Search This Blog

Sunday, 25 November 2012

QURANE MAJEED KE TARJUME KE USOOL WA QAWANEEN قرآنِ حکیم کے ترجمے کے اصول و قوانین

قرآنِ حکیم کے ترجمے کے اصول و قوانین

اور ترجمہ نگاری کی روایت کا تسلسل
(۱/۲)

از: مفتی عبدالخالق آزاد‏، شیخ الحدیث والتفسیر ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ، لاہور، پاکستان


          اسلام کی تعلیمات میں قرآنِ حکیم کے فہم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو درست تناظر میں سمجھنا ہی دراصل دینی تعلیمات کی بنیاد ہے؛ اس لیے ہر دور کے علمائے حق نے اپنے عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی تعلیمات کے فہم کو عام انسانوں تک منتقل کرنے کے لیے بڑی کوشش فرمائی ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے عصری تقاضوں کو سمجھا۔ اور پھر اسی زبان، لہجے اور انداز و اُسلوب میں قرآنی تعلیمات کا فہم و شعور پیدا کیا۔ جس سے اس دور کی انسانیت کو درپیش مسائل کا حل دریافت ہوا۔ اور عام انسانوں کو مجموعی فلاح و بہبود اور ترقی و کامیابی حاصل ہوئی، اس سے نہ صرف وقت کے تقاضے پورے ہوئے؛ بلکہ کل انسانیت کے مسائل حل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔
قرآن فہمی کے حوالے سے شاہ ولی اللہ دہلوی کا تجدیدی کام:
          یہ ایک حقیقت ہے کہ اٹھارویں صدی کے عظیم مفکر و مجدد حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی ایک ایسی بلند مرتبت شخصیت ہیں کہ جنھوں نے اپنے دور کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھا۔ اور تمام علوم و فنون میں ایسی تجدید کی، جو انسانیت کے مسائل کے حل کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔ آپ نے اگرچہ تمام علوم و فنون میں نئے زاویوں سے فہم و شعور پیدا کرنے کے لیے بڑا تجدیدی کردار ادا کیا ہے؛ لیکن خاص طور پر قرآن حکیم کی تعلیمات کو عام کرنے، اس کے فہم و شعور کے بنیادی اصول و ضوابط مرتب کرنے اور اصولِ تفسیر مدوّن کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں؛ بلاشبہ قرآنی تعلیمات کے فروغ کے سلسلے میں آپ نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ پچھلی تین صدیوں میں قرآن فہمی کی جتنی تحریکات اور انداز و اُسلوب سامنے آئے ہیں، ان پر حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی کے اسلوب کی چھاپ واضح طور پر نظر آتی ہے۔ علومِ قرآنیہ کے سلسلے میں تمام مکاتب ِفکر حضرت شاہ صاحب کے خوشہ چین ہیں۔
علومِ قرآنیہ کی نئی تہذیب و ترتیب:
          شاہ صاحب کا سب سے بڑا کام، علومِ قرآنیہ کی نئی تہذیب و تدوین اور اس میں مفید اضافہ جات ہیں۔ گزشتہ ہزار سال میں علمائے حق نے علوم القرآن سے متعلق جتنے بھی علوم و فنون دریافت کیے تھے، آپ نے ان کی تلخیص کی۔ اور انھیں بہترین ترتیب کے ساتھ مہذب و مدوّن کردیا۔ ان میں سے غیرضروری اور بے کار بحثوں کو الگ کیا۔ اور بنیادی اور اصولی بحثوں کو اصول و قوانین کی شکل میں مرتب کر دیا۔ آپ کی کتاب ”الفوزُ الکبیر فی اُصول التفسیر“ اس حوالے سے ایک بہترین کتاب ہے۔ جس میں آپ نے بڑی جامعیت کے ساتھ گزشتہ ہزار سالہ دور کے علومِ قرآنیہ کا نچوڑ بیان کردیا ہے۔
علومِ قرآنیہ کے حوالے سے مفید اضافے:
          پھر یہی نہیں؛ بلکہ علومِ قرآنیہ کے سلسلے میں شاہ صاحب نے نئے اور مفید اضافے بھی کیے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے چند بنیادی علوم وہبی طور پر آپ کو عطا کیے؛ چناں چہ حضرت شاہ صاحب نے قرآن فہمی کے حوالے سے جن چند نئے بنیادی علومِ قرآنی کا تعارف کرایا ہے، ان میں (۱) ”علم تاویلِ قصص الانبیاء“، (۲) ”علومِ خمسہ قرآنیہ“، (۳) ”ترجمہ قرآن حکیم کا جامع اسلوب“، (۴)”علومِ خواص القرآن“ اور (۵) ”علم حل حروف مقطعاتِ قرآنیہ“ ایسے پانچ اہم علوم ہیں؛ چناں چہ شاہ صاحب ”الفوز الکبیر فی اصول التفسیر“ میں لکھتے ہیں:
”از علومِ وہبیہ در علم تفسیر ․․․․ (۱) تاویل قصص انبیاء ․․․․ (۲) دیگر علومِ خمسہ کہ منطوقِ قرآن عظیم ہماں است ․․․․ (۳) دیگر ترجمہ بزبانِ فارسی بوجہے کہ مشابہ عربی باشد ․․․․ (۴) دیگر علومِ خواص قرآن است ․․․․ (۵) یکے از علوم کہ بریں و ہم ضعیف نزول فرمودہ حل معنی مقطّعات قرآن است۔“ (1)
”اللہ تعالیٰ نے وہبی طور پر علم تفسیر میں مجھے درجِ ذیل علوم عطا فرمائے ہیں:
۱-       قصص انبیا کی حقیقت و ماہیت کی تاویل و تشریح
۲-       قرآن حکیم میں بیان کردہ پانچ علومِ قرآنیہ کی توضیح
۳-       فارسی میں ایسا ترجمہٴ قرآن، جو کہ عربی الفاظ کے مطابق ہے
۴-       علومِ خواص القرآن: قرآنی آیات کے خواص و اثرات
۵-       ”مقطّعاتِ قرآنیہ“ کا مفہوم اور اُن کا حل۔“
          یہ پانچ علوم ایسے ہیں کہ قرآن حکیم کے تقریباً تمام پہلووٴں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ انسانی سوسائٹی کی تشکیل کے لیے جن بنیادی اوراساسی امور کی ضرورت ہے، وہ ان پانچ علوم میں بیان ہوجاتے ہیں۔ ان علوم کی پوری حقیقت کا فہم رکھتے ہوئے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا جائے تو انسانی معاشرے کی تشکیل میں شریعت، طریقت اور سیاست پر مبنی تمام دینی پہلووٴں کا احاطہ ہوجاتا ہے۔
شاہ صاحب کے ترجمہٴ قرآن ”فتح الرّحمٰن“ کی اہمیت:
          ان پانچ علوم میں سے ایک اہم علم ”ترجمہٴ قرآن حکیم کا جامع اسلوب“ ہے۔ شاہ صاحب نے اس حوالے سے مکمل قرآن حکیم کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ جس کا نام انھوں نے ”فتح الرّحمٰن بترجمة القُرآن“ رکھا۔ اس ترجمے کی اہمیت اور حقیقت شاہ صاحب اس طرح بیان فرماتے ہیں:
”دیگر ترجمہ بزبانِ فارسی بوجہے کہ مشابہ عربی باشد در قدرِ کلام، و در تخصیص و تفہیم و غیرِ آں۔ و آں را در ”فتح الرّحمٰن بترجمة القُرآن“ ثبت نمودیم۔ ہر چند در بعض مواضع بسبب خوف عدمِ فہم ناظراں بدوںِ تفصیل آں شرط را ترک کردہ باشیم۔“ (2)
”(اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے علوم میں سے ایک یہ ہے:) قرآن حکیم کا فارسی زبان میں ایسا ترجمہ کیا ہے جو کہ الفاظ کی مقدار میں اور تخصیص و تعمیم وغیرہ میں عربی زبان کے الفاظ کے عین مطابق ہے۔ اور اس کو ہم نے ”فتح الرّحمٰن بترجمة القُرآن“ میں اچھی طرح لکھا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات میں قارئین کے نہ سمجھنے کے خوف سے، بلا تفصیل عربی زبان کے الفاظ کے مطابق الفاظ لانے کی شرط کو چھوڑ دیا ہے۔“
          اس ترجمہٴ قرآن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ترجمہ ”فتح الرحمن“ کی امتیازی خصوصیات کیا ہیں؟ شاہ صاحب نے ان سوالوں کے جوابات ”مقدمہٴ فتح الرحمن“ میں تفصیل سے دیے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے اس ترجمہٴ قرآن حکیم کی پانچ امتیازی خصوصیات کا ذکر کیا ہے:
۱-       قرآنی الفاظ کی مقدار اور تناسب کے مطابق فارسی الفاظ میں ان کا ترجمہ کیا ہے۔
۲-       قصصِ قرآنیہ کا بہ قدرِ ضرورت بیان ہے۔
۳-       عربی زبان و اَدب اور علمِ حدیث و فقہ کے حوالے سے بہترین توجیہات و تعبیرات اختیار کی ہیں۔
۴-       اعراب و ترکیب قرآن کو درست تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت اور اس کا فہم و شعور پیدا کیا ہے۔
۵-       ترجمہ نگاری کے انتہائی جامع اسلوب کا استعمال کیا ہے۔ (3)
ترجمہ نگاری کی اہمیت:
          شاہ صاحب کے نقطہٴ نگاہ میں صحیح طریقے پر ترجمہ نگاری کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک ایسے زمانے میں، جب کہ دنیا بھر میں علما اس بحث میں اُلجھے ہوئے تھے کہ قرآن حکیم کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کرنا جائز بھی ہے یا نہیں؟ شاہ صاحب نے اس پر بڑا زور دیا ہے کہ اگر لوگوں کی عمومی زبان، علوم و فنون کی زبان سے مختلف ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے علوم کا عام لوگوں کی زبان میں ترجمہ کیا جائے۔ شاہ صاحب کا نقطہٴ نگاہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے علوم و فنون کا صحیح فہم و شعور اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ انھیں کی زبان میں ان علوم و فنون کا ترجمہ نہ کیا جائے؛ چناں چہ شاہ صاحب فرماتے ہیں:
”و دریں زمانہ کہ ما در آنیم، و دریں اقلیم کہ ما ساکنِ آنیم، نصیحت ِمسلماناں اقتضاء می کنند کہ ترجمہٴ قرآن بزبانِ فارسی سلیس، روزمرہ، متداول، بے تکلف فضیلت نمائی و بے تصنع عبارت آرائی، بغیر تعرضِ قصص مناسبہ،و بغیر ایرادِ توجیہاتِ منشعبہ تحریر کردہ شود؛ تا خواص و عوام ہمہ یکساں فہم کنند، و صغار و کبار بیک وضع ادراک نمایند۔“ (4)
”آج ہم جس زمانے میں ہیں، اور جس ملک (برصغیر ہندوستان) میں رہتے ہیں، مسلمانوں کی خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کا ترجمہ سلیس فارسی زبان میں روز مرہ محاورہ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔ جس کی عبارت ہر قسم کے تصنع، بناوٹ اور خودنمائی سے پاک ہو اور اس میں قصص و واقعات اور غیر ضروری توجیہات و تشریحات کے بجائے آیات کا ترجمہ پیش کیا جائے؛ تاکہ عوام و خواص یکساں طور پر اس کو سمجھیں، اور چھوٹے بڑے ایک ہی نہج پر اس کا شعور حاصل کریں۔“
          اس طرح شاہ صاحب نے اپنے زمانے میں بامحاورہ فارسی ترجمے کی اہمیت کو واضح کیا اور ترجمہ نگاری کے ایک ایسے اسلوب کی اہمیت واضح کی، جس میں رائج زبان کا بامحاورہ ترجمہ سلیس انداز میں کیا جائے۔
          شاہ صاحب کے نزدیک ترجمہ نگاری کی اہمیت اس حوالے سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے بہت سے موقعوں پر کتابوں کے تراجم کے مطالعے کی اہمیت کو واضح کیا ہے؛ یہاں تک کہ کتاب فہمی کے ضمن میں استاد کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے کتاب کے بامحاورہ ترجمے کی اہمیت واضح کی ہے؛ چناں چہ شاہ صاحب نے کتاب فہمی کے حوالے سے ایک مستقل فن، ”فن دانش مندی“ مرتب کیا ہے۔ اور اس کے لیے اسی عنون سے ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔ اس میں ایک استاد کے فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے ایک ذمہ داری یہ بھی بیان کی ہے کہ وہ کتاب کی تفہیم کے لیے اس کا صحیح ترجمہ بھی طالب ِعلموں کے سامنے بیان کرے؛ چناں چہ شاہ صاحب لکھتے ہیں:
”ترجمہٴ عبارتِ کتاب بلغتِ شاگرداں، اگر لغت ایشاں مخالف کتاب باشد۔“ (5)
”(کتاب فہمی کے حوالے سے استاد کو چاہیے کہ) اگر شاگردوں کی زبان کتاب کی زبان سے مختلف ہو تو کتاب کی عبارت کا ترجمہ بھی بیان کرے۔“
          اسی طرح شاہ صاحب نے اپنے متبعین کو جو چند وصیتیں کی ہیں، اس میں بھی انھوں نے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ کتاب و سنت کا مطالعہ کیا جائے اور اگر کوئی آدمی عربی زبان نہ جانتا ہو تو اسے ان کے ترجمے پڑھنے یا سننے کا معمول بنانا چاہیے؛ چناں چہ اپنے وصایا میں لکھتے ہیں:
”و ہر روز حصہٴ از ہر دو (کتاب و سنت) خواندن۔ و اگر طاقت خواندن نہ دارد ترجمہٴ ورقے از ہر دو شنیدن۔“ (6)
”روزانہ کتاب و سنت کا کچھ حصہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ اور اگر خود پڑھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ان دونوں کے ترجمے کا ایک آدھ ورق ضرور سننا چاہیے۔“
          کتاب و سنت کے ترجموں کی اسی اہمیت کے پیش نظر شاہ صاحب نے نہ صرف قرآن حکیم کا بہترین ترجمہ کیا؛ بلکہ ترجمہ نگاری کے جامع اُسلوب اور اس کے قوانین و ضوابط بھی مرتب اور مدوّن کیے۔ اور اس سلسلے میں ایک مستقل رسالہ ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ ضبط ِتحریر میں لایا۔ جس میں ترجمہ نگاری کے اصول و ضوابط اور اس کے مختلف پہلووٴں پر اظہارِ خیال فرمایا۔
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کی تالیف کا سبب:
          شاہ صاحب نے جب قرآن حکیم کا یہ معرکة الآرا ترجمہ شروع کیا تو ترجمہ نگاری کے حوالے سے چند اسلوب آپ کے پیش نظر تھے۔ شاہ صاحب نے ان اسالیب میں موجود خرابیوں کا اِدراک کیا۔ اور اس حوالے سے انھوں نے ایک نیا اور جامع اسلوب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس اسلوب کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ نیز اس اسلوب کے بنیادی قواعد و ضوابط کیا ہیں؟ یہ اور ان جیسے دیگر سوالات کے جوابات کے لیے شاہ صاحب نے یہ رسالہ تصنیف فرمایا؛ چناں چہ ”مقدمہ فتح الرحمن“ میں ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں:
”ترجمہ خالی از دو حالت نیستند: یا ”ترجمہ تحت اللفظ“ مے باشد، یا ”ترجمہ حاصل المعنی“۔ و در ہر یکے وجوہِ خلل بسیار درمے یابد۔ و ایں ترجمہ جامع است و در ہر دو طریق و ہر خللے را ازاں خللہا علاجے مقرر کردہ شد۔ ایں سخن دراز است، در ”رسالہ قواعد ِترجمہ“ بیان کردہ آید۔“ (7)
”(عام طور پر) ترجمے دو حال سے خالی نہیں ہیں: یا ”لفظی ترجمہ“ کیا گیا ہے؛ یا ایسا ترجمہ جس میں معنی کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ ہر ایک اسلوب میں خرابی کی بہت سی شکلیں پائی جاتی ہیں۔ یہ ترجمہ (فتح الرّحمٰن بترجمة القُرآن) ان دونوں اسالیب ِنگارش کا جامع ہے۔ اس میں ان دونوں کی خرابیوں کا علاج کردیا گیا ہے۔ یہ بات بڑی لمبی ہے۔ ”رسالہ قواعد ِترجمہ“ میں بیان کردی گئی ہے۔“
          شاہ صاحب کی اس عبارت سے اس رسالے کی تالیف کے مقاصد واضح ہوجاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالے کا اصل مقصد ترجمہ نگاری کے اسالیب پر بحث کرنا اور ترجمے کے ایک جامع اسلوبِ نگارش کی دریافت ہے۔ نیز اس جامع اسلوب کے اصول و قوانین کی نشان دہی کرنا ہے۔
          آپ کے صاحبزادے حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی نے بھی اس رسالے کا تذکرہ اپنی کتاب ”تکمیل الاذہان“ میں کیا ہے۔ اور بتلایا ہے کہ والد ِمحترم نے ترجمے کے اصول و قوانین مرتب و مدوّن کیے ہیں۔ شاہ رفیع الدین دہلوی تصنیف و تالیف کی حقیقت و ماہیت اور ان کی مختلف اقسام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
          ”التصنیف․․․ لغةً بلغةٍ اخرٰی و دوّن والدی رضی اللّٰہ عنہ قوانین الترجمة“․(8)
”تصنیف و تالیف کی ایک قسم یہ ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے۔ اور میرے والد اللہ ان سے راضی ہوجائے نے ترجمے کے قوانین مدوّن کیے ہیں۔“
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کا سن تالیف:
          ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کا سن تصنیف و تالیف کیا ہے؟ اس سلسلے میں ایک رائے ڈاکٹرمولانا محمدسعود عالم قاسمی نے اختیار کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ:
”اس رسالے کی تصنیف فتح الرحمن کی تسوید کے وقت عمل میں آئی۔ جیسا کہ خود شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ: ”یہ رسالہ ترجمہ قرآن کے قاعدوں کے بیان میں ہے۔ اس کا نام ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ ہے۔ اسے فتح الرحمن کی تسوید کے وقت ضبط ِقلم کیا گیا ہے۔“ اور فتح الرحمن کے مسودے کی تکمیل شاہ صاحب نے شعبان 1151ھ بتائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسالہ 1150ھ سے 1151ھ کے درمیان لکھا گیا ہے۔“ (9)
          ہماری رائے یہ ہے کہ اس رسالے کی تالیف کایہ سن متعین کرنا درست نہیں؛ بلکہ اندازہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے اپنے سفر حرمین شریفین سے پہلے ”زہراوین“ (سورة بقرہ و آلِ عمران) کے ترجمے کا مسودہ تیار کرنے کے دوران غالباً 1142ھ میں اس رسالے کی تصنیف و تالیف کی ہے؛ اس لیے کہ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی نے قرآن حکیم کا ترجمہ رمضان 1151ھ /دسمبر 1738ء میں مکمل کیا۔ ترجمہ قرآن حکیم کا یہ کام وقفے وقفے سے تقریباً نو دس سال تک چلتا رہا۔ ”فتح الرّحمن“ کے مقدمے میں شاہ صاحب نے اس کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ اس طویل عرصے کا ایک سبب شاہ صاحب نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کام کے دوران حرمین شریفین کا سفر درپیش ہوگیا۔ حضرت شاہ صاحب حرمین شریفین کے سفر پر دہلی سے 08/ ربیع الثانی 1143ھ / 21/ اکتوبر 1730ء کو روانہ ہوئے تھے۔ اور 14/ رجب 1145ھ / یکم/ جنوری 1733ء کو واپس دہلی تشریف لائے۔ (10) سفر حرمین سے پہلے شاہ صاحب اپنا ترجمہ ”سورة آلِ عمران“ تک مکمل کرچکے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کے ترجمے کا آغاز اندازاً 1142ھ / 1729ء کے آخر میں ہوچکا تھا۔
          ہماری رائے یہ ہے کہ اس رسالے کی تصنیف کا زمانہ حرمین شریفین کے سفر سے پہلے کا ہے۔ اس لیے کہ اس رسالے میں شاہ صاحب نے زیادہ تر ترجمہ نگاری کے اَسالیب پر بحث کی ہے۔ اور یہ حقیقت خود شاہ صاحب نے بیان کی ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے کام کے نقائص اور خرابیوں پر مطلع ہونے کے بعد ہی انھوں نے نئے ترجمہ قرآن کا ارادہ فرمایا۔ چناں چہ ”فتح الرّحمٰن“ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
”ایں فقیر را داعیہٴ ایں امرِ خطیر بخاطر ریختند، و خواہ مخواہ برسرِ آں آوردند۔ یک چند در تفحص ترجمہ ہا اُفتاد تا ہر کرا از تراجم غیرِ آں کہ بخاطر مقرر شدہ است مناسب یابد، در ترویج آں کوشد۔ و کیف ما امکن پیش اہلِ عصر مرغوب نماید۔ در بعض تطویل مملّ یافت و در بعض تقصیر مخل۔ ہیچ یک موافق آں میزان نہ اُفتاد۔ لاجرم عزمِ تالیف ِترجمہٴ دیگر مصمم شد، و تسوید ِترجمہٴ ”زہراوین“ بر روئے کار آمد۔ بعد ازاں سفرِ حرمین اتفاق افتاد و آں سلسلہ از ہم گسست۔“ (11)
”اس فقیر کے دل میں اس امر عظیم (یعنی سلیس فارسی زبان میں قرآن حکیم کا ترجمہ) کرنے کا خیال پیدا کیا گیا۔ اور پورے جوش کے ساتھ خیالات کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔ ایک دفعہ تو میں نے چاہا کہ قرآن حکیم کے جو پہلے ترجمے ہوچکے ہیں، ان میں ہی تحقیق و تفتیش کی جائے۔ اگرچہ وہ ہمارے ذہن میں آنے والے معیار کے مطابق نہ بھی ہوں؛ تاہم ان میں سے کوئی ترجمہ مناسب ہو، تو اُس کی ترویج و اشاعت کی جائے۔ اور جیسے بھی ممکن ہو، اُسے اہل زمانہ کے سامنے بہتر بنا کر پیش کردیا جائے۔ (لیکن جب ان سابقہ تراجم کو دیکھا گیا، تو) بعض ان میں سے اتنے لمبے اور طویل تھے کہ انھیں دیکھ کر اُکتاہٹ ہوتی تھی۔ اور بعض اتنے مختصر تھے کہ مفہوم سمجھنا بھی دُشوار تھا۔ ان ترجموں میں سے کوئی بھی ہمارے ذہن میں قائم شدہ معیار کے مطابق نہ تھا۔ اس طرح بہر حال ایک نئے ترجمے کی تالیف کا عزم پختہ کرنا پڑا۔ اور زہراوین (سورة بقرة و آلِ عمران) کے ترجمے کا مسودہ تیار ہوگیا تھا۔ اس کے بعد حرمین کے سفر کا اتفاق ہوگیا تھا۔ اس طرح ترجمے کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔“
          اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب شاہ صاحب نے قرآن حکیم کے مختلف تراجم کی تحقیق و تفتیش کی تو ترجمہ نگاری کے کئی اسالیب آپ کے سامنے آئے۔ انھیں کو سامنے رکھ کر شاہ صاحب نے ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ میں ان اسالیب پر بحث اور گفتگو کی۔ اور ان میں موجود خرابیوں اور نقائص کی نشان دہی کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ”زہراوین“ کے ترجمے کے مسودے کی تیاری کے دوران یہ رسالہ مرتب و مدوّن ہوا۔ اس تناظر میں شاہ صاحب نے رسالے کے آغاز میں جو کچھ لکھا ہے، اس سے مراد ”زہراوین“ کے مسودے کی تیاری کا زمانہ ہے، نہ کہ 1151ھ (دسمبر 1738ء) میں باقی قرآن حکیم کے ترجمے کے مسودے کا زمانہ مراد ہے۔ اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ 1151ھ (دسمبر 1738ء) میں ”فتح الرّحمٰن بترجمة القرآن“ مکمل ہونے پر شاہ صاحب نے اس کا مقدمہ الگ سے تحریر کیا ہے۔ جب کہ ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“، ”زہراوین“ پر مشتمل سورتوں کے ترجمے سے پہلے بطور مقدمے کے شاہ صاحب نے لکھا تھا۔
          ہماری اس رائے کی تائید حضرت مولانا محمدحفظ الرحمن سیوہاری کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے، جو انھوں نے اس رسالے کے تعارف کے شروع میں تحریر فرمائی تھی؛ چناں چہ مولانا سیوہاروی لکھتے ہیں:
”بہت کم اہل علم ہیں، جن کے علم و خبر میں یہ بات ہے کہ حضرت شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ نے قرآن حکیم کا ترجمہ شروع کرنے سے قبل چند صفحات کا ایک مقدمہ (المقدمہ فی قوانین الترجمہ) بھی تصنیف فرمایا تھا۔“ (12)
          مولانا سیوہاروی کی اس تحریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے بھی یہی ہے کہ اس رسالے کی تصنیف 1142ھ /1729ء میں ہوئی ہے۔ یہی رائے زیادہ درست اور صحیح ہے۔
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کے چند مخطوطات:
          اگرچہ اس رسالے کا تذکرہ شاہ صاحب نے ”مقدمہ فتح الرحمن“ میں کیا تھا؛ لیکن ایک بڑے عرصے تک یہ رسالہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اگرچہ اس کے قلمی مخطوطے بہت سی جگہوں پر موجود تھے؛ لیکن اس کی طباعت کی کوئی شکل نہیں تھی۔ عام طور پر سب سے پہلے اس رسالے کا تذکرہ اس وقت سننے میں آیا، جب اکتوبر، نومبر 1945ء میں حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس کے ایک مخطوطے کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا اصل فارسی متن اور اردو ترجمہ ماہ نامہ ”برہان“ دہلی سے شائع کیا۔ اس اشاعت کے بعد سے اہل علم کی توجہ اس رسالے کی طرف ہوئی۔
دریافت شدہ پہلا مخطوطہ:
          اس رسالے کا دریافت شدہ پہلا مخطوطہ وہی ہے، جس سے نقل کرکے حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اسے شائع کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بارے میں انھوں نے یہ نہیں لکھا کہ یہ مخطوطہ کس کتب خانے کی زینت ہے؟ اور انھوں نے اسے کہاں سے حاصل کیا؟ تاہم مولانا سیوہاروی اس مخطوطے کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں:
”اس مقدمے کا نام ”مقدمہ فی قوانین الترجمہ“ ہے۔ اور جلی قلم سے درمیانی سائز کے تقریباً 12 صفحات پر مشتمل ہے۔ نامعلوم کن وجوہ کی بنا پر یہ مقدمہ ترجمے کے ساتھ شائع نہ ہوسکا۔ اور آج تک قلمی مخطوطات میں شامل ہے۔ ․․․․․․ ہم کو یہ ”مقدمہ“ اپنے ایک محب ِصادق کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ جن کو مخطوطاتِ علمی کا بے حد ذوق ہے۔ “ (13)
          یہ محب ِصادق کون ہیں؟ اور یہ مخطوطہ کس کتب خانے میں ہے؟ اس کے بارے میں مزید معلومات ہمیں مولوی ابوالطیب عبدالرشید صاحب لاہوری کے ایک مضمون سے ملتی ہیں۔ موصوف نے ”معارف“ اعظم گڑھ کی فروری 1948ء کی اشاعت میں ایک مضمون ”کتب خانہ ٹونک کے بعض مخطوطات“ کے عنوان سے لکھا۔ اس مضمون میں انھوں نے اپنے ٹونک میں قیام کے زمانے میں لکھی گئی یادداشت کی روشنی میں کتب خانہ ٹونک کے چند مخطوطات کا تعارف کرایا ہے۔ جس میں اس رسالے کا تعارف، مخطوطے کی نوعیت اور اس کے ناقل کے بارے میں درجِ ذیل وضاحت کی ہے:
”المقدمہ فی اصول الترجمہ“ یہ رسالہ بزبانِ فارسی حکیم الامت سیدنا شیخ ولی اللہ بن عبدالرحیم دہلوی کی تصنیف ہے۔ گو یہ ۱۲، ۱۳ صفحے کا مختصر رسالہ ہے۔ مگر مضمون کی ندرت اور خصوصیات کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ترجمہ قرآن کے فن پر اپنے طرز کا یہ پہلا رسالہ ہے۔ فن ترجمہ قرآن کی جن خصوصیات کا اس رسالے میں ذکر کیا گیا ہے، ان کے اپنے ترجمہ قرآن (فتح الرّحمٰن) میں التزام رکھا ہے۔ ․․․
اکتوبر ۴۶ء (صحیح 1945ء ہے) کے ”برہان“ دہلی میں اسی ”مقدمے“ کو مختصر نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ ”برہان“ کا یہ شائع کردہ رسالہ راقم سطور کے ٹونک لائبریری کے نسخے سے نقل کیا ہوا ہے۔ اس نسخے کے طبع کرانے میں بڑی عجلت سے کام لیا گیا ہے۔ ضرورت تھی کہ اس کے دوسرے نسخوں کو تلاش کرکے ان سے تصحیح و مقابلے کے بعد شائع کیا جاتا۔ راقم سطور نے مختلف نسخوں کی مدد سے اس کی تصحیح کرلی ہے۔ اور اِن شاء اللہ تعالیٰ عن قریب اِسے شائع کیا جائے گا۔“
          انھوں نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ:
”اس رسالے کا ایک قلمی نسخہ مولانا سید نورالحق علوی استاذ اورنٹیل کالج لاہور کے یہاں بھی ہے۔ ان دونوں نسخوں میں کہیں کہیں الفاظ میں زیادتی اور کمی کا معمولی سا فرق ہے۔“ (14)
          ٹونک لائبریری کے اس مخطوطے کے آخر میں ”ترقیمہٴ کاتب“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کاتب ”محمد علی حسینی سقطی“ ہیں۔ اور انھوں نے اسے جمادی الاخریٰ 1227ھ (جون 1812ء) میں نقل کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ اپنے سن تالیف 1142ھ / 1729ء کے چھیاسی سال بعد لکھا گیا ہے۔ ترقیمہٴ کاتب اس طرح سے ہے:
          ”بحمد اللّٰہ و المِنّة کہ إیں رسالہ متبرکہ بتاریخ بست و یکم/ جمادی الثانی ۱۲۲۷ھ (جون 1812ء) بخط عاصی پُر معاصی محمد علی الحسینی السقطی بإختتام رسید۔ اللّٰہم اغفر لکاتبہ۔“ (14)
”اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان کے ساتھ (کتابت پوری ہوئی)، یہ متبرک رسالہ بتاریخ 21/ جمادی الثانی 1227ھ (جون 1812ء) میں اس گناہ گار محمد علی حسینی سقطی کے خط سے اختتام پذیر ہوا۔ اے اللہ! اس رسالے کے کاتب کے گناہوں کو معاف فرما۔“
          اس مخطوطے میں بہت سی اغلاط ہیں۔ اور غالباً کِرم خوردگی کی وجہ سے عبارات کا تسلسل بھی باقی نہیں رہا۔ لیکن چوں کہ اس کی دریافت اہل علم کے سامنے سب سے پہلے ہوئی تھی؛ اس لیے ان تمام اغلاط کے باوجود اس مخطوطے کی بڑی اہمیت رہی۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی کے ساتھ نسبت کی وجہ سے اس مخطوطے کو بہت غنیمت سمجھا گیا؛ چناں چہ اسی کو بنیاد بنا کر اس کا اردو ترجمہ حضرت مولانا سیوہاروی نے کیا۔ اور فوری طور پر اسے ”برہان“ کے ذریعے اہل علم کے سامنے پیش کردیا؛ چناں چہ مولانا سیوہاروی اس مخطوطے کے بارے میں لکھتے ہیں:
”یہ رسالہ اَغلاط سے پُر ہے؛ بلکہ بعض جگہ عبارات کا تسلسل تک مفقود ہے؛ مگر ان باتوں کے باوجود افادیت کا حامل ہے۔ اور قرآن حکیم کے ترجمے سے متعلق اصولِ قوانین کے لیے بہترین مشعل ہدایت اور باوجود اختصار کے اہم نکات و حقائق سے پُربدامان ہے؛ اس لیے اربابِ ذوقِ قرآنی کی خاطر یہی مناسب معلوم ہوا کہ بعجلت ”برہان“ کے ذریعے اس کو روشناس کرایا جائے۔ اور اصل رسالے کو کتابت کے نقائص و معائب کے باوجود منصہ شہود پر لے آیا جائے۔“ (15)
          حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسالے کے تمام مخطوطات کی نقولات جمع کی جائیں اور اصل سے مقابلہ کرکے مختصر تشریحی نوٹ لکھ کر تحقیقی انداز میں اسے مرتب اور مدوّن کیا جائے اور اسے ایک مستقل رسالے کی شکل میں شائع کرایا جائے؛ چناں چہ مولانا لکھتے ہیں:
”اس کے بعد انشاء اللہ جلد ہی دوسری نقول اور اصل کا مقابلہ کرکے مع ترجمہ اور مختصر نوٹوں کے ساتھ مستقل رسالے کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔“ (16)
          بعد کی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کو اس کا موقع نہیں ملا؛ لیکن ان کی جانب سے کی جانے والی مذکورہ بالا اشاعت سے یہ ضرور ہوا کہ اہل علم کو اس سے آگہی حاصل ہوئی۔ اور اس طرح یہ رسالہ عام لوگوں کے لیے بھی منصہ شہود پر آگیا۔
رسالے کا دوسرا مخطوطہ:
          اس رسالے کا دوسرا مخطوطہ وہ ہے، جو دارالعلوم ندوة العلما لکھنوٴ (انڈیا) کے کتب خانے کی زینت ہے۔ اور دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست (17) کی وساطت سے ہمیں اس کی نقل دستیاب ہوئی۔ اس نسخے کا عکس ہمارے سامنے ہے۔ یہ نسخہ 24*12 سینٹی میٹر سائز کے 06 صفحات پر مشتمل ہے۔ خط انتہائی صاف اور پختہ ہے۔ بعض مقامات پر عبارت اگرچہ مدھم ہے، اور صاف پڑھی نہیں جاتی۔ مخطوطے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر کرم خوردگی کے اثرات بھی ہیں۔ یہ قلمی نسخہ سید ابراہیم نصیرآبادی کے قلم سے کتابت شدہ ہے۔ اس کے آخر میں ترقیمہٴ کاتب اس طرح سے ہے:
          ”بحمد اللہ و المنّة علٰی إتمام ہٰذہ الرسالة المتبرّکة مسمّاة بِ ’المقدمة فی قوانین الترجمة“، بتاریخ سیزدہم، شہر محرم الحرام ۱۲۳۲ہجری المقدسة (دسمبر 1816ء) علٰی ید الضعیف النحیف العاصی سید ابراہیم النصیرآبادی؛ أصلح اللّٰہ حالہ و لآبائہ الکرام و أدخلہم فی فردوس الجنان۔ اللّٰہم اغفرلہم و لکاتبہ و لناظرہ بحمد اللّٰہ سبحانہ۔ (18)
”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اور اسی کا انعام ہے کہ اس متبرک رسالے، جس کا نام ”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ ہے۔ بتاریخ 13/ ماہِ محرم 1232ھ (دسمبر 1816ء) کو اس کمزور، گناہ گار بندے، جس کا نام سید ابراہیم نصیرآبادی ہے، کے ہاتھ پر تکمیل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی اور اس کے معزز آبا وٴ اجداد کی حالت کو درست کرے۔ اور انھیں جنت الفردوس میں داخل کرے۔ اے اللہ! ان کو معاف فرما اور اس رسالے کے کاتب اور اس کے پڑھنے والوں کے گناہوں کو بھی معاف فرما۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ۔“
          یہ مخطوطہ اپنے وقت ِتالیف (1142ء / 1729ء) کے تقریباً 90 سال بعد کا تحریر کیا ہوا ہے۔
          ہم نے اس رسالے کے فارسی متن کی تحقیق میں اس مخطوطے کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ اور حوالے کے طور پر اس کے لیے ”نسخہٴ نصیر آبادی“ استعمال کیا گیا ہے۔
تیسرا مخطوطہ:
          اس رسالے کا ایک تیسرا مخطوطہ بھی ہے۔ اس کا اصل نسخہ بھی دارالعلوم ندوة العلما، لکھنوٴ کے کتب خانے کی زینت ہے۔ اسے کتب خانے میں ”اصولِ تفسیر فارسی“ کے ذیل میں پہلے 1/2493 نمبر دیا گیا تھا۔ پھر 2493 کاٹ کر صرف 19 (ع) نمبر دیا گیا ہے۔ اس کا عکس بھی ہمیں اپنے انہی کرم فرما دوست کے ذریعے سے ملا ہے۔ اس مخطوطے کا عکس ہمارے سامنے ہے۔ یہ مخطوطہ 30 *15 سینٹی میٹر سائز کے 06 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مخطوطہ بھی انتہائی پختہ قلم اور بہت نفاست کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ الفاظ کی ساخت اور بناوٹ بھی خوب ہے۔ اس نسخے کے عکس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے صفحات کے اَطراف پانی کی زد میں آئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اطراف کی عبارتیں گو مدھم ہیں؛ لیکن صاف پڑھی جاتی ہیں۔ صفحات کے درمیان میں جہاں پانی نہیں پہنچا، اس کے الفاظ بہت نمایاں اور بہترین ہیں۔ افسوس کہ اس مخطوطے کے آخر میں کوئی ”ترقیمہٴ کاتب“ نہیں ہے۔ جس سے حتمی طور پر اس کے لکھنے والے کا نام اور تاریخِ تحریر معلوم نہیں ہوتی۔
          ہم نے اس رسالے کے فارسی متن کی تحقیق میں اس مخطوطے کو بھی بالاستیعاب پڑھا ہے۔ اور متن کی ترتیب و تدوین میں اس کو پیش نظر رکھا ہے۔ اور اس کے لیے ”دوسرے نسخے“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کی اب تک کی اشاعتیں:
          اس رسالے کی سب سے پہلی اشاعت تو وہی ہے، جو اکتوبر، نومبر 1945ء میں ماہ نامہ ”برہان“ دہلی کے ذریعے سے سامنے آئی تھی۔ اس اشاعت میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے نہ صرف اس رسالے کا اصل فارسی متن نقل کرکے شائع کیا تھا؛ بلکہ خود اس کا اردو ترجمہ کرکے اُسے بھی شاملِ اشاعت کیا تھا۔ اس اشاعت میں اصل مخطوطے کے نقص کے باوجود اس رسالے کے فارسی متن کی تصحیح حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے کافی محنت سے کی ہے۔ چند ایک مقامات کو چھوڑ کرباقی جگہوں پر متن کی عبارت درست ہے؛ البتہ بعض جگہوں پر کتابت کی غلطیوں کی وجہ سے عبارتیں صحیح نہیں ہیں۔ اور بعض مقامات پر نسخے کی کِرم خوردگی کی وجہ سے اصل عبارتیں چھٹی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس کے اردو ترجمے میں بھی ایسے مقامات پر نقص موجود ہے۔ اور بقول مولانا سیوہاروی: ”اس کو بغیر تحقیق کے بعجلت شائع کیا جا رہا ہے“؛ اس لیے اس اشاعت میں یہ نقائص موجودہے۔ اس اشاعت کے شروع میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروینے چار صفحات پر مشتمل ایک تعارف بھی لکھا ہے۔ جس میں ترجمہ نگاری کے بعض اہم پہلووٴں پر علمی محاکمہ انتہائی خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔
          اس کی دوسری معلوم اشاعت حال ہی میں ایک معاصر سہ ماہی ”اسلام اور عصر جدید“ دہلی کے جولائی تا اکتوبر 2010ء میں ہوئی۔ اس اشاعت میں رسالے کا اصل متن شائع کیا گیا ہے۔ لیکن اس متن کی ترتیب و تدوین کس نے کی ہے، اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ فارسی متن کی تیاری میں کس مخطوطے کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس اشاعت میں اصل متن میں بہت سی اَغلاط ہیں۔ جن سے عبارت کا اصل مفہوم بدل کر رہ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس رسالے کا ایک اردو ترجمہ محمد مشتاق تجاوری صاحب کے قلم سے ہے۔ اس ترجمے میں بھی کئی اَغلاط ہیں۔ ترجمے کے بعض مقامات ایسے ہیں، کہ جہاں پر اصل عبارت سے متصادم مفہوم سامنے آتا ہے۔ چوں کہ متن کی صحیح ترتیب و تدوین نہیں کی گئی، اس کا اثر ترجمے پر بھی لازمی طور پر آیا ہے۔ رسالے کی اس اشاعت میں جو متن اور ترجمہ شائع کیا گیا ہے، اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
          ایسے میں ضرورت تھی کہ اس رسالے کا اصل متن، د ستیاب مخطوطات کو سامنے رکھ کر تیار کیا جائے۔ اور ترجمہ نگاری کے اُسی جامع اسلوب کو سامنے رکھ کر اس رسالے کا ترجمہ کیا جائے، جس کے اصول و قوانین شاہ صاحب نے اس رسالے میں بیان کیے ہیں۔
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کی بہترین اشاعت:
          ہم نے اس رسالے کا تحقیقی متن تیار کیا ہے۔ جو سہ ماہی مجلہ ”شعور و آگہی“ لاہور، جلد نمبر03، شمارہ نمبر03، بابت ماہِ جولائی تا ستمبر 2011ء میں شائع ہوا ہے۔ اس اشاعت میں ہم نے اس رسالے کے د ستیاب مذکورہ بالا دونوں قلمی نسخوں اور دونوں اشاعتوں کو پیش نظر رکھ کر اس کا اصل فارسی متن صحیح طور پر مرتب کیا ہے۔ نیز شاہ صاحب کی عبارتوں کی درست تفہیم کے لیے ذیلی عنوانات بھی قائم کردیے ہیں، جنھیں بریکٹ کے درمیان رکھا گیا ہے۔ نیز رسالے میں بیان کردہ اصول و قوانین اور بنیادی امور و نکات پر نمبرات بھی لگا دیے گئے ہیں؛ تاکہ استفادے میں آسانی ہو۔ اس اشاعت میں نہ صرف رسالے کا اصل فارسی متن تحقیق کے ساتھ شائع ہوا ہے؛ بلکہ اس کا سلیس اردو ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس ترجمے میں ہم نے حتی المقدور ترجمہ نگاری کے اُن اصولوں کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی ہے، جو خود شاہ صاحب نے اس رسالے میں بیان فرمائے ہیں۔
”المقدمہ فی قوانین الترجمہ“ کے مضامین پر ایک نظر:
          شاہ صاحب نے ابتدائی خطبے اور دیباچے کے بعد اس رسالے کو دو فصلوں میں تقسیم کیا ہے:
          پہلی فصل میں ترجمہ نگاری کے اسالیب پر بحث کی ہے۔ اور ان کا تحلیل و تجزیہ کرکے ترجمہ نگاری کے ایک ایسے جامع اسلوبِ ترجمہ کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا ہے، جو بامحاورہ اور سلیس زبان میں کیا جائے۔ پھر اس اسلوب کی خصوصیات اور اس کے اصول و قوانین کی پوری وضاحت کی ہے۔ خاص طور پر عربی اور فارسی کے اسلوبِ بیان کے اختلافی مقامات کی نشان دہی کی ہے۔ اور ایسے مشکل مقامات میں صحیح ترجمہ کرنے کے طریقے بیان کیے ہیں۔
          اور دوسری فصل میں فارسی الفاظ و تراکیب کے استعمالات کی نشان دہی کی ہے۔اور ایسے موقعوں پر فن ترجمہ کی باریکیوں اور حقائق و دقائق بیان کیے ہیں۔ اور اس حوالے سے اصول و ضوابط کی وضاحت کی ہے۔
          ان دو فصلوں پر رسالہ مکمل ہوجاتا ہے۔ اب تک دریافت شدہ قلمی نسخوں میں دو ہی فصلوں کا تذکرہ ہے۔ بعض حضرات نے اس رسالے کے بعض مقامات پر بلاضرورت ”فصل“ کا جو عنوان قائم کیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔(19)
ترجمہ نگاری کے اسالیب کا تجزیہ:
          پہلی فصل میں شاہ صاحب نے سب سے پہلے ترجمہ کرنے والوں کے اسلوبِ نگارش پر نظر کرتے ہوئے ترجمہ نگاری کے دو اسلوب بیان کیے ہیں۔ ایک ”لفظی ترجمہ“ دوسرے ”معنی کا خلاصہ بیان کرنا“ اور پھر ان دونوں اسالیب کی خرابیوں کی نشان دہی کی ہے۔ پھر اس کے بعد ترجمے کے تیسرے اسلوبِ نگارش کا تذکرہ کیا ہے۔
لفظی ترجمے کے اسلوب کا تحلیل و تجزیہ:
          ”لفظی ترجمہ“ کی خرابیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے شاہ صاحب نے زبانوں کی ساخت اور ان کے بنیادی سانچوں کی نوعیت میں موجود اختلاف کا تحلیل و تجزیہ کیا ہے۔ اور اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ زبانوں میں طبعی اور فطری اختلاف کی موجودگی میں محض لفظی ترجمہ نہ صرف جملے کی ساخت اور اس کی ہیئت ِترکیبیہ کو خراب کر دیتا ہے؛ بلکہ جملے کے اندر لفظی اور ترکیبی پیچیدگی اور فصاحت و بلاغت کے حوالے سے کمزوری پیدا کرتا ہے۔ نیز اس صورت میں بہت کم استعمال ہونے والے غیرمعروف الفاظ مجبوراً استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ جس سے نہ صرف معنی و مفہوم کی جامعیت اور اس کی نوعیت بدل جاتی ہے؛ بلکہ زبان کا حُسن بھی ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔
”معنی کا خلاصہ بیان کرنے“ کے اسلوب کا تحلیل و تجزیہ:
          ترجمہ نگاری کے دوسرے اُسلوب یعنی ”معنی کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کرنے“ کی خرابی بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ ایک جملے میں دو یا زائد معنوں کا احتمال ہوتا ہے۔ بسا اَوقات ترجمہ کرنے والے حضرات اس جملے کے صرف ایک معنی اور مفہوم کو سامنے رکھ کر اپنے الفاظ میں اس کا ترجمہ بیان کردیتے ہیں۔ اس سے متکلم کے کلام کی جامعیت اور اس کے مفہوم کی کلی حیثیت مجروح ہوکر رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر جب کہ وہ ایک ”کلمہ جامعہ“ ہو۔ جو بلاشبہ ایک جامع جملہ ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایک جامع مفہوم رکھتا ہے۔ اور یوں وہ ایک مفہوم کلی کی حیثیت لیے ہوتا ہے۔ اور ہر کلی مفہوم کے بہت سے افراد ہوا کرتے ہیں؛ اس طرح مفہومِ کلی میں موجود افراد کی کثرت کی وجہ سے اس کے معنی میں کافی وسعت ہوتی ہے۔ چناں چہ اس کے دائرے میں تمام افراد کی شمولیت کے حوالے سے وہ ایک جامع مفہوم کا حامل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی جملے کے مفہومِ کلی کو اس کے افراد میں سے کسی ایک فرد پر محدود کردینا اور محض ایک احتمال کو لے کر ترجمہ کرنا، اس وسیع مفہوم والے جامع کلمہ کو جزوی مفہوم میں بند کردینا ہے۔ گویا ”کلی مفہوم“ کو ”جزوی مفہوم“ بنا دینا ہے۔ جو متکلم کی مراد کے برخلاف کسی طور پر درست نہیں ہے۔ نیز یہ بھی ہے کہ اگر ترجمہ کرنے والا محدود سطح کی ذہنیت رکھتا ہو، اور جملے کے ایک محتمل معنی کو بھی اپنی ذہنی سطح پر رکھ کر سوچے اور محدود الفاظ میں بیان کرے، تو جملے کے مفہوم کی محدودیت کا دائرہ مزید تنگ ہوجائے گا۔ اس طرح متکلم اس کلام سے جو وسیع اور جامع مفہوم اپنے پیش نظر رکھتا ہے، وہ ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔
کتب ِسابقہ میں تحریف کا اصل سبب ترجمے کا یہ اسلوب ہے:
          شاہ صاحب نے یہاں اس حقیقت کی نشان دہی بھی کی ہے کہ کتب ِسابقہ یعنی تورات، زبور اور انجیل میں تحریف کا بنیادی سبب بھی یہی تھا کہ ان کے کلی معنی اور مفہوم کو جب دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تو نہ صرف وہ ”جزئی مفہوم“ کی شکل اختیار کر گیا؛ بلکہ ترجمے میں اس یک طرفگی کی وجہ سے کتب ِالٰہیہ کے اصل معانی و مفاہیم اور مطالب و مقاصد ختم ہوکر رہ گئے۔ اور یوں معنی کا خلاصہ بیان کرنا سابقہ کتب ِالٰہیہ میں تحریف کا بنیادی سبب بن گیا؛ اس لیے ترجمے کا یہ اسلوب درست نہیں ہے۔
          خاص طور پر قرآن حکیم جو اپنے کلام میں جامعیت اور مفہومِ کلی پر مشتمل معنی و مفاہیم کا ایک جہاں اپنے اندر رکھتا ہے، اس کے لوازمات میں سے ہے کہ کلامِ الٰہی کے اصل نظم کو بہرحال باقی رہنا چاہیے۔ کلام کی جامعیت کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر بالفرض مترجم سے بعض مقامات میں معنی و مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو بعد میں آنے والا کوئی آدمی اس کا تدارُک کرسکتا ہے۔
          اسی تناظر میں وہ حدیث ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”رُبّ مُبَلِّغٍ اوعٰی مِنْ سَامِعٍ“ (20) (ہوسکتا ہے کہ جسے یہ پیغام پہنچایا جائے، وہ ان الفاظ کے اندر پوشیدہ معنی و مفہوم کو سمجھنے میں، سنانے والے سے زیادہ ذہین و فطین اور سمجھ دار ہو۔) اس حدیث میں جب صحابہ کرام کو محض اپنے فہم و شعور کی بنیاد پر سمجھے ہوئے معنی اور مفہوم تک محدود کردینے کے بجائے پیغام کو پورے طور پر آگے پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اور کون یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے کلام میں موجود تمام مفاہیم اور معانی کو کلی طور پر سمجھ لیا ہے۔ اور ترجمے کی صورت میں اُسے اپنے لفظوں میں بیان کردیاہے۔
          اس تناظر میں کلامِ الٰہی کے ترجمے میں خاص طور پر اس احتیاط کی ضرورت ہے کہ قرآن حکیم کے کلماتِ جامعات پر مبنی اصل جملوں کے جامع مفہوم کا ترجمہ اتنے ہی جامع اور نپے تلے الفاظ میں قلم بند کیا جائے۔ یعنی قرآنی الفاظ جامع ہیں۔ اسے جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے، اس کے بھی جامع اور نپے تلے الفاظ استعمال میں لائے جانے چاہئیں۔ نہ کم نہ زیادہ؛ اس لیے بہترین ترجمہ وہ قرار پائے گا، جو قرآن حکیم کے عربی الفاظ و تراکیب کی مقدار کے مطابق ہو۔ اور ایسے جامع الفاظ و تراکیب کے استعمال پر مبنی ہو، جو عربی کے مشابہ ہو۔
          اس سلسلے میں الفاظ کی ساخت اور جامعیت کو نظرانداز کرتے ہوئے محض انسانی عقل و فہم پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر اس لیے بھی، کہ جب محض عقل کا استعمال کرنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ مشکل مقامات کی توجیہ و تعبیر اور متشابہات کی تفسیر و تشریح وغیرہ جیسے مسائل میں بہت ہی مختلف مذاہب رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں اپنے اپنے مذاہب کی بنا پر قرآنی الفاظ کے ”معنی کا خلاصہ“ بیان کرنا درست عمل نہیں ہوگا؛ بلکہ ایسا ترجمہ مذہبی تنگ نظری کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔ یہاں شاہ صاحب نے اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ اگر تحقیق کی نظر سے دیکھا جائے تو ان تمام عقلی مذاہب کی بنیاد محض لفظی اور ترکیبی موشگافیوں پر مبنی ہے۔ ان کا اصل شریعت اور مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہر ایک کی تعبیر و تشریح کو قرآن کے ترجمے میں داخل کردیا جائے تو اصل الفاظ کا مفہوم باقی نہیں رہے گا۔ اور عقلی مذاہب کی دخل اندازی اس میں بڑھ جائے گی، جو کسی طرح درست نہیں۔
عربی زبان کی اہمیت:
          یہاں پر شاہ صاحب نے عربی زبان کی اہمیت کو بھی واضح کیا ہے۔ ہر مسلمان کے لیے عربی زبان سے واقفیت، اس کی زندگی کی علامت قرار دی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ عربی زبان سے ناآشنا ہونا ایک مسلمان پر پژمردگی اور مردنی کی سی حالت طاری کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے بحیثیت مسلمان عربی زبان سے واقفیت اور تعلق رکھنا کم از کم مسنون و مستحب تو ضرور ہے۔ تاکہ قرآن کے الفاظ میں غور و فکر اور تدبر کا راستہ کھلے۔ اور فہم و شعور کے دروازے اس پر وا ہوں۔ اس تناظر میں ”معنی کا خلاصہ بیان کرنے“ سے یہ مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔
ترجمہ نگاری کا تیسرا اسلوب اور اس کا تحلیل و تجزیہ:
          پھر شاہ صاحب نے ترجمے کے تیسرے اسلوبِ نگارش کا تذکرہ کیا ہے۔ ترجمہ کرنے والوں کی ایک جماعت نے ان دونوں مذکورہ بالا اَسالیب کو باہم جمع کردیا ہے۔ کہ وہ لوگ پہلے لفظی ترجمہ کرتے ہیں، اس کے بعد انھیں الفاظ کا مفہوم اور ان کے معنی کا خلاصہ بیان کردیتے ہیں۔ اس طرح ان ودنوں طریقوں کو محض جمع کیا جاتا ہے۔ اور یوں وہ ان کی خرابیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
          شاہ صاحب نے تیسرے اسلوب کا بھی خوب تحلیل و تجزیہ کیا ہے۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ محض لفظی ترجمے اور معنی کے خلاصے کو ایک جگہ پر جمع کردینا بھی درست طریقہ نہیں ہے۔ ترجمے کا یہ اسلوب بھی ذوقِ سلیم رکھنے والے لوگوں پر بڑا گراں گزرتا ہے۔ خاص طور پر جو پہلی دفعہ قرآن پڑھنا چاہے، اس کو اس سے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے؛ اس لیے کہ سب سے پہلے تو اُسے لفظی ترجمے کی پیچیدگیاں پریشان کرتی ہیں۔ پھر اصل جملے میں موجود کئی احتمالات میں سے کسی ایک احتمال کو بنیاد بنا کر کیا گیا معنی کا خلاصہ اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیتا ہے۔ وہ اس لیے کہ عام طور پر ان دونوں میں باہم مطابقت نہیں ہوتی۔ اس سے مبتدی آدمی اُلجھاوٴ کا شکار ہوجاتا ہے۔
          اور جس نے علوم پر عبور حاصل کیا ہوا ہو، اس کے لیے بھی ایسا ترجمہ کسی کام نہیں آتا۔ اس لیے کہ ایک طرف وہ اصل متن کے عربی الفاظ کی نشست و برخواست اور اس کی ترکیبی ساخت کو سمجھتا ہے۔ اور پھر اس کے کلی معانی اور مفاہیم کی وسعت کو بھی جانتا ہے۔ ایسی صورت میں اِسے دونوں طرح کے ناقص ترجموں کی خرابیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے ترجمے کا یہ اسلوب، اس کے لیے قطعاً غیرضروری ہوتا ہے۔
          شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ ترجمہ نگاری کے اس اسلوب سے ترجمے میں بلاوجہ کی طوالت ہوجاتی ہے۔ نیز اس طرح گفتگو کا بہاوٴ اور تسلسل بھی برقرار نہیں رہتا۔
          شاہ صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اسلوب کا اگر صحیح تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ترجمے کا یہ اسلوب اور طریقہ ترجمہ نگار کے ذہنی عجز اور اس کی شعوری پستی پر دلالت کرتا ہے؛ کیوں کہ ایسا مترجم دونوں زبانوں کے طرزِ کلام اور اسلوبِ بیان سے ناآشنا ہوتا ہے۔
          اس رسالے میں شاہ صاحب نے ترجمہ نگاری کے ان تینوں اسالیب کے تنقیدی جائزے میں صرف اصولی بحث کی ہے۔ اور ترجمہ نگاری کے ان تینوں طریقوں کی بنیادی خرابیوں کی نشان دہی کی ہے۔ فتح الرحمن کے مقدمے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ نگاری کے ان تینوں اسالیب میں مزید کوتاہیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر شاہ صاحب کے زمانے تک کیے گئے تراجم میں یہ کوتاہیاں بڑی نمایاں تھیں۔ یہ کوتاہیاں درجِ ذیل ہیں:
(الف)   ان تینوں اسالیب میں سلیس زبان استعمال نہیں کی گئی۔
(ب)              روزمرہ کے محاورات کے مطابق تراجم نہیں کیے گئے۔
(ج)               ان تراجم میں علمی نمود و نمائش کے بے جا تکلّفات تھے۔
(د)                عبارت آرائی کا تصنّع اور بناوٹ بہت تھی۔
(ھ)              بلاوجہ طول طویل قصے کہانیاں بیان کیے گئے تھے۔
(و)               سطحی قسم کی عقلی تعبیرات اور جزوی توجیہات کا استعمال بہت زیادہ تھا۔
          اس طرح ترجمہ نگاری کے ان تینوں اسالیب میں نہ صرف اصولی خرابیاں پائی جاتی تھیں، بلکہ یہ تینوں اسالیب عام فہم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند نہیں تھے۔
ترجمہ نگاری کا جامع اسلوب ؛ بامحاورہ اور سلیس ترجمہ:
          اس تناظر میں شاہ صاحب کے دل میں شدت سے یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ ترجمہ نگاری کا ایک ایسا بہترین اور جامع اسلوبِ ترجمہ تخلیق کریں کہ جس میں مذکورہ بالا اسالیب کی خرابیاں نہ ہوں۔ اور اس کا معیار اتنا بلند ہو کہ وہ ہر طرح کی ”میزان“ پر پورا اُترے۔ چناں چہ شاہ صاحب نے علمی کتابوں، خاص طور پر قرآن حکیم کے ترجمے کے لیے جو اعلیٰ معیار قائم کیا ہے، اُس کی حقیقت شاہ صاحب نے ”فتح الرحمٰن“ کے مقدمے میں بیان کی ہے:
”قرآن کا ترجمہ ایسا ہونا چاہیے، جس میں سلیس زبان استعمال کی جائے۔ اور وہ روزمرہ استعمال ہونے والے محاورات کے مطابق ہو۔ یہ ترجمہ ہر طرح کی عبارت آرائی کے تصنّع اور فضیلت نمائی کے تکلف سے قطعاً پاک ہو۔ اُس میں محض طول طویل قصے کہانیاں نہ بیان کی جائیں۔ اور سطحی قسم کی عقلی تعبیرات اور جزوی توجیہات کو بھی بیان نہ کیا جائے۔“ (21)
          شاہ صاحب کے نزدیک اگر ترجمہ نگاری کے اس معیار کو برقرار نہ رکھا جائے تو ترجمے کی اصل روح ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے شاہ صاحب نے جب ایک دفعہ اپنے زمانے کے تراجم کو درست کرنے کا ارادہ کیا تو انھیں محسوس ہوا کہ ان میں کوئی ترجمہ بھی اس معیار پر پورا نہیں اُتر رہا۔ اسی لیے شاہ صاحب نے ترجمہ نگاری کے اس معیار کو سامنے رکھ کر قرآن حکیم کا بامحاورہ اور سلیس فارسی میں ترجمہ کیا۔
          اس طرح شاہ صاحب نے اس رسالے میں ترجمے کے ان تین اسالیب کے بیان اور ان کی خرابیوں کی نشان دہی کرنے کے بعد اپنے اچھوتے، منفرد اور جامع اُسلوبِ ترجمہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اس کی اس خصوصیت کی نشان دہی کی ہے کہ وہ ان تینوں اسالیبِ ترجمہ کا جامع اور ان کی خرابیوں سے پاک ہے۔ اس اسلوب کے ذیل میں دونوں زبانوں کے اختلافی مقامات کی نشان دہی اور مشکل مقامات کے حل کے طریقے بیان کیے ہیں۔ مجموعی طور پر اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ اصل نظم قرآن کو پیش نظر رکھ کر اس کے مفہومِ کلی کو بڑے جامع انداز میں سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کی صورت میں بیان کردیا جائے۔ اس حوالے سے عربی زبان کے الفاظ کے طریقہ ہائے استعمال اور ان کی جگہ فارسی میں منتخب کیے گئے الفاظ کے اصول و قوانین بیان کیے ہیں۔       (جاری)
***
حوالہ جات وحواشی:
1۔          الفوز الکبیر فارسی / عربی۔ ص:163 تا165۔ طبع: فرید بک ڈپو، دہلی۔                    2۔          ایضاً، ص:164۔
3۔          مقدمہ فتح الرّحمٰن۔ از امام شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ص:د،ھ۔ مطبوعہ: تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور۔
4۔         مقدمہ فتح الرّحمٰن بترجمة القرآن۔ از امام شاہ ولی اللہ دہلوی۔ مطبوعہ تاج کمپنی، لاہور۔
5۔         رسالہ دانش مندی۔ تصنیف: امام شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ص:182۔ مطبوعہ بمع تکمیل الاذہان از مدرسہ نصرة العلوم، گوجرانوالہ۔
6۔         المقالة الوضیة فی النصیحة و الوصیة، تالیف: امام شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ص:43۔ مطبوعہ: شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حیدرآباد۔       7۔          مقدمہ فتح الرّحمٰن۔ ص:د،ھ۔ مطبوعہ: تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور۔
8۔         تکمیل الاذہان۔ تالیف: حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی۔ قلمی، ورق نمبر: 26 و مطبوعہ ص نمبر94۔ طبع: گوجرانوالہ۔
9۔          شاہ ولی اللہ کی قرآنی فکر کا مطالعہ، از مولانا محمد سعود عالم قاسمی۔ ص:97۔ مطبوعہ: محمود اکیڈمی، لاہور۔
10۔        القول الجلی فی مناقب الولی، تصنیف: مولانا محمدعاشق پھلتی ۔ ص: 38، 48۔ مطبوعہ: شاہ ابوالخیر اکیڈمی، دہلی۔
11۔        مقدمہ فتح الرّحمٰن، از امام شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ص:الف و ب۔ مطبوعہ: تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور۔
12۔        مضمون: ”حضرت شاہ ولی اللہ اور مقدمہ ترجمة القرآن“۔ از مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی۔ شائع شدہ: ماہنامہ ”برہان“ دہلی۔ ص:235۔ شمارہ: اکتوبر 1945ء)          13۔        ایضاً۔
14۔        مضمون: ”کتب خانہ ٹونک کے بعض مخطوطات“۔ از مولوی ابوالطیب عبدالرشید لاہور۔ ص:136۔ معارف، ج:61۔ شمارہ نمبر:02۔ فروری 1948ء۔ اعظم گڑھ۔      15۔        ایضاً۔ ص:300۔             16۔        ایضاً۔        17۔       ایضاً۔
18۔        اس مخطوطے کا یہ نسخہ ہمیں اپنے محترم ترین دوست ماسٹر عبدالوحید ملک کی وساطت سے حاصل ہوا۔ ماسٹر صاحب موصوف جامع مسجد دہلی کے قریب مدرسہ تعلیم القرآن کے ہیڈ مدرّس تھے۔ اور رائے پور کے قریب ایک گاوٴں کے رہنے والے تھے۔ ان کا بیعت کا تعلق حضرت اقدس شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہ سے تھا۔ اور پھر حضرت کے وِصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ سے عمر بھر تعلق رکھا۔ اسی سلسلے میں وہ ہر سال دہلی سے لاہور حضرت کی خدمت میں تشریف لایا کرتے تھے۔ ان مخطوطات کے حصول کے لیے ہم نے ان سے رابطہ کیا۔ وہ خود لکھنوٴ تشریف لے گئے اور دارالعلوم ندوة العلما کے کتب خانے سے ان کے بہترین عکس حاصل کرکے پاکستان کے سفر کے موقع پر اپنے ہمراہ لائے۔ افسوس کہ اس اشاعت کے موقع پر وہ دنیا میں نہیں ہیں۔ اور 18/ فروری 2009ء کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
19۔        مخطوطہ مکتوبہ سید ابراہیم نصیر آبادی۔ ورق نمبر:06۔ عکس نسخہ محفوظ کتب خانہ دارالعلوم ندوة العلما، لکھنوٴ، انڈیا۔
20۔        اس رسالے کا فارسی متن حال ہی میں ایک معاصر میں طبع ہوا ہے۔ جس میں پہلی فصل کے ذیل میں موجود مضامین پر دو فصلوں کے عنوانات کا اضافہ ہے۔ (دیکھیے! مقدمہ در قوانین ترجمہ (فارسی متن)۔ مطبوعہ: سہ ماہی ”اسلام اور عصر جدید“ (جولائی اکتوبر 2010ء) کا خصوصی شمارہ: ”شاہ ولی اللہ ؛ افکار و آثار“۔ ج:42۔ شمارہ نمبر:3،4۔ ص:311 تا 319۔ ذاکر حسین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ نگر، نئی دہلی، انڈیا)
            اس اشاعت میں ”فصل“ کے عنوان سے جو اضافہ کیا گیا ہے، اس رسالے کے مضامین کے سیاق و سباق کے اعتبار سے قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف رسالے کی ہیئت ِترکیبیہ اور ساخت سے میل نہیں کھاتا، بلکہ ہمارے سامنے موجود اس رسالے کے دو قلمی مخطوطات میں بھی یہ اضافہ نہیں ہے۔ (آزاد)
21۔        أخرجہ البخاری عن أبی بکرة۔ باب الخطبة أیام المنٰی،صحیح بخاری۔ حدیث نمبر: 1741۔ ص:348۔ طبع: بیروت۔  

Tatariyon mein Ishaate Islam تاتاریوں میں اشاعت اسلام


فکری یلغار : ماہیت اور اثرات Fikri Yalghar mahiyat aur asraat


courtesy: Munsif Hyderabad

GHAIR JANIBDARAN MUTALEYE KI ZAROORAT غیر جانبدارانہ مطالعے کی ضرورت

منصف حیدرآباد  بہ شکرئیہ

Thursday, 8 November 2012

AURAT KI AZMAT KO TARAZU MEIN NA TOL

عورت کی عظمت کو ترازو میں نہ تول


…..افشاں مراد

کائنات کے حسین رنگوں، کومل جذبوں، مہکتے احساسات کی صلیب کاندھے پر اٹھائے رب ذوالجلال کی ایک ایسی تخلیق جوہر روپ اور ہر رشتے میں اپنا آپ منوالیتی ہے وہ ایک عورت ہی ہے۔
ان نازک جذبات واحساسات کے ساتھ ساتھ آج کی عورت آہنی اعصاب بھی رکھتی ہے۔ آج بدلتے زمانے کے تغیّرات نے ہر کس وناکس کو حیران اور متحیّر کردیا ہے۔ ایسے میں زندگی کے نظم ونسق کو اس کی ترتیب سے چلانا، ایک عورت ہی کے بس کی بات ہے۔ عورت اپنے آہنی اعصاب کے ساتھ (ایک عورت کو ہم آہنی اعصاب کا فائد ہی کہیں گے کیونکہ اپنی پوری زندگی میں عورت اپنے ساتھ جتنے رویے، جتنے رشتے اور جتنے حالات و واقعات سے کامیابی سے گزرتی ہے وہ کم از کم مردوں کے بس کی بات تو نہیں) اپنے گھر بار کو جس طرح سنبھالتی ہے اور اگر وہ ایک ملازمت پیشہ عورت بھی ہے تو پھر تو وہ دوہرے امتحان سے گزر رہی ہوتی ہے۔ جس میں اسے گھر کے ساتھ ساتھ باہر والوں کو بھی برداشت کرنا ہوتا ہے۔
گھر میں اگر وہ اپنے علیحدہ گھر، اپنی راج دھانی کی بلاشرکت غیرے مالک ہے تو پھر بھی اس کی آزمائش میں اتنا تنوع نہیں ہوتا جتنا مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہنے والی خواتین کو گزرنا ہوتا ہے۔ ان سب رشتوں میں توازن رکھنا بڑے ہی دل گردے کا کام ہے اور پھر ان کے اپنے ساتھ لے کر چلنا بھی ایک فن ہے۔ جو خواتین اپنے حالات ، اپنے رشتوں، اپنے رویوں میں توازن رکھ کر آگے بڑھتی رہتی ہیں وہ کامیابی سے اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن جو ہمت ہار بیٹھی ہیں۔ وہ خودکشی، طلاق، خلع یا پاگل پن کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ کیونکہ آج مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی نے جہاں مردوں کو متاثر کیا ہے وہیں گھر بیٹھی عورت یا ملازمت پیشہ خواتین بھی اس کے اثر سے بچ نہیں سکیں۔ ان خوفناک عفریتوں سے متاثرہ مرد اپنی ساری جھنجلاہٹ، بیزاری باہر ملی ہوئی توہین اور غصہ، گھر آکر بیوی، بہن، ماں یا بیٹی پر انڈیل دیتا ہے۔ کتنے ہی گھرانوں میں ایسا ہوتا ہے کہ وہاں رہنے والی خواتین گھر والوں کے ناروا سلوک کی بناء پر نفسیاتی عوارض کاشکار ہوجاتی ہیں۔ بے خوابی تو آج کل ویسے ہی عام مرض ہے، بلڈ پریشر، ڈپریشن اور فرسٹریشن یہ سب بھی ان خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے جو بے چاری اپنے مردوں کی ساری ٹینشن اپنے اوپر طاری کرلیتی ہیں۔ ایسی خواتین اپنے گھر کو جنت بنانے کی خاطر ہر دکھ، ہر غم ہنس کر جھیلنے کی خواہش میں خود ادھ موئی جاتی ہیں اور جواب میں بعض اوقات انہیں دو جملے ستائش بھی سننے کو نہیں ملتی۔
آج عورت نے اپنا آپ زندگی کے ہر شعبے میں منوایا ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی شعبہ ہو، آج عورت کی کامیابیاں ان مردوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو عورت کو ناقص العقل کہتے ہیں۔ ان مردوں کے لیے باعث حیرت ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ عورت پیر کی جوتی ہے۔ آج وہی مرد اس پیر کی جوتی کو سر کا تاج بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کا آدھا معاشی بوجھ بانٹ لیتی ہے۔ آج کی عورت ایک ماں ، بہن، بیٹی، بیوی کے ساتھ ساتھ ایک بیوٹیشن، ایک اچھی استاد، ایک اچھی ایڈمنسٹریٹر، ایک اچھی وکیل، ایک اچھی اینکرپرسن وغیرہ بھی ہے۔ اس کی قابلیت میں کسی شک وشعبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آج اگر عورت کے مقام اور عورت کی عظمت پر مردوں سے کوئی بات کی جائے تو ان کے پاس الفاظ ختم ہوجاتے ہیں۔ انہیں یاد رہتا ہے تو اپنا ’’قوّام‘‘ ہونا۔ باقی عورت کی عزت وتکریم اور اسلام میں عورت کے احترام اور مقام پر کیا قرآن وحدیث میں آیا ہے۔ اس بارے میں ہمارے مردوں کو کوئی علم نہیں۔ اور نہ وہ جاننا چاہتے ہیں اور غالباً معاشرے میں بگاڑ کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہے۔ یہ لاعلمی ہمارے گھروں کومنتشر کررہی ہے۔ نہ مرد عورت کو عزت واحترام کے لائق سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے گھر والے، اور یہی ذلت عورت کو تباہ وبرباد کردیتی ہے اور ایسے لاعلم مرد جب گھر سے باہر جاتے ہیں تو بھی عورت کو اپنے سے کمتر کی حیثیت سے ہی ڈیل کرتے ہیں جس کی وجہ سے دفتروں کا ماحول بھی کشیدہ ہوجاتا ہے۔
اور ایسے مردوں کے سرپر اگر عورت باس بن جائے تو پھر…؟ ہم اور آپ ایسے لوگوں کی ذہنی کیفیت کو خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ پھر دفتری کاموں میں بھی رکاوٹیں ڈالنا اور رخنہ ڈالنا اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں اور دفتر کا غصہ اور فرسٹریشن گھر آکر بیچاری بیوی پر نکالتے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ آج اگر عورت اپنا گھر بنانے میں اپنا تن، من، دھن وار رہی ہے تو اس کی قدر کریں اور اس کوا پنی محبت سے جیتنے کی کوشش کریں نہ کہ اس کو قربانیاں دیتا دیکھ کر اس کو اور رگڑ ڈالیں۔ عورت کا ضمیر محبت سے گندھا ہے، اسے محبت ہی تسخیر کرتی ہے، ظلم، زیادتی، جبر، تشدد، عورت کو توڑ ضرور دیتا ہے اسے جھکا نہیں سکتا اور پھر اسے جب موقع ملتا ہے وہ ایسی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن محض محبت کے چند لمحے یا محبت سے کی گئی چھوٹی سی ستائش پر یہ پگلی اپنا آپ لٹانے پر تیار ہوجاتی ہے۔ گھر میں یا گھر سے باہر عورت کو دی گئی تھوڑی سی عزت، گھر اور معاشرے دونوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔
یہ عورت ہی ہے جو ماں بن کر اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہے، یہ عورت ہی ہے جو بیٹی بن کر خاندان کی عزت کا بوجھ اپنے نازک کندھے پر سہارتی ہے، یہ عورت ہی ہے جو بہن بن کر اپنے بھائیوں کے لیے مجسم دعا بن جاتی ہے، یہ عورت ہی ہے جو بیوی بن کر اپنے سائبان ، اپنے سرتاج، اپنے شوہر کی بہترین رفیق کار بن جاتی ہے۔ اس کی ہر مشکل، ہر پریشانی میں اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوتی ہے۔
اس لیے عورت کو اس کے اصل روپ میں دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پیار، محبت اور عزت کے ہتھیار سے تسخیر کرنے کی کوشش کی جائے، محض، ذلت، رسوائی اور غلامی کا طوق اسے باغی کردیتا ہے اور عورت کی بغاوت معاشرے میں ایسا بگاڑ پیدا کرتی ہے جس کا خمیازہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔

EK TAJWEEZ AUR USKE PAS PARDA SOCH

ایک تجویز اور اس کے پس پردہ سوچ


محمد صبغت اللہ ندوی

گزشتہ دنوں ہر یانہ میں جاٹ برادری کی ایک کھاپ پنچایت ہوئی تھی، اس میں دیگر باتوں کے سوا ایک اہم مسئلہ یہ اٹھایا گیا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی، بے راہ روی اور گھر سے فرار ہوکر شادی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سرکاری طور پر ملک میں شادی کی عمر سولہ برس کردی جائے۔ آل انڈیا جاٹ مہاسبھا کے ریاستی صدر اوم پرکاش مان کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ایسا ہی ہوتا تھا، وہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ شادی کی عمر کم کرکے سولہ برس کردی جائے جوفی الحال قانونی طور پر لڑکیوں کے لیے اٹھارہ برس اور لڑکوں کے لیے ۲۱ برس مقرر ہے۔ ایک کھاپ پنچایت نے جہاں مذکورہ تجویز پیش کی ہے، دوسری کھاپ پنچایتوں نے اسے مسترد کردیا ہے۔ ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ بھی اس تجویز کے حق میں ہیں اور اس سلسلے میں ریاست کے گورنر جگناتھ پہاڑیا کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا ہے۔
یوں تو کھاپ پنچایتیں اپنے عجیب وغریب فیصلے کے لیے ہمیشہ سے بدنام رہی ہیں اور ان پر اکثر تنازعات کھڑے کیے جاتے رہے ہیں۔ ملک کا آزاد خیال میڈیا تو پہلی فرصت میں کھاپ پنچایتوں کے فیصلوں کی مخالف کرتا ہے اور اکثر وبیشتر وہ ان فیصلوں کے لیے طالبانی یا تغلقی فرمان جیسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ کوئی بھی ان فیصلوں کے پس منظر یا ان کے پیچھے سوچ پر ٹھنڈے دماغ سے غور نہیں کرتا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کھاپ پنچایتوں کے فیصلے صحیح ہوتے ہیں اور بلاوجہ ان کی مخالفت اور ان پر تنقیدکی جاتی ہے۔ ان کا فیصلہ غلط ہوسکتا ہے، ان کا اندازہ بھی غلط ہوسکتا ہے، لیکن ان کی سوچ غلط نہیں ہوسکتی اور وہ سوچ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ وہ سماجی برائیوں کی اصلاح چاہتی ہیں، لیکن اصلاح کا طریقہ اور انداز یا تو خطرناک یا مضحکہ خیز ہوتا ہے، تاہم سوچ مثبت ہوتی ہے۔ اس طرح کے فیصلوں کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سماج میں جو بُرائیاں پنپ رہی ہیں یا پھیل رہی ہیں، جن سے معاشرہ خراب ہورہا ہے، ان کی عزت پر بھی آنچ آرہی ہے۔ چونکہ کھاپ پنچایتوں کے فیصلوں کی مخالفت کرنے والے عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا امر واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن اگر وہی واقعہ ان کے ساتھ پیش آئے اور وہ اپنے آپ کو کھاپ پنچایتیں کرنے والوں کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں اور پھر اپنے ضمیر سے پوچھیں تو شاید ان کی رائے بھی وہی ہوگی جو کھاپ پنچایتیں کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ کوئی بھی اس پہلو سے نہیں سوچتا، اس لیے صرف کھاپ پنچایتیں ہی بدنام ہورہی ہیں۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کس طرح ہو، یہ بات تو سب ہی مانتے ہیں کہ ملک میں سماجی بُرائیوں کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے۔ شادی کے بغیر ساتھ رہنا، ہم جنسی کی شادی، کرائے کی کوکھ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ذریعے خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس ہریانہ میں جاٹ برادری کی طرف سے شادی کی عمر کم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، وہاں پچھلے ماہ خواتین کے ساتھ زیادتی کے ۱۳ واقعات پیش آئے۔ ۹ اکتوبر کے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں اس معاملے پر کافی ہنگامہ ہورہا ہے۔ آخر حکومت غیر اخلاقی حرکات کو کب تک قانونی مدد فراہم کرتی رہے گی۔ ایسی حرکتوں کی حوصلہ افزائی یا قانون سازی کے ذریعے تحفظ فراہم کرکے سماجی بُرائیوں کے مسائل کو کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ اور بڑھیں گے اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں۔ مغربی تہذیب کی نقل ہندوستان میں وہ تباہی مچارہی ہے جس کے بارے میں ہم ایک دو دہائی قبل تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ انسان اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہا۔ بچہ بالغ ہونے کے بعد ازروئے قانون سارے فیصلے خود کرنے لگتا ہے، جن ماں باپ نے اس کی پرورش کرکے اسے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اہل بنایا، اب ان کے فیصلوں میں ماں باپ کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ زور زبردستی کرنے پر دوہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو والدین اپنے پیروں پر کھڑے ہیں تو وہ نافرمانی کرنے والے اپنے لخت جگر کو گھر سے نکال دیتے ہیں اور جائیداد سے بے دخل کردیتے ہیں اور اگر والدین اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہیں وہ یا تو اپنے بچوں کی من مانی برداشت کرتے رہتے ہیں یا ناراضی مول لینے کی صورت میں اپنی بقیہ زندگی گزارنے کے لیے بوڑھوں کے آشرم میں پہنچ جاتے ہیں، یہ صورت حال صرف سماجی بُرائیوں کی دین ہوتی ہے۔
ہر یانہ کی کھاپ پنچایت نے شادی کی عمر کے سلسلے میں جو تجویز پیش کی ہے، وہ ملک کے لیے نئی نہیں ہے، پہلے بھی کسی نہ کسی پس منظر میں یہ مسئلہ اٹھایا جاتا رہا ہے اور اس پر بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے بھی کئی فیصلے ایسے آئے ہیں جن میں قانونی طور پر مقرر شادی کی عمر کو یا تو کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے یا کم عمری کی شادی کے جواز کے لیے کسی نہ کسی بہانے کوئی گنجائش نکال لی گئی ہے۔ ایسا ہی ایک فیصلہ گزشتہ دنوں آیا تھا جب عدالت نے اٹھارہ برس سے کم ایک مسلم لڑکی کی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ شادی کو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا گیا تھا کہ مسلم پرسنل لا میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اسلامی شادی تھی ہی نہیں، پھر اس پر شرعی قوانین کا اطلاق کیسے ہوگا؟ بہرحال ہریانہ کی جاٹ برادری کی کھاپ پنچایت یا آل انڈیا جاٹ مہا سبھا کے ریاستی صدر اوم پرکاش مان نے شادی کی عمر کم کرنے کی جو ضرورت محسوس کی ہے اور اس کی تجویز پیش کی ہے، دیر سے ہی سہی اس پہلو سے لوگ سوچنے لگے ہیں، اگر ایسے لوگوں کے سامنے اسلام کی ابدی تعلیمات اور ہردور کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ شرعی قوانین کو پیش کیا تو اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے اور اس کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے میں کافی مدد ملے گی۔ اسلام ہی سے متاثر ہوکر بیوائوں سے شادی، ضرورت کے تحت دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کا رواج بڑھا اور اب شرعی قوانین کی منشا کے مطابق شادی کی عمر کم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بلوغ کے بعد وقت پر شادی نہ کرنا ہی ساری سماجی بُرائیوں کی جڑ ہے۔ ابھی شریعت کے مطابق شادی کی بات ہورہی ہے، ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر اسلامی حجاب اور پردے کی باتیں ہونے لگیں جو خواتین کو تحفظ بھی فراہم کرتا اور بہت ساری بُرائیوں سے روکتا بھی ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے آڈوانی نے خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے عصمت دری کی سزا موت تجویز کی تھی، جب کہ اسلام میں پہلے ہی سے یہ سزاسنگسار کی صورت میں موجود ہے۔ ایسے حالات میں جب لوگ مذہبی تعصب یا قانون کی چہارم دیواریوں سے نکل کر سوچنے لگے ہیں اور مسائل کی سنگینی کو محسوس کر کے اس کی جڑ میں جانے لگے ہیں تو اسلام کی سچی اور ہر دور کے مطابق تعلیمات کو ان تک پہنچانا وقت کا تقاضا اور مسلمانوں کی ذمے داری ہے۔ مثبت سوچ کو آگے بڑھانے میں مدد سے ہمیں برادران وطن کو بھی سمجھانے میں آسانی ہوگی اور انہیں بھی شریعت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

IQBAL AUR DAURE IBLISIYAT اقبال اور دورِ ابلیسیت

اقبال اور دورِ ابلیسیت


اس دور ابلیسیت کے مظاہر میں سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ابلیس نے پورے کرئہ ارض پر فرعونیت کو ایک نظام کی صورت میں غالب کردیا ہے۔ پہلے ابلیس عام طور پر افراد کو شکار کیا کرتا تھا ، لیکن اب چونکہ اجتماعیت کا دور ہے لہٰذا اجتماعی اعتبار سے ابلیس نے یہ غلبہ ’نیو ورلڈ آرڈر ‘ کی صورت میں حاصل کرلیا ہے جس کا نعرہ آج امریکا نے لگایا ہے جو ’سول سپریم پاور آن ارتھ ‘‘ ہے ۔اصل کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو یہ نیو ورلڈ آرڈر، جیو ورلڈ آرڈر ہے۔ لیکن درحقیقت یہ سب سے بڑا ابلیسی نعرہ ہے ۔اللہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت ہے ۔نیوورلڈ آرڈر دراصل فرعونیت اور قارونیت کا مجموعہ ہے ۔یہ بدترین استحصالی نظام ہے۔ ایسے نظام میں ایک عام انسان کا اللہ کی توحید اور اللہ کی بندگی پر قائم رہ جانا انتہائی مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ اسی کا نام دجالیت ہے۔احادیث کی رو سے دجالی فتنے کے دور میں کسی شخص کا ایمان پر قائم رہنا اتنا ہی مشکل ہوگا جتنا اپنی ہتھیلی پر انگارے رکھ کر اسے برداشت کرنا ۔ دوسرا کام جو ابلیس نے اس دور میں کیا ہے اور جس سے اس کی بالادستی ثابت ہوئی ہے ، وہ انسان کو شرف انسانیت سے محروم کرنا ہے۔ ان کے لیے اس دو طریقے اختیار کیے ہیں۔ایک سود، دوسرا مادر پدر آزادی۔سود کی حقیقت کو بھی اقبال نے خوب سمجھا ہے ۔فرماتے ہیں    ؎از ربوٰاجان تیرہ دل چوںخشت و سنگ   آدمی درندہ بے دندان و چنگ۔ یعنی سودخوری کے نتیجے میں انسان کا باطن تاریک اور اس کا دل اینٹ اور پتھر کی طرح سخت ہوجاتا ہے اور سودخور شخص ایک ایسے درندے کی مانند ہے جس کے دانت اور پنجے نہ ہو۔ سود کے ذریعے سے معیشت میں تقسیم دولت کا نظام ایسی غلط بنیادوں پر استوار ہوتا ہے کہ جس کے نتیجے میں ایک طرف دولت کا ارتکاز جبکہ دوسری طرف محرومی جنم لیتی ہے۔اس کا سب سے بڑا مظہر آج ہمارا اپنا معاشرہ ہے کہ جس کا ایک بڑا حصہ نہایت تیزی کے ساتھ غربت کی لکیر سے نیچے جارہا ہے۔پاکستان میں رفتہ رفتہ مڈل کلاس ختم ہورہی ہے۔ ایک طرف محرومی بڑھ رہی ہے ، دوسری طرف ارتکاز دولت بڑھ رہا ہے۔ فقر کی ایک انتہا انسان کو کفر تک پہنچادیتی ہے جبکہ ارتکاز دولت کی صورت میں انسان کی حیوانیت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اشرف المخلوقات کی صفات سے عاری ہوکر درندے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ابلیس نے انسان کو اس کے مقام سے گرانے کے لیے جو دوسرا طریقہ اختیار کیا ہے ، وہ آزادی کے نام پر فحاشی اور عریانی کا فروغ ہے۔وہ اپنے اصل کام یعنی انسان کے جسم سے لباس اتروانے اور اسے شرم و حیا کے پاکیزہ جذبات سے محروم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج انسان اخلاقیات اور معاشرتی اقدار میں بالکل حیوان کی سطح پر آچکا ہے۔ چنانچہ اس طرح ابلیس نے آدمی کو اعلیٰ اور ارفع مقام سے گراکر اپنی فوقیت کو ثابت کیا ہے۔ ایک اور حقیقت جسے اقبال نے نوٹ کیا تھا وہ یہ کہ اس وقت ابلیس کے سب سے بڑے ایجنٹ اور آلۂ کار یہود ہیں جنہوں نے نہایت شاطرانہ انداز میں بینکنگ کے نظام کے ذریعے پورے یورپ کو اپنے معاشی چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ فرماتے ہیں    ایں بنوک ،ایں فکر چالاک یہود   نور حق از سینۂ آدم ربود
چنانچہ پچھلی صدی کے اوائل ہی میں انہوں نے اس حقیقت کو بے نقاب کردیا تھا
؎   فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے
اور وہ چیز بالکل عیاں ہوکر سامنے آگئی ہے۔اس وقت تو ومشاہدے پر مبنی ایک خیا ل تھا ، لیکن وہ خیال اب واقعتا کھل کرایک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ یہود اور ابلیس میں جو چیز قدرمشترک ہے ، اس کو اگر پہچان لیا جائے تو دور ابلیسیت کی اصلیت سمجھ میں آجائے گی۔ابلیس کا اصل مسئلہ کیا تھا؟ جب اسے حضرت آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیاتو اس نے کہا ’’میں اس سے بہتر ہوں ، تونے مجھے آگ سے پیدا کیا جبکہ اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘لہٰذامیں برتر ہوں اور اس کو سجدہ نہیں کرسکتا ۔اس تکبر کی بنا پر پر وہ اپنے مقام سے گرا اور مردود اور ملعون قرار پایا۔ اس کے سینے میں آدم ؑ کے خلاف حسد کی آگ بھڑک اٹھی تھی ۔تبھی اس نے کہا کہ میں انسانوں کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔جہنم میں خود تو جائوں گا ہی، اس کو انسانوں سے بھروں گا۔ یہ اس کا چیلنج تھا کہ انہیں بھی
ساتھ لے کر جائوں گا کہ جن کی وجہ سے میں اس مقام سے محروم کردیا گیا ہوں    ؎   قصۂ آدم کو رنگیں کرگیا کس کا لہو۔ ’’جبرئیل و ابلیس‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مکالمے کے انداز میں اقبال نے بڑی خوبصورتی سے اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ ابلیس کے نزدیک جنت سے اسے نکالے جانے کا ذمہ دار آدم ہے لہٰذا اس کے خلاف ایک حسد اور جو ش انتقام ابلیس کے دل میں موجود ہے۔ بعینہٖ یہی مسئلہ یہود کا بھی ہے۔ آنحضور ﷺ کی بعثت کے بعد وہ بھی اسی قسم کی آزمائش سے دوچار ہوئے جس سے شیطان یا عزازیل حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کے حکم پر ہوا تھا۔ یہود نے آنحضرت ﷺ کو اچھی طرح پہچاننے اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہی وہ آخری نبی ہیں جن کے بارے میں پیشنگوئیاں ان کی الہامی کتابوں میں موجود ہیں، آنحضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا مسئلہ بھی عصبیت ، تکبر اور نسلی برتری کا تھا۔ بنی اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ دو ہزار سال کے دوران تمام انبیا ء و رسل ہمارے قبیلے اور اور ہماری نسل سے مبعوث ہوئے ،تمام آسمانی کتابوں کا نزول ہمارے ہاں ہوا تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آخری نبی کو مان کر بنو اسماعیل کی برتری کو تسلیم کرلیں۔ چنانچہ ان کا تکبر سد راہ بنا۔ پھر جب وہ ملعون قرار دیے گئے ، مغضوب علیہم قرار پائے اور بنو اسماعیل اس عظیم منصب پر فائز کردیے گئے جو اس سے قبل یہود کو حاصل تھا توحسد کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک اٹھی۔مسلمانوں کے خلاف یہ آگ آج بھی دہک رہی ہے۔ چنانچہ جو آخری معرکہ ہے وہ اقبال کے نزدیک بھی اصل میں اسلام اور ابلیسیت کے مابین ہو گا۔ اس وقت پورے روئے ارضی پر ابلیس کے سب سے بڑے ایجنٹ یہود ہیں ۔اس امر میں کوئی شک نہیں ۔نیو ورلڈ آرڈر کا نعرہ اسی سلسے کی ایک کڑی ہے۔ آج امریکا پوری طرح یہودکی گرفت اور ان کے شکنجے میں ہے۔ اس طرح پوری دنیا میں سودی نظام کو بھی یہود نے رائج کیا ۔ مغرب میں فحاشی اور عریانی کے فروغ میں بھی یہود کا ہاتھ ہے۔ شیطان کے اصل ایجنٹ اس وقت یہی ہیں اور قیامت سے قبل حق وباطل کا جو آخری معرکہ ہونا ہے  ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی
اس میں مسلمانوں کے مقابلے میں یہود اور ان کے وہ حلیف شریک ہوں گے جن کی رگ جان ان کے پنجے میں ہے ۔ وہ تمام قوتیں ایک طرف ہوںگی جبکہ دوسری طرف صرف مسلمان ہوں گے۔ اس آخری معرکہ کا وقت یقیناََبہت قریب ہے۔ اقبال نے اسے معرکہ روح وبدن قرار دیا ہے۔ اس آخری معرکے کے حوالے سے اقبال نے اُمت کو بہت امید افزا پیغام دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف ترجمان القرآن ہی بلکہ ترجمان حدیث بھی تھے ۔صحیح احادیث میں یہ واضح پیشن گوئی ہے کہ قیامت سے قبل آخری فتح اسلام کی ہو گی اور یہ دین پورے کرہ ارض پر اسی شان سے قائم وغالب ہو گا جیسے آنحضور ؐ کے دور میں جزیرہ نمائے عرب پر قائم تھا۔ چنانچہ ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ واقعتاََ اس اعتبار سے پڑھنے کے لائق ہے کہ اس کے ذریعے موجودہ دور کے اصل مسائل اور فتنہ انگیزیاں بھی نمایاں ہوتی ہیں اور اسلام کا اصل پیغام بھی سامنے آتا ہے۔ آج کے صوفی وملا کی غالب اکثریت اسلام کی روح اور اصل حقیقت سے بہت دور ہے۔ اصل اسلام جس سے ابلیس کو خطرہ ہے وہ اقبال نے اسی کی زبان سے کہلوایا ہے۔   ؎
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِآرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فینہ فردا نہیں اسلام ہے
یعنی ابلیس کے نزدیک اصل فتنہ وہ اشتراکیت نہیں جس کا اس دور میں بڑا چرچا تھابلکہ اسے حقیقی اندیشہ اسلام سے ہے۔
عصرِحاضر کے تقاضائوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکار ا شرعِ پیغمبر کہیں
شرعِ پیغمبر کی جو تفصیل اقبال نے’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں بیان کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کا صحیح اور اسیع تر فکر علامہ اقبال پر کس درجے منکشف تھا۔ چنانچہ اس پہلو سے ان کا آخری پیغام یہ ہے کہ فیصلہ کن غلبہ بالآخر ابلیس کو نہیں بلکہ حق کی قوتوں ہی کو ہو گا۔  ؎
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی

Friday, 2 November 2012

SARMAYADARANA NIZAM - JABIR BHI QATIL BHI


DEENI INHETAT AUR FITNON SE BACHAO


NAZLA ZUKAM

نزلہ زکام
بہتی ناک تنگ کرے تو کیا کریں؟

سچ تو یہ ہے کہ نزلہ زکام بارہ مہینوں کا مرض ہے۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ موسمی تغیر و تبدل کے باعث نزلہ زکام حملہ آور ہوتا ہے مگر ماحولیاتی آلودگی اور نت نئے وائرس بھی اس مرض کا باعث ہیں۔ ڈاکٹر اور حکماء بھی اس بات پر اب متفق ہیں کہ نزلہ زکام کو فوری نہیں روکنا چاہیے اور نہ اسٹیرائیڈز ادویات دینی چاہئیں۔ اس مرض کا علاج سیدھا سادہ ہے جو صدیوں کا آزمودہ ہے۔ اب جدید طب کے حامی بھی اسے مفید اور موثر تسلیم کرنے لگے ہیں۔ ان شکایات کا مقابلہ کرنے کے لیے جو دس گر بتائے جارہے ہیں یقینا آپ بھی ان سے مستفید ہوسکتے ہیں: پہلا گُر.... آرام: نزلہ دراصل آپ کے جسم کا اعلان ہوتا ہے کہ اب اسے آرام کی ضرورت ہے۔ اس کا نظام مدافعت چھینکوں اور ناک کے ذریعے یہی بتاتا ہے کہ اب کم از کم ایک دو روز تک آرام کیا جائے اور بھاگ دوڑ سے بچا جائے۔ بڑی بوڑھیاں یہی مشورہ دیتی تھیں کہ بستر میں لیٹ جاو۔ ان کا مشورہ تین روز آرام کا ہوتا تھا۔ ضروری نہیں کہ آپ سارا وقت لیٹے ہی رہیں بس معمول کی مصروفیات سے بچیے۔ لیٹ کر دیکھئے نیند آجائے تو سوجایئے کہ جسم کو اسی کی ضرورت تھی۔ دوسرا گُر.... گٹھڑی بن جایئے بڑے بوڑھوں کا مشورہ یہ بھی ہوتا تھا کہ خوب اچھی طرح اوڑھ لپیٹ کر گٹھڑی بن کر لیٹ جائیں۔ اس طرح جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور اس کا نظام مدافعت چوکس ہوجاتا ہے دُکھتے عضلات کو آرام ملتا ہے۔ تیسرا گُر.... بیڑی بند کیجیے: تمباکو اور اس کا دھواں ناک اور گلے میں سوجن بڑھا دیتا ہے اس سے جسم میں حیاتین (وٹامن سی) کی سطح بھی گرجاتی ہے جس کے معنی قوتِ مدافعت میں کمی کے ہوتے ہیں۔ تمباکو کے دھویں سے پھیپھڑوں کے اندر واقع باریک روئیں بھی سست ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے بلغم خارج ہونے کی رفتار سست پڑجاتی ہے اور وہ ناک حلق سے خارج ہونے کے بجائے پھیپھڑوں کے اندر گرنے یا ٹپکنے لگتا ہے، اس طرح پیچیدگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ چوتھاگُر…پانی خوب پیجئے:نزلہ زکام کے دوران یہ ضروری ہے کہ آپ ہر دو گھنٹے بعد آٹھ اونس پانی پئیں۔ اس سلسلے میں یہ ضرور یاد رہے کہ ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات نہ پئے جائیں۔ بہتر ہے کہ نیم گرم پانی باقاعدگی سے دو گھنٹے بعد پیا جائے۔ پانی کی جگہ دارچینی کی چائے، سادہ ہلکی چائے، بنفشہ کی چائے، گندم کی چھٹی ہوئی بھوسی (چوکر)کا جوشاندہ، شکر یا نمک کالی مرچ کے ساتھ یا گرم پانی میں شہد گھول کر بھی پی سکتے ہیں۔ اس گرم مشروب میں لیموں کا رس شامل کرنے سے یہ اور بھی مفید ہوجاتا ہے بشرطیکہ کھانسی نہ ہو۔ مرغی کا سوپ یعنی یخنی نزلے کا بہترین علاج ہے۔ دن بھر میں اس کی دو تین پیالیاں ہلکے نمک مرچ کے ساتھ استعمال کرنا بھی مفید تدبیر ہے۔ سیال اشیاء کے استعمال سے رطوبت زیادہ خارج ہوتی ہے جو دراصل نزلے کے جراثیم سے لدی ہوتی ہے۔ یہ جتنی زیادہ خارج ہوگی نزلے کے مضر اثرات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ مرغی کی جگہ کالے چنوں کی یخنی بھی استعمال کی جاسکتی ہے یا پھر مونگ مسور کی پتلی دال بھی بطور شوربا پی جاسکتی ہے۔ ان میں ادرک لہسن ہری مرچ پیس کر ملا لینے سے جسم میں توانائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ نزلاوی رطوبت کا اخراج اچھی طرح ہوتا ہے۔ پانچواں گُر.... رومال استعمال کیجیے:یہ بہت اہم گر ہے۔ ہمارے ہاں لوگ اس پر بالکل عمل نہیں کرتے۔ نزلے کی حالت میں بڑی بے تکلفی سے ہر چیز چھوتے رہتے ہیں۔ گلاس برتن پیالی اور کٹورے استعمال کرکے دوسروں کو بھی نزلے کا شکار بننے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ جہاں جی چاہے ناک صاف کرکے فرش کپڑوں اور چادروں کو آلودہ کردیتے ہیں۔ نزلہ ہوجائے تو صاف ستھرے نیپکن تولیے اور رومال سے ناک صاف کیجیے۔ اسے کسی کو چھونے نہ دیجیے اور کھولتے گرم پانی اور صابن سے دھوکر دھوپ میں خشک کرتے رہیے۔ آج کل ٹشو پیپر کی وجہ سے یہ کام اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ انہیں کسی ڈبے اگال دان میں ڈھک کر رکھئے اور جمع ہوجائیں تو بہادیجئے یا جلا دیجئے۔ کپڑے کے مقابلے میں ٹشو پیپر زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں جراثیم جلد ہلاک ہوتے ہیں۔ ہاتھ بھی بار بار دھوتے رہیے۔ چھٹا گُر.... غرارے کیجیے:ناک کھلی رکھنے اور گلے کی خراش دور کرنے کے لیے نیم گرم نمک پانی بہترین علاج ثابت ہوتا ہے۔ دن میں پانچ چھ مرتبہ نمکین پانی ناک میں وضو کی طرح چڑھایئے۔ اس سے ناک کی اندرونی سطح کا ورم کم ہونے کے علاوہ نزلے کے جراثیم بہہ کر خارج ہوجائیں گے۔ سانس لینے میں آسانی ہوگی اور سر کا بھاری پن بھی دور ہوجائے گا۔ اسی طرح نیم گرم نمکین پانی کے غراروں سے گلا صاف ہوگا جراثیم کی یلغار کم ہوگی اور خراش اور درد میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ اگر ہوا اور گلا خشک ہو تو مصری کی چھوٹی سی ڈلی منہ میں چوستے رہیے یا پھر لونگ یا دارچینی کا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسنے سے بھی گلا صاف اور تر رہے گا۔ ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا چائے کا چمچہ نمک گھول کر غرارے کرنے چاہئیں۔ گلے کی خراش کے ساتھ اگر 101درجے بخار بھی ہو تو یہ گویا گلے میں چھوت کی علامت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بھی غرارے مفید ہوتے ہیں۔ ساتواں گُر.... پانی کی پٹی:اوپر بیان کی ہوئی تدابیر کے ساتھ ساتھ خاص طور پر 100درجے سے زیادہ بخار کی صورت میں طبّی امداد لینی چاہیے۔ بخار کم رکھنے کے لیے پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹی رکھیں اور بُخار کم کرنے والی دوائیں استعمال کریں اور تکلیف بڑھنے لگے تو معالج سے ضرور رجوع کریں۔ بخار کے ساتھ گردن اکڑتی محسوس ہو سر میں سخت درد اور جسم پر سرخ دھبے نظر آئیں تو فوراً معالج سے رجوع کریں کیوں کہ یہ ورم دماغ یا گردن توڑ بُخار کی علامات ہوسکتی ہیں۔ آٹھواں گُر.... بند ناک کھلی رکھیے:اس کے لیے سیال اشیاء کے استعمال کے علاوہ گرم پانی کی بھاپ لینی چاہیے۔ اس میں بام ڈال کر بھاپ لینے سے ناک کھل جاتی ہے۔ جو خواتین حاملہ ہوں بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں یا وہ افراد جو قلب کی تکلیف اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں یا فالج کے مریض رہے ہوں انہیں بند ناک کے سلسلے میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔ نواں گُر.... کھانسی نہ روکیے:نزلے اور گلے کی تکلیف کے ساتھ ساتھ کھانسی بھی ہو اور بلغم خارج ہورہا ہو تو اسے روکنے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ اس کے اخراج میں مدد دینے کے لیے مصری وغیرہ چوستے رہیے۔ گرم بھاپ لیجیے تاکہ گلے کی خراش کم ہو اور بلغم بھی آسانی سے خارج ہوتا رہے لیکن اگر کھانسی بڑھتی جائے خون آلود بلغم آنے لگے سینے میں درد ہو اور اس سے آواز آنے لگے تو معالج سے فوراً رجوع کیجیے۔ ممکن ہے آپ نمونیا میں مبتلا ہوں۔ دسواں گُر.... نباتی ادویات استعمال کیجیے:نزلے کی ابتداء میں سپستان عناب اور بہی دانہ 3-3 گرام کو جوش دے کر چھان کر مصری یا شکر سے میٹھا کرکے پیتے رہیں۔ آپ شکر کی جگہ شہد یا بنفشہ کا شربت بھی شامل کرسکتے ہیں۔ شکر مضر ہو تو سادی استعمال کیجیے۔ اس سے حرارت بھی نہیں ہوگی اور نزلاوی رطوبت بھی آسانی سے خارج ہوتی رہے گی۔ اسی طرح جوشاندہ استعمال کرنا بھی بہت مفید علاج ہے۔ نزلے کو جلد روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے بظاہر نزلہ خشک ہوجاتا ہے لیکن کان آنکھ گلے دماغ اور پھیپھڑوں پر مضر اثرات دیر تک برقرار رہتے ہیں۔ بسا اوقات اسے روک دینا دمے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔  

WALIDAIN HUSNE SULOOK KE MUSTAHEQ

والدین حُسنِ سلوک کے مستحق


اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے بنی آدم کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔قوتِ گویائی ، فہم وادراک جیسی نعمتیں عطا کرکے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیاہے ۔والدین بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدمی کے لئے ایک بڑی نعمت اور بہت ہی بڑا احسان ہیں ۔ قرآن پاک میں بھی جگہ جگہ والدین کی شکر گزاری کو اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کے ساتھ ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ ’’اور آپ کے رب نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ تم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو‘‘۔(بنی اسرائیل)بچے کے جنم لیتے ہی والدین کی زندگی ہی جیسے بدل جاتی ۔جینے کے ڈھنگ میں اَن گنت تبدیلیاں آتی ہیں ۔باپ جو اب تک صرف اپنے عیش وآرام ، اپنے مستقبل کو سجانے کی کوشش میں رہتا تھا ، اب اپنے بچے کے لئے ،اس کے آرام وآسائش ، اس کے مستقبل کے لئے جی جان سے محنت کرنے لگتاہے ۔ ماں جو اب تک اپنا بیشتر وقت سجنے سنورنے میں لگاتی تھی ، میکے کو یاد کرنا ،مِس کرنا ، سسرال میں خود کو ایڈجسٹ کرنا غرض اپنے ہی کاموں میں محو رہتی تھی بچے کے آتے ہی سجنا سنورنا ،میکے کوکیا مانو کہ خود کو ہی بھول جاتی ہے ۔ہر پل ، ہر لمحہ صرف او رصرف بچے کی فکر میں لگی رہتی ہے ۔بچے کو معمولی درد ہوتو بچے سے زیادہ ماں بیمار دکھائی دیتی ہے ۔ بچے کو سجا سنوار کر خود اس کی خوشی محسوس کرتی ہے ۔ اگر بچہ کبھی بھوکا سوئے تو والدین رات بھر تڑپتے ہیں۔رات کواُٹھ اُٹھ کر بچے کو تکتے رہتے ہیں ۔بچے کی ہنسی سے ماں باپ کے چہرے کھل اٹھتے ہیں ۔بچے کے آنے سے ان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ پہلے پہل جب بچے سکول جانے لگتے ہیں تو والدین ان کے گھر لوٹنے کا اس طرح انتظار کرتے ہیں جیسے کوئی روزے دار پورے مہینے کے روزوں کے بعد عید کے چاند کامنتظررہتاہے ۔ بچہ بڑا ہوجاتاہے ۔ پرائمری سے ہائر کلاسز میں داخلہ لیتاہے والدین کے راتوں کی نینداُڑ جاتی ہے ایسالگتاہے جیسے بچے کے مستقبل کا نہیں ، ماں باپ کے مستقبل کا سوال ہوتاہے ۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچے کی دینی واخلاقی تربیت ، ان کی صحیح نشونما کے لئے والدین بے حد فکر مند رہتے ہیں اور ہر کوئی ماں باپ یہی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی اولاد کوبہترین تربیت ملے ،بہترین تعلیم ملے تاکہ وہ آرام وآسائش ، عزت وکامیابی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ بچے کے روشن مستقبل کیلئے والدین اپنے تن من دھن کو صرف کردیتے ہیں ۔ ان کی پرورش کے لئے دن کا سکون ،راتوں کا آرام نچھاور کرتے ہیں۔اپناہر لمحہ اپنی اولاد کی زندگی سنوارنے کے لئے نچھاور کرتے ہیں ۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھتے ہیں توسب سے پہلے بچوں کا نام زبان پرآتاہے ۔ خود کو مانو بھول ہی جاتے ہیں ۔اتنی محبت ، اتنی منزلیں طے کرتے کرتے انہیں معلوم ہی نہیں پڑتا کہ کب جوانی چھوڑ کے چلی گئی اور کب پیری نے دستک دی ۔ غرض والدین بچے کی پرورش کرتے کرتے اپنا سب کچھ ، اپنی جوانی قربان کردیتے ہیں ۔انہیں کبھی اپنے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو ہی اپنا مستقبل سمجھتے ہیں اور اب ان کی ساری اُمیدیںان کی اولاد سے وابستہ ہوتی ہیں۔بڑھاپے میں جب ساری توانائی رخصت ہوجاتی ہے، جسم کے ہر اعضو میں تھکان اور درد محسوس ہوتاہے تو انسان میں چڑچڑاپن آنا ایک فطری عمل ہے ۔ اکثر بڑھاپے میں ایسے حالات ہوجاتے ہیں ۔ یہیں پرایک اولاد کا فرض بنتاہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی سے ،شرافت سے اور محبت سے پیش آئے تاکہ اللہ کی رضاحاصل کرسکے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا عمل خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟‘‘ آپؐ نے فرمایا وہ نماز جو وقت پرپڑھی جائے ‘‘۔ میں نے پوچھا پھر اس کے بعد کون سا عمل خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے ۔آپ صلعم نے فرمایا ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک ‘‘ ۔ میں نے پوچھا اس کے بعد ،جواب ملا ’’خداکی راہ میں جہاد کرنا‘‘۔ سبحان اللہ کتنا اجروثواب ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں ۔بے شک وہ لوگ بہت نصیب والے ہیں جووالدین کی خدمت کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں ۔ ان کی حق ادائی کرتے ہیں او راپنی دنیا وآخرت کو سنوارتے ہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ ’وہ آدمی ذلیل ہو، پھر ذلیل ہو ، پھر ذلیل ہو ‘‘۔ لوگوں نے پوچھا اے خداکے رسولؐ! کون آدمی؟آپؐ نے فرمایا ’’ وہ آدمی جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی حالت میں پایا ۔ دونوں کو یا کسی ایک کو اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا‘‘۔
یہ اللہ کا کرم ہے اور ہمارے والدین کے بے شمار احسانات ہیں جن کی پرورش اور نگرانی میں ہم پلے بڑھے ہیں اور جس جذبہ ایثار ، محبت اور شفقت سے انہوں نے ہماری رہنمائی کی۔ اس کا تقاضایہی ہے کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں۔ ان کے شکرگزار رہیں اور اپنے لئے جنت حاصل کریں ۔ ایک اور حدیث میں آیاہے کہ حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبیؐ سے پوچھا : یا رسول اللہؐ !ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اور ماں باپ ہی دوزخ ‘‘یعنی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرکے تم جنت کے مستحق ہوں گے ۔ ان کے حقوق کو پامال کرکے تم جہنم کا ایندھن بنو گے ۔اللہ ہم سبھوں کو جہنم کی آگ سے بچائے ۔(آمین)
بزرگی میں والدین خود کو بچوں کی خاص توجہ کا مستحق سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جوانی سے لے کر پیری تک اپنے بچے کو ہی اپنا مستقبل اور اپنی محنت کا حاصل سمجھتاہے ۔ جسمانی کمزوری کی وجہ سے وہ خود اپنے لئے کچھ کرنہیں پاتے ہیں اسی لئے ان کے مزاج میں تلخی پیدا ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ ان حالات میں خلاف توقع مطالبے کرنے لگتے ہیں ۔لیکن اولاد کو پھر بھی یہ حق نہیں بنتا کہ اپنے والدین کے ساتھ تلخی سے پیش آئیں ۔ اولاد کو چاہئے کہ والدین کی خوشنودی حاصل کریں نہ کہ ناراضگی۔
جب کوئی چھوٹا بچہ کسی چیز کو لے کر والدین سے ضد کرتاہے ۔ رو رو کے آسمان سر پر اٹھاتاہے تو والدین اس بچے کو اس کے حال پر نہیں چھوڑتے بلکہ اپنی طاقت کے مطابق یاتو اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں یا پھر بڑے پیار سے سمجھا کرچپ کراتے ہیں ۔ چونکہ بچہ بھی تو بے بس اور کمزور ہوتاہے خودکوئی چیز حاصل کرنے کی قوت نہیں رکھتاہے۔اسی لئے والدین کومجبور کرتاہے او راپنا مقصد حاصل کرلیتاہے ۔بالکل ویسے ہی بڑھاپے میں بھی ہوتاہے ۔ خداہمیں والدین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین)والدین ہی ہیں جو ہمیں بچپن میں سہارادیتے ہیں۔ پال پوس کر اچھی تعلیم وتربیت دے کر ہماری سرپرستی فرماتے ہیں اور ماں باپ ہی ہیں جو ہمیں اس قابل بنادیتے ہیں کہ ہم سماج میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ۔ خداتعالیٰ ہم سبوں کواس عظیم نعمت یعنی ’’والدین‘ ‘ کی قدر وعزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللہ کرے ہمارے والدین ہمیشہ خوش رہیں اور ہم سے کبھی خطا نہ ہو۔ جس سے والدین کے دل کوٹھیس پہنچے ۔ یا اللہ ہمیں ایسی صلاحیت عطا فرماکہ ہم والدین کی عزت کریں ، ان کی رضا حاصل کریں تاکہ ہمیں دنیا وآخرت کی سعادت نصیب ہوجائے ۔

PHOONKON SE YE CHARAGH

پھو نکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جا ئے گا



عالمی سطح پر مسلما نو ں کے خلا ف مشکیں کسنے اور ان کو طرح طرح سے ستا نے کا سلسلہ برابر جا ری ہے اور یہ تا قیام قیا مت جا ری رہے گا کیو نکہ یہ حق اور نا حق ، سچ اور جھو ٹ ، اندھیرے اور اجا لے کے درمیا ن ایک نہ مٹنے والی چپقلش اور نہ ختم ہو نے والا محا ربہ ہے جس کا ہمیشہ ہمیش جا ری رہنا قانون قدرت کے عین مطا بق ہے ۔ اس محا ربے نے افغا نستان اورعراق و بر ماسے لے کر گجرات ، آ سام ، زانسکار اور کشتواڑ تک کیا کیا گل کھلا ئے وہ روز روشن کی طرح عیا ں ہیں۔ حق بینی سے حا لا ت کا تجزیہ کیا جا ئے تو پتہ چلتا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنے شاخ نازک کو اسلام کی خنک وخوشگوار ہو اؤں میں ڈولتا دیکھ کر حواس با ختہ ہو چکا ہے ۔وہ اپنے پیروں تلے کھسک رہی زمین کو دیکھ کر یہ بات سمجھ چکا ہے کہ جد ید ذہن کو سراسر اپیل کر نے والے دین اسلام کی وہ کتنی ہی غلط سلط شبیہ دنیا کے سامنے پیش کر ے ، وہ اس دین محبت ومودت پرکتنا ہی چلا ّ چلا ّ کر اسے دہشت گردی ، رجعت پسندی اور جنو نی فلسفہ کا نا م دے ،اسلام بہر حا ل اپنی حقانیت کے بل پر دیر سویر دنیا کو مفتوح کر کے چھو ڑے گا کیو نکہ یہ ما رکس ، لینن اور ما ؤزے تنگ یاچنگیزخانو ں اور ہٹلروں کی طر ح نعوذ با للہ بے انصافی اور انسان دشمنی کا روادار ہے نہ یہ رنگ ، نسل، زبا ن ، جغرافیہ ، ذات پا ت اور انسان کے تراشیدہ دوسری دیو اروں کے اندر مقید ہے۔ چنا نچہ اس کاایما نی ، اصلا حی ا ور انقلا بی پرتو جو نہی مغرب ومشرق تک پڑ ے گا تو ان کی ملحد تہذیبیں اور بے تکے فلسفے اپنی مو ت آ پ مر یں گے اور باوجوداپنے محیرا لعقول سائنسی کا ر نا موں اور مسلما نو ں کے ہمہ گیر اخلا قی اور علمی زوال کے ا نہیں دنیا کی اما مت سے ہا تھ دھونا ہو گااور خود ساختہ خدائیت کے مقام سے لڑ ھک کر گر نا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہمہ تن کو شاں ہیں کہ اسلا م اور پیغمبر اسلام ؐ  کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کر یں ۔     
اسی سلسلے کی ایک کڑی اسلام مخا لف حا لیہ انگریزی فلم ہے جو امریکہ میں صیہو نیت اور صلیبیت کے پرستا روں نے مل کر بنا ئی ۔  یو ںہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اہل کتا ب کے مغضوب وگمراہ لو گو ں نے فخرِ آدمیتؐ ، مُحسنِ انسانیت ؐ ، محمد رسول اللہ ؐ کے تئیں اپنے دُشمنانہ رویہ کو واضح کردیا۔ یہودیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر آج دنیا  کے اندھیا ورں میں کہیں انصاف، ہمدردی ، محبت اور انسانیت کا وجو د اور اجا لا ہے تو یہ صرف اور صرف اِسی محمد رسول اللہ ؐ کی مُقدس تعلیمات اور آ پ ؐ کی سیرت کا پرتو ہے ۔ اس سلسلے میں ’دی ہینڈر‘ نا می وہ کتا ب چشم کشا ہے جو ایک عیسا ئی کی تصنیف ہے لیکن اسے بھی چا ر ونا چار تسلیم کر نا پڑا کہ دنیا کی تہذیبی گہما گہمی ، علمی تفوق اور بقائے با ہم کی تاریخ میں اگر کسی نے سب سے آگے تن تنہا ہراول دست کا کام کیا تو پیغمبرآ خر الزما ں ؐ ہیں اور آ پ ؐ ہر معا ملے میں ہر عظیم شخصیت پر سبقت لے کرسر فہر ست ہیں ۔ حتیٰ کہ محمد عربی ؐ کی سکھا ئی ہو ئی تعلیما ت ، بتا ئے ہو ئے انعامات اور دکھا ئی ہو ئی راہ کی وجہ سے مسلمانوں نے اِن یہودیوں کو تب پناہ دی جب وہ ساری دُنیا میں تتر بتر تھے ، جب ساری دنیا میں یہودیوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا تھا اور جب ان پر دو آنسو بھی کو ئی بہا نے والا نہ تھا ۔اس تا ریخی حقیقت کا برملااظہار اسرائیل کے سابقہ وزیر اعظم بن گوریون نے یوں کیا۔
"Muslim Spain ia the golden era of our diaspora"                                
یعنی مسلم اسپین یہودیوں کے دورِ انتشار کا سنہری دور ہے جہاں مسلمانوں کے وسیع القلبی و فراخ دلی کی وجہ سے اُن کو عزت ملی اور حقِ حیا ت ملا۔ دوسری طرف عیسائیوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چا ہئے کہ جس سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے وہ آج ساری دُنیا کے حکمران بنے ہوئے ہیں، یہ دنیو ی نعمت بھی اس دُنیا کوصرف اور صرف رسولِ رحمت ؐ کی ہی وجہ سے ملی جنہوں نے علم کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایاعلم میرا ہتھیار ہے۔
پھر یہ حضورؐ کے ہی غلاموں کی محنت کا ثمرہ ہے جنہو ں نے زما نہ ٔ وسطیٰ میں مختلف علوم کے دریا بہادئے۔ پھر بعد میں غلاامان ِ محمدؐ کے ہی علمی خزانے کو عیسائیوں نے بنیادبنا کر موجودہ سائنسی دور کا آغاز کردیا۔ یہ بات ہم کسی وہم یا عقیدت میں رو میں نہیں کہہ رہے بلکہ تاریخ کے اوراق میں یہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہے اور اِس بات کا اظہار اسلام بیزار مستشرق پی کے ہٹی اپنی کتاب "History of Arabs"میں یوں کرتا ہے۔
"Muslim Spain wrote one of the Brightest chapters in the intellectual history of Europe. Between the middle of the eighth and the beginning of the thirteenth centuries, the Arabic speaking people where the main bearers of the torch of culture and civilization throughout the world. They were the medium through which ancient science and philosophy were recovered , supplemented, and transmitted in such a way, as to make possible the renaissance of western Europe."
 با لفا ظ دیگر اقوامِ عالم کی حالیہ ترقیاں آپ ؐ کے عظیم ترین علمی وفکری محنتوں کا ہی نتیجہ ہیں۔اِسی طرح کا اعترافِ حقیقت ایک اور غیر مسلم مفکر   John Willam Draper اپنی کتاب"Intellectual Development of  Europe"میں یوں کرتا ہے۔ 
"I have to deplore the systematic manner in which the literature of Europe has continued to put out of sight our obligations to the Mohammedans (Muslims) Surely they can not be much longer hidden. Injustice based  on religion rancour  and national conceit can not be perpetuated forever. The Arab has left his  intellectual impress on Europe. He has indelibly written it on the heavens as any one my see who reads the names of the stars on common celestial globe."      
اسی کو کہتے ہے کہ حقیقی عظمت وہی ہے جس کا اعتراف دشمن بھی کرے مگراہل کتاب کی کتنی فتنہ پرور ذہنیت ہے کہ جس محمد رسول اللہؐ کے طفیل ان پر امت مسلمہ کے یہ احسانا ت ہیں ، آ ج یہ اسی کے خلا ف ہر محا ذپر کمربستہ ہو جائیں۔اِن یہودیوں اور عیسائیوں کو توـتھامس کارلائل کی طرف دیکھنا چاہے جو خوداِنہی میں سے تھا۔ جب اُس نے’’ ہیروز ازم‘‘ نام سے کتاب لکھناشروع کی تو سارے انبیاء علیہ السّلام میں صرف محمد رسول اللہ ؐ کو اپنا ہیرو مانا۔ کیا کو ئی عقل کا اندھا یہ ما نے گا کہ کارلائل کو حضرت موسیٰ  ؑ کے کارنامے یاد نہ تھے ‘ کیا اُسے داوودؑ کے کارنامے معلوم نہ تھے؟ کیا اُسے سلیمانؑ کے معجزات پر نظر نہ تھی؟ کیا اُسے یوسف ؑ اور یحییٰ  ؑ وغیرہ کے معجزات اور کنٹربیو شن  پتہ نہ تھے؟کارلائل جیسے عظیم دماغ کو یہ سب کچھ معلوم تھا اور خود عیٰسیؑ کا نام لیوا بھی تھا مگر پھر بھی صرف اور صرف حضور ؐکو ہی اپنا رہبر اور ہیرو کیوں تسلیم کیا؟ اِس کا جواب یوں ہے کہ ’’ جب کارلائل نے اپنی مئور خانہ تحقیقات کی نِگاہ سے آفتابِ نبوت محمد رسولؐ کو دیکھا تب اُسے ہزراوں سال کے عہدوسیع کے آسمان پر اور کوئی کوکبِ نبوت نظر نہ آیا‘ جیسے اِس آفتاب ؐکے دوش بدوش وہ اپنے اوراق پر جلوہ گر کرسکتا۔ــ‘‘ ( ماخوز از رحمتً للعالمینؐ ۔ مصنف فاضی سلیمان منصور یوریؒ  ۔)
اسلام دشمن عنا صر کو کیا ہوا کہ آسمان پر نمودار ہُوئے سورج کا تو اقرار کرتے ہیںمگرجس محمد رسول اللہ ؐکی سیرت مبار کہ اِس سورج سے اربوں کھربوں گنا روشن ہے اُنؐ  کو غلط ، قابل اعتراض اور شرا نگیز طر یقے پہ فلمو ں اور کا رٹونو ں کے ذریعے پیش کر کے تا ریخ اور صداقت کو جھٹلا نے کا واہیات کا م کرتے ہیں۔ جب سے ان عیسائیوںاوردرپردہ طور یہودیوں کے ہاتھوں میں دُنیا کی چند روزہ قیادت آئی تب سے عالمِ انسانیت نے تبا ہی ہی تباہی دیکھی ہے ۔ چاہے وہ دو عظیم جنگیں ہوں‘ چاہے وہ شیطانی سودی نظام ہو‘ چاہے وہ مسلمان ممالک کی موجودہ تباہی ہو ‘ چاہے وہ موجودہ دُنیا کا اخلاقی بُحران ہو ‘ چاہے وہ صنفِ نازک کی چادرِ عزت کی نیلامی ہو،۔
تاریخ شاہد عادل ہے کہ محمد رسول اللہ صلعم نے (جن ؐ کی یہودی اورعیسائی خدا واسطے دشمن بنے پھر رہے ہیں ) ان سارے مکہّ والوں کو بیک جنبش قلم معاف کردیا جنہو ں نے آ پ ؐ کو اذیتیں دینے میں کو ئی کسر با قی نہ رکھی تھی ‘جنگِ حُنین کے مو قعہ پر چھے ہزار جنگی قیدیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا کہ انصاف و عدل کے دامن پر کو ئی ادنیٰ آنچ نہ آئی ۔ ساری حیات مبارکہ صلعم انسانیت کی بقا کے لئے صَرف کر دی۔ یہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ ؐ کی ہی ذات با بر کت ہے کہ آپ ؐکے جانی دشمن بھی آپ ؐ کو امین‘ صادق جیسے معزز القاب سے پکارتے تھے۔ دُنیا ئے انسانیت نے یہ نظارہ پہلی بار آپ ؐ کے ہی ذریعہ سے ہی دیکھا کہ آپ ؐ کے جانی دشمن بھی اپنی امانیتں آپ ؐ کے حوالے کرتے تھے کیونکہ اُن کو معلوم تھا کہ کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے آپؐ  نعوذ با للہ حیا نت کرنے والے ہیں ہی نہیں۔ یہ صرف اور صرف حضور ؐ کی ہی ذات والا شان ہے جسؐ نے لوگوں تک اپنی اپنی امانتیں پہنچانے کا اُس وقت بھی انتظام کرلیا جب ہجرت کی رات میں اہلِ مکہ آپ  ؐ کو شہید کرنا چاہتے تھے۔ اِن یہودیوں اور عیسایئوں کے نزدیک  انسانی آزادی ‘ اخوت ‘ اور انصاف کوئی معنی ہی نہیں رکھتے ہیں کیونکہ جس فکر وفلسفہ کے نما ئندے ہیں ‘وہ تو صرف اور صرف نسل پرستا نہ اور قومی تفا خر جیسی لا یعنی چیزوں پر انحصار رکھتی ہے‘ دوسرے اقوام کے کئے وہاں انصاف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے جس کاجیتا جاگتا ثبوت U.N.O ہے جو کہ اِن ہی یہودیوں اور عیسایئوںکے زیر قیادت ہے۔ اِس کے برعکس جن محمد رسول اللہؐ کے خلاف یہ لوگ ہمیشہ زہر اگلتے رہتے ہیں، انہوں ؐ نے عدل و انصاف، بھائی چارے ‘  انسان دوستی کی ایسی زندگی بخش فضا سرزمین عرب میں قائم کر کے رکھد دی جس کی تعریف میں ایچ جی ویلز بے ساختہ بُول اُٹھے:
"Although the sermons of human freedom, fraternity and equality where said before also. We find a lot in the sermons of Jesus of Nazareth, but, it must be admitted that, it was only Mohammad (SAW) , who for the first time in the history of mankind established society based on these principles."                   
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اِن دشمنانِ حق کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہیے کہ یہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ ؐ  ہی ہے جو آبروئے انسانیت ہیں‘ جنؐ کی ہستی کے بغیر انسانیت  اور عدل گستری کا تصّور نا ممکن ہے کیونکہ یہ محمد رسول اللہ ؐ  ہی ہیںجو ایک انسان کو اُس کی زندگی کے ہر ایک میدان میں رہنمائی کرتے ہیں ‘ چاہے وہ سیاسی میدان ہو‘ چاہے وہ اقتصادی میدان ہو‘ وہ جنگ کا میدان ہو‘ چاہے وہ امن وصلح کی میز ہو‘ چاہے وہ ملک کے حکمرانی کا منصب ہو‘چاہے وہ ایک لیڈر ی کا مسئلہ ہو، چاہے وہ ایک باپ کے حقوق اور فرائض ہوں، چاہے وہ ایک بیٹے کی اطاعت شعاری کا نکتہ ہو، چاہے وہ ایک اُستاد اور شاگرد کا رشتہ ہو وغیرہ۔ الغرض ہر جگہ صرف اور صرف اِنسان کا مِلؐ  محمد رسول اللہ ؐ ہی رہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اِس حقیقت کا اِظہار  غیر مسلم مفکر ـسر جیت سنگھ لانبہ یوں کرتا ہے:  ’’ انسان اپنے رہنمائے کامل کی جستجومیں جس طرف بھی نگاہ ڈالے آپ ؐ ہی آپ ؐدکھاتے دیتے ہیں‘‘۔
یہ اسلام دشمن عنا صر کی کیسی نادانی ہے کہ ایڈیسن کے تو اس لئے مشکور ہیں کہ اُس نے بجلی کا بلب ایجاد کر دیا ، جس سے اُن کے گھر روشن ہو گئے مگر جس محمد ؐ کے ہونے سے ساری انسانیت ہدایت کے نور سے منور ہو گئی، اُن ؐ کے مشکور اور ثنا ء خواں ہو نا تو دور کی بات آ پ ؐ  سیرت طیبہ پر نا قابل معافی گستا خیا ں کرتے ہیں لیکن کیا پھو نکو ں سے یہ چراغ بجھا یا جا سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ 
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar

DIL KE JANWAR KO ZUBAH KAREIN

دل کے جا نور کو ذبح کریں
قربان ہیں گر اللہ پر پھر ہمیں کا ہے کا ڈر؟

 اسلام کا لغوی معنی ٰ ہے کسی با لا تر ہستی کے سامنے مکمل سرنڈر کر نا اور اس کے ہر حکم کی تعمیل اور ہر ممانعت پر رضاکا را نہ طور روک لگا نا ۔ با لفا ظ  دیگر اسلام کامل اطاعت کے ساتھ  سرخم تسیلم کر نا ۔ اصطلا حی معنی ٰ میں یہ اللہ کی کبریا ئی ، اس کی کلی مالکیت اور حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کے سامنے بلا چو ں چرا اپنی گردن بر ضا ورغبت جھکا نا ہے۔ اگر ہم اس زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو دل کی معیت اور جاں کی شر کت کے ساتھ ایک اللہ کے سامنے سر عبو دیت خم کر نااسلام ہے ۔ بالفاظ دیگر ایک انسان جب اپنی ذاتی پسند ونا پسند سے دستبردار وہ جا ئے ،و ہ اللہ کی خوشنودی کے لئے خوشی خوشی ہر چیز کی قربانی پیش کر ے تو وہ کامل انسان یا کمہ خواں مسلما ن ہو جا تا ہے ۔ ہم نے انفرادی اور اجتما عی طور گزشتہ دنو ں قربا نی کے حوالے سے تجدید عہد کیا کہ ہماری زندگی ، ہماری موت ، ہماری نما ز اور ہماری قربا نی سارے جہا ں کے ما لک وخا لق کے لئے ہے ۔ کہنے کو یہ  قر با نی اُس عظیم المر تبت پیغمبرانہ شخصیت کی یاد گار ہے جس نے ایثار کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ دُنیا اب تک محوِ حیرت ہے لیکن اس کو قلب وجگر سے قبول کر کے ہم نے اصل مین اسوہ ٔ رسولؐ کی وساطت سے اسوۂ ابراہیمیؑ پر نیا حلف اٹھا یا ۔ عید الا ضحیٰ کی قربانی کو اسی خُدا کے برگزیدہ پیغمبر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جن کی زندگی کا ہر ورق پاک و صاف اور مقدس ہے، جن کی سیرت طیبہ کے لمحات امتحان اور آزمائش کی مثال کامل ہیں،جن کی عملی زندگی ملت اسلامیہ کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ قربانی درحقیقت حضرت ابراہیمؑ کی ایک ایسی یاد گار ہے اور با رگاہ الہیہ میںایسا مقبول عمل ہے کہ اسلام میں جس دِن سے قربانی مشروع ہوئی، اُس دن سے آج تک مسلمانوں میں یہ عملی طور جاری و ساری ہے اور یہ ایک ایسا عالمگیر عمل ہے جو دنیا کے ہر گوشے میں ایام ذی الحجہ میںہوتا رہتا ہے۔ یہ تقریباََ ایک سو سال عمرکے اُس باپ ( حضرت ابراہیمؑ) کی سُنت عظیم ہے جو رافت و رحمت کا پیکر اور شفقت و محبت کا مجسمہ تھا ، جس کی دِلسوزی و دردمندی دوست و دشمن سب کے لئے عام تھی۔ ہاں ! وہی شفیق و رحیم باپ اپنے رب کا اِشارہ پاتے ہی اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کے لئے اپنی آستینیں چڑھالیتا ہے ، جو کہ نہایت ہی بردبار ، سلیم الطبع ، فرماں بردار ، صابر اور سعادت مند بیٹا تھا۔ اس طرح کی قربانی تاریخ انسانی کا ایسا واقعہ بن گئی جس کو زمین و آسمان کی نگاہوں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا ، اور اس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہر سال اس زمین پر جو کروڑوں قربانیاں ہوتی آرہی ہیں اور قیامت تک ہوتی رہیں گی سب اسی ایک مطیع و مسلم جان کی بلندی و فیروزمندی کا فدیہ عظیم ہے۔ یہ بلندی و فیروزمندی صرف اس وجہ سے ہوئی کہ وہ اللہ کی محبت سے سر شار تھی۔ اس کے سینہ ٔ وجود میں عشق الٰہی کی انگیٹھیا ں دہک رہی تھیں ۔ اس کی زندگی میں تقویٰ و طہارت ، خُدا پرستی و پرہیز گاری اور اطاعت و بندگی کی تمام رعنائیاں موجود تھیں۔
ایک طرف عبدیت و بندگی اور کامل خود سپردگی کی یہ حسین تصویریں ہیں جو اس عظیم پیغمبر صلعم کی زندگی میں نمایاں ہیں تو دوسری طرف انکار و اعراض اور غفلت و مدہوشی کی شرمناک تصویریں ہیں جو آج ہم پیش کر رہے ہیں۔ در اصل قربانی کا مقصد یہی نہیں کہ انسان کی ذات پر عائد ہونے والی قربانی کو جانور کی ذات پر منتقل یا محدود کر دیا جائے۔ بے شک جانور کو ذبح کرنے سے قربانی کا ظاہری روپ تو مکمل ہو گیا لیکن اس کا حقیقی اور باطنی روپ سامنے نہیں آیا۔ جس طرح روزہ رکھنے کا اصل مقصد ظاہری حواس سے نکل کر باطنی حواس میں داخل ہونا ہے ،اسی طرح قربانی کا اصل مقصد صرف جانور کے حلقوم پر چھری پھیر دینا ہر گز نہیں بلکہ جانور کے گلے پر چھری چلانے کی بعد قربانی دینے والے شخص پر فوراََ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کو ٹٹولے ، اپنے ضمیر کو دستک دے کہ کیا اس نے اپنی نفسیاتی خواہش سستے جذبات اور خود غرضانہ عادات کے گلے پر بھی چھری رکھ دی ہے یا نہیں ؟ اگر صرف جانور کے گلے پر چھری رکھی ہے اور اپنے مفادات کو صاف بچا لیا تو جان لے کہ اللہ تعالیٰ تک قربانی کا گوشت اور خون نہیں بلکہ صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔گوشت ہم کھا لیں گے ، کچھ غرباء کھانے کو لے جائیں گے ، کھالیں بھی کوئی جماعت ، ادارہ یا دارالعلوم والے لے جائیںگے لیکن اللہ تک کچھ نہیں پہنچے گا۔ اگر توجہ اور رجوع الی اللہ ، خشوع و خضوع ، بارِ گاہِ رب میں حضوری کا شعور و اِدراک ، انابت اور محبت الٰہی کی روح موجود نہیںہے۔ تقویٰ سے بے نیاز افراد خواہ وہ مسندِ اقتدار پر فائز ہوں یا محکومی اور مغلوبیت کی زندگی بسر کر رہے ہوں، اگر اپنی نا جائز خواہشات اور حد سے بڑھتی ہوئی ہوس پر چھری نہیں پھیر تے ، تجارت میں ، ملازمت میں ، پیشہ ورانہ مشاغل میں ، نا جائز اور حرام کو حلال بنانے میں ہیں تو وہ اچھی طرح جان لیں کہ ان کے اس ظاہری عمل کی بارگاہِ الٰہی میں کوئی حیثیت نہیں۔ اگر وہ اپنی ریاکاری ، منافقت ، دھوکہ دہی ، جھوٹ اور خود غرضی کو ذبح نہیں کرتے اور جانور پہ جانور قربان  کئے جارہے ہیں تو جان لیں کہ وہ راہِ حیات میں خسارہ اُٹھانے والے مسافر ہیں۔ اس کے برعکس جس نے فدائیت کے جذبے سے ایک جانور لیا اور اس کو ذبح کرنے کے لئے چلا اور اس کا دل کہہ رہا تھا  :  یا بارالٰہا ! میں جانور کو نہیں خود اپنے آپ کو اور اپنی تمام خواہشات کو آپ کے حوالے کر رہا ہوں ، جانور کو مقرر طریقے پر ذبح کیا اور اس کی زبان سے نکلا :  خُدایا ! یہ میری اپنی جان کا ہدیہ ہے جو میں آپ کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں اس کو قبول فرما ۔ قربانی کے دوران اگر اس کا دل پگھلتا رہا ، اس کی آنکھیں آنسوں بہاتی رہیں ، قربانی اس کے اندر نرمی پیدا کرکے ہر قسم کے بُرے جذبات کو نکالتی رہی ، کبر ، عداوت ، انتقام اور خود نمائی کے جذبات کو اللہ کے لئے قربان کرتا رہا ، تقویٰ کا تجربہ کرتا رہا ، اپنی اصلاح کی فکر میں لگ گیا ، حوصلے اور تمنائیں دُنیاوی چیزوں کے بجائے اُخروی چیزوں میں لگانے کی فکر میں لگا رہا ، اس نے گویا قربانی کا تقویٰ اللہ کو بھیجا تو یہ وہ قربانی ہے جس کے ذریعے اس کا ایمان و عملِ صالح اس کو اُن نفسیاتی پیچیدگیوں سے صاف و پاک کردیتا ہے جو کسی معاملے میں حق کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس طرح اس کا ایمان اس کو خُدائی راستہ پر چلا تارہتا ہے۔اس کے بعد خُدائے بر تر اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور کبھی بھی اس کواپنے سے الگ نہیں کرتا۔ اس کی رہنمائی بھی کرتا ہے اور اس کی مدد بھی۔اللہ کی منشاء اور پیغام کو ذہن نشین کریں تو آج سے ملت اسلامیہ کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوجائے گا۔ لیل و نہار تبدیل ہو جائیں گے ۔ ملت اسلامیہ کو وہی سر فرازیاں نصیب ہوں گی جو کبھی ہمارے بزرگ و آباء کو حاصل تھیں ۔غورطلب بات ہے کہ سورج ہمارے سروں پرچمک رہاہے،اور اس شان سے پورے عالم میں اپنی روشن کرنیں بکھیررہاہے۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ اس کی شان وشوکت اوراس کی تابناکیوں کارازکیاہے؟اس کاراز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے مالک وآقا کے بنائے ہوئے نظام اورضابطے کاپا بندہے۔ اس کے آقانے اس کے لئے جودائرہ متعین کردیاہے،وہ اسی دائرے میںگردش کررہاہے۔ اس کے طلوع وغروب کے لئے جواوقات مقررکردئے گئے ہیں،انہیں اوقات میںوہ طلوع وغروب ہوتاہے۔ اگرآج وہ اپنے محورکوچھوڑدے یااپنے دائرے سے باہرآجائے، خدانے اس کے لئے جوضابطہ بنایاہے،اگر وہ اس سے آزاد ہوجائے تودیکھتے ہی دیکھتے سورج کے بجائے راکھ کاڈھیر ہوجائے۔ لہٰذا ہمیں  اللہ کی راہ میں کو ئی بھی قربانی پیش کر تے قربا نی کی اصل مقصدیت اوراپنی حیثیت اورمنصب کویادرکھناچاہیے۔ یہی قر بانی کاپیغام ہے جو ملت اسلامیہ کوہرعیدالاضحی پر ربانی انقلاب کو اپنے اندر سرایت کرنے کی ہدایت دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح اور اسکے منشاء کو کو سمجھنے اور اپنی شریعت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (آمین)
courtesy: Kashmir Uzma Srinagar