Search This Blog

Thursday, 19 July 2012

استقبالِ صیام کا اہتمام Istaqbale Siyam

استقبالِ صیام کا اہتمام
ہم سرا پا منتظر ہو ں تو سہی

 رمضان المبارک کا عظیم اور بابرکت مہینہ بس چند ہی دنوں میں ہم پر سا یہ فگن ہونے والاہے۔ یہ بابرکت مہینہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے امت مسلمہ کے لیے نہ صرف  ایک عظیم تحفہ ہے بلکہ اللہ تعالی سے قرب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ بھی ۔ یہ وہی مہینہ ہے جس میں انسانیت کو ہدایتِ ابدی قرآن جیسے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ رمضان کی آمد نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ پوری دنیا کے ہر فرد کے لیے عالمی پیمانہ پر خیرو برکت کی خبر ہے۔ یہ مہینہ تقویٰ ، پرہیزگاری، ہمدردی،غمگساری، محبت و الفت، خیرخواہی اور خدمت خلق کے علاوہ راہ خدا میں استقامت ، جذبۂ حمیت اور ملی اتحاد کو فروغ دینے کا مہینہ ہے۔  یہ مہینہ نسلی، مسلکی اور گروہ وہی منافرت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کے اندر ہمیں وہی صفات پیدا کرنے کی تیاری کرنا ہوگی جن کی جانب اللہ تعالیٰ ہمیں اس برکت والے مہینہ کی وساطت سے متوجہ کرنا چاہتاہے ۔ ہم سب مسلمان اس سے واقف ہیں کہ اسی ماہ کے اندر قرآن کا نزول ہوا، روزے فرض کئے گئے، جنگ بدر پیش آئی، شبِ قدر کی عظیم رات اسی ماہ مبا رک کے اندر رکھی گئی اور فتح مکہ بھی اسی میں ہوا۔ 
احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اس ماہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر حصہ کو ایک مخصوص اہمیت و فضلیت سے نوازا گیا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ماہ میں زکواۃ، صدقات، انفاق اور فطرانہ کا اہتمام بھی کیا گیا اور اس ماہ میں عبادات کا اجروثواب ستر گنا تک بڑھایا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے  کہ اگر اس میں ہرثواب کو دوہرا اور ستر گنا کا اضافہ کیا گیا تو اس کا استقبال بھی اسی شان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ قبل اس کے کہ رمضان ہمارے اوپر سا یہ ٔ رحمت وعنا یت دراز کرے ،ہمیں چاہیے کہ قبل از وقت اپنے ظاہر و باطن کو اس کے لئے تیار کرلیں تاکہ اس ماہ مقدس س کی برکتوں اور عنایتوںسے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوسکیں۔ غا لباً یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین بھی اس پر عمل پیرا تھے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلعم  ہر شعبان کے آخر میں خطبہ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے:’’ اے لوگو تم پر ایک عظیم و بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے۔ اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے کو اللہ نے فرض قراردیا ہے اور اس کی راتوں  میں خدا کی بارگاہ میں کھڑا ہونے کو نفل قرار دیاہے۔ جو شخص اس مہینے میں کوئی نیک کام اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے کے سوا دوسرے مہینے میںکسی نے فرض ادا کیا ہو اور جو اس مہینہ میں فرض ادا کرے گا وہ ایسا ہوگا جیسا اس مہینے میں کسی نے ستر فرض ادا کیے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ ہمدردی  و غمخواری کا مہینہ ہے اور وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتاہے۔ جس کسی نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور (جہنم کی) آگ سے آزادی کا سبب ہوگا اور اسے اس روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔،،
آپ صلعم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ؐ ہم میں ہر ایک کو سامان میسر نہیں ہوتا جس سے وہ روزہ دار کو افطار کراسکے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا : ’’اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطار فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا کھجور پر یا پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کو افطار کرادے اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے اللہ اسے میرے حوض سے ایسے سیراب کرے گا کہ اس کو پیاس ہی نہیں لگے گی ،یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے اور جو شخص اس مہینہ میں اپنے مملوک (غلام یا خادم) کے کام میں تخفیف کردے گااللہ اس کی مغفرت فرمادے گا  اور اسے دوزخ کی آگ سے آزادی دے گا،،
یہ حدیث استقبال رمضان کے سلسلے میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ان تمام باتوں کا تذکرہ موجود ہے جس پر انسانیت کی فطری اور صالح صلاحیتوں اور قوتوں کو ابھرنے اور نشو نما پانے کے بنیادی اصول موجود ہیں۔ اس مقدس عبادت کے ذریعہ ہم اپنی روح اور اخلاق و کردار کو بہترین طریقے تربیت دے سکتے ہیں کیونکہ روزہ کا بنیادی اور اصلی مقصد ہی روح کی طہارت اور اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے ۔ ایک انسان جب تک اپنے نفس کو قابو میں نہیں کرسکتا وہ کوئی اونچا کام انجام دینے میں بہتر طور کامیاب نہیں ہوسکتا اور نہ اس کے اندر تقویٰ کی وہ کیفیت پیدا ہوسکتی جس کا مطالبہ قرآن و حدیث میں کیا کیا گیا ہے۔ خواہشات نفسا نی سے مغلوب انسان کو نہ خدا کی عظمت کا احساس ہوتاہے اور نہ وہ زندگی کی اعلی حقیقتوں کو محسوس کرپاتاہے۔ بہیمانہ خصوصیات کا غلبہ اسے یہ موقع ہی فراہم نہیں ہونے دیتے کہ وہ اپنی فطری ضرورتوں کے تقاضوں کی طرف توجہ دے سکے۔ روزہ انسان کو خدا کی طرف اور زندگی کی ان اعلی اقدار و حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے جو حیات انسانی کا اصل سرمایہ ہیں۔ وہ ایک انسان کے اندر وہ اوصاف پیدا کرتاہے جن کے ذریعہ وہ اپنے خالق و مالک کا قرب حاصل کرنے میں آسانی سے کامیاب ہوتاہے۔ اسی لئے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ کتنے ہی لوگ روزہ  سے نہیں ہوتے اس کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ صائم ہوتے ہیں اور کتنے ہی لوگ روز رکھتے ہوئے بھی درحقیقت روزہ دار نہیں ہوتے ،،روزہ جس نیک عملی کا نام ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی خواہشات پر قابوہو اور اسے تقویٰ کی زندگی حاصل ہو۔ بسا اوقات ایسا ہوتاہے کہ آدمی بظاہر توروزے سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا روزہ نہیں ہوتا کیو نکہ ظا ہری و با طنی طورنہ اس کی کی نگاہیں عفیف ہوتی ہیں اور نہ اس کی زندگی اور خدا ترسی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ روزے کو عربی میں صوم کہتے ہیں۔ امام راغب ؒاس کی تشریح کرتے فرماتے ہیں کہ ’’صوم،، کے اصل معنی کسی کام سے رُک جانے کے ہیں، خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو یا بات چیت کرتے اور چلنے پھرنے سے ہو۔ اسی وجہ سے گھوڑا چلنے پھرنے یا چارہ کھانے سے رُک جائے تو اسے صائم کہتے ہیں۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتاہے کہ درحقیقت کسی چیز سے رُک جانے کی کیفیت کا نام صوم ہے۔ روزہ حقیقت میں اسی شخص کا ہے جو روزے کی حالت میں تو کھانے پینے اور جنسی خواہش کو پورا کرنے سے بازرہے لیکن گناہوں کے ارتکاب اور ناپسندیدہ طرز عمل کو ہمیشہ کے لئے  ترک کردے۔ روزہ کی حالت میں انسان فرشتوں جیسی صفات سے آراستہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ان ضرورتوں سے بے  نیاز ہواکرتے ہیں۔ ان کی غذا صرف اللہ کی تعالیٰ کی تسبیح و مناجات ہی ہوا کرتی ہے۔ روزہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ پرانی شریعتوں میں بھی موجود تھی اور قرآن پاک کی آیات ِبینات سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ رمضان مبارک کے ایام میں اجتماعی حیثیت سے روزہ رکھنے سے  نیکی اور روحانیت کو پروان چڑھانے کا ایک موثر موقع فراہم ہوتاہے۔ کم ہمت اور کمزور و ناتوان افراد کے لیے بھی نیکی کی راہ اختیار کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ غرض روزہ سے اگرحقیقتاً کوئی فائدہ اٹھانا چاسے تو وہ  بغیر کسی محنت و مشقت کے یہ فائدہ نہیںاٹھا سکتاہے اور اس کے شب و روز کبھی بھی بے خوفی اور بے پروائی کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتابلکہ احساس ذمہ دار ی کے ساتھ لبریز ہو کر وہ خدا پرستی ، انسان دوستی اور آخرت پر ستی روزہ دار افراد کو معاشر ے کے لئے مفید ، عالم انسانیت کے لئے خیر خواہ اور تمام اقوام و ملتو ں کے لئے انسا نی اصولوں کی بنیادپر استوار کر تا ہے۔ روزہ دار انہی بلند مقا صد کے حصو ل کی را ہ تکتے ہو ئے رجب وشعبان سے ہی رمضان کی آ مد آ مد کے لئے سراپا انتظار ہو تا ہے ۔ استقبا ل رمضان کر نے والا خو ش نصیب کبھی بھی خود فراموشی اور خدافراموشی کی سیا ہیو ں میں ڈوب کر نہ رہے گا بلکہ ہمیشہ  نہ صرف اپنے مقصد زندگی کو پیش نظر رکھے گا بلکہ سوسائٹی اور معاشرے کی صالح تعمیر و ترقی کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہے گا۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم شعور و جذ با ت کے ساتھ رمضان کا والہا نہ استقبال کر یں اور اس کے تقاضو ں کا اپنی اپنی زند گیو ں میںاہتمام بھی کریں۔
gfalahi@gmail.com

آمدِ صیام مرحبا Amade Siyam Marhaba

آمدِ صیام مرحبا
بڑے ظالم کو مارا نفسِ امارہ کو گرمارا

نفس کے سرکش ،بے لگام اور ڈھیٹ گھوڑے کو لگام دینے کے لئے گر دشِ دوران کو ٹال کر ایک بار پھر ماہِ صیام جلوہ گر ہو رہا ہے۔دُنیا کے ہر گوشے میں ایمان و اسلام کے متوالے اِس عرصۂ رحمت کی آمد کے لئے گیارہ ماہ چشم براہ رہے۔ صیام المبارک بند گا نِ خدا کو پھر سے اللہ کے ساتھ ٹوٹا رشتہ جو ڑ نے اور پھر جوڑ کر اسے اطاعت شعارزندگی کا مرکز ومحور بنا نے کا الٰہی دستو رالعمل ہے ۔ لفظ صیام ،صوم سے نکلا ہے اور اس کے لغوی معنیٰ کسی شئے سے رُکنا یا ترک کرنا ہے۔علماء نے لکھا ہے کہ اہل عرب اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو بھوک پیاس کا عادی بنانے کے لئے باقاعدہ ان کی تربیت کرتے تاکہ مشکل اوقات میں وہ زیادہ سختی برداشت کرنے کے قابل بن جائیں۔اس طرح وہ اپنے گھوڑوں کو تندہواؤں سے نبرو آزماہونے کی تربیت بھی ایسے ہی کر دیتے ۔یہ عمل سفر اور جنگ میں بڑا کا م دیتا جب کسی بھی فرد بشر کوہوا کے تندو تیزتھپیڑوں کے ساتھ سابقہ پیش آئے۔ یہ اسے ثابت قدم رہنے اور اپنا کا م احسن طور انجام دینے کا اہل بناتا تھا ۔فاقہ اور پیاس کے عمل سے گذر نے والے اس گھوڑے کو فرس الصائم کہا جاتا تھا اور اصطلاح شرعی میں صوم یا روزہ اُس شرعی عمل کو کہتے ہیں کہ انسان طلوع فجر سے غروب آفتاب تک اپنے کو کھانے پینے اور زن و شو کے مشاغل سے روکے رہے ۔اس طرح روزہ دار کو جہاں ان اعما ل کا پا بند بنایا گیا ہے، وہیں اسے غیبت ،فحش گوئی،بدزبانی اور تمام گناہوں سے باز رہنے کی تاکید وتلقین بھی ہے۔
 روزہ جسم و بدن کی بیماریوں کا زود اثر علاج ہی نہیںبلکہ ان سے ساری امت میں اولوالعز می ،ثبات قدمی اور ضبطِ نفس کی روح تازہ ہوتی ہے۔ وحدت ِامت کے لئے لازم تھاکہ یہ حُکم ایک ساتھ ایک معینہ مدت کے لئے ساری اُمت کو دیا جاتا ۔علم الا جتماع کے مبصر ین جانتے ہیں کہ وحدتِ امت ، تنظیم ملت اور ایک مثالی ڈسپلن کے پُر و قار اظہار کے لئے سب ایک ساتھ اجتما عیت کی روح کے ساتھ اس روحانی فعل اورعمل میں شامل ہوں، یہ بھی روزو ں کا ایک منشا ء ہے ۔ مغرب کے بعض مادہ پر ستوں کا یہ اعتراض کہ روزہ کے عمل سے انسان کی صلاحیتِ کا ر اور اس کے عزم و ہمت میں کمی واقع ہوتی ہے اور معاشرہ اس کا متحمل نہیں ،وہ یہ بات جان کر چلیں کہ انسان نرے تن و توش کا نام نہیں بلکہ اصل جوہر اس کی روح ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنے بدن کو فربہ ،چُست،توانا اور صحت مندرکھنے کے لئے انسان ساری عمر لذیذ و مرغن غذاؤں اور مقوی ما کولات و مشروبات کا اہتمام کرتا رہتا ہے اور بسا اوقات پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لئے حرام و حلال کی تمیز کے بغیر شب و روز بر سر جدو جہد رہتا ہے تو کیا روح کی طاقت و توانائی ، تازگی اور شادابی کے لئے کسی غذا،کسی علاج اور کسی دوا کی ضرورت نہیں؟اور اگر جواب یہ جانتے ہوئے اثبات میں ہے کہ انسان کے اندر روح کا جو ہر ارضی نہیں بلکہ آسمانی ہے تو اس کی غذائیں یہ ماد لحم نہیں بلکہ اپنے خالق سے یہ روح جتنی قریب تر ہو اتنا ہی نشو ؤنما پائے گی۔روح کو تویہ چاہیے کہ دن بدن لطافت کی جانب محو ِپر واز ہوا ور وصل و وصال کا وہ سرور ازلی حاصل کرسکے جس کا نام شریعت کی اصطلاح میں جنت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب یہ تن و توش کے سفلی جذبات و میلانات سے آزاد ہو اور جب تک یہ روح سفلی پابندیوں کی اسیر رہے گی ،فطری بلند پروازیاں اس کے نصیب میں نہیں آپائیں گی جو اس کی ا صل مطلوب و مقصود اور غا یت ومرادہیں۔
روزہ دراصل انسان کے اندر بے مثال قوت ارادی پیدا کردیتاہے ، شہوات و منکرات کے بادِسموم کا کوئی جھونکا اور شروانتشار کی کوئی قوی تر طاقت بھی اپنے مقام سے اُسے ذرابر ا بر ہلانے میں کامیاب نہیں ہوتی ۔وہ خواہشات کے ’’بادشاہ‘‘کے سامنے غلام بے دام بن کے جی حضوری کے کام میں نہیں لگارہتا ہے۔یہی عمل اس کے اندر ـصبر و تقویٰ کے اعلیٰ ترین صفات پیدا کردیتا ہے کہ خود خدائے قدوس کا ارشاد ہے کہ’’روزہ میرے لئے اور میں خود اس کا اجردوں گا‘‘ہاںیہ وعدہ آفتاب ذرے سے نہیں،شاہ گداسے نہیں بلکہ معبود عبد سے ، خالق مخلوق سے کر رہا ہے۔بقول ایک عظیم اسلامی مفکر کے کہ ’’زمینوں اور آسمانوں کی ساری باشاہتیں ساری برکتیں مل کر کیا اس اجر کے سامنے پیش کی جاسکتی ہیں؟کیسی درد ناک نادانی ہوگی کہ اتنے ارزاں سودے کو بھی اپنی غفلت و بُرائی کی نذر کردیا جائے‘‘۔حق بات تو یہ ہے کہ انسان اپنے تن و توش کی توانائی کے لئے جس قدر سامان کرے گا ،اس کی روحانی صفات اتنے ہی مضمحل اور کمزور ہوتی جائیں گی ۔فاقہ مستی اور بھوک کا روحانی ارتقا ء میں ایک خاص مقام ہے۔حضرت جنید بغدادی کا مشہور قول ہے :مجھے جو بھی سکھ چین ملا سب بھوک اور گرسنگی سے ملا۔ایک اور عالی مرتبت بزرگ کا قول ہے کہ منزل حق کی جتنی راہیں کھلتی ہیں سب بھوک اور پیاس کے راستے سے ہی گذرتی ہیں۔
حدیث نبویؐ کے الفاظ میں اس مقدس ماہ کو شہر صبر سے موسوم کیا گیا ہے اور صبر کا خاص مفہوم ردعمل کا اظہار کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود ردعمل کے اظہار سے باز رہنا ہے۔یہ بہت صبر آزما کام ہے اور اس کی شدت وہی جانیں جو اس عمل سے گذریں ۔ مثا لا ًیوں سمجھئے کہ بلا تشبیہ روزہ ایک سپیڈ بریکر ہے کہ جب ہم جذبات سفلی کی گاڑی میں سوار ہوں تو اس کی رفتار کو توڑ دیتا ہے،اس لئے اسلام نے اس عمل کو جہنم سے ڈھال قرار دیا ہے۔ہاں بات صبر کی چلی ہے تو یہ کیا کہ لذیذ و مرغن غذائیں آنکھوں کے سامنے ہیں،منہ میں بھی پانی بھر آتا ہے، کوئی دیکھنے بھالنے والا بھی نہیں لیکن بڑے تو بڑے چھوٹے بچے بھی ہاتھ انہیں لگانے سے کتراتے ہیں؟یہ کیا کہ پیاس کی شدت کا یہ عالم کہ زبان ہونٹوں پہ آتی ہے پُر لطف مشروبات سامنے پڑے ہیں  ،کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں لیکن ہاتھ اُس طرف جاتا ہی نہیں۔یہ کیا کہ ہر سو عیش و تنعم اور جسن و جمال کی دلفریبیاں ہیں لیکن اس جانب آنکھ اُٹھانا تو در کنار واپسی اُلٹے پاؤں شروع ہوتی ہے؟ حا لا نکہ کوئی پہرے دور اور چوکیدار بھی نہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ قلب و ذہن میںیہ خیال رچا بسا ہے کہ خدا دیکھ رہا ہے اور پس خدا دیکھ رہا ہے کا تصو ر ہی تقویٰ یعنی پر ہیز گاری کہلاتا ہے اور یہی روزو ں کی روح ہے ۔
یادر ہے نعو ذ با للہ جنت کوئی ہمارا بنایا ہوا پارک یا تفریح گاہ نہیں کہ زندگی ساری بے قید گذاردی ،اب تھوڑا بہت نذرو نیاز د ے کر اس کا ٹکٹ حاصل کیا جائے۔ سود خواری اور حرام خوری وطیرہ رہا ،نمازوں سے غفلت تو رہی ہی رہی ، اُلٹے مخلص نمازیوں اور متقیوں کے کردار میں کیڑے نکالنے میں مصروف رہے ۔ حتیٰ کہ روزہ کی پُر بہار فصل اپنی جو بن پر ہو تویا تو بیمار ی کا سوانگ رچائیں یاروز ہ داروں کی کردار کشی، ان کی خامیوں کو صرف اس لئے گننا کرشروع کریں کہ اپنے گناہ عظیم پر پردہ پڑا رہے ۔ـ ’ ہوشیا ر اور چا لاک‘  ـبننے کا یہ نفاق زدہ عمل ہے اور کچھ نہیں ۔یادر کھئے کہ اگر کوئی مسجد کی نماز باجماعت میں شامل نہ ہونے کے لئے یہ عذر پیش کردیتا ہے کہ میں اپنی نماز کی نمائش نہیں چاہتا تو سنئے یہ بھی نفاق کا روگ ہے۔اگر کوئی فریضۂ حج سے یہ کہہ کر دامن جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ بھئی مجھے ’حاجی‘کہلانے کا کوئی شوق نہیں ،گھر میں بیٹھے بیٹھے بھی تو’حج‘کرنے کے بے شمار مواقع ہیں،نیکیوں کیاور بھی بہت سارے میدان کھلے ہیں زکو ٰ ۃ کیو ں دیں؟خبردار !یہ سب نفاق کی موذی بیما ریا ںہیں۔ جی ہاں! فرائض کو ٹالنا اور ان سے جی چرانے کے عمل کے لئے احکام کی نت نئی تاویلیں کرنا صریحاً نفاق و گنا ہ گا ری کے زمرے میں آتی ہیں۔فرائض تو فرائض ہیں اس ذمہ داری سے برأت کا کوئی راستہ نہیں اور  اللہ کیے مقر ر کردہ فرا ئض سے دنیا کاکوئی عالم و فاضل، فلسفی ومدبر یا پیرو فقیر ان سے سندِ آزادی دینے کا اختیار نہیں رکھتا ۔اور صوم تو ’’صوم‘‘ہے بس یہ فاقہ مستی کا نام نہیںبلکہ حدو دقیود کے حصار میں رہنے کا جلی عنوان ہے اور اگر آنکھ،زبان و دل بے لگام رہے تو حدیث نبوی ؐ کے مطا بق ’’پھر بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں‘‘۔اصل میں صوم کی اس مشن سے خدا اپنے بندوں کو جوڑ کران کے اندر ون وبیر وں کی تزئین و آرائش کرنا چاہتا ہے۔ان کے دل میں رحم دلی ،شفقت وانسانیت نوازی اور صبر کے بوئے بیجوں کی سینچائی کا عمل تو روزہ سے ہی با آ ورکرنا چاہتا ہے۔ ان کے دلوں سے حرص،خود غرضی،اناپرستی ،نفاق،ریا،بے شرمی اور ظلم و جبر کے صفات رزیلہ کو نکال کر دلوں کی تطہیر اورروحوں کا تزکیہ کرنا چاہتا ہے۔
روزہ …یہ کتنا مقدس اور پاکیزہ عمل ہے کہ چودہ سو برس گذر نے کے بعد بھی مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی خشکی و تری میں یہ روحانی حیا تِ نو کا خدائی مشن آب و تاب کے ساتھ جاری وساری ہے۔اس  خدائی مشن کی سختیاں اور قواعد و ضوابط کی شدت کے ہوتے ہوئے بھی اس کے عامل اس کی پابندی کیسے ہنسی خوشی کرتے ہیں، اس پرمَلک و فلک بھی رشک کرتے ہوںگے۔اس  حکم خدا وندی سے متاثر ہوکر سر ولیم میور جیسا متعصب شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ’’روزہ کی سختیاں بد ستور قائم ہیں خواہ وہ کسی موسم میں بھی پڑیں اور آج تک مشرق کے میدانوں میں چلچلاتی دھوپ اور جھلساتی ہوئی بادسموم میں گرمیوں کے لمبے لمبے دنوں میں محمد صلعم کے پیر و کار صبح سے شام تک پانی کا ایک قطرہ حلق کے نیچے نہیں اُتار تے ۔اتنی سخت ریاضت قوت ایمانی اور ضبط نفس کا پورا امتحان ہے۔(لائف آف محمد۔۱۹۳)
واقعی یہ مہینہ رحمت و مغفرت کا مہینہ بھی ہے ۔علماء و واعظین بے شک خدا کے بندوں کو اس کی دہلیز پر لا کر اُن کے اندر گناہوں پر ندامت کے جذبات پیدا کرکے انہیںرُلادیں کہ رونا بھی دل کے امراض کا علاج اور گناہوں کی مغفرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن ساتھ ہی اُنہیں ماہ صیام و قیام کے تقاضوں سے بھی آشنا کریں ۔حقوق اللہ و حقوق العباد سے آگاہ کریں اور ان کے ذہن و دل میں یہ بات اُتاریں کہ اگر روزہ کے عمل سے گذر تے ہوئے ایک دوسرے کو پچھاڑ نے،خوردنوش کی چیزوں میں ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی، کذب بیانی،بہتان تراشی ،منافقانہ طرز عمل ،حق سے دوری اور باطل سے قربت ،چوک چوراہوں اور خلوتوں جلوتوں میں شرم و حیا کی دھجیاں بکھیرنے، شراب و شباب کی محافل کا انعقاد یا ان میں شرکت،گل و بلبل کے ترانے گانے اور حسن و عشق کی داستانیں سننے سنانے،ناچ رنگ کی محفلوں کی زینت بننے ،سود لینے یا دینے،حق تلفیاں کرنے ،رشوت کی گرم بازاری،مسیحائی کا دم بھر تے ہوئے مریضوں کو لوٹنے ،والدین کو دھتکار نے اور صرف دوستوں اور بیویوں کی ناز برداری کرنے،اقرباء کو چھوڑ کر دور کے لوگوں پر چند پیسے خرچ کر کے ناموری کی کاوشیں کرنے ،ہمسایوں اور معذوروں کے حقوق پامال کرنے، بیو پا ر میں اما نت دیا نت کے اسلا می اصولوں کو تر ک کر نے اور ہمچو قسم کی دیگر برائیوں سے باز نہیں رہے تو کو نسا روزہ اور کہاں کی تراویح ؟؟؟خدا نخواستہ ایسا نہ ہوکہ خدا کے خوف سے لرزاں لوگ عید کی خوشیوں میں شامل ہوں اور ان لوگوں کے حصے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ آئے نہیں اور وہ جو اس صبر آزما کا م کی اصل غایت یعنی ’’لعلکم تتقون‘‘ہے ، ظا ہر ی طور بہت محنت کرنے کے بعد بھی  اللہ نہ کر ے حاصل نہ ہو۔ اے اللہ ہم سب کو حقیقی روز ہ دار بننے کی تو فیق دے۔ آ مین
یادر کھئے دین کے دائر ے میں پورے کے پورے داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔(بقرہ)اس کے ہر حکم کی اطلاعت پر جزا کی خوشخبری اور انکار پر سزا کی وعید ہے ۔ دین کے کسی بھی چھو ٹے بڑ ے معا ملے میں نفس کی حکمرانی یا من چا ہی مرضی نہیں چلتی۔دین کی من مانی تاویلیں کا م نہیں آتی ہیں۔ہر حکم خداویبدی کی اطا عت اور  اس کے منع کردہ اعما ل سے شعوری طور سے پر ہیز،یہی روح دین ہے۔ اس سلسلے میں اللہ کو حاکم مطلق مان کر اس کی اطا عت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتبا ع کو زند گی کے ہر شعبے میں اپنا اوڑ ھنا بچھو نا بنا نا ہی اس روح دین کا ثمرہ ہے ۔ دعا ہے کہ آ نے والا رمضا ن المبارک ہم سب کے لئے دنیا وآ خرت کی سرخررو ئی کا ساما ن بنے    ؎
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
حاصل کلام یہ کہ بڑے مقصد کے حصول کے لئے بڑی قربانیاں ہی دینا پڑتی ہیں۔جنت خالی آرزووں سے حاصل نہیں ہوتی ۔اس کے ارد گرد خار دار جھاڑیاں ہیں اور اعمال حسنہ کی بنیاد پر ہی انہیں ہٹایا جاسکتا ہے۔سارے سال فاحشات و منکرات کے سمندر میں ڈوبے رہے اور رمضان میں مساجد کی اگلی صفوں میں آکر اپنے آپ کو نمایاں کرتے ہوئے ائمہ کرام کو منٹوں ساعتوں کا پانبد بنے رہنے کا درس دینے سے جنت حاصل نہیں ہوتی ،یہ تب ہی ممکن ہے جب بدیوں اور شرکی قوتوں کے خلاف اس عرصۂ جنگ میں اپنے روح و دل کو مطہر کرنے میں کامیاب ہوں ۔ایسا ہوگا تو احادیث نبوی کی روشنی میں پھر روزہ دار جنت کے خاص درواز ے باب الریان سے داخل ہوگا۔روزہ اس کی شفاعت کرے گا۔ اس لئے لازم ہے کہ خود کو روزہ کے حصار میں قید کرے اور نفس کے سرکش گھوڑے کو زیر کرنے کے خدائی ہدایات پر عمل پیرا ہو تو پھر نفس لوامہ نفس مطمئنہ کا روپ دھارن کرے گا۔درست بات ہے   ؎
نہنگ و اژدھا و شیر نر مارا تو کیا ما را
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گرما را

courtesy: Kashmir Uzma Srinagar

برما…امت کا تصوراورگہراہوگیا Burma - Ummat ka Tasawwur

برما…امت کا تصوراورگہراہوگیا

مظفر اعجاز 
- دنیابھرمیں اگرکسی کے لیے کوئی قانون نہیں ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ بلکہ یوں کہاجائے کہ کسی کے خلاف سب متفق ہیں تو وہ مسلمان ہیں۔ برماکے صدر تھین سین نے کہاہے کہ اراکانی مسلمان برما کے شہری نہیں ملک چھوڑدیں۔ مسلمان مہاجر بستیوں میں پناہ لے کر ہی بچ سکتے ہیں۔ یہ سوال تو الگ اٹھا رکھیں کہ برمی صدرنے مسلمانوں کے بارے میں جو کہاہے وہ درست ہے کہ نہیں لیکن اس سے پہلے ذرابرما کے بارے میں کچھ معلومات تازہ کرلی جائیں تو بہترہوگا۔ شاید برمی صدر اس تاریخی حقیقت سے واقف نہیں ہوں گے۔(بلکہ ہوں گے) کہ برما میں 1055عیسوی میں برمی بادشاہت کے قیام سے پہلے بھی 9 ویں صدی میں مسلمان برمامیں موجود تھے۔ لہذا اس حقیقت سے توکوئی انکارنہیں کرسکتا کہ برمی بادشاہت سے قبل برما میں مسلمان آباد تھے۔ برما میں مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ تاریخی بنیادوں پر حل کیاجائے تو شاید بہت سے برمی حکمران مسلمانوں کے مقابلہ میں برماکی شہریت سے ہی خارج ہوجائیں ۔ خود برمی حکومت کی مردم شماری کے مطابق برمامیں 5 فیصد مسلمان ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے اورامریکی محکمہ خارجہ نے 2006ء میں اس مردم شماری کے نتائج کو غلط قراردیا تھا اور کہا تھا کہ برمامیں غیربودھوں کی تعداد 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی مسلمانوں کا بھی دعویٰ ہے کہ برمامیں ہماری آبادی 20 فیصدکے قریب ہے۔ بس سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ برمی صدریہ کہنے والے کون ہیں کہ مسلمانوںکو صرف پناہ گزین کیمپوں میں پناہ مل سکتی ہے۔ اوربرمامیں ان کی حفاظت کے ہم ذمہ دار نہیں۔ اقوام متحدہ کامندوب یہ سن کر خاموش کیوں رہا ‘اس نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی‘ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور انسانی حقوق کے قوانین کے تحت بھی کسی بھی ملک کی سرزمین پربسے ہوئے لوگوں کی زندگی جان ومال کا تحفظ اس حکومت کی ذمہ داری ہے ‘اگرچہ وہ اس ملک کے شہری نہ ہوں۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے اگر برما کی فوجی حکومت کے 1974ء کے قانون کو تسلیم کرلیاہے کہ برمی روہنگیا مسلمان برماکے شہری نہیں ہیں تو پھرسوال پیدا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ نے برماکی سابق فوجی حکومتوں کے کون کون سے قوانین کو تسلیم کیاہے۔ کوئی امریکی برما میں مقیم ہو اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو اس پر جو وہ حملہ آورہوں تو کیا برمی حکومت یہی کہے گی کہ چونکہ یہ برما کے شہری نہیں اس لیے ان کی جان کا تحفظ ہمارے ذمہ نہیں ہے۔ ظاہری بات ہے برمی حکومت اور امرکی حکمرانوں کی نوراکشتی کے باوجود یہ نہیں کہاجاسکتا۔ برمامیں مسلمانوں پر مظالم کا تعلق نہ تو فوجی حکمرانوں کے قانون سے ہے اورنہ روہنگیا اور ارکان مسلمانوں کے علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش سے ہے۔ کہا یہ جاتاہے کہ مسلمان اراکان ریاست علیحدہ بناناچاہتے تھے اس لیے ان کے خلاف برمی بودھ مشتعل ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو 17 ویں صدی میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں ہواتھا۔ جب شاہجہاں کا بیٹا شاہ شجاع اورنگزیب سے شکست کھاکر برما فرارہواتھا۔ عدم تشدد کے پرچارک بودھ بادشاہ نے اس مفرورکی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر اس سے پناہ کے عوض اس کی دولت اور بیٹی مانگ لی تھی۔ انکارپر اس بودھ بادشاہ نے ’’عدم تشدد‘‘ کے فلسفے پرعمل کرتے ہوئے شاہ شجاع کے تمام ساتھیوں کا قتل عام کرادیا۔ یہ 17 ویں صدی کا قتل عام آخری نہیں تھا اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہتاہے۔ اور برمامیں جسے بودھ ریاست قراردیاجاتاہے عدم تشدد کا فلسفہ سرچڑھ کر بول رہاہے اور تازہ وارداتوں میں بھی عدم تشدد کے پرچارکونے 2 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہیدکردیا ہے اور 90 ہزار سے زائدبنگلہ دیش فرارہوچکے ہیں۔ اراکان برمی مشرقی بنگال سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان ہیں انہیں روہنگیا کہا جاتا ہے جہاں تک علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش کے الزام کا تعلق ہے تو اس کی تاریخی حیثیت بھی یہی ہے کہ جس علاقے اراکان پرمشتمل علیحدہ مسلم ریاست بنانے کی کوشش کا الزام ہے یہ 1784ء میں آزاد ریاست تھی۔ اور اس علاقے میںمسلمانوں کی اکثریت تھی۔ پھرایک آزاد ریاست کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنا جرم کیسے ہوگیا۔ یہ توتاریخی طورپر اس خطے کے رہنے والوں کا حق ہے۔ لیکن جدید دنیا کے انسانی حقوق کے چیمپئنوں کے نزدیک مسلمانوں کے لیے یہ جرم ہے انڈونیشیا میں مشرقی تیموراورسوڈان کے جنوب میں عیسائی ریاست بنانا وہاں رہنے والوں کا حق ہے۔                 کا اپنی ریاست کے لیے ووٹ دینا آپس کا معاملہ ہے اور فلسطین پریہودیوں کا قبضہ ان کا حق ہے۔ افغانستان سے روسیوں کے انخلا کے بعد اس جنگ میں حصہ لینے والے برمی مسلمانوں کی وطن واپسی پر بھی برمی فوجی حکمران خوفزدہ تھے چنانچہ انہوں نے حفاظت خود اختیاری کے تحت مسلمانوں کے خلاف پھرکریک ڈائون شروع کردیا۔ اصل بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ کہ جن لوگوں کا تعلق امت سے ہے۔ ان کو کہیں پنپنے نہ دو۔ چونکہ علامہ اقبال کے خطبہ آلہ آباد والی مسلم لیگ کی کانفرنس میں برمی مسلمان شریک ہوئے اوربرمی مسلم کانگریس قائم کی تھی۔ یہ امت کا ہی تصورتھا۔ اب برماکے مسلمانوں کے خلاف لایعنی الزامات کی بنیادپر جو مہم جاری ہے وہ صرف امت مسلمہ کا حصہ ہونے کی بناپر ہے۔ برماکے مسلمانوں کے خلاف اس قدرننگی جارحیت کے باوجود اقوام متحدہ او آئی سی اوردیگر اداروں کی محض رسمی کارروائی امت مسلمہ ہی کو دعوت دیتی ہے کہ وہ آگے بڑھے اور امت کے اس گرانقدرحصے کی مدد کے لیے نکل پڑے۔

Tuesday, 17 July 2012

استقبال رمضان کے تقاضے ِISTAQBALE RAMZAN KW TAQAZE

استقبال رمضان کے تقاضے!

لیاقت بلوچ 
- سمجھدار کسان برسات کے موسم سے قبل ہی اپنے کھیتوں کی منڈیروں کو اونچا اور پختہ کرنا شروع کردیتا ہے، تاکہ برسات کا پانی زیادہ مقداراورزیادہ دیر تک کھیت میں کھڑا رہے اور خشک زمین رحمت خداوندی کے اس ٹھنڈے اور وافر پانی سے جی بھر کر اپنی پیاس بجھا لے تاکہ آئندہ فصل سرسبزو شاداب ہو اور اسے گرمی اور خشکی سے کوئی خطرہ نہ رہے،جو کسان برسات کے دوران بے کراں برسنے والی اس بارش سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتا سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھارہتا ہے اور فصل کی بوائی کے وقت محنت و مشقت سے کتراتا ہے تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے اس کسان کے حق میں اچھا نہیں ہوتا اور جس وقت سب کسان خوشی خوشی ڈھیروں اناج لے کر اپنے گھرلوٹتے ہیں تو اس بیچارے کی بے بسی اور حالت دیدنی ہوتی ہے۔رمضان المبارک بھی نیکیوں کا موسم بہار ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت پورے جوش میں ہوتی ہے ،اور اپنے اللہ کو خوش کرکے اس کی رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کو سمیٹ لینے کا یہ بہترین موقع ہوتا ہے جسے کوئی بھی سمجھدار ضائع کرنا اور کھونا نہیں چاہتا ،جس طرح فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا جس کی زندگی میں رمضان آیا اور اس نے اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش نہ کروالی، رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آغاز میں لوگوںکواس کی اہمیت و برکت سے آگاہ کرنے کے لیے خطبات ارشاد فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ اس ماہ مبارک کے خزانوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ہمیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے دوست و احباب،اعزہ واقارب اور عوام الناس کو رمضان کے استقبال اور اس سے بھرپور استفادے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک منادی کرنے والا آسمان دنیا پر آتا ہے اور منادی کرتا ہے کہ اے برائی اور اللہ کی نافرمانی کرنے والے اب تو شرم کراور اللہ کی نافرمانی اور برائی سے رک جا،اور اے نیکی اور اللہ کی فرمانبرداری کے راستے پر چلنے والے اور ذوق و شوق سے آگے بڑھ اور اللہ کی رحمتوں سے اپنی جھولی کو بھر لے! ماہ رمضان کو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شھر عظیم اور شھرمبارک قرار دیاہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ ماہ ِشعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ خطبہ ارشاد فرمایا :ـ’’اے لوگو!تم پر ایک عظمت اوربرکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے۔اس مہینے کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں۔ اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (نماز تراویح) کو نفل عبادت قرار دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت(سنت یا نفل)ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے ۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کرایاتو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گااور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گابغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔ آپؐ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہؐ ! ہم میں سے ہر ایک کے پاس تو افطار کرانے کا سامان مہیا نہیں ہوتا۔آپؐ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گاجو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا پانی کے ایک گھونٹ سے ہی کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرا دے۔ اور جو کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلائے گااللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض (کوثر)سے ایسا سیراب کرے گاجس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے،درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔جو آدمی اس مہینے میں اپنے خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کرے گااللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گااور اس کو دوزخ سے رہائی دے دے گا۔‘‘(البہیقی)۔اس عظیم مہینے کی برکتوں سے مکمل استفادے کے لیے ابھی سے اپنی کمر کس لینی چاہئے، اس کے لیے ہرصاحب ایمان کو اپنے طور پر بھر پور منصوبہ بندی کرنی چاہئے ،جس کے لیے درج ذیل چند اُمور سے بھی انفرادی و اجتماعی سطح پراستفادہ کیا جاسکتاہے۔ نیت و ارادہ: رمضان المبارک کے استقبال کے لیے سب سے پہلا کا م یہ ہے کہ ابھی سے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی خالص نیت اور پختہ ارادہ کر لینا چاہئے۔یہ وہ طاقت ہے جس کے بغیر کوئی راستہ طے نہیں ہو سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق نیت پر ہی تمام اعمال کا دارو مدارہے۔ ہم رمضان کے پیغام، اور اس کی عظمت و برکت کے احساس کو تازہ کر نے کیلئے ایسے کام کرنے کاعزم و ارادہ کریںکہ جن سے نہ صرف ہم خود بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بھی تقویٰ کے حصول میں ممد ومعاون بن سکیں،یہی روزے کا حاصل اورمطلوب ہے۔سب مسلمان جانتے ہیں کہ تقویٰ قلب و روح اور عمل و کردار کی اس قوت کا نام ہے ، جس سے غلط، بُرے اور نقصان دہ کاموں سے بچ کر استقامت کے ساتھ صحیح ،اچھے اور نفع بخش کام کرنے لگ جائیں ۔اچھے کاموں کی تفصیل جاننے کے لیے بہت مفید ہو گاکہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اس سے متعلقہ کتابوں اور پمفلٹس کے مطالعہ کاآغاز کردیاجائے۔

 نیت و ارادہ:۔ رمضان المبارک کے استقبال کے لیے سب سے پہلا کا م یہ ہے کہ ابھی سے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی خالص نیت اور پختہ ارادہ کر لینا چاہئے۔یہ وہ طاقت ہے جس کے بغیر کوئی راستہ طے نہیں ہو سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق نیت پر ہی تمام اعمال کا دارو مدارہے۔ ہم رمضان کے پیغام، اور اس کی عظمت و برکت کے احساس کو تازہ کر نے کیلئے ایسے کام کرنے کاعزم و ارادہ کریںکہ جن سے نہ صرف ہم خود بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بھی تقویٰ کے حصول میں ممد ومعاون بن سکیں،یہی روزے کا حاصل اورمطلوب ہے۔سب مسلمان جانتے ہیں کہ تقویٰ قلب و روح اور عمل و کردار کی اس قوت کا نام ہے ، جس سے غلط، بُرے اور نقصان دہ کاموں سے بچ کر استقامت کے ساتھ صحیح ،اچھے اور نفع بخش کام کرنے لگ جائیں ۔اچھے کاموں کی تفصیل جاننے کے لیے بہت مفید ہو گاکہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اس سے متعلقہ کتابوں اور پمفلٹس کے مطالعہ کاآغازکردیاجائے۔مولانا مودودیؒ کی کتب، کتاب الصوم،فضائل قرآن، خطبات اور اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر اور اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی سمیت دیگرزعمائے امت کی کتابوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن مجید سے گہری وابستگی : رمضان اور قرآن کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔قرآن مجید اسی ماہِ مبارک میں نازل کیا گیا ۔ نمازتراویح قرآن پرتوجہ مرکوز کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔نماز تراویح کی پابندی سے کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ روزہ داراس ماہ مبارک میں ایک بارپورا قرآن سن لیتے ہیں۔اس مہینے کا اصل حاصل ہی قرآن سننا اور پڑھنا، قرآن سیکھنااور اس پرعمل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ذریعے ہی لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا تھا۔ ہمیں بھی اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے اور وطن عزیز میں ایسی تبدیلی لانے کے لیے جو ملک وقوم کی حالت بدل دے قرآن کی راہنمائی میں آگے بڑھنا اور اس کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ دوران رمضان روزانہ قرآن کا کچھ حصہ ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہئے ۔یکم رمضان سے ہی اس ارادے کے ساتھ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا جائے کہ آئندہ رمضان تک پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی استعداد پیدا ہو جائے،یہ نہ ہو سکے تو بھی چار ،پانچ آیات روزانہ ترجمے کے ساتھ پڑھنا اپنا معمول بنا لینا چاہئے،ان شا ء اللہ ایک دن آئے گا کہ آپ بھی اللہ کے پیغام کو براہ راست سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے…اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ضرور شامل حال ہوگی۔جو لوگ اللہ کے راستے میں چلنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ ان کی ضرور رہنمائی کرتا ہے۔ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے، اور روزے کی وجہ سے لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔اس قلبی کیفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اگر محلہ کے چند اہل خیر مل کردس یاسہ روزہ فہم قرآن کلاس کا اہتمام کرلیں تو یہ قرآن فہمی اور قرآن سے قربت پیدا کرنے کیلئے بہترین ہوگا۔ سب روزہ داروں کو باجماعت تراویح کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ،کچھ لوگ افطاری کے بعد زیادہ سیر ہوکر کھالینے کی وجہ سے ہونے والی سستی اور طبیعت کے بوجھل پن کی وجہ سے گھر میں ہی تراویح پڑھ لینے میں سہولت سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اپنے اس رویے سے نہ صرف جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے حکم خداوندی (ورکعوامع الراکعین)کو پس پشت ڈال دیتے ہیں بلکہ تراویح میں قرآن کریم سننے کی سعادت سے بھی محروم رہتے ہیں ۔نماز تراویح قرآن کی دعوت کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔…اکثر مساجد میں نماز تراویح میں مکمل قرآن پاک سنایا اور سنا جاتاہے۔جس دن قرآن کا آخری پارہ تلاوت کیا جاتا ہے،اس دن ختم قرآن کی پُروقار اور ایمان افروز تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے اردگرد مساجد میں ہونے والی ایسی تقاریب میں شرکت کریںاورعوام الناس کو بھی ان میں شرکت کی دعوت دیں۔ برائیوں کا بہترین علاج: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ روزہ( گناہوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے،پس اس کو ڈھال بنائو۔روزہ دار بدکلامی کرے نہ چیخے چلائے، اگر کوئی اس کو براکہے یا اس سے لڑے تو یہ کہہ کر الگ ہو جائے کہ میں روزے سے ہوں،میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان برے کاموں میں مشغول ہوں۔‘‘ ہر مسلمان کو اپنی خامیوں کی ایک فہرست بنانا چاہئے اوراکٹھے نہیں تو ایک ایک کر کے ان سے بچنے کا اہتمام کرے۔…غیبت ، چغلی ، لعن طعن ،بدگمانی ، تکبر ، ظلم ، غصہ ،جھوٹ ،وعدہ خلافی ،بد نگاہی، حسد ،بغض وغیرہ…یہ سب اخلاقی برائیاں ہیں… اور ماہ رمضان ان برائیوں کا علاج کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے … اس موقع کو ضائع مت کیجیے۔ باجماعت نمازوں کااہتمام: اذان نماز کی صرف اطلاع نہیں ہے بلکہ دیگر کام چھوڑ کر مساجد کی طرف آنے کا حکم ہے (حیی علی الصلوٰۃ حیی علی الفلاح)… ہمیں بھی چاہئے کہ اذان کے بعد سب کام چھوڑ کر مسجد پہنچیں اور پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریںتاہم تکبیر تحریمہ کسی صورت فوت نہ ہونے پائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ’’ جس شخص کو یہ بات پسند ہوکہ وہ مطیع و فرمانبردار بندے کی حیثیت سے روزِ قیامت اللہ سے ملے،تو اس کو پانچوں نمازوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور انہیں مسجد میںجماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے…اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے جیسا کہ یہ منافق لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیںتو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑا تو صراط مستقیم کو گم کر بیٹھوگے۔‘‘حضور ﷺ نے اذان سن کر مسجد پہنچنے کی طاقت رکھنے کے باوجود گھر میں نماز پڑھنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے ۔ …گھر سے وضو کرکے آنامستحب ہے اور مسجد میں پہنچ کر تحیۃ المسجدکے دو نوافل ادا کرنا چاہئے۔باقاعدگی کے ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام کیا جائے۔آنحضرتؐنے فرمایا ہے کہ ’’جوشخص یہ نماز[تراویح] پڑھتا ہے اس کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔‘‘ …رات کے آخری تہائی حصے میں پڑھی جانے والی نمازتہجد بھی تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس کا بھی التزام کرنے کی کوشش کریں۔ رمضان المبارک میں تو اس کا اجر کئی گنازیادہ ہے۔

Monday, 16 July 2012

برما کے مسلمانوں کا قتل عام اوراُمت ِ مسلمہ کی خاموشی !

برما کے مسلمانوں کا قتل عام اوراُمت ِ مسلمہ کی خاموشی !



-ماہ ِ شعبان کی۲۲ تاریخ ۴۹۲ہجری کوجب عیسائی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے حیوانیت کی حد کرتے ہوئے شہر میں ایک مسلمان کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ حتیٰ کہ عورتوں ، ضیعف مردوںاور دودھ پیتے بچوں تک کو ذبح کردیا۔ بیت المقدس پر قبضے کے دوران عیسائیوں نے ظلم اور سفاکی کی وہ نظیرقائم کی کہ تفصیلات سُن کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ درد مندی کے، رحم کے جذبات کشت خون میں مخل نہیں ہوتے مارتے ہیں جوبے قصوروں کواُن کے سینوں میں دل نہیں ہوتے (انور شعور) یہ مسلمانوں کی نسل کشی کا وہ دور تھا ، جب دوسوسال تک مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا جاتا رہا۔ ہرطرف سے مسلمانوں پر حملے ، لوٹ مارجاری تھی، قتل وغارت کا وہ بازار گرم تھا کہ جس کی مثال تاریخ ِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ یہی حال آج اُمت مسلمہ کا ہے۔ سارے کا سارا کفر اکٹھا ، ایک دوسرے کا حمائیتی اور یکجاہو چُکا ہے۔ مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کا قتل ِ عام ہورہا ہے۔ لیکن بکھری ہوئی اُمت کے حکمران، راہنما، میڈیا کفر کے ہاتھوں اس قدربے بس اور مجبور ہوچکے ہیں کہ ہرطرف خاموشی اور بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ِ ہے کہ جوشخص کسی ناجائز امرکوہوتے ہوئے دیکھے اگر اس پر قدرت ہوکہ اس کو ہاتھ سے بند کردے تو اس کو بند کردے۔ اگراتنی قدرت نہیںزبان سے اس پر انکار کردے، اگر اتنی بھی قدرت نہ ہوتو دل سے اس کو بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا بہت ہی کم درجہ ہے۔ برما کے مسلمانوں پر جوقیامت برپا ہے اس دُکھ ، مصیبت کی گھڑی میں ترقی پسند اور نام نہاد امن پسند غیر مسلم طاقتوں کی اپنے ایجنڈے کی تکمیل پر خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن پوری دُنیا میں اسلامی ریاستوں کے سربراہوں سے لے کر مذہبی اورسیاسی راہنما تک اس انسانیت سوزواقع پر خاموش اورشرم ناک رویہ اختیارکئے ہوئے ہیں۔ برما میں ہزاروں عورتوں،بوڑھوں، بچوں کے قتل ِ عام سے دیہات کے دیہات لاشوں اور خون سے بھرے ہیں، ندی نالوں،سڑکوں، جنگلوں میں برما کے مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔اس درندگی میں مسلمانوں کے شہر، بستیاں اور دیہات جلا کر خاکستر اورصفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں۔اس ظلم اور بربریت کے خلاف مناسب طریقے سے احتجاج تودور کی بات ہے،مناسب الفاظ میں ان مظالم کی مذمت تک نہیں کی جارہی۔خاص کربے مقصد چیخنے چلانے اور بریکنگ نیوزکے لئے ہر وقت مضطرب ،بے چین آزاد میڈیا نے برماکے مسلمانوں کے ساتھ دل دہلا دینے والے مظام پر دانستہ ،مصلحتاً خاموشی اور بے حسی کی انتہا کردی ہے۔ آج تمام اقوام غیر آپس کے اختلافات بھلاکر اسلام کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور تمام غیرمسلم بھوکے بھیڑیوں کی طرح ہم مسلمانوں پر جھپٹ رہے ہیں۔غیر مسلم طاقتیںایک طرف تمام مسلم ممالک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہی ہیںتو دوسری جانب انہیں وسائل کواُمت مسلمہ کے چھوٹے اور معصوم بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل ِ عام کرنے سمیت اُمت مسلمہ کے درمیان مزید اختلافات اور پھوٹ ڈالنے کی حکمت عملی پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں۔ ہم ہیں کہ خود فریبی میںمبتلا ہوکر دُنیا وآخرت سے بے فکر ، جھوٹ ، مکروفریب اوردھوکا دہی میں لگے ہیں۔ آج دُنیا کی محبت اور چاہ نے ہمیں ایسے مواقع پراپنے اسلاف کا کردار، شاندار ماضی اور آخرت سب کچھ بھلادیا ہے۔ بقول حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ہر کوئی مست ہے ذوقِ تن ِ آسانی ہے ۔ تم مسلمان ہو ؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے ؟ حیدری ؓ فقر ہے نے دولت ِ عثمانی ؓ ہے تم کو اسلاف سے کیا نسبت ِ روحانی ہے؟ وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور تم خوار ہوئے تار ک ِ قرآن ہو کر حکامات الٰہی سے غفلت، لالچ اور حب ِ دنیا کی اسی روش نے ہمیں کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ غیرمسلم اسلام کی مخالفت میں سخت اور دلیر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بجائے ایک امت کے ذاتی اغراض کا شکار ہو کر مختلف فرقوںمیں بٹ گئے اور پورے عالم میں صرف مسلم ممالک ہی انتشار، بدامنی، خانہ جنگی اور غیر مسلموں کے عتاب کا شکار ہیں۔آج اُمت مسلمہ نے اپنے رب کی بجائے نیٹو،امریکا اور ڈالرپر بھروسہ کرلیا، اپنے رب کو بھلادیا اور رب نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ رجمہ-:اگر اللہ تمھاری مدد کرے گا تو تم پر کوئی غالب نہ ہوسکے گا اور اگر اس نے مدد چھوڑ دی تو پھر ایسا کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مددکر سکے اور مومنین کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (سورۃ آل ِ عمران 160) دنیائے اسلام کے تمام مسلمانوں کو جسم واحد سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کہ جیسے جسم کے کسی حصہ میں تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر دُنیاکے کسی حصہ میں کسی کومسلمان کوکو ئی تکلیف پہنچے تو ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے لیے بے چین ہوجانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ہرکوئی اپنی کردارکا بخوبی اندازہ لگا سکتاہے۔ ہم تو وہ بدنصیب قوم ہیں جن کے حکمران ، غیروں کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔ جو اپنے ہی ہمسائے اور بھائی کے مارے جانے میں ہرممکن مدد اور تعاون کر رہے ہیں۔ آج پوری اُمت مسلمہ میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی جیسانہیں،جو اللہ سے ڈرنے والا ، قانون ، انصاف کا پابند اورصاحب کردارہو جو مسلمانوں کا کھویا ہوا وقار دوبارہ واپس دلا سکے اورجوپوری دُنیامیں پھیلے مسلمانوںکی نمائندگی کرتے ہوئے ،برما سمیت دنیا بھرمیں ہزاروں بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل ِ عام کے خلاف آواز اُٹھا سکے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔کہ جو شخص ایسے وقت میںمسلمان کی مدد نہ کرے کہ اُس کی آبروریزی ہو رہی ہوتو اللہ جل شانہ،اس کی مدد سے ایسے وقت میں اعراض فرماتے ہیںجبکہ وہ مدد کا محتاج ہو۔ اے رب العزت ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمارے ملک  سمیت پُورے عالمِ اسلام میںامن و سکون عطاء فرما (آمین ثم آمین یارب العالمین)۔ nn

امانت اوردیانت Amanat aur Dayanat

امانت اوردیانت

سجاد حیدر 
-اللہ کے ایک بندے نے 1928ء میں ایک تنظیم کی بنیادرکھی۔ اس تنظیم کا مقصد واحدانسانوں کو انسانوں کی محکومیت سے نکال کر اللہ کی عبدیت میں لاناتھا۔ یہ وہ دور تھا جب عالم اسلام کے ساتھ ساتھ مصربھی برطانوی اوردیگر مغربی قوتوں کی محکومی تلے کراہ رہاتھا۔ حسن البناء شہیدنے انفرادی تربیت کو اجتماعی قوت میں ڈھال کر عالم اسلام کو پیغام عمل سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ مغربی استعماراوراس کے مقامی آلہ کاروں نے اس پیغام عمل کو دبانے کے لیے ظلم وشقاوت کی انتہاکردی۔ ایک جانب عالمی اور ریاستی قوتوں کاجبرتشدد اور دوسری جانب حسن البناء شہیدکے تربیت یافتہ اخوان کے صبروبرداشت نے جدوجہد کی ایک نئی مثال رقم کردی۔ لیکن یہ تحریک قوت ایمان کی جس شان سے ابھری تھی ‘ ریاستی جبروتشددنے اس کو مزاحمت کی بجائے مدافعت کی ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں اسلام کی اجتماعیت پھرانفرادی تربیت تک محدودہوکررہ گئی ۔ اس انفرادی تربیت تک ہی محدود ہونے کے باعث اخوان المسلمین ایک تحریک کے طورپراپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ یہی وجودبدکردار حکمران طبقے کے مقابل خدمت وایثار سے بھرپورمتبادل کرداربھی پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ اخوان المسلمین اسی کردارکے بل پر ریاستی جبروتشدد اور شیطانی ہتھکنڈوں اورتمام ترسرکاری شرائط کو قبول کرتے ہوئے انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہی۔ ایسے انتخابات جہاں اخوان المسلمین کے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے دیواروں پر سیڑھیاں لگاکرپولنگ اسٹیشنوںکے اندرکودنا پڑتا کہ ان کے ووٹوں کو صندوقچی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کے دروازوں پرفوج اورپولیس کے ناکے لگے ہوتے تھے‘ اس حدتک صبروبرداشت کی وجہ صرف اور صرف وہ ملکی اورعالمی حالات تھے جن کو ابدی حقیقت سمجھ کر ان سے سمجھوتا کرلیا گیاتھا۔ صرف اسی حدتک آگے بڑھنے اور کچھ حاصل کرنے کو ہی اپنی قربانیوں اور جدوجہدکا حاصل سمجھ لیاگیا تھا جس حدتک مصری حکومت آگے بڑھنے کی اجازت دینے کوتیار تھی۔ لیکن پھرتیونس میں بھڑک اٹھنے والی عوامی بغاوت کی آگ نے دیگرعرب ممالک کے ساتھ ساتھ مصرکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ التحریرمیدان میں عوام اورحسنی مبارک کی فوج کے درمیان معرکہ تاریخ رقم ہونے لگی۔ بالآخرہزاروں مصری مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے صلے میں تیس سال سے مسلط حسنی مبارک نام کی لعنت سے مصرکو نجات دلادی۔ جبکہ مصری عوام میں دوردورتک جڑیں رکھنے والی اخوان المسلمین نے حسنی مبارک کی یقینی رخصتی تک اس تحریک سے لاتعلقی کا رویہ اپنائے رکھا۔ عام مصریوں اوراخوان المسلمین کے کارکنوں اور حمایتیوںکے برعکس اخوان قیادت نے دہائیوں پر مبنی مصلحت آمیزپالیسی کے تحت خودکو اس تحریک کا حصہ بننے سے روکے رکھا۔ اس مصلحت آمیزپالیسی کے تحت ہی (فوجی حکمرانوں کے خوف اور خدشات کو دورکرنے کے لیے) اخوان نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں آدھی سے کم نشستوں پرالیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد صدارتی انتخابات کے حوالے سے اخوان المسلمین نے اپنا امیدوارکی یقینی کامیابی کا خوف ختم کرناتھا۔ اخوان قیادت کو خوف تھا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت اورصدارتی عہدے پر اخوان کی موجودگی کو روکنے کے لیے حکمران ٹولہ کسی بھی انتہاتک جاسکتاہے۔ بعد میں جب عوامی مزاحمت نے فوج کو پے درپے پسپاہونے پرمجبورکیا تو اس عوامی مزاحمت کے بھروسے اوراعتمادپر نہ صرف پارلیمنٹ کے انتخاب میں پورے جوش وخروش سے حصہ لیا گیا بلکہ ان انتخابات میں ریکارڈ کامیابی سے نموپانے والے جذبوں کے بل پر صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیاگیا۔ اخوان المسلمین کی قیادت کے تمام تراندیشوں اورمصلحتوں کے باوجود جس طرح مصری عوام نے اخوان امیدوارمحمدمرسی کو اپنے اعتمادسے نواز کر صدارتی عہدے پرفائزکیا ہے اس کے بعد اصولاً مصری عوام کی تحریک آزادی کو حتمی منزل تک پہنچ جاناچاہیے۔ ڈیڑھ سال سے زائد جاری تحریک آزادی میں ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے بعد ووٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی صدارت اب اخوان المسلمین کے پاس ایسی امانت ہے جس کو دیانت سے مصری عوام تک پہنچانے کی راہ میں کسی مصلحت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اخوان المسلمین نے جن خدشات اور مصلحتوں کی آڑ میں مصرکے صدارتی منصب پربیٹھنے کا سفرطے کیاہے ان مصلحتوں کی فہرست نہ صرف انتہائی طویل بلکہ انتہائی قریب کی بھی ہے۔ عین صدارتی انتخاب سے چند دن قبل اخوان کی اکثریت کی حامل پارلیمنٹ کو بیک جنبش قلم برخاست اورصدارتی اختیارات کو عوام کے منتخب صدرکی بجائے فوجی کونسل کو منتقل کردیاگیا۔ اخوان قیادت نے عوامی قوت کی ناقابل تردید مظہرہونے کے باوجود عوامی حق پر اس دن دہاڑے ڈاکے پراحتجاج کی بجائے مطالبات اوردرخواستوں کی راہ اپنائی۔ اخوان کے اس مصلحت آمیزرویوں کے بعد نظر تو یہی آتاہے کہ پارلیمانی اورصدارتی انتخابات میں بے پناہ عوامی حمایت کے باوجود اب ایک جانب امریکی‘ اسرائیلی‘ یورپی اوران کے کاسہ لیس عرب حکمرانوں کے مفادات کی نگران ومحافظ مصری فوج ہے اور دوسری جانب تنہاکسی بھی اختیارسے محروم نومنتخب صدر محمدمرسی ‘ تنہا اس لیے کہ جن مصری عوام نے قربانیوں کی بدولت اس تنہا فردکو دنیا بھرکی شیطانی قوتوں کے مقابل کھڑا کیاہے اس فرد اور اس کی جماعت کے شعور میں ابھی تک عوامی قوت کا وہ یقین واعتماد جاگزین نہیں ہوا جس عوامی قوت کے یقین نے 32 برس قبل مصرسے بھی بدترشکنجے میں جکڑے ہوئے ایران کو آزادی وخودمختاری کی راہ پرگامزن کردیاتھا۔ مصرکے صدارتی عہدے پرمحمدمرسی نامی سادہ رو اور سادہ مزاج فردکی موجودگی ایک ایسا ناقابل یقین واقعہ ہے جس کا پانچ دس سال تو کیا پانچ دس ماہ قبل تصوربھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔ یہ انہونی اپنے طورپرمصرتک محدودرہنے کی بجائے تمام ترعالم عرب اورعالم اسلام میں انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ضرورت ہے تو صرف اس یقین واعتماد کی جس کی ایک زندہ وتابندہ مثال ایران کی صورت میں پہلے سے موجود ہے۔ اگراس یقین واعتماد کی بجائے خوف وخدشات کا رویہ اپنایاجاتا رہا تو اس کا انجام عالم اسلام میں ایک اورمایوسی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ایسی مایوسی جس کی توقع پر اخوان المسلمین کی قیادت کو صدارت کے منصب پر براجمان ہونے کی اجازت دی گئی۔ التحریرمیدان میں آزادی کے بھڑکے ہوئے جن شعلوں نے حسنی مبارک کا تخت راکھ کردیا تھا وہ شعلے حسنی مبارک کے ساتھ ساتھ اس نظام کو بھی راکھ کرسکتے تھے جس کی کوکھ سے حسنی مبارک جیسی لعنتیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ فیصلہ اب اخوان قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دہائیوں پر مبنی مصلحتوں اورخدشات کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے گلے سڑے اور متعفن نظام سے سمجھوتے کی راہ اپناتے ہیں یاحسن البناء شہیداورسید قطب شہیدکی ایمانی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے مصری عوام کے ووٹوںکی امانت کو دیانت کے ساتھ لوٹانے کا حق اداکرتے ہیں۔ nn

Sunday, 15 July 2012

پالک۔ ایک معجزاتی سبزی

پالک۔ ایک معجزاتی سبزی



پالک ایک ایسی سبزی ہے جو دنیا کے ہر خطے میں آسانی سے سستے داموں میںدستیاب ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے جس میں بے شمار غذائی اجزاء موجود ہیں۔ اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، میگنیشیم، فولیٹ، مینگینز، آہن کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن بی2 اور وٹامن بی موجود ہے۔ علاوہ ازیں یہ سبزی پروٹین، فاسفورس، وٹامن ای، جست، ریشہ اور تانبا کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسی سبزی ہے جو ہر موسم میں دستیاب ہوتی ہے اسے سلاد میں کچا بھی کھایا جاسکتاہے۔ اسے پکا کر بھی کھایاجاسکتا ہے یا اسے کسی اور غذا کے ساتھ ملا کر کھایا جاسکتاہے۔ ہمارے ہاں پالک انتہائی خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ اسے ’’مرغ‘‘ کے گوشت، آلو کے ٹکڑوں، ڈل کے ندرو اور پنیر کے ساتھ بھی پکایا جاتا ہے۔ عید اوردیگر تہواروں کے روز اسے مرغ یا بھیڑ کے گوشت کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ یہاں کوئی بھی فرد اسے سلاد کے ساتھ کچا نہیں کھاتا ہے۔ ہم لوگ اس کا استعمال کم کرتے ہیں شاید اس لئے اسے صاف کرنے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے علاوہ ازیں پالک کے بارے میں عام لوگوں کے ذہنوں میں کچھ غلط عقائد نے جنم لیاہے۔ مثلاً پیشاب خراب ہے تو پالک نہیں کھاسکتے، معدہ میں کوئی پرابلم ہے تو پالک کھانا منع ہے، گردوں کی کوئی بیماری ہے تو پالک چکھ نہیں سکتے۔ نقرس(گائوٹ)، تھائرایڈ اور گال بلیڈر کی بیماریوں میں یہ سبزی کھانا منع ہے۔ ان خرافات کی وجہ سے بعض لوگ پالک جیسی بے حد مفید سبزی کھانے سے ’’پرہیز‘‘ کرتے ہیں۔ اب آپ پالک کے فائدے پڑھئے اور خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ سبزی کھائیں یا نہ کھائیں۔
پالک کے فائدے
غذا:
ایک پیالی پالک میں روزانہ درکار20فیصد غذائی ریشہ موجود ہوتا ہے۔ جو نظام ہاضمہ کا دوست ہے ، قبض سے نجات دلاتا ہے خون میں شوگر کی سطح کو اعتدال میں رکھتا ہے اور زیادہ کھانے سے روکتا ہے۔
سرطان:
پالک میں فلاوونائیڈ س (Flavonoids)وافر مقدار میں موجود ہیں، یہ ضد سرطان اجزاء ، سرطانی خلیات کو منقسم ہونے سے روکتے ہیں۔ پالک پروسٹیٹ کے سرطان سے بچانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔
ضدالہتاب:
نیوزینتھین(Neozenthin)اور ویالوزپنتھین (Violozenthin)دوانتہائی اہم ضدورم والتہاب اجزاء ہیں، جو پالک میں موجود ہیں۔
مانع تکسیدی اجزاء :
(انٹی آکسیڈنٹ) وٹامن سی، وٹامن ای، بیٹا کروٹین، مینگینز، جست(ZINC)سلینیم جیسے مانع تکسیدی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ جو خون کی نالیوں کو متورم ہونے سے بچانے کے علاوہ ہڈیوں کی بیماری اور سٹیوپوروسس اور ہائی بلڈ پریشر سے بچانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر:
پالک میں موجود پیپٹائیڈس ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
بینائی :
 مانع تکسیدی اجزاء لیوٹن(LEUTIN) اور زیازیتھین(ZIAZINTHANE) پالک کے پتوں میں وافر مقدار میںموجود ہیں۔ یہ موتیا بند سے بچانے کے علاوہ آنکھوں کی بینائی پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
جلد:
 وٹامن اے کی وافر مقدار جو پالک میں موجود ہے جسم کی جلد پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ جلد کو جُھریوں سے بچاتی ہے اور جلد کو نرم وتازہ رکھتی ہے۔
نظام دفاع:
 ایک کپ پالک میں وٹامن اے کی روزانہ تعین شدہ مقدار 337%موجود ہے۔ یہ جسم کے داخلی دروازوں جیسے کہ منہ، نظام نفس، نظام ہاضمہ اور دستگاہ تناسلی وادرار کے اندرونی تہوں کو دشمنوں(جراثیموں، وائریسوں، کیڑوں) سے بچانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سفید خلیات (جو ہمیں عفونتوں سے بچاتے ہیں)کا ایک اہم جُز ہے۔
ہڈیاں:
 ایک کپ پالک وٹامن کے (K)کے روزانہ تعین شدہ مقدار کا 1000%سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے جو ہڈیوں کے حجم اور مضبوطی کے لئے ضروری ہے۔
دماغ اور اعصابی نظام:
وٹامن کے کا پالک میں وافر مقدار میں موجود ہونا دماغ اور اعصابی نظام کے لئے ایک انتہائی ضروری جُز’’سفنگولیپڈس‘‘ بنانے میں مدد کرتا ہے، جو نسوں کے ارد گرد غلاف’’مایلین‘‘ (Myelin)بنانے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Courtesy: Kashmir Uzma Srinagar

Muslim Sciencedanon ki Khidmat مسلم ساءنسدانوں کی خدمات


Coutrtesy: Urdutimes daily Bombay

Jama Masjid Akberabadi ke Asar Baramad

Courtesy: Urdutimes Bombay

Friday, 13 July 2012

با پ نے بیٹی کو کن الفا ظ میں رخصتی کا پیغام دیا

با پ نے بیٹی کو کن الفا ظ میں رخصتی کا پیغام دیا
شاندارمجلس جا ندار نصا ئح

بعد خطبہ مسنونہ
حا ضرینِ مجلس
 اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
آج سے کوئی چار ہزار برس قبل اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی زبردست تخلیقی قوت سے اپنے ایک برگزیدہ بندے اور پیغمبر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو انتہائی کبر سنی کے عالم میں ایک فرزند عطا فرمایا۔انتہائی پرُ آشوب ادوار سے گزر کرجب یہ فرزندجوانی کے عالم کی طرف قدم بڑھانے لگتا ہے توشفیق والد کو منجا نب اللہ حکم ہوتا ہے کہ اس فرزند کووہ خود بارگاہِ الٰہی میں اپنے ہاتھوں سے ذبح فرمائیں۔نہ باپ کی شفقت ِپدری رُکاوٹ بنی، نہ والدہ نے ہا ہا کار مچائی اور نہ ہی کم سن فرزند نے اس دنیا میں کچھ اور دن گزارنے کی خواہش ظاہر فرمائی۔سبھی متعلقہ اصحاب حکم الٰہی کی تعمیل میں لگ گئے۔ کڑی آزمائش میں سرخ رو ہونے کے بعداللہ نے اس خانوادہ ٔ نبوت ورسالت پر ایسی رحمت عطافرمائی کہ نسل در نسل تمام انبیائے کرام علیہم السلام انہیں میںسے تولد ہوئے۔یہاں تک کہ از آدم ؑتا ابد پیدا ہونے والے اَربوں کھربوں لوگوں میں سب سے زیادہ مکرم و محترم حضرت سیدالمرسلین، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی کی اولاد میں سے جلوہ افروز ہوئے۔ الحمد للہ
اس طرح کی آزمائش کا بار سنبھالنا حضرت خلیل اللہ ؑ کاہی خاصہ ہوسکتا تھا۔گوعام انسان ایسی پیغمبرانہ ہمت و قوت سے عاری ہو تے ہیں لیکن رب العالمین تابع فرما ن ہو کرانہیں بھی اپنی لخت جگر بیٹی کو جوانی کی
دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے سے جداکرکے نکاح کے وسیلے سے ’غیروں‘ کے سپرد کرنا ہوتاہے ۔ایک عرصہ بیت گیا لیکن میرے لئے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ مجھے کسی کام کے سلسلے میں سرینگر سے چندی گڈھ جانا پڑا۔ ان دنوںcommunication   کے وسائل آج کی طرح لامحدود نہیں تھے کہ جہاز رکتے ہی فوراًاپنے گھر والو ں کوبخیریت اپنی منزل پر پہنچنے کی اطلاع کی جا تی۔بہر حال اسی دن شام کو جب میں نے گھر فون کیا تووالد ۂ مرحومہ نے میر ی تیسری دخترکی ولادت کی خوش خبری سنائی۔ اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے گھر میں بیٹی کے تولد سے غم کا کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹتا تھا، نہ ہی ہم اس ’’حادثے‘ ‘ کی وجہ سے منہ چھپائے ہوئے ادھر ادھر بھٹکتے تھے۔
دھیرے دھیرے یہ بچی اپنے لیل و نہار طے کرتی گئی۔ کبھی ہنسی، کبھی روئی،کبھی روٹھی، کبھی ضد کی،کبھی  اس کا دل بہلانے کے لئے ’دیوار سے انڈا برآمد‘کیا،اسے جھولا جھلایا،وہ سکول گئی، کالج گئی ،گھر کا کام کاج سیکھ لیا،والدہ کا ہاتھ بٹانے لگی،والدکا خیال رکھنے لگی۔حکم خدا وارد ہوا، امانت کی سپردگی کا! آج کی یہ مجلس ( نکا ح کی مجلس )اسی انتقالِ امانت کا پیش خیمہ ہے۔
اسلام فرد اور سماج دونوں کی نشو و نما کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ نہ فرد کو اس قدر آزاد اور بے قید چھوڑ دیتا ہے کہ سماج کی بیخ کنی ہوجائے۔نہ سماج کی طرف سے فرد پر ایسی قدغن لگاتا ہے کہ اس کی اصل فطرت ہی مسخ ہوجائے ۔
نکاح کے ذریعہ ایک مرد اور ایک عورت کا ازدواجی رشتے میں بندھ جانا اسلامی سوسائٹی کاسنگ میل ہے۔ یہیں سے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد پڑجاتی ہے۔اسلام راہبانہ زندگی کا قطعی مخالف ہے کیوں کہ دین فطرت کا مقصدانسان کی فطرت کو صحیح سمت میں پروان چڑھاناہے،اسے کچلنا نہیں ۔اسی طرح مغرب کےFree Love  ( ما در پدر آ زاد تہذیب و ثقافت )کے تصور کواسلام سختی کے ساتھ رد کرتا ہے تاکہ انسان اور حیوان میں امتیاز باقی رہے۔
اس مجلس نکا ح کے اختتام کے ساتھ ہی میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میری قرۃٔ العین کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوگا۔اب تک کی لڑکی کہلانے والی میری لا ڈلی بیٹی اب عورت کہلائے گی۔اس کے صبح و شام نئے ، اس کے لیل و نہار نئے، اس کا گھر نیا، اس کے متعلقین نئے، اجنبی ماحول میں گزر بسر کرنا ہوگااور جو بھی ٹوٹی پھوٹی صلاحیتیں اللہ کے فضل سے اب تک یہاں پروان چڑھی ہیں، اُن کو اسی نئے گھر میںبروئے کار لانا اس کافرض منصبی بن رہا ہے۔ قوق و فرائض کی ایک نئی فہرست ہوگی جس پر اسے عمل پیرا ہونا ہوگا۔
میری یہ آواز اُن تک پہنچ رہی ہے۔ ( دلہن اس وقت گھراور خا ندان کی دوسری خو اتین کے ساتھ دوسرے کمر ے میںمو جو د تھیںاور خطبۂ نکا ح سماعت کر نے کے لئے ہمہ تن گو ش تھیں) اس لئے اب میں ان سے مخاطب ہوں، اپنی صاحبزادی سے!
میری جان و جگر! ہمارے لئے زندگی گزارنے کا جو کیمیائی نسخہ ہمارے محبوب پیغمبر ؐ نے عطا فرمایا ہے،  ہمارا ایمان ہے کہ اس سے بہتر طرزحیا ت اور کہیں سے میسر نہیں ہو سکتا۔ اب غور کرو جب حضرت سرور کائنات ؐنے فرمایا۔’’اگر اللہ کے بغیر کسی اور کو سجدہ کرناجائز ہوتا تو میں اپنی اُمت کی خواتین کو اپنے شوہروں کوسجدہ کرنے کا حکم دیتا ‘‘ تو اس کا مطلب کیا ہوا؟ مکمل تابعداری! یہاں تک کہ شوہر اگر نفلی عبادت سے منع کرے تو بیوی کے لئے تعمیل حکم لازم ہے ۔تمہیں معلوم ہے کہ اسلامی شریعت میں اللہ کے سواکسی اور ذات کو سجدہ کرنا ایک مسلما ن کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا ہے تو حضور پرنور ؐکا یہ فرمان اصل میں بیوی کو شوہر کی تابعداری کے معاملے میں Superlative degree  کی حد تک emphasise  کرتا ہے۔
ایک اور حدیث میں حضرت محسن انسانیت ؐ فرماتے ہیں’’یہ دنیا متاعِ قلیل ہے اور اس دنیا کا بہترین متاع وفا شعاربیوی ہے ‘‘ ۔ میں آج تمہیںاس دعا اور آرزو کے ساتھ رخصت کرتا ہوں کہ تم حقیقی معنوں میںبہترین متاع ثابت ہوجانا۔
میں ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعہ تمہیں کل سے شروع ہونے والی زندگی کا لائحہ عمل بتادوں۔کسی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام ترصلاحیتوں کو اس ادارے کے بہبود کے لئے بروئے کار لائے۔ ایک دیانت دار آفیسر ہمہ وقت اپنے ڈیپارٹمنٹ کی خدمت میں مگن رہتا ہے لیکن جس دن اس کا تبادلہ کسی دوسرے محکمہ میںہوجاتا ہے تو وہاں join  کرتے ہی وہ اب اُس محکمہ کی فلاح وبہبود کے لئے کمر بستہ ہو جاتا ہے جس میں اس کا تبادلہ ہوا ہو۔
اس نکاح کے ذریعہ تمہارا بھی تبادلہ ہوا ہے۔جس قدر تن دہی اور محنت سے آج تک تم اس گھر اور اس گھر کے واسیوں کے لئے کام کیا کرتی تھی، کل سے اس سے بڑھ کر تمہیںاس گھر کی زینت و بہبودی کے لئے کام کرنا ہوگا جس کی بہو بن کر تم یہاں سے جارہی ہو۔
یہ پند و نصائح اور یہ وعظ یک طرفہ نہیں ہیں۔میرے عزیز نوشہ!  آپ بھی غور سے سن لیں۔ آپ پر ایک عظیم ذمہ داری آن پڑی ہے۔میں آپ کے علم و عرفان کا معترف ہوں ۔بس یاد دہانی کے طور پر عرض کروں کہ خطبہ نکاح میں حضور ؐ نے جن چیدہ چیدہ آیات کا انتخاب فرمایا ہے ان میں بار بار  اتقواللہ، اتقواللہ، اتقواللہ کی تکرار ہے۔اتقواللہ کا مطلب عام طور پر’’ اللہ سے ڈرنا ‘‘کیا جاتا ہے ۔ڈرنا کس سے؟ ڈرنا کیسا؟ اس پہ ذرا غور فرمائیے۔
اس قدر شفیق اللہ کہ والدہ کی محبت اس کے سامنے ہیچ، اس قدر خیر خواہ کہ جہنم کے دہانے پر پہنچے ہوؤں کو واپس کھینچ لیتا ہے۔اس قدر سخی کہ ہمارے جنم  سے قبل ہی ہمارے رزق کابھر پور انتظام فرمایا۔سیارگان فلک کو ہمارے تابع کر دیا ہے، کائنات کو مسخر کرنے کی ہم کو صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے اعضا’’اَحسن تقویم ‘‘کے ساتھ فٹ کردئے ہیں کہ ایک ایک عضولاکھوں کروڑوں مالیت کے عوض بھی نہ خریدنے پائیں۔ہے کوئی جو اپنا دماغ دولت کے انبار کے عوض فروخت کرنا چاہے؟ نہیں۔ہرگز نہیں۔تو ایسے اللہ رحمٰن ورحیم سے ڈرنے کا کیا مطلب؟ فی الحقیقت ایسے اللہ کی محبت ہماری تمام محبتوں پر غالب ہونی چاہئے، وہی ہمارا محبوب ہو، وہی ہمارا معشوق ہو اور اس کی عبادت، اطاعت اور تابعداری کا یہ اہتمام ہو کہ ہر قدم اس احتیاط کے ساتھ اُٹھے کہ کہیں میرا محبوب، میری کسی حرکت سے ناراض نہ ہوجائے۔اس بلند و بالا محسن کی ناراضگی سے بچناہی تقویٰ ہے۔ میری دانست میںانگریزی  میں  God Consciousness کی اصطلاح تقویٰ کے مطلب سے زیادہ قریب تر ہے۔
خطبۂ نکاح میں اتقواللہ کی تکرارکو اسی مفہوم میں سمجھنا ہوگا۔ شریکِ حیات پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے، اس کی کسی معمولی بھُول پر رد عمل میں زیادتی نہ ہو، اس پر جسمانی، نفسیا تی یا ذہنی طور پر اس قدر بوجھ نہ ڈالا جائے جو اس کی طاقت سے، استطاعت سے بعید ہو۔اس کے شب و روز اور صبح و شام کے ملن میں کوئی ایسا واقعہ سرزدنہ ہونے پائے جس سے ہمارا محبوب ، ہمارا خالق اللہ ہم سے ناراض ہوجائے۔
ہر آن اتقواللہ کا وظیفہ ورد زبان ہو، اوراعمال میں اسی کا پرتو جاری و ساری ہو( انشا ء اللہ)۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ بعض حضرات کی جا نب سے قرآن کی کچھ آیات کابے تحاشا استحصال ہوا ہے۔ مثلاً ہر نئی جماعت یا تنظیم کی تاسیس کے موقع پر ’’ اور سب مل کر اللہ کی رسی مضبو طی سے پکڑو‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے ملت میں ایک اورنئی دراڑ ڈالی جاتی ہے ،اسی طرح ’’الرجال قوامون علی النسا ‘‘والی آیت بھی بے حد استحصال کا شکار ہوئی ہے۔ صنف ِنازک پر ہر دست درازی اور زیادتی کے لئے کچھ احبا ب کی طرف سے اس آیت کی من چا ہی تا ویل کاسہارا لیا جاتا ہے۔ قرآن کی بہترین تفسیراسوہ ٔرسول ؐ ہے ۔ آیئے اسی کے تناظر میں ہم دیکھیں کہ حضورؐکی خانگی اور نجی زندگی کے شعبے میں کیاتعلیمات و احکا مات ہیں!
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے پوچھا گیا کہ حضور ؐ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟
آپ ؓنے فرمایا ’’گھر کی صفائی کیا کرتے تھے، برتن دھوتے تھے، دیگر امورِ خانہ میں ہاتھ بٹاتے تھے، لیکن جب نماز کا وقت ہو جاتا توفوراً نمازکو دوڑ پڑتے۔‘‘
وہی ام المو منین حضرت عایشہؓ ایک بار گھڑ دوڑ کا نظارہ کرنا چاہتی ہیں تو حضور پر نور ؐ خود اپنے دست مبا رک سے چادر کھینچتے ہیں تاکہ اس کی اوٹ میں حضرت عائشہؓ اس تماشے سے محظوظ ہو جائیں۔
غار حرا کی خلوتوں میںجب ’اقر اء ‘ کی صدا حضو رؐ نے سنی اوربار نبوت سے سرفراز ہوئے تو پسینے میں شرابور، خاتم النبیین ؐاپنے کسی رفیق  یاکسی دوست کے پاس نہیں جاتے بلکہ سیدھے اپنی زوجہ محترمہ ام المو منین حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓسے اس کا ذکر کرتے ہیں۔اور جب اس عالم سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو یہ شرف زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو ہی ملاکہ سرور کائنات کا سرِ مبارک انہیں کے جسم اطہر پر آرام فرما ہوا۔ یہ ہے مودت و محبت کی معراج جو نکاح مسنونہ،  صا حب ایما ن زن و مرد کو عطا فرماتا ہے۔
خود سرور کائنات صلعم فرماتے ہیں ’’ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے عیال کے لئے بہتر ہو۔ اور اپنے عیال کے لئے سب سے بہتر میں ہوں‘‘۔ہدایت ربانی کے تحت ایک بار حضور ؐ اپنی ازواج کے سامنے تجویز رکھتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی عقد ازدواج سے جدا ہونا چاہے، تو ان کی یہ گزارش قبول فرمائی جائے گی لیکن ازواجِ مطہرات نے خود اس شفقت و محبت کا مشاہدہ کیا تھا جو رحمتہ اللعالمین ؐکی صحبت میں میسر تھی۔ اس لئے انہوں نے ظاہری عُسر کو ہی متاعِ بے بہا سمجھا اور رسول اللہ ؐ کے حرم مقدس میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔
خطبہ نکاح میں اتقواللہ کے حکم کے ساتھ ایک اور حکم صادر ہوا ہے ’’قولو قولاً سدیدا‘‘۔زبان کا زخم تیر کے زخم سے گہرا ہوتا ہے ۔سفر معراج میں حضور  ؐ نے جومشاہدات فرمائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ایک بہت بڑے پتھر میںایک بہت چھوٹا سا سوراخ تھا جس میں سے ایک سانڈھ نکل آتاہے۔یہ سانڈھ پھر واپس اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اپنی ہر جست میں ناکام ہوجاتا ہے۔ حضور ؐ نے حضرت جبرئیل ؑ سے پوچھا کہ یہ کیاماجرا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ زبان سے نکلے ہوئے اُس قولِ بد کی مانند ہے جسے بول کر انسان پچھتاتا ہے اورکوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے لے لیکن زبان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں مڑتا۔
تین سو پینسٹھ دن اور چوبیس گھنٹے کا ساتھ!  بشری تقا ضو ں کے تحت کبھی کبھار کسی چھوٹے بڑے معاملے میں ناگواری خلافِ فطرت نہیں ہے لیکن ایسے مواقع پر جس نے اپنے جذبات، احساسات اورزبان پر قابو رکھا اس کے لئے انعام ہے۔’’بڑی کا میا بی کی بشارت‘‘ !
چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوٹا ہی رہنے دیں تو اُن کا اثر خود بخود ذائل ہوجاتا ہے۔ ورنہ رائی کا پہاڑ بھی بن سکتا ہے۔ صالح منکوحہ جوڑا حسنات پر نظر رکھتا ہے اور کوتاہیوں سے درگزر کرتا ہے۔
خواتین کے مقام کو قرآن واضح کرتا ہے اور احادیث اس کی تصدیق کرتی ہیں۔سورہ لقمان میں ایک آیت میںاللہ فرماتا ہے۔’’اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھاکر اسے اپنے پیٹ میں رکھا۔اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔‘‘ رسولِ رحمتؐ کی ایک حدیث غالباً اس کی تفسیر ہے۔
ایک صحابی نے عرض کیا۔
’’یا رسول اللہ ؐ !  میرے اوپر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟‘‘
آپ ؐ نے فرمایا۔’’ماں کا‘‘۔ صحابی نے عرض کیا ۔ ’’اس کے بعد؟‘‘
حضور ؐ نے فرمایا۔’’ماں کا‘‘ ۔ صحابی نے تیسری بار عرض کیا۔ ’’اُس کے بعد؟‘‘ سرور کائنات ؐ نے پھر فرمایا۔ ’’ماں کا!‘‘
 جسارت کرکے صحابی نے پھر عرض کیا۔’’اس کے بعد؟‘‘
حضور ؐ نے فرمایا۔’’ باپ کا!‘‘
اور ایک معروف حدیث آپ نے سنی ہوگی، یقینا سنی ہوگی کہ سرور کائنات ؐ نے فرمایا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ جس ماں کی اس قدرعظمت کا اعلان قرآن کرتا ہے اور جس کی تصدیق  متعدداحادیثِ نبوی ؐ  کرتی ہیں، اُس کے بارے میں خوب سمجھ لیں کہ وہ پہلے کسی کی بیوی بنی تب جاکر ماں بنی۔تو ایسی ہستی جس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت رسولِ اُمی ؐنے دے دی، شوہر کے قدموں تلے روندھی جانے والی چیز نہیں ہو سکتی۔ بیوی کے ساتھ حسن سلوک شوہر کے لئے لازم ہے اور اللہ کے سامنے انتہائی پسندیدہ فعل ہے۔
اپنی مبارک زندگی میں ہمارے پیارے نبی ؐ نے جس سب سے بڑے اجتماع سے خطاب فرمایا ، وہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر ایک لاکھ سے زائد صحابیوں کے سامنے ہوا۔انسانی تاریخ میں عالم انسانیت کو امن و آشتی اور مودت و محبت کا اس قدر عظیم الشان چارٹر اس سے قبل کبھی میسر نہیں ہوا تھا،نہ اس کے بعد اس کا ثانی کوئی پیش کرسکا۔ اس خطبے میں میاں بیوی کے لئے جو ہدایات زبانِ نبوت ؐ سے صادر ہوئیں، اُن کے انگریزی ترجمہ کو آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے میں اپنے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا اختتام کرتا ہوں۔
O people! Fear Allah concerning women. Verily you have taken them on the security of Allah and have made their persons lawful unto you by words of Allah. Verily you have your rights over your wives  and they have their's over you. It's incumbant upon them to honor their conjugal  rights and not commit acts of impropriety, which if they do, you have the authority to discipline them, yet not severely. 
If your wives refrain from impropriety and are faithful to you, cloth and feed them with fairness. Behold, apply the injunctions upon women but kindly. Behold, it's not permissible for a woman to give anything from the wealth of her husband to any one but with his consent.
اللہ کے فضل سے آج کی اس مجلس نکا ح میں ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ تقریب حکم الٰہی اور فرمانِ نبوی ؐ کے قریب تر ہو۔میں یہ دعوی ٰ نہیں کرسکتاکہ یہاں سب کچھ شریعت کے مطابق ہورہا ہے لیکن دعا کرتا ہوں کہ ہماری یہ کوشش جو شریعت کے قریب ہونے کی ہے ،اللہ اسے قبول فرمائے۔اس بارے میں ہم سے جو خطائیں سرزد ہوئی ہوں ، اور بھی جو خطائیں جو ہماری زندگی میں ہوئی ہوں، اللہ اُن سے درگزر فرمائے۔اللہ اس رشتے کو مبارک فرمائے۔ دو خاندانوں کے درمیان مودت و محبت عطا فرمائے۔ آمین!
……………
 نو ٹ: یہ خطبۂ نکا ح ۱۰ جو ن ۲۰۱۲ ء کی شام کوسر ی نگر میں شادی خا نہ آبا دی کے مو قع پر دولہے میا ں کے اصرار پر خود دلہن کے والد بزرگوار نے دیا۔ مو صوف نے اپنے جگر گو شے کا نکا ح پڑ ھنے سے قبل اپنے تحریر کردہ خطبے میں یہ زریں خیالات با بر کت مجلس میں مو جو د چنیدہ مدعو ین کے سامنے پیش کئے۔ اس مو قع پر اعلیٰ تعلیم یا فتہ دو لہے میا ں نے نماز عشاء کی اما مت فرما کر مجلس کی پا کیزہ رو نقیںدو با لا کیں۔ افادۂ عام کے پیش نظر اس متا ثر کن بیان کو من وعن شائع کیا جا رہا ہے۔ خطبۂ نکا ح کے با رے میں دانستہ طور یہ پہلو پردۂ اخفا میں رکھا گیا کہ خوش نصیب نو بیا ہتا جو ڑا کن گھرا نو ں سے تعلق رکھتا ہے مبادا کہ اس سارے نیک عمل میں دکھا وے کا عنصر داخل ہو۔ البتہ یہ کہنامو زو ں ہو گا کہ ماشاء اللہ شادی کی تقریب اول تا آ خر سادگی کی قابل تقلید مثال تھی۔