرح جنگ میں’ فریب دہی‘ کو جائز قرار دیا گیا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے دشمن کی تدبیروں اورمنصوبوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے اور جنگ کا خاتمہ جلدی کیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الحرب خدعۃ۔(۲۰)
’’جنگ فریب دہی (چال)ہے۔‘‘
حالتِ غفلت میں دشمن پر حملہ کی ممانعت
اسلام سے قبل دشمنوں پررات یا رات کے آخری پہر میںغفلت کی حالت میں حملہ کیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا اور فرمایا کہ صبح سے پہلے حملہ نہ کیا جائے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے :
کان اذا جاء قوماً بلیل لم یغر علیھم حتیٰ یصبح۔(۲۱)’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی دشمن قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی حملہ نہ کرتے تھے۔‘‘
تکلیف دے کر قتل کرنے پر روک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو باندھ کر یا تکلیف دے کر مارنے اور قتل کرنے سے منع فرمایا۔حضرت ایوب انصاریؓ سے مروی ہے:
ینھیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل الصبر۔(۲۲)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتلِ صبر(باندھ کر مارنے) سے منع فرمایا۔‘‘
مثلہ کرنے کی ممانعت
عرب اور بعض دیگر اقوام جنگ میں دشمنوں کی لاشوں کا مثلہ کیا کرتی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی لاشوں کی بے حرمتی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔مغیرۃ بن شعبۃؓ سے مروی ہے:
نھیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عن المثلۃ۔(۲۳)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ(قطع ِاعضا) سے منع فرمایا۔‘‘
آگ سے جلا کر مارنے پر روک
اسلام سے قبل جنگ میں قیدیوں یا دشمنوں کوآگ میں زندہ جلا دیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ارشادِ نبوی ہے:
لا ینبغی ان یعذب بالنار الا رب النار۔(۲۴)
’’آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے اور کسی کو سزاوار نہیں۔‘‘
قیدیوں کے قتل پر روک
اسلام نے قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کرنے ، نامناسب سزا دینے اور قتل کرنے سے منع کیا ہے اور حکومت کو اختیار دیا ہے کہ چاہے تو انہیں بلا فدیہ آزاد کر دیا جائے یا فدیہ لے کر آزاد کیا جائے۔قرآن کہتا ہے:
حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء  حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا۔(۲۵) ’’یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد(تمہیں اختیار ہے) یا تو احسان کر کے چھوڑ و یا فدیہ لے کر،تا آں کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور ان کو کھانا کھلانے کو باعثِ نیکی قرار دیا اور اسے مومن کی خوبی بتایا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً ۔إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء  وَلَا شُکُوراً ۔(۲۶)’’اور وہ مسکین،یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں،اس کی چاہت کے باوجود اور(اس جذبے کے ساتھ)ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں۔ہم تم سے کسی بدلے اور شکریہ کے طالب نہیں ہیں۔‘‘
اسلام کی طرف سے انسانی حقوق و اقدار کی ان بے مثال تعلیمات نے دنیا میںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں  ایک عظیم انقلاب برپا کردیا ۔اس انقلاب کے لیے کل ۱۹اور بعض روایتوں کے مطابق ۲۷ غزوات(امام بخاری نے غزوات کی تعداد زید بن ارقمؓ کے حوالے سے انیس (۱۹)لکھی ہے۔(۲۷) اور ۵۴سرایا اور بعض کے مطابق ۵۶سرایا ۲ھ سے ۹ھ کے درمیان آٹھ سال کی مدت میں ہوئے۔اگران لڑائیوں کو جارحانہ اور اقدامی تسلیم کر لیاجائے تو بھی ان میںمجموعی طور سے ۲۵۹ مسلمان شہید ہوئے ۔مخالفین کی طرف سے مجموعی طور سے ۷۵۹ افراد قتل کیے گئے اور ۶۵۶۴ قیدی بنائے گئے،جن میں سے ۶۳۴۷ قیدیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ لطف و احسان بلا کسی شرط کے آزاد فرما دیا تھا۔(۲۸)
اس کے برعکس جنگ عظیم اول ۱۹۱۴ء میں کم وبیش ایک کروڑ انسانوں کا خاتمہ ہوا اور دوسری جنگ عظیم ۱۹۳۹ء میں چھ (۶) کروڑ افراد مارے گئے۔موجودہ دور میں۱۹۹۰ء کے بعد سے افغانستان،عراق اور پاکستان میں ہی دہشت گردی کے نام پر ۴ ملین(۴۰ لاکھ) مسلمان مارے جا چکے ہیں۔(۲۹)
اگر اس میں شام،مصر،لیبیا،تیونس اور بعض دیگر ممالک کو شامل کر لیا جائے تو مقتولین کی تعداد ۵ ملین (۵۰ لاکھ) سے تجاوز کر جائے گی۔ لاکھوں عورتوں، بچوں اور بے گناہوں کی تباہی ان کے علاوہ ہے۔مکانوں،شہروں،ضروریاتِ زندگی اور غذائی سامانوں کی بربادی کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔پھر عالم گیر جنگوں کا مقصد توسیعِ سلطنت،حصول اقتدار ،خود غرضی ، اور اجتماعی ضد اور عصبیت کے سوا کچھ نہیں رہا ،اسی وجہ سے ان جنگوں میں انسانی اقدار کا تحفظ نہیں کیا گیا ۔جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا مقصدِ جنگ صرف یہ تھا کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو اخروی عذاب اور دنیا میں ظلم و ستم سے محفوظ رکھا جا سکے تاکہ انسانیت کی تذلیل نہ ہونے پائے۔یقینا یہ اسلام کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔
حواشی و حوالہ جات
(۱)مفتی ظفیرالدین،اسلام کا نظامِ امن،قاسمی کتب خانہ،جامع مسجد،جموں توی،کشمیر،اشاعت دوم،۱۹۹۸ء،صفحہ۱۹
(۲)         http://www.fas.org/sgp/crs/weapons/
(۳)http://knoema.com/atlas/topics/National-Defense
(۴)سید ابوالاعلیٰ مودودی،الجہاد فی الاسلام،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی، ۲۰۰۷ء،صفحہ۱۵
(۵)القریش:۳-۴(۶)النساء:۱(۷)البقرۃ:۲۰۵(۸) الحجرات:۱۱-۱۲(۹)البقرۃ:۱۳۶(۱۰)الممتحنۃ:۸(۱۱)النساء:۷۵(۱۲)البقرۃ:۲۵۶
(۱۳)الانفال:۳۹(۱۴)ترمذی:۱۶۱۷(۱۵)البقرۃ:۱۹۳(۱۶)الانفال:۶۱(۱۷)الانفال:۵۸(۱۸)ابوداؤد:۲۷۶۲(۱۹)البقرۃ:۲۰۵
(۲۰)بخاری :۳۰۲۹(۲۱)ترمذی:۱۵۵۰(۲۲)ابوداؤد:۲۶۸۷(۲۳)مسند احمد:۱۷۶۸۶(۲۴)ابوداؤد:۲۶۷۵(۲۵)محمد:۴
(۲۶)الدھر:۸ -۹(۲۷)بخاری:۳۹۴۹
(۲۸)قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری،رحمۃ للعالمین،مرکز الحرمین الاسلامی،فیصل آباد، پاکستان،۲۰۰۷ء،جلد ۲،صفحہ۴۶۲-۴۶۳
(۲۹)IPPNW (International Physicians for the Prevention of Nuclear War),Casualty Figures after 10 Years of the “War on Terror” Iraq Afghanistan Pakistan,Washington DC, Berlin, Ottawa-March 2015
****


ظلمت یوروپ میں تھی جن کی خر د راہ بیں

ظلمت یوروپ میں تھی جن کی خر د راہ بیں

         ڈاکٹرمحسن عثمانی ندوی

مسلمان جب دنیا میں سائنس ، صنعت اور تجارت کی بلندیوں پر پہونچ چکے تھے، اس وقت یوروپ قرون مظلمہ کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا، عالم اسلام کی ترقی کازمانہ یوروپ کی انتہائی پسماندگی کا زمانہ ہے، یوروپ کے لوگ ا س کو قرون مظلمہ کہتے ہیں یعنی تاریکی کی صدیاں ، لیکن یہ نام یوروپ کے ملکوں کے لئے تو بالکل درست ہے ، لیکن مسلمانوں کے شہروں کے لئے درست نہیں، کیوں کہ وہاں اس وقت تہذیب وتمدن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی، ڈاکٹر فلپ ہٹی اور بہت سے دوسرے مغربی مصنفین نے اعتراف کیا ہے کہ جب لندن اور یوروپ کے دوسرے شہروں میں سڑکیں کچی ،انتہائی ناہموار اور دھول سے اٹی ہوئی ہوتی تھیں جن میں گڑھے ہوتے تھے اور، جن پر رات کے وقت اندھیرے میں سفر کرنا ناممکن تھا، اس وقت اسپین اور مسلمانوں کے دوسرے ملکوں کے شہروں میں سڑکیں کشادہ ، ہموار ہوا کرتی تھیں، جس کے دونوں طرف روشنی کا انتظام تھا، تاکہ رات کے وقت بھی قافلے اپنی گاڑیوں کے ساتھ بے خطر سفر کر سکیں۔ مغربی مصنفین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت قرطبہ ، غرناطہ اور اشبیلیہ اور بغداد وغیرہ شہروں میں ایسے کتب خانے موجود تھے جن میں ایک ایک لاکھ کتابیں مخطوطات کی شکل میں موجود تھیں، اور کتابوں کی خطاطی اور جلد سازی کی بہت سی دکانیں ہوا کرتی تھیں، اس وقت یوروپ کے لوگ اپنے ناموں کی حروف تہجی سیکھ رہے تھے، نہ وہاں کوئی صنعت تھی اور نہ تہذیب وتمدن کے مراکز ۔بغداد اور قرطبہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اور لندن اور پیرس کے جاہل اور غیر مہذب باشندوں میں وہی فرق تھا جو ایک تعلیم یافتہ انسان اور ایک گڈریا اور چرواہے میں ہوتا ہے۔

یوروپ میں تہذیب وتمدن کا دور اس کی نشاۃ ثانیہRenaissance کے بعد آیا، یوروپ کی نشاۃ ثانیہ او ر بیداری کا دور پندرہویں صدی عیسوی کے بعد شروع ہوتا ہے، یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور علمی بیداری اوردور جہالت سے علم کی روشنی کی طرف واپسی کے اسباب حسب ذیل ہیں :

۱۔ سائنس اور طب اور دوسرے علوم کی عربی کتابوں کا داخل نصاب ہونا اور ان کے ترجمے اور اسپین میں اہل یوروپ کا تعلیم حاصل کرنا

۲۔ صلیبی جنگوں کے ذریعہ فلسطین اور دوسرے مقامات پر مسلمانوں کی تہذیب وتمدن سے واقفیت 
 
۳۔ نئی دنیا یعنی امریکہ کی دریافت جس کا سہرا کولمبس کے سر باندھا جاتا ہے حالانکہ مسلمان کولمبس سے پانچ سال پہلے امریکہ کو دریافت کرچکے تھے 
 ۴پریس کی ایجاد

اسلام نے اس وقت کی عیسائی دنیا کو بھی متاثر کیا تھا ۔ عیسائیت کا مذہبی انقلاب جو یوروپ میں مارٹن لوتھر کے ذریعہ آیا، اس کی وجہ بھی مسلمانوں کی مذہبی کتابیں تھیں، مارٹن لوتھر کو ریفارمیشن کا بانی کہا جاتا ہے، اس نے پروٹسٹنٹ کاایک باغی اور احتجاجی فرقہ قائم کیا تھا جو عیسائیت میں اصلاحات کاداعی تھا ۔ وہ جرمنی کا باشندہ تھا اور پادری کے عہدے پر فائز ہوا ،اس نے پوپ کی سخت مخالفت کی اور مروجہ عیسائیت پر تنقید کی ،اس نے آخرت میں نجات کے لئے چرچ کے معافی نامہ اور مغفرت نامہ کو تنقید کال نشانہ بنایا جس سے جرائم پیشہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے وہ سونے چاندے کے بھائو پادریوں سے مغفرت نامے اور جنت کے قبالے خریدتے تھے اور ’ رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘ کا مزہ لوٹتے تھے ۔ وہ سر سے پیر تک گناہوں میں ڈوب کر بھی خود کو جنت کا حق دار سمجھتے تھے ۔ مارٹن لوتھر نے نے اس مغفرت نامہ کو باطل قرار دیا وہ خود اسلامی تہذیب سے اتنا زیادہ متاثر تھا کہ آرتھوڈوکس کرسچن اس پر خفیہ طور پر مسلمان ہونے کا الزام لگاتے تھے۔اس نے گرجا گھروں کی بہت سی رسوما ت وبدعات کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔یوروپ میں اصلاح دین کی تحریک اسلام کے زیر اثر شروع ہوئی تھی ۔

ایک بات جو بالکل طے شدہ ہے اور جس کا اعتراف انصاف پسند مغربی مصنفین نے بھی کیا ہے ، وہ یہ کہ مسلمان برتر ثقافت اور تہذیب کے مالک تھے، اس حد تک کہ یوروپ کے لوگ بدن کی صفائی کے لئے صابن کے استعمال سے بھی واقف نہیں تھے،یہی صابن کا عربی لفظ ہے یورپی زبانوں میں’’ سوپ‘‘ بن گیا ہے  صلیبی جنگوں میں بیشمار عیسائی ملکوںکے باشندے شریک ہوئے تھے ، اس لئے کہ یہ ان کے نزدیک مقدس جنگ تھی، لیکن جب شام وفلسطین میں انھوں نے مسلمانوں کی تعمیرات اور معاشرت اور تہذیب کو نزدیک سے دیکھا تو انھوں نے ہر چیز میں مسلمانوں کی نقل کرنی شروع کی ، جیسے اب مسلمان یوروپ کی نقل کرنے لگے ہیں ۔اسلحہ سازی میں تفوق مسلمانوں کا اتنا زیادہ تھا کہ جب رات کے وقت صلیبی فوج کے لوگ آسمان سے اژدہوں کے مانند آتشی بان کو سروں پر گرتے ہوئے دیکھتے تو راہ فرار اختیار کرتے، اور کہیں پناہ لیتے اور ان کے پادری دعاوں میں مشغول ہوجاتے ۔

یونان کے لوگوں نے علم وحکمت میں بڑا نام پیدا کیا تھا، اور وہ حکمت وفلسفہ کے مینار سمجھے جاتے ہیں ، لیکن یونان کی تمام کتابیں اہل یوروپ تک مسلمانوں کے واسطے سے پہونچی تھیں، اور مسلمانوں نے یونان کے تمام علوم کا عربی زبان میں ترجمہ کیا تھا، ریاضی کا فن ہو یا فلکیات کا ، طبعیات کا ہو یا کیمیاء کا ، یا حیاتیات اور طب کا یہ تمام کتابیں عربی زبان میں تھیں، اور ان کتابوں سے یوروپ کے لوگوں نے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ اطالوی اور دوسری مغربی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے، اور یہ ترجمے ایک طویل عرصے تک یوروپ کی جامعات میں پڑھائے گئے، اور پندرہویں صدی کے بعد جب یوروپ میں پریس کی ایجاد ہوئی تو مسلمانوں کی عربی کتابیں باربار چھپنے لگیں، ابن سینا کی القانون ، زکریا رازی کی الحاوی، ابو القاسم زہراوی کی التصریف، ابن رشد کی کلیات ، ابن زہر کی التیسیراور ابن الہیثم کی کتاب المناظر، اور بہت ساری دوسری کتابیں یوروپ کے اہل علم کے ہاتھوں میں پہونچیں اور بہت سی کتابوں کے پچاس سے زیادہ ایڈیشن نکلے، پریس کی ایجاد نے یوروپ کی نشاۃ ثانیہ اور بیداری اور نھضت میں بہت بڑا کردار اداکیاہے، پریس کے دور سے پہلے کاغذ سازی اگر مسلمان ملکوں میں نہ ہوتی تو پریس کی ایجاد کا کوئی فائدہ نہ ہوتا، مسلمان چونکہ قافلہ علم کے سالار تھے اس لئے کاغذ سازی کی طرف انھوں نے بہت توجہ کی تاکہ کتابیں لکھی جا سکیں،ایک وقت ایساتھا کہ یوروپ کے مختلف شہروں میں تقریباً ہر محلے میں کاغذ سازی کے چھوٹے چھوٹے کارخانے قائم تھے اور بہت سے شہروں میں اس کی حیثیت گھریلو صنعت کی ہوگئی تھی۔آج  یوروپ کے بہت سے کتب خانوں میں عربی مخطوطات ہزاروں کی تعداد میں ہیں جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا 
 
                       مگر وہ علم کے  موتی  کتابیں  اپنے  آباء کی 
                       جو دیکھیں ان کو یوروپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

بہت سے لوگ اس شعر کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مذہبی نوعیت کے مخطوطات ہوں گے جسے انگلینڈ کے لوگ اپنے کتب خانوں کے لئے کوہ نور ہیرے کی طرح  ہندوستان اور مشرقی ملکوں سے چرا کر لے گئے ہوں گے یہ خیال درست نہیں ہے ۔یہ عربی مخطوطات زیادہ تر سائنس طب اور عصری علوم سے متعلق ہیں یہ وہ کتابیں ہیں جو کسی زمانہ میں یوروپ میں پڑھی اور پڑھائی جاتی تھیں یہ وہ کتابیں تھیں جن سے یوروپ میں نشات ثانیہ  Renaissance کا آغاز ہوا تھا ۔

مغربی مصنفین آرنلڈ(sir Thomas Arnold) اور اسپین کے دانشور جیسوٹ ایندریز(jesuit Andriz)اور کئی دیگر مصنفین نے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یوروپ کے لوگوں نے مسلمانوں سے عربی ہندسے سیکھے اور قدیم رومن ہندسے ترک کردئے، اور عربی ہندسے اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم جوریاضی کے چار بنیادی لوازم ہیں یہ چیزیں اندلس اور پھر یوروپ کے ملکوں کے باشندوں میں عام ہوگئیں ، یہ بات مغربی ملکوں کے فضلاء کے سمجھ میں آگئی تھی کہ ریاضی اور فلکیات اور طب اور دیگر سائنسی علوم کو سیکھنے کے لئے عربی جاننا ضروری ہوگیا ہے، چنانچہ عربی زبان صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یوروپ کی عیسائی دنیا میں بھی عام ہوگئی، اسپین کے کلیساؤں نے بھی انجیل اور اپنی مذہبی کتابوں کے ترجمے عربی زبان میں کئے ، عربی کی اشاعت اور تعلیم اتنی عام ہوگئی تھی کہ یوروپ کے کئی ملکوں میںتعلیم یافتہ اس شخص کو سمجھا جاتا تھا جس نے عربی زبان سیکھی ہو اور عربی زبان کے علوم کو پڑھ لیتا ہو، اس طرح سے مسلمانوں کی سائنس کے علوم تمام اہل یورپ میں پھیل گئے ۔ سائنس کے ان علوم کو مسلمانوں نے دنیا کی دوسری تہذیبوں سے فائدہ اٹھا کر تیار کیا تھا اور انہیں ترقی دی تھی ، یہ سائنس کا تخم تھا ، یوروپ کے ملکوں میں موسم اچھا تھااور پانی وافر تھا اور مٹی بھی زرخیز تھی، چنانچہ یہ تخم خوب برگ وبار لایا اور اس کے شیریں ثمرات یوروپ کے ملکوں میں پھیل گئے اور پھر ان علوم وفنون کی یوروپ میں مزید ترقی ہوئی، مسلمانوں نے اصطرلاب ایجاد کیا تھا جس کی مدد سے ایک ۱۰۹۲ عیسوی کو انھوں نے ایک چاند گرہن کا مشاہد ہ کیا تھا، یوروپ کے لوگوں نے فلکیات کے علوم میں آگے چل کر اتنی ترقی کی کہ خود ان کے قدم چاند تک پہونچ گئے۔اب مسلمانوں کو سائنسی علوم کو مغرب سے لینے اور سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ پیغمبر اسلامﷺنے فرمایا ہے کہ حکمت وعلم مومن کی گمشدہ میراث ہے وہ جہاں بھی  ہو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ اب مسلمانوں کے لئے عزت وعظمت کی بازیابی کی یہی راہ ہے ۔

Friday, 18 November 2016

India slips two spots in English language proficiency

India slips two spots in English language proficiency

Kritika Sharma | Kranti Vibhute | Thu, 17 Nov 2016

India is placed at 22nd spot in the new report released by Swedish education company EF Education First. In 2015, India was placed at 20th spot by the same study. 

  

The latest survey on English language proficiency has found that India has slipped two spots compared to last year in proficiency rankings while China has improved its ranking. India is placed at 22nd spot in the new report released by Swedish education company EF Education First. In 2015, India was placed at 20th spot by the same study.

Professors of English language blame it on the decreasing use of the language as a medium of expression. “I am extremely pained at India’s position with languages. This survey must have just talked about one year, but I have been seeing that for the last 10-15 years, India’s language proficiency has been on a decline. This is because students have no scope to express themselves in languages. You see all the tests today, be it UGC, be it the other entrance tests they are all objective-type questions, students do not get a chance to write a full page in English language,” said Professor Vaishna Narang Dean, School of Language, Literature and Culture Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. 

“Semi-literate and illiterate people are learning to use technology. They think they don’t need to learn languages. Language education should be encouraged in primary education. Reading habits should be encouraged when children are younger,” she added. 

Aranha Francisca, Teacher, HOD of English department, General Education Academy, Chembur, senior moderator of SSC board and English subject expert, said, “We gave a lot of importance to English language earlier. But now with New Education Policy we take our English subject very lightly. We are not giving enough importance to spoken English, but the focus is on reading and marks in oral exam. Our curriculum has become easy, activity-based and student-friendly. But it does not improve the quality of language or improve students’ diction. Earlier the curriculum was tough and students used to read more, but now they don’t read enough. Students study English but they are not good in spoken English. We don’t study according to international standards.”

According to a professor from Delhi University, learning English from non-affiliated institutions is one of the major reasons that English proficiency has seen a decline. “I do not believe in these surveys, but if at all this is true, it is mostly in rural areas. It is because students are not learning from genuine institutes. There are a number of non-affiliated institutes to teach English language, spoiling it for students,” said Professor Anil Aneja, Associate Professor, Delhi University.



 

معاشی اخلاقیات اور اسلام


رزق حلال اور ہماری زندگی


اسلام اور عدم تشدد


اسلام کا قانون وراست


بد فالی اور توہم پرستی اسلامی تعلیمات کے منافی عمل


اختلاف امت کا صحیح مفہوم اور فقہی مسائل میں اعتدال کی راہ


قیامت کی افراتفری کو بھی یاد کر لیجیے


دہر میں اسم محمد ص سے اجالا کردے