Search This Blog

Thursday, 8 June 2017

سحری اور افطار کا مسنون وقت



سحری اور افطار کا مسنون وقت
از:   محمد اسلم غازی

                وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِص ثُمَّ اَتِمُّواالصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ج ..... (البقرہ : 187)  ترجمہ: اور راتوں کو کھائو پیو یہاں تک کہ تم کو رات کی سیاہ دھاری سے صبح کی سفید دھاری نمایاں نظر آجائے۔ پھر رات ہونے تک اپنا روزہ پورا کرو۔
                روزہ انسان میں صبر اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ صبر کا مفہوم ثابت قدمی ہے۔ یعنی روزہ اللہ کی اطاعت میں ثابت قدمی پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ کا مفہوم اللہ کا ڈر ہے یعنی روزہ اللہ کا ڈر پیدا کرتا ہے۔ روزہ صبح صادق کے وقت سحری کرنے سے شروع اور غروب آفتاب کے و قت افطار پر ختم ہوتا ہے۔ سحری اور افطار کے آداب ملحوظ رکھنا روزہ دار کے لیے ضروری ہے۔ فی زمانہ سحری اور افطار کے بہت سے آداب کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن ختم سحری اور افطار کے اوقات  میں بڑی شدت برتی جاتی ہے۔ اس مضمون کے ذریعے سحری اور افطار کے مسنون اوقات کی نشان دہی اور ان میں برتی جانے والی شدت کا ازالہ مقصود ہے۔
 
                اوقات سحری و افطار کے خوشنما و دیدہ زیب رنگین کارڈ رمضان المبارک کی آمد سے ہفتہ بھر قبل سے ہی مساجد کے باہر تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ ہر چھوٹا بڑا انتہائی شوق سے یہ کارڈ حاصل کرتا ہے تاکہ رمضان میں اُسے اوقات سحری و افطار کی معلومات بسہولت ملتی رہے۔ ان کارڈوں پر احتیاطاً سحری کا وقت صبح صادق کے آغاز سے 10منٹ قبل اور افطار کا وقت غروب آفتاب سے 5منٹ بعد درج کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر صبح صادق  04:55 پر ہے تو ختم سحری 04:45 درج ہوگا اور غروب آفتاب 07:13پر ہے تو وقت افطار 07:18 درج ہوگا۔ محلے کی مساجد میں صبح صادق ہونے سے نصف گھنٹہ قبل سے ہی لائوڈ اسپیکر پر اعلان شروع کردیے جاتے ہیں کہ سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ بعض جگہ تو صبح صادق سے دس منٹ قبل ہی ختم سحری کا اعلان بذریعہ اذان کیا جاتا ہے جو جہالت اور دین سے عدم واقفیت کا ثبوت ہے کیونکہ صبح صادق سے قبل اذان فجر دینا غلط ہے۔ اس اذان کو سن کر کوئی نماز فجر پڑھ لے تو وہ ادا ہی نہیں ہوگی۔ صبح صادق ہونے کے بعد ہی نماز فجرپڑھی جانی چا ہیے۔ ختم سحری سے قبل مساجد کے لائوڈ اسپیکروں سے بار بار تیز آواز میں توجہ دہانی کرانا مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اس سے بچنا چاہیے کیونکہ دیگر خلق خدا کو خواہ مخواہ پریشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح اکثر مساجد میں مؤذن حضرات مغرب کی اذان کارڈ پر مطبوعہ وقت سے بھی دو تین منٹ بعد دیتے ہیں۔ گویا اصل غروب آفتاب کے 78منٹ بعد افطار کیا جاتا ہے جوغلط ہے۔
 
                قرآن کے مطابق رات کی سیاہ دھاری سے صبح کی سفید دھاری نمایاں نظر آنے کو صبح صادق کہا جاتا ہے۔ آسمان میں صبح صادق کے آثار اچانک نہیں بلکہ دھیرے دھیرے نمودار ہوتے ہیں جس میں چند منٹ لگتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ ''صبح کی سفید دھاری نمایاں ہونا'' اس پر دلالت کرتے ہیں کہ سحری بلا جھجک صبح صادق تک کھائی جاسکتی ہے۔ حضور اور صحابہ کا طرز عمل بھی یہی تھا جس کے ثبوت میں چند احادیث پیش کی جارہی ہیں  :
(1)         حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ نبی نے فرمایا ''جب تم میں سے کوئی اذان کی آواز سنے اور اس وقت برتن بھی اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس برتن کو اپنے ہاتھ سے نہ رکھے جب تک کہ اپنی حاجت اس سے پوری نہ کرلے۔'' (ابودائود۔ حوالہ تفہیم الاحادیث۔ جلد4صفحہ 82(
(2)         رسول اللہ نے فرمایا ''کھائو پیو، بلند ہونے اور اوپر اٹھنے والی دھاری تمہیں پریشان و مضطرب نہ کرے۔ جب تک سرخ پھیلی ہوئی دھاری نمودار نہ ہو اس وقت تک کھائو پیو۔'' (ابودائود، ترمذی، حوالہ: ایضاً صفحہ 84 ،97(
                اہل علم حضرات کا تعامل یہی ہے کہ روزہ دار پر اس وقت تک کھانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ سرخ دھاری افق پر نہ پھیل جائے(حوالہ: ایضاًصفحہ84)
                امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق سحری تاخیر سے کھانے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ (حوالہ: ایضاً صفحہ84)

 اسی طرح افطار میں عجلت کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ دلیل کے طور پر چند حدیثیں پیش ہیں:
(1)         حضرت سہل سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ''لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔'' (متفق علیہ، حوالہ ایضاً صفحہ75)
(2)         حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سے سب سے زیادہ پسند وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں۔'' (ترمذی۔ حوالہ ایضاً صفحہ84)
(3)         حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ''یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔'' (ابودائود، ابن ماجہ۔ حوالہ ایضاً صفحہ89)

سحری میں تاخیر اور افطار میں عجلت پسندیدہ عمل اس لیے قرار دیے گئے ہیں کہ مسلمان اللہ کے حکم کی اطاعت ٹھیک اسی طرح کرتا ہے جس طرح ایک فوجی اپنے کمانڈر کے Caution کاشن پر فوراً عمل کرتا، اُس کے حکم کی تعمیل میں ثابت قدمی دکھاتا اور اس کی حکم عدولی سے ڈرتا ہے۔ اگر فوجی کمانڈر کے بتائے ہوئے وقت سے پہلے ہی کام بند کردے یا حکم ملنے کے سات آٹھ منٹ بعد اس پر عمل کرے تو کیا ایسا فوجی کمانڈر کے عتاب سے بچ سکتا ہے؟ ایک فوجی کی طرح مسلمان بھی یہ نہیں کرسکتا کہ اللہ نے تو فرمایا کہ صبح صادق تک اور غروب آفتاب کے فوراً بعد کھائو پیو مگر وہ صبح صادق نمایاں ہونے سے پندرہ منٹ پہلے اور غروب آفتاب کے 8منٹ بعد تک کھانے پینے سے رکے رہنے کو زیادہ محتاط اور قرین حکمت و مصلحت سمجھے۔ نعوذباللہ کیا یہ خدا سے زیادہ حکیم بننا نہیں ہے؟ کیا یہ خدا کی حکم عدولی اور اس سے بے خوفی نہیں ہے؟

                سائنس کی مدد سے انسان کو صبح صادق، طلوع اور غروب آفتاب کے اوقات ٹھیک ٹھیک معلوم ہوگئے ہیں جن میں سیکنڈ بھر کی غلطی کا امکان بھی نہیں ہے۔ یہ دراصل سائنس کا نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے جس نے اپنی کائنات میں سورج، چاند اور ستاروں کی گردش کا ایک انتہائی چست نظام ترتیب دے رکھا ہے۔ اللہ نے اپنے فضل سے اس کا علم انسانوں کو عطا کردیا ہے لیکن بعض لوگ خدا کے اس نظام پر بھروسہ نہیں کرتے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو عذر پیش کرتے ہیں کہ گھڑیاں درست نہیں ہوتیں اس لیے افطار میں تاخیر کرنا چاہیے۔ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے کہ تمام مسلمانوں کی گھڑیاں غلط وقت بتاتی ہیں۔ تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ دنیا کے کام کرنے کے لیے تو لوگ اپنی گھڑیاں درست اور صحیح وقت پر کرتے ہیں لیکن دینی حکم پر عمل کرنے کے لیے بجائے گھڑی ٹھیک کرنے کے افطار کے وقت میں ہی من مانی تاخیر کی جارہی ہے۔ اگر کسی کو اپنی گھڑی کے بارے میں شک ہو کہ آگے یا پیچھے ہے تو اُسے دوسروں سے صحیح وقت معلوم کرکے ٹھیک وقت پر افطار کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کا یہ رویہ قطعاً درست نہیں ہے کہ غروب کا وقت یقینی طور پر معلوم ہے اور اکثر مسلمانوں کی گھڑیاں بھی صحیح وقت بتا رہی ہیں اس کے باوجود وقت غروب کے 78 منٹ بعد افطار کریں۔ البتہ کوئی مسلمان ایسی جگہ رہتا ہو جہاں وقت طلوع و غروب کا تعین ممکن نہ ہو، نہ اُس کے پاس کوئی ٹائم ٹیبل ہو، نہ گھڑی ہو تو وہ آسمان کے آثار یعنی روشنی اور سیاہی کو اپنا رہنما بنا کر سحری اور افطار کرے۔


Wednesday, 12 April 2017

سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ


انبیا کی پسندیدہ سواری


سب سے بڑی دولت ۔ مولانا سید احمد ومیض ندوی


امیر المومنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ


ضرورت ہے خود احتسابی کی ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ضرورت ہے خود احتسابی کی

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

درخت جب اندر سے کھوکھلا ہو کر سوکھ جائے تو اس کو گرانے میں نہ دیر لگتی ہے اور نہ دشواری پیش آتی ہے۔ درخت کاٹنے والا بہت آسانی سے اور کم وقت میں اس کو کاٹ دیتا ہے؛ بلکہ جڑیں تک اکھیڑ دیتا ہے، یہی حال قوموں اور گروہوں کا ہے، جو قوم خود اپنے نظریہ پر عمل نہیں کرتی، جو گروہ خود اپنے اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتا، جس کے قول و فعل میں کھلا ہوا تضاد ہوتا ہے، جو الفاظ کے دریا تو بہا سکتا ہے؛ لیکن عملی دنیا میں اس کی بساط ایک قطرہ سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ قوم اپنی بقاء کی لڑائی نہیں لڑ سکتی اور نہ اپنے چابک دست دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے، قرآن مجید نے یہودیوں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے یہی بات کہی ہے کہ ان کے قول و فعل میں یکسانیت نہیں ہے۔

اس وقت مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں، وہ دشمنوں کی دشمنی کا رونا روتے ہیں؛ لیکن حقیقت میں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا رونا رویا جائے، جن لوگوں کو آپ کی فکر، آپ کے عقیدہ، آپ کے طرزِ زندگی، آپ کی تہذیب و ثقافت، آپ کے تاریخی ورثہ؛ یہاں تک کہ آپ کے وجود اور آپ کے نام سے بھی نفرت ہے، ان سے اس بات کے سوا اور کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے؛ ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ آپ کے دین کا تحفظ کریں گے اور آپ کی شریعت کو محفوظ رکھیں گے، ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ سے پیاس بجھانے کی اور برف سے ایندھن کے کام آنے کی توقع رکھے؛ اس لئے ہندوستان کے موجودہ حالات میں ضرورت ہے کہ جہاں ہم عوامی رائے عامہ کے ذریعہ پُرامن احتجاج کریں، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان پوری جرأت اور اعترافِ حقیقت کے ساتھ آپ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے طرزِ عمل میں ایک بنیادی تبدیلی لائیں۔

اس وقت حکومت سے ہم جن مسائل میں نبرد آزما ہیں، اس کے بارے میں ہم خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا یہ رویہ کس حد تک دین کے مطابق ہے؟

اس وقت ایک پیچیدہ اور نازک مسئلہ بابری مسجد کا ہے، اس میں شبہ نہیں کہ یہ مسجد تھی، مسجد ہے اور یہ شرعاً ہمیشہ مسجد ہی رہے گی، نیز بجا طور پر حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس مقدمہ کا خود ساختہ عقیدہ اور آستھا کے نقطۂ نظر سے نہیں؛ بلکہ ملکیت کے لحاظ سے اس کا جائزہ لیا جائے، ہمارا یہ دعویٰ سوفیصد درست ہے؛ لیکن غور کیجئے کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اوقاف کی جتنی جائیداد پر حکومت اور ہمارے غیر مسلم بھائی قابض ہیں،اسی قدر یا اس سے بھی زیادہ اوقاف کی جائیداد کے بڑے حصہ کو ان کے متولیوں نے بیچ دیا ہے، خود مسلمان وقف کی جائیداد پر قابض ہیں، جس عمارت کا کرایہ پانچ، دس ہزار روپئے ہونا چاہئے، خود مسلمان اس کا کرایہ پچاس اور سو روپئے ادا کرتے ہیں، یہاں تک کہ مسجدوں کے املاک پر بھی مسلمانوں نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم خود تو اوقاف میں بے جا تصرف کریں اور اپنی ذاتی املاک کی طرح اس میں تصرف کریں اور حکومت سے اس بات کی توقع رکھیں کہ وہ ہمارے اوقاف کی اور ہماری مسجدوں اور قبرستانوں کی حفاظت کرے گی۔

اسلام نے نکاح کو بہت آسان رکھا ہے، مسلمان عید، بقرعید میں جتنا خرچ کرتے ہیں، نکاح میں اتنا خرچ کرنا بھی ضروری نہیں، صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے،جس میں نہ کوئی کرایہ خرچ ہوتا ہے اور نہ سجاوٹ کی گنجائش ہوتی ہے، نکاح کے ساتھ صرف ایک دعوت، ’’دعوتِ ولیمہ‘‘ رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے قیمتی ولیمہ فرمایا وہ اس طور پر کہ ایک بکرا ذبح کیا؛ البتہ نکاح میں ایک لازمی ذمہ داری مہر کی ہے اور اس کو عقد کے وقت ہی ادا کردینا مسنون ہے۔

لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ برادرانِ وطن کا اثر قبول کرتے ہوئے نکاح کو نہایت ہی مشکل عمل بنا دیا گیا ہے،جس میں بعض اوقات لڑکی والے اپنا گھر تک بیچ دیتے ہیں، لڑکی والوں پرجہیز کا بارگراں تو ہے ہی، ایک بڑی نقد رقم کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے، فنکشن ہال اور کھانے کے مینو تک کی تعیین ہوتی ہے اور یہ سارا بوجھ لڑکی والوں کے سر ڈالا جاتا ہے، دوسری طرف مہر ایک رسمی چیز بن کر رہ گئی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ اگرطلاق کی نوبت آئی تب مہر ادا کیا جائے گا، اس طرح اسلام کا تصور نکاح مسخ ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں امت کی لاکھوں بیٹیاں سسک سسک کر تجرد کی زندگی گزار رہی ہیں، اس غیراسلامی اور غیراخلاقی عمل پر ہمیں حکومت یا قانون نے مجبور نہیں کیا ہے؛ بلکہ یہ ہمارا اپنا بگاڑ ہے۔

شریعت کے خاندانی زندگی سے متعلق قوانین میں مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی ہے، یہ گنجائش اس لئے؛ کہ معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی باقی رہے، بہت سی دفعہ یہ اجازت ایک سماجی ضرورت بھی بن جاتی ہے؛ لیکن قرآن نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ شوہر دونوں بیویوں کے درمیان عدل سے کام لے، اگر وہ عدل قائم نہ کر سکے تو اس کے لئے دوسرا نکاح کرنے کی گنجائش نہیں ’’وَ اِنْ لم تعدلوا فواحدۃ‘‘ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دوسری شادی کے جو واقعات پیش آتے ہیں، ان میں نوے فیصد واقعات میں دوسرا نکاح کسی ضرورت اور سنجیدہ جذبے کے ساتھ نہیں کیا جاتا؛ بلکہ پہلی بیوی کو تکلیف پہنچانے کے لئے انتقامی جذبہ سے کیا جاتا ہے اور انصاف کی شرط کو اس طرح بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے کہ ایک بیوی کے ساتھ تو محبوبہ اور معشوقہ کا معاملہ کیا جاتا ہے اور دوسری کو اس طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ نہ اسے بیوی کے حقوق ملتے ہیں اور نہ وہ شوہر کی زندگی سے آزاد ہوتی ہے، اس کو لٹکا کر رکھا جاتا ہے ، اس طرزِ عمل سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے، لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ ایک درست حکم کا غلط استعمال ہے؛ اس لئے وہ خود اسلام کو اس خدا ناترس شخص کی غلطی کا مجرم سمجھنے لگتے ہیں، حالاںکہ شریعت نے نہ صرف یہ کہ عدل کی شرط کے ساتھ دوسرے نکاح کی اجازت دی ہے؛ بلکہ اس بات کو بہتر قرار دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت نہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفاء کیا جائے، ایک بیوی کی موجودگی میں بلاضرورت دوسرا نکاح کرنے سے گریز کیا جائے۔

نکاح کا رشتہ محبت و سکون کا رشتہ ہے؛ تاکہ شوہر و بیوی پُر سکون زندگی گزار سکیں، اسی رشتہ سے نسل انسانی کا بقاء اور خاندانی نظام کا استحکام متعلق ہے؛ اسی لئے شریعت کا منشا یہ ہے کہ جب ایک بار رشتۂ نکاح قائم ہوجائے تو اسے استوار رکھا جائے اور حتی المقدور اس کو ٹوٹنے سے بچایا جائے، شوہر کی طرف سے رشتۂ نکاح کے ختم کردینے کو طلاق کہتے ہیں اور بیوی کے مطالبہ پر شوہر کے رشتہ ختم کردینے کو خلع، شریعت میں طلاق کو بھی ناپسند کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اس کو تمام جائز چیزوںمیں سب سے مبغوض اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر بھی لعنت بھیجی ہے، جو کسی نامعقول سبب کے بغیر خلع کا مطالبہ کرے، پھر اگر طلاق دینی ہی پڑے تو ایک اور زیادہ سے زیادہ دو فعہ دینی چاہئے ، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا سخت گناہ ہے، اس سے قطع نظر کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار کی جائیں گی یا ایک؟ اس بات پر تمام ہی اہل علم متفق ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا گناہ ہے۔

لیکن مسلم سماج میں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو نوے فیصد طلاق کے واقعات غصہ، وقتی رنجش یا شوہر کے رشتہ داروں کی طرف سے چڑھانے اور اُکسانے کی بنا پر پیش آتے ہیں، اور اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ بہت سے واقعات میں ایک ساتھ تین طلاقیں دیدی جاتی ہیں، اسی طرح عورتوں کی طرف سے خلع کے مطالبات بعض دفعہ بہت ہی معمولی اسباب اور قوتِ برداشت کی کمی کی بنا پر کئے جاتے ہیں، مسلمانوں کا یہ عمل برادرانِ وطن کے درمیان اسلام کی غلط تصویر پیش کرتا ہے اور یہی تصویر ذریعہ ابلاغ کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے، اس میں شبہ نہیں کہ اس میں ذرائع ابلاغ کی مبالغہ آمیزی کا بھی دخل ہوتا ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سماج ہی اس کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

شریعت اسلامی نے مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کا ایک جامع، مربوط اور عادلانہ نظام پیش کیا ہے، اس میں کچھ رشتہ دار وہ ہیں جو’’ اصحاب الفروض‘‘ کہلاتے ہیں، یہ وہ حضرات ہیں جن کے حصے خود قرآن مجید میں پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، ان میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں، شوہروں کی طرح بیویاں بھی ہیں اور اولاد کی طرح ماں باپ بھی ہیں؛ لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اس تقسیم پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے، اکثرو بیشتر ماں باپ کے ترکہ پر بیٹے قبضہ کرلیتے ہیں، یعنی اپنی بہنوں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں، بعض دفعہ خود والدین کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے کہ مکان، کاروبار اور زمین دار گھرانوں میں زرعی اراضی پر بیٹیوں کو حق نہ دیا جائے، انہیں تھوڑا بہت نقد رقم دے کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کی شادیوں پر پہلے کافی اخراجات ہوچکے ہیں، اسی طرح مرنے والے کا پورا ترکہ لڑکے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں، ماں باپ کا حصہ نہیں دیتے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ ماں کی پرورش کے لئے ہم لوگ کافی ہیں، اب انہیں ترکہ میں حصہ کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ اگر کوئی جواں سال یا ادھیڑ عمر شخص کا انتقال ہوگیا، اس نے بوڑھے والدین بھی چھوڑے اور جواں بیوی اور بچے بھی، تو بیوی بچے پورے ترکہ پر قابض ہوجاتے ہیں، اور وہ بوڑھے ماں باپ جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے ان کی پرورش کی تھی اور چھوٹے سے بڑا کیا تھا، ان کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

یہ سب ظلم کی مختلف صورتیں ہیں، جو ہمارے سماج کا معمول بن چکی ہیں، اللہ تعالیٰ نے میراث کو بے جا تصرف سے روکنے کے لئے صراحت فرمائی ہے کہ یہ ’’فریضۃ من اللہ‘‘ ہے یعنی یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حصہ ہے، یہ انسان کا مقرر کیا ہوا حصہ نہیں ہے کہ اس کو اس میں کمی بیشی کا اختیار ہو، اسلام کے علاوہ کوئی مذہب نہیں جو عورت کو حق میراث دیتا ہو، دنیا کے دوسرے قوانین نے بھی اسلام کے قانون میراث سے استفادہ کیا ہے؛ لیکن بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے لئے روشنی فراہم کرتے، ہم نے خود اپنی زندگی میں شریعت کا چراغ بجھا دیا ہے۔

اسلام نے تقسیم میراث کی بنیاد اس اصول پر رکھی ہے کہ قریب ترین رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار ترکہ کا مستحق نہیں ہوگا؛ اس لئے اگر مرنے والے کے بیٹے بھی موجود ہوں اور ایسے پوتے بھی جن کے والد دنیا سے گزر چکے ہیں تو چچائوں کے مقابلہ میں باپ سے محروم پوتوں کو ترکہ میں حصہ نہیں ملے گا؛ لیکن شریعت نے ان کے لئے دوسرا راستہ کھلا رکھا ہے، ایک یہ کہ دادا ترکہ سے محروم ہونے والے پوتوں کے لئے وصیت کردے؛ تاکہ دادا کی وفات کے بعد ان کو بھی کچھ مل جائے، اور اس ایک تہائی ترکہ تک وصیت کرنے کی گنجائش ہے، دوسری گنجائش یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں پوتوں کو کچھ ہبہ کردے۔ اس طرح وہ اپنے ضرورت مند پوتوں، پوتیوں اور نواسوں، نواسیوں کی مدد کر سکتے ہیں؛ لیکن افسوس کہ اس جانب بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔

اسلام کا قانون نفقہ ایک جامع قانون ہے، جو انسان کو پیش آنے والی تمام صورت حال کا احاطہ کرتی ہے؛ اس لئے جیسے اولاد کا نفقہ باپ پر اور باپ نہیں ہو تو دادا پر واجب ہوتا ہے اور بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، اسی طرح بعض حالات میں بھائیوں، بہنوں اور چچائوں وغیرہ پر بھی بے سہارا خواتین اور یتیم بچوں کا نفقہ واجب ہے؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت مطلقہ یا بیوہ ہوجائے تو بھائی سمجھتا ہے کہ اس پر اس کی بہن کے نفقہ کی ذمہ داری نہیں، یا بچے یتیم ہوجائیں تو چچا یہ نہیں سمجھتے کہ اب ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہمارے بھائی کے بچوں کی بھی ہم پر ذمہ داری ہے؛ بلکہ اگر کبھی کچھ حسن سلوک کرد یا تو اس کو ایک احسان خیال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ہے کہ غیرمسلم معاشرہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں بے سہارا عورتوں اور بچوں کی کفالت و پرورش کا کوئی مستحکم نظام نہیں ہے ، غلط تصور پر مبنی اس تصویر میں میڈیا کے لوگ رنگ بھر کر اسے اور خوفناک بنادیتے ہیں اور اسلام کو نعوذ باللہ ایک بے رحم اور غیر منصف مزاج مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت عدالتیں ایسے فیصلے کر رہی ہیں جو واضح طور پر شریعت سے متصادم ہیں، لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اس کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب خود مسلمان اپنے مقدمات سرکاری عدالتوں میں لے کر جاتے ہیں، اپنے علماء اور قاضی و مفتی سے رجوع کرنے کے بجائے ان لوگوں سے اپنا معاملہ طے کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو نہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں، نہ رسول پر، قرآن کے بیان کے مطابق یہ ایک منافقانہ طرز عمل ہے کہ زبان سے تو ہم اللہ اور اس کے رسول کی بات مایں اور عملی طور پر ہم اسے نظر انداز کردیں۔

اگر ہمیں ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے دینی تشخص کو بچانا ہے تو سر کٹانے کا جذبہ کافی نہیں، پہلے ہمیں اپنے اندر سر جھکانے کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے، شریعت کے احکام خواہ ہماری چاہت اور مفادات کے خلاف ہوں؛ لیکن ہم اس کے سامنے جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشوں اور چاہتوں پر غالب رکھیں؛ کیوںکہ جس قول کے پیچھے عمل کی طاقت نہ ہو، وہ دوسروں کو قائل نہیں کرسکتا، جو شخص اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہو اور اس کا جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو، اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ باہر کے دشمنوں کا مقابلہ کرسکے۔



حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ


خوف خدا اور حقیقی کامیابی


ایک حکایت ایک سبق


اسلام کا فلسفہ حکومت اور اس کے رہنما اصول


Friday, 3 March 2017

جھوٹ سے کیسے بچا جائے

جھوٹ سے کیسے بچا جائے
تنویر اللہ خان

قانون کا خوف اور معاشرتی اقدار کی پابندیاں انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہیں، لیکن معاشرتی اقدار اور قانون ملکوں، شہروں اور فاصلوں کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ ہر انسانی معاشرے میں غلط اور صحیح کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں اور اُن کی مختلف درجے کی حساسیت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی معاشرے میں خواتین کا، اسکرٹ پہننا عام سی بات ہے اور کسی معاشرے میں عورت کا ناخن تک نظر آنا بہت خاص سمجھا جاتا ہے۔ کسی معاشرے میں عورت پر معاشی ذمہ داری لازمی ہوتی ہے اور اسے اچھا سمجھا جاتا ہے، لیکن کسی معاشرے میں عورت پر معاشی ذمہ داری بالکل نہیں ہوتی، بلکہ عورت کا معاش کمانا بُرا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے قریبی ممالک میں چین، تھائی لینڈ، فلپائن، سعودی عرب اور کچھ وسط ایشیائی ممالک کا اس معاملے میں تضاد بڑی مثال ہے۔

یہی معاملہ قانون کا ہے، مثلاً امریکا نے اپنی سرزمین پر موجود جیلوں میں بند قیدیوں کو جو قانونی حقوق دئیے ہیں وہ قانونی حقوق کیوبا میں موجود گوانتاناموبے کی جیل میں بند قیدیوں کو حاصل نہیں ہیں، حالانکہ ان دونوں جہگوں کی جیلیں امریکا کی بنائی ہوئی ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ قانون، رسم ورواج اور قانون پر عملدرآمد ملکوں، قوموں اور فاصلوں اور سرحدوں کی مرہونِ منت ہوتے ہیں۔
بعض اچھائیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہر معاشرے میں اچھی سمجھی جاتی ہیں، اسی طرح بعض برائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ہر معاشرے میں بُری سمجھی جاتی ہیں۔ ممکن ہے ان پر عمل کی کیفیت مختلف ہو اور ان کے بارے میں حسّاسیت کم یا زیادہ ہو، مثلاً جھوٹ ہر معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہے اوردیانت داری ہر معاشرے میں پسندیدہ ہے، جب کہ مسلمان معاشرے کے تمام اچھے اعمال دینِ اسلام کا حصہ ہیں۔ لہٰذا سچ بولنا، سچ پر قائم رہنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ سچ پر قائم رہنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے پر آخرت میں اچھے صلے کی امید بہت بڑا سہارا ہے۔

آخرت میں جواب دہی کا احساس انسان کو سیدھا رکھنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ آخرت میں حاضری مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ جب کہ دیگر مذاہب میں بھی اس کا تصور پایا جاتا ہے۔ آخرت میں جواب دہی کا خوف ایسا احساس ہے جس کی شدت اور حساسیت پر رسم ورواج، قانون، حالات اور فاصلوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
جسے آخرت میں جواب دینے کا احساس ہوگا اُسے کوئی پولیس والا نہ بھی دیکھ رہا ہو تب بھی وہ غلط کام کرنے سے باز رہے گا۔ آخرت میں جواب دینے سے ڈرنے والا امریکا میں بھی غلط کام سے باز رہے گا اور پاکستان میں بھی غلط کام سے بچے گا۔ وہ دن کی روشنی میں بھی غلط کام نہیں کرے گا اور گھپ اندھیرے میں بھی غلط کام کرنے سے دور رہے گا۔ زمین پر بھی وہ گناہ سے بچے گا اور آسمانوں میں بھی وہ بُرائی سے الگ رہے گا، اور تہہ خانوں میں بھی آخرت کی جواب دہی کا احساس اُسے غلط کاموں سے دور رکھے گا۔

جھوٹ سے بچنے کا بھی سب سے کارگر نسخہ آخرت کی جواب دہی کا احساس ہے۔ سب سے پہلے ہمیں آخرت میں اللہ کے حضور حاضری اور جواب دہی کا احساس اپنے اندر پیدا اور تازہ رکھنا چاہیے۔ یہ احساس جس قدر پختہ ہوگا اور جتنا زیادہ ہمارے دل ودماغ میں بسا رہے گا اُتنا ہی ہم جھوٹ سے بچیں گے۔ جھوٹے پر اللہ نے اپنی لعنت بھیجی ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن میں پیدائشی طور پر ساری خصلتیں ہوسکتی ہیں (خواہ وہ اچھی ہوں یا بُری) البتہ خیانت اور جھوٹ کی عادت نہیں ہوسکتی۔

جھوٹ اور آخرت کی فکر ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا آخرت کو دل میں بسا لیں، جھوٹ خودبخود آپ کے اندر سے نکل جائے گا۔ اس کے ساتھ اگر آپ چاہیں تو چند ایک تدابیر اور بھی کی جاسکتی ہیں۔

سب سے پہلے نظری اعتبار سے جھوٹ کو بُرا سمجھیں۔ آپ کو اپنے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ جھوٹ گناہ ہے، جھوٹ بولنے سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں اورجھوٹ دُنیاوی زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

جھوٹ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں۔۔۔ جھوٹ ہی پر کیا موقوف، دُنیا کا کوئی بھی کام ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا جھوٹ چھوڑنے کا ارادہ کریں اور اپنے ارادے پر استقامت سے جم جائیں۔ ارادے پر جم جانا اور مسلسل جدوجہد کرنا ایسا بابرکت کام ہے کہ اس کو کرنے والوں کی مدد کے لیے اللہ آسمان سے ملائکہ کو بھیجتا ہے۔
اپنے ہر دن کا آغاز کرتے ہوئے عزم کریں کہ میں آج جھوٹ نہیں بولوں گا، میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اور ’میں آج جھوٹ نہیں بولوں گا‘ میں زیادہ آسان ہدف ’کبھی نہیں‘ کے بجائے ’آج نہیں‘ کا نظر آتا ہے، لہٰذا اپنے لیے چھوٹا ہدف مقرر کریں۔ ایک دن ہدف کا پورا کرلینا اگلے دن کی ہمت بھی دیتا ہے۔ لہٰذا صبح بستر چھوڑنے سے پہلے جھوٹ نہ بولنے کا ہدف مقرر کریں اور رات بستر پر لیٹنے کے بعد اپنے ہدف کے پورا ہونے اور اپنی کوشش کا جائزہ لیں، اپنے بستر کے سامنے لکھ کر لگالیں ’’مومن کا آنے والا پَل گزرے پَل سے بہتر ہونا چاہیے‘‘۔
جینز یعنی ورثے میں ملی عادات کے بعد صحبت انسان پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ مشہور مثالیں ہیں کہ ’’انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے‘‘، ’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے‘‘، اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے‘‘۔ اس کُلیے کے مطابق اگر آپ دین دار اور سچوں کی صحبت اختیار کریں گے تو آپ میں سچائی پیدا بھی ہوگی اور نشوونما بھی پائے گی۔ صحبت اختیار کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیں، کیوں کہ کسی بھی جانب پہلا قدم اُٹھانا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے، اس کے بعد آپ کا ہر اگلا قدم آپ کے اختیار میں کمی کرتا جاتا ہے۔ مثلاً یہ آسان ہے کہ ہم ٹی وی نہ دیکھیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ہم ٹی وی دیکھیں اور لغویات سے بچے رہیں۔ جو لوگ ٹی وی پر مثبت چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں اُن کی نگاہ بھی لمحوں کے لیے ہی سہی، غلط پر پڑجاتی ہے۔ اسی طرح یہ تو ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو ٹچ موبائل نہ دیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ٹچ موبائل دے کر اُس کے استعمال کی نگرانی کرسکیں۔ یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ پینا شروع نہ کریں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ہم ساری زندگی دن میں صرف ایک سگریٹ ہی پیتے رہیں۔ لہٰذا اگر آپ جھوٹ سے بچنا چاہتے ہیں تو جھوٹوں کی صحبت سے بہت دور رہیں جھوٹوں کی صحبت میں بیٹھ کر جھوٹ نہ بولنا ناممکن ہے۔

جھوٹ سے بچنے کے لیے قریبی لوگوں سے مدد لیں۔ آپ کے ماں باپ اور دوست جھوٹ چھڑوانے میں آپ کی بہت مدد کرسکتے ہیں، لہٰذا ان سے ضرور مدد لیں۔
جھوٹ چھوڑنے کے لیے ڈاکٹر، استاد، مربی سے مدد لینا نہایت مؤثر ہوسکتا ہے۔ مغربی دُنیا میں ایسے ماہرین موجود ہیں جو آپ کے اندر اُتر کر آپ کی عادات، احساسات اورجذبات کو بدل سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اب کچھ ڈاکٹر یہ کام کررہے ہیں۔ اگر آپ کا دل ٹُھکتا ہو تو اس شعبے کے کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں۔ لیکن ڈاکٹر کے پاس جانا پیسے کا خرچ مانگتا ہے، جب کہ الحمدللہ ہمارے معاشرے میں ایسے دین دار لوگ بھی جابہ جا موجود ہیں جو اسپیچ تھراپی یا وعظ و نصحیت سے جھوٹ چھوڑنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے رابطہ کرنا اور اس رابطے کو جاری رکھنا جھوٹ چھوڑنے میں آپ کا بہت مددگار ہوسکتا ہے۔

بڑبولوں سے دور رہیں، بڑھکیں مارنے کا شوق جھوٹ اور سچ کی تمیز کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا بڑی بڑی باتیں کرنے والوں سے، ڈینگیں مارنے والوں سے دور رہیں۔ بڑبولے بلاضرورت بغیر کسی مقصد، بغیر کسی مفاد کے جھوٹ بولتے ہیں۔
کم بات کرنے کی عادت ڈالیں۔ کم بات کرنا ممکن ہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ زیادہ بولا جائے اور غلط بولنے سے بچا جاسکے۔ لہٰذا جب بولنا ضروری ہو اُس وقت خاموش نہ رہیں، لیکن جب بولنا ضروری نہ ہو اُس وقت خاموش رہنا بہت اچھا ہے۔ اکثر اوقات کم بولنے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا نقصان زیادہ بولنے سے ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے تقربیاً تمام ہی لوگ زیادہ بولنے کے بھی عادی ہوتے ہیں۔
جھوٹ بولنے کے اسباب سے بچیں۔ مثلاً اگر آپ چھپ کر سگریٹ پیتے ہیں اور کسی بڑے کے پوچھنے پر سگریٹ پینے سے انکار کردیتے ہیں، یا آپ اسکول جانے کے بجائے پارک میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ میں بلاناغہ اسکول جاتا ہوں، ایسے کام کرنے سے بچیں جن کی وجہ سے آپ کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

غلطی چھپانے کے لیے بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔ لہٰذا غلطی کا اعتراف کرنا سیکھیں۔ مثل مشہور ہے کہ انسان غلطی کا پُتلا ہے۔ غلطی کرنا اتنا بُرا نہیں جتنا اس کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا بُرا ہے۔ پھر ایک غلطی کو چھپانے کے لیے ایک نہیں بہت سارے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، جب کہ غلطی کا اعتراف کرنے کے لیے صرف ایک سچ ہی کافی ہوتا ہے۔

جھوٹ کے نتیجے میں اپنی زندگی میں ہونے والے نقصانات کا شمار کرتے رہیں، اسی طرح سچ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا حساب بھی جوڑتے رہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جھوٹ سے ہونے والے نقصانات کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔
اپنے پچھلے جھوٹ پر اللہ سے معافی مانگیں۔ توبہ میں اللہ نے ایک خاص قوت رکھی ہے، جو بندہ اپنے سابقہ گناہوں پر نادم ہوکر اللہ سے معافی کا طلب گار ہوتا ہے، اللہ نہ صرف اپنے اس بندے کے سابقہ گناہ معاف کرتے ہیں ساتھ ہی اُسے اپنی رحمت کی ڈھال بھی عطا فرماتے ہیں جو اُسے آئندہ گناہ سے بچا کر رکھتی ہے۔ لہٰذا اب تک جو جھوٹ بولا جاچکا ہے اُس پر دل سے اللہ سے مغفرت مانگیں۔ وہ ستارالعیوب ہیں، وہ معاف بھی کرتے ہیں اور پردہ بھی ڈالتے ہیں۔

بلاشبہ جو تھوڑا یا بہت خیر ہمارے اندر ہے وہ اللہ ہی کی عطا و توفیق کا نتیجہ ہے۔


انبیاء علیہم السلام کے واقعات سنانے سے قراان کا مقصد

انبیاء علیہم السلام کے واقعات سنانے سے قراان کا مقصد

سید مہر الدین افضل

( ماخوذ اَزحاشیہ نمبر:50)
رکوع 8 آیت نمبر 59 تا 64 ارشاد ہوا:۔ ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔اس نے کہا ’’اَے بَرادرانِ قوم، اَللہ کی بندگی کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دِن کے عَذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔‘‘ نوحؑ نے کہا ’’اَے برادرانِ قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں، بلکہ میں ربّ العالمین کا رَسول ہوں، تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں، اَور مجھے اَللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے، جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا تمہیں اِس بات پرتعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے ربّ کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے؟‘‘ مگر انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخرِکار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی، اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، یقیناًوہ اندھے لوگ تھے۔
وہ انبیا جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے:۔

مسند احمدؒ کی روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا آئے، جن میں 315 صاحب کتاب تھے۔ قرآن مجید میں ہمیں حضرت محمدؐ کے علاوہ 25 انبیا کا ذکر ملتا ہے، جِن کے نام ہیں۔۔۔ حضرت آدمؑ ، حضرت نوحؑ ، حضرت ادریسؑ ، حضرت الیسعؑ ، حضرت ہودؑ ، حضرت صالحؑ ، حضرت شعیبؑ ، حضرت اِبراہیمؑ ، حضرت اِسماعیلؑ ، حضرت اِسحاقؑ ، حضرت لوطؑ ، حضرت یعقوبؑ ، حضرت یوسفؑ ، حضرت موسیٰؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت داودؑ ، حضرت سلیمانؑ ، حضرت عزیرؑ ، حضرت اِلیاسؑ ، حضرت اَیوبؑ ، حضرت ذلکفلؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت ذکریاؑ ، حضرت یحییٰؑ ، حضرت عیسیٰؑ ، ان انبیا کے ذکر کا اہم سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے سب سے پہلے سننے والے عرب، اِن میں سے کافی لوگوں کو اللہ کا پیغمبر مانتے تھے خاص کر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو وہ اپنا جدَّ اَعلیٰ مانتے تھے اور اِن کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور اِسی نسبت سے بیت اللہ کے متولِّی تھے، اور اسے اپنے لیے بڑا اعزاز مانتے تھے، اور اس نسبت کی وجہ سے کچھ امتیازی حقوق بھی رکھتے تھے۔ آج بھی آسمانی مذاہب کے ماننے والے ان لوگوں کو اللہ کا پیغمبر اور برگزیدہ انسان مانتے ہیں، مثلا آج دنیا میں حضرت نوحؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔۔ قرآن مجید میں اِن میں سے بعض کا ذکر تفصیل سے آیا ہے اور بعض کا مختصر، اِن کے ذکر میں انسانوں کی تاریخ کے اہم واقعات بتائے گئے ہیں۔

انبیا کے واقعات سنانے سے قرآن کا مقصد کیا ہے؟
قرآن مجید تاریخی وا قعات کو قصّہ کہانی بنا کر ہماری دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بیان نہیں کر تا بلکہ سبق دینے کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے ہر جگہ تاریخی واقعات کے بیان میں وہ قصّے کے صرف ان اہم حِصّوں کو پیش کرتا ہے جو اِس کے مقصد سے تعلق رکھتے ہیں، باقی تمام تفصیلات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ قرآن ایک پیغمبر کے قصّے کو کئی سورتوں میں بیان کرتا ہے اور ہر جگہ ایک نیا سبق دینا چاہتا ہے۔۔۔ اس سبق کی مناسبت سے واقعے کی تفصیلات بھی مختلف طور پر پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ الاعراف میں حضرت نوحؑ کے قصے کے بیان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر کی دعوت کو جھٹلانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جب کہ سورہ عنکبوت آیت نمبر 14 میں جہاں یہ قصّہ اس غرض کے لیے بیان ہوا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کی تلقین کی جائے وہاں خاص طور پر دعوتِ نوحؑ کی طویل مدّت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء اپنی چند سال کی تبلیغی کوشش اور محنت کو نتیجہ خیز ہوتے نہ دیکھ کر بددل نہ ہوں اور یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ کہ جو دعوت سیدنا محمدؐ پیش کر رہے ہیں، یہی دعوت سیدنا نوحؑ نے پیش کی تھی، اور تمہارا رد عمل بھی وہی ہے جو قوم نوحؑ کا تھا، اب تمہارا انجام بھی وہی ہو گا جو قوم نوحؑ کا ہوا تھا۔۔۔آج ہمارے لیے یہ پیغام ہے کہ حضرت نوحؑ کے صبر کو دیکھیں جنہوں نے لمبی مدت تک دل توڑ دینے والے حالات میں دعوتِ حق کی خدمت انجام دی اور ذرا ہمت نہ ہاری۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ شروع میں حق کے دشمن چاہے کتنے ہی کامیاب ہوں، مگر آخری کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوتی ہے، جو اللہ سے ڈر کر فکر و عمل کی غلط راہوں سے بچتے ہوئے، مقصدِ حق کے لیے کام کرتے ہیں۔ اور یہ کہ اللہ کے فیصلے میں دیر چاہے کتنی ہی لگے، مگر فیصلہ آخرِ کار ہو کر رہتا ہے، اور وہ لازماً اہل حق کے حق میں اور اہل باطل کے خلاف ہوتا ہے۔

آج عذاب کیوں نہیں آتا؟:۔
اِس موقع پر ایک اور شک بھی دلوں میں کھٹکتا ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ جب ہم قرآن میں بار بار ایسے واقعات پڑھتے ہیں کہ فلاں قوم نے نبی کو جھٹلایا اور نبی نے اسے عذاب کی خبر دی اور اچانک اس پر عذاب آیا اور قوم تباہ ہوگئی، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قسم کے واقعات اب کیوں نہیں پیش آتے؟ اگر چہ قومیں گرتی بھی ہیں اور ابھر تی بھی ہیں، لیکن اس عروج و زوال کی نوعیت دوسری ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں ہوتا کہ ایک نوٹس کے بعد زلزلہ یا طوفان یا صاعقہ آئے اور قوم کی قوم کو تباہ کر کے رکھ دے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت میں اخلاقی اور قانونی اعتبار سے اس قوم کا معاملہ جو کسی نبی کی براہ راست مخاطب ہو، دوسری تمام قوموں کے معاملے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ جس قوم میں نبی پیدا ہوا ہو، اور وہ بلا واسطہ اس کو خود اسی کی زبان میں خدا کا پیغام پہنچائے، اور اپنی شخصیت کے اندر اپنی صداقت کا زندہ نمونہ اس کے سامنے پیش کر دے، اس پر خدا کی حجت پوری ہو جاتی ہے۔۔۔ اس کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور خدا کے پیغمبر کو دو بہ دو جھٹلا دینے کے بعد وہ اس کی مستحق ہو جاتی ہے کہ اِس کا فیصلہ اسی وقت چُکا دیا جائے۔ یہ نوعیتِ معاملہ ان قوموں کے معاملے سے بنیادی طور پر مختلف ہے جن کے پاس خدا کا پیغام براہ راست نہ آیا ہو بلکہ مختلف واسطوں سے پہنچاہو۔ پس اگر اب اس طرح کے واقعات پیش نہیں آتے جیسے انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں پیش آئے ہیں تو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، اِس لیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ مگر اِس کے یہ معنی بھی نہیں ہیں کہ اب ان قوموں پر عذاب آنے بند ہو گئے ہیں جو خدا سے پھری ہوئی اور فکری و اخلاقی گمراہیوں میں بھٹک رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی ایسی تمام قوموں پر عذاب آتے رہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے تنبیہی عذاب بھی اور بڑے بڑے فیصلہ کن عذاب بھی لیکن کوئی نہیں جو انبیا علیہِم السلام اور کتبِ آسمانی کی طرح، ان عذابوں کے اخلاقی معنی کی طرف انسان کو توجہ دلائے۔ بلکہ آج صرف ظاہر کو دیکھنے والے سائنس دانوں، اور حقیقت سے ناواقف تاریخ دانوں اور فلسفیوں، کا ایک بڑا گروہ انسانوں کے دل و دماغ پر مسلط ہے، جو اس قسم کے تمام واقعات کی وضاحت فزکس کے قوانین یا تاریخی اسباب سے کر کے ان کو بھلا وے میں ڈالتا رہتا ہے، اور انہیں کبھی یہ سمجھنے کا موقع نہیں دیتا کہ۔۔۔ اوپر کوئی خدا بھی موجود ہے، جو غلط کار قوموں کو پہلے مختلف طریقوں سے ان کی غلط کاری پر متنبہ کرتا ہے، اور جب وہ اس کی بھیجی ہوئی تنبیہات سے آنکھیں بند کر کے، اپنی ٹیڑھی چال پر اصرار کیے چلی جاتی ہیں تو آخر کار انہیں تباہی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بھی اپنی زمین اور اس کی بے شمار چیزوں پر اقتدار عطا کر کے بس یونہی اس کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ اِس کی آزمائش کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو کس طرح استعمال کر رہی ہے۔ قوم نوح کے ساتھ جو کچھ ہوا اِسی قانون کے مطابق ہوا اور دوسری کوئی قوم بھی اللہ کی ایسی چہیتی نہیں ہے کہ وہ بس اسے مزے لوٹنے کے لیے آزاد چھوڑ دے۔ اِس معاملے سے ہر ایک کو لازماً سابقہ پیش آنا ہے۔

اَللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اِس فہم کے مطابق، دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔
وآخر دعوانا انالحمد و للہ رب العالمین۔


امانت داری ۔۔۔ ایک بیش بہا صفت


اخلاق نبوی ص کے سنہرے واقعات


امام غزالی ۔ حیات و خدمات


قران کریم رشد و ہدایت اور علم و حکمت کا سرچشمہ


Friday, 17 February 2017

اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔ایمان کی اساس اور بنیاد


فقہ اسلامی کی تدوین اور عصر حاضر میں اس سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت


دنیا کے خسارے سے بچنے کا قرٓنی نسخہ


وہ شخص ہم میں سے نہیں

وہ شخص ہم میں سے نہیں
جو دنیا کو آخرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا
پروفیسر عبدالحمید ڈار

اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا، آسمانوں پر ابدی جنت میں رکھا، پھر اپنی حکمتِ بالغہ سے اسے فانی دنیا میں بھیجا، جہاں جنت کی زندگی کے برعکس اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے محنت و مشقت کو اس کے لیے لازم ٹھیرایا۔ اس مقصد کے لیے اسے مطلوبہ ذہنی و جسمانی قویٰ عطا کیے اور زمین کے چپہ چپہ کو وسائلِ رزق سے معمور کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ان وسائلِ رزق سے استفادہ کرنے کی آزادی اور اختیار بھی دیا تاکہ وہ چاہے تو اپنی آزاد مرضی سے یہ کام اللہ کی رضا کے مطابق انجام دے اور چاہے تو اسے نظرانداز کرکے من مانے طریقے پر چلے۔ مزید برآں اسے بتایا گیا کہ یہ دنیا عارضی اور فانی ہے اور اس کے خاتمے کے بعد ایک دوسرا عالم (عالمِ آخرت) وجود میں آئے گا جو ابدی ہوگا اور جہاں اس کی حیثیت اور مقام کا تعین ان اعمال کی بنا پر ہوگا جو اس نے دنیا کی زندگی میں انجام دیے ہوں گے۔ اگر اس کے نیک اعمال یعنی وہ اعمال جو اس نے اللہ کی رضا کے لیے کیے ہوں گے اس کے بداعمال (جو اس نے اللہ کی رضا کے خلاف من پسند طریقے پر کیے ہوں گے) سے زیادہ ہوئے تو اسے وہاں لازوال نعمتوں سے بھرپور جنت کی قیام گاہ سے نوازا جائے گا، اور اگر اس کے بداعمال کا پلڑا نیک اعمال سے بھاری ہوگا تو اسے جہنم کے عذاب کا مزا چکھنا ہوگا۔

نیک اور بداعمال کون سے ہیں، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق انسان کو آسمانی کتابوں جن میں آخری اور مستند کتاب قرآن پاک ہے، اور انبیاء علیہم السلام جن کے سلسلے کی آخری کڑی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کے ذریعے پوری وضاحت کے ساتھ بتا دیا ہے۔ اب دنیا میں زندگی بسر کرنے کا بہترین اور مطلوب طریقہ یہی ہے کہ انسان ہر کام میں اللہ کی رضا کو اپنا مقصود بنائے، اور اللہ کی رضا اس میں ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ہر کام آخرت کی کامیابی کو سامنے رکھ کر انجام دیا جائے۔ دنیا کی لذات میں کھو کر اور اس کی دلفریبیوں کا شکار ہوکر بڑی سے بڑی منفعت، دولت اور مال و متاع بھی انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ محض چند روزہ ہے۔ اگر انسان ان ہی عارضی چیزوں کو مقصودِ حیات بنالے اور ان کے جال میں پھنس کر نیک و بد اور حلال و حرام کی تمیز سے بے نیاز اور آخرت میں پیش آنے والے نتائج سے بے فکر ہوجائے تو یہ بات اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی اور انجامِ کار کے اعتبار سے یہ نفع کا نہیں بہت بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد انسان کو دوزخ کے عذاب سے بچانا اور جنت کی نعمتوں سے ہمکنار کرنا ہے۔ اس وجہ سے آپ نے انسان کو ہر وہ چیز بتادی ہے جو جہنم سے بچا کر اسے جنت میں پہنچا سکتی ہے۔ زیرنظر حدیث بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جنت کے طلب گار کی نگاہ ہر وقت اعمال کے اس انجام پر رہنی چاہیے جو عالمِ آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کے عاجلہ یعنی جلد حاصل ہوجانے والے فوائد اس کی آنکھوں کو خیرہ کردیں اور اسے ابدی عذاب کے جہنم میں گرا دینے کا باعث بن جائیں۔ یہ حدیثِ پاک تر کِ دنیا کی تعلیم نہیں دیتی، بلکہ وسائلِ حیات کے صحیح طریقِ استعمال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیا ہے، اس لیے یہ دنیا چھوڑنے کے لیے نہیں بلکہ برتنے کے لیے ہے، البتہ اس کا استعمال اللہ کی رضا اور انبیاء علیہم السلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ بالعموم انسان اس فانی دنیا کی لذتوں اور دلفریبیوں کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے، حالانکہ آخرت اس سے بدرجہا بہتر اور دائمی طور پر باقی رہنے والی ہے۔ (القرآن۔ سورہ الاعلیٰ 17)

اللہ تعالیٰ دنیا پرستی کے اس دور میں فکر و نظر کے فتنوں سے بچا کر فکرِ آخرت کو ہمارے دلوں کی دھڑکن بنا دے۔
(آمین)


متروکاتِ سخن

متروکاتِ سخن

اردو کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جو متروک تو نہیں ہوئے لیکن ان کا استعمال محدود ہوگیا ہے۔ کوئی استعمال کر بیٹھے تو مطلب پوچھنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہی الفاظ کبھی عام بول چال میں شامل تھے۔ گزشتہ دنوں بارش رک جانے کے بعد بھی چھجے سے پانی ٹپک رہا تھا تو ہمارے ایک ساتھی نے کہا ’’اولتی‘‘ ٹپک رہی ہے۔ عرصے بعد یہ لفظ سنا تھا، خوشی ہوئی کہ ابھی اس کا استعمال ہے۔ اولتی ہندی سے اردو میں آئی ہے اور مونث ہے۔ مطلب اس کا واضح ہے کہ سائبان یا چھت کا وہ کنارہ جہاں سے بارش کا پانی نیچے گرتا ہے۔ ایک محاورہ ہے ’’اولتی کا پانی یلینڈی نہیں چڑھتا‘‘۔ لیجیے ایک اور مشکل لفظ آگیا۔ یلینڈی جھونپڑی (یا جھوپڑی) کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ کمینہ شرافت کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح ایک ناممکن امر کی نسبت کہتے ہیں۔ یہ شعر دیکھیے:
دل کو اس سرو کے یہ اشک کریں کیا پانی
اولتی کا تو یلینڈی نہیں چڑھتا پانی

اسی ضمن میں ایک لفظ ’’اُول‘‘ پر نظر پڑی۔ اس کو تو بالکل ہی متروک جانیے کہ اب پڑھنے، سننے میں نہیں آتا۔ یہ لفظ ہندی میں مونث ہے لیکن امیر مینائی نے امیراللغات میں مذکر لکھا ہے۔ مطلب ہے ضمانت۔ روپیہ ادا نہ ہونے یا کسی وعدے کے ایفا تک اپنے کسی عزیز کو ضمانت کے طور پر کسی کے حوالے کردیتے ہیں، اسی کو اُول کہتے ہیں۔ داغ دہلوی مزے میں آکر کہتے ہیں:
آنے کا وعدہ کرتے ہو کیا اس کا اعتبار
بلوا دو اپنی اُول میں میرے رقیب کو
اُول دینا، رکھنا، لینا کے ساتھ۔ ایک مصرع ہے
جان لینے کے لیے اُول میں دل رکھتے ہیں

اُول کے مطلب سے خواہ واقف نہ ہوں لیکن یہ عمل گاؤں، دیہات میں تو بہت عام ہے۔ کسی کسان یا مزدور پر قرض چڑھ جائے تو زمیندار، وڈیرے یا جاگیردار پورے پورے خاندان کو بطور ضمانت رکھ لیتے ہیں۔ بھٹہ مزدور بھی ضبط کرلیے جاتے ہیں اور پھر کبھی کبھی عدالت اپنا نمائندہ بھیج کر رہائی دلواتی ہے، لیکن جنہوں نے قید میں رکھا تھا، ان کو یہی کارروائی دوہرانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اُول ان معنیٰ میں تو لغت میں رہ گیا لیکن ’’اول جلول‘‘ کا استعمال عام ہے۔ یہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کا حلیہ خراب ہو۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ اکثر ’’نظر نواز‘‘ ہوتا ہے ادیبہ، شاعرہ، محققہ، دانشورہ، لکھاریہ، صحافیہ، یا پھر خاتون شاعرہ، خاتون ادیبہ، خاتون دانشورہ وغیرہ۔ درست کیا ہے؟ بھائی مجاز، حقیقت تو یہ ہے کہ سوال مشکل ہے۔ یوں بھی خواتین کے بارے میں ہے۔ ادیبہ، شاعرہ، لکھاریہ، محققہ سے ظاہر ہے کہ یہ کسی خاتون کی صفات ہیں۔ شاعرہ، ادیبہ وغیرہ کے ساتھ خاتون کا سابقہ تو مضحکہ خیز ہے۔ جہاں تک دانشورہ، لکھاریہ، صحافیہ کا تعلق ہے تو یہ نامانوس الفاظ ہیں۔ بہتر ہے کہ ان سے پہلے خاتون لگا دیا جائے۔ اور محققہ تو اتنا ثقیل لفظ ہے کہ خواتین سے ادائیگی بھی مشکل ہوگی۔ بہتر ہے کہ اس میں بھی خاتون کا سابقہ لگا دیا جائے۔ لیکن افتخار مجاز کس کھکھیڑ میں پڑتے ہیں۔

گزشتہ دنوں انجمن ترقی اردو کی جاری کردہ ایک اطلاع نظر نواز ہوئی۔ یہ پریس ریلیز انجمن کے شعبۂ نشرواشاعت نے بغرضِ اشاعت نشر کی تھی۔ خبر کے مطابق ’’اردو زبان کے مایا ناز شاعر‘‘ کے حوالے سے کوئی تقریب ہوئی تھی۔ اب چوں کہ یہ اردو کے ایک ’مایا ناز‘ ادارے کی طرف سے تھی تو ہم شش و پنج میں پڑ گئے کہ یہ ’’مایاناز‘‘ کیا ہوتا ہے۔ غالباً وہ جس پر مایا، ناز کرے۔ مایا تو غالباً ہندی میں روپے، پیسے، دولت وغیرہ کو کہتے ہیں جیسے ایک مثل ہے ’’مایا ری مایا تیرے تین نام۔ پرسو، پرسا، پرس رام‘‘۔ ایک غریب شخص پرس رام کے پاس جب مایا یعنی دولت نہیں تھی تو سب اسے ’’پرسو‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ کچھ پیسہ آگیا تو وہ پرسا صاحب ہوگیا۔ اور جب دولت میں کھیلنے لگا تو احتراماً سب اسے پرس رام کہنے لگے۔ اس پر اُس نے کہا کہ مایا ری مایا تیرے تین نام۔ یہ رواج آج بھی ہے۔ کوئی اللہ دتہ صرف ’دتو‘ کہلاتا ہے، کچھ پیسہ آجائے تو اللہ دتہ، اور جب شہرت و منصب حاصل ہوجائے تو خود ہی والدین کے رکھے ہوئے نام میں تبدیلی کرکے ’’اے ڈی اظہر‘‘ یا اے ڈی خواجہ ہوجاتا ہے۔ لیکن صاحب، کسی شاعر و ادیب کا مایا ناز ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔ غالبا یہ ’’مایۂ ناز‘‘ ہوگا۔ شاعروں اور ادیبوں کے پاس صرف یہی ناز رہ جاتا ہے، مایا تو عموماً کترا کر نکل جاتی ہے۔
سنسکرت میں مایا خدا کی قدرت کو بھی کہتے ہیں۔ رحم، دَیا، کرپا کو بھی۔۔۔ اور دھوکا، فریب، دھن دولت کو بھی۔ مایا جال تو اردو میں بھی مستعمل ہے۔ تلسی داس کا یہ مصرع تو سنا ہوگا
مایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ
انجمن ترقی اردو کے ذمے داران اپنے ادارے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر خود بھی ایک نظر ڈال لیا کریں۔ رہی بات ’’مایۂ ناز‘‘ کی، تو اس کا مطلب ہے فخر و ناز کا سبب۔ مصحفی کا شعرہے:
ہوش کا اس کی میں کشتہ ہوں کہ وہ مایۂ ناز
شب رہا گھر مرے اور غیر نے جانا نہ رہا

مایہ کثیر المعنیٰ لفظ ہے اور اس کا مطلب بھی پونجی، مقدار، سرمایہ وغیرہ ہے۔
اپنے صحافی بھائیوں، کمپوزروں اور پروف پڑھنے والوں کی توجہ کے لیے۔ شبہ، تہ، وجیہ وغیرہ میں غیر ضروری طور پر ایک ’ہ‘ بڑھا دی جاتی ہے یعنی شبہہ، تہہ، وجیہہ وغیرہ لکھا جارہا ہے، یہ غلط ہے۔ خاص طور پر اگر وجیہہ لکھا جائے تو یہ وجیہ کی مونث بن جاتی ہے، یعنی وجی ہہ۔ تہ تہے پڑھا جاتا ہے۔
ہم نے اب تک ’’ہڑبونگ‘‘ پڑھا اور بولا۔ اس میں ’ڑ‘ کا استعمال ’’ہڑ‘‘ کا مزہ دیتا ہے لیکن لغت کہتی ہے کہ یہ ’’ہربونگ‘‘ ہے۔ اور ہندی سے اردو میں آیا ہے۔ مطلب ہے اندھیر، بدنظمی، شورش وغیرہ۔ کہیں دھماکا ہوجائے تو ہر طرف ہربونگ مچ جاتا ہے۔ ویسے ہم اس کو مونث ہی سمجھتے رہے۔ واجد علی شاہ اختر کا شعر ہے:
بزم میں سر پہ قیامت کو اٹھا رکھا ہے
یار لوگوں نے تو ہربونگ مچا رکھا ہے
ہربونگ بھیڑ بھاڑ کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ شعر دیکھیے:
جا نہیں سکتی نگاہ شوق تک
اس گلی میں اس قدر ہربونگ ہے
ہم پھر اصرار کریں گے کہ ہر بونگ میں ’ڑ‘ ہی مزا دیتاہے، ورنہ اس کے بغیر ہڑبونگ کا پورا تصور ہی نہیں آتا۔