Search This Blog
Friday, 17 May 2013
Thursday, 16 May 2013
Sunday, 5 May 2013
Friday, 3 May 2013
Thursday, 2 May 2013
Monday, 1 April 2013
Sunday, 10 March 2013
آآآ آٹزم۔۔۔۔۔بچوں کی ایک انوکھی بیماری
آآآ آٹزم۔۔۔۔۔بچوں کی ایک انوکھی بیماری
ڈاکٹرنزیرمشتاق
ڈاکٹرنزیرمشتاق
ایک
ٹی وی چینل پر سیریل ’’آپ کی انترا‘‘ دیکھنے کے بعد ایک دُکھی ماں کو
ایسا لگا کہ جیسے اس کی تین سالہ بیٹی ہی سیریل کی مرکزی کردار ’’انترا‘‘
ہے ۔ اُسے یوں لگا جیسے اس کی بیٹی بھی انترا کی طرح ’’آٹزم‘‘ میں مبتلا
ہے ۔ اس نے فون پر مجھ سے کچھ سوالات پوچھے جن کامیں نے جواب دیا لیکن وہ
مطمئن نہیں ہوئی ،پھر اُس نے خواہش ظاہر کی کہ میں ’’فکر صحت ‘‘ کالم میں
تفصیل سے اس بیماری کے متعلق لکھو۔اُس دکھیاری ماں کی خواہش کا احترام کرتے
ہوئے میں نے کمسن بچوں کی انوکھی بیماری آٹزم کے متعلق یہ مضمون لکھا ۔
آپ بھی پڑھئے اور اس بیماری کے بارے میں جانکاری حاصل کریں ۔
آٹزم
کے لغوی معنی خود فکری ، خیال پرستی ، اپنے تصورات کے سمندر میں ڈوبے رہنا
،بیرونی حقائق سے لاتعلقی ظاہرکرنا ہیں، یعنی اس بیماری میں مبتلا بچہ
’’اپنی دنیا‘‘ میں گم ہوکے رہ جاتاہے ، اسے بیرونی دنیا سے کوئی سروکار
نہیں ہوتا ۔ اس کی توجہ صر ف اپنے نفس یا ’’خودی‘‘ پر ہوتی ہے ۔
1943ء میں معروف آسٹریائی ماہر امراض نفسیات لیوکینر (Leo Kanner) نے
دو سے تین سال کی عمر کے بچوں میں ایک انوکھا سینڈروم دریافت کیا جس میں
مبتلا بچہ صرف اپنی دنیا اور اپنے خیالوں میں گم رہتاہے ۔اس سینڈروم کو اس
نے ابتدائی خود فکریٔ اطفال (Early Infantile Autism) کا
نام دیاہے ۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ یہ بیماری لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں
میں زیادہ پائی جاتی ہے اوراس مرض کی عجیب وغریب ’’دماغی کیفیت‘‘ زندگی کے
پہلے سال کے آخر ی مہینوں میں (کسی بھی صورت میںدوسرے سال کے بعد
نہیں)نمایاں ہوتی ہے ۔
ایک
نارمل صحت مند بچہ تین برس کی عمر کے بعد اپنے ماں باپ اور ’’دوسرے
اپنوں‘‘ کے ساتھ ایک سماجی بندھن باندھنے کے اہل ہوجاتاہے لیکن آٹزم میں
مبتلا بچہ ایسا کرنے میں ناکام رہتاہے ۔ وہ سماجی زنجیر سے کٹا ہوا حلقہ
لگتاہے اور دوسرے نارمل بچوں کے برعکس بیرونی حقائق کی طرف کوئی توجہ نہیں
دیتا ہے ۔ وہ خیال پرستی کا شکا رہوجاتاہے اور اپنے ہی خیالات کے قفس میں
مقید ہوجاتاہے ، وہ ارد گرد کے ماحول کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی
’’خودی‘‘ اور ’’نفس ‘‘ کا اسیر ہوکے رہ جاتاہے ۔
تحقیقات
سے ثابت ہواہے کہ آٹزم میں مبتلا بچے کے والدین ذہنی، محنتی اور پیشہ
وارانہ و اقتصادی طور کامیاب ہوتے ہیں ، وہ زندگی کی شاہراہ پر کچھ حاصل
کرنے کے لئے بہت تیزی سے دوڑتے ہیں ۔ وہ اپنی سائنسی ، علمی ، ادبی
یافنکارانہ سرگرمیوں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ انہیں بیرونی دنیا کی کوئی
خبر نہیں ہوتی ہے ۔ ایسے والدین کی نجی زندگی بالکل سطحی اور ’’سرد‘‘ ہوتی
ہے او ربچے کو ان کی طرف سے صحیح معنوں میں وہ محبت اور شفقت نصیب نہیں
ہوتی جس کا ایک بچہ حقدار ہوتاہے ۔ ماں باپ بچے کے تئیں سردمہری کا اظہار
کرتے ہیں ، خاص کر ماں اپنے بچے پر ممتا کے پھول نچھاور کرنے میں کوتاہی
اور سردمہری سے کام لیتی ہے ۔
جب
آٹزم میںمبتلا بچے کو ماہر امراضِ نفسیات کے پاس لایا جاتاہے تو اس کے
والدین یہ باور کرچکے ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ ذہنی طور ناقص یا پیدائشی پاگل
ہے یا پھر عقب ماندگی فکری (Mental Retardation) کا
شکارہے ۔ انہیں اپنے بچے کی اصلی بیماری کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہوتی
۔ اکثر والدین بچے کی بیماری کو بھوت پریت ، آسیب یا جن پری وغیرہ کا
سایہ مانتے ہیں اور ڈاکٹروں یا ماہرامراض نفسیات سے مشورہ کرنے کی بجائے
نقلی پیروں فقیروں کے درباروں میںحاضری دیتے ہیں ۔
آٹزم
جیسی انوکھی بیماری میں مبتلا بچہ تین چار سال کی عمر میں خاموش رہنا پسند
کرتاہے ۔ وہ دوسروں سے باتیں کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتاہے ،کسی کے
سوال کا جواب دینے کی بجائے سرجھکائے اپنے ہی خیالوں میں گم صم رہنے کو
ترجیح دیتاہے اور اگر کوئی اس سے بار بار سوالات پوچھے تو وہ غصّے کی آگ
میں جلنے لگتاہے ۔ اس میں دوسروں کے احساسات او ر جذبات سمجھنے کی صلاحیت
بالکل موجود نہیں ہوتی ہے وہ اپنی تنہائی کے کمرے میں محصور ہوکر سبھی
کھڑکیاں اور دروازے بند کرلیتاہے ۔وہ ہروقت اُداسی اور خاموشی کے ویران
جنگل میں بھٹکتا رہتاہے اور اگر کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش
کرتاہے تو وہ زخمی شیرنی کی طرح بپھراٹھتا ہے ۔ کوئی اس سے کچھ الفاظ یا
کوئی جملہ کہے تو وہ طوطے کی طرح وہی الفاظ یا جملہ دہراتارہتاہے ۔ آٹزم
میں مبتلا بچے میں ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو’’تم‘‘ سے اور
سامنے والے کو ’’میں‘‘ سے مخاطب کرتاہے ۔ اسے دوسرے لوگوں سے کسی بھی قسم
کی دلچسپی نہیں ہوتی ہے لیکن وہ اپنے پسندیدہ کھیلوں میں حد سے زیادہ
دلچسپی لیتاہے ، وہ کئی گھنٹوں تک اپنی پسندیدہ چیزوں یا کھلونوں کے ساتھ
سرگرم رہتاہے اور اسے کبھی’’ تھکاوٹ‘‘ محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ وہ ہرممکن
طریقے سے اپنی یکسوئی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتاہے ۔ وہ کمرے کی چیزوں
کو ہر وقت ایک ہی ’’اسٹائل‘‘ میں دیکھتے رہنے سے یک گونہ خوشی محسوس کرتاہے
، اسے ہروقت یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کوئی اس کے کمرے کی چیزوں کی ترتیب
بدل نہ دے ۔ماحول اور اطراف سے حد درجہ بے خبری اور لاپرواہی اور دوسروں کی
طرف بے توجہی سے بچے کو قریب سے دیکھنے والا یہ نتیجہ اخذکرتاہے کہ بچہ
ذہنی طور ناخیز یا دماغی طور بہت کمزور ہے مگر درحقیقت ایسا بچہ دوسرے بچوں
کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتاہے ۔ اس کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت
موجود ہوتی ہے جو عام بچوں میں نہیں ہوتی ہے ۔ جب بچے کو غور سے دیکھا
جاتاہے تو اس کے چہرے پر سنجیدگی کے گہرے بادلوں کے علاوہ تنائو بھی نظر
آتاہے لیکن جب اس کے ماں باپ یا چاہنے والے ذرا سنجیدگی سے غور کرتے ہیں
تو وہ ظاہری طور ذہین نظر آتاہے ۔ اس کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے اور وہ
رٹہ لگانے میں خاصی مہارت رکھتاہے ۔ وہ کچھ بھی بار بار دہرا کر ذہن میں
محفوظ کرسکتاہے ۔ وہ کاغذات کے ایک شیٹ پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتے
کھینچتے کوئی حیران کن ’’پینٹنگ‘‘ بناسکتاہے ۔ ان سب اوصاف کے باوجود بھی
آٹزم میں مبتلا بچہ ایک جذباتی خلاء میں زندگی گذارتاہے اور عمر بھر دوسرے
نارمل بچوں کے مقابلے میں (دیکھنے والوں کی نظروں میں) ذہنی طور ناقص ہی
رہتاہے ۔ اس مرض میں مبتلا بعض بچے پانچ یا چھ سال کی عمر کے بعد کسی حد تک
ذہنی طور پختہ ہوکر دوسروں کی طرف توجہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ
کچھ نارمل قسم کے حرکات انجام دینا سیکھ جاتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو
پھر بھی وہ حرکات عجیب وغریب یا ابنارمل ہی لگتے ہیں ۔
تحقیقات
سے ثابت ہواہے کہ ایسے بچوں کے مرکزی نظام اعصاب میں کوئی موروثی نقص
موجود ہوتاہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے نارمل بچوں کے مقابلے میں ’’ایک مختلف
اندازمیں‘‘ پروان چڑھتے ہیں ۔ اس بیماری کی کوئی مخصوص وجہ مشخص نہیں ہوسکی
ہے ۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے لئے والدین یا بچہ خودذمہ دار نہیں ہے
کیونکہ کوئی بھی سائنس دان یا ڈاکٹر ابھی تک اس دماغی نقص کا پتہ نہیں لگا
سکاہے جس سے یہ بیماری بچے کی زندگی کے پہلے سال میں شروع ہوتی ہے ۔ کچھ
محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بیماری کے وجوہات میں مو روثی محرکات کا
اہم رول ہے ۔
علامات:
آٹزم میں مبتلا بچے میں درج ذیل علامات پائے جاتے ہیں ۔
زبان ۱
آٹزم میں مبتلا بچہ
بہت دیر کے بعد زبان (بولنا )سیکھتاہے ۔
کوئی
سوال پوچھنے پر جواب دینے کی بجائے وہی سوال دہراتاہے ۔ مثلاً اگر آپ
آٹسٹک بچے سے پوچھیں ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ تو وہ بلا فاصلا جواب میں کہے
گا ’’ تمہارا نام کیاہے؟‘‘۔
جو کچھ بولتاہے اس کے معنی واضح نہیں ہوتے ہیں ،الفاظ سننے والے کی سمجھ میں نہیں آتے ہیں ۔
بار بار ایک ہی لفظ ،جملہ یا گیت کے بول دہراتاہے ۔
بات چیت کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتاہے ۔
بات چیت شروع بھی کرے تو بیچ میں ہی ادھوری بات چھوڑ کر چلا جاتاہے ۔
۲-سماجی طور:
تنہا کھیلنے کو ترجیح دیتاہے ۔
اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ گھل مل جانے سے کتراتاہے ۔
اپنے سے کمسن یا اپنے سے بڑے بچوں کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتاہے ۔
دوست بنانے میں دلچسپی نہیں لیتاہے ۔
سامنے والے کے ساتھ آنکھیں نہیں ملاتا ہے ،ہر وقت آنکھیں چرانے کی کوشش کرتاہے ۔
اپنی خوشیاں دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی کوشش نہیں کرتاہے ۔
کوئی اسے گلے لگائے ،پیا رکرے یا چومے تو اسے اچھا نہیں لگتاہے ۔
غیر فطری برتاؤ:
ہرو قت حددرجہ ’’یکسانیت ‘‘پسند کرتاہے ۔
اپنے طرزِ زندگی میں کسی بھی قسم کے بدلائو سے ناراض ہوجاتاہے ۔
چیزوں
کو گھمانے میں بے حد دلچسپی دکھاتاہے ۔مثلاً لٹّو کو دن بھر گھماسکتاہے ۔
پہیے، پنکھے یا ایسی گھومنے والی چیزوں کی طرف فوری متوجہ ہوجاتاہے ۔
دیکھنے والے کو چہرے اور جسم کے عجیب وغریب حرکات دکھاتاہے۔
اُچھلنے اور تالی بجانے میں بے حد دلچسپی لیتاہے ۔
کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے بار بار اور زور زور سے ہنستاہے ۔
بغیر کسی وجہ کے ’’سٹپٹا جاتا‘‘ اور روٹھ جاتاہے ۔
درد کی شدت محسوس نہیں کرتا ہے ۔
گرمی یا سردی کی طرف بے حسی ظاہر کرتاہے ۔
آوازوں یا موسیقی کی طرف بہت زیادہ یا بہت کم توجہ دیتاہے ۔
علاج:
بدقسمتی
سے ابھی تک آٹزم کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ۔ ماہر نفسیات ، کونسلر
اور سکول میں استاد ، گھر میں والدین اور دوسرے آشنا بچے کی مدد کرسکتے
ہیں اور اس کی طرف مخصوص توجہ دے کر اسے سماجی زندگی کے دائرے کے اندر لانے
میں اپنا رول نبھا سکتے ہیں ۔ آٹزم میں مبتلا بچے کی فنکارانہ صلاحیتوں
کو اُجاگر کرنا والدین اور استاد وں کا فرض ہے ۔
Saturday, 9 March 2013
Wednesday, 20 February 2013
تکبر
تکبر
شاہنواز فاروقی
تکبر اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں تکبر کتنا ناپسندیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے اثبات سے شروع نہیں ہوتابلکہ تمام ممکنہ جھوٹے خدائوں کی نفی سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، بلکہ اس نے فرمایا کہ ’’نہیںہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے‘‘۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’نہیں ہے کوئی الٰہ‘‘ تو یہ پوری کائنات ازل سے ابد تک تمام جھوٹے خدائوں سے پاک ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی موجودگی کی گواہی پوری کائنات میں گونج بن کر پھیل جاتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تکبراتنا ناپسند کیوں ہے؟
اس سوال کے جواب کی پانچ بنیادیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ازلی و ابدی ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس سوال کے جواب کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ اس سوال کے جواب کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اس سوال کے جواب کی چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رازق ہے۔ اس سوال کے جواب کی پانچویں بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ چونکہ ان صفات کو اللہ کے سوا کسی سے وابستہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے صرف اللہ ہی بڑا ہے، اور تکبر کرنا صرف اسی کے لیے روا ہے۔
اس کائنات میں اگر تکبر روا ہوتا تو انبیاء و مرسلین کے لیے ہوتا، اس لیے کہ ان کے پاس ’’کتاب‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’ہدایت‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’معجزہ‘‘ تھا۔ بے شمار انسانوں نے ان کی ’’پیروی‘‘ کی تھی۔ لیکن انبیاء و مرسلین کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے زیادہ منکسرالمزاج دنیا میں کوئی اور نہیں ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سردار الانبیاء ہیں مگر انہوں نے فرمایا: کتاب میری نہیں ہے، اللہ کی ہے۔ ہدایت دینے والا بھی وہی ہے، معجزہ بھی اسی کی عطا ہے، پیروی کی بنیاد بھی اسی کی ذات ہے۔ اس سلسلے میں احتیاط کا عالم یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا ہر لفظ اور اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید کے بعد حدیثِ قدسی کا مقام ہے، اور حدیثِ قدسی کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی زبان نبی کی ہے مگر مفہوم اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہے۔ حدیثِ قدسی کے بعد عام حدیث کا معاملہ ہے، اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ نبیؐ کا قول ہے، مگر نبیؐ اپنے نفس کی خواہش سے کچھ نہیں کہتے۔ اس طرح آسمانی علم کی تمام بنیادیں غیر شخصی یا Non Personal ہوگئیں اور علم کی تمام اعلیٰ سطحیں خدا ہی سے منسوب ہوگئیں۔ اس منظرنامے میں اگر سردارالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکبر کی گنجائش نہیں نکلتی تو دوسرے انبیاء اور عام انسانوں کے لیے کہاں سے نکل سکتی ہے؟ چنانچہ اسی لیے تکبر کو اللہ تعالیٰ کی چادر کہا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو شخص یہ چادر کھینچے گا وہ راندۂ درگاہ ہوگا اور دنیا و آخرت میں ذلت و خواری اس کا مقدر بن کر رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تکبر اپنی اصل میں کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تکبر اپنی شخصیت کا ایسا انتہائی مبالغہ آمیز تصور ہے جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کائنات میں سب سے پہلا تکبر کرنے والا عزازیل تھا جسے اس کی عبادت و ریاضت نے جن ہونے کے باوجود فرشتوں کا ہمسر بنادیا تھا، لیکن عزازیل نے تکبر کیا اور اس کے تکبر نے اسے کائنات کی سب سے پست مخلوق بنادیا۔ لیکن عزازیل کے تکبر کی بنیاد کیا تھی؟ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے سجدہ کیا مگر عزازیل نے سجدے سے انکار کیا۔ اس سے انکار کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا: میں آگ سے بنا ہوں اور آدم کو مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ غور کیا جائے تو عزازیل نے ایک ایسی بات کہی جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہ تھی، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے ہی سے یہ نہیں بتا رکھا تھا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے۔ چنانچہ ابلیس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس کی کوئی علمی بنیاد نہ تھی۔ مطلب یہ کہ اس نے اپنی شخصیت کا ایک ایسا تصور قائم کیا جس کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ عزازیل یہ بات بھی بھول گیا کہ اصل چیز مٹی یا آگ نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ عزازیل اللہ کے حکم کے سامنے اپنی حقیر ’’رائے‘‘ لے کر کھڑا ہوگیا۔ یہ بھی ہولناک حد تک مبالغہ آمیز بات تھی۔ بھلا کہاں خدا کا حکم اور کہاں عزازیل کی ’’رائے‘‘! دنیا میں انسانوں کے تکبر کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر متکبر نے عزازیل کے طرزفکر اور طرزعمل کی پیروی کی۔
اس کی ایک مثال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودی ہیں۔ یہودیوں کو اپنی کتاب کے علم کی بنیاد پر یقینی طور پر معلوم ہوگیا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں، مگر وہ اس کے باوجود آپؐ پر ایمان نہ لائے۔ یہودیوں کی اصل تکلیف یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں سے کیوں ہیں، بنی اسرائیل میں سے کیوں نہیں ہیں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ محمدؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرے گا؟ کیا خدا رسول اکرمؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرنے کا پابند تھا؟ اگر نہیں تو بنی اسرائیل نے رسول اکرمؐ کے سلسلے میں جو طرزعمل اختیار کیا وہ بے بنیاد اور مبالغے کی ایک انتہائی صورت تھی۔
اس وقت برہمن ازم دنیا میں اجتماعی تکبر کی بدترین صورت ہے اور اس میں بھی مبالغے کی ایک ایسی صورت موجود ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مہا بھارت میں صاف لکھا ہے کہ ایک برہمن کے گھر میں شودر پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ برہمن اور شودر انسانوں کی روحانی یا نفسیاتی قسم ہیں، کوئی نسلی حقیقت نہیں۔ لیکن برہمنوں نے برہمنوں اور شودروں کو ایک نسلی حقیقت بناکر رکھ دیا ہے۔ ہٹلر نے جرمنی میں جرمن نسل پرستی کو فروغ دیا تو اس نے پہلے جرمنوں کے برتر نسل ہونے کا تصور پیش کیا، اور پھر اس تصور کو درست ثابت کرنے کے لیے سائنس تک کو Fiction بنا ڈالا۔ کہا گیا کہ جرمن نسل کے لوگوں کا دماغ بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ تمام انسانوں سے برتر ہیں۔ ان کا خون ملاوٹ سے پاک ہے اس لیے وہ تمام انسانوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں تکبر کی ایک اور بدترین صورت طاقت اور دولت کی بنیاد پر بروئے کار آئی ہے۔ نمرود نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ مجھ میں اور تمہارے خدا میں فرق ہی کیا ہے، وہ بھی انسانوں کو مارتا اور بچاتا ہے اور یہ کام میں بھی کرتا ہوں، تو اُس وقت اس کے پاس طاقت اور دولت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا… اور اگر کوئی شخص دنیا کی ساری طاقت اور ساری دولت پر قابض ہوجائے تو بھی وہ خدائی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے دعوے میں موجود مبالغے کا شعور تھا چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر نمرود کے مبالغے کے غبارے سے ہوا نکال دی کہ میرا خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ لیکن طاقت اور دولت میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ انسان کو متکبر بناتی ہیں؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ طاقت اور دولت انسان کے ’’محدود اختیار‘‘ میں ’’مطلق اختیار‘‘ کا رنگ پیدا کردیتی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ طاقت اور دولت ہر خوبی کا قائم مقام بن جاتی ہیں۔ یعنی طاقت ور اور دولت مند کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ صرف طاقتور اور دولت مند نہیں ہے بلکہ وہ نجیب بھی ہے، شریف بھی، صاحبِ علم بھی ہے اور ذہین بھی۔ ایسا نہ ہوتا تو اس کے پاس طاقت اور دولت کیوں ہوتی؟ مطلب یہ کہ طاقت اور دولت کے نشے میں شرافت‘ نجابت‘ علم اور ذہانت کا نشہ بھی شامل ہوجاتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ طاقت اور دولت کا شرافت‘ نجابت اور علم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن تکبر صرف طاقت اور دولت سے متعلق نہیں۔ طاقت اور دولت کا تکبر تو ظاہر ہوجاتا ہے مگر تقوے کا تکبر تو معلوم بھی نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو شخص اپنے نیک ہونے کے گمان میں مبتلا ہوجائے اُس کو خیال بھی نہیں آتا کہ وہ خود کو اچھا اور دوسروں کو برا سمجھتا ہے، اور دوسروں کو برا سمجھنے کا تعلق اس کے خود کو اچھا سمجھنے سے ہے۔ شیخ سعدیؒ کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ ایک رات تہجد کے لیے اٹھے تو ان کا بیٹا بھی تہجد کے لیے اٹھ گیا۔ شیخ سعدیؒ کے بیٹے نے دیکھا کہ وہ اور شیخ سعدی ؒ نمازکے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور باقی سب لوگ سو رہے ہیں۔ اس نے یہ دیکھا تو باپ سے کہا: یہ لوگ پڑے سورہے ہیں اور ہم نماز کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ سعدیؒ نے یہ سنا تو کہا: اگر تجھے یہی دیکھنا اور کہنا تھا تو اس سے اچھا تھا کہ تُو تہجد کے لیے اٹھا ہی نہ ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی نظر میں ’’متقی‘‘ ہوجاتے ہیں تو انہیں لاکھوں کروڑوں انسان ’’گناہ گار‘‘ نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان سے گناہ گاروں کی طرح ہی معاملات کرنے لگتے ہیں۔ یہی تکبر ہے۔ علم کا تکبر بھی کم ہولناک نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اکثر علم والوں کو ’’جاہل‘‘ لوگوں کے خلاف اپنا ردعمل فطری اور شعور پر مبنی نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسلام تقویٰ اور علم کو فضیلت کہتا ہے اور وہ پورے معاشرے کی تعمیر ان دو فضیلتوں پر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن فضیلتوں کا حامل ہونے اور متکبر ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
شاہنواز فاروقی
تکبر اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں تکبر کتنا ناپسندیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے اثبات سے شروع نہیں ہوتابلکہ تمام ممکنہ جھوٹے خدائوں کی نفی سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، بلکہ اس نے فرمایا کہ ’’نہیںہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے‘‘۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’نہیں ہے کوئی الٰہ‘‘ تو یہ پوری کائنات ازل سے ابد تک تمام جھوٹے خدائوں سے پاک ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی موجودگی کی گواہی پوری کائنات میں گونج بن کر پھیل جاتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تکبراتنا ناپسند کیوں ہے؟
اس سوال کے جواب کی پانچ بنیادیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ازلی و ابدی ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس سوال کے جواب کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ اس سوال کے جواب کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اس سوال کے جواب کی چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رازق ہے۔ اس سوال کے جواب کی پانچویں بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ چونکہ ان صفات کو اللہ کے سوا کسی سے وابستہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے صرف اللہ ہی بڑا ہے، اور تکبر کرنا صرف اسی کے لیے روا ہے۔
اس کائنات میں اگر تکبر روا ہوتا تو انبیاء و مرسلین کے لیے ہوتا، اس لیے کہ ان کے پاس ’’کتاب‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’ہدایت‘‘ تھی۔ ان کے پاس ’’معجزہ‘‘ تھا۔ بے شمار انسانوں نے ان کی ’’پیروی‘‘ کی تھی۔ لیکن انبیاء و مرسلین کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے زیادہ منکسرالمزاج دنیا میں کوئی اور نہیں ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سردار الانبیاء ہیں مگر انہوں نے فرمایا: کتاب میری نہیں ہے، اللہ کی ہے۔ ہدایت دینے والا بھی وہی ہے، معجزہ بھی اسی کی عطا ہے، پیروی کی بنیاد بھی اسی کی ذات ہے۔ اس سلسلے میں احتیاط کا عالم یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا ہر لفظ اور اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید کے بعد حدیثِ قدسی کا مقام ہے، اور حدیثِ قدسی کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی زبان نبی کی ہے مگر مفہوم اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہے۔ حدیثِ قدسی کے بعد عام حدیث کا معاملہ ہے، اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ نبیؐ کا قول ہے، مگر نبیؐ اپنے نفس کی خواہش سے کچھ نہیں کہتے۔ اس طرح آسمانی علم کی تمام بنیادیں غیر شخصی یا Non Personal ہوگئیں اور علم کی تمام اعلیٰ سطحیں خدا ہی سے منسوب ہوگئیں۔ اس منظرنامے میں اگر سردارالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکبر کی گنجائش نہیں نکلتی تو دوسرے انبیاء اور عام انسانوں کے لیے کہاں سے نکل سکتی ہے؟ چنانچہ اسی لیے تکبر کو اللہ تعالیٰ کی چادر کہا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو شخص یہ چادر کھینچے گا وہ راندۂ درگاہ ہوگا اور دنیا و آخرت میں ذلت و خواری اس کا مقدر بن کر رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تکبر اپنی اصل میں کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تکبر اپنی شخصیت کا ایسا انتہائی مبالغہ آمیز تصور ہے جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کائنات میں سب سے پہلا تکبر کرنے والا عزازیل تھا جسے اس کی عبادت و ریاضت نے جن ہونے کے باوجود فرشتوں کا ہمسر بنادیا تھا، لیکن عزازیل نے تکبر کیا اور اس کے تکبر نے اسے کائنات کی سب سے پست مخلوق بنادیا۔ لیکن عزازیل کے تکبر کی بنیاد کیا تھی؟ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے سجدہ کیا مگر عزازیل نے سجدے سے انکار کیا۔ اس سے انکار کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا: میں آگ سے بنا ہوں اور آدم کو مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ غور کیا جائے تو عزازیل نے ایک ایسی بات کہی جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہ تھی، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے ہی سے یہ نہیں بتا رکھا تھا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے۔ چنانچہ ابلیس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس کی کوئی علمی بنیاد نہ تھی۔ مطلب یہ کہ اس نے اپنی شخصیت کا ایک ایسا تصور قائم کیا جس کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ عزازیل یہ بات بھی بھول گیا کہ اصل چیز مٹی یا آگ نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ عزازیل اللہ کے حکم کے سامنے اپنی حقیر ’’رائے‘‘ لے کر کھڑا ہوگیا۔ یہ بھی ہولناک حد تک مبالغہ آمیز بات تھی۔ بھلا کہاں خدا کا حکم اور کہاں عزازیل کی ’’رائے‘‘! دنیا میں انسانوں کے تکبر کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر متکبر نے عزازیل کے طرزفکر اور طرزعمل کی پیروی کی۔
اس کی ایک مثال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودی ہیں۔ یہودیوں کو اپنی کتاب کے علم کی بنیاد پر یقینی طور پر معلوم ہوگیا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں، مگر وہ اس کے باوجود آپؐ پر ایمان نہ لائے۔ یہودیوں کی اصل تکلیف یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں سے کیوں ہیں، بنی اسرائیل میں سے کیوں نہیں ہیں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ محمدؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرے گا؟ کیا خدا رسول اکرمؐ کو بنی اسرائیل میں پیدا کرنے کا پابند تھا؟ اگر نہیں تو بنی اسرائیل نے رسول اکرمؐ کے سلسلے میں جو طرزعمل اختیار کیا وہ بے بنیاد اور مبالغے کی ایک انتہائی صورت تھی۔
اس وقت برہمن ازم دنیا میں اجتماعی تکبر کی بدترین صورت ہے اور اس میں بھی مبالغے کی ایک ایسی صورت موجود ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مہا بھارت میں صاف لکھا ہے کہ ایک برہمن کے گھر میں شودر پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ برہمن اور شودر انسانوں کی روحانی یا نفسیاتی قسم ہیں، کوئی نسلی حقیقت نہیں۔ لیکن برہمنوں نے برہمنوں اور شودروں کو ایک نسلی حقیقت بناکر رکھ دیا ہے۔ ہٹلر نے جرمنی میں جرمن نسل پرستی کو فروغ دیا تو اس نے پہلے جرمنوں کے برتر نسل ہونے کا تصور پیش کیا، اور پھر اس تصور کو درست ثابت کرنے کے لیے سائنس تک کو Fiction بنا ڈالا۔ کہا گیا کہ جرمن نسل کے لوگوں کا دماغ بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ تمام انسانوں سے برتر ہیں۔ ان کا خون ملاوٹ سے پاک ہے اس لیے وہ تمام انسانوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں تکبر کی ایک اور بدترین صورت طاقت اور دولت کی بنیاد پر بروئے کار آئی ہے۔ نمرود نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ مجھ میں اور تمہارے خدا میں فرق ہی کیا ہے، وہ بھی انسانوں کو مارتا اور بچاتا ہے اور یہ کام میں بھی کرتا ہوں، تو اُس وقت اس کے پاس طاقت اور دولت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا… اور اگر کوئی شخص دنیا کی ساری طاقت اور ساری دولت پر قابض ہوجائے تو بھی وہ خدائی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے دعوے میں موجود مبالغے کا شعور تھا چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر نمرود کے مبالغے کے غبارے سے ہوا نکال دی کہ میرا خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ لیکن طاقت اور دولت میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ انسان کو متکبر بناتی ہیں؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ طاقت اور دولت انسان کے ’’محدود اختیار‘‘ میں ’’مطلق اختیار‘‘ کا رنگ پیدا کردیتی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ طاقت اور دولت ہر خوبی کا قائم مقام بن جاتی ہیں۔ یعنی طاقت ور اور دولت مند کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ صرف طاقتور اور دولت مند نہیں ہے بلکہ وہ نجیب بھی ہے، شریف بھی، صاحبِ علم بھی ہے اور ذہین بھی۔ ایسا نہ ہوتا تو اس کے پاس طاقت اور دولت کیوں ہوتی؟ مطلب یہ کہ طاقت اور دولت کے نشے میں شرافت‘ نجابت‘ علم اور ذہانت کا نشہ بھی شامل ہوجاتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ طاقت اور دولت کا شرافت‘ نجابت اور علم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن تکبر صرف طاقت اور دولت سے متعلق نہیں۔ طاقت اور دولت کا تکبر تو ظاہر ہوجاتا ہے مگر تقوے کا تکبر تو معلوم بھی نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو شخص اپنے نیک ہونے کے گمان میں مبتلا ہوجائے اُس کو خیال بھی نہیں آتا کہ وہ خود کو اچھا اور دوسروں کو برا سمجھتا ہے، اور دوسروں کو برا سمجھنے کا تعلق اس کے خود کو اچھا سمجھنے سے ہے۔ شیخ سعدیؒ کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ ایک رات تہجد کے لیے اٹھے تو ان کا بیٹا بھی تہجد کے لیے اٹھ گیا۔ شیخ سعدیؒ کے بیٹے نے دیکھا کہ وہ اور شیخ سعدی ؒ نمازکے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور باقی سب لوگ سو رہے ہیں۔ اس نے یہ دیکھا تو باپ سے کہا: یہ لوگ پڑے سورہے ہیں اور ہم نماز کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ سعدیؒ نے یہ سنا تو کہا: اگر تجھے یہی دیکھنا اور کہنا تھا تو اس سے اچھا تھا کہ تُو تہجد کے لیے اٹھا ہی نہ ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنی نظر میں ’’متقی‘‘ ہوجاتے ہیں تو انہیں لاکھوں کروڑوں انسان ’’گناہ گار‘‘ نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان سے گناہ گاروں کی طرح ہی معاملات کرنے لگتے ہیں۔ یہی تکبر ہے۔ علم کا تکبر بھی کم ہولناک نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اکثر علم والوں کو ’’جاہل‘‘ لوگوں کے خلاف اپنا ردعمل فطری اور شعور پر مبنی نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسلام تقویٰ اور علم کو فضیلت کہتا ہے اور وہ پورے معاشرے کی تعمیر ان دو فضیلتوں پر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن فضیلتوں کا حامل ہونے اور متکبر ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
آپ پریشان ہیں۔۔۔۔لیکن کیوں؟
| آپ پریشان ہیں۔۔۔۔لیکن کیوں؟ ڈاکٹر نذیر مشتاق
لٹریچر میں اٹھارہویں صدی کو ’’ایجادات کی صدی‘‘ انیسویں صدی کو ترقی کی صدی اور بیسویں صدی کو’’پریشانی کی صدی‘‘ گردانا گیا ہے۔ روز مرہ کے زندگی کے مسائل و مشکلات کا مقابلہ کرتے وقت، عجیب و غریب حوادث سے دوچار ہو کر، ذہنی دبائو، کھچائو اورتنائو کے شعوری احساس سے ’’پریشانی‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔یہ احساس جذباتی، جسمانی، نفسیاتی یا تینوں کے ایک ساتھ مل جانے سے پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح احساسات ناخوشگواری سے جب جسمانی علائم شروع ہوتے ہیں تو انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ بنی نوع انسان کا پریشان ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ آغازِ زندگی ہی سے پریشانیوں میں مبتلا رہا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آج کے مادی دور اورتیز رفتار زندگی میں ’’پریشانی‘‘ ہر انسان کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ سکول جانے والے بچے نصابی کتابوں کے بوجھ سے پریشان ہیں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء مشکوک مستقبل کی بناء پر پریشان ہیں،سند یافتہ بے کار نوجوان تلاش روزگار سرگردانی میں پریشان ہیں ۔عام لوگ اور ملازمت پیشہ افراد نامساعد حالات اور اپنے کام کاج سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔تجارت پیشہ افراد مادیات کی دوڑ میں شامل ہو کر پریشانی میں مبتلا ہیں، عمر رسیدہ لوگ زندگی سے بیزار ہو کر احساس تنہائی اورگمشدگی عمر سے پریشان ہیں’’ جو پریشان نہیں وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ وہ کیوں پریشان نہیں ہیں‘‘۔ غرض ہر انسان زندگی کی شاہراہ پر چلتے چلتے پریشانی کو اپنے ہمراہ سائے کی طرح ساتھ لئے چل رہا ہے اور اگر کوئی پریشان نہیں ہے تو شاید آج کی اصطلاح میں وہ ’’نارمل انسان‘‘ کہلانے کا مستحق نہیں ہے یعنی پریشانی اور زندگی لازم و ملزوم ہیں۔ پریشان ہونے کے باوجود اگر انسان اپنے روز مرہ کے معمولات بخود احسن انجام دے پارہا ہے تو کوئی بات نہیں مگر جب پریشانی زندگی کے روز مرہ معمولات میں دخل اندازی کرنے لگے تو یہ ایک بیماری یا نفسیاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ مثلاً اگر ایک ڈاکٹر پریشانی کی وجہ سے مریضوں کا مناسب و موزوں علاج نہیں کرسکتا ہے تو وہ بیمار ہے۔ ایک اکاونٹنٹ پریشان رہتا ہے اور حساب و کتاب کا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کرپاتا تو وہ بیمار ہے۔ ایک طالب علم پریشان رہنے کے باعث اپنا ہوم ورک نہیں کرسکتا تو پریشانی اس کے لئے ایک مسئلہ یا مرض بن چکی ہے اور اس کا بروقت ، مناسب اور موزوں علاج بے حد ضروری ہے۔’’ڈاکٹر صاحب پچھلے تین برسوںسے مجھے نیند نہیں آتی ہے، میرے سارے بدن میں درد رہتا ہے، میرا سر بھاری بھاری سا رہتا ہے،سینے پر ایک عجیب سا دبائو محسوس کرتی ہوں، مجھے بھوک نہیں لگتی، میں بے قرار رہتی ہوں، میری سانس پھولتی ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے، اکثر بے ہوش ہو جاتی ہوں، جی چاہتا ہے چیخوں،چلائوں اور پھر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لوں۔ مجھے گھر میں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ ہر وقت ایک ڈر سا لگتا ہے……‘‘
یہ تیس سالہ فاطمہ بانو کا بیان ہے، جو پچھلے تین برسوں میں چھ بار ہسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے بستری کی گئی ہے۔ ہسپتال جانے سے پہلے وہ بے قرار ہو جاتی، اس کے سینے میں عجیب سا شدید درد جاگ اٹھتا اور وہ چیخنے چلانے لگتی اور پھر بے ہوش ہو جاتی، گھر والے اسے فوری ہسپتال پہنچا دیتے جہاں اسے’’مریض قلب‘‘ سمجھ کر اس کا علاج کیا جاتا۔ ہسپتال میں سبھی Test انجام دیئے جاتے جو بالکل نارمل ہوتے تھے، اسے ہسپتال سے مریض کیا جاتا تو وہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس جاکر علاج کرواتی۔ مختلف ڈاکٹروں نے مختلف دوائیاں دے کر کوشش کی تھی مگر’’بیماری‘‘ دور نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹروں کے علاوہ تجارتی پیروں فقیروں نے اس کا علاج کیا مگر وہ کبھی صحت یاب نہ ہو سکی کیونکہ کسی بھی معالج نے مریض کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی، اس کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد بیماری کی ’’اصلی وجہ‘‘جاننے کی کوشش نہیں کی۔ مریض کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح اور عیاں ہوگئی کہ وہ زبردست پریشانی میں مبتلا تھی، اس کے ذہن میں ایک تضاد تھا جو برسوں سے اسے پریشان کر رہا تھا’’پریشانی‘‘ اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں جمع ہوتی رہی اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیمانہ صبر لبریز ہوا اور پریشانی جسمانی علائم اور درد کی صورت میں چھلکنے لگی۔ اُس کی پریشانی کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنا ایک الگ گھر بسانا چاہتی تھی مگر وہ ساس سسر سے ڈرتی تھی کہ کہیں وہ اس کی تجویز سے ناراض نہ ہوں۔ ایک طرف چاہت اور دوسری طرف ڈر ان دو احساسات نے اس کے ذہن میں ایک تضاد (Conflict) پیدا کیا تھا جو اس کی پریشانی کا باعث بنا تھا(تضاد ہی پریشانی کا اصل سبب ہے جو انسان کسی تضاد میں مبتلا ہوتے ہیں پریشانی ان کو گھیر لیتی ہے)اس کے شوہر اور ساس سسر کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد مسئلہ حل ہوگیا۔ اسے اپنا ایک الگ گھر بسانے کی اجازت ملی اور اس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک الگ دنیا بسالی اور وہ اس نئی دنیا میں پریشانی سے آزاد ایک خوشحال زندگی گذارنے لگی۔ اسے کسی دوائی کی ضرورت نہیں پڑی، اس کے سارے جسمانی علائم دور ہوگئے۔ اسے کبھی ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔اب وہ ایک صحت مند زندگی گذار رہی ہے‘‘۔
آج کل اکثر مریض جسمانی علائم کا معالجہ کروانے کیلئے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں مگر معائینہ کے بعد کوئی بھی ایسی نشانی نہیں ملتی جس سے یہ واضح ہو کہ مذکورہ مریض کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو، سارے Testsنارمل ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مریض کسی جسمانی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتا ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر صاحبان ڈھیر ساری دوائیاں تجویز کر کے مریض کی خواہش پوری کر کے اسے راضی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان وقت اورقوت برداشت کی کمی کے سبب اس کی بیماری کے اسباب میں دلچسپی نہیں لیتے، اس کی بکھری ہوئی شخصیت کے اندر جھانکنے کی بجائے اس سے کہتے ہیں’’تم ایک عجیب ذہنی مریض ہو،تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے، تمہیں صرف ٹینشن ہے۔تم میرا وقت ضایع کرتے ہو تم بہانے بازی سے کام لے رہے ہو‘‘۔ اور مریض ایسے غیر موزوں الفاظ سن کر بددل ہو کر، ڈاکٹروں سے بیزار ہو جاتا ہے اور دوسری’’ڈاکٹری دکانوں‘‘ کا رُخ کر لیتا ہے دراصل ’’پریشانی‘‘ کی وجہ سے ظاہر ہونے والے جسمانی علائم ایسے عجیب و غریب اور پیچیدہ ہوتے ہیں کہ مریض ان کو بیان کرنے اور ڈاکٹر سمجھنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں ہمارے سماج میں مشترکہ کنبہ (Joint Family) ایک اہم رول نبھاتا تھا۔ مشترکہ کنبے میں زندگی گذارنے سے پریشان فرد کو گھر کے بزرگوں کا سہارا ملتا تھا اور وہ اس سے آزاد ہو جاتا تھا مگر آج کل جبکہ ہر ایک اپنا اپنا ڈیڑھ اینٹ کا گھر بسانے کارواج یا فیشن شروع ہوا ہے تو نوجوان مردوں اور عورتوں کو پریشان صورتحال میں بزرگوں کا سہارا نہیں ملتا اس لئے وہ ہر وقت پریشانی کے سمندر میں ڈولتے رہتے ہیں اور بالآخر وہ ذہنی بیماریوں کے علاوہ جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات مریض کی اصلی کہانی سنے بغیر، جلد بازی میں آٹھ دس دوائیاں لکھ کر مریض کو وقتی طور سکون کی وادی میں دھکیلتے ہیں مگر دوائیوں کا استعمال ترک کرنے کے بعد مریض پھر سے ’’پریشانی‘‘ کے جسمانی علائم میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ وقتی طور دوائیاں کھانے سے کسی خاص مدت کیلئے علائم غائب ہو جاتے ہیں مگر پریشانی کی ’’اصل وجہ‘‘ اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
موجودہ دور میں ماہرین نفسیات و روحانیات’’ پریشانی‘‘ کو ایک ایسی کیفیت سے تعبیر کرتے ہیں جس میں مبتلا فرد خوف اور غیر یقینیت محسوس کرتا ہے جس پر قابو پانے میں وہ ناکام ہوتا ہے اور جب کوئی انسان کسی اندرونی تضاد کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ بے چینی، اضطراب، بے قراری، خوف، احساس زودخستگی، بے خوابی، بے اشتہائی، جنسی کمزوری، احساس کمتری، بے توجہی، مایوسی وغیرہ جیسے علائم کا اظہار کرتا ہے۔ اسے زندگی گذارنے میں کوئی لطف نہیں آتا، وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے وہ ہر وقت دوسروں سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی اسے چھیڑے تو وہ غصہ سے بے قابو ہو کر چیخنے چلانے لگتا ہے اسے ہر وقت عجیب سا ڈر اور خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ نہ ہو، وہ نہ ہو، ایسا نہ ہو، ویسا نہ ہو اور وہ روزمرہ کے معمولات کو انجام دینے میں بالکل ناکام رہتا ہے۔
پریشانی اور پریشان رہنا کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی ذہنی،نفسیاتی، جسمانی،سماجی، روحانی مسئلہ کی ایک اہم علامت ہے اس لئے اُس ’’وجہ‘‘ کا پتہ لگانا مریض اور معالج دونوں کیلئے بے حد ضروری ہے۔ وجہ جانے بغیر ذہنی پریشانی کے لئے کوئی بھی دوائی استعمال کرنا نہ صرف غیر موزوں و نامناسب ہے بلکہ خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ضد پریشانی دوائیاں کھانے سے پریشانی میں کمی ہونے کے بجائے اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے اور فرد ان کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر ان کے اثرات جانبی سے مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے پریشانی کی حالت میں کوئی بھی دوائی لینے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے اور اگر معالج سے اطمینان قلب حاصل نہ ہو تو کسی مذہبی یا روحانی پیشوا سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے جو کوئی ایسا مشورہ دے کہ دوائیوں کی ضرورت نہ پڑے۔ پریشانی سے بچنے کیلئے، دوائیوں کے استعمال کے بجائے سکون کے ساتھ دبائو اور کھنچائو کا مقابلہ کیجئے۔’’کہنا آسان ہے مگر کرنا ممکن نہیں‘‘ ہو سکتا ہے کہ یہ کوشش بہت ہی مشکل ہو اوربعض اوقات بے سود ثابت ہومگر بار بار کوشش کرنے سے کامیابی کسی نہ کسی دن قدم چوم لے گی۔ کوئی اگر یہ پوچھے تو بے جا نہ ہوگا کہ کیا صرف یہ کہنے سے کہ میں فکر نہیں کروں گا تفکرات دور ہو جائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کے لئے جو پریشانیوں میں مبتلا ہو یہ مشکل ہو لیکن جو اس خیال کا حامل ہو کہ بیمار پڑنا حماقت کی بات ہے اور صحت مند ہونے کی فکر میں بیمار رہتا ہو اس کے لئے ذہنی پریشانیوں سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔ لیکن آخرالذکر بھی ایک عملی امکان کی بات ہے۔یہاں ایمائی نفسیات کی وجہ سے ممکن ہے کہ اکثر بیماریوں سے جو بظاہر جسمانی نوعیت کی ہیں نجات مل جائے…کسی بھی ڈاکٹر سے سوال کیجئے وہ درجواب کہے گا’’سرکاری ہسپتالوں، پرائیویٹ کلینکوں،نرسنگ ہوموں میں علاج و معالجہ کے لئے رجوع کرنے والے مریضوں میں ستر فیصد مریض ایسے ہیں جو پریشانیوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جسمانی بیماریوں کے شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ ان مریضوں کا علاج دوائیوں سے نہیں بلکہ مثبت ایمائی نفسیات سے کیا جاسکتا ہے ایسے بیماروں کو کوئی غور سے سننے والا اور سمجھانے والا ہمدرد چاہئے، وہ محض قرص سکون آور یا خواب آور سے اپنی پریشانیوں پر قابو نہیں پاسکتے طبیعت کا سکون حاصل کرنے کیلئے ان کو کچھ ایسے مشورے دیئے جاسکتے ہیں جو قوتِ ارادی سے بالاتر ہوں۔ اچھا ہے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ لوگ مصائب میں مبتلا ہونے کے باوجود عام طور پر زندگی کا لطف اٹھاتے رہیں…اگر ہر انسان’’ یہ وقت بھی گذر جائے گا‘‘ ذہن نشین کر ے تو بے شمار پریشانیوں سے نجات مل سکتی ہے۔
٭مذہبی اقدار کو ذہنی پریشانی دور کرنے کیلئے اسعتمال کیجئے انسان کی شخصیت کے چار پہلو ہیں: جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی۔ ذہٓنی حفظانِ صحت کے بڑے بڑے ماہرین اور ماہرین امراض نفسیات فرد کی متوازن اور ذہنی طور پر صحت مند نشو و نما میں مذہب کو ایک اہم مقام دیتے ہیں صدیوں سے مذہب کی پابندی ذہنی پریشانی سے چھٹکارا پانے کا وسیلہ رہا ہے جس طرح ہم اپنے پیشے میں کام کے بغیر حسن کارکردگی پیدا نہیں کرسکتے اسی طرح بغیر عمل کے مذہبی اقدار بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں اس سلسلے میں عبادت گاہوں میں مشارکت پہلا اور بنیادی قدم ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ روحانی فرائض کا معیاری طور پر اعادہ کرایا جائے عبادت گاہوں میں جانے سے اس تغیر پذیر دنیا میں استحکام اور دوام کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عبادت گاہوں میں فعال مشارکت کے ذریعہ اپنے لوگوں سے رابطہ پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے اور اپنی پریشانیاں بانٹنے کا صحیح ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
٭ خلاصہ یہ کہ اگر آپ پریشان ہیں تو ’’اس کی وجہ‘‘تلاش کرنے کی بھرپور سعی کریں اور اس کا حل ڈھونڈیں۔ عارضی سہاروں(مسکن اور سکون و خوب آور دوائیاں،سگریٹ ، چرس،شراب)کا سہارا نہ لیں اگر کوئی حل نہ ملے تو کسی ماہر معالج سے مشورہ کریں یا کسی مذہبی، روحانی پیشواسے صلاح لیں۔
٭اپنا طرز زندگی بدل لیں۔ مذہب کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔
٭چند منتخب اور بالغ نظر اشخاص سے رازدارانہ تعلقات پیدا کریں۔
٭ورزش کو اپنا معمول بنالیں۔
٭ناگزیر دبائو، کھنچائو اور شدت جذبات سے دوچار ہونے کی عادت ڈالیں۔اس بات پر بھی متوجہ ہونا چاہئے کہ ان عناصر سے جو زندگی کے جزولاینفک میں خود کو ہم آہنگ کریں کسی شخص کو معمولی قابلیت کے اصول پر کاربند نہیں ہونا چاہئے اور نہ اکملیت کے تصور کے پیش نظر مایوس ہونا چاہئے بلکہ بس بھر خوب سے خوب تر کی کوشش کرنی چاہئے۔بہت سے لوگوں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ زندگی کے روحانی پہلو سے مکمل زندگی گذارنے میں مدد ملتی ہے اور کوئی پریشانی لاحق نہیں رہتی ہے۔ آخر میں پریشانی سے بچنے کیلئے عمر خیام کی اس رباعی پر عمل کر کے دیکھ لیں ؎
از دی کہ گذشت ہیچ از و یاد مکن
فردا کہ نیامدہ ست فریاد مکن
برماندہ و گذشتہ را بنیاد مکن
حالی خوش باش عمر را برباد مکن
|
ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم
| ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم خُلق عظیم کا منصبِ جلیل ظہور مسعودی
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کے باے میں ایزدتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’بے شک آپ اخلاقیات کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں‘‘ چونکہ یہ آپؐ کے اخلاق ہی تھے جنہیں دیکھ کر آپؐ کے جانی دشمن بھی نادم ہوئے اور اسلام کے دائرے میں جوق در جوق داخل ہوتے رہے۔
غرض آپؐ کی حیات طیبہؐ کا ہر گوشہ خواہ وہ سفر کاہو یا حفرکا، بچپن ہو یا جوانی، دورِنبوت سے قبل کی پاک زندگی ہو یا بعثت کے بعد بعد والی حیات طیبہ ، مکی دور ہو یا مدنی، اپنوں کے ساتھ معاملات ہوں یا غیروں کے ساتھ لین دین ، آپؐ کی مبارک ترین زندگی کا ہر لمحہ آپؐ کے بلند ترین اخلاق کی ایک اعلیٰ مثال ہے، اس لئے اپنے تو اپنے غیر بھی خاموش نہ رہے، مغرب کے مشہور اسلام دشمن فلاسفر و ادیب تک بھی جب اعلیٰ ترین اخلاقیات کی مثال پیش کرتے ہیں تو وہ دشمن اسلام ہوتے ہوئے بھی آپؐ کے ہی بلند ترین اخلاقیات کی مثال دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔
پورے جہاں میں آپؐ کے بلند اخلاق کا قطعاً کوئی ثانی بھی نہ آیا نہ آئے گا کیونکہ آپؐ اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ بھی ایسے پیغمبرانہ اخلاق سے پیش آئے کہ جس کے ادنیٰ درجے کی بھی مثال دنیا میں نہ کسی نے پیش کی نہ کر سکتا ہے،جب آپؐ نے مکہ فتح کیا تو اس وقت آپؐ کے وہ دشمن جنہوں نے قبل از ہجرت سے لے کر تا اس دم تک بے شمار تکلیفیں پہنچائیں تھیں، پریشا ن تھے، بھاگ رہے تھے کہ آج محمدؐ ہم پر غالب آیا ہے، اس حال میں کہ ہم ان کو ایذائیں پہنچاتی رہیں، آج وہ ہم سے ان ایذائوں کا بدلہ ضرور لیں گے مگر آپؐ کے کریمانہ اخلاق ہی تھے کہ آپؐ نے اعلان فرمایا :’’ آج عام معافی کا دن ہے، میں ان تمام لوگوں کو معاف کرتا ہوں جنہوں نے کوئی بھی تکلیف پہنچائی ہو۔ کیوںنہیں یہ ہمارے آقا حضرت محمدؐ ہیں، جن کے حسن خلق کی تعریف خود، خداوندتعالیٰ فرماتا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ حضرت انس بن مالکؓ جو آپؐ کے خادم خاص ہیں، فرماتے ہیں کہ دس سال تک آپؐ کی خدمت میں رہا ہوں مگر کبھی بھی آپؐ نے نہیں فرمایا کہ ’’یہ کام درست نہیں کیا جب کہ خدمت میں حاضر ہونے کے باوجود دوعالم کے سردار اپنے کام خود ہی انجام دیتے اسی کا نام خلق عظیم ہے جس پردنیا کے وہ تمام نام نہاد اخلاقیات اورجمہوریت کے کے دعویدار گیرششدر و حیران ہیںجو اسلام کو ٹیریرزم کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں اور یہ جھوٹ پھیلاتے ہیںکہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے۔
ان سے پوچھا جائے کہ شاہ حبش نجاشیؓ، دصعب بن عمیرؓ، حضرت عمر فاروقؓ،طفیل بن عمرودوسیؓ کے پاس کون تلوارلے کے گیا اسی طرح کے لاکھوں واقعات تاریخ کے صفات میں محفوظ ہیں ۔ کس تلوار نے ان نفوس قدسیہ کو اتنا عظیم فیصلہ لینے پرآمادہ کیا؟ ہاں وہ حسن خلق کی تلوار جو جسم کے بجائے دل و جگرکوچیرتی ہے، جس سے اخلاقیات کے تمام دعویدار، انقلابی قائدین اوربڑے سے بڑے فلاسفر تہی دامن ہیں، وہ آپؐ کی سیرت طیبہ اورآپ ؐعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسوۂ حسنہ ہے۔
|
حیاء مندی ہے اللہ کی رضامندی
| حیاء مندی ہے اللہ کی رضامندی ڈاکٹر عنایت اللہ وانی ندوی
حیا انسان کا فطری وصف ہے۔با حیا قومیں زندگی اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ ہوتی ہیں۔حیا انسان کو بہت سے بُرے اخلاق اور گناہوں سے دور رکھنے کا ذریعہ ہے،باحیا معاشرہ امن وامان کا گہوارہ ہوتا ہے۔حیا انسان کی فطری پسند ہے،اور سب سے بڑی بات یہ کہ حیا ایمان کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔اس کے برعکس بے حیائی وبے شرمی شیطانی وحیوانی صفت ہے۔بے حیا اقوام کے ہاں حقیقی زندگی اور اخلاق عنقا ہوتے ہیں۔بے حیائی کے نتیجہ میں انسان بدخلق اور گناہوں میں ملوث ہوتا ہے۔بے حیا معاشرہ میں کسی کی عزت وناموس محفوظ نہیں ہوتی ہے۔بے حیائی سے انسانی فطرت اِبا کرتی ہے۔
اسی لئے دینِ اسلام نے حیا سے آراستہ ہونے کی تعلیم دی ہے۔اس کے فضائل وفوائد بیان کئے ہیں اور بے حیائی کے مہلک اثرات سے ڈرایا ہے۔رسول رحمتؐکا فرمان ہے کہ ’’ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے اوراسلام کا بنیادی وصف حیا ہے‘‘۔(سنن ابن ماجہ)آپؐ کا ارشاد ہے کہ’’ایمان کے ترسٹھ سے زائد شعبے ہیں اورحیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے‘‘۔(بخاری ومسلم)آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ حیا اور پردہ کو پسند کرتا ہے‘‘۔(سنن أبوداؤد)قرآن وحدیث میں حیا سے متعلق بے شمار نصوص ہیں کیونکہ حیا کا ایک وسیع دائرہ ہے۔باتوں۔نگاہوں اور کانوں کی حفاظت سے لے کر عام معاشرتی مسائل اور انسان کی عملی زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔اسی لئے حیا اور پردہ سے متعلق نہایت باریک اور جزئی مسائل کو بھی بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ نماز،روزہ اور دیگر اعمال وارکان کے بارے میں قرآن میں عمومی احکام بیان کئے گئے ہیں اور جزئیات کی تعیین وتفصیل احادیث میں بیان کی گئی ہے لیکن پردہ اور دیگر معاشرتی مسائل کی جزئیات تک کو بڑی اہمیت اور تفصیل ہے بیان کیا گیا ہے۔سورہ احزاب۔سورہ نور اور سورہ نساء کے مطالعہ سے از خود یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔
اسلام نے بے حیائی سے روکنے کے لئے بے حیائی کے ذرائع اور مداخل پر بھی قدغن لگا دی ہے تاکہ کہیں سے بھی معاشرہ میں بے حیائی اثر انداز نہ ہو سکے۔گھر میں باہر کے لوگوں کے لئے اجازت لینے کے مسائل کو بیان کرتے ہوئے غیر محرم خاتون کو نرم آواز سے جواب دینے تک کو منع کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ:’’نرم لہجہ میں جواب مت دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ جس کے دل میں مرض ہوگناہ پر آمادہ ہوجائے‘‘۔(سورہ أحزاب۔ آیت:۳۲)ازواج مطہرات اور تمام مؤمن خواتین کوسورہ احزاب(آیت:۵۹) میں پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا(سورہ نور۔آیت:۳۰)۔چلتے ہوئے عورتیں پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ کہیں ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے(سورہ نور۔آیت:۳۱)بدکاری سے روکتے ہوئے حکم دیا گیا کہ:’’بدکاری(زنا) کے قریب بھی مت جانا‘‘۔ (سورہ الاسرائ۔آیت:۳۲) اوراسی طرح کے کئی مسائل تاکہ کہیں شیطان کے داخل ہونے کا موقعہ نہ ملے کیونکہ شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے کہ انسان کو بے حیا وبے شرم بنادے۔اسی لئے جنت میں بھی سب سے پہلے اس نے حضرت آدمؑ اور حضرت حوا کے پردہ کو تار تار کرکے ان کو جنت کے پتوں سے اپناجسم ڈھانکنے پر مجبور کردیا تھا(دیکھئے سورہ أعراف۔ آیت:۲۷) ے حیائی شیطانی وحیوانی اور ابلیسی صفت ہے۔ابلیس لعین کا بنیادی ہدف بے حیا بنانا ہے تاکہ اس کے بعد اس کو مزید اور کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔رسول رحمتؐ کا ارشاد ہے کہ:’’جب تم سے حیا رخصت ہو جائے تو پھر جو جی میں آئے کر لو‘‘۔(صحیح بخاری)
بے حیائی کو عام کرنا شیطانی مشن ہے۔جس کے لئے وہ انتھک کوشش کرتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’شیطان تم کو فقر وفاقہ سے ڈراتا ہے اور فحش کاموں کا حکم دیتا ہے‘‘(سورہ بقرۃ۔آیت:۲۶۸) اور اس کے لئے وہ مختلف ومتنوع ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔دور جدید و قدیم میں بہت سے انسان نما شیطانوں نے ابلیس کا آلۂ کار بن کر بے حیائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ادا کاروں،ادا کاراؤں،فلم انڈسٹریوں،ٹی وی،انٹرنیٹ،فحش لٹریچر اور دیگر ذرائع کو محض بے حیائی عام کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ننگے پن کو تہذیبِ جدید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ بنانے میں ہر ممکن حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسی اخلاق باختہ کلچر کی تعلیم دی جارہی ہے۔کروڑوں روپے روزانہ محض بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے صرف کئے جاتے ہیں۔عورت کو برہنہ کرکے اس کو خرید وفروخت کا سستا سامان بنالیا گیا ہے۔اس کو اس کے حقیقی مقام سے گرا کر بے عزت بنادیا گیا ہے۔معمولی چیزوں کی تشہیر کے لئے اس کو استعمال کیا جارہا ہے۔پوری دنیا میں اسی کلچر کو عام کیا جارہا ہے۔اسلامی دنیا کو منظم طریقہ سے اس کی طرف راغب کیا جارہا ہے اور بے حیائی کو امپورٹ کرنے میں ہر ممکن طریقے اختیار کئے جارہے ہیں۔تاکہ انسانوں کو حیوان نما جانور بنا کر جیسے چاہے ان پر حکمرانی کی جائے۔ان کے مقدسات اور عزت وناموس کو پامال کیا جائے۔ان کو دین سے دور کر کے لادین بنادیا جائے۔اخلاقی اعتبار سے کھوکھلا کر کے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے گرا دیا جائے۔
بے حیائی میں انسانیت کی توہین ہے کیونکہ اس کے ذریعہ انسان کو اس کے حقیقی مقام سے گرا کر حیوان کے مقام پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔بے حیائی انحطاط وزوال اور پسماندگی کا راستہ ہے۔بے حیائی امراض ووباؤں کا ذریعہ ہے۔ارشاد نبویؐ ہے: ’’جس قوم میں بھی بدکاری ظاہر ہوتی ہے اس میں طاعون اور ایسے امراض عام ہوجاتے ہیں جو ان سے پہلے نہیں ہوتے تھے‘‘(سنن ابن ماجہ)۔بے حیائی اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کا سبب ہے ۔ارشاد نبویؐ ہے: ’’اخیر زمانہ میں میری امت میں ایسی عورتیں ہوں گی جو برہنہ اور بے پردہ ہوں گی۔ان کے سروں پر اونٹ کے کوہان کی طرح چوٹیاں ہوں گی۔ان پر لعنت کرنا کیونکہ وہ لعنت زدہ ہیں‘‘۔(مسند أحمد۔مستدرک حاکم)حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس ایک مرتبہ بنو تمیم کی بعض عورتیں آئیں جن کے جسموں پر باریک کپڑے تھے تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا:اگر تم ایمان والی عورتیں ہو تو یہ مومن عورتوں کا لباس نہیں ہے۔اور اگر تم ایمان والی نہیں ہو تو پھر اس کو پہن کر خوب مزے کر لو‘‘۔
بے حیائی کے نتیجہ میں پورا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ذلت وپستی اور محکومی وتنزلی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔حیوانی صفات سے مغلوب ہوجاتاہے۔دینی ودنیاوی اعتبار سے ہر خیر سے محروم ہو جاتا ہے۔اگرچہ بظاہر ترقی یافتہ ہی کیوں نہ نظر آتا ہولیکن اندر سے کھوکھلا اور اس ورم زدہ جسم کی طرح ہوتا ہے جس کے اندر امراض پوشیدہ ہوتے ہیں۔اس وقت کی بظاہر ترقی یافتہ اقوام کی اندرونی صورتحال اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے جن کی ٹپ ٹاپ کو دیکھ کر مسلم دنیا متاثر ہے اور ان کی تقلید کو باعث فخر سمجھتی ہے۔
اس وقت بے حیائی کے جس کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے اور جس طرح نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو متاثر کر کے استعمال کیا جارہا ہے۔اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور اسلامی تعلیمات اور مغربی کلچر کے مابین منصفانہ موازنہ کرنے کی ضرورت ہے اورمسلم معاشرہ کی تو ایمانی واسلامی ذمہ داری ہے کہ اسلامی اور باحیاکلچر کو اپنائیں۔اسی کو فروغ دیں اور بے حیائی کے کلچر کو اپنے لئے اور نوخیز نسل کے لئے سم قاتل سمجھیں۔جب حیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے بلکہ ایک حدیث میں تو یہاں تک آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:’’ایمان اور حیا لازم وملزوم ہیں جب ان میں سے ایک رخصت ہوتا ہے تو دوسرا بھی ازخود رخصت ہو جاتا ہے‘‘۔(مستدرک حاکم۔مصنف ابن أبی شیبہ)تو ایسی صورت میں صاحبِ ایمان کے لئے حیاکی حفاظت اور اس سے آراستگی عین ایمان قرار پاتی ہے۔
کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو بے حیائی کے طوفانِ بلاخیز کے مقابلہ میں حیا کی تہذیب کو عام کرنے میں کوشاں ہیں اور اس کو اپنا مشن بنا کر حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔جموں وکشمیر جس کی اپنی ایک مخصوص شناخت اور پہچان ہے۔جس کی اپنی خاص اسلامی وکشمیری تہذیب اور نمایاں اقدارہیں۔جہاں حیا عین تہذیب ہے لیکن انسانیت کے دشمن اس تہذیب اور شناخت کو تار تار کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔اور نوجوانوں کی غیرت کو بار بار للکار رہے ہیں۔کیا ہی بہتر ہو کہ معاشرہ کے تمام افراد اور بطور خاص نوجوان اس کو اپنے لئے ایک چیلنج سمجھیں اور اس طوفانی بے حیائی کو بے دخل کر کے حیاکے حسین گلشن کو سجائیں۔ضرورت ہے کہ معاشرہ کا ہر فرد معاشرہ کو بے حیائی سے محفوظ رکھنے کے لئے حیا کی ایمانی واسلامی تہذیب کو عام کرنے کا عزم کر لے اور حیا کے ہر خیر سے لطف اندوز ہوتا رہے کیونکہ بنی رحمتؐ کا فرمان ہے کہ:’’حیا اپنے ساتھ خیر ہی خیر لاتا ہے‘‘(صحیح بخاری ومسلم)۔
یقیناً حیا عفت وپاکیزگی بھی ہے اور ایمان و تقویٰ بھی،امن وامان بھی اورمعاشرہ کو عزت ووقار اور عروج تک پہچانے کا ذریعہ بھی۔فطرت کا تقاضہ بھی اور شریعت کی تعمیل بھی اور جنت تک پہنچنے کی آسان راہ بھی ہے تو آئیے اسی راہ کو اختیار کر کے معاشرہ میں اسلامی اقدار کو پروان چڑھائیں۔
|
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم : دشمنوں سے حُسنِ سلوک
| رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم : دشمنوں سے حُسنِ سلوک
مکہ میں غلہ یمامہ سے آتا تھا، یمامہ کے رئیس یہی ثمامہ بن اثال تھے، وہ مسلمان ہو کر جب مکہ گئے تو قریش نے تبدیلی ٔ مذہب پر ان کو طعنہ دیا، انھوں نے غصے سے کہا خدا کی قسم! اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر گیہوں کا ایک دانہ نہیں ملے گا، اس بندش سے مکہ میں اناج کا کال پڑگیا، آخر گھبرا کر قریش نے اس آستانے کی طرف رجوع کیا جس سے کوئی سائل کبھی محروم نہیں گیا، حضور B کو رحم آیا اور کہلا بھیجا کہ بندش اٹھا لو، چناںچہ پھر حسب دستور غلہ جانے لگا۔
وحشی نے آپ کے عزیز ترین چچا حضرت حمزہؓ کو جنگ ِ احد میں قتل کیا، فتح مکہ کے بعد وہ طائف چلاگیا، جب طائف نے بھی سرِ اطاعت خم کیا تو وحشی کے لیے یہ جائے امن نہ رہا، لیکن اس نے سنا تھا کہ آپ سفراء سے کسی قسم کا تعرض نہیں کرتے، ناچار وہ خود وفد ِ طائف کے ساتھ بارگاہِ رحمت میں مدینہ منورہ مشرف باسلام ہونے کی غرض سے حاضر ہو، لوگوں نے ان کو دیکھ کر عرض کیا یا رسول اللہ! یہ وحشی ہے، آپ کے عم محترم صلعم کا قاتل۔ آپ ؐنے فرمایا اس کو چھوڑ دو، ایک شخص کا مسلمان ہونا میرے نزدیک ہزاروں کافروں کے قتل سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔ بعد ازاں آپ نے وحشیؓ سے حضرت حمزہ ؓ کے قتل کا واقعہ دریافت فرمایا، وحشی نے نہایت خجالت و ندامت کے ساتھ تعمیل ارشاد کی غرض سے واقعہ عرض کیا۔انہوں نے اسلام قبول کیا، اور آپ نے ان سے صرف اس قدر فرمایا کہ اگر ہو سکے تو تم میرے سامنے نہ آنا، اس لیے کہ تم کو دیکھ کر چچا کا صدمہ تازہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ برابر اس فکر میں رہے کہ اس کاکوئی کفارہ ادا کروں، چناں چہ اس کے کفارے میں مسیلمہ کذاب کو اسی نیزے سے مار کر واصلِ جہنم کیا، اور جس طرح سیدالشہداء حضرت حمزہؓ کو ناف پر مار کر شہید کیا تھا، اسی طرح مسیلمہ کذاب کو بھی ناف ہی پر نیزہ مار کر قتل کیا، اس طرح ایک خیرالناس کے قتل کی مکافات ایک شرالناس کے قتل سے کی۔
صلح حدیبیہ کے بعد ابھی آپ حدیبیہ ہی میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اسّی آدمی کو کوہِ تنعیم سے صبح کے وقت جب مسلمان نماز میں مصروف تھے، اس ارادے سے اترے کہ مسلمانوں کو نماز کے اندر قتل کردیں۔یہ سب لوگ گرفتار کرلیے گئے لیکن آپ B نے انہیں بلا کسی فدیہ و سزا کے آزاد کردیا، اس واقعہ پر قرآن کریم کی اس آیت ِشریفہ کا نزول ہوا: خدا وہ ہے جس نے وادیٔ مکہ میں تمہارے دشمنوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ بھی ان پر قابو پانے کے بعد اُن سے روک دئیے-
صفوان ابن امیہ قریش کے رؤساء کفار میں سے اوراسلام کے شدید ترین دشمن تھے۔انہوں نے ہی عمیر ابن وہب کو انعام کے وعدے پر آپؐ کے قتل پر مامور کیا تھا، جب مکہ فتح ہوا تو اسلام کے ڈر سے جدہ بھاگ گئے اور قصد کیا کہ سمندر کے راستے سے یمن چلے جائیں۔ عمیر ابن وہب نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! صفوان بن امیہ اپنے قبیلے کے رئیس ہیں، وہ ڈر سے بھاگ گئے ہیں کہ اپنے کو سمندر میں ڈال دیں۔ ارشاد ہوا کہ اس کو امان ہے، مکرر عرض کیا یا رسول اللہؐ! امان کی کوئی نشانی مرحمت فرمائیے، جس کو دیکھ کر ان کو میرا اعتبار آئے۔ آپ ؐ نے ان کو اپنا عمامہ عنایت فرمایا جس کو لے کر وہ صفوان کے پاس پہنچے، صفوان نے کہا مجھ کو وہاں جانے میں اپنی جان کا ڈر ہے۔ عمیر نے جواب دیا صفوان! ابھی تمہیں محمد ؐ کے حلم و عفو کا حال معلوم نہیں۔ یہ سن کر وہ عمیر کے ساتھ دربارِ نبوی میں حاضر ہوئے اور سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ عمیر کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے امان دی ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا سچ ہے۔ صفوان نے کہا آپ مجھے دو مہینے کی مہلت دیجیے۔ ارشاد ہوا دو نہیں تم کو چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی خوشی سے مسلمان ہوگئے۔ (جاری)
(مرسلہ: منظور احمد قاسمی ،سری نگر)
|
پروفیسر جگن ناتھ آزاد۔۔۔۔ ’’نسیم حِجاز‘‘ کا مدّاح
| پروفیسر جگن ناتھ آزاد۔۔۔۔ ’’نسیم حِجاز‘‘ کا مدّاح پروفیسربشیر احمد نحوی
گذشتہ چار عشروں سے مجھے برِ صغیر کے سرکردہ ادیبوں ، عالموں ، شاعروں اور مسلم و غیر مسلم دانشوروں کو سرینگر دوردرشن ، کشمیر یونیورسٹی اورملک کے متعدد شہروں میں دوران سفر قریب سے دیکھنے ، سننے اور ان کے بلند افکار و نظریات سے بلواسطہ اور بلاواسطہ فیضاب ہونے کا موقعہ فراہم ہواہے۔ معروف اردو شاعر، عالمی شہرت یافتہ ماہر اقبالیات، مدّاح رسالت مآب ؐ اور ایک نہایت ہی سلیم الفطرت انسان پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ کے ساتھ میرے مراسم ان ایام سے جڑے ہوئے تھے جب وہ سرینگر میں مرکزی محکمہ اطلاعات میں بحیثیت پبلسٹی آفیسر کام کررہے تھے ۔ ادبیات، اسلامیات اور اقبالیات ان کے پسندیدہ موضوعات تھے ۔ ان کے حریف و حلیف دونوں انہیں اقبال کی چلتی پھرتی ڈکشنری تصور کرتے تھے ، سوائے چند اُدباء کے جنہیں خواہ مخواہ ان سے عناد اور الرجی تھی ، لیکن آزادؔ کی یہ عالی حوصلگی تھی کہ اپنے حریفوں یا معاصرانہ چشمک رکھنے والوں کے متعلق ایک جملہ بھی کبھی زبان پر نہیں لایا جس میں بدگوئی کا پہلو موجود ہوتا ۔ ہندوستان میں انتہائی نامساعد حالات میں آزادؔ نے جہاں ترجمان الحقیقت علامہ محمد اقبال کے فکر و فن پر کتابین لکھیں اور توسیعی خطبات دیئے وہاں اپنے نظام شعر میں حضرت سرورِ کائنات ؐ کے انسانی دنیا پر احسانات و عطیات کا تذکرہ اپنے مختلف شعری مجموعوں میں متفرق مقامات پر ادب و تعظیم کے سارے لوازمات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بعد مین ’’نسیم حجاز ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر لایا ہے۔ ویسے بھی کئی ہنود شعراء نے کشادہ دلی اور رواداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بارگاہ رحمۃ العالمینی ؐ میں شعر و سخن اور مدح و ثناء کے عطر بار گلدستے پیش کئے ہیں ۔ آزادؔ نے لاہور ، دہلی اور جموں میں وقتاًفوقتاً سیرتی اور نعتیہ محافل میں شمولیت کرکے اقبال کے زیر اثر کمال درجے کے مدحیہ اشعار پڑھے ہیں۔ طُوطئی ہندحضرت امیر خسروؒ نے دربارِ نبویؐ کی منظر نگاری’’خُدا خود میرِ محفل بود شب جائے کہ من بودم ‘‘ کی الہامی کیفیت کے حامل لفظوں میںکی تھی اور ادھر آزادؔ اپنے دلکشا مجموعہ شعر ’’نسیم حِجاز ‘‘ میں اس عظیم ادب گاہ کا نقشہ ’’محفل نعت میں ایک رات‘‘ والی نظم میں یوں پیش کرچکے ہیں۔ ؎
وہاں کل رات جنّت کا نظارا تھا جہاں میںتھا
عجب اک کیفِ پیہم آشکارا تھا جہاں میں تھا
زمیں سے عرش تک تھا ایک کیف ِبے خودی طاری
کہ اک نام مقدّس ؐ جلوہ آرا تھا جہاں میں تھا
یہ تھی وہ سرمدی محفل کہ اس محفل کا ہر لمحہ
عقیدت نے محبت سے سنوارا تھا جہاں میں تھا
وہ دانائے سبل ، ختم الرسلؐ کا ذکر تھا جس کا
میسّر اہل ِ باطن کو سہاراتھا جہاں میں تھا
دراصل ماحول ، تربیت ، تعلیم اور صحبت وہ عناصر اربعہ ہیں ، جو ایک شخصیت کی ساخت و پر داخت میںکلیدی حصّہ ادا کرتے ہیں۔ آزادؔ تلوک چندمحروم ؔ جیسے بلند قامت شاعر کے نورِ نظر تھے اور لاہور، جو عروس البلاد کہلاتا تھا ، علامہ تاجو رؔ نجیب آبادی ،سید عابد علی عابد ؔ اور عبد المجید سالکؔ جیسے ادیب بقید حیات تھے۔ ان کی مصاحبت اور پھر 1947 ء کے بعد آزادؔ کا دہلی اور جموں میں قیام اور ہر طرح کی علمی سرگرمیوں میں بھر پور حصّہ انکی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں معاون ثابت ہوا۔ ’’نسیم حجاز ‘‘ کے مضامین آزادؔ کی شاعری کے انسانی ، اخلاقی اور عربی رنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ حمد و نعمت ، دعا، ولادت، باسعادت ِمیلاد النبی ؐ، سلام ،دہلی کی جامع مسجد ، بھارت کے مسلمان ، قرطبہ سے ویلنشیا تک ، مرثیہ ، بابری مسجد اور اقبال جیسے عنوانات مقرر کرکے جگن ناتھ آزادؔ بحیثیت ایک غیر مسلم کے ان شاندار خدمات اور تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے جو ملّت اسلامیہ کے جلیل المرتبت اشخاص نے اور مسلمانان ِہندنے تاریخ کا شاندار تسلسل قائم رکھنے کے لئے دنیا کے سامنے پیش کی ہیں ۔ آزادؔ نے اپنی ایک طویل نظم ’’جمہور نامہ‘‘ میں ولادت باسعادت کا ذکر کرتے ہوئے یقینا نعت نگاری کا حق ادا کیا ہے ۔ چند اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں تاکہ قارئیں اس امر کا انداز ہ لگا سکیں کہ ایک غیر متعصب اور پاکیزہ سرشت انسان کن حسین الفاظ کا استعمال کرکے پیغمبر اکرم ؐ کا ذکر خیر کرتا ہے ۔ ؎
پلادے معرفت کی جس قدر بھی ہے مئے باقی
کہ میرے لب پہ ذکرِ فخرِ موجودات ہے ساقی
جہان ِ شاعری میں آج رہ جائے بھرم میرا
سخن سنجوں کی صف میں ہو نہ شرمندہ قلم میرا
مجھے اک محسنِ انسانیت ؐ کا ذکر کرنا ہے
مجھے رنگِ عقیدت فکر کے سانچے میں بھر نا ہے
بتانا ہے کہ جب انسان سچیّ راہ بھولا تھا
یہ جب نازاں تھا کج بینی پہ گمراہی پہ پھولاتھا
تو کیوں کر غیب سے انسانیت کا رہنما آیا
شفاعت کا لئے ساماں بشر کا آسرا آیا
چنانچہ منظوم اور تاریخی انداز میں آزادؔ نے سرزمین عرب کی وہ غمناک صورت سامنے لائی ہے جو حضورؐ کی بعثت سے پہلے اور پھر انکی حیات ِ طیبہ میں نمایاں تھی ۔ آپ ؐ کی تشریف آوری نے کیسا صالح انقلاب برپا کردیا ، رنگ ونسل کی تفریق کیسے مٹادی ، انسانی اخوت کے عالمگیر نظریے کو عملاً کیسے اپنا یا اور عدل و رحمدلی کا لافانی درس نسل انسانی کے لئے کس کس انداز میں پیش کیا، آزادؔ صاحب نے بڑے موثر پیرایہ بیان میں نہایت عاجزی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔
وہ آیا فقر فخری رتبہ ہے جسکی قناعت کا
وہ آیا جو معلّم ہے جہاں میںدینِ فطرت کا
وہ آیا جس کو کہیے فخرِ آدم ہادیِ اکرم
وہ آیا جس کو کہیے زندگی کا محسن ِ اعظم
سراپا علم بن کر صاحب ِ امّ الکتاب آیا
زمین تشنہ لب کی زندگی بن کر سحاب آیا
آقائے کونین ؐ کے حضور مین اُردو کے کئی شعراء نے نعت وسلام کی نہایت ہی اعلیٰ عقیدتی و توصیفی نظمیں تحریر کی ہیں۔ آزادؔ بھی ظفر علی خان ، ماہرالقادری ، کوثرنیازی ، ابوالمجاہد زاہد ، اور محسن کاکوروی کے اسلوب میں اپنا ہدیہ سلام نذر کرتے ہوئے یوں رطبُ اللسان ہیں۔
سلام اے آسمانِ قدس کے مہرِ جہاں آراء
سلام اے کیف و رنگ ِ نَوبہار اے گلستاں آرا
سلام اے بیکسوں کو ارجمندی بخشنے والے
سلام اے پست حالوں کو بلندی بخشنے والے
سلام اے دیوِ باطل کی کلائی موڑنے والے
سلام اے آدمی کا حق سے رشتہ جوڑنے والے
متذکرہ اشعار کی فکری اور فنّی خوبیوں سے محظوظ ہو کر معروف اسلامی اسکالر اور محقّق ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے جگن ناتھ آزادؔ کی پوری نعتیہ نظم کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیاہے۔
جگن ناتھ آزادؔ کے تقریباً ایک درجن شعری مجموعے راقم الحروف نے بارہا پڑھے ہیں اور ہر بار انکی پاکیزگی فکر کا اندازہ اور علامہ اقبال سے فرطِ عقیدت کا احساس ہوتا ہے۔ ’’وطن میں اجنبی ‘‘ سے لیکر ’’نسمِ حِجاز ‘‘ تک ہر مقام پر آزادؔ اعلیٰ انسانی اقتدار اور عالمی میراث کی مشترکہ قدروں کے ترجمان نظر آئے ہیں۔ قرطبہ ، مرسیہ ، غرناطہ ، اجمیراوردہلی میں آزاد ؔکو شاندار اسلامی تاریخ و تہذیب کے انمٹ نقوش نظر آئے ہیں۔ وہ دہلی کی مسجد جامع کو عالم فانی میںایک نقش دوامی خیال کرتے ہیں۔ انہیں اس عظیم سلطنت کے ذرّے ذرّے میں روح ِاسلامی اور عظمت ِ انسانی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
اے جذب ِ طہارت کی امیں مسجد جامع
روشن دل و تابندہ جبیں مسجدِ جامع
اے جلوائہ انوار ِ یقیں مسجد جامع
اے خاتم ِ دہلی کی نگیں مسجد ِ جامع
ہے آج بھی تسکینِ نظر تیرا نظارا
تو آج بھی ہے روح کی دنیا کا سہارا
اُردو شعر و ادب کی دنیا آئے دن سونی سونی سی نظر آرہی ہے اور آزاد ؔجیسے نکتہ رس، سخن سبخ ، کشادہ ذہن اور شعر اقبال کے باکمال ترجمان ڈھونڈے سے بھی نہیں مل پائیں گے ۔ میں نے بارہا گاندھی نگر جموں میں آزادؔ کو فکر وفن کی دنیا میں غرق اپنی لائبریری تو لگائے دیکھا ہے اور بعد میں اپنی وصیت کے مطابق کتابوں کی ایک بڑی تعداد علامہ اقبال لائبریری کشمیر یونیورسٹی کو تحفتاً مرحمت فرمائی۔ کہاں گئے ایسے آزادؔ منش اور سادھومزاج لوگ؟
رابطہ
اقبال انسٹچوٹ کشمیر یونیورسٹی
خطرناک اور تیزبارشوں سے پھل والے درختوں کو بھی نقصان پہنچا اور بھوکے لوگوں نے سیب اور ناشپاتی کے شگوفے اور توت کے کچے پھل کھائے۔ اُسی پر بس نہیں ہوا۔ اُس کے بعد انہوں نے جھاڑیوں، دلدلوں اور درختوں کی جڑوں سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانا شروع کی جس سے طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوکر وہ مرنے لگے۔ کتنا دلدوز منظر رہا ہوگا جب بے گور و کفن لاشیں کونوں، کھدروں، جو ہڑوں اور کنوئوں میں پڑی سڑتی رہیں اور آوارہ کتوں کی خوب خوب ضیامت کا سامان مہیا ہوتا رہا۔ شہروں میں شال باف حد سے زیادہ اس وبا کا شکار ہوئے اور یہاں یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اہل ہنود فاقوں کے کم ہی شکار ہوگئے تھے۔‘‘ ویلیؔ از ڈبلیو ایچ لارنس)
آج سے بتیس چونتیس سال قبل پروفیسر نیپالؔ سنگھ سابق سیکریٹری، مسٹر جے مزیراؔ سابق اکیڈمک آفیسر اور مسٹرکے شرماؔ سابق چیف اکائوٹنٹ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن بھوپالؔ مدھیہؔ پردیش کے ساتھ میری ملاقات گلمرگ میں ہوئی۔ جب ذرا بے تکلفی ہوئی تو مذکورہ پروفیسر صاحب نے بڑے بے تکلفانہ انداز میں ایک چبھتا ہوا سال جھاڑدیا، کہ کشمیریوں کو جھوٹا، دروغ گو سجھا جاتا رہا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے اور اس بارے میں میری کیا رائے ہے۔ آئیں بائیں شائیں کے بغیر میں نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ ایسا سو فی صد دُرست ہے۔ یہ دو ٹوک، برجستہ اور خلاف توقع جواب سُن کر موصوف حیران رہ گیا اور میری طرف غور سے دیکھنے لگاکہ کہیں میں مذاق تو نہیں کر رہا ہوں اور پھر میں نے اپنے جواب کی تو ضیح کی۔ میں نے لارنس کی کتاب ویلیؔ (جس کا تذکرہ آگے ہی کرچکا ہوں) سے ایک حوالہ دیا جس میں مورخ یوں رقم طراز ہے:۔
’’ایک کشمیری کو ضصیف الاعتقادی نے ڈرپوک جبرو استبدار نے جھوٹا، دروغ گوجبکہ آفاتِ سماوی نے خود غرض اور شقی القلب بنادیا ہے۔‘‘
دوسری ایک اور جگہ فرماتے ہیں:۔
’’کشمیری وہی کچھ ہے جو اُسے اُس کے حکمرانوں نے بنادیا ہے۔‘‘
یقینا ساری بات، ساری تاریخ، سارے مفروضات اور سارے اعتراضات و الزامات کی تفسیر اسی ایک جملے میں ہے۔ یہ فقط ایک جملہ ہی نہیں ایک پوری ایک داستان ہے۔ ایک پوری تاریخ ہے۔ عزبت وبے چارگی کی، افلاس و درماندگی کی، ظلم و استحصال کی، ٹیس اور رستے ناسوروں کی، آہ و بکا اور آنسوئوں کی، کسک و کراہ کی، کرب و بلا کی اور اُس کشمیری مسلمان کی جو اِس زمانے میں بھی لالٹین اور شمع جلا کر اپنے بچوں کے اُترے چہرے دیکھتا ہے کہ وہ ہوم ورک کرنے کی سراسیمگی میں ہیں جب کہ چاند پرجانے کیلئے ٹکٹوں کی بکنگ شروع ہونے والی ہے۔
مندرجہ بالا سطور سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت جس کی بھی رہی ہو مگر ہر دور میں یہی کشمیری مسلمان دستِ تطاول کا شکار رہا ہے۔ اُس کے برعکس کشمیر پر مہابھارت کے زمانے سے ہندئوں کی حکومت رہی، بڈشاہ کے دور حکومت میں انہوں نے فارسی پڑھی تو نہ صرف حکومت کے کارکن کہلائے بلکہ اُمرا ٔاور وزرأبھی ہوگئے۔ سکھوں کے دور حکومت میں اُن کی بہت بہتر پوزیشن تھی اور حکومت میں رسائی تھی اور ڈوگرہ دور حکومت کے ایک سو سال میں ڈوگرہ برائے نام حکومت کرتے تھے جبکہ اصلی حکمران کشمیری پنڈت ہی تھے۔ سرکاری عہدوں کے علاوہ اُن کے پاس زمینیں اور جاگیریں تھیں۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک خط پڑھوانے کا معاوضہ ایک کشمیری پنڈت مسلمان سے ایک دن کی مزدوری لیتا تھا اور خط لکھوانے کی صورت میں خط پوسٹ بکس میں مسلمان ہی ڈالتا تھا مگر وہ خط کس کے نام ہوتا تھا یہ معلوم نہیں اور لکھوانے والے پر کمال امروہی والا معاملہ ہی پیش آتا تھا کہ ؎
برسوں جواب یار کا
دیکھا کئے ہم راستہ
بات کو یوں بھی ایک چھوٹی سی مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے کہ جب 1877ء کے قحط عظیم میں چھ لاکھ مسلمان لقمہ اجل بن گئے (بلکہ اجل کے بعد لقمہ سگ بھی بن گئے) تو دو سال کے بعد مہاراجہ رنبیر سنگھ نے عظیم جانی نقصان کے بارے میں کم و بیش سُناتو اُسے صدمہ ہوا ورنہ اُسے قحط سالی سے ہوئے اموات کے بارے میں کانوں میں بھنک تک پڑنے نہیں دی گئی تھی، علی الرغم اُسے بتایا گیا تھا کہ بھوک سے رعایا میں کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا۔
…جاری ہے…
رابطہ :- پوسٹ باکس نمبر :691
جی پی او سرینگر -190001، کشمیر
موبائل نمبر: 9419475995
بہ شکرءیہ کشمیر عظمی
|
Subscribe to:
Comments (Atom)
























