Search This Blog

Tuesday, 14 August 2012

تصویریں بولتی ہیں Tasveerein bolti hain

تصویریں بولتی ہیں

















جانے میرے ساتھ ہی ایسا ہوا یا ہر شخص کو ان تصویروں کے دکھ نے ڈس لیا ہے کاٹ اتنی گہری ہے کہ آنسو تو نہیں آرہے لیکن آنکھیں جل رہی ہیں اور سارے لفظ اندر ہی ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو گئے ہیں۔ کہنے کو یہ چند سادہ سےکاغذ کے ٹکڑے ہیں لیکن سوچنے سمجھنے کے لیے ان میں اتنا کچھ ہے کہ میں اندازہ نہیں لگا پا رہا کہ ان تصویروں میں دکھ زیادہ ہے یا دنیا کے لیے پیغام ، سوچا جاۓ تو دکھ بھی تو ایک پیغام ہی ہے لیکن یہ سب کے لیے نہیں ہے کیوں کہ یہاں کچھ لوگوں کے انٹینے صرف انہی تصویروں کو کیچ کر پاتے ہیں جو نام نہاد القاعدہ یا کسی شدت پسند رویے کی عکاس ہوں ایسے لوگ انسانی خون کی بھی ریٹنگ کرنے سے نہیں کتراتے ان کی نظر میں فلسطین ، افغانستان اور عراق میں بہنے والا انسانی خون چند ٹکوں کا بھی نہیں ہے لیکن یورپ کاایک خون اتنی قدر و قیمت رکھتا ہے کہ اس کے لیےبیسیوں افغانی خونوں کا چڑھاوا بھی کم ہے ان کےنقطۂ نظر میں ان تصاویر کا بھرا دکھ بھلا راجیش کھنہ کی موت کے الم سے کیسے بڑھ سکتا ہے – یہ لوگ ساری زندگی اپنے گھر میں لگی آگ کو سینکتے رہتے ہیں لیکن جب عالم اسلام کے کسی گوشے میں ایسی تصاویر ابھرتی ہیں تو انہیں اپنے زخموں پر خارش ہونے لگتی ہے ایسے لوگوں کی یہاں کمی نہیں چند ٹی وی چینلز پر بڑی بڑی بحثیں سلجھانے میں ماہر ہیں کچھ کو دنیا کالم نگار اور اینکر پرسن کا نام دیتی ہے اور بے شمار خود کو دانشور سمجھتے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی چشمہ فکر سے سیراب ہوتے ہیں۔

ان “خدواندان عقل و فکر” نے اپنے مسائل اور دکھوں کو بھڑکا کر ، “سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ” کا تمسخر اڑا کر اور چند فیک تصاویر کا سہارا لے کر ان اصلی پرنٹس کو دھندلا دینا چاہا لیکن یہ تصاویر خود چیخ چیخ کے بتا رہی ہیں کہ برما کے مظلوم روہنگیا مسلمان کس قیامت صغریٰ سے گزر رہے ہیں – تم لاکھ دھول پھینکو یہ تصویریں بولتی ہیں کہ انکی نظروں کے سامنے خون کی ندیاں بہی ہیں ، آنسوؤں سے لدے چہرے بول رہے ہیں کہ کتنے لاشے اور جوان تڑپتے دیکھے ہیں دکھ سے اٹے جوان بتاتے ہیں کہ انکی آنکھوں کے سامنے نام نہاد “امن بردار ” بھکشوں نے ان کی ماؤں اور بہنوں کا خون کیا ہے ، ان بہنوں کے دکھ سے بھرے جسم بتاتے ہیں کہ کیسے ان کے سروں سے تاج اتار لیے گئے ، معصوم بچوں کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ کیسے انکے ماں باپ کو چیر پھاڑ دیا گیا ان تصویروں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے برما آج کا        بنا ہے ، وہی بوسینا ، وہی      و فلسطین ، وہی افغانستان اور پاکستان ٹھہرا ہے جہاں تہذیب یافتہ اور امن پسند انسان ، انسان کا شکار اس لیے شروع کر دیتے ہیں کہ انکی رگوں میں مسلم خون دوڑتا ہے۔

بلا شک آج برمی مسلمانوں کے دن دکھ سے بھرے اور راتیں زہر سے بھری ہیں ہر سانس خوف اوربھوک کا شکار ہے ایسے میں ترکی کے اسلام پسندوں نےمذکورہ دانش وری کے چہرےپر چپت رسید کرتے ہوۓ برما کا رخ کیا ہے ترکش وفد کو برمی مسلمانوں نے روہنگیا زبان میں اپنا قصہ درد و الم سنایا اور سلام ان اسلام پسندوں پر کہ جنہوں نے دل سے سنا اور مظلوم بھائیوں کے درد کو محسوس کر کے دنیا کو بتا دیا کہ یہ امت جسد واحد ہے کل یہ طعنہ دینے والے کہ ترکی پر بر سر اقتدار اسلام پسندوں کے بزرگ کبھی قاضی حسین احمد کے مہمان تھے وہ کیوں اس دکھ میں گھلےنہیں جا رہے آج اس مسیحائی کو بھی دیکھ لیں آج ایمن اردگان اور احمد داود اوغلو انگوری پھولوں کی بیل بن کر برما پہنچے ہیں اور مظلوم مسلمانوں نے اپنے دکھ اس میں چھپا لینا چاہے ہیں لیکن ان بھائیوں کے دکھ کے جنگل کو کاٹنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مسلم دنیا کے حکمران ابھی اس سوچ کی گرفت میں ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے ٹھیکیداری نہیں لے لی کہ اپنے گھر سے اٹھ کر دوسروں کے گھروں میں تاکنا شروع کر دیں معلوم نہیں گلوبل ولیج کا نعرہ لگا کر نسل انسانی کو ایک اکائی کہنے والوں کی یہ سوچ، دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والی ظلم و بر بریت پر کیوں سکڑنے لگتی ہے۔ ترکی کےاسلام پسندوں نے ان بودی سوچوں کو پیغام دیا ہے کہ اپنی تنگ بلوں سے دستبردار ہو جائو کیوں کہ دنیا بدل رہی ہے ترکی، مصر، تیونس، لیبیا اور مراکش میں اسلام پسندوں کی فتوحات سے جسد واحد کا تصور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے  اسلام کی نشات ثانیہ کا پھر آغاز ہوگا انشاء اللہ۔

عیدالفطر مسلمانوں کا جلیل و جمیل تہوار


  • عیدالفطر مسلمانوں کا جلیل و جمیل تہوار

  • مسرت اور لذت کا حصول انسانی فطرت کا خاصہ ہے ۔انسان ابتدا ہی سے خوشیوں کا متلاشی رہا ہے۔ کچھ خوشیاں انفرادی ہوتی ہیں جن میں صرف فرد اور اس سے تعلق رکھنے والے چند اشخاص شریک ہوتے ہیں اور کچھ خوشیاں اجتماعی ہوتی ہیں جن میں کسی مذہب یا علاقے سے وابستہ افراد من حیث القوم شریک ہوتے ہیں۔ خوشی کی ایسی تقریبات کے ایام جس میں کسی قوم کے افراد اجتماعی طور پر شریک ہوں اور انہیں مذہبی و ثقافتی حیثیت سے اپنا لیں، اس قوم کا تہوار قرار پاتے ہیں۔ تاریخ کے ابواب قدیم قوموں کے ایسے تہوارو ں کے ذکر سے خالی نہیں۔
    تہوار مختلف قوموں کی تہذیب و معاشرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ہر قوم اپنے معتقدات اور رسوم و رواج کے مطابق اپنے تہوار مناتی ہے۔ بعض قوموں کے تہوار ظاہری آرائش و زیبائش اور مال و دولت کی نمائش سے عبارت ہوتے ہیں اور کچھ قوموں کے تہوار قومی قوت و شوکت اور قومی استقلال و استحکام کا اظہار کرتے ہیں۔
    اسلام ایک دین فطرت اور مکمل ضابطۂ حیات ہے اور فرد اور معاشرے ، دونوں کی اصلاح و فلاح کا ذمہ داربھی، اس نے ملتِ اسلامیہ کو دو ایسے اسلامی تہواروں اور دینی جشنوں سے سرفراز کیا ہے جو فرزاندانِ اسلام کی خوشی ، روحانی بالیدگی ، انفرادی مسرت اور اجتماعی شوکت کا مظہر ہیں۔ ان میں سے ایک تہوار کا نام عید الفطر ہے اور دوسرے کا نام عیدالاضحٰی ۔

    ظہور اسلام کے ایک عرصہ بعد جب ہجرت کا عظیم واقعہ رونما ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کو دیکھا کہ وہ سال میں دو دن تہوار(غیر اسلامی )  مناتے ہیں۔ آپ(ص) نے دریافت فرمایا : یہ دو دن کیسے ہیں؟ اہل مدینہ نے بتایا یہ دو دن ہماری مسرت اور خوشی کے دن ہیں۔ ہم ان دنوں میں کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ(ص) نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ نے تم کو یوم الاضحٰی اور یوم الفطر کے دو دن عطا فرمائے ہیں جو تمہارے کھیلنے کودنے اور خوشی منانے کے ان جاہلیت کے دنوں سے بہتر ہیں۔ اس طرح حضرت شارع  نے اپنے اس فرمان سے عہدِ جاہلیت کی یادگار تقریباب و رسومات کا یکسر قلمع و قمع فرما کر اہل مدینہ و تمام مسلمانوں کو ’’عیدین سعیدین ‘‘ دو بابرکت عیدوں۔۔۔ کا تحفہ عطا فرمایا ۔
    ’’ عید الفطر‘‘ کا لفظ دو لفظوں عید اور الفطر سے مرکب ہے۔ اس کی تشریح اس طرح ہے کہ عید کا مادہ سہ حرفی ہے اور وہ ہے ۔ عود عادً یعود عوداً وعیاداً کا معنی ہے لوٹنا، پلٹنا واپس ہونا ، پھر آنا  چونکہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اس کے لوٹ آنے سے اس کی فرحت و مسرت اور برکت و سعادت کی گھڑیاں بھی اس کے ساتھ لوٹ آتی ہیں اس لیے اس روز سعید کو عید کہتے ہیں۔
    فطر کے معنی کس کام کو از سرنو یا پہلی بار کرنے کے ہیں:
    رات بھر کی نیند اور سکون و آرام کے بعد انسان صبح کو اٹھ کرجس مختصر خوراک سے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے اسے فطور کہتے ہیں۔ اسی طرح ماہ صیام میں سحری سے غروب آفتاب تک بن کھائے پیے رہنے کے بعد روزہ پورا کرکے روزہ دار کی بھوک مٹانے اور پیاس بجھانے کو افطار کہا جاتا ہے ۔ مہینے بھر کے روزوں کا فریضہ مسلمان سر انجام دینے کی خوشی میں یکم شوال المکرم کو حسب حیثیت عمدہ و لذیذ کھانے اور میٹھے پکوان پکاتے ہیں اور اسلامی برادی کے ان افراد کو بھی صدقۃ الفطر ادا کرکے اچھے کھانے پکانے کے قابل بناتے اور اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں جو اپنی ناداری و افلاس کے باعث اچھے کھانے پکانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تیس روزوں کے بعد حسب معمول کھانے پینے کا از سرنو آغاز کرنے اور صدقۃ الفطر کی ادائیگی کی بنا پر اس عید کو عید الفطر کہتے ہیں۔

    عید الفطر کو میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے یہ تہوار اسلام کے مزا ج اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار کی عکاسی کرتا ہے اس تہوار سے مسلمانوں کی اللہ سے وابستگی اورعبادت الٰہی سے دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ۔ عاقل و بالغ اور تندرست مسلمان مہینہ بھر دن کو روزہ رکھتے اور رات کو تراویح میں قرآن پا ک سنتے ہیں۔ مسلمان ماہ رمضان میں تلاوت قرآ ن حکیم کا بالخصوص اہتمام کرتے ہیں۔
    یوں ماہِ رمضان کے انتیس یا تیس دن گزرنے کے بعد اپنی عبادت و ریاضت اور ماہِ مبارک کی برکت و سعادت حاصل کرنے کی خوشی میں عید مناتے ہیں ۔ عید کے دن علی الصبح اٹھ کر عسل کرتے ہیں چند کھجوریں یا کوئی میٹھی چیز کھا کر بلند آوازسے تکبیریں پڑھے ہوئے ’’ اﷲ اکبر اﷲ اکبر لاالہ الااﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ‘‘ کہتے ہوئے بوڑھے بچے، جوان سب عید گاہ کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ شہر ہوں یا دیہات ہرجگہ مسلمان مرد و زن اور چھوٹے بڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ کپڑے پہنے ، آنکھیں بشاشت سے روشن اور پیشانیاں عید کی مسرت سے منور لیے نظر آتے ہیں۔ فضائیں تحمید و تقدیس اور تکبیر و تہلیل کی روح پرور صداؤں سے گونجتی سنائی دیتی ہیں۔ عیدگاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے لیے مسلمانوں کے اجتماعات ملی شان و شوکت کے نئے ولولے پیدا کرتے اور’’ شکو ہ ملک و دیں‘‘ کے دلنواز مناظر ، قلب و نظر کی تسکین و تمکین کا باعث بنتے ہیں۔
    یوم عید کے اکثر اعمال مسنونہ سے اس عقیدے کا اظہار ہوتا ہے کہ عظمتوں کے تمام پہلو اور کبریائی کی تمام صورتیں صرف خداوند ذوالجلال کی ذات بابرکات کے شایانِ شان ہیں۔ کبریائی اسی کی ذات کی زیبائی اور عظمت وجبروت اس کی قدرت کی جلوہ نمائی ہیں۔ تمام بندگانِ الٰہی وہ حاکم ہوں یا محکوم ، خادم ہوں یا مخدوم ، امیر ہوں یا غریب ، قوی ہوں یا ضعیف، سب کے سب اس کے عاجز بندے اور فانی مخلوق ہیں۔ وہ سب کا حاکم علی الاطلاق اور رازق دان داتا ہے۔ وہی اوّل و آخر ، وہی حیی وقیوم اور وہی ازلی اور ابدی ہے اور عظمت و کبریائی کے تمام مظاہرے صرف اور صرف اس کا ذاتی حق ہیں۔ عید الفطر کے روز عیدگاہ جاتے ہوئے سب کے دمہ کا بلند آواز سے تکبیریں  کہتے ہوئے جانا صلوۃ العیدین میں زائد تکبیریں پڑھنا اور پھر خطبہ عید میں متعدد بار ان تکبیروں کا دہرایا جانا محض اس لیے ہوتا ہے کہ توحید الٰہی اور مساوات اسلامی کا تصور مسلمانوں کے دلوں میں رج بس جائے اور ذہن کے نہاں خانوں میں اتر کر ان کے عقیدہ و عمل کا جز و لاینفک بن جائے۔



    ZAYE SHUDA HARARAT SE BIJLI BANANE WALI MACHINE

    ضائع شدہ حرارت سے بجلی بنانے والی مشین
    courtesy : KashmirUzma Srinagar

    آج دنیا میں جتنی توانائی پیدا کی جارہی ہے اس کا 60 فی صد حرارت کی شکل میں ضائع ہوجاتا ہے۔ یہ انکشاف توانائی سے متعلق ایک ادارے گلف کوسٹ گرین انرجی کے سربراہ لوئے سنیری نے۔ وہ امریکی ریاست ٹیکساس اور دوسرے مقامات پر موجود تیل اور گیس کے ہزاروں کنوؤں کی ضائع ہونے والی حرارت  کے کچھ حصے کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں کوئلے، قدرتی گیس اور جوہری پلانٹس سے جتنی بجلی حاصل کی جاسکتی  ہے، ہم  اس زیادہ بجلی پیدا کرسکتے  ہیں، اور یہ کہ ایسا کیا جانا ممکن ہے۔سنیری وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمین کے اندر پہلے سے حرارت موجود ہے۔ اگر آپ سخت نوکدار ڈرل مشین سے کسی سخت چٹان یا زمین کی پتھریلی پرت میں سوراخ کریں تو برما زیادہ گرم ہوجائے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں  سے سنیری کی ماحول مشین کا کام شروع ہوتا ہے۔ایک چھوٹی کار سے بھی چھوٹے سائز کے ڈبے میں سمٹ جانے والی یہ مشین  حرارت کو بجلی میں بدلنے کا کام کرتی ہے۔اس مشین کے توسط سے بڑی مقدار میں کنویں کا گرم پانی ایک پائپ کے ذریعے حرارت جذب کرنے والے  مادوں سے گذرتا ہے۔ یہ مخصوص مادے کم درجہ حرارت پر ابلنے لگتے ہیں اور بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس عمل سے بننے والی بھاپ کو بجلی کے ٹربائن چلانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔سنیری کہتے ہیں کہ ہم گرم پانی کے ذرائع سے خارج ہونے والی کم تر سطح کی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ گرم پانی گذرنے سے حرارت جذب کرنے والے  مادوں کے پھیلاؤ سے دباؤ پیدا ہوتاہے اور یہ عمل بھاپ کے ایک ٹربائن جیسا ہے۔ماحول دوست مشینوں کو صرف تیل اور گیس کے کنوؤں کی ضائع ہونیوالی حرارت کو ہی بجلی میں تبدیل کرنے کے لیے ہی نہیں ، بلکہ حرارت کو دوبارہ قابل استعمال بنانے والی اس ٹیکنالوجی کو شمسی توانائی کے پینلز، کوئلے سے چلنے والے پلانٹس،  اندورنی سلگاؤ کے اصول پر کام کرنے والے انجنوں اور حقیقی دنیا کی ان تمام صنعتوں میں ، جو  حرارت خارج کرتی ہیں،  استعمال کرکے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔پچھلے سال سنیری نے اپنی مشین کو  ڈیلس میں واقع  سدرن میتھوڈیسٹ یونیورسٹی  میں بوائلرز سے جوڑ کر پھاپ کی فضا میں تحلیل ہونے والی حرارت کو بجلی میں تبدیل کیا تھا ، جس سے یونیورسٹی کے بجلی کے بل کم کرنے میں مدد ملی تھی۔سنیری کہتے ہیں کہ ان کی گرین انرجی مشین،  کوئلے سے چلنے والے جنریٹر کے مقابلے میں انتہائی معمولی قیمت پر 70 گھروں کی بجلی کی ضروریات پوری کرسکتی ہے۔سدرن میتھوڈیسٹ یونیورسٹی کی جیوتھرمل لیبارٹری کی کوآرڈی نیٹر ماریارچرڈز کہتی ہیں کہ ان کی لیبارٹری کے حرارت پیما نقشوں  سے سنیری کو ان مقامات تک رسائی میں مدد ملی جن کاتعلق تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کی کارروائیوں سیتھا، اور وہاں سے حرارت خارج ہوکر فضا میں جذب ہورہی تھی۔ یہ مقامات گرین انرجی مشین کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی موزوں تھے۔ یونیورسٹی کا یہ شعبہ اور گلف کوسٹ گرین انرجی کا ادارہ کئی برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ رچرڈز کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ خلیج کے ساحلی علاقوں میں بڑی مقدار میں کم درجے کی ایسی  حرارت موجود ہے، جو استعمال ہونے کی بجائے ضائع ہورہی ہے۔ اس سے  ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہم تیل اور گیس کے کنوؤں پر کام کرکے  ضائع ہونے والے وسائل کو دوبارہ استعمال میں لاسکتے ہیں۔سنیری ٹیکساس میں تیل اور گیس کے کنوؤں کی کھدائی کرنے والوں سے ، جن کے ویسٹ ورجینیا میں بھی پراجیکٹ چل رہے ہیں،بات چیت کررہے ہیں اور اسی سلسلے میں وہ دوسری ریاستوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی کی تیار کردہ  حرارت کو بجلی میں بدلنے کی ٹیکنالوجی مؤثر اور ماحول دوست  ہے کیونکہ وہ فضا میں کچھ بھی خارج نہیں کرتی۔جیسے جیسے سدرن میھتوڈیسٹ یونیورسٹی کے  جیو تھرمل نقشے پر ایک گرم نقطے کے طور تیل اورگیس کے کنوؤں کی تعداد بڑھ رہی ہے، سنیری یہ توقع کررہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں ان کی گلف کوسٹ گرین انرجی مشینوں کی مانگ میں  بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا جائے گا۔

    BLACK HOLE

    کائنات کے اسرار۔۔۔۔۔بلیک ہول


    ہم میں سے اکثر نے بلیک ہولز(ثقب اسود) کا ذکر سنا ہے، اور قیاس یہ ہے کہ ایک دن ہماری زمین کسی بلیک ہول کی نذر ہوجائے گی، اور غالباً وہی وقت قیامت کا دن کہلائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں پھیلے ہوئے بلیک ہولز کی کشش ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی تک اس سے بچ کر گزر نہیں سکتی، جبکہ گیس، گردوغبار اور ستارے سبھی اس کے اندر کھینچے چلے جاتے ہیں۔ یہ مادے تیزی سے گھومتے ہیں اور گرم ہو جاتے ہیں جس سے طاقتور ایکسرے شعاوں کا اخراج ہوتا ہے۔
    سائنسدان ابھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ بلیک ہول کیسے وجود میں آتے ہیں لیکن عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مردہ ستاروں کا ٹھنڈا مواد ہے۔ یہ اتنا کثیف ہے کہ روشنی تک ان کی کشش ثقل سے بچ نہیں سکتی۔ کوئی جسم اگر بلیک ہول کی نزدیک سے گزرے گا تو بلیک ہول اسے اپنی طرف کھینچ لے گا بشرطیکہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ نہ ہو۔ 32 ملین نوری سال کی دوری پر ایک درمیانے سائز کا بلیک ہول چندرا ایکسرے مشاہداتی مشین کے ذریعہ دیکھا گیا ہے۔ عموماً ستارے سفید چھوٹے یا نیوٹرون ستارو کی شکل میں اختتام پذیر ہوتے ہیں لیکن بڑے ستارے جو تقریباً ہمارے سورج سے 10 یا 15 گنا بڑے ہوتے ہیں وہ بلیک ہول میں تبدیل ہوتے ہیں۔ چونکہ بلیک ہول ایک طرح سے ستارے کی لاش ہے یہ بہت عرصے تک قائم رہ سکتی ہے زمین یا کسی اور سیارے کو بلیک ہول سے خطرہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اس نہایت قریب سے گزرے اور اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے کم ہو۔ عموماً کہکشاؤں کے درمیان میں بہت بڑی جسامت کے بلیک ہولز ہوتے ہیں۔
    ثقبِ اسود کا لفظ دو الفاظ کا مرکب ہے ثقب ، جسکے معنی چھید یا سوراخ کے ہیں اور اسود ، جسکا مطلب ہے سیاہ یا کالا۔ گویا عام الفاظ میں ثقب اسود کو، سیاہ سوراخ کہا جاسکتا ہے۔ ثقب اسود کو انگریزی میں بلیک ہول کہتے ہیں۔ثقبِ اسود میں موجود مادے کا دائرہ ثقل اس قدر طاقتور ہوجاتا ہے کہ اس دائرے سے نکلنے کے لئے جو رفتار اور ویلوسٹی درکار ہوتی ہے وہ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے اور چونکہ روشنی کی رفتار سے تیز کوئی شے نہیں لہٰذا اسکا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی شے، ثقب اسود سے نکل نہیں سکتی فرار حاصل نہیں کرسکتی، یہاں تک کے روشنی بھی اسکے دائرہ اثر سے فرار حاصل نہیں کرسکتی۔
    ثقب اسود کی موجودگی کی شہادت مختلف ہیئتی (ایسٹرونومیکل) مشاہدات سے ملتی ہے۔ ایک ایسے جسم کا تصور کہ جس کی کشش سے روشنی سمیت کائنات کی کوئی شے فرار نہ ملے، جغرافیہ دان جوہن مچل کے مطابق یہ وہ زمانہ تھا جب ثقل کا نیوٹنی نظریہ اور سرعت فرار (ویلوسٹی اسکیپ) تخیلات اپنی جگہ بناچکے تھے۔ مائکل نے حساب کتاب کے گھوڑے دوڑائے کہ اگر سورج سے پانچ سو گنا بڑی جسامت کا کوئی ایسا کائناتی جسم جسکی کثافت بھی اتنی ہی ہو جتنی کے سورج کی اور اسکی سطح پر سرعت فرار، روشنی کی رفتار کے برابر ہو جائے تو وہ غیر مرئی یعنی موجود ہوتے ہوئے بھی غائب ہوجائے گا۔
     اس نے کائنات میں ایسے کسی جسم کی موجودگی کے امکان کو کہ جس کو دیکھا نا جاسکے یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاتا ۔زیادہ تر سیارے اور اجرام فلکی پائدار اور مستحکم حالت میں ہوتے ہیں کیونکہ برقات کے درمیان پائی جانے والی پالی قوت کی وجہ سے جوہر منہدم ہونے سے محفوظ رہتے ہیں جبکہ ثقل، برقناطیسیت اور قوی تفاعل کی قوتیں انہیں باندھ کر رکھتی ہیں اور ان تمام قوتوں کے توازن کی وجہ سے ہی تمام مادے اپنی ساخت کو قائم اور مستقل رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انتہائی حالات پیدا ہوجائیں، جیسے کہ کثیر المقدار مادہ کسی قلیل جگہ میں سمو دیا جائے تو پھر ثقل (گریوٹی) دوسری تمام قوتوں سے حد سے زیادہ بڑھ کر جیت جاتی ہے اور ایسی صورت میں اوپر بیان کردہ قوتوں کا توازن ختم ہوجاتا ہے۔
    اور اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برقات اور جوہروں کے مرکزوں کے درمیان مقررہ فاصلہ باقی نہیں رہتا اور ایک طرح سے وہ جیسے مرکزوں کی جانب منہدم ہوجاتے ہیں یا سادہ سے الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ گویا جوہر پچک گئے ہوں اور نتیجتاً ظاہر ہے کہ وہ مادہ بھی پچک جاتا ہے اور بے انتہا کثیف ہو جاتا ہے (اس قسم کے مادے کے لئے نیو ٹرونیئم نامی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے)
    رواں سال جون میں امریکی خلائی ادارے کی جانب سے نو اسٹار نامی دوربین، جسے بلیک ہول ہنٹر بھی کہا جاتا ہے، خلاء میں بھیجی گئی ہے، جو بالخصوص بلیک ہولز کو تلاش کرے گی اور ان کا بغور مطالعہ کریگی۔سائنسدانوں کیلئے بلیک ہولز آج بھی بھیدوں بھرے آسمانی عناصر ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ہر بڑی کہکشاں کے قلب میں واقع ہیں اور انہی میں ایک کہکشاں ہماری بھی ہے۔کچھ دہائیاں پہلے کا ذکر ہے جب سائنسدانوں نے سوچا کہ بلیک ہول ایک نادر چیز ہیں، لیکن گزشتہ0 2 سال کے دوران اس سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب امریکی خلائی ادارہ ناسا کائنات میں بلیک ہولز کی تعداد کا پتہ چلانے کی کوششوں میں مصروف ہوچکا ہے۔
    ناسا کے ایسٹرو فزکس شعبے کے ڈائریکٹر پال ہرٹز کہتے ہیں کہ ستارے، نیبولائے اور بلیک ہولز ایک خاص طرح کی شعائیں خارج کرتے ہیں جو میڈیکل ایکسرے میں استعمال ہونے والی شعاؤں کے مماثل ہیں ، لیکن زمین کی سطح سے ان شعاعوں کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی غرض سے نو اسٹار نامی دوربین ان ایکسریز پر تحقیق کرے گی اور سائنسی تجزئیے کیلئے ان کی تصاویر کو زمین پر بھیجے گی۔
    خلاء میں موجود دوربینوں نے اب تک ایسی تصاویر فراہم کی ہیں جن میں سینکڑوں عظیم الجثہ بلیک ہولز سے نکلنے والی عمومی شعاعوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ناسا کو توقع ہے کہ نو اسٹار دوربین نہ صرف بلیک ہولز کی بہتر تصاویر فراہم کریگی بلکہ آسمان کا جائزہ لیتے ہوئے اہم انرجی ایونٹس کا پتہ بھی لگا سکے گی۔
    دنیا بھر میں لوگ ان تصویروں کا مطالعہ کریں گے جن میں نو اسٹار کی کلیدی محقق ہیریسن فیؤنا بھی شامل ہونگی۔ فیؤنا کا کہنا ہے کہ نو اسٹار کائنات کیلئے ایک نئی کھڑکی کھول دیگی۔ دراصل یہ پہلی خلائی دوربین ہے جو بھرپور توانائی والی ایکس ریز پر توجہ مرکوز کریگی۔ اس طرح باقی خلائی دور بینوں کے مقابلے میں نو اسٹار سے بنائی جانے والی تصویریں 10گنا زیادہ واضح اور100 گنا زیادہ حساس ہوںگی۔
    ہیریسن فیؤنا کے مطابق نو اسٹار دوربین کا سائز عام ریفریجرٹر جتنا ہے لیکن اس میں جدید سائنسی آلات نصب کئے گئے ہیں۔ نو اسٹار کو خلاء میں بھیجنے کے تقریبا ایک ہفتہ بعد اس دوربین نے10 میٹر لمبا ماسٹ نصب کیا، جو اس کے آئینوں کو اس کے ڈی ٹیکٹرز سے جدا کریگا۔ یہ ماسٹ دراصل نواسٹار کو وہ فاصلہ فراہم کرتا ہے جو ایکسرے لائٹ کو واضح شکل دے گا۔
    ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ہر تین میں سے دو بلیک ہولز گردوغبار اور گیس کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں اور یہ نئی دوربین ان پوشیدہ بلیک ہولز کا بھی پتہ چلا سکے گی۔ اس کے علاوہ نو اسٹار یہ بھی بتا سکے گی کہ کوئی بلیک ہول کتنی تیزی سے گھوم رہا ہے، جس سے سائنسدانوں کو باآسانی یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بلیک ہول بنتے کیسے ہیں۔
    ناسا کے پال ہرٹز بتاتے ہیں کے مطابق امریکی خلائی تحقیقی ادارے کے باقی مشنز کی طرح اس بار بھی توقع کی جارہی ہے کہ نو اسٹار کے ذریعے ایسے غیر متوقع عناصر کا پتہ چلایا جاسکے گا جو کائنات کی وسعتوں میں موجود ہیں اور ان سے ہمارے بہت سے سوالوں کا جواب مل سکے گا۔
    بلیک ہولز کے بارے میں پیش کردہ حالیہ جدید ترین نظریے کے مطابق کائنات میں پائے جانے والے بلیک ہولز دراصل کسی دوسری کائنات تک پہنچنے کیلئے راستے یا دروازے کا کام کرتے ہیں۔ یہ نظریہ بلیک ہولز کے بارے میں پیش کردہ ابتدائی نظریے، ایسا جسم جو لامحدود کشش کا حامل ہو اور اپنے اردگرد کی تمام چیزوں کو اپنے اندر ضم کر رہا ہو، کے برعکس ہے۔
    اس نظریے کے مطابق بلیک ہولز کی حیثیت کسی تاریک غار کی بجائے دو کائناتوں کے درمیان ایک سرنگ کی سی ہے۔ ان کی بے انتہا کشش کی وجہ سے جو مادہ ان میں جا گرتا ہے وہ تمام مادہ بلیک ہول کے اندر جمع ہونے کی بجائے دوسری طرف سے باہر نکل جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر ایک بلیک ہول میں جمع ہونے والی کہکشائیں، ستارے، سیارے دوسری طرف ایک دوسری کائنات کی تشکیل میں استعمال ہو جاتے ہیں۔ یعنی بلیک ہولز، اصل میں بلیک ہولز نہیں بلکہ وورم ہولز ہیں۔
    لیکن تاحال یہ صرف ایک نظریہ ہے درست یا غلط کی بحث جاری ہے۔ تاہم یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے یا اس کی جگہ لینے کے لئے کوئی اور نیا نظریہ سامنے آتا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت اور اس موضوع پر ہونے والی تحقیق ہی کرے گی۔ لیکن یہ بات اس وقت تک مسلم ہے کہ بلیک ہولز کائنات کے سب سے پر اسرار اجسام ہیں جنکا کھوج لگانے میں سائنس کو بے حد دشواریاں ہیں۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں دو ایسے بلیک ہول کی موجودگی کے اب تک کے بہترین شواہد مل چکے ہیں، جو دونوں ایک ہی کہکشاں میں ایک دوسرے کے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ ایسے جڑواں نظاموں کے بارے میں ہمیشہ سے باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن کسی کو کبھی دیکھا نہیں گیا تھا۔نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والا مضمون کہکشاؤں کے پھیلاؤ کے نظریے کی تائید کرتا ہے جس میں ہر کہکشاں کے مرکز میں ایک بلیک ہول ہے۔ اس نظریے کے مطابق دو کہکشائیں جب ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں تو ان کے بلیک ہول ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہیں جب تک وہ ایک نہ ہو جائیں۔تاہم اب تک بلیک ہول کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور پھر گردش کرنے کے صرف سرسری شواہد موجود تھے۔بلیک ہول میں داخل ہونے والا مواد ایک مخصوص روشنی پیدا کرتا ہے جس بلیک ہول کی سمت کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ گھومتے جڑواں بلیک ہول کی صورت میں روشنی کی دو شعائیں جاری ہونی چاہیں جن کی رنگت مختلف ہو۔ ماہرین نے بلیک ہول کا اب ایک ایسا ہی جوڑا دریافت کر لیا ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کے انہوں نے روشنی کی جوشعائیں دیکھی ہیں وہ ایسے بلیک ہول سے ہیں سورج سے دوکروڑ سے لے کر ایک ارب گنا زیادہ بڑے ہیں۔ یہ دونوں بلیک ہول ایک دوسرے سے ایک تہائی نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔ بلیک ہول کے معیار پر دیکھا جائے تو یہ ایسا ہی جیسے دونوں گال جوڑ کر گھوم رہے ہیں۔

    IQBAL KI IQBAL MANDI

    اقبال کی اقبال مندی
    تو حید کے قا لب میں خودی کی پرچھائی

    توحید ارکانِ اسلام کا پہلا رُکن ہے، اِسی لئے یہ اسلام کے لئے سنگ بنیا د کی حیثیت رکھتا ہے ۔ توحید کے اصلا حی معنی ہیں اللہ پر یقین ِ کامل ہو نا، اسی کی عبادت کر نا ، اسی سے خیر وشر اور نفع ونقصان کی امید رکھنا، اسی سے مدد واستعانت طلب کر نا اسی کو اپنا نگران اور مہربان سمجھنا وغیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے اندر معا نیو ں، مفا ہیم اور مطا لب کی ایک بڑی کا ئنات رکھتا ہے کہ انسانی ذہن ان کا احا طہ کر نے سے قاصرہے ۔یہ اپنے اندرسمندر کی گہرا ئی آ سما نوں جیسی اونچا ئی اور آ فا ق جیسی وسعت رکھتا ہے۔ مرحوم علامہ اقبالؒنے توحید تشریح و تفسیر اورعشق رسولؐ سے اپنے شعر وکلام کو مزّین کر نے میں اپنے فکروفن کو استعمال کر نے میں کو ئی کسر با قی نہیںرکھی ہے ۔ انہو ں نے جہا ں اللہ کی کبریائی اور وحدا نیت کو تخلیقی آ گہی کا او ڑھنا بچھو نا بنا یا ، وہیں تو حید کو ایک سینۂ مو من کے اند ر اللہ کی اما نت قرار دیا ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انہو ں نے وحدانیت باری پر مومن کے ایما ن وایقان کو خودیکا جلّی عنوان دیا ہے۔ ایک صاحب ایمان فرد کی خودی سے خداوند کریم کی ذات و صفات کی یہ دلکش اور دلفریب تصویر جھلکتی ہے ۔ خود ہی ملا حظہ کیجئے   ؎
    خودی کا سر نہاں  لا ا لہٰ الا اللہ
    خودی ہے تیغِ فساں لا الہ ٰ الااللہ
    توحید کی حقیقت جس دِل میںبھی پیوستہ ہو گئی وہ دِل کبھی بھی ویران نہیں ہوتا ، وہ ہمیشہ آباد وشاداب رہتا ہے اور اُس دل می کبھی غیراللہ کا گزر بسر نہیں ہو سکتا ۔ دنیا کی تاریخ  لاکھوں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب مسلمانوں نے توحید کی اما نت کو چراغ راہ بن کر وہ منزلیں طے کیں اور ایسے سنہرے کارنامے انجام دئے ہیں کہ دنیا دھنگ رہ گئی ، مثلاََ کسی نے سمندر کے پانیوں پر گھوڑے دوڑائے ، موسیٰؑ نے دریائے نیل کا پانی با ذن اللہ دو حصوں میں تقسیم کیا  اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں کی سیر کی اور کا رخا نۂ کا ئینا ت کا وہ مشاہد کیا کہ کسی اور پیغمر کو یہ رتبۂ عالی نہ ملا ۔ مسلما نو ں نے اسی تو حید کے بل بو تے پر تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔انہو ں نے اس عقیدۂ عشق ومستی سے سرشار ہو کر دنیا کی کا یا پلٹ دی ۔
    اقبالؒ کی پوری شاعری کا بنیادی محور توحید کی تفہم وتشریح ہی ہے ۔اِسی لئے اردو اورفارسی کلام میں توحید کے جابجا نظر آتے ہیں اور اس کی ضو فشاینا ں چھلک رہی ہیں۔ انہوں نے شاعری کو محض حظہِ نفس کا ذریعہ نہ بنا یا بلکہ ان کی ہر تخلیق  اور ہر شعری تجربے کا ما حصل ہی یہ ہے کہ ایک نئی ہیت  اور معنویت کے ساتھ خدا کی وحدانیت اور انسان کی خو دی کا پیغام حق دنیا کوسنائیں ۔ وہ اس حقیقت کو بخو بی سمجھتے ہیں کہ قومو ں کے عروج وزوال میںان دونو ں تصورات کا کتنا عمل دخل ہے۔ لہٰذا اقبا ل نے ہمیشہ ملتِ اسلامیہ کو بیدار رکھنے ور اسے اپنی عظمت رفتہ حا صل کر نے کے ضمن میں ان تصورات کو پو رے آ ب وتا ب سے اپنا نے کی طرف بلا یا۔ اسی لئے اقبالؒ حکیم الا مت اور شاعر اسلام قرا ر پا ئے ۔افسوس تو یہ ہے کہ آج ملت اسلامیہ توحید کے حقیقی تصور سے ناآشنا ہے،آج مسلمان کا دلِ مضطرب اور موحدانہ شو ق ولو لہ اور راسخ یقین سے خالی ہو چکا ہے جس کی بدولت کبھی وہ سمندر کے پانیوں پر بے پرواہ ہو کر چلاکرتا تھا، دہکتی آگ سے زندہ بچ نکلتا اور با د ِ مخالف کے تھپیڑوں میں بھی عزم واستقامت کا کو ہ گراں بن کر دنیا پر چھا جا تا۔ وہ تو حید کی ایک ہی پکا ر وقت کے لا ت ومنا ت کو سر نگو ں کر تا ، خطروں سے کھیل کر ہر مشقت طلب مشن میں کا میا ب اور صحیح سلامت نکل آتا تھا اور اپنی ایک ہی آواز سے پوری دنیا کو للکاتا تھا۔اگرچہ آج ہر طر ف زبا نی کلا می توحید کا پر چم لہرا یا جا رہا ہے لیکن نہ وحدانیتِ الہٰ کے تصور سے مسلما ن کا کردا ر جگمگاتا ہے ، نہ اس میں خودی کی وہ چا شنی اور مٹھا س نظر آ تی ہے ۔ اس زما نے میں لا الہٰ کے نعر ے بلند ہو رہے ہیں مگر یہ صرف رسمی طور کیا جارہا ہے۔ ہمارے دل توحید اور خو دی کی خوبصورت اور بیش قیمت نعمت سے خالی ہیں ۔ ہمارے دلوں میں وحدت امت کی جگہ حسد ، بغض اور نفرت ، مسلکی تنازعات اور مشرب کی تقسیم کا لا وا کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ، اس لئے ہمارے وجود سے شرک کا اندھ کا ر دور ہو سکتا ہے نہ غلط رسوم وراج کا  خا تمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہم تذ لیل وتضحیک اور خو ں خرا بے کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اگر ہم دل سے یہ چا ہتے ہیں کہ دنیا میں ہم ای ذی عزت اور با وقار انسان بن کے زندگی جیئے تو اس کے سوا چا رہ نہیں کہ اقبال نے قرآ ن وسیرت سے کشیدہ تصور توحید کو ما ننا بھی ہو گا اور پھر عملا نا بھی ہو گا ۔ ایسا نہیں چل سکتا کہ دل و جا ن دنیا پر فریفتہ ہو اور زبان سے’ صرف خدا صرف مو لا ‘کا جھو ٹا دعویٰ ہو۔ توحید کی بدولت انسان زماں و مکاں کے حقائق سے آشنا ہو جاتا ہے ، توحید کی حقیقت کو پہچان کر انسان پر وہ اسرار واضح ہو جاتے ہیں جوسب کیلئے غیب ہو ں ، کیونکہ توحید کے زریعے انسان کو ایک ایسی نظر میسر آتی ہے جو ہر شیٔ پوشیدہ حقیقت کو فاش کر دیتی ہے ، ایک ایسی نظر جو سمندر سے گہری اور آسمان کی بلندی کی حامل ہو ۔ ظاہر اً ہرانسان کے پاس نظر ہوتی ہے لیکن بقول اقبال ؒ   ؎
    اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
    جو شئے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
    اقبال کے کلام کا جب بھی مطالعہ کیا جاتا ہے تو تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور توحید کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ بہت ساری عظیم شخصیتوں کی زندگی پر کلامِ اقبال کا گہرا اثر پڑا ہے جیسے مو لا نا مو دودیؒ، سید ابو الحسن علی ندویؒ ، مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد ؒ  وغیرہم ۔ امتِ مسلمہ آج جس بربادی اور انحطاط سے دوچار ہے ، مسلمان غلامی کے جس دلدل میں پھنس چکے ہیں وہ صرف اور صرف دین سے دوری اختیار کرنے اور توحید کی پہچان نہ ہو نے کی وجہ سے ہے۔ آ ج کم وبیش تما م مسلمان اپنے مقام و مرتبہ سے نا آشنا ہو چکے ہیں اور ان کی حالت اُس شیر کے مانند ہو چکی ہے جو بھیڑوں کی صحبت میں رہ کر اپنے مقصد وجود اور اپنی طاقت سے بے خبر ہو۔ مسلمانوں کی یہ حالت ِزار دیکھ کر جب علامہ مرحومؒ  کا دل تڑپ اُٹھا تو اُن کی زباں سے بے ساختہ نکل پڑا    ؎
    یا رَبّ دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
    جو قلب کو گر ما دے ، جو روح کو تڑپادے
    توحید کی  بدولت انسان کوایک الگ پہچان ملتی ہے ، اُس کے دل و دماغ سے دنیا کی ہوس کا مادہ نکل جاتا ہے اور اُس کے دل میں عظمت ِرب کا ایسا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر وہ کسی بھی طوفان سے ٹکرا سکتاہے ۔آخر پر یہی کہنا چاہوں گا کہ اگرچہ اقبالؒ ؑ عصرِ حاضر کے مسلمانوں کی حالت ِ زار کو دیکھ کر پریشاں خاطر تھے لیکن پھر بھی ایک ٹھوس اُمید کے ساتھ انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد سے نا صحا نہ تاکید کی    ؎
    یقین پیدا کر  نا داں !  یقین سے ہاتھ آتی ہے
    وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری
    ……………
    رابطہ:-سیر جاگیر سوپور ( کشمیر )؛موبائل نمبر:- 9858464730

    Monday, 13 August 2012

    رابطہ عالم اسلامی ایک تعارف

    رابطہ عالم اسلامی ایک تعارف

    سینٹر پروفیسر ساجد میر 

    سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز ؒ ایک پرہیز گار حکمران تھے جو ملت اسلامیہ کے اتحاد کیلئے ہر وقت فکر مند رہتے تھے ۔ 1962 میںن کی کوششوں سے عالم اسلام کے ممتاز علماءاور داعیان دین کا نمائندہ اجلاس مکة المکرمہ میں طلب کیا گیاجس میں رابطہ عالم اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سے قبل1936 ءمیں مکہ المکرمہ میں ہی مسلم امہ کو درپیش مسائل پر غور کیلئے ایک نمائندہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ جس میں ایسی ہی تنظیم کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی۔ چنانچہ موتمر عالم اسلامی کے نام سے تنظیم قائم کی گئی جس کی کانفرنسوں میں ہندوستان سے سید سلیمان ندوی ،ؒ مولانا محمد علی جوہرؒ، سید ابولحسن ندوی ؒ اور علامہ اقبالؒ جیسی عظیم شخصیات نے شرکت کی ۔جس نے امت مسلمہ کی نشاة ثانیہ کیلئے تجاویز پیش کی گئیں۔ آگے جاکر پھر موتمر کی جگہ رابطہ عالم اسلامی نے لے لی جو آج عالم اسلام کی ہمہ گیر اور وسیع ترین عوامی تنظیم بن چکی ہے۔ جسکا صدر دفتر مکہ المکرمہ میں واقع ہے۔ اسکے موجودہ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن الترکی ہیں۔ یہ پوری دنیا کی اسلامی این جی اوز اور نمائندہ شخصیات کا ایک بین الاقوامی فورم ہے۔

    اسکے قیام کا مقصد دعوت دین اور اسلامی عقائد وتعلیمات کی تشریح اور انکے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات یامعاندین اسلام کے اعتراضات کو بہتر طریقہ سے زائل کرنا ہے اور اس عالمی تنظیم کے پلیٹ فارم سے مسلمانان عالم کے مسائل ومشکلات کو حل کرنے اور انکی تعلیمی وثقافتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے مالی تعاون اسکی ترجیحات میں شامل ہے۔ گزشتہ مہینے مکہ میں رابطہ کا سالانہ تاسیسی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں اسکی باڈی کے نئے نام مجلس اعلی کی منظوری دی گئی اور اسکے لیے میری رکنیت کی بھی توثیق کی گئی۔ دنیا بھر سے خصوصا اسلامی ممالک سے وابستہ اسکے کل ارکان کی تعداد60 ہے جن کی مدت 5 سال ہو تی ہے ۔

     مسلم زعماءرابطہ عالم اسلامی کے پلیٹ فارم پر ان امور کو زیر بحث لارہے ہیں جنہیں اوآئی سی صحیح معنوں میں اٹھانے کا حق ادا نہیں کرسکی۔ اس وقت رابط کی تنظیم اقوام متحدہ کی اقتصادی کمیٹی اور غیر حکومتی تنظیموں کی مجلس میں بطور مبصر یا مشیر کی حیثیت سے شریک ہو تی ہے۔ اسی طرح مسلم ممالک کی جملہ کانفرنسوں میں بھی مبصر کے طور پر شرکت کرکے اپنی آواز بلند کرتی ہے جبکہ تربیت وتعلیم اور ثقافتی امور کی بین الاقوامی تنظیم یو نیسکو اور بہبود اطفال کی بین الاقوامی تنظیم یونیسف کی مستقل رکنیت بھی اسے حاصل ہے۔مختلف اجلاسوں میں اتحاد اسلام کی اہمیت وضرورت اور غیر اسلامی افکار ونظریات سے اجتناب کی تجاویز منظور کی گئیں۔

     حرمین شریفین کی عظمت، شعائر حج کی تقدیس اور مسلم حکمرانوں کا شعائر اللہ سے خاص تعلق، وحدت امت، دعوت الی اللہ، میثاق مکہ اور قضیہ فلسطین کے بارے میں تجاویز منظور کی گئیں۔گزشتہ ماہ 16 جون کو مکہ المکرمہ میں ہونےوالے اجلاس میں برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔اسکے علاوہ افغانستان کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ اس سلسلے میں ایک نمائندہ وفد نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات بھی کی ہے۔

     جن شعبہ جات کی اب تک تشکیل کی جا چکی ہے۔اس میں اشاعت وترویج قرآن کیلئے ایک کونسل ہے جو مسلمانوں کے بچوں میں قرآن سے لگاﺅ پیدا کرنے کیلئے حفظ قرآن کے مقابلوں کا اہتمام کرتی ہے کہ ،پھرتعلیمی کونسل ہے جسکا کام دنیا بھر میں مسلم ممالک کے علاوہ مسلم اقلیتوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کاخیال رکھنا ہے۔، اس ضمن میں جہاں نئے اداروں کی ضرورت ہے انکے قیام کی جدوجہد کرنا اسکے پیش نظر ہے۔ اسی طرح ،چیئرٹی فاﺅ نڈیشن، اقصی مسجد فاﺅ نڈیشن، انٹرنیشنل اسلامک ریلیف آرگنائزیشن، قرآن وسنت کے سائنسی انکشافات اور نشانیوں پر کمیشن ۔ورلڈ سپریم کونسل برائے مساجد، الفقہ کونسل کی شکل میں کمیٹیاں فعال ہیں۔ انہیں جدید اسلوب اور جدید فقہی، معاشی اور اقتصادی معاملات کے تناظر میں امور سونپے گئے ہیں۔ پاکستان سے دو علمی شخصیات مولانا تقی عثمانی فقہ کونسل جبکہ ڈاکٹر انیس احمد مساجد کمیٹی کے رکن ہیں۔

    دنیائے اسلام با لخصوص جبکہ یورپ ، افریقہ ودیگر غیر اسلامی ممالک بالعموم جہاں مسلم اقلیتیں ہیں وہاں انکے میڈیکل اور ویلفیئر کے مشن کام کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں آنےوالے زلزلوں اور سیلابوں سمیت قدرتی آفات کے موقع پر سعودی عرب کی حکومت نے رابطہ کے ذریعے کروڑوں روپے کی امداد بھجوائی تھی۔ مصیبت اور پریشانی کا کوئی بھی موقع ہو رابط عالم اسلامی تعاون میں پیش پیش نظر آتا ہے۔اسلام دشمن عناصر کی طرف سے مسلمانوں پر طرح طرح کے الزامات اور اسلام کا غلط تصور پیش کرنےوالے عوامل کے تدارک کیلئے تقابل ادیان کے شعبہ کے تحت علمی وتحقیقی کام کررہی ہے۔ رابطہ کے فورم پر یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں مذاہب کے درمیان مکالمے کی ضرورت واہمیت پر کانفرنسز منعقد کرائی گئی ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات بیان کرکے اسے پر امن مذہب کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے ۔ رواداری اور برداشت پر مبنی اسلامی تعلیمات عام کی جارہی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے پراپیگنڈہ کی نفی کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کئی کا نفرنسیں ہو چکی ہیں ۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کےخلاف جب بھی کوئی سازش ہوتی ہے اسکا حکمت عملی سے جواب دیا جاتا ہے۔ بین المذاہب مزاکرے اور مکالمے اسکے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے شدت پسند گروہوںکے انفرادی کردار اور سرگرمیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈالنا بڑی زیادتی ہے۔ غیرمسلموں کو اسلام کا خوبصورت امیج دینا اور دنیا کو تہذیبی ٹکراﺅ سے بچانا اسکی ترجیحات کا حصہ ہے۔    میں فرقہ ورانہ کشیدگی، فقہی اور گروہی مذہبی منافرت کم کرنے کیلئے رابطہ کا پلیٹ فارم بھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بعض اندرونی وبیرونی اسلام اور ملک دشمن قوتوں کی خواہش ہے کہ مذہب کے نام پر فساد کو ہوا دی جائے۔ حالانکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرکے ایسی تمام خرافات ومنکرات اور سازشوں کو مل کر ناکام بنا یا جاسکتا ہے۔ 

    Paighamabere Awwal se Paighambare Akhir tak

    پیغمبر اول سےپیغمبر آخر تک
    غلام اکبر

    اسلام کے عالمی فروغ اور مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کو سمجھنے کے لئے ہزار ہا برس سے رائج اس ” نکتہ ءدانش “ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ زمین کے کسی بھی ٹکڑے پر کاشت کرنے یعنی بیج بو کر فصل اگانے کےلئے زمین کے اس ٹکڑے پر کاشت کار کا قابض ہونا ایک لازمی شرط ہے۔

    اس موضوع کا انتخاب میں نے خصوصی طور پر اس لئے کیا ہے کہ یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے اور اس آخری عشرے کی اہمیت دُنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے یہ ہے کہ اس میں نزول ِقرآن ہوا تھا۔ جناب عبدالمطلب کے پوتے اور جناب عبداللہ کے فرزند حضرت محمد ﷺ پر جبل النور کی ایک غار یعنی غار ِحرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تھی اور یوں خدا وند کریم نے دین ِابراہیم ؑکی تکمیل اور فتح مندی کےلئے آپ کی ذات ِمبارکہ کو اپنا آخری اور حتمی نبی قرار دیا تھا۔ اور میں اسے صرف ایک اتفاق کی بات نہیں سمجھتا کہ اسی مبارک عشرے میں 27رمضان المبارک کی عظیم رات کو دُنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک نیا ملک ظہور پذیر ہوا تھا جس کی وجہءقیام یہ طے پا چکی تھی کہ یہاں آنحضرت کے نام لیوا اُس نظامِ حیات کو رائج کرینگے جس نظام ِ حیات کو رائج کرنے کےلئے آپ نے 13برس تک کفارِ مکہ کی چیرہ دستیوں کا سامنا کرنے اور انہیں راہ ِ حق اور راہ ِ نجات پر لانے میں ناکام ہونے کے بعد اپنا گھر بار چھوڑا تھا اور ایک تاریخی رات کے اندھیرے میں اس تاریخ ساز سفر پر نکلے تھے جسے ہم ہجرت کہتے ہیں اور جس نے کرہءارض پر آباد نسل ِ انسانی کی تقدیر تبدیل کرڈالی۔

    میں نے اِس مضمون کا آغاز اِس تاریخی دانش کے ذکر سے کیا ہے کہ زمین پر کاشت کاری کےلئے لازمی ہے کہ زمین پر کاشت کار کا کنٹرول ہو۔ تہذیب ِانسانی میں اسلام کا بیج بو کر اسلام کے فلاحی نظام کی فصل اگانے کےلئے بھی آپ کو ایک ” خطہ ءزمین “ کی ضرورت تھی جو خداوند کریم نے آپ کو مدینہ کی صورت میں مہیا کردیا۔ اپنے موضوع کو زیادہ واضح کرنے کےلئے اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ جس طرح کاشت کےلئے زمین کا کنٹرول ضروری ہے‘ اسی طرح نفاذ ِاسلام کےلئے ایک ملک کا وجود بھی ناگزیر سمجھا جائے۔ ریاست ِ مدینہ کا وجود میں آنا اسی سچائی کا اثبات تھا اور بات اگر میں دور ِ حاضر کی کروں تو مملکت ِ خداداد پاکستان کے قیام کے پیچھے بھی یہی تاریخی سچائی متحرک ہے۔ یہی وہ تاریخی سچائی ہے جس نے ہجرت کے بعد سیاست اور دین کو لازم و ملزم بنایا اور یہی وہ تاریخی سچائی ہے جس کی رو سے اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔

    پیغمبرِ اول سے پیغمبرِ آخر تک ہزاروں نبیوں کا ایک عظیم سلسلہ ہے۔ اور ہر پیغمبر یا نبی کے سامنے ایک ہی مقصد رہا کہ اولادِ آدمؑ کو ابلیسی حملوں سے محفوظ رکھنے کےلئے اسے معبودِ واحد اور معبود ِحقیقی کی بار گاہ میں سجدہ ریز رکھے۔اس عظیم مقصد کی تکمیل بالآخر تب ہوئی جب آپ نے پیغمبر ی کے مقدس بوجھ کےساتھ ساتھ اپنی امت کی سیاسی قیادت کرنے کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھایا اور ایک تاریخ ساز رات کو اُس عظیم سفر پر نکلے جو کبھی ختم نہ ہوا اور جوآج بھی جاری ہے۔ وہ سفر صرف آپ کا ذاتی سفر نہیں تھا ¾ آپ کی امت کا سفر بھی تھا۔

    اُس سفر سے پہلے آپ کی زندگی آپ سے پہلے آنے والے نبیوں کی زندگی سے مختلف نہیں تھی۔ وہ تیرہ ” نبوی سال “ جو آپ نے ہجرت سے پہلے مکہ میں گزارے صرف چند درجن خاندانوں کو ” راہ ِ فلاح ونجات “ پر لاسکے۔ ان تیرہ برسوں کے دوران آپ کو کیسے کیسے امتحانوں مصائب اور آلام سے گزرنا پڑا وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ مگر خدا نے لوح ِ محفوظ پر یہ لکھ دیا تھا کہ دُنیا میں اسلام تب پھیلے گا جب آپ اسلام کا بیج بونے اور اسلام کی فصل اگانے کےلئے زمین پر کنٹرول حاصل کرنے کو اپنا اور اپنی امت کا ناگزیر مشن بنائینگے۔آپ سے پہلے یہ مشن حضرت موسیٰ ؑ نے اختیار کیا مگر اُن کی امت اُن کا ساتھ چھوڑ گئی۔ 

    ایک مختصر عہد کےلئے حضرت داﺅد ؑاور حضر ت سلیمان ؑنے فلسطین میں خدائے بزرگ و برتر کی بادشاہت قائم کی مگر دُنیا کو ” اللہ اکبر “ کے نعروں کی گونج سے آشنا کرنے کی ذمہ داری قادر ِ مطلق نے اپنے آخری نبی اور اسکی امت کےلئے مخصوص کررکھی تھی۔
    اس ذمہ داری کی تکمیل کی طرف پہلا عظیم قدم ہجرت کی رات کو اٹھا۔ اس رات ترکِ وطن اور تسخیرِ عالم کو ایک ساتھ سنتِ نبوی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس ذمہ داری کی تکمیل کی طرف دوسرا عظیم قدم بدر کے کنووں کے دامن میں اٹھا جب اسلام کی پہلی تلوار کفار کی تلواروں کے ساتھ ٹکرائی اور تصورِ جہاد آپ کی امت کی تقدیر بن گیا۔اس سمت میں تیسرا عظیم قدم دعوت ِ اسلام کے ان مراسلوں کے ذریعے اٹھایا گیا جو آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد قیصر و کسریٰ اور دیگر درباروں میں بھیجے۔ان مراسلوں میں ” زمینی خداﺅں“ کے سامنے تین آپشن رکھے گئے تھے۔ نمبر ایک یہ کہ اسلام قبول کرو اور اُمت ِواحدہ کا حصہ بن جاﺅ۔ نمبر دو یہ کہ جزیہ یا خراج دے کر اس امت کی اطاعت قبول کرو۔ اور نمبر تین یہ کہ اگر دونوں صورتیں قبول نہیںتو جنگ کےلئے تیار ہوجاﺅ۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کے توسط سے بھیجے جانےوالے اس پیغام کے ذریعے واضح کردیا تھاکہ آنےوالے برسوں میں کیا ہونےوالا ہے اور اس سمت میں آپ کا حتمی قدم اس لشکر کی تشکیل تھا جس کی سالاری حضرت زید بن حارث ؓ کے فرزند حضرت اسامہ بن زید ؓ کے سپرد کی گئی اور جسے حکم رسول یہ تھا کہ حجاز کی سرحدیں عبور کرکے تکبیر کی صدائیں ان فضاﺅں تک پہنچا دو جو ”حاکمیتِ خداوندی “ کے تصور سے نا آشنا تھیں۔ یہ وعدہ بھی آپ کی ذات ِمبارکہ سے منسوب ہے کہ ” میرا جو امتی بھی قسطنطنیہ کو ”غیر اسلام “ کے قبضے سے آزاد کرانے کی جنگ میں شہید ہوگا اُسے جنت میں فضیلت ملے گی“۔

    یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُس دور میں قسطنطنیہ اسی انداز میں اور ن ہی معنوں میں دُنیا کا ” پاور سنٹر “ تھا جن معنوں میں آج واشنگٹن دُنیا کا پاور سنٹر ہے۔اس حدیث مبارکہ کے پیچھے ایک مقصد تھا )اور ہے (کہ آپ نے تسخیرِعالم کو اپنی امت کا تاحیات اور تاقیامت حتمی نصب العین بنا دیا اور یہاں میں پھر اس نکتہءدانش کو دہراﺅں گا جس سے میں نے اس مضمون کا آغاز کیا ہے۔ زمین سے فصل اسی صورت میں اگائی جاسکتی ہے کہ اس پر آپ کو کنٹرول حاصل ہو۔آپ نے اپنی زندگی میں ہی حجاز کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد جس تیزی کے ساتھ حجاز اور اسکے ملحقہ علاقے آپ کے کنٹرول میں آئے وہ معجزے سے کم نہیں ۔

    آپ کے وصال کے بعد آپ کی امت جس طوفان کا روپ دھار کر حجاز کی سرحدوں سے نکلی اور جس آہنی ارادے اور قوت کےساتھ قیصر و کسریٰ کی عظیم الشان سلطنتوں کو خس و خساشاک کی طرح بہالے گئی اس پر بھی ایک معجزے کا گماں ہوتا ہے۔ اس سے پہلے دُنیانے صرف سکندر اعظم کی طوفانی یلغار اور فتوحات کو دیکھا تھا ۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ سکندر اعظم تہذیب و ترقی کے گہوارے یونان سے نکلا تھا۔اسکے پیچھے افلاطون ارسطو اور سقراط کی دانش اور یونانیوں کی دیو مالائی داستانیں تھیں۔ آپ کی امت جس صحرا سے تسخیرِعالم کےلئے نکلی تھی وہ ہزار ہا برس سے تنہائی جہالت اور گمنامی کا شکار رہا تھا ۔ کوئی سو چ بھی نہیں سکتا تھا کہ جو طوفان پوری دُنیا پر چھا جانے والا ہے وہ مدینہ کی فضاﺅں سے اٹھے گا۔

    آپ کا انتقال 632عیسوی میں ہوا۔ 634میں مسلمانوں نے نصاریٰ کو اجنادین کے میدان میں پہلی بڑی شکست دی۔ 635میں مسلمان دمشق پر قابض ہوگئے۔636میں بصرہ مسلمانوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 637میں قادسیہ کسریٰ کے غرور کا قبرستان بنا۔639میں یروشلم فتح ہوا۔ 642میں باری سکندریہ کی آئی۔688میں مسلم افواج قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچ چکی تھیں ۔ یہاں انہیں پہلی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ قسطنطنیہ پر مسلمانوں نے متعدد مرتبہ یلغار کی مگر اسکی فتح کےلئے انہیں 1453کا انتظارکرنا پڑا جب سلطنت ِعثمانیہ کے عظیم فاتح محمد نے بالآخرقسطنطنیہ کی دفاعی فصیلیں توڑ کر رکھ دیں ۔

    711میں طارق بن زیاد جبل الطارق کے راستے ہسپانیہ جاپہنچے۔ 730تک مسلم افواج فرانس کے وسط تک پہنچ چکی تھیں۔ 732میں آپ کے وصال کے ٹھیک ایک سو سال بعد پیرس سے صرف ایک سو میل دور ٹورز کے میدان میں وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جس میں اگر مسلمانوں کے سالار عبدالرحمان حادثاتی طور پر گھوڑے سے گر کر شہید نہ ہوتے تو یورپ کی سرزمین مسلمانوں کے گھوڑوں کے سامنے بڑی تیزی سے سمٹتی چلی جاتی۔ اس مضمون میں مسلمانوں کی پوری تاریخ بیان کرنا ممکن نہیں ۔ زور میرا صرف ا س بات پر ہے کہ کشور کشائی اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کے علاوہ امت ِمحمدی کا اور کوئی مقصد ِحیات نہیں ہونا چاہئے۔

    خدا ہمارا حامی و ناصر رہے ! 

    Moulana Shibli ki jameiyat

    Courtesy: Munsif Hyd


    SRI LANKA KE MUSALMAN... SACHAI AUR INSAF KE MATLATSHI


    COURTESY: MUNSIF HYD


    JISM KI GHULAMI YA ROOH KI SHAHENSHAHIAT

    صیام :خو دفیصلہ کریں
    جسد کی غلا می یا روح کی شہنشاہیت؟

     وقت کی ریت ہماری مٹھی میںسے بڑی تیزی کے ساتھ پھسل رہی ہے ، کچھ ہی ثا نیوںمیں حال ما ضی میںبد ل جا ئے گا، زما نے کا پہیہ موسم کے مزاج کو متغیر کر دے گا اور ایسے میںاگر ہمیں معلوم ہی نہ ہوکہ ہم کس با بر کت ومبا رک مہینے کی صبحوں اورشاموں سے جدا ہو رہے ہیں ، کن پا ک فضا ؤں کو وداع کر ہے ہیں، کس نعمت اعظمیٰ کی بہاروں سیدامن جھا ڑ رہے ہیں تو الاماں والحفیظ ۔ جا گ اٹھئے کہ اب چو بیس دن سے مسلم دُنیا پر سایہ فگن ما ہِ صیام چند گھنٹوں کا مہما ن ہے ، آخری عشرے کی پُر کیف رو حا نی گھڑیاں تیز رفتاری کے ساتھ اپنے آ خر ی قدم گن رہی ہیں۔ اب یہ مبارک مہینہ قریب الا ختتام ہے ، اس لئے ان بچی کھچی قیمتی گھڑیو ں اور سا عتوں کا تقا ضا ہے کہ ہم سنجید گی سے اپنا احتساب کر یں اور اس امر کو یقینی بنا نے کی سعی و جہد کریں کہ دنیا پر ستی کی جس حرص وہو س نے ہما ری رحا نی دنیا کو اُجا ڑ کے رکھ دیا ہے…روحا نی اقدار کو تلپٹ کر کے ر کھ دیاہے…ہما ری دینی حمیّت و غیرت کو فنا کے گھا ٹ اُتا ر کے ر کھ دیا ہے …ہمارے ملّی تشخص پر سو الیہ نشان لگا دیا ہے…ہما ری غایتِ تخلیق …ربّا نی عبادت… کا جنا زہ بڑی دھوم سے نکال کے رکھ دیا ہے…ہما رے منصبی فریضہ… حق کی علمبرداری اور جھوٹ کی بیخ کنی…کو ہما رے قلب و ذہن سے بڑ ے چاؤ سے نکا ل کے رکھ دیا ہے ،ہما رے منصبی مقام… اما متِ عا لم…سے ہمیں کلی طور غافل و بے پرواہ کر کے رکھ دیاہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احساسِ زیا ں،جس پر قوموں کی بلنداقبالی اور زبوںحا لی کا مَدارہے…کب سے ہمارے دل سے ن کھرچ کے رکھ دیاہے   ؎                                      
    وائے نا دانی متاعِ کا رواںجا تا رہا
    کاروان کے دل سے احساسِ زیا ں جا تا رہا
     نری دنیا پر ستی کی قبا حت کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوں راہ نما ئی فر ما ئی ہے ’’ہر امّت کا ایک فتنہ تھا اور میری امّت کے لئے جو چیز فتنہ بنے گی وہ مال ہے‘‘…اس حدیث شریف میں ’’مال ‘‘  دراصل ’’دنیا ‘‘ کا قائم مقام ہے کیو نکہ دنیا کی وہ تما م چیزیں جن کو جلدباز انسا ن للچا ئی ہو ئی نظر وں سے دیکھتا ہے وہ ما ل ہی کے ذریعہ حاصل ہو تی ہیں۔ ما ل دنیا کے سا زو سا مان کی قیمت ہے‘‘۔ قر آنی تعلیما ت سے بھی یہ حقیقت مبر ہن ہو ئی ہے کہ یہی دنیا ہر زما نے میں انسا ن کی گمراہی کا سبب رہی ہے لیکن آپ صلعم پر رسا لت کی بصیرت نے یہ چیز با لکل عیا ں کر کے رکھ دی تھی کہ بعد کے دَور میں یہی دُنیا اُمت کیلئے فتنۂ عظیم بن جا ئے گی… زما نۂ حا ل آپ صلعم کے فر ما ن کی منہ بو لتی تصویر ہے…اگر حُبّ دنیاا س قدر قبیح اور غیر مطلوب ہے تو پھر خا لقِ کا ئنا ت نے اس دنیا کو وجو د ہی کیو ں بخشا…؟ قرآنی فر ما ن ہے ’’اللہ نے قو ت و حیا ت کو اس واسطے پیدا کیا تا کہ وہ دیکھے کہ کو ن حُسنِ عمل کا مظا ہر ہ کر تا ہے‘‘(۶۷:۲)حُسنِ عمل کا مظا ہرہ اسی دنیا ہی میں تو کر نا ہے۔دنیا ہی وہ سٹیج ہے جہا ں انسا ن کو اپنے عمل کا مظا ہر ہ کر نا ہے ’’دُنیا آخرت کی کھیتی ہے‘‘ کے فر ما نِ مصطفوی صلعم نے اس آیت کی شر ح ہما رے سا منے رکھ دی …لہٰذادنیا ’’ضرو رت‘‘ کی چیز ہے نہ کہ ’’مقصو د با لذات ‘‘ … دنیا کا دستو رِ عا م ہے کہ ’’ضرو رت‘‘ کو ہمیشہ ’’مقصد‘‘ پر قر با ن کیا جا تا ہے ۔ ہو نہا ر طا لبِ علم راتوں کی میٹھی میٹھی نیندکو جو اس کی شد یدترین ’’ضرو رت‘‘ ہے امتحا ن میں اعلیٰ پو زیشن جو اس کا ’’مقصد ‘‘ ہو تا ہے، خو شی خو شی قر با ن کر کے رکھ دیتا ہے۔ بغیر آخرت کا متوالا ہو ئے رات کی آخری گھڑیوں کی سکو ن بخش نیند کو بخوشی اپنی آ ہ سحر گا ہی کی قر با ن گاہ کی بھینٹ چڑ ھا تا ہے ۔کیو ں؟ صرف اس لئے کہ آخرت کے ابدی مقا م میں اپنے کوکا میا ب لو گو ں کے صف میں مو جو د پا ئے ، جو مو من تہجد گزارکا ’’ مقصد‘‘ہو تا ہے ۔ بس یہی مثا لیں حُبّ دنیا کی اصل حقیقت کو واضح کر تی ہیں ۔ ’’ضرورت‘‘کی حد تک دنیا سے محبت تو بد یہی حقیقت ہے لیکن اس دنیاوی محبت ہی کو ہم نے عین ’’مقصد زیست‘‘ بنا دیا ہے جو ربّا نی ارشادات اور مصطفوی ؐ فرمودات کی عین ضد ہے۔ دنیا کی محبت (حُبّ دنیا) ہی کو مقصدِزیست بنا نے سے متعلق ایک مفّکر نے کیاخوب فر ما یا ہے’’دنیا ہی وہ سب سے بڑ ا روک ہے جو حق کی آوز کو آدمی کے لیے قابل ِفہم اور قابلِ قبول بننے نہیں دیتا۔اسلام کی بلند تر حقیقتوں کو وہی شخص پا سکتا ہے جو دنیا اور دنیا کی چیزوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا چکا ہو ۔ جو اس سے اوپر نہ اُٹھ سکے اس کے عین سر کے اوپر حقیقت کی آو ز گو نج رہی ہو گی مگر اس کو گر فت کر نے کی طا قت سے وہ محر وم ہو گا۔اس کے پا س وہ کا ن نہیں ہو ں گے جن سے وہ سُنے اور وہ دل نہیں ہو گا جن سے وہ اسے سمجھے۔ آپ کی سعا دت و تر قی کے تما م امکا نات  اس وقت تک آپ سے دو ر رہیں جب تک آپ کی تو جہا ت دنیا کے اندر بکھری ہو ئی ہو ں۔
      آپ کا مو من بننا، آپ کا دا عی بننا،آپ کا مجا ہد فی سبیل اللہ بننا، سب کچھ منحصر ہے اس بات پر کہ اس سے پہلے آپ ’’زھد فی الدّنیا‘‘ کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر چکے ہو ں جو ر سول اللہؐ کے عظیم الشان فرمودہ میں… ’’اولُ صلاحِ ھٰذہِ ا  لاُمّۃ‘‘ ہے ۔ دنیا پسندی دوسرے لفظوں میں ظا ہر پسندی کا نام ہے اور زہد یہ روحا نی سطح پیدا کر تی ہے بلکہ زہد سے ہی وہ گہری نظر حا صل ہو تی ہے جو چھپے ہو ئے واقعات کو با لکل بے نقا ب دیکھ لے اور حقیقت سے یہ انتہا ئی حدتک آشنا ہو کر بو ل سکے …گو یا اللہ تعا لیٰ نے ہم کو جو دنیا میں بھیجا ہے اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم یہا ںکی نعمتوں اور لذات میں غرق ہو ں اور یہاں رہ کر اپنے صرف دل کی تمنا ئیں پو ری کر یں بلکہ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کو ن ہے جو دنیا کو ہی اپنے حو صلوں او ر تمناؤںکا مصرف بنا تا ہے اور کو ن دنیا کو آ خر ت کی پو نجی۔آیئے اب ذرا اِس با ت کا تھو ڑا سا جا ئز ہ لیں کہ ما ہِ صیا م کے رو زے کس طرح حُبّ دنیا کے اس ایما ن لیوا عا رضہ سے ہمارے ایمان و احتساب کی کمیّت و کیفیت کی مقدار کے مطا بق ہمیں نظر فریب دنیاسے چھٹکا را دلانے کا با عث بن جا تے ہیں۔ صوم یا صیا م کے معنٰی ہیں رک جا نا۔ صیا م کی قرآنی اصطلاح صبحِ صا دق سے سورج غروب ہو تے تک کھانے پینے اور جنسی خوا ہش پوری کر لینے سے رُک جا نا ہی مقصود ہو تا ہے ۔یادرہے اکل و شرب اور مبا شرت زندگی کی بنیادی ضروریات ہی نہیں بلکہ اکل و شرب پر حیا تِ انسا نی کا مدار ہے اور جنسی مبا شرت پر نسلِ انسانی کے وجود و بقاء کا مدار ہے۔اکل و شرب اور مبا شرت تر ک کر نے سے جن پر انسانی جسم کے فربہَ توا نا اور زور آور ہو نے کا مدار ہے، صیّام کی بدو لت کمزور، ناتوان اور بے زور ہو جا تا ہے اور نتیجتاً روح فربہَ تو انا اور زور آور ہو نے لگتا ہے۔ سیّد سلیمان ندوی کے ذیل کے ارشا دات روزہ کے بدو لت انسا نی جسم کے ناتواں اور انسانی روح کے توانا اور تنو مند ہو نے پر یو ں عالما نہ روشنی ڈالتے ہیں : ’’روح اور جان کا جسم میں با قی رہنا صرف سدِّرمق پر مؤقف ہے اور سچ یہ ہے کہ سدِّرمق صرف کھا نے کے چند لقموں اور پا نی کے چند گھو نٹوں پر مو قف ہے اور سچ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی تما م انسا نی ضرو رتوں کا مو لدو فشا ن انہیں چند لقموں اور چند گھو نٹوں میں افراط و وسعت کا …اور تعیش کا نتیجہ ہے ۔ اس بنا ء پر ایک انسا ن اور ایک فرشتہ یعنی عا لم نا سو ت اور عا لم ِملکو ت کے دو با شندوں میں اگر فر ق و امتیا ز کی دیوار قا ئم کی جا ئے تو صرف یہی ایک چیز تما م فر ق و امتیازات  کا محیط ہو گی ۔ انسا ن کے تما م جر ا ئم اور گنا ہو ں کی فہرست اگر تیا ر کی جائے اور اس کی حرص و ہو س اور قتل و خو ن ریزی کے آخری اسبا ب ڈھونڈ ے جائیں تو انہیں دو چیزوں کے افراط اور تعیش کی فر ید طلب اس سلسلہ کی آخری کڑی ہو گی۔اس بنا ء پر دُنیا کے تما م مذا ہب میںمادیات کی کثافتوں سے بر ی اور پا ک ہو نے کیلئے اکل و شر ب سے ایک حد تک امتنا ع اور پر ہیز سب سے پہلی شرط رکھی گئی ہے، جس سے اصل مقصود یہ ہے کہ انسا ن رفتہ رفتہ اپنی ضرورت کا دائرہ اور آخر پہ کہ قو ت و غذا کی طلب وحرص سے بھی بے نیازی کیلئے متوا تر کو شش جا ری رکھے کہ انسانوں کے تما م گنا ہ اور جرائم اسی ایک قو ت کے نتا ئج ما بعد ہیں۔ اگر یہ طلب و ضرو رت فنا ہو جا ئے تو ہم کو دفعتا ً عالمِ نا سو ت میں عا لم ِ ملکو ت کی جھلک نظر آنے لگے لیکن جب تک انسا ن انسا ن ہے اس کو غذا سے قطعی بے نیا زی ہونی نا ممکن ہے ۔ اسی بنا ء پر تما م مذاہب نے اس سے احتسا ب اور بے نیا زی کی ایک مدت محدود کر دی ہے۔ یہ قرآنی ارشا د اے ایما ن وا لو ! تم پر رو زے فر ض کئے گئے جیسے پچھلی امّتو ںپر تا کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ‘‘ (البقرہ۱۸۳)کی رُو سے روزہ کا اصل مقصو د تقویٰ کا حصو ل ہے۔تقویٰ کے حصول کے ضمِن میں پیغمبر انقلا ب صلعم نے کیا خو ب فر ما یا ہے : ’’ کو ئی شخص متقیوں میں شما ر کئے جا نے کے قا بل نہیں ہو سکتا جب تک اس کایہ حا ل نہ ہو جائے کہ وہ ان چیزو ں کو چھو ڑ دے جس میں کو ئی حرج نہیں ، ایسی چیز وں سے بچنے کی خا طر جس میں واقعتہً حر ج ہے ‘‘ (ترمذی۔ابن ماجہ)۔ ایک مفّکر کے بقول ’’دنیا کا عیش و آرام فی نفسہٖ با لکل جا ئز ہے مگر ایک حسا س مو من ان سے صرف اس لئے بچتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ اس میں پڑ کر اس کا نفس مو ٹا ہو جا ئے گا ‘‘نفس کا مو ٹا ہو نا’’ زھد فی الدّنیا‘‘ کی ضِد ہے۔زھد فی الدّنیا سے لطا فتِ روح حا صل ہو تی ہے جب کہ عیش وعشرت کثا فتِ رو ح کا با عث بن جا تی ہے۔
      یاد رکھئے حقیقت ایک غیر ما دی چیز ہے ۔ اس لئے وہ روح جو ما دی آلا ئشوں میں پھنسی ہو ئی ہو وہ حقیقت کو با لکل بے نقا ب حا لت میں دیکھ نہیں سکتی ۔ اس کا مشا ہدہ ہمیشہ دھند لاسا مشا ہدہ ہو گا جس میں حقیقت کے بعض رُخ دکھا ئی دیں گے اور بعض رُ خ نظر وں سے او جھل ہو جا ئیں گے۔ لہٰذا حصولِ تقویٰ کے لئے جو ربّا نی ارشا د کے مطا بق روزہ کی غا یت اولیٰ ہے ،متذکرہ حدیث نبوی ؐ کی رو شنی میں مومن کو ما ہ صیام میں دنیا کی ما دّی آلا ئشوں سے اپنے آپ کو بچا نے کی کما حقہ ٗسعی و جہد کر نی چا ہئے تا کہ صیا م کے اختتام کے بعد بھی وہ دُنیا سے مقدور بھر بے رغبت ہو چکا ہو۔ تقویٰ تعیشِ دنیا کو مقدور بھر تر ک کر نے کا متقاضی ہے۔ تعیشِ دنیا اور دنیا طلبی میں صیّام سے پہلے اور پھر صیّام کے بعد بھی متفرق رہا جا ئے تو محو لہ با لا حدیث نبویؐ کی رو شنی میں صیّام کے اہم تر ین تر بیتی کو رس سے ہم نے پھر کیا حا صل کیا…؟ ہر سال ما ہِ صیا م  کی با بر کت سا عتیں اور گھڑیا ں یہ سوا ل نو شتہ ٔدیوار بن کر ہما رے سامنے لا کھڑا کر تی ہیں۔ ما ہ صیّا م کی با بر کت سا عتیں اگر ایما نی شعور اور احتسابِ نفس کے سا تھ گزاری جا ئیں تو لا زم ہے کہ دنیا وی آلائشوں کی جن گرانبار زنجیر وں نے ہمیں جکڑ کے رکھ دیا ہے وہ لا زماً ڈھیلی پڑ جائیں گی کیو نکہ بقو ل مو لا نا عبدا لما جددریا با دی: ؒ ’’نماز میں جس طرح عبد یت کی تکمیل ہو تی ہے ٹھیک اسی طرح روزہ دار کو اخلا قِ الٰہی کے ساتھ کس درجہ مناسبت و مشا بہت پیدا ہو جا تی ہے۔بھوک اور پیاس سے بے نیازی ،صبروضبط، قوت واحتیاط،حلم و تحمل، عفوو در گزر، یہ سب شانیں بند ے کی ہیں یا مو لیٰ کی ؟ عبد کی ہیں یا معبود کی؟ خا ک کے پتلے کی ہیں یا آسما ن کے فر ما نروا کی؟ پھر یہ کیو نکر ہے جو شیٔ کچھ ہی دیر کے لئے ہی سہی اس کیفیت سے منا سبت پیدا کر رہی ہو ،جو شیٔ ذرہ میں آفتا ب کا پر تو ڈال رہی ہو ،جوشیٔ آیئنہ میں جلاّ پیدا کر کے اسے نورانیت ِکا ملہ کا عکس قبو ل کر نے کے قا بل بنا رہی ہو ، آپ اس نعمتِ عظمی کی جا نب لپکنے سے تا مّل کر رہے ہیں ‘‘ا فسوس ہما ری معرو ضی حالت اتنے سالوں صیام کی آ مد ورفت کے با وجود سطورِبالامیں پنہاں حقائق کا اثبات کر رہی ہے یا نفی ؟۔ما ہ صیّا م کی اہمیت کا اندا زہ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے درجِ ذیل سطو ر سے بخو بی لگا یا جا سکتا ہے : ’’رمضا ن المبارک کا مہینہ مومن کے لئے سا لا نہ ور کشا پ کی ما نند ہے۔آج کے سا ئنٹفک دو ر میں پرو فیشنل لو گ اپنے آپ کو اَپ ڈیٹ کر نے کے لئے، اپنے پرو فیشنل نا لیج میں تر قی کے لئے اور اپنے لو گوں کی تر قی کے لئے سالانہ کچھ نہ کچھ کر تے رہتے ہیں ۔ قرآن مجید نے چو دہ سو سا ل پہلے یہ تصور پیش کر دیا تھا کہ اے ایما ن وا لو !تمہیں بھی اپنی جذبا ت اور کیفیا ت کو بر قرار رکھنے کے لئے اور اپنے آپ کو’’روحا نی‘‘ طور پر اَپ گر یڑکر نے کے لئے سا ل میں ایک مہینہ ایسا دیا جا رہا ہے جس میں تم قرآن مجید کی تعلیما ت شروع سے آخر تک نئے سر ے سے سنو گے اور جذبوں کی سچا ئی کے ساتھ پھر عمل کا ارادہ کر لو گے‘‘۔

    Sunday, 12 August 2012

    MASHWARA - SHAH NAWAZ FAROOQUI

    مشورہ

    شاہ نواز فاروقی
    -زندگی ایک سیلِ رواں ہے۔ اس سیلِ رواں میں تیرنا آسان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیلِ رواں میں تیرنے کے لیے جس اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے اسے عرفِ عام میں ’’فیصلہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ انسانی زندگی میں فیصلے کی اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے فیصلوں کا حاصل اور ان کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انسان جیسا فیصلہ کرتا ہے زندگی ویسی ہی بن جاتی ہے۔ لیکن انسان فیصلہ خلا میں نہیں کرتا۔ اسے فیصلے کے لیے نیت، مشاہدے، تجربے اور علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسی جس کی نیت، جیسا جس کا مشاہدہ، تجربہ اور علم ہوتا ہے وہ ویسا ہی فیصلہ کرتا ہے۔ لیکن ایک عام آدمی کا مشاہدہ، تجربہ اور علم کتنا ہوسکتا ہے؟ انسان کے مشاہدے، تجربے اور علم کے محدود ہونے سے ’’مشورہ‘‘ اہم بن کر سامنے آتا ہے۔ ہمارے دین میں مشورے کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقانِ حمید میں مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے معاملات باہمی مشورے سے طے کیا کرو۔ اس کو اسلام میں شوریٰ کا اصول کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو باہمی مشورے کی ہدایت کیوں کی گئی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مشورے میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رہنمائی کی صورت، سعادت اور برکت پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ تعلق کے شعور اور نیک نیتی کے ساتھ صحیح لوگوں سے مشورہ کرتا ہے اسے یہ تمام نعمتیں میسر آتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سردار الانبیاء ہیں، خاتم النبیین ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو جو علم عطا کیا کسی کو عطا نہیں کیا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور مسلمانوں کو مشورے کا عادی بنانے کے لیے آپؐ خود صحابۂ کرامؓ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا ہے کہ جب کسی مسئلے پر ان دونوں کی رائے یا مشورہ ایک ہوجاتا ہے تو میں ان کے مشورے کے خلاف عمل نہیں کرتا۔ تاہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ سے مشورہ نہیں کرتے تھے۔ آپؐ کے زمانے میں صحابہ کی تعداد قریباً ایک لاکھ تھی مگر آپؐ چند صحابہ کرامؓ سے مشورہ کرتے تھے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مشورہ ہر کس و ناکس سے نہیں کیا جاسکتا۔ غور کیا جائے تو دنیا میں انسانوں کی تین اقسام ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جن کی کل متاع زندگی کا محدود سا تجربہ یا مشاہدہ ہے۔ ایسے لوگوں کو ’’اہل الرائے‘‘ کہنا چاہیے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس زندگی کا تجربہ اور مشاہدہ بھی کافی ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ علم بھی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ’’صاحب الرائے‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کے پاس تجربے اور مشاہدے کی وسعت اور گہرائی بھی ہوتی ہے، علم بھی ہوتا ہے اور تقویٰ بھی ۔ ہماری تہذیبی روایت میں ایسے لوگوں کو ’’صائب الرائے‘‘ کہا گیا ہے۔ مشورہ دراصل ’’صائب الرائے‘‘ لوگوں سے ہی کیا جانا چاہیے۔ وہ ہمارے آس پاس موجود نہ ہوں تو انہیں تلاش کرنا چاہیے، اور تلاش کے بعد بھی وہ دستیاب نہ ہوں تو ’’صاحب الرائے‘‘ افراد سے رجوع کرنا چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرماتے تھے وہ ’’گروہِ صحابہ‘‘ کے صائب الرائے‘‘ لوگ تھے۔ یعنی وہ صحابۂ کرامؓ جو مشاہدے‘ تجربے‘ علم اور تقوے میں سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ صحابۂ کرامؓ میں مشورہ دینے کی سب سے زیادہ اہلیت حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کئی مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے بجائے دوسرے صحابۂ کرامؓ کے مشورے پر عمل کیا لیکن بعد میں حضرت عمر فاروقؓ کے مشورے کے مطابق اور اس کی حمایت میں وحی نازل ہوگئی۔ مثلاً غزوۂ بدر کے اسیروں کے بارے میں حضرت عمرؓ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ بہت نرم خو تھے۔ انہوں نے مشورہ دیاکہ اگر اسیرانِ بدر میں سے جو شخص دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اسے رہا کردیا جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبرؓ کے مشورے کو اختیار کیا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد حضرت عمرؓ کے مشورے کے حق میں وحی نازل ہوگئی۔ اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تو تبدیل نہیں ہوا مگر حضرت عمرؓ کے مشورے کی اصابت ثابت ہوگئی۔ لیکن صحابۂ کرامؓ میں مشورے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھنے والے حضرت عمرؓ خود مشورے کے محتاج تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر انہیں ایک عام عورت کا مشورہ تسلیم کرنا پڑا، اس لیے کہ وہ حضرت عمرؓ کی رائے سے زیادہ درست اور قرآن مجید کے حکم کے عین مطابق تھا۔ حضرت عمرؓکے زمانۂ خلافت میں مہر کی رقم بہت بڑھ گئی تھی جس سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہوگئیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حضرت عمرؓ نے چاہا کہ وہ مہر کی حد مقرر کردیں۔ انہوں نے اپنے اس خیال کو مسلمانوں کی ایک مجلس میں بیان کیا جس سے ’’مشاورت‘‘ کی فضا پیدا ہوگئی۔ اس فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عورت نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ جب قرآن مجید کی فلاں آیت میں مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تو آپ مہر کی حد مقرر کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ حضرت عمرؓ کو ایک لمحے میں احساس ہوگیا کہ ان کی رائے غلط اور عورت کا مشورہ بالکل درست ہے، چنانچہ انہوں نے بھری محفل میں اپنی رائے سے رجوع کیا اور جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ ایک عورت کا علم عمر کے علم سے بڑھا ہوا ہے۔ ہمارے دین اور ہماری تہذیب میں مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ تم اپنے کاموںکے سلسلے میں استخارہ کرلیا کرو۔ استخارہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشورہ کرنا ہے۔ کہنے والوں نے تو اس سلسلے میں یہ تک کہا ہے کہ اگر کوئی شخص میسر نہ ہو تو انسانوں کو دیوار سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشورہ کرنے کے نتیجے میں دیوار انسانوںکی طرح کلام کرنے لگے گی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشورے کی نیت کی وجہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ کسی بہتر بات تک پہنچادیں گے۔ اس کے دل میں کوئی بہتر خیال ڈال دیں گے۔ مشورے کے نفسیاتی‘ سماجی اور علمی فائدے بھی بے شمار ہیں۔ انسان بہت آسانی کے ساتھ خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے کم علم کو بہت سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی عقل اور فہم کی صلاحیت پر اسے بہت جلد ناز ہوجاتا ہے اور وہ دوسروں اور ان کی ضرورت سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ لیکن مشورہ اسے یاد دلاتا ہے کہ اس کا مشاہدہ، تجربہ، علم اور فہم محدود ہے اور اسے بہتر رائے تک پہنچنے کے لیے دوسرے لوگوں کے مشاہدے‘ تجربے‘ علم اور فہم کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مشورہ کرنے والا آسانی کے ساتھ خودپسندی میں مبتلا نہیں ہوتا اور وہ بڑی حد تک تکبر سے بچا رہتا ہے۔ اسلام مشورے کو صرف ایک انفرادی معاملہ نہیں رہنے دیتا بلکہ وہ اسے ایک اجتماعی رجحان یہاں تک کہ اجتماعی ذوق بنادینا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے جس میں لوگ گہرے طور پر ایک دوسرے سے متعلق اور ایک دوسرے پر انحصار کرنے والے ہوں۔ مشورے کا عمل انسانوں کو ایک سطح پر ایک دوسرے سے متعلق بھی کرتا ہے اور وہ انسانوں کو ایک دوسرے پر انحصار کرنا بھی سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری تاریخ میں ’’مشورہ‘‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حضرت علیؓ کے زمانے میں جب انتشار بڑھتا ہی چلا گیا تو ایک صاحب نے حضرت علیؓ سے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ سے پہلے کے خلفاء کے زمانوں میں معاملات ٹھیک تھے مگر اب ٹھیک نہیں ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے مشیر ہم تھے اور ہمارے مشیر تم ہو۔ مشیروں کی یہ اہمیت رسالت اور خلافت کی تاریخ ہی میں نہیں بادشاہوں کی تاریخ میں بھی اہم رہی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مغل بادشاہ اکبر کا دور اس کے نورتنوں‘ یعنی نومشیروں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہماری تہذیب میں چونکہ مشورہ ’’صائب الرائے‘‘ لوگوں سے کیا جاتا ہے، یا ’’صاحب الرائے‘‘ لوگوں سے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں مشاہدے، تجربے، اور ان سے بڑھ کر علم اور تقوے کی فضیلت نمایاں ہوتی ہے، اور معاشرے میں علم و تقوے کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے، اور معاشرہ دولت اور طاقت کے غلبے سے محفوظ رہتا ہے۔ ہماری تہذیب میں مشورہ ایک امانت ہے۔ چنانچہ کوئی مشورہ طلب کرے تو پورے اخلاص اور پوری اہلیت سے مشورہ دینا چاہیے۔ nn

    عروج وزوالِ اقوام۔۔۔ایک تاریخی تجزیہ

    عروج وزوالِ اقوام۔۔۔ایک تاریخی تجزیہ


    عروج وزوالِ اقوام ہمیشہ ہی ایک دلچسپ موضوع ِبحث رہا ہے۔مقدس مذہبی کتابوں میں بھی اِس موضوع پر بھر پور نظر ڈالی گئی ہے جس میں مرکزیت اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکام سے سر گردانی کو حاصل ہے جس کے نتیجے میں مختلف ادوار میں مختلف قومیں سزا کی مرتکب قرار پائیں۔تاریخی تجزیے بلکہ علمی دائرے میں بھی پرکھا جائے تو ریاست کی بنیادیونان میں پڑی اور یونانیوں کواپنی قومی زندگی کو منظم کرنے کیلئے ایک سیاسی و سماجی ادارہ میسر ہوا۔اگر چہ افلاطون کو ریاستی تصور ( لغت لاطینی میں سٹیٹ ) کا بنیاد گذار کہا جاتا ہے البتہ سیاسی و سماجی جدوجہدکی بنیاد اُن کے پیشرو سقراط(470-399 قبل مسیح) نے ڈالی۔ اتفاقاََ اُن پرالزام جوانوں کو بہکانے اور مروجہ مذہب کے خلاف پرچار کرنے کا تھا۔یہ صحیح ہے کہ قدیم یونان، جسے منطق کی آماجگاہ مانا جاتا ہے ،میں مذہب یا دین کا وہ تصور نہیں تھا جو کہ ابراہیمی ؑ مذاہب میں پایا جاتاہے جنہیں ا ہل کتاب کہا جاتا ہے البتہ مذہب علامتی شکل میں اپنی جگہ بنائے رہا اور تصوراتی ناخداؤں کو ڈھا ل بنائے ہوئے سماجی اجارہ داری کا جال سماج کے ٹھیکیدار بنتے رہے اور اُن کے نام پہ غریب و غربا کا استحصال ہوتا رہا جس کے خلاف سقراط نے آواز بلند کی اور سزا کے طور پر اُنہیں زہر کا پیالہ(ھملاک) پینا پڑا۔اُن کے جیلر نے اُن کے لئے راہ فرار بھی مہیا کی جسے اُنہوں نے قبول کرنے سے پرہیز کیا پس سقراط کو حق کی راہ میں قربان ہونے والا مجاہد اول مانا جاتا ہے جس نے حق و صداقت کی خاطر زہر پی لی۔
    قدیم یونان میںمنطق (لاجک) نے تعلیم و تربیت کی بنیا د فراہم کی اور تعلیماتی محاذپر عمرانیات ( سماجیات ۔سوشیولوجی)یعنی سماج کی ترتیب و تشکیل کا پہلے مضمون کے طور پرظہور ہوا۔سماج کی ترتیب و تشکیل کے لئے قدیم یونان میں ریاست کا قیام ضروری قرار پایا اور ریاستی تشکیل میں سیاسیات کا مضمون معرض وجود میں آیا۔یہ افلاطون (پلاٹو۔428-348 قبل مسیح) کا تیار کردہ فلسفہ تھا۔فلسفے کی تعریف منطق سے محبت کے طور پرہوئی ہے جو بجائے خود ایک وسیع مضمون ہے بلکہ منطق سے محبت کو اگر مادرِ مضامین کا نام دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔تعلیماتی پیش رفت میں فلسفے عمرانیات و سیاسیات کے ساتھ ساتھ سائنسی پیش رفت بھی ہوئی تاکہ قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کے جسمانی راحت کا سامان میسر ہو سکے ۔بقراط (ھیپو کریٹس۔466-377 قبل مسیح) نے حیا تیاتی (بیولوجیک) سائنس کی بنیاد ڈالی اور دنیا کے پہلے حکیم کہلائے ۔اُس کے بعد ستارہ شناسی فزیکس و شیمیائی کے شعبے میں بھی خاصی پیش رفت ہوئی اور سائنسی میدان میں ارشمید و جالینوس جیسے عظیم سائنسدانوں نے خاصا کام کیا جبکہ دوسرسے مضامین جو ادب (آرٹ) یا آداب زندگی (آرٹ آف لیونگ) سے وابستہ ہیں ،روحانی راحت کاسبب بن سکتے ہیں بشرطیکہ اِن مضامین سے صحیح سبق حاصل کیاجائے جبکہ غلط تشریح انفرادی و قومی بے راہ روی کا سبب بن سکتی ہے جیسا کہ مختلف تاریخی ادوار میں بار بار دیکھا گیا ہے ۔ 
    سیاسیات و ریاستی تصور (پلا ٹوز ریپبلک) میں افلاطون کا کام بحیثیت بنیاد گذار قابل قدر ہے اور تعلیم کو ادارتی شکل دینے میں پہلے مدرسے کے طور پر اُنہوں نے ہی اکیڈمیا کی بنیاد ڈالی جہاں سے اکیڈمکس (تعلیمات) کا قابل تحسین تصور اُبھرا جو اِس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ بھلے ہی دوسرے تصورات بالفرض سیاسیات و عمرانیات چرخِ زندگی کو چرخانے کیلئے اہم ہو ں، تعلیم کے دوسرے شعبہ جات کو کسی بھی صورت میں پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا ۔ عملی سیاست میں جب افلاطون کود پڑے تو جلد ہی وہ اکتا گئے اور اُن کے یہ الفاظ تاریخی ہیں کہ ’’یہ جگہ باضمیر آدمی کیلئے نہیں ہے‘‘ پس وہ اپنے قائم کردہ مدرسے میں واپس لوٹے اور حصول تعلیم کو ہر شعبہ ثانوی سے زیادہ اہمیت دے بیٹھے۔ سیاسات کے بارے میں افلاطونی نظریہ سے اختلاف کی گنجائش ہے کیونکہ افلاطونی دور کے تقریباََ ایک ہزار سال بعد رسول اکرم آنحضورؐ نے ثابت کیا کہ ایماندرانہ سیاست کوبروئے کار لے ریاست کو بہ نحو احسن ترتیب دیا جا سکتا ہے اور عملاً اُنہوں نے مدینہ منورہ میں آئیڈیل اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کو ایک بیش قیمت تجربے سے روشناس کرایا۔ بہت سے مغربی علما کو ذات مقدس آنحضور ؐ میںوہ تخیلی ریاستی سر براہ نظر آیا جس کا خواب افلاطون اور اُس کے شاگرد ارسطو (ارسٹا ٹل۔384-322 قبل مسیح) نے دیکھا تھااور جسے افلاطون نے فلاسفر سٹیٹس مین کا عنواں دیا۔
    تاریخ گواہ ہے جب بھی کسی دیش کسی ملک میں ایماندارانہ سیاست بروئے کار آئی، جب بھی مخلص سیاست دان ناؤ ریاست کے کھیون ہار بنے، لوگوں کابول بالا ہوا ا،لبتہ یہ انسانیت کا المیہ ہے کہ ایسے ادوار تاریخ عالم نے کم ہی دیکھے۔قدیم یونان و مدینہ منورہ کی آئیڈیل اسلامی ریاست میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے، وہ ہر حال و ہر مقام پرتعلیم پر اصرار ! ۔اپنے استاد افلاطون کی مانند ارسطو نے ایک اور عظیم مدرسے کی بنیاد ڈالی جسے تاریخ لا ئسیم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ مدینہ منورہ کی عظیم اسلامی ریاست میں پس از غزوہ بدر قیدیوں میں سے آنحضورؐ نے اُن اشخاص کو بالکل معاف کیا جو تعلیم سے آراستہ تھے اور اُن کی سزا یہی قرار پائی کہ وہ مدینہ منورہ کے نو نہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔یہ تعلیمی لحاظ سے تاریخ عالم کا وہ دور تھا جب کہ آفتاب عالم آنحضور ؐ کے بعث مبارک پر پورے عرب میں صرف و صرف 17افراد تعلیم یافتہ تھے۔
    قدیم یونان میں جہاں تاریخ ِانسانی بلندی کی شاہد رہی وہیں قومیں کیسے زوال پذیر ہوتی ہیں، وہ شہادت بھی تاریخ میں پائی جاتی ہے ۔روایت ہے کہ یونان میں صوفسطائی (صوفیسٹ) گروہ اُبھراجنہوں نے مناظرے(ڈبیٹ) کی روش قائم کی۔ یہ بات ذہن نشین کرنی پڑے گی کہ صوفسطائیوں کا صوفی ازم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ پہلے پہل توبحث مباحثہ صحت مند روایتیں قائم کرتے ہوئے سماجی نشو نما کا سبب بنا البتہ بگذ شت زمانہ یونانی فلسفے میں اِس حد تک غوطہ زن ہو گئے کہ صوفسطائی راہ چلتے لوگوں کولا حاصل فلسفیانہ بحث میں اُلجھانے لگے جس سے قوت عمل کا فقدان و بتدریج قومی جمود طاری ہو گیااور ایک انتہائی ذہین قوم رومیوں کی دست نگر بن گئی البتہ اِس حالت میں بھی رومی آقاؤں کو ہر آڑے وقت میںیونانی غلاموں کے مشوروں کی ضرورت رہتی تھی جو بہر حال تحکمانہ لہجے میں مانگا جاتاتھا۔ آقا ؤں و غلاموں کا یہ انوکھا سنگم انجام کار تاریخ عالم میں گریکو رومن تہذیب کا عنواں لئے رقم ہوااور تاریخ  ایک اور سبق ثبت کر گئی کہ ذہین قومیں کیسے نسبتاً عقل کی نمو میں کمتر قوموں کی اسیر ہوتی ہیں۔ بد بختی روزگار!یونان فلسفے میںاِس حد تک ڈوب گیاکہ قومی سلامتی نظر سے اوجھل ہو گئی۔ایک ایسا گناہ جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی اور جس کی افادیت وہمہ گیری علامہ اقبالؒ نے یوںبیاں فرمائی ہے:
                                 میں تم کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
                                               شمشیر و سناں اول طاوس و رباب آخر!!
     سقوطِ یونان سے طلوع اسلام تک کا دور فلسفیانہ طرز حیات و سائنسی نظریے سے عاری رہا۔ دبدبہ شہنشاہی و مذہبی اجارہ داری نے عوام الناس کی سوچنے و سمجھنے کی قوتوں کے راہوں کو مسدود کر کے رکھا ہوا تھا۔ ٹھیک وہی تھا جو حکمران کہے اور صحیح وہ جس کی نشاندہی مذہبی پیشواکرے، چنانچہ قبل از طلوع اسلام ایران و روم میںجہاں ساتویں صدی کی دو عظیم قوتیں قائم تھیں، دبدبہ شہنشاہی و مذہبی پیشواؤں نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا لیا تھا۔مغربی رومی سلطنت کے زوال کے بعد رومیوں کادارالخلافہ مغرب یعنی روم سے مشرق یعنی قسطنطنیہ (استنبول۔ترکی) میں منتقل ہو گیا۔یہ پس از دور مسیح  ؑ کا ذکر ہے۔مسیحت کو پہلے پہلے قبول کرنے والوں میں رومیوں کے یونانی غلام تھے جنہوں نے شہر روم کے گرد و نواح میںپہاڑی ٹیلوں کی غاروں میں پطرس (سینٹ پیٹر) کی خفیہ تبلیغ سے متاثر ہو کرمسیحت کو قبول کیا لیکن قریباً 400 سو سال بعد مسیح  ؑ کے عیسائیت کو شاہ کانس ٹن ٹائن کے دور حکومت میں قومی مذہب کا درجہ ملا اور اُسی دور کا ذکر ہے کہ سینٹ پال نے تثلیث اور کفارہ کا اضافہ کر کے مسیحت کو ایک نئی شکل دی ۔سینٹ پال مسیح بننے سے پہلے ایک متعصب یہودی تھا اور پھر ایک متعصب عیسائی بن کے اُس نے یہودیوں کا جینا حرام کر دیا اور جب مشرقی رومی (بازنطینی)سلطنت کے حاکم قیصر روم کی فوجوں نے شام میں پسپائی اختیار کر لی تو مسلمین کی مذہبی رواداری سے یہودی کافی متاثر ہوئے۔اُس کے بعد مسلمین کو جب فوجی وجوہات کی بنا پرکچھ عرصے کیلئے دمشق کو خالی کرنا پڑا تو تاریخ گواہ رہی کہ یہودی رو پڑے۔ 
    اسلام نے مسدود راہوں کو کھولنے کا کام کیا۔قران کریم کو قران الحکیم بھی کہا جاتا ہے۔ حکیم اخذ ہے حکمت سے اور حکمت عین منطق و سائنسی طرز فکر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ روحانی تقویت کے ساتھ ساتھ اسلام نے عقل کے بند دریچوں کو کھول دیااور اندھی تقلید کو ممنوع قرار دیتے ہوئے توہمات کو منطق سے عاری فعل سمجھا جانے لگا۔  قران کریم میں انفس (فلسفہ) و آفاق (سائنس) کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے، جو ایک دوسرے کی آبیاری کرتے ہیں۔فلسفہ راہرو وندگی سے وابستہ ہے یعنی فلسفے کو اگرمنطق کی راہ سمجھا جائے تو فلسفہ ہمیں منطقی زندگی جینے کی راہ بتاتا ہے اور اسلام عین منطق ہے جو قانون قدرت سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے چنانچہ ایک مسلم مفکر کا قول ہے کہ غیر قدرتی بالحقیقت غیر اسلامی ہے۔انفس و آفاق دونوںہی قران کریم کی آیات کے مطابق انسانی ترقی سے وابستہ ہیں، چنانچہ آیت شریف53:41 میں ذکر ہوا ہے عنقریب دکھائیں گے ہم اُن کواپنی نشانیاں کائنات (الافاق) میں اور خود اُن کے نفوس میں(فی نفسہم)پس یہ حصول علم اور سائنسی طرز فکر کی دعوت ہے تاکہ کائنات کی نشانیاں ہم پرظاہر ہو سکیں۔
    اسلام کے سنہری دور میں فرمود ہ آنحضورؐ ’’ربِ زدنی علمیٰ‘‘شعار مسلمین بن چکا تھا، چنانچہ بقول بوعلی سینا ’’ کامیاب تجربہ عبادت کی تکمیل ہے‘‘  کے مصداق بغداد کی تجربہ گاہوں میں یونانی علوم کے اثبات میں تجربات ہوئے۔کہتے ہیں کہ یونان کی علمی اساس کو بغداد کی تجربہ گاہوں میں پروان چڑھایا گیاچنانچہ پنڈت جواہر لال نہرو رقمطراز ہیں کہ’ ’بغداد نے یونانی علمی خزانوں کو ہم تک پہنچایا ‘‘۔ علمی حلقوں میں یہ مانی ہوئی بات ہے کہ علوم یونانی کو بغداد نے نہ صرف تحفظ فراہم کیا بلکہ اُس میں قابل قدر اضافہ کر کے رستا خیز (جدید سماجی و سیاسی ترتیب) یورپی کے بعداُسے علم و دانش کے نئے وارثوں تک پہنچایا ۔ قدیم یونان ہی کی طرح اسلامی فرقوں میں بے منطق بحث و مباحثے  کی جو روش مناظر وںکی صورت میں بغداد کے چوراہوں پر قائم ہوئی، وہ مسلمین کی عملی صلاحیتوں کو کھا گیا اور انحطاط (تنزل ) کا سبب بنا۔بغداد کے چوکوں میں مختلف فرقوں کے علمائے کرام اپنے اپنے فرقے کی کتابوں کو لے کر کئی لیل و نہار (دن و رات) کے مناظروں کے بعد انجام کار جذباتی ہیجان میں ایک دوسرے کی عبائیں پھاڑتے تھے اور ایک دوسرے کی داڑھیاں نوچتے تھے۔تاریخ اسلام کا سنہری دور بغداد میں 1258؁ء میں اختتام پذیر ہوا جبکہ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو نے بر بریت کی انتہا میں پہلے تو دجلہ کے پانی کو بغداد کے کتب خانوں میںموجود ہزاروں کتابوں کی سیاہی سے سیاہ کیا اور پھر لا تعداد مسلمانوں کے خون سے دجلہ کا پانی سرخ ہوا۔بغداد کا ذکرہسپانیہ (اسپین) کے بغیر نا مکمل ہو گا جہاں750؁ء میں عباسیوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعدامویوں کی ایک شاخ پہنچ گئی اور اگلے سات سو سال سے زائد عرصے بلکہ درست  1492؁ء تک ہسپانیہ ’مسلم اسپین‘ بنا رہا۔ بغداد ہی کی طرح یہاں کی دانشگاہوں خصوصاً قرطبہ میں علوم کو بے حساب سر پرستی حاصل ہوئی اور جب علم و دانش میں کی افزائش میں مسلمین کے رول کا ذکر ہوتا ہے تو بغداد و قرطبہ ہم پیالہ و ہم نوالہ نظر آتے ہیں اور یہی سے علوم نے آج کی دور کی جدید کروٹ لی جب یورپی اقوام نے عربی علمی خزانوں کا لاطینی ترجمہ کر کے یورپ کو علم و ادب کا نیا گہوارہ بنایا۔اتفاقاً  1492؁ء میں ہی جبکہ آخرین ریاست غرناطہ سے مسلمین کا خروج بعمل آیا،امریکہ دریافت ہوا۔
     تاریخی جائزے میں قدیم یونان و اسلامی دور اورآج کی یورپین تہذیب میں تعلیم و تربیت کی نشو و نما کے علاوہ چین میںکنفیوشین سوچ کو بھی علمی ذخائر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں ویدک فلسفہ زندگی کے ہر گوشے کو سموئے ہوئے ایک عمیق و جاندار نظریہ حیا ت رہا ہے ہے اور ویدک فلسفے نے علم و دانش حتّی کہ سائنسی تجسس کے لئے بھی راہ بنائی چنانچہ ستارہ شناسی طب و ریاضی کے شعبہ جات میں قدیم ہند میں کافی پیشرفت دیکھنے کو ملتی ہے البتہ ہندوستان میں بھی برہمن اجارہ داری اور منو وادیت نے سماجی طبقہ بندی کو راہ دے کر قومی صلاحیتوں کو عرصہ دراز تک مفلوج کر کے رکھ دیا جسے زمانہ جدید میں سماجی وسیاسی جاگرتی سے دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔منجملہ مسائل زندگی  کی دیکھ ریکھ کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم سے بہرہ مند ہونا اور بھر پور فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تفرقے سے دوری قوموں کی نشو و نما کیلئے بے حد ضروری ہے ۔ تاریخ سے ہمیں یہی سیکھ ملتی ہے کہ منطق سے عاری غیر ضروری لا حاصل بحث و مباحثہ قوموں کے لئے انجام کار گراں ثابت ہوتا ہے اور اُس سے گریز یا بچنے کی کوشش بے حد ضروری ہے ۔ یار زندہ صحبت باقی!
    Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com