Search This Blog

Monday, 9 July 2012

دعوتِ دین کے عالمی اثرات

ڈاکٹر اقبال مسعود ندوی*
دعوتِ دین کے عالمی اثرات

اسلام کی دعوت پہلے دن سے ہی جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت دینے کے لیے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دینے والا بناکر بھیجا۔یہ دعوت اسلام کی طرف بھی ہے اور اسلام پر چلنے کی بھی ہے۔ حکمت ، موعظت اور نصح و خیرخواہی کے ساتھ ۔ 
ارشاد باری ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ﴾۔                                          ﴿النحل:۱۲۵
’’اے نبی! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔
یہ دعوت انبیاءؑ  کے لیے بھی مطلوب تھی اور یہی دعوت سب کے لئے ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً قُلْ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْن۔                      ﴿حٰمٓ سجدہ: ۳۳
’’وہ کس قدر بہتر بات کرنے والا ہے جو اللہ کی طرف بلائے ، عمل صالح کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں‘‘۔
یہ دعوت اسلام کے ماننے والوں کے لیے بھی ہے کہ ان کو تذکیر سے یاد دہانی سے دعوت دی جائے۔ یہ دعوت کے ساتھ حکم بھی ہے۔ قانون بھی ہے کہ اس میں داعی، مدعو سب کے حقوق ہیں سب کی ذمے داریاں ہیں اور سب کے حدود کار ہیں۔ مگر ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ حق کی دعوت ہے۔ حق کے لیے ہے ، اللہ کے لیے ہے۔پھر اس میں مضمون بھی درست ہے اور اسلوب بھی مناسب کہ معنی بھی ٹھیک اور ادائی بھی کہ یہی ابلاغ ہے۔ پھر یہ ایک مسلسل عمل ہے :
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ الَی الْخَیْرِ۔            ﴿آل عمران: ۱۰۴
’’تم میں ﴿ہمیشہ﴾ ایسی امت رہے کہ خیر کی دعوت دیتی رہے ، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے‘‘۔
اس کارِ خیر کی ضرورت اس وقت بھی رہتی ہے جب اسلام ابتدائی دور میںہو اور اس وقت بھی جب اسلام غالب ہو۔ اسلام کی تاریخ میں یہ کام ہمیشہ جاری رہا ،کبھی بھرپور طور پر ، کبھی کمزوری کے ساتھ۔ کبھی حکومت کے وسائل کے ساتھ کبھی صرف افراد کے اپنے وسائل کے ساتھ۔ کبھی اسلام کو کھول کر بیان کرکے کبھی اسلام کا دفاع کرکے ، کبھی اسلام پر اعتراضات دور کرکے کبھی مسلمانوں کے اندر پھیلی کمزوریوں اور انحرافات پر توجہ دلاکر کبھی تجدیدی کام کرکے کبھی اصلاح کے ذریعے کبھی کلمۂ حق کہہ کر۔کبھی ایسے افراد تیار کرکے جو ایسی مہمات میں حصہ لیں کبھی علمی اداروں کے قیام سے علم و دعوت دونوں کے افراد کار تیار کرکے۔
جب مسلمانوں کے اندر زوال آیا تو وہ اپنا منصب بھولے اور وہ ادارے کمزور ہوئے جو امت کے اپنے منصب پر قائم رہنے کے لیے ضروری تھے۔ افراد کی حد تک تو کبھی انقطاع نہیں ہوا مگر انفرادی جدوجہد سے بڑھ کر نظام کو وجود میں نہ لاسکے۔
پھر المیہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا سیاسی زوال جب ہوا تو تعلیمی نظام بھی بکھرا، معاشی بدحالی بھی آئی، معاشرتی نظام بھی بکھرا اور فکری لحاظ سے ایک حیرانی اور سرگردانی کی کیفیت ہوئی۔ دوسری طرف وہ طاقتیں اٹھیں جو علمی وفکری لحاظ سے تازہ دم تھیں ۔ سیاسی لحاظ سے ایک نظام سے مربوط تھیں، عسکری طور پر ترقی یافتہ تھیں اور مادی لحاظ سے بہت آگے تک جانے کے لیے تیار افراد بھی تربیت یافتہ تھے۔ ادارے بھی فعال اور جاندار تھے اور ہدف کے لحاظ سے بھی وہ یکسو تھے۔
دھیرے دھیرے مسلمان ممالک محکومی کا شکار ہوئے۔ شروع میں مزاحمت ہوئی مگر قربانی کے علاوہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ مغربی استعمار نے دھیرے دھیرے سیاسی، قانونی، تعلیمی، معاشرتی اور ثقافتی اثرات پھیلائے اور نشانہ یہ رہا کہ مسلمان پھر سے متحدنہ ہوں۔ اس لیے اُنھیں قومیتوں میں تقسیم کیاگیا۔ اسلام کا نظام تعلیم ختم کیاگیا۔ مغربی قوانین کے ذریعے لادینی نظام کی حکمرانی ہوئی، ایسے نظریات اٹھائے گئے کہ مسلمان خود ہی اسلام سے دور ہوں یا اسلام کو مغرب کے رنگ میں رنگیں۔ مغرب سے مرعوبیت کا دور ایسا تھا کہ مغرب ہی حق وباطل کا معیار بن گیا ۔ لیکن پھر ایسی تحریکات اٹھیں جو ایک طرف مسلمانوں کو مغرب کی مرعوبیت سے نکالنے کا ذریعہ بنیں ، دوسری طرف اسلام کی طرف واپسی اور اسلام کی سربلندی کے لیے اٹھیں۔ آزادی کی تحریکوں نے بھی سیاسی میدان میں کام کیا ۔ملک آزاد ہوئے۔
پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ یہ توقع ہوئی کہ اسلام نافذ ہوگا ،مگر ایسے افراد کے ہاتھوں میں باگ ڈور آئی جو نہ صرف مغرب پرست تھے بل کہ اسلام سے متنفر یا کم از کم اس سے بیزار تھے اور اسلام کے آج کے دور میں قابل عمل نہ ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ مگر اسلام سے وابستگی اور مسلمان کہلانا ان کی مجبوری بھی تھی۔ اس لحاظ سے تحریکات کی انرجی ایسے افراد اور نظریات کے خلاف لگی۔ اسی کے ساتھ اسلام کے نمایندہ افراد میں جو مجرد روایت پرستی آگئی تھی اور جس طرح سے دین کے مسائل، فروعی نزاعی مسئلوں تک محدود ہوگئے تھے، اس وجہ سے تحریکات کو روایتی علماکی مخالفت سے واسطہ پڑا اور عوام میں اسلام کے پھیلنے میں یہ کش مکش بڑی رکاوٹ بنی۔
ایک دور ایسا گزرا جب یہ محسوس ہوگیا کہ یہ تحریکات ہی مغرب کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ اس لیے ان کو روکنے میں ہر طرح کے جائز اور ناجائز سب راستے اختیار کیے گئے اور اس کی وجہ سے قید وبند کی سزائوں کے سخت سے سخت مراحل آئے۔ دعوت کا کام رکا تو نہیں مگر عوامی قبولیت سے دوری رہی۔ اس لیے کہ سخت ترین ماحول میں سامنے آنے والے کم ہی ہوتے ہیں۔ پھر یہ طے تھا کہ مغرب ایسی کسی تحریک کو اوپر آنے ہی نہیں دے گا۔مغرب کا کمال یہ تھا کہ ایک طرف ساری مجلس سجائی تھی، جمہوریت کے نام سے مساوات کے نام سے، حقوق انسانی کے نام سے ،انصاف کے نام سے مگر معیار صرف یہ تھا کہ یہ ساری اصطلاحات مغرب کے حق میں ہی رہیں اسلام کو ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا ہے اورنہ فائدہ پہنچانے دیا جاسکتا ہے۔
 پھر نائن الیون کا واقعہ برپا کیاگیا۔ جس کے بعد اسلام کے ذمے ایسی تہمت لگادی گئی کہ اب اسلام مترادف ہوا دہشت گردی ، انتہا پسندی ، غیر مسلموں، اقلیتوں، خواتین کے ساتھ زیادتی کا۔ اور پھر اس دور کے شروع ہونے سے انصاف کا خود اپنا بنایاہواپیمانہ ہی نہ رہا۔ شک وشبہ ہی جرم کے لیے کافی ہوا۔ سزا، عدالت، جرم کا ثابت ہونا غیر ضروری ہوگئے۔ بس پکڑو، مارو، ختم کرو، ستائو، کہ یہی انصاف ہے۔ اس سلسلے میں جو طاقتیں مدمقابل تھیں، وہ تو دو رخی تھیں۔ ایک طرف اسلام تھا۔ دوسری طرف مغرب۔ مگر اسلام کے نام سے مغرب کے ہم نوا افراد، ادارے بھی سرگرم تھے اور ان سب کی قیادت کہنے کوتو امریکہ کے ہاتھ میں تھی، مگر اصل باگ ڈور یہود کے ہاتھ میں تھی۔
لطف یہ ہے کہ یہودی مقاصد اور تھے مغربی مفادات کچھ اور۔ مگر اسلام دشمنی اور اسلام کو اوپر آنے سے روکنے کی خواہش پر اتفاق تھا۔ مغرب کو یہ سمجھایاگیا کہ عالم اسلام میں وسائل غلط ہاتھوں میں ہیں۔ اس لیے مغرب ان پر قبضہ کرلے۔ عالمی نظام کا نعرہ لگایا گیا ۔ عیسائی انتہا پسند گروہ یہودی ریاست کے بچاؤکے لیے کھڑے کیے گئے اور اس کش مکش کو مذہبی رنگ دیا گیا۔مگر خود یہودی مقصد عالمی یہودی غلبہ تھا۔ جس میں افراددوسروں کے استعمال ہوں وسائل دوسروں کے ہوں ، یہود صرف پس پردہ رہ نمائی کریں۔ صورت حال یہ بنائی گئی کہ مغرب اسلام کے مدمقابل ہے اور یہودی مغرب کے ساتھ ہیں۔ مگر یہودی مغرب کو بھی صرف آلۂ کار ہی دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک دونوں طاقتوں کا لڑ کر ختم ہونا ہی یہودی کے اوپر آنے کی لازمی شرط ہے۔ وہ نہ مسلمانوں کے ہمدرد تھے نہ مغرب کے۔ وہ تو صرف اپنے منصوبے کے تحت مغرب کے دوست نما بنے ہوئے تھے۔
مغرب میں کتنے ہی ان منصوبوں سے پریشان تھے مگر یہود نے مغرب کی جو رگ جاں اپنے ہاتھ میں لی تھی اس کے بعد کھل کر کہہ دینا بھی مشکل تھا۔ یہود کی مشکل یہ تھی کہ جس طرح سے وہ عیسائیت کو قابو میں کرچکے تھے۔ اس طرح اسلام پر بس نہیں چلا تھا۔اس لیے ان کے نزدیک حل یہی تھا کہ مسلمان کو سکون سے نہ رہنے دو الجھائے رکھو اور اندر سے باہر سے ہر طرح سازشوں سے فتنوں سے جنگوں سے ان کو اپنے اصل مقصود، مشن پر نہ آنے دو۔
ان کے منصوبوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تحریکات تھیں، جو نہ صرف تحفظ اسلام میں لگی ہوئی تھیں بل کہ مسلمانوں میں بیداری بھی لا رہی تھیں۔ پھر مغرب کے منصوبوں سے آگاہ بھی تھیں اور مغرب کی سازشوں کا توڑ ہی نہیں بل کہ مغرب کا متبادل بھی بن رہی تھیں۔ یہ وہ صورت حال تھی جو نائن الیون نے پیدا کی۔لیکن اللہ تعالیٰ کا بھی ایک منصوبہ تھا۔
مغرب بنیادی طور پر جن اوصاف کی بنا پر دنیا کی حکمرانی کر رہا تھا، وہ تھے قانون کی حکمرانی، انصاف، دیانت داری کے ساتھ اپنے قائم کردہ نظریے سے وابستگی۔ عوام کی خدمت ، انسانیت کی عظمت،اداروں کاقیام، دنیاوی سرگرمیوں میں جدت، ظلم سے مقابلہ، نائن الیون نے جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا وہ یہ تھا کہ مغرب کا نظام جس جمہوری انداز، مشورے اور مہارت اور اہل قیادت پر مبنی تھا وہ کمزور ہونے لگا ۔ خود کے بنائے اصول ٹوٹنے لگے۔ ظلم کی لے بڑھتی گئی ، شبہ پر فیصلے ہونے لگے۔ خفیہ ایجنسیوں کی معلومات پر قسمتوں کے فیصلے ہونے لگے ، غرض مغرب کی قیادت کا جواز ختم ہونے لگا۔ اسی وقت مسلمانوں میں ہلچل مچی۔نیند سے بیداری شروع ہوئی اور دین کی طرف واپسی بھی ہوئی۔ اس دنیا کے چلانے کے اصول بھی سامنے آنے لگے۔ وہ ہوا جس کو قرآن کہتا ہے : ’’ہم نے طے کیا کہ کمز ور کو اوپر لائیں اقتدار سے نوازیں‘‘۔
اس کام میں آدھا کام تو مغرب نے کردیا کہ اسلام کے سامنے کی رکاوٹیں مغرب نے دور کرنے کا کام انجانے میں کرڈالا ۔ اسلام جب نشانہ بنا تو سارے مسلمان دہشت گردبنے اور پھر اس طرح سے وہ قومیتوں سے نکلے اور ایک امت کی شکل دکھائی دینے لگے ۔ سیکولرزم کو راستے سے ہٹاکر اب مذہبی جذبے کو ابھارا گیا اور اس طرح مذہب مذہب کے مقابل آگیا۔ گویا اب نظریہ نظریے کے مدمقابل تھا۔ اور یہی نہیں بل کہ حق کانظریہ باطل کے نظریے کے مدمقابل آیا اور اب یہ طے ہونا ہے کہ حق جیتتا ہے یا باطل۔ ورنہ اس سے پہلے سیکولرزم کے نام سے مذہب کو معرکے سے تو ہٹایا گیا تھا، منظر سے بھی غائب کردیاگیا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ مغرب نے جو خود ساختہ اصول بنائے تھے ، مغرب نے خود ہی ان کو توڑ دیا۔ اب نہ عالمی قانون رہا نہ عالمی اصول انصاف۔ نہ بین الاقوامی تعلقات ، نہ انسانی حقوق ، نہ مساوات اور نہ غیر جانبدارانہ انداز سے مسئلے حل کرنا ۔ اس طرح سے اب دنیا ایک خلا میں جی رہی ہے کہ سابقہ اصول ٹوٹ چکے ہیں۔ اسلام کے لیے موقع پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے اصول سامنے لائے اور ان کو متبادل بنائے۔ پھر یہ ہوا کہ قوانین اس طرح سے توڑے گئے کہ ظالم کے لیے ایک پیمانہ اور مظلوم کے لیے دوسرا ، طاقتور کے لیے ایک کمزور کے لیے دوسرا۔ اس طرح سے انصاف پسند کفر کے جواز کا راستہ بھی بند ہوگیا۔
’’اللہ عدل کرنے والی حکومت کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ کافر انہ ہی کیوں نہ ہو‘‘
ان حالات میں تحریکات کی بالکل دوسری اہمیت سامنے آئی ۔ ایک طرف تو کوشش کی گئی کہ بے ضرر اسلام پیش کیا جائے۔ اس کا نام صوفی اسلام رکھیں ، لبرل رکھیں یا تمام مذاہب کے ساتھ رواداری کا اسلام کہیں دوسری طرف ایک متشدد عنصر کو ابھارا جائے اور نمایاں کیا جائے۔ بلکہ تیار کیا جائے کہ اس کو دیکھ کر اسلام سے تنفر پیدا ہوجائے اور اس طرح سے اصل نمایندہ اسلام اور مستند نمایندوں کو نظرانداز کیا جائے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ خود اسلام ہی نشانہ بن گیا جو نوجوان ادھر نہ آئے وہ مغرب کی طرف بھی نہ گئے۔ لیکن اس صورت حال میں تبدیلی ادھر سے آئی جہاں سے کسی کو توقع نہ تھی۔ عالم عرب میں تبدیلی کی لہرچلی تو پوری قوم شریک ہوگئی اور شرکت بھی اس طرح کہ خوف کا عنصر ہی نکل گیا ۔ جان دینا مسئلہ نہ رہا۔ اچانک زندگی کے متوالے عزت کے متوالے نظام وقت سے بے زار عوام اٹھے تو سارا نظام خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔ مغرب کے جمے جمائے مہرے کہیں کے نہ رہے۔ عرب قومیت کا کہیں وجود نہ رہا اورپتا چلا کہ اچانک اسلام پسند ہی آگئے ہیں۔ مگر سوچنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال میں قیادت کو ابھرنے نہ دیاگیا۔ دو نسلوں کو بگاڑا گیا۔ ادارے تباہ کیے گئے۔ خریدے افراد بھرے گئے ، دوسرے ملکوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والے اور ذاتی فائدے حاصل کرنے والے ہر جگہ چھائے رہے۔ ایسے میں نظام ہٹا تو مگر متبادل کے لیے رکاوٹیں بھی ہیں اور وقت بھی درکار ہے۔ پھر کاروبار مملکت چلانے کا تجربہ بھی چاہیے۔ اس لحاظ سے اب اس وقت تحریکات جس دور سے گزر رہی ہیں وہ آگے بڑھنے کا تو ہے مگر رکاوٹوں کو عبور کرکے۔ چیلنج سے گزرکے مقاصد کو سامنے رکھ کر غیر ضروری کام کو پیچھے کرکے ترجیحات متعین کرکے اور سب سے بڑھ کر اسلام کو مرغوب بناکے کہ لوگ زبردستی نہ مانیں بل کہ اس کے فوائد اور انعامات ان کو اس کا گرویدہ بنائیں۔
اس میں معاون نکات یہ ہیں:
﴿۱﴾ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تحریکات مختصر دائروں سے نکل کر عوامی دائرے تک پہنچی ہیں اور عوام کے جذبات کی ترجمان بھی بنی ہیں اور عوام کی رہ نما بھی ۔ ﴿۲﴾جمہوریت، آزادی، انتخابات کے ذریعے مسلم ممالک میں جو آئے گا وہ اسلام ہوگا۔ بہ شرطے کہ صحیح اور منصفانہ انداز سے ووٹ کا موقع ملے۔ ﴿۳﴾ مغرب پہلی بار مجبور ہوا کہ وہ اسلام پسندوں کو تسلیم کرے، ان سے معاملہ کرے اور ان کا کھیل بگاڑنے کے بجائے ان سے ہی مذاکرات کرے اور اسلام پسندوں کو موقع ملا ہے کہ وہ عزت نفس کی برابری کی بنیاد پر اصولوں پر رہتے ہوئے بات کریں۔ ﴿۴﴾ انسانیت کے لیے یہ موقع ملا ہے کہ کش مکش کے بجائے افہام وتفہیم کا ماحول بنے اور اس میں اسلام کے مثبت تعمیر اور مفید پہلو سب کو نہ صرف محسوس ہوں،بلکہ نظر آئیں اور اسلام نجات دہندہ لگے نہ کہ موقع پرست ﴿۵﴾ مغرب کا مسئلہ تو محض مفادات کی بقا کا ہے مگر یہودی ریاست کے لیے پہلی مرتبہ ایک حقیقی چیلنج پیدا ہوا ہے ۔ اب یہ ہوسکا کہ وہ افہام وتفہیم سے کام لے تو اس کو موقع مل سکتا ہے۔ ورنہ کش مکش کا دائرہ بڑھے گا۔مغرب کا نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ اسلام کو دفن کرچکا تھا، مسلمان محکوم تھے، پھر کمزور بھی تھے ۔ پھر وہ پسماندہ ہیں غیر منظم ہیں۔ اس لیے ان کو برابری کا درجہ کیسے دیں اور مغرب کی نظر میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب اسلام ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کے پاس جو مہارت ہے یا جو معلومات ہیں یا جو تجربہ ہے وہ اُسے دوسروں کو دینے کے بجائے اس سے فائدہ ہی نہیں بل کہ استحصال کرناچاہتے ہیں۔ کیوں کہ مغرب کااصول ہے کمزور کو دبائونہ کہ کمزور کے کام آؤ۔ ہاں کبھی ترس کھالوتو خوب مشہور کردو لیکن بہ ہرحال یہ حقیقت مغرب سمجھ لے تو اس کے لیے بہتر ی ہوگی۔ ورنہ اب ٹیکنالوجی کسی کی ملکیت ہے نہ اجارہ داری ﴿۶﴾اس وقت دنیا میں ایک ارتکازی کیفیت ہے۔Polarization میں کہنے کو دو سپر پاور یا ایک سپر پاور ہیں مگر درحقیقت اس وقت حق وباطل کی حد بندی اور دائرہ بندی کا عمل دو طرح سے چل رہا ہے۔ ایک خبیث اور طیب کی چھانٹ دوسرا اہل ایمان کی چھان پھٹک۔ یہ وہ عمل ہے جو جاری ہے مگر اب اس میں تیزی بھی آئی ہے اور اس کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ ﴿۷﴾ اس وقت امکانات کی ایک نئی دنیا آباد ہورہی ہے اور یہ امکانات اسلام کے حق میں جارہے ہیں ۔ اور ان امکانات کا وہ حصہ جو اسلام کی راہ کی رکاوٹ دور کرنے سے ہے وہ مغرب خود ہی انجام دے رہا ہے کہ ایک طرف مغرب کے اصول نکمے ثابت ہورہے ہیں دوسری طرف اسلام کی عالمیت کے وہ اسباب سامنے آرہے ہیں جو کہنے کو تو مغرب نے اپنے لیے بنائے ہیں مگر صرف اسلام ہی وہ نظریہ ہے جس کے پاس عالمیت کے اصول ہیں۔
جب تک نظریہ عالمی نہ ہو عالمیت کا خواب بے معنی ہے۔ کسی قوم کو کسی مفاد کو، کسی طاقت کو، کسی مادی ضرورت کو عالمیت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ یہ صرف اسلام ہے جو سارے جہاں کا ایک رب، ساری انسانیت کی وحدت، سارے لوگوں کے لیے ایک اصول ، ایک معیار حق، ایک معیار خیر اورایک معیار اتحاد کا پیغام دیتا ہے ۔ عالمیت کی یہ بنیاد ہی ہے جس کو اپناکر عالمی نظام قائم ہوسکتا ہے۔ مغرب کی یہ کوشش کہ وہ عالمی طاقت ہے خواہش اور دھونس کی حد تک تو ہے مگر یہ اللہ کے منصوبے کا وہ حصہ ہے کہ اپنے دین کا کام وہ ان سے لیتا ہے، جو اس کے ماننے والے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ اس وقت اس طرح سے مغرب وہ ساری حد بندیاں ختم کرا رہا ہے، جو اس عالمیت میں رکاوٹ ہیں۔
یہودی اپنے منصوبے میں لگے ہیں کہ مغرب کی طاقت استعمال کرکے یہ کام کروائیں اور خود عالمی طاقت بن کر ابھریں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کام ان سے لے تو لیا ہے مگر اس کے ثمرات اسلام کو ہی ملنے ہیں ﴿۸﴾ اس وقت اسلام ایک نظریہ ہے، ایک دعوت ہے ایک قوت عمل ہے ، ایک طریق کار ہے ، ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ تحریکات نے جب یہ دعوت دی تھی اس وقت تو نہ صرف غیر مسلموں سے اس پر اعتراضات سنے تھے ،بل کہ خود سکّہ بند مسلمانوں کے لیے یہ ایک اضافی کام تھا ۔ رخصتوں کی دنیا میں رہنے والوں کے لیے یہ ایک سرپھرا سا خواب تھا۔ مگر اب یہ ایک حقیقت بنتا جارہا ہے اور اب عوامی طور پر اس کی طرف رغبت بڑھی ہے﴿۹﴾ اب طے یہ کرنا ہے کہ تحریکات کا دائرۂ کار صرف چند ضابطوں کی حد تک ہی کام کرنے میں ہے کہ کچھ مہم چلاکر ۔ کچھ منصوبے بناکر کچھ افراد تیار کرکے اور کچھ تنظیمی خاکے بناکر ذمے داری سے بری ہوں۔ یا اب پور ے اسلام کی، پوری انسانیت کے لیے ،اس طرح سے تفہیم و تنفیذ کرنی ہے کہ اسلام عملاً نافذ ہوتا دکھائی دے اس کے اثرات انسان سمیٹے۔ اب تحریک صرف مزاحمت کا نام نہیں ،بل کہ متبادل فراہم کرنے کا نام ہے﴿۱۰﴾اس مہم میں تحریک نظریاتی ہراول دستے کا کام کرے گی، اس میں ہر صاحب صلاحیت ہر خیر خواہ جس حیثیت میں ہو ، ان کو وسیع تر منصوبے کے اندر لاکر فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ بنیادی طور پر تحریک کا اگلا مرحلہ ہے اور اس کے لیے تیاری بھی چاہیے اورذہنی ہم آہنگی بھی۔ اس کے لیے قدیم پر اصرار کے ساتھ جدید کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ یہ کام تسلسل کا تقاضا کرتا ہے ۔﴿۱۱﴾یہ کام ترجیحات کے ساتھ انجام دینے کا ہے۔ اس میں دفعِ مضرت پہلے ہے کہ انسانیت کی تذلیل کے اسباب دور ہوں۔ اسلام کی نعمتوں سے انسان نہ صرف مستفید ہوں بل کہ اسلام کی خیرخواہی کے دل سے معتقد ہوں۔﴿۱۲﴾ یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف یہ عظیم الشان منصوبہ ہے دوسری طرف مسلمانوں کی کم اہلی کا مسئلہ ہے۔ پھر حق وباطل کی کش مکش بھی ہے ۔ کھل کر بھی چھپ کر بھی۔ تاریخ سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے اور مستقبل کے بارے میں دی گئی خبروں میں بھی یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس کش مکش کے مقامات مشرق اوسط سے لے کر ہندو پاک تک ہیں۔ مگر یہ اسلام کی برتری اور اسلام کی پیش قدمی کے مراحل ہیں اور اسی کے ساتھ اس میں ان قوموں، افراد اور اداروں کا بھی حصہ ہے جو مغرب میں بسے ہیں یا مغرب کے علوم وفنون کے ماہر ہیں اور جن کی عصری مہارت اور دینی جذبے سے اسلام کو تقویت ملے گی۔ ﴿۱۳﴾ اس سلسلے میں ایک بہت ضروری کام یہ ہے کہ یہ امت ردعمل سے نکلے ۔ ایک مثبت نظریے کے لئے مثبت رخ اپنائے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہم ادارے وجود میں لائیں اور اداروں کو چلانے کی تربیت حاصل کریں۔ افراد سے وابستگی اور عقیدت حدود میں رہ کر تو ٹھیک ہے مگر اجتماعی نظم اسی وقت چلے گا جب اداروں سے وابستگی ہو او ریہ سمجھ کر ہو کہ یہ ہم میں سے ہر ایک کی ذمے داری ہے اور ہر ایک اس کا حصہ ہے ۔ یہ چند افراد کا کام نہیں ہے۔ یہ پوری امت کا کام ہے اور پوری امت کو اس میں حسب استطاعت حصہ لینا ہے۔﴿۱۴﴾ یہ کام یہیں ختم نہیں ہوتا ہے کہ ہم دعوت کے عالمی اثرات ثابت کرکے مطمئن ہوجائیں، بل کہ یہ طے کریں کہ اب اس امت کو امت بنانا ہے اور اس امت کو سربلند کرنا ہے اور حق کو بلند کرکے اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے۔
***

رمضان کی حکمتیں اور آداب


رمضان کی حکمتیں اور آداب

ذکی الرحمن غازی


 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أُعْطِیَتُ أُمَّتِی خَمَسُ خِصَالٍ لَمْ تُعْطَھَا أُمَّۃٌ مِنْ قَبْلِھِمْ: خَلُوْفُ فَمِ الصَّاءِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ المِسْکِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَھُمْ المَلاءِکۃُ حتٰی یُفْطِرُوْا، وَ ےُزَیّنُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمَ جَنَّتَہُ ثُمَّ یَقُوْلُ: یُوِشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ أَنْ یُلْقُوا عَنْھُمُ المَؤُنَۃَ وَاَلْأَذَیٰ وَیَصِیْرُوْا اِلَیْکَ، وَتُصْفَدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْن فَلَا یَخَلُصُوْا اِلٰی مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ اِلَیْہِ فِیْ غَیْرِہٖ، وَیَغْفَرُ لَھُمْ فِی آخِرِ لِیْلَۃٍ، قِیْلَ: یَارَسُولَ اللّٰہ ھِیَ لَیْلَۃُ القَدْرِ؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنَّ العَامِلَ اِنَّمَا یُوْفّیٰ أَجْرُہُ اِذَا قَضٰی عَمَلَہُ (مسند احمد، ج۲،ص۲۹۲)ماہِ رمضان میں میری امت کو پانچ انعامات سے نوازا گیا ہے، اور یہ شرف کسی دوسری امت کو نصیب نہیں ہوا۔ روزے دار کے منہ کی بو(خلوف)اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔ فرشتے افطارکے وقت تک روزہ داروں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کی آرایش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:عنقریب میرے نیک بندے اپنی مشقتیں وتکالیف چھوڑکر تیرے پاس آنے والے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں، اور وہ بقیہ ایام کی طرح اثرانداز نہیں ہوپاتے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ کی آخری شب تمام روزہ داروں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ سوال کیا گیا :کیا وہ آخری رات شبِ قدر ہے؟ آپؐ نے فرمایا:نہیں، بلکہ اس لیے کہ مزدور کو اس کی اُجرت کام ختم کرنے پر ملتی ہے۔

رمضان کے انعامات
اس حدیث کی روشنی میں چند باتیں قابلِ غور ہیں:
۱۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ رب العزت کو مشک کی خوشبو سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ منہ کی یہ بو معدے کے غذا سے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور عامۃ الناس میں اس کو ناپسندیدہ بھی خیال کیاجاتا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کی پسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ اس کا وجود اللہ کی طاعت وعبادت سے ترکیب پاتا ہے۔ کوئی بھی بظاہر معیوب چیز اگر عبادت وطاعتِ الٰہی کے باعث وجود میں آتی ہے تواللہ کو محبوب ہوتی ہے۔ کثرتِ سجود کی وجہ سے پیشانی پر پڑ جانے والے سیاہ نشان کی تعریف وتوصیف کی گئی ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہے، ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کی خشیت سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کی راہ میں بہے۔ اور دو نشانوں میں سے ایک وہ نشان جو جہاد کے لیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔ دوسرا وہ نشان جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادایگی کی وجہ سے [جسم] پر پڑ جائے‘‘ (ترمذی:۱۶۶۹مع تحسین البانیؒ ۔کتاب الجہاد،ابن ابی عاصمؒ :۱۰۸)۔ روزِ قیامت شہداے اسلام کا خونِ شہادت سے شرابور میدانِ حشر میں آنے کا بیان کہ’’اس کے زخم سے خون رِس رہا ہوگا، اس کا رنگ خون کا ہوگا لیکن خوشبو مشک جیسی ہوگی‘‘ (بخاری، ۵۵۳۳، مسلم،۴۹۷۰)۔ نیز عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ کا غبارآلود وپراگندہ حال حجاجِ کرام کو دیکھ کر ملائکہ کے سامنے اظہارِ فخر کرنا کہ ’’دیکھو میرے ان بندوں کو جو بکھرے بالوں اور غبارآلود قدموں کے ساتھ میرے پاس آئے ہیں‘‘۔ (مسند احمد،۷۰۸۹، ابنِ حبان،۱۸۸۷، ۳۸۵۲)۔ یہ سب اسی اصول کی توضیحی مثالیں ہیں۔
۲۔ ملائکہ کے محوِ استغفار رہنے کا مطلب ہے کہ چونکہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے معزز ومکرم اور ہرطرح کی سرتابی وعصیان سے معصوم ہوتے ہیں، اس لیے روزے داروں کے حق میں ان کی دعاے استغفار قبولیت کالازمی قرینہ ہے۔ مزید یہ کہ ملائکہ کا صائمین کے لیے استغفار پر مقرر کیا جانا روزے داروں کی بلندیِ درجات کی دلیل ہے۔ مغفرت کے معنی ہوتے ہیں دنیا وآخرت میں گناہوں کی پردہ پوشی۔ تمام بنی آدم چونکہ تھوڑے بہت خطاکار ضرور ہوتے ہیں، اس لیے سترِذنوب سے کسی متنفس کو استغناء نہیں ہو سکتا۔
۳۔ اللہ رب العزت کا روزانہ جنت کی آرایش کرنا اس لیے ہوتاہے کہ صالح نفوس میں اس جنت میں رسائی کا جذبہ ورغبت پیدا ہو۔ مشقتوں وتکالیف سے مراد دنیا کی مصائب و تکالیف اور مشاغل ومصروفیات ہیں، اور ان کے ترک سے مراد ایسے اعمالِ صالحہ کی طرف متوجہ ہوجانا ہے جو دنیا وآخرت کی سعادت کے ضامن اور دائمی عزت وسلامتی کے کفیل ہوتے ہیں۔
۴۔ شیاطین کو بیڑیاں پہنانے سے مراد یہ ہے کہ اس ماہ میں اللہ کی طرف سے خیر کی توفیق اور اس پر اعانت وتائید عام ہوجاتی ہے۔ اس کا عملی مشاہدہ صالحین کی حیات ومعمولات میں نمایاں طور سے دیکھنے کو ملتا ہے۔
۵۔ اس ماہ کی آخری شب میں تمام روزہ داروں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ دوسری روایت میں تمام اُمتِ محمدیہؐ کی مغفرت کا تذکرہ وارد ہوا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں اُمت محمدیہؐ کی مغفرت فرماتا ہے‘‘۔(اخبار مکۃ، الفاکہیؒ ، ۱۵۷۵،سنن بیہقی،۱۱۸۷)۔ دونوں احادیث کے الفاظ کی تطبیق سے مترشح ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان میں امتِ محمدیہؐ کا مکمل وجود صائمین کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور یہ غیر متصور ہے کہ کوئی شخص اس ماہ میں اسلام کا دعوے دار بھی ہو اور روزہ دار نہ ہو۔
بندگانِ خدا کی عمومی مغفرت کا یہ انعامِ خداوندی تین طرح سے ہوتا ہے۔ اولاً: اللہ رب العزت نے اس ماہِ مبارک میں ایسے اعمالِ صالحہ مشروع فرمائے جو بندگانِ خدا کی مغفرت اور رفعِ درجات کا سبب بنتے ہیں۔ ثانیاً:عملِ صالح کی توفیق دینا خالصتاً اللہ رب العزت کے قبضۂ قدرت واختیار میں ہے، جس کی نوازش بذاتِ خود ایک بڑا احسان ہے۔ ثالثاً:نیک عمل پر کثیر اجر سے نوازنا، بایں طور کہ ایک نیکی ۱۰سے لے کر ۷۰۰گنا یا اس سے بھی زیادہ شمار کی جائے، صرف اور صرف فضلِ رحمن ورحیم ہے۔
۶۔جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابجولاں کر دیا جاتا ہے‘‘۔ (بخاری، ۱۸۹۹، مسلم، ۱۰۷۹)
۷۔ایمان، اخلاص اور بہ نیتِ اجر و ثواب روزے رکھنے پر اللہ تعالیٰ سابقہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ آپؐ کاارشاد ہے: ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اوراجر و ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘۔ (بخاری،۱۹۰۱، مسلم،۱۷۵)
۸۔ ایمان، اخلاص اور بہ نیتِ اجر و ثواب عبادت و قیامِ لیل کرنے پر اللہ تعالیٰ سابقہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ آپؐکاارشاد ہے:’’جس نے رمضان میں ایمان اوراجر و ثواب کی نیت سے عبادت و قیامِ لیل کیا تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘۔ (بخاری،۳۷، مسلم،۱۷۴)
۹۔ اس ماہ میں وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو لَیْلَۃِ الْقَدْرِ (القدر۹۷:۱) یا لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ (الدخان۴۴:۳) کے نام سے موسوم کی گئی۔ شبِ قدر کی فضیلت کی تفصیل میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ اس رات کا حصول اور اس میں عملِ صالح کی توفیق پا لینا بڑی سعادت کی بات ہے۔ آپؐکا ارشاد ہے: ’’جس نے شبِ قدرمیں ایمان اوراجر وثواب کی نیت سے عبادت و قیامِ لیل کیا تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘۔ (بخاری،۱۹۰۱، مسلم،۱۷۵)
۱۰۔رمضان میں صدقہ کرنا افضل ترین ہے۔ حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں:’’اللہ کے رسولؐ لوگوں میں سب سے زیادہ فیاض تھے۔ اور آپؐ کی سخاوت اس وقت اپنے نقطۂ عروج پر ہوتی جب آپؐ رمضان میں حضرت جبریل ؑ سے ملاقات فرماتے تھے۔ آ پؐ کا رمضان میں معمول ہوتا تھا کہ آپؐ روزانہ جبریل ؑ کے ساتھ قرآن کا دور فرماتے۔ ان ایام میں آپؐ کی جود و سخا وت، بارش لانے والی ہواؤں کو مات دیتی تھی‘‘ (بخاری،۶، مسلم،۵۰)۔ دوسری روایت میں ہے کہ ’’اس دوران آپؐ سے کچھ بھی مانگا جاتا، آپؐانکار نہ فرماتے‘‘۔ (مسند احمد،ج۱،ص ۲۳۱)
۱۱۔ اس ماہ میں ایک عمرہ کاثواب حج کے برابر ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:’’رمضان کا عمرہ، حج کے برابر ہے‘‘۔ (بخاری،۱۷۸۲)۔ دوسری روایت میں اسے حج کے مانند بتایا گیا ہے جو خود آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں ادا کیا گیا ہو۔ (ابوداؤد،۱۹۹۰)

صومِ رمضان کی خصوصیات و امتیازات
۱۔ اللہ تعالیٰ نے روزوں کو تمام سابقہ امتوں پر فرض رکھا ہے۔ ارشادِ باری ہے:یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o(البقرہ ۲:۱۸۳) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے کے انبیا ؑ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘۔
یہاں تین چیزیں قابلِ غور ہیں:
ا۔ آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اعزاز و تکریم کی بات ہے، لیکن ساتھ ساتھ ا س طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ ایمان کی صفت سے متصف ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ دیے گئے حکم کو خوش دلی سے قبول کیا جائے اور حتی الامکان اس پرعمل پیرا ہونے کی کوشش کی جائے۔
ب۔ ’’روزہ سابقہ تمام امتوں پر بھی فرض تھا ‘‘بتانے سے اہلِ ایمان کی دل داری اور ان کو ترغیب دینا مقصود ہے۔ مشہور مفسرحضرت عبدالرحمن سعدی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’اس جملے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ روزہ اُن دینی اوامر میں سے ہے جو ابتداے آفرینش سے ہی خلقِ خدا کی اصلاح وتربیت کے لیے ناگزیر رہے ہیں۔ نیز اس کے ذریعے اُمتِ مسلمہ میں دیگر امتوں کے بالمقابل نیک کاموں میں جذبۂ مسابقت کواُبھارا گیا ہے۔ مزید اس بات کا اشارہ ہے کہ فریضۂ صیام کی مشقت مخصوص تم پر ہی نہیں ڈالی گئی ہے‘‘۔ (تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر کلام المناّن، ص ۲۲۰)
ج۔ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ تقویٰ ایک جامع کلمہ ہے جس کے معنی لحاظ کرنے کے ہیں۔ اس کے مفہوم میں طاعات کی انجام دہی، منہیات سے اجتناب، نفسانی خواہشات پر قابواور شبہات سے بچنا شامل ہے۔ مختصرالفاظ میں، اللہ کے اوامر و نواہی کا لحاظ کرتے ہوئے مطلق خیر کا حصول تقویٰ کی روح ہے۔
۲۔روزہ گناہوں کے کفارے اور کوتاہیوں کی مغفرت کا کارگر وسیلہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’پانچوں نمازیں، جمعہ(کی نماز) دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں (واقع ہونے والے گناہوں) کا کفارہ کرتے ہیں بشرطیکہ کبائر سے اجتناب کیا جائے‘‘ (مسلم، ۵۷۴)۔ مزیدآپؐ کاارشاد ہے: ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اوراجر و ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘ (بخاری،۱۹۰۱۔ مسلم،۱۷۵) ۔ ایمان واحتساب کا مطلب ہے کہ اللہ پر ایمان رکھا جائے اور روزوں کی فرضیت پر رضامندی کا اظہارہو، بایں طور کہ فریضۂ صیام کودل سے ناپسند نہ کیا جائے اور نہ اس پرموعود اجروثواب کے تئیں ہی کسی قسم کیشک میں مبتلا ہوا جائے۔
۳۔روزے کا اجر وثواب کسی مخصوص تعداد کے ساتھ مقید نہیں، بلکہ اس پر بے حد وحساب اجر کا وعدہ ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’آدم زاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے سواے روزے کے، کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔ روزہ ایک ڈھال ہے، جب تمھارے روزے کا دن ہو تو لازم ہے کہ تم گالم گلوچ اور شور شرابہ کرنے سے اجتناب کرو۔ اب اگر کوئی گالی دینے یا جھگڑا کرنے پر شدت سے اُکسائے توکہہ دینا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔ قسم اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ روزے دار کے لیے دو فرحتوں کا حصول طے ہے: ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو اسے فرحت حاصل ہوتی ہے، دوسرے جب وہ اپنے رب کے حضور باریاب ہوگا تواسے روزے کی فرحت محسوس ہوگی‘‘۔ (بخاری،۱۹۰۴، مسلم،۲۷۶۰)
یہاں چند باتیں قابلِ غور ہیں:
ا۔روزے کو اللہ رب العزت نے اپنی ذات سے مخصوص کارِ ثواب بتایا جوروزے کی فضیلت پر دلیل ہے، کیونکہ اسلامی عبادات میں روزہ تنہا ایسی عبادت ہے جو صرف بندے اور رب کے مابین انجام پاتی ہے اورکسی تیسرے واسطے یا وسیلے کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔ اس اختصاص کا فائدہ بقول حضرت سفیان بن عیینہؒ یہ ہے کہ روزِ قیامت جب بندے کا محاسبہ ہوگااور گناہوں کی پاداش میں اس کے نیک اعمال سلب ہوچکیں گے، تو بالآخر اللہ تعالیٰ روزے کا اجر اپنے ذمے لے کر سارے گناہوں کی مغفرت فرمادیں گے اور روزے ہی کے سبب بندے کو جنت میں داخلہ نصیب ہوجائے گا۔
ب۔اللہ تعالیٰ نے روزے کی جزا کو اپنی ذات سے منسوب کیا ہے جو عزت وکرامت کی بات ہے۔ دیگر صالح اعمال کی جزاوثواب میں کمیت کا اعتبار کیا گیا ہے اگرچہ وہ ایک نیکی کے بدلے ۱۰یا ۷۰۰یا اس سے کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہو۔ لیکن روزے اور صبر کو اس کلیے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ صبر کی تین اقسام ہوتی ہیں:اولاً:طاعات کی ادایگی پر صبر کرنا۔ ثانیاً:محرمات ومنہیات سے اجتناب پر صبر کرنا۔ ثالثاً:عسر ویسر، ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی اقدار پر صبر کرنا۔ روزے میں صبر کی یہ تینوں قسمیں بہ تمام وکمال پائی جاتی ہیں۔ ارشادِ باری ہے: اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُم بِغَیْْرِ حِسَابٍ (الزمر۳۹: ۱۰)’’صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘۔
ج۔روزہ ڈھال ہے جو روزے دار کو لغویات وفواحش کے حملوں سے محفوظ ومامون رکھتی ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے: ’’روزہ ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ نارِ دوزخ سے بچتا ہے‘‘۔ (مسند احمد، ۱۵۲۹۹)
د۔روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہوتی ہیں۔ پہلی طیباتِ دنیا: کھانا، پینا اور مناکحت کے مباح ہونے سے، اور دوسری روزِ محشر میں صائمین کے داخلے کے لیے مخصوص باب الریان سے جنت میں داخل ہوتے ہوئے۔ (بخاری،۱۸۹۷، مسلم،۲۴۱۸)
ھ۔حدیث میں اشارہ ہے کہ کسی کے برانگیختہ کیے جانے پر اسے بتا دے کہ میری طرف سے جوابی ردِ عمل نہ ہوناکمزوری یا خوف کی بنا پر نہیں، بلکہ صرف روزے کے احترام ووقار کی وجہ سے ہے۔ ارشادِ باری ہے: وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّءَۃُ ادْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ oوَمَا یُلَقّٰھَآ اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقّٰھَآ اِِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ o(حم السجدہ ۴۱:۳۴۔۳۵)’’اور نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جوبڑے نصیبے والے ہیں‘‘۔
۴۔روزہ قیامت کے دن روزے داروں کی شفاعت کرے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو غذا اور خواہشاتِ نفس سے دور رکھا تھا، تو آپ اس کے حق میں میری سفارش قبول فرمائیے۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات میں سونے سے باز رکھا تھا، تو آپ اس کے حق میں میری سفارش قبول فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا:تب ان دونوں کی شفاعت مان لی جائے گی‘‘۔ (مسند احمد، ۶۶۲۶، مستدرک حاکم،۲۰۳۶)

روزے کی حکمتیں
۱۔ روزے کی اولین و اعلیٰ ترین حکمت یہ ہے کہ بندہ اس عبادت کے ذریعے اپنے ایمان کی سچائی، عبودیت کا کمال اور محبتِ الٰہی کی پاسداری کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے۔ حقیقتِ واقعہ بھی یہی ہے کہ حکمِ الٰہی کے تحت جائز طیبات سے منہ موڑ لینا اور جن چیزوں کی محبت فطرتِ انسانی میں پیوستہ رکھی گئی ہے ان کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھنا، بندگی کی معراج اور کمالِ عبودیت ہے۔
۲۔تقویٰ کا حصول بھی روزے کی مشروعیت کا اہم سبب ہے۔ ارشادِ باری ہے:یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o(البقرہ۲:۱۸۳) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے کے انبیا ؑ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘۔ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ تقویٰ ایک جامع کلمہ ہے جس کے معنی لحاظ کرنے کے ہیں۔ اس کے مفہوم میں طاعات کی انجام دہی، منہیات سے اجتناب، نفسانی خواہشات پر قابواور شبہات سے بچنا شامل ہے۔ مختصراً ،اللہ کے اوامر و نواہی کا لحاظ کرتے ہوئے مطلق خیر کا حصول تقویٰ کی روح ہے۔ اسی لیے روزے دار کو تلقین کی گئی ہے کہ کسی بھی ردِعمل سے پہلے سوچ لے کہ وہ روزے دار ہے۔
۳۔روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے قلبِ انسانی کا رجحان ذکرِ الٰہی اور آیاتِ باری تعالیٰ میں تفکر وتدبر کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’آدم زاد نے سب سے بُرا جو برتن بھرا، وہ اس کا پیٹ ہے۔ ابنِ آدم کے لیے چند ایسے چھوٹے لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔ اور اگر ناگزیر ہی ہے تو پھر(پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو اور تہائی حصہ پینے کے لیے اور تہائی حصہ سانس لینے کے لیے‘‘ (مسند احمد،۱۷۲۲۵، ابن ماجہ، ۳۳۴۹)۔ مشہور تابعی حضرت ابو سلیمان دارانیؒ فرماتے ہیں: ’’نفس اگر بھوک پیاس میں مبتلا ہو تو دل میں رقت و خشیت پیدا ہوجاتی ہے، اور اگر شکم سیری وآسودگی ہوجائے تو قلبی بصیرت جاتی رہتی ہے۔ ‘‘
۴۔روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس حکمِ شرعی کی بجاآوری کے نتیجے میں اللہ کے دولت مند بندوں کو مال کی نعمت کا کماحقہ احساس وادراک ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دلوں میں شکروسپاس کا داعیہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی اہلِ ثروت وغنا کو اپنے مفلس وتنگ دست دینی بھائیوں کی زبوں حالی کس مپرسی سے بھی آگاہی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس ماہِ مبارک میں بالخصوص مسلم معاشرے کا عمومی مزاج ہمدردی وغم گساری کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اللہ کے رسولؐ کی جود وسخاوت اس ماہ میں ابربردار ہواؤں کو مات دیتی تھی۔
۵۔روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس فریضۂ خداوندی کی تعمیل کے نتیجے میں انسان کو نفس پر کامل ضبط اور بے مہار خواہشات وجذبات پر قابو حاصل ہوجاتا ہے۔ جہاں حال یہ ہوکہ نفس امارہ مسلسل برائی پر اکسارہا ہے اور شیطان کا عمل دخل انسانی شریانوں میں خون کی مانند جاری وساری ہے(بخاری،۲۰۳۸، مسلم،۸۵۰۷) ،اگر خوش نصیبی اور فضلِ خداوندی سے کچھ ایام کی بھوک پیاس کے بدلے میں ایسا وسیلہ ہاتھ آجائے جس کی بدولت نفسِ امارہ اور شیطانِ لعین کو مغلوب کیا جا سکتا ہے، تو یہ سودا کسی طور پر بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہو سکتا۔
۶۔روزے کی حکمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے سے نفسِ انسانی کا کبر وغرور پاش پاش ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ اعترافِ حق اور تواضع جیسی صفاتِ حمیدہ لے لیتی ہیں۔ دراصل روزہ جن چیزوں (اکل، شرب، مناکحت)سے امتناع کا نام ہے، اگر غور کیا جائے تو عام انسانی تگ ودو اور جہد وجستجوکا مطمح ومقصود انھی چیزوں کاحصول ہوتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ کوشش وکاوش کے بعد ان کی حصولیابی نفسِ انسانی میں ایک قسم کی تعلّی واستکبار پیدا کر دیتی ہے، جو بڑھتے بڑھتے بسااوقات عصیان وسرکشی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ روزے کا اصل وظیفہ یہی ہے کہ وہ نفسِ انسانی سے مباح طیبات کی محبت کو بھی کم یا ختم کر دیتا ہے۔
۷۔روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس پر مداومت کی وجہ سے بھوک پیاس کے باعث انسانی جسم میں خون کی شریانیں سکڑ کر تنگ ہوجاتی ہیں جس کے نتیجے میں جسمِ انسانی میں شیطان کا عمل دخل کمزور ہوجاتا ہے۔ صحیحین میں اللہ کے رسولؐ سے مروی ہے کہ شیطان انسان کے اندر خون کے بہاؤ کی مانند موجود رہتا ہے (بخاری،۲۰۳۸، مسلم،۸۵۰۷)۔ چنانچہ روزے کی وجہ سے شیطانی وساوس اور شہوات وغضب کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسولؐ نے مناسب عمر میں مختلف مالی وخانگی اعذار کے باعث شادی نہ کر سکنے والے نوجوانوں کو روزے کا التزام کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’اے گروہِ نوجوانان! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ شادی کی وجہ سے نگاہیں نیچی اور شرمگاہیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ البتہ جو شادی کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ روزوں کا التزام کرے کیونکہ روزہ شہوتِ نکاح کوکاٹ دیتا ہے‘‘۔ (بخاری،۵۰۶۵، مسلم، ۳۴۶۴)
۸۔روزے کی حکمتوں میں سے وہ طبی فوائد اور صحت وتندرستی سے متعلق منفعتیں بھی ہیں جو ضمناً فریضۂ صوم کی ادایگی کی وجہ سے حاصل ہوجاتی ہیں۔ غذا کی مقدار کوحدِ اعتدال پر لانا، معدے کی قوتِ ہاضمہ کو ایک متعینہ مدت کے لیے آرام دینا، بعض مضرت رساں فضلات اور نقصان دہ رطوبتوں کو جسم میں سرایت ہونے سے روک دینا وغیرہ ،اسی حکمت کے ضمن میں آتے ہیں۔

روزے کے واجب آداب
۞ نمازوں کی باجماعت ادایگی کا اھتمام: رمضان میں پنج وقتہ فرض نمازوں کوان کے ارکان و شرائط اور واجبات و مستحبات کے ساتھ عام مساجد میں باجماعت ادا کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ روزے کا اہم ترین مقصد تقویٰ کا اولین اظہار بھی نمازوں کی پابندی ومحافظت میں پنہاں ہے۔ نمازوں کو ضائع کرنا یا باجماعت نماز کی ادایگی میں لاپروائی برتنا تقویٰ کے منافی اور موجبِ عقوبت ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے:فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا oاِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْءًاo(مریم ۱۹:۵۹۔۶۰)’’پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔ البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی‘‘۔ علاوہ ازیں نمازِ خوف (النساء۴: ۱۰۲)کی مشروعیت خو د اس امرپر دال ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی نماز باجماعت کا اہتمام ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عہدِ صحابہؓ میں جماعت کی نماز کے ترک کو منافقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: ’’ہماری راے تھی کہ جماعت سے اختلاف وہی منافق کر سکتا ہے جس کا نفاق مشہور و معروف ہو‘‘۔ (مسلم،۱۵۲۰)
۞ قولی وفعلی محرمات سے کامل اجتناب: روزے کے تعلق سے درج ذیل محرمات پر سخت نکیر وارد ہوئی ہے:
۞ کذب بیانی ودروغ گوئی: رسولؐ اللہ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس کو پھیلانے اور جہالت کی باتوں کو ترک نہیں کرتا تو(وہ جان لے کہ)اللہ رب العزت کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ(اُس کی خاطر)اپنے کھانے پینے کو ترک کرے‘‘۔ (بخاری،۱۹۰۳)
۞ غیبت: غیبت کا مطلب ہے کسی کی غیر موجودگی میں اس کا اس انداز میں تذکرہ کیا جائے کہ اگر اسے معلوم ہوتو ناگوار گزرے۔ یہ ناپسندیدہ تبصرہ خواہ جسمانی عیوب پر کیا جائے، مثلاً اندھا، بہرا، یک چشم وغیرہ کہا جائے یا اخلاقی ومعنوی عیوب پر کیا جائے، مثلاً احمق، فاسق، پاگل وغیرہ کہا جائے، غیبت شمار ہوگا۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ذکر کردہ عیب زیرِ بحث شخص میں پایا ہی جائے۔ اللہ کے رسولؐ سے غیبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا:’’غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو کہ وہ اسے ناپسند کرے۔ آپؐ سے کہا گیا کہ اگر وہ بات فی الواقع اس شخص میں موجود ہو؟آپؐ نے فرمایا:یہ غیبت تب ہی ہے، جب کہ تمھارا قول اس کے بارے میں سچا ہو، بصورتِ دیگر تم نے اس پر بہتان باندھنے کا گناہ کیا ہے‘‘ (مسلم،۶۷۵۸)۔ قرآن کریم میں اس گناہ پرجس انداز میں نکیر کی گئی ہے وہ اپنے آپ میں سلیم الفطرت نفوس کے لیے درسِ عبرت وموعظت کا حامل ہے۔ ارشادِ باری ہے: وَلاَ یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ o(الحجرات۴۹: ۱۲)’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟دیکھو تم خوداس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ‘‘۔
۞ چغل خوری: عربی میں نمیمہ کا مطلب ہے شخص ’الف‘ نے شخص ’ب‘ کے بارے میں جو تبصرہ کیا تھا کوئی سُننے والا جا کراُسے شخص ’ب‘ کے گوش گزار کر دے۔ یہ مکروہ عمل کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ یہ چیز افراد ومعاشرے میں فساد پھیلانے کے مترادف اورتفریق بین المسلمین کا سبب بنتی ہے۔ ارشادِ باری ہے: وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ oہَمَّازٍ مَّشَّاء بِنَمِیْمٍ (القلم، ۶۸:۱۰۔۱۱)’’ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔ ‘‘اللہ کے رسولؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’چغلیاں لگانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔(بخاری، ۶۰۵۶، مسلم،۳۰۳)
۞ دہوکا دہی کرنا: روزے دار کو چاہیے کہ اپنے جملہ تجارتی واخلاقی معاملات میں دھوکا دہی جیسے کبیرہ گناہ سے مکمل طور پر گریز کرے۔ غش یا دھوکا دہی کا وجود تجارتی امور، مثلاً بیع وشراء، اجارہ وصناعت اور رہن ومداینت میں بھی ہوتا ہے اور انفرادی واجتماعی امور میں پیش کیے جانے والے مشوروں اور ہدایات ونصائح میں بھی۔ اس کبیرہ گناہ کے عام ہونے سے معاشرے میں باہمی تعاون واعتماد کی فضا ختم ہوجاتی ہے اور بندگانِ خدا کے رزق سے برکتیں اٹھا لی جاتی ہیں۔ اس مذموم طریقے سے حاصل کی ہوئی کوئی بھی کمائی حرام اور رحمتِ ربانی سے دور کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص بھی غش وفریب دہی کرے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ‘‘۔ (مسلم،۲۹۵)
۞ آلاتِ لہو و لعب سے شغل کرنا: موسیقی کے جملہ وسائل وآلات بذاتِ خود تو حرام ہیں ہی ،لیکن ان کی حرمت اس وقت اور سنگینی ونحوست اختیار کر لیتی ہے جب ان کے ساتھ ہیجان انگیز وخوشنما آوازوں کے نغمات کو بھی شامل کر لیا جائے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے:وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیْلِ اللَّہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُواً اُولٰٓءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ(لقمٰن ۳۱:۶)’’اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلامِ دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑادے۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ اور عکرمہؒ ، سعید بن جبیرؒ ، مجاہدؒ ، حسن بصریؒ وغیرہ اعلام صحابہؓ وتابعین نے آیتِ بالا میں مذکور’’ لہو الحدیث ‘‘سے مراد غناوموسیقی ہی کو لیا ہے (ابنِ کثیر، ج۶، ص ۳۳۰۔۳۳۱)۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’میری امت میں ایسے لوگ رونما ہوں گے جو زنا، ریشمی لباس، شراب نوشی اور آلاتِ غنا کو حلال کرلیں گے‘‘(بخاری، ۵۵۹۰)۔آج ہمارے معاشرے کی صورت حال یہی ہو گئی ہے۔ غنا وموسیقی کا وہ طوفانِ بدتمیزی ہرآن وہر جہت جاری ہے کہ خاصے اہلِ علم حضرات بھی اس کی حرمت وشناعت سے واقفیت کے باوجود اس سے متاثر نظر آتے ہیں۔ واللّٰہ المستعان۔

روزے کے مستحب آداب
۱۔ رات کے آخری پھر سحری کہانا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں حدِ فاصل سحری تناول کرنا ہے‘‘۔(مسلم،۲۶۰۴، نسائی،۲۱۶۶)۔آپ نے سحری میں کھجور تناول کرنے کی تعریف کی ہے اور فرمایا ہے: ’’مومن کی بہترین سحری کھجور ہے‘‘۔ (ابوداؤد،۲۳۴۷)۔سحری کی برکت کے حصول کی خاطر سحری ضرور کھائی جائے اگرچہ مقدار بے حد کم ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’سحری برکت ہی برکت ہے، لہٰذا اسے ترک نہ کرو اگر چہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ پیا جائے۔ دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ سحری کھانے والوں پر سلام ودرود بھیجتے ہیں‘‘ (مسند احمد،۱۱۱۰۱)۔ سحری کھانے میں حکمِ رسولؐ کی اتباع کا جذبہ رکھنا چاہیے نہ کہ روزے کے لیے حصولِ قوت وطاقت کا۔ سحری کھانے میں حتی الامکان تاخیر کرنی چاہیے۔ سحری اس وقت تک کھائی جا سکتی ہے جب تک کہ طلوعِ فجر کا براہِ راست اُفق میں مشاہدہ ہوجائے یا کسی قابلِ اعتماد وسیلہ، مثلاً اذان یا سائرن وغیرہ سے اعلان ہوجائے۔ سحری کے بعد دل میں روزے کی نیت کر لینی چاہیے، زبان سے روزے کی نیت کرنا شریعت میں ثابت نہیں۔
۲۔ افطار میں جلدی کرنا: غروبِ آفتاب کا علم براہِ راست مشاہدے سے یا کسی قابلِ اعتماد ذریعے (اذان، اعلان)سے حاصل ہوسکتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ رب العزت فرماتا ہے: ’’میرے محبوب ترین بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں‘‘ (مسند احمد، ۷۲۴۰، ترمذی، ۷۰۰)۔ افطار میں سنت یہ ہے کہ تازہ کھجوریں استعمال کی جائیں، وہ میسر نہ ہوں تو سوکھی کھجوریں استعمال کی جائیں، اور اگر وہ بھی دستیاب نہ ہوں تو پانی سے روزہ افطار کیا جائے‘‘ (مسند احمد،۱۲۶۹۸،ابوداؤد،۲۳۵۸، ترمذی:۶۹۶)۔اگر مذکورہ بالا چیزیں نہ مل سکیں تو کسی بھی حلال قابلِ اکل شے سے روزہ افطار کیا جاسکتاہے۔
۳۔افطار کے وقت دعا کا اہتمام: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’روزے دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی‘‘ (ابن ماجہ، ۱۷۵۳)۔ روزے دار کو چاہیے کہ افطار کے وقت اپنے لیے، اہلِ خانہ کے لیے اور تمام امتِ مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کرے۔
۴۔ کثرت سے تلاوتِ قرآن، اذکارِ مسنونہ اور خیرات کا اہتمام: اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن، مسنون اذکار واوراد، مأثور دعاؤں، مسنون نمازوں اور خیرات وصدقات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: ’’اللہ کے رسولؐ نے پوچھا:تم میں سے آج کون روزے دار ہے؟حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:میں اے اللہ کے رسولؐ۔ آپؐ نے پھر پوچھا: تم میں سے کون آج کسی جنازے کے ساتھ چلا؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:میں نے ایسا کیا ہے۔ آپؐ نے پوچھا:تم میں سے آج کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا؟حضرت ابوبکرؓ نے پھر فرمایا:میں نے ایسا کیا ہے۔ آپؐ نے پوچھا:تم میں سے کسی نے آج کسی مریض کی عیادت کی ہے؟حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: میں نے ایسا کیا ہے اے اللہ کے رسولؐ۔ آپؐ نے فرمایا:یہ صفات کسی انسان میں جمع نہیں ہوتیں مگر اسی لیے کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے‘‘ (مسلم،۲۴۲۱)۔ واضح رہے کہ روزے دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (ابن ماجہ،۱۷۵۲)
۵۔روزے کی توفیق ملنے پر شکرگزاری: روزے کی ادایگی کی توفیق پانے پر اللہ رب العزت کے احسانات و انعامات کا استحضار کرنا اور اس کے نتیجے میں شکرگزاری وکسر نفسی کا اظہار و اقرار کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’میں نے(خواب میں) اپنی امت کے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ مارے پیاس کے ہانپ رہا ہے اور جب بھی وہ کسی حوض کے پاس جاتا ہے اس کو روک کر کھدیڑ دیا جاتا ہے۔ تب رمضان کے روزے آتے ہیں اور اس کو پلاکر سیراب کرتے ہیں‘‘۔ (طبرانی،۱۲۵۶۳)
_______________
مقالہ نگار اسلامی یونی ورسٹی، مدینہ منورہ سے وابستہ ہیں

بندگی کا تقاضا


بندگی کا تقاضا

 اسلام کا تصورِ عبادت یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی خدا کی بندگی میں بسر ہو۔ آپ اپنے آپ کو دائمی اور ہمہ وقتی ملازم سمجھیں۔ آپ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خدا کی عبادت سے خالی نہ ہو۔ اس دنیا میں آپ جو کچھ بھی کریں، خدا کی شریعت کے مطابق کریں۔ آپ کا سونا اور جاگنا، آپ کا کھانا اور پینا، آپ کا چلنا اور پھرنا، غرض سب کچھ خدا کے قانونِ شرعی کی پابندی میں ہو۔ خدا نے جن تعلقات میں آپ کو باندھا ہے، ان سب میں آپ بندھیں، اور ان کو اس طریقے سے جوڑیں یا توڑیں جس طریقے سے خدا نے انھیں جوڑنے یا توڑنے کا حکم دیا ہے۔ خدا نے جو خدمات آپ کے سپرد کی ہیں اور دنیوی زندگی میں جو فرائض آپ سے متعلق کیے ہیں، ان سب کا بار آپ نفس کی پوری رضامندی کے ساتھ سنبھالیں اور ان کو اس طریقے سے ادا کریں جس کی طرف خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے آپ کی رہنمائی کی ہے۔ آپ ہروقت ہر کام میں خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں، اور سمجھیں کہ آپ کو اپنی ایک ایک حرکت کا حساب دینا ہے۔ اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ، اپنے محلے میں ہمسایوں کے ساتھ، اپنی سوسائٹی میں دوستوں کے ساتھ اور اپنے کاروبار میں اہلِ معاملہ کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت ایک ایک بات اور ایک ایک کام میں خدا کی مقرر کردہ حدود کا آپ کو خیال رہے۔ جب آپ رات کے اندھیرے میں ہوں اور کوئی نافرمانی اس طرح کرسکتے ہوں کہ کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو، اس وقت بھی آپ کو یہ خیال رہے کہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے۔ جب آپ جنگل میں جارہے ہوں اور وہاں کوئی جرم اس طرح کرسکتے ہوں کہ کسی پکڑنے والے اور کسی گواہی دینے والے کا کھٹکا نہ ہو، اس وقت بھی آپ خدا کو یاد کر کے ڈر جائیں اور جرم سے باز رہیں۔ جب آپ جھوٹ، بے ایمانی اور ظلم سے بہت سا فائدہ حاصل کرسکتے ہوں اور کوئی آپ کو روکنے والا نہ ہو، اس وقت بھی آپ خدا سے ڈریں اور فائدے کو اس لیے چھوڑ دیں کہ خدا اس سے ناراض ہوگا۔ اور جب سچائی اور ایمان داری میں سراسر آپ کو نقصان پہنچتا ہو اس وقت بھی نقصان اُٹھانا قبول کرلیں، صرف اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہوگا۔
پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جا بیٹھنا اور اللہ اللہ کرنا عبادت نہیں ہے، بلکہ دنیا کے دھندوں میں پھنس کر اور دنیوی زندگی کی ساری ذمہ داریوں کو سنبھال کر خدا کے قانون کی پابندی کرنا عبادت ہے۔ ذکر الٰہی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان پر اللہ اللہ جاری ہو، بلکہ اصلی ذکرالٰہی یہ ہے کہ جو چیزیں خدا سے غافل کرنے والی ہیں ان میں پھنسو اور پھر خدا سے غافل نہ ہو۔ دنیا کی زندگی میں جہاں قانونِ الٰہی کو توڑنے کے بے شمارمواقع، بڑے بڑے نقصانوں کا خوف لیے ہوئے سامنے آتے ہیں، وہاں خدا کو یاد کرو اور اس کے قانون کی پیروی پر قائم رہو۔ حکومت کی کرسی پر بیٹھو اور وہاں یاد رکھو کہ مَیں بندوں کا خدا نہیں ہوں بلکہ خدا کا بندہ ہوں۔ عدالت کے منصب پر متمکن ہو اور وہاں ظلم پر قادر ہونے کے باوجود خیال رکھو کہ خدا کی طرف سے مَیں عدل قائم کرنے پر مامور ہوں۔ زمین کے خزانوں پر قابض و متصرف ہو اور پھر یاد رکھو کہ مَیں ان خزانوں کا مالک نہیں ہوں بلکہ امین ہوں اور پائی پائی کا حساب مجھے اصل مالک کو دینا ہے۔ فوجوں کے کمانڈر بنو اور پھر خوفِ خدا تمھیں طاقت کے نشے میں مدہوش ہونے سے بچاتا رہے۔ سیاست و جہاں بافی کا کٹھن کام ہاتھ میں لو اور پھر سچائی، انصاف اور حق پسندی کے مستقل اصولوں پر عمل کر کے دکھاؤ۔ تجارت اور مالیات اور صنعت کی باگیں سنبھالو اور پھر کامیابی کے ذرائع میں پاک اور ناپاک کا امتیاز کرتے ہوئے چلو۔ ایک ایک قدم پر حرام تمھارے سامنے ہزار خوش نمائیوں کے ساتھ آئے اور پھر تمھاری رفتار میں لغزش نہ آنے پائے۔ ہر طرف ظلم اور جھوٹ اور دغا اور فریب اور بدکاری کے راستے تمھارے سامنے کھلے ہوئے ہوں اور دنیوی کامیابیاں اور مادی لذتیں ہر راستے کے سرے پر جگمگاتے ہوئے تاج پہنے کھڑی نظر آئیں اور پھر خدا کی یاد اور آخرت کی بازپُرس کا خوف تمھارے لیے پابندِ پا بن جائے۔ حدود اللہ میں سے ایک ایک حد قائم کرنے میں ہزاروں مشکلیں دکھائی دیں، حق کا دامن تھامنے اور عدل و صداقت پر قائم رہنے میں جان و مال کا زیاں نظر آئے، اور خدا کے قانون کی پیروی کرنا زمین و آسمان کو دشمن بنا لینے کا ہم معنی ہوجائے، پھر بھی تمھارا ارادہ متزلزل نہ ہو اور تمھاری جبیں عزم پر شکن نہ آئے۔ یہ ہے اصلی عبادت! اس کا نام ہے یادِ خدا! اِسی کو ذکر الٰہی کہتے ہیں، اور یہی وہ ذکر ہے جس کی طرف قرآن میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ: فَاِِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo(الجمعۃ ۶۲:۱۰) ’’پس جب نماز ختم ہوجائے تو پھیل جاؤ زمین میں اور تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘.....
lاسلام میں مراسمِ عبادت کی حیثیت: یہ خلاصہ ہے اسلامی تصورِ عبادت کا۔ اسلام انسان کی پوری دنیوی زندگی کو عبادت میں تبدیل کردینا چاہتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ آدمی کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی خدا کی عبادت سے خالی نہ ہو۔ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرنے کے ساتھ ہی یہ بات لازم آجاتی ہے کہ جس اللہ کو آدمی نے اپنا معبود تسلیم کیا ہے، اس کا عبد، یعنی بندہ بن کر رہے، اور بندہ بن کر رہنے ہی کا نام عبادت ہے۔
کہنے کو تو یہ چھوٹی سی بات ہے اور بڑی آسانی کے ساتھ اسے زبان سے ادا کیا جاسکتا ہے، مگر عملاً آدمی کی ساری زندگی کا اپنے تمام گوشوں کے ساتھ عبادت بن جانا آسان کام نہیں، اس کے لیے بڑی زبردست ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خاص طور پر ذہن کی تربیت کی جائے، مضبوط کیرکٹر پیدا کیا جائے۔ عادات اور خصائل کو ایک سانچے میں ڈھالا جائے، اور صرف انفرادی سیرت ہی کی تعمیر پر اکتفا نہ کرلیا جائے، بلکہ ایک ایسا اجتماعی نظام قائم کیا جائے جو بڑے پیمانے پر افراد کو اس عبادت کے لیے تیار کرنے والا ہو، اور جس میں جماعت کی طاقت فرد کی پشت پناہ، اس کی مددگار اور اس کی کمزوریوں کی تلافی کرنے والی ہو۔ یہی غرض ہے جس کے لیے اسلام میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی عبادتیں فرض کی گئی ہیں۔
ان کو عبادت کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس یہی عبادت ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اُس اصلی عبادت کے لیے آدمی کو تیار کرتی ہیں۔ یہ اس کے لیے لازمی ٹریننگ کورس ہیں۔ انھی سے وہ مخصوص ذہنیت بنتی ہے، اس خاص کیرکٹر کی تشکیل ہوتی ہے، منظم عادات و خصائل کا وہ پختہ سا پختہ بنتا ہے، اور اس اجتماعی نظام کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں جس کے بغیر انسان کی زندگی کسی طرح عبادتِ الٰہی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ان چار چیزوں کے سوا اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس سے یہ مقصد حاصل ہوسکے۔ اسی بنا پر ان کو ارکانِ اسلام قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ وہ ستون ہیں جن پر اسلامی زندگی کی عمارت قائم ہوتی اور قائم رہتی ہے۔ (اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، ص ۱۱۔۱۸)

Sunday, 8 July 2012

بدلہ

بدلہ

شاہ نواز فاروقی 
-بدلے کی نفسیات اگرچہ انسان کے ساتھ ہمیشہ سے ہے لیکن ہمارے زمانے میں ماحول کا جبر اور بدلے کی نفسیات باہم آمیز ہوکر ایک ایسی حقیقت بن گئے ہیں جو منفی معنوں میں ہمارے زمانے کی تعریف متعین کررہی ہے۔ ساحر لدھیانوی کا ایک مشہورِ زمانہ شعر ہے ؎ دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں ساحر لدھیانوی کے اس شعر کا انسان ماحول کے جبر اور بدلے کی نفسیات کا بری طرح شکار ہے۔ اسے اس کے ماحول کے جبر نے جو کچھ بنادیا ہے وہ بن گیا ہے، اور اسے اپنے ماحول سے جو اچھے برے تجربات فراہم ہوئے ہیں وہ انہی تجربات کو دنیا کی جانب لوٹا رہا ہے۔ اس کو چار اچھے تجربے ہوئے تو اس نے چار اچھے تجربے دنیا کو واپس کردیے، اور اسے سو برے تجربات ہوئے تو اس نے دنیا کو سو برے تجربات لوٹادیے۔ تجزیہ کیا جائے تو اس انسان کی زندگی میں نہ خدا موجود ہے، نہ مذہب موجود ہے، نہ معاف کرنے کی روایت کا شعور موجود ہے، نہ ایسا تخلیقی عمل موجود ہے جو برے تجربات کے ذریعے بھی انسان کو اچھی، مثبت اور خوبصورت چیزوں تک لے جاتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کا انسان تو بس اُس گیند کی طرح ہے جسے دیوار پر جتنی قوت سے مارا جائے گا اتنی ہی قوت سے وہ واپس لوٹے گی۔ لیکن انسان گیند نہیں ہے، وہ اشرف المخلوقات ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ فی زمانہ لوگ اشرف المخلوقات بننے کے بجائے گیند بننا زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اشرف المخلوقات بننے میں نقصان ہی نقصان ہے، کیونکہ اشرف المخلوقات بن کر آدمی معاف کرنے والا بن جاتا ہے۔ بدلے سے دامن چھڑانے والا بن جاتا ہے۔ ہمارے دور میں بدلے یا جیسے کو تیسا کی نفسیات کا رجحان اتنا عام ہے کہ انسانوں کی بڑی تعداد اس کے دائرے سے باہر نکل کر نہیں سوچ پاتی۔ ہمارے عہد کا شعر ہے ؎ برا کرو گے برا کریں گے بھلا کرو گے بھلا کریں گے ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے غور کیا جائے تو شعر کا مصرعۂ اولیٰ اس طرح بھی ہو سکتا تھا ؎ ’’بھلا کرو گے بھلا کریں گے برا کرو گے برا کریں گے‘‘ مگر شاعر کو دوسروں سے برائی کی اتنی زیادہ توقع ہے کہ اس نے مصرعے کا آغاز بھلائی کے بجائے برائی سے کیا ہے۔ اس شعر کے مفہوم کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کے لیے فی نفسہٖ خیر اور شر کچھ نہیں ہیں۔ اصل چیز دوسرے کا عمل ہے۔ دوسرا اگر ہمارے ساتھ نیکی کرے گا تو ہم بھی اس کے ساتھ نیکی کریں گے، اور اگر دوسرا برا کرے گا تو ہم بھی اس کے ساتھ برا کریں گے۔ تجزیہ کیا جائے تو اس شعر میں انسان ماحول کے جبر اور بدلے کی نفسیات کی گرفت میں ہے اور اس کی آزادی صفر بن کر سامنے آرہی ہے۔ دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کو بدلے کا جیسا حق حاصل ہے ویسا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے۔ اس نے انسان کو ہدایت کی روشنی عطا کی، نیک و بد کی تمیز سکھائی۔ لیکن اس کے باوجود اربوں انسان گمراہی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور خدا انہیں مہلت دیے جارہا ہے۔ خدا کو کفر سب سے زیادہ ناپسند ہے مگر دنیا میں دو ڈھائی ارب کافر موجود ہیں اور خدا اُن کو نہ مارتا ہے نہ اُن سے ان کا رزق چھینتا ہے، نہ اُن سے ان کی صلاحیتیں واپس لیتا ہے۔ خدا کو شرک سخت ناپسند ہے اور دنیا میں ڈھائی تین ارب انسان شرک میں مبتلا ہیں، مگر خدا اُن کے لیے بھی سورج نکالتا ہے، اُن کے لیے بھی ہوا چلاتا ہے، اُن کے لیے بھی بارش برساتا ہے، اور اُن کے لیے دنیا کی کسی نعمت کی راہ بند نہیں کرتا۔ بلاشبہ یہ لوگ آخرت کی زندگی میں محرومیت کی تصویر بنے کھڑے ہوں گے اور وہاں انہیں اپنے کفر اور شرک کی سزا ضرور ملے گی، لیکن دنیا میں اللہ تعالیٰ ان پر اپنی ہزاروں نعمتوں کے دروازے بند نہیں کرتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو کبیرہ اور صغیرہ گناہ ناپسند ہیں، مگر کوئی شخص اگر ایک کروڑ گناہوں کے بعد سچی توبہ لے کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک لمحے میں اس کے سارے گناہ معاف کردیتے ہیں اور اس سے اس کے کسی گناہ کا بدلہ اور اس کے کسی گناہ کا انتقام نہیں لیتے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے صاف کہا ہے کہ تم برائی کو بھلائی سے دور کرو۔ یعنی برائی کے مقابلے پر برائی پیش نہ کرو بلکہ بھلائی پیش کرو۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ برائی کے مقابلے پر برائی پیش کرنے سے برائی بڑھتی ہے، اور برائی کے مقابلے پر بھلائی پیش کرنے سے برائی کا قلع قمع ہوتا ہے اور اس کی جگہ معاشرے میں بھلائی جڑ پکڑتی اور پروان چڑھتی ہے۔ اسلام کی ایک تعلیم یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنے والوں میں انبیاء اور بالخصوص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرفہرست ہیں۔ آپؐ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپؐ نے ضرر پہنچانے والوں کو معاف کردیا، تکلیف دینے والوں کی دلجوئی کی اور شر کے مقابلے پر ہمیشہ خیر پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام بدلے کے مطلق خلاف ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اگر کسی نے تمہیں ایک طمانچہ مارا ہے تو بہترین بات تو یہ ہے کہ اسے معاف کردو، کیونکہ یہ ’’احسان‘‘ ہے اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، لیکن اگر تمہارے قلب اور تمہارے نفس میں اتنی گنجائش نہ ہوکہ تم اسے معاف کرسکو تو تم بھی ایک طمانچے کے بدلے میں اپنے حریف کو ایک طمانچہ مار لو۔ لیکن زندگی کا مشاہدہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ جوابی طرزِعمل میں زیادہ شدت ہوتی ہے اور ایک طمانچہ کھانے والا جواب میں ایک کے بجائے کئی طمانچے مارتا ہے، اور تجاوز ظلم ہے۔ چنانچہ بدلہ ایک کمزور آدمی کے لیے بہت بڑا امتحان ہے، اور جو امتحان میں پڑا وہ سخت مشکل میں مبتلا ہوا۔ لیکن یہ بدلے میں مضمر واحد ضرر نہیں ہے۔ بدلے کی نفسیات اپنی اصل میں غلامی اور اسیری کی نفسیات ہے۔ انسان کہنے کو اپنے حریف اور اپنے دشمن کو سخت ناپسند کرتا ہے، لیکن بدلے کی نفسیات انسان کو اپنے دشمن کی محبت، یہاں تک کہ اس کو دشمن کی تقلید میں مبتلا کردیتی ہے۔ دشمن جو کچھ کرتا ہے انسان بھی وہی کچھ کرتا ہے۔ دشمن بری زبان استعمال کرتا ہے اور انسان اپنی ساری زندگی کی شرافت اور نجابت کو ترک کرکے جواب میں خود بھی بری زبان استعمال کرنے لگتا ہے۔ دشمن جھگڑے میں ہاتھ پائوں استعمال کرتا ہے اور انسان اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے چکر میں خود بھی دشمن کی نقل کرنے لگتا ہے، یہاں تک کہ وہ ٹھیک اپنے دشمن کی طرح بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دشمن کی محبت اور اس کی غلامی نہیں تو اور کیا ہے؟ دشمن ہمیں اپنے جیسا بنا لے اس سے بڑی ناکامی اور اس سے زیادہ افسوس اور شرم کی بات کیا ہوسکتی ہے! اس کے مقابلے پر معاف کرنے کا عمل حقیقی معنوں میں آزادی کا عمل ہے۔ معاف کرنے والا انسان اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک آزاد انسان ہے۔ وہ اپنا طرزعمل خود متعین کرتا ہے۔ اسے اپنے دشمن کے عمل سے کچھ لینا دینا نہیں۔ بدلے کی نفسیات انسان کے داخلی ارتقاء کے عمل کو روک دیتی ہے اور انسان کے خیالات، جذبات اور احساسات کی ایک سطح متعین کردیتی ہے، اور انسان ساری زندگی اسی سطح پر کھڑا رہ جاتا ہے۔ البتہ معاف کرنے کا عمل انسان کی داخلی گنجائش کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اس سے انسان کی روح کی تابندگی بڑھتی ہے، قلب میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور ذہن زیادہ سے زیادہ لچک دار ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہمارے دور میں بدلے کی نفسیات اتنی عام کیوں ہوگئی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بدلے کی نفسیات کا غلبہ اس امر کا عکاس ہے کہ مذہب ہماری زندگی میں یا تو موجود ہی نہیں، اور ہے تو ہم نے خود کو مذہب کے مطابق بنانے کے بجائے مذہب کو اپنے مطابق بنا لیا ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان نے باطن کی زندگی کو ترک کرکے خارجی زندگی میں پناہ تلاش کرلی ہے، اور خارجی زندگی میں جو کچھ نظر آتا ہے وہی اہم ہوتا ہے، اور ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طاقت ور نظر آئے۔ بدلے کی نفسیات اپنی اصل میںکمزوری کی نفسیات ہے، لیکن ہماری خارج پرستی نے اسے طاقت کی نفسیات بنادیا ہے۔

پسینہ کیوں اور کیسے؟

پسینہ کیوں اور کیسے؟


- حکیم راحت نسیم سوہدروی
پسینہ کا اخراج ہر فرد کے لیے ضروری‘ قدرتی اور صحت بخش عمل ہے۔ اس کے ذریعے جسم سے فاسد مواد نکلتا ہے۔ اس کے بغیر صحت نہیں ہوسکتی۔ اگر پسینہ رک جائے تو جسم میں جو حرارت پیدا ہوتی رہتی ہے وہ جسم میں ہی جمع رہے تو آدمی کو خاکستر کردے اور زندگی برقرار نہ رہے۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں پسینہ نہیں آتا وہ شدید غلطی پر ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو پسینہ آتا ہے مگر اس طرح کہ نظر نہیں آتا، کیونکہ پسینے کا بیشتر حصہ اڑ جانے والے بخارات کی صورت اُڑ جاتا ہے۔ یہ بات ایسے لوگوں کے لیے حیران کن ہوگی کہ ہر شخص کے جسم سے 24 گھنٹوں میں نصف کلو پسینہ بہہ جاتا ہے۔ پسینہ اُس وقت زیادہ نکلتا ہے جب جسمانی حرارت 98.4 سے بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ موسم سرما میں کام کاج کرنے‘ دھوپ میں نکلنے‘ ذرا سی محنت مشقت سے پسینہ زیادہ آتا ہے۔ جس قدر حرارت کا اضافہ ہوگا اسی قدر پسینہ زیادہ آئے گا، کیونکہ جسم حرارت کے اخراج کی کوششیں کرتا ہے۔ جسم پسینے سے شرابور ہوجائے گا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پسینے کے اخراج سے شاذو نادر ہی کوئی آرام یا فرحت محسوس کرتا ہو، کیونکہ پسینے سے بدبو اورکپڑے چپکنے کا عمل بے چین اور مضطرب کردیتا ہے۔ ایسا عموماً اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کو پسینے کا اخراج زیادہ ہوتا ہے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی اور پسینے کو کنٹرول کرنے والی اشیاء کے استعمال سے پسینے کا بڑھا ہوا اخراج کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ پسینے کا اخراج قدرتی اور صحت بخش عمل ہے۔ اس کے بغیر سنگین صحتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ہماری جلد کی گہرائی میں ایسے کروڑوں غدود ہیں جن سے پسینہ خارج ہوتا ہے۔ پسینے سے جسم کا درجہ حرارت یکساں رہتا ہے اور جسم مرطوب رہتا ہے۔ اگر پسینے کا اخراج زیادہ ہو تو جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس طرح جسمانی محنت و ریاضت سے یہ غدود فعال ہوکر پسینہ خارج کرتے ہیں۔ جب جسم گرم ہوجاتا ہے تو پسینہ خارج ہوتا ہے، مگر جلد پر پسینہ بخارات میں تبدیل ہوکر اُڑ جاتا ہے اور جسم کی گرمی توڑ کر جسم کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ جب پسینے کو جلد پر پہنچ کر خارج ہونے کا راستہ نہیں ملتا تو بدبو پیدا کرتا ہے۔ یہ صورت جسم میں خلیوں کو کھانا شروع کرتی ہے جو مُردہ ہوکر سڑاند پیدا کرتیہیں۔ایکرین گلینڈ بھی اسی بو کا سبب ہوتے ہیں۔ یہ گلینڈ تولیدی اعضاء کے قریب ہوتے ہیں اور ایسے سیّال مواد کا افراز کرتے ہیں جس میں مُردہ خلیے اور نامیاتی مواد پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مواد پہلے مرحلے پر بے بو ہوتا ہے اور جلد پر بیکٹیریا شامل ہوکر اس کے مرنے سے بدبودار ہوجاتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ غم و غصہ سے دور رہیں۔ خوش و خرم زندگی گزاریں۔ اعصاب کو سکون دیں۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کی پاسداری کریم۔ ٹالکم پائوڈر، دافع بو اشیاء پیروں اور جوتوں پر چھڑکیں۔ روزانہ غسل کریں۔ کپڑے تبدیل کریں۔ صاف رہیں۔ اعصابی ہیجان سے بچیں۔ ایک تدبیر ان لوگوں کے لیے جن کو ہتھیلیوں پر بکثرت پسینہ آتا ہے: چائے کی پتی جو چائے بناکر بچ جاتی ہے، رات سونے سے قبل ہتھیلیوں پر مل لیا کریں۔

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ

اصحاب رسول ؐ کی معاشی زندگی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ

- عابد علی جوکھیو

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے تھے۔ آپؓ نے اپنے والد کے ساتھ اسلام قبول کیا، جبکہ اُس وقت آپ سنِ بلوغت کو بھی نہ پہنچے تھے۔ غزوہ بدر کے وقت آپ چھوٹے تھے اس لیے جنگ میں شریک نہ ہوسکے۔ سب سے پہلی جنگ، جس میں آپؓ نے شرکت کی تھی وہ غزوہ خندق تھی۔ غزوہ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ شرکت کی تھی۔ آپؓ جنگ یرموک اور فتح مصر و افریقہ میں شامل تھے۔ آپؓ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حد اتباع کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے وہیں آپؓ اترتے، جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی وہاں نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے تھے تو حضرت ابن عمرؓ اس کو پانی دیا کرتے تھے کہ خشک نہ ہوجائے۔ نافعؓ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمرؓ نے اپنی ایک زمین دو سو اونٹوں کے عوض بیچ دی، ان میں سے سو اونٹنیاں جہاد کے لیے دے دیں، اور جسے دی تھیں اسے یہ تاکید کی کہ جب تک تم ان اونٹنیوں کو لے کر وادی قریٰ سے نکل نہ جائو اُس وقت تک انہیں نہ بیچنا۔ (ابونعیم) حضرت نافعؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ بیمار پڑگئے، ان کے لیے انگوروں کا ایک خوشہ ایک درہم میں خرید کر لایا گیا۔ اتنے میں ایک مسکین نے صدا دی، حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اسے دے دو، اور وہ اسے دے دیا گیا۔ ایک شخص اس سائل کے پیچھے چلا گیا۔ اس نے وہ خوشہ اسی سائل سے ایک درہم میں واپس خریدا اور اس کو لے کر حضرت عبداللہ ؓ کے پاس آگیا۔ اتنے میں وہی مسکین دوبارہ آگیا اور سوال کیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اس کو دے دو۔ اس کے بعد ایک اور شخص اس سائل کے پیچھے گیا اور اس سے یہ خوشہ ایک درہم میں خریدکر آپؓ کی خدمت میں لے آیا۔ پھر تیسری مرتبہ وہی مسکین آیا اور اس نے سوال کیا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: یہ خوشہ اسے دے دو، اور وہ دے دیا گیا۔ پھر ایک اور شخص اس مسکین کے پیچھے چلا اور اس سے پھر ایک درہم کے عوض وہ خوشہ لے لیا، اس مسکین نے ارادہ کیا کہ پھر مانگنے جایا جائے، مگر اسے وہاں جانے سے منع کردیا گیا۔ بالآخر وہ خوشہ حضرت ابن عمرؓ کو کھانے کے لیے دے دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ اگر ابن عمرؓ کو یہ پتا چل جاتا کہ اس خوشہ کی وجہ سے اس مسکین کو روکا گیا ہے تو وہ اسے ہرگز نہ چکھتے۔ (ابونعیم) ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ ابن عمرؓ کو انگور کی خواہش ہوئی اور آپؓ بیمار بھی تھے، چنانچہ آپؓ کے لیے میں نے ایک درہم میں انگور کا خوشہ خریدا اور اسے لے کر آپؓ کے سامنے رکھ دیا، باقی واقعہ پہلی حدیث جیسا ہی ہے۔ مگر آخر میں اس طرح ہے کہ ہر دفعہ سائل لوٹ کر آتا اور حضرت ابن عمرؓ ہر مرتبہ وہ خوشہ اسے دینے کا حکم فرماتے، یہاں تک کہ میں نے سائل سے تیسری یا چوتھی مرتبہ کہا: تجھ پر بڑا افسوس ہے، تجھے شرم نہیں آتی! اور میں یہ خوشہ اسی سائل سے ایک درہم میں خریدکر حضرت ابن عمرؓ کے پاس آیا اور آپؓ نے اسے کھالیا۔ (الاصابہ) محمد بن قیسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بغیر مساکین کے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کا جسم کمزور ہوگیا تھا۔ بعض دفعہ مساکین ہی میسر نہ آتے اور بعض دفعہ پورا کھانا مسکینوں کو ہی کھلا دیتے اور خود کچھ بھی نہ کھاتے یا کم کھاتے۔ ابی بکر بن حفضؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اُس وقت تک کھانا نہ کھاتے جب تک کہ ان کے دسترخوان پر کوئی یتیم نہ ہوتا۔ (ابونعیم) حضرت حسنؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ جب صبح یا شام کھانا کھاتے تو آس پاس کے یتیموںکو بلاکر شریک کرتے۔ ایک دن صبح کا کھانا کھانے بیٹھے، کسی یتیم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا، وہ یتیم نہ ملا۔ آپؓ کے پاس گھلا ہوا ستو ہوتا تھا جس کوکھانا کھانے کے بعد پی لیا کرتے تھے۔ لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے، اب آپؓ اپنے ہاتھ میں ستوئوں کا پیالا لیے اسے پینے ہی والے تھے کہ اتنے میں وہ یتیم بھی آپہنچا۔ آپ ؓ نے ستو اس یتیم کو دے دیا اور فرمایا: اسے لو، میرا یہ خیال ہے کہ تم خسارے میں نہیں رہے۔ میمون بن مہرانؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ کی بیوی سے لوگوں نے شکایت کی کہ آپ اپنے میاں کی طرف توجہ نہیں کرتیں؟ آپؓ کی اہلیہ نے جواب دیا کہ میں ان کا کیا کروں؟ جب بھی ہم ان کے لیے کھانا بناتے ہیں تو یہ اس کھانے پر کسی نہ کسی کو بلاکر اسے کھلا دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ان کی اہلیہ نے ان مسکینوں کی طرف (جو ان کے راستے میں اس انتظار میں بیٹھے رہتے تھے کہ آپؓ مسجد سے نکلیں اور ہم ساتھ ہولیں) پہلے سے ہی کھانا بھیج دیا، اور انہیں کہہ دیا کہ اگر وہ تم کو بلائیں تو ان کے پاس نہیں آنا۔ اور ہوا بھی ایسا کہ مسکین نہیں آئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ کیا تم لوگوں کا یہ ارادہ ہے کہ آج رات میں کھانا نہ کھائوں؟ چنانچہ اس رات آپؓ نے کھانا نہیں کھایا۔ (ابن سعد) حضرت ابوجعفر قاریؓ کہتے ہیں کہ مجھ کو میرے مالک نے حکم دیا کہ تم حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ رہو اور ان کی خدمت کیا کرو۔ ابوجعفر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ جس بھی بستی میں جاتے وہاں کے رہنے والوں کو بلاتے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے، اس کھانے میں اس بستی کے چھوٹے، بڑے سب شریک ہوتے۔ کسی آدمی کے حصے میں دو لقمے اور کسی کے حصے میں تین لقمے آتے۔ ایک مرتبہ آپؓ جُحفہ میں پہنچے، آپؓ کو دیکھ کر لوگ جمع ہوگئے، وہاں ایک حبشی غلام برہنہ بھی تھا، حضرت ابن عمرؓ نے اس کو بھی بلایا۔ اس غلام نے کہا کہ مجھے لوگوں کی بھیڑ میں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس غلام کو اپنی چھاتی سے لگالیا۔ (ابونعیم) دوسری روایت اس طرح ہے کہ ابو جعفر قاریؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے لیے نکلا، حضرت ابن عمرؓ کے پاس ثرید (ایک قسم کا کھانا) کا ایک بڑا پیالہ تھا۔ اس پیالہ پر ان کے بیٹے، ان کے ساتھی اور جو کوئی بھی آتا جمع ہوجاتا اور کھاتا، یہاں تک کہ ان میں سے بعض، جگہ کی تنگی کی وجہ سے کھڑے ہوکر کھاتے۔ حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ ان کا ایک اونٹ تھا، اس پر چمڑے کے دو مشکیزے ہوتے جو نبیذ اور پانی سے بھرے ہوتے تھے، ہر آدمی کو اس نبیذ کے ستو کا ایک بڑا پیالہ ملتا جس سے وہ پیٹ بھرتا اور اس کی کوکھ نکل آتی۔ (ابن سعد) معنؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمرؓ دسترخوان تیار کرتے، اور ان کے پاس سے کوئی ایسا آدمی گزرتا جس کی کچھ شان و شوکت ہوتی تو اس کو دسترخوان پر نہ بلاتے جبکہ دیگر لوگ ان شان و شوکت والوں کے اپنے دسترخوان پر بلاتے۔ جب کوئی مسکین انسان گزرتا توآپؓ اس کو بلالیتے اور یہ امیر لوگ اس کو نہ بلاتے۔ ان کے اس عمل پر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ تم لوگ ایسوں کو بلاتے ہو جو اس کی خواہش نہیں رکھتے، اور ایسوں کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں اس کی خواہش (ضرورت) ہے۔ (ابن سعد) حضرت میمون بن مہران ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس بارہ ہزار دینار آئے، اُس وقت میں بھی وہیں تھا۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے ہی آپؓ نے ان سب کو تقسیم کردیا۔ حضرت نافعؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت ابن عمرؓ کے پاس ایک لاکھ کی رقم بھیجی۔ ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان کے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا۔ حضرت ایوب بن وائلؓ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو مجھ سے ابن عمرؓ کے ایک پڑوسی نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس چار ہزار حضرت معاویہؓ کے پاس سے، چار ہزار ایک اور آدمی کے پاس سے، اور دو ہزار ایک تیسرے آدمی کے پاس سے آئے ہیں اور چادریں بھی آئی ہیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ حضرت ابن عمرؓ بازار آئے کہ اپنی اونٹنی کے لیے ایک درہم ادھار چارا خریدیں، جبکہ مجھے یہ معلوم تھا کہ ان کے پاس اتنا مال آیا ہے، میں ان کی خادمہ کے پاس گیا اور کہا کہ میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تم مجھے یہ بات سچ سچ بتادو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست نہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس چار ہزار تو حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے آئے تھے، چار ہزار ایک اور آدمی کے پاس سے، اور دو ہزار کسی اور کی جانب سے، اور چادریں بھی آئیں؟ اس نے کہا: ہاں بے شک یہ چیزیں آئی تھیں۔ میں نے اس خادمہ سے کہا کہ میں نے تو حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کے لیے چارا ادھار خرید رہے تھے… خادمہ نے کہا کہ حضرت ابن عمرؓ صبح ہونے سے پہلے ہی اسے تقسیم کرچکے ہیں۔ رات ہی ایک چادر میں یہ مال ڈال کر چلے گئے، اس کے بعد اس چادر کو خالی واپس لائے۔ وہ پڑوسی کہتا ہے کہ تب میں نے جاکر تاجروں سے کہا: اے تاجروں کے گروہ! تم دنیا کے ساتھ کیا کررہے ہو؟ ابن عمرؓ کے پاس گزشتہ رات دس ہزار کھرے درہم آئے اور آج صبح وہ اپنی سواری کے جانور کے لیے ایک درہم کا چارا ادھار طلب کررہے ہیں۔ حضرت نافعؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے پاس بیس ہزار درہم سے زیادہ کی رقم آئی، لیکن جب اپنی مجلس سے کھڑے ہوئے تو اس حال میں کہ سارا مال وہیں خرچ کرچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ ہمیشہ صدقہ کیا کرتے تھے۔ بعض ایسے لوگوں سے ادھار لیتے جن کو انہوں نے عطیہ دیا ہوتا اور وہ اسی سے انہیں ادھار دیتے۔ میمونؓ کہتے ہیں کہ کہنے والا ان کو بخیل کہتا تھا۔ خدا کی قسم اس نے جھوٹ بولا۔ وہ نفع پہنچانے والی چیز میں ہرگز بخیل نہیں تھے۔ (مال کو صدقہ و خیرات کرنے میں) حضرت میمونؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے عمرو بن العاصؓ کو حضرت ابن عمرؓ کے دل کی بات معلوم کرنے کے لیے جاسوس مقرر کیا کہ آیا وہ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ حضرت عمرو بن العاص ؓ نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ کو یہاں سے نکلنے (بیعت کے لیے) سے کس چیز نے روکا ہے کہ ہم آپؓ سے بیعت کرلیں؟ آپؓ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور امیرالمومنین کے صاحبزادے بھی، آپ تمام لوگوں میں سے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا: ہاں سب کا اتفاق ہے سوائے چند لوگوں کے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: اگر تین موٹے عجمی آدمی ہجر (مقام) کے رہنے والے بھی باقی رہ جائیں گے تو مجھے بیعتِ خلافت کی ضرورت نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمرو بن العاص ؓ نے جان لیا کہ آپؓ کا جنگ کا ارادہ نہیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا کہ آپ کو اس بات کی خواہش ہے کہ آپ ایسے آدمی سے بیعت کریں جس کی بیعت پر عنقریب تمام لوگ جمع ہونے والے ہیں؟ اور وہ ہونے والا امیر آپ کے لیے زمینیں اور وہ مال لکھ دے جس کے بعد آپ اور آپ کے بعد آپ کی اولاد محتاج نہ رہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: تم پر بڑا افسوس ہے! تم یہاں سے چلا جائو اور پھر میرے پاس نہ آنا، تمہارے لیے خرابی ہو، بیشک میرا دین تمہارے دینار اور درہم پر نہیں، اور میں یہ امید کرتا ہوں کہ میں دنیا سے اس طرح جائوں کہ میرے دونوں ہاتھ سفید اور صاف ہوں۔ (ابن سعد) حضرت میمون بن مہرانؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنے ایک غلام کو مکاتب (وہ غلام جس سے یہ معاہدہ ہوکہ وہ کچھ رقم ادا کرلے تو آزاد ہوجائے گا) بنادیا اور اس پر کتابت کے بدلے (معاہدے کی رقم) کی قسطیں مقرر کردیں۔ جب پہلی قسط کی ادائیگی کا وقت آیا تو آپ کے پاس وہ مکاتب قسط لے کر آیا، آپؓ نے اس سے پوچھا کہ یہ قسط (رقم) کہاں سے حاصل کی؟ اس نے جواب دیا کہ میں کام بھی کرتا رہا اور مانگتا بھی رہا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: تم میرے پاس لوگوں کا میل لائے ہو؟ اور کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے لوگوں کا میل کھلاؤ؟ جاؤ تم اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہو، اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو یہ بھی میری طرف سے تمہارا ہوا۔ (ابو نعیم) حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بہت کھانا ہوتا جب بھی پیٹ بھر کر نہ کھاتے، اور کھاتے بھی تب جب اپنے ساتھ اور کھانے والے (مساکین، یتامیٰ) پا لیتے۔ ابن مطیعؓ حضرت ابن عمرؓ کے پاس عیادت کے لیے آئے، دیکھا کہ آپؓ کا جسم بہت لاغر ہوگیا ہے تو حضرت صفیہؓ سے کہا کہ آپ ان کے ساتھ مہربانی کیجیے (ان کی خوراک کا خیال رکھیے)، شاید کہ ان کے جسم میں کچھ جان آجائے۔ حضرت صفیہؓ نے جواب دیا کہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں لیکن یہ سب گھر والوں اور مسکینوں، یتیموں کو اس کھانے پر بلالیتے ہیں۔ تم خود اس بارے میں ان سے گفتگو کرلو۔ چنانچہ ابن مطیعؓ آپؓ سے ملے اور فرمایا: اے ابوعبدالرحمنؓ! آپ کوئی کھانا پکوا لیا کیجیے کہ آپ کے جسم میں کچھ جان آجائے۔ یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: مجھے آٹھ سال گزر رہے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ (یا اس طرح فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ پیٹ بھر کرکھایا ہے) اب تم چاہتے ہو کہ میں اپنا پیٹ بھروں؟ جب کہ میری عمر میں گدھے کی پیاس کے برابر حصہ باقی رہ گیا ہے (یعنی بہت تھوڑا حصہ۔ گدھے کی مثال اس لیے کہ وہ پانی پینے کے تھوڑی دیر بعد ہی پیاسا ہوجاتا ہے)۔ (ابونعیم) حضرت عمر بن حمزہ بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد حمزہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی گزرا، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے یہ بتائیے کہ جس دن آپ میرے والد (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے مقام حرف میں ملے تو انہیں دیکھ کر کیا کہا تھا؟ اس گزرنے والے نے کہا: میں نے کہا تھا کہ اے ابوعبدالرحمن! تمہاری بوٹیاں پتلی پڑ گئی ہیں (تم دبلے ہوگئے ہو) اور تمہاری عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ تمہارے پاس بیٹھنے والے (گھر والے) تمہارے حق اور تمہاری شرافت کو نہیں پہچانتے، کاش! تم اپنے گھر والوں کو حکم دیتے کہ وہ تمہارے لیے کچھ تیار کردیتے۔ جب تم ان کی طرف (گھر) لوٹ کر جاتے تو وہ تمہیں نرم غذا کھلاتے۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے جواب دیا تھا کہ تجھ پر بڑا افسوس ہے! میں نے چودہ سال سے ایک مرتبہ بھی پیٹ نہیں بھرا، اب میں کیسے اپنا پیٹ بھروں جب کہ میری عمر بھی بہت کم رہ گئی ہے! حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے غلام عبیداللہ ؓ بن عدی عراق سے واپس آئے تو حضرت ابن عمرؓ کے پاس سلام کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ کہا کہ میں آپ کے لیے ایک ہدیہ لایا ہوں۔ پوچھا: کیا ہے؟ کہا: جوارش لایا ہوں۔ فرمایا: یہ جوارش کیا چیز ہے؟ کہا: کھانا ہضم کردیتی ہے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: میں نے چالیس سال سے پیٹ نہیں بھرا، میں اس جوارش کا کیا کروں؟ (ابو نعیم) حضرت ابن سیرینؒ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کہ میں آپ کے لیے جوارش بناؤں گا۔ آپؓ نے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جب کھانا ہضم نہ ہورہا ہو اور نقصان کا باعث بنے تو یہ بآسانی اسے ہضم کردے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: میں نے کتنے عرصے سے پیٹ بھرا ہی نہیں اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ مجھے کھانا نہیں ملتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایک ایسی قوم کے ساتھ عرصۂ دراز گزارا ہے جو ایک مرتبہ کھاتی اور ایک مرتبہ بھوکی رہتی ہے۔ (ابن سعد) حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہیں رکھی (کوئی مکان نہیں بنایا) اور نہ میں نے کوئی پودا لگایا۔ (ابو نعیم و ابن سعد) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے دنیا پائی، اور وہ دنیا کی طرف اور دنیا اس کی طرف مائل نہ ہوئی سوائے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے۔ سدیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چند صحابہؓ کو دیکھا جن کا یہ کہنا ہے کہ صحابہ کرام ؓمیں سے کوئی بھی اپنی اس حالت پر نہیں رہا جس حالت پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑا تھا، سوائے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے۔ (الاصابۃ)

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی

- ابو حسان
’’ایشیا‘‘ کے ماضی قریب تک، اپنی رنگینیوں کے لیے مشہور شہر ’’رنگون‘‘ (اب ’’ینگون‘‘) اور ’’بنگلہ دیش‘‘ کے جنوب مشرقی ساحلی سرحدی قصبے ’’ٹیکناف‘‘ سے آمدہ خبر ہے کہ ’’برما‘‘ (موجودہ نام ’’میان مار‘‘) کی شمال مغربی ریاست ’’اراکان‘‘ (تبدیل شدہ نیا نام ’’رکھائن‘‘) کے صدر مقام ’’اکیاب‘‘ (تبدیل شدہ نام ’’سائٹوے‘‘) میں، مسلم کش فسادات میں 70 مسلمان قتل کردیے گئے ہیں، زخمیوں کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ شمار پہلے دن کا اور سرکاری طور پر جاری شدہ ہے، جوکہ حتمی ہے نہ مصدقہ… مقتولین و مجروحین کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہے، کیوں کہ قتل عام کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یہ مسئلہ ہے کیا؟ دنیا برسوں بعد، کبھی اچانک اس نوع کی بھی کوئی خبر پڑھ لیتی ہے۔ دیکھنے سننے کی نوبت اس لیے نہیں آتی کہ سمعی و بصری ذرائع ابلاغ کے کار پردازوں کے لیے اس میں کوئی خبریت، دل چسپی اور مفاد نہیں ہے۔ پڑھنے کو بھی کچھ ملتا ہے تو وہ روایتی انداز کا، ناقص اور نامکمل ہوتا ہے اور اکثر خلاف ِ واقعہ و حقیقت بھی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’میان مار‘‘ کی ریاست ’’راکھن‘‘…… جی ہاں! یہ ’’برما‘‘ کے زیر قبضہ ریاست ’’اراکان‘‘ کی بات ہے۔ بیس ہزار مربع میل پر محیط یہ خطہ ایک مسلم مملکت تھا، جس پر 1784ء میں برما نے قبضہ کرلیا تھا۔ 1824ء میں اراکان پر برطانیہ کا تسلط ہوا۔ 1947-48ء میں انگریزوں نے انخلا کیا تو اہلِ اراکان کی شدید خواہش اور کوشش کے باوجود کشمیر، حیدرآباد اور جونا گڑھ وغیرہ ریاستوں کی طرح اراکان کو بھی خودمختاری دی گئی اور نہ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔ اراکان ایک مسلم اکثریتی خطہ تھا اور آج بھی ہے۔ ہرچند کہ حقیقی اور حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں، اور نہ قابض برمی حکومت ہی اس کا کوئی اہتمام کرتی ہے، مگر محتاط اندازہ ہے کہ آج بھی اراکان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 60 فی صد سے کم نہیں۔ اس تعداد میں وہ مسلمان شامل نہیں ہیں جو گزشتہ صدی عیسوی کی دوسری جنگ عظیم میں، جس کا ایک بڑا محاذ اراکان بھی تھا، بچ تو گئے تھے مگر جبری انخلا اور ترک ِ وطن یا ہجرت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ مسلمان جو اراکان کے قدیم نام ’’روہنگ‘‘ کی نسبت سے خود کو ’’روہنگیا‘‘ کہلواتے ہیں، ترکِ وطن اور ہجرت کی خاص متنوع اور پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ یہ بڑے مذہبی، جفاکش، پرامن اور صابر و شاکر لوگ ہیں۔ انہیں بزدل نہ بھی کہا جائے، پھر بھی ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ لڑنا بھڑنا اور اپنے جینے کے حق کے لیے مرنا مارنا انہیں پسند نہیں ہے۔ برمی بودھ فوجی (کسی زمانے میں ساتھ ساتھ اشتراکی بھی) حکومتوں کے شرم ناک ناقابلِ بیان و یقین مظالم حد سے بڑھ جاتے ہیں تو صدیوں سے پُرکھوں کی بسائی ہوئی بستیاں، زمینیں، جائداد، مسجدیں اور مدرسے… سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جہاں ٹھکانہ ملے وہاں پناہ لے لیتے ہیں۔ مرحوم مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش)، موجودہ پاکستان، بھارت، شرقِ اوسط اور مشرق بعید کے بعض ممالک میں تو ان روہنگیا مسلمانوں کی دسیوں سال سے آباد بستیاں بھی ہیں۔ یورپ، امریکا اور افریقہ سمیت دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو، جہاں کم و بیش ان پناہ کے متلاشیوں کے قدم نہ پہنچے ہوں۔ ہر جگہ مقامی صورت حال کی رعایت سے ان کی اقامتی حیثیت بھی مختلف ہے۔ کہیں مکمل شہری کی، کہیں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، اور بعض مقامات پر تسلیم شدہ یا غیر تسلیم شدہ پناہ گزین کی۔ اوسطاً سال میں ایک مرتبہ ’’اراکان‘‘ میں بڑے پیمانے پر اور ’’برما‘‘ میں حسب ضرورت مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جاتی ہے یا مذہبی و نسلی فساد برپا کروایا جاتا ہے۔ سینکڑوں قتل، ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر کردیے جاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ و مواصلات کی ترقی کے باعث حکومت کی ہزار کوشش کے باوجود برما بالخصوص رنگون وغیرہ بڑے شہروں سے کچھ نہ کچھ خبریں باہر نکل ہی آتی ہیں، مگر ’’اراکان‘‘ کی صورت حال بالکل مختلف ہے، وہ اس کے غیر مسلم باشندوں کے لیے تو نہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے ضرور ایک ’’محصورہ‘‘ ہے جس سے سب کچھ چھوڑ کر، خالی ہاتھ، ننگے پائوں، تن کے کپڑوں میں، ہمیشہ کے لیے، کبھی واپس نہ آنے کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔ نہیں نکلیں گے تو کسی روز مار دیے جائیں گے، ورنہ فقر و فاقہ، خوف و ذلت، بیماری ومسکنت اور غلامی کی زندگی گزارتے رہیں۔ یہ مسلمان صرف نسلی ’’اِعدام‘‘ ہی کے شکار نہیں ہیں، منظم اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے تحت گزشتہ چھ سات دہائیوں سے ہر مقتدر فوجی یا غیر فوجی ٹولہ ان کے دینی، علمی، ثقافتی اور تاریخی ارتداد کے لیے بھی کوشاں ہے۔ حکومت یا ملازمت میں کسی حصے کو چھوڑیے، ان پر تو ہر قسم کی تعلیم کے دروازے بھی بند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں یہ لوگ دنیا کو تحریراً یا تقریراً کچھ نہیں بتاسکتے۔ جہل اور ناخواندگی نے پوری قوم کو بری طرح لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انہیں اپنے انسانی حقوق کا کوئی شعور نہیں ہے، جو کچھ ہورہا ہے اسے وہ اپنے نصیب کا لکھا سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کا کیا رونا! جب ’’او آئی سی‘‘ کو ان کی کوئی پروا نہیں۔ حقوق انسانی کی ٹھیکے دار بے شمار تنظیموں کو بھی یہ لوگ نظر نہیں آتے، کیوں کہ یہ تو ’’مسلمان‘‘ ہیں… کتے، بلی، سور جیسے جانور بھی نہیں ہیں، ورنہ ’’انجمن انسداد بے رحمی حیوانات‘‘ کے ذمہ داران تو اب تک برما کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی ضرور کرچکے ہوتے۔ اتنی انسانیت تو ابھی دنیا میں باقی ہے۔ رہ گیا اراکان کا قریبی پڑوسی مسلم ملک بنگلہ دیش… تو ماشا اللہ وہ اقتصادی و معاشی ترقی کی دوڑ میں اس قدر مست ہے کہ اس کی (بالخصوص موجودہ) حکومت کو ایسے کسی فضول اور لایعنی قضیے پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں۔ وہ تو 40 سال پہلے بھارتی دراندازوں سے مقابلے کا جرم کرنے والے بنگالی مسلمانوں ہی سے نمٹنے میں بری طرح مصروف ہے۔ ویسے گزشتہ عشروں میں جب اس کی معاشی حالت خاصی خراب تھی، دو سے زیادہ مرتبہ ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک میں عارضی پناہ اور برمی حکومت کی شرائط مان کر ان کی جبری واپسی کا نیک کام کرچکا ہے۔ اب معاشی استحکام حاصل ہونے پر سننے میں آرہا ہے کہ قتل عام کی حالیہ لہروں سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی جانب راہِ فرار اختیار کرنے والے مسلمانوں کی کئی کشتیوں کو بنگلہ دیشی بحریہ کے سرحدی دستوں نے اپنے ساحل تک نہیں پہنچنے دیا۔ بیچ سمندر ہی میں ان کا رخ موڑ دیا۔ ’’واپس جائو! ورنہ اتنا بڑا سمندر ہے، کہیں جاکر ڈوب مرو!! ہمیں کیوں تنگ کرتے ہو؟‘‘ ذرا سی خوش حالی آنے پر پڑوسی برادر مسلم ملک کا یہ حال ہے تو اس سے مقابلتاً کم یا کہیں زیادہ دولت مند، ترقی یافتہ، خوش حال، چھوٹے بڑے، نئے پرانے پچپن/ ساٹھ… مسلم ملکوں اور ان کے حکمرانوں سے کیا توقع رکھی جائے؟ آج تو دنیا میں خلافت کا نظام ہے نہ کسی خطے میں دین قائم ہے، نہ کوئی خلیفہ معتصم باللہ ہے اور نہ کہیں حجاج بن یوسف جیسا جابر مگر باغیرت حکمران، کوئی جرنیل بھی محمد بن قاسم جیسا بہادر نہیں ہے۔ ہاں! اراکان کے مظلوم و مجبور نہتے مسلمانو! سن لو، تمہاری دادرسی کو کوئی نہیں آئے گا۔ اپنی فکر خود اور اپنی مدد آپ کرو۔ بھاگ کر بھی کہاں جائوگے؟ دیکھ تو لیا، کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ اللہ کے بھروسے پر مزاحمت کرو، اقدام نہ کرو، مگر جو کچھ میسر ہے حملہ آوروں کا اس سے مقابلہ کرکے مرو۔ بودھ تو اپنی ’’مت‘‘ پر خوب عمل کررہے ہیں، تم بھی اپنے دین کی تعلیمات اور شریعت کے احکام پر عمل کرو۔ یاد رکھو! تمہارے رب اللہ، اس کے دین اسلام، مجموعۂ ہدایت قرآن اور شارح و ہادی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم اور اسوہ میں نہیں… بلکہ نام نہاد قانونِ بین الاقوام میں بھی کہیں ’’دفاع‘‘ کی ممانعت نہیں ہے۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو!

حضرت عثمان ؓ بن ابی العاص ثقفی

حضرت عثمان ؓ بن ابی العاص ثقفی

- طالب ہاشمی
قبولِ اسلام سے پہلے طائف کے بنوثقیف برے، متمّرد اور بدخو لوگ تھے۔ دینِ حق سے ان کی دشمنی اور سرکشی کا یہ عالم تھا کہ 10 بعدِ بعثت میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ حق کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عربوں کی روایتی مہمان نوازی کو بالائے طاق رکھ دیا اور دعوتِ توحید کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف تضحیک و تمسخرکا نشانہ بنایا بلکہ آپؐ پر پتھر برسائے۔ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سخت زخمی حالت میں طائف سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر8ھ میں اہلِ حق نے طائف کا محاصرہ کرلیا تو بنوثقیف نے شدید مزاحمت کی اور پتھر اور تیر برساکر کئی مسلمانوں کو شہیدکیا۔ لیکن قدرت کی کرشمہ سازیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ ابھی اس واقعہ کو زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ طائف کے دل پھیر دیئے اور 9ھ میں انہوں نے خودبخود آستانۂ اسلام کے سامنے سرجھکادیا۔ اس سال بنوثقیف کا ایک وفد عبدیالیل کی سرکردگی میں مدینہ منورہ آیا۔ حضرت مغیرہ ؓ بن شعبہ ثقفی جو پہلے ہی شرفِ اسلام سے بہرہ ور ہوکر مدینہ منورہ میں مقیم تھے‘ انہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر اس وفدکو صحنِ مسجد میں خیمے لگاکر ٹھیرایا اور اہلِ وفد کی بہت خاطر تواضع کی۔ اس وفد نے مدینہ منورہ میں کافی عرصہ قیام کیا۔ اس دوران میں رئیسِ وفد عبدیالیل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کئی رعایتوںکی درخواست کی، جن میں ترکِ نماز، شراب نوشی اور سودی لین دین کی اجازت کے علاوہ جہاد سے استثنا کی رعایتیں بھی شامل تھیں۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی تین رعایتیں دینے سے یکسر انکار فرمادیا، البتہ ان کو وقتی طور پر جہاد سے مستثنیٰ کردیا اور صحابہؓ سے فرمایاکہ جب اسلام ان کے دل میں راسخ ہوجائے گا تو یہ خودبخود ہی جہاد کے لیے نکلیں گے۔ اہلِ طائف نے ارشادِ نبویؐ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اورکلمہ توحید پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت سے مشرف ہوگئے۔ بنوثقیف کے وفد میں ایک صحت مند نوجوان بھی شامل تھا جو عمر میں سب سے چھوٹا تھا لیکن نہایت نیک فطرت اور دانا تھا۔ اس کی پیشانی نورِ سعادت سے چمک رہی تھی اور وہ سعادت اندوزِ اسلام ہونے کے لیے سخت بے چین تھا۔ یہ نوجوان مدینہ منورہ میں وارد ہوتے ہی اہلِ وفد سے الگ ہوگیا اور علیحدگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ اسلام سے بہرہ ور ہوگیا۔ وفد کے اکابر تو مختلف مسائل کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو میں مشغول ہوگئے اور اس نوجوان نے ان سے چھپ کر پہلے تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن حکیم کا کچھ حصہ پڑھا اور پھر بڑے ذوق وشوق سے حضرت ابیؓ بن کعب انصاری سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔ ایک دن سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس کا علمی شوق دیکھا تو فرمایا: ’’یہ لڑکا تفقہ فی الدین اور تعلیم قرآن کا بہت مشتاق ہے‘‘۔ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس نوجوان کے علمی شوق اور اعلیٰ صلاحیتوں سے آگاہ ہوگئے۔ چنانچہ جب بنوثقیف کے وفد نے رخصت ہوتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے لیے کوئی امام مقرر فرما دیجیے تو آپؐ نے اس نوجوان کا ہاتھ پکڑکر فرمایا: ‘‘یہ دانا آدمی ہے اور یہی تمہارا امیر اور امام ہوگا‘‘۔ تمام اہلِ وفد نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے سامنے سرجھکادیا۔ پھرآپؐ نے اس نوجوان سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’نماز پڑھاتے وقت لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا۔ ان میں بوڑھے‘ بچے‘ بیمار‘ کمزور اور کاروباری ہرقسم کے لوگ ہوتے ہیں۔‘‘ یہ جوانِ صالح جن کو حصولِ علم کا اس قدر شوق تھا اور جن کو کم عمر ہونے کے باوجود بارگاہِ رسالتؐ سے نہ صرف دانائی کی سند عطا ہوئی بلکہ بنوثقیف جیسے زبردست قبیلے کی امارت وامامت بھی تفویض ہوئی‘ حضرت عثمانؓ بن ابی العاص ثقفی تھے۔ ………٭……… سیدنا حضرت ابوعبداللہ عثمانؓ بن ابی العاص کا شمار سیدالانام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہؓ میں ہوتا ہے جو آسمانِ علم وفضل کے آفتاب و ماہتاب بھی تھے‘ اور شوق جہاد‘ شجاعت اور جوانمردی کے لحاظ سے بھی اپنی نظیرآپ تھے۔ حضرت عثمانؓ کا تعلق مشہور قبیلہ بنوثقیف سے تھا جس کا مسکن طائف کا پُرفضا اور شاداب شہر تھا۔ حضرت عثمانؓ اسی شہر میں پیدا ہوئے اور یہیں سنِ رشدکو پہنچے۔ سلسلۂ نسب یہ ہے: عثمانؓ بن ابی العاص بن بشیر بن وہمان بن عبداللہ بن ہمام بن آبان بن یسار بن مالک بن خطیط بن جشم ثقفی۔ بنوثقیف نہایت سخت مزاج اورکھردرے لوگ تھے۔ لیکن حضرت عثمانؓ نہایت سلیم الطبع اورنرم خو نوجوان تھے۔ بددِ شعورکو پہنچ کر انہوں نے دعوتِ توحیدکا چرچا سنا تو نیکی کی طرف اپنے فطری رجحان کے باعث وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور حق کے داعیٔ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور اسلام کی تعلیمات سے پوری طرح آگاہ ہونے کے لیے بے چین رہنے لگے۔ چنانچہ غزوہ طائف کے بعد جب بنوثقیف کے وفد نے بارگاہِ نبوت میں حاضری کے لیے مدینہ کا رخ کیا تو وہ بھی اس وفد میں شامل ہوگئے اور مدینہ منورہ پہنچ کر سب سے پہلے شرفِ ایمان سے بہرہ ور ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تبرکاً تھوڑا سا قرآن پڑھایا اور پھر وہ بڑے ذوق وشوق سے قیام مدینہ کے دوران میں حضرت ابیؓ بن کعب سے قرآن کریم اور دینی مسائل کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ اپنے علمی شوق اور اخلاص فی الدین کی بدولت وہ بہت جلد سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے موردِ الطاف بن گئے۔ اور بالآخر بارگاہِ رسالت سے بنوثقیف کی امارت اور امامت کا اعزاز حاصل کیا۔ 11ہجری میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرصدیقؓ مسند نشینِ خلافت ہوئے تو دفعتاً سارے عرب میں فتنہ ارتداد (ردّہ) کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ان شعلوں کی حرارت کا اثر طائف تک پہنچا تو حضرت عثمان ؓ بن ابی العاص بے چین ہوگئے۔ انہوں نے تمام بنوثقیف کو جمع کیا اور ان کے سامنے ایک ولولہ انگیز تقریرکی جس میں فرمایا: ’’اے ثقیف کے لوگو! تم سبقت فی الاسلام سے محروم رہے اور اُس وقت یہ نعمت حاصل کی جب عرب کے دوسرے سب قبائل اس سے بہرہ یاب ہوچکے تھے۔ اس دیرکی تلافی اس نازک گھڑی میں تم دینِ حق پر ثابت قدم رہ کر کرسکتے ہو۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ گمراہی کے اس طوفان کا اثر قبول کرو اور شرفِ ایمان کو کھو بیٹھو۔ دیکھنا اس وقت تمہارے قدم ہرگز نہ ڈگمگانے پائیں‘‘۔ حضرت عثمانؓ کی پُراثر تقریرکا نتیجہ یہ ہوا کہ طائف پر ارتداد کے امڈتے ہوئے بادل آناً فاناً چھٹ گئے اور بنوثقیف نے فتنہ ارتداد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ………٭……… حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پورے عہدِ خلافت میں حضرت عثمانؓ بن ابی العاص طائف کے امیر رہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی وہ اسی منصب پر قائم رہے۔ 14ھ میں حضرت عمر فاروقؓ نے بصرہ کا شہرآبادکرایا تو وہاں کے لوگوں کی تعلیم وتعلم کے لیے ان کی نظر حضرت عثمانؓ ثقفی پر پڑی۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کو بصرہ بھیج دیا۔ ایک ہی سال بعد حضرت عمر فاروقؓ کی نگاہِ مردم شناس نے حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کو بحرین اور عمان کی امارت (گورنری) کے لیے منتخب کیا۔ حضرت عثمانؓ نے عمان کو اپنا مستقر بنایا اور اپنے بھائی حکمؓ بن ابی العاص کو اپنا نائب بناکر بحرین بھیج دیا۔ علامہ بلاذُری نے ’’فتوح البلدان‘‘ میں لکھا ہے کہ عثمانؓ بن ابی العاص نے کچھ عرصہ بعد ایک بحری بیڑا تیارکیا اور اسے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ یہ بحری بیڑا گجرات اورکوکن بمبئی کی سرحد پر واقع بندرگاہ تھانہؔ تک پہنچا۔ مجاہدین اسلام نے اس شہرکو فتح کرلیا لیکن اس پر اپنا قبضہ دیر تک نہ رکھا، کیونکہ ان کا مقصد بحری ڈاکوئوں کا انسداد اور ہندوستان کے حالات معلوم کرنا تھا۔ چنانچہ وہ چند دن بعد تھانہؔ سے بے شمار مالِ غنیمت لے کر واپس عمان آگئے۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ ہندوستان (گجرات کاٹھیاواڑ) پر عربوں کا یہ پہلا حملہ تھا۔ حضرت عثمانؓ نے یہ بیڑا روانہ کرتے وقت حضرت عمر فاروقؓ کی اجازت نہیں لی تھی۔ اس لیے جب انہوں نے دربارِ خلافت میں اپنی کامیابی اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کی اطلاع روانہ کی تو امیرالمومنین نے ان کی اس مہم جوئی کو پسند نہ کیا، کیونکہ ان کے خیال میں حضرت عثمانؓ نے مسلمانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا تھا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کو ایک سخت خط بھیجا جس میں لکھا: ’’اے برادرِ ثقفی! تم نے یہ لشکر نہیں بھیجا تھا بلکہ گویا ایک کیڑے کو لکڑی پر بٹھاکر سمندر میں ڈال دیا تھا۔ اگر یہ لوگ مصیبت میں پھنس جاتے تو خدا کی قسم میں تم سے اور تمہاری قوم سے اس کا مواخذہ کرتا‘‘۔ حضرت عمرفاروقؓ کے اس تہدیدی خط کے باوجود حضرت عثمانؓ بن ابی العاص نے ہندوستان پر بحری حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ کیونکہ ان کے نزدیک وہاںکے مقامی حالات ایسے ہی حملوں کا تقاضا کرتے تھے۔ علامہ بلاذُریؒ کا بیان ہے کہ دوسری دفعہ حضرت عثمانؓ نے اپنے بھائی مغیرہؓ بن ابی العاص کو ایک بیڑا دے کر ہندوستان روانہ کیا۔ وہ سندھ کے مشہور شہر دیبل پہنچے اور دشمنوں کو شکست دے کر مالِ غنیمت کے ساتھ بحرین واپس آئے۔ (ایک روایت یہ بھی ہے کہ مغیرہ دیبل میں شہید ہوگئے) تیسری مرتبہ حضرت عثمانؓ نے اپنے دوسرے بھائی حکم ؓ بن ابی العاص کو ایک بیڑے کا افسر بناکر ہندوستان کی طرف روانہ کیا۔ وہ بھڑوچ کو مسخرکرکے واپس آئے۔ بعض مؤرخین کا بیان ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف ان بحری لٹیروں کا قلع قمع کرنا تھا جو عربوں کے جہاز لوٹ کر سندھ اورکاٹھیاواڑ کی بندرگاہوں میں پناہ لیا کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے ان حملوں کے ذریعے یہ مقصد بڑی حد تک حاصل کرلیا اور جہازوںکو بحری قزاقوں کی تاخت وتاراج سے کافی عرصہ کے لیے نجات مل گئی۔ ………٭……… 21 ہجری میں حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کی زندگی کا وہ ولولہ انگیزدور شروع ہوا جس میں وہ عہدِ فاروقی اور عہدِ عثمانی کے نامور سپہ سالاروں کی صف میں کھڑے نظرآتے ہیں۔ اس سال حضرت عمر فاروقؓ نے ایران پر عام لشکرکشی کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے متعدد عَلم تیارکیے اور ان کو اپنے چند مشہور افسروں کے سپرد کرکے مختلف شہروں اور علاقوں کی تسخیر پر مامورکیا۔ ان افسروں میں حضرت عثمانؓ بن ابی العاص بھی تھے جنہیں اصطخرکی تسخیرکا کام سونپا گیا۔ اصطخر فارس کا نہایت اہم شہرتھا اور اس پر فوج کشی گویا فارس پر فوج کشی تھی۔ اہلِ فارس کو بھی دم دم کی خبریں پہنچ رہی تھیں۔انہوں نے اپنا مرکز توج کو بناکربڑے زوروشور سے مسلمانوں کے مقابلے کی تیاری کی۔ حضرت عثمانؓ جزیرہ ابرکادان فتح کرکے طوفان کی طرح توج کی طرف بڑھے اور ایرانیوں کے تمام دفاعی انتظامات کو روندکر توج پر عَلم اسلام بلند کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس شہر میں کچھ عرصہ قیام کرکے وہاں مسجدیں بنوائیں‘ اور عرب کے بہت سے قبائل آبادکیے۔ (ایک روایت یہ ہے کہ جزیرہ ابرکادان اور توج حضرت عثمانؓ کے بھائی حکمؓ بن ابی العاص کے ہاتھ پر فتح ہوئے) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے اسلامی لشکرکو مختلف مقامات پر پھیلادیا۔ ایرانیوں کو ہر جگہ شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور سابور‘ اردشیر‘ اوراصطخر وغیرہ بہت سے اہم شہر باری باری فتح ہوگئے۔ اُس زمانے میں فارس کا گورنر ’’شہرک‘‘ نامی ایک جنگجو ایرانی سردار تھا۔ اس نے مسلمانوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ایک جرار لشکر جمع کیا اور رامشہر میں چھائونی ڈال دی۔ حضرت عثمانؓ نے سوار بن ہمام اور اپنے بھائی حکمؓ بن ابی العاص کو شہرک کے مقابلے پر روانہ کیا۔ شہرک نے نہایت ترتیب سے صف آرائی کی اور اعلان کیاکہ جس شخص نے پیچھے قدم ہٹایا اسے قتل کردیا جائے گا۔ ادھر مسلمانوں کے جوش وخروش کی بھی کوئی انتہا نہیں تھی۔ غرض فریقین میں گھمسان کا رن پڑا۔ شہرک نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ لیکن جوش میں بپھرے ہوئے مسلمانوں کی یلغارکے سامنے اس کی کچھ پیش نہ چلی۔ ایرانیوں کو زبردست شکست ہوئی اور شہرک میدانِ جنگ میں کام آیا۔ رامشہر کی تسخیرکے بعد حضرت عثمانؓ نے ہرم ؒ بن حیان عبدی کو قلعہ شیر پر چڑھائی کا حکم دیا۔ انہوں نے اس قلعہ کو فتح کرلیا۔ خود حضرت عثمانؓ نے جرہ‘ کازدرن نوبندخان اور ان کے نواحی علاقوں کو مفتوح کیا۔ اسی دوران میں حضرت عمرفاروقؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ والی بصرہ کو حکم بھیجا کہ وہ فارس کی تسخیر میں حضرت عثمانؓ کا ہاتھ بٹائیں۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حضرت عثمانؓ کی مدد کے لیے بصرہ سے وقتاً فوقتاً امدادی دستے بھیجنے شروع کردیے ۔ کچھ عرصہ بعد وہ خود ایک فوج لے کر حضرت عثمانؓ کے پاس آگئے اوردونوں نے مل کر شیراز‘ ارجان‘ سینینر وغیرہ کو زیرنگیں کیا۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے اپنے لشکرکے ساتھ حصن جنایا‘ داراب جرد‘ جہرم اور فسا پر یلغارکی اور ان کو خلافتِ اسلامیہ کا مطیع بنایا۔ 23 ہجری میں انہوں نے فارس کے دارالحکومت سابور پر چڑھائی کی۔ اُس وقت فارس کا گورنر مقتول شہرک کا بھائی تھا۔ اس کو مسلمانوں سے مقابلے کی ہمت نہ پڑی اور اس نے حضرت عثمانؓ کو صلح کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے چند شرطوں پر اسے منظورکرلیا۔ اس طرح سارا فارس کچھ بزورِ شمشیر اورکچھ صلح کے ذریعے حضرت عثمانؓ کے ہاتھ پر فتح ہوگیا۔ ………٭……… فارس کی تسخیرکے ساتھ ہی یا اس کے معاً بعد حضرت عمر فاروقؓ نے شہادت پائی اور حضرت عثمانؓ ذوالنورین سریرآرائے خلافت ہوئے۔ حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کی فوجی سرگرمیاں ان کے عہد میں بھی جاری رہیں۔ علامہ بلاذُری کا بیان ہے کہ حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کی خلافت کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا کہ اہلِ سابور نے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور اپنی آزادی کا اعلان کردیا۔ 26 ہجری میں حضرت عثمانؓ بن ابی العاص اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے سابور پر ایک پُرزور حملہ کیا اور باغیوںکو قرار واقعی سزا دے کر سابور پر پھر پرچم اسلام لہرادیا۔ ابن جریر طبریؒ کے بیان کے مطابق اہلِ اصطخر بھی اسی زمانے میں باغی ہوگئے تھے۔ 27 ہجری میں حضرت عثمانؓ بن ابی العاص نے دوبارہ یلغارکرکے ان کو مطیع ومنقاد بنایا۔ امیر المومنین حضرت عثمان ذوالنورینؓ کو اصطخر کی تسخیرکی خبر ملی تو وہ بہت خوش ہوئے اور حافظ ابن عبدالبرؒ کی روایت کے مطابق انہوں نے حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کو بارہ ہزار جریب زمین بطور انعام مرحمت فرمائی۔ فتح اصطخرکے بعد حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کی سرگرمیوں کے بارے میں کتب سِیَر خاموش ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں لکھا ہے کہ اپنے وقت کے اس رجلِ عظیم نے 55 ہجری کے لگ بھگ سفرِ آخرت اختیار کیا۔ ازدواج و اولادکے بارے میں بھی ارباب سِیَر خاموش ہیں۔ حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کا شمار فضلائے صحابہ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو صحبت ِنبویؐ سے فیض یاب ہونے کا زیادہ موقع نہ ملا پھر بھی ان سے 29 حدیثیں مروی ہیں۔ ان کے راویوں میں سعید بن مسیبؒ‘نافع بن جبیرؒ‘ موسیٰ بن طلحہؒ اور ابن سیرینؒ جیسے اکابر تابعین شامل ہیں۔ حضرت خواجہ حسن بصریؒ حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کے بے حد مداح تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عثمانؓ فضل و کمال میں اپنی نظیرآپ ہیں۔ فی الحقیقت حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کی ذات علم وعمل کی جامع تھی۔ انہوں نے اخلاص فی الدین اور راہِ حق میں سرفروشی کے جو نقوش صفحہ تاریخ پر ثبت کیے وہ تاابد فروزاں رہیں گے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Thursday, 5 July 2012

فارسی…شریں زبان

فارسی…شریں زبان

اس بات پر ماہرین لسانیات میں سے اکثریت کااتفاق ہے کہ دنیا میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں ، ان میں لسانی حلاوت ، رنگ وآہنگ کی شیرینی اور فنی محاسن کے اعتبار سے زبانِ فارسی سہل الفہم ، سلیس ،سادہ اور ملائم زبان ہے ۔مغلق الفاظ ، پیچیدہ تراکیب ، ثقیل محاورات سے آزاد فارسی اُس دیس میں جنم لے چکی ہے ، جسے ایران کے نام سے جانا جاتاہے ۔ چنانچہ اس ملک کے اکثر شہریوں کے نام لسانی حُسن سے آراستہ ہیں مثلاً ہمدان ، آبادان ، اصفہان، طہران،مشہد،طُوس ،اہواز ، شیراز اور قم وغیرہ۔ سعدی ؔ اور حافظ ؔ دونوں کا تعلق شیرازؔ کی بستی سے تھا، جس کا چپہ چپہ زبان وادب کی خدمت عظمت اور حلاوت کاآئینہ دار رہا ہے۔ اپنے ابتدائی ایام سے ہی فارسی علم وآگہی ، فصاحت وبلاغت ، نکتہ آفرینی او رسب سے بڑھ کر اخلاقِ آدمیت کا ترجمان بھی اور بڑھ چڑھ کر علمبردار بھی رہی ہے۔ عالمی ادب میں اخلاقیات کے گوشوں کو تلاش کیا جائے تویہاں سعدیؔ شیرازی صفِ اوّل میں نمایاں حیثیت وصورت کے ساتھ نظر آئیں گے اور رومیؔ وحافظؔ دنیا کو درس آموز حکایات،حیران کن مشاہدات اور عشق ومستی کے تجربات سے معمور دکھائی دیں گے ۔فلسفۂ مغرب کے غواص اور علومِ اسلامیہ کے رمزشناس علامہ اقبال حضرت رومیؔ کے سامنے اپنے عجز وانکسار کا اظہار یوں کرچکے ہیں   ؎
پیرِ رومیؔ مرشدِ روشن ضمیر
کاروانِ عشق ومستی را امیر
ترجمہ: - روشن ضمیررہنما حضرت رومیؔ عشق ومستی کے قافلے کا امیر ہے ۔
فارسی زبان کے اکثر وبیشتر ادب پارے انسانی معاشرے کے اخلاقی اورعمرانی پہلوئوں سے براہِ راست مخاطب ہیں۔
فارسی زبان وادب میں ایسے گنج ہائے گرانمایہ چھپے ہوئے ہیں ، جن کی قدر وقیمت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے ۔فارسی کے انہی بیش بہا لعل وگہر نے برصغیر کے دوممتاز اُردو شاعروں مرزا غالبؔ اور علامہ اقبال ؔکو فارسی زبان میں اپنے بلند تخیلات کو ضبطِ تحریر میں لانے پر مجبور کردیا۔ غالب ؔ کی شہرت وقبولیت کا راز ان کے اُردو کلام میں پوشیدہ ہے لیکن ہمارے اس بے نظیر سخنور کو اپنے فارسی کلام پر ہی ناز تھا   ؎
فارسی بیں تاببینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگذر از مجموعۂ اُردو کہ بے رنگِ من است
ترجمہ:- (میرا )فارسی کلام دیکھ تاکہ تو اس میں نقش ہائے رنگ رنگ کا مشاہدہ کرسکے ۔ میرا اُردو مجموعہ آپ کے لئے بے رنگ ثابت ہوگا ۔
غالبؔ کے فارسی کلام پر ظ۔ انصاری ، مالک رام ، یوسف سلیم ،ظہیر احمد صدیقی اور کینیڈا مقیم ہندوستانی ڈاکٹر تقی عابدی نے شرح وترتیب اور ترجمہ و تجزیہ کے قابل قدر کارنامے انجام دیئے ہیں ۔
گزشتہ نصف صدی سے ہندو پاک میں فارسی زبان سے بے توجہی کا رُجحان بڑھ چکاہے اور اس زبان کے لئے دفتر ، اسکول اور بازار کے سبھی دروازے بند ہو کر رہ گئے ہیں ۔انگریزی زبان سے ہماری نئی نسل کا رشتہ اس قدر مستحکم ہوچکاہے کہ گھروں میں کشمیری زبان کا استعمال ایک عیب بن کر رہ گیا ہے ۔ فارسی زبان ، فارسی تہذیب اور فارسی اخلاقیات کی کتابوں کو ایک غیر محسوس طریقے کے تحت ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب سے خار ج کردیا گیا ۔ اس بات سے کوئی بھی صائب الرائے شخص انکار نہیں کرسکتا کہ جب تک ہمارے نظام تعلیم میں اخلاقیات کا گوشہ موجود تھا، سعدی ؔ اور سنائی ؔ کے سبق آموز اشعار شامل تھے ، انبیاء واولیاء ؒکی زندگی سے وابستہ کہانیاں موجود تھیں اور فارسی اقوال وملفوظات کا چلن تھا ، بڑی حد تک سماجی توازن ، اساتذہ کا احترام ،بزرگوں کی عزت ، والدین کی اطاعت اور سب سے بڑھ کر خوفِ خدا کا تصور نمایاں ہوا کرتا تھا۔ فارسی اخلاقیات اور درسیات طلبہ کے اندر حلال وحرام اور زشت وخوب کے درمیان فرق کرنے کا سلیقہ سکھاتی تھی اور آج کے نظامِ تعلیم کی بدولت کیا کچھ سامنے آرہاہے ،زبانِ شیریں میں شاعر مشرق کی زبانی سنئے   ؎
تخمِ دیگر بکف آریم و بکاریم ز نَو
کانچہ کشتیم ز خجالت نتواں کردہ دور
یعنی جو بیج میں نے اپنے ہاتھوں بویا،اس کی فصل جوکاٹ رہاہوں وہ شرمندگی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔
اسی خیال کو کسی اور زبان میں اگر ہم پیش کرنا چاہیں ، شاید اس شعر سے بہتر الفاظ فراہم نہیں ہوںگے ۔سعدیؔ شیرازی کی فکر کا کینواس شیکسپیئر سے دس گنا بڑا تھا اور جہاں بینی کا دائرہ تیس سال کے طویل عرصے پر پھیلا ہوا تھا ،لیکن سعدیؔ کی یہ بدنصیبی تھی کہ ایران میں پیدا ہوا او رشیکسپیئر کی خوش بختی تھی کہ ایک زندہ اور ادب پرور قوم میں تولد ہوا۔ انگریزوں کی حکومت ہندوستان سے چلی گئی لیکن اپنی زبان اور لباس ، اپنے ادارے اور ان کے نام اور کام یہیں پر ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے ۔ برعکس اس کے مغل سلطنت کا خاتمہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی زبان بھی یہاں سے ختم ہوئی اور ان کے چند آثار جو عمارات اور باغات کی شکل میں آج بھی موجود ہیں،سلطنت کی عظمت کا راگ الاپ رہے ہیں ۔
آج جب کہ پورے یورپ میں سائنسی علوم وفنون کا دور دورہ ہے ، اس صورت حال میں رومیؔ، سعدیؔ ، حافظ ؔ اور اقبالؔ کے افکار کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور وہاں علم وادب کے شیدائیوں کا بڑا حلقہ براہِ راست متن کو ترجموں کے ساتھ مطالعہ میں لاکر فارسی کی اہم تخلیقات سے مستفید ہورہاہے ۔ ہمارے یہاں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ریڈیو ،ٹی وی ،شعبہ فارسی کشمیر یونیورسٹی ، سنٹرل ایشین اسٹڈیز ، کلچرل اکیڈیمی ، ڈائریکٹر کالجر ، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن اور دیگر ادبی وعلمی اداروں کی طرف سے فارسی دانی کی طرف ایک قدم بڑھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ کشمیر میں سینکڑوں علمی خانوادوں کے پاس فارسی کے نادر نمونے کسمپرسی کی حالت میں پڑے اور سڑے ہوئے ہیں ان کو محفوظ بنانے کی مساعی ہونی چاہئے ۔
رابطہ: اقبال انسٹی چیوٹ کشمیریونیورسٹی