Search This Blog

Saturday, 11 August 2012

قربِ قیامت کی نشانیاں


قربِ قیامت کی نشانیاں

کیا یہ وقت آ چکا ہے ؟

احادیث میں قیامت سے پہلے بڑی جنگوں کی پیش گوئی کی گئی ہے

ڈاکٹر اسرار احمد

مغربی دنیا میں آج یہ بات عام ہو چکی ہے نوع انسانی اپنے آخری دور میں جی رہی ہے ۔ایسی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں یہ بات کہی جا رہی ہے ۔جیسے فوکویاما کی بہت مشہور کتاب ” End of History“ ہے۔ اس کتاب کا تعلق اس وقت کے دنیا کے حالات سے ہے پھر 1974ءمیں کتاب End of Philosophyآئی ‘ جس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ فلسفہ ختم ہو گیا ۔1988ءمیں کتاب End of Ideologyآئی یعنی نظریات کا دور ختم ہوا ۔1990میں کتاب End of Natureآئی ۔1991ءمیں کتاب End of Modernityسامنے آئی جس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ آج کل لوگوں کے ذہنوں پہ جس جدیدیت کا تصور سوار ہے، وہ اب ختم ہو رہی ہے ۔1994ءمیں کتاب End of Physicsآئی ۔1995ءمیں End of Education،1996ءمیں End of Science،End of Religion،End of Worldاور End of Economics،1997ءمیں End of InfluencesاورEnd of Continuity Lifeنامی کتابیں آئیں۔اسی دور میں عابد اللہ جان نے End of Democracyکے نام سے کتاب لکھی ۔آج کے موضوع سے متعلق ان کی کتاب Afghanistan,the Genesis of last Crusadeہے ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ جنگ افغانستان درحقیقت آخری صلیبی جنگ کا نقطہ آغاز ہے ۔یہ کتابیں تو مغربی دنیا کے حوالے سے ہیں ۔ہندوو ¿ں کے ہاں بھی دنیا کے مختلف ادوار شمار ہوتے ہیں ۔ان کے مطابق بھی یہ آخری دور ہے جس سے نوع انسانی گزر رہی ہے ۔ہمارے ہاں بھی احادیث مبارکہ میں آخری چار ابواب آتے ہیں جو انہی حالات کے بارے میں ہیں ۔یہ ابواب ہیں :کتاب الفتن‘ کتاب الملاحم‘ کتاب اشراط الساعہ اور کتاب علامات القیامتہ ۔ہمارے ہاں لوگوں کو عام طور پر پیش گوئیوں کے حوالے سے الرجی سی ہے ۔خاص طور پر حدیث کے حوالے سے سر سید احمد خان مرحوم سے جو ایک سلسلہ شروع ہوا تھا اب وہ انکار حدیث کی صورت میں بہت بڑا فتنہ بن چکا ہے ۔اس فتنے کے اثرات وسیع حلقے میں پھیلے ہیں ۔اس فتنے سے متاثر ہونے والوں میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو منکر حدیث ہو گئے ۔وہ صرف قرآن کو شریعت کا ماخذ سمجھتے ہیں ،سنت کو حجت، تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔شریعت کی دو بنیادی اساسات کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ان میں سے کسی ایک کی نفی اسلام کی نفی ہے ۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو جدید تعلیم یافتہ طبقے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان لوگوں میں حدیث رسول ﷺ کی طرف سے بے اعتنائی کا انداز ہے ۔پیش گوئیوں سے یہ بے توجہی برتتے ہیں حالانکہ یہ بہت بڑی محرومی ہے ۔پیش گوئی تو مذہب کی جڑ اور بنیاد ہے ۔آخر یہ بھی تو پیش گوئی ہے کہ قیامت واقع ہو گی ۔اس کے یہ حالات و واقعات ہوں گے ۔پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑیں گے ۔تم دیکھتے ہو کہ وہ جامد ہیں ،اس دن وہ ایسے چلیں گے جیسے بادل چلتے ہیں ۔انسان پتنگوں کی مانند ہو جائیں گے ،بہت بڑا زلزلہ آئے گا ،زمین کانپے گی ،تم مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھائے جاو ¿ گے ،حساب کتاب اور اس کے بعد جنت دوزخ کے فیصلے ہوں گے ،یہ سب پیش گوئیاں ہی تو ہیں ، ہماری نگاہوں کے سامنے کے معاملات تو نہیں ہیں ۔
قرآن مجید میں پیش گوئی کی ایک مثال موجود ہے ۔سورة الروم میں ایک عظیم پیش گوئی کی گئی :”رومی مغلوب ہو گئے قریب کی سر زمین میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے ۔“
یہاں قریب کی سر زمین سے مراد شام اور عراق ہیں جو جزیرہ نمائے عرب سے ملحق ہیں ۔وہاں 614ءمیں ہر قل اعظم نے ایرانیوں سے شکست کھائی ،یہ وہ وقت تھا جبکہ حضور اکرم ﷺ پر وحی کے نزول کو چار سال ہوئے تھے ۔عام طور سمجھا جاتا تھا کہ رومی تو عیسائی ہیں ۔ان کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے ۔گویا وہ اہل ایمان سے قریب تر ہیں ۔ایرانی چونکہ آتش پرست تھے لہٰذا وہ مشرکین سے قریب تر تھے ۔مکہ کے قریشی سرداروں نے رومیوں کی شکست پر بغلیں بجائیں کہ مسلمانو!دیکھو تمہارے ساتھی مار کھا گئے اور ہمارے ہم خیال لوگوں کو فتح ہو گئی ۔قرآن کریم نے پیش گوئی کی کہ اگرچہ رومی مغلوب ہو گئے ہیں لیکن وہ عنقریب دوبارہ غالب آئیں گے ۔قرآن حکیم کی اس پیش گوئی کے عین مطابق 622ءمیں ایرانیوں کو دوبارہ شکست ہوئی اور ہر قل اعظم نے بہت بڑی فتح حاصل کی ۔اس پیش گوئی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس دن اہل ایمان کو بھی بہت خوشی ہو گی ۔ایسا ہی ہوا، کیونکہ اسی دن غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔
کتاب الملاحم سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے قریب بڑی بڑی جنگیں ہوں گی ۔ان جنگوں کے دو ادوار ہوں گے۔ پہلے دور میں مسلمانوں کو زبردست ہزیمت ہو گی ۔پورا مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن کچھ عرصہ بعد پانسا پلٹے گا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہونا شروع ہو جائیگی اور ان کا غلبہ ہو جائیگا ۔
احادیث مبارکہ میں آخری دور کے جو واقعات آئے ہیں ان میں ترتیب قائم کرنا مشکل ہے کہ کب کیا ہو گا ۔ان واقعات پر تو ہمارا یقین ہے کہ ایسا ہو گا کہ ان کی خبر حضور اکرم ﷺ الصادق المصدوق نے دی ہے ۔آپ ﷺ کی سچائی پر تو اللہ گواہ ہے لیکن یہ کہ کون سا واقعہ پہلے ہو گا اور کون سا اس کے بعد ہو گا ،یہ احادیث کی کتابوں سے معلوم نہیں ہوتا ۔اس ضمن میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فرزند شاہ رفیع الدینؒ نے ایک کتاب ”علامات قیامت‘’ لکھی تھی ۔اس میں جنگوں کا سلسلہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلے یہ جنگ ہو گی ،پھر یہ ہو گی وغیرہ ۔ممکن ہے انہیں کچھ معلومات کشف کے ذریعے حاصل ہوئی ہوں پھر بھی یقین سے یہ ترتیب نہیں بتا سکتے ۔مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ”بہشتی زیور“ عوامی تصنیف ہے ۔اس میں جنگوں کے بارے میں بیانات موجود ہیں جو مولانا شاہ رفیع الدینؒ کی کتاب سے لئے گئے ہیں ۔
آخری دور کی جنگوں کے پہلے دور کے بارے میں فرمایا گیا کہ عربوں کیلئے بڑی ہلاکت ہے ،اس شر کی وجہ سے جو قریب آ چکا ہے ۔ایک موقع پر حضر اُم سلمیٰ ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ جب یہ ہو رہا ہو گا تو عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عرب بہت کم رہ جائیں گے ۔معلوم ہوا کہ عربوں کیلئے جنگ کا پہلا دور بہت تباہ کن ہے ۔حدیث رسول اکرم ﷺ کے مطابق اُمت میں سب سے بڑا فتنہ مال ہے اور یہ فتنہ مسلمانوں میں سب سے بڑھ کر عربوں میں ہیں ۔عربوں کی عیاشیاں اور ان کے گلچھرے ہر آمی ملاحظہ کر سکتا ہے ۔سعودی عرب جو عرب ممالک میں بنیاد پرست ملک شمار ہوتا تھا اب وہاں مخلوط تعلیم کیلئے یونیورسٹی قائم ہو رہی ہے ۔مخلوط تعلیم پر جب ایک عالم دین نے احتجاج کیا تو انہیں فوراً وہاں سے نکال دیا گیا ۔اسی طرح پہلے یہ ہوتا تھا کہ عوامی مارکیٹوں میں بے پردہ خواتین کو روکا جاتا تھا لیکن اب نہیں ۔اسی طرح وہاں اب کوئی پوچھنے والا نہیں کہ لوگ نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے ۔ایک مشہور حدیث مبارکہ جو حدیث جبرئیل کے نام سے موسوم ہے ،اس میں آپ ﷺ نے قربِ قیامت کی دو علامات بتائیں ۔پہلی علامت یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی ۔اس کا کیا مطلب ہے ؟بیٹیاں اتنی سر کش ہو جائیں گی گویا کہ وہ ماو ¿ں پر حاکم ہوں ۔ پھر فرمایا کہ تم دیکھوگے کہ وہ لوگ جو بھوکے ننگے تھے وہ اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے میں مقابلہ کریں گے ۔آپ دیکھ لیں ،دوبئی میں سیون سٹار ہوٹلز موجود ہیں ۔حال ہی میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج الدوبئی کا افتتاح ہوا ہے ۔اب سعودی عرب میں اس سے بھی اونچی عمارت بنائی جائے گی ۔
ملحمہ جنگ کو کہتے ہیں ۔ایک تو جنگ ہوتی ہے اور ایک لڑائی ۔جیسے پہلی جنگ عظیم جو کئی سال چلی ہے اس میں مستقل کئی لڑائیاں ہوئی ہیں ۔آخری زمانے میں جو جنگیں یعنی ملاحم ہونی ہیں ان میں ہونے والی لڑائیاں بہت اہم ہوں گی ۔حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ایک روایت میں حضور ﷺ نے پہلے دور کی ایک جنگ کو ”الملحمة العظمیٰ“ قرار دیا یعنی سب سے بڑی جنگ ۔اس حدیث میں آپ ﷺ نے مزید فرمایا : مسلمانو! عیسائی 80 علم لے کر تم پر حملہ آور ہوں گے اور ہر علم کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔اس جنگ کی خبر بائبل میں بھی ہے ۔عہد نامہ جدید کا آخری باب Revelation of St. Johnہے ۔اس میں یوحنا کی پیش گوئیاں ہیں ۔اس باب میں ایک بڑی جنگ کا تذکرہ ہے ،جس کا نام” آرمیگاڈان“ ہے ۔اگر آپ ڈکشنری میں آرمیگا ڈان کے بارے میں معلوم کریں گے تو اس کے بارے میں یہ الفاظ ملیں گے :
"A big war which will be fought between the forces of evil and good before the end of this world".
حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ عزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ ﷺ نے فرمایا :”اے عوف ،یاد رکھو قیامت سے قبل چھ باتیں ہوں گی ۔ایک میرااس دنیا سے جانا ۔(فرماتے ہیں یہ سن کے مجھے رنج ہوا ۔) اس کے بعد دوسری نشانی بیت المقدس کا (مسلمانوں کے ہاتھوں) فتح ہونا ۔سوم ایک بیماری تم پر ظاہر ہو گی جس کی وجہ سے تمہیں اور تمہاری اولادوں کو اللہ تعالیٰ شہادت سے سرفراز فرمائیں گے اور تمہارے اعمال کو پاک صاف کریں گے ۔چہارم تمہارے پاس مال و دولت خوب ہو گا حتیٰ کہ سائل کو سو اشرفیاں دی جائیں گی پھر بھی وہ ناراض ہو گا ۔پنجم تمہارے درمیان ایک فتنہ ہو گا جو ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہو گا ۔ششم تم میں اور رومیوں میں صلح ہو گی پھر رومی تم سے دغا کریں گے اور اسی جھنڈوں تلے اپنے فوج لے کر تمہارے طرف آئیں گے ۔ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے ۔“
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قیامت قائم ہونے سے پہلے چھ باتوں کے پیش آنے کا تذکرہ فرمایا ۔پہلی بات آپ ﷺ کی رحلت ،دوسری بیت المقدس کی فتح ،تیسری ایک خاص بیماری ہے ۔اس کے بعد آپ ﷺ نے دولت اور مالداری کے فتنے کا ذکر فرمایا کہ دولت کی اتنی بہتات ہو گی کہ کسی سائل کو سو دینار بھی دئیے جائیں تو وہ ناراضی کا اظہار کرے گا ۔یہ نقشہ آج آپ عرب ممالک میں جا کر دیکھ سکتے ہیں ،جہاں دولت پانی کی طرح بہتی ہے ۔مزید فرمایا کہ پھر ایک ایسا فتنہ آئیگا کہ کوئی گھر نہیں بچے گا جس میں وہ داخل نہ ہو ۔آج یہ فتنہ ٹی وی اور مغربی تہذیب کے ذریعے آچکا ہے ۔تھوڑا سا پردہ ہوتا ہے جو خواتین گھر سے باہر نکلتے وقت عبا کی شکل میں لے لیتی ہیں ،اب وہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے ۔اب تو امریکی سٹائل کے نئے شہر آباد کئے جا رہے ہیں پھر ایک صلح کا دور آئیگا ۔یہ وہ دور ہے جو آج گزر ہا ہے ۔آج امریکہ اور عالم عرب میں صلح ہے ۔خلیج کی تمام امارات امریکہ کے سہارے کھڑی ہیں ۔اس پورے علاقے کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکہ کے بڑے بڑے اڈے وہاں موجود ہیں ۔
٭٭٭

ISLAM KO EK AUR DR. HAMIDULLAH CHAHIYE!

Courtesy: Munsif Hyd

FANI DUNIYA MEIN LAFANI KAUN?

فانی دنیا میں لافانی کون؟

متفرق 
-انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ یہ سوال سنتے ہی ہر طرف سے طرح طرح کے جوابات آنا شروع ہوگئے۔ سیمینار ہال میں چند طلبہ ایک دوسرے سے دوستانہ ماحول میں محوِ گفتگو تھے۔ میں بھی ہال کے ایک کونے میں خاموشی سے یہ سب سن رہا تھا۔ نوجوان نے بہت گہرا اور قیمتی سوال پوچھا تھا اور طرح طرح کے جوابات آنا شروع ہوگئے۔ کوئی ’’تعلیم‘‘ کہہ رہا تھا تو کوئی ’’غربت‘‘ … کسی کا جواب ’’معاشرتی محرومی‘‘ تھا، تو کسی کا ’’نظام عدل‘‘۔ جب سب باری باری اپنا ویو پوائنٹ بتاچکے تو ایک نوجوان جو اس ماحول میں کافی دیر سے خاموش تھا، گویا ہوا: ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تمام عمر اپنے پیدا ہونے کے عمل اور اپنے ابتدائی ایام پر غور نہیں کرتے اور یہیں سے ہمارے تمام مسائل کا آغاز ہوجاتا ہے۔‘‘ نوجوان نے بات سولہ آنے درست کہی تھی مگر شاید اکثر طلبہ سمجھ نہیں پائے، اور شاید اسی وجہ سے اس نوجوان کے خیال پر کسی نے بھی بحث نہ کی۔ مگر میرے خیال میں اس نوجوان نے زندگی کے مسائل کی جڑ کو کھود نکالا تھا، وہ جڑ کہ جس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے تمام مسائل عود کر آتے ہیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ عجب بات لکھ دی ہے، مگر بات ہے ذرا غور طلب۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو جانور کے بچے سے بھی کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنا پھرنا، بھاگنا دوڑنا اور اپنی خوراک دودھ خود حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں، مگر انسان کا بچہ کوئی بھی کام، حتیٰ کہ کروٹ تک خود نہیں بدل پاتا۔ عروج و زوال کی داستان کے عین مطابق یہ بچے کے زوال کا وقت ہوتا ہے۔ پھر ہر زوال کو عروج اور ہر عروج کو زوال کے اصول کے تحت بچے کے جسم میں طاقت آنا شروع ہوتی ہے۔ پہلے انگلی پکڑکر چلنا سیکھتا ہے، پھر بھاگنا دوڑنا… اور ایک دن جوانی آن پہنچتی ہے… مکمل عروج، بھرپور جوانی… وہی کمزور و لاچار انسان اب طرح طرح کے گل کھلانے لگتا ہے یہ سوچے بغیر کہ جوانی چار دن کی بہار ہے۔ بہار گزر جاتی ہے، عروج کو زوال آجاتا ہے اور پھر سے انسان چلنے پھرنے ہر چیز سے لاچار ہوجاتا ہے۔ یونہی نہیں کہا جاتا کہ بچہ اور بوڑھا برابر ہوتے ہیں۔ نہ صرف عادات میں بلکہ زندگی کی مجبوریوں میں، کہ دونوں ہی دوسروں کی مدد کے منتظر رہتے ہیں، اور پھر ایک دن چند قطروں سے وجود پانے والے کا وجود مٹی کے ذروں میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ یہ ہے اس فانی انسان اور فانی زندگی کی کہانی۔ یہ ہے زوال سے عروج اور پھر عروج سے زوال کی طرف لوٹ جانے کی داستان۔ قدرت کا یہ قانون اٹل ہے۔ اور بھلے کوئی امیر ہے یا غریب، گیلانی ہے یا میراثی‘ لغاری ہے یا بھکاری، شاہ ہے یا گدا، زرداری ہے یا پکھی واس… ہر ایک پر اس قانون اور اصول کا یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ عروج و زوال کا یہ کھیل چلتا رہتا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز انسان کی زندگی میں لازوال رہ جاتی ہے تو وہ ہیں اس کے نیک کارنامے۔ فقط نیکی اور بھلائی کے ہر شے کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ عام آدمی نے جو نیکیاں اور بھلائیاں کی ہوتی ہیں وہ بھی یاد رکھی جاتی ہیں اور حکمرانوں نے بھی فلاح کے جو اقدامات کیے ہوتے ہیں وہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کو یاد کرنے والوں کا حلقہ احباب مختصر ہوتا ہے اور حکمرانوں کے کارناموں کو یاد کرنے کا حلقہ احباب وسیع ہوتا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں، قائداعظم اور علامہ اقبال کے سوا اکثر نام لوگوں کے ذہنوں سے معدوم ہوچکے ہیں۔ چند نام زبردستی عوام کو یاد رکھوانے کی کوشش ہورہی ہے، وہ بھی محض ایک کوشش ہے کہ جس دن کوشش کرنے والے ختم اُس دن نام بھی ختم۔ اگر فلاح عامہ کے کام کیے ہوں تو کرائے کے نوجوان بلاکر سفید گھوڑوں کے رقص کی اپنے آبائی شہر واپسی پر قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔ کارنامے اور اقدامات کے گھوڑے اور ان کا رقص ہی آپ کی پہچان اور ہر جگہ استقبال بن جاتا ہے۔
تاریخ صرف اُن لوگوں کی تعریف میں رطب اللسان رہی ہے جنہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی اقدامات کیے۔ تاریخ صرف ان قبروں پر پھول نچھاور کرتی چلی آئی ہے کہ جن میں انسانیت کے محب سوئے ہوئے ہیں۔ قدرت کے پاس یہ دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے، آپ کی کار کس قدر چمکدار ہے یا آپ کا گھر کس نے ڈیزائن کیا۔ آپ کے کپڑے، تھری پیس سوٹ کس ملک کا کون سا درزی سیتا رہا۔ آپ کے پاس کس ملک کا موبائل سیٹ ہے، آپ کی مرغوب غذا کون سی ہے۔ اس سب سے قطع نظر ہماری قبریں ایک سی ہوںگی چاہے ہمارے گھروں، ہمارے محلات کا جو بھی سائز رہا ہو۔ ہر کوئی یہاں مسافر ہے، سب کو چلے جانا ہے… یاد صرف اسی کو رکھا جائے گا، تاریخ کے اوراق پر اسی کا نام روشن رہے گا جو انسانیت کی خدمت کی تاریخ رقم کرے گا۔ اور رہا ہماراملک اور ہمارے حکمران
… و ان پر تو یہ صادق آتا ہے:
عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریبِ شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیرِ شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

RANGEEN INQALABAT


رنگین انقلابات (2)

مسعود انور
-یہ 1985ء کی بات ہے کہ ناٹو کے زیراہتمام ایک سماجی سائنسداں جین شارپ Gene Sharpکا ایک مقالہ چھاپا گیا جس کا عنوان تھا یورپ کو ناقابل تسخیر بنانا Making Europe Unconquerable۔اس مقالے میں شارپ نے دنیا میں ایک عالمگیر حکومت کے قیام کے لیے موجود حکومتوں کی تبدیلی کی بابت اپنا طریقہ کار پیش کیا تھا۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہی 1989 میں سی آئی اے نے شارپ کو ٹاسک دیا کہ اس نے جو تھیوری پیش کی ہے اس کو چین میں عملی جامہ پہنائے۔ وہ چین میں ڈینگ زیاؤپنگ کی جگہ ژو ژیانگ کی حکومت چاہتی تھی۔سی آئی اے اس سے قبل ایران میں وزیراعظم مصدق کا تخت اسی طریقہ کار کے مطابق الٹ چکی تھی۔ اس وقت کی تحریک اور شارپ کی مجوزہ تحریک میں بس اتنا فرق تھا کہ شارپ کے طریقہ کار کے تحت منظم کیے گئے نوجوان ژو ژیانگ کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے بھی زیر اثر ہوتے۔ تاہم ڈینگ زیاؤپنگ حکومت نے اس معاملے پر سختی سے کام لیا اور شارپ کو گرفتار کرکے جلاوطن کردیا جبکہ دیگر گرفتار شدگان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا۔ اس طرح یہ مشن ناکامی سے دوچار ہوگیا۔
جلاوطنی کے بعد شارپ اسرائیلی فوج کے چیف سائیکولوجسٹ کرنل ریوون گال کے قریب ہوگیا۔ بعد میں گال ایریل شیرون کی حکومت میں ڈپٹی نیشنل سیکوریٹی ایڈوائزر ہوگیا۔شارپ کے سامنے فرانسیسی سماجی سائنسداں گستاف لے بون Gustave Le Bon کا بھی کام تھا جس کا کہنا تھا کہ ہجوم میں تبدیل ہونے کے بعد بالغ افراد کا رویہ بھی بچوں جیسا ہوجاتا ہے ۔ اس نے سگمنڈ فرائیڈ اور لے بون کے نظریات پر مشتمل اپنی تھیوری پر نظر ثانی کی اور نوجوانوں کے ہجوم کو حکومت الٹنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے پر تیار ہوگیا۔اس کے بعد شارپ اور گال نے نوجوانوں کو انقلاب لانے کے لیے تربیتی کیمپوں کا انعقاد شروع کردیا۔ روس اور بلقان کی ریاستوں میں کامیابی کے بعد یہ دونوں اپنے طریقہ کار میں موجود خامیوں پر قابو پاچکے تھے اور اس ماڈل کا پہلا کامیاب ترین تجربہ1998ء میں سرب صدر سلوبودان میلا سووک کا تخت الٹ کر کیا گیا۔
اس طریقہ کار کو جمہوریت کو پروان چڑھانے کا نام دیا گیا۔میں بار بار اس امر پر بحث کرچکا ہوں اور اس پر تفصیل سے اپنی کتاب جنگوں کے سوداگر میں بتاچکا ہوں کہ کسی بھی پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ترین چیز پیسہ ہے۔ مالی معاونت اس پورے کھیل میں اسی حیثیت کی حامل ہے جو ایک زندہ جسم میں خون کی ہے۔نوجوانوں کو منظم کرنے اور اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے لیے این جی اوز کا سہارا لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے خاص طور سے کئی نجی فاؤنڈیشنوں اور اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں سرفہرست البرٹ آئنسٹائن انسٹیٹیوٹ Albert Einstein Institute (AEI)، نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسیNational Endowment for Democracy (NED)، انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹیٹیوٹ International Republican Institute (IRI)، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ National Democratic Institute (NDI)، فریڈم ہاؤس Freedom House اور انٹرنیشنل سنٹر فارنان وائیولینٹ کانفلکٹ the International Center for Non-Violent Conflict (ICNC) ہیں۔ ان تمام این جی اوزکو جو دیکھنے میں علمی تحقیق کے لیے کام کررہی تھیں، واشنگٹن نے فنڈز کی بلاروک ٹوک فراہمی شروع کردی۔ یہ فنڈز نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان سیاسی گروہوں میں تقسیم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو ہدف کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں۔ فنڈنگ کی ذمہ داری امریکی حکومت کے مالی ونگ یوایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ USAID کو سونپی گئی۔یو ایس ایڈ کا کام صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ مالی معاونت فراہم کرے۔ آج کے دور میں یو ایس ایڈ امریکی خارجہ پالیسی میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔
اس وقت یہ ایجنسی امریکہ کی سیکوریٹی، انٹیلی جنس اور دفاع ، ہر شعبہ میں اہم ترین کردار ادا کررہی ہے۔تعمیر نو، اقتصادی ترقی، گورننس، جمہوریت اور اسی طرح کے دیگر عنوانات کے تحت یو ایس ایڈ کروڑوں ڈالر ہر سال اس ملک میں منتقل کرتی ہے جو اس کا ہدف ہوتا ہے۔یہ ڈالراین جی اوز، طلبہ تنظیموں، لیبر یونینوں اور سیاسی تنظیموںمیں تقسیم کیے جاتے ہیں اور ان تمام جگہوں پر استعمال کیے جاتے ہیں جو ہدف کو ہٹانے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ 

Friday, 10 August 2012

FITRANA

فطرانہ
قبولیت ِروزہ کا نذرانہ

عید الفطر کی دوگانہ نماز اداکرنے سے پہلے اس دن کی سب سے اہم بات صدقہ فطر اداکرناہے۔یہ صدقہ ہر اس مسلمان پر ضروری ہے جو روزہ کی معمولی ضرورتوں کے علاوہ زکوٰۃ کے نصاب کا کم سے کم ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی رقم کا مالک ہو ،اس پر سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو۔یہ صدقہ فطر اپنے اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے بھی دینا واجب ہے ، بیوی اور جوان اولاد کواپنا صدقہ خوددینا چاہئے عید کی صبح ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتاہے۔ عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر دے دینا چاہئے۔کسی وجہ سے نہ دیا گیا تو نماز کے فوراً بعدد ے دے۔ صدقہ فطر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جس سال رمضان کے روزے فرض ہوئے اسی سال صدقہ فطر بھی واجب ہوا۔ صدقہ فطر دینے کے کئی فائدے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس سے غرباء ،مساکین اور ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ بیان کیا جاتاہے کہ روزے رکھنے میں جوخامیاں رہ جاتی ہیں ان کی تلافی کے لئے صدقہ فطر واجب ہوا، صدقہ فطر ادا کرنے سے روزہ قبول ہوتاہے ، مقصد میں کامیابی اور موت کے سکرات سے نجات ملتی ہے اور قبر کے عذاب سے خلاصی ملتی ہے۔
صدقہ فطر کے مصارف وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں یعنی جن لوگوں کو زکوٰۃ دینی جائز ہے ،انہیں صدقہ فطر دیا جائے گا ، جنہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں انہیں صدقہ فطر نہیں دیا جائے گا۔ زکوٰۃ کے مصارف کی بابت قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’زکوٰۃ جو ہے سو وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر جانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور راہ کے مسافر کو ‘‘۔
’’عیدالفطر‘‘ اُمت مسلمہ کے لئے انتہائی پرمسرت وبابرکت موقع ہے۔ اس دن اللہ رب العزت کی جانب سے بے شمار رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بندو ں کو بہتر انعام اوربدلہ عطافرمایا جاتاہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتاہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں ، وہ زمین پر اُتر کر گلیوں اور راستوں کے نکڑوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جن کو جنات اور انسان کے علاوہ سب مخلوقات سنتی ہیں ، پکارتے ہیں کہ اے محمدؐ کی اُمت اس رب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو ، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والاہے او ربڑے بڑے قصوروں کو معاف کرنے والاہے ، جب لوگ عید گاہ کی طرف دوڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں ، کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکاہو، وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک ، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے ، تو اللہ رب العزت فرماتاہے کہ اے فرشتو!میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی او ربندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتاہے کہ میرے بندو! کچھ مانگو،میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم جو سوال کروگے ، عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جوسوال کروگے تو اس میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھوں گا ،میری عزت کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھو گے ،تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا ہوں گا اور ان کو چھپاتا رہوں گا۔میری عزت کی قسم او ر میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا۔بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو ،تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ، فرشتے اس اجروثواب کو دیکھ کر جو عیدالفطر کے دن اس املت کوملتاہے خوش ہوتے ہیں ‘‘۔ (الترغیب والترہیب)
عیدالفطر مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم موقع ہے۔ علماء دین وبزرگان دین نے اس کی بڑی حکمتیں بیان کی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے عیدین کی مشروعیت کی حکمت وفوائد کے سلسلہ میں بیان کیا ہے ’’ ہرملت کے لئے ایک ایسا مظاہرہ اور اجتماع ضروری ہوتاہے جس میں اس کے سب ماننے والے جمع ہوں تاکہ ان کی شان وشوکت اور کثرت تعداد ظاہر ہو‘‘۔ (حجتہ اللہ البالغہ)۔ گویا عیدین کی مشروعیت میں ایک اہم بات یہ پوشیدہ ہے کہ ان سے مسلمانوں کی شان وشوکت او رکثرت ظاہر ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اس موقع پر تمام مسلمان شہر او رقصبات کے مخصوص مقامات پر جمع ہوتے ہیں اور دوگانہ نماز ادا کرتے ہیں تو مسلمانوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے اور جس انداز سے مسلمان اس دن کو گزارتے ہیں اس سے ان کی شان وشوکت کا اظہارہوتاہے۔اس طرح کے اظہار سے دوسری قوموں پر اثر پڑتاہے اور مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شان کا اندازہ ہوتاہے۔ 
عیدین کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا سیّدابوالحسن علی ندویؒ نے تحریر فرمایا ’’ عیدالفطر اور عیدالاضحی جو شارع نے انسانی فطرت کی تسکین اورحقیقت کے اعتراف کے طور پر مسلمانوں کو عطا کی ہیں ، یکسر دینی وروحانی رنگ میں رنگی ہوئی ہیں ‘‘۔ (ارکان اربعہ) یعنی مسلمانوں کو عطا ہونے والی دونوں عیدیں انسانی فطرت کی عکاس ہوتی ہیں اور روحانی تسکین کاذریعہ ہیں۔ دراصل انسانی فطرت ہے کہ کبھی کبھی زندگی میں ایسے مواقع بھی انسان کو میسر ہوں ، جن میں قلبی طور پر وہ خوش ہوں اور اس کا اظہار کرسکیں۔اسلام کیونکہ دین فطرت ہے اس لئے انسانی فطرت کے تقاضے کی تکمیل کے لئے اسلام نے مسلمانوں کوعیدین کا تحفہ عطا کیا ہے ، مگر خوشی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان آپے سے باہرہوجائے او ر اس کی خوشیاں محض نفسیاتی یا ذہنی تسکین کا ذریعہ بن جائیں ،بلکہ اصل ان مواقع پر روح کی تسکین ہے۔اسی لئے ان خوشی کے مواقع پر دوگانہ نماز ادا کرنے کی تاکید کی گئی۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس موقع پر اپنے وقار کو پورے طور سے ملحوظ رکھیں اور کسی بھی طرح کی بے حیائی ونامناسب حرکت سے پرہیز کریں جس طرح عید منانے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح وہ عید منائیں ،شرعی حدود کی پابندی کریں اوریومِ عید پر اپنے وقار سے یہ ثابت کریں کہ وہ ایسی قوم کے افراد ہیں جو اپنے دین کے لئے قربان ہوناجانتے ہیں ، وہ غم کے موقع پر اور خوشی کے موقع پر بھی دین کو سامنے رکھتے ہیں اور کسی دم دین سے غافل نہیں ہوتے۔ عید کے موقع پر ان افراد کو ہرگزہرگز نہ بھولیں ، جومفلوک الحال ہیں یا معذورہیں انہیں اپنی خوشیوں میںشریک کریں ، ان کو صدقہ فطر دیں ، ان کی بھر پور اعانت کریں تاکہ وہ بھی ملت اسلامیہ کے دیگر افراد کی طرح خوش ہوسکیں اور کسی طرح کی احساس کمتری کے شکار نہ ہوں۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت کومضبوطی حاصل ہوتی ہے۔
(مقالہ نگار رُکن پارلیمنٹ ہیں)

ETEKAF.. DARE ILAHI PE SARE ABUDIYAT

اعتکاف… درِ الٰہی پہ سرِ عبودیت


اسلام ہمیں اطاعت اور فرما برداری کا راستہ دکھاتا ہے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی طرف لاتا ہے ۔زمانہ کوئی بھی ہو، کیفیت کسی بھی طرح کی ہو ، حالت جنگ ہو یا حالت امن ہو ، مسلمانوں کو ایک ہی سبق دیا جا رہا ہے کہ مستعدی چوکسی بیدارمغزی اور بھر پور ہوشیاری سے زندگی گزارو اسلام دین فطرت ہے۔ یہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے ملنے اور تعلق جوڑنے کا حکم دیتا ہے ،  اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے اور رہبانیت یا گوشہ نشینی سے مکمل طور پر اجتناب کی ہدایت دیتا ہے لیکن بعض اوقات انسان میں یہ خواہش بھی پید ا ہوتی ہے اور اس خواہش کے پس پردہ کوئی زیادہ حیرت کی بات بھی نہیں کہ وہ یکسوئی کے ساتھ گوشہ تنہائی میں اپنے رب سے باتیں کرے۔ لوگ جب سوئے ہوئے ہوں تو وہ اپنے رب کے ساتھ سر گوشیوں میں دعائیں کرے۔ طویل قیام اور رکوع اور سجدود کے ذریعہ سے اپنے روح و جسم کو تقویت فراہم کرے۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ اپنے پالنے والے رب کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اس سے آئندہ کے لئے از سر نو اطاعت اور وفاداری کا عہد کرے۔ انسان کی یہ خواہش فطری ہے اور اسی خواہش کے تحت پروردگار عالم کے حکم سے اعتکاف کی عبادت کا تحفہ عطا کیا گیا ہے۔ در اصل اعتکاف عزلت نشینی نہیں کیونکہ اس کا وقت متعین ہے اور اس متعین وقت میں معتکف متحرک اور چست ہو کر اپنی بیدار مغری اور اپنی چوکسی و ہوشیاری کے جواھر کو دوبالا کرتا ہے۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو آپ صلعم راتوں کو جاگ کر زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے اور امہات المومنین کو بھی شب بیداری کا حکم فرماتے۔ چنا نچہ آپ صلعم کی ہدایت پرامہات المومنین سب بھی مستعد ہو جاتیں اور زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لئے بڑے جوش و انہماک کے ساتھ عبادات میں مصروف ہو جاتیں۔رمضان المبارک کے آخری ایام میںآپ صلعم اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ اس اعتکاف کے لئے مسجد نبویؐ میں خیمہ گاڑدیا جاتا تھا ، جس میں آپ صلعم اعتکاف فرماتے اور تنہائی میں رب العالمین سے دست بدعا ہو جاتے۔ اعتکاف کی حالت میں سوائے انسانی ضرورت کے خیمے سے باہر تشریف نہیں لے جاتے تھے جب شوال المکرم (عید) کا چاند نظر آجاتا تو آپ صلعم کی حمد و تقدیس بیان کرتے ہوئے اعتکاف سے باہر تشریف لے آتے تھے۔ اس طرح اعتکاف کی یہ بے مثال عبادت مکمل ہو جاتی تھی۔
اسلام میں بنیادی چیز اعتدال ہے۔ ویسے بھی مسلماںکو زندگی کے ہر گوشے اور ہر پہلو میں اعتدال اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ ر ب العزت نے ہمیں معتدل مزاج تو بنایا ہے ، ساتھ ہی ہمیں مذہب بھی معتدل ہی عطا فرمایا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا جو حکم دیا ہے اس کے پیچھے بھی ایک عظیم اور بڑی مصلحت پوشیدہ ہے اور وہ ہے قرب الٰہی کی خواہش۔ پروردگار عالم کا قرب حاصل کرنا ہر مسلمان کی اولین خواہش ہوتی ہے اور اسی خواہش کے حصول کے لئے اہل ایمان ہر سال رمضان کے مہینے میں پابندی اور تواتر سے اعتکاف کی سنت ادا کرتے ہیں اور اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے جو دنیا وی معاملات اور معمولات سے الگ تھلگ ہو کرتنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ جہاں بندے اور مالک حقیقی کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا۔یہ عبادت جسے اعتکاف کا نام دیا گیا ہے در ا صل آپ صلعم کی اس سنت مبارکہ کا نام ہے جس کے تحت اللہ کے آپ صلعم نے غار حرا میں خدائے واحد کی عبادت کی اس سے لو لگائی اس سے ہدایت کے طلب گار ہوئے اور اس حالت میں کم و بیش پندرہ برس گزارے۔ غار حرا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی خدا کو پسند آئی اور قرین قیاس یہ ہے کہ اسی تنہائی کی تقلید کو بعد میں اعتکاف کا نام دیا گیا اور مسلمانوں کو بھی اس عظیم عبادت کا اعزاز بخشا گیا۔امت مسلمہ سے تعلق رکھنے والے افراد اہل ایمان آپ صلعم کی اس سنت عبادت کی پیروی ہر سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں اس سنت کا اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔
 آپؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبیؐ ہیں۔قیامت تک اب کوئی نبی اوررسول کرہ ارض پر مبعوث نہیں ہوگا۔ ہدایت ورشد کی کوئی دوسری کتاب نازل نہیں ہو گی۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ نے تمام تعلیمات اسلامی اور تعلیمات آدمیت کا نچوڑ اور اس کی روح بیان فرما دی ہے مسلمانوں کو قیامت تک صرف قرآن اور سنت سے مکمل راہنمائی حاصل کرنے کاحکم دیا گیااور اسے اس امر کا پابند بھی بنا دیا گیا ہے کہ قرآن اور سنت کے برعکس وہ کسی شئے کو قبول اور تسلیم نہ کرے۔ قرآن کریم وہ الہامی کتاب ہے جو ہر طرح کے الحاق سے مبرا ہے۔ نہ اس میں کوئی نئی تحریر داخل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی کمی پیشی کی جا سکتی ہے۔ اس کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ َگنا ہوا ہے اور یہ قرآن وہ نسخہ کیمیا ہے جو اسلامی دنیا کے حفاظ کے سینوں میں اللہ نے محفوظ فرمادیا ہے۔ اعتکاف اس امر کا نام ہے کہ انسان اپنی بشریت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنی روح کو بھی انوار و برکات سے اور فیضان اسلام سے آراستہ کرے۔ مسلمانوں کو اعتکاف کی عبادت یا خلوت گزینی میں تلاوت قرآن کا ذوق بڑھا کر اس میںارشاد فرمائے گئے تمام احکامات کو اپنی زندگی پر نافذ کرنے کا عہد کرنا ہوتا ہے اوراپنے رب سے اس عہد کی تجدید کرنی ہوتی ہے کہ روئے زمین پر قرآنی نظام کے نفاذ کیلئے یہ بندہ بھر پور جدوجہد کرے گا۔اگر وہ اس جدوجہد میں کامیاب ہوا تو فبہا اور اگر اس کی جدوجہد کامیاب نہ ہو سکی تب بھی اسے رضائے رب العالمین نصیب ہو جاتا ہے،جس سے اس بندے کا بیڑہ پار ہو جاتا ہے۔آئیے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم ہر عبادت کو اس کے نفس مضمون کے ساتھ ادا کرتے رہیں تا کہ ہم سے ہمارا رب راضی ہو جائے۔
مرسلہ : -فدامحمد بٹ …تالاب تلو،جموں

AWARA CHANDEY KA DHANDA

آوارہ چندے کا دھندا
فلاحی کام کا اعانت کار بننا بھی عبادت

ایک صاف ستھرے، صالح اور مطہر معاشرے کی تعمیر میں مساجد اور دینی مدارس کی وہی اہمیت ہے جو ایک انسانی جسم میں روح کی ہے۔ مساجد کا مقصد تاسیس ان کی اہمیت و افضلیت یہاں تک کہ ان کے متولیوںوخدمت گاروں کے اوصاف اور درجات تک کو قرآن وسنت نے الم نشرح کرکے رکھ دیا ہے۔ اس روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے یہاں خانۂ خداسے مقدس اور مطہر جگہ کوئی اور نہیں۔ یہ مساجد اصل میں مراکز رشد و ہدایت ہیں اور یہاں سے نور کی وہ کرنیں پھوٹتی ہیں جن سے تاریک دلوں میں حق کی قندیلیں روشن ہوا کرتی ہیں۔روزِاوّل ہی سے ملت اسلامیہ کی علمی ، قومی اور روحانی ترقی میں ان مراکز کا نمایاں کردار رہا ہے۔ خانہ کعبہ کو وداع کہنے کے بعد مدینہ طیبہ میں اپنے مقدس قدم رکھنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا کام ایک مسجد کی تعمیر ہی تھا۔ یہی مرکز عبادت بھی تھا اور یہاں ہی ملکی، قومی اور بین قومی مسائل کا تجزیہ بھی ہوا کرتا تھا، مسلم معاشرے کوپیش آمدہ مشکلات اور ان کے حل پر بھی یہاں ہی غور ہوا کرتا تھا، یہی روزمرہ زندگی کے وہ امور انجام پا تے تھے جن کو امت کو وقتاً فوقتاً سامنا رہتا تھا۔ غرض انسانی نفوس کی تطہیر و تزکیہ سے لے کر مسلم معا شرے کے جملہ مسائل اور معاملا ت میں مسجدوں کا رول ناقابل فراموش رہا ہے۔بالکل اسی طرح دینی مدارس ومکا تب کے کردا ر کو ہر زمین وزمن میں امت مسلمہ کی علمی تشنگی دور کرنے، فہم دین کا اُجالا پھیلا نے، فقہی مسائل میں رہنمائی کر نے کے بین بین یہ ادارے انسانی ارواح کے ارتقاء اور اخلاق کو سنبھالنے ، سنوارنے اور علم ومعرفت کے نور کی برساتیں برسانے میں ہمیشہ ملت کے لئے لازم وملزوم رہے ہیں۔ ان کی تاریخ بھی کچھ کم درخشندہ نہیں۔ دارارقم اور صفہ سے چلی یہ سنہری تاریخ برابر آ ج تک اپنا سلسلہ دراز تر کرتی چلی آرہی ہے اور تا قیام قیامت جا ری رہے گا۔ صدیوںپر پھیلی یہ تاریخ برابر اپنا سلسلہ وسیع سے وسیع ترہوتی چلی آرہی ہے۔ڈیڑھ ہزار سے زائد برس پرمحیط اس تاریخ کاہر باب درخشان و تاباں نظر آرہا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کا فرمان ہے کہ علم کی ضرورت اکل و شرب سے بھی زیادہ ہے، یہ ہر سانس پر اپنی ضرورت کا احساس دلاکے ہی رہتا ہے ۔ چنا نچہ جگہ جگہ قرآن و سنت نے اس لازوال دولت کے حصول پر زور دیا ہے۔مشہور سیرت نگار سید سلیمان منصورپوریؒ کے بقول’’حال ایک منہ زور گھوڑا ہے، اگر اس کے منہ میں علم کی لگا م نہیں تو وہ اپنے سوار اور پھر اپنی ہلاکت کا موجبب بنتا ہے‘‘ ۔ماضیٔ بعید میں کٹیوں اور گھاس پھوس کی جھونپڑیوں میں فرش خاک پر بیٹھ کر آسمان علم پر آفتاب و ماہتاب کی طرف فروزاں عقبری شخصیات نے طالبان علوم نبوتؐ کی ایسی تربیت کی کہ رہتی دنیا تک ان نیک نام تشنگان علم کی عظمتوں کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ فاقہ مست، خرقہ پوش اور خشک نان جویں پر گزارہ کرنے والے ان سعید رو حو ں نے دنیا میں اتنی بڑی علمی، اخلاقی اور اصلاحی تحریکیں چلائیں کہ اب تک ان کے عزم و ہمت تفقہ فی الدین اور زہد و تقویٰ کے محیرالعقول واقعات ایمان میں تازگی اور روح میں حلاوت پیدا کردیتے ہیں۔ سیم وزر سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، بس زندہ رہنے کی حد تک روکھی سوکھی کھالی اور اپنے کام سے کام رکھا۔بادشاہوں کے درباروں میں ان کی حاضری تو دور کی بات خود بادشاہوں کی اپنے یہاں آمد بھی انہیں مغموم بناتی تھی ۔ہمارے انہی علمائے ربانین اور طالبان علوم نبوت صلعم کو دیکھ کر علامہ اقبالؒ نے کہا تھا ’’ ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو ان ہی مکتبوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا وہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کے آچکا ہوں، اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں 800 برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈروں اور الحمراء کے سوا اسلامی تہذیب کے آثار کے سوا کوئی نقش نہیں ملتا ، یہاں بھی تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔غرض کسی بھی زمانے میں دینی علوم سے منسوب ان اداروں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، نظر انداز کیا گیا تو یہ اپنی شناخت پر ضرب کاری ہوگی۔ علوم اسلا می کے مراکز کایہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔
 شکر ہے کہ ہمارے یہا ں بھی ان مدارس کا فیض اور اجا لا پھیل رہا ہے۔ ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ بھی ہو رہا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو تا کہ کوئی مربوط نظام اس حوالہ سے تر تیب دیا جا تا جس سے ان کے تمام وسائل مجتمع ہو تے تاکہ ان کا زیادہ بہتر استعمال ہو تا جس کے صلے میںعلوم نبوی ؐ کے ان درباروں کا فیضان دوچند ہو جاتا۔ یہ بات کہنے میں چندا ں مضائقہ نہیں کہ ان اداروں سے وابستہ ملت کے ددر مند اور مخلص و بہی خواہ سربراہان کو آ ج نہیںتو کل سرجوڑ کر اس سلگتے مسئلہ کی گہرائی میں جاکر اس کے مستقل حل پر سنجیدہ غور فکر کر نا ہو گا اور جدید انتظا میا ت کی ا یسی موثرتدابیر اختیار کرنا ہوں گی کہ اس کے نتیجے میںجہا ں ان اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی اخلاقی ودینی اور بدنی نشود نما کے لئے بھی نورانی کاوشیں ہو رہی ہوں وہ بارآ ور ثابت ہوں،وہا ں ادارے سے فراغت حا صل کر نے کے بعد انہیں اس کار گہۂ حیات میں معاش کمانے میں کسی گمبھیر مسئلے کا سامنا ہو، یہ آ زاداور با اعتما د ہوکر اپنا روزگار عزت ِ نفس کے ساتھ کما سکیں، نہ یہ کہ انہیں بحا لت مجبوری یہ ضرورت پیش آئے کہ غیر ضروری طور ایک اور مدرسے کی تا سیس کر کے اپنا آ زوقہ کما ئیں اور بد لے میں نہ چاہتے ہوئے بھی ما لی اور انسانی وسائل کی تقسیم کا مو جب بنیں ۔ اس کے لئے میری ناقص رائے میں ضروری ہے کہ ان شاندار دینی اداروں کے سسٹم میں اس حد تک جدید کاری کی جا ئے کہ ان کا تشخص بھی صحیح سالم رہے اور ان میں زیر تعلیم بچے علم دین کے حصول کے ساتھ ساتھ حتی المقدور مفید مطلب کسب و ہنر سے بھی لیس ہو ں تا کہ معاشرے میں ان کے اصل مقام ومرتبہ میں بال برابر بھی تخفیف نہ ہو ، ان کی عزتِ نفس پا ما ل نہ ہو اور وہ سر اٹھا کر خودداری سے جینے کے ہروصف سے ما لا مال ہوں۔ اس حوالے سے میر ی دانست میں طلبا ئے دین کو جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو نے کے تما م گُرسکھا ئے جا نے چاہیے اور انہیں جملہ منافع بخش پروفیشنز کی تربیت دینا لا محالہ ہے ۔ اس سے مو جودہ فتنہ ساما ں دور میںان میں یہ احساس تقویت پا جائے گا کہ اوّل وہ کسی سے کم نہیں ، دوئم دنیا کے طالب سونے کو چھوڑ کر مٹی کا سودائے خام کرتے ہیں جب کہ وہ دینی علوم کے شناور بن کر دین اور دنیا دونو ں حیثیتو ں میں رول ماڈل ہو نے کا اعزاز رکھتے ہیں۔یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ یہ عزیز طلباء مدارس سے فارغ ہوکر چا ر ونا چار سیدھے مساجد کا رخ کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر مسجد کا متولی، مہتمم اور مقتدی عالم دین، انسانی نفسیا ت کا ماہر، علوم فقہ سے بہرور نہیں ہو تا ، اس لئے ان سے کچھ بھی متوقع ہے ۔اس تکلیف دہ صورتحال کے دباؤ میں بالفرض ا گرکسی فارغ شدہ طا لب علم کو خلوصِ نیت سے یہ سوجھے کہ ایک اور مدرسہ کا قیام عمل میںلا کر ہی وہ اپنا حلال روزی کما سکتا ہے تو وہ ادارہ قائم کر کے اپنی حلا ل روزی روٹی کما نے کی پو زیشن میں آ تا ہے مگربا رہا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اوّل مخیر حضرات پر مزید مالی بو جھ بڑھتا ہی بڑ ھتاہے ، دوم نت نئے مسائل بھی پیدا ہو جا تے ہیں۔ حق بات یہ ہے کہ مدارس کے مالی وسائل کا سارا انحصار چندے پر ہی ہو تا ہے البتہ اس بات کا نا جایز فایدہ اٹھاکر بعض ٹھگ اور ننگ ملت افراد بھی فرضی مدرسوں کے نام پر شد ومد سے چندہ جمع کر کے اسے بلا لومت لائم ہضم کر جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ جو مالی امدا د کے حقیقی طور مستحق ہو تے ہیں ان کے مسلمہ حق پر ڈاکہ زنی ہو تی ہے۔ اس بد ترین مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہو ئے سرکردہ مدارس کے سر براہو ں نے رابطہ مدارس کا انتظام کیا تھا لیکن عوام پھر بھی فرضی مدارس کے رسید بک لے کر بستی بستی نگر نگر پھر نے والو ں کے چنگل میں آ رہے ہیں ۔
ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک آتے ہی چوک چوراہوں ، گاڑیوں بسوں میں یہ جو ہم نئی نسل کو یتیم خانو ں کے رسید بک ہاتھوں میں لئے پھرے دیکھ لیتے ہیں ، بلکہ کہیں کہیں آٹورکھشوں اور سومو گا ڑیو ں پر لاوؤ اسپیکر فٹ کر کے اونچی آواز میں گانے بجا کر آ وارہ چندہ مہم میں جان ڈالی جا تی ہے۔یہ سب کچھ ہمارے ملی ّوجود پر ایک رکیک حملہ ہی نہیں بلکہ اس تما شے کو دیکھ کر غیر مسلوں کو شایدیہ تا ثر جاتا ہو گا کہ رمضان خاکم بدہن مسلما نو ں کو گداگری سکھاتا ہے۔ ریاستی حکو مت اگر واقعی اب اس ضمن میں اپنی ذمہ داریو ں کو محسوس کر تے ہو ئے غیر مستند یتیم خانو ں کے بارے میں اقدام کر نے پرسنجیدہ سوچ بچار کر رہی ہے تو اس کی سراہنا کی جا نی چا ہیے۔ بہرکیف حساس ذہن علمائے کرام کے ساتھ ساتھ سنجیدہ ذہن سما جی اصلا ح کا روں کے لئے یہ ساری سچویشن ایک اہم لمحۂ فکریہ ہے ۔ میر ی تجو یزیہ ہے کہ اس سیلاب کو مؤثر طورروکنے کے لئے متعلقہ دینی وفلا حی رہنما ؤ ں کو چاہیے کہ وہ تمام معتبر اداروں کی ایک فہرست مرتب کر یں اور ایک سسٹم کے تحت انہیں چلانے اور مالی استحکام کے لئے منصوبے ترتیب دیں، اورعوام النا س سے چندہ جمع کرنے کے بارے میں ایک قابل عمل ضا بطۂ اخلاق وضع کریں ، با لخصوص رواں چندہ مہم کی رسواکن رمضانی یلغار کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم کرنے کے اقدامات کا ایک لا ئحہ عمل ترتیب دیں۔
 آ خر پریہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہماری مساجد ، مدارس اور یتیم خا نو ں کی تعمیر اور انتظام وانصرام و غیرہ کے حوالے سے یہ بھی یہ کچھ کم ستم شعاری اور بے حسی نہیں کہ ہم اپنے مکانوں اور بنگلوں پر لاکھوں کروڑوں خرچہ برداشت کرلیتے ہیں لیکن تعمیر مسجد ہو یا مستند مدرسے یا کسی فلا حی رضا کا ر ادارے کے مصارف اورما لی ضروریات ہو ں تو ہم کنگا ل اور مفلوک الحال بنے پھر تے ہیں۔ ظاہر ہے اس ذمہ داری کے بارے میں جب ہم تجاہل عافانہ سے کام لیں تو مدرسے ،ادارے اور مسجد والو ں کی چوک چوراہے پرآ کر چندہ جمع کر نے کی نو بت آ ہی جا تی ہے ،جو بذات خود بہت ہی معیوب بات ہے ۔ میرے خیال میںکسی محلہ میں اگر تیس چالیس گھر ہیں ،کیا ضرورت ہے کہ مسجد ایک ساتھ تین منزلہ بنے ؟ رفتہ رفتہ مرحلہ وار بھی اس کی تعمیر ہو اور اہالیان علاقہ ایثار اور انفاق فی سبیل اللہ کے جذ بے سے معمور ہو کر اس کے لئے منصوبے ترتیب دیں تو مسجد کی تعمیر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ اپنی بستی اور کا لونی سے دور رسید بک لے کر مسجد کی تعمیرکے لئے ’ امداد کرو امداد کرو‘ کی رٹ لگانا میر ے نا قص خیال میں مسلمان معاشرے کے شایا نِ شان نہیں۔ ہماری خودی اور عزت نفس کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بھی ملّی کام آن پڑے تو ایک دم کشکول ہاتھ میں لئے ہم سڑکوںاور چوکوں ، چوراہوں میں آجاتے ہیں؟ آخر ہم میں کب ڈسپلن ، نظم اور منصوبہ سازی کی صلاحیت کب پیدا ہوگی ؟
 ہاں! اپنے سماج میں یتیموں ، بیواؤں اور مفلسوں کی بڑھتی تعداد دیکھ کر برسوں قبل ایک مرد خود آگاہ جناب عبدالخالق ٹاک زینہ گیر ی مرحوم نے ایک یتیم ٹرسٹ کی بنیاد ڈالی، کام خلوص کی بنیاد پر کیاگیا تھا، ملت کا صاحبِ ثروت طبقہ ہی نہیں بلکہ دانشور و علما ء اوردیگر حضرات نے بھی نے آگے آکر انہیںہر طرح کا تعاون دیا۔ مشکلات کے پہاڑ عبور کرتے ہوئے اس فقیرانہ زندگی بسر کرنے والے نباضِ وقت نے اپنے فلا حی کام کے خاکوں میں رنگ بھرنے کا عمل جاری رکھا اور آج بہت سارے یتامی ٰاور بے آسرا لوگ اس ٹرسٹ کے توسط سے سکون کا سانس لے رہے ہیں ۔ نا مساعد حالات کے سبب کام چونکہ مزید بڑھ گیا، اس سماجی کام کے میدان میںکچھ اور ایثار پیشہ معتبر نام سامنے آئے ہیںاور چراغ سے چراغ جلتا ہی جا رہا ہے ۔ حق یہ ہے کہ آ ج بعض یتیم خا نے ایسا شاندارکر دا رادا کر رہے ہیں کہ ان کے لئے فرداًفرداً یہ ضرور تو شۂ آ خرت بنے گا لیکن کیا کیجئے اپنے یہاں کے ان استحصالی عناصر اور چور اچکو ں کا جو ہرخیرکے کام میں ٹانگ اڑاکر نیک جذ بات کا استحصال کر تے ہیں اور اپنے پیٹو ں میں آگ کے گولے بھر تے پھرتے ہیں۔ ایسا کر نے سے وہ نہ صرف اپنی عاقبت خراب کر ہے ہیں بلکہ جو نیک نیتی سے انسانیت کا چراغ روشن کر نے کی بے لو ث آ رزو رکھتے ہیں عوام کی نگاہ میں وہ تک بھی شک کے دائرے میں آ جا تے ہیں ۔ ایک اور زاویۂ نگاہ سے ہمارا معاملہ کچھ الٹا ہے ۔ مثلاً سال کے گیارہ ماہ میں نہ سہی رمضان میں حقیقی اداروں کے ساتھ ساتھ بالضرور فرضی اور جعلی فلا حی ادارے بھی شہر و دیہات میں جگہ جگہ آٹو رکھشاؤں اور چھوٹی گاڑیوں میں لاؤڈ اسپیکر نصب کرکے نہ جانے کن فرضی یتیموں اور بیواؤں مسکینو ں کے غم میں یہ ڈاکو گھلنے کی ناٹک بازی کرتے ہیں؟ اپنے کام دھندے کو ہمدری کاتڑ کہ لگا نے کے لئے یہ دلسوزنغمے سنا سناکر سادہ لوح عوام کو دام فریب میں لاتے ہیںاور رٹی رٹائی فرضی داستانیں سناتے ہیں کہ پہاڑوں کاسینہ بھی شق ہوجائے۔ یہ عمل پہلے ہی مشکوک تھا اور آ ج بھی کوئی عقل کا کچا ہی ان پر اعتماد کر سکتا ہے ۔
یہ حالت زارہے اور یہ ہے ہمار اانفرادی و اجتما عی کردار۔ عام لوگ تو ’ خدا وندایہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں ‘کے مصداق محو ِفکر ہیں کہ آ خر اس ساری رام کہانی کا کیا کیا جائے؟ ٹھگو ں سے رمضان کے مہینہ میں بھی دھوکہ دہی ، جعلسازی او ر فریب کاری کی عادت نہیں جاتی، آخر کب ان میں جفاکشی، غیرت، محنت کرنے کا جذ بہ اور مسلما نا نہ عزم وارادہ کی صفات پیدا ہوں!!!بہر حال یہاں ملت سے وابستہ ہر ذی ہو ش فرد اس بارے میںآگاہ رہے کہ دینی تعلیما ت کی روشنی میں جو مدات اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کے مدات خود اللہ نے قرآ ن میںمقرر کئے ہیں، ان پر ہر حال میں اسی ترتیب کے ساتھ سال بھر دل کھول کر خرچ کیا جا ئے جو دین ہمیں بتا تا ہے ۔ ہمیں چا ہیے کہ ان مدات کے مستحقین کو ہمارے دروازوں پر دستک دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آ ئے بلکہ ہم خود ان کے پاس اسلا م کے سکھلائے طریق کار کے مطابق ان کی مالی کفا لت کر نے میں اپنی خیرات و صدقات وقف رکھیںاور ان کی ہمچو قسم کی امدادی کامو ں اور سرگرمیو ں میں ہا تھ بٹاکر خدمت خلق اللہ میں اسلامی شان کے ساتھ عمل پیرا ہو ں۔ ساتھ ہی ہمیں بیک بینی ودو گوش غلظ کار و استحصا لی عنا صر اور پیشہ ور بھکاریوںکے حوالے ایک دمڑ ی بھی خر چ نہ کر نی چا ہیے۔ اسی میں ہماری دنیوی اور اخروی بھلا ئی کا سامان مخفی ہے۔نیز اسی طرزعمل سے آ وار چندے کا دھندا چلا نے والو ن کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔
courtesy Kashmir Uzma Srinagar

LOGO APNE RAB SE MAFI MANG LO


ISLAM KA TASAWWURE IBADAT WA BANDAGI KA TAQAZA


BE ROOH NAMAZ WA ROZE


HAZRAT ALI KA FASLSAFA HUKMARANI


GERMAN PHILOSOPHER Friedrich Nietzsche


QUBOOLE ISLAM NE BASKETEE BALL KA AZEEM KHILADI BANA DIYA


COURTESY: MUNSIF HYD

BAAT CHEET KE ADAB بات چیت کے آداب


Thursday, 9 August 2012

AB BURMI MUSALMAN LAHOOLAHAN

اب بر می مسلمان لہو لہا ں
خو ں کی ندیا ں کتنی صدیا ں ما نگتیں؟

برما میں مسلم قوم کا قتل وخو ں جا ری ہے ۔ وہا ں کے ان بے نو ا شہر یو ں کا خو ں کیو ں اس قدر مباح کیو ں ہے ؟ ان کو بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ تکا بو ٹی کر نے کے پیچھے اکثریتی بودھ آ با دی کے مکروہ عزایم کیا ہیں ؟ یہ سارا طوفا نِ بد تمیزی دیکھ کر عالمی برادری کہلا نے والی خفتہ ضمیر ملکوں اور قومو ں کے کا ن پر جوں تک کیو ں نہیں رینگتی؟ دُنیا کو جمہوریت، امن، بقائے باہم ، حقو ق البشر، روشن خیالی اور نیو ورلڈ آ رڈر کے سنہر ے سپنے دکھا نے والے رنگے سیاربرما کی اس سنگین صورتحال پر لب بستہ کیو ں ہیں؟ ان سوالا ت سے زیادہ تکلیف دہ، اذیت ناک اور تیکھا سوال یہ ہے کہ بر می مسلما نو ں پر بودھوں کی اس ظلم وبربریت کے خلا ف مسلم ممالک کے حکمران دکھا وے کی ہمددری تک شو کر نے کی تو فیق سے کیو ں تہی دامن رہے؟ اس اہم سوال کا جو اب تلا ش کرنے کے لئے ہمیں ایک وسیع الجہت کنو اس پر اپنے اندر کے تلاطم اور جذباتی ہیجا ن کو پھیلا نا ہو گا ۔    
تاریخ عالم کا یہ ازلی فتویٰ ہے کہ زوال پذیز ملتیں اوراقوام آخر مٹ جاتی ہیںاور تاریخ کے اوراق پریشاں میں محض اس لئے کبھی کبھی زیر تذ کرہ رہتی ہیں تا کہ دوسری اقوام کے لئے وہ عبرت کے تازیانہ بنے رہیں اور وہ ان کی تقلید سے باز آ کر اپنی عاقبت سنوارنے میں کو ئی بھو ل چوک نہ کر یں ۔ قومو ں کے عروج وزوال کے اس چکر ویو کے کھو نٹے سے پو ری تا ریخ انسانی بندھی ہوئی ہے۔ تاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی کوئی قوم جر یدہ ٔ عالم کے اوراق گم گشتہ میں اس حیثیت سے یاد کی جاتی ہے تو مباحث کا مر کزی نکتہ سے اس کے اسباب ِ زوال کی وجوہات پر مر تکز رہتا ہے۔ قانون قدرت یہی ہے کہ سورج اسی آنگن میں چمکتا ہے اور تہذیب و تمدن کی شان اور دبدبہ اسی قوم کے ماتھ کا جوجھو مر بنتا ہے جس کے پاس صالحیت وصلا حیت کی ناقاب تسخیر قوت ہوتی ہے، جو معاشی ، زرعی ،سائنسی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اس قدر غالب ہو کہ زمانہ اس کے اشارے پہ اُٹھک بیٹھک کر ے اور اس کی ہر اچھی بر ی بات میں وزن ہو نے کا اقرار کیا جا ئے ۔ اس تمہید کو ملحو ظ نظر رکھتے ہو ئے ذرا قیاس کے گھو ڑے دوڑا کر اندازہ لگا ئیں کہ کیا زمانہ رہاہوگا جب ایک مسلم عورت قید ہوکر ایک چھوٹے سے کاغذ کے پرزے پر صرف اتنا لکھتی ہے کہ امیرالمومنین ! آپ کی ایک بہن بے بسی کے عالم میں ہندو راجہ کی قید وبند میں ہے اور آپ اپنے محل میں آرام فرما ہیں۔ اس تحریری فریاد کا پڑ ھنا تھا کہ وقت کی عظیم الشان سلطنت کا رئیس وامیرتڑپ اُٹھتا ہے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھنے کا مصمم ارادہ با ندھ لیتا ہے جب تک اس مظلو مہ کو ظالم وقاہر کی چنگل سے نہ چھڑا لیں۔اس واقعے کا پس منظر یہ تھا کہ کچھ مسلمان سوداگر سراندیپ( آ ج کل کا سری لنکا) میں بہ حالت سفر فوت ہوئے تھے اوروہا ںکے راجہ نے موقع غنیمت جان کر خلیفہ ولید بن عبدالملک اور حجاج کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان یتیم بچوں اور بیوا ؤں کو عزت و احترام کے ساتھ تحفے تحائف دے کر اپنی بندرگاہ سے روانہ کیا مگر بادِ مخالف نے ان کشتیوں کو بد قسمتی سے سندھ کی بندرگاہ پر دھکیلا جہاں راجہ داہر نے ان کشتیوں کو نہ صر ف لوٹا بلکہ مالِ مسروقہ سمجھ کر ان بے بس مسلم بچوں اور عورتوں کو قید کیا۔ اُدھر ان لٹے پٹے مسلما نو ں کا یہ حشر ہو تا ہے ادھریہ آواز نالہ و فریاد  بن کر یوسف بن حجاج کے گو ش سما عت تک پہنچ کر اس کی راتوں کی نیند اڑانے کا مو جب بنتی ہے اور ان میں قلبی اضطراب پیدا کرنے کی باعث بنتی ہے ۔ یوسف بن حجاج ایک محبوس مسلما ن عورت کو جیل وزندان سے چھڑانے کے لئے جہاد کا اعلان کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں صرف پانچ ہزار سر فرو شوں کا لشکر لے کر جواں سال محمد بن قاسم نہ صرف اس مسلم محبوس کارواں کو ظالم ہندو راجہ کی قید سے رہائی دلاتا ہے بلکہ سندھ اور ملتان کو فتح کرکے ساری دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی مسلم اپنے دوسر ے ہم عقیدہ بھائی کا سی طرح پشت پناہ اور نگران ہے کہ ان کو جسد واحدہ کہا گیا ہے، لہٰذا کوئی مسلما ن تن تنہا نہیں، نہ وہ اغیار کے لئے نرم نوالہ اور مال مسروقہ ہے ، نہ اس کا خوں ارزاں ہے ،نہ وہ بے یارو مدد گار ہے، نہ اسے بلا وجہ قید کیا جاسکتا ہے اور نہ اس پر شان بے نیا زی کے ساتھ ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جاسکتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس دور ِزرّیں میںمسلم دنیا میں اخلا ق اورانسانیت ، ہمدردی اور اخوت ، پا مردی اور غیرت اور اس کے بین بین وقت کے حالات اور فضا کے مطا بق امت مسلمہ میں جدید سے جدید تر ساما ن حر ب وضرب مہیا تھا۔ اس کلمہ خوانو ں کے اس سنہر ی جہا ں میں ہر مسلمان کے اندر اتنی بے پناہ اور نا قابل شکست ایما نی قوت بدرجۂ اتم موجودتھی کہ وہ یکہ و تنہا اللہ کے بھر وسے پر کسی بھی دشمن ملک یا حریف فوج کے دانت کھٹے کر تے ہو ئے بزور بازو عدل وانصاف کی جو ت جگاکر ہی دم لیتا ۔ اتنا ہی نہیں کہ وہ مظلو م کی دارسی اور ظالم کے استیصال کے لئے جان جوکھم میں ڈال دیتا اور حق کا بو ل با لا کر نے اور ظلم وتشدد کا سر نیچا کر نے میں کو ئی بھی قربا نی دینے کو ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔ مسلم پاور اور طاغوتی طاقت میں یہی جو ہر ی فرق واضح طور مو جو د ہے کہ اسلامی قوت عدل وانصاف ، حقیقی بھا ئی چارہ اور امن واتحادقائم کرتی ہے اور طاغوتی قوتیں جب بھی غالب ہوتی ہیں تو اولین فر صت میں عدل وانصاف کا خو ن کر کے فتح کا جشن منا تی ہیں چاہے اس کے لئے اسے اپنو ں اور غیروں کو خوں کے سمندر وں مین ڈبو نا پڑ ے ۔
 تاریخ شاہد عادل ہے کہ محمد بن قاسمؒ ایک سترہ سالہ نوجو ان سپہ سالار نے یوسف بن حجا ج کے حکم پرایک مظلو م مسلم خا تو ن کی زندگی اور حرمت بچا نے کے لئے ہندوستان پر فوج کشی کی اور بدلے میں جہاں سارے مغربی ہندوستان کو فتح کیا وہاں مسلما نا نہ اخلا قیا ت کا پر چم یہا ں لہرا کر ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کسی بھی مسلم کی جا ن اورعزت بچا نے کے لئے مسلما ن اجتما عی طور سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں اور یہ کہ کسی بھی مسلمان کا خون ارزاں نہیں۔ اندازہ کیجئے کہ آج برما میںمسلما نو ں کے لئے نا مساعد حالات اور قاتلا نہ ہو اؤ ں کے جھکڑ چل رہے ہیں اور مسلما نانِ عالم ٹس سے مس نہیں ہو رہے اوروہ وقت کیا رہا ہو گا کہ مسلمان اپنی مو رو ثی بیدار ضمیری کی شان لئے با طل سے بے خوف ہو کر ٹکرائے اور صداقت کا جھنڈا لہراکر دم لیا۔ اس حیا ت بخش فضا میں ضمیر اور قلب ونظر میں حمیت و غیرت کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے کتنے سمندر موجزن رہے ہوں گے جب کسی بھی فریاد ی کی ندا وقت کے امیر کا سکون ِقلب چھین کر اسے شاندا ر محل میںنرم وگداز بستر خا ر زارمحسوس کراتی۔ اس کے مقابلے میں یہ بات کتنی رنجیدہ کر نے والی ہے کہ پچھلی چار پانچ دہائیوں سے جتنا خون مسلم دنیا کے مختلف ممالک اور خود مسلم ممالک میں بہایا جاچکا ہے وہ اس سے بہت زیادہ  ہے جتنا کہ تمام جنگ عظیموں میں بہا ہوگا اور آ ج کا دن ہے کہ اس خون کا نہ تو کوئی حساب لینے والا ہے اور نہ ہی حساب دینے والا ہے ، یہ خون سب پہ حلال قرار دیا جا چکا ہے ، چا ہے وہ اسرائیل کا سرطا ن ہو ، امریکہ کا خم خا نۂ غرور ہو ،  برطانیہ کے مسلم فو بیا کی بے خو ابی ہو ، نا ٹو کاصلیبی جنوں ہو ، بر ما کے فوجی حکمرانو ں اور لاماؤں میںبدروحون کا حلول ہویا بھارت کی اقلیت دشمنی کا خمارہو… ان سب جان لیوابیما ریو ں کا سرچشمہ مسلم بیزاری کے فرقہ پرستانہ جذبات کے  بطن سے پھو ٹتا ہے ۔ لہٰذا مسلما ن ان کے ہا تھو ں مختلف عنوانات سے تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں۔   
 میں یہا ں مسلما نو ں کے زوال وپستی کے اسباب پر بات نہیں کروںگا۔ یہ تاریخ دانوں کا کام ہے مگر ایک اہم بات جو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کی جا سکتی وہ یہ ہے کہ مسلم امت میں اس وقت عملی طور دو طبقے ہیں: ایک وہ جو مسلم ممالک میں اقتدار میں رہتے ہوئے بھی کفر و الحاد اور امریکی و اسرائیلی ظالما نہ خاکوں میں رنگ بھرنے کے صلّے میں اقتدار میں ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے کوئی سر حد اورجغرافیائی لکیر نہیں کھینچی جاسکتی ۔ یہ حضرات اسلامی اقدار سے دوربھا گتے ہیں اور اسلام کو اپنا دین قرار دینے میں شرمسار رہتے ہیں بلکہ بسا اوقات اس بات کا اعلان تک کر نے سے انہیں باک محسوس نہیں ہو تی کہ ہم جی اتا تر ک کے شیدائی ہیں یعنی مذہب کو ترک کر کے سیکولر ازم اور جدیدیت کو خدائی کے درجے پر رکھنے کے قائل ہیں …اور ’’ ترقی پسند ‘‘ اتنے کہ کو ئی مسلمان آ با دیوں کو ڈرؤن میزائلوں سے بھو ن ڈالے ، کسی عافیہ صدیقی کو جرم بے گناہی کی پا داش میں اسی سال کی سزا سنا ئے ، کسی گو نتا نا ما بے اور ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ شر مناک اور بدترین سلوک کا تختۂ مشق بنا ئیں یا آ ج کی تا ریخ میں کسی بے بس وبے کس برمی مسلم نو جو ان ، بزرگ ، بچے ، عورت کوگرفتار بلا کر ے اور انہیں زندہ جلا ئے یا گولیو ں ، کلہاڑیو ں اور پتھروں سے بے موت مارے ،تو ان حکمرانو ں میں درد کی وہ ٹیسیں نہ اٹھیں گی جو یو سف بن حجاج کے دل میںپیداہو ئی تھیں بلکہ وہ انسانیت کے کھلے اور چھپے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بھی بڑ ھا ئیں گے اور منافقانہ خا مو شی اختیار کر کے ان کی خوں آ شامیو ں کی خامو ش تائید بھی کر یں گے ۔اس لئے کہ کہ ان کا اقتدار اور چند دنوں کی عیش کوشی کے لئے یہ کرنا ان بزدلو ں کے لئے ازبس ضروری ہے ۔   
مسلما نوں کا دوسرا وہ طبقہ ہے جو ابھی تک آبرو مندانہ زندگی اسلامی شعار کے مطابق اپنی زندگی گذارنے کا جتن کر رہا ہے ۔ اپنے ہی حکمرا نو ں کی طر ف سے پیدا کر دہ نا مساعد اور نا موافق حالات کے باوجود یہ لوگ پوری طرح سے اسلام کو گلے سے لگا ئے ہو ئے ہیں ۔ یہ جبر وقہر کی بارشوں کے با وجود اپنے مزاحمتی جذ بے کو پروان چڑ ھا تے ہو ئے ان ریشہ دوانیو ں کا ڈٹ کر مقابلہ کر تے ہیں جو ان پر مسلط حکمران ان کو بیخ وبن سے اُکھا ڑنے کے لئے حربوںاور ہتھکنڈوں کی صورت میںآ زما تے ہیں۔ ان لو گو ں کو مختلف ممالک میں مختلف رسوائے زمانہ نامو ں سے پکا را جا تا ہے … رجعت پسند ، بنیاد پرست، قدامت پسند ، دقیا نو سی ، تر قی نا آ شنا، انتہا پسند، تنگ نظر ، ملا ئیت کے پر ستار ، جدید یت کے بیزاراور نہ جا نے کن کن القابات سے انہیں یاد کیا جا تا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل ہی آج برما کے مسلمانوں کی حشر ساما نی پر رو رہے ہیں ، یہی لو گ ان کے ساتھ اظہا ر یکجہتی کے لئے سڑکو ں پر آ کر ان کے حق میں نعرہ بازیا ں کر تے ہیں ، واویلا کر تے ہیں اور مذمتی بیا نات اور قرار دایںجا ری کر کے اپنے جذبات کو اظہار کی زبان عطاکرتے ہیں ۔ سیا سی وحکو متی طا قت سے لیس پہلے طبقے کی جنگ ویسے بھی اس دوسرے طبقے کے ساتھ کئی عشروں سے جاری ہے۔ تصویر کا یہ دونو ںرُخ چشم کشا ہی نہیں بلکہ ملت واحدہ کے تصور کے عین منا فی ہے۔
دوسری جا نب غیر مسلم ورلڈ کو دیکھئے کہ اس نے اپنے سیاسی وسفارتی پاور ، سائنس ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کی بنیاد پہ اس بات کا متحد طور گو یا فیصلہ کیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے وجود کو دنیا کے ہر کونے سے  مٹانے کے لئے منضبط اور منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھناہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں رام راجیہ کی چیخ وپکار کرنے والا  فر قہ پر ست پریواری بھی مسلم خون بہانا  پنُیہ کا کا م سمجھتا ہے وہاں بر می بھکشو ،جسے گوتم بدھ جیسے اہنسادادی اوتار نے بنیادی تعلیم یہ دی تھی کہ کسی بھی جاندار کو مارنے سے پرہیز کیا جائے ، خون مسلم بہا کر اپنا دھرم بھر شٹ ہو نے پر ذرہ برابر بھی شر مندگی محسوس نہیں کر تا ہے ، افغانستان میں طالبان نے اپنی حکمرانی کے دوران بامیان علاقے میں پتھر کے تراشے ہوئے مہا تما بدھ کا پہاڑ جیسا بت تو ڑا( جو بہرصورت حالا ت کے تناظر میں ایک غیرضروری اور مذہبی طور اشتعال انگیز کارروائی تھی) تو پو ری دنیا میں ان کے خلاف رائے عامہ منظم ہو ئی کہ اس نے پتھر کے مجسّمے کی توڑ پھوڑ کی، بڑی ہا ہا کار مچی ۔ طالبان کے نزدیک بتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لئے حکو مت کابل نے بت منہدم کر نے کی اجازت دے کر اپنی دانست میں ان پا بندیو ں کا تو ڑ کر نے کا رقص نیم بسمل کیا تھا جو اُن کے اقتصادی اور معاشی وجود پر کا فی دیر تک ناطقہ تنگ کر چکی تھی ۔ بہر حال آپ کو یاد ہوگا کہ ساری دنیا کا میڈیا طالبان کو کس طرح گدھوں کی طرح نوچ کھانے پر ا مڈآیا تھا، امریکہ سے لے کر اسرائیل اور انڈیا تک تمام ممالک اورقومیںطالبان پر پل پڑے تھے جیسے طالبان نے اس ایک بت کو نہیں بلکہ سارے عالم میں انسانیت کا قتل عام کیا تھا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حیران کن بات یہ ہے کہ تمام دنیا کی ہومن رائٹس انجمنوںاور این جی اوز نے اس کے ردعمل میں آہ وبکا سے آسمان سر پہ اٹھا لیا تھا اور طالبان کے خلاف تمام ممکن پابندیاں لگوائی تھیں مگر اب یہی بودھ بھکشو کھلم کھلا میا نمار کے ارکان مسلما نو ں کو نو چ کھا رہے ہیں، نسلی تطہیر کا بد ترین مظاہرہ ہو رہا ہے، مسلم بستیو ں ، املا ک اور گھرانو ں کا صفایا ہو رہا ہے ۔بچوں ، بوڑھوں،عورتوںپررحم کھا ئے بغیر ان کی چیر پھا ڑ ہو رہی ہے تو کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ،کوئی چیخ وپکار نہیں اور جن دلوں کو پتھر کے مجسّمے کو ریزہ ریزہ ہو نے پردُکھ ہوا تھا، انہیں ہزاروں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں اور نوجوانوں کی نہ تو چیخیں سنائی دیتی ہیں اور نہ دریاؤں کی مانند بہتا لہو نظر آتا ہے۔

بھارت میں مسلم کش فسادات ۴۷ء سے متواتر ہوتے رہے ہیں ۔ حال ہی میں آ سام اور اترپردیش میں پھر ایک بار مسلم کش فسادات پھوٹ پڑ ے تھے جن کی بھینٹ چڑ ھ کر بہت سارے مسلما نو ں کو جا ن ومال کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ تادمِ تحریرکچھ مسلم کش فسادات اتنے گھناؤنے ،اتنے خوفناک اور اس قدر وحشیانہ پن کے حامل تھے کہ تاریخ کے پنوں پر یہ داستان ظلم وجبر با ضمیر انسانو ں کو خوں کے آنسو رلا تی رہے گی ۔ کو ن سلیم الفطرت انسان بھا گلپور، بھیونڈی، ممبئی اور نریندر مودی کے زیر تسلط گجرات میں بے قصور مسلمانو ں کو تہ تیغ کر نے کی روح فرسا کہانیوں کو فرامو ش کر سکتا ہے؟ اب میانمار کی سڑ کو ں ، گلیو ں ، گاؤں دیہا ت اور شہروں میںچن چن کر مسلما نو ں کو دن دھا ڑے ذبح کر کے اسی داستان میں نئے سیاہ ابواب درج کئے جا رہے ہیں ۔ برما غالب اکثریت بو دھوں کی ہے۔ یہاں مسلمان نویں صدی عیسوی میںاس وقت آئے جب ا سلام کا سورج اپنی پوری آ ب و تاب کے ساتھ عرب ، فارس،یورپ،اور چین میں اپنی لازوال کرنیںبکھیر رہا تھا ۔اسی دور میں امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز ؓ کے صاحبزادے محمد حنفیہ برما وارد ہوئے اور لوگ دین اسلام ( پیغام امن و سلامتی اوراخوت وبرادری) سے متعارف ہوئے۔ اراکان کا خطہ بیس ہزار مربع میل پر محیط ہے اوریہ ایک مسلم مملکت تھی جس پر۱۷۷۴ء میں برما نے قبضہ کیا ۔۱۸۲۴ میںارکان پر برطانیہ نے قبضہ کیا اور ۴۷ء میں انگریزوں نے بھارت کی طرح یہاںسے انخلاء کیا مگر کشمیر ، حیدر آباد اور جونا گڑھ کی طر ح عوام کی خواہشوں اور اُمنگوں کے باوجود ارکان کو خود مختاری نہیں ملی ۔یہ مسلمان ارکان کے قدیم نام کی وجہ سے اپنے آپ کو (روہنگ ) کی نسبت سے روہنگیا کہلواتے ہیں ۔برما کے روہنگیوں کو اکثریتی بو دھوں کی آ مریت وتعصب نے پسماندہ طبقے میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کم نصیب مسلما نوںکے لئے فوج اور دوسرے سرکاری اداروں کے دروازے بند ہیں ۔ کڑواسچ یہ ہے کہ جس طرح راجندر سچر رپو رٹ نے یہ بات عیاں وبیاں کر کے رکھ دی کہ بھارت کے مسلمان ملک میں زندگی کے ہر شعبے میں دوسرے درجے کے شہری بنائے گئے ہیں ،اس سے کچھ زیادہ ہی برمی مسلما نو ںکوکسی قسم کی سرکاری سہولیات اور مراعات میسر نہیں ۔ یہاں تک کہ اس دورِ جدید میں ان پر موبائیل استعمال کرنے پر قید اور جرمانے کی قد غن عائد ہے ۔ ۱۹۴۲ء میں یہاں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا ، اس کے بعد۱۹۵۰ء میں ان مسلمانوں پر پھر ایک قیامت ڈھائی گئی۔  ۱۹۷۸ء میں برمی فوج نے با ضابطہ طورپھر ایک بار مسلمانوں کے خلاف قاتلا نہ آپریشن شروع کیا اور آناً فاناً ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو گھروںبے دخل کیا۔ ۱۹۹۱ء میں پھر ایک بار مسلم کش فسادات کرائے گئے ، اس بار مگھوں اور فوج اور پولیس نے مل کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ یہ با لکل نریندر مودی اور ایہو د براک تخلیق کردہ ہو بہو کہانی ہے جو برما میں آج کل من وعن دہرائی جا رہی ہے ۔ برما میں مسلمانوں پر کسی دہشت گردی کا لیبل نہیں ،ان کے بارے میں یہ بھی الزام نہیں کہ وہاں ایک الگ روہنگیا وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نہ یہ الزام ہے کہ وہ برما کے خلاف کسی سازش میں ملوث ہیں مگر ان سب باتوں کے باوجود یہاں بھی دوسرے ممالک کی طرح وقفے وقفے سے مسلمانوں کا قتل عام اس لئے جائز ومباح ما نا جاتاہے اورآ ثار وقرائن سے لگتا ہے کہ یہ تب تک جائز قرارپائے گا جب تک یہ سر زمین مسلم وجود سے خالی نہیںہوجاتی ہے ۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کو ئی بہانہ بھی ہاتھ آئے ۔ بایں ہمہ حسرت کا مقام ہے کہ برما جو ایک بدھ اکثریتی ریاست ہے میں یہ سب کیو ں کیا جا رہا ہے ؟ بدھ مت ماننے والے عقیدے کے لحاظ سے عدم تشدد کے فلسفے پہ ایما ن رکھتے ہیں ہے ، ایسے میں مسلمانو ں کو جینے کی آزادی کیو ں میسر نہیں؟ یہ بھی حیرت انگیز بات ہے کہ آنگ سانگ سوچی جن کو امن کا نوبیل انعام ملا اور جنہیں جمہو ریت اور آ زاد خیا لی کی مثال سمجھا جا تا ہے ، وہ آج مسلم اقلیت کے قتل وانہدام پر کیو نکر اس انداز سے چپ سادھی ہو ئی بیٹھیں ہیں ؟ کیا وہ بھی اذیت پسند طبیعت کی مالکن ہیں کہ خون مسلم سے تسکین کا سامان پا رہی ہیں ؟ کیا اس انہوں نے طرز عمل سے باور کیا جا سکتا ہے کہ جب مسلم کمیو نٹی کی بات آتی ہے تو تمام فلسفے عقیدے صرف ہو ائی قلعے یا ذہنی عیا شی کے قصے بن جا تے ہیں ؟کیاحربی طاقت اور مادی قوت سے مسلمانوں کا ہر پہلو سے قتل عام جاری رکھنے پر اس فتنہ سامان فلسفے کے امام یہودیوں پرنا ن مسلم ورلڈ نے اتفاق رائے کیا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو برما جیسے حالات ایک یا دوسری شکل میں تمام دنیا میں کیو ں بپا ہے؟ لگ بھگ مسلم دنیا کا کوئی گو شہ ایسا نہیں جہاں کسی کلمہ خواں کو امن اور شانتی نصیب ہو بلکہ دنیا کے ہر گو شے میں تہذیبوں کے تصادم کی تھیو ری کے عین مطا بق وہ مسلمان یکساں طور پریشان اورپراگندہ ہیں جو اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جس کے لئے اس اندھیر نگری میں دین وایمان سب سے انمول شئے ہے ۔ رہاوہ طبقہ جس نے اپنے حقیر مفادات کیلئے حالات سے سمجھو تہ کر کے حکمرانی ، عیاشی اور لز ت کو شی کو اپنا کعبۂ مقصود بنا یا ہے اس کی کھا ل اتنی مو ٹی ہے کہ اگر ایک برما کیا پو رے مسلم بلا ک کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی جا تی ہے اس کی جبین پر کو ئی شکن پڑنے والی نہیں۔ اس مقتدر اور نام نہا د اشراف طبقے کا گلا کر نا ہی بے سود ہے ، نہ ان سے یہ تو قع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ بر ما کے مقہور مسلما نو ں یا دمشق ، صنعا، غزہ ، کابل ، بغداد ، طرابلس وغیرہ کے مظلو مین کے درد کا درماں بنیں۔ البتہ سوال یہ ہے کہ مسلمانو ں کا آ خر قصور کیا ہے ؟ ؟ اس سوال کا جو کچھ بھی جواب ہو بہرکیف یہ ایک امرواقع ہے کہ بشمول طا غوت انسانی ذہن کے تراشیدہ ہر عقیدے، فلسفے ، ازم ، تہذیب و تمدن، کلچر وثقافت ، ادب و آرٹ کو اس ایک خدائی، الہا می اور آفاقی مذہب میں اپنی موت نظر آتی ہے جو اس کے سامنے ایک ہمہ گیر متبادل سوشو اکنا مک نظامِ حق کا نظریہ مع عملی خا کہ سامنے رکھتا ہے ۔ یہ چیز چونکہ نا حق کے امامو ں سمیت وقت کے دبدبہ والے متکبرین اور جا برین کے مفادات پر زد ڈالتا ہے، اسلئے مسلمان دشمن قوتیں اس میں اپنی موت سمجھ کر مسلما نو ں کو دبا رہے ہیں ، کچل رہے ہیں اور صفحۂ ہستی سے مٹا رہے ہیں    ؎

ستیزہ کار رہا ہے اَزل سے تا امروز

چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بو لہبی

اس صورت حال میں مسلم عوام کے پاس کیا آپشن بچتا ہے؟ اس آپشن پہ اگر اب بھی ہم بہ حیثیت آ فا قی امت سر جو ڑ اپنے مقام ومرتبہ ، اپنی صفو ں کی کج روی، اپنے ذہنو ں کے بانجھ پن اور اپنے ایما ن واخلا ق میںکمزوریو ں پر غور وفکر کر کے انہیں دور نہیں کر تے تو کو ئی وجہ نہیں کہ برما کا یہ الا ؤ خدانخواستہ کل ہمارے گھر آ نگن تک بھی پہنچ سکتا ہے اور پھر ہمیںانتظار کرنا ہو گا کہ اللہ ہماری جگہ کسی اور قوم سے حرم کی پاسبانی کا کام لے گا کیونکہ اس کا چہیتا وہی ہے جو اس کے مقاصد کی تکمیل کرے اور اپنے پیارے لاڈلے چہیتے پیدا کر نے میں یا کن فیکون کی ندا پر کسی اور قوم کو کسی اہم ترین کام میں لگا نے سے اللہ جل شانہ کل کسی کا محتاج تھا نہ آج ہے اور نہ آ یندہ ہو گا۔ 

(ختم شد)

 rashid.parveen@gmail.com

ڈپریشن انسان کا بدترین دشمن

ڈپریشن
انسان کا بدترین دشمن

جس دن ناہید بانو کا دوسرا بیٹا گم ہوگیا ۔ اس کی حسرتوں کا شمار نہ رہا۔ پہلے دو مہینے وہ پل پل جیتی مرتی رہی۔ اُمید وبیم کی کشمکش کا سلسلہ کم ہوا  تو اُمید فوت ہوگئی اور صرف افسردگی زندہ رہی ۔ اس کی آنکھیں ساون بھادوں بن گئیں او روہ آنکھوں سے زمین تک آنسووں کی کڑیاں بناتی گئیں ۔ حالات نے اسے خوفزدہ اور حواس باختہ کردیا۔ کئی برس پہلے جب اس کا پہلا بیٹا گھر کے عین باہر نُکّڑ پر ماراگیاتھا تب بھی وہ ایسے ہی ٹوٹ پھوٹ گئی تھی ۔ اس چن سے غموں کا لامنتہیٰ سلسلہ شروع ہوگاتھا ۔ جس کی وجہ سے زندگی سرے سے بے کیف بے رنگ اور بدمزہ ہوگئی تھی ۔ اس نئی صورت ِ حال نے بچی کھچی چند خوشیوں کو چھین کر اسے زندہ درگورکیا تھا ۔ وہ جیسے کی چاہ کھو بیٹھی ، اس کے سارے جذبے یخ بستہ ہوگئے اور وہ اداسی کے گہرے اندھیروںمیں ڈوب گئی ۔ اس کا وجود درد کی پکاربن گیا ۔ حالات کے اس دلدوز رُخ نے ناہیدبانو کو ہمیشہ کے لئے بے حِس اور پُرملول بنادیا ۔ وہ مسکرانا بھول گئی۔ اور اس کے لبوں پر خاموشی کی مہر مسلط ہوگئی ۔ وہ ہر بُرا حادثہ اپنی ذات سے منسلک کرتی گئی اور اپنے آپ کو ساری مصیبتوں کی جڑ تصور کرنے لگی، جیسے اس سے کئی ناقابل معافی گناہ سرزد ہوئے ہوں ،جیسے وہ خطر ناک جرائم میں حصہ دار ہو ، جیسے اس کی ذات صرف ایک الزام ہو ، جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے ناکردہ گناہوں کے عوض سزا کے لئے مخصوص کر دیا ہو ۔ بے جا احساسِ جرم کی ذلت نے اسے شرمسار کیا اور وہ تنہائی پسند ہوگئی ۔ اپنے گھر کے بچے کھچے افراد سے منہ موڑ کر ان سے کترانے لگی ۔ وہ ایک کونے میں پڑی رہی اور اپنے خیالات کے تانے بانے سلجھانے میں دنیا و مافیھا سے بے خبر ہوگئی ۔ اسی ادھیڑ بن میں جب ایک دن اسے ہوش آیا تو اپنے آپ کو ایک آدھ کھلی الماری میں سے سُدھ پڑاپا یا ۔ ایک زندہ لاش کی مانند جسے کوئی بتائے بنا اس کی لاش کو ایک بے نشان قبرمیں بند کر گیا ہو ۔ وہ اپنی حالت ِزار پر چیخ چیخ کر رونے لگی ۔ اپنے بال نوچ ڈالے ۔ منہ پر بے تحاشا طمانچے مارے ۔ اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور گِرکر بے ہوش ہوگئی۔ وہ ڈیپریشن کا شکار ہوگئی تھی ۔ ہذیان اور شوریدگی نے اسے آدبوچا تھا  اور مالیخو لیا نے ایک تیمار دار کی مانند تھپکیاں دے کر اسے سُلا دیا تھا ۔ اس پر ڈیپریشن کی وجہ سے پہلا  Panic attack ہوا تھا ۔
ڈپریشن ایک نہایت ہی گہرا جذباتی پسماندگی کا احساس ہے جس میں دکھ ، درد ،مصیبت یا سیت، سستی ، حزن وملال ، تنگ دلی اور آہوں اور آنسوؤں کا تاثر غالب رہتا ہے ۔ اس کا تعلق اندرونی خلفشار اور نجی خسارے سے منسلک ہے ۔ یہ کسی خاص ردِ عمل کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے جس میں انسان صلاحیت کے ذاتی فقدان کی وجہ سے اپنے حالات اور ارد گرد کے ماحول کو منظم کرنے میں ناکام رہتاہے کہ زندگی اپنی ترتیب کھوبیٹھتی ہے ۔ یہ ترتیب اس شدید ذہنی دباو کے باعث بھی غیر منظم ہو جاتی ہے  جو ماضی کی ناکامیوں اور مستقبل سے جڑے وسوسوں اور اندیشوں سے پیدا شدہ خوف اور ہراس کی عکاسی کرتی ہے ۔ ڈپریشن انسان کو ماحول اور لوگوں سے دور کردیتا ہے ۔ اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور جی اُچاٹ جاتا ہے ،ہر چیز کشش اور دلچسپی کھودیتی ہے ۔ اس کی بھوک پیاس مٹ جاتی ہے  اور وہ حفظان صحت کے اصولوں سے لاپرواہی برتنے لگتاہے ۔ میلے کچیلے کپڑے سرجھاڑ وہ مہینوںنہائے بنا رہ سکتا ہے ،اس کی قنوطیت اس کو پُراسرار اور بعید الفہم بنا دیتی ہے ۔وہ خاموش دیے کی طرح اند ہی اندر ٹھنڈی آگ میں سلگتا رہتاہے۔
ڈپریشن ایک خاص رفتار سے انسان کو اپنے بس میں کر لیتاہے   اور یہ ایک دھیمی رفتار سے بتدریج بڑھتا رہتا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے ان دیکھے وسوسوں سے شروع ہو کر بڑی بڑی پریشانیوں کا باعث بیتا ہے ۔یہ ہر عمر ، ہر جنس اور ہر پس منظر میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ اس مایوس کن بیماری کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو ہمیشہ تہمت زدہ محسوس کر کے اپنے اندر تنگ دلی ار مفلسی کی ایسی فضا قائم کر تا ہے ، جو اسے ہر وقت مجروح رکھتی ہے۔ ڈپریشن انسان کو دن بھر مالیخولی خیالات سے تھکا کر چُور کرتا ہے  اور ذہن پر نیند کا خمار قائم کر تا ہے لیکن ساتھ ہی آنکھوں کو بند ہونے سے روکتا ہے ۔ انسان بے خوب راتوں کے ڈر سے سہما سہما رہتا ہے  اوریو ں اداسی اس پر پہرہ زن ہوجاتی ہے۔ اس انسان کی دنیا میں ترتیب کا فقدان اتنا غالب آجاتا ہے کہ ذہنی طور پر معمولی چیزوں کو تلاش کر نا اس کے بس میں نہیں رہتا ۔ بدنظمی ، افراتفری اور ابتری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے تجربات کا سرمایہ کوڑے کرکٹ کے ایسے ڈھیر میں بدل جاتا ہے ، جس میں سے چیزوں کی تلاش نا ممکن اور ان کا حصول مشکل بن جاتاہے۔ اس کشمکش میں اس پر بوکھلاہٹ طاری ہوجاتی ہے اور وہ جلد اٹھتا ہے ، تنک مزاجی ، بدظنی ، کاہلی اور سہل انگاری اسے گھیر لیتی ہے ۔ وہ اپنی ذات کے محور کے گرد گھومتا ہے اور ذات کی یہ قیداُسے ذاتی مشکلات او رنجی دکھ درد سے باہر آنے سے روکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ ہر خوشی کے موقع پر صرف اپنے دکھوں کی نمائش سے باز نہیں آتا، پُر مسرت لمحوں سے وہ دکھ اور درد نچوڑنچوڑ کر اپنے لئے رونے اور کُڑھنے کے سامان پیدا کرتا ہے۔
ڈپریشن کے موضوع یا مرض پر کافی تحقیق ہوئی ہے ۔ ہزاروں تجربات ہوئے اور لاکھوں کیابیں لکھی گئی  لیکن ڈیپریشن اصل میں کیا ہے ابھی تک صحیح معنوں میں اس کی بنیاد یا صحیح وجہ کے بارے میں وثوق سے پتہ نہ لگایا جاسکا۔ اس کو سمجھنا کافی مشکل ہے لیکن تحقیقات اور تجربات کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دماغ کے  Neurotrnsmitter system کے فاضل عمل کا نتیجہ ہے جو براہ راست ہمارے احساسات ، نیند ، بھوک اور پیاس کو اثر انداز کرتا ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی اپنے اندر اداسی اور کسمپرسی کے کچھ اس قسم کے تاثرات محسوس کر رہا ہو تو بہتر یہ ہوگا  کہ اپنے اندر ہو رہی اس تبدیلی پر پردہ نہ ڈالا جائے بلکہ خاموشی کی دیوار کو توڑکر اپنے اس مسئلے سے اپنے افراد خنہ اور دوست احباب کو مطلع کریں ۔ ان سے مددمانگیں ۔وہ آپ کو اس مصیبت سے باہر لانے میں بہترین معاون ثابت ہونگے وہ آپ کو ڈپریشن سے باہر لانے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ اُداسی اظہار سے گھتتی ہے اپنے کھانے پر دھیان دیجئے ۔ اچھی خوراک اور ورزس اپنا معمول بنائے ۔ ماضی کے خوش کن لمحات کو اپنے ذہن میں بار بار دھرائے غم سے پرہیز کیجئے ۔کبھی کبھی یہ اداسی بدلتے موسموں کی دین بھی ہوتی ہے   جیسے  Seasonal Affective Disorder یعنی SAD یہ موسم سے وابستہ ہے اور اکثر موسم خزان یا موسم سرما میں انسان کو گھیر لیتا ہے ۔ سرد ، یخ بستہ موسم میں جب بادل گہرے ہو جائیں دن میں چھٹ پٹ اندھیرا چھا جائے ، جذبوں پر برف جم جائے تو تیز روشنی کا بلب جلایئے یا پھر خوشبودار خوب ساری شمعیں جلاکر اپنے کمرے کو روشن کیجئے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ڈپریشن دور کرکے پھر سے آپ کا دامن خوشیوں سے بھردے۔

Wednesday, 8 August 2012

FATEH MAKKAH ISALMI ... TAREEKH SAZ WAQEAA

فتحِ مکہ۔۔۔۔۔مثالی اورتاریخ ساز واقعہ



اسلام کی عظیم الشان انقلابی تاریخ کے اوراق میں واقعۂ فتح مکہ کو اس اعتبار سے انفرادیت حاصل ہے کہ یہ تاریخ عالم کا پہلا واقعہ ہے جب ایک بستی کے اندر دس ہزار مجاہد، مہاجر مکی حضرت رسول مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں بھر پور عسکری تیاری کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور بغیر کسی کشت وخون ، ماردھاڑ ، لوٹ کھسوٹ اور تشدد کے فتح ومسرت کا جھنڈا گاڑ کر عفو ودرگذر اور معافی کا اعلانِ عام ہوتاہے ۔فوجی حکمت عملی کے تحت سالارِ افواج نے چار جماعتوں میں اپنی فوج کوتقسیم کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اورمکہ کو چار اطراف سے گھیرے میں لینے کا منصوبہ تشکیل دیا تھا۔ آپ ؐ اس فوجی دستے کے پیچھے پیچھے چلتے رہے جس کی علمبرداری حضرت عبیدہؓ ابن الجراج کر رہے تھے۔اطاعت ، جذبۂ عبودیت او رسرفروشی کے جملہ عناصر کے ساتھ آپؐ  کے صحابہؓ  اس شہر کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں سے رات کی تنہائی وتاریکی میں آٹھ سال پہلے کفارِ مکہ نے ہجرت پر مجبور کردیا تھا ، آپؐ پر اپنے مولدومسکن کی وسعتیں تنگ کردی گئی تھیں، ہرطرح کی اذیتیں پہنچائی گئیں ۔ ان روح فرساتکالیف کی روداد پڑھ کر انسان ورطۂ حیرت میں پڑتاہے کہ کیا یہ اس عظیم انسان کا مل ؐکے ساتھ روا رکھا گیاتھا جو سراپا رحمت ومودّت تھے لیکن پھر تاریخ اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے کہ حق وصداقت کی با ت کرنے والوں سے انسانی معاشرے کا ہمیشہ یہی روّیہ رہا ہے   ؎
حق پرستوں سے زمانے کی دغا آج بھی ہے
تیرے بندوں پہ ستم میرے خدا آج بھی ہے
سرورِ کائناتؐ نے فتح مکہ کے روز سرِ مقدس پر سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔(اس دستارِرحمتؐ پر دونوں جہاں قربان ہوں) جوں ہی آپؐ مکہ مکرمہ کے حدود میں تشریف فرما ہوئے اور آپ ؐ کی نورانی نگاہیں کعبۃ اللہ کی جانب اُٹھیں ،آپؐ اونٹنی پر سوار تھے ۔ سرِ نازنین کو اس قدر جھکادیا کہ عمامہ شریف کی سلوٹیں ڈھیلی پڑ گئیں ۔ چنانچہ آپؐ جس عسکری جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اس میں ایک شاعر عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے جو نعتیہ اشعار پڑھ رہا تھا ۔’’آج مکہ پر ستارۂ صبح طلوع ہوا۔ آج ہمارے درمیان اللہ کا رسولؐ ہے جو خدا کی کتاب کی آیات تلاوت کررہاہے ۔ آج ہم ان سے بدلہ لیں گے جنہوں نے ہمارے نبی ؐ کو جلاوطنی پر مجبور کردیاتھا‘‘۔رسول رحمتؐ نے فرمایا نہیں آج اہلِ مکہ کو امن وآزادی کی بشارت ملنے والی ہے ۔
کفارانِ قریش دس ہزار قدسی صفات صحابہؓ اور ان کے دائیں بائیں بے شمار ملائکہ (جوآنکھوں کودکھائی نہیں دیتے تھے) سے خوفزدہ ہوچکے تھے ،مزاحمت اور مقابلے کے لئے سامنے نہیں آئے ، جو مقابلہ آرائی عربوں کے مزاج کی خصوصیت تھی ۔ کفارانِ مکہ کی خاموشی ، ندامت ،انکساری اور گھبراہٹ کو بھانپ کر سالارِ اعظمؐ نے خانۂ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکریہ الفاظ بیان کئے:
’’اے گروہِ قریش! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور آبا واجداد پر فخر وغزور زائل کردیا ۔ سب انسان آدم سے پیدا ہوئے اور آدم مٹی سے ‘‘۔ اس کے بعد قرآن حکیم کی سورہ الحجرات کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ ہے ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے ،تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچان سکو ۔ بے شک تم میں سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ یقیناً اللہ خبیر وعلیم ہے ‘‘۔
اس کے فوراً بعدفرمایا ! ’’ اے قریش ! میں تمہارے بارے میں جو کچھ کرنے والا ہوں اس کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو ‘‘۔ سب نے کہا ’’بہتر رائے رکھتے ہیں ۔آپؐ شریف بھائی ہیں ۔شریف بھائی کے بیٹے ہیں‘‘۔آپؐ نے فرمایا ’’جائو اب تم آزاد ہو‘‘ ۔ یہی وہی جملہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا جنہوں نے ایک مرحلے پر جناب یوسفؑ کو اندھیرے کنوئیں میں ڈال دیا تھا اور اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے کہا تھاکہ یوسف ؑ کو بھیڑیا کھاگیا۔ اللہ نے اپنے پیارے کی مددکی ،قافلہ گزرا۔ یوسفؑ کو کنوئیں سے نکالا گیا ۔ مصر کے بازار میں فروخت ہوا ۔ سلطنتِ مصر کا ایک وزیر وامیر ہوگئے جنہوں نے ایک زمانے میں انہیں مٹانے کی کوشش کی تھی ان سے وہ بدلہ لے سکتاتھا لیکن ایسا نہیں ہوا ،انہیں بلا تا مل معاف کردیا ، آ زادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں تھمادیا ۔
فتحِ مکہ کے اس تاریخی اور مثالی واقعے کو اقبال مرحوم نے فقط دوشعروں میں سمیٹا ہے   ؎
آنکہ بر اَعداء درِ رحمت کشاد
مکہ را پیغام لا تشریب داد
وقتِ ہیجا تیغ او آہن گداز
دیدۂ او اشکبار اندر نماز
ترجمہ : جس نے دشمنوں پر رحمت کا دروازہ کھولا ۔ مکہ کو ’’کوئی غم نہیں‘‘ کا پُرسکون پیغام سنایا۔(یعنی عام معافی کا اعلان کردیا)۔ میدانِ جنگ میں آپؐ کی تلوار لوہے کو پگھلاتی ہے لیکن آپؐ کی آنکھیں نماز میں آنسو بہارہی ہیں ۔
فتح مکہ نے آپؐ کے دشمنوں پرایسا ہمہ گیر اثرات مرتب کیا کہ وہی خون کے پیاسے ،دین کے بدترین دشمن اور جنگ وقتال میں یقین رکھنے والے ایسے پاکباز اور خداترس بن گئے کہ چشم عالم نے آج تک ایسی انسانی شخصیات کے پیکر نہیں دیکھے ۔انسان کی فطرت میں انتقام اور قصاص کا عنصر موجود ہے اور یہ انفرادی واجتماعی دونوں سطحوں پر کارفرما رہتاہے لیکن فاتح مکہ نے اپنی علمی اور نبوی حیاتِ طیبہؐ میں دنیا پر یہ بات واضح کردی کہ انہیں جوڑنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے کہ نہ کہ توڑنے کے لئے ۔ فرمانروا اور فاتحین کی تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح فوجی پیش رفت کے موقعوں پر قتل عام کیا گیا ، درخت کاٹے گئے اور بستیاں نذرِ آتش کی گئیں۔ اسلام کے سپہ سالارؐ کا اسلوب ہی مختلف ہے جب آپؐ نے معافی کا اعلان فرمایا تو اپنے انتہائی درجہ کے دشمن ابوسفیانؓ کے بارے میں فرمایا کہ جو ابوسفیانؓ کے گھر میں داخل ہوگا اس کو بھی امان حاصل ہے ۔فتحِ مکہ کے بعد شعرائے عرب نے اس واقعہ کو منظوم انداز میں پیش کیا ہے ۔ ان اشعار کا مرکزی خیال بھی یہی ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کا مزاج معافی ، فراخدلی اور انسان دوستی ہے ۔
موجودہ عہد میں مسلمانانِ عالم بظاہر شعائر اسلامی اور مناسک دینی کا اہتمام تو کررہے ہیں لیکن عملاً اسوۂ حسنہ کی مثالی قدروں سے دور اور بہت ہی دور دکھائی دے رہے ہیں ۔
صداقت ،اخلاص اور عفوودرگذر کا روّیہ مفقود ہوچکاہے اور اس کی جگہ کذب ، ریا ،قصاص اور انتقام اور پندار ونخوت نے لی ہے۔ فرانس کی ایک عیسائی خاتون جس نے اسلام قبول کیا ہے اور جس کا نام اب فاطمہ ہے ، سے پوچھا گیا کہ اسلام کی کس خوبی نے تجھے متاثر کیا ؟ ان کا جواب تھا کہ ’’مجھے نظامِ اسلام میں مساوات ، رحمدلی ،عفودرگذر اور اس دین میں موجود انتہا درجے کی پاکیزگی نے متاثر کیا اور میں نے اپنے آبائی مذہب سے ذہنی بغاوت کی اور اپنے خاندان سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی ‘‘۔
…………………
رابطہ :- اقبال انسٹی ٹیوٹ ،یونیورسٹی آف کشمیر  

BURMA KE MAZLOOM MUSALMAN


برما کے مظلوم مسلمان

سلیم منصور خالد


 برمی مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل عام اور بے بسی کی زندگی، ایک پتھر دل انسان کو بھی گہرے دکھ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بدھ مت کے پیروؤں کے اکثریتی ملک برما (میانمار) میں درندگی کے اس کھیل نے بدھ مت کی اُس بناوٹی اور افسانوی اصلیت کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے کہ: ’’بدھ مت تو امن کا گیت اور صلح کا مذہب ہے‘‘۔
۳جون ۲۰۱۲ء کو برپا ہونے والے اس خونیں طوفان میں بدھ بھکشووں کی درندگی نے ہزاروں مسلمانوں کو ذبح کر دیا، بچ جانے والوں کو زخمی، بے گھر کیا اور ان کے گھروں کوآگ لگا دی۔ بے بس عورتوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا، بہت سوں کو زندہ جلا دیا اور بچ رہنے والوں کو دھکیل کر سمندر کی لہروں کے سپرد ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب کچھ آج کے اس ترقی یافتہ دور اور فعال ومتحرک میڈیا کی آنکھوں کے سامنے کیا گیا ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت بظاہر اس منظرنامے میں تماشائی دکھائی دیتی ہے، لیکن حکومت اور انتظامیہ کی ہرحرکت یہ بتاتی ہے کہ وہ براہِ راست اس قتل عام اور درندگی کے کھیل میں برابر کی شریکِ کار ہے۔ برمی بدھ لیڈروں اور عبادت گزاری کے نام پر فارغ بدھ بھکشوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی دبی چنگاری نے آناً فاناً، غیظ و غضب کی آگ میں تبدیل ہوکر پورے اراکان کواپنی لپیٹ میں ہی نہیں لیا، بلکہ اس کو بڑھانے کے لیے وہاں مسلسل فضا بنائی گئی ہے۔ ۱۴جولائی کو برمی صدر تھین سین نے برملا اعلان کیا: ’’روہنگیا مسلمانوں کو لازماً، میانمار سے نکالا اور اقوامِ متحدہ کے کیمپوں میں دھکیلا جائے گا۔ اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے‘‘۔ (تہران ٹائمز، ۱۵جولائی ۲۰۱۲ء)
اس قتل عام پر منافقانہ سنگ دلی کا رویہ اُس خاتون نے بھی اختیار کیا ہے، جسے لوگ آنگ سان سو کوئی کے نام سے جانتے ہیں، جو اپنے ملک میں فوجی حکمرانوں پر انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ایک بے نیام تلوار قرار دی جاتی ہے، مگر مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کے لیے اس کے پاس دو بول تک نہیں۔ اسے اس بات سے کوئی غرض ہے اور نہ کوئی پریشانی کہ فوجی حکمران، فسادی بدھوں کے سرپرست ہیں۔ بلکہ نوبیل انعام یافتہ آنگ سان بھی برمی مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم نہیں کرتی۔ اس نے لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) میں، جون ۲۰۱۲ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’روہنگیا مسلمانوں کو برما کا شہری نہیں تسلیم کیا جانا چاہیے‘‘۔ پھر ڈاؤننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے پر ایک حرف نہ کہا، لیکن جب صحافیوں نے سوال اُٹھایا تو صرف اتنا کہا: ’’اس نسلی فساد کا دانش مندی سے جائزہ لینا چاہیے‘‘۔
برما (میانمار) کے شمال مغربی صوبے کا نام ’اراکان‘ ہے۔ یہاں رہنے والے مسلمانوں کو ’روحنگیا‘کہا جاتا ہے۔ ’روحنگ‘ اصطلاح، لفظ ’رحم‘ (ہمدردی) سے پھوٹی ہے۔ روحنگی مسلمانوں کی یہاں آبادی کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا، جب عرب تاجر اور ملاح، چین جاتے ہوئے یہاں رُکے۔ اُن کے حُسنِ سلوک اور قابلِ رحم جذبے سے متاثر ہوکر مقامی لوگوں نے انھیں مسلمان کے نام سے یاد کرنے سے زیادہ ’رحم کرنے والے‘ لوگوں سے پہچانا اور پکارا۔ اس طرح نہ صرف یہاں کے لوگوں میں اسلام پھیلنا شروع ہوا، بلکہ مسلمانوں کے نام کے ساتھ ’روحنگ‘ اور ’روحنگیا‘ کا لاحقہ بھی منسلک ہوگیا۔ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد اُن عربوں کے یہاں کوئی آثار نہیں، لیکن ’روحنگی‘ زبان عربی رسم الخط میں بھی لکھے جانے کی گنجایش اس تعلق کی ایک یادگار ضرور ہے۔ عجب بات ہے کہ جب یہاں کے لوگ ایمان کی دولت سے فیض یاب ہوئے، تو یہی دولت ان کے حقِ زندگی کے خلاف قتل کا جواز بھی بنا ئی گئی۔ اراکانی مسلمانوں میں، چین کے صوبے ’یونان‘ کے علاوہ ہندستان اور کچھ بنگالی النسل مسلمان بھی موجود ہیں۔ ان کی آبادی ۱۰لاکھ سے زیادہ ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق: ’’روہنگی مسلمان دنیا کی مظلوم ترین اقلیتوں میں شمار ہوتے ہیں‘‘۔
برمی مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرست بدھوں کی یلغار کے آثار، گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے سے نمایاں ہونے شروع ہوئے، جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد فسادات کی صورت میں پھوٹتے رہے ہیں۔ گذشتہ ۳۵برس کے دوران میں جو بڑے واقعات ہوئے، ان میں: ۱۹۷۸ء میں ۲لاکھ برمی مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا۔ پھر ۱۹۹۲ء میں ڈھائی لاکھ کو ملک بدر کیا گیا۔ افسوس ناک یہ صورت ہے کہ ان تباہ حال مسلمانوں کو بنگلہ دیش جیسا مسلمان ملک بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اور جو لوگ جان بچاکر تھائی لینڈ کی طرف گئے، انھیں تھائی ساحلی پولیس نے فائرنگ کرکے چھوٹی کشتیوں میں، کھلے سمندر میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ۱۶مارچ ۱۹۹۷ء کو ڈیڑھ ہزار بدھ بھکشوؤں کا ایک جلوس مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے بلند کرتا سڑکوں پر نکل آیا، جس نے سب سے پہلے مسجدوں پر حملہ کرکے آگ لگائی، پھر مسلمانوں کی دکانوں کو لُوٹ مار کے بعد نذرِ آتش کیا، اور گھروں کو آگ لگا دی۔ لائبریریوں میں قرآن کریم کے نسخے چُن چُن کر جلائے گئے اور بعدازاں تمام کتابوں پر تیل چھڑک کر جلا دیا گیا۔ کینگ ڈن اور منڈالے کے شہر اس سے بُری طرح متاثر ہوئے۔ ۱۵مئی ۲۰۰۱ء کو ٹااونگو شہر میں بھکشوؤں نے مسلمانوں کے خلاف ہزاروں پمفلٹ تقسیم کیے، اور سورج غروب ہونے سے پہلے مسلمانوں کو گھیر گھیر کر جلایا، مارا اور لُوٹا گیا، جب کہ عورتوں کی بے حُرمتی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
۳جون ۲۰۱۲ء سے اُٹھنے والی حالیہ خونیں یلغار کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے، جس میں وہاں کی حکومت، حزبِ اختلاف، میڈیا اور فوج پوری طرح شریکِ کار ہیں۔ الم ناک پہلو یہ ہے کہ :l۲۸ہزار سے زیادہ مسلمان موت کے گھاٹ اُتارے گئے ہیں۔ lجن مظلوموں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کے ساحلوں پر جانے کی کوشش کی، انھیں بنگلہ دیشی ساحلی پولیس نے پہلے تو خشکی پر قدم ہی نہیں رکھنے دیا، لیکن پھر مجبور ہوکر چند گھنٹے کے لیے ساحل پر اُترنے دیا اور بعدازاں انھی کشتیوں میں دوبارہ کھلے سمندر میں دھکیل دیا۔ lاس وقت ہزاروں برمی مسلمان ان کشتیوں پر پانی، خوراک اور سایے سے محروم اور بیماریوں کا شکار ہیں۔ l۶۶ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کو کیمپوں اور کشتیوں میں خوراک، پانی اور ادویات کی فوری ضرورت ہے۔ lدنیا بھر کا میڈیا اس المیے سے عملاً نظر چرائے ہوئے ہے، اور مسلم دنیا کا میڈیا بھی اس سفاکی میں برابر لاتعلقی برت رہا ہے۔lاسلامی کانفرنس تنظیم اور مسلم دنیا خصوصاً عرب ممالک کی لاتعلقی سے یہاں کے مسلمانوں کے دل چھلنی ہیں۔