Search This Blog

Monday, 6 August 2012

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ


اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ

 
-عابد علی جوکھیو
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ اُن آٹھ خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپؓ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام کے صرف دو دن بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپؓ ان دس خوش نصیب افراد میں سے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بزبانِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بشارت دی۔ آپؓ کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے، آپؓ نے اسلام کے ابتدائی ایام کی تمام تکالیف کو برداشت کیا اور دینِ اسلام پر جمے رہے۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبد عمرو تھا، لیکن قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر عبدالرحمن رکھ دیا۔ آپؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے: عبدالرحمن بن عوف بن عبد جوف بن عبد بن الحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ القرشی الزہری۔ آپؓ کی کنیت ابو محمد ہے۔ آپؓ ہجرتِ حبشہ میں بھی شامل تھے اور بعد میں مدینہ ہجرت کی۔ مدینہ پہنچنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعدالربیع انصاریؓ کا بھائی چارہ کرادیا۔ حضرت سعدؓ انصار میں زیادہ مالدار اور فیاض تھے۔ مواخات کے بعد حضرت سعدؓ نے حضرت عبدالرحمنؓ سے کہا کہ میں اپنا نصف مال آپ کو دے دیتا ہوں اور اس وقت میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپؓ کو پسند آئے میں اسے طلاق دے دوں گا اور عدت کے بعد آپ اس سے نکاح کرلینا۔ حضرت عبدالرحمنؓ نے ان کی اس پیشکش کا شکریہ ادا کرکے اس بات سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اللہ آپؓ کے مال و متاع اور اہل و عیال میں برکت عطا فرمائے، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ آپ صرف اتنا کیجیے کہ مجھے بازار کا راستہ بتائیے۔ اسی وقت آپ کو بازار پہنچایا گیا اور واپسی پر آپ کچھ گھی اور پنیر وغیرہ نفع میں بچا لائے۔ دوسرے روز سے باقاعدہ تجارت شروع کردی، اللہ کی برکت سے چند ہی دنوں میں اس قابل ہوگئے کہ وہاں ایک انصاریہ سے شادی بھی کرلی۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال میں برکت کی دعا دی۔ پھر کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالرحمن کے مال میں ایسی برکت دی کہ جس کی کوئی انتہا نہ تھی، آپؓ نے یہی مالی برکت دین کی خدمت میں خوب پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حوالے سے حضرت عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں: ’’اس کے بعد دنیا اپنی پوری برکات اور فوائد کے ساتھ اس طرح میری طرف متوجہ ہوگئی اور میری تجارتی کامیابیوں کا حال یہ ہوگیا کہ اگر میں کسی پتھر کو اٹھاتا تو مجھے اس بات کی توقع ہوتی تھی کہ اس کے نیچے سونے یا چاندی کا کوئی ٹکڑا ملے گا۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے اپنے مال کے ذریعے ہمیشہ دین اسلام کی نصرت کی۔ مسلمانوں کی امداد، امہات المومنینؓ کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اپنے مال سے ناداروں کی مدد کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اس کی رضا کے طلب گار رہتے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، مالی مشکلات کے باعث مجاہدین کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہوگیا تھا، مدینہ میں بھی قحط کا زمانہ تھا۔ کئی مجاہدین صرف اس لیے واپس کردیے گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انہیں دینے کے لیے سواریاں میسر نہ تھیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اس کا بدلہ و ثواب اللہ ہی سے پانے کی نیت کریں۔ مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے خوب مال خرچ کیا۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف بھی خرچ کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے دو سو اوقیہ (ایک اوقیہ ساڑھے دس تولہ کے برابر ہے) بارگاہِ رسالت میں پیش کیے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایسا کرکے ایک گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے اہل و عیال کی ضروریات کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے۔‘‘ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ سے دریافت کیا کہ ’’عبدالرحمن! تم نے بچوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ تو آپؓ نے فرمایا: ’’ہاں، میں نے ان کے لیے جو کچھ چھوڑا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ اور بہتر ہے جو میں نے خرچ کیا ہے۔‘‘ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور وہ ساری رقم قبیلہ بنو زہرہ، ضرورت مند مسلمانوں، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی۔ جب حضرت عائشہؓ کے حصے کی رقم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ ان کو بتایا گیا کہ عبدالرحمنؓ بن عوف نے، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’میرے بعد تمہاری نگہداشت صرف صابرین ہی کریں گے۔‘‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف امہات المومنینؓ کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سفر حج کے مواقع پر آپؓ امہات المومنینؓ کے ساتھ جاتے تھے، امہات المومنینؓ کے لیے سواری اور پردے کا انتظام کرتے، سفر کے تمام تر انتظامات آپؓ کے ہی ذمے ہوتے، جہاں پڑائو کرنا ہوتا وہاں امہات المومنینؓ کو انتظام اور اہتمام کے ساتھ اتارتے۔ یہ تمام تر اعزاز انہیں ان کی عصمت و عفت کے باعث ہی نصیب ہوا، اور آپؓ یہ تمام ذمہ داریاں ادا کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ’’میرے بعد امہات المومنین کی نگرانی و خبر گیری صرف صابرین ہی کریں گے‘‘ کے مصداق ٹھیرے۔ ایک بار حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کا سات سو اونٹوں پر مشتمل ایک تجارتی قافلہ مدینہ آیا۔ ان سات سو اونٹوں پر ضروریاتِ زندگی کا پورا سامان لدا ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ قافلہ مدینہ میں داخل ہوا پورا شہر لرز اٹھا، گلیوں میں شور و غل سنائی دینے لگا۔ شور سن کر اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے؟ جب آپؓ کو بتایا گیا کہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کا سات سو اونٹوں پر مشتمل تجارتی قافلہ پہنچا ہے تو انہوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس میں برکت دے۔ یقینا آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبدالرحمنؓ بن عوف گھسٹتے ہوئے جنت میں جائیں گے۔‘‘ ابھی تجارتی قافلہ مکمل بیٹھا بھی نہ تھا کہ کسی نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو یہ خوشخبری سنادی۔ آپ ؓ فوراً حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا: ’’اماں! کیا خود آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ یہ سن کر حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف بڑے خوش ہوئے اور حضرت عائشہؓ سے فرمایا: ’’اماں جان! اگر ہوسکا تو میں کھڑا ہو کر جنت میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا۔ میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں یہ پورا قافلہ، اس کے اوپر لدے ہوئے سامان، اس کے کجاووں اور ٹاٹوں سمیت اللہ کی راہ میں دے رہا ہوں۔‘‘ اس خوشخبری کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے میں مزید تیز ہوگئے۔ انہوں نے چالیس ہزار درہم صدقہ کیے اور پھر دو سو اوقیہ سونا اللہ کی راہ میں خیرات کیا۔ مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے پانچ سو گھوڑے اور دوسرے مجاہدین کے لیے ڈیڑھ ہزار اونٹ فراہم کیے۔ اپنی وفات کے وقت بہت بڑی تعداد میں غلاموں کو آزاد کیا۔ اس وقت اصحابِ بدر میں سے جتنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندہ تھے ان میں سے ہر ایک کے لیے چار چار سو دینار کی وصیت کی، اس وقت ان صحابہؓ کی تعداد ایک سو تھی۔ ان سب کو وصیت کے مطابق دیا گیا۔ انہوں نے امہات المومنینؓ میں سے ہر ایک کے لیے کثیر رقم کی وصیت کی۔ حضرت عائشہؓ اکثر ان کے لیے دعا کرتی تھیں: ’’اللہ تعالیٰ ان کو چشمہ سلسبیل سے سیراب کرے۔‘‘ لیکن اس قدر مال بھی ان کے لیے کسی فتنے کا باعث نہیں بنا اور نہ ہی ان کے رویّے میں کسی قسم کی تبدیلی لا سکا۔ لوگ جب آپؓ کو آپؓ کے غلاموں کے درمیان دیکھتے تو آپؓ کے اور غلاموں کے درمیان تمیز نہیں کرپاتے تھے۔ ایک دن ان کے سامنے کھانا لایا گیا، اس روز وہ روزے سے تھے۔ انہوں نے کھانے کو دیکھ کر بڑی حسرت کے ساتھ کہا: ’’جب مصعبؓ بن عمیر شہید کیے گئے اور وہ مجھ سے بہت بہتر تھے تو ان کو کفن دینے کے لیے ہم لوگوں کو صرف اتنا کپڑا میسر آسکا کہ جب اس سے ان کا سر چھپایا جاتا تو پائوں کھل جاتے، اور جب پائوں چھپائے جاتے تو سر کھلا رہ جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو غیر معمولی خوشحالی اور فراخی سے نوارا۔ مجھے اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں نہ دے دیا گیا ہو۔‘‘ یہ کہہ کر زار و قطار رونے لگے اور کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت نوفلؓ بن ایاس کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف ہم لوگوں کے پاس بیٹھا کرتے تھے، اور وہ کیا ہی اچھے شریکِ مجلس تھے۔ ایک روز ہم ان کے ساتھ کسی جگہ سے واپس ان کے گھر آئے، وہ خود گھر میں گئے، غسل کیا اور واپس ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا۔ جب وہ پیالہ ہم لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف رونے لگے، ہم نے ان سے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں اپنے پاس بلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے گھر والوں نے جَو کی روٹی سے بھی پیٹ نہ بھرا۔ میرے خیال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمارے لیے اتنے عرصے تک اس دنیا میں رہنا بہتر نہیں ہے۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ انہیں اس تجارت میں جو بھی برکت حاصل ہوئی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ہے، اس لیے آپؓ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتے۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور امہات المومنین کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھتے، عام صدقات کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک دن میں ہزاروں خرچ کردیتے، ایک مرتبہ ایک ہی دن میں تیس غلاموں کو آزاد کیا۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمانؓ کو فروخت کی اور سب رقم اللہ کی راہ میں خرچ کردی۔ لیکن اس قدر فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کے باوجود یہ فکر ہمیشہ لاحق رہتی کہ کہیں یہ مال ان کی آخرت کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے: اماں جان! مجھے ڈر ہے کہ میرا مال مجھے برباد نہ کردے، میں قریش میں بڑا مالدار ہوں۔ میں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میرے اصحابؓ میں سے بعض وہ ہوں گے جنہیں میرے چھوڑ جانے (وفات) کے بعد میرا دیدار نصیب نہ ہوگا (حُبِّ دنیا کی وجہ سے)۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف یہاں سے نکلے اور حضرت عمرؓ سے ملاقات کرکے انہیں حضرت ام سلمہؓ کی بات بتائی۔ یہ بات سن کر حضرت عمرؓ بھی سیدھے حضرت ام سلمہؓ کے پاس پہنچے اور انہیں خدا کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوگی؟ حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا: نہیں، آپؓ ان میں سے نہیں۔ صحابہؓ کی دولت ذاتی راحت وآسائش کے لیے نہ تھی، بلکہ جو جس قدر زیادہ دولت مند تھا اسی قدر اس کا دستِ کرم زیادہ کشادہ تھا۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کی فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ہی سے شروع ہوچکا تھا اور وقتاً فوقتاً قومی مذہبی ضروریات کے لیے گراں قدر رقمیں پیش کیں۔ سورہ برات نازل ہوئی اورصحابہؓ کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی تو حضرت عبدالرحمنؓ نے اپنا نصف مال یعنی چارہزار کی خطیر رقم پیش کی، پھر دو دفعہ چالیس چالیس ہزار دینار وقف کیے، اس طرح جہاد کے لیے پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹوں کا انتظام کیا۔ اگرچہ آپؓ کا دسترخوان وسیع تھا، لیکن پُرتکلف نہ تھا۔ کبھی قیمتی اور خوش ذائقہ کھانا سامنے آجاتا تو گزشتہ فقر وفاقہ یاد کرکے آنکھیں پُرنم ہوجاتیں، لباس میں زیادہ تر ریشم کا استعمال تھا، کیونکہ فقر و فاقہ میں بیماری کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اجازت دی تھی۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمنؓ کے صاحبزادے ابوسلمہ ریشمی کرتہ زیب تن کیے ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے دیکھا تو گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس کے چیتھڑے اڑادیے، حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں معلوم ہے، لیکن یہ اجازت صرف تمہارے لیے ہے دوسروں کے لیے نہیں۔ (طبقات ابن سعد)


JADEED DAUR KA SHIRK AUR MUSALMAN

جدید دور کا شرک اور مسلمان

-عفت عالم
شرک کا مادہ ’’ش ر ک‘‘ ہے۔ اسی سے شریک اور شرکا ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی انداز سے اپنے معاملاتِ زندگی میں دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرے، ’’شریک‘‘ ہے۔ اسلامی شرعی اصطلاح میں اس سے مراد اللہ رب العالمین کی الوہیت میں ذات، صفات یا اختیارات کے لحاظ سے کسی کو ادنیٰ ترین درجے میں بھی ساتھی یا مددگار تسلیم کرنا، سمجھنا یا ماننا ہے۔ اس شرک کی بدترین شکل ’’طغیٰ‘‘ ہے جس میں اختیارات کو کوئی شخص یا ادارہ اپنے قبضے میں کرکے اپنے قوانین اور احکامات نافذ کرنا چاہے۔ شرک ہر لحاظ سے اللہ کی الوہیت کی نفی ہے، لہٰذا اس رب ذوالجلال کے جلال کو بھڑکانے والی کوئی چیز اس کے مقابل نہیں۔ پس فرما دیا گیا: ’’اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرسکتے ہیں لیکن شرک کی معافی نہیں‘‘۔ شرک کیوں قابلِ معافی نہیں؟ شرک کی بنیاد کسی کا ہم سر، ہم پلہ، ذات و صفات میں مشابہہ ہونا، اختیارات کی ملکیت میں ساتھی ہونا، نفع و نقصان میں برابر کا ذمہ دار ہونا، دینے لینے میں ساتھی ہونا ہے۔ گویا کم تری کا ادنیٰ سا احساس یا نقص بھی شرکت کا سبب بن سکتا ہے۔ جبکہ اللہ (ال۔ الٰہ) ایسی ہر کمی، نقص یا خرابی سے پاک ہے۔ سبحان اللہ۔ قرآن کریم میں اس سے متعلق بہت سی آیات ہیں۔ تسبیح سے شروع ہونے والی تمام سورتوں کا بنیادی مضمون الوہیت کا تصور، توحید کا تصور اور اس کی وضاحت ہے۔ اس شرک سے بڑھ کر جب کوئی دوسرے کو کم تر، حقیر یا کمزور سمجھے اور آگے بڑھ کر ان اختیارات کو قابو کرنا چاہے جو دوسرے کو حاصل ہونے چاہئیں، گویا حقوق کو دبانا اور پھر ان کو غصب کرنا دراصل فرض سے غفلت اور بے نیازی ہے، اور یہی چیز بڑھتے بڑھتے کبر، تکبر اور آخرکار ’’طغیٰ‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، اور پھر ظلم کا وہ دروازہ کھلتا ہے جس میں پوری انسانیت اور پوری کائنات مجبور اور بے بس ہوجاتی ہے محض چند ظالم ترین افراد کے ہاتھوں۔ یہی افراد اگر جمع ہوجائیں تو ادارے تشکیل دیتے ہیں اور جو کام فرد سے ممکن نہیں ہوتا وہ یہ ادارے بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔ آج شرک کا جیسا دور دورہ ہے، اس کی غبار آلود فضا میں پوری انسانیت جس طرح جکڑ دی گئی ہے، اور جس طرح حق توحید کی شمع کو دھندلا دیا گیا ہے اس کو سمجھنے سے اعلیٰ ترین دماغ بھی قاصر ہوئے جارہے ہیں، اور وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم اپنے آپ کو اللہ کے قریب کررہے ہیں، اپنی صلاحیتیں، وسائل، قابلیتیں اسی سمت لگا رہے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بہت برخلاف ہے۔ موجودہ دور سے قبل شرک کا یہی تصور عام تھا کہ دیوی دیوتائوں کی پوجا، پرستش، ان سے مانگنا، ان کو معبود سمجھنا، ان سے دعائیں کرنا… ذرا آگے بڑھے تو قبروں پر عرس اور ان کے آگے ہاتھ پھیلانے والوں کو اس شرک میں ان کا ساتھی سمجھ لیا گیا۔ آگے بڑھے تو ایسے عقائد کو شرک سمجھا گیا جس اللہ کے ساتھ بیٹے (یا بیٹیوں) کی شرکت تھی (عیسائی یا نصاریٰ اور مشرکین مکہ)۔ لیکن اب کیا ہے؟ اب تو ہر سمت شرک ہے، اور اس کی نجاست سے ہر خاندان، ہر گھر آلودہ ہوتا جارہا ہے، اِلاّ یہ کہ جس کو اللہ نے حفاظت دے دی۔ آج کے دور میں شرک کی جتنی قسمیں سامنے آچکی ہیں ان میں ملٹی نیشنل کمپنیاں، ان میں شراکت داری، اعلانیہ کافر قوموں کے رسوم و رواج میں شرکت، بظاہر اہلِ کتاب لیکن درحقیقت منافق قوموں کے تعلیمی، سیاسی، معاشرتی، معاشی نظام اور ان کا حصہ بننے میں فخر… ان قوموں کا ترقی کے نام پر، نیز صحت کے نام پر مہلک ترین جراثیم کا جسموں میں داخل کرنا، ان کے ذریعے انسانیت کو اپنا مطیع رکھنا، ذہنی پس ماندگی کو اس سطح پر پہنچا دینا جس میں ان قوموں کے دیے ہوئے طرز زندگی کے سوا کوئی طرز زندگی کامیاب نہ دکھائی دے۔ ویکسین کا استعمال، نئی نئی ایجادات کے ذریعے نئی نئی بیماریوں کا بظاہر علاج مگر درحقیقت ہمیشہ کے لیے یا کم از کم طویل عرصے کے لیے اپنا باج گزار بنانا (اسپتالوں میں جاکر ہر مہینے، دو مہینے، تین مہینے پر لگنے والے ویکسین کے انجکشن، دوائوں کی فراہمی اور ان کے ریکارڈ کی درستی کے بغیر اسکولوں اور اداروں میں داخلے پر پابندی) اسی زمرے میں ہے۔ ان سے آگے نکل کر انسانی رویوں میں خرابیوں کے نتیجے میں اچانک سامنے آنے والی بیماریوں کے علاج کے لیے دہشت زدگی کی فضا کا پیدا کردینا (پچھلے دنوں وائرل کی کئی اقسام کے نتیجے میں چند اموات ہوئیں تو گویا پوری انسانیت کی مصیبت آگئی، اور ہر چھوٹے اور بڑے کو ماسک اور ویکسین کے ڈراپس کا دیا جانا خصوصاً ایئر پورٹس اور ریلوے اسٹیشنوں پر ان کو لیے بغیر افراد ملکوں میں داخل نہیں ہوسکتے تھے اور یہ زیادہ دور کی بات نہیں)۔ اور اِس وقت تو سب سے بڑی دہشت کی فضا ’’انتہا پسند اسلام‘‘ کے نام پر پیدا کردی گئی ہے۔ اللہ کی وحدانیت کے پیغام سے انسانیت کو متنفر کردینا، بھلا اس سے بڑھ کر ’’طواغیت‘‘ کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ لیکن حقیقت میں ایک طواغیت اس سے بھی بڑھ کر ہے، اور وہ ہے اس پورے عمل کو بآسانی قبول کرنا۔ معمولی احتجاج کے ساتھ اپنے لیے اس فضا میں رہنے کے لیے بہتر طریقے اختیار کرنا، گویا وباء زدہ ہوائوں میں بستے بستے ان کا عادی ہوجانا، زہریلی ہوائوں اور مسموم فضائوں کو اور اسی شرکیہ ماحول کو نہ صرف گوارا کرنا بلکہ رفتہ رفتہ اس چنگل میں پھنستے جانا جس میں آخرکار اسی ماحول کی حمایت کا عَلم اٹھانا ہوگا۔ آج شرک کی یہی بدترین قسم ہمارے چہار طرف پھیلائی جارہی ہے، اور اب اس کا نشانہ پوری انسانیت کی موجودہ ننھی نسلیں بھی ہیں، اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی کے ماتحت کرکے گویا پوری انسانیت پر اللہ وحدہٗ لاشریک کی حاکمیت کے پیغام کی برتری کے بجائے اس طواغیت کو نافذ کرنا ہے۔ اس کا ایک مظہر وہ نعرہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’کفر کی حکومت کے تحت مسلمان زندگی بسر کرسکتا ہے‘‘۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ کیا ایک مسلمان پھر بھی مسلمان رہے گا اگر وہ دل سے اس بات کو قبول کرلے؟ لیکن آج یہی ہوچکا ہے۔ آج امریکا میں کتنی ہی قوموں، نظریوں اور عقیدوں کے مابین رہتے رہتے مسلمان اپنی شناخت کو صرف اپنی ’’کمیونٹی‘‘ کی حد تک بچانے پر مجبور ہیں، انہیں اپنی تنظیمیں، اپنے ادارے، اپنی مساجد بنانے کا تو اختیار دیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر حکومت میں ’’شریک‘‘ بھی کیا جارہا ہے اور انہیں رغبت دلائی جارہی ہے کہ وہ اس حکومت کی حمایت میں اور اسے آگے بڑھانے میں مددگار ہوں اور اپنا حصہ ڈالیں۔ کسی ’’اسلامی تنظیم‘‘ کا کوئی بڑا پروگرام ایسا نہیں ہوتا جس میں حکومت کا کوئی فرد شامل نہ کیا جائے۔ خصوصاً وہ ادارے جنہوں نے ’’مساجد‘‘ کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے، اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ بقول ان کی گورننگ باڈی کے، بغیر اس کے ہم اپنا دعوتی کام آگے نہیں بڑھا سکتے، نیز اس کے ذریعے مسلمانوں کی جمعیت کی مضبوطی بھی سامنے آتی ہے اور مسلم کمیونٹی کے لیے بہتر سہولیات کا حصول آسان ہوتا ہے۔ افطار پارٹیوں میں میئر کا بلایا جانا (خواہ وہ ہم جنس پرست ہی کیوں نہ ہو) اسی کا حصہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ اور اب اس کا تازہ ترین شاہکار مسجدوں کو کمیونٹی سینٹرز کی طرز پر آگے چلانا ہے۔ اس طرز میں مساجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ سوشل گیدرنگز، نکاح کی تقریبات، نئی جوان نسلوں کے لیے تفریح اور فیملی سمیت تقریبات اور لیکچرز کی جگہ بھی ہوں گی۔ بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں، کیوں کہ کہا یہ جارہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی مساجد صرف عبادت کے لیے مخصوص نہ تھیں بلکہ عدلیہ بھی تھی اور معاشرتی رسومات کے لیے بھی۔ لیکن آج ان مساجد میں اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کو جس طرح پامال کیا جارہا ہے ایسا اُس دورِ مبارک میں ہرگز نہ تھا۔ آج نماز کے بعد لیکچر کو سننے کے لیے خواتین کو پارٹیشن سے آگے بلالیا جاتا ہے، مرکزی ہال جو نماز کے لیے ہوتا ہے اس میں مردوں کو ایک طرف اور خواتین کو دوسری طرف برابر برابر بٹھادیا جاتا ہے۔ نکاح کی تقریب کے وقت دلہن کو سجا بناکر سب کے بیچ بٹھادیا جاتا ہے۔ البتہ نماز کے وقت مرد آگے اور خواتین پیچھے۔ یہ صورت حال ابھی ہے۔ اگر ان مساجد کو کمیونٹی سینٹرز کے طریقے پر آگے بڑھایا گیا جس کے لیے مشہور اسکالرز کے ذریعے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو آمادہ کرنے کی مہم بھی زور و شور سے جاری ہے، اس وقت عام مسلمان کا ایمان کس لیول پر ہوگا اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ ساری سرگرمیاں حقیقی اسلام کی نمائندگی کررہی ہیں؟ اس وقت ایک اہم ادارے کے سروے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں امریکا میں سیٹل ہونے کے لحاظ سے بقیہ دوسرے گروہوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رویہ رکھتی ہے۔ اسلامی تنظیموں کی اکثریت انہیں یہاں کا پُرامن شہری رکھنے اور ان کے ’’حقوق‘‘ کا قانونی تحفظ کرنا چاہتی ہے۔ عام شہری (مسلمان) کو تو چھوڑیں، بڑے بڑے علماء جن کے علم پر دنیا کے مشہور تدریسی اداروں اور درسگاہوں کی مہریں ثبت ہیں، اس کام میں مددگار ہیں اور مشرک حکومت کی طرف سے سہولیات کی فراہمی کو مسلمانوں کے حق میں ’’خیر‘‘ سمجھتے ہیں۔ یہ حال صرف امریکا کا نہیں، یورپ کے دیگر ممالک میں بھی حالات اسی طرح کے ہیں، البتہ امریکا میں مذہبی آزادی کا تصور ابھی زیادہ وسعت کا حامل ہے، جبکہ یورپ کے ممالک میں بہت سی پابندیاں آئے دن عائد ہوتی رہتی ہیں (البتہ امریکا کی صورت حال اس لحاظ سے بڑھ کر ہے کہ یہاں نچلی سطح سے لے کر اوپر کی سطح تک ہر جگہ مسلمانوں کو کنٹرول کرنے کے انتظامات ہیں، اور اب یہاں رہنے والے مسلمان خود کو امریکی مسلمان کہلانے میں کوئی عار نہیں سمجھتے) اس صورت حال میں اس وقت جو کیفیت ہے اس کا اظہار اس حدیثِ مبارکہ سے بخوبی کیا جاسکتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کو کالی سیاہ رات میں کالے سیاہ پتھر پر کالی سیاہ چیونٹی کی مانند قرار دیا ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھنے والوں کو بخوبی نظر آرہا ہے کہ اب حق اور باطل کا محاذ بالکل جدا ہوچکا ہے۔ اب حق صرف وہاں ہے جہاں اسلام کو واضح برتری ہے۔ وہ چند جانیں جو پوری انسانیت پر گواہی قائم کررہی ہیں، جو حق کے عَلم کو ہرگز نیچا نہیں ہونے دیں گی خواہ ان پر کتنے ہی حملے کردیے جائیں، یہی لوگ مومن ہیں۔ اور باطل، وہ بھی واضح ہے۔ اب اس باطل کی پشت پناہی کرنے والی قوتیں بھی اپنا انجام سوچ لیں۔ آج یورپ، امریکا اور دیگر ممالک میں جہاں جہاں باطل کو قوت حاصل ہے وہ ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی بنیاد پر ہے۔ یہ دوسری قوتوں کے لیے تو عبرت کا مقام ہوگا ہی، لیکن وہ تمام ’’اسلامی قوتیں‘‘ یا اسلام کے نام پر کام کرنے والی تحریکیں ضرور بالضرور… پھر کہوں گی کہ… ضرور بالضرور اپنے ایجنڈوں کا جائزہ لیں کہ وہ کس حد تک کس کس طرح ان باطل قوتوں کی ’’حق‘‘ کے مقابلے میں پشت پناہی کررہی ہیں۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے قرآن کی کسوٹی کو ضرور سامنے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ’’اسلام‘‘ کو قومیت سے، نسل سے، علاقائیت سے بڑھ کر قرار دیا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کا مقصد ہی صرف اللہ کا کلمہ بلند ہونا یعنی اللہ کی سرزمین کا ایک رنگ میں رنگا جانا ہے۔ لیکن آج تو ہر طرف برٹش مسلم، امریکن مسلم کی اصطلاح ہے۔ وقت آچکا ہے کہ یہ کہنے والے اپنا جائزہ لیں کہ ’’دجال‘‘ ان کے گرد کس طرح گھیرا تنگ کررہا ہے۔ دجل تو نمایاں ہوچکا ہے۔ ہم تو مصنوعی فضا میں مصنوعی سانسیں لے رہے ہیں۔ کون ہے جو ہمیں حقیقی سانسیں لوٹائے گا۔ اس کے لیے خود کوشش کرنا ہے۔ جو کوشش کرے گا، اللہ اس کی کوششوں کو ضرور پورا کریں گے۔ بات صرف یقین اور پورے عزم سے کام کرنے کی ہے۔ مہلتِ عمل بہت کم ہے۔


RAMZANUL MUBARAK KA WO TAREEKH SAZ MOARKA

رمضان المبارک کا وہ تاریخ ساز معرکہ!

-محمد آصف اقبال
انسانی تاریخ میں آج تک جتنے معرکے ہوئے ہیں اس کی واحد وجہ ایک گروہ کی دوسرے گروہ پر حصولِ اقتدار کی خواہش رہی ہے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کا جھوٹا دعویٰ پیش کرنے والے اقتدار حاصل کرنے کے بعد زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور انسانوں کے لیے عذاب بن کر نازل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ ذرا مختلف ٹھیرا۔ یہاں ہوا یہ کہ انسانوں کے گروہ یا ایک قوم سے تعلق رکھنے والوں کو فتح نہیں ملی، بلکہ یہ فتح اعلان تھی اُس عقیدے اور تہذیب کا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔ یہ وہ تاریخ ساز دن تھا جبکہ تین سو تیرہ لوگوں نے جن کی فوجی تیاری ظاہر طور پر برائے نام تھی، ایک ہزار لوگوں کو شکستِ فاش دے دی۔ یہ وہ دن تھا جب یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب رہتی دنیا تک روئے زمین پر اللہ کی عبادت ہوتی رہے گی اور نبوت محمدیؐ کی اس خصوصیت کا اظہار ہوتا رہے گا کہ ’’میرے لیے پوری زمین مسجد بنادی گئی ہے‘‘۔ یہ وہ دن تھا جب کہ حق کو حق ثابت کردیا گیا اور کفر کی جڑ کاٹ دی گئی، تاکہ حق واضح ہوجائے اور باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہے۔ یہ وہ دلیلِ روشن تھی جہاں یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ عقیدوں، تہذیبوں اور قوموں کے درمیان معرکوں میں فتح و شکست کا انحصار تعداد اور مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اپنے مقاصد سے وابستگی، وفاداری، جاں نثاری، قربانی اور استقامت پر ہے۔ یہ وہ دن تھا جب بتادیا گیا کہ امت کا مقصود و ہدف اللہ تعالیٰ ہے، اسی لیے قرآن کی زبان میں ایمان، تقویٰ اور صبر ہی وہ کنجیاں ہیں جن سے فتح و نصرت کے دروازے کھلتے ہیں، دشمنوں کے مکر و قوت کے تاروپود بکھر جاتے ہیں، فرشتے ہزاروں کی تعدا د میں پشت پناہی کرتے ہیں، قلت ِسامان و تعداد کے باوجود غلبہ نصیب ہوتا ہے اور آسمان و زمین سے برکتوں کے دہانے کھل جاتے ہیں۔ جنگ کے اسباب: ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے۔ عمل جتنا شدید ہوگا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔ قانون فطرت ہے کہ جو چیز جتنی دبائی جاتی ہے اتنی ہی وہ ابھر کر سامنے آتی ہے، اور پھر ہر عمل کے چند محرکات ہوتے ہیں۔ کچھ اسباب ظاہری ہوتے ہیں اور کچھ خفیہ۔ جنگ کی وجہ بھی فوری نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل عرصہ پر محیط ہوتی ہے۔ ایک عرصہ سے پس پردہ بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، فوری وجہ تو ایک بہانہ بنتی ہے۔ غزوہ بدر بھی کسی فوری اور اضطراری سوچ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ حق و باطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانِ نبوت سے ہجرتِ مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چند واقعات کو فوری وجوہات میں شمار کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہوگیا تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر و شرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمتہ الحق کا پرچم بلند کیا تھا، اور جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر کے بتوںکی پرستش کو ترک کرکے اللہ وحدہٗ لاشریک کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔ آفتابِ ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لیے صف بندی کا آغاز کردیا تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشوں اور شر انگیزیوں کا سلسلہ اصل میں غزوہ بدر کا دیباچہ تھا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد جب مسلمان منظم ہونے لگے اور کفار کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ مسلمان ایک قوت بن کر ابھریں گے اور ان کا اقتدار ہی نہیں بلکہ پورا نظام باطل خطرے میں پڑ جائے گا۔ جب یہ اندیشے حقیقت میں تبدیل ہونے لگے تو مشرکین مکہ کے لیے مسلمانانِ مدینہ کے ساتھ مسلح تصادم کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگیا تھا۔ گو اس تصادم کا موقع پندرہ سال بعد پیش آیا، لیکن ایک عرصے سے کفار و مشرکین نفرت کا لاوا اپنے سینوں میں ابال رہے تھے، نیز وحشت و سفاکیت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ اس وحشت و سفاکیت کا مظاہرہ اس طرح کیا جاتا کہ کبھی مسلمانوں کو انگاروں پر لٹایا جاتا، کبھی انہیں تپتی ریت پر گھسیٹنے کا غیر انسانی فعل انجام دیا جاتا، کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈال کر خوشیاں منائی جاتیں، تو کبھی آپؐ کے قتل کی سازش کرکے قریش اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کرتے، کبھی گھاٹی شعب ابی طالب میں خاندانِ رسولؐ کا معاشرتی بائیکاٹ کرکے انتقام کی آگ کو سرد کیا جاتا۔ اور اسی طرح کے بے شمار ظلم و ستم کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا پڑتا کہ صبر کرو، کیونکہ صبر ہی تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا، نیز وہ وقت بھی یاد کرو جب کہ ایک اللہ وحدہٗ لاشریک کا اعلان کرنے والوں کو زمین میں گاڑا جاتا اور ان کے سروں کو آروں سے چیر دیا جاتا۔ پھر یہ آگ جو مکہ کے کفار و مشرکین کے درمیان بھڑکائی گئی وہ سرد ہونے کے بجائے مزید بھڑکتی رہی، سینوں میں نفرت کا لاوا کھولتا رہا اور آخرکار وہ وقت آگیا جب اللہ کے اٹل فیصلے کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ کفار و مشرکین ذلیل و خوار ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اللہ کے بندے فتح و کامیابی سے ہمکنار۔ تجارتی قافلہ: اہلِ مکہ کا سب سے بڑا ذریعہ معاش تجارت تھی۔ بڑے بڑے تجارتی قافلے گرد وپیش کی منڈیوں میں رواں دواں رہتے۔ مدینہ میں مسلمانوں کی مرکزی حیثیت ہوجانے کا انہیں بڑا قلق تھا چنانچہ مشرکینِ مکہ کے سردار عوام الناس کو، خصوصاً نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے لیے نفرت پیدا کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ اسلام دشمنی میں بوکھلائے ہوئے تھے اسی لیے انہوں نے تجارت کے نفع سے ایک مخصوص حصہ لازمی طور پر جنگی تیاریوں کے لیے بھی مختص کرنا شروع کردیا تھا۔ دشمن کی عسکری قوت پر کاری ضرب لگانے اور ان کی اقتصادی ناکہ بندی سے آخر مسلمان ہی کیوں دستبردار رہتے، انہیں بھی اپنے دفاع کا حق حاصل تھا۔ کفار کی جنگی تیاریوں کے پیش نظر مسلمانانِ مدینہ بھی چوکنا تھے اور مدینہ منورہ پر کفار کے متوقع حملے کا جواب دینے کے لیے دفاعی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اپنے دفاع سے غفلت بہت ہی برا فعل ہے۔ اسی لیے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ آپؐ نے روایتی انداز کے بجائے نئے زاویۂ نگاہ سے دفاع کے جملہ پہلوئوں کا جائزہ لیا اور گشتی دستوں کی تشکیل کرکے دشمن کی نقل و حرکت خصوصاً اس کی اقتصادی ناکہ بندی پر اپنی توجہ مرکوز کی اور بہت جلد اس کے حوصلہ افزا نتائج بھی حاصل ہونے شروع ہوگئے۔ آپؐ نے اہلِ یثرب، عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے میثاقِ مدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک مشرک کا قتل: رجب 2 ہجری میں حضرت عبداللہ بن حجشؓ کو آٹھ آدمیوں کے ہمراہ دشمن کی نقل و حرکت معلوم کرنے کی غرض سے مکہ اور طائف کے درمیان گھات لگاکر بیٹھنے کے لیے روانہ کیا۔ مقام نخلہ پر مشرکین کے ایک قافلے کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ایک مشرک عمرو بن حضرمی مارا گیا اور دو آدمی قیدی بنا لیے گئے، نیز قافلے کے سامان پر قبضہ کرلیا گیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع آپؐ کو ملی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے کیونکہ اس دستے کوآپؐ نے لڑنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ ابن حضرمی کا قتل حرمت والے مہینے میں ہوا تھا اس لیے مشرکین نے اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف خوب اچھالا کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینوں کو بھی حلال کرلیا ہے۔ عرب قبائل کے لیے حرمت والے مہینوں کا احترام ایک جذباتی مسئلہ تھا۔ ان کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا مقصد بھی یہی تھا کہ رائے عامہ ہموار کی جائے اور مسلمانون کے خلاف ایسا ماحول تیار کردیا جائے کہ کفار و مشرکینِ مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوں۔ مجاہدینِ اسلام سے حرمت والے مہینے میں یہ کارروائی محض ایک غلط فہمی کی بنا پر ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ درست اندازہ نہیں لگا سکے کہ آیا حرمت والے مہینہ کا آغاز ہوچکا ہے یا نہیں۔ لیکن ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا،کہا کہ:’’لوگ آپؐ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں، فرمادیں اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے اور یہ فتنہ انگیزی قتل و خون سے بھی بڑھ کر ہے‘‘ (البقرہ:217)۔ اس آیت کریمہ کے نزول نے گشتی دستے کے اراکین کا ذہنی بوجھ کم کردیا، ساتھ ہی عالم کفر کو اسلام پر وار کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں لگ سکا، اور اسلام کی تصویر مسخ کرنے والوں کو بھی خاموش ہونا پڑا۔ ابوسفیان کا قافلہ اور جنگی تیاریاں: قریش مکہ نے اسلامی ریاست مدینہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور جنگ کی بھرپور تیاریاں شروع کردیں۔ افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل سے معاہدات کیے اور معاشی وسائل کو مضبوط کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مرتبہ جو تجارتی قافلہ شام بھیجا جائے اس کا تمام منافع اسی غرض کے لیے وقف ہو۔ چنانچہ ابوسفیان کو اس قافلے کا قائد مقرر کیا گیا اور مکہ کی عورتوں نے اپنے زیور تک کاروبار میں لگائے۔ اسلامی ریاست کے خاتمے کے اس منصوبے نے مکہ اور مدینہ کے درمیان کشیدگی میں بہت اضافہ کردیا۔ جب ابوسفیان کا مذکورہ بالا قافلہ واپس آرہا تھا تو ابوسفیان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ قافلہ راستے ہی میں نہ لوٹ لیا جائے۔ چنانچہ اس نے ایک ایلچی کو بھیج کر مکہ سے امداد منگوائی۔ قاصد نے عرب دستور کے مطابق اپنے اونٹ کی ناک چیر دی اور رنگ دار رومال ہلاکر شور کردیا کہ ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنے کے لیے محمدؐ بڑھے چلے آرہے ہیں۔ اہلِ مکہ سمجھے کہ قریش کا قافلہ لوٹ لیا گیا۔ سب لوگ انتقام کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ یہ قافلہ صحیح سلامت واپس آرہا ہے تو ان کے درمیان اختلافِ رائے قائم ہوگیا کہ آیا یہ حملہ کیا جائے یا نہیں۔ لیکن قریش کا طاغوتِ اکبر ابوجہل کھڑا ہوگیا اور نہایت کبر و غرور سے بولا: ’’خدا کی قسم ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ بدر جاکر وہاںتین روز قیام کریں گے اور اس دوران اونٹ ذبح کریں گے۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے۔ لونڈیاں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور سارا عرب ہمارا اور ہمارے سفر و اجتماع کا حال سنے گا، اور اس طرح ہمیشہ کے لیے ان پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی‘‘۔ لیکن ابوجہل کے علی الرغم اخنس بن شریق نے یہی مشورہ دیا کہ واپس چلے چلو، مگر لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اس لیے وہ بنو زہرہ کے لوگوں کو ساتھ لے کر واپس ہوگیا۔ بنو زہرہ کے علاوہ بنو ہاشم نے بھی چاہا کہ واپس چلے جائیں لیکن ابوجہل نے بڑی سختی کی اور کہا کہ جب تک ہم واپس نہ ہوں گے یہ گروہ ہم سے الگ نہ ہونے پائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مشاورت: مدینہ میں قریشی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی تو آپؐ نے مجلس مشاورت قائم کی اور خطرے سے نپٹنے کے لیے تجاویز طلب فرمائیں۔ مہاجرین نے جاں نثاری کا یقین دلایا۔ پھر حضرت مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ! اللہ نے آپؐ کو جو راہ دکھلائی ہے اس پر رواں دواں رہیے، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم ہم آپؐ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جائو اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ آپؐ اور آپؐ کے پروردگار چلیں اور لڑیں اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ ساتھ لڑیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپؐ ہم کو بَرک غماد تک لے چلیں تو ہم راستے والوں سے لڑتے بھڑتے آپؐ کے ساتھ وہاں بھی چلیں گے‘‘۔ آپؐ نے دوبارہ مشورہ طلب کیا تو انصار میں سے سعد بن عبادہؓ نے عرض کیا کہ بخدا! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اے اللہ کے رسولؐ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا: ’’ہم تو آپؐ پر ایمان لائے ہیں، آپؐ کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ آپؐ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب حق ہے اور اس پر ہم نے آپؐ سے سمع و طاعت کا عہدکیا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسولؐآپ کا جو ارادہ ہے اس کے لیے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپؐ ہمیں ساتھ لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپؐ کے ساتھ کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ کل آپؐ ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جوانمرد ہیں اور ممکن ہے اللہ آپؐ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپؐ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں۔ پس آپؐ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں۔ اللہ برکت دے‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ بن معاذ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’غالباً آپؐ کو اندیشہ ہے کہ انصار اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ آپؐ کی مدد محض اپنے دیار میں کریں، اس لیے میں انصار کی طرف سے بول رہا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوںکہ آپؐ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں، جس سے چاہیں تعلق استوار کریں اور جس سے چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دے دیں۔ اور جو آپؐ لے لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہوگا جسے آپؐ چھوڑدیں گے۔ اور اس معاملے میں آپؐ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمارا فیصلہ بہرحال اس کے تابع ہوگا۔ خدا کی قسم اگر آپؐ ہمیں لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے‘‘۔ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپؐ پر نشاط طاری ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا ’’چلو اور خوشی خوشی چلو، اللہ نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ اس وقت گویا میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ مشاورت کے بعد مجاہدین کو تیاری کا حکم ہوا۔ مسلمانوں کے ذوقِ شہادت کا یہ عالم تھا کہ ایک نوعمر صحابی حضرت عمیر بن ابی وقاص اس خیال سے چھپتے پھرتے تھے کہ کہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس نہ بھیج دیے جائیں۔ اس کے باوجود مجاہدین کی کل تعداد 313 سے زیادہ نہ ہوسکی۔ یہ لشکر اس شان سے میدانِ کارزار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی کے پاس لڑنے کے لیے پورے ہتھیار بھی نہ تھے۔ پورے لشکر کے پاس صرف 70 اونٹ اور 2 گھوڑے تھے جن پر باری باری سواری کرتے تھے۔ مقام بدر پر پہنچ کر ایک چشمے کے قریب یہ مختصر سا لشکر خیمہ زن ہوا۔ مقابلے پر تین گنا سے زیادہ لشکر تھا۔ ایک ہزار قریشی جوان جن میں سے اکثر سر سے پائوں تک آہنی لباس میں ملبوس تھے، وہ اس خیال سے بدمست تھے کہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھر فاقہ کشوں کا خاتمہ کردیں گے۔ لیکن قدرتِ کاملہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ رات بھر قریشی لشکر عیاشی و بدمستی کا شکار رہا۔ خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور دعائیں کیں اور اللہ نے فتح کی بشارت دے دی۔ جس طرف مسلمانوں کا پڑائو تھا وہاں پانی کی کمی تھی اور ریت مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مضر ثابت ہوسکتی تھی۔ لیکن اللہ نے بارانِ رحمت سے مسلمانوں کی یہ دونوں دقتیں دور کردیں۔ ریت جم گئی اور قریشی لشکر کی مقبوضہ چکنی مٹی کی زمین پر کیچڑ پیدا ہوگئی۔ کامیابی کے اسباب: کہا کہ: ’’اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کررہا تھا اور آسمانوں سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جمادے‘‘ (الانفال:11)۔ مزید اسی سورۃ میں بتایا گیا کہ اس فتح کے پیچھے اللہ کی مشیت کارفرما تھی۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ حق حق ہوجائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دی جائے، یعنی یہ محض اتفاقی جنگ نہیں تھی۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے اللہ نے فرشتوں کو بھیجا، اس لیے کہ مسلمانوں کے قلوب مطمئن ہوجائیں۔ ایک حدیث قدسی کے مطابق مومن فرائض اور نوافل (اپنی مرضی سے زائد عبادت اور اطاعت گزاری) کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی سماعت اور بصارت اور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ یعنی اس کا کیا اللہ تعالیٰ کا کیا ہوجاتا ہے۔ اصحابؓ بدر کا یہ مقام ہے کہ اللہ نے ان کے قتال کو اپنی طرف نسبت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے کہ ان کا مٹھی بھر ریت پھینکنا اپنا فعل قرار دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہادت کا شوق بیدار ہوا۔ مشہور قریشی سردار موت کے گھاٹ اترے، ان میں عتبہ، ولید اور شیبہ قریش کے بہت ہی بہادر سردار سمجھے جاتے تھے۔ ان کے قتل سے قریش کے حوصلے پست ہوگئے۔ بعد میں ابوجہل کی ہلاکت نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ قریش کی صفوں میں انتشار برپا ہوگیا۔ کفار و مشرکین کے درمیان بددلی اور اختلاف پیدا ہوا اور ان کی اجتماعیت منتشر ہوگئی۔ یہی وہ جنگ تھی جس میں حق و باطل کا فرق مکمل طور پر واضح ہوگیا۔ قریش کے غرور کا سر نیچا ہوا اور مدینہ میں اسلام کی مزید اشاعت تیزی کے ساتھ شروع ہوگئی۔ مدینہ میں بنو اوس اور بنو خزرج قبائل کے بہت سے لوگوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وہ ہوا کے رخ کو دیکھ رہے تھے۔ 313 کے ہاتھوں ایک ہزار قریشی سرداروں کی شکست نے ان پر لات و منات و عزیٰ و ہبل کی قوت کا کھوکھلا پن واضح کردیا۔ منافقین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عبداللہ بن ابی ’’رئیس المنافقین‘‘ نے بھی جنگ ِبدر کے بعد مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کے علاوہ بے شمار واقعات رونما ہوئے جن کے آخر میںمثبت نتائج اخذ ہوئے۔ پیغام ربانی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھر سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے‘‘ (الانفال:47-45)۔ اور کہا کہ : ’’اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو، تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجائو اور اللہ پر بھروسا کرو، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘ (الانفال:61-60)۔ یہ ہے وہ پیغام کہ جس پر چل کر آج ایک بار پھر امت ِمسلمہ سربلند ہوسکتی ہے۔ اس میں پہلی چیز اللہ کو مکمل طور پر اپنا رب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا قائد و رہنما تسلیم کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ہم کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں، یعنی اللہ کو رب کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول۔ لیکن پھر بھی معاملہ اس کے برخلاف ہے اور ہماری ذلت و رسوائی میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ غور کرنے اور سوچنے کا مقام ہے کہ کیا زبان سے اللہ کو رب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تسلیم کرلینا کافی ہے؟ کرنے کا کام: یہ حقیقت ہے کہ جہاں اخلاقی قوت کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت ہر قسم کی مادی قوت کا حصول اور دل کھول کر خرچ کرنا بھی ضروری ہے، وہیں دشمن کے خلاف معرکہ میں ثبات اور ذکر الٰہی جتنا ضروری ہے اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افتراق و انتشار اور جھگڑوں سے پاک رہا جائے اور اتحاد و اتفاق ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ یہی وہ راہ ہے جس کو اختیار کرنا، اس پر عمل پیرا ہونا، اس کی تشہیر و تفسیر بیان کرنا ہر خاص و عام مسلمان کے لیے لازم آتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کایہ پیغام ہمیں اپنی طرزِ زندگی کو بدلنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہمیں اس مہینے میں اپنے اندر اور مسلمان ملّت میں ان حقائق کی روح پھونکنے کا عزم کرلینا چاہیے۔ یہی وہ راہ ہے جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو!‘‘

حضرت لبیدؓ بن ربیعہ عامری

حضرت لبیدؓ بن ربیعہ عامری

- طالب ہاشمی
ابوعقیل لبیدؓ بن ربیعہ عامری کا شمار جاہلی عرب کے ان شعراء میں ہوتا ہے جو عزت اور شہرت کے آسمان پر آفتاب بن کر چمکے اور دنیا نے جنہیں امراء القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر بن ابی سلمیٰ، عمرو بن کلثوم، اعشیٰ بن قیس اور طرفہ بن العبد جیسے نامور شعراء کی صف کا شاعر تسلیم کیا۔ لبیدؓ کی عظمت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ خود سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بعض اشعار پر اظہارِ پسندیدگی فرمایا۔ وہ ان سات شعراء (اصحاب المعلقات یا المذّہبات) میں سے ایک تھے جن کے قصائد زمانۂ جاہلیت میں اہلِ مکہ نے کعبہ میں آویزاں کررکھے تھے۔ لبیدؓ کا نسب نامہ یہ ہے: لبیدؓ بن ربیعہ بن عامر بن مالک بن جعفر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر صعصعہ عامری۔ لبیدؓ کے والد ربیعہ بن عامر اپنے قبیلے کے رئوسا میں سے تھے اور جودوسخا میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ بیسیوں غرباء و مساکین ان کے دسترخوان پر پرورش پاتے تھے، اور ان کی اسی فیاضی اور سیرچشمی نے انہیں قوم کی طرف سے ’’ربیع المقرّین‘‘ کا خطاب دلایا تھا۔ لبیدؓ اسی نامور باپ کے خلف الرشید تھے۔ فیاضی اور غریب پروری انہوں نے باپ سے ورثے میں پائی اور تمام عمر اسے بڑی شان اور وقار سے نباہا۔ اس کے علاوہ وہ شجاعت و شہامت، شہسواری، سلامتیٔ طبع اور راست بازی جیسے اوصاف سے بھی آراستہ تھے۔ ان کو اوائل عمر ہی سے شعر و شاعری سے لگائو تھا۔ عہدِ شباب میں ایک دفعہ اپنے چچائوں کے ساتھ نعمان ابوقابوس کے دربار میں گئے تو وہاں عظیم جاہلی شاعر نابغہ ذبیانی سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے ان کا کلام سن کر بہت داد دی اور کہا کہ تم بنی عامر اور بنو قیس کے تمام شاعروں سے بڑھ گئے۔ اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ جاہلی عرب کے شعراء کی صفِ اوّل میں آگئے اور تمام عالمِ عرب میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ ……٭٭٭…… زمانۂ جاہلیت میں لبیدؓ اکثر مکے آتے جاتے رہتے تھے۔ اپنے شاعرانہ کمالات کی بدولت وہ قریش کے نزدیک بڑی قدرومنزلت کے حامل تھے۔ ابن اثیرؒ کا بیان ہے کہ 5 بعدِ بعثت میں ایک دفعہ وہ مکہ آئے تو اہلِ مکہ نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ اُس وقت تک شرفِ اسلام سے بہرہ ور نہیں ہوئے تھے اس لیے حسبِ سابق قریش کی محافلِ شعر و سخن کو گرمانے لگے۔ ایک دن ایسی ہی ایک محفل میں اپنا قصیدہ سنا رہے تھے، جب یہ مصرع پڑھا: الاکل شیًٔ ماخلا اللہ باطِل (خبردار رہو کہ اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے) تو جلیل القدر صحابی حضرت عثمانؓ بن مظعون، جو اس مجلس میں موجود تھے، بے اختیار پکار اٹھے: ’’تم نے سچ کہا۔‘‘ لیکن جب انہوں نے دوسرا مصرع پڑھا: وکل نعیمٍ لامحالۃ زائلٌ (اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہونے والی ہے) تو حضرت عثمانؓ بن مظعون بول اٹھے: ’’یہ غلط ہے، جنت کی نعمتیں ابدی ہیں اور کبھی زائل نہ ہوں گی۔‘‘ اس پر سارے مجمع میں شور مچ گیا، لوگ حضرت عثمانؓ بن مظعون کو برا بھلا کہنے لگے اور لبید سے یہ شعر دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے اس شعر کی تکرار کی تو حضرت عثمانؓ نے بھی اپنے الفاظ کا اعادہ کیا۔ اس پر لبید سخت برافروختہ ہوئے اور قریش سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: ’’اے برادرانِ قریش، خدا کی قسم پہلے تمہاری مجلسوں کی یہ کیفیت نہ تھی، نہ ان میں بیٹھنا کسی کے لیے باعثِ ننگ و عار تھا اور نہ کبھی بدتمیزی نے ان میں راہ پائی تھی۔ اگر یہ شخص مجھے اسی طرح ٹوکتا رہا تو میں اپنا کلام سنا چکا۔‘‘ لبیدؓ کی باتیں سن کر مشرکین بھڑک اٹھے اور انہوں نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کو برا بھلا کہنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اس موقع پر جو ہوا سو ہوا لیکن جب اس واقعہ کے پندرہ سولہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے لبیدؓ بن ربیعہ کو بھی آستانۂ اسلام پر جھکادیا تو ان کے روئیں روئیں نے گواہی دی کہ بے شک عثمانؓ بن مظعون نے جو کچھ کہا تھا، وہ سچ تھا۔ حافظ ابن عبدالبرؒ نے ’’الاستیعاب‘‘ میں لکھا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیدؓ کا یہ مصرع بہت پسند تھا: الاکل شییًٔ ما خلا اللہ باطل حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شعراء کے کلام میں لبیدؓ کا یہ کلام بہت اچھا ہے۔ ……٭٭٭…… لبیدؓ کے والد نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا، خود لبیدؓ بعثت ِنبوی کے وقت بوڑھے ہوچکے تھے۔ اگرچہ وہ فطرتاً ایک سلیم الطبع اور شریف النفس آدمی تھے لیکن تعجب ہے کہ وہ عہدِ رسالت کے آخر میں شرفِ اسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ بڑھاپے میں اپنا آبائی مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ حافظ ابن عبدالبرؒ اور بعض دوسرے اہلِ سِیَر نے لکھا ہے کہ حضرت لبیدؓ بن ربیعہؓ 9 ہجری میں قبیلہ بنو جعفر بن کلاب کے وفد کے ساتھ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور سعادت اندوزِ اسلام ہوگئے۔ اُس وقت ان کی عمر بہ اختلافِ روایت نوّے یا ایک سو تیرہ برس کی تھی۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ حضرت لبیدؓ بن ربیعہ نے 41 ہجری میں 145 سال کی عمر میں بمقام کوفہ وفات پائی۔ اس حساب سے قبولِ اسلام کے وقت یعنی 9 ہجری میں ان کی عمر 113 برس کے لگ بھگ ٹھیرتی ہے، گویا وہ حالتِ اسلام میں 22 برس جیئے۔ دوسری طرف ’’اصابہ‘‘ اور ’’اغانی‘‘ کی راویت کے مطابق وہ حالتِ اسلام میں 55 برس جیئے۔ اس حساب سے قبولِِ اسلام کے وقت ان کی عمر نوّے برس قرار دینی پڑے گی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اکثر ارباب سِیَر نے لکھا ہے کہ ایمان لانے کے بعد حضرت لبیدؓ نے شاعری ترک کردی اور تادم ِمرگ ایک یا دو کے سوا کوئی شعر نہیں کہا، فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے شعر کے عوض سورۂ بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں ایک مرتبہ حضرت لبیدؓ سے پوچھ بھیجا کہ آپ نے زمانۂ اسلام میں کون سے اشعار کہے۔ جب انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ شعر کے عوض مجھے اللہ نے بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں تو حضرت عمرؓ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے لبیدؓ کا وظیفہ بڑھاکر دو ہزار کردیا۔ ایک روایت میں ہے کہ امیر معاویہؓ نے اپنے زمانے میں ایک مرتبہ حضرت لبیدؓ سے کہا: لبید میرا اور تمہارا وظیفہ برابر ہے، میں تمہارا وظیفہ گھٹادوں گا۔ انہوں نے کہا: ’’کچھ دن توقف کیجیے، اس کے بعد میرا وظیفہ بھی آپ ہی لے لیجیے گا۔‘‘ (یہ اپنی کبر سنی کی طرف اشارہ تھا) امیر معاویہؓ نے شاید ازراہِ تفنن وظیفہ گھٹانے کی بات کی تھی۔ حضرت لبیدؓ کا جواب سن کر وہ خاموش ہوگئے اور وظیفہ کی رقم میں کوئی کمی نہیں کی۔ حضرت لبیدؓ نہایت مخیر اور کشادہ دست تھے، اس لیے معقول وظیفہ کے باوجود وہ تنگدست رہتے تھے۔ حافظ ابن عبدالبرؒ کا بیان ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں عہد کیا تھا کہ جب بادِ صبا چلا کرے گی تو وہ جانور ذبح کرکے لوگوں کو کھلایا کریں گے۔ اس عہد کو وہ زندگی بھر نباہتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو ان کی تنگدستی کا علم ہوگیا تھا چنانچہ جب بادِ صبا چلتی تو وہ اونٹ جمع کرکے ان کی خدمت میں ہدیۃً پیش کردیتے تھے اور وہ انہیں ذبح کرکے لوگوں کو کھلا دیتے۔ اس طرح ان کا عہد اور ارمان دونوں پورے ہوجاتے تھے۔ ……٭٭٭…… اربابِ سِیَر نے حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کے محاسنِ اخلاق کی بے حد تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ نہایت مخیر، فیاض، شہسوار، شجاع اور صادق القول تھے۔ جاہلیت میں بھی معزز اور شریف تھے اور اسلام میں بھی۔ ابن قتیبہؒ نے ان کے سلیم الفطرت ہونے کے ثبوت میں یہ شعر پیش کیا ہے جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں کہا تھا؎ وکل امری یومًا سیعلم سعیہ اذا کشفٍ عندالا لہ المحاصل (اور ہر انسان کو اپنی کوششوں کا نتیجہ اُس وقت معلوم ہو گا جب اس کے نتائج اللہ کے سامنے ظاہر ہوں گے) عرب کے فحول شعراء میں حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ ایک دفعہ عرب کا نامور شاعر فرزوق ان کا یہ شعر سن کر بے اختیار سجدے میں گر گیا: رجلا السیول عن الطول کانھا زبر تجد متونھا اقلامھا (اور سیلاب نے ٹیلوں کو اس طرح مجلّیٰ کردیا گویا وہ کتاب کے صفحات ہیں جن کے متن کو قلم نے درست کیا) لوگوں نے فرزوق سے پوچھا: ’’یہ کیسا سجدہ ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’یہ سجدۂ شعر ہے، جس طرح لوگ قرآن کے مقاماتِ سجدہ کو جانتے ہیں، میں شاعری کے مقامِ سجدہ کو پہچانتا ہوں۔‘‘ حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کا دیوان چھپ چکا ہے اور اس کی جرمن زبان مین شرح بھی لکھی جا چکی ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Friday, 3 August 2012

ZAKAT: ISLAMI IQTESADIYAT KI BUNIYAD


DOOSRA ASHRA GUNAHON SE TAUBA KI SAADAT


Roza: Rooh ko hamdard ghamgusar bananey ka nuskha

روزہ:روح کو ہمدردمہربا ن اور غم گسار بنا نے کا نسخہ


اللہ رب العالمین کا منتخب کردہ مہینہ جوبابرکت اور باعظمت ہے جس کو ہم رمضان المبارک کے نا م سے جانتے ہیں ہمارے اوپر سایۂ فگن ہے ۔ اس کا عشر ہ ٔ رحمت تین دنقبل ہم سے رخصت بھی ہو ا۔ اب عشرہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں پر روزے فرض کئے گئے ہیں تاکہ وہ تقویٰ او رپرہیزگاری سے اپنے نفس کو سیراب کریں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو! تم پرروزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح ان لوگوں پر لازم کئے گئے تھے جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔(البقرہ:۳۸)
سب سے پہلی اور سب سے نمایاں چیز تو یہ ہے کہ روزہ انسان میںخدا ترسی کی صف اور تقویٰ کا جوہر پیدا کرتاہے جیسا کہ قرآن مجید نے روزے کے فرضیت کا جو اعلان کیا ہے اس میں یہ حقیقت صراحت سے مذکورہے ۔
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوسکے۔(سورہ البقرہ:۳۸)۔اسی طرح نبیؐ فرماتے ہیں : الصوم جنۃ ۔(مسلم)
روزہ دنیا میں گناہوں سے اور آخرت میں دوزخ سے بچانے والی ڈھال ہے یعنی روز ہ انسان میں تقویٰ کی صفت پیداکرتا ہے ۔ تقویٰ کی جامع اور مختصر تعریف جو حضرت ابی ابن کعبؓ نے حضرت عمرؓ کے سوال کے جواب میں بیان کی وہ یہ ہے حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا’’ تقویٰ کسے کہتے ہیں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! کیا آپ کو کبھی کسی ایسے راستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے جس کے چاروں طرف خار دار جھاڑیاں ہوں اور راستہ تنگ ہو ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا : ’’بارہا‘‘ ۔ انہوں نے پوچھا تو ایسے موقع پر آپؓ کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا : ’’میں دامن سمیٹ لیتاہوں اورو بچتا ہوا چلتاہوں کہ دامن کانٹوں میں نہ اُلجھ جائے‘‘۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے کہا ’’ بسی اس کا نام تقویٰ ہے‘‘۔
تقویٰ کی اس تعریف سے رہبانیت اور اس جیسے دوسرے باطل تصورات کی یکسر نفی ہوتی ہے جن میں یہ باور کرایا جاتاہے کہ اللہ رب العالمین کا تقویٰ اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک بندہ دنیوی مصروفیات اور مشغولیات سے یکسر بے نیاز ہوکر جنگل اور بیابان کا رُخ کرے اس کے بغیر وہ تقویٰ کے ادنیٰ درجے تک بھی نہیں پہنچ سکتاہے مگر شریعت اسلامیہ میں ان باطل تصورات کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی حقیقی اور صحیح تعریف ایک داعی حق کے لئے ہمت اور حوصلہ کا مقام رکھتی ہے کہ معاشرے میں رہ کر اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرنا اور اس راہ میں مصائب اور مشکلات برداشت کرنا ہی اصل میں تقویٰ کی شاہراہ خاص ہے جو تکلیف ہم ماہِ رمضان میں اُٹھانے کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں تاکہ ہم پرہیزگار بن جائیں اسی بات کو اللہ کے رسولؐ نے ایک حدیث میں کچھ اس طرح سے ارشاد فرمایا : وہ مومن جو لوگوں میں جاکرتکلیف اُٹھاتا ہے اور اس پر صبر کرنا ہے اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے نہیں ملتا اور تکلیف بھی نہیں اُٹھاتا‘‘۔
بظاہر روزے کی یہی امتیازی حقیقت تھی جس کی بناء پر قرآن نے لعلکم تتقون اگرفرمایا ہے تو صرف روزے کے حکم کے ساتھ فرمایاہے کسی اور عبادت کے حکم کے ساتھ ان لفظوں کا اعادہ نہیں کیا ہے حالانکہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم تھی کہ انسان میں نیکی کا جوہر اور تقویٰ کا نور ہرعبادت پیدا کرتی ہے پھر غالباً روزے کی یہی امتیازی حیثیت تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مخصوص اسی ایک فعل عبادت کو اپنا ’’یا‘‘ اپنے لئے فرمایا اور اجروثواب کی میزان میں بھی اسے سب سے زیادہ باوزن قرار دیا ہے ۔ نبیؐ نے فرمایا ان انسان کے ہر عمل خیرکا اجردس گناہ سے لے کرسات سو گنا تک ملے گا ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ لیکن روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا جتنا چاہوں گا بدلہ دوںگا۔ آخر اپنی شہوت نفس اور اپنا کھانا پینا میری ہی خاطر تو روکے رہتاہے ۔ اگر روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ کی صف پیدا ہو ۔ جیسا کہ معلوم ہوا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہی تقویٰ روزے کی اصل کسوٹی بھی ہے ۔روزے کی صورت او راس کا قانونی وجود اگر یہ ہے کہ انسان کھانے  پینے سے دور رہے تو اس کی حقیقت اور اس کا واقعی وجود یہ ہے کہ ان تمام باتوں سے دور رہا جائے جو اللہ کی ناراض کرنے والی ہوں ۔ اگر ایک شخص روزہ رکھ کر ہی صرف تین خواہشوں کو کنٹرول نہیں کرتا بلکہ ساری خواہشوں کواحکام الٰہی کے کنٹرول میں دے دیتاہے تو وہ حقیقی معنوں میں روزے دار ہے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا روزہ نہیں بلکہ صرف فاقہ ہے کیونکہ کھانے پینے اور جنسی خواہش سے اجتناب ہی اصل روزہ نہیں بلکہ اصل روزے کی طرف ظاہری صورت اور قانونی علامت ہے ۔جیسا کہ نبی ؐ فرماتے ہیں کہ ’’کتنے ہی روزے دار ہیں جن کے پلّے اپنے روزے سے پیاس کے سوا اور کچھ نہیں پڑتا یہ نام نہاد روزہ دار کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں ؟ اس کی وضاحت ایک دوسرا ارشادرسولؐ اس طرح کرتے ہیں ’’جس کسی نے روزے کی حالات میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا وہ جان لے کہ اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ وہ شخص بس اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔ ان ارشادات نے یہ بات بالکل واضح کردی کہ نفس کے صرف ان تین مطالبات پر بندش لگانے کا مقصد دراصل اس کی تمام خواہش پرقابو حاصل کرلیناہے ۔اس نے اگر کوئی شخص اس مشق اور تربیت کے ذریعے اپنے نفس کو لگام نہ لگا سکا اور روزے کی حالت میں بھی اس کی شرارتیں جاری ہیں تو بہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس نے روزے کے مقصد کو ہی نہیں سمجھا اور اگر سمجھا تو اسے اپنایا نہیں اور جب اس نے روزے کے مقصد کو سمجھایا اپنایا نہیں تو کوئی شک نہیں کہ وہ روزہ رکھ کر بھی بے روزے کا رہا اور حقیت کے اعتبار سے اس میں اور ایک بے روزہ شخص میں کوئی فرق نہ ہوگا۔
دراصل یہ مبارک مہینہ باہمی شفقت ومحبت ہمدردی وغم گساری اور ایک دوسرے کے غم اور تکلیف میں شریک ہونے کا درس دیتاہے ۔  ان معنو ں میںجہنم سے خلاصی اور جنت میں دخول کا یہ مہینہ  ہمارے لئے ایک عطیہ الہیٰہ ہے ۔ اپنی روح کو مضبوط اور نفس کو کمزور کرنے کا اس سے بہتر کوئی او رموقع نہیں ہوسکتا۔اس مہینہ کی قدر شناسی سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں اور اس کی ناقدری سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمقضان کی فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کا قوت بخشے ۔(آمین)
موبائل نمبر:- 9797213459

ZAKAT IMAN KI BAHAR - GHAREEBI KA KHATIMA JAFAKASHI KA DARS

زکوٰ ۃ:ایمان کی بہار
غریبی کاخاتمہ جفا کشی کا درس غیرت کا اظہار

ایک فلاحی اسلامی معاشرہ جن بنیادوں پر قائم رہتا ہے اُن میں ایک دوسرے کے تئیں رحم،شفقت ،محبت و مودت اور ہمدردی و غم خواری کو اہم تر مقام حاصل ہے۔یہ بات تو طے ہے کہ میدان معیشت میں حسب مقدورہر شخص بر سرجدو جہد نظر آتا ہے لیکن قدرت کے ازلی قانون کے تحت حصول سرمایہ میں سب برابر نہیں ہوسکتے اور معاشرہ میں اقتصادی لحاظ سے اونچ نیچ ایک لازمی اور فطری عمل ہے ۔ سماج کا وہ طبقہ جو کافی جدوجہد کے بعد بھی جینے کی حد تک اپنی ساری ضروریات پوری نہیں کرسکتا،سلام نے اُن سے آنکھیں نہیں پھیر لی ہیں اور نہ انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے بلکہ اسے اپنی نورانی اور انسان دوست تعلیمات کا اہم ترین موضوع بناکران کی امداد و عانت کوصاحب ثر و ت اور متوسط طبقا ت پر لازم ٹھہرائی ہیں۔یہاں یہ زریں اصول بھی ملحوظ نظر رہے کہ انتہائی کٹھن اورد شوار گذار حالات میں بھی اسلام اپنے پیرو کاروں کے ہاتھ میں گدائی کا کشکول دیکھنا نہیں چاہتا کہ اس سے ان کی عزت نفس کی موت بُری طرح پا ما ل ہوتی ہے، بخلاف اس کے وہ ہر لحاظ سے ایک مومن کو صابر،محنتی اور جفاکش دیکھنا چاہتا ہے اس لئے اُس نے دن بھر حلال ذرائع سے خون پسینہ ایک کر کے شام کو اپنے اہل خانہ کو کھلانے والے ہر لقمہ تک کو صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔جفاکشی کی تعلیم اسلام کس انداز سے دیتا ہے کہ یہ واقعہ اس پر بخو بی روشنی ڈا لتا ہے کہ خود حضور اکرمؐ نے سوال کرنے والے ایک انصاری صحابی سے اُس کا پیالہ اور کمبل فروخت کروا کر اسے کچھ پیسے غذا اور با قی ر قم سے کلہاڑی خرید نے کا حکم فرمایا اور پھر اس کلہاڑی میں خود اپنے مبارک ہاتھوں سے دستہ لگایا۔ اُسے یہ فرماکر جنگل سے لکڑی کا ٹنے کا راستہ دکھایا کہ توپندرہ دن تک میری مقدس نگاہوں سے نہ گذرے۔سائل در بار رسالت سے رخصت ہوکر جنگل چلا گیا ،مشقت شروع کردی ،کاٹی ہوئی لکڑی شام کو بازار میں فروخت کرنے لگا،کچھ پیسہ مل گیا۔ضروریات زندگی کی کچھ اشیاء خریدیں ۔پندرہ روز کے بعد حاضرخدمت ہوکر سرگذشت سنائی تو زبان و حیٔ ترجمان گویاہوئی:یہ(یعنی مشقت کا یہ عمل)اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم کسی سے بھیک مانگو۔اور قیامت کے دن ذِلت اٹھا،و،فرمایا:’’سوال کرنا تین حالتوں میں درست ہے۔سخت افلاس یا قرض میں یا خون ناحق کے تاوان میں‘‘۔
غرض اسلام دستِ سوال دراز کرنے یا بھیک ما نگنے کے ہر عمل کو انتہائی ناپسند کرتا ہے ۔کچھ حضرات جو محنت سے جی چرانے اور پاؤں پسارے کوئی کام کئے بنا کھانے کے عادی ہوتے ہیں اور کام کاج سے بچنے کے لئے اس حدیث نبوی کو دلیل بناتے ہیں اور اس کو تو کل کا نام دیتے ہیں کہ ’’ اگر تم خدا پر بھروسہ کرو تو وہ تم کو پرندوں کی طرع رزق عطا کرے گا ،تم دیکھتے ہو کہ وہ صبح خالی پیٹ گھونسلوں سے نکلتے ہیں لیکن شام کو آسودہ ہو کر واپس آتے ہیں‘‘ دراصل وہ اس مقدس ارشاد کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے میں دانستہ یا نادانستہ غلطی کے مر تکب ہوتے ہیں۔حدیث کی اصل روح تو یہی ہے کہ پرندے شام کو شکم سیر ہو کر جب ہی آتے ہیں جب وہ دن بھر حصول رزق کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ حدیث نبوی تو معاشی جدو جہد کوجاری رکھنے پر دال ہے۔یہاں ایک انتہائی سبق آموز حکایت بھی اس حوالہ سے سپرد قلم کرنا منا سب ہو گا ،جو ہمیں حصول معاش کے لئے جدو جہد اور بے بسوں کی امداد کے تعلق سے بھی درس زریں فراہم کرتی ہے۔ایک مشہور بزرگ شفیق بلخیؒ جب اپنے ہم عصر حضرت ابراہیم بن ادھم ؒکے پاس سفر تجارت پر روانہ ہونے کے لئے اُن سے رخصت حاصل کرنے لگے ،دعائیں  لے کر رخصت ہوئے تو تو قع کے خلاف چندہی روز بعد ابراہیم بن ادھمؒ نے اُنہیں مسجد میں دیکھ کر اندار ہی اندر تاسف کا اظہار کیا کہ یاالٰہی بس تھوڑے سے دنوں میں حضرت شفیق کو نسی تجارت کر کے آئے ہیں؟۔حضرت شفیق پھر حاضر خدمت ہوئے اور فوری واپسی کے وجوہات بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت دوران سفر ایک تاریک جنگل میں ایک بے بس معذوراور اندھے پر ندے کو دیکھ لیا، اس کی زندگی کی گاڑی کیسے چلتی ہوگی؟گذر بسر کیسے ہوتی ہوگی ؟بھلا اس جنگل میں اُس کی غذائی ضروریات کون پوری کرتا ہوگا؟ اسی سوچ میں مگن تھا کہ ایک اور پرندے نے اپنی چونچ میں کوئی شئے لاکر اس کے سامنے رکھ دی اور خود فضاؤں میں اُڑ کر محو پرواز ہوا،ادھراس معذور اور اندھے پر ندے نے اس کے سامنے ڈالے ہوئے دانے کھاکر شکم سیری کا سامان کر ہی لیا۔تو پھر کیا ہوا؟ابراہیم بن ادھمؒ نے سوال کیا ۔حضرت پھر کیا ہونا تھا،میر اتو تجارت کا ارادہ ہی بدل کیا اور سوچا کہ ان کھنڈرات میں بھی اللہ اگر ایک معذور داندھے پرندے کے رزق کا اہتمام کرتا ہے تو میں کیوں حصول رزق کی تلاش میں صحراو بیابان اور شہر و دیہات کی خاک چھانتا پھروں؟شفیق بلخی بولے: اچھا تم نے اس واقعہ سے یہ سبق حاصل کیا ، ابراہیم بن ادھمؒ نے جواب دیااصل میں اس واقعہ میں جو فلسفہ پوشید ہ ہے وہ تم سمجھے ہی نہیں ہو۔تم نے کیوں وہ پرندہ بننا پسند کیا جو انتہائی معذورو بے بس ہے اور دوسروں کے دانہ پانی کا محتاج ہے۔وہ پرندہ بننے میں تم خوش کیوں نہیں جو دن بھر خود معاش ورزق کی تلاش میں رہا ،خود بھی آسودہ ہوا اور ایک اور بے بس پرندے کی شکم سیر ی کا سامان بھی کردیا۔یہ سن کر حضرت شفیق کی آنکھیں کھل گئیں۔بزرگ کے ہاتھوں کو چوما،ایستادہ ہوئے اور سفر تجارت پر روزانہ ہوئے۔
ہاں! کا ن کھو ل کر سن لیںاسلام ایک مومن کو زبردست جفا کشی اور محنت کا درس دیتا ہے اور خوامخواہ گداگری اور دست سوال دراز کرنے کے عمل سے اسے شدید نفرت ہے بلکہ یہ اس کے مزاج سے متصادم ہے ۔ اس نے اوپر والے ہا تھ یعنی دینے والے ہا تھ کو نیچے والے ہاتھ یعنی لینے والے ہا تھ پر ترجیح دی ہے ۔ اس لئے حضور ا  کا فرمان ہے۔’’تم میں سے جو بھیک مانگتا ہے وہ جب خدا کے سامنے جائے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی‘‘۔(بخاری)۔ایک اور دفعہ ارشاد فرمایا’’جس نے پائی پائی جوڑنے کے لئے لوگوں سے سوال کیا وہ درحقیقت روپے کا نہیں آگ کا سوال کرتا ہے۔ اب یہ اس کا کام ہے کہ آگ کے اس ڈھیر کو کم کرے یا زیادہ کرے‘‘۔(مسلم)۔ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا ’’جس نے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کیا ِ،خدا اُس کے لئے غربت اور افلاس کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘۔دیکھا آپ نے۔ خدا کا یہ آخری رسول ؐ جو بلاوجہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیںسے کس وجہ ناراض ہیں۔ہاں جیسا کہ عرض کر چکا کہ اسلام انتہادرجے کی محنت کے بعد بھی اپنی ضروریات پوری نہ ہونے والے اپنے پیرو کا ر کویوں ہی نہیں چھوڑ تا بلکہ غربت وتہی دستی کے شکاران لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکواۃ کا ایک مربوط اور مضبوط قاعدہ بنا کے رکھ دیا ہے اور صاحب ِنصاب لوگوں کی اس حکم کی تعمیل میں پہلوتہی کو اُن کے لئے شدید عذاب کا موجب گرد انتا ہے اور زکواۃ کی اس بروقت ادا ئیگی کو سورہ مومنون میں کامیابی کی دلیل ،سورہ نمل میں موجب ہدایت و خوش خبری قرار دیتے ہوئے سورہ فصلت میں اس کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کو یہ وعید سناتا ہے۔’’کہ بُرا ہو مشرکوں کا یہ نہ زکواۃ ادا کرتے ہیں اور نہ ہی آخرت پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔
قران نے ملت و قوم کے صاحب ثروت لوگوں کو یہ باورکرادیا ہے کہ یہ دولت کی ریل پیل ،یہ باغات ،یہ عالی شان محلات،یہ آرام دہ سواریاں ،تمہاری ذہنی اُپج اور زور بازو کا کمال نہیں بلکہ یہ تم پر اللہ تعالی کا فضل و احسان ہے۔اس دولت و مال میں مصیبت اور غربت کے ماروں کا خاص حق ہے جس کی عدم ادائیگی تمہیں بُرے انجام سے دوچار کرکے ہی رہے گی۔چشم فلک نے ان احکامات پر عمل پیرا اس خوش نصیب معاشرہ کو بھی دیکھ لیا کہ جس نے اسلا می احکامات وہدایات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈحا لا تو بہت مدت تک پھر لاکھ ڈھونڈے میں بھی کوئی زکواۃ دینے والو ں کوزکوٰاۃ لینے والا مل نہیں پایا۔یہ بھی واضح رہے کہ اسلام نے زکواۃ کے حقداروں کے مدات بھی مقرر کئے ہیں اور اس کے لئے ہم سبھوں بالخصوص صاحب ثروت و نصاب والے لو گوں کے لئے قرآن حکیم کی سورہ توبہ کی آیت ۶۰ کو بہ نظر غائیر دیکھنا اور پھر اس کی تشریح و توضیح سے مستفید ہونا لازم بن جاتا ہے۔ان اہم مدات میں سب سے پہلے فقراء و مساکین کا نمبر ہے۔فقراء مساکین کی تعریف میں قول راجح یہی ہے کہ فقیر وہ ہے جو ضرورت اور حاجت  مند ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے اور مسکین وہ ہے جو ہر کس ناکس کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے،اور بعض نے یہ کہا ہے کہ فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو ہواور مسکین وہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو۔بہر حال یہ بات تو دواور چار کی طرح واضح ہوگئی کہ پیشہ ور گدا گروں کا زکواۃ میں کوئی حصہ نہیں۔جن کی لمبی لمبی قطاریں مسجدوں، خانقاہوں، بازاروں اور صاحب حیثیت لوگوں کے دروازںاور بس اڈوں یا دوسری جگہو ں پرسر گرداں نظر آتی ہیں۔خود حضور ا نے فقیر کی تعریف یوں فرمائی ہے ۔’’ایک یا دو کھجوروں یا روٹی کے چند لقموں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے والا فقیر نہیں ،فقیر وہ ہوتا ہے جو ہر ایک سے سوال نہ کرے۔ چنانچہ تم چاہو تویہ آیت پڑھو۔ ویئسلون الناس الحافا۔ (بقرہ۲۷۳)‘‘۔
 ہمارے یہا ںکام چوری ،بے وجہ بھک منگی ،کہالت و سستی تو ایک عرصہ سے کچھ لوگوں کی فطرت ثانیہ بن کے رہ گئی ہے اور یہ لوگ نت نئے بہانے بناکر فرضی داستانیں گھڑ کر سُننے والوں کے دلوں کو نرم کرکے دن کے اُجالے میںانہیں لوٹ لیتے ہیں،یہ بس آج کی صورت حال نہیں سینکڑوں برس قبل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی۔’’امام غزلی ؒ نے ان جیسے لوگوں اور ان کی بہانہ بازیوں کو خوب جانچا پر کھا ہے۔فرماتے ہیں:’’یہ لوگ اپنی مسکینی و محتاجی اور لا چاری کو ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے ڈھونگ رچاتے ہیں،ان کی بعض حرکا ت ایسی ہیں جو اُنہیں قابل رحم بناتی ہیں کچھ سچ مچ اندھے بن جاتے ہیں اور کچھ اندھوں کے سرپر ست اور بعض کسی فالج زدہ،پاگل یا اپاہج یا بیمار کا روپ دھار لیتے ہیں۔یہ لوگ سچے جھوٹے قصے مقفیٰ عبارتیں اور جوشیلی نظموں کا سہارا لیتے ہیں۔ان کی تاثیر اُس وقت زیادہ ہوجاتی ہے جب اُن میں مذہب کی آمیزش یا حسن و عشق کا سوزو گداز شامل ہوتا ہے۔کچھ لوگ ساز وآواز کا سہارا لیتے ہیںاور چنگ و رباب سے لوگوں کو مسحور کرلیتے ہیں‘‘(احیاء علوم دین۔صفحہ ۱۹۸۔۱۹۷ جلد ۔۳) دیکھا آپ نے حضرت امام غزالیؒ نے صدیو ں پہلے اس قبیل کے لوگوں کی جعلسازیوں کا بھانڈ ابیچ چورا ہے پر پھوڑ دیا ہے اور تا ایں دم یہ صورت حال کچھ نئی شکلوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ رمضان المبارک۱۴۳۳ھ اپنے جوبن پر ہے اورگداگروں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہر طرف لگے ہوئے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی یہ بھیڑہمیں زکواۃ کی ادائیگی کے وقت اصل حقدار تک رسائی حاصل کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہو ۔یاد رہے کہ ہزاروں لاکھوں ہمارے مستحق امداد بھائی بہن اس وقت خون کے آنسو رور ہے ہیں، رمضان کے ایام میں جانے کتنے کھروں میں کتنے دنوں چولہا تک نہ جلا ہو،جو مساکین و فقراء کے زمرے میں آتے ہیں،ستم ہائے روز گار کے شکار تہی دست لوگوں کا یہ کارواں اپنی داستان درد سنانے پہ آئے تو پھر پہاڑوں کا سینہ بھی شق ہو جائے مگر چہرے پر زردی اور مردنی چھائے یہ لوگ ہماری نظریں بچا کے اور راستے بدل کے چلے جاتے ہیں،انہیں اپنی پریشان کُن بپتا سنانا آتاہی نہیں اور ہمارے دروازوں پر آکر اپنی حمیت کا سودا کرنا نہیں چاہتے۔ہمیں انہیں تلاشنا ہوگا،ڈھونڈنا ہوگا اور پھر تلاش کرکے ان کی ہر نوع کی دل جوئی کے سامان کرنا ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے اور یقیناً یہی لوگ ہماری امداد اور زکواۃ کے اولین مستحق ہیں ۔یا درہے یہ کام پہلے اپنے اقرباء سے شروع ہو اور پھر یہ سلسلہ آگے بڑھے ،یہی روح اسلام ہے۔ہاں یہ بھی واضح رہے،آج اگر ہم نے کسی کی مدد و اعانت کی توکل اُس کی کسی حرکت سے اگر ہمارے دل کو کوئی ٹھیس پہنچی، ردعمل میںہم نے امداد کا احسان جتلایا تو پھر خسارہ ہی خسارہ ہے۔
بہر حال ہماری امداد کے اولین حقدار فقراء مساکین ہی ہیں اور اس مد کی زبردست اہمیت ہے۔بے شک دینی مدارس اور دیگر فلا حیادارے بھی واقعی اگر وہ شرائط پورے کرتے ہوں جو اس کے لئے لازم ہیں،یہ امداد لے سکتے ہیں۔مختصر اً یہ زکواۃ سے جہاں ہمارے مال کا تزکیہ ہوتا ہے وہاں یہ حب جاہ مال ختم کرنے کا ایک اہم ترعمل اور ملت میں مساوات قائم کرنے کا کار گرذریعہ ہے۔یہی بات زکواۃ کے حوالہ سے علامہ اقبال نے یوں فرما ئی ہے  ؎
حُبِ دُنیا رافنا سازد زکوٰۃ
ہم مساوات آشنا سازد زکوٰۃ

Courtesy Kasmir Uzma Srinagar

TILAWATE QURAN KE ADAB


Roza SIHAT AUR ZINDAGI


APNE QAUL WO AMAL KO BURAIYON SE MAHEFOOZ RAKHNE KA NAM ROZA HAI


Ramzan ke tees roze ki hikmat


شریعت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

شریعت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

اسد مفتی

ایک خبرکے مطابق مسلم کمیونٹی یا امہ یا ملت یا جوبھی کہہ لیجیے ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے حوالے سے تقسیم ہوکررہ گئی ۔یہ تقسیم تین حصوں پرمشتمل ہے‘ برطانیہ ‘ ہالینڈ‘ جرمنی اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں رہنے والے مسلمان جو سعودی عرب کا ’’اتباع‘‘ کرتے ہیں انہوں نے جمعہ کو پہلا روزہ رکھاجبکہ ‘مراکش‘ ترکی اور پاکستان کوفالوکرنے والے مسلمانوں نے ہفتہ کو رمضان کا پہلا روزہ رکھا۔ ایجنٹ پارک لندن کی جامع مسجد نے جمعہ کو پہلے روزہ کا اعلان کیا جبکہ اس کی ویب سائٹ پر ہفتہ کے دن پہلے روزہ کی نوید دی گئی قبل ازیں مسلمانوں کی مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ ویورپ نے یہ بیان دے دیاتھا کہ چونکہ برطانیہ میں جمعرات کو چاندنظرآنے کا امکان نہیں اس لیے جمعہ کو شعبان کے مہینہ کی 30 تاریخ سمجھی جائے گی‘ جماعت اہلسنت مسلمانوں کی ایک نمائندہ جماعت ہے جس کی برطانیہ بھرمیں 600 سے زائد مسجدیں ہیں۔ میرے حساب سے رویت ہلال کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے دنیابھرمیں کوئی نیا یا انوکھا مسئلہ نہیں ہے یہ اختلافات صدیوں سے ہوتے آئے ہیں اور جب تک آبزرویٹری کی مددنہ لی جائے گی ہوتے رہیں گے۔ یہاں مجھے ایک فتویٰ یاد آرہاہے۔ فرماتی ہیں کہ چاندکی ہلالی شکل کی موجودگی شرعی حدکے لیے بہت ضروری ہے۔ آبروریزی کا نظام اسی وقت قابل قبول ہے جب وہ شرعی حقوق کو پوراکرے اورشرعی حدکے لیے چاندکی ہلالی شکل میں افق پر موجودگی بے حدضروری ہے۔ آپ کو یادہوگا کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیرقاضی حسین احمدنے کیا پتے کی بات کہی تھی انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاتھا کہ مولوی چانددیکھنا چھوڑدیں اور رویت ہلال کمیٹی توڑدی جائے۔ انہوں نے مزیدکہاتھاکہ میں کوئی مفتی نہیں ہوں یہ میری ذاتی رائے ہے‘ میرے خیال میں رویت ہلال کمیٹی کے ارکان میں اختلاف کی صورت میں حتمی فیصلہ حکومت وقت کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ اسی طرح یورپ اورامریکا میں مقامی حکومتوں کے فیصلوں پرعمل کرنا چاہیے‘‘قاضی حسین احمد کے جواب میں مفتی نہیں بلکہ مفتیان اہلسنت لندن کا ایک بیان شائع کیاگیا جس میں قاضی صاحب کے بیان کے برعکس یہ بتایاگیا کہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے خلاف فتویٰ (حالانکہ قاضی صاحب نے فتویٰ نہیں دیاتھا) خلاف شرع ہے جس کے نتیجہ میں انتشارپیداہوگا‘ رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ پاکستان میں موثرہے توبیرون پاکستان کیسے ردکیاجاسکتاہے؟بیان میں یہ بھی کہاگیاکہ یہ مداخلت فی الدین ہے۔ اس سال بھی لندن کے علاوہ ایمسٹرڈیم برلن اورپیرس کے علماء کا تبصرہ لائق توجہ ہے‘ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ قاضی کے فیصلے میں اگر خدانخواستہ خطابھی ہوجائے تب بھی وہ موثراور واجب التعمیل ہے‘ شک وشبہ کی بناء پر ’’شک‘‘ کا روزہ بھی رکھاجاسکتاہے‘ میرے حساب سے علماء حضرات کو چاہیے کہ وہ سائنسی معلومات سے استفادہ کرتے ہوئے صیام اور عیدوغیرہ کا تعین کرنے کے لیے مل بیٹھ کر فیصلہ کریں تاکہ یورپ کے مسلمان ایک ہی دن عیدمناسکیں‘ بعض علماء کے نزدیک عید کی تاریخ کا اعلان قبل ازوقت نہیں ہونا چاہیے اوردوسرے ملکوں بالخصوص سعودی عرب سے شہادت پرعمل کیاجائے۔ لیکن میرے حساب سے ایسا ممکن نہیں اور اس طریقے سے یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک غیرمسلم ملک میں رہتے ہوئے ہمارے کئی مخصوص مسائل ہیں‘ ضروریات ہیں مثلاً بچوں کے اسکول‘ دفاتر‘فیکٹریاں‘ہوٹل اوردوسرے اداروں سے پیشگی چھٹی‘ مسجدوں میں سیکورٹی کا انتظام اور پارکنگ سے متعلق محکمہ پولیس کی پلاننگ‘ نماز‘ روزہ اورعیدکے لیے مناسب وقت پرعمارتوں کو کرایہ پراصل کرنا اوریہ سب مسائل ’’ننگی آنکھ سے چانددیکھنا‘‘ سے حل نہیں ہوں گے اور پھر اکثروبیشتر یورپ کا موسم اپنے ابرآلودمطلع کی وجہ سے ’’ہمارے چاند‘‘ کو چھپائے رکھتاہے اس لیے حالات ‘ وقت اور موسم کا تقاضہ ہے کہ فلکیاتی وسائنسی معلومات اور حساب کتاب کی مدد سے پہلے سے چاندکی تاریخ کا تعین کرلیاجائے تاکہ عین وقت پر ’’چاند‘‘ دھوکا نہ دے جائے۔ فلکیاتی معلومات کی روشنی میں جس تاریخ کو وجود قمر اورامکان رویت ہو دونوں فارمولوں کو مدنظررکھتے ہوئے عیدکے دن کا اعلان کیاجائے اس میں مسلم یا غیرمسلم ہونے کی کوئی بندش نہیںہے‘ہم عیدوصیام کا چاند آبزرویٹری کے کہنے پر کیوں نہیں نکال سکتے؟ ایک بات جو سمجھ میںقطعی نہ آنے والی ہے وہ یہ ہے کہ غیرمسلم سورج کے طلوع ہونے اورغروب آفتاب کی اطلاع دے تو امریکا برطانیہ اور مغرب کے دوسرے ملکوں میں بسنے والے تمام مسلمان ایمان لے آتے ہیں لیکن اگروہ چاندکی اطلاع دے تو علماء اورآئمہ یہ کہہ کر ماننے سے انکارکردیتے ہیں کہ یہ غیرمسلم ہیں اورغیرمسلم کی شہادت شریعت میں معتبر نہیں ۔ برطانیہ اوریورپ میں مسلمانوں سے نمازوں اور روزوں کے جوٹائم ٹیبل بنارکھے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیاہے؟ چاندکے قبل ازوقت یا بعدازوقت نمودارہونے کا اعلان اگرقابل اعتراض ہے تو پھر سورج پر اعتراض کیوں نہیں ؟جبکہ سورج کے غروب وطلوع ہونے کا بہت پہلے اعلان کردیاجاتاہے۔ یورپ کے علمائے دین اورمفتیان شرع متین بتائیں کہ اسلامی اورشرعی نقطہ نظرسے صرف چاند کی اطلاع غیرمسلموں کی زبان ونظرسے دی جائے توناجائزہے یا سورج کے طلوع ہونے یا غروب ہونے پربھی غیرمسلم کی اطلاع باطل ہے؟ آبزرویٹری کی رپورٹ کے مطابق یہی غروب آفتاب‘ طلوع آفتاب اورنمازیوںکی نمازوںکے اوقات طے کیے جاتے ہیں۔ اگرغیرمسلموں کی شہادت شرعاً درست نہیں یا معتبرنہیں تو پھر روزوں کی طرح نمازبھی اسلام کا ایک اہم رکن ہے ایسی صورت میں سورج کے طلوع وغروب ہونے کے اوقات بھی آبزرویٹری سے نہ لیے جائیں اگر’’کافروں‘‘ کی بنائی ہوئی آبزرویٹری سے نمازوں کی فال نکالی جاسکتی ہے تو عید وصیام کے چاند پرکس بات کا جھگڑاہے؟ مفتیان دین متین عصری تقاضوں کو مدنظررکھیں نہ کہ ذاتی اور وقتی مفادات کو۔ ہوسکے تومیرے اس شعرپرغورکیجیے راہبران قوم یوں تو راہبری کرتے رہے پھربھی ساری قوم یونہی ٹھوکریں کھاتی رہی

Thursday, 2 August 2012

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم حقوق نسواں کے نقیب

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
حقوق نسواں کے نقیب

اس بات کا اندازہ لگانا از بس ضروری ہے کہ خواتین کو تعلیم ،اقتصادیات ، سماجی و سیاسی اور سب سے بڑھ کر انسانی معنوں میں اختیارات تفویض کرنے کے سلسلے میں کتنی ترقی ہوئی ہے ۔کیونکہ خواتین کو اختیارات تفویض کرنے کا معاملہ کثیر الجہتی ، کثیر العباد اور کئی تہہ والا تصور ہے ۔ یہ محض اقتصادی اختیارات کا معاملہ نہیں جیسے کہ ہمارے ہاں عام طور سمجھاجاتا ہے ۔ یہ درحقیقت کئی عوامل کاعمل اور جسمانی ،ذہنی،معاشرتی ، سیاسی ،اقتصادی ،نفسیاتی ،انداز فکر ،ردعمل ۔اس کو ایک آسان طریقے پر ایک ایسا عمل قرار دیا جاسکتاہے جس میں خواتین مادی ، انسانی اور دانشورانہ جیسے کہ علم ، معلومات ، خیالات ،مالی وسائل جیسے کہ دولت ، جائیداداور گھر،معاشرے اور قوم میں فیصلہ سازی کے مساوی حصے پر کنٹرول حاصل کرسکتی ہے ۔اس طرح وہ اختیارات حاصل کرسکتی ہے۔اس کا عام فہم معنی یہ ہے کہ بے آوازوں کو آواز عطا کی جائے ۔ یہ اصطلاح خواتین کی سماجی انصاف اور مساوات کی جدوجہد سے وابستہ ہوئی ۔یہ سرگرمیوں کے ایک وسیع تناظر کا احاطہ کرتی ہے جس کا دائرہ خود ادعائی سے اجتماعی مزاحمت احتجاج اور تحریک تک پھیلا ہواہے جو اختیارات کی بنیاد کو چیلنج کرتے ہیں ۔ اختیارات کی سپردگی کی شنوائی ہوتی ہے ،اس کو ایک مساوی انسان کے طو رپر تعظیم کی جاتی ہے ۔جس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ معاشرے میں اچھا خاصا حصہ اداکرسکتی ہے ۔ ہم خواتین میں تعلیم کی ترقی کے سلسلے میں قدرے اطمینان کا اظہار کرسکتے ہیں اور خواتین کو معاشی امپاورمنٹ کے سلسلے میں مساوی مواقع دستیاب ہونے پر بھی طمانیت کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ جہاں تک انسانی امپاورمنٹ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ شعبہ کو را ہی ہے ۔
ساختیاتی عدم مساوات ایک ایسا طریقہ ہے جس سے خواتین کو ایک منظم طریقے پر ناانصافی اور تشدد کا شکار بنایا جاتاہے جس کو ختم کرنے پر اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ ان غیر مرئی مفروضات کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے جن کے ذریعہ معاشرہ کام کرتارہاہے اور ان کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔ ان غیر مرئی مفروضات کو مردوں کی بالادستی والے معاشرے کی ساخت ہی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں ۔ ہم نے ان تک جس کی ثقافتی تاویل کو بدل نہیں ڈالا ہے جس کے ذریعہ خواتین کو تجسیم کی صورت دے کر انہیں بے قدر وقیمت ، بے اختیار اورتشدد کا غیر مرئی شکار بنایا جاتاہے ۔
خواتین کی جدیدیت اور اب عالمگیریت کے ساتھ ہی جب ان کی امپاورمنٹ تفویض کرنے کا عمل شروع ہوا تب سے متناقض طور پر خواتین پر تشدد بڑھتا ہی جارہاہے۔ تصادم آرائی کی صورتحال ، فرقہ وارانہ تنائو ، نسلی حرمان نصیبی اور نوآبادیاتی صورتحال نے خواتین کو مکمل تجسیمی صورت دے دی ہے اور ان پر ناقابل بیان ظلم توڑے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور منہ گریباں میں ڈال کر جھانکیں اور اس بات کا اعتراف کریں کہ ہم سب کسی نہ کسی طرح معاشرے میں اس ناسور کے ذمہ دار ہیں اور اس مخصوص طرز کو بدل ڈالیں جو سدراہ بنا ہواہے ۔ اس کے علاوہ اس نہج کو تبدیل کیا جائے جو اپنے تمام تر وجود کے ساتھ خواتین پرظلم وتشدد کو دوام بخشتا ہے حتیٰ کہ اس سے آنکھیں چراتاہے ۔
اقوام متحد ہ جنرل اسمبلی نے خواتین پر تشدد ختم کرنے کے اپنے اعلانیہ (1993) میں خواتین پرتشدد کی وضاحت اس طرح کی ہے : جنس کی بنیاد پر تشدد کا کوئی بھی عمل جس سے جسمانی ، جنسی یا ذہنی نقصان پہنچنے کا احتمال ہو یا خواتین کو مصائب میں مبتلا کرے یا بشمول اُن حرکات جن میں جور وجبر ، آزادی سے ظالمانہ طریقے پر محرومی شامل ہیں ۔ خواہ یہ لوگوں کے سامنے یا نجی طور پر کی جائیں ۔
اس توضیح کا اطلاق جسمانی ،جنسی اورنفسیاتی تشدد خواہ یہ گھر یا محلے پر ہوتاہے ۔اس تشدد میں خواتین کی صورت بگاڑ دینے ، لڑکیوں اور بچیوں کا جنسی استحصال ، جہیز سے تعلق رکھنے والا تشدد ،عصمت دری، عورتوں کے جنسی عضو کو تباہ کرنا اور دیگر وحشی روایتی طریقوں سے خواتین کو اذیت پہچانا ، خاوند کے علاوہ کسی دیگر شخص کی جانب سے ایذا رسانی اور استحصال ، بے تعلق رکھنے والا تشدد ، جنسی ہراسانی اور کام کرنے کی جگہ یا تعلیمی اداروں میں خوف دہی ، بردہ فروشی یا تشدد روا رکھنا یا حکومت کی جانب سے آنکھیں پھیر لینا شامل ہیں ۔
جب میں دنیا کے اپنے اس حصے پر غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالتی ہوں تو مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ اور تشویش ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے جنسی عضو کو تباہ کرنے کے بغیر متذکرہ بالا تمام بدعات موجود ہیں ۔یہ طریقۂ کار افریقہ اور عرب میں رائج ہے ۔گھریلو تشدد میں ، بیوی کی مارپیٹ ، جہیز سے متعلق تشدد ، جنسی ہراسانی ، بچوں کا جنسی استحصال ، زبانی طعنہ زنی ، گالی گلوچ والی زبان ، جذباتی اور نفسیاتی اذیت اور خوف وہراس شامل ہیں ۔ یہی بات کام کرنے کی جگہ پر صادق آتی ہے جس میں بلیک میلنگ اورتفریق تمیز شامل ہیں ۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق شہر سرینگر میں ہی شادی کے قابل چالیس ہزار لڑکیاں بَر نہیں پاسکیں کیونکہ وہ معاشی طور پر مستحکم نہیں تھیں ۔خواتین کے لئے عدم معاشی امپاورمنٹ کا تاریک پہلو نہایت ہی تباہ کن ہے کیونکہ اس سے وہ قابل فروخت شئے بن گئی ہیں ۔
ایک لمحے کے لئے یورپ اور امریکی خواتین کے امپاورمنٹ کے تصورات کو ایک طرف چھوڑ دیجئے کیونکہ مغربی خواتین کی تحریک اور خواتین کے حقوق کے تئیں عہد صرف ایک سوسالہ پرانا ہے ۔ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے پر فخر ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 1400برس قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مشن کا اہم ترین محرک خواتین کو مردوں کے ظالمانہ طوقِ غلامی سے نجات دلانا تھا اور ان کو انسانوں کا درجہ دلانا تھا ۔ آپؐ کا یہ دانشورانہ عہد وپیماں تھا ، ایک عظیم روحانی تمنّا تھی جس کو معنوی صورت عطا کرنے کے لئے ایک سیاسی تحریک چلائی گئی تاکہ خواتین کے انصاف حاصل کیا جائے او رانہیں مردوں کے تسلط والے معاشرے کے جوروتعدی کے اثرات سے نجات دلائی جائے ۔
آپؐ نے ایک عادلانہ ، پُرامن اور محاسن انسانی سے متصف سماجی نظام قائم کرنے کے لئے سعی بار آور کیں جن کی بدولت خواتین کو مردوں کی مساوی سطح پر لایا گیا ۔ اس حد تک کہ آپؐ نے اس تحریک کو اپنے الواداعی خطبے پر منتج کیا۔ مردوں سے خطاب کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا : ’’آپ کو اپنی خواتین پر حقوق حاصل ہیں اور خواتین کو آپ پر حقوق حاصل ہیں ‘‘۔ اب ہمیں صرف اس عہدوپیمان کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمودہ کا اعادہ کرناہے اور آپؐ کی وساطت سے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرناہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر سختی سے کاربند رہیں گے اور خواتین پر کئے جانے والے تشدد کے مختلف طریقوں کو بیح و بن سے اکھاڑڈالیں گے اور ان کے حقوق بشری کو تسلیم کریں گے تاکہ محاسن انصافی سے متصف اور پُرامن معاشرہ تعمیر ہو ۔ اس طرح ہم اس تشدد آمیز دور میں دنیا کی رہنمائی کرسکتے ہیں ۔
……………………………
کالم نویس کشمیریونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں پروفیسراور معروف انسانی حقوق کارکن ہیں۔

Wednesday, 1 August 2012

IGRF SEMINAR REPORT

غازی محمد بن قاسم ایک بہترین مدبر،منظم اور مثالی حکمران تھے
محبت وعقیدت میں غیر مسلموں نے ان کے مجسمے بنا کر پوجنا شروع کردیا  ۔ ایاز الشیخ

گلبرگہ ۔  رمضان المبارک ہمارے لیے کئی اہم تاریخی واقعات کی بنا پر بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ 17 رمضان کو جنگ بدر ہوئی جو حق و باطل کے درمیان پہلا معرکہ تھا، جس نے حق کی فتح کو راسخ کر دیا اور جس کے نتیجے میں آگے چل کر روم و فارس کی سلطنتیں بھی اسلامی پرچم کے زیر نگیں آگئیں۔ 10 رمضان کو محمد بن قاسم کی زیر کمان مسلم فوج نے سندھ کو فتح کیا۔محمد بن قاسم نے اپنی مظلوم بہن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے نہ صرف ان کو راجا داہر کے ظلم سے نجات دلائی بلکہ اہل سندھ کو  اسلام کے آفاقی پیغام سے روشناس کیا یہی وجہ ہے کہ سندھ کو باب الاسلام کا درجہ ملاجس کے بعد پورے برصغیر میں اسلام کی دعوت پھیلی۔ آج بھی غازی سندھ محمد بن قاسم کو سندھ کے عوام ہیرو کے طور پر یاد کرتے ہیں۔'' ان خیالات کا اظہار جناب ایاز الشیخ، چیرمین امام غزالی ریسرچ فاونڈیشن نے اے ایل سی لکچر ہال میں منعقد سیمینار کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن قاسم   کی شخصیت تاریخ اسلام میں نمایاں مقام رکھتی ہے، انہوں نے محظ 17 سال کی عمر ہی سندھ کو فتح کیا تھا، یہاں کے ڈاکو اور قزاق عرب تاجروں کو بہت نقصان پہنچاتے تھے، ان کے جہازوں پر قبضہ کرلیتے اور سامان لوٹ لیتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے عرب کے جہازوں پر قبضہ کرلیا، مردوں ، عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا، جب سندھ کے حاکم راجہ داہر سے ان سب کو واپس کرنے کی درخواست کی گئی ، تو قید کردہ لوگ جیل خانے میں موجود ہونے کے باوجود یہ کہہ دیا کہ جہاز لوٹنے والوں پر ہمارا بس نہیں چلتا تم خود آکر اپنے قیدیوں کو چھڑا لو اور اپنا مال واسباب حاصل کرلو، تب محمد بن قاسم93  ھ  میںچھ ہزار کا لشکر لے کر سندھ روانہ ہوئے اور اپنے اعلی اخلاق و کردار سے سندھ اور ملتان وغیرہ کو فتح کرلیا اور پورے ملک میں امن ومان اور عدل وانصاف قائم کیا، سب کو مذہبی آزادی دے دی ، حتی کہ مندروں کی حفاظت و مرمت اپنے خزانے سے کرائی، کئی نئے منادر بھی تعمیرکئے ۔ پجاریوں کو سرکاری خزانہ سے وظائف مقرر کئے ، کاشت کاروں اور کاریگروں کی مدد فرمائی، اور ہر ایک کے ساتھ برابری ، عدل وانصاف کا معاملہ کیا اور تمام لوگوں کو شہری بن کر امن و امان کے ساتھ آزادانہ زندگی گذارنے کا حق دیا۔اگر سیکیولریزم کا مطلب پرامن بقائے باہمی، تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ برابری ، عدل وانصاف کا سلوک اور بلا لحاظ مذہب و قوم  تمام لوگوں کو شہری بن کر امن و امان کے ساتھ آزادانہ زندگی گذارنے کا حق دینا ہے ، تو یہ سب غازی محمد بن قاسم نے عملاًکردکھایا۔ وہ صحیح معنوں میں ہندوستان کے پہلے سیکولر حکمران تھے۔ معروف مصنف شیخ اکرم ان کے متعلق لکھتے ہیں:''محمد بن قاسم نے پرانے نظام کو حتی الوسع تبدیل نہ کیا۔ راجہ داہر کے وزیراعظم کو وزارت پر برقرار رکھا اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے تمام نظامِ سلطنت ہندوں کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ عرب فقط فوجی اور سپاہیانہ نظام کے لیے ہوتے تھے۔ مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ قاضی کرتے تھے۔ لیکن ہندوں کے لیے ان کی پنچائتیں بدستور قائم تھیں''۔
                                                                                    
ایاز الشیخ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ متصب مورخوں نے ہمیشہ مسلم حکمرانوں کی ظالمانہ تصویرپیش کی۔ لیکن کچھ انصاف پسند غیر مسلم مورخین نے حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ رما شنکر ترپاٹھی لکھتے ہیں:''سندھ کے فاتحین نے رواداری کے دور اندیشانہ پالیسی پر عمل کیا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام پھیلا، لیکن عیسائیوں کے گرجوں، یہودیوں کے عبادت خانوں اور آتش پرستوں کی قربان گاہوں کی طرح، ہندو مندر بھی محفوظ و مستحکم رہے۔ برہمنوں کو اجازت تھی کہ وہ چاہیں تو نئے مندر تعمیر کریں، چاہیں پرانے مندروں کی مرمت کرائیں۔ مذہبی رواداری کی اس سے زیادہ کیا صورت ہو گی کہ محمد بن قاسم نے جس طرح مسجدوں کے لیے اوقاف مقرر کیے، ویسے ہی مندروں کے لیے بھی جاگیریں مقرر کیں۔''  اسی طرح  معروف مورخ ڈاکٹر تارا چند، محمد بن قاسم کے متعلق لکھتے ہیں:اس مسلمان فاتح نے مفتوحوں کے ساتھ عقلمندی اور فیاضی کا سلوک کیا۔ مالگزاری کا پرانا نظام قائم رہنے دیا اور قدیمی ملازموں کو برقرار رکھا۔ ہندو پجاریوں اور برہمنوں کو اپنے مندروں میں پرستش کی اجازت دی اور ان پر فقط ایک خفیف سا محصول عائد کیا، جو آمدنی کے مطابق ادا کرنا پڑتا تھا۔ زمینداروں کو اجازت دی گئی کہ وہ برہمنوں اور مندروں کو قدیم ٹیکس دیتے رہیں۔''  سندھ کے عوام کی محمد بن قاسم سے محبت وعقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد سندھ کے غیر مسلموں نے ان کے مجسمے بنا کر ان کو پوجنا شروع کردیا ۔سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے 1988 میں شامی صدر کے دورہ کے موقعہ پر بجا طور پر کہا تھا کہ محمد بن قاسم اسلام کا پیغام لیکر ہندوستان آئے انکا پیغام امن و سلامتی اور بھائی چارہ کا تھا۔

چیرمین آئی جی آر ایف نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اپنے ہیروز کا فراموش کردیا ہے ہماری نوجوان نسل صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، موسی بن نصیر، محمد بن قاسم، محمود غزنوی، اورنگ زیب عالمگیر، التمش، شیرشاہ سوری، ٹیپو سلطان اور دیگر تاریخی شخصیات سے نا آشنا ہے۔ تعلیمی نظام کا کیا رونا ہم نے خود ان اکابرین کی سیرت سے انہیں واقف کرانے کوئی کوشش نہیں کی۔ آج ہندوستان میں ہمارا وجود انہیں بزرگان کا مرہون منت ہے لیکن انہیں فراموش کرکے ہم احسان فراموشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔  آخر میں انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ غازی محمد بن قاسم کو اپنا آئیڈئیل بنائیں ۔انکی زندگی اور کارناموں میں ہمیں اللہ پر یقین، ہمت و شجاعت، صحیح وقت پر صحیح اقدام، جن، ہوم ورک یعنی پہلے سے تیاری، اپنے سے بڑوں کی تابعداری، مذہبی رواداری، حلم اور تدبر کے سبق ملتے ہیں۔۔ مسلم خلیفہ کی تبدیلی کے بعد جب نئے خلیفہ سلیمان نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹایا تو انہوں نے ایک سچے مسلمان کی طرح اس حکم کو قبول کیا اور اس حکم کے خلاف بغاوت کرنے کے مشورے کو رد کر دیا اور بڑوں یا ہائر اتھارٹی کی تابعداری کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن قاسم نے ہمارے لئے تاریخ میں بہت اچھی مثالیں چھوڑی ہیں۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے جو ایسا نہیں کرتے وہ خود تاریخ اور آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔ آج ہم وطن عزیز میں امن و امان ، ترقی، فرقہ وارنہ ہم آہنگی چاہتے ہیں تو اس کے لئے غازی محمد بن قاسم کی پرپرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔
 
قبل ازیں سیمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کم سن بچی عفاف نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا اور کلام اقبال سنایا۔ بعد ازیں ہشتم جماعت کی طالبہ شیخہ امامہ ایازنے بزبان انگریزی محمد بن قاسم کی حیات و خدمات پر تقریر کی۔ شیخ احمد متعلم درجہ ہفتم نے محمد بن قاسم نوجوانوں کے لئے رول ماڈل کے عنوان سے بزبان انگریزی مضمون پیش کیا۔ دعا پر سیمینار کا اختتام عمل میں آیا۔

رپورٹ: محمد علی میڈیا انچارج    IGRF