Search This Blog

Friday, 13 July 2012

گلوبلائزیشن وہی حیلے ہیں پرویزی

گلوبلائزیشن
وہی حیلے ہیں پرویزی

گلوبلائزیشن یا ’’نیاعالمی نظام ‘‘ مغرب کی ایجادکردہ اصطلاح اورمغربی ذہن کی پیداوارہے۔اس میںبنیادی طورپراسلامی نظام حیات کی عالمگیریت کو نشانہ بناکراس کے بجائے اس نئے نظام کی افادیت اورتغیر پذیردنیا کے لئے اس کی ضرورت پرزوردیاگیاہے، یہ نظریہ منفی طرزفکر کاعلمبردارہے،اور اس کو اسلام کے بالمقابل لایاگیاہے۔ اہل مغرب نے اقوام متحدہ کے ذریعہ ساری دنیا پرتسلط قائم رکھنے کے لئے اقتصادی، اجتماعی اورسیاسی میدان میںجونظام وضع کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ اسلام کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے بلکہ عقائد واخلاقیات کے تصور کوذہنوں سے مٹانے اورزندگی کی سرگرمیوں سے ان کو الگ تھلگ کرنے کی ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے۔اسلامی فلسفۂ حیات کوبدل کرمغرب کی مادی یہودی فکرکوغالب کرنے کی یہ ایک زبردست اسکیم ہے تاکہ امت مسلمہ کے افراد پوری طرح مغرب کے مادی لباس کواختیار کرلیں اورعقیدہ وعمل سے عملی طورپردست بردارہوجائیں اورہمارا وہ امتیازی منصب جوخیرامت کی حیثیت سے ہم کوعطاکیاگیاہے وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہوجائے۔
یہ فتنے جوہرطرف اُٹھ رہے ہیں
وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے  
                                    (کلیم عاجزؔ)
گلوبلائزیشن کے معنی:
گلوبلائزیشن کاایک مطلب یہ ہے کہ سازوساما ن اورعملی وثقافتی افکاروخیالات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیرکسی شرط اورقید کے منتقل کرنایاہونا۔ اس لفظ کاسب سے پہلے استعمال امریکہ میںمالی وتجارتی نظام اوراقتصادی ڈھانچے کے لئے ہوا۔پھراس میںوسعت آتی گئی اوراب ہرچیز کوعالمی آئینہ میںدیکھاجانے گا۔ ثقافت ،تہذیب وتمدن،زبان وادب ،معاشی نظام، اخلاقیات اورتعلیمی نظام تک کو عالمی پیمانے پرناپاجانے لگا  اوراب اسی کوایک ’’نیاعالمی نظام‘‘ نیوورلڈآرڈر اورگلوبلائزیشن سے تعبیرکیاجارہاہے۔
گلوبلائزیشن سامراجیت کانیاچہرہ:
تاریخ گواہ ہے کہ جوبھی قومیں سرمایہ داری میںسب سے آگے نظرآتی ہیں، انہوںنے ہردورمیں اپنے آپ کوفراعنہ ثابت کرنے کی کوشش کی اورضعیف وکمزور قوموں کونگل جانے کے منصوبے بناتی رہی ہیں۔ موجودہ گلوبلائزیشن کچھ ایسے ہی مقاصد کی تکمیل کے لئے کوشاں ہے۔ مثلاً:
۱۔         دنیاکے مختلف نظام ہائے حکومت کوامریکی طرز حکومت اورطرزجمہوریت پرڈھالنا ۔
۲۔         دنیاسے تمام نظام ہائے معیشت کو ختم کرکے امریکی نظام ہائے معیشت کورواج دینا۔
۳۔         دنیاکے تمام نظام ہائے اتصالات ومواصلات کوامریکی نظام ہائے اتصالات ومواصلات سے ہم آہنگ کرنااورپابندکرنا ۔ 
۴۔         پوری دنیا کی مختلف رنگارنگ تہذیبوں اورثقافتوں کومٹاکر امریکی تہذیب وکلچر کوفروٖغ دینایاکم ازکم ان پرامریکی ثقافت کارنگ چڑھانا۔ گلوبلائزیشن کے مقاصد بظاہریہی نظرآتے ہیں ۔ 
جب بھی یوریی اورامریکی دماغ کسی چیز کوتیارکرناہے تواس کے پیش نظرسب سے پہلے اسلامی ثقافت،اسلامی دنیاہوتی ہے۔اس لئے کہ دنیابھرمیںاس کے چلینج کاجواب صرف ایک ہی ثقافت ،ایک ہی تہذیب اورایک ہی نظام کے پاس پایاجاتاہے اوروہ اسلامی تہذیب،اسلامی ثقافت اوراسلامی نظام ہی ہے۔
اصلی مقاصد
۱۔         قومیت اورنیشنلزم کی افیون دے کراسلامی وحدت اوریکتائی کوپاش پاش کرنا۔
۲۔         خدافراموشانہ صوفیت ،دہریت ،باطنیت اور وثنیت کے ذریعے توحید کی نفی کرنا۔
۳۔         نظریہ ڈارونؔفلسفہ ارتقاء اورمادی فلسفہ (Materialism) کے ذریعے اسلامی ثقافت اوراسلامی تشخص کوملیامیٹ کرنا ۔ 
۴۔         عقلیات کی دعوت دے کراسلامی شریعت کے مفہوم کو ہی بد ل ڈالنا۔
۵۔         وحدت ادیان کاپروپگنڈہ کرکے اسلامی شریعت کے مفہوم کوہی بدل ڈالنا۔
۶۔         تمام اسلامی دنیاکوتابع فرمان اورزیرنگین بنانا۔
۷۔عالم اسلام کے حکمرانوں اورصاحب اقتدار لوگوں کے درمیان انتشار واختلاف کوبرقرار رکھنا اوراس کوہوادیتے رہنا۔
۸۔ عالم اسلام میں رائج اسلامی اقداراور ملی روایات کوپامال کرنا اوران کے معانی ومفاہیم کوبدل ڈالنا ۔
۹۔ تحریک آزادیٔ نسواں کاشوروغوغاکرکے مسلم معاشرے میںعورتوںکے احساسات وجذبات کواُبھارکران کے حجاب کوتارتارکرنا۔
۱۰۔ہر جگہ اُٹھتی ہوئی اسلامی تحریک اوربڑھتی ہوئی اسلامی بیداری کومختلف حیلوں سے کچل دینا۔
۱۱ ۔ اسلامی اقتصادیات کویہودی سود خوروں کے شکنجوں میںکس دینا۔
۱۲۔ اسلام دشمن تحریکوںکو تحفظ دینااور ان کے ذریعہ ملت اسلامیہ کوٹکڑوں ٹکڑوں میںبا نٹ دینا ۔
۱۳۔ اسلام کے خلاف کھلنے والی ہرزبان کوآفرین کہنااوردریدہ دہن لوگوں کو مثلاًسلمان رشدی وغیرہ کوانسانی حقوق کے تحت تحفظ فراہم کرنا۔
۱۴۔  اسلامی ملکوں میںفتنۂ ارتداد کی مہم چلانا،اس کی بھرپورحمایت کرنااورانسانی حقو ق کے عنوان سے ایسی مہموں کوآزادی دلوانا    ؎
کہاںتک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبیؔ
دکھاؤ گئے ہمیں جنگ صلیبی کاسماں کب تک!
                                                 (شبلیؔ)
گلوبلائزیشن کااراد ہ ہے کہ ہمارے جسموں سے ہماری کھالوں کواُتار کر ہماراتشخص اورہماری پہچان چھین لے، ہمارے درمیان اپنے اباحیت پسند اورتباہ کن افکارونظریات کورواج دے۔
کیابحیثیت مسلمان ہم ان نظریات کوقبول کرسکتے ہیںیاان کوسننے کے لئے ہمارے کان کھل سکتے ہیں؟ ان کے لئے ہماری آنکھیں اورہمارے دل واہوسکتے ہیں؟ نہیںہرگزنہیں! تواب ہمارافرض بنتاہے کہ ہم ہراس چیزکی تردید اور انکار کریں جو ہمارے نیک ارادوں،ہمارے تہواروں،ہمارے عقائد ، ہمار ی شریعت،ہمارے دین،اخلاق وعادات ،اعلیٰ اقدار، قومی اورملی سرمایہ ،موروثی ثقافت نیزہماری حقیقی مصلحت سے ٹکرائے اورہم اپنے دین وایمان کی حفاظت کریں اورصراط مستقیم پرگامزن ہوجائیں۔
عروج وزوال کا سفردائمی کسی قوم کے ساتھ خاص نہیںہے۔جس قوم نے اصولوںپرچلناسیکھا وہ ترقی سے ہمکنارہوئی اور جس قوم نے اصولوں سے انحراف کیاوہ تنزلی کاشکارہوئی۔فکری وحدت قوموں اورجماعتوں کی زندگی میںمرکزی اور کلیدی اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ قوموں کے عروج وزوال کارازاسی میںپنہاںہے۔ مسلمان جب تک وحدت فکرکے حامل اورتضامنِ افکارکے داعی رہے ترقی ان کے قدم چومتی رہی اورجب ان کے اندرعلاقائیت،قومیت ،نسلی اور لسانی غرور کے جراثیم پیداہونے لگے توان کی ترقی میںیکایک زوال شروع ہوا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے دوسری قومیںان پرچڑھ دوڑیں۔
دنیائے یہود اوردنیائے صلیب کی تمام تنظیمیں ،پروگرام،نظریات اوربین الاقوامی ادارے پندرہ صدیوںسے صرف اسلا م کومٹانے کے لئے وجود میںآتے رہے ہیں لیکن اللہ رب العالمین کاوعدہ اپنی جگہ اٹل ہے:
ترجمہ: ’’وہ چاہتے ہیںکہ پھونکوںسے اللہ کے نورکوبجھادیں مگراللہ اتمام نورکرکے رہے گا خواہ کافروں کوکتناہی ناگوارہو‘‘۔ (الصّف)
اب ہم کودیکھناہے کہ آنے والے عظیم طوفان گلوبلائزیشن کامقابلہ ہم کیوں کرسکتے ہیں    ؎
اللہ نے بخشی ہے جہانگیری اب ان کو
کہتے ہوئے سب آئے جنہیں امن کے دشمن
                                    (جلیل سازؔ)
Courtesy: Kashmir Uzma Daily Srinagar

زبانِ یار مَن ترکی…؟ Zabane yaare maan turki

زبانِ یار مَن ترکی…؟


- شعیب احمد ہاشمی
میں نے اپنے بچپن میں اباجی سے خلافتِ عثمانیہ کا اکثر تذکرہ سنا تھا۔ وہ میرے ماموں کو بتایا کرتے تھے کہ ’’خلافت ختم نہ ہوتی تو مسلمانوں کا یہ حال نہ ہوتا‘‘ ۔’’تحریک خلافت میں برصغیر کے مسلمانوں نے جو جوش و جذبہ دکھایا تھا وہ بہت دیدنی تھا‘‘۔ ’’گاندھی جی کو بھی مجبوراً خلافت بچائو مہم کا حصہ بننا پڑا۔‘‘ ’’مسلمان عورتیں اپنے زیور تک اتار اتار کر خلافت بچائو مہم پر نچھاور کیا کرتی تھیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے درجنوں جملے میں نے اتنی بار سنے تھے کہ وہ میرے کمزور حافظے کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ خلافتِ عثمانیہ کس بلا کا نام ہے، اسے بچانے کی کیا ضرورت تھی، میرا بچپن ان سوالات کا متحمل نہ تھا، مگر جب چھٹی ساتویں کی معاشرتی علوم میں اتاترک کا تذکرہ پڑھا تو یادداشتوں کے تصویری البم میں ایک ایسے شخص کا اضافہ ہوا جو جدید ترکی کا معمار ہے اور ترکی کو ترقی کی منزلوںسے روشناس کرانے والا باکمال لیڈر ہے۔ وقت کچھ اور آگے بڑھا، تاریخ کے مطالعہ کا جونہی ذوق پیدا ہوا تو یہ تصویر بھی دھندلانے لگی۔ معلوم ہوا کہ کمال اتاترک تو اسلامی اقدار و روایات سے منہ موڑ کر مغربی سیکولرازم اور بے راہ روی کو فروغ دینے والا باغی انسان تھا، ایک ایسا لیڈر جو عربی رسم الخط، عربی اذان، عربی نماز اور عربی قرآن تک پر پابندی لگا چکا تھا۔ کیا جدید ترکی حضرت ایوب انصاریؓ، محمد فاتح اور مولانا رومی کے ترکی سے اپنے آپ کوآزاد کرپائے گا؟ یہ سوال اکثر میرے ذہن میں کلبلاتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ میں یونیورسٹی میں آن پہنچا۔ پھر اچانک پاکستان کے حالات نے اتنے ہچکولے کھانے شروع کئے کہ مسلم امہ اور مسلمان ملکوں کے بارے میں پڑھنا اور سوچنا تو درکنار، خود اپنے وطن کی شکل پہچاننا بھی مشکل ہونے لگا۔ وقت اور تاریخ کو کون لگام دے سکتا ہے! میں پنجاب یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو مزید تعلیم کے شوق نے امریکہ کے سفر پر آمادہ کردیا۔ اسی دوران ایران سے اچھی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ ایرانی قوم نے اپنی عظیم جدوجہد سے امریکی استعمار اور رضا شاہ کی غلامی سے آزادی حاصل کرلی تھی۔ ذلتوں اور غلامیوں میں جکڑی ہوئی مسلم امہ کے لئے یہ ایک بڑی جانفزاء خبر تھی۔ کچھ ہی مدت بعد یہ خبر بھی مل گئی کہ خالصتاً جمہوری عمل کے ذریعے ترکی کی سعادت پارٹی نے ترکی میں حکومت حاصل کرلی ہے اور مسلم روایات و اقدار کے احیاء کا دور شروع ہوگیا ہے۔ ترکی کی کچھ خواتین ارکان پارلیمنٹ نے سر پر اسکارف بھی اوڑھنا شروع کردیا ہے۔ ایسے لگا جیسے تاریخ کے صحرا کے آر پار چلچلاتی دھوپ میں سفر کرنے والے مسافر کو کسی نے روح افزاء کا جام پیش کردیا ہو۔ اچانک خبر ملی ترک فوج نے جو خود کو ترک سیکولر دستور کی محافظ سمجھتی ہے، حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے، اور پھر تیز لُو کا ایک اور تھپیڑا آیا، اسکارف اوڑھنے کے جرم میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کو نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ ترکی کی شہریت سے بھی محروم کرکے اسے جلا وطن کردیا گیا۔ پارلیمنٹ توڑ دی گئی اور فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ترک عوام داد کے مستحق ہیں، انہوں نے ہڑتالیں کیں نہ آگ لگائی، شیشے توڑے نہ سڑکیں بلاک کیں۔ سوچ سمجھ کر طے کیا کہ وہ پرامن جمہوری راستے ہی کو اختیار کریں گے۔ انہوں نے خاموشی سے بلدیاتی اداروں میں چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ انسانی خدمت اور گڈ گورننس کو اپنا مقصد بنایا۔ استعمار سے فوری ٹکر لینے کے بجائے ترکی کے حالات کو سنبھالنے کی فکر کی، اور پھر سچ مچ کمال کردکھایا۔ طیب ایردوان اور عبداللہ گل کی شکل میں ترکی اور مسلم امہ کے لئے امید کے دو نئے چراغ روشن ہوگئے۔ ترکی کے ماضی کی یہی یادیں لئے جب میں پہلی بار27 اپریل کو استنبول ائیرپورٹ پر اترا تو آپ میری اندرونی کیفیات کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں اور الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے نائب صدر ڈاکٹر اقبال خلیلIFRDکی سینٹر ل ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے ایک باوقار ہوٹل گرینڈ جواہر کی طرف رواں دواں تھے۔ ہمارے میزبان یونس صاحب دورانِ سفر استنبول سے ہمیں روشناس کراتے چلے جارہے تھے: ’’یہ جس آبنائے کے ساتھ ساتھ ہم گزر رہے ہیں یہ گولڈن ہارن کہلاتی ہے‘‘، ’’اس آبنائے پر جو پل آپ کو نظر آرہا ہے یہ ایشیاء کو یورپ سے ملاتا ہے۔ ابھی ہم ایشیاء میں ہیں اور چند ہی لمحوں بعد یورپ میں ہوں گے‘‘۔ ’’اُس پار جو وہ مینار اور گنبد آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسجد سلیمانیہ(Blue Mosque) ہے۔ ہم ان شاء اللہ کل اُسے دیکھنے جائیں گے‘‘۔ ’’وہ جو اس پل کے پار دوسرا پل ہے ناں، اس کے بالکل پہلو میں حضرت ایوب انصاریؓ کا مزار ہے‘‘۔ جس طرح ہجرت کے موقع پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حضرت ایوب انصاریؓ کو ملا اسی طرح ترکوں کو حضرت ایوب انصاریؓ کی استنبول آمد پر میزبانی کا شرف حاصل ہوا، اور جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا اسی طرح حضرت ایوب انصاریؓ نے ترکی کو اپنا مستقل ٹھکانہ قرار دے لیا۔ ترکی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وفا شعار ساتھی کی میزبانی پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ میزبان یونس صاحب ہمیں استنبول کی سنہری تاریخ سے روشناس کروا رہے تھے اور ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں۔ جلد ہی ہم گرینڈ جواہر ہوٹل پہنچ گئے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (I.F.R.D) جس کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ہم استنبول آئے تھے، مسلمان رفاہی تنظیموں کی ایک چھتری ہے۔ اس تنظیم میں پاکستان سمیت 11 تنظیمیں شامل ہیں۔I.F.R.D حال ہی میں اس خیال کے تحت وجود میں آئی ہے کہ قدرتی آفات یا انسانوں کے ہاتھوں آنے والی تباہیوں میں مؤثر رابطوں اور وسائل کی یک جائی سے دنیا بھر کے آفت زدوں کی بہتر خدمت کی جاسکے۔ تنظیم کا ہیڈ کوارٹر کوالالمپور (ملائیشیا) میں ہے اور اس کے اجلاس جگہ بدل بدل کر مختلف ملکوں میں ہوتے ہیں۔ اس بار میزبانی کا شرف ترکی کی تنظیم جانسویو (Cansuyo)کو حاصل ہوا۔ جانسویو ترکی کی ایک بڑی رفاہی تنظیم ہے اور پاکستان میں آنے والے زلزلے، سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں میں الخدمت کے ساتھ مل کر مؤثر کام کرچکی ہے۔ جانسویو کے پاس ترکی بھر میں جفاکش کارکنان کی مؤثر ٹیم اور د فاتر موجود ہیں، اور اس کانفرنس کے لئے ان کارکنان نے رہائش اور پروگرام کے انعقاد کے شاندار انتظامات کررکھے تھے۔ استنبول میں ہماری آمد کا سبب اگرچہ اس کانفرنس میں شرکت تھی، تاہم جدید ترکی کے بارے میں جاننے کا شوق ہمیں چین سے نہ بیٹھنے دے رہا تھا۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا: حضرت ایوب انصاریؓ کے مزار پر جانے کا اچھا وقت کون سا ہے؟ یونس صاحب نے بلا توقف کہا: نماز فجر سے ایک گھنٹہ قبل۔ میں نے کہا: مگر اتنے سویرے ہمارے پہنچنے کا بندوبست کس طرح ہوگا؟ یونس صاحب بولے: صبح ساڑھے تین بجے میں آپ کے کمرے کی گھنٹی بجادوں گا۔ اتنا متحرک اور تعاون کرنے والا میزبان میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ صبح ساڑھے تین بجے شوق نے بیدار کرکے وضو بھی کروادیا، میں اور ڈاکٹر اقبال خلیل اپنے میزبان کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ سڑکیں تقریباً خالی تھیں، اس لئے ہم پندرہ منٹ میں پہنچ گئے۔ مسجد کے قریب پہنچے تو مردوں، خواتین اور اسکول کے بچوں کا ایک جم غفیر مسجد کی طرف رواں دواں نظر آیا، ہمارے اندر داخل ہونے تک مسجد کھچا کھچ بھر چکی تھی۔ انتہائی خوبصورت لہجے میں سورۃ فرقان کی تلاوت ہورہی تھی۔ ترکی کی ساری ہی مساجد فن تعمیر میں اپنا جواب نہیں رکھتیں، اور یہ مسجد بھی وسعت، سکون اور حسن انتظام میں لاجواب تھی۔ ترکوں کی ہر مسجد کے ہال میں اذان کا ایک چبوترہ ہوتا ہے، جس پر سیدنا بلال ؓکا نام جلی حروف میں درج ہوتا ہے۔ ترک موذنِ رسول سیدنا بلالؓ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اس لئے یہ چبوترے حضرت بلال ؓ کے نام سے منسوب ہوتے ہیں۔ اذان، فرض نماز اور دعائوں کے خوبصورت انداز کے بعد تلاوت کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا اور ہم لوگ سیدنا ایوب انصاریؓ کے مزار کی طرف آگے بڑھے۔ خیال آیا دھرتی نے ایسا خوش قسمت انسان اور کہاں دیکھا ہوگا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو ایک جہاں میزبانی کے لئے بے قرار ہورہا تھا، مگر یہ تو صرف سیدنا ایوب انصاریؓ کے نصیب میں لکھا تھا۔آپ میزبانِ رسول ٹھیرے، پھر اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ سنا کہ ’’جو لشکر قسطنطنیہ فتح کرے گا، جنتی ہوگا‘‘ تو اس سعادت کے حصول کے لئے بڑھاپے تک انتظار کیا، آخری عمر میں جب معلوم ہوا کہ قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے لشکر روانہ ہورہا ہے تو بااصرار اس میں شرکت کی اور استنبول (قسطنطنیہ) پہنچ کر اپنی جان مالکِ حقیقی کے سپرد کردی۔ سورج کی کرنیں صحابیٔ رسول کے مزار کو جگمگانے لگیں توہمیں واپسی کا خیال آیا۔ اردگرد بے شمار ریسٹورنٹ ناشتہ کے لئے منتظر زائرین سے بھر چکے تھے۔ ہم اپنے میزبان کے ہمراہ واپس اپنے ہوٹل لوٹ آئے۔ ترکی کی مساجد میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ سروں پر اسکارف اوڑھے جب وہ مسجدوں سے باہر نکلتی ہیں تو عجیب سماں بندھتا ہے۔ میں یہ منظر مسجد سلیمانیہ کے باہر کھڑا آدھے گھنٹے تک دیکھتا رہا اور اس سوچ میں غوطہ زن رہا کہ یہ واقعی وہی ترکی ہے جس میں خواتین کا سر پر اسکارف لینا قابلِ تعزیر جرم تھا! میرے قریب کھڑے ڈاکٹر اقبال خلیل نے کہا ’’ترکی اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے‘‘۔ ’’لیکن اپنے اصل کی طرف لوٹتے ہوئے ترکی کے تیزی سے ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رکے تو نہیں۔ کیا یہ ایک عجیب معما نہیں!‘‘ میں نے کہا۔ ڈاکٹر اقبال خلیل نے میری طرف دیکھا اور کہا ’’ہرگز نہیں۔ یہ محض پراپیگنڈہ ہے۔ دنیا بھر کے سیکولر پرچارکوں نے اس پراپیگنڈے کو ہوا دی ہے کہ اسلامی اقدار و روایات کی طرف لوٹنے کا مطلب ترقی سے منہ موڑنا ہے۔ ترکی کی معیشت اس وقت دنیا کی تیسری تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے۔ ترکی اپنے معاشی، معاشرتی اور سیاسی اثرات یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاء میں پھیلا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترکی اور ترقی اب لازم و ملزوم ہوگئے ہیں۔ ترکی کی گلیاں اور بازار ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کا منظر پیش کرتے ہیں۔‘‘ ہم اپنے ہوٹل گرینڈ جواہر پہنچ چکے تھے۔ سیدھا ناشتے کی میز پر چلے گئے۔ دن بھرI.F.R.Dکی کانفرنس میں گزرا، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین کے ذہن و زبان پر استنبول ہی سوار تھا۔ رات ایک ٹی وی چینل (چینل فور) نے I.F.R.D کے ذمہ داران کو انٹرویو کے لئے اپنے اسٹوڈیو بلایا۔I.F.R.Dکے صدر، نائب صدر اور سیکرٹری کے ہمراہ میں اسٹوڈیو میں موجود تھا۔ لہٰذا I.F.R.Dکی سرگرمیاں اور ترکی کے بارے میں تاثرات موضوع گفتگو رہے۔ کانفرنس کے خاتمے کے اگلے روز میزبانوں نے مندوبین کو استنبول کی سیر کرائی۔ بہت سارے تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد ہم گولڈن ہارن کے کنارے ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے بیٹھ گئے۔ میزبان یونس نے ایک جانب کشتیوں کے پڑائو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’یہ وہ مشہور جگہ ہے جہاں سے فلسطینیوں کی مدد کے لئے فلوٹیلا روانہ ہوا تھا، وہی فلوٹیلا جہاز جس پر بین الاقوامی سمندر میں اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کرکے ترکی کے آٹھ رضاکاروں کو شہید کیا تھا اور دنیا بھر میں رسوائی کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا تھا۔‘‘ اس واقعہ نے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں ایسی خلیج پیدا کردی جس کے خاتمے کا شاید اب کوئی امکان نہیں۔ نماز ظہر کے بعد ہم اپنی میزبان تنظیم جانسویو کے دفتر گئے۔ ہر چہرہ تمتما رہا تھا۔ میزبانوں میں ایک کے سوا کوئی انگلش نہ جانتا تھا اور مہمانوں میں کسی کو بھی ترکی نہ آتی تھی، لیکن سبھی پرجوش اور خوش باش تھے۔ میں نے مترجم کے ذریعے اپنے میزبانوں کو فارسی کی مشہور ضرب المثل سنائی’’زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم‘‘۔ یعنی ’’جس شخص کو میں چاہتا ہوں اس کی زبان ترکی ہے۔ مگر صد افسوس مجھے ترکی زبان نہیں آتی‘‘۔ پھر میں نے کہا کہ میرے ترک بھائیو! یہ تو محض محاورہ ہے، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب آپ بولتے یا آپ کے ہونٹ مسکراتے ہیں تو ہمیں آپ کی ہر بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ سارے میزبان کھلکھلا کے ہنس پڑے۔ اسی شام ترکی کی بیش بہا خوشگوار یادیں ذہن میں سمیٹے ہم واپسی کے لئے اپنے جہاز پر سوار ہوچکے تھے۔

اراکانی مسلمانوں کا قتل عام Massacre of Burmese Muslims

اراکانی مسلمانوں کا قتل عام

- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک اخباری اطلاع کے مطابق جون 2012ء میں برما کے وسطی علاقہ میں دس مسلمانوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف جب مسلمانوں نے اپنے اکثریتی صوبے میں احتجاج کیا تو برما کی پولیس نے مسلمانوں پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے ہزاروں مظاہرین موقع پر ہی جاں بحق اور بے شمار زخمی ہوئے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ’’ٹونگوپ‘‘ نامی شہر میں3 جون کو مسلمانوں کی بس پر بدھوں نے حملہ کیا جو نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے، اور بعض اطلاعات کے مطابق بدھوں نے پرانا کوئی حساب چکانے کے لیے مذہبی عصبیت کی بنیاد پر بس کے مسافروں کو اس بے دردی سے زدوکوب کیا کہ دس مسلمان شہید ہوگئے۔ ردعمل میں مسلمانوں نے 8 جون کو ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا جس میں بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ سے آنکھ مچولی بھی ہوئی۔ معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے 10جون کو ریاست کے صدر کی طرف سے مسلمانوں کے علاقے شمالی اراکان میں زبردست قسم کی ہنگامی حالت نافذکرکے عسکری اداروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ کسی قسم کی تحقیقات و دستاویزی ثبوت کے بغیر مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کریں۔ عسکری اداروں نے پوری بدمعاشی کے ساتھ مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بولا، خوب پکڑ دھکڑ اور بازاروں میں لوٹ مار کے بعد عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سمیت پوری آبادی کو زدوکوب اور ماردھاڑ کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق ٹرکوں میں مسلمانوں کو بھربھر کر نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا اور اب تک ان کا کوئی پتا نہیں۔ یہ ساری گرفتاریاں اور ماردھاڑ بغیر کسی قانونی کارروائی کے عمل میں آئی اور بعض آزاد ذرائع کی طرف سے ہزاروں افراد کے قتل اور بعض مقامات پر مسلمانوں کے زندہ نذرِآتش کرنے کی خبریں بھی آئیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کسی بین الاقوامی ادارے کے صحافی کو جانے کی اجازت نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ہزاروں مسلمان لاپتا ہیں اور اس تعداد میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ حالات کے مارے لٹے پٹے مسلمانوں نے جب ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیش کی طرف رخ کیا تو وہاں کی ’’سیکولر‘‘ قیادت نے ان ’’انسانوں‘‘کو قبول کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ سیکولرازم صرف ان کو انسان مانتا ہے جو مغربی تہذیب کی گنگاجمنا میں نہائے ہوئے ہوں۔ فرزندانِ توحید، عاشقانِ مصطفی، غلامانِ اہلِ بیت اورداڑھی، ٹوپی، پگڑی اور مقامی لباسوں میں ملبوس لوگ سیکولرازم کے نزدیک انسان نہیں ہیں بلکہ یہ تو ان کے جانوروں کے برابر بھی ’’انسانی حقوق‘‘ نہیں رکھتے۔ پس اب تک وہاں مہاجرین کے خیموں کی لمبی لمبی بستیاں قائم ہوچکی ہیں جنہیں کوئی ریاست قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، صرف اس لیے کہ وہ کلمہ گو ہیں۔ برما کے مسلمانوں پر یہ کوئی نیا شب خون نہیں ہے، یہاں کے مسلمان گزشتہ کئی نسلوں سے اپنی بقا کی سیاسی و نیم عسکری جنگ لڑرہے ہیں۔ 1050ء میں ’’بیاط وائی‘‘ نامی مسلمان سردار کا ذکر ملتا ہے جسے ’’مان‘‘خاندان کے بادشاہ نے اس لیے قتل کردیا تھاکہ وہ قوت جمع کررہا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن… سامراج کے جہاز کرۂ ارض کے سمندروں پر قابض رہیں اور ان کی ظالم افواج باراتوں اور جنازوں پر بمباری کرتی رہیں تو بھی وہ امنِ عالم کے ٹھیکیدار ہیں، جبکہ مسلمان اپنے گھر میں دفاعی جنگ لڑے تو بھی دہشت گرد اور عسکریت پسند ہے۔ برما کے مشہور تاریخی ہیرو بادشاہ ’’کیان سیتھا‘‘ نے اپنے وقت کے مسلمان سردار ’’رحمان خان‘‘ کو سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنیاد پر قتل کرادیا تھا، اور اس مسلمان کے قتل کے لیے اس بادشاہ نے جلاد کو خصوصاً اپنی ذاتی تلوار دی تھی۔ 1652ء میں ہندوستان کے بادشاہ شہنشاہ خرم شاہجہاںکے دوسرے بیٹے شاہ شجاع کو اس کی بدقسمتی برما لے گئی، اس نے وہاں سے نکلنے کے لیے بھاری رقم برما کے بادشاہ ’’سانٹھا سدھاما‘‘ کو پیش کی اور کہاکہ اس رقم کے عوض اسے ایک بحری جہاز دے دیا جائے تاکہ وہ حج پر جاسکے، برما کے لالچی بادشاہ نے آدابِ سفارت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی شہزادے کو قتل کردیا، اس کی دولت پر قبضہ کرلیا اور اس کی عورتوں کو پس زنداں ڈال دیا جہاں وہ بھوک پیاس سے ہلاک ہوگئیں۔ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف جب برما کے مسلمانوں نے بے چینی کا اظہارکیا تو ہر داڑھی والے کو مسلمان سمجھ کر تہہ تیغ کردیا گیا، جو بچ گئے وہ مجبوراً ہجرت کرکے ہندوستان آگئے۔ 1589ء میں برمی بادشاہ ’’بے انٹاؤنگ‘‘ نے ریاست کے بچے کھچے مسلمانوں کو زبردستی بدھ مذہب میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن پھر بھی کچھ مسلمان استقامت پذیر رہے اور انہوں نے برما میں شمع ایمان روشن رکھی۔ 1760ء میں ’’النگ پایا‘‘ نامی برمی بادشاہ نے ذبیحے پر پابندی لگاکر مسلمانوں کو حلال گوشت سے محروم کردیا۔ 1819ء میں برمی بادشاہ ’’بداوپایا‘‘ نے چار علمائے دین کو خنزیرکا گوشت کھانے پر مجبور کیا، انکار پر اس ظالم بادشاہ نے چاروں کو قتل کرادیا۔ مشہور ہے کہ ان ائمہ اربعہ کی شہادت کے بعد سات دن تک برما میں مکمل اندھیرا رہا جس کے باعث بادشاہ نے توبہ اور ندامت کا اظہارکیا تب اجالا نمودار ہوا۔ برطانوی دور حکومت میں 1921ء کے سروے کے مطابق برما میں نصف ملین سے زائد مسلمان آباد تھے لیکن انگریز کی ’’سیکولر جمہوریت‘‘ ہندوستان کی طرح وہاں بھی غیر مسلموں پر ہی مہربان رہی۔1945ء میں برما مسلم کانگریس (BMC) بنی، عبدالرزاق اس کے صدر منتخب ہوئے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی بدھوں کی مذہبی کتاب کی قدیمی زبان سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ مسلمانوں نے اس پلیٹ فارم سے برما کی آزادی میں بھی بھرپور کردار اداکیا لیکن آزادی کے بعد 1955میں مسلمانوں کی اس تنظیم کو ختم کردیا گیا۔ بعد کی حکومتوں نے محسن کش رویہ اختیارکرتے ہوئے برما کو بدھ ریاست قرار دے دیا اور ذبیحے تک پر پابندی لگادی اور حاجیوں کے راستے میں بھی روڑے اٹکائے جانے لگے۔ 1962ء میں ’’جنرل نی ون‘‘ کے دور کاآغاز ہوا جو مسلمانوں کے ابتلا و آزمائش کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ فوج سے مسلمانوں کو مکمل طور پر نکال باہر کیا گیا، انہیں جانوروں کا قاتل قرار دیا گیا اور معاشرے میں ان کے لیے’’کالا‘‘ کا لفظ بول کر ان کی معاشرتی تذلیل و تحقیرکی جانے لگی اور مسلمانوں کے لیے اپنی شریعت پر چلنا بھی دشوار تر کردیاگیا۔ افغانستان کے اندر ’’بامیان‘‘ کے مجسموں کے معاملے کے بعد برما میں بدھوں کے بلوے نے مسلمانوں کی مساجد اور کئی بستیاں نذر آتش کیں اور قتل و غارت گری کا بازارگرم کیے رکھا، حالانکہ اگر بامیان کا معاملہ غلط بھی تھا تو برما کے مسلمان تو اس کے ذمہ دار نہیں تھے۔ اس بہت بڑے سانحے کے بعد بعض مسلمان نوجوانوں نے ریاست سے ٹکرانے کا عندیہ بھی ظاہر کیا کہ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘کے مصداق یہ ایک فطری معاملہ تھا، لیکن مسلمانوں کی بیدار مغز قیادت نے انہیں اس امر سے باز رکھا۔ 16مارچ 1997ء کو بدھوں کا ایک بہت بڑا گروہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھا اور مسلمانوں کی مسجد کو آگ لگادی، اس کے بعد مسلمانوں کی مقدس کتب کو جمع کرکے نذرآتش کیا، پھر مسلمانوں کی املاک اور دکانوں میں لوٹ مار کی، کئی لوگوں کو قتل کیا اور بے شمار لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس سارے عمل میں ریاست تماشائی بنی رہی۔15مئی 2001ء کو ایک بار پھر بدھوں نے مسلمانوں کی گیارہ مساجد مسمار کیں، چار سو سے زائد گھروں کو آگ لگادی اور دوسو افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا جن میں سے بیس افراد وہ تھے جو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے، انہیں اس قدر پیٹاگیاکہ وہ جان کی بازی ہار گئے۔ بدھوں کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کی مساجد کو مسمار کردیا جائے جسے حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مان لیا اور متعدد مساجد زمین بوس کردی گئیں اور بعض کو مقفل کردیا گیا۔ مسلمان اپنے گھروں پر عبادت کے لیے مجبور کیے گئے اور بعض نے ہجرت کرلی۔ اب تک لاکھوں برمی مسلمان ہجرت کرکے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی سرحدوں پر خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔2009ء میں تھائی لینڈ کی فوج نے برمی مسلمان مہاجرین کو بے دردی سے مارا پیٹا اور پھر انہیں کشتیوں میں بٹھاکرکھلے سمندر میں دھکیل دیا جہاں بے رحم موجیں ان مسلمانوں کو نگل گئیں اور مشرق سے مغرب تک پوری دنیا خاموش رہی۔ اس دوران حکومت ِبرما اور بین الاقوامی اداروں کے بہت سے وعدے، مذاکرات، بیانات، رپورٹس، قراردادیں اور سروے مگرمچھ کے آنسوؤںسے زیادہ ثابت نہ ہوئے جس کی تفصیل کے لیے ایک علیحدہ دفتر درکار ہے۔ برمی مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ امتِ محمدیہ کا حصہ ہیں۔ اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتے یا کم از کم گوری رنگت کے ہی حامل ہوتے تو پوری دنیا کا میڈیاآسمان سر پر اٹھا لیتا، نیٹوکی افواج امنِ عالم کا نعرہ بلند کرتی ہوئی پہنچ جاتیں، امریکی قیادت کے دورے ہی ختم نہ ہوتے، یورپی یونین فوراً سے پیشتر پابندیاں عائد کردیتی، ادارہ اقوام متحدہ حقوقِ انسانی کی پامالی پر قراردادیں منظور کرتا ہوا اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتا، عرب شیوخ اتنی بڑی بڑی رقوم کے چیک پیش کرتے کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں، عالمی اداروں کے نمائندے اپنے کارندوں کے ہمراہ مظلومین کے ایک ایک فرد کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں بنواتے، اور وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی این جی اوز ان کے حالات پر دستاویزی فلمیں اور ڈرامے بناکر عالمی ایوارڈ حاصل کرچکی ہوتیں، اور مسلمانوں کے حکمران ان کے غم میں ہلکان ہوچکے ہوتے۔ افسوس ہے ان سیکولرازم کے پیروکاروں پر جن کا قبلہ مغرب، جن کا خدا پیٹ اور جن کا مذہب پیٹ سے نیچے کی خواہش ہے۔ انہیں مملکت ِخداداد پاکستان کے کسی دور دراز گاؤں میں پٹتی ہوئی عورت تو نظر آتی ہے لیکن نسلوں سے خون میں نہاتے ہوئے، جمہوریت کے اس دور میں حقِ خودارادیت ومذہبی آزادی تک کے حق سے محروم برمی مسلمان نظر نہیں آتے۔ لیکن آخر کب تک…! ظلم کی رات کتنی ہی تاریک ہو، آخر اسے ختم ہونا ہے۔ پوری دنیا پر یورپ کی غلامی کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوا لیکن برمی مسلمانوں پر انگریزکی غلامی کے بعد اس سے بدتر غلامی مسلط کردی گئی، اور سیکولرازم کی لگی اندھی عینک سے دنیا کی قیادت کو صرف وہی نظر آتا ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں ’’عالمی برادری‘‘کے نام پر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سجھادیتی ہیں۔ امتِ مسلمہ کی عملی جدوجہد کے باعث گزشتہ صدی ہٹلر اور سرخ سویرے جیسے ہاتھیوں کو نگل گئی اور اِس صدی کا سورج امریکہ کے زوال کی خوشخبری لے کر طلوع ہوا ہے۔ سامراج اپنے استعماری نعروں سمیت غرقاب ہوگا اور پسِ دیوارِ افق فاران کی چوٹیوں سے پھوٹنے والی روشنی ایک بار پھر عالمِ انسانیت کو اپنی آسودگی و راحت بھری گود میں بھرلے گی، انشاء اﷲ تعالیٰ۔

شادی کے ادارے کا بحران…ایک تناظر

شادی کے ادارے کا بحران…ایک تناظر

شاہنواز فاروقی
مشرق ہو یا مغرب… شادی کا ادارہ ہر جگہ بحران کا شکار ہے۔ البتہ مغرب میں شادی کے ادارے کا بحران انتہا کو چھو رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ ہی میں نہیں، جاپان جیسے مشرقی ملک میں بھی اکثر نوجوان شادی کو ٹالتے ہیں، اور شادیاں ہوتی ہیں تو کامیاب نہیں ہوتیں۔ امریکہ اور یورپ میں طلاق کی شرح اتنی بڑھ گئی ہے کہ شادی طلاق حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ مشرق، یہاں تک کہ اسلامی ملکوں میں بھی شادی کا ادارہ بحران کی زد میں ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلم ملکوں میں طلاق کا لفظ بہت کم سننے کو ملتا تھا، لیکن اب مسلم ملکوں میں بھی طلاق اور خلع کے واقعات عام ہورہے ہیں۔ بدقسمتی سے طلاق اور خلع کے واقعات میں اتنی تکالیف، بدصورتی اور بھونڈا پن ہوتا ہے کہ شادی محبت کے بجائے دشمنی کا تجربہ بن کر سامنے آتی ہے، یعنی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شادی محبت کرنے کے لیے نہیں ایک دوسرے کو اذیت دینے اور ذلیل و خوار کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا کہ محبت یا پسند کی شادی کو شادی کی کامیابی اور خوبصورتی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بڑوں کی طے کی ہوئی شادیاں جتنی ناکام ہوتی ہیں، محبت کی شادیاں اس سے زیادہ نہیں تو اتنی ہی ناکام ضرور ہورہی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ’’گھریلو‘‘ اور ’’پسند‘‘ کی شادیاں ’’کھوٹے سکے‘‘ کے دو رخ بن کر رہ گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کے اسباب کیا ہیں؟ ایک وقت تھا کہ بڑوں کی طے کی ہوئی شادی یا Arrange Marriage کرتے ہوئے چار چیزیں ضرور دیکھی جاتی تھیں: (1) لڑکے کی شرافت۔ (2) خاندان۔ (3) تعلیمی پس منظر۔ (4) روزگار۔ اس طرح شادی کی بنیاد ہمہ جہت بھی ہوتی تھی اور اس پر برتر اقدار کا سایہ بھی ہوتا تھا۔ لڑکی کو دیکھتے ہوئے روزگار تو نہیں دیکھا جاتا، البتہ یہ ضرور دیکھا جاتا کہ وہ امور خانہ داری میں کتنی ماہر ہے۔ لیکن اب شادی کرتے ہوئے بالعموم صرف ایک چیز دیکھی جاتی ہے، اور وہ یہ کہ ہونے والے ’’دولہا‘‘ کی ’’مالی حالت‘‘ کیسی ہے؟ یہ سلسلہ نیا نہیں، اکبر الہ آبادی کے زمانے میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا، اسی لیے انہوں نے فرمایا تھا ؎ نہیں پُرسش کچھ اس کی الفتِ اللہ کتنی ہے؟ سبھی یہ پوچھتے ہیں آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے تنخواہ واحد معیار بن کر رہ گئی ہے۔ اگر لڑکے کی تنخواہ اچھی ہے تو خوب۔ لڑکا مشرق وسطیٰ میں کہیں ملازم ہے تو اس میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ لڑکے کی یورپ اور امریکہ میں موجودگی سے چاندوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اکثر شادیاں دولت کی اقدار کے سائے میں ہوتی ہیں۔ ان کے انعقاد میں شرافت و نجابت اور محبت کو یا تو دخل ہی نہیں ہوتا، یا ہوتا بھی ہے تو ان چیزوں کی اہمیت ’’میک اپ‘‘ کی ہوتی ہے۔ اور میک اپ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذرا سی گرمی سے اتر جاتا ہے۔ چنانچہ شادی کے بعد تعلق میں جیسے ہی کوئی مشکل آتی ہے لوگوںکو شرافت و نجابت اور الفت و محبت میں سے کچھ یاد نہیں رہتا۔ انہیں صرف ایک بات یاد رہ جاتی ہے، اور وہ یہ کہ وہ کتنے مالدار ہیں۔ دولت جتنی زیادہ ہوتی ہے شرافت و نجابت اور علم و محبت کی اہمیت اتنی ہی کم ہوجاتی ہے۔ کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ شادی لڑکے اور لڑکی کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوںکے درمیان ہوتی ہے، اور یہ بات ٹھیک تھی۔ لیکن اب اکثر گھریلو شادیاں یا Arrange Marriages صرف لڑکے اور لڑکی کا معاملہ بن کر رہ جاتی ہیں اور خاندان شادی کے ساتھ ہی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو خاندان اور اس کے اراکین عام طور پر میاں بیوی کے درمیان معاملات بہتر کرنے کے حوالے سے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرپاتے، بلکہ بسا اوقات ان کا کردار منفی ہوجاتا ہے اور معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتے چلے جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بڑے خاندانوں کا تجربہ عام تھا اور عام طور پر لڑکیاں ایک بڑے خاندان سے نکل کر دوسرے بڑے خاندان میں چلی جاتی تھیں۔ لیکن اب معاشی دبائو، خاندان کے ادارے کے عدم استحکام اور شہریانے کے عمل یا Urbanization کی وجہ سے شہروں بالخصوص بڑے شہروں میں بڑے خاندانوں کا تجربہ عام نہیں ہے۔ چنانچہ بڑوں کی طے کی گئی شادیوں یا Arrange Marriages میں اکثر لڑکیاں چھوٹے خاندان سے نکل کر نسبتاً بڑے خاندان میں جاتی ہیں جس سے دو مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایک یہ کہ لڑکی کو خاندان کا حصہ بننے میں مشکل ہوتی ہے۔ اس کا ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی سانچہ محدود ہوتا ہے اور نئی صورت حال کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ دوسری مشکل بالادست شخصیت یا گھر کی مرکزی اتھارٹی کے حوالے سے پیش آتی ہے۔ عام طور پر یہ اتھارٹی نہ لڑکی خود ہوتی ہے نہ اس کا شوہر، بلکہ یہ اتھارٹی اس کا سسر، ساس یا جیٹھ وغیرہ ہوتے ہیں جن سے معاملات کرنا آسان نہیں ہوتا۔ چنانچہ لڑکی طویل عرصے تک خاندان میں جذب نہیں ہوپاتی۔ یہ صورت حال شوہر کے ساتھ اس کے تعلق پر اثرانداز ہوتی ہے اور شادی کے تجربے کو بحران میں مبتلا کردیتی ہے۔ محبت کی شادی کے مسائل قدرے مختلف ہیں۔ محبت کی شادیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو عام طور پر محبت کا نام دیا جاتا ہے وہ محبت نہیں ہوتی، کچھ اور ہوتا ہے۔ مثلاً ’’محبت کی نقل‘‘۔ محبت کی نقل کا مسئلہ شاعری اور افسانے کے دور میں بھی موجود تھا مگر اب ہم ٹیلی ڈرامے اور فلم کے عہد میں سانس لے رہے ہیں جن میں محبت مرکزی موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ڈرامے اور فلمیں اتنی کثرت سے دیکھی جاتی ہیں کہ محبت ذہن پہ ’’طاری‘‘ ہوجاتی ہے، چنانچہ ڈرامے اور فلمیں دیکھنے والے نوجوان فلموں کے کرداروں کی نقل کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔ یہ صورت حال نوجوانوں کی عظیم اکثریت میں حقیقی محبت کی نمود کو بعض صورتوں میں ناممکن اور بعض صورتوں میں مشکل بنا دیتی ہے اور نوجوانوں کی اکثریت ڈراموں اور فلموں کی محبت کو ’’اوڑھ‘‘ لیتی ہے۔ محبت کی یہ ’’نقل‘‘، یہ ’’طاری‘‘ کیا گیا عشق، یہ اوڑھی ہوئی الفت جب حقیقی زندگی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی تاب نہیں لاپاتی۔ ایک وقت تھا کہ فلموں میں محبت کا تجربہ ’’انقلابی‘‘ اور ’’پوری زندگی‘‘ پر حاوی تجربہ تھا۔ مثلاً مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کے لیے ایک کنیز انارکلی کی محبت کا تجربہ اتنی بڑی چیز ہے کہ وہ اس کے لیے ’’اکبر اعظم‘‘ سے ٹکرا جاتا ہے، قید و بند کی صعوبتیں جھیلتا ہے، اقتدارکو لات مار دیتا ہے اور موت کو ہنس کر سینے سے لگانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دیوداس میں محبت کا تجربہ دیوداس کی پوری زندگی صرف یا Consume کردیتا ہے اور دیوداس شادی کے بغیر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے مگر اس کی موت محبت کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔ لیکن اب ڈراموں اور بالخصوص فلموں میں محبت کا تجربہ آئسکریم کھانے، برگر نوش فرمانے، کوکاکولا پینے اور پکنک منانے کی طرح کا تجربہ ہے۔ اس تجربے میں کوئی عظمت نہیں، کوئی انقلابیت نہیں، کوئی قربانی نہیں۔ چنانچہ یہ تجربہ جیسا ہے اس کا اثر بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ عہدِ حاضر میں محبت کے تجربے کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ جس چیز کو محبت سمجھا جاتا ہے وہ دراصل ’’انا کی پکار‘‘ اور اس سے پیدا ہونے والی ’’خودپسندی‘‘ ہوتی ہے۔ نوجوانی میں مرکزِ نگاہ بننا اور اس خیال کا حامل ہونا انا کو بہت تسکین دیتا ہے کہ کوئی ہمیں پسند کرتا ہے اور ہمارے لیے بے قرار ہے۔ لیکن حقیقی محبت انانیت اور خودپسندی کی ضد ہے۔ محبت محب کو نہیں محبوب کو اہم بناتی ہے۔ محبت زیادہ دینا اور کم لینا سکھاتی ہے۔ لیکن خودپسندی سے پیدا ہونے والی محبت میں محبوب نہیں محب مرکزی کردار بن جاتا ہے۔ خودپسندی سے جنم لینے والی محبت کی ساری تگ و دو لینے میں ہوتی ہے اور دینا اسے یا تو پسند نہیں ہوتا یا اس لیے پسند ہوتا ہے کہ جو دیا جائے گا وہ زیادہ بن کر لوٹے گا۔ چنانچہ اس طرح کی محبتوں کے تحت ہونے والی شادیوں کا مقدر ناکامی کے سوا کیا ہوسکتا ہے! محبت خواب دیکھنا سکھاتی ہے، مگر حقیقی محبت خواب کو حقیقت سے اس طرح آمیز کرتی ہے کہ حقیقت، حقیقت ہونے کے باوجود خوابناک ہوجاتی ہے۔ لیکن مصنوعی محبت خواب میں پیدا ہوتی ہے، خواب میں زندہ رہتی ہے اور خواب سے نکلتے ہی مرجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ڈرامے، ہماری فلمیں اور ہمارا جدید کلچر ایسی ہی محبت کی فصلیں کاشت کررہے ہیں۔ مصنوعی محبت خواہشات کا ہمالہ تخلیق کرتی ہے لیکن عمل کی صلاحیتوں کو کمزور سے کمزور کرتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ محبت کی شادیاں دیکھتے ہی دیکھتے خواہشات کا قبرستان آباد کردیتی ہیں اور بالآخر شوہر اور بیوی بھی اسی قبرستان کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جن شادیوں کو محبت کی شادیاں کہا جاتا ہے اُن میں سے اکثر دراصل محبت کی شادیاں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اوڑھی ہوئی محبت کی شادیاں ہوتی ہیں، خودپسندی کی شادیاں ہوتی ہیں، خواہشات کی فراوانی اور عمل کے کال کی شادیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسی شادیاں ناکامی کے اینٹ اور گارے سے تعمیر ہوتی ہیں۔ اسلام شادی کے ادارے کی عمارت کو محبت، اطاعت، خدمت اور قربانی کے ستونوں پر تعمیر کرتا ہے۔ محبت اطاعت، خدمت اور قربانی کو سہل بناتی ہے… اور اطاعت، خدمت اور قربانی سے اس امر کی شہادت فراہم ہوتی ہے کہ محبت فریبِ نظر اور خودپسندی نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اسلام کے دائرے میں شادی پہلی نظر میں کم حسین و جمیل نظر آتی ہے مگر وہ پائیدار ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر اسلام کے دائرے میں شادی کم حسین و جمیل نظر آتی ہے تو اس میں قصور اسلام کا نہیں خود مسلمانوں کا ہے جنہوں نے شادی کو صرف ایک سماجی عمل بناکر رکھ دیا ہے، حالانکہ اسلام کے دائرے میں شادی ایک کائناتی یا Cosmic سطح تک کا عمل ہے۔ اس عمل میں مرد اور عورت کا ملاپ دو افراد نہیں دو کائناتوں کا ملاپ ہے۔ اس ملاپ میں روح جسم بن جاتی ہے اور جسم روح میں ڈھل جاتا ہے۔ ان حقائق سے ایک ایسا جمالیاتی تجربہ وجود میں آتا ہے جو زندگی کی مراتھن کو 100 میٹر کی دوڑ میں ڈھال دیتا ہے۔


Tuesday, 10 July 2012

عرب وہند کے تعلقات


محترم حبیب صالح
مسلمانوں کی آمد سے قبل اس پورے ملک کا کوئی ایک نام نہ تھا، اہل فارس نے جب اس کے صوبہ پر قبضہ کیا جس میں دریائے سندھ تھا تو اس کا نام ”سندہو“ رکھا، پرانی ایرانی زبان اور سنسکرت میں” س “اور”ہ“  آپس میں بدلا کرتے ہیں، اس لیے اہلِ فارس نے اسے ”ہندہو“ کہ کر پکارا،جس سے ”ہند“ پڑگیا، عرب نے سندھ کو” سندھ“ ہی کہا، مگر دیگر علاقوں کو”ہند“ کہا۔

موجودہ سادات خاندانوں کا بڑا حصہ نواسہٴ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے حضرت زین العابدینعلی بن حسینکی نسل سے ہے، حضرت زین العابدین کی ماں عرب نہ تھیں، بلکہ ایرانی یا سندھی تھیں۔

مسلمان کی برصغیر آمد
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بحرین کے گورنر کے حکم سے مسلمان بمبئی کی بندرگاہ پر 15ہجری(636ء) میں پہنچے اس کے بعد بہرچ (بروص) آئے۔ اسی زمانہ میں مغیرہ نامی مسلمان دیبل پر، جو سندھ کی بندرگاہ تھی اور ٹھٹھہ جو موجودہ کراچی کے قریب ہے لنگر انداز ہوا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں چند مسلمان بھیجے گئے جو ان بندرگاہوں کی دیکھ بھال کر کے واپس چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں 39ہجری (660ء)سے مسلمانوں کی جانب سے باقاعدہ ان اطراف کی نگرانی ہونے لگی۔ ولید اموی کے دور میں جب حجاج عراق‘ ایران‘مکران‘ بلوچستان یعنی مشرقی علاقوں کا نگران مقرر ہواتو اس نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ بھیجا تاکہ یہاں کے ہندو راجہ سے مسلمان عورت کو رہائی دلوائی جائے۔ 93ہجری میں محمد بن قاسم سندھ پہنچے، تین برس کے عرصہ میں مسلمان چھوٹے کشمیر کی سرحد ملتان(عرب پنجاب کو چھوٹا کشمیر کہتے تھے) تک پہنچ چکے تھے۔

313ہجری (715ء)میں عرب میں مسلمانوں کی حکومت میں اندرونی تبدیلی آئی، امویوں کی جگہ عباسیوں نے لے لی اور شام کے بجائے عراق سلطنت کا اہم صوبہ بن گیا، اور حکومت کا مرکز دمشق سے ہٹ کر بغداد چلاگیا، اس انقلاب نے ہندوستان کو مرکز عرب کے زیادہ قریب کردیا۔

مسلمان سیاح
عربی زبان میں جغرافیہ کی سب سے پہلی کتاب، جس میں ہندوستان کا کچھ حال ملتا ہے ،وہ ابن خردازبہ کی کتاب ”کتاب المسالک والممالک“ ہے۔

سلمان تاجر: یہ ایک سوداگر تھا، جو عراق سے چین کی بندرگاہ تک پورے ساحل کا چکر لگاتا تھا، اس نے ایک کتاب 237ہجری میں لکھی۔ ابوزید حسن سیرافی 264ہجری: اس نے سلمان تاجر کا سفر نامہ پڑھا اور 30,25سال بعداس کا تکملہ لکھا۔ اسی طرح ابودلف مسعر بن مہلہل یزعومی 331ہجری، بزرگ بن شہریار300 ہجری، مسعودی 303ہجری، اسطخری 340ہجری، ابن حوقل، بشاری375ہجری، البیرونی400ہجری، ابن بطوطہ 779ہجری، وغیرہ نے اپنی تصانیف میں ہندوستان کا تذکرہ کیا اوراس کا جغرافیہ لکھا ہے۔

علاقائی وتجارتی تعلقات
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں بھی تجارتی قافلے ہندستان سے گذرتے تھے، بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر لے جانے والے قافلے کا گذر بھی اسی جگہ ہوا تھا، حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ سے مارکوپولو اور واسکوڈی گاما کے زمانہ تک ہندستان کی تجارت پر عرب چھائے رہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرب سیاح سے ہندوستان کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا: ”بحرھا درر، وجبلھا یاقوت، وشجرھا عطر“ (اس کے دریا موتی ، پہاڑ یاقوت اور درخت عطر ہیں)۔ عراق کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ابلہ کی بندرگاہ کی طرف جانے کا حکم دیا اور اسے تجارتی شہر بنانے کا کہا، لہٰذا اس وقت سے لیکر256ہجری تک یہ بندرگاہ قائم رہی۔ پہلی صدی ہجری کے آخر میں سندھ میں مسلمانوں کے پہنچ جانے کے سبب سے یہ ہندستان کی آمد ورفت کا مرکز بن گئی۔ کشتیوں اور جہازوں کا محصول اس قدر بڑھ گیا کہ وہ بغداد کا بڑا مالیہ ہوگیا، آخر میں 306ہجری میں مقتدرباللہ کے زمانے میں اس کی سالانہ میزان 22575 دینار رہ گئی تھی۔

عرب سے چلنے والے مسافروں کے لیے خلیج فارس کے بعد سب سے پہلے بلوچستان کی بندرگاہ تیز، پھر سندھ کی بندرگاہ دیبل اور گجرات میں تھانہ تھی۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں اور ہندوستان کے تجارتی تعلقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے کم از کم 2ہزاربرس پہلے سے ہیں۔

عربی میں جہاز رانی کے بعض ہندی الفاظ
عربوں کی ہندوستانی سواحل پر دریائی آمد ورفت کا اثر یہ ہوا کہ عربی کے سفر ناموں اور جغرافیوں میں اور عرب وفارسی ملاحوں کی زبانوں پر جہاز اور متعلقات جہاز کے ہندی نام چڑھ گئے ، مثلا: بارجہ(بیڑہ، ہندی)،دونیج (ڈونگی، ہندی)، ہوری (ہوڑی، ہندی) وغیرہ۔

ہندوستانی پیداوار
ابن خردازبہ (220ہجری) یہ فہرست ظاہر کرتاہے: خوش بو، لکڑیاں، صندل، کافور، لونگ، جزبائے، ناریل، سراندیپ سے ہرقسم کے یاقوت، موتی، بلور اور سنباذج وغیرہ۔ ابن الفقیہ ہمدانی (330) نے مزید گینڈا، ہاتھی، عود، عنبر، لونگ، سنبل، دارچینی، توتیا، صندل، ساگوان اور سیاہ مرچ وغیرہ گنوائی ہیں۔چوں کہ ان اشیا کی عرب آمد اور ان کا تعارف عربوں کو اہل ہند سے ہوا تھا۔ اس لیے اہل عرب نے ہندی ناموں کو اپنے زبان کے موافق تبدیل کرکے استعمال کیا، ذیل میں ہندی الاصل چند الفاظ کی فہرست دی جاتی ہے۔
اردوہندیعربی نامصندلچندنصندلپان(تنبول)تامبولتنبوللونگکنک پھلقرنفلسپار، ڈلیکوبلفوفلالائچیایلھیلکیلاموشہموزآمآمانبجمشکموشکامسککافورکپورکافورگول مرچپیلی، پیلافلفلسونٹھ، ادرکزرنجابیرازنجبیلنیلوفرنیلوپھلنیلوفرناریلناریلنارجیللیمولیمولیمون
قرآن میں ہندی الفاظ
کیا قرآن میں غیر زبان(عربی کے علاوہ) کے الفاظ موجود ہیں؟ فیصلہ یہی ہے کہ ایسے الفاظ موجود ہیں جو عربوں کی زبان میں آکر مستعمل ہوگئے تھے اور وہ عربی زبان کے لفظ بن گئے تھے، چناچہ قرآن میں ہندی کے تین الفاظ ہیں۔ مسک (مشک، ہندی)، زنجبیل (ادرک، ہندی)، کافور (کپور، ہندی)۔

پان (تنبول)کا مفصل تعارف عربوں میں مسعودی نے کیا ہے، جوآج سے تقریباً نو سو برس پہلے کا ہے۔

علمی تعلقات
771ء میں سندھ کے ایک وفد کے ساتھہیئت اور ریاضیات کافاضل پنڈت سنسکرت کی سدھانت لے کر بغداد پہنچا اور خلیفہ کے حکم سے ابراھیم فرازی ریاضی دان کی مدد سے عربی میں ترجمہ کیا، اس کے بعد علم نجوم، ہیئت، طب اور ادب واخلاق کی کتابوں کا سنسکرت سے عربی میں ترجمہ ہوا۔

خلیفہ منصور اور ہارون الرشید کی فیاضی کی بدولت ہندستان کے بیسیوں پنڈت بغداد پہنچے اور سلطنت کے طبی اور علمی محکموں میں مصروف ہوئے اور حساب، نجوم، ہیئت، وید اور ادب واخلاق کی بہت سے کتابوں کا ترجمہ کیا۔

اہل عرب کا صریح بیان ہے کہ انہوں نے 1سے لے کر9تک کا ہندسہ لکھنے کا طریقہ اہل ہند سے سیکھا، اس لیے عرب اس کو” حساب ہندی“ یا ”ارقام ہندیہ“ کہتے ہیں، پھر اندلس کے راستہ یورپ نے یہ حساب سیکھا، وہ اس کو اعداد عربیہ (عربک فیگرز) کہتے ہیں۔

کلیلہ دمنہ (عربی ادب کی مشہور کتاب)اصل میں سنسکرت میں تھی، بیرونی کے مطابق اس کا نام” پنچ تنتر “ہے، یہ کتاب قبل از اسلام ایران کے ساسانی بادشاہوں کے زمانہ میں فارسی میں ترجمہ ہوئی، پھر عبداللہ بن مقفع نے دوسرے صدی ہجری کے وسط میں اس کا عربی ترجمہ کیا، پھر عربی زبان سے اس کے ترجمے دنیا بھر میں شائع ہوئے۔

حصول فنون کے لیے برصغیر میں آمد
دوایسے فاضل مسلمان گذرے ہیں جو ہندستان سیر وتفریح کرنے نہیں، مختلف فنون کی تحصیل کے لیے آئے اور اس میں کامیاب لوٹے۔ تنوخی: اس کا زمانہ تیسری صدی ہجری کا تھا، یہ نجوم و ہیئت کا ماہر تھا اور ہندوستان سے بہت سی نادر معلومات لے کرواپس گیا۔

ابوریحان البیرونی: 408ہجری میں ہندوستان آیا اور یہیں 423ہجری میں” کتاب الہند “ ختم کی۔ اس نے ہندوستان کے مذاہب، اعتقادات، رسوم، اقوام اور علوم وفنون کا تعارف کروایا۔ بیرونی کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ہندوٴوں اور مسلمانوں کے درمیان علمی سفارت کا کام انجام دیا ہے، اس نے عربوں اور ایرانیوں کو ہندوٴوں کے علوم سے اور ہندوٴوں کو عربوں اور ایرانیوں کی تحقیقات سے آگاہ کیا۔ اس نے عربی سے سنسکرت اور سنسکرت سے عربی میں ترجمہ کیا، اس کا عظیم کارنامہ زمین کا دور ناپنا ہے، بیرونی کو اس کا بڑا شوق تھا، ایسے موقع کا میدان اس کو ہندستان میں ملا، چناں چہ اس نے (پاکستان)ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادن خان کے ایک قصبے نندنا کے قلعے میں اپنے ہندی قاعدہ کے مطابق زمین کی پیمائش کی۔

برصغیر کی وقعت
جاحظ ( 255ہجری) لکھتا ہے: ”ہندستان کے باشندے حساب اور طب میں آگے ہیں اور طب کے بعض عجیب بھید ان کومعلوم ہیں، سخت بیماریوں کی دوائیں خاص طور پر ان کے پاس ہیں…رنگوں سے تصویر بنانے اور تعمیر میں ان کو کمال ہے…(عراق) میں جتنے صراف ہیں، سب کے ہاں خرانچی خاص سندھی ہو گا یا سندہی کا لڑکا ،کیوں کہ ان کو حساب وکتاب سے فطری مناسبت ہے اور یہ دیانت دار اور وفادار ملازم ہوتے ہیں۔

یعقوبی (احمد بن یعقوب جعفر‘ یہ عباسی دور میں دفتر انشاء کا افسر تھا)لکھتا ہے: ”ہندستان کے لوگ عقل وفکر والے ہوتے ہیں…طب میں ان کا فیصلہ سب سے آگے ہے“۔

متفقہ نشان
سراندیپ کی ایک پہاڑکی چٹان پر پاوٴں کا ایک نشان ہے، بعض مسلمان اپنی تحقیق کے مطابق اسے حضرت آدم علیہ السلام کا نقشِ قدم، بودھ اس کو شاکیہ مونی کے قدم کا نشان اور ہندو اسے شیر کے پاوٴں کا نشان سمجھتے ہیں اور سب اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق اس کی تعظیم کرتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جس کی دوسری مثال مشکل سے ملے گی۔

بہرحال ان مختلف تجارتی، معاشرتی اور سیاسی تعلقات کا نتیجہ یہ ہوا کہ سندھ، گجرات، مالدیپ، سراندیپ اور جاوہ وغیرہ میں اسلام نے اپنے قدم آہستہ آہستہ بڑھانا شروع کردیے، صدی بہ صدی کے جغرافیوں اور سفرناموں کے مطالعہ سے معلوم ہو تاہے کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر پورے امن وچین کے ساتھ اسلام کے اثرات یہاں بڑھتے چلے گئے۔

کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہیں ندیاں

کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہیں ندیاں

 سید عبد السلام عمری (کویت)
مبارک بابرکت مہینہ کا چاند نظر آئےگا ‘ کچھ ہی دنوں میں ہم رمضان کا استقبال کریں گے ۔ کتنا عجیب سا لگتا ہے کہ کل ہی ہم ایک رمضان کو الوداع کہہ رہے تھے اور اب ہم پورے ایک سال بعد اس نئے مہمان کا استقبال کرنے جارہے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک سال کی یہ مدت کچھ لمحوں میں محدود کر دی گئی ہو۔
یہاں ہمیںیہ سبق ملتا ہے کہ ایک دن خوشی و غم کی یہ دنیا ختم ہوجائیگی ‘ زندگی کا چراغ بجھ جائے گا۔ بلند عمارتیں ختم ہو جائینگی ‘ میں اور آپ ‘ دنیا کے تمام لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے ‘ امتحان کی یہ گھڑی اور یہ جگہ ختم ہو جائے گی:
” تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہوگے۔ بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ہے“۔ پھر کیا ہوگا؟ دنیا کی یہ طویل زندگی ایک یاد بن کر رہ جائے گی۔(سورة الاعراف:29:30)
آج ہمارے درمیان کتنے ایسے لوگ جو رمضان کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیںان کو پتہ نہیں کہ وہ رمضان سے پہلے ہی ا س دنیا سے کوچ کر جانے والے ہیں:
”کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کمائے گا؟ اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا“۔(سورة لقمان: (34
پیارے ساتھیو ! آپ کی تمنا بڑی قیمتی ہے۔ اس مبارک مہینہ کو اللہ تعالی نے بےشمار برکتوں سے اور رحمتوں سے شرف بخشا ہے۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں،سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، نیکیاں دوگنی چوگنی ہو جاتی ہیں،گناہ معاف ہوتے ہیں، اس مبارک مہینہ میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اب ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہم نے اس ماہ کے لےے کیا تیاری کر رکھی ہے….؟
خوشخبری اور مبارک بادی …. میرے لیے، آپ کے لیے اور ہم سب مسلمانوں کے لےے….کہ سال کا سب سے افضل مہینہ ایک بارپھرآنے والاہے ۔نبی رحمت ا بھی اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس ماہ کی خوشخبری سنایا کرتے تھے۔ کہتے تھے :ا ¿تاکم شھررمضان شھر مبارک فرض اللہ عز وجل صیامہ وتفتح فیہ ا ¿بواب الجنة وتغلق فیہ ا ¿بواب الجحیم ‘ وتغل فیہ مردة الشیاطین (احمد،نسائی)”تمہارے اوپر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے جس کے روزے اللہ پاک نے تم پر فرض قراردیا ہے ،جس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیںاور سرکش شیاطین کو قید کردیاجاتا ہے ۔“
جی ہاں ! یقینا یہ بہت بڑی خوشخبری ہے، مومن کیسے خوش نہ ہو کہ اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، گنہگار کے لیے سنہرا موقعہ کیسے نہ ہوکہ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔عقلمند ودانا کے لےے اس سے بڑھ کر خوشی ومسرت کی اور کونسی بات ہو سکتی ہے کہ اس ماہ میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ عبادت گذاروں کے لیے تو یہ انمول موقعہ ہے کہ اس ماہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت والی ہے۔
خوش قسمت ساتھیو!: جن کو انتظار ہے رمضان جیسے مبارک مہینہ کا،عنقریب ہم اس مبارک مہینہ میں داخل ہونے والے ہیں، ہم سب کی زندگیوں میں دنیا وآخرت کی ساری خوشیاں،مسرتیں اور برکتیں نازل ہونے والی ہیں۔ یہ تحفہ ہے ہمارے لیے رمضان کا ….لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے کیسے انتظامات کر رکھے ہیں اس مبارک مہینہ کے لےے…. دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں رمضان کو پانے کا موقع عنایت فرمائے، ہمیں پورا صحتمند رکھے اور ہماری زندگی عافیت کے ساتھ گذرے یہاں تک کہ ہم رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہوں ،ہمارے دل خوشی سے باغ باغ ہوجائیں، اور ہماری آنکھیں اس ماہ مبارک کی آمد میں خوشی کے ٹھنڈے آنسو بہائیں۔
پیارے ساتھیو!آج ہم اپنی زندگی کا ایک نیا صفحہ کھولیں گے جو بالکل روشن،ہمارے پالنہار کے پاس کام آنے والا ہے، بہت سے کام ہم سے ایسے بھی سرزد ہوگئے ہونگے جن کو ہم بہت معمولی خیال کرتے تھے۔جبکہ وہی اعمال اللہ کے نزدیک بہت بڑے گناہ شمار ہوتے ہیں،آج ہم اپنے رب رحیم کے حضور ہر خطا ، ہر تقصیر، ہر بھول ،ہر گناہ سے توبہ کریں گے،ہم یہ فرصت کو ضائع نہیں کریں گے۔جس طرح گذرے دن، گذرے سال، بیکاری میں کٹ گئے۔ یہ سنہرا موقعہ ہے نیک اعمال کرنے کا…. کب تک رہے گی یہ غفلت کی زندگی….؟ کب تک رہیں گی یہ لمبی امیدیں اورآرزوئیں؟ …. کب تک بنے رہیں گے خواہشات کے بندے ….؟اور کب تک شیطان مردود کی کرتے رہیں گے اتباع….؟
کیا ہی اچھا ہوگا کہ اس مبارک ماہ کی شروعات ہی توبہ و استغفار سے ہو، اطاعت و فرمانبرداری کے جذبہ سے سرشار ہو ہمارا دل…. یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ بہت سوں کو نار جہنم سے چھٹکارا ملتا ہے۔کتنے لوگ ہمیں نظر آئیں گے جو اللہ کے حضور توبہ و استغفار کر رہے ہوگے۔اس ماہ مبارک میں کتنے لوگ ایسے بھی ہوںگے جو اپنی سیاہ کاریوں پر شرمندہ وپشیمان ہوںگے اور کتنے لوگ ہوںگے جو سراپا اطاعت کی مورتی بنے نظر آئیں گے اور کتنے لوگ ہوںگے جواس مہینہ میں دن و رات اپنی نینداور آرام وراحت کوقربان کرکے نورِہدایت کی تلاش میںلگے ہوںگے۔ اور کتنے لوگ ایسے بھی ہوںگے جوجرائم کی دنیا کو خیرباد کہہ چکے ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس ماہ مبارک میں ہوگا….اللہ اکبر۔
پیارے ساتھیو! اللہ آپ کا بھلا کرے، اٹھو! کھٹکھٹاو ¿ مخلوقات سے بے نیاز پروردگار کا دروازہ …. گناہوں کو معاف کرنے والے، توبہ قبول کرنے والے کا دروازہ…. قبل اسکے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو، یا پیام اجل آجائے۔ بعد کی شرمندگی کچھ کام نہ آئے گی۔ خوش نصیب ہے وہ جسکی دعا قبول ہو گئی،اور جنت اس کا ملجا و ماوی ہو گئی۔بربادی ہے اس بدنصیب کے لیے جو اس در سے دھتکار دیا گیا اور اسفل السافلین کا مستحق ہوا۔
رمضان گناہوںکی مغفرت کا ذریعہ بنتا ہے اس شخص کے لیے جوپاکیزہ طبیعت کا مالک ہو اور یہی مہینہ عذاب کا ذریعہ بھی بنتا ہے ،اس شخص کے لیے جس نے لوگوں کی عزت وآبرو سے کھلواڑ کیا ، والدین کے ساتھ ترش روئی اختیار کی ، رشتہ داروں سے حسن سلوک نہ کیا،بھائیوں سے رشتہ توڑا، چغل خوری کرتارہا، گالیاں دیتا رہا،گندی حرکتوں سے باز نہ آیا، جھوٹ اور فریب کاری سے بھی باز نہ آیا، اس کو اس مہینے سے سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ رسول اکرم ا نے ارشاد فرمایا:من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجة فی ا ¿ن یدع طعامہ وشرابہ۔(رواہ البخاری )”جس نے جھوٹ بولنا اورجھوٹ پر عمل کرنانہ چھوڑا‘ اللہ تعالی کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پانی چھوڑدے۔“
رمضان کا استقبال حلال کمائی کے ساتھ ہوتا ہے، رہا حرام کا کمایا ہوامال تو وہ مصیبتوں کا سبب بنتا ہے۔ جو حرام کا کھاتا ہے،حرام کا پہنتا ہے اسکی دعا قبول ہوگی اورنہ اس کے لیے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس سے بڑی بد نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب ذوالجلال والاکرام نے کہا :”جب آپ سے میرے بندے میری بابت پوچھیں توآپ فرمادیجئے کہ میں (بندوںسے بہت ) قریب ہوں“۔(سورة البقرة186)  اس کے باوجود رب رحیم اسکی طرف نگاہ کرم سے نہ دیکھیں گے ،کیونکہ اس نے چوری کی، اس نے دھوکہ دیا، رشوت لیا، سود کھایا، وائے افسوس! اس بدنصیب کی بدقسمتی پر….
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے !ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بارے میں سوچیں، اپنے گھر والوں کے بارے میں فکر مند ہوں، اپنا محاسبہ کریں،اگر ہمارے جیب میں ،تجوری میں حرام کا ایک پیسہ بھی ہے‘ نکال پھینکیں ،اپنے مال کو پاک کریں، جسکا مال ہے ،جس کا حق ہے اسے واپس کر دیں تاکہ قلب سلیم کے ساتھ، پاکیزہ مال کے ساتھ، اور سچی توبہ کے ساتھ رب کے حضور حاضر ہوں۔ تب ہماری دعا کی صدا فضا میں بلند ہوگی۔ یہاںتک کہ اس کے لیے آسمانوں کے سارے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ رمضان کابخیروخوبی استقبال کریں کہ یہ تربیت گاہ ہے ایمان کو مضبوط کر نے کا، اخلاق میں سدھارنے لانے کا، دلوں کو صاف کرنے کا، نفس کو پاک کرنے کا، ارادہ کو پختہ بنانے کا….نبی رحمتانے ارشاد فرمایا: الصلوات الخمس و الجمعة الی الجمعة ورمضان الی رمضان مکفرات ما بینھن اذا اجتنبت الکبائر (مسلم)
”پنجوقتہ نمازیں،ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ ،ایک رمضان سے دوسرا رمضان درمیان کے گناہوںکا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوںسے بچاجائے ۔ “
یہ ہے رمضان کا مہینہ، اسکی فضیلت، اسکا شرف، اسکی بلند مرتبت…. تو کیسے ہم اس عظیم مہینہ کا سامنا کریں گے۔
پیارے ساتھیو! اللہ آپ کو جنت الفردوس میںجگہ نصیب فرمائے۔ ہم اس ماہ کا استقبال دل کی گہرائی سے،غلط خیالوں سے،پاک وصاف ہو کر کریں گے۔اس ماہ کا مقصد ہی دلوں کی اصلاح ہے۔ اگردل ہمیشہ نافرمانیوں میں مبتلا رہا تو اس سے بہت سی بھلائی چھن گئیں…. رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ دل وروح کے نشوو نما کا منبع قرآن ہے۔ جو دلوں میں ایمان کی بہار لا دیتا ہے مگر افسوس کہ گناہوں میں ملوث ہمارے دل اس سے نصیحت حاصل نہیں کر پا رہے ہیں،یہی ہمارا حال ہے۔ یہ اللہ کی آیتوں سے بھرا صحیفہ اگر اسکو پہاڑوں پر اتار دیا جائے تو پہاڑ بھی اللہ کی خشیت سے پارہ پارہ ہوجائے،اگر اسکے ذریعہ پہاڑ چلائے جائیں، مردے اٹھ کر بات کرنے لگیں تو یہ کوئی بعید ازا مکان نہیں ہوتامگر ہمارے دل ہیں کہ اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔ حسن بصریؒ نے فرمایا ہے: ” اگر تمہارے دل پاک و صاف ہوتے تو کبھی رب کے کلام سے نہ بھرتے،جتنا پڑھتے اور پڑھنے کو دل کرتا….“
دیکھو! رب ذو الجلال و الاکرام کیا فرمارہے ہیں:
”اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اسکی جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے “۔ آل عمران: (133
دوڑو اللہ کی طرف! اللہ تعالی اپنی رحمت کی چادر پھیلائے ہمیں دعوت دے رہا ہے، یہ دوڑ کا مہینہ ہے، اس ماہ میں روزوں میں دوڑ ہوگی، نماز میں دوڑ ہوگی ، قرآن کی تلاوت کے ذریعہ دوڑ ہوگی، نفلی عبادات کے ذریعہ دوڑ ہوگی، اللہ کے ذکر کے ساتھ دوڑ ہوگی،خاموش رہ کر بھی دوڑ ہوگی، بھوک بھی دوڑ کا ذریعہ بنے گا، کھانا پینا بھی دوڑ میں شمار ہوگا۔ غرضیکہ ہمارا اٹھنا، بیٹھنا ،سونا، جاگنا،سارا کاسارا دوڑ ہی دوڑ ہوگا …. اپنے رب کریم کی طرف …. اسکی جنت کی طرف…. جس کی چوڑائی ساتوں زمین ، ساتوں آسمان جیسی ہوگی اور ان شاءاللہ ہم ان لوگوں میں سے ضرور ہوںگے ۔ جن کے بارے میں رب ذو الجلال و الاکرام نے ارشاد فرمایاہے: ” انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضا مندی کی اور جنتوں کی ، ان کے لیے وہاں دوامی نعمت ہے ، وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ، اللہ کے پاس یقینا بہت بڑے ثواب ہیں۔“ )سورة التوبہ21:22 )
اللہ تعالی کے ہم پر بےشمار احسانات ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس مبارک مہینہ کے قریب سے قریب ترہوتے جارہے ہیں اور عنقریب ان شاءاللہ اس ماہ مبارک کو پا بھی لیں گے۔ لمبی عمر اور فرصت کے لمحات توشے کے لیے ہیں‘ اطاعت کا توشہ ، پرہیزگاری کا توشہ، نیک اعمال کا توشہ، اور سب سے بہترین توشہ تو تقوی ہے۔ ایک مومن کی دولت اسکی اپنی عمر ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت اور صحت کا خیال کرے،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دونوں بیکاری میں گذر جائیں۔یاد کیجیے! فلاں شخص گذشتہ برس ہمارے ساتھ روزہ رکھا تھا،عید کی نماز بھی ہمارے ہی ساتھ ادا کیا تھا، آج وہ کہاں ہے؟ اس نے موت کا مزہ چکھ لیا ہے،کیا وہ ان پارکوں اور گلستانوں کی سیر کر رہا ہے؟ کیا وہ اب بھی اپنی خواہشات کے پورا کرنے میں مگن ہے؟ نہیں،ہرگز نہیں،بلکہ وہ ایک نیکی کا محتاج ہے تاکہ اسکے نیکی کا پلڑا جھک جائے اور اس کا بیڑا پار ہو جائے ۔
ساتھیو! حساب وکتاب بڑی سخت چیز ہے،کوئی نہ بچے گا الا من رحم ربی…. فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ ۔”پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا “۔
ذرا غور سے سنیے! ندا دینے والا فرشتہ پکار رہا ہے:یا باغی الخیر ا ¿قبل و یا باغی الشر ا ¿قصر!”اے بھلائی کے متلاشی آگے بڑھ اوراے برائی کے متلاشی پیچھے ہٹ“
کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہیں ندیاں
کچھ کر لو نوجوانو ! چڑھتی جوانیاں ہیں

مصر: اخوان ایوانِ صدارت میں


مصر: اخوان ایوانِ صدارت میں

عبدالغفار عزیز



 کہنے کو تو یہ ایک لفظ تھا لیکن مصر میں یہ ایک مکمل پیغام اور ایک قومی تحریک بن گیا۔ فُلُول، یعنی شکست خوردہ اور فاسد ٹولے کی باقیات۔ اس وقت مصر میں کسی شخص یا گروہ کے لیے فُلُول کا لیبل لگ جانے سے زیادہ معیوب اور باعثِ عار بات شاید کوئی نہ ہو۔پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں اس ایک لفظ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لَا لِلْفُلُول کا نعرہ اس قدر زباں زد عام ہوگیا کہ اگر کہیں صرف ’لا‘ ہی لکھا ہوتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ ڈکٹیٹر کی باقیات کو مسترد کیا جارہا ہے۔ ۲۴جون ۲۰۱۲ء کو مصری تاریخ کے پہلے حقیقی صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہورہا تھا تو ملک کے ہر شہر اور قصبے کی طرح قاہرہ کے تاریخی میدان التحریر میں بھی لاکھوں لوگ جمع تھے اور پورے میدان میں ایک بڑے بینر پر صرف ’لا‘ ہی پڑھا جارہا تھا۔ کئی جملوں پر لکھی پوری عبارت پڑھنے کا تکلف کیے بغیر ہی ’لا‘ پورا پیغام واضح کررہا تھا۔
مصری تاریخ میں یہ پہلے صدارتی انتخاب تھے کہ جس کے نتائج انتخاب سے پہلے ہی معلوم نہ تھے۔ مصر ہی نہیں اکثر عرب انتخابات میں حکمران ۹ء۹۹فی صدووٹ لے کر کامیاب ہوا کرتے تھے۔ عوامی انقلابات نے لوگوں کو پہلی بار اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا۔ یہ حقیقت ہر مخلص اور بے تعصب مسلمان کے لیے باعث طمانیت ہے کہ ان پہلے آزادانہ انتخابات میں عوام کی اکثریت نے اسلامی تحریک پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
الاخوان المسلمون مصر کے اُمیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی بحیثیت صدر مملکت جیت، خطے میں دیگر تمام کامیابیوں کا تاج ثابت ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یقیناًپورے مشرق وسطیٰ میں مصر کی مرکزی حیثیت ہے۔ مصر میں فی الحال تمام تر اختیارات صدر مملکت کے پاس ہیں۔دوسری اہم وجہ یہ بنی کہ اخوان کے صدارتی اُمیدوار کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے اندرون ملک مخالفین سے زیادہ مصر کے تمام بیرونی دشمن بے تاب تھے۔
صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ۱۳اُمیدوار تھے۔ حسنی مبارک کا آخری وزیراعظم اور ۱۰سال تک اس کا وزیر ہوا بازی رہنے والا لیفٹیننٹ جنرل احمد شفیق وہ اکلوتا اُمیدوار تھا جس پر انتخابی مہم کے دوران ملک کے اکثر اضلاع میں عملاً جوتوں کی بارش ہوئی۔حتیٰ کہ وہ جب اپنا ووٹ ڈالنے آئے تو اپنے آبائی پولنگ سٹیشن کے باہر بھی ’ پُرجوش ‘جوتا باری کا سامنا کرنا پڑا۔ اُمیدواروں میں اگرچہ طویل عرصے تک حسنی مبارک کا وزیر خارجہ اور پھر عرب لیگ کا سیکریٹری جنرل رہنے والا عمروموسیٰ بھی تھا۔ ایک سابق انٹیلی جنس چیف حسام خیر اللہ بھی تھا۔ ناصری ذہن کا سرخیل حمدِین صبَّاحی اور بائیں بازو کے کئی دیگر اُمیدوار بھی تھے، لیکن ۱۳اُمیدواروں میں سب سے زیادہ عوامی نفرت کا سامنا جنرل شفیق ہی کو کرنا پڑا۔ اس سب کچھ کے باوجود جب پہلے مرحلے کے نتائج آئے تو جنرل صاحب سب سے زیادہ ووٹ لینے والوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ دوسرے مرحلے میں مقابلہ ان کے اور پہلے نمبر پر آنے والے اخوان کے اُمیدوار ڈاکٹر محمدمُرسی کے مابین ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں ۵۰فی صد ووٹ حاصل کرنے کی شرط بھی نہیں ہے اور اگر فلول کا لیبل سجائے جنرل صاحب، ایک ووٹ بھی زیادہ لے گئے تو وہ مصر کے آیندہ صدر ہوں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شفیق کا دوسرے نمبر پر آجانا، جہاں سب کے لیے باعث حیرت تھا وہیں مصر کے ازلی دشمن ’اسرائیل‘ کے لیے یہ اُمید کی اہم نوید تھی۔ اسرائیلی ذمہ داران حسنی مبارک کے دور کو اسرائیل کے لیے ’اہم ترین اسٹرے ٹیجک خزانہ‘ قرار دیتے ہیں۔ احمد شفیق کا نام دوسرے مرحلے میں آگیا تو اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ اور حالیہ نائب وزیراعظم نے بیان دیا کہ ’’اسرائیل کے اہم ترین اسٹرے ٹیجک خزانے کی واپسی کی اُمیدیں جوان ہوگئی ہیں‘‘۔ سابق ملٹری انٹیلی جنس چیف عاموس یادلین گویا ہوئے: ’’ سقوطِ مبارک کے بعد اسرائیل کے گردو نواح میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آسکتی تھی کہ ترکی یا ایران جیسی کسی علاقائی طاقت کے ساتھ مل کر مصر کوئی اسرائیل دشمن بلاک نہ تشکیل دے دے۔ احمد شفیق کی جیت کی صورت میں ایسا ہر امکا ن ختم کیا جاسکتاہے ‘‘ - اعلیٰ تعلیم کے اسرائیلی وزیر گدعون ساعر نے کہا: ’’مبارک نظام کے اہم رکن جنرل شفیق کی جیت سے عالمِ عرب کی اجتماعی سوچ پر بہت اہم اثرات مرتب ہوں گے۔اس جیت سے ان عرب حکومتوں کے خلاف عوامی انقلاب کی خواہش دم توڑ جائے گی کہ جن کا باقی رہنا ہمارے اسٹرے ٹیجک مفادات کا ضامن ہے‘‘- سابق وزیر دفاع بنیامین الیعازر جو حسنی مبارک کے قریبی احباب میں شمار ہوتا تھا نے تبصرہ کیا: ’’شفیق کی جیت کا مطلب ہے کہ مصر اسرائیل کے ساتھ اپنا گیس سپلائی کا معاہدہ منسوخ نہیں کرے گا۔ امریکا جنرل شفیق کو بآسانی قائل کرلے گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اشتراک عمل جاری رکھے‘‘۔ اسرائیلی وزیر خارجہ لیبرمین کا تبصرہ تھا ’’مبارک کے بغیر مصر ہمارے لیے کسی ایٹمی خطرے سے بھی بڑا خطرہ تھا۔ ہمیں اس صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے کم از کم چار بریگیڈ فوج مصری سرحدوں پر کھڑی کرنا پڑے گی۔ اب یہ خطرہ ٹلنے کی اُمید ہے‘‘۔واضح رہے کہ اسرائیلی دفاعی تجزیہ نگاروں نے انقلاب مصر کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوجی اخراجات میں ۳۰؍ ارب ڈالر اضافے کا اندازہ لگایا ہے، جس سے ملک بڑے اقتصادی بحران سے دوچار ہو جائے گا۔
لبنان سے شائع ہونے والے مؤقر ہفت روزہ الأمان نے اسرائیلی ذمہ داران کے درج بالا تبصروں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان بیانات میں ’’اسرائیلی قومی سلامتی کے تحقیقاتی ادارے کے رکن جنرل (ر) رون ٹیرا کا یہ فرمان بھی شامل ہے کہ ’’مبارک دور نے اسرائیل کو مثالی اسٹرے ٹیجک شراکت عطا کی۔ اس شراکت داری کی بنیاد پر ہم ۲۰۰۶ء میں لبنان پر اور ۲۰۰۸ء غزہ پر حملہ آور ہوسکے۔ اگر مصری انتخابات میں مبارک کے ساتھیوں کے بجاے کوئی،نیشنلسٹ، اسلامسٹ، حتیٰ کہ کوئی لبرل شخص بھی برسر اقتدار آگیا تو اس کا مطلب ہے کہ عرب ملکوں پر حملے کی اسرائیلی صلاحیت انتہائی کمزور ہوجائے گی‘‘۔
ان تمام بیانات اور تبصروں کے مطالعے کے بعد اب اندازہ لگائیے کہ جنرل شفیق کو کامیاب کروانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے گئے ہوں گے۔ غریب اور اَن پڑھ ووٹروں کے ووٹ خریدنے کے لیے اندرونی اور بیرونی خزانوں کے منہ کھل گئے۔ تمام سرکاری اور پرائیویٹ ٹی وی چینل اور اخبارات نے اخوان کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید ترین یلغار کردی۔ اخوان کی طرف سے یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ جنرل شفیق کے حق میں فوج، پولیس اور مختلف ایجنسیوں کے تقریباً ۱۵لاکھ ان افراد کے ووٹ بھی ڈلوائے گئے جنھیں ووٹ کا حق نہیں تھا۔
اخوان سے ان کی جیت چھیننے کے لیے جو دیگر ناپاک ، مہیب اور خطر ناک اقدامات اٹھائے گئے ان میں ایک سرفہرست اقدام یہ تھا کہ پولنگ سے صرف ڈیڑھ دن پہلے، یعنی ۱۴جون کی شام، چند ماہ پہلے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا گیا۔ گویا ہر سیاسی کارکن اور ووٹر کو پیغام دیا گیا کہ اخوان کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ہمیں جس آخری حد تک بھی جانا پڑا، ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ووٹ ضائع نہ کرو، اخوان کواقتدار میں آنے کی اجازت کسی صورت نہ ملے گی۔ اسی دوران میں ایک اہم اقدام یہ اٹھایا گیا کہ حسنی مبارک اور اس کے ساتھیوں کے خلاف گذشتہ تقریبا ڈیڑھ برس سے سنے جانے والے مقدمے کا فیصلہ اچانک ۲جون کو سنادیا گیا۔ ۳۰سال سے سیاہ و سفید کے مالک حکمران کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ اس مرحلے پر فیصلہ سنانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ حسنی مبارک کے خلاف پائی جانے والی گہری عوامی نفرت کو تسکین پہنچاتے ہوئے ،اسے فوجی کونسل اور اس کے نمایندہ سمجھے جانے والے صدارتی اُمیدوار کے حق میں ہموار کیا جائے۔
صرف قرآن کریم کا فرمان ہی ازلی و ابدی سچی حقیقت ہے کہ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ ط (الفاطر۳۵:۴۳ ) ’’حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘۔ یہ تمام حکومتی چالیں بھی چلنے والوں کی گردن کا پھندا بن گئیں۔ اگر ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابل جنرل شفیق کے بجاے کوئی بھی اور اُمیدوار ہوتا،تو عوام کی اتنی اکثریت کبھی اخوان کے اُمیدوار کے گرد اکٹھی نہ ہوپاتی۔ جنرل شفیق کو سامنے دیکھ کر ابوالفتوح جیسے مضبوط اُمیدوار کو بھی مجبوراً اور علانیہ طور پر ڈاکٹر مرسی کی حمایت کرنا پڑی اور بڑی تعداد میں حمدین صباحی کے ووٹرز بھی ان کے ساتھ آگئے۔ اگرچہ خود حمدین نے دوسرے مرحلے کا بائی کاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عملاً جنرل شفیق کو فائدہ پہنچایا۔ اس دوران ایک دل چسپ اشتہار سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اخوان کے اُمیدوار کی جہازی سائز تصویر تھی اور اس پر لکھا تھا:أنا مش اخوان، ہأدعم دکتور مرسی، ’’میں اخوانی نہیں لیکن میں ڈاکٹرمرسی کو ووٹ دوں گا‘‘۔ اسی طرح حسنی مبارک کو سزا دینے کا ’اعزاز‘ بھی عوام کی نظر میں عبوری حکومت کا جرم ٹھیرا۔ فیصلہ سنتے ہی وسیع و عریض کمرۂ عدالت میں بیٹھے سیکڑوں وکلا اور شہداء کے ورثا نے نعرہ لگایا: الشعب یرید تغییر القضاء، عوام عدلیہ کی تبدیلی چاہتی ہے۔ اور پھر ملک بھر میں دوبارہ مظاہرے شروع ہوگئے کہ سیکڑوں افراد کے قاتل حسنی مبارک کوبا سہولت عمر قیدنہیں، پھانسی دو۔
رہا اسمبلی توڑنے کا فیصلہ تو اگرچہ یہ ایک انتہائی گھناؤنا جرم تھا لیکن اس نے بھی عوام کو مایوس کرنے اور اخوان کا ساتھ چھوڑ دینے پر آمادہ کرنے کے بجاے انھیں اس بات پر یکسو کردیا کہ اگر عوامی فیصلے کی حفاظت کرنا ہے تو باقیات کو مسترد کرنا ہوگا۔ اسمبلی تحلیل کرنے کا پورا فیصلہ ہی مکمل طور پر بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔ قومی اسمبلی یعنی ’مجلس الشعب‘ کے انتخاب کے لیے ضابطہ کار، عسکری کونسل اور سیاسی پارٹیوں کی باہمی مشاورت اور اتفاق راے سے طے پایا تھا۔ اس متفق علیہ ضابطے کے مطابق ۴۹۸سیٹوں پر مشتمل ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ دو تہائی سیٹیں متناسب نمایندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے لیے رکھی گئیں اور ایک تہائی براہِ راست انفرادی اُمیدواروں کے لیے۔ ووٹنگ تین مرحلوں میں ہوئی، ہر مرحلے کے دو اَدوار تھے۔ اس طرح کاغذات نامزدگی داخل کروانے، انتخابی مہم چلانے اور ووٹنگ مکمل ہونے کا عمل کئی ماہ جاری رہا۔ پھر ارکان اسمبلی کی باقاعدہ حلف برداری ہوئی اور دستور سازی کا عمل شروع ہوگیا۔ لیکن اچانک دستوری عدالت میں ایک اعتراض داخل کیا گیا، کہ انفرادی نشستوں پر اُمیدواروں نے پارٹیوں کی طرف سے نہیں آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنا تھا۔ اور پھر پولنگ سے عین ڈیڑھ دن قبل،۳/۱ارکان کی رکنیت منسوخ کرتے ہوئے نومنتخب اسمبلی تحلیل کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر فاروق سلطان ہی دستوری عدالت کے سربراہ بھی ہیں۔ بالفرض اگر کچھ ارکان کا انتخاب واقعی خلاف ضابطہ تھا، تب بھی صرف ان ارکان کا انتخاب دوبارہ کروایا جاسکتا تھا۔ کروڑوں عوام کے ووٹ، اربوں روپے کے اخراجات اور پوری قوم کے کئی ماہ، یعنی کروڑوں گھنٹے صرف کرکے منتخب ہونے والی پہلی حقیقی اسمبلی تحلیل کرنے کا جواز بدنیتی کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ ساری بحث صرف قومی اسمبلی کے ایک تہائی ارکان کے بارے میں تھی، لیکن بات پوری پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی پھیلائی جاتی رہی حالانکہ ۲۷۰؍ارکان پر مشتمل، عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی مجلس شوریٰ (یعنی سینٹ) جوں کی توں موجود، بحال اور فعال ہے اور اس میں بھی اکثریت اخوان اور حزب النور ہی کی ہے۔
اخوان نے اس نازک موقع پر انتہائی صبر و حکمت کا ثبوت دیا۔ ’پارلیمنٹ‘ تحلیل کردینے کی خبر پوری قوم پر بجلی بن کر گری۔ ممکن تھا کہ لوگ فوری طور پر اس فیصلے کے خلاف میدان میں آجائیں۔ فوج انھیں کچلنے کے لیے قوت استعمال کرے اورپھر ان فسادات کی آڑ میں صدارتی انتخاب کا پورا عمل ہی لپیٹ دیا جائے۔ اخوان نے دستوری عدالت کا فیصلہ آنے کے چند گھنٹے بعد اپنے موقف کا اعلان کرتے ہوئے ایک اصولی اعلان کیا کہ اس وقت کسی دستوری شق میں کسی بھی فرد یا ادارے کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہماری ساری توجہ صدارتی انتخاب پر مرکوز رہنی چاہیے۔ لوگ میدان تحریر کی طرف ملین مارچ کرنے کے بجاے، پولنگ سٹیشنوں کی طرف لانگ مارچ کریں اور ووٹ کا حق استعمال کریں۔ پھر جیسے ہی ووٹنگ کا عمل تکمیل کو پہنچا اور پورے ملک کے پولنگ سٹیشنوں سے نتائج کی سرکاری دستاویزات جاری ہوگئیں، تو میدان التحریر سمیت ملک کے کونے کونے میں بڑے مظاہرے شروع ہوگئے کہ ہم اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔
گنتی کے پہلے روز ہی نتائج واضح ہوگئے تھے، متعدد بار جیل جانے والے ڈاکٹرمحمد مرسی تقریباً ۱۰لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے ایک کروڑ ۳۲لاکھ ۳۰ہزار ایک سو ۳۱ووٹ (۷۳ء۵۱)لے کر جیت گئے تھے۔ لیکن اچانک جنرل شفیق نے دعویٰ شروع کردیا کہ وہ ۵۲فی صد ووٹ لے کر جیتے ہیں اور اصل نتیجہ سرکاری نتیجہ ہو گا۔ سرکاری نتائج ۲۱جون کو آنا تھے، لیکن عین آخری لمحے چیف الیکشن کمشنرنے عذر پیش کیا کہ بہت بڑی تعداد میں ووٹوں پر اعتراضات سامنے آگئے ہیں،اور ان اعتراضات کی تحقیق کرنے کے لیے ہمیں مزید وقت چاہیے۔ ’’فلول‘‘ کے دعوے اور سرکاری نتائج میں تاخیر سے عوام پھر شکوک و شبہات کا شکار ہوگئے۔ الجزائر کے انتخابات یاد آنے لگے اور انقلاب کے ثمرات ضائع ہوتے دکھائی دینے لگے، تو عوام مزید جوش و جذبے سے میدان التحریر میں جمع ہونے لگے۔ ۱۸جون سے کئی شہروں میں دھرنے شروع ہوگئے۔ ۲۴جون کی شام تک نتائج کے انتظار نے، شرکا کی تعداد بلامبالغہ کئی ملین تک پہنچا دی۔
بالآخرڈاکٹر مرسی کی کامیابی کا اعلان ہوا،اور مصر ہی میں نہیں، پورے خطے میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔ میدان التحریر میں نعروں کے ساتھ ہی ساتھ شرکا نے عید کی تکبیرات شروع کردیں۔ اللّٰہ اکبر ۔۔اللّٰہ اکبر۔ لا الٰہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر..... ان کا کہنا تھا کہ یہ عید الدیمقراطیۃ ، ’’عید جمہوریت ہے‘‘۔خوشی کے ان تمام جذبات سے اہم بات یہ ہے کہ ان شرکا نے اپنا یہ دھرنا تب تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے کہ جب تک نومنتخب اسمبلی بحال کرنے اور فوجی کونسل کے بلاحدود اختیارات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے اسی ہنگامے میں، فوجی عبوری کونسل کے سربراہ فیلڈمارشل محمد حسین طنطاوی نے ایک ’ضمنی دستوری اعلان‘ جاری کرتے ہوئے صدر مملکت کے اکثر اختیارات یا تو خود حاصل کرلیے ہیں یا انھیں فوجی مرضی سے مشروط کر دیا ہے۔اس اعلان کے مطابق فوجی عبوری کونسل کو اسمبلی کی عدم موجودگی میں مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔کونسل کو ہرطرح کے احتساب سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ اسے فوجی افسروں کے تقرر و ترقی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔اسمبلی کی منتخب کردہ دستور ساز کمیٹی کے بجاے نئی کمیٹی مقرر کرنے اور اس کی سفارشات آجانے کے ۱۵روز کے اندر اندر ان پر عوامی ریفرنڈم کرواتے ہوئے ملک کا نیادستور بنا دینے کے لیے روڈمیپ دے دیا گیا ہے۔بندوق کے زور پر بننے والے عبوری کونسل کے سربراہ کو براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے صدر مملکت کے برابر حقوق و اختیاردیتے ہوئے،کسی بھی دستوری شق پر اعتراض کرنے اور اسے واپس پارلیمنٹ بھجوانے کا حق دے دیا گیا ہے ۔ اور پارلیمنٹ کے اصرار کرنے کی صورت میں اس شق کو دستوری عدالت کو بھجوانے کا حکم جاری کیا گیاہے۔
اس وقت میدانوں میں بیٹھے لاکھوں عوام اس دستوری اعلان کی منسوخی اور اسمبلی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اگر فوجی کونسل ملک کو پھر سے تباہی کے گڑھے میں پھینک دینے پر مصر نہ ہوئی، تو اسے بالآخر عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ عوام کے لیے قوت واعتماد کا اصل سہارا رب ذوالجلال کی ذات ہے۔ا سی ذات نے ڈاکٹر مرسی کو جیل کی کوٹھڑی سے نکال کر ایوانِ صدر میں پہنچادیا ہے۔نومنتخب صدر نے کامیابی کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے خلیفہ منتخب ہونے کے موقع پر کہے جانے والے یہ الفاظ متعدد بار دہرائے: ’’لوگو مجھے تمھارا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں ۔ لوگو! میں اللہ کی اطاعت کروں تو تم میری بات مانو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو ہرگز میری اطاعت نہ کرو‘‘ ۔انھوں نے قومی اوربین الاقوامی امور پر دوٹوک موقف واضح کرتے ہوئے کہا :’’ میں کسی ایک فرد یا گروہ کا نہیں پوری مصری قوم کا نمایندہ ہوں، تم سب میرے لیے برابر ہو۔میرے حامی ،میرے مخالف،مسلم ،مسیحی، سب میرے لیے یکساں ہیں۔
ڈاکٹر مرسی کی پوری تحریک کا شعار تھا: النہضۃ ارادۃ الشعب، نہضت عوام کا فیصلہ ہے۔ ساتھ ہی لکھا تھا: مصر کی تعمیرو ترقی،اسلامی تعلیمات کے مطابق ۔واضح رہے کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں اور عالمی یونی ورسٹیوں سے انجینیرنگ میں ڈاکٹریٹ بھی کی ہوئی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: ’’ ہم سب سے برابری اور انصاف کی بنیاد پر باہمی تعلقات مستحکم کریں گے۔ قومی مفادات کی روشنی میں بین الاقوامی معاہدوں کی پاس داری کریں گے۔ پھر دوٹوک انداز میں کہا: ’’ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ، لیکن کسی کو بھی اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے ‘‘۔ انھوں نے اپنی تقریر کااختتام کرتے ہوئے کہا:’’ میرے عزیز ہم وطنو! میں تمھارے معاملے میں اور اپنے وطن کے معاملے میں اللہ رب العزت سے کبھی خیانت نہیں کروں گا‘‘۔تقریر ختم ہونے کے چند منٹ بعد صدر محمد مرسی کے بیٹے عبد اللہ محمد مرسی نے فیس بُک پر پیغام لکھتے ہوئے کہا : ’’ بابا! یقیناًہم صرف اللہ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت کریں گے، اللہ کی نافرمانی ہوئی تو آپ کی نہیں اپنے رب کی اطاعت کریں گے‘‘۔
جب بیٹا بھی باپ اور صدر مملکت کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت سے مشروط کر دے، توپھر رب ذوالجلال کی رحمتیں اورنصرت بھی یقیناًشامل حال ہوتی ہیں ۔ وہی تو ہے جو اقتدار دیتا اورچھینتا ہے ، عزت دیتا یا ذلت کے گڑھوں میں پھینک دیتا ہے ( قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ اٰلِ عمران۳:۲۶)

صبر و تحمل ۔ قوموں کے لءے کامیابی کی کلید


Monday, 9 July 2012

منشیا ت کاخا تمہ اصلا ح کے نشتر میں چھپا رازشفاکا

منشیا ت کاخا تمہ
اصلا ح کے نشتر میں چھپا رازشفاکا

سورۃ مائدہ میں اﷲ فرماتا ہے :شراب ، جوا،بُت اور پانسے کے تیر سب ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔خمرشراب کے معنی میں آیا ہے ۔خمر کا لغوی معنی ڈھانپنا ہے ۔اسی سے خِمار بمعنی اوڑھنی مراد ہے۔ اوڑھنی یعنی دوپٹہ جس سے چہرہ وغیرہ ڈھانپا جاسکے ،شراب کو خمر اِس لئے کہتے ہیں کہ یہ عقل و حواس پر پردہ ڈال کر اُسے زائل کر دیتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے حرام ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا جس مشروب سے عقل میں فتور آئے وہ خمر (شراب) ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر)

 حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ خمر سے مُراد ہر وہ چیز ہے جو عقل  میں فتور پیدا کرے ۔غور کیا جائے تو ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرے اور عقل کو بہکا دے تو علما ئے کرام کے مطا بق وہ خمر کے زمرے میں آجاتی ہے۔ اَدویات میں Codeine Phosphateچھاتی کے مرض کی اہم دوائی ہے، اسی طرح بے خوابی اور ڈِپریشن سے دو چار مریضوں کو ڈاکٹر صاحبانChlonazepam, Alprozolanm وغیرہ کی دوائیا لینے کی صلاح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان کی صلاح پر یہ دوائیاں استعمال کی جائیں تو یہ اِن کا جائز اِستعمال ہے لیکن یہی دوائیاں اگر ڈاکٹر صاحبان کی صلاح کے بغیر اتنی مقدار میں استعمال کی جائیں جو حد نشہ کو پہنچا ئے کہ آدمی اپنی عقل اور ہوش کو کھو بیٹھے تو پھر ان دوائیوں کی اتنی مقدار خمر (شراب) کے زمرے میں آجاتی ہے جس کی حرمت کا حکم اوپر کی آیت میں آیا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلعم نے فرمایا ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘(مسلم کتاب الاشربہ) لہٰذا جو چیز نشہ کے حد کو پہنچے یا نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے۔ غرض اسلام نے ہر قسم کی شراب نو شی اور نشہ آور چیزیں حرام قرار دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام نے شراب اور نشہ آور چیزوں مثلاً ڈرگس،افیون،چرس ‘ شراب، فِکی ‘ ہیروئن، برائون شوگر وغیرہ یہ سب شراب اور نشہ آور چیزوں کے قبیل سے تعلق کی بنا پر قطعاً حرام ہیں۔اسلام نے نہ صرف نشہ آور چیزوں کا استعمالبلکہ ان کا کاروبار بھی ممنوع قرار دیا ہے۔لوگ ان نشیلی اَدویات کا غلط استعمال کیوں کرتے ہیں؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں جو داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی۔ میرے خیال میں سماج کے اکثر لوگ ان وجوہات سے وا قف ہیں۔ یہاں ان وجوہات کا ذکر چھیڑنا موضوع کے طول کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ لوگ غیر شعوری طور پر اپنے گوناگوں مشکلات سے نجات پانے کیلئے نشیلی ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن انہیں کیا پتہ کہ مشکلات سے نجات پانے کے بجائے وہ اپنے آپ کو مزید مشکلات  کے جا ل میں اس طرح پھنسا رہے ہیں کہ پھراُن کے لئے ان سے نجات پانا محال بن جا تا ہے۔ نشیلی ادویات جیسی خطرناک جانی دشمن سے چھٹکارا پانا بھی ان لوگوں کیلئے سب سے بڑا چلینج بن جاتا ہے۔ اس چلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ایسے افراد کو سماج کے ہر فرد کا بہرحال تعاون ضرور چاہیئے۔ کچھ لوگ اپنی تھکان اور بے چینی دور کرنے کیلئے غیر شعوری طور پر نشیلی ادویات کا سہارا لیتے ہیں لیکن انہیں کیا پتہ کہ اِس سے نہ صرف ان کی زندگی اجیرن بن سکتی ہے بلکہ ان سے جُڑے بہت سارے لوگوں کی زندگی بھی اجیرن بن سکتی ہے۔ سماج میں منشیات کاکاروباراپنے عروج پر ہو تو ایسی قوم ترقی کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہ قوم مُردہ قوم کہلاتی ہے کیو نکہ اس میں بھلے اور برے میں تمیز کرنے کی اہلیت سلب ہوتی ہے۔ہما رے یہا ںایسی اخلا قی برائیوں میں لَت پت ہونے کا اہم سبب یہی ہے کہ آج کا مسلمان اِسلام سے کوسوں دور ہے۔آج بھی اگر اِنسان اسلام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں لائے تو ایک صالح  معاشرہ وجود میں لانے کی ضمانت برابر مو جود ہے۔

جب ہم حضرت محمد ؐکی نبوت سے قبل کے حالات کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو طرح طرح کی بُرائیوں کو عرب میں دیکھتے ہیں جو انسانی اقدار کے بالکل منافی تھیں۔ عرب سماج میں ہر سُو اخلاقی پستی کا مظاہرہ ہورہا تھا۔ یہاں تک کہ بیٹی کو  زندہ در گورکیا کرتا تھا۔ آپسی دشمنی، بغض، حسد، کینہ، شرارت، تعصُّب، لالچ، حرص،  ہَوس، تکبّر، ریا، جوا بازی، شراب، بے راہ روی، بے حیائی، فضول خرچی، خدا بیزاری، مادہ پرستی، زَر پرستی، زَن پرستی، بُت پرستی،جھوٹ ، عیاشی وفحا شی، خود غرضی، نا انصافی، مفاد پرستی، نسلی امتیاز جیسی اخلاق سوز اور انسانیت سوز برائیاں اور بیماریاں عام تھیں۔ ٹھیک یہی بُرائیاں اور بیماریاں آج کے ہمارے سماج میں بھی پائی جاتی ہیں۔ عرب کے اُس بگڑ ے سماج میں جہاں تقریباً گھر گھر میں شراب پینا روز مرّہ کا معمول تھا اور جہاں معاشرہ اور شراب کی حیثیت چولی دامن کا ساتھ رکھتی تھی ، اُسی سماج میں اچانک یہ ساری بُرائیاں کیسے ختم ہوگئیں؟ جواب یہی ہے کہ اس وقت کے عرب سماج نے اسلام کی آواز پر لبیک کہہ کر اِسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی جگہ دی۔ خدا بیزاری کو چھوڑ کر انہوں نے اﷲ کے ساتھ تعلق جوڑا اور دن بہ دن اﷲ کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا۔ نتیجتاً ان کے اندر اسلام کا اسپرٹ پیدا ہوا۔ یہی وہ اسپرٹ ہے جس نے ان کو ان ساری بُرائیوںاور بیما ریو ں سے نجات دلائی۔ جو شخص کل تک شراب کا زبردست عادی تھا،اپنی زندگی میں اِسلام لانے کے بعد وہی شخص شراب کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس کو ہر قسم کی بُرائی سے نفرت پیدا ہوگئی۔ جس دِن بلکہ جس گھڑی شراب کی حُرمت کا حُکم نازل ہوا اور مئومنوں کو شراب سے دور رہنے کی تلقین کی گئی، تاریخ گواہ ہے کہ ٹھیک اُسی وقت جس کے پاس جتنی شراب موجود تھی ساری کی ساری مدینے کی گلی کوچوں میں بہا دی گئی، جو شخص ممانعت ِنشہ تک پانی کی طرح شراب  میں غرق رہتا تھا یہ حُکم سُنتے ہی وہ اس سے بالکل الگ ہوا جیسا کہ وہ شراب کا عادی ہی نہ تھا۔ اب اگر ہم اپنے سماج میں پھیلی مختلف بُرائیوں پر نظر دوڑائیں تو بالکل وہی برُائیاں اور خرابیاں ہمارے سماج میں بھی پائی جاتی ہیں جو عرب کے جاہلی دَور میں پائی جارہی تھیں۔ البتہ بعض لو گ ہما رے سماج میں آ ج بھی مو جو د ہیں جو ہر طرح کی بر ی عادتو ں اور بد کا ریو ں سے پا ک و مطہر ہیں، لیکن سما ج کا زیا دہ تر حصہ ان بیما ریو ں میں برُ ی طر ح  پھنسا ہو ا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں اور نہ ہی اجتماعی زندگی میں جگہ دی ہے جبکہ اسلام انسانی زندگی کے ہر گوشہ میں ہمیں بدرجہ اَتم رہنمائی کرتا ہے۔ ہم نے وہ رہنما اصول ترک کئے جن کی تعلیم ہمیں حضورؐ نے دی ہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کو بھول گئے جس پر چلنے کی ترغیب ہمیں قرآن دیتا ہے۔

 یہا ںمجھے مصر کے ایک مشہور مفتی محمد عبدہ صاحب کی یہ بات یاد آتی ہے کہ جب وہ۱۹۲۰ء میں یورپین ممالک تشریف لے گئے تو واپس آنے کے بعدانہوںنے    مصرمیں ایک پریس کانفرنس میں فرمایا کہ میں نے یورپین ممالک میں مسلمان تو نہیں دیکھا لیکن میں نے وہاں اسلام دیکھا، جبکہ میں اپنے ملک میں مسلمان ہی مسلمان دیکھتا ہوں لیکن یہاں مجھے اسلام دِکھائی نہیں دیتا ہے۔ مِصر کے مفتی محمد عبدہ کی اس بات پر غور کیا جائے تو یہی حال ہمارے سماج کا ہے ،ہم ما شاء اللہ مسلمان تو ہیں لیکن اسلام کو ہم نے اپنی زندگی میںپوری جگہ نہیں دی۔ بہر صورت سماجی برا ئیو ں اور نشیلی ادویات کی لعنت اور دیگر بُرائیوں اور خرابیوں سے نجات چاہیے تو پھر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس پُر آشوب دور میں ہم مسلکی منافرت سے با لا تر ہو کراسلام کو اپنی زندگی میں عملا ً جگہ دیں۔ اجتماعی سطح پر سماجی بُرائیوں کا ڈٹ کے مقابلہ کریں اور بصدقِ دِل قرآن و سُنّت کو اپنی زندگی کا معیار تسلیم کر لیں۔ حضور ؐ کے اُسوۃ حسنہ کے مطابق اپنی ساری زندگی گزاریں۔ جب ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک صالح معاشرہ کی صورت میں وجود میں آئے گا،جس میں ا منشیا ت سے لے کر رشوت تک پھیلی ہو ئی ساری بُرائیوں کا تصور بھی انسانوں کے اَذہان سے مَحو ہوگا۔
 Drug abuse & Illicit Traffickingکا دِن  1988ء سے ہر سال 26جون کو عالمی سطح پر نشیلی ادویات کے نا جائز استعمال اور منشیاتی کاروبار کے خلاف  عالمی دِن  کے طورمنایا جارہا ہے۔ اس دن ہر جگہ سیمناروںاور منشیا ت مخا لف ریلیو ں کا انعقاد کیا جاتاہے تاکہ لوگوں کو ان بُرائیوں کے خطر ناک اور مہلک نتائج سے متعلق آگاہی ہو۔ ان سیمناروں کی کامیابی کا دارومداران کے مثبت نتائج نکلنے پر موقوف ہے۔ اور ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا زمینی سطح پر ہر سال نشہ بازوں کا گراف کم ہوتا جارہا ہے یا زیادہ ؟ یہ ہمارے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اصل میں نشیلی اَدویات کا استعمال اور منشیاتی کاروبار کے خلاف ہماری یہ مہم سال میں صِرف ایک دن تک محدود نہ رہنی چاہیئے بلکہ یہ مہم سال کے ہر دن جاری و ساری رہنی چاہیئے ،جبھی یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ نَشہ بازوں کا  بڑھتا گراف کم ہوتا چلا جائے ۔نشہ باز مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں تاکہ وہ مزید نشہ آور چیزیں حاصل کر سکیں۔اِس طرح کے خطر ناک اور بھیانک جرائم کا ارتکاب جب کسی سوسائٹی میں ہورہے ہوں تو وہ غیر محفوظ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ایسا سوچنا عبث ہے کہ کوئی فرد اِس قسم کی سوسائٹی میں ان کے مُضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ ایسی سوسائٹی ساری کی ساری غیر محفوظ ہے کیونکہ نشیلی ادویات کے ناجائز یا غلط استعمال اور منشیاتی کاروبار جیسی سماجی بُرائیاں اور ان کی وجہ سے سماج کے اندر وجود میں آنے والے بھیانک اور خطر ناک جرائم کے مُضر اثرات سے اِس سماج کے کسی فرد کا محفوظ رہنا نا ممکن ہے۔ اس سماج کا کوئی بھی فر دکسی نہ کسی طرح ان سے ضرور متاثر ہوکر رہے گا۔ لہٰذا ضرورت اِس بات کی ہے کہ انفرادی طور پر سماج کا ہر فرد ہر دن اپنے افرادخانہ کے حالات سے بے حسی اور غفلت برتنے کے بجائے مطلع رہے کہ کہیں اس کے افراد خانہ میں سے کسی سماجی بُرائی میں ملوث تو نہیں ہوا ہے تاکہ ابتداء پر ہی اِس کا تدارک کیا جائے ۔ اجتماعی طور پر بھی ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ محلہ سطح پر، حلقہ سطح پر، تحصیل سطح پر اور ضلع سطح پر بھی صالح تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل منشیا ت مخالف غیر سیا سی اصلاحی کمیٹیاں تشکیل دی جائیںجو عام لوگوں میں سماجی بُرائیوں اور اِن کے مُضر اثرات سے متعلق جانکاری فراہم کر سکیں۔ سماج کے اندر سب سے بڑی ذمہ داری علمائے کرام، مشائخ عظام، ائمہ حضرات، خطبائ، مقررین اور سماجی کارکنا ن کی ہے۔ اگر چہ ان میں سے چند ایک سماجی برائیوں کی نشاندہی اور اُس کے مُضر اثرات سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن ا ن میں سے اکثر حضرات خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں گویا ان کے نزدیک یہ کوئی سنگین نوعیت کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ڈرگ ڈیپارٹمنٹ اور پولیس محکمہ پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ منشیاتی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف موثر تا دیبی کاروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ ان سماجی بُرائیوں سے بچنے کا اصل ،مستقل اور دائمی علاج اسلامی زندگی میں ہی مضمر ہے ورنہ دنیا بھر میں سیمناروں کا انعقاد ہونے کے باوجود نشہ بازوں کا گراف اور منشیاتی کاروبار دن بہ دن نہ بڑھتا جارہا ہے۔ 

courtesy: Kashmiruzma