Search This Blog

Saturday, 27 October 2012

GOSHT KA SAHI ISTEMAL

گوشت کا صحیح استعمال

قارئین کرام! یوں تو ہم سارا سال ہی گوشت استعمال کرتے رہتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ میں قربانی کی وجہ سے استعمال بڑھ جاتا ہے۔ اسلام میں جہاں گوشت کو بطور غذا استعمال کرنے کے لیے حلال جانوروں کے بارے میں محتاط رہنے اور طبی تحفظات کے بارے میں ہدایات حاصل ہوتی ہیں کہ جو بیمار ولاغرہوں ان کا گوشت کھانا مضمر ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقے پر لاکھوں جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔ اس طرح کھانے میں گوشت کی مقدار عام دن سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ گوشت کا صحیح طریقۂ استعمال کیا ہے۔ اس کو محفوظ کس طرح کیا جائے‘ خراب گوشت کی پہچان اور اس کے بکثرت استعمال سے کون کون سے امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔ غذائی اعتبار سے بہتر گوشت کس جانورکا ہے کیونکہ تمام قسم کے گوشت میں ایک طاقتور پروٹین (لحمیات) ہوتا ہے۔ جو نباتاتی پروٹین سے بہت بہتر ہے یہ پروٹین جسمانی خلیات کو روزمرہ کی طاقت فراہم کرنے میں نمایاں کام آتے ہیں۔ اس سے جسم کے عضلات‘ دل‘ دماغ‘ معدہ اور آنتوں کی ساخت کو فائدہ پہنچتا ہے لو بلڈپریشرکو متوازن کرتا ہے خون کی کمی دورکرتا ہے۔ مقوی عضلات اور مقوی باہ ہے اس کے علاوہ گوشت جسم میں قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح مختلف جانوروں کے گوشت اور دیسی جڑی بوٹیوں سے عرق ماہ اللحم بھی تیارکیا جاتا ہے۔ جو عام جسمانی کمزوری خصوصاً دل‘ دماغ اور جگر کو طاقت دینے کے ساتھ قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے۔
بکرے کا گوشت:۔
تمام حلال جانوروں کا گوشت اپنے اندر خاص قسم کے اثرات رکھتا ہے‘ مگر بکرے کا گوشت خاص اہمیت کے ساتھ دنیا بھر میں زیادہ مقدار میں فروخت ہوتا ہے۔ بکرے کا گوشت ہمارے جسم کی غذائیت کے کام آتا ہے۔ طبی لحاظ سے اسے انسانی جسم کے لیے سب سے زیادہ مفید اور متوازن تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی تاثیر گرم تر ہے قربانی کے جانوروکی جو شرائط رکھی گئیں ہیں وہ صحت کے حوالے سے بہتر ہیں۔ کمزور (چھوٹی عمر) بوڑھے جانور (بڑی عمر) کے گوشت میں غذائی اجزا کم ہوتے ہیں۔ بکری کی قربانی افضل ہے کیونکہ بکری کا گوشت لذیز ہوتا ہے یہی وجہ ہے حضوراکرمؐ بھی پشت کا گوشت پسند کرتے تھے۔
گائے کا گوشت:۔
یہ گوشت انسانوں کی مرغوب غذا ہے لیکن اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ گائے کے گوشت کی تاثیر خشک سرد ہے یہ دیرہضم ہے اس کے زیادہ استعمال سے یورک ایسڈ میں اضافہ ہوجاتا ہے یہ خون میں خشکی‘ تیزابیت پیدا کرتا ہے۔ سرطان‘ جذام اور ام طحال‘ جوڑوں کے درد‘ سمیت دیگر امراض پیدا ہوتے ہیں۔
اونٹ کاگوشت:۔
اس گوشت کی تاثیرگرم خشک ہے عرب دنیا میں اونٹ کا گوشت عام ہے اونٹ کو ذبح کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اسے کھڑا کرکے نحرکیا جائے تاکہ اس کے جسم کا تمام خون بہہ جائے اگر اس کو لٹا کر ذبح کیا جائے تو اس کے بدن سے مکمل طور پر خون خارج نہیں ہوتا پھر یہ خون منجمد اور متعفن ہوکر امراض کا باعث بنتا ہے۔ اس سے تپ دق‘ سل‘ گٹھیا‘ جگر‘ گردہ اور نظام ہضم کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس کا گوشت جگر سمیت دیگر امراض میں مفید ہے۔ اسی طرح اونٹنی کا دودھ تاثیر کے لحاظ سے گرم خشک‘ نمکین‘ ہلکا‘ زود ہضم‘ بھوک لگانے کے ساتھ بدن میں چستی پیدا کرتا ہے۔ کھانسی‘ دمہ‘ تلی اور بواسیر کے امراض میں مفید ہے جدید تحقیق کے مطابق ہیپاٹائٹس‘ شوگر میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دودھ خالص تریاق ہونے کے ساتھ ساتھ حضوراکرمؐ کی پسندیدہ خوراک اور مکمل غذائیت وشفا بخش ہے۔
گوشت محفوظ کرنے کا طریقہ:۔
بعض غذائی ماہرین کے مطابق فریزر میں گوشت کو تین ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ لہذا پہلے صاف پانی سے دھو کر خشک کرلیں۔ حسب ضرورت پلاسٹک کی تھیلیاں بناکر رکھا جائے تاکہ گوشت کو ضرورت پر ایک تھیلی میں نکال کر پکالیں۔ فریزسے نکلا ہوا گوشت چندگھنٹوں کے اندر استعمال کرلینا چاہیے۔ زیادہ عرصے تک فریج میں رکھے گوشت میں غذائیت میں کمی آجاتی ہے جبکہ جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ گوشت میں جراثیم جلد پیدا ہوتے ہیں لہذا صحت کے لیے تازہ گوشت ہی بہتر ہے۔
خراب گوشت کی پہچان کیسے ہو:۔
خراب گوشت ہونے پر قدرتی طور پر ایسے مادے پیدا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے بو آنے لگتی ہیں۔ انسان خود محسوس کرلیتا ہے کہ گوشت اب خراب ہوگیا ہے۔ خراب ہونے کی صورت میں اپنا رنگ تبدیل کرلیتا ہے۔ اس کے علاوہ بیمار جانور کا گوشت بھی انسانی صحت کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ ایسے گوشت میں ٹاکسن (نامیاتی زہر) پیدا ہوجاتا ہے جس کے استعمال سے کئی امراض انسانی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں جس میں فوڈ پوائزنگ‘ ڈائریا‘ یرقان کا سبب یہی عوامل ہیں۔
گوشت کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے امراض:۔
عیدکے موقع پر بعض حضرات کثرت سے گوشت استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت تو اس امرکی ہے کہ گوشت کے ساتھ پھل‘ سبزیاں بھی استعمال کریں جبکہ ایک صحت مند انسان کو ہفتے میں ایک پائو سے زیادہ گوشت نہیں کھانا چاہیے یہ گوشت بھی سبزی اور شوربہ والا ہو تو بہتر ہے یہ ہی طب نبویؐ میں پسند کیا گیا ہے‘ مگر افسوس کہ آج ہمارے گھروں میں روزانہ گوشت نہ پکے تو گھر میں قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گوشت استعمال کرنے والوں کا معدہ جلد کمزور ہوجاتا ہے۔ انہیں اسہال‘ ہیضہ‘ بواسیر‘ یورک ایسڈ بڑھنے کے ساتھ جوڑوں کے درد دل‘ شوگر‘ دانتوں کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ لہذا ہم اعتدال کے ساتھ گوشت کا استعمال کرکے ان بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
گوشت پکانے کا طریقہ:۔
گوشت پکانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے کم وقت میں بھاپ میں پکانا بے حد مفید ہے اور اس کے لیے بہترین پریشر ککر ہے‘ جس میں گوشت فوری گلتا ہے اور غذائیت بھی برقرار رہتی ہے تیل میں پکانے کو ترجیح دی جائے گرم مصالحوں کو کم ازکم رکھا جائے۔
ضروری ہدایات:۔
قربانی کے بعد گوشت کو جتنی جلد ممکن ہوسکے صاف کرلیا جائے ادھ کٹا چھوڑ دینا مضر صحت ہے۔
گوشت تقسیم کرنے یا محفوظ کرنے کے لیے اخبارکا کاغذ استعمال صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ کیونکہ اخباری کاغذ کی روشنائی میں سیسہ ہوتاہے۔
عام طور پر قربانی کے فوراً بعد گھروں میں کلیجی تیارکی جاتی ہے‘ لہٰذا پہلے اس بات کا اطمینان کرلیں کہ کلیجی میں کہیں سوراخ‘ یا نشان وغیرہ تو نہیں یا اس کی رنگت خراب تو نہیں ہے۔ اگر کوئی خرابی ہے تو اس کے پکانے سے گریزکریں۔

IBRAHIMI DUWAON KE PAIGHAMAT

courtesy Inquilab bombay

SIKHAYE KIS NE ISMAIL KO ADABE FARZANDI - MOULANA ABULKALAM AZAD

courtesy: Inquilab Bombay

QURBANI KE HAQIQI MAFHOOM SE AGAHI BAHOT ZAROORI HAI

courtesy: Inquilab Bombay

HAZRAT IBRAHIM KA MISSION AUR UMMATE MUSLIMA


Courtesy: Inquilab Bombay

HAZRAT IBRAHIM A.S. KI ROSHAN ZAMEERI



GOSHT KHORI - HAQAIQ AUR GHALAT FAHEMIYAN

Munsif - Hyderabad

SWAMI LAXMI SHANKAR ACHARYA - ISLAM DAHESHTGARD YA MISALI DEEN

courtesy: Munsif Hyderabad

QAFQAZ KI SURATEHAL AUR ISLAM PASAND TAHERIKEIN

courtesy Munsif Hyderabad


FALSAFA QURBANI - Dr. Mohmmed Tahir Qadri


EIDE QURBAN: AZME NAU AUR TAJDEEDE AHAD KA DIN


EID-AL-ADHA Hafiz Akif


Tuesday, 9 October 2012

UMMAT MUSLIMAH PAR YE WAQT BHI AANA THA

امت ِمسلمہ پر یہ وقت بھی آنا تھا!

خداوندا! امت ِمسلمہ پر یہ وقت بھی آنا تھا۔ مغربی دنیا تواتر کے ساتھ ہمارے دلوں سے ’’روحِ محمدؐ‘‘ کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہم سے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں دنیا کے تمام تر رشتوں کی محبت سے اولیٰ آپؐ کی محبت ہونی چاہیے۔ لیکن ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ہم ان دین دشمنوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جوش میں آتی ہے تو ہم اس کا اظہار محض احتجاجوں کے ذریعے کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ہمارا احتجاج ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہماری حالت تو اس شخص کی سی ہوگئی ہے جسے محلے کے شریر بچے مختلف انداز میں چھیڑتے رہتے ہیں لیکن وہ بیچارہ سوائے چیخ و پکار کے کچھ نہیں کرسکتا۔ ہمارے لیے زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بھی بدتر ہوگئی ہے اور ہمارا بس نہیں چلتا کہ ہم زمین کے پیٹ میں سما جائیں۔ اس بے بسی کے عالم سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اب ہم نے وہی حرکت شروع کردی ہے جو وہ پاگل کرتا ہے کہ شریر بچوں کی ایذ ا رسانی سے تنگ آکر ہاتھ میں پتھر اٹھالیتا ہے۔ لیکن کیا اس طرح ہم اس اذیت سے نجات پاجائیں گے؟ اس کا جواب ہمیں صرف اس صورت میں مل سکتا ہے جب ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں رہنمائی حاصل کریں۔
مکی دور میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ چاہے تمہارے چیتھڑے اڑا دئیے جائیں، تمہیں جوابی کارروائی نہیں کرنی ہے، البتہ اپنے دین پر ڈٹے رہنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس زمانے میں بھی کفار و مشرکین کی جانب سے توہین آمیز کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہی لوگ جو نبوت سے قبل آپؐ کو صادق اور امین کے نام سے پکارتے تھے،اب شاعر، ساحر اور مجنون جیسے القابات سے نوازنے لگے۔ اس طرح توہین آمیز کارروائیوں کا آغاز ذہنی اذیت پہنچانے سے ہوا۔ صرف اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ جسمانی تشدد سے بھی باز نہ آئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی یہ موصول ہوئی کہ (’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) ہمیں خوب معلوم ہے کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس سے آپؐ کا سینہ بھنچنے لگتا ہے‘‘۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ آپؐ صبر فرمائیں، خوبصورت صبر۔‘‘ اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات پر پوری طرح عمل کیا۔ کیا ان حالات سے صحابہ کرام ؓکو تکلیف نہیں پہنچتی تھی؟ لیکن انہوں نے بھی صبر سے کام لیا اور ہاتھ کے بندھے رکھنے کے حکم پر پوری طرح عمل کیا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرامؓ نے دین کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ آج امت ِمسلمہ کی صورت حال مکی دور کے مسلمانوں کی صورت حال سے مختلف نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جسمانی تشدد کا کلائمکس سفرِ طائف کے موقع پر ہو ا جس کے بارے میں خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ پر طائف کے واقعے سے زیادہ کوئی واقعہ شدید نہیں گزرا۔ اس موقع پر آپؐ کے ساتھ وہ جلیل القدر صحابی موجود تھے جن کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور ان کی جاں نثاری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے انکار کرکے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو آزادی پر ترجیح دی تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکے ہوئے پتھروں کو اپنے سینے پر روک کر آپؐ کا دفاع کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس موقع پر بھی کوئی جوابی کارروائی نہیں کی کیونکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا۔ ہم نہ قرب کے اعتبار سے اور نہ ہی جاں نثاری کے اعتبار سے ان کی گرد کو پہنچ سکتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا اندازہ اس دعا کے الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے جو اس موقع پر انہوں نے اللہ سے فریاد کرتے ہوئے کی:
’’بارِالٰہا! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ یا ارحم الراحمین! تُو کمزوروں کا رب ہے اور تُو ہی میرا بھی رب ہے۔ تُو مجھے کس کے حوالے کررہا ہے؟کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تُو نے میرے معاملے کا مالک بنادیا ہے؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تُو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب مجھ پر نازل ہو۔ تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تُو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔‘‘
اب ذرا ہم اپنا جائزہ لے لیں۔ ہم جو عشقِ رسولؐ کا دم بھرتے ہیں، دعوتِ دین کا کتنا کام کررہے ہیں؟ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ کام نہیں ہورہا، بلکہ ساری دنیا میں لاکھوں افراد اس کام میں پورے خلوص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، لیکن غور کی بات یہ ہے کہ اس کا کیا نتیجہ برآمد ہورہا ہے! اگر مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم نے قرآن کو دعوتِ دین سے خارج کررکھا ہے، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ آپ ؐ نے دعوت ہمیشہ قرآن کے ذریعے دی۔ مزید برآں، ہم دین کی دعوت دینے کے بجائے مذہب کی دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے مختلف گوشوں مثلاً معاشرت، معیشت اور سیاست پر گفتگو ہی نہیں کرتے، لیکن دعویٰ پھر بھی پورے دین کی دعوت کا کرتے ہیں۔ سارا زور امر بالمعروف پر ہے اور اس سے اہم تر فریضے نہی عن المنکر کو فراموش کیا ہوا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینے تشریف آوری کے بعد آپؐ کو جو تمکن حاصل ہوا تو پھر آپؐ نے ہر توہین کرنے والے کی نشان دہی کرکے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ اس کی ایذا سے مجھے کون نجات دلائے گا۔ اس طرح ہر توہینِ رسالت کا مرتکب اپنے انجام کو پہنچا۔ لیکن تمکن کے حصول کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محض دعوت تک ہی معاملے کو محدود نہیں رکھا بلکہ جن کو دعوت و تربیت کے مراحل سے گزارا گیا تھا انہیں باطل نظام سے ٹکراکر اس پر غلبہ حاصل فرمایا۔ ہم بھی اگر یہ کام کریں تو اپنے اپنے ممالک میں جاری باطل نظاموں کی بیخ کنی کرکے اسلام کے نظام عدلِ اجتماعی یعنی نظام خلافت کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ اور اگر کسی ایک ملک میں بھی یہ نظام قائم ہوگیا تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ تمام اقوام عالم کو عدل کی ضمانت مل جائے گی اور توہینِ رسالت اور توہینِ قرآن جیسے فتنے خود ہی دم توڑ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ امت ِمسلمہ کو اس کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔ اس وقت تک صبر و تحمل کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے اور پُرامن احتجاج کے ذریعے دنیا کو بتادینا ہے کہ ’’روح محمدؐ کو مسلمانوں کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔‘‘ ورنہ اگر ہم نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو اس سے مغرب کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ مسلمانوں کے عدم برداشت کے رویّے نے انہیں دہشت گردی کا عادی بنادیا ہے۔

INTERNET KA ZAMANA

انٹرنیٹ کا زمانہ
ایک تحفہ ایک خطرہ؟

ریڈیو ،ٹیلی ویژن اور رسائل وجرائد میں بیک وقت اچھا ئیا ں اور تباہ کاریاں دو نو ں اپنی جگہ مو جو دہیں۔ انٹر نیٹ کی انقلا ب آفریںایجاد بھی اپنے دامن میں ذرائع ابلاغ کی مفید اور نتیجہ خیز بلا ئیو ں کے ساتھ ساتھ تباہ کاریوں اور برائیوں کی پکی فصلیںاپنے وسیع وعریض دامن میں سمیٹے لائی ہیں ۔انٹرنیٹ کاا سکرین آ ن کیجئے تو اس کے صفحات جہا ں آ پ کے سامنے اپنی با نہیں کھو ل کر آ پ کو خو ش آمدید کہے گا اورچشم زدن میں آ پ کو علم ، ٹیکنالوجی، ترقی اور ما ضی ، حال اورمستقبل کی پرچھا ئیو ں کی سیر کرا ئے گا، وہیں وہ تمام عریاںوفحش مناظر ، ایمان متز لزل کر نے والے ویڈیواور اخلاق سوز تصاویر تک کی ایک تا ریک دنیا میں دھکیل کر آ پ کی شرافت، تہذ یب، انسا نی اقدار اور ضمیر ، کی روشنی بھی سلب کر سکتا ہے ۔ عام عریاں جرائد ورسائل بھی جس ننگے پن اور ما در پدر آزادکلچر کی نما ئندگی سے قاصر رہتے ہیں ،اسے کھلم کھلا نشر کرنے سے خوف کھا تے ہیں یا لا ج شرم ان کے آ ڑے آ تی ہے وہی چیز بغیر کسی ہچکچاہٹ کے الیکٹرانک میڈ یا کے توسط سے یا گھر بیٹھ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دکھا ئی جا تی ہے ۔ اس کے کتنے زہر یلے اثرات نو جو انو ں پر پڑتے ہیں اس کا الفا ظ کی تنگنا ئیو ں میں احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔بعض اسلامی ممالک نے اس طوفان بد تمیزی کو روکنے کے لئے عریاں، فحش اور جذ با ت کو برا نگیختہ کر نے والی ویب سائٹس بند کر نے کی کوششیں کیں لیکن روز کتنی ایسی websitesوجود میں آتی ہیں ، اس کا شما ر نہیں۔ یہا ں تک کہ ایک غلیظ websiteاگر آ ج ایک نام سے بند ہو تی ہے تو دوسرے عنوانات سے یا دوسرےwebsitesکے ضمن میں اس تک رسائی حاصل کر نا کوئی مشکل نہیں۔
اصولی طورانٹرنیٹ ایک تعلیم اور تعلم کے میدان میںایسی شاہر اہِ عظیم ہے جس پر چلنے کے بعد انسان کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والا فرد چا ہے وہ اسٹو ڈنٹ ہو یا ٹیچر،ڈاکٹر ہو یا انجینئر ،صحافی ہو یاسیاست داں ، بچہ ہو یا والدین ،ان سب کو نہ صرف اپنی اپنی لائن سے متعلق وسیع ترمعلومات دستیاب ہو تی ہیں اور ان کی ذہنی نشوونما اور معلو ما ت کا خزینہ ہر پل بڑ ھ جا تا ہے بلکہ اپنے اپنے دائرہ ٔ کا ر سے متعلق دیگر ایکسپرٹ افراد سے تبادلۂ خیالا ت کا مو قع بھی ملتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک انتہائی مفید ایجاد ہے جس کا مقصد دنیا کی بھلائیوں سے ہی استفادہ کر نا نہیں بلکہ اس کی وساطت سے ہم کو دینی رہنمائی کا ایک سنہرا مو قع بھی حاصل ہو سکتا ہے کیو نکہ آ ج کل ایسی سائٹو ں کی کو ئی کمی نہیں جن سے علمائے کرام کے وعظ وتبلیغ او دیگر مذہبی سر گر میو ں سے بھر پور استفا دے کا بخوبی مو قع ملتا ہے۔ وائے افسوس اسی انٹرنیٹ پر وہ شیطا نی مو اد اور ابلیس کو شرمندہ کر نے والی ایسی ہیجا ن انگیز فلمیں اور بر ہنہ تصویریں بھی دستیا ب ہو تی ہے کہ کو ئی بھی انسان جس کے دل ودما غ مین یہ خیا ل سکہ طور بیٹھا ہو کہ کو ئی اس کی بھی ماں بہن بیٹی اور بیو ی ہے وہ ان سائٹوں سے اللہ کی پناہ ما نگتا ہے۔ با لفا ظ دیگر انٹر نیٹ ایک تلوار ہے جو اگرملک وملت اور قانو ن واخلاق کے کسی محا فظ کے ہا تھ میں ہے تو دشمن پر اس تلوار کی ہر ضرب دوستو ں کے لئے حفاظت اور نگہداشت کی ضما نت ہے اور جب یہی تلوار ایک ڈاکو اور لٹیرے کے ہا تھ میں ہو تو اس کا استعمال کسی بھی صورت میں انسانیت کے لئے ضرر رساں ہونے میں اختلاف کی کو ئی گنجائش نہیں ۔ صحیح تر الفا ظ میں یہ اس اہم سائنسی نعمت کا استعمال ہے جو اس کو برا یا بھلا بنا دیتا ہے۔ بد قسمتی سے انسان جب اللہ کے مقرر کردہ حدود وقیود کو پھلا نگ کر اس کی عطا کردہ نعمتوں کا نا جا یز استعمال کر تا ہے تو چا ہے کو ئی چیز کتنی ہی مفید ہو اس کا وجود ضمیر کی آ نکھ کو اند ھا، اخلاق کے دل کو مردہ، انصاف کے کا ن کو بہرہ اور اصول کی زبان کو گونگا کر دیتا ہے۔ بہ نظر غا ئر دیکھا جا ئے تو انٹر نیٹ کا جا یز استعمال کم اور غلط استعمال پوری دنیا  ، تما م ملتو ں اور جملہ قومو ں میں زیا دہ ہو رہا ہے ۔ اس کے ذریعے اخلا قیات کی متاع گراں ما یہ کو لو ٹنے کی غرض سے مغربی تہذیب کی بے ہو دہ روایات ، ننگا پن ، فحش کا ری اورلغو یات کا سیلا ب مشرق کی ’ خشک سالی‘ دور کر نے کے لئے سونا می کی صورت میں امڈا آ رہا ہے ۔خصوصا ًہماری ریاست میں جو اقتصادی اور سما جی طور پسماندہ اور بیک ورڈ سمجھی جا تی ہے لیکن ہمیں فخر ہے کہ یہاں اب بھی شرم وحیا معاشرتی زندگی میں حددرجہ اہمیت کی حامل ہے۔ صوفی سنت اور ریشیوں کی اسی سر زمین پر انٹر نیٹ کی تباہ کا ریاں درآ مد کی جائیں تو اس کا نتیجہ یہ کیو ں نہ نکلے کہ نو جو انو ں میں بے راہ روی اور آورا گی فروغ پا ئے، منشیا ت کا دھندا خوب چمکے، جسم فروشی کا ننگ انسانیت پیشہ تک پھلنے پھو لے لگے، لا لچ کا پیٹ بھر نے کے لئے ارتداد کا زہر فروخت ہو نے لگے ، بے غیرت بھا ئی بہن کو قتل کریں تا کہ ایکس گریشیا ریلیف حاصل کر سکیں اور سنگدل با پ اپنی پھول چہرہ بیٹی کو اس وجہ سے ذبح کر ے تا کہ پنچو ں کو کو ئی گزند پہنچنے کی صورت میںما لی امداد حاصل ہو۔ انہی دلدوزواقعات پر بس نہیںہو گا بلکہ اس بھی آ گے شیطان کا سفر تخریب و بد بختی چلتا رہے گا اگر الیکٹرا نک میڈ یا سماجی اصلا ح کی بجا ئے اپنا مخر ب اخلاق رویہ جا ری رکھے گا۔ دلچسپ بات تویہ ہے کہ ان حالا ت و کو ائف کو نظر انداز کر تے ہو ئے ارباب اقتدار انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہر شہر ودیہات میںمتعارف کرانے کے نام پہ انٹرنیٹ کنکشن کا حصول کو اتنا آ سا ن بنا رہی ہے جتنا کہ ضروریات زندگی مثلا ً اشیا ئے خوردنی، بجلی ، گیس اور دیگر اجنا س کو سہل الحصول بنا نا چا ہیے تھا ، تما م مو با ئل کمپنیا ں انٹر نیٹ کی سہولت ہر انسان کے جیب میں پہنچا نے کی غرض سے ان سہو لیا ت کو روز بروز سستاکر رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جو نو جو ان اپنی جسما نی اور ورحا نی صحت مندی پر ایک دمڑی تک خر چ کر نے کی بجائے اسی غمزہ ٔکا فر ادا میں گم ہو کر اپنی پاکٹ منی تک خو شی خوشی لٹادے اوربد لے میں انتہائی بیہودہ اور فحش ویب سائٹ کی سولی پر چڑھ کر معاشرے کے لئے بد نمادھبہ بن جائے ،نتیجہ یہ کہ فحاشی اور عریانیت کو فروغ دینے والی  websitesطوفان کی طرح ہر جا نب سے امڈ آرہی ہیں۔اس وجہ سے ہماری نوجوان نسل اس قدر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے کہ لگتا ہے قیا مت سر پر آ ن کھڑی ہے۔
آج جب ہما ری ملت کابے راہ ر نوجوان انٹر نیٹ پر شہوانیت کے نت نئے تما شوںسے خدا کے پسندیدہ اصولو ں کی خلا ف ورزی پر اُتر آ تاہے تو وہ یہ دیکھتا ہی نہیں کہ اس نئے شیطا ن کی آ غو ش میں وہ ماں بہن ،بیٹی جیسے پاک رشتو ں کی تکریم سے ہا تھ دھو رہا ہے۔ (اللہم احفظنا منہ ) انٹرنیٹ کی ایک ابلیسی سہولت یہ بھی ہے کہ کہ چیٹنگ یامراسلت کے ذریعہ طویل اوقات تک بیماردل نوجوان غیر عورتوں سے اور عورتیں غیر مردوں سے ہرطرح کی فحش اور غیر اخلاقی گفتگو بڑی بے فکری کے ساتھ کرتے رہتے ہیںبلکہ بارہا کو ئی شرارتی لڑکا اپنا الو سیدھا کر نے کے لئے خود کو لڑکی ظاہر کر کے دوسروں کو دھوکہ میں رکھتا ہے ۔ اس انتہائی درجہ کی اخلا قی پستی پر پہنچ کر شاید مغربی معاشرہ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پو ٹ ہو رہا ہو ۔یہی نہیں بلکہ بہت ساری انٹرنیٹ کمپنیاںقابل اعتراض سروس مفت فراہم کرتی ہیں ۔جیسے ہی آپ نے انٹرنیٹ کو آ ن کیاوہ آپ کو آپ کی پسندیدہ ( نا پسند یدہ کہنا مو زو ں ہے)  جگہوں پر پہنچادیں گی۔ اس کا چلن اگر چہ ہندوستان میں ابھی کم ہی ہے مگر بیرونی ممالک میں جاکر پتہ چلتا ہے کہ یہ وبا کس قدر تیزی کے ساتھ یہ وبا پھیل رہی ہے ۔ بظا ہر اس میںآپ کا ایک پیسہ بھی صرف نہیں کرنا ہوتا کیوں کہ یہ کمپنیاں اپناسارا منافع اشتہاروں کی شکل میں ایڈوانس وصول کر لیتی ہیں۔ جونہی کو ئی اس شیطا نی کا رگاہ کی طرف قدم بڑ ھا تا ہے تو جا بجا بدقماش و ذلیل طوائفوں کی برہنہ تصاویر آنی شروع ہو جاتی ہیں اور جس شخص کے زیرا ستعمال انٹرنیٹ ہو اس کے تفنن طبع کے لئے اپنے نیم بر ہنہ اور بسا اوقات الف ننگے بدن سے اس کا استقبال کر تی ہیں کہ ما رے شرم کے سر جھک جائے ۔
راقم الحروف اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ انٹرنیٹ کے جہاں بے شمار مثبت نتائج ہیں ،وہاں یہ انٹرنیٹ جرائم اور غلط کاریوںکے فروغ کا سب سے بڑاہتھیار بن رہا ہے۔امریکہ میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے جرائم اس قدر تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں کہ یہ خیال عام ہو چلا ہے کہ اس صورتحال پر قابو پانا اب ناممکن ہے کیوں کہ یہ بے راہ روی کی جانب لے جانے والاسب سے مہلک شیطا نی حر بہ بن چکا ہے ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ یہ آج طلاق کا سب سے بڑا سبب بنتا جارہا ہے ۔ نہ جانے کیسے کیسے دل دہلادینے والے واقعات صرف اس لئے رونما ہو رہے ہیں کہ انٹر نیٹ نے غلط اور گناہ گا رانہ طرزعمل اپنا نے کا راستہ کھو لا۔اس بنا پر عام آدمی حیران وپریشان ہے کہ اور تو اور دنیا کو ہدایت کی راہ پر گا مز ن کرا نے کے لئے ما مو ر امت یعنی امت ِ مسلمہ انٹر نیٹ کی کرم فر ما ئی سے کس طرح دین سے دور ہو کر مغرب کی بدکارانہ گود میں جارہی ہے ۔
  ریاست کے نوجوانوں کی بے راہ روی کے بہت سے اسباب وعلل ہیں ۔ ان میں ہمارے نوجوانوں کے بگاڑ کا ایک سبب انٹرنیٹ کی کا رستا نیا ںاور تبا ہ کا ریا ں ہیں۔ چونکہ دین اسلام جیسی عظیم وراثت کوہم اپنی حقیقی زندگی سے بے دخل کر چکے ہیں اس لئے یہ برائیاں ہمارے تعاقب میں ہیں ۔ اگر ہم خلو ص دل کے ساتھ اس سچویشن کو بدلنے کی آ رزو اور اس سلسلے مٰن ایک واضح نقش ِ راہ رکھتے ہیں تو ہمیں نوجواں پو د کی اخلا قی تعمیر نو کے لئے اسی جذ بہ کے ساتھ آ گے آ نا ہو گا جس جذ بے کو غالباً علامہ اقبال نے واویلا کر تے ہو ئے جو انو ں کو مخا طب کر کے اظہار کی زباں دی تھی   ؎
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن ا ٓسانی
امارت کیا شکوہ ِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی
 جو انو ں کی تن آ سانی اور نفس پر ستی جیسے امراض کا علاج کر نے اور ان میں زور ِ حیدریؓ اور استغنا ئے سلمانیؓ پیدا کر نے کے لئے ہم سب مل کر آ ج کل کے جدید ٹیلی مو اصلا تی ایجا دات کے صحیح استعمال کا چلن  عام کر یں اور ان کے مخرب اخلا ق اثرات سے خودکو بچا نے کے علاوہ دوسروں کو بھی ان سے محفو ظ رکھنے مٰن اپنا کلیدی کردار ادا کر یں ۔ اس سلسلے میں والدین، اساتذہ ،بچو ں بچیو ں اور معاشرے کے تما ذی حس لو گو ں بشمول میڈ یا اور ادیب ودانش وروں اور ائمہ مساجد وسماجی اصلا ح کا روں کا ایک اہم کردار بنتا ہے جس کو ہر ح ال مین نبھا نا ہو گا۔تب جا کر انٹر ینٹ کی پھیلا ئی ہو ئی وبا ئی بیماریو ں کا قلع قمع ہو سکتا ہے ۔  

ROBOT TECHNOLOGY KE LAMAHDUD IMKANAT

روبوٹ ٹیکنالوجی کے لامحدود امکانات


روبوٹ ایک خود کار مشین ہے  جو کمپیوٹر  پروگراموں کی بدولت کا م کرتے ہیں۔ یہ شعبہ جدید ٹیکنالجی کا بھرتا ہوا شعبہ ہے اور مستقبل قریب میں اس سے سائنس دانوں نے کافی امیدیں باندھ کریں ہیں۔ حال ہی میں جاپانی سائنس دانوں نے انسانی خصوصیات کا حامل ایک نیا روبوٹ متعارف کرایا ہے جسے سونامی اور زلزلے سے تباہ ہونے والے 'فوکو شیما جوہری بجلی گھر' کے بحران سے نمٹنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔جاپان کی ہونڈا موٹر کمپنی کی جانب سے ٹوکیو کے نزدیک منعقدہ ایک تقریب میں نئے روبوٹ کی رونمائی کی گئی جو کمپنی کے ’اسیمو‘ روبوٹ سیریز کا نیا ورژن ہے۔نیا روبوٹ نو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے اور پیچھے کی جانب دوڑنے کے علاوہ ایک فٹ تک چھلانگ لگانے، بند کنٹینر کو کھولنے اور گلاس میں مائع  سیال  انڈیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔روبوٹ تیار کرنے والے سائنس دانوں بتایا کہ روبوٹ انسانی صورتوں کو پہنچاننے اور انہیں ردِ عمل دینے اور بیک وقت پکار کر دیے گئے تین مختلف احکامات  پر عمل درآمد کر سکتا ہے۔'ہونڈا' کا کہنا ہے کہ وہ  'فوکو شیما جوہری بجلی گھر' کے منتظم ادارے 'ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی' کے اشتراک سے تباہ شدہ بجلی گھر کی صورتِ حال پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ بجلی گھر کے ایٹمی ری ایکٹرز رواں برس مارچ میں آنے والے زلزلے اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے سونامی  کے باعث  متاثر ہوئے تھے۔ ادھرامریکی حکومت نے حال ہی میں ایک نیا روبوٹ متعارف کرایا ہے جس میں ہر ہفتے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہزاروں کیمیکلز کی نشان دہی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس روبوٹ کے ذریعے نہ صرف لیبارٹریوں کی کارکردگی بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ مختلف چیزوں میں موجود مضر اجزا کی جانچ کے لیے انہیں  جانوروں پر آزمانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اس نئے تیز رفتار روبوٹ کو ماہرین ایک انقلابی اقدام کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے امریکی ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ کابلیک کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک سائنس دان  سال بھر میں دس یا 20 کیمیائی مرکبات پر کام کرسکتا ہے لیکن نیا روبوٹ ہر ہفتے ایک ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نئے روبوٹ پر پانچ بڑی امریکی وفاقی اداروں نے مشترکہ طورپر سرمایہ کاری ہے۔ یہ پانچوں ادارے کیمیائی مادوں کی جانچ پڑتال کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان اداروں میں ای پی اے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ بھی شامل ہے۔ روبوٹ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں موجود رہے گا۔ایک منصوبے کے تحت زہریلے اور صحت کے لیے نقصان دہ کیمیائی مرکبات کا ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے ایک لائبریری بنائی جارہی ہے۔ فی الحال امریکہ میں ایسی کوئی لائبریری موجود نہیں ہے۔اس وقت روبوٹ کو صنعتی شعبے  ،مصنوعات ، خوراک اور ادویات میں انسانی صحت کے لیے مضر اجزا کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔تیزی سے ٹیسٹنگ کی  سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روبوٹ میں ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کسی وقفے کے بغیر مسلسل کام کرسکتا ہے۔ اسے چھٹی کی ضرورت ہے اور نہ ہی آرام کے لیے وقت درکارہے۔اس سے قبل بعض تجربات جانداروں پر کیے جارہے تھے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اب یہ کام بھی روبوٹ ہی سنبھال لے گا۔ آجکل انسان کے زیر استعمال بہت سے کیمیائی مرکبات کے تحفظ کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں۔ ہر سال تقریباً 15 سونئے کیمیکلز مارکیٹ میں متعارف کرائے جاتے ہیں۔ نیا روبوٹ سائنس دانوں کو نئے کیمیکلز کی ایک واضح تصویر پیش کرے گا جس سے انہیں مضر صحت اجزا سے پاک کرنے میں مدد ملے گی۔ نسل انسانی بقاء کیلئے سائنس دانوں کی نظر روبوٹوں پر ہے۔امریکہ میں مقیم ریمنڈ کرزوائل کی عمر اس وقت 63 سال ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اگر وہ خود کو 2050ء تک زندہ رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو پھروہ اپنے آپ کو روبوٹ میں  تبدیل کر لیں گے۔نیویارک میں رہنے والے کرز وائل ،سائنس دان اور کمپیوٹر کے ماہر ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں انہوں نے دنیا اورانسانیت کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ وہ کئی ایجادیں کرچکے ہیں جن میں الیکٹرانک کی بورڈ اور ایک ایسا آلہ بھی شامل ہے جس کے ذریعے نابینا افراد ہر کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے وہ ایسی خوراک پر کام کررہے ہیں جس سے انسان لمبے عرصے تک جی سکے۔کرزوائل کے پاس 13 یونیورسٹیوں کی پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگریاں ہیں اور وہ فلسفہ، روحانیت اور سائنس سے متعلق کئی تنظیموں کے عہدے داروں میں شامل ہیں۔کرزوائل کہتے ہیں کہ 21 ویں صدی کا انسان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ہمیشہ زندہ رہنے کا موقع موجود ہے۔ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے والے پہلے شخص بننا چاہتے ہیں۔ کرزوائل کا کہناہے کہ میڈیکل شعبے میں ترقی سے انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ہورہاہے۔ اکثر ترقی یافتہ ملکوں میں اوسط عمر 80 سال سے بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2050ء تک ایسے لوگ بڑی تعداد میں نظر آئیں گے جن کی عمریں سوسال سے زیادہ ہوں گی۔ ان کے اعضاء قوی اور ذہنی صلاحیتیںبرقرار ہوں گے اور وہ اپنے معمولات عام افراد کی طرح سرانجام دینے کے قابل ہوں گے۔کرزوائل کہتے ہیں کہ 2050ء سے پہلے پہلے طبی شعبے میں حیرت انگیز تبدیلیاں آئیں گے۔ علاج معالجے کا طریقہ کار یکسر بدل جائے گا۔ ٹیکنالوجی کے فروغ سیانسانی اعضا بنانا آسان ہوجائے گا۔ مشینوں اور موٹر گاڑیوں کے کل پروزوں کی طرح انسان اپنے خراب اعضا کاعلاج کرانے کی بجائے انہیں باآسانی تبدیل کراسکے گا۔مستقبل کانقشہ پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بیماریوں کے علاج کے لیے آج کل کی دواؤں کی بجائے نینو ٹیکنالوجی سے کام لیا جانے لگے گا اورجوہری سطح پر کام کرنے والی یہ ٹیکنالوجی جسم کے بیمار حصے میں پہنچ کر، کسی دوسرے حصے کو متاثر کیے بغیر اسے ٹھیک کردے گی۔ کرزوائل کہتے ہیں کہ مستقبل کے انسان کی غذا زیادہ تر وٹامنز اور معدنیات پر مشتمل ہوگی جو اسے طویل عرصے تک زندہ اور صحت مند رکھیں گے۔ وہ 2050ء تک خود کو زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ 150 سے زیادہ وٹامن اور معدنیات استعمال کررہے ہیں۔ روزانہ پانی کے آٹھ کلاس اور سبز چائے کے دس کپ پیتے ہیں۔ گوشت ، چکنائی اور چینی سے پرہیز ، باقاعدگی سے ورزش اور ہر مہینے اپنا طبی معائنہ کراتے ہیں۔ تاہم کرزوائل ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صرف میڈیکل کے شعبے کی ترقی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ اسے ہمیشہ کی زندگی کی سیڑھی پرایک قدم سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انسان اس زینے پر چند قدم اور چڑھ کر ہمیشہ کے لیے جی سکتاہے۔
 سوال یہ ہے کہ کیسے؟ زیادہ ترسائنس دانوں کا خیال ہے کہ تمام ترسائنسی ترقی کے باوجود انسانی جسم سے لامحدود عرصے تک کام نہیں لیا جاسکتا اور نہ ہی زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ گوشت پوست سے بنا جسم آخر کس حد تک ساتھ دے سکتاہے؟ ڈیڑھ دوسوسال یا اس سے کچھ زیادہ اور پھر اس کے بعد۔؟کرزوائل کا جواب بہت سادہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تب بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ مگرکیسے…؟ کرزوائل کا خیال ہے کہ اس کے بعد ٹیکنالوجی انسان کو زندہ رکھے گی۔ وہ کمپیوٹر میں انسان کا مستقبل دیکھ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کمپیوٹر کو انسان پر سبقت حاصل ہوجائے گی اور وہ انسانوں کے احکامات کی تکمیل کی بجائے خود سوچنے اور خود فیصلے کرنے لگے گا۔ وہ ذہانت میں انسان کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔کرزوائل اپنی ایک کتاب میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر کئی پیش گوئیاں کرچکے ہیں، جن میں سے کئی ایک حرف بحرف اور کئی ایک جزوی طورپر پوری ہوچکی ہیں۔حال ہی میں آئی بی ایم کے ایک کمپیوٹر واٹسن نے ذہانت کے مقابلے میں تمام انسانوں کو شکست دے کر77 ہزار ڈالر کا انعام جیتاہے۔کرزوائل کا نظریہ ہے کہ اس سے پہلے کہ ذہانت رکھنے والا کمپیوٹر انسان پر حاوی ہوکر اسے اپنا غلام بنا لے، انسان کو اس کے اندر داخل ہوجانا چاہیے۔ بظاہر یہ نظریہ کسی سائنس فکشن فلم جیسا لگتا ہے ، مگرکرزوائل مستقبل میں ایسا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ کئی تجزیہ کار ان کے اس تصور کو روحانیت کے قریب تر سمجھتے ہیں ، جس کے مطابق جسم فنا ہوجاتا ہے مگر روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور بعض روحانی علوم کے ماہرین کے خیال میں روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوسکتی ہے۔ کرزوائل بھی منتقلی کی ہی بات کرتے ہیں۔کرزوائل کے نظریے کی وضاحت میں ماہرین کا کہناہے کہ انسان کو اس کا دماغ کنٹرول کرتا ہے۔ دماغ کمپیوٹر کی طرح ایک مخصوص برقی نظام پر کام کرتا ہے۔ اور یہی نظام غالباً اس کی اصل روح ہے۔کمپیوٹر کے برقی نظام کو، جو اس کے آپریٹنگ سسٹم ، یاداشت اور دوسری چند چیزوں پر مشتمل ہے، اسے دوسرے کمپیوٹر یا کسی ہارڈ ڈسک میں منتقل کیا جاسکتا ہے، اس کی نقل تیار کی جاسکتی ہے، اسے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ روبوٹ کی شکل کے ذہین کمپیوٹروں  میں ایسی چپ نصب ہوگی جس پرانسانی دماغ کا برقی آپریٹنگ سسٹم اور اس کی یاداشت کو منتقل کرنا ممکن ہوجائے گا۔لیکن وہ عام روبوٹ نہیں ہوں گے، بلکہ انسان ہوں گے مگرروبوٹ کی شکل میں…غالباً رے کرزوائل نے ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اسی سمت اشارہ کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ 2050ء کا پہلی انسانی روبوٹ ریمنڈ کرزوائل ہی ہو۔
موبائل نمبر :-9906834557
courtesy: Kashmir Uzma Sringar

SHOBAE TALEEM MEIN ISLAHAT KI ASHAD ZAROORAT

Courtesy: Etemad

Sunday, 7 October 2012

SHADI BEYAH KI BEHUDA TAQREEBAT

شادی بیاہ کی بے ہو دہ تقریبات
لغویا ت کے پھندے میں احساسات کی موت


آج کل شادیوں کا موسم بہار چل رہا ہے ۔ وادی کے چہار اطراف شادی بیا ہ کے شادیا نے بج رہے ہیں۔ ازدواجی زندگی کی ڈور میں بند ھنا ایک مقدس رشتہ کی ابتداء اور انسانی تمدن کا آغاز ہے۔ خوشی کے اس موقع پر دعوتوں کی تقریب منعقد کرنے سے اول شہرت واعلا ن کا شرعی کی شرط وپ ری ہو تی ہے ، دوم یہ ایک ایسا خو شگوار سما جی عمل ہے جو حیا ت اجتما عی کے تانے بانے کو مستحکم بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ با لعموم اس نو ع کی تقا ریب سے رشتوں میں مٹھاس بھر جا نے کے ساتھ ساتھ تعارفی مجلس کا بنابنا یا اہتما م بھی ہو تا ہے جس سے رشتے کی وساطت سے دوخا ندانو ں یا گھرانو ں کے درمیان تعارف بھی ہو جا تا ہے ۔ دوریا ںقر بتو ں میں بدل جا تی ہیں اور کل تک کے دو اجنبیو ں میں با ہم دگرمزاج شنا سی کا ایک اچھا مو قع فراہم ہو تا ہے۔ مزید برآ ںآج کل کی بھا گ دوڑ والی زندگی میں اسی بہانے عزیز واقارب، دوست و احبا ب اور رشتے داروں وغیرہ کو آپس میں ملنے جلنے کا فرصت بھی مل جا تی ہے ۔ یو ںدوست و احباب اور ہمسائے وغیرہ صاحبِ دعوت کے یہا ںضروری کاموں میں اپنا ہاتھ بٹاکر اپنی محبت و شفقت کا اظہار کرتے ہیں اورسب لوگ مل جل کر خوشیاں مناتے ہیں۔ اس طرح یہ عمل ہر معنیٰ میںنہایت ہی مستحب قرار پاتا ہے۔ ان دنو ں ہر کسی کو کہیںنہ کہیںسے شادی کی دعوت میں شریک ہو نے کا موقعہ ملتا رہتا  ہے۔ مجھے بھی اِس برس کئی ایک شادیوں میں شر یک طعام ہونے کا موقعہ ملا۔شادیوں کے سلسلے میں پر مسرت تقریبات کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ عمل غالباً اُتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ ازدواجی رشتوں کے بندھن کی تاریخ۔ ہاں یہ بات ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِن تقریبات کے انعقاد کے طور طریقوں اور مقا صدمیں تبدیلیاں در آتی رہی ہیں۔ کسی بھی سماجی تقریب کے انعقاد میں جن باتوں کا بنیادی عمل دخل ہوتا ہے اُن میں اُس سماج کی تہذیب، تمدن ،ثقافت ،رہن سہن کے طور طریقے ، کھانے پینے کی عادتیںاور روایات شامل ہیں۔ دراصل اِن ہی باتوں کو بنیاد بنا کر اور اِن ہی اصولوں کو خاطر میں لاکر سماجی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ہمارے یہاں آ ئے دن شادی بیا ہ کی جو تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ، اُن کی اپنی روایات ہیں جو ہماری تہذیب کے ساتھ میل کھاتی ہیں۔ جب بھی اُن روایات کی بنیاد پر شادی کی تقریب منعقد کی جاتی ہے تو میزبان کے ساتھ ساتھ مدعو مہمان بھی تقریب کا پورا لطف اٹھاتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ روایات و تمدن کی پاسداری سماج کیلئے مثبت نتائج کا موجب بنتی ہے۔ اِس کے برعکس جب شادی کی تقریب میں روایات و تہذیب کو بالائے طاق رکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ پورے سماج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ تقریب کا انعقاد بھی سنجیدگی کے لحا ظ سے ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔
 چنانچہ شادی دو اجنبی افراد کے ازدواجی بندھن کا نام ہے۔ اِس کے ذریعے جہاں ایک لڑکا اورایک لڑکی آپس کے تا حیات ازدواجی رشتے میں بندھ جانے کا عہد با ندھتے ہیں ،وہیں دو کنبوں اور دو خاندانوں کا ملن بھی ہوتا ہے۔نئے رشتوں کا وجود میں آنا انتہائی خوشی کی بات ہے اور اِس معاملے کی نسبت خوشیاں منانا فطرت کا تقاضاہے۔ اسی بنا پر سما ج میں ہمیشہ سے شادی بیاہ کے موقعے پر عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو مدعو کرکے مشتر کہ طور خوشیوں اور شادما نیو ں کااظہار کیا جا تا ہے۔ ہما رے یہا ں یہ روج پا میا جا تا ہے کہ شادی کی تقریب بیک وقت دو نو ںمتعلقہ گھرانوں میں منعقد کی جاتی ہے۔ دلہن کے گھر میں بھی اور دولہے کے گھر میںبھی ۔ ہماری شادیوں میںروایتی طور پر تین دن کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں: حنا بندی، مسند نشینی اور ولیمہ۔ تینوں ایام کے جو نام ہیں وہ تقریبات کے حوالے سے اپنے آپ میںتشریح رکھتے ہیں۔حنابندی کا تعلق دلہن کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ کشمیر میںحنابندی کو مہندی رات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تقریب دن کو نہیں بلکہ رات کو منائی جاتی ہے۔ ہماری روایات کے مطابق دلہن والے اِس روز خاندان کی بڑی اور بزرگ خواتین کو مدعو کرتی تھیں جو دلہن کے ہاتھوں میں مہندی جمانے کے علاوہ اُس کے بال بھی سنوارتی تھیں۔دلہن کے بال سنوارنے اور اُس کے ہاتھوں میں مہندی رچانے کے دوران یہ بزرگ خواتین، جن کے چہرے پُر نور ہوا کرتے تھے، شادی کے روایتی گیت ’’ونہ وُن‘‘ گاتی تھیں۔ ونہ ون میںبے ہودہ کلام نہیںبلکہ خالصتاً اللہ کی ثنا کئے جانے کے ساتھ ساتھ نعتیہ کلام اور منقبت پڑھے جاتے تھے۔ ونہ ون کے ذریعے دلہن اور دولہے کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جاتا تھا۔اِس کے علاوہ روایتی ’’روف ‘‘میں بھی بامعنی اور سبق آموز اور برجستہ خو ش نو اکلام کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ مہندی رات کی ساری کاروائی کے دوران مذہبی عقائد اور یاد خدا کا خاصا خیال اور اہتما م کیا جاتا تھا۔ ہر کسی عمل میں اللہ کی رضا ملحوظِ نظر رکھی جاتی تھی۔یہ بزرگ خواتین شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑے کو دعاوں کی لازوال سوغات سے نوازتی تھیں۔ مدعو مہمانوں کو انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ کافی سادہ کھانا پیش کیا جاتا تھا جس میں خلوص کا عنصر چھلکتا تھا۔ دور حاضر میں حنابندی کو دیکھا جائے تو یہ برائے نام رہ گئی ہے۔ جو کام ماضی ٔ قریب میں خاندان کے با بر کت بزرگ خواتین کے ہاتھوں انجام دیاجاتا تھا وہ اب غیر ریاستی باشندوں( نا محرم مردوزن ) کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ بیوٹی پارلر ہماری شادیوں کا جزولاینفیک بن گیا ہے۔ دلہن کے ہاتھوں ، کہنیوں اور تلوؤں تک میں ڈئزائین دارمہندی رچانے کیلئے اب غیر ریاستی Beauticiansکی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اِن میں خواتین اور مرددونوں شامل ہیں۔ اِس کام کیلئے ہزاروں روپے کی رقم فضول میں خرچ کی جاتی ہے۔مہندی رات میں قبیلے کی بزرگ خواتین کو نہیں بلکہ جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بلایا جاتا ہے۔ مہندی رات میں اُن کی شرکت کو بچوں کی آزادی اور زمانے کی ترقی کے ہم معنی بتایا جاتا ہے۔ اس تقریب میں ونہ ون کے ذریعے نہ اللہ کی حمد بیان ہوتی ہے اور نہ دلہن و دولہا کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار بلکہ اب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے ہودہ گانے گاکر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا تے ہیں۔ دلہن اور دولہے کے گھر میں کیا کیا بے ہودہ اور نازیبا  و نا شائستہ حرکات کا ارتکاب ہوتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔مجلس میں کچھ بزرگ خواتین اگر ہوں بھی تو انہیں کمرے کے ایک کونے میں بیٹھا کردوائیاں لینے اور آرام کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اگر چہ آج کل حنابندی بظاہر زیادہ جاندار دکھائی پڑتی ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ مہندی رات اب بالکل بے جان ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دولہا اور دلہن بڑے بزرگوں کی نیک خواہشات اور دعاؤں سے محروم رہتے ہیں۔اِس طرح کی بے ہودہ تقریب کو کس حد تک حنابندی کانام دیا جاسکتا ہے، آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ہماری شادیوں کے طور طریقے اب اس قدر تبدیل ہوگئے ہیں کہ مسند نشینی کے معنی یکسر بدل گئے ہیں۔ دولہا اب مسند نشین نہیں بلکہ کرسی نشین ہوتا ہے۔ روایتی طریقہ یہ تھا کہ دولہا اپنے گھر میں مدعو مہمانوں کے بیچ بیٹھ کر عزیز و اقارب کی ملاقات کا شرف حاصل کرکے اُن کی نیک خواہشات طلب کرتاتھا۔ دولہے کو مدعو مہمانوں کے بیچ بٹھانا ہماری شادیوں کی روایت رہی ہے۔ اِس کے لئے مجلس میں ایک چھوٹی قالین بچھائی جاتی تھی جو کہ عام مہمانوں کے لئے بچھائے گئے فرش سے قدرے مختلف اور دیدہ زیب ہوتی۔دولہے کیلئے بچھائے جانے والی اِس قالین کو مسند کہا جاتا تھا اور اسی مناسبت سے تقریب کا نام مسند نشینی پڑا ہے ۔خاندان کا کوئی باریش بزرگ دولہے کا ہاتھ پکڑ کر اسے مسند نشین کراتا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ دولہا بڑے ہی ادب کے ساتھ اپنے پیروںسے جوتے اُتارتا اور بڑے ہی ادب کے ساتھ قبلہ رو ہو کرمسند نشین ہوجاتا۔عزیز و اقارب اُس کے ساتھ بغل گیر ہوکر دست بوسی کرتے اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے لیکن اِس روایت نے اب دم توڑ دیا ہے۔ ان دنو ں اکثر جب دولہا مدعو مہمانوں کی مجلس میں آتا ہے تو مسند نشین نہیں بلکہ کرسی نشین ہوجاتا ہے۔ جب مہمان فرش نشین ہوں تو میزبان کی کرسی نشینی میں ادب کا لحا ظ کہاں رہا؟ آداب ، مجلس تو کجا، پاؤں کے جوتے اُتارنا بھی دولہے کے شایا ن شان نہیں سمجھا جاتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی جاگیر دار لگان کی وصولی کیلئے کرسی پر براجمان ہوا ہو۔اب اُس کے ساتھ خاندان کا کوئی بزرگ دکھائی نہیں دیتا۔ دست بوسی کرنے اور بغل گیر ہونے کو اس طرح ترک کیا گیا ہے گو یا یہ عیب اور پسماند گی کی علا مت سمجھی جاتی ہے اور جس کسی نے دولہے یا دلہن کے ساتھ بغل گیر ہونے کی حماقت کی تو اس کو دقیانوسی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ’’بے ادب‘‘ نے بغل گیر ہو کر میک اَپ خراب کردیا۔بہرحال میری دانست میں کرسی نشینی اور مسند نشینی میں اچھا خاصا فرق ہے۔ اگر دولہے کو کرسی پر ہی بٹھا نا ہی ہے تو دعوت نامے پر مسند نشینی کیوں لکھنا؟
اب دیکھئے اُس مجلس کا حال جس کو عرف عام میں برات کی مجلس کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ مجلس دلہن والے دولہے اور اس کے براتیوں کی آمد کے سلسلے میں سجاتے ہیں۔ اِس مجلس کو تمام دوسری مجالس پر ترجیح دی جاتی تھی۔ مہمانوں کی خاطر تواضع کیلئے چند ایک پکوان زیادہ بنائے جاتے۔ اتنے زیادہ بھی نہیں کہ جس میںکھانا کم اور دکھاوا زیادہ ہو۔ یہاں بھی دولہے کو مجلس کا روح ِرواں سمجھ کر مسند نشین کرایا جاتا تھا لیکن اب اس میں ایک ایسی تبدیلی آئی ہے جس کے ساتھ’’بے ہودہ‘‘کا لفظ آ سانی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ دولہے کواب مسند نشین نہیں بلکہ تخت نشین کرایا جاتا ہے۔ دلہن والے دولہے کے لئے لکڑی کا ایک عارضی تخت بنواتے ہیں جو ذرا سی اونچائی پر ہوتا ہے۔باقی مہمانوں کو ان کی کم اوقات کا احساس دلا کر دولہے کے قدموں میں بٹھایا جاتا ہے۔ پھر جب دولہے کو طعام پیش کیا جاتا ہے تو اور تین لوگ بھی تخت نشین ہوجاتے ہیں لیکن تخت پر جگہ کی کمی کے باعث تناولِ طعام کے دوران ان کی ٹانگیں لٹکتی رہتی ہیں جو کہ اس پورے عمل کو بے ہودہ اور مضحکہ خیز بنادیتا ہے۔ کل پرسوں ہی پا نپو ر میں کا کہ پو رہ سے آ ئی برات میں جب مغربی میوزک اورفلمی طرز کے بینڈ با جے پر لو نڈے نما براتیو ں نے نا چناتھرکنا شروع کیا تو شادی کی تقریب میں شریک کچھ نو جو ان یہ حما قت آ میز حرکت دیکھ کر آ پے سے با ہر ہو ئے اور انہو ں نے ان اخلا ق با ختہ براتیوں کی خوب مرمت کی ۔ یہ واقعہ اس با ت کا ایک بلیغ اشارہ ہے کہ ہما رے گئے گزرے سما ج میںہر کو ئی لغویات اور ابلیسی حرکات کا دلداہ نہیں بلکہ کچھ استثنیٰ ضرور ہے جو ان چیزوں سے با غی ہے۔ یہ نو جو ان وقتاًفوقتاً اسلا می رنگ کی شادیو ں پر لبیک کہہ کے اچھی اور قابل تقلید مثا لیں قائم کر تے ہیں۔ ا لغرض بہ حیثیت مجمو عی ہم نے اپنی شادیوں کے سلسلے میں منائی جانے والی تقریبات میں روایات ،تہذیب و تمدن اور دینی واخلاقی اقدار کی پامالی کو اپنا شیوہ بنایا ہے۔ ہماری شادیوں میں اب خاندان کے بڑے بزرگوں کا کوئی عمل دخل ہی نہیں رہتابلکہ یہ مقدس اور حساس کام اب ناتجربہ کار نوجوانوں کے ہاتھوںبے ہودہ طریقے پر انجام پاتے ہیں۔ ان غیر اخلاقی اور ہمارے کلچر سے نا ما نو س حرکات کے الٹے نتائج ہمارے سامنے واضح ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم میں سے بعض لو گو ں کی آنکھوں پر جدیدیت کی کالی پٹی بندھی ہے یا  وہ اندھے پن کے شکا ر ہیں۔ شاید ہی کسی کو اس ازلی وابدی حقیقت سے انکار ہو سکتا ہے کہ سادگی میں عظمت ہے اور بڑے بزرگوں کے سائے میں کئے جانے والے کاموں کاانجام نہایت ہی لطیف اور مفید تریں ہوتا ہے۔
قارئین کرام کالم نویس کے ساتھ ا س پتہ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
syedmmubashir@gmail.com

SAMARQAND

courtesy Jang

RASULALLAH S.A.W. KI ASKARI AUR DIFAI HIKMATE AMLI


MAKKAH MOAZZAMA SE MADINAH MUNAWWARA TAK

مکّہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک
کچھ شوق نے کھینچا کہ کچھ جذ بوں نے پکا را
بشارت بشیر

 سوا پانچ  ہزار برس قبل جب سیدنا ابراہیم ؑ نے مکہ کی بے آب وگیاہ سرزمین میں خدا ئے واحد کی نشان زدہ جگہ پر ایک مرکز عبادت کی بنا ڈالی، جب سے اب تک برا بر خشکی و تری میں شعور کی آنکھ کھولنے والے ہر خو ش نصیب اہل ایمان کی سب سے بڑی تمنا اس بیت عتیق کی زیارت اور اس کے گرد پروانہ وار گھومنے کی ہے۔ آخر کیوں نہ ہو، مقدس گھر کی تعمیر کی تکمیل کے ساتھ ہی رب جلیل کا سیدنا ابراہیم ؑ کو یہ حکم دینا کہ ’’اور لوگوں میں حج کی منادی کردے لوگ تیرے پاس پاپیادہ وہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دوردراز کی تمام راہوں سے آئیں گے اور (الحج ۲۷)۔کوہ بوقیس سے یہ صدائے ابراہیمی ؑ گونجی اور پھراسے اللہ کی بے پا یا ں عطا و کرم سمجھئے یا پیغمبرانہ صدا کا اعجاز کہئے کہ سوا پانچ ہزار سال سے پورے تواتر اور جو ش و جذبے کے ساتھ سفر کی صعوبتیں اور بے شمار مال و زر کی صرفہ کے ساتھ ہزاروں لاکھوں قافلے ہر سال اس مقدس گھر کی زیارت کے لئے رواں دواں ہوتے ہیں۔ مشتاقانِ دید کے یہ قافلے پورے جذب و شوق کے ساتھ جون ، جولائی اور اگست کی چلچلاتی دھوپ میں بھی چلتے ہیں اور دسمبر جنوری کی ہوش ربا ٹھنڈ میں بھی، امن وراحت کے ایام میں بھی اور جنگ و جدل کے اوقات میں بھی ۔ ان قافلوں کو نہ صلیبیوں کے لشکر روک پائے ہیں اور نہ قرامطہ جنہوں نے مطاف تک کی سرزمین کو خون سے تربتر کردیا اور نہ مغول جو تیز و تند آندھی کی طرح ہر شے کو تہس نہس کرگئے۔ کروڑوں اربوں انسان آج تک اس گھر کی زیارت سے مستفید ہوکر آسودۂ خاک ہوگئے اور ان میں سے لاکھوں بقید حیات اس عنایت کی دوبارہ عطائیگی کے لئے گریہ کناں ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ کا بے پایاں کرم ہی کہئے کہ اس بند ۂ حقیر و نا چیز کو ماضی ٔ قریب میں دومرتبہ اس سفر سعاد ت کا اعزاز حاصل ہوا ۔ پہلی بار دنیائے اسلام کے معروف ادارے رابطہ عالم اسلامی کی وساطت سے خصوصی دعوت پر اللہ جل شانہ نے اپنے گھرکی زیارت کے لئے بلایا۔ بلاواعجلت میں تھا عجلت میں ہی رختِ سفر باندھا ،مزید تین اور ساتھی اس خصوصی دعوت پر رفیق ِسفر بنے رہے۔ رابطہ نے بڑی شاہانہ انداز کی مہمانداری کی ہر بات کا خیال رکھا، رابطہ کے گیسٹ ہاوس میں قیام ،طبی سہولیات کی فراہمی، ٹرانسپورٹ کا شاندار بندوبست اور خوردونوش کا اعلیٰ اہتمام کہ سوچا تک نہ تھا کہ مولا ئے کریم اس عاصی پر قدر آمادہ بہ کرم ہوگا۔ روانگی بڑی عجلت میں ہوئی تھی اور پروگرام کچھ اس انداز سے ترتیب پایا تھا کہ واپسی بھی بڑی جلدی یعنی صرف کوئی بیس دن کے اندر اندر ہوئی ۔ تشنگی باقی تھی ، ربِ کعبہ سے واپسی کے موقعے پر پھر بلانے کی وجدانگیز دعائیں کیں ۔ انہیں شرف قبولیت حاصل ہوچکا تھا اور مائل بہ کرم مولا نے ماضیٔ قریب میں پھر سفر محمو د پر بلایا۔ قرعہ اندازی کے عمل میں قرعہ فال مجھ حقیر وکم ما یہ شخص پر بھی پڑا۔ اس مرتبہ میری اہلیہ اور کچھ اور رفقاء بھی ہمراہ تھے ۔ خوشی سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے اور مسرتوں نے کئی راتوں کی نیندیں اُڑالیںاور پھر وہ دن آہی گیا جب اقبال مندانِ ازلی کے ایک قافلۂ شوق کے ساتھ سرینگر کے طیران گاہ سے سوئے حرم روانگی ہوئی۔ عجب کیفیت اور مسرتوں کا عالم یہ تھا کہ اسے بیا ن کر نے میں الفاظ کا پہناوا شاید برابر نہ آسکے ۔ طیارہ فضا میں اڑنے لگا کہ دل بھی اڑاجارہا تھا۔ مقام میقات پر پہنچنے میں ابھی کوئی دس منٹ کا وقت باقی تھا کہ ایک ائیرہوسٹس نے یہ کہہ کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اٹھئے آپ کو اندر کیبن میں بلایاجارہا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے بھلا کیبن میں کون سا کام اور کیا رشتہ داری ؟ اندر چلاگیا تو پیغام ملا کہ میں ہی جہاز میں نصب مائک کے ذریعے حجاج کرام کو مقام میقات پر پہنچے اور یہاں سے قرآن و سنت کی روشنی میں ان پر عائد لو ازما ت  اورآداب سے انہیں آگاہ کردوں۔ اسے بھی خدائے رحیم ورحمان کی عنایت سمجھ کر مائک ہاتھ میں لے کر عازمین حج کو احرام اور اس حوالے سے عائد پابندیوں، شرائط اور آ داب عمرہ اور زیارت بیت اللہ کے مناسک کی ادائیگی کے اسباق کی یاد دہانی کے ساتھ اس عظیم سفر کے حکمت وفلسفہ سے کما حقہ آگاہی دلائی۔ کعبہ ، اس کی تاریخ ،اس کے ساتھ ہمارے اٹوٹ رشتے کو واضح کیا تو ماحول انتہا ئی روح پرور بن گیا ۔ ہر سو سسکیوں اور ہچکیوں کی آ واز یںصاف سنائی دے رہی تھیں اور یوں اشکباردعاؤں کا سلسلہ چل پڑا کہ زائرین حرام داڑھیں مار مار کر روتے نظر آئے۔ میرا اپنا حال تو ناقابل بیان تھا۔ اب ہم کعبۃ اللہ کے قریب تھے۔ آنسوپونچھے جانے لگے ،اس لئے کہ ان آنسوؤں سے اب زمین حرم ، منیٰ و عرفات کو تر بہ ترکردیناتھا۔تلبیہ کی صدائیں گونج رہی تھیں، طیارہ فضا سے نیچے جدہ ائیرپوٹ پر اترا، نماز کی ادائیگی طیران گاہ پر ہوئی، سفری دستاویزات چیک کئے گئے کچھ خوردونوش کا سامان دیا گیااور آرام دہ گاڑی میں سوار ہوکر سوئے منزل رواں دواں رہے۔ راستے میں عربوں نے روایتی انداز میں مہمان نوازی کی ریت کو قائم رکھا۔ حدود حرم میں داخل ہوئے تو دل سینوں میں نہیں بلکہ آ نکھو ں میں رقصاں ہو ئے ، کعبۃ المکرم سے پانچ یا چھ کلو میٹر دور بطحا قریش کی تعمیر شدہ نئی اور عالی شان بستی میں پروگرام کے مطابق ایک شاندا ہوٹل میں ڈیرہ ڈال دیا۔ عشاء کی نماز کی ادائیگی ہوئی، کچھ سستانے بیٹھ گئے مگر دل بیٹھنے پر آمادہ نہ تھا۔ ادائیگیٔ عمرہ کے لئے سوئے حرم چل پڑے۔ اس جانب بڑھنے والا ہر قدم جذب و شوق میں اضافہ کئے جارہا تھا۔ کعبہ وحرم کے دروبام صاف نظر آنے لگے کہ عجیب کیفیت طاری تھی جو بیان سے باہر ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں سے آئے امیر و وزیر و فقیر سبھی ایک ہی لباس میں حرم کو دور سے دیکھتے ہی زار و قطار رورہے تھے اور اب وہ ساعت سعید آہی گئی جب ہم حرم کعبہ میں داخل ہوئے۔ کعبہ شریف پر پڑنے والی پہلی نگاہ نے تو دنیا و مافیہا سے بے خبر کرکے رکھ دیا، میں پسینہ پسینہ ہورہا تھا اور ماتھے سے عرقِ ندامت کے قطرے مسلسل ٹپک رہے تھے اور آنکھیں تھیں کہ اشکوں کا ایک نہ رُکنے والا سیلاب بہار رہی تھیں۔ تلبیہ کا عمل بندہوا کہ یہی حکم ہے اور حکم کی تعمیل ہی عبادت ٹھہری اور حج و عمرہ کے دوران ہر رکن کی ادائیگی کا مقصد ہی بس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ حکم کے سامنے کسی کی کج بحثی اور کٹ حجتی نہیںچلتی ، کسی چیز کی حکمت قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھ میں آئے توخیر ،نہیں تو اپنی کوئی تاویل کا کوئی اختیار و اعتبار نہیں ۔ بس حکم جان کر تعمیل کیجئے، حج کی تکمیل ہوگی۔ یہاں سب خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قواعد و ضوابط چلتے ہیں ،محض نا قص عقل کی ضرورت سے زیا دہ رہنما ئی یا عشق و محبت کے نام پر کوئی اپنی اختراع حج کے سارے عمل کی قبو لیت میں سنگ گراں پیدا کردیتی ہے۔ ہاں، میں کعبہ شریف کو اپنی گناہ گا رآ نکھو ں سے دیکھتا جا رہا تھا،آنکھیں اشکبار تھیں، اپنی سیاہ کاریوں اور بداعمالیوںکی سیاہ کتاب کا ورق ورق اور حرف حرف لرزہ بر اندام کئے دے رہا تھا، اب بس مشتاقانِ دید کے ساتھ مطاف میں کعبہ کے گرد گھومنے والوں کے سمندر میں کودنے کی تیاری کرہی رہاتھا کہ پھر ہچکیاں بندھ ہوگئیں اور لگ رہا تھا کہ سماعت سے یہ صداٹکرارہی ہے   ؎

بطواف کعبہ رفتم بحرم ندا بر آمد

تو برون در چہ کردی کہ درون خانہ آئی

 ہاں! صاف لگ رہا تھا کہ حرم ِکعبہ صرف مجھ سے مخاطب ہے :کہ اے راندۂ خلق! تو کون سا منہ لے کر یہاں آیا ہے؟ تیری یہ جرأت و جسارت ، اپنی ساری زندگی خدائے وحدہ لا شریک کی نافرمانی میں گزاری ،مادی مفادات کے لئے کون سی چھلانگ ہے جو نہ ماری، باطل و طاغوت سے تعلق و ربط بھی کوئی پوشیدہ بات نہیں ، دنیا کے ایوانوں، محلات اور دہلیزوں کی خاک بھی چھانی اور کوچہ گردی بھی کی، اب اس کوئے دلبر میں کون سا چہرہ لے کر آئے ہو!کتنے ڈھیٹ اور بے شرم ہو! صدا بر حق تھی، میں کچھ بھی بول نہ پارہا تھا ، پیکر شرمندگی و ندامت بن کے کھڑا رہا، قریب تھا کہ غش کھاکر گرجاؤں کہ واللہ صاف محسوس ہواکہ رحمت ِرحمان نے اسی طرح تھام لیا جیسے کوئی ما ں اپنے شیرخوار بچے کی شرارتوں اور بچگا نہ حر کات کو نظرا نداز کر کے اس کا بو سہ لیتی ہے، دل کو ایک ناقابل تصور تسلی سی ہوئی کہ میں گناہ گارخود نہیں آیا ہوں بلایاگیا ہوں، گناہوں کے اعتراف اور بخشش کیلئے ہی میں طواف کرنے والوں میں شامل ہوگیا، عصیاں ونسیاںسے معافی کی بار بار درخواستیںکیں، بہتی آنکھوں کے ساتھ امت مسلمہ کی حالت زار وزبوں بیان کی۔ دین سے دوری اور اس کے نتیجہ میں برسنے والی قہر و ستم کی یورشوں پر رویا ، اس دوران حجر اسود کا استلام بھی کیا۔اس کی تاریخ بھی آنکھوں میں پھر گئی، ملتز م اور رکنِ یمانی کی بیان کردہ عظمتیں آ نکھوں کے اسکر ین کے سامنے آگئیں۔باب کعبہ کے سامنے جانے کی کوشش اور اسے کم نزدیک سے دیکھنے کی کوشش تو کی کہ یہیں سے تو رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فاتح مکہ بن کر اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کرنے کا اعلان عام فرمایا تھا۔باب کعبہ کے نزدیک پہنچنے میں ہائے !یہ درد کمر رکاوٹ بنا رہا، یہ خواب شرمندۂ تعبیر پہلے ہوا تھا نہ اب کے ہوا، نظریں جھکائے ، پلکیں بچھائے، کعبہ کے ارد گردمستانہ وار طواف کر رہا تھا، اور تصور کی دنیا میں سیدنا ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کے مبا رک ومقدس ہا تھو ں اس گھر کی بناء کی قیاسی تصویر بنا رہا تھا اور پھر وہ خوں آشام زمانہ بھی آنکھوں کے سامنے آنے لگا جب محبوب خدؐا نے دعوت حق کی پاداش میں اپنوں کی جانب سے گرائی جانے والی قہر و ستم کی مسلسل یورشوں اور بارشوں کے درمیا ن ایک مدت تک صبر و ثبات کے اظہار کے بعد یہاں دو رکعت نماز کی ادائیگی کی اور ہجرت کا آغاز کیا تھا اور وائے ! کعبہ شریف کے ارد گر کئی بار اس غم خوار امت، محسن انسانیت ؐ کو شبِ غم کی ظلمت کے محافظوں کے دست جفا کیش کا شکار ہونا پڑا تھا۔تاریخ کے یہ چشم دید واقعات صحنِ کعبہ میں ایک ایک کرکے یاد آرہے تھے اور دل میں ایک طوفان بپاکئے جارہے تھے اور پھر وہ دن بھی بے اختیار یاد آگیا جب اس مظلوم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتح اعظم بن کر قل جاء الحق وزھق الباطل کا مژدہ ربا نی سناکر حرمِ کعبہ میں شکم پرستوں کی جانب سے رکھے بتوں کونکال باہر کیا اور پھر دوئی پسند باطل کو ایسی شکست ہوئی کہ مدتوں کراہتا رہا، پھر توحید کا غلغلہ ہوا، ہاں توحید و سنت ہی تو مسلمان کا مقصودِ زندگی بھی ہے اور متاعِ حیات بھی ، اس کلمۂحق کے بول با لاکے لئے کبھی جان کی بازی لگانی پڑتی ہے، کبھی مال و دولت ، دنیا و رشتہ وپیوند سے کٹ جانا پڑتا ہے اور کبھی سرزمین وطن کو بھی خیر باد کرنا پڑتا ہے، مسلمان ہونا کوئی حلوہ خوری اور شیرین فروشی کا عمل نہیں یہاں قدم قدم پر سختیاں اور مصائب ہیں اور پھر حق پر جم جانا ہی اسلام کی روح ہے اور یہی لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک کا مطلب و مفہوم ٹھہرا۔

 یہ شہا دت گہہ ٔ الفت میں قدم رکھنا ہے

 لو گ آ ساں سمجھتے ہیں مسلما ں ہو نا

 ہاں تو ذکر کعبہ شریف کا ہورہا تھا جس کے بارے میں محققین و شارحین نے کہا  ہے کہ یہ کر ہ ٔ ارض کے وسط میں واقع ہے۔ یہی بات چوتھی صدی میں مسلم جغرافیہ داں ابو علی البحیہان نے او ر دسویں صدی میں مصر ی جغرافیہ داں الصفاقسی نے اپنی تحقیق میں کہی ہے اور پھر ۱۳۹۳ھ میں مصری سائنسداں ڈاکٹر کمال الدین کا نتیجہ ٔ فکر یہ ہے کہ کعبہ شریف ہی تمام براعظموں کا مرکز ہے ۔بہر حال طواف کی وار فتگی میں اضافہ در اضافہ ہو رہا تھا ۔اس عاشقانہ وعارفا نہ عمل سے فراغت ہوئی تو مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے دو رکعت نمازیں ادا کیں، سجدوں میں لرزاں و ترساں تھا، کعبہ کی مقدس زمین تھی اور میری گناہوں سے آلودہ یہ جبیں ! نہ جانے کتنے صالحین اور صدیقین کی مبارک پیشانیاں یہاں سجدہ ریز ہوئی ہوں گی، پھر سجدوں میں اپنی سیاہ کاریوں نے رُلادیا۔ شرمندہ تھا، اور حال یہ تھا    ؎

بہ زمین چو سجدہ کردم زِ زمین ندابر آمد

تو مرا خراب کردی کہ بہ سجدہ ریائی

زمین کعبہ و حرم سے یہ صدائیں قوت سماعت سے صاف ٹکرارہی تھیں کہ اے خاطی و ریا کا ر! بند کر یہ رونا دھونا، تمہاری سیاہ کاریاں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں، کتنے دنیا پرستیو ں، اِزموں فلسفوںاور ابلیس کے بنا ئی مختلف دہلیزوں پر سرجھکاکے اب زمینِ حرم کو آلودہ کرنے چلے آئے ہو۔ یہ سن کر میں زمین میں گڑاجارہا تھا کہ پھر خدائے رحیم کی شفقتوں اور رحمتوں نے ڈھانپ لیا اور یو ں لگا کہ یہ رحمتیں میری پیٹھ تھپتھپارہی ہیں کہ غم نہ کر تو میرے بلاوے پر آیاہے ۔ آج معافی مانگ اور پھر آ گے حین حیات میں مسلم کے معنی سمجھ کر مسلم بن کر رہ۔ میں تجھے اپنے دریائے رحمت میں دھوڈالوں گا۔ اس تسلی سے ایک دم سکون سا محسوس ہوا تو آنسو بہائے صفا و مروہ کی جانب چل پڑا۔ ایک بار پھر تاریخ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی، ہاں! یہاں ہی تو پیاس کی شدت سے بے بس و بے تاب معصوم اسماعیلؑ کو چھوڑ کر حضرت حاجرہ ؓ پانی یا کسی قافلے کی تلاش میں صفا مروہ اور مروہ سے صفا کی جانب بے قرار ی اور اضطرار و اضطراب کا عملی مظہر بنی تھی اور یہاں ہی معصوم اسماعیل ؑ کی صدائے العطش نے رحمتِ الٰہی کو یوں جوش دلایا کہ معصوم نے ایڑی رگڑی کہ زمزم کا بحر بیکراںتب سے پورے آب و تاب سے جاری ہے۔ صفا پر مسنون کلمات پڑھے ،مروہ کی جانب چلا ،دمیان میں دعائیں بھی ہوئیں اور مناجات بھی۔ سات چکروں کے بعد یہاں سے فراغت ہوئی تو اب باہر آئے، سرمنڈوایا کہ یہی حکم ہے۔ قیام گاہ پر پہنچ گئے، سفید لباس بدن سے اترگیا اور اب معمول کی زندگی بحال ہوئی۔ اب روز ہم تھے اور حرم و کعبہ ! ۔ رحمتِ رب برستی رہی اور ہم اپنے اپنے ظرف کے مطابق دامنِ مراد بھرتے رہے، کبھی کھبار اپنی رہائش گاہ کی مقامی مسجد میں نمازوں کی ادائیگی ہوتی رہی، عرب مالداروں کی اس جدید بستی کے کیا کہنے ، پیر و جوان ہی کیا معصوم بچے بھی نمازوں کے پابند اور جھوٹ و دجل و فریب سے سخت متنفر ۔ ہزاروں سال کی مہمان نوازی کی ریت کا بھرم اب بھی نہیں ٹوٹا ہے ۔کئی بار اس بستی میں قیام پذیر حجاج کرام کی مسجد میں ضیافت کا بندوبست کیا اور خود اپنے مرتبوں کا لحاظ کئے بنا میزبانی کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ اپنے ہوٹل کی اوپر والی منزل سے’’ثور‘‘ کا تاریخی غار دیکھا جاسکتا تھا، جہاں سے نبی دوعالم صلعم نے اپنے رفیق محترم حضر ت ابو بکر صدیق   ؓکے ساتھ ہجرت کا مقدس سفر شروع فرمایا تھا۔ افتاں و خیزاں اس کوہ کے دامن تک تو پہنچ گیا لیکن یہاں بھی نقاہت و درد کمر سدراہ بنے رہے ، دور سے اسے دیکھتا رہا اور اس کی تاریخ کی ورق گردانی تصوارت کی دنیا میں کرتا رہا ،پھر غار حرا تو غار حرا ٹھہرا، وحیٔ ربانی نے ظلمت کدہ دہر کے سینہ کے چیرنے کے لئے سب سے پہلے اسی تاریک غار کو منور کیا تھا اور یہیں سے صاحب قرآن صلعم نے وہ نسخۂ کیمیا دنیا کے سامنے لاکے رکھ دیا جس نے عرب کے صحرا نشینوں کو کج کلاہوں کا سردار اور خشکی و تری کا حکمران بناکے رکھ دیا۔ بقول اقبال    ؎

در شبستان حرا خلوت گزید
قوم و آئین و حکوت آفرید
صاحب دعوت و عزیمت کی قربانیوں کی تاریخ کا ورق ورق سامنے آتا رہا اور اس روشنی میں اپنے ’’علماء و عقلاء ‘‘کو دیکھا جا نچا تو شرمند گی کا احساس ہوا۔ عربوں کا بات بات پر بارک اللہ اور ہداک اللہ کے دعائیہ کلمات روح پرور و دل مسرور کئے دیتے ہیں… اور ہاں ! پھر وہ ساعت ہمایوں آہی گئی جب آٹھویں ذوالحجہ کو ہمارا قافلہ شب کو سوئے منیٰ روانہ ہوا ، منیٰ جو تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ خود ایک تاریخ ہے، جہاںچشم فلک نے بوڑھے باپ کو اپنے لاڈلے بیٹے کو قربان گاہ کی جانب لے جادیکھا ہے ، ہاں! ہنسی خوشی اپنے تابعدرا بیٹے کا اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے انداز سے بھی واقف ہے، منیٰ جہاں اس وقت بھی جب نبی دوعالم صلعم پر مکہ کی زمین تنگ کی جارہی تھی ، مدینہ منورہ کے کچھ سعادت مندوں نے رات کی تاریکی میں ہی ان سے عہد وفا باندھا اور واردِ مدینہ ہونے کی درخواست دی۔ منیٰ جہاں غارو المرسلات بھی ہے جس کی آخری آیت امت کو خاص پیغام دے گئی، منیٰ جہاں مسجد خیف بھی ہے، جہاں کئی انبیاء و رسل ؑ نے بارگاہِ صمدیت میں سر نیاز خم کئے ہیں۔ ہاں منیٰ جہاں آج رابطہ عالم اسلامی کا مرکز گیسٹ ہاؤس بھی ہے، جہاں اس ادارے کی جانب سے خصوصی دعوت پر آنے والے مہمانان ِگرامی کے قیام و طعام کا بندوبست رہتا ہے، اسی منیٰ میں ظہر و عصر کی نماز قصر کے ساتھ باجماعت ادا کی، نوویں ذوالحجہ کی شب کو ہی عرفات کی جانب روانگی کی ہدایت ملی، فجر کے قریب میدان عرفات میں پہنچ گئے ۔ وہا ں حاجیو ں کی نماز کی باجماعت ادائیگی میری ہی پیشوائی میں ہوئی، جبل رحمت کو دور سے دیکھ لیا حضور اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہاں ہی خطبہ حجۃ الوداع دیا تھا اور انسانیت کو تا قیام قیا مت ایک اس پیغمبرانہ منشور سے نوازا تھا جو عالم انسانیت کیلئے واحد پرا وانۂ آ زادی ہے، یہاں ہی ملت اسلا میہ کو اخوت و مساوات کا درس ملا تھا، یہاں ہی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دنیا سے وداع ہونے کے واضح اور بلیغ اشارات فر ما دئے تھے، یہاں ہی زبا ن ِ حق بیا ں سے فرما یاگیا تھا کہ حسب و نسب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تمہیں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ، معیار صرف تقویٰ( یعنی خدا خوفی)ہے، قومیت اور قبیلہ نہیں ،خا ندان اور کو د تراشیدہ نسبتیں نہیں۔ عرفات کا یہ بے مثال عظیم اجتماع بزبان حال کہہ رہا تھا    ؎

بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

نہ ایرانی رہے باقی نہ طورانی نہ افغانی

مسجد نمرہ میں خطیب نے خطبہ دیا۔خیمے میں ظہر و عصر کی نمازیں قصر کے ساتھ پھر میری ہی پیشیوائی میں سینکڑوں بندگانِ خدا نے ادا کی ، پھر ایستادہ دعاؤں کا ایسا دور چلا کہ ہر سو آہ بکا اور گریہ وزاری کی دل گداز صدائیں سنائی دینے لگیں۔ یہاں نمازوں کے علاوہ اذکار و تلاوت و مناجات کا حکم ہے اور اس مقام پر ٹھہرنے کو ہی کلام نبوی ؐ  میںحج کہتے ہیں۔جس نے وقوف کیااس کا حج ہوا۔ جویہاں نہ آسکا کوئی فدیہ بدلہ یا نذر و نیاز اس کا بدل نہیں، آخر یہ وقوف عرفات ہے کیا؟ میرے سامنے اس وقت بھی نامور مفکر شیخ علی طنطاوی کی ایک زندہ جاوید تحریر کایہ اقتباس ہے۔ آپ کو بھی انشاء اللہ حج کی یہ سعادت حاصل ہو ئی تو اس عبارت کو بطور خاص ذہن نشین رکھئے حجاج کرام کے اجتماعِ عرفات کے با رے میں آ پ لکھتے ہیں:

’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ باریک رگیں کیسے جسم کے کناروں سے خون اٹھاکر بڑی بڑی رگوں میں پہنچاتی ہیں، یہاں تک کہ وہ خود اپنا چکر پورا کرلیتا ہے، دل میں اکھٹاہوکر اور پھیپھڑے میں منتشر ہوکر پھر وہ گدلے پن کے بعد صاف ہوتا ہے اور متحرک رگوں میں نیا سرخ خون بن کر لوٹتا ہے۔ بعد اس کے کہ وہ رگوں میں کالا اور فاسد خون کی شکل میں تھا، ایسے ہی حج ہے۔ مسلمان زمین کے چاروں طرف سے آتے ہیں، پھر عرفات میں جو اسلامی جسم میں پھیپھڑے کی حیثیت رکھتا ہے منتشر ہوجاتے ہیں، تو یہ پھیپھڑا ان کے نفس کو شہوتوں کے گدلے پن سے صاف کردیتا ہے اور گناہوں کے میل سے پاک کردیتا ہے اور وہ اپنے وطن کو اس حال میں لوٹتے ہیں کہ اپنے نفس کو جدید نفس میں بدلے رہتے ہیں، گویا یہ نفس گناہوں کو جانتی ہی نہ تھی‘‘۔

جی ہاں! عرفات میں تو سب گناہوں کی ایسی بخشش ہوتی ہے جس کا کوئی حد و حساب نہیں ۔ بہر حال نماز مغرب کا وقت قریب تھا، عقل تو کہتی ہے کہ نماز ادا کی جائے پھر چلا جائے لیکن حکم یہ  ہے کہ اٹھو اور مغرب و عشاء ایک ساتھ مزدلفہ میں ادا کرو۔ اللہ کے مخلص بندوںکے قافلوں کے قافلے مزدلفہ پہنچے، مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں ، کنکریاں چن لیں، صبح پھر منیٰ روانگی ہوئی، جمرہ عقبہ کی رمی اللہ اکبر کہتے ہوئے کی۔ہاں اللہ ہی سب سے بڑا ہے، قانون سازی اور حکمرانی اسی کو زیب دیتی ہے، باقی ہر شئے فانی ہے ۔ اب قربانی کا عمل تھا ختم ہوا، پھر منڈاہوا سر منڈایا کہ اس میں رضائے رب ہے ،پھر سوئے کعبہ چلے، طواف و سعی سے فراغت ہوئی پھر دعاؤں کا سلسلہ چل پڑا۔ بعد ازاں منی کی جانب لوٹے۔۱۱؍ اور ۱۲ ؍ ذوالحجہ کو پھر شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے حجاج یہ عہد کرتے ہوئے لوٹتے ہیں کہ ہر شیطانی اکساہٹ کو بھانپ کر اس کے شر سے بچنے کی ہر کوشش و سعی کریں گے۔ ۱۲؍ ذوالحجہ رہائش گاہ کی جانب واپسی ہوئی۔ حج کا مرحلہ اختتام کو پہنچ گیا، اب مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی صلعم کی زیارت کے لئے سینوں میں رقصاں تھا۔ جب یہ ہدایت ملی کہ یہ سعادت اگلے روز نصیب ہورہی ہے تو پھر خانہ کعبہ کا رُخ کیا پھرسے درکعبہ پر دستک دے دی اور لگا کہ رحمت رب ہنسی خوشی رخصت کررہی ہے۔ طوافِ وداع کرتے ہوئے بچشم نم پھر بلانے کی صدادیتا رہا اور لب پر بس ایک ہی صدا تھی:

خدایا ایں کرم باردگر کن

 مدینتہُ ا لنبی ......اے خنک شہر ے کہ آنجادِ لبراست

الوداع اے مکۃ المکرم! ہاں اب وہ ساعت سعید آہی گئی جب ہم نے مدینہ النبی ؐ کی جانب رختِ سفر باندھا۔پوری رات اس سفر شوق میں گذر گئی اور جب شہر نبی صلعم میں قدم رکھے تو دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ زندگی بھر کے خوابوں کی تعبیر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے تھی۔ اس شہر مبارک کی عظمتوں کے کیا کہنے، خود پیغمبر مدنیصلعم کا ارشاد ہے کہ (قیامت کے قریب) ایمان سمٹ کر مدینہ میں آئے گا، ایسے جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طر ف سمٹ کر پناہ لیتا ہے۔ یوں کہئیے کہ اس مقدس سرزمین کا ہر ذرہ ماہتاب اور ہر خار گلوں کا تاج وقار ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ’’جذب القلوب ‘‘میں لکھتے ہیں کہ امام مالکؒ مدینہ طیبہ میں اپنے گھوڑے پر یہ کہہ کر سوار نہ ہوتے تھے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس مبارک زمین کوگھوڑے کے سم سے نہ روندوں جس پر محبوب خداصلعم کے قدم مبارک پڑے ہوں۔ مدینہ طیبہ! جی ہاں مدینہ جس کے باسیوں نے حبیب کبریاصلعم سے عہد وفاباندھا تو لاج کچھ اس طرح رکھی کہ فلک پیرا اس جانثاری پر ہنوز عش عش کرتا نظر آرہا ہے۔ہم کیا اور ہماری اوقات ہی کیا ۔ دنیا کے بڑے صلحا ء عبقری شخصیات ، اولیاء ، علماء ، اتقیاواصفیا اس مبارک سرزمین میں کیا آئے تو ادب و تعظیم کے ایسے نقوش چھوڑگئے جو ابدتک نمونہ عمل بنے رہیں گے۔ اقبال تو ساری عمر اس شہر منور کے تعلق سے اپنے قلبی جذبات کا اظہار یوں کرتا رہا    ؎

خاک یثرب ازدوعالم خود شتراست

اے خنک شہرے کہ آنجادِ لبراست

دور سے محبوب خدا صلعم کی مسجد کے دروبام نظر آنے لگے ،گنبد خضریٰ آنکھوں میں سماگیا تو روح و دل نے عجب طرح کی لذت محسوس کی، شوق گویا تھا کہ دوڑ کے چل اور ادب کا تقاضا تھا کہ سبک خرام رہ ،مقام مقدس کی عظمتوں کو پیش نظر رکھ کر۔ عجب بیم و مسرت کا عالم تھا، صحن مسجد نبویؐ میں قدم کیا رکھا کہ پو رے وجود میں ارتعاش پیدا ہوا، زبان خوددرودوسلام کا ورد کرنے لگی، کہاں میں کہاں مولا ئے کا ئینات کی یہ کرم نوازیاں! اپنی قسمت پر خود رشک ہونے لگا، مسجد میں داخل کیا ہوا عجب وارفتگی کا عالم تھا، دل چاہتا تھا کہ نظریں بچھاؤں یا قلب و جگر قربان کردوں ۔ دو رکعت نماز بہ چشم نم ادا کی اور پھر دل روضۂ محبوب صلعم کی جانب فوری طور حاضری کی بے تا با نہ آرزواورخواہش ۔ آخر یہ امید بھی بر آئی، ہزاروں لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں شامل ہوا۔یہ آسمان کے نیچے سب سے بڑ یاو برتر ادب گاہ ہے، یہاں کوئی شوروشغب نہیں اور نہ کوئی اچھل کود۔ اس مقام کے ادب کے حوالہ سے قرآنی آیات خود اس روضہ کی جالی پر تحریر ہیں۔ سسکیوں اور ہچکیوں کا عجب عالم تھا۔ ہر شخص درود و سلام کی سوغات لئے روضہ انور کے سامنے سے گزر رہا تھا، میری بد اعمالیاں مجھے خون کے آنسو رلارہی تھیں۔ یہ عا صی وننگ ِاسلا ف حضور صلعم کے مبارک روضہ ٔ مبارک کے سامنے کیا حاضر ہواکہ ایسا لگا کہ خود اپنے پر قابو پا نہیں رہا ہوں۔ امت کا درد اور اپنے محور سے اس کی دوری کے نتائج بھی سامنے تھے، اپنے عروج کا زمانہ بھی یاد آرہا تھا اور زوال امت کی خون چکاں داستان بھی۔ آقاؐ کے سامنے درود سلام کانذرانہ پیش کیا کیا کہ روتے روتے آواز رندھ ہوگئی۔ محبوب صلعم کے دو عظیم ساتھیوں کی مبارک مرقدوں سے جبینِ نیا ز جھکا جھکا کرگذرا ، سلام عقیدت پیش کیا تو ایک سنہری تاریخ یا خیرالقرون کی جھلکیاں آنکھوں میں پھرنے لگیں۔ شیخینؓ کی جاں بازیاں او ر وفاداریاں ایک ایک کرکے سامنے آنے لگیں۔ حجرۂ عائشہؓ اس کی عظمتیں اور اس میں بار بار جبرئیل امین ؑ کا وحی ربانی لے کر آنا ایسا لگا جیسے ابھی یہ سب کچھ ہورہا ہے،نفسی الضرا ء لِقبرِ انت ساکنہُ کی حسانی  ؓمدح اور وصال نبوی صلعم پر ان کے جگر خراش جذبات آج بھی مقدس جالی کے اوپر تحریر نظر آتے ہیں جو دل کی دنیا کو تہ وبالا کرکے رکھ دیتے ہیں۔ یہاں زیادہ دیر ٹھہرا نہیں جاسکتا کہ قافلوں کے قافلے اس سعادت سے بہرور ہونے کے لئے قطا ر اندر قطار اپنی باری کے منتظر نظر آتے ہیں ۔باہر آگیا آنسو پونچھ لئے ،کچھ دیر صحن مقدس میں بیٹھ گیا اور حسانؓ وجامیؒ کا محبوب صلعم کے تئیں نذرانۂ عقیدت خودبخود زبان پر آگیا۔ عجب وارفتگی کا عالم تھا اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔

 مسجد نبوی ؐمیں آمد اور نمازوں کی بلاناغہ ادائیگی ہوتی رہی، یہ مسجد ہے کیا؟ دراصل اس کی ہر شئے سے ایک عظیم تاریخ وابستہ ہے۔ اس کی باطنی عظمتوں کے کیا کہنے۔ اس کا ظاہری جلال و جمال بھی مبہوت کرکے رکھ دیتا ہے ۔ چلئے کچھ اس حوالہ سے بھی بات ہو۔توسیع مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  سے لے کر اب تک ۹بار یہ وسعت پاچکی ہے اور آج اس میں ۵۳۵۰۰۰ نمازیوں کی گنجائش موجود ہے ۔اس کی بلند وبالا اور دل کش میناروں کی تعداد دس ہے۔ متحرک گنبد حرکت میں آتے ہیں تو عجب سماں بندھ جاتا ہے۔ تعداد کے اعتبار سے یہ ۲۷ ہیں جن پر ۶۸ کلو گرام سونا استعمال ہوا ہے۔ عام سیڑھیوں کے علاوہ چار متحرک سیڑھیاں زائرین کو دوسری منزل پر پہنچانے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ مسجد میں ۵۴۳ نگران کیمرے ہر نمازی کے حرکات وسکنات عکس بند کرتے رہتے ہیں ۔مسجد کے گرد مبارک صحن کا رقبہ ۰۰۰ــ۲۳۵ ہزار میٹر ہے ، گرینائٹ پتھروں سے مزیں رقبہ ۴۵۰۰۰ مربع میٹروں پر مشتمل ہے۔ جی ہاں، مسجد نبوی ؐجہاں قدم قدم پر رحمتِ رحمٰن برستی ہے، یہاں ہی ’’ریاض الجنۃ‘‘ بھی ہے جو کلام نبوی صلعم  کی روشنی میں جنت کے باغات میں سے ایک باغیچہ ہے۔ یہاں دورکعت نماز کی ادائیگی کے لئے بھیڑ لگی رہتی ہے۔ خدائے لم یزل کا شکر و سپاس کہ یہ سعادت بھی حاصل رہی۔ یہاں لگے کئی ستو نوں کو دیکھنے کو تو سب دیکھتے ہیں لیکن ان کی تاریخ سے حا ل حا ل ہی لو گ واقف ہو تے ہیں ۔ منبر و محراب نبوی ؐ رلارلا کر بے حال کرکے رکھ دیتے ہیں۔استوانہ حنانہ پر لگا ستون آج بھی حنانہ کی فراق یار میں جدائی کے موقع کے اضطراروبے قراری کا بزبان حال اظہار کرتا ہے ، استوانہ ابولبابہؓ ،حضرت ابولبابہؓ کے توبہ اور داستانِ قبولیت توبہ کی ساری تاریخ بیان کرتا ہے۔ استوانہ سریر اور استوانہ مخلقہ بھی اپنی تاریخ کا اظہا ر بہ زبان حال کرتے ہیں۔ کاش سبھی زائرین ان باتوں سے واقف ہوں تو جذب شوق کی حدت وشدت میں اضافہ دراضافہ ہوگا۔ عام زایئرین تو ان اہم اور تاریخی مقامات کو بھی دیکھ نہیں پاتے جو مسجد نبوی ؐ کے بالکل گردونواح میں ہیں۔ ہاں، اس کے متصل ہی عید گاہ ہے جہاں مختلف مواقع اور مقامات پر نبی ؐ نے عیدین و استسقا کی نمازیں اد ا کیں اور یہی میدان ہے جہاں آپؐ نے نجاشی کی غائبا نہ نماز جنازہ کی ادائیگی کرکے نجاشی کی عزتوں اور شہرتوں کو بام عروج پر پہنچادیا۔ ان مقامات پر حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے مساجد تعمیر کی ہیں۔جنوب مغر ب میں ۳۰۵میٹر کے فاصلے پر مسجد غمامہ ہے اور اس مسجد سے ۴۰ میٹر کے فاصلے پر مسجد علی ابن طالب ؓہے ۔ سلطان محمدترکی نے ان مساجد میں سے کئی کی دوبارہ تعمیر کی۔ اور ۱۴۱۱ھ میں شاہ فہد نے ان کی مرمت و تجدید کی۔ یہ مساجد دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ہاں! یہاںپہ بھی بتاتا چلوں کہ مسجد نبویؐ سے مغرب کی جانب ۲۰۶ میٹر کے فاصلے پر وہ تاریخی جگہ بھی ہے جوسقیفہ بنو ساعدہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں ہی حضور اکرمؐ کے انتقال پرملال کے موقع پر خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب عمل میں آیا تھا، آج یہاں ایک الیکٹرک پاور اسٹیشن قائم ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک باغیچہ بھی ہے ۔ مسجد نبویؐ کے قریب ہی وہ تاریخی قبرستان بھی ہے جو مزار بقیع کے نام سے موسوم ہے۔ اس زمین میں کتنے آسمان آسودہ ہیں، تاریخ کا مطالعہ بتائے گا۔ یوں اس میں دس ہزار صحابہؓ کی تدفین عمل میں آئی ہے ا ور مزید کتنے صالحین  ؒاور تابعین ؒاس میں آسودہ ہیں، ان اقبال مندانِ ازلی کا کوئی شمار فی الوقت نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہاں تشریف لاکر مدفون حضرات کے لئے بارگاہ ربانی میں ان کی درجات کی بلندی کی دعائیں فرماتے تھے(صحیح مسلم)۔حضرت عثمان بن مظعونؓ،حضرت عثمان بن عفان ؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابو سعید خدری ؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت رقیہؓ ، حضرت ام کلثوم ؓ ، آپ ؐ کے فرزند حضرت ابراہیمؓ او ر حضرت خدیجہ ؓ او ر حضرت میمونہؓ کے سوا ساری ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس ؓاور پوپھیاں صفیہؓ اور عاتکہؓ ، حضرت حسن ؓ، فاطمہ بن اسدؓ اور حضرت عبداللہ بن جعفرؓ  بھی یہاں ہی آسودہ ہیں اور یہاں ہی حضرت امام مالکؒ ، امام نافعؒ ، امام زید العابدین ؒ، امام جعفر صادقؓ اور حضور صلعم کی رضائی والدہ حلیمہ سعدیہ کی آخری آرام گاہیں بھی ہیں۔اس گورستان میں تاریخ و سیرکا کوئی طالب علم داخل ہوجائے تو اسلام کی تاریخ کا ایک وسیع باب اسے دور بہت دور تک لے جاتا ہے۔اس مزار میں شرکیات و بدعات سے اجتناب کی سخت تاکید بھی ہے اور اہتمام بھی ۔شاہ فہد کے زمانہ میں اس کی آخری توسیع ہوئی اور اس کا رقبہ ۱۷۴۹۶۲مربع میٹر ہے ،جس کے گرد چار میٹر اونچی اور ۱۷۲۶ میٹر لمبی دیوار ہے۔ ہاں شارع قربان پر واقع مسجد قربان اور مسجد بلالؓ تو قربانی کی تاریخ اور بلالی صدائے حق کی یاد ایک بار پھر دلاتی ہیں…مسجد قبا کو تو ہماری تاریخ میں اہم ترین اہمیت حاصل ہے ۔ یہ وہی مسجد جس کے بارے میں خدائے قدوس نے کہا’’ یہ وہ مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔ وہی زیادہ موزون ہے کہ تم اس میں عبادت کے لئے کھڑے ہوں‘‘ مسجد دارخثیمہ بھی اس سے متصل تھی جو شاہ فہد کے دور میں مسجد قبا ء میں ہی شامل کردی گئی ۔ مسجد قبا مسجد نبوی صلعم شریف سے ۳۲ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور یہا ں آسانی سے عازمین کے واسطے ٹرانسپورٹ دستیاب رہتا ہے۔ مسجد قبلتین کی تاریخ سے سبھی واقف ہوں نہ ہوں نام ضرور سنا ہوگا۔ شارع خالد بن ولید ؓ کے کنارے اور وادی عقیق کے قریب یہ عظیم مرکز عبادت اپنے نام سے ہی اپنی تاریخ بیان کررہا ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جہاں امام دوعالم صلعم نے عین نماز کے دوران ہی اپنا مقدس رخ کعبہ کی جانب کردیا۔ ہاں یہاں ہی تحویل قبلہ کا حکم ملا تھا۔ جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۴ میں ہوا ہے ، یہ مرکز عبادت مسجد نبوی صلعم سے ۳۵ کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں یہ بھی نہ بھولئے کہ مسجد قبا سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری پر تاریخی مسجد جمعہ واقع ہے۔ مدینہ تشریف آوری کے وقت حضور صلعم نے بنوسالم کی بستی میں یہاں ہی نماز جمعہ ادا کی تھی۔ مسجد عتبان و مسجد نبی انیف کی بھی اپنی تابناک تاریخ ہے، مسجد نبوی صلعم شریف کے شمالی جانب ۹۰۰ میٹر کے فاصلہ پر واقع مسجد ابی ذؓرفقر بوذرؓ کی یاد دلاتی ہے ۔مسجد اجاجہ مسجد نبی ظفر ، مسجد فضیح، مسجد سیقیا، مسجد نبی دینار ، مسجد نبوی کے شمال مغر میں ۵۲۰ میٹر کے فاصلہ پر واقع مسجد بسبق ، شارع سید الشہداء ؓ  کے قریب مسجد مستراح  کے جنو ب میں ۳۰۰ میٹر کے فاصلہ پر واقع مسجد شیخین اور مسجدمستراح کی کڑیاں تاریخ سے ملاکر دیکھ لی جائیں تو  ہرزائر عرصہ تک تاریخ کی وادیوں میں سیر کرتے ہوئے عجب حظہ ولطف وسرور وعزم و ہمت کا احساس کرے گا۔

ثینتہ الوداع اپنی تاریخ خود بتائے گا، شارع سید الشہداء اورشارع ابوبکر ؓ کے سنگم پر واقع تھا۔مسجد نبویؐ کے شمالی مغربی کونے سے قریباً ۷۵۰ میٹر یہاں ایک مسجد قائم ہے،دوسرا ثنیتہ قبا کی طرف تھا۔ مکہ مکرمہ آنے جانے والے یہاں سے گذر تے تھے ۔یہاں ہی آمد مدینہ کے موقع پر چھوٹی بچیوں نے حضور صلعم کے استقبال کے دوران’’طلع البدرعلینا‘‘ کے مسرت بھرے گیت گائے تھے ۔ یہاں آج ایک گرلز اسکول قائم ہے ۔یہ جگہ بھی حضورؐ کے سفر ہجرت کی یاد دلاکر ذہن و دل میں انقلاب بپاکئے دیتی ہے۔ یہاں عبرت کے لئے اس قلعے کے کھنڈرات بھی دیکھے جاسکتے ہیںجو قلعہ کعب بن اشرف کے نام سے موسوم ہے۔ یہ قلعہ اسلام کے خلاف سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مکروفریب کے تانے بانے بُننے کا مرکز رہا۔ کعب بن اشرف ایک مالدار شاعر تھا، ماں یہودی تھی ۔ یہودیت رگ و پے میں سرایت کرچکی تھی۔ بدترین اسلام دشمن تھا، اپنے اشعار میں اسلام اور پیغمبر اسلا م صلعم اور صحابہ ؓ کیخلاف زہر افشانیاں کرنے کا عادی تھا۔ اپنے ہی قلعہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے اس قلعہ کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے جنوب مشرق میں بطحان ڈیم کے راستے میں دائیں جانب ہر دیکھنے والے کو ’’دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘‘ کہہ کر نصیحت حاصل کرنے کا درس دیتے ہیں۔

اسلامی تاریخ میں جبل احد اور میدان احد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔کچھ زائرین یہاں آتے ہیں لیکن تاریخ سے عد م واقفیت کی بنا پر بس ادھر ادھر نظر دوڑاکر اپنا راستہ لیتے ہیں۔جبل احد جس کے بارے میں حضور صلعم نے فرمایا کہ’’یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘ اسی میدان احد اور جیل رماہ میں ہوئے حق و باطل کے درمیان ہونے والے  معرکہ نے عجب غلغلہ پیدا کیا ۔ فتح بالکل قریب تھی لیکن چند جانثار اپنی مقرر کردہ جگہوں سے تھوڑی دیر کے لئے کیا ہٹ گئے کہ زبردست پریشانیوں اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ خود حضور صلعم صرف اپنے چندساتھیوں سمیت میدان احد میں ڈٹے رہے اور کئی زخم مبارک چہرے کو لگے۔فداہُ اَبی وَاُمی ۔ انہیں کہا گیا تھا   ؎

فلک ٹوٹے زمین پھٹ جائے موت آئے کہ دم نکلے

مگر ہرگز نہ ہادی کی اطاعت سے قدم نکلے

بس تھوڑی دیر دائر ہ اطاعت سے باہر آئے تو ہوش ربا مناظر دکھائے گئے، پھر سنبھلے ، دامن اطاعت میں آگئے تو ہاری ہوئی جنگ جیت کر ظفر یاب ہوئے ۔یہاں پہنچ کر اسلا می تا ریخ کا طالب علم تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتا ہے۔ جبل رماۃ کے تیراندازوں کی یا د سید الشہداء حمزہؓ کی شہادت اور حضور ؐ کا کوہ استقامت بن کے کھڑا رہنا ،یہ سب یاد آکر ذہن و دل میں عجب طرح کا انقلاب بپا کردیتا ہے۔شہدائے احد کو حضور صلعم کے ارشاد کے مطابق میدانِ قتال میں ہی دفن کیاگیا۔احد پہاڑ کے دامن میں غار کے نیچے جس جگہ حضور صلعم نے احد کے دن ظہر کی نماز ادا کی وہاں ایک مسجد بنی تھی جس کے اب آثار باقی ہیں۔ارد گرد حفاظتی جنگلہ لگایاگیا ہے۔

مدینہ منورہ کے عین وسط میں جبل سلع ہے، مغربی دامن میں بنو حرام کی آبادی تھی۔ جنگ خندق کے دوران اسی پہاڑ کے قریب غار میں حضورصلعم نے قیام فرمایا، دعائیں کیں، فتح نصیب ہوئی۔ سعودی حکومت نے اس پہاڑ کے گرد لوہے کے مضبوط جنگلے نصب کئے ہیں ۔اسی پہاڑکے دامن میں جنگ خندق کے دوران صحابہؓ  خیمہ زن تھے ، اور اس کی خوبصورتی کے لئے مصنوعی آبشار لگائے گئے ہیں ۔ ایک باغیچہ بھی باغیچہ فتح کے نام سے یہاں موسوم ہے ۔مدینہ منورہ کی تاریخ میں مساجد سبعہ کو جو سلع پہاڑ کے دامن میں واقع ہیں، بڑی اہمیت حاصل ہیںاور جن عظیم ترین شخصیات کے مبارک ناموں سے یہ مساجد موسوم و منسوب ہیں، ان کی حیات مبارک کا ورق ورق انسان کے اندر انقلاب انگیز تبدیلیاں بپا کردیتا ہے۔ مسجد نبی حرام ، مسجد منارتین، مقام بیداء وادی عقیق، وادیٔ بطحان، وادیٔ مہزور، وادیٔ قناہ عاقول ڈیم، بس دیکھنے اور ان کی تاریخ جاننے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں بعض تاریخی کنویں بزبان حال اپنا اپنا ماضی بیان کرتے ہیں۔ بئر رومہ، بئر حا، بئر غرس، بئرعروۃ، بس ان کی تاریخ جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بئر اریسں تو وہ کنواں ہے جس میں حضور صلعم کے وصال پرملال کے بعد خلفاء کے ہاتھ میں آنے والی وہ مقد س انگوٹھی جس پر محمد رسول اللہ ؐ کے مبا رک الفا ظ کندہ تھے، حضرت عثمان ؓ کے مقدس دست مبا رک سے گر گئی ہے۔ یہ کنواں مسجد قبا کے قریب مغربی جانب واقع تھا۔او رچودھویں صدی کے آخر میں سڑک کی توسیع کے دوران زیر زمین آگیاہے۔ بئرغرس کو میں دیر تک دیکھتا رہا کہ میرا محبوب فدا ابی و امی اس کا پانی نوش فرمانے یہاں تشریف لے آتے اور اسی کے پانی سے غسل دینے کی وصیت بھی فرمائی تھی۔ یہاں زائرین اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مسلمانوں کے تہذیبی اور تعلیمی ورثہ کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل کو قرآن و سنت کے لازوال پیغام سے آگاہ کرنے کے لئے یہاں کیا ہورہا ہے ۔ مسجد نبویؐ شریف کے شمالی سمت ۱۳۵۲ھ میں قائم کی گئی لائبریری ۱۳۹۹ھ میں باب عمر سے متصل ہال میں منتقل کی گئی جس میں علوم حدیث، کتب علوم تفسیر ، فقہ، کتب اصول فقہ، تایخی کتب،مخطوطات، نادررسائل و رجرائد شامل ہیں۔ ملک عبدالعزیز لائبریری بھی اپناخاص نام کما چکی ہے۔ عام مخطوطا ت و کتب کی تعداد ۱۳۰۰۰ ہے جب کہ نادر و نایاب کتابیں ۲۵۰۰۰اور دیگر مطوعہ کتب ۴۰۰۰۰ سے زیادہ ہیں۔ اس لائبرری میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کو جمع کرنے کا اہتما م بھی کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ کنگ فہد پرنٹنگ پریس بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن حکیم کے نسخوں کی بہترین وطباعت کاکام یہاں ہوتا ہے۔ اس پریس سے اب تک دنیا کی ۳۹ زبانوں میں قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر شائع ہوئے ہیں جن میں کشمیری زبان بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مرکز تحقیقات بھی قابل دید ہے ، جہاں ریسرچ کاکام ہوتا ہے۔

بہر حال بات شہر تا جدار مدینہ صلعم سے شروع ہوگئی تھی اور محبوبؐ کے شہر کے ذرّے ذرّے سے محبت ایمان کی دلیل ہے۔ ممکن نہیں کہ مدینہ منورہ کی ساری تاریخ کا احا طہ کر پاؤں۔ یہاں کا ہر حجروشجر اپنے اندر ایک تاریخ لئے ہوئے ہے اور یہ سب اس لئے کہ یہ شہرِ جانان ہے اور سب عظمتیں اور رفعتیں انہی محبوب ؐکی نسبت سے اسے حاصل ہیں۔ ہاں عازم مدینہ ہوئے تو ان مقامات میں سے اکثر کو دیکھ کر جہاں روح و دل عجب طرح کا سکون محسوس کرتا ہے، وہاں دل مسجد نبویؐ میں اٹکا رہتا تھا۔ ہر نماز یہاں ادا کرنے کی کوشش کی اور پھر وہ گھڑی آہی گئی جب جذبات کے تلاطم خیز سمندر پر قابو رکھ کر کوئے دلبر سے سوئے وطن جانے کی ہدایت ملی۔ بس اس دن کا شوق و اضطراب مت پوچھئے ۔ محبوب ؐ کی مسجد سے چمٹے رہے ، روتے رہے، بلکتے رہے اور پھر روضۂ اطہر پر جانے کی بے جا جسارت تک کی ۔ اپنے اعمال نامہ کی سیا ہی دور رہنے کا تقاضا کررہا تھی لیکن محبوبؐ سے تعلق اور امت کے تئیں راتوں ان ؐکے رونے جاگنے کا عمل نزدیک سے گذرنے کا دلاسادے رہا تھا۔یہ امید بھی بر آئی اور یہ نصف شب سے کچھ پہلے کا سماں تھا۔ بھیڑ بہت کم تھی، ہزاروں عمریں ان ساعتوں پر قربان جو یہاں آرام اور کسی بھیڑ بھاڑ کے بغیر گذریں۔ میں محبوب ؐکے روضے کے سامنے صلوٰہ و سلام کا بار بار ورد کرتا رہا ، آنکھیں تھی کہ اشکوں کا سیل رواں زمین حرم نبویؐ پر گرارہی تھیں۔ا حساس یہ تھا کہ آنسوؤں کے ان قطروں کی آواز بھی نہ سنائی دے کہ یہ بھی بے ادبی ہے، اندرہی اند ر امت کی حالتِ زاروزبوں پر ماتم کناں تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ عرب وعجم میں ہم پر قہر و ستم کی یورشیں کیوں؟اسی لئے ناکہ ہم آپ ؐ سے کٹ گئے ہیں، جس امت کو آپ ؐ نے جسد واحدبنایا تھا وہ قومیتوں اور مختلف تقسیمو ںمیں منتشراور بٹی ہو ئی ہے۔ فکری افلاس، ذہنی انتشار اور بے یقینی کا عالم ہے، چراغ مصطفوی ؐاور شرار بولہبی کی پنجہ آزمائی آج بھی جاری ہے ۔عرب، ہاں عرب آج ان کے دست نگربن گئے ہیںجن کو ہم نے ، عربوں نے، عجمیوں  نے غرض تمام مسلمانوں نے حرف تکلم سے آشناکیا تھا، جن بتوں کو آپؐ نے پاش پاش کرکے کعبہ کو پاک کیاتھا، آج نت نئے ناموں اور نئے لباسوں میں وہیں صنم خانے ہمارے اعصاب پر سوار ہیں اور ہم غیر شعوری طور ہی نہیں شعوری طور بھی ان کے سامنے باادب غلا موں کی ما نند کھڑے ہیں۔ آج ہمارے بعض حکمران خود اپنی ملت کو اسلام بیزاراورحق دشمن یورپ کے قدموں میں بالجبر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ملت کا نوجوان بے راہ رو ہے، والدین ، استاد، معاشرہ ،مدرسہ معلم ، علماء،فقہاء سب اپنی ذمہ داریوں سے ناآشنا مادہ پرستی کی دوڑ میں دنیا ومافیہا سے بے خبر سر پٹ دوڑ رہے ہیںاور حقیقت حال یہ ہے کہ اپنے کرمو ں کے دنیو ی پھل کی صورت میں ہم پٹ رہے ہیں، کٹ رہے ہیں،مٹ رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم نے حضور اکرم  ؐ سے اپنا رشتہ و تعلق میں بہت بڑی خلیج  پیداکی ہے اور حرمین کی ضیا پا شیو ں اور اپنی زندگیو ں کے درمیان فاصلے اور مسافتیں وجود میں لا ئی ہیں، دل کی دنیا میں یہ صدائیں جاری تھی کہ میں یہ کہتے ہوئے روبہ کعبہ قبلہ ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا    ؎

نہ نالم از کسے مے نالم از خویش

کہ ما شایانِ شان تونہ بود یم

گریہ وزاری کے اسی عالم میں بے محا بہ ہچکیاں بندھ گئیں، رقت طاری ہوئی، آنسو پونچھے اور رخصت ہوا۔ اگلے روز فجر و ظہر کی نماز پھر مسجد محبوبؐ میں ادا کی ،پھر قلب مفطر پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔آنسوؤں نے مسجد محبوبؐ کے صحن مقدس کو تر بتر کردیا ۔بہ صد یاس و غم یہ کہہ کر سوئے وطن روانہ ہوا کہ اے مولا !محبوب ؐاور شہر محبوب ؐکے ساتھ محبت وارفتگی میں اضافہ در اضافہ کرکہ یہی دلیل ایمان ہے۔پھر حر مین شریفین بلالے اور با ر بار بلانے کا یہ عمل تا زیست جاری رکھ۔آمین

……ختم شد……

موبائل:-9906485136؛ای میل :-basharat bashir @yahoo.com