Search This Blog

Sunday, 29 July 2012

آج کی بات‘ رمضان کے لمحے لمحے کو قیمتی جانیے!!

آج کی بات‘ رمضان کے لمحے لمحے کو قیمتی جانیے!!

- غزالہ عزیز
ماہِ مبارک کی خوبصورت اور حسین ساعتیں مبارک ہوں۔ اس ماہ ملتِ اسلامیہ میں نیکی اور خیر و برکت کا ولولہ انگیز آغاز ہوتا ہے۔ مُردہ اور سوکھی ہوئی رگیں تر ہوجاتی ہیں۔ نیکیوں کی بہار کی آمد سے سماں بندھ جاتا ہے۔ دلوں میں اللہ کی رضا اور قرب کے لیے بازی لے جانے اور اس ماہ کی برکات سے استفادے کے لیے کوششیں کی جاتی ہے۔ سلف صالحین اس ماہ کی برکات کو سمیٹنے کے لیے بڑی تیاری کیا کرتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم اس ماہ (رمضان) کو جو تمام خیر کا مہینہ ہے، خوش آمدید کہتے ہیں، اس کے دن میں روزے رکھتے ہیں اور رات کو قیام کرتے ہیں، اور اس ماہ دن رات اللہ کی راہ میں انفاق کرتے ہیں۔ سلف صالحین کے بارے میں کتابوں میں نقل ہے کہ وہ چھ ماہ تک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ رمضان کا مہینہ پالیں، اور اگلے چھ ماہ وہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ یہ گھڑیاں کس قدر قیمتی ہیں کہ ان کے لیے سال بھر دعائیں کی جاتی تھیں۔ آج بھی بزرگ اس کو پانے اور اس کے لمحے لمحے میں اپنے لیے خیر کے حصول کی دعائیں کیا کرتے ہیں۔ جہاں یہ صورتِ حال ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان برکات والے لمحات کی قدر نہیں جانتے، یا جانتے بوجھتے انہیں لغویات اور سونے میں گزار دیتے ہیں۔ روزہ رکھ کر وہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ وقت فلموں، گانوں، ڈراموں کی مصروفیات مٰں گزرے یا سوکر ختم کردیا جائے، یا فون پر فضول اور بے مقصد باتوں میں… تاکہ بھوک پیاس کا احساس نہ ہو۔ تو یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ روزہ داروں کے بارے میں فرمانِ نبوی ہے کہ انہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کام نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ چنانچہ روزے کے مقبول ہونے کے لیے لازم ہے کہ اپنے وقت کو اللہ کی فرماں برداری میں گزارا جائے، نہ کہ اپنے آپ کو منکرات اور معصیات میں مشغول رکھیں اور خوش رہیں کہ روزہ مزے میں گزر گیا۔ رمضان زندگی کو مقصد کے تحت گزارنے کے لیے تحریک دیتا ہے۔ عمل کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس ماہ میں مسلمان عام دنوں کی نسبت زیادہ قیام کرتے ہیں، صدقہ خیرات کرتے ہیں۔ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں جہاد کیے اور فتح کے پھریرے اڑائے۔ اس ماہ تک آپ کا پہنچنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ آپ کے ساتھ رحم کا برتائو کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا سستی اور کاہلی کا رویہ ترک کرکے عمل کی طرف توجہ کریں۔ کم کھانا جسم کو عمل کے لیے آمادہ کرنے میں بڑا کارآمد ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ ’’بیٹا جب معدہ بھر جاتا ہے تو سوچ اور فکر سو جاتی ہے، حکمت جاتی رہتی ہے، اعضاء عبادت نہیں کرپاتے‘‘۔ لہٰذا اگر ان قیمتی لمحات سے بہتر استفادہ کرنا ہے تو ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچنا لازم ہے۔ اللہ ہم سب کو ان قیمتی لمحات سے بہترین فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

غور و فکر

غور و فکر

- سلمیٰ مدثر
’’نازش یار میرے ساتھ شام کو شاپنگ کو چلوگی؟‘‘ ’’کیوں بھئی خیریت‘‘… ’’ہاں خیریت ہی ہے، بس رمضان سر پر آرہے ہیں، تھوڑی بہت شاپنگ اس سلسلے میں کرنی ہے‘‘۔ حمیرا اس کو مطمئن کرتے ہوئے بولی۔ اور جب شام کو اس نے حمیرا کو لان کے سوٹوں سے لے کر امپورٹڈ ڈنر سیٹ اور کٹلری کا سامان خریدتے دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔ ’’حمیرا یہ شاپنگ تم نے صرف رمضان کے مہینے کے لیے کی ہے؟‘‘ وہ اس کو لان کے پورے دس سوٹ خریدنے پر حیرت سے پوچھ رہی تھی جن کی قیمت ہزاروں میں تھی۔ ’’ہاں یار رمضان میں کبھی سسرال تو کبھی میکے افطار پارٹی میں آنا جانا لگا رہتا ہے، اور پھر کسی نہ کسی کی روزہ کشائی کی تقریب بھی آہی جاتی ہے، اور تمہیں پتا ہے کہ میں کہیں جاتے ہوئے ایک دفعہ کے کپڑے دوبارہ نہیں پہنتی ہوں۔‘‘ ’’اچھا…!‘‘ نازش نے گردن ہلائی۔ پڑوس والی آنٹی پریشانی سے پوچھ رہی تھیں ’’ارے نازش! ماسی تم سے چھٹی کا کچھ کہہ کر گئی؟‘‘ ’’نہیں تو آنٹی، ماسی نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ مگر جمیلہ جو ساتھ والے گھر میں کام کرتی ہے وہ بتارہی تھی کہ ہماری ماسی کے بچے کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، اس وجہ سے وہ کام پر نہیں آرہی۔‘‘ ’’بس بیٹا ان لوگوں کو چھٹی کرنے کے بہانے چاہیے ہوتے ہیں۔ابھی میں نے تین دن پہلے ہی اس کے کان میں آواز ڈالی تھی کہ رمضان آنے والے ہیں، پورے گھر کی صفائی اچھی طرح سے کرنی ہے، اور دیکھو یہ چھٹیاں کرکے بیٹھ گئی۔ میں نے بھی پیسے نہیں کاٹے تو میرا نام نہیں۔‘‘ وہ غصہ سے بولیں۔ ’’امی، ارسہ خالہ آئی ہیں۔‘‘ نازش نے باورچی خانہ میں کام کرتی امی کو اطلاع دی۔ ’’ہاں ہاں تم خالہ کوبٹھائو، میں آرہی ہوں‘‘۔ اور ارسہ خالہ امی سے گرمجوشی سے ملتے ہوئے کہہ رہی تھیں: ’’رمضان آنے والے ہیں، میں نے سوچا ٹائم ملے نہ ملے، مل کر آجائوں۔‘‘ ’’اچھا ہوا آگئیں، میں بھی تمہیں یاد کررہی تھیں‘‘ امی نے جواب دیا۔ ’’یقین مانو اس مہینے میں تو لمحے بھر کو بھی فرصت نہیں ملتی، چاہے پورے سال چولہے پر کڑاہی نہ رکھو مگر رمضان کے مہینے میں تو جب تک گرم گرم پکوڑے دستر خوان پر نہ ہوں افطاری کا مزہ ہی نہیںآتا، پھر سب کی پسند کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے، اور اب کے تو اللہ کا شکر ہے بچوں کے اسکول کی چھٹیاں بھی رمضان میں ہورہی ہیں، تو انشاء اللہ راتوں کو جاگ کر خوب عبادت کروں گی اور صبح کی نماز پڑھ کر خوب فرصت سے سوئوں گی، ارشد کے ابو سے بھی میں نے کہہ دیا ہے کہ آفس جاتے ہوئے مجھے نہ اٹھایئے گا، ماسی کو بھی دوپہر کو بلائوں گی‘‘ ارسہ خالہ گرمجوشی سے رمضان کے حوالے سے اپنی پلاننگ بتارہی تھیں۔ ’’وہ تو سب ٹھیک ہے، مگر تم بڑی بھابھی سے مل کر آئیں؟ کافی عرصے سے تمہارا اور ان کا میل جول نہیں ہے، اس بابرکت مہینے کے آنے سے پہلے اپنا دل اگر رشتہ داروں سے صاف کرلیا جائے اور محبت، میل جول کو بڑھایا جائے تو اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے‘‘ امی ارسہ خالہ کو سمجھاتے ہوئے بولیں۔ ’’مگر باجی رمضان صرف میرے لیے ہی نہیں آرہے، غلطی ان کی ہی تھی، اب ملنے میں بھی ان کو چاہیے پہل کریں، میں کوئی گری پڑی نہیں ہوں جو ان کے گھر جائوں‘‘ ارسہ خالہ اپنی ضد پر قائم رہیں۔ اور دو دن کے بعد ہی ساتھ والے گھر میں استقبالِ رمضان کے سلسلے کے پروگرام میں جب درس دینے والی خالہ رمضان اور روزوں کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ روزوں کا اصل مقصد تو تقویٰ کا حصول ہے اور بہت سے مسلمان ایسے ہوتے ہیں جن کو روزے سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، تو نازش نے دیکھا کہ ارسہ خالہ اور حمیرا کچھ فکرمند سی ہیں۔ اللہ کرے یہ فکرمندی وہ ہو جس کے بارے میں اللہ قرآن میں کہتا ہے ’’تم کیوں نہیں غور و فکر کرتے‘‘۔ نازش نے دل ہی دل میں دعا کی۔

فیصلے کا لمحہ

فیصلے کا لمحہ

- شہلا عبدالجبار

یمنیٰ کو بچپن ہی سے اپنا کام اول وقت میں کرنے کی عادت تھی۔ چھوٹی تھی تو رات ہی کو اپنا یونیفارم استری کرواکر ہنگ کردیتی۔ جوتوں کے اسٹینڈ میں سب سے اوپر اسی کے کالے شوز چمچماتے ہوئے نظر آتے، اور اسکول بیگ بھی بہت سلیقے سے سیٹ کیا ہوا میز پر رکھا ہوتا۔ غرضیکہ جب صبح اسکول جاتے ہوئے گھر میں ایک ہڑبونگ سی مچی ہوتی وہ سب سے پہلے تیار ہوجاتی… کبھی اسکول وین کے آنے میں دیر ہوجاتی تو وہ رو دھوکے زین بھائی کے ساتھ بائیک پر اسکول چلی جاتی۔ اسکول لیٹ جانا اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگتا تھا… دوپہر کو کھانے کے بعد جب دوسرے بہن بھائی آرام کرتے تو وہ اپنا ہوم ورک لے کر بیٹھ جاتی… امی اسے بار بار آرام کرنے کو کہتیں مگر وہ ہوم ورک پورا کیے بنا آرام کرہی نہیں سکتی تھی… جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی اس کی یہ عادت اور بھی پختہ ہوتی چلی گئی… وہ چاہتی تھی کہ اس کا ہر کام وقت سے پہلے تیار رہے… ویسے وہ تھی بھی بہت سگھڑ اور سلیقہ مند… اس کی وجہ سے دوسری دونوں بہنیں بہت لاپروا ہوگئی تھیں… ماسی کے آنے میں تھوڑی سی دیر ہوجاتی تو وہ فوراً صفائی میں جت جاتی۔ جیسے ہی اس نے ماسٹرز کیا اس کے لیے کئی رشتے آگئے… آخر قرعہ فال عثمان کے نام نکلا… بڑے ماموں جان کا فرزندِ ارجمند۔ بہت سلجھا ہوا اور نیک اطوار… ابھی حال ہی میں انجینئرنگ کی ڈگری لی تھی… مامی تو یمنیٰ کو شروع ہی سے بہت پسند کرتی تھیں … وہ تھی بھی تو بہت ہردلعزیز… سب کاخیال رکھنے والی… آہستہ آہستہ شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں… حسب عادت وہ چاہتی تھی کہ شادی سے کم از کم ایک ہفتہ قبل تمام تیاریاں مکمل ہوجائیں۔ جب وہ کسی کام میں ہاتھ ڈالتی تو تمام کزنز اسے ڈانٹنے لگتیں: خدارا تھوڑا خیال کرو۔ تم دلہن ہو… چپ چاپ بیٹھی رہو… ہم کررہے ہیں ناں کام… رات جب سب سوجاتے تو وہ چپکے سے چھوٹے موٹے کام نمٹانے کی کوشش کرتی… امی دیکھ لیتیں تو خوب ڈانٹ پڑتی… آخر خدا خدا کرکے شادی کی تقریب انجام پاگئی۔ ماموں کا گھر اس کے لیے کوئی نئی جگہ نہ تھی۔ وہی دیکھا بھالا گھر تھا اور دیکھا بھالا عثمان… نئی دلہن ہونے کے باوجود وہ ہر وقت کام کے لیے تیار رہتی۔ اسے تو زبردستی روکنا پڑتا… عثمان اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا کہ اسے یمنیٰ جیسی خوبصورت‘ خوب سیرت اور سلیقہ مند بیوی ملی ہے۔ صبح جاب پر جانے سے پہلے اسے اپنی ہر چیز تیار ملتی… کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اسے ناشتے کے بغیر آفس جانا پڑا ہو… شام کو وہ گھر آتا تو چائے کے ساتھ بے شمار لوازمات تیار ملتے… گھر میں اگر دعوت کا اہتمام ہو تو وہ ناشتے کے بعد ہی سے کام میں لگ جاتی۔ مامی اسے لاکھ سمجھاتیں کہ بیٹا دعوت تو رات میں ہے، ابھی آرام کرلو، دوپہر سے تیاری کریں گے… لیکن اس کی بے چین فطرت کو چین کہاں…! بس وہ چاہتی کہ شام سے پہلے پہلے ہر چیز تیار ہوجائے… ایسا نہ ہو کہ مہمان آئے بیٹھے ہوں اور ہم کام میں مصروف رہیں… وقت سے پہلے سب کچھ تیار ہوجائے تو اچھا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چھ سال گزر گئے… اس عرصے میں وہ تین پیارے پیارے بچوں کی ماں بن گئی… رمضان آنے سے پیشتر اس کی شاپنگ مکمل ہوچکتی… اس لیے نہیں کہ اس مقدس مہینے میں عبادت میں یکسوئی رہے، بلکہ یہ اس کی عادت بن چکی تھی… اگر کبھی شادی کی تقریب میں جانا ہو تو وہ کافی دیر پہلے تیار ہوجاتی اور بچوں کو بھی تیار کردیتی… عثمان اسے لاکھ سمجھاتا کہ کارڈ پر لکھے ہوئے وقت پر جانا بیکار ہے… شادی ہال میں کوئی نہ ہوگا… حتیٰ کہ اُلّو بھی نہیں آتے بولنے کے لیے … خوار ہوں گے جلد جاکر… اور جب مقررہ وقت سے ڈیڑھ دو گھنٹے بعد جاتے تو پتا چلتا کہ ابھی تو برات آئی بھی نہیں ہے۔ وقت یونہی تیزی سے گزرتا رہا… اس کے تینوں بچوں کی شادیاں ہوچکی تھیں۔ بیٹیاں تو شادی کے بعد باہر چلی گئی تھیں اور بیٹا ایک انٹرنیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس کی بہو مشال بہت خوش اسلوبی سے گھر چلارہی تھی… اب تو اسے فراغت ہی فراغت تھی… نماز تو وہ ہمیشہ پانچوں وقت کی پڑھ لیتی تھی مگر قرآن پڑھنے کا اسے وقت ہی نہیں ملتا تھا… ہر وقت کام ، کام اور کام…اگر کبھی قرآن پاک کی تلاوت کربھی لیتی تو صرف ناظرہ کی حد تک… اب وہ روزانہ قرآن ترجمہ اور تفسیر سے پڑھنے لگی تھی… آج جب وہ تلاوت کررہی تھی تو اس کے سامنے سورہ حشر کی یہ آیت تھی: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ سورہ حشر کی اس آیت کی وہ نہ جانے کتنی بار تلاوت کرچکی تھی مگر آج اس کا ترجمہ پڑھ کر وہ کانپ سی گئی۔ اس نے پلٹ کر اپنے ماضی پر نگاہ ڈالی۔ وہ دنیاوی معاملات میں تو بہت ذمہ دار، قابل اور ایکٹو تھی… اس کا ہر کام وقت سے پہلے تیار رہتا۔ لیکن اس نے آخرت کی کچھ بھی تو تیاری نہیں کی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر ابھی اس کا بلاوا آجائے تو وہ کس منہ سے اپنے رب کے سامنے پیش ہوگی! اسے تو ہر کام اپنے وقت سے پہلے کرنے کی عادت تھی مگر اس معاملے میں اس سے کیسی بھول ہوئی… اسے خیال آیا کہ ابھی تو اس کے پاس مہلتِ عمل باقی ہے… اسے جلد از جلد اپنا زادِ راہ تیار کرنا ہے،’’کل‘‘ آنے سے پہلے پہلے… تاکہ جب وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو تو اسے یہ اطمینان رہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہے۔

مغرب کی تقلید اور نوجوان نسل

مغرب کی تقلید اور نوجوان نسل

- انتخاب: عروبہ علی

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
کسی بھی معاشرے کی بنیاد اس کے نظریات اور افکار پر ہوتی ہے۔ نظریے سے مراد کسی تہذیبی، سیاسی یا معاشرتی لائحہ عمل سے ہے جو کسی بھی قوم کا مشترکہ نصب العین ہو، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ ہی وہ بنیاد اور ستون ہے جسے وسعت دے کر قومیں پروان چڑھتی ہیں اور قومی زندگی کا نظام وجود میں آتا ہے۔ اگر عقیدے اور نظریے کی اہمیت نہ ہو تو کوئی بھی قوم اپنے پیروں پر نہیں کھڑی ہوسکتی۔ قانون بھی اسی کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں اور سیاسی سرگرمیاں بھی اسی سے ہم رشتہ ہوکر رہتی ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ہماری زندگی کے ہر ہر پہلو کے متعلق رہنمائی کی ہے۔ جب نظریات و افکار کی جڑیں کمزور ہونے لگیں تو مغربی افکار و تہذیب ان کی جگہ لینے لگتے ہیں، اور عام مشاہدہ ہے کہ اس صورت حال میں نوجوان نسل تقلید میں سب سے آگے رہتی ہے۔ آج ہمارے ملک میں مغربی افکار کے اثرات تیزی سے نمایاں ہورہے ہیں۔ پہلے جن افعال کو اسلامی تعلیمات کی رو سے معیوب سمجھا جاتا تھا اب وہ برائی، برائی محسوس نہیں ہوتی، اور انہیں وہ تمام خیالات پرانے اور دقیانوسی معلوم ہوتے ہیں جو کبھی مسلم تہذیب کا خاصا تھے۔ انہیں جدیدیت اور روشن خیالی کے نام پر اس دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جس میں گرنے کے بعد انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو مقصدِ زندگی سے ہٹاکر ’’کھا لے، پی لے، جی لے‘‘ کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنے قومی نظام تعلیم کو نظریہ اسلام سے ہم آہنگ کردیں تو اس کے ذریعے مغربی تقلید کے اثرات کافی حد تک کم ہوسکتے ہیں۔ کاش کہ ہماری نوجوان نسل میں اس امر کا شعور پیدا ہوکہ مغربی تقلید ان کے معاشرے میں بھی انہی برائیوں کا باعث بن رہی ہے جس میں آج مغربی معاشرہ خود مبتلا ہے۔ مسلم ممالک میں بے عملی اور اخلاقی تباہی دشمنانِ اسلام و پاکستان کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
اجاڑا ہے تمیز ملت و آئین نے قوموں کو
میرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے

پھل اور سبزیاں کھائیے… دس سال زیادہ زندگی پائیے

پھل اور سبزیاں کھائیے… دس سال زیادہ زندگی پائیے

- افتخار جمیل
کچھ لوگ کھانے کے لیے جیتے ہیں اور کچھ جینے کے لیے کھاتے ہیں۔ جینا کھانے کے لیے ہو، یا کھانا جینے کے لیے، وہ ہماری زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے لیے جینے والے، یعنی جسمانی ضرورت سے زیادہ کھانے والے، لمبا عرصہ جی نہیں پاتے اور بسیار خوری انہیں مختلف امراض میں مبتلا کردیتی ہے۔ تاہم جو جینے کے لیے کھاتے ہیں، وہ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ بڑی عمر کے افراد پر کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ایسے افراد جن کی عمریں 70 اور 80 سال کے درمیان تھیں، جب انہوں نے اپنی غذائی عادات تبدیل کیں اور جسمانی ضرورت کے مطابق ہاتھ روک کرکھانا شروع کیا تو نہ صرف یہ کہ صحت کو لاحق خطرات کم ہوئے بلکہ ان کی اوسط عمروں میں دس سال تک کا اضافہ بھی دیکھا گیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں متوازن خوراک آپ کو طویل عرصے تک جینے میں مدد دیتی ہے۔ تحقیقی مطالعے سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ بڑی عمر کے جن افراد نے سبزیوں، پھلوں، کم چکنائی والے دودھ اور ایسے اناج کا استعمال کیا تھا، جس کا چھلکا الگ نہیں کیا گیا تھا، ان کی اوسط عمر میں ایسے افراد کی نسبت دس سال کا اضافہ ہوا جنہوں نے متوازن اور صحت بخش خوراک کو اہمیت نہیں دی تھی۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے شعبہ غذائیات کی سائنس دان ایمی اینڈرسن، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی، کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال درست نہیں ہے کہ بڑھاپے میں خوراک کی زیادہ اہمیت نہیں رہتی اور اس کا ان کی عمر کی طوالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایمی اینڈرسن کہتی ہیں کہ ہماری تحقیق کے نتائج اس نظریے سے مختلف نکلے۔ ہم نے اپنی تحقیق میں اس سلسلے میں ہونے والے کئی دوسرے مطالعاتی جائزوں کو بھی اپنے پیش نظر رکھا جن سے ہمارے اس نظریے کو تقویت ملی کہ متوازن اور صحت بخش خوراک کے استعمال سے عمر رسیدہ افراد زیادہ عرصے تک جی سکتے ہیں۔ اپنی تحقیق کے دوران ایمی اینڈرسن اور ان کی ٹیم نے پیٹس برگ اور ممپس کے 2500 ایسے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا جن کی عمریں 70 اور 79 سال کے درمیان تھیں۔ ان سے کھانے پینے کی عادات اور خوراک کے بارے میں سوالات کیے گئے اور صحت کے بارے میں بھی پوچھا گیا کہ وہ اسے کس درجے پر رکھتے ہیں، یعنی بہت اچھی، اچھی، مناسب، گزارہ یا خراب۔ ماہرین نے تحقیق میں شامل رضاکاروں کو ان آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا:1۔ زیادہ تر صحت بخش اور متوازن خوراک استعمال کرنے والے، 2۔ زیادہ چکنائی والی خوراک، مثلاً آئس کریم، پنیر وغیرہ کھانے والے، 3۔ کم چکنائی کی غذا استعمال کرنے والے، مثلاً چاول اور کریم نکلا دودھ وغیرہ، 4۔ زیادہ تر گوشت اور بھنے ہوئے کھانے کھانے والے، 5۔ بھوسی نکلا آٹا، یا میدہ استعمال کرنے والے، 6۔ ناشتے میں زیادہ تر دلیہ کھانے والے، 7۔ چینی کا زیادہ استعمال کرنے والے، 8۔ اور ایسے افراد جن کی زیادہ تر خوراک پھلوں، سبزیوں اور مچھلی پر مشتمل تھی۔ تحقیقی ٹیم نے دس سال تک ان افراد کو اپنے رابطے میں رکھا۔ اس دوران 739 افراد انتقال کرگئے۔ مرنے والوں میں سے 40 فی صد ایسے لوگ تھے جو زیادہ چکنائی کی غذا استعمال کررہے تھے۔ جب کہ 37 فی صد کا تعلق زیادہ چینی استعمال کرنے والے گروپ سے تھا۔ مرنے والوں میں سب سے کم شرح پھل، سبزیاں اور مچھلی کھانے والوں کی تھی۔ اور جب تحقیق میں شامل تمام افراد کی صحت کے معیار کا جائزہ لیا گیا تو اسی گروپ کے افراد کی صحت بھی سب سے اچھی تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر گوشت کھانے والوں میں ہلاکت کی شرح متوازن خوراک استعمال کرنے والوں کے برابر تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ نباتات جانوروں کی خوراک کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں اور گوشت خور افراد بالواسطہ طور پر زیادہ سبزیاں، پھل اور اناج وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں۔ تاہم بعض ناقدین نے تحقیق میں صرف دو شہروں کے رضاکار شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتائج تمام علاقوں پر منطبق نہیں کیے جاسکتے، کیونکہ موسم، آب وہوا اور ماحول بھی صحت اور عمر کی طوالت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج غذا سے متعلق امریکی ادارے کے جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔

احد کا معرکہ نبی ؐ کے ’’خود‘‘ کی زبانی

احد کا معرکہ نبی ؐ کے ’’خود‘‘ کی زبانی

- زبیر منصوری
شدید معرکے کے اُس نازک لمحے میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی چوم رہا تھا۔ میں پوری قوت سے آپؐ کے سر مبارک سے چپکا ہوا تھا۔ مجھے اپنی کوئی فکر نہ تھی۔ اگر فکر تھی تو بس یہ کہ اس خوفناک یلغار میں کہیں دشمن کی کوئی ناپاک تلوار آپؐ کے چہرۂ انور تک نہ پہنچ سکے۔ چاہے میرے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں مگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے والے تیروں کے آگے ڈھال بن جاؤں۔ میرے مہربان نبیؐ کی زندگی کا نازک ترین موقع تھا اور مجھے اپنا سب کچھ ان پر قربان کردینا تھا۔ احد کے اس معرکے میں بس 7 انصاری اور 2 قریشی صحابہ ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے رہ گئے تھے۔ مجھے آپؐ کے سر مبارک کی حفاظت کا شرف حاصل تھا۔ میں نے چاروں طرف سے اپنے وجود کو آپؐ سے چمٹادیا تھا اور اپنی ساری توانائی کے ساتھ آپؐ کی حفاظت میں مصروف تھا۔ میرے ساتھ لٹکتی میری کڑیاں آپؐ کے چہرے اور گردنِ مبارک کی حفاظت میں ہمہ تن مصروف تھیں۔ میں اپنے شرف اور فخر پر کتنا ناز کروں کہ میری آغوش میں وہ پیشانی، وہ بال، وہ چہرہ سمٹا ہوا تھا جسے نظر بھر کے دیکھ لینے کی تاب کسی میں نہ ہوتی تھی۔ جس کی روشنی کے سامنے چاند ماند پڑجاتا تھا۔ جسے نسیم سحر جب بوسے لیتی ہوئی گزرتی تھی تو معطر ہوجاتی اور اپنی قسمت پر ناز کرتی تھی۔ آج اُحد کے اس شدید دن اُسی رخ انور کی حفاظت مجھ جیسے حقیر خود کے ذمے تھی۔ مگر آج کے دن بھلا کون میرے شرف کو پہنچ سکتا تھا۔ خالد بن ولیدؓ کا دستہ جب درے پر باقی رہ جانے والے میرے نبیؐ کے اُن 10ساتھیوںؓ کو شہید کرتا ہوا آگے بڑھا تھا تو میں لرز سا گیا تھا کہ اب کیا ہوگا! کافروں کا شکست کھاتا لشکر واپس پلٹ کے آگے بڑھنے لگا تھا۔ مسلمان تتربتر تھے۔ آپؐ کے قریب صرف 9جانثار رہ گئے تھے۔ ’’میری طرف آؤ۔ میں اللہ کا رسول ہوں‘‘ ہاں یہی تو وہ آواز تھی جو آپؐ کے لبوں سے بلند ہوئی تھی۔ پھر اس سے پہلے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار جانثار آواز کی طرف پلٹتے، مشرکین متوجہ ہوگئے اور یک بارگی حملہ کردیا۔ وہ صحابہؓ سے پہلے میرے نبیؐ تک پہنچنے کے لیے جان توڑ کوشش کررہے تھے۔ سخت معرکہ آرائی تھی۔ مجھے پھر آپؐ کے لبوں سے بلند ہوتی ہوئی آواز سنائی دی: ’’کون ہے جو ان کو ہم سے دفع کرے؟ وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا‘‘ آہ پھر کیا تھا، میرے نبیؐ کے گرد حصار بنائے کھڑے صحابیوںؓ میں سے ایک انصاریؓ دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ وہ شہید ہوئے تو دوسرے آگے بڑھے۔ انہوں نے جام جنت نوش کیا تو تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے، ساتویں سب ہی یکے بعد دیگرے جان جانِ آفریں کے سپرد کرتے چلے گئے۔ اب نازک ترین لمحہ تھا۔ دشمن کی یلغار اور صرف 2 قریشی جانثار۔ بدبخت عتبہ آگے بڑھا اور میرے نبیؐ کو پتھر دے مارا۔ آہ! آپؐ پہلو کے بل گر پڑے۔ آپؐ کا نچلا دانت مبارک شہید ہوگیا۔ ایک اور جہنمی عبداللہ بن شہاب نے آگے بڑھ کر آپؐ کی پیشانی زخمی کردی۔ عبداللہ بن قیمہ نے لپک کر کندھے پر تلوار کا وار کیا جس کو میری عزیز دوہری زرہوں نے اپنے سینے پر سہہ لیا، مگر آپؐ تک تلوار کا زخم نہ پہنچنے دیا۔ اس نے پھر تلوار ماری اور میں وہ شدید اذیت کا وقت کیسے بھلا سکتا ہوں جب میری دو کڑیاں اس شدت کی ضرب برداشت نہ کرتے ہوئے آپؐ کے چہرۂ مبارک کے اندر گھس گئیں۔ کاش میں اس لمحے کو کبھی نہ دیکھ پاتا!!! آپؐ کا دانت شہید ہوچکا تھا، سرِمبارک زخمی تھا، خون چہرے پر پھیل رہا تھا، مجھ پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ لہو کے چھینٹے تھے۔ آپؐ خون صاف کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردیا‘‘ مگر یہ کیا! اس غضب کی تکلیف میں بھی رحمت اللعالمینؐ کی زبان سے یہ سخت الفاظ رب العالمین کو پسند نہ آئے اور یہ آیت نازل ہوتی ہے: ’’آپ کو کوئی اختیار نہیں۔ اللہ چاہے تو انہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں‘‘۔ (128/3) اللہ تعالیٰ کا فرمان کیا آیا، سراپا وفادار میرے نبیؐ کی بددعا لمحوں میں دعا کے اندر تبدیل ہوگئی: ’’اے اللہ میری قوم کو بخش دے، اسے ہدایت دے وہ نہیں جانتی۔‘‘ معرکہ جاری تھا۔ اب میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت طلحہؓ اور حضرت سعدؓ تھے۔ میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم خود انہیں تیر دیتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ’’چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر فدا‘‘ ان دونوں شہ زوروں نے دشمن کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔ اکیلے طلحہؓ 11بہادروں کے برابر لڑے۔ ان کی انگلیاں شل ہوگئیں۔ انہوں نے چن چن کر مشرکین کو اپنے تیروں کے نشانے پر رکھ لیا۔ انہیں خود 35 سے زیادہ زخم آئے، مگر بالآخر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان جی داروں نے دشمن کا رخ موڑ ڈالا اور وہ ناکام و نامراد لوٹ گیا۔ میں نبیؐ کے چہرے کی حفاظت پر مامور وہ خوش نصیب خود ہوں جسے آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے خود پہنا تھا۔ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان۔ مگر معزز قارئین! اگر آپ کے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خود پلٹ کر 2012ء کے امتیوں سے یہ سوال پوچھ لے کہ کیا تمہارے دور میں میرے نبیؐ کی ذات اور ان کا دین کسی دشمن کے نرغے میں نہیں ہے؟ کیا کوئی اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے ناپاک عزائم نہیں رکھتا؟ کیا آج وہ لہو رنگ نہیں؟ پھر کیا اسے 7 انصاری اور 2 قریشی صحابہ جیسے لوگ دستیاب ہیں؟ کیا کہیں تمہاری کھیتیوں نے تو تمہیں مصروف نہیں کرلیا؟ کہیں تم نے بیلوں کی دُم تو نہیں پکڑلی؟ کیا تمہارا پیٹ تمہارا قبلہ تو نہیں بن چکا؟ کیا میرے نبیؐ تمہیں پیچھے سے آوازیں تو نہیں دے رہے کہ ’’میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں‘‘ کیا پھر مشرکین کی یلغار نہیں؟ دین محمد لہولہان نہیں؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو آپ کے ’’ترکش کے بہترین تیروں‘‘ کی ضرورت نہیں؟ کیا آج کا عتبہ اور ابن قیمہ یلغار پر یلغار نہیں کررہے؟ دیکھو نبیؐ کے دین کو تمہاری آج ضرورت ہے۔ دیر نہ کردینا۔ طلحہؓ اور سعدؓ کے جانشین بننا… میدانِ احد چھوڑ جانے والوں کے پیروکار نہیں۔ تہذیبوں کی اس کشمکش میں شہادتِ حق کے میدان تمہیں بلاتے ہیں۔ عمل کے بیسیوں میدان تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ اپنے اپنے ترکش کے بہترین تیروں کو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے وقف کردو کہ مہلتِ عمل تھوڑی ہے اور عمرِ رواں کی برف پگھلنے کو ہے۔

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ

اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ

- عابد علی جوکھیو
آپ کا نام عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی اور ابوعبیدہؓ کنیت ہے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے دعوتِ اسلام پر لبیک کہنے میں پہل کی۔ آپؓ ابوبکر صدیقؓ کے اسلام لانے کے دوسرے دن حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور ابوبکر صدیقؓ کے دستِ مبارک پر آپؓ نے اسلام قبول کیا۔ پھر عبدالرحمن بن عوف، عثمان بن مظعون اور ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہم ایک ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کلمۂ حق کا اعلان کیا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ مکہ کی زندگی میں آپ ؓ پر بھی طرح طرح کے مصائب ڈھائے گئے، سختیاں کی گئیں، لیکن آپؓ نے تمام سختیاں جھیلیں۔ آپؓ کو امتِ محمدیہ کا امین ہونے کا لقب حاصل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قریش کے تین آدمی سب سے زیادہ درخشندہ رو، سب سے زیادہ خوش اخلاق اور سب سے زیادہ باحیا ہیں۔ اگر وہ تم سے بات کریں گے تو کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، اور اگر تم ان سے بات کرو گے تو کبھی تمہاری تکذیب نہیں کریں گے۔ وہ ہیں ابوبکر صدیقؓ، عثمان بن عفانؓ، اور ابوعبیدہ بن جراحؓ۔‘‘ جنگ ِبدر کے موقع پر آپؓ کے والد عبداللہ بن جراح کفار کی صفوں میں شامل تھے، جبکہ ابوعبیدہؓ مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ آپؓ کے والد بار بار آپ کے سامنے مقابلے کے لیے آتے لیکن آپؓ ان سے مقابلہ کرنے سے کتراتے رہتے، بالآخر آپ کے والد عبداللہ نے آپؓ کے تمام راستے بند کردیے کہ ان کی ایمانی قوت و غیرت کا امتحان لیں سکیں۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ نے دیکھا کہ اب ان سے مقابلے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تو آپؓ نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے والد کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے کردیے۔ اس موقع پر حضرت ابوعبیدہؓ اور ان کے والد کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ) ’’تم کبھی بھی یہ نہ پائو گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہلِ خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو پکا کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان لوگوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو! اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (المجادلہ: 22) حضرت سعید بن مسیبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوعبیدہؓ اردن میں طاعون میں مبتلا ہوئے تو حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میں تم لوگوں کو ایک وصیت کرتا ہوں، اگر تم لوگوں نے اسے مان لیا تو ہمیشہ بھلائی میں رہوگے۔ نمازیں پڑھتے رہنا، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا، صدقہ کرنا، حج اور عمرہ کرنا، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے رہنا، اپنے امراء کو نصیحت کرنا اور امراء کے پاس آمد و رفت زیادہ نہ رکھنا۔ سنو! دنیا تم لوگوں کو موت سے غافل نہ کردے۔ اگر کسی آدمی کو ہزار سال کی عمر بھی دی جائے لیکن اُس کے لیے اس جگہ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا جہاں تم دیکھ رہے ہو کہ میں جارہا ہوں۔ اللہ پاک نے اولادِ آدم کے لیے موت لکھ دی ہے، پس سبھی مریں گے۔ ان میں ہوشیار و دانا وہی ہے جو اس کے بندوں میں سے اپنے رب کا زیادہ فرماں بردار ہے، اور یوم آخرت کے لیے عمل کرنے میں پیش پیش ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اے معاذ بن جبل! لوگوں کو نماز پڑھائو‘‘۔ یہ کہہ کر آپؓ کا انتقال ہوگیا۔ اللہ ان کے حال پر رحم فرمائے۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت معاذؓ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر کہا: ’’اے لوگو! اللہ سے اپنے گناہوں پر توبہ کرو، اس لیے کہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ پاک سے ملے، اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کی مغفرت کردے۔ جس کے اوپر قرضہ ہو وہ اس کو ادا کردے، اس لیے کہ بندہ قرض کے معاملے میں پکڑا جائے گا۔ تم میں سے جس کسی نے اپنے بھائی کو چھوڑ رکھا ہو (ناراض ہو) اس سے جا ملے اور صلح کرلے، کسی مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔ اے مسلمانو! ہم ابھی ایسے شخص کی وفات سے افسردہ ہوئے ہیں جو بالکل صاف دل والا، دھوکا نہ دینے والا، عام لوگوں سے زیادہ محبت کرنے والا اور تمام لوگوں کو نصیحت کرنے والا تھا، میں نے ان سے زیادہ ایسے عمل کرنے والا شخص نہیں دیکھا۔ مسلمانو! ان کے لیے نزولِ رحمت کی دعا کرو اور ان کے جنازے کی نماز کے لیے جمع ہوجائو۔‘‘ (الطبری) حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ بہادر اور نڈر مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ اس دنیا کی رنگینیوں اور رونقوں سے بھی کوسوں دور رہے۔ آپؓ ایک عظیم سپہ سالار تھے لیکن آپؓ کی زندگی انتہائی سادگی سے گزری۔ آپؓ نے کبھی بھی دنیوی عیش و آرام کو ترجیح نہ دی۔ بڑی بڑی فتوحات اور مال غنیمت کی فراوانی آپؓ کو کچھ بھی متاثر نہ کرسکی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جو بھی مال عنایت کرتے آپؓ اسے اللہ کے بندوں میں خرچ کردیتے۔ حضرت عمرؓ نے آپؓ کو کئی مرتبہ مال دیا کہ آپؓ اس کے ذریعے اپنی حالت کو بہتر بنا سکیں، لیکن آپؓ بجائے اس مال کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے، اللہ ہی کی راہ میں دے دیتے۔ بیت المقدس کی فتح عظیم کے وقت بھی آپؓ کا خیمہ دنیوی عیش و مسرت کی چیزوں سے خالی تھا۔ جب حضرت عمرؓ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر وہاں گئے تو کئی لوگوں نے امیرالمومنین کی دعوت کی۔ ایک موقع پر امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے کہا کہ بھائی! یہاں سب لوگوں نے میری دعوت کی ہے لیکن آپؓ نے نہیں کی؟ اس پر حضرت ابوعبیدہؓ نے جو اُس وقت اسلامی فوج کے سپریم کمانڈر تھے، کہا کہ اے امیرالمومنین! آپؓ کو میرے گھر میں سوائے آنسوئوں کے کچھ نہ ملے گا۔ اس کے باوجود حضرت عمرؓ نے ان سے دعوت لی۔ اور جب حضرت عمرؓ ان کے خیمے میں گئے تو آپؓ نے اپنے خیمے کے ایک کونے میں سے سوکھی روٹی کو چند ٹکڑے نکالے اور ان کو پانی میں بھگو کر امیرالمومنین کے سامنے پیش کیا۔ یہ دیکھ کر امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور آپؓ رو پڑے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوعبیدہؓ نے ان سے مخاطب ہوکر کہا: میں نے آپ کو کہا تھا کہ میرے خیمے میں آپؓ کو سوائے آنسوئوں کے کچھ نہ ملے گا۔ حضرت مالک الدارؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے چار سو دینار لیے اور ان کو ایک تھیلی میں رکھ کر غلام سے کہا کہ انہیں حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے پاس لے جائو، پھر تھوڑی دیر کے لیے انہیں چھوڑ دینا تاکہ تم دیکھ سکو کہ وہ ان کا کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ غلام وہ رقم لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ امیر المومنین فرما رہے ہیں کہ آپؓ انہیں اپنی ضروریات پر خرچ کریں۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے دعا دی کہ اللہ ان کو اپنا دیدار نصیب فرمائے اور ان کے حال پر رحم فرمائے، اس کے بعد اپنی خادمہ سے فرمایا کہ یہ سات تو فلاں کے پاس لے جائو اور یہ پانچ فلاں کے پاس، اور یہ پانچ فلاں کے پاس… یہاں تک کہ وہ ساری رقم ختم کردی۔ وہ غلام حضرت عمرؓ کے پاس واپس آیا اور آپؓ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ (الترغیب) حضرت اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنی تمنا و خواہش کا اظہار کرو۔ ایک نے کہا کہ میرے پاس یہ کوٹھری بھر درہم ہوتے جنہیں میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ تم لوگ اپنی کسی اور خواہش کا اظہار کرو، دوسرے نے کہا کہ میری تمنا یہ ہے کہ گھر بھر سونا ہوتا اور میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ اپنی خواہش کا اظہار کرو۔ ایک اور ساتھی نے کہا کہ اس گھر بھر موتی جواہرات ہوتے (یا اس جیسی کسی اور چیز کی تمنا کا اظہار کیا) اور میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمرؓ نے پھر کہا کہ اپنی تمنا کا اظہار کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب ہم کسی تمنا کا اظہار نہیں کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: لیکن میں اس بات کا خواہش مند ہوں کہ اس گھر بھرکر ابوعبیدہ بن جراحؓ، معاذ بن جبلؓ اور حذیفہ بن یمانؓ جیسے آدمی ہوتے اور انہیں میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے عامل بناتا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت حذیفہؓ کی طرف مال بھیجا اور لے جانے والے سے یہ فرمایا کہ دیکھنا وہ اس مال کا کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ان کے پاس مال پہنچا تو انہوں نے فوراً تقسیم کردیا، اس کے بعد حضرت معاذ بن جبلؓ کے پاس مال بھیجا اور انہوں نے بھی لگے ہاتھوں تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے پاس مال بھیجا اور کہا کہ دیکھنا وہ کیا کرتے ہیں؟ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تم سے جو بات کرنی تھی وہ میں نے کہہ دی۔ (الطبرانی) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب عام رماد (ایک مشہور قحط سالی کا نام ہے) ہوا اور زمین خشک ہوگئی تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے ایک کام کرایا۔ جب آپؓ یہ کام کرکے واپس لوٹے تو حضرت عمرؓ نے آپ کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے، حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے کہا کہ اے ابن خطابؓ! میں نے تمہارے لیے یہ کام نہیں کیا، میں نے تو اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور اس کی اجرت کے طور پر آپؓ سے کچھ بھی نہ لوں گا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ ہم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے کاموں کے لیے بھیجا ہے اور ہم کو عطیات بھی دیے ہیں، میں ان کے لینے کو برا سمجھا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ ہم ان کا دیا ہوا قبول نہ کریں، لہٰذا اے ابن آدم! اسے قبول کرلو اور اس کے ذریعے اپنے دین اور دنیا میں بہتری لائو۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ نے اسے قبول کرلیا۔ (بیہقی) مسلم بن اکیس مولیٰ (غلام) عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے ملنے والوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوعبیدہؓ کو روتا ہوا پایا تو دریافت کیا کہ اے ابوعبیدہؓ! آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟ حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا: میں اس لیے روتا ہوں کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز ان فتوحات کا تذکرہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ عنقریب مسلمانوں کو عطا کرے گا اور ان کے مالِ غنیمت کا بھی تذکرہ کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کی فتح کا بھی تذکرہ فرمایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوعبیدہ! اگر تم کچھ دن زندہ رہے تو تمہارے لیے تین خادم کافی ہوں گے، ایک جو تمہاری خدمت کے کام انجام دے، اور ایک خادم جو تمہارے ساتھ سفر میں رہے، اور ایک خادم جو تمہارے گھر کی خدمت کرے، اور تمہارے پاس آیا جایا کرے۔ اور گھوڑوں میں سے تمہارے لیے تین گھوڑے کافی ہیں، ایک تمہارے سفر کے لیے اور ایک تمہاری بار برداری کے لیے اور ایک تمہارے غلام کے لیے۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد دیکھ رہا ہوں کہ میرا گھر غلاموں سے بھرا ہوا ہے، اور جب اصطبل پر نظر جاتی ہے تو وہ اونٹوں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائوں گا؟ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو وصیت فرمائی تھی کہ تم میں سے مجھے زیادہ محبوب اور تم میں سے مجھ سے زیادہ قریب وہ آدمی ہوگا جو مجھ سے اسی حال میں ملے جس حال پر میں اسے چھوڑ کر جارہا ہوں۔ (الترغیب) حضرت عروہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ حضرت ابوعبیدہؓ کے پاس تشریف لائے۔ آپؓ اپنے کجاوے کی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور گٹھری کا تکیہ بنا رکھا تھا۔ حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایاکہ کیا تم نے وہ نہیں لیا جو تمہارے ساتھیوں نے لیا ہے؟ کہنے لگے: اے امیرالمومنین! یہ بستر مجھے میری خواب گاہ (قبر) تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ حضرت معمرؓ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ ملک شام تشریف لائے تو وہاں بڑے بڑے لوگ اور عوام الناس آپ سے ملاقات کے لیے آئے، حضرت عمرؓ نے دریافت کیا: میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا: کون بھائی؟ آپؓ نے فرمایا: ابوعبیدہؓ! لوگوں نے کہا کہ ابھی آپ کے پاس آئیں گے۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ آپؓ کے پاس آئے تو آپؓ سواری پر سے اترے اور ان سے معانقہ کیا، اس کے بعد ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گھر میں ان کی تلوار، ان کی ڈھال اور ان کے کجاوے کے علاوہ اور کچھ نہ دیکھا۔ (ابو نعیم) حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے اپنی زندگی سادگی سے گزاری۔ فتوحات اور مالِ غنیمت کی کثرت کی وجہ سے اکثر مسلمانوں کا طرز زندگی بدل چکا تھا، لیکن ان تمام مالی آسودگیوں اور فراوانیوں نے آپؓ کو بالکل بھی متا ثر نہیں کیا۔ مسلمانوںکے سپہ سالار کی حیثیت سے جب بیرونی وفود آپؓ سے ملنے آتے تو انہیں یہ پہچاننے میں مشکل ہوجاتی کہ مسلمانوں میں سے ان کا سپہ سالار کون ہے۔ جب حضرت عمر فاروقؓ ملک شام کے سفر کو گئے تو وہاں مسلمانوں کو اعلی لباس میں دیکھ کر سخت غصہ ہوئے اور اپنے گھوڑے سے اترکر ان پر غصہ کرکے سوال کیا کہ کیا تم پر اتنی جلد عجمیوں کا اثر ہوگیا ہے؟ لیکن یہیں انہوں نے امینِ امت اسلامی فوج کے سپہ سالار کو دیکھا کہ وہ اپنے اسی معمولی عربی لباس میں تھے، ان کے گھر جاکر دیکھا تو وہاں امیرالمومنین کو سوائے تلوار، ڈھال اور اونٹ کے کجاوے کے کچھ نہ ملا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کچھ سامانِ راحت کا بھی انتظام کرلیں۔ لیکن آپؓ نے بے نیازی کے عالم میں جواب دیا کہ: امیر المومنین میرے لیے یہی کافی ہے

روزہ اور جدید طبی تحقیقات

روزہ اور جدید طبی تحقیقات

- حکیم قاضی ایم اے خالد

خالق کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہے۔ نوری یعنی فرشتے‘ ناری یعنی جن اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔ دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔ جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلہ پھل اور پھول زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔ مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی مسیر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔ دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میں بغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کا طمع کیے تعمیلاً روزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصاً ڈاکٹر مائیکل‘ ڈاکٹر جوزف‘ ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر‘ ڈاکٹر ایم کلائیو‘ ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ‘ ڈاکٹرجیکب‘ ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ‘ ڈاکٹر برام جے‘ ڈاکٹر ایمرسن‘ ڈاکٹر خان یمرٹ‘ ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیں لیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طلب نے ترقی کی‘ دیگر بدن انسانی پر اس کے فوائد آشکار ہوتے چلے گئے اور محقق اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے۔ آیئے اب جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں دیکھیں کہ روزہ انسانی جسم پر کس طرح اپنے مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔ روزہ اور نظام ہضم نظام ہضم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اہم اعضاء جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود‘ زبان‘ گلا مقوی نالی (یعنی گلے سے معاہدہ تک خوراک لے جانے ولای نالی) معدہ‘ بارہ انگشتی‘ آنت‘ جگر اور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام اعضاء اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے موجودہ لائف اسٹائل سے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دبائو‘ جنک فوڈز اور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانوں کی وجہ سے متاثر ہوجاتا ہے۔ روزہ اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کردیتا ہے۔ اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کو نظام ہضم میں حصہ لینے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں۔ روزہ کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فوراً مصروف عمل ہوجا ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ اس طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن جو جسم کے محفوظ رکھنے والے مدافعی نظام کو تقویت دیتا ہے‘ کی پیداوار پر صرف کرتا ہے۔ رمضان المبارک میںموٹاپے کے شکار افراد کا نارمل سحری اور افطاری کرنے کی صورت میں آٹھ سے دس پونڈ وزن کم ہوسکتا ہے جبکہ روزہ رکھنے سے اضافی چربی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ خواتین جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے۔ یاد رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔ روزہ سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے۔ نظام ہضم کی رطوبت خارج کرنے کا عمل دماغ کے ساتھ وابستہ ہے۔ عام حالت میں بھوک کے درمیان یہ رطوبتیں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں جس سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ روزے کی حالت میں دماغ سے رطوبت خارج کرنے کا پیغام نہیں بھیجا جاتا کیونکہ دماغ میں خلیوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ روزے کے دوران کھانا پینا منع ہے۔ یوں نظام ہضم درست کام کرتا ہے۔ روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے۔ اس کے اثر سے معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہوجاتی ہیں جس سے تیزابیت جمع نہیں ہوتی اور اس کی پیداوار رک جاتی ہے۔ معدہ کے ریاحی درد میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہوجاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے۔ روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کے شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے۔ جیسے انتڑیوں کا جال‘ روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔ روزہ اور دوران خون روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاً دل کے لیے مفید چکنائی ’’ایچ ڈی ایل‘‘ کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ’’ایل ڈی ایل‘‘ اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطحیں بھی معمول پر آجاتی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غزائی بے اعتدالیوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزہ کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے (میٹابولزم) کی شرح بھی بہت بہتر ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ دوران رمضان چکنائی والی اشیاء کا کثرت سے استعمال فوائد کو مفقود کرسکتا ہے۔ دن میں روزے کے دوران خون کی رفتار میں کمی ہوجاتی ہے۔ یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دبائو ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے۔ شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے کا پوری طرح تحلیل نہ ہوسکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غزائیت کے تمام ذرے تحلیل ہوچکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیوارون پر چربی یا دیگر اجزا جم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے۔ روزہ کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہوجاتا ہے اور خون کی پیدائش میں اضافہ ہوجاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنی اندر زیادہ خون کی کمی دور کرسکتے ہیں۔ روزہ اور نظام اعصاب روزہ کے دوران بعض لوگوں کو غصے اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس قسم کی صورتحال انانیت یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پُرسکون اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ نیز عبادات کی بجاآواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع و خضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہوکر ختم ہوجاتی ہیں۔ روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہوجاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسان تحت الشعور جو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہوجاتا ہے اور اعصابی نظام سے ہر قسم کے تنائو اور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ روزہ اور انسانی خلیات روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم رکھنا ہے۔ چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں ایپی تھیلیل سیل کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے بڑی حد تک آرام و سکون ملتا ہے جس کی وجہ ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خلیاتیات کے علم کے نکتہ نظر سے یہ کہا جاسکتاہے کہ لعاب بنانے والے غدود، گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کرسکیں اور مزید کام کرنے کے لیے اپنی توانائیوں کو جلادے سکیں۔
(بشکریہ: مرحبا صحت)
٭٭٭
روزہ اور احتیاطی تدابیر
یہ یاد رکنا چاہیے کہ مندرجہ بالا فوائد تب ہی ممکن ہوسکتے ہیں جب ہم سحر و افطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔ خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن‘ تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے‘ پکوڑے‘ کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزہ کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائد بھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہٰذا فطاری میں دسترخوان پر دنیا جہاں کی نعمتیں اکٹھی کرنے کے بجائے افطار کسی پھل کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے۔ اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا۔ افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کے بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں۔ ان شاء اللہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد سے یقینا ہم روزے کے جسمانی و روحانی فوائد حاصل کرسکیں گے۔
٭٭٭
روزہ اور غیرمسلموں کے انکشافات
اسلام نے روزہ کو مومن کے لیے شفا قرار دیا اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی توسائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے۔ ٭… آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مور پالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولا دیا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف روزے کا فارمولا ہی دے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر اس کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی۔ میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہیے۔ پھر میں روزے مسلمانوں کے طرز پر رکھنا شروع کیے میں عرصہ دراز سے ورم معدہ میں مبتلا تھا۔ کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا اور ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی۔ ٭… پوپ ایلف گال ہالینڈ کے سب سے بڑے پادری گزرے ہیں۔ روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی محسوس کی۔ میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتائوں لیکن میں نے یہ اصول وضع کرلیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لاعلاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں۔ میں نے شوگر‘ دل اور معدہ کے امراض میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے۔ شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی۔ ان کی شوگر کنٹرول ہوگئی۔ دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا۔ سب سے زیادہ افاقہ معدے کے مریض کو ہوا۔ ٭… فارماکولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا۔ اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزا جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور پر معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے۔ ٭… مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے۔ روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دبائو کو قبول کرنے کی صلاحیت پالیتا ہے۔ روزہ دار کو جسمانی کھینچائو اور ذہنی تنائو سے سامنا نہیں پڑتا۔ ٭… جرمنی‘ امریکا‘ انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک‘ کان‘ گلے کے امراض بہت کم ہوجاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ و جگر کے امراض کم ہوجاتی ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لیے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے۔ غرضیکہ روزہ انسانی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ روزہ شوگر لیول‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اعتدال لاتا اور اسٹریس واعصابی اور ذہنی تنائو ختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتا ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔ روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیں جس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے اور انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں۔ روزہ موٹاپا اور پیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں مزید بیسیوں امراض کا علاج بھی ہے۔

امن کا مہینہ رمضان المبارک

امن کا مہینہ رمضان المبارک

- محمد آصف اقبال

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر کام، اس کے لیے ہے، مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ اس دن فحش بات نہ کرے، شور نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی لڑے تو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزے دار کے منہ کی مہک اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب افطار کرتا ہے تو افطار پر خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے پر خوش ہوگا‘‘ (الفتح الربانی: ترتیب مسند احمد)۔ حدیث نبویؐ کی روشنی میں رمضان کے مہینہ کی فضیلت، روزہ کی اہمیت اور اس کے فوائد، اللہ سے قربت اور اس کے مخصوص حکم کی بجاآوری کے نتیجہ میں رب العالمین کی تجلی اور اس سے حاصل ہونے والی لا محدود خوشی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مسلمان کے لیے روزہ نہ صرف عبادت ہے بلکہ اس کی فلاح، ترقی اور ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ روزہ کے دوران اس کی شخصیت خود اس کے لیے اور عالم انسانیت کے لیے امن و امان کا ذریعہ بنتی ہے وہیں اس میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ امن و امان کے قیام کے بغیر انسان کا ارتقاء رک جاتا ہے، وہ ترقی نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اللہ کا قرب حاصل کر پاتا ہے۔ حدیث میں یہ بات بہت صراحت کے ساتھ کہی گئی ہے کہ جب تم روزہ کی حالت میں ہو اور کوئی تم سے بد کلامی کے ساتھ پیش آئے یا لڑائی کرے تو اس سے کہہ دیا جائے کہ میں روزہ سے ہوں۔ روزہ سے ہوں یعنی اس حالت میں نہیں ہوں کہ تم سے تمہارے اس غلط رویہ کا غلط انداز سے جائز بدلہ لوں بلکہ بہتر یہ ہے کہ تم روزہ جیسی مخصوص عبادت میں خلل نہ ڈالو۔ میرا تعلق اس وقت راست اللہ سے منسلک ہے اور میں دوران ِعبادت اس تعلق کو منقطع نہیں کرنا چاہتا۔ روزہ دن بھر کی عبادت: ہم جانتے ہیں کہ جب بندہ نماز میں اللہ کے سامنے ظاہری و باطنی طور پر تعلق استوار کر لیتا ہے تو دورانِ نماز وہ لوگوں سے بات چیت نہیں کرتا، اللہ کی جانب رخ کرنے کے بعد اِدھر اُدھر نہیں دیکھتا، اگر کوئی بدکلامی کرنے یا لڑنے جھگڑنے پر آجائے تو بحالت نماز اس سے پرہیز کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح روزہ کی حالت میں بھی بندہ عبادت میں ہوتا ہے، اللہ سے اس کا تعلق استوار ہو چکا ہوتا ہے، لہٰذا روزہ کی حالت میں وہ لڑائی جھگڑے، بدکلامی وغیرہ سے پرہیز کرتا ہے اور اپنی عبادت میں خلل ڈالنے والوں سے نرمی اختیار کرتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ میں روزہ سے ہوں یا میں روزہ دار ہوں۔ سلامتی ہو تم پر اور اللہ تعالی تم کو ہدایت عطا فرمائے۔ اگر ایک مرتبہ ایسا کرنے پر وہ اپنے رویہ سے گریز نہیں کرتا تو اس کو دوبارہ متوجہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روزے کے ڈھال ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روزہ نفسانی شہوت سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ روزہ کا مقصد صرف کھانا پینا ترک کر دینا نہیں، بلکہ دوسرے گناہوں اور اخلاقی خرابیوں سے بھی بچانا ہے۔ حدیث میں روزے کے ڈھال ہونے کا بیان ہے اور کہا گیا کہ جب تم روزے سے ہو تو فحش بات نہ کرو اور شور و شغب نہ کرو۔ پھر جب تم کو پرہیز کرنے کی عادت ہو جائے گی تو یہی تمہاری ڈھال ہوگی جو تمہاری حفاظت کرے گی ہر اس برائی سے جس سے اللہ اور اس کا رسولؐ منع کرتا ہے۔ رمضان کے عشروں کی حقیقت: رمضان کے مہینہ کو اللہ رب العزت نے تین عشروں میں تقسیم کیا ہے۔ اور ہر عشرہ (دس دن) کی خاص فضیلت رکھی ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا عذاب جہنم سے نجات کا ہے۔ پہلے عشرہ کی ابتدا ہی سے اللہ رب العالمین کی بے انتہا رحمتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جس کا ظاہری مشاہدہ اس طرح ہوتا ہے کہ امت مسلمہ سے تعلق رکھنے والا ہر عام و خاص بندہ اللہ کی عبادت میں ہمہ تن مصروف ہو جاتا ہے۔ اس کو اس مشینی دور میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور انسان مادّی ترقی کے لیے جنونی حد تک سرگرم عمل ہے، اللہ تعالیٰ اس کو توفیق بخشتا ہے کہ وہ اس بھنور سے نکل کر نیکی کے موسمِ بہار میں عبادت کی جانب راغب ہو، نیکی کے کام انجام دے، روزے داروں کا روزہ کھلوائے، برائیوں اور معصیت کے کاموں سے پرہیز کرے، غریبوں، مسکینوں، حاجتمندوںکی مدد کرے، بے انتہا فیاضی کا مظاہرہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں سمیٹتا چلا جائے۔ اس طرح جب وہ ان کاموں میں مصروف ہو جائے گا اور اللہ کی عبادت کو شعوری طور پر انجام دینے والا بن جائے گا تو نہ صرف رحمت بلکہ اس کی مغفرت بھی کی جائے گی۔ صراط مستقیم پر خود چلنے اور معاشرہ میں لوگوں کو تعاون کرنے کے نتیجہ میں جو معاشرہ وجود پذیر ہوتا ہے اس کا لازمی تقاضہ ہے کہ ایسے افراد کو جہنم سے بچا لیا جائے۔ مزید اس آخری عشرہ میں شب قدر کی تلاش، اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی، آئندہ اپنی زندگی کو اللہ کے بتائے طریقہ پر استوار کرنے کا عہد، قرآنِ حکیم کا مطالعہ، یہ سب مل کر اس کے لیے نجات کا سامان بہم پہنچانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کے مہینہ کے اختتام پر اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ تقویٰ کیا ہے؟ زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے، دونوں طرف افراط و تفریط، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات، گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خار دار جھاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعتِ حق کی راہ سے ہٹ کر بد اندیشی و بد کرداری کی جھاڑیوں میں نہ الجھنا، یہی تقویٰ ہے اور اس ہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ ایک مقوی دوا ہے جس کے اندر خدا ترسی و راست روی کو قوت بخشنے کی خاصیت ہے۔ مگر فی الواقع اس سے یہ قوت حاصل کرنا انسان کی اپنی استعداد پر موقوف ہے۔ اگر آدمی روزے کے مقصد کو سمجھے اور جو قوت روزہ دیتا ہے اس کو لینے کے لیے تیار ہو اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوف خدا اور اطاعتِ امر کی صفت کو نشو و نما دینے کی کوشش کرے تو یہ چیز اس میں اتنا تقویٰ پیدا کر سکتی ہے کہ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سال کے باقی گیارہ مہینوں میں وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پر دونوں طرف کی خار دار جھاڑیوں سے اپنے دامن کو بچائے ہوئے چل سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے روزے کے نتائج (ثواب) اور منافع (اجر) کی کوئی حد نہیں۔ لیکن اگر وہ اصل مقصد سے غافل ہو کر محض روزہ نہ توڑنے ہی کو روزہ رکھنا سمجھے اور تقویٰ کی صفت حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہ کرے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے نامۂ اعمال میں بھوک پیاس اور رتجگے کے سوا اور کچھ نہیں پا سکتا۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے، ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ مستثنٰی ہے، وہ میری مرضی پر موقوف ہے، جتنا چاہوں اس کا بدلہ دوں‘‘ (متفق علیہ)۔ عبادات کی حکمت: اسلام میں جو اعمال اور عبادات فرض یا واجب کی گئی ہیں ان میں حکمت پوشیدہ ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے بندوں پر خصوصی مہربانی کرتے ہوئے ان کے لیے وہی اصول و ضوابط مقرر فرمائے ہیں جو بندے کی کامیابی اور سعادت دارین کا موجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں مقبول عبادت کا سب سے اہم اور بنیادی قاعدہ خلوصِ نیت اور حضور قلبی ہے۔ اگر عبادت کا بنیادی محرک رضائے الٰہی نہ ہو تو اس عبادت کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ثواب بلکہ حدیث نبویؐ کے مطابق: کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔ دوسری اہم بات یہ کہ اسلام عبادت گزاروں کو مشقت میں نہیں ڈالتا بلکہ عبادات میں آسان شرائط کے ساتھ رخصت بھی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بیمار ہے تو اسے روزہ نہ رکھنے کی آزادی ہے، کہ تندرستی کے بعد رکھے یا اگر تندرستی کی امید نہیں ہے تو فدیہ ادا کرے (یہ بھی یاد رہے کہ بلا عذر عبادات سے محرومی ابدی محرومی ہے)۔ آخری بات یہ کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان تمام عبادات کے گہرے اثرات مرتب ہونے چاہیں۔ یہ فرائض محض عبادت برائے عبادت نہیں، بلکہ اُخروی فلاح کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی پر ان کے اثرات و فوائد بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اسلام نے کوئی ایسا عمل فرض نہیں کیا جس کے نتائج انسان کی عملی زندگی میں ظاہر نہ ہوں۔ شریعت نے اگر کسی چیز کا حکم دیا ہے تو وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے اور بندوں کی زندگی پر اس کا براہ راست مثبت اثر ہوتا ہے، اور اگر کسی عمل سے منع کیا ہے تو اس لیے کہ وہ انسانی زندگی کے لیے ضرر رساںہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’(پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر، نبی امی ؐ کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور بندشیں کھولتا ہے، جن میں جکڑے ہوئے تھے‘‘ (اعراف:۷:۱۵۷)۔
رمضان کا پیغام: معلوم ہوا کہ یہ مہینہ ہدایت حاصل کرنے اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونے کا ہے۔ اس ماہ مبارک میں معاشرہ میں ایک ایسی فضاء قائم ہو جاتی ہے جس میں ہر طرف بندے سکون و عافیت اور محبت و ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بدکلامی سے گریز کرتے ہیں، آپس میں ملتے جلتے اور روزہ داروں کے افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کی نہ صرف تلاوت کرتے ہیں بلکہ اس کا شعوری طور پر مطالع کرتے ہیں۔ قرآنی احکامات کو اپنی زندگی میں رائج کرتے ہیں اور تقویٰ کی صفت سے ہمکنار ہونے کی مکمل سعی و جہد کرتے ہیں۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں لے آتے ہیں جو اسلامی معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ برادرانِ وطن کے لیے بھی یہ پیغام پیش کرتا ہے کہ اگر اسلام کے مطابق زندگی کو ڈھال لیا جائے تو یہ سکون و عافیت کی فضاء جو چہار جانب محسوس کی جارہی ہے وہ آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہ سکتی ہے بشرطیکہ جس طرح رمضان میں شب و روز گزارے ہیں اسی طرح سال کے گیارہ مہینوں میں بھی ان پر عمل کیا جاتا رہے۔

Saturday, 28 July 2012

برما میں خون کی ہولی


برما میں خون کی ہولی

Anaiza Ch

میرے قلم اٹھانے کا مقصد کسی ذات پہ تنقید نہیں، کسی مذہب پر تذکرہ یا کسی کلچر کو فروغ دینا نہیں بلکہ میں مخاطب ہوں اپنی قوم کے ان تمام افراد سے جو مسلمان ہیں اور جس کے عوض ان پہ کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں حق کیلئے لڑنے کی ذمہ داری، باطل کے مخالف کھڑے ہونے کی ذمہ داری، زیادتی کے خلاف احتجاج کی ذمہ داری، مظلوم کے لئے آواز اٹھانے کی ذمہ داری ، ظالم کے جبر کو مات دینے کی ذمہ داری۔

میں مخاطب ہوں ان تمام مسلمانوں سے جن کا عقیدہ اسلام ہے جو صاحبِ ایمان ہیں جوخوف خدارکھتے ہیں جن کے دلوں میں رحم ہے ان کے سامنے میرا مقصد ‘اس سوال کو اٹھانا ہے جس کی شدت سے میرا جسم لرز جاتا ہے جو میرے ذہن میں ابھرتے ہی میرے جگر کو چیر جاتا ہے جو میرے سینے میں کسی آبلے کی طرح دکھ رہا ہے جس کا درد مجھے اس بات پہ اکساتا ہے کہ میں آواز اٹھاؤں اس خون کی ہولی کے خلاف جو برما کے مسلمانوں کے ساتھ کھیلی جارہی ہے۔ جن کا مسلمان ہونا ہی ان کے لئے جرم ٹھہرا۔تاریخ گواہ ہے ایسے بے شمار عظیم مسلمانوں کے خون کی جنہوں نے اپنے خون سے اسلام کو سینچا اور بلند رکھا۔ ایسے تمام عناصراور ناپاک قوتیں جو اسلام اور اس سے جڑے مسلمانوں کے خون سے کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں وہ اپنے ناپاک مقاصد میں نہ آج تک کامیاب ہیں نہ تھیں اور نہ کبھی کل ہوں گی۔

برما(میانمر)جس کی کل آبادی پچہتر ملین ہے جس میں سے مسلم آبادی صرف اعشاریہ سات ملین ہے۔ برما (میانمر) میں بدھ ازم کی اکثریت ہے۔ زیادہ تر آبادی رکھائین، شان مون اورکیرن وغیرہ کی ہے۔ برما مسلمانوں کے آباؤاجداد زیادہ تر ترکی، ارب،فارسی،چین اور انڈیا سے تعلق رکھتے تھے جن سے برمامسلمانوں کی نسل کشی ہوئی۔ برما کا اکثریتی علاقہ ارکان ہے جسے1962 میں آرمی نے قبضے میں لے لیا تھا اور تب سے اب تک وہاں کے مسلمان مختلف مظالم کا شکار ہیں حتیٰ کے وہاں کے مسلمانوں کے فون استعمال کرنے پر بھی پابندی ہے برما میں مسلمانوں کے لئے لفظ’شہری’ استعمال کرنا وہاں کسی مزاح سے کم نہیں جس کاثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ وہاں کی نوبل انعام یافتہ” آنگ سا ن سو” کہتی ہیںکہ وہ برما کے مسلمانوںکو برما کا شہری تصورنہیںکرتیں۔ لندن سکول آف اکنامکس یوکے کے ایک دورے پہ انہوں نے بیان دیا کہ”رونگھیا مسلمان مستقل رہائشی تو مانے جاسکتے ہیں مگر شہری نہیں”۔


برما کے لبرل لوگوں کی رائے جب وہاں کے مسلمانوں کے لئے ایسی ہے تو پھر مجھے ا ور آپ کو یہ سوچنے اور اندازہ لگانے میں وقت نہیں لگے گا کہ وہاں کے عام لوگ پھر برما مسلمانوں کیلئے کیا ہی اچھی رائے رکھتے ہوں گے اور انہیں کیا ہی خوب عزت دیتے ہوں گے۔

صرف اتنانہیں برمامسلمانوں کے لئے برماحکومت نے وائٹ کارڈ جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی حیثیت مہمان شہری کی ہو گی یہاں تک کہ شادی جو ہر انسان کابنیادی حق ہے جس کی اجازت دنیا کا ہر مذہب دیتا ہے اس کے لئے بھی برما مسلمانوں کیلئے انوکھی پابندی عائد ہے وہ شادی کرنے سے پہلے برما حکومت سے اجازت لیں۔ اس کے بغیر وہ شادی نہیں کر سکتے اور برما کی شاطر حکومت کے سامنے جب ایسی کوئی درخواست پیش کی جاتی ہے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کئی سال تک اسے منظور نہیں کیا جاتا۔ تاکہ مسلمانوں کی نسل کشی کو روکاجاسکے جس کے نتیجے میں برما مسلمانوں کی بیٹیاں ساری زندگی گھر ہی رہ جاتی ہیں اور ایسے وہ
جون2012ء سے شروع ہونے والی اس خون کی ہولی نے کئی بے گناہ مسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے جن کی جانیں اتنی ہی قیمتی تھیںجتنی میری یا آپ کی۔3جون2012ء کو گیارہ معصوم مسلمان جو بس میں سوارہو کررونگھیا جا رہے تھے انہیں بس سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کیسا قہر ہے یہ؟ کیا آپ کا دل نہیں کانپتا؟ ذرا سوچئے اور اندازہ لگائیے ان مسلمانوں کے احساسات کا جن کی معصوم اور نازک بیٹیوں کی عزت ان کے سامنے پامال کردی جاتی ہے جن مسلمانوں کی غیرت کو چند لمحوں میں پاؤں تلے روند ھ دیا جاتا ہے جن کے تن سے لباس نوچ لیا جاتا ہے جن کے سر سے چھت کھینچ لی جاتی ہے وہ سب ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ذمہ دار کون؟قصور وار کون؟خون کی ہولی کب تک؟ ہمارا خون کس کے سر ؟کیا مسلمان ہونا جر م ٹھہرا؟ ذرہ سوچئے یہ وہی انسان ہیں جس کے بارے میں ”علی ارشد گیلانی” کے ایک کلام میں کہتے ہیں کہ

چاک آنکھوں سے عجب خواب ِ پریشان دیکھا
گویا ہر شخص کو دست و گریباں دیکھا
میں نے تہذیب و تمدن کے گراں ملبے پر
رات ابلیس کو بحالت ِ خندان دیکھا
جس کے قدموں پہ فرشتوں نے جبیں رکھی تھی
بے کفن پڑا چوراہے میں وہ انساں دیکھا
میں نے شو رِ رودادِ ستم کیا تو بہ ت
شاہ جی جس کو بھی دیکھا انگشتِ بدنداں دیکھا

ارکان میں کئی ہفتوں سے ہر طرف آگ جلتی نظر آتی ہے مسلمانوں کو ان کے گھروں سمیت زندہ جلا دیا گیا ہے پانچ سو سے زائد مسلمان گاؤں جلا دئیے گئے ہیں ۔ برما کے مسلما ن نس بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ آکر پناہ لے رہے ہیںبنگلہ دیش میں دو لاکھ سے اور تھائی لینڈ میں ایک لاکھ سے زائد مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش، تھائی لینڈ نے مزید مسلمان مہاجرین کوپناہ دینے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے برما میں موجود مسلمان برما حکومت کاجبر سہنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں زندگی کی تمام بنیا د ی سہولتوں سے محروم کر دیا گیاہے اور ان سے ان کا علاقائی تشخص چھیننے کیلئے بھی کئی حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔میں چاہتی ہوں کہ ان کے سوالوں کاجواب دیا جائے یہ خاموشی جو پورے میڈیا پہ چھائی ہے اسے توڑا جائے ایسا میڈیا جو وینا ملک کی کسی بھی موومنٹ کوسنسنی خیز بنا کرپیش کرتا ہے جو راجیش کھنہ کی موت کو توسرخیوں میں لپیٹ کرنشرکرتا ہے مگر اس اہم موضوع پہ بات کرنا ان کیلئے اتنا غیر اہم کیوں ہوگیا ہے؟ یہاں میڈیا کہاں ہے؟ یہاں میڈیا اتنا سست کیوں ہو گیا ہے؟ حکمران کہاں ہیں ؟


پوری عالمی برادری امن کے سرپرست، انسانی حقوق کو ریپریزینٹ کرنے والی این جی اوز ، سچ کا پرچار کرنے والے وہ تمام بڑے اینکرز جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہ سب کہاں ہیں؟ وہ سب اتنے بے گناہ مسلمانوں کے قتل پہ خاموش کیوں ہیں ؟ اب پاکستانی میڈیا یہ سب سکرین پہ کیوں نہیں دکھا رہا؟ آخر یہ خاموشی کیوں؟ جبکہ مشرکوں نے مسلمانوں کے خون سے کھیلنے کو مشغلہ بنا رکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہاں میرے ملک کا میڈیا میرے لوگ کہاں مصروف ہیں؟ تمام اسلامی ممالک خاموش بنے تماشا کیوں دیکھ رہے ہیں؟خدارا اٹھیے اور اس کے لیے عملی اقدام کیجئے وہاں کے مسلمانوں کو ہماری ضرورت ہے ان کی قوت بنئے۔ ان کے لئے آواز بلند کیجئے ان کے حق کیلئے بولئے اور کتنے مسلمانوں کویہ سب ہنا ہو گا۔ عراق، ایران،       ، افغانستان، فلسطین، چیچنیا ایسی کئی جگہیں ہیں جہاں مسلمانوں کے خون سے زمین کو سرخ کر دیا جاتا ہے اب کتنے اور مسلمانوں کو قربانی دینا ہو گی۔کیونکہ خدا تبارک وتعالیٰ کے نزدیک کسی ایک بے گناہ کی جان لینا پوری نوع انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ اس لئے آئیے اور اس پہ سوچئے اس پہ بات کیجئے اس کیلئے آواز اٹھائیے اور اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کیجئے۔ کل کو روز محشر میں اگر ہم سے سوال کر لیا گیا کہ ان معصوم مسلمانوں پہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ہم نے اپنا کردار کہاں تک ادا کیا توخدانخواستہ ان معصوم جانوں کے قتل کے عوض ہم بھی قصور وار نا ٹھہرا دئیے جائیں ۔

یورپ پر فاشزم کے تاریک سائے منڈلا رہے ہیں

یورپ پر فاشزم کے تاریک سائے منڈلا رہے ہیں

آصف جیلانی  
-یورپ اس وقت دوسری عالم گیر جنگ کے بعد اپنی تاریخ کے سنگین ترین اقتصادی اور سیاسی بحران سے دوچار ہے ۔13سال قبل یورپی یونین کے 17 ممالک نے معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے واحد کرنسی یورو کا جو نظام قائم کیا تھا وہ ٹھپ پڑتا نظر آتا ہے کیونکہ یورپ کے گنے چنے ملکوں کوجن میں جرمنی اور فرانس نمایاں ہیں یونان اور اسپین کو ان کے پہاڑ ایسے قرضوں کے بحران سے نکالنے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور اب ان کی بھی کمر ٹوٹتی دکھائی دیتی ہے ۔ یونان پر 600 ارب ڈالر اور اسپین پر0 200ء ارب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ ہے۔ ایک طرف یورو کا سنگین بحران ہے تو دوسری طرف مالی بھنور میں معیشت ڈوبتی نظر آتی ہے۔ ان حالات میں پچھلے ایک برس میں پورے یورپ میں بے روز گاروں کی تعداد میں 25لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ڈھائی کروڑ افراد کو بے روزگاری کے عذاب کا سامنا ہے یہ تعداد کام کے قابل افراد کی دس فی صد ہے ۔ بے روزگاری کے اس عذاب میں مبتلا یورپی ملکوں میں سر فہرست اسپین ہے جہاں 25فیصد افراد بے روزگار ہیں اس کے بعد یونان ہے جہاں بے روزگاروں کی تعداد 23فی صد ہے ۔پوری یورپی یونین میں 22فی صد نوجوان بے روزگار ہیں جن میں شدید بے چینی بڑھ رہی ہے ۔ موجودہ اقتصادی ابتری کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہی حالات پیدا ہو رہے ہیں جو 30ء کے عشرہ میں تھے جب کہ جرمنی میں نازی قوت کے بل پر ہٹلر کی قیادت ابھری تھی اور اٹلی میں مسولینی کی قیادت میں فاشسٹ جماعت بر سر اقتدار آئی تھی اور جس کے نتیجہ میں پوری دنیا دوسری جنگ کے شعلوں میں جھلس گئی تھی۔ سنگین اقتصادی مسایل اور مالی بحران کی وجہ سے یورپ میں اس وقت بڑی تیزی سے انتہا پسند قوم پرستی بڑھ رہی ہے جو فاشزم کو جنم دے رہی ہے ۔ یہ صورت حال یورپ کی جمہوری قوتوں کے لیے زبردست چیلنج ہے خاص طور پر یورپی یونین کی بقا کے لیے ۔ دوسری عالم گیر جنگ کے بعد سارا زور اس نظریہ پر تھا کہ جمہوری نظام کی بنیاد پر یورپی اتحاد کو فروغ دے کر نازی اور فاشسٹ قوتوں کا قلع قمع کیا جائے جنہوں نے یورپ پر اپنا تسلط جمانے کے لیے جنگ بھڑکائی تھی اور اقتصادی اتحاد اور یک جہتی کی بنیاد پر باہمی دشمنیاں اور رقابتیں ختم کی جائیں۔ لیکن 2008ء میں امریکا میں بڑے بڑے بنکوں نے جو سنگین مالی بحران بھڑکایا ہے اس کے اثرات سے یورپ نہیں بچ سکا ہے جس نے پورے یورپ کی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں یہ اثرات اتنے شدید ثابت ہوئے ہیں کہ یورپی کمیشن اپنے وسیع وسایل کے باوجود ان پر قابو نہیں پا سکا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ بھی ناکام رہا ہے ۔ یورپ میں اقتصادی ابتری اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری انتہا پسند قوم پرست قوتوں کو ہوا دے رہی ہے بالکل اسی طرح جس طرح 30ء کے عشروں میں جرمنی میں نازی پارٹی کو تقویت دی تھی۔ ان حالات میں یورپ میں سیاسی نقشہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے ۔ یونان میں موجودہ سنگین مالی مشکلات اور بڑے پیمانہ پر سرکاری اخراجات میں تخفیف کے اقدامات نے انتہا پسند قوم پرستی کو ایسی ہوا دی ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں پہلی بار نازی پارٹی ’’ گولڈن ڈان،،کو 7فی صد ووٹ ملے ہیں اور پارلیمنٹ میں 18 نشستیں حاصل کر کے ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھری ہے ۔ گولڈن ڈان پارٹی اپنے آپ کو نازی پارٹی کہلانے سے انکاری ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ پارٹی فاشزم سے وجدان حاصل کرتی ہے ۔ ا س کا نشان بھی ہٹلر کی نازی پارٹی کے سواستکا سے ملتا جلتا ہے اور اس پارٹی کے کارکن ہٹلر کی نازی پارٹی کے جوانوں کی طرح سیاہ قمیضوں میں ملبوس عوام کو دھمکاتے پھرتے ہیں۔ ادھر فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست جماعت فرنٹ نیشنل کی موجودہ لیڈر میرین لے پین جو پارٹی کے بانی ژاں میری لے پین کی صاحبزادی ہیں حالیہ صدارتی انتخاب میں تیسرے نمبر پر رہی ہیں ۔ انہوں نے 17فی صد ووٹ حاصل کیے۔ فرنٹ نیشنل کی مقبولیت کی بڑی وجہ الجزائر اور شمالی افریقہ کے مسلم تارکین وطن کے خلاف نسل پرست مہم ہے ۔یہ بات تشویش ناک ہے کہ فرانس جو روشن فکری کادعوی کرتا ہے وہاں فرنٹ نیشنل ایسی نسل پرست اور انتہائی قوم پرست جماعت کو اتنے ووٹ ملے ہیں۔ ہالینڈ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے پس منظر میں نسل پرست گریٹ وائلڈرس کی جماعت فریڈم پارٹی مقبولیت حاصل کر رہی ہے ۔ اس پارٹی کا تمام تر زور اسلام دشمنی اور مسلم تارکین وطن کے خلاف مہم پر ہے جس کی بنیاد پر یہ ہالینڈ کے عوام کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ بے روزگاری کے مسئلے کے ذمہ دار مسلم تارکین وطن ہیں جو ہالینڈ کو اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ گریٹ وایلڈرس کی دو دھاری حکمت عملی ہے ۔اسرائیل نواز گریٹ وائلڈرس کا مطالبہ ہے کہ ہالینڈ میں مسلم تارکین وطن کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے اورتمام مسلم اسکول بند کردیے جائیں دوہری شہریت کے حامل افراد کو پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے پر پابندی عائد کی جائے اور ان تمام شہریوں کو رجسٹر کیا جائے جن کے پاس دو پاسپورٹ ہیں تاکہ وقت آنے پر انہیں ملک بد ر کیا جاسکے۔ 2005ء میںقائم ہونے والے اس نسل پرست جماعت نے اس تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے کہ 2010ء کے عام انتخابات میں اس جماعت کو 24نشستیں حاصل ہوئیں اور چوتھی بڑی جماعت کے طور پر سیاسی افق پر ابھری۔ آسٹریا میں نسل پرست اور نئی نازی جماعت فریڈم پارٹی نے بھی حال میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے اور ہنگری میں Jobbikپارٹی اپنے فاشسٹ نظریات کی بناء پر مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ 2010ء کیے عام انتخابات میں اسے 17فی صد ووٹ ملے ۔ یورپ کی دائیں بازو کی انتہا پسند اور فاشسٹ جماعتوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہیں کہ پچھلے دنوں ان جماعتوں نے یورپی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی انتہا جماعتوں کا اتحاد قائم کیا ہے ۔ برطانیہ چونکہ یورو نظام میں شامل نہیں لہٰذا اب تک یورو کے بحران سے براہ راست متاثر نہیں ہوا لیکن چونکہ اس کی معیشت یورپ سے وابستہ ہے اور برطانیہ کی پچاس فی صد تجارت یورو کے علاقہ کے ممالک سے ہے لہٰذا اس پر بلواسطہ اثرات پڑ رہے ہیں اور برطانیہ میں کساد بازاری میں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی قومی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں بے روزگاری بڑھی ہے ۔اس صورت حال سے برطانیہ میں نسل پرست اور قوم پرست تنظیمیں سیاسی فائدہ اٹھارہیں ہیں جن میں برٹش نیشنل پارٹی اور انگلش ڈیفنس لیگ پیش پیش ہیں ان کی بھی د و دھاری حکمت عملی ہے ۔ برطانوی عوام کو ایک طرف یہ باور کرانا ہے کہ اصل میںملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے ذمہ دار تارکین وطن ہیں۔ دوسری طرف عوام کو اسلام کا خوف دلانا ہے اور یہ ڈرانا ہے کہ مسلمان اگر حاوی آگئے تو وہ یہاں شرعی نظام قائم کردیں گے جس کے تحت چوری کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیںگے اور زنا کی سزا سنگ ساری ہوگی ۔ برطانیہ کے سنجیدہ عناصر اس امرکا شدید خطرہ ظاہرکرتے ہیں کہ یورپ کی طرح اگر اقتصادی حالات ابتر ہو گئے تو ملک میں فاشسٹ قوتیں تیزی سے سر اٹھائیں گی جس سے ایسی افراتفری مچے گی کہ پورا معاشرہ متزلزل ہو جائے گا۔صورت حال اس بناء پر اور زیادہ تشویش ناک ہے کہ ملک کی تینوں سیاسی جماعتوں سے عوام تیزی سے بدظن ہوتے جارہے ہیں۔ ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کی مخلوط حکومت کی پالیسیاں خاص طور پر بڑے پیمانہ پر سرکاری اخراجات میں تخفیف عوام کی ناراضگی کا نشانہ بن رہی ہیں اور پچھلے عام انتخابات میں ہاری ہوئی لیبر پارٹی ابھی تک اپنے احساس شکست سے نہیں نکل پائی ہے ویسے بھی ایڈ ملی بینڈ کی نئی قیادت بے جان اور بے اثرثابت ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں برطانیہ کے حالات نہایت خطرناک نظر آتے ہیں۔

خداوانا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائین ۔ عبیداللہ خان اعضمی

courtesy: Urdutinmes Bombay

حقیقت کے متلا شی۲

حقیقت کے متلا شی۲
تو راز کُن فکاں ہے اپنی آ نکھو ں پہ عیا ں ہوجا

اس ’خدائی عنصر‘ کے متعلق سائنس کا نظریہ یہ ہے کہ یہ بہت ہی غیر مستحکم عنصر ہے ، وہ بگ بینگ یا عظیم دھماکہ کے وقت ایک پل کے لیے آیا اور ساری چیزوں کو کمیت دے کر چلا گیا۔پہلے پہل سائنس دانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ کائنات یوں ہی بغیر کسی باہری مداخلت کے ایک زبردست دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی جسے بگ بینگBig Bangکا نام دیا گیا تھا اور اس نظریہ کو بگ بینگ تھیوری کہا جاتا تھا۔ اس تھیوری کو ایک لمبے عرصہ تک سائنس کے مروجہ نصاب کے طور پڑھایا جارہا تھا۔
ہگس بوسون ایک نیا نظریہ ہے؟
شروع میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ سب کچھ ایک خود کار طریقے سے ہورہاہے، نئی دنیائیں بن رہی ہیں، پرانی دنیائیں فنا ہورہی ہیں مگر 60 کے عشرے میں ایک سائنس دان پیٹر ہگز نے ایک نیا تصور پیش کیا۔ ان کا کہناتھا کہ یہ سب کچھ ایک نادیدہ قوت کررہی ہے۔توانائی اس وقت تک مادے کی شکل اختیار نہیں کرسکتی جب تک اسے ایک نادیدہ قوت کی تائید حاصل نہ ہو۔ اس نامعلوم قوت کا نام پیٹر ہگز کے نام پر ہگز بوسن پڑ گیا لیکن بعدازاں اسی موضوع پر ایک اور سائنس دان لیون لیڈرمن کی کتاب ’گاڈ پارٹیکل‘ شائع ہونے پر ہگز بوسن کو گاڈ پارٹیکل یا خدائی صفات کا ذرہ کہاجانے لگا۔اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ دکھائی نہ دینے والی کائنات کی اس سب سے چھوٹی اکائی کے اندر ایک ایسی کشش یا توانائی موجود ہے جو دوسری چیزوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے اور یہی قوت کائنات کی ہر چیز کو وجود میں لانے کا اصل سبب ہے۔کائنات کی ہر چیز کا سب سے چھوٹا جزو اٹیم ہے۔ ایٹم کا سب سے چھوٹا حصہ الیکٹران ہے جس کا ایک مخصوص حجم ہے جو اسے گاڈ پارٹیکل سے ملا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی تخلیق میں گارڈ پارٹیکل کا کردار بنیادی ہے اور یہی پراسرار ذرہ انہیں قائم رکھے ہوئے ہے۔جدید طبعیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ کائنات بنانے میں گاڈ پارٹیکل نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جسے ثابت کرنے کے لیے وہ کئی برسوں سے تجربات کررہے تھے۔
گاڈپارٹیکل کیسے دریافت ہوا؟
کوئی بھی سائنسی نظریہ وجود میں آنے کے بعد لیبارٹری میں اس کی سچائی کی تصدیق کی جاتی ہے۔ہگز بوسن کے نظریے کی تصدیق کا کام اگرچہ پچھلی صدی کے آخر میں شروع ہوگیا تھا لیکن بڑے پیمانے پر اس تحقیق کا آغاز پارٹیکل فزکس کی دنیا کی سب سے بڑی تجربہ گاہ لارج ہیڈرن کولائیڈر کے قیام کے بعد ہوا۔ اربوں ڈالر مالیت کی اس تجربہ گاہ میں حلقے کی شکل میں 17 میل لمبی زیر زمین سرنگ بنائی گئی جس کے دونوں سروں پر نصب طاقت ور آلات کے ذریعے جوہری ذرات کی لہریں اس انداز میں بھیجی گئیں کہ وہ اتنی قوت سے ایک دوسرے سے ٹکرائیں کہ ان کے جوہری ذرات ٹوٹ کر بکھر جائیں اور وہی شکل اختیار کرلیں جو اربوں سال پہلے بگ بینگ کے وقت تھی۔ جوہری ذروں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ڈیٹا کو ہزاروں کمپیوٹروں کے ذریعے پراسس کیا گیا۔ سائنس دانوں کی دو الگ الگ  بڑی ٹیموں نے علیحدہ علیحدہ تجربات کئے اوران کے نتائج کو باربار پرکھا۔4 جولائی کو اس صدی کی سب سے بڑی سائنسی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے سائنس دانوں کہا کہ انہیں اپنے نتائج کی صداقت پر پانچ سیگما تک یقین ہے۔ سائنسی اصطلاح میں سیگما سے مراد ایک ارب واں حصہ ہے ،یعنی اس دریافت میں غلطی کا امکان ایک ارب میں صرف پانچ ہے۔سائنس دانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات سے متفق نہیں ہے اور اسپس و پیش میں ہے کہ آیا اس نئی دریافت کو سائنسی دریافت تسلیم کیا جائے یا نہیں۔
گاڈ پارٹیکل کیا کرتا ہے؟
کسی بھی چیز کا ایٹم الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان سے مل کربنتا ہے لیکن انہیں ایک مرکز پر اس طرح اکٹھا کرنے کا کام کہ وہ ایک ایٹم کی شکل اختیار کرلیں، گارڈ پارٹیکل کرتا ہے۔ جوہری اجزا ء انتہائی تیز رفتار ہوتے ہیں جنہیں گارڈ پارٹیکل اپنی جانب کھینچ کر ان کی رفتار کم کردیتا ہے اور وہ ایک اٹیم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔کائنات میں مادے کی عام اشکال ٹھوس مائع اور گیس ہیں۔ اگر گارڈ پارٹیکل نہ ہوتا تو اس کائنات میں ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں اور ان پر آباد دنیاؤں کی بجائے صرف توانائی کی لہریں ہی ہوتیں۔
گاڈ پارٹیکل کس طرح کام کرتا ہے؟
پُراسرار جوہری ذرے کے نظریے کے خالق پروفیسر ہگز بوسن نے اسے ایک آسان مثال سے واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پراسرار ذرہ کسی اہم پرکشش فلمی، سماجی یا سیاسی شخصیت کی مانندہوتاہے۔ جسے دیکھتے ہی لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی جانب کھچے چلے جاتے ہیں۔ کوئی اس کی تصویر اتارنا چاہتا ہے، کوئی اس سے آٹوگراف لینے کا خواہش مند ہوتاہے تو ہاتھ ملانے کی آرزو میں آگے بڑھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ہجوم کا نام ایٹم ہے۔ جوہری ذرات کے ہجوم کی نوعیت اور تعداد کے لحاظ سے مختلف نوعیت کے ایٹم وجود میں آتے ہیں۔ اورپھر وہ کائنات بناتے ہیں۔
گاڈ پارٹیکل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
 اہل سائنس کا عقیدہ ہے کہ اگر ہگزبوسن یا گارڈ پارٹیکل نہ ہوتا تو پھر کائنات میں سوائے توانائی کے کچھ بھی نہ ہوتا۔ کہکشائیں، سورج ، چاند ستارے، زمینیں اور ان کے رنگ اور رعنائیاں اور زندگی کی مختلف اشکال بھی دکھائی نہ دیتیں۔ ماہرین طبعیات کا کہناہے کہ کائنات برقی مقناطیسی لہروں اور جوہری قوتوں سے بھری ہوئی ہے اور اس وسیع و عریض کائنات میں انہیں کسی مادے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کائنات میں بے شمار مادی اجسام تیر رہے ہیں۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ توانائی اور مادہ ایک دوسرے کا بدل ہیں اور مادہ توانائی ہی کی ایک شکل ہے۔ پھر سوال یہ اٹھا کہ آخر توانائی کا کچھ حصہ مادے میں تبدیل کیوں ہوا؟ ایڈن برگ میں واقع برطانیہ کی سکاٹ لینڈ یونیوسٹی کے سائنس دان پروفیسر ہگز بوسن نے اس الجھن کو حل کیا اورایک پراسرار جوہری ذرے کا نظریہ پیش کیا۔ تخلیق کائنات کے ماڈل کی جدید عمارت ان کے نظریے پر کھڑی ہے۔ تصوراتی پراسرار ذرے کانام ان کے اپنے نام پر ہگز بوسن رکھا گیا۔ بعدازاں اس موضوع پر گارڈ پارٹیکل کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس کے بعد پراسرار ذرہ عمومی طور پر گاڈ پارٹیکل کے نام سے مشہور ہوگیا۔
گاڈ پارٹیکل کب وجود میں آیا؟
سائنس دان اس نظریے پر متفق ہیں کہ کائنات ایک بہت بڑے دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی جسے بگ بینگ کہاجاتا ہے۔ بگ بینگ سے قبل ایک بہت بڑا گولہ موجود تھا جو اپنی بے پناہ اندرونی قوت کے باعث پھٹ کر بکھر گیا۔گولہ پھٹنے سے لامحدود مقدار میں توانائی بہہ نکلی اور تیزی سے پھیلنے لگی۔بگ بینگ کے بعد ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے میں گارڈ پارٹیکل وجود میں آگیا اور اس نے توانائی کے بے کراں سیلاب کو اپنی جانب کھینچنا شروع کیا۔بنیادی طور پر توانائی کی دو اقسام کی ہے ، ایک وہ جو گاڈ پارٹیکل کی کشش قبول کرتی ہے اور دوسری وہ جس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جسے بہت سے لوگ اہم شخصیات کی جانب پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے۔ ماہرین کا کہناہے اس وقت کائنات میں بکھری ہوئی توانائی کا زیادہ تر حصہ وہی ہے جسے گاڈ پارٹیکل اپنی جانب کھینچ نہیں سکا۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شائد:
ہگس بوسون یا گاڈ پاٹیکل سے متعلق سائنسی انکشافات میں یہ کہا گیا ہے کہ بگ بینگ کے بعد بکھری توانائی کو ہئیت اور کمیت دینے میں کلیدی کردار گاڑ پاٹیکل یا خدائی عنصر کا ہے۔ اگر یہ’ خدائی عنصر ‘فی الحقیقت اُس وقت موجود تھا جب بگ بینگ کا دھماکہ ہوا تو لازماً یہ سوال اُٹھے گا کہ یہ ’خدائی عنصر‘ آیا کہاں سے؟ سائنس داں یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگر  گارڈ پارٹیکل نہ ہوتا تو پھر کائنات میں سوائے توانائی کے کچھ بھی نہ ہوتا۔ کہکشائیں، سورج ، چاند ستارے، زمینیں اور ان کے رنگ اور رعنائیاں اور زندگی کی مختلف اشکال بھی دکھائی نہ دیتیں۔یعنی توانائی نے مادہ کی شکل اختیار ہی نہ کی ہوتی۔سائنس دانوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بگ بینگ کے بعد ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے میں گارڈ پارٹیکل وجود میں آگیا ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خدائی عنصر چاہیے کتنے ہی کم سے کم وقت (ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے ) میں وجود میں آیا لیکن عدم سے یونہی کیسے وجود میں آیا یہ ایک تشنہ جواب حقیقت ہے؟سائنسی انکشافات کا یہ سلسلہ نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔
آیات قرآنی میں تخلیق ِ کائنات کا ذکر:
آئیے اب اُن قرآنی آیات پر غور کریں جن میں تخلیق کائنات کا تذکرہ آیا ہے۔
سورہ یٰسینؔ میں منکرین آخرت کے اس سوال کہ’’ کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں‘‘( سورہ یٰسین:۷۸) کا جواب یوں دیا گیا:
’’ان سے کہو، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے۔ وہی جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اِس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو۔ وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کیا اُس پر قادر نہیں کہ وہ ان جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں جب کہ وہ ماہر خلاق ہے ۔ وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ’’ ہوجا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔‘‘( یٰسین : ۷۹ تا ۸۲)
تخلیق کائنات کے بارے میں ہی سورہ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ کیا وہ لوگ جنہوں نے( بنی کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی؟ کیا وہ( ہماری اس خلاقی کو) نہیں مانتے؟ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔ اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں۔ شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔ مگر یہ ہیں کہ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔‘‘( الانبیائ:۳۰تا ۳۳)
سورہ حٰم السجدہ میں تخلیق کائنات کے بارے میں یہ ربانی احکام درج ہیں:
’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے کہو، کیا تم اُس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنا دیا؟ وہی تو سارے جہاں والوں کا رب ہے۔ اُس نے( زمین کو وجود میں لانے کے بعد)اوپر سے اس پر پہاڑ جما دئے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک انداز سے خوراک کا ساماں مہیا کر دیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہو گئے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ’’ وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو‘‘ دونوں نے کہا ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح۔‘‘( حٰم السجدہ: ۹ تا ۱۱)
سائنسی تحقیق کے خاص نقاط:
جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ فزکس کا نظریہ پہلے پہل یہ تھا کہ کائنات بنگ بینگ سے پیدا ہوئی اور اس کی تخلیق کیلئے کسی غیبی طاقت (ہگس بوسون) کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ بعد میں ایک سائنسدان پروفیسر پیٹر ہگس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کی تخلیق کے لئے بے پناہ توانائی کا حامل ایک لطیف ذرہ ذمہ دار ہے۔انہوں نے ساٹھ کے عشرے میں سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا۔ بنگ بینگ کی تھیوری کے ساتھ ایک بڑا سوالیہ یہ تھا کہ کائنات کی تخلیق کیسے یوں ہی ایک دھماکہ سے ہوئی جبکہ کوئی ظاہری سبب دکھائی نہیں دے رہا ہے جبکہ سائنس اسباب و علل پر ہی مبنی ہے۔ موجودہ تحقیقی عمل سے جو نتائج حاصل ہوئے ہیں ،اس کے خاص نکا ت یہ ہیں:
الف)کائنات کی ابتداء ایک لطیف اور باریک ذرے سے ہوئی جو کہیں سے بھاری توانائی لے کر آیا اور چیز کو کمیت یا دے گیا۔
ب) اس سے پہلے کائنات میں صرف توانائی کی لہریں تھیں اور سب کچھ خلا میں تیر رہا تھا اور کسی چیز کا وزن نہیں تھا۔
ج) یہ لطیف ذرہ( جسے ہگس بوسون یا خدائی عنصر کا نام دیا گیا) کائنات کا لاپتہ حصہ ہے۔
د) یہ عنصر( خدائی عنصر) بہت ہی غیر مستحکم ہے اور عظیم دھماکہکے وقت ایک پل کے لیے آیا اور ساری چیزوں کو کمیت دے گیا۔
"کُن فیکون‘‘ اور سائنسی تحقیق کی تصدیق:
مضمون کی ابتداء میں ہی تذکرہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اپنی بے حد و حساب طاقت کا تذکرہ ’’کن فیکون‘‘ کے الفاظ سے کیا ہے۔ جو عظیم تخلیقات اللہ تعالیٰ کے حکم’’کن‘‘ سے انجام پائیںان میں تخلیق کائنات کے علاوہ تخلیق آدم علیہ السلام، پیدائش حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تخلیق حیات و موت بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمودات کی سائنسی تصدیق نہ لازم ہے اور نہ ہی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے (کیونکہ سائنسی تحقیق ایک ارتقائی عمل اور جاری سلسلہ ہے اور کسی بھی مرحلہ پر حاصل کی گئی معلومات اور نتائج حتمی قرار نہیں دئے جاسکتے ہیں)۔تاہم اگر کہیں سائنس آج لاتعداد وسائل استعمال کرنے کے بعد اور زبردست کوشش و تجربات کے بعد وہی نتائج اخذ کرتی ہے جو قرآن نے آج سے پندرہ صدی قبل ہی بیان کئے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ سائنسی تحقیق کے نتائج پر غور کرکے انہیں تسلیم کیا جائے۔ اس کا استدلال خود قرآن کریم سے اخذ ہوتا ہے۔ قرآن پاک بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر و تحقیق اور تفکر پر اُبھار رہا ہے۔ لطیف ذرہ ہگس بوسون یا’ خدائی عنصر ‘اللہ تعالیٰ کے حکم’’کُن‘‘ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ ’’کُن‘‘ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اس نور کے عظیم ذرے نے پوری کائنات کو مایہ سے ٹھوس حیثیت دی، اسے ماہیتٔ اور کمیت بخش دی، اسے عدم سے وجود عطا کیا۔ سائنسی تحقیق کے ’خدائی عنصر‘ کی خصوصیات پر غور کریں تو ’’کُن‘‘ سے اس کا تعلق بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ سائنس دان خدا کو الگ رکھ کر’ خدائی عنصر‘ کی بات کریں یا کسی لطیف عنصر کو خدا کے برابر لا کھڑا کریں لیکن ’کُن‘ کی عظیم الشان قوت و طاقت اپنی جگہ ایک ایسی بڑی حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند کرنا غیرممکن ہے اور دیر سویر اس بڑی قوت کوتسلیم کرنا ہی ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب!