Search This Blog

Monday, 11 June 2012

*اسلامی معاشرت اور طلاق


*اسلامی معاشرت اور طلاق

سیدابوالاعلیٰ مودودی


طلاق کے احکام سورۂ بقرہ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکے ہیں۔ یہ سورت نازل کر کے بہت سی اُن غلطیوں کی اصلاح کی گئی جو لوگ طلاق کے معاملے میں بالعموم کرنے لگے تھے۔
[اس سورۃ کے احکام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن ہدایات کو پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے جو طلاق اور عدّت کے متعلق اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہوچکی ہیں: ’’طلاق دوبار ہے، پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے رخصت کردیا جائے‘‘ (البقرہ ۲:۲۲۹) ۔’’اور مطلقہ عورتیں (طلاق کے بعد) تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔۔۔ اور اُن کے شوہر اس مدّت میں اُن کو اپنی (زوجیت) میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں اگر وہ اصلاح پر آمادہ ہوں‘‘(البقرہ ۲:۲۲۸)۔’’ پھر اگر وہ (تیسری بار) اُس کو طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اُس کے لیے حلال نہ ہوگی، یہاں تک کہ اس عورت کا نکاح کسی اور سے ہوجائے‘‘(البقرہ ۲:۲۳۰) ۔’’ جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدّت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرسکو گے‘‘ (الاحزاب ۳۳:۴۹)۔’’ اور تم میں سے جو لوگ مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار مہینے دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں‘‘(البقرہ ۲:۲۳۴)۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سورۂ طلاق ان قواعد میں سے کسی قاعدے کو منسوخ کرنے یا اُس میں ترمیم کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے، بلکہ دو مقاصد کے لیے نازل ہوئی ہے: ایک یہ کہ مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اسے استعمال کرنے کے ایسے حکیمانہ طریقے بتائے جن سے حتی الامکان علیحدگی کی نوبت نہ آنے پائے، اور علیحدگی ہو توبدرجۂ آخر ایسی حالت میں ہو، جب کہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کے احکام کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دے کر اسلام کے عائلی قانون کے اِس شعبے کی تکمیل کردی جائے۔(دیکھیے: تفہیم القرآن، جلد۵، سورۂ طلاق، ص۵۵۰۔ ۵۵۲)
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ٰٓیاََیُّھَا النَّبِیُّ اِِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ ج لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْم بُیُوْتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط لاَ تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا o(الطلاق ۶۵:۱)اے نبیؐ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اُنھیں اُن کی عدّت کے لیے طلاق دیا کرو، اور عدّت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے۔ (زمانۂ عدّت میں) نہ تم اُنھیں اُن کے گھروں سے نکالواَ ور نہ وہ خود نکلیں، اِلاّ یہ کہ وہ کسی صریح بُرائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اُوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے۔
یہ سورۂ طلاق کی پہلی آیت ہے۔ اس میں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو، تو اُن کی عدّت کے لیے طلاق دو۔ عدّت کہتے ہیں اس مدت کو جو طلاق کے بعد، یا شوہر کی وفات کے بعد، اس غرض کے لیے مقرر کی گئی ہے کہ اس کے دوران میں عورت دوسرا نکاح نہ کرے۔ اس مدت کو شریعت کی اصطلاح میں عدّت کہتے ہیں۔
’’عدّت کے لیے طلاق دو‘ ‘ کے دو معنی ہیں: ایک معنی یہ ہے کہ ایامِ ماہواری میں طلاق مت دو بلکہ ایسی حالت میں طلاق دو، جب کہ وہ پاک ہوں۔ دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ عدّت کے دوران میں رُجوع کی گنجایش رکھتے ہوئے طلاق دو۔ یہ دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اگر عورت کو طلاق دینی ہو تو ایامِ ماہواری میں طلاق نہ دی جائے بلکہ جب وہ ایام گزر جائیں تو حالتِ طُہر میں طلاق دی جائے، اگر طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنی بیوی کو ایسی حالت میں طلاق دی، جب کہ وہ حالتِ حیض میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے اس طرح (طلاق دینے کا) حکم نہیں دیا ہے، بلکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ طلاق حالتِ طُہر میں دی جائے۔ یہ مضمون کہ ’’اُن کو اُن کی عدّت کے لیے طلاق دو‘‘ اس بات سے نکلتا ہے کہ عدّت کا شمار طُہر سے ہوتا ہے، (ایامِ) حیض سے نہیں ہوتا۔ اس لیے جب یہ فرمایا کہ ان کی عدّت کے لیے ان کو طلاق دو تو آپ سے آپ یہ بات نکل آئی کہ طلاق حالتِ طُہر میں دینی چاہیے نہ کہ حالتِ حیض میں۔

طلاق میں حکمت کا پہلو
اس بات پر غور کیجیے کہ اس حکم کے اندر کتنی بڑی حکمت ہے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ ایامِ ماہواری میں عورت اور اس کے شوہر کے درمیان ایک طرح کی دیوار حائل ہوتی ہے۔ اگر عورت حالتِ طُہر میں ہو تو فریقین کو ایک دوسرے کی طرف رغبت ہوگی۔ اس صورت میں طبیعت طلاق کی طرف کم مائل ہوگی، اِلاّ یہ کہ نفرت اور ناراضی کا کوئی بڑا گہرا سبب ہو۔ لیکن ایامِ ماہواری میں جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے دُور ہوتے ہیں، اس زمانے میں اگر شوہر کے دل میں بیوی کی طرف سے کوئی کراہت یا نفرت یا اور اس قسم کی کوئی حالت پیدا ہو تو عورت کے پاس اس نفرت کو دُور کرنے کا کوئی مؤثر چارۂ کار نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا کہ اگر طلاق دینی ہی ہو تو حالتِ طُہر میں دو، جس میں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان آسانی سے موافقت پیدا ہونے کی سبیل نکل سکتی ہے۔
دوسری اس سے بھی زیادہ گہری حکمت اس معاملے میں یہ ہے کہ ایامِ ماہواری میں بالعموم عورت کی طبیعت میں غصہ، چڑچڑاپن اور ہٹ سی پیدا ہوجاتی ہے۔یہ ایک طبّی حقیقت ہے، حتیٰ کہ موجودہ زمانے کے ڈاکٹر تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی عورت سے کوئی جرم سرزد ہوا ہو تو پہلے اُس کا طبی معائنہ کرکے یہ تحقیق کرلی جائے کہ اس زمانے میں کہیں وہ ایامِ ماہواری میں تو نہیں تھی کیونکہ بعض اوقات اس زمانے میں اس کو اپنے اُوپر قابو نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں موجودہ زمانے کی جتنی سائنٹی فک تحقیقات ہیں وہ سب اس پر متفق ہیں کہ ایامِ ماہواری میں عورت معمول کی حالت میں (normal) نہیں ہوتی۔ یہ ایک غیرطبعی (abnormal) حالت ہوتی ہے۔ اس حالت میں اگر عورت، مثلاً موٹر چلائے تو غلطی کرجائے گی، ٹائپ کرے تو غلطی کرجائے گی۔ گویا اس حالت میں اس سے بہت سے کاموں کے اندر غلطی سرزد ہوجاتی ہے۔ ان ایام میں بعض اوقات نہایت شریف اور نیک عورتوں سے چوری کا فعل سرزد ہوجاتا ہے۔ اگر وہ کسی چیز کو اچھی نگاہ سے دیکھ لیں، وہ چیز اُن کو پسند آجائے تو بعض اوقات اس کو اُڑا لیتی ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان ایام میں ان کو اپنے اُوپر قابو نہیں ہوتا۔ یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں وہ کوئی ایسی حرکت نہ کرجائے جس سے میاں بیوی کے درمیان کوئی نزاع اور بُعد پیدا ہوجائے۔ اس طرح اگر ایک طرف تو یہ صورت ہو، اور دوسری طرف یہ صورت ہو کہ جو چیز ان کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رکھتی اور ایک دوسرے کی طرف راغب کرتی ہے وہ اس دوران میں موجود نہ ہو، تو اس بنا پر حکم دیا گیا کہ حالتِ حیض میں کبھی عورت کو طلاق نہ دو۔

طلاق دینے کا صحیح طریقہ
اس حکم میں دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ طلاق عدّت کی گنجایش رکھتے ہوئے دی جائے۔ دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دے کر نکاح کا جھٹکا مت کردو، بلکہ اتنی گنجایش رکھو کہ عدّت کے دوران میں رُجوع کرسکو۔ اگر ایک شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے تو عدّت کے دوران میں وہ جس وقت چاہے رُجوع کرسکتا ہے۔ اگر وہ دو طلاق دے تب بھی عدّت کے دوران میں وہ رُجوع کرسکتا ہے۔ اگر وہ تین طلاق دے دے تو پھر رُجوع کرنے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ اس طرح طلاقِ مغلظ ہوجائے گی۔ پھر بیوی اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گئی، اِلاّ یہ کہ اس کا کسی اور مرد سے نکاح ہو اور وہ شوہر اس کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے۔ تب کہیں جاکر اگر یہ پہلے میاں بیوی چاہیں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس لیے شریعت کا منشا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق دے بھی تو اس کو کم سے کم تین مہینے کی مدت ایسی مل جائے گی جس میں وہ باربار اچھی طرح غور کرسکتا ہے کہ آیا اسے اس عورت کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہے یا اس سے نباہ کی کوئی صورت ممکن ہے۔ اس دوران میں عورت کے لیے بھی یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے شوہر کو راضی اور مطمئن کرلے کہ اب تک جو وجوہ نااتفاقی کے تھے آیندہ وہ نہیں ہوں گے۔
یہ بات بھی بے حد اہم ہے کہ طلاق کا لفظ آدمی کو زبان سے نکالنا ہی اس وقت چاہیے، جب کہ وہ واقعتا اس کو چھوڑنے کا ارادہ اور فیصلہ کرچکا ہو، ورنہ طلاق دینا کوئی کھیل نہیں۔ یہ بات اس کو اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ اگر ایک آدمی ایک عورت کو تین مرتبہ طلاق دینے کا حق استعمال کرلیتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوجائے گی۔ اس وجہ سے ایک آدمی طلاق کا لفظ زبان سے نکالتے ہوئے دس مرتبہ اس پر سوچ لے کہ اس کے معنی کیا ہیں۔ سلامتی اس میں ہے کہ اگر وہ یہ لفظ زبان سے نکالے بھی تو ایک مرتبہ نکالے تاکہ اس کے بعد اگر عدّت گزر بھی جائے، یا دوطلاق کی وجہ سے طلاق بائن ہوجائے اور وہ میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے حلالہ وغیرہ کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ چنانچہ دو مرتبہ بھی اگر آدمی نے طلاق دی ہو تو عدّت کے دوران میں رُجوع بھی ہوسکتا ہے اور اگر عدّت گزر جائے تو دوبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے، لیکن تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد قصہ ختم ہوجاتا ہے، اور رُجوع کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ پھر لوگ ایسے مفتی تلاش کرتے پھرتے ہیں جو ان کے لیے بغیر تحلیل (حلالہ) کے رُجوع کی گنجایش پیدا کردیں، یا پھر حلالہ کی ایسی شکلیں تجویز کریں جو شریعت کے ساتھ کھیل کرنے سے کم نہیں ہوتیں، اور جن کا کوئی اخلاقی یا شرعی جواز نہیں ہوتا۔ شریعت میں ایسی سازشی تحلیل کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
رسولؐ اللہ کے زمانے میں ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین مرتبہ طلاق دے دی تو حضوؐر نے فرمایا کہ کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، جب کہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں۔ گویا یہ فعل اس قدر بُرا فعل ہے کہ نبیؐ اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور ہاتھ اُٹھا کر فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلنے لگے ہو درآں حالیکہ میں ابھی تمھارے درمیان موجود ہوں۔
حضرت عمرؓ اُس شخص کو مارتے تھے جو بیک وقت تین طلاق دیتا تھا اور دُرّے سے اس کی خبر لیتے تھے۔ یہ ایک طرح سے جرم ہے کہ آدمی ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دے دے۔ قرآن مجید ہدایت دیتا ہے کہ اگر طلاق دو تو عدّت کے دوران میں رُجوع کی گنجایش رکھتے ہوئے دو۔
اس کے بعد فرمایا گیا: اَحْصُوْا الْعِدَّۃَ(۶۵:۱) ’’عدّت کا شمار کرو‘‘، یعنی جس روز طلاق دی جائے وہ تاریخ نوٹ کرلی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے۔ میاں اور بیوی دونوں یاد رکھیں تاکہ عدّت کا ٹھیک وقت پر آغاز ہو اور ٹھیک وقت پر ختم ہو۔ مثلاً فرض کیجیے عدّت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے ہیں تو شوہر آخری مرتبہ سوچ لے کہ اس بیوی کو رکھنا ہے یا رخصت کرنا ہے۔ برابر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اب اتنا وقت باقی ہے۔ اس دوران میں عورت بھی سوچ لے کہ آیا مجھے اُس شخص کے گھر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہونا ہے، اور مرد بھی سوچ لے کہ کیا مجھے اُس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہے۔ اس طرح آخر وقت تک اس کا خیال رکھا جائے، کیونکہ عدّت کے خاتمے سے پہلے کسی وقت بھی رُجوع ہوسکتا ہے۔ ایک رات یا چند گھنٹے پہلے بھی رُجوع ہوسکتا ہے۔
وَاتَّقُوْا اللّٰہَ رَبَّکُمْ (۶۵:۱)،’’اور ڈرو اللہ سے جو تمھارا رب ہے‘‘۔یعنی ان چیزوں کو کھیل نہ بناؤ۔ یہ بڑے سنجیدہ معاملات ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ایک آدمی اگر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو یہ کوئی کھیل نہیں ہے بلکہ بڑا نازک اور اہم کام ہے۔ اگر زوجین کے بچے ہوں تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے خطرے میں ڈال دیا گیا۔ اگر بچے نہیں ہیں تب بھی اس مرد کے لیے دوبارہ نکاح آسان کام نہیں ہوتا، اور اسی طرح عورت کے لیے بھی بڑی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ جس شخص نے طلاق دی ہو اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں فوراً یہ شک پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ آدمی جھگڑا لو معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ ایک بیوی کو چھوڑ چکا ہے تو کوئی دوسرا شخص ا س کو اپنی بیٹی دیتے ہوئے گھبرائے گا۔ کوئی دوسری عورت اس سے نکاح کرتے ہوئے گھبرائے گی کہ معلوم نہیں یہ کس مزاج کا آدمی ہے۔ یہ ایک عورت کو چھوڑ چکا ہے تو کیا خبر مجھے بھی چھوڑ دے۔عورت کے متعلق بھی ہزار قسم کی بدگمانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ تو نہ آدمی کے لیے دوبارہ نکاح کرنا آسان ہوتا ہے اور نہ اس عورت کے لیے آسان ہوتا ہے۔ اس وجہ سے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور ان چیزوں کو کھیل مت بناؤ۔ اور اگر کسی کو طلاق دینی ہی ہو تو___ جیساکہ فرمایا کہ:عدّت کے دوران میں رُجوع کی گنجایش رکھتے ہوئے دو اور عدّت کا شمار ملحوظ رکھو۔

طلاق بائن کے باوجود خاوند کے گھر رہنا
لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْم بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ(۶۵:۱)،اور اُن کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔
مطلب یہ ہے کہ عدّت کا زمانہ بیوی شوہر کے گھر میں ہی گزارے۔ طلاق دے کر اس کو رخصت نہ کردیا جائے۔ دونوں اسی گھر میں رہیں تاکہ اگر طبیعت میں ذرہ برابر بھی میلان باقی ہے تو اس مدت کے اندر وہ رُجوع کرلیں۔ رخصت کردینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے رُجوع کے امکانات کو خود ختم کردیا۔ اور اگر عورت خود نکل گئی تو بھی نتیجہ ظاہر ہے، اور یہ بات دونوں کے لیے حماقت اور عاقبت نااندیشی کی بات ہے۔
اس لیے یہ ہدایت کی گئی کہ طلاق کے بعد نہ عورت خود گھر سے نکلے اور نہ تم اس کو نکالو، بلکہ اس دوران میں اسے اپنے گھر میں ہی رکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر طلاق بائن ہوجائے تب بھی عورت گھر سے نہ جائے، اگرچہ اس دوران میں اس کا نفقہ شوہر کے ذمّے نہیں ہوتا۔ لیکن اگر طلاق رجعی ہے، یعنی جس کے اندر رُجوع کی گنجایش ہے، تو جس زمانے میں عورت عدّت شوہر کے گھر میں گزار ر ہی ہو تو اس زمانے کا اس کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہے۔
اِِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ط(۶۵:۱)،اِلا یہ کہ وہ کسی صریح بُرائی کی مرتکب ہوں۔
عورت کو گھر سے نکالنا صرف اس صورت میں صحیح ہے، جب کہ وہ کسی کھلی فحش حرکت کا اِرتکاب کرے۔ کھلی فحش حرکت کا اِطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک تو ایسی سخت بدزبانی، جو ناقابلِ برداشت ہو اور دوسرے بدکاری۔ بدکاری ضروری نہیں کہ وہ عملی ہو بلکہ اگر اس سے بداخلاقی کسی ایسی شکل میں ظاہر ہو جس سے اس کے شوہر کے دل میں اس کے لیے دوبارہ میلان کی گنجایش ختم ہوجائے یا اس کی وفا پر اعتماد باقی نہ رہے۔ ان دو چیزوں کے سوا کوئی اور چیز ایسی نہیں ہے جس کی بنا پر یہ اجازت ہو کہ عورت کو طلاق دینے کے بعد گھر سے رخصت کردیا جائے۔

حدود اللّٰہ سے تجاوز، اپنے اُوپر ظلم
وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط (۶۵:۱)، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اُوپرخود ظلم کرے گا۔
دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ حدیں تمھاری بھلائی کے لیے مقرر کی ہیں، تمھاری مصلحتوں کو ملحوظ رکھ کر حکیمانہ حدود کا تعین کیا ہے تاکہ تمھاری زندگیاں خراب نہ ہوں۔ اب اگر تم اِن حدود کو توڑتے ہو تو اپنا ہی کچھ بگاڑتے ہو، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ اللہ کی حدود کو توڑنے والا اللہ کا کیا نقصان کرتا ہے؟ مثلاً اگر کوئی شخص حفظانِ صحت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جن سے اس کی صحت خراب ہوجائے تو سوال یہ ہے کہ اس نے اللہ کا یا کسی کا کیا نقصان کیا، اس نے اپنی ہی صحت بگاڑی اور اپنا ہی نقصان کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو حدیں انسان کی معاشرتی زندگی کے لیے مقرر کی ہیں وہ اس کی بھلائی کے لیے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
اب آپ دیکھیے کہ اگر کوئی شخص غصے میں آکر بیوی کو تین طلاق دیتا ہے تو ایک غلط کام کرتا ہے جس کا نقصان اسی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے بیوی سے لڑائی جھگڑے کا مطلب لازمی طور پر یہ سمجھ رکھا ہے کہ جب دونوں کے درمیان بات بگڑے تو ایک دفعہ تو طلاق کا لفظ زبان پر آئے گا ہی! یعنی لڑائی کی اور کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ انسان بُرا بھلا بھی کہہ سکتا ہے یا کسی اور طریقے سے بھی اپنا غصہ نکال سکتا ہے لیکن لوگوں کے نزدیک لڑائی کے معنی ہی گویا یہ ہوگئے ہیں کہ چھوٹتے ہی طلاق کے الفاظ بول دیے جائیں۔ اوّل تو یہی حماقت ہے، اور پھر اس سے بھی آگے بڑ ھ کر ایک دفعہ نہیں بلکہ بیک وقت تین دفعہ طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر طلاق کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض لوگ تو ہزار ہزار طلاق دے ڈالتے ہیں۔ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہزار مرتبہ طلاق دی تو حضوؐر نے فرمایا کہ تین تو تیری بیوی کے اُوپر پڑ گئیں باقی جتنی ہیں وہ جس پر چاہے تقسیم کردے۔ اس طرح کی جو احمقانہ حرکتیں ہیں اُن سے خدا کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، آدمی اپنا ہی گھر بگاڑتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ لوگ غصے میں آکر تین طلاق دے بیٹھتے ہیں اور پھر اس کے بعد پوچھتے پھرتے ہیں کہ بچاؤ کی کوئی صورت ہے کہ نہیں۔ خدا کے بندے، اگر تمھیں پچھتاناہی تھا تو کس احمق نے تمھیں یہ کہا تھا کہ تین مرتبہ طلاق دو۔ جو کام تین طلاق سے چلتا ہے وہی ایک سے بھی چلتا ہے۔ اگر ایک آدمی عورت کو چھوڑنا ہی چاہے تو ایک طلاق کا بھی وہی حاصل ہے جو تین طلاق کا ہے لیکن فائدہ یہ ہے کہ عدّت گزر جانے کے باوجود دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ لوگ تین طلاق دینے کے بعد پوچھتے پھرتے ہیں کہ اب بچنے کی کیا صورت ہے۔ چلو کسی اہل حدیث سے پوچھتے ہیں یا فلاں سے فتویٰ لیتے ہیں۔ اس سے بھی کام نہیں چلتا تو پھر حلالہ کرنے کے لیے لوگوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ یہ سب لغو باتیں ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی حدوں کو توڑتے ہیں، وہ اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں۔
لاَ تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا(۶۵:۱)،. ُ تو نہیں جانتا، ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی صورت پیدا کردے (کوئی راستہ نکال دے)۔
اُوپر جو ہدایات دی گئی ہیں کہ عورت کو حالتِ حیض میں طلاق نہ دی جائے، عدّت کی گنجایش رکھی جائے، اور طلاق دینے کے بعد عورت کو گھر سے نہ نکال دیا جائے، تو اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ تمھیں کیا خبر ہے، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ملاپ اور صلح کی کوئی صورت پیدا کردے۔ اسی غرض کے لیے یہ حدود مقرر کی گئی ہیں کہ اگر صلح کی کوئی گنجایش ہو تو اس سے فائدہ اُٹھانا ممکن رہے۔

بہلے طریقے سے رخصت کرنا
فَاِِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ط ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا oوَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ط اِِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ط قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا o(۶۵:۲۔۳)، پھر جب وہ اپنی (عدّت کی) مدت کے خاتمے پر پہنچیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہوجاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔ اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہراُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسا کرے، اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہرچیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔
پہلی بات یہ فرمائی کہ جب مطلقہ عورتیں اپنی عدّت کو پہنچیں تو یا اُن کو بھلے طریقے سے روک رکھو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو۔ عدّت کو پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ جب عدّت ختم ہونے کے قریب آئے تو اگر اُن کو روکنا چاہو تو بھلے آدمیوں کی طرح روک لو، یا رخصت کرنا چاہو تو بھلے آدمیوں کی طرح رخصت کردو___ یعنی کسی جھگڑے ٹنٹے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھارا نباہ نہیں ہوتا تو ٹھیک ہے، تم نے طلاق دے دی ہے، تو اب ان کو بھلے طریقے سے رخصت کردو، کسی لڑائی جھگڑے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر رکھنا ہے تو بھلے آدمیوں کی طرح رکھ لو۔
دوسرے الفاظ میں شریعت یہ بات سکھاتی ہے کہ آدمی کو دنیا میں ایک معقول انسان کی طرح زندگی گزارنی چاہیے ۔ کسی حالت میں بھی نامعقول آدمی کا سا رویّہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آدمی کسی سے نہیں نباہ سکتا ہے تو صاف کہہ دے کہ بھائی السلام علیکم، تمھارا راستہ الگ، ہمارا راستہ الگ۔ کسی طرح کی کھینچاتانی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی شخص سے موافقت کرنا ممکن ہے تو پھر شریف آدمی کی طرح موافقت کرلی جائے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ خواہ مخواہ بات بڑھائی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ صبح تو ایک دوسرے کو بُری بھلی سنائی جارہی ہے اور شام کو گھل مل کے باتیں ہورہی ہیں، اور اگلے روز پھر وہی جھک جھک شروع ہوجائے۔ یہ بھلے آدمیوں کا کام نہیں ہے۔ اس طرح یہ بات سمجھائی گئی کہ عدّت کی مدت ختم ہونے سے پہلے آدمی اچھی طرح سوچ لے کہ بھئی اس عورت سے نباہ ہوسکتا ہے یا نہیں، یا ہم بھلے طریقے سے مل کر رہ سکتے ہیں یا نہیں، یہ فیصلہ کرلیجیے۔ اگر مل کر رہ سکتے ہیں تو فبہا، ورنہ علیحدگی کا فیصلہ کر کے بھلے طریقے سے اس کو رخصت کردیا جائے۔
وَّاَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ(۶۵:۲)،’’اور جو تمھارے صاحبِ عدل آدمی ہوں ان میں سے دو کو گواہ بناؤ‘‘۔ صاحبِ عدل سے مراد ہے نیک، معقول اور سچا آدمی۔ گویا کسی اَیرے غیرے کو گواہ نہ بنایا جائے۔ گواہ بنانا ہے تو دو معقول شریف آدمیوں کو بنایئے۔ ان کے سامنے یہ بات واضح طور پر کہی جائے کہ آج میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ اگر بعد میں رُجوع کرنے کا فیصلہ کرو تو اس پر پھر گواہ بنا لیجیے کہ مَیں رُجوع کر رہا ہوں تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے، اور اگر بعد میں کوئی قضیّہ پیدا ہوجائے تو شہادت قائم کرنے میں کوئی دقّت نہ ہو۔ اگر بالآخر رخصت کرنا ہے تو لوگوں سے کہہ دیجیے کہ آج عدّت ختم ہوئی اور میں اس عورت کو رخصت کر رہا ہوں۔ اوّل تو اس طرح سے آیندہ چل کر جھگڑے کھڑے نہیں ہوتے، اور اگر کوئی جھگڑا پیدا بھی ہوتو دو ایسے راست باز اور قابلِ اعتماد آدمی ایسے موجود ہوں گے جو صحیح شہادت دے دیں گے اور جھگڑے کا خاتمہ ہوجائے گا۔
وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِط(۶۵:۲)، اور شہادت کو ٹھیک ٹھیک قائم کرو اللہ کے لیے۔
شہادت کو ٹھیک ٹھیک قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو گواہ بنایا جا رہا ہے اس کو صحیح صحیح اطلاع دی جائے، کوئی غلط اطلاع نہ دی جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر ایک آدمی نے آج طلاق دی ہے اور گواہی دو تین دن کے بعد قائم کر رہا ہے تو یہ بات غلط ہوجائے گی۔ کیونکہ اس صورت میں اگر آدمی یہ کہے کہ گواہ رہو کہ میں نے بیوی کو طلاق دے دی ہے تو چونکہ ان دو تین دنوں کی وضاحت نہیں ہوگی، اس لیے گواہوں کا یہ کہنا کہ اس نے فلاں تاریخ کو طلاق دی ہے خلافِ واقعہ بات ہوگی، جب کہ وہ دو تین دن پہلے طلاق دے چکا تھا۔ اس لیے یہ طلاق دینے والے کی طرف سے شہادت کے قواعد کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی طرح جن کو گواہ بنایا جائے ان کی شہادت بھی خلافِ اصول ہوگی۔ اس لیے کہ ان کا بھی یہ کام ہے کہ وہ طلاق کی تاریخ کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھیں اور جب ضرورت پیش آئے تو ٹھیک ٹھیک گواہی دیں۔
ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط (۶۵:۲)، اس چیز کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے، تم میں ہر اُس شخص کو جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، اس کا یہ فعل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ حرکتیں ایمان کے منافی ہیں کہ آدمی کہے کہ میں خدا کو خدا مانتا ہوں اور یہ بھی مانتا ہوں کہ آخرت میں مجھے خدا کے سامنے جواب دہی کرنی ہے، پھر بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرے اور اس کی حدود کو توڑے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔ اگر ایک شخص صحیح ایمان رکھتا ہو تو اس کا یہ کام ہے کہ پھر ایمان داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پابندی کرے۔

پیچیدگیوں سے بچنے کا راستہ
وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا(۶۵:۲)، اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کردیتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جب آدمی اینچ پینچ کی باتیں کرتا ہے تو دراصل وہ بعض عملی پیچیدگیوں کے ڈر سے ایسا کرتا ہے۔ اسے یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں نے ٹھیک ٹھیک بات کی تو میرے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں گی، جیساکہ آج کل بہت سے لوگ عدالت میں جاکر اس لیے جھوٹ بولتے ہیں کہ اگر ہم نے سچ بات کہی تو فلاں پیچیدگی پیدا ہوجائے گی۔ اس طرح وہ عملاً حدود اللہ کو توڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمھارے لیے پیچیدگیوں سے نکلنے کا راستہ پیدا کردے گا۔ اس لیے کسی قسم کی پیچیدگی اور اُلجھن کا خوف تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اللہ سے بے خوف ہوکر اس کے حدود توڑنے پر اُتر آؤ۔ اگر عملاً کوئی اُلجھن پیدا بھی ہوگی تو اللہ کے ذمے یہ ہے کہ وہ اس سے نکلنے کا راستہ تمھارے لیے پیدا کردے گا۔
وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط(۶۵:۳)، ’’اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اس کا خیال بھی نہ گیا ہو‘‘۔ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ طلاق کے معاملے میں زیادہ تر پیچیدگیاں مالی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ نان نفقہ کا خرچ، مہر کا خرچ اور اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے آدمی بہت سی پیچیدگیاں اپنے لیے خود پیدا کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا یہ گیا کہ کسی قسم کی مالی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی حدود مت توڑو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسی جگہ سے دے گا جس طرف تمھارا خیال بھی نہیں گیا۔ جو ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے اس کو ایمان داری کے ساتھ اُٹھاؤ، اسے ٹھیک طرح سے ادا کرو۔ یہ مت خیال کرو کہ اگر میں نے اس ذمہ داری کا بوجھ اُٹھا لیا تو میری مالی حالت خراب ہوجائے گی اور میں بڑی مشکل میں پڑ جاؤں گا۔ اس طرح سوچنا درست نہیں ہے۔ دینے والا اللہ ہے، آدمی کو اس کے بھروسے پر کام کرنا چاہیے۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ط(۶۵:۳)، اور جو شخص اللہ پر بھروسا کرے گا پھر اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
دوسرے الفاظ میں آدمی کا کام یہ ہے کہ جو قواعد اور قوانین اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیے ہیں وہ اللہ کے بھروسے پر اس کی پوری پوری پابندی کرے۔ اگر کسی قسم کی مشکل پیدا ہونے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہو تو کوئی پروا نہ کرے۔ اللہ پر بھروسا رکھے کہ اس نے جو قوانین اور قاعدے مقرر کیے ہیں وہ میری ہی بھلائی، مصلحت اور فائدے کے لیے ہیں۔ اس لیے میرا یہ کام ہے کہ میں ان کی پابندی کروں اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ دوں۔
اِِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖط،’’اللہ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ کر کے رہتا ہے‘‘۔ یعنی اللہ کا فیصلہ تمھاری کسی تدبیر سے ٹل نہیں جائے گا۔ اگر کسی مصلحت اور حکمت کی بنا پر اللہ کو تمھیں کسی نقصان میں ڈالنا ہو توو ہ ڈال کر رہے گا، اور دراصل وہ تمھاری بہتری کے لیے ہوگا۔ تم لاکھ تدبیریں اس کو ٹالنے کی کر دیکھو، اس کو نہیں ٹال سکو گے لیکن ہوگا یہ کہ تم نقصان بھی اُٹھاؤ گے اور خدا کے قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرکے گناہ گار بھی ہوگے۔
اگر ایک آدمی ایسی حالت میں نقصان اُٹھائے کہ وہ اللہ کے قوانین کی پوری پابندی کر رہا ہو تو وہ گنہگار تو نہ ہوا۔نقصان اس کو ضرور ہوا لیکن نقصان وہ ہوا جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں پہلے سے طے تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک آدمی خدا کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے نقصان تو اُٹھاتا ہے لیکن گنہگار نہیں ہوتا، صرف نقصان اُٹھاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نقصان اس نے خدا کے قوانین کو توڑ کر اُٹھایا ہے تو گویا دوہرا نقصان اُٹھایا۔ یہاں بھی نقصان اُٹھایا اور آخرت میں بھی سزا پائے گا۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہے اس کو وہ کرکے رہتا ہے۔ اس کے فیصلے تمھاری تدبیروں سے ٹلنے والے نہیں۔ اس لیے تمھارا کام ہرچیز سے بے نیاز ہوکر صرف اس کے احکام و ہدایات کی پابندی کرنا ہے۔
قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا(۶۵:۳)،’’اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک قدر مقرر کررکھی ہے‘‘۔ قدر کے معنی تقدیر کے بھی ہیں اور مقدار کے بھی۔ گویا اللہ کے سارے کام ایک قاعدے اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس طرح ہرچیز کے لیے اللہ نے ایک تقدیر بھی مقرر کر رکھی ہے اور ہر چیز کی ایک مقدار بھی مقرر کر رکھی ہے، اور وہ اس کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔
وَّالِّآئْ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآءِ کُمْ اِِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍلا وَّالِّآئْ لَمْ یَحِضْنَ ط وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا o (۶۵:۴) اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اُن کے معاملے میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) اُن کی عدّت تین مہینے ہے، اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضعِ حمل ہوجائے اور جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملے میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے۔
عدّت کے متعلق چونکہ سورۂ بقرہ میں بتایا گیا ہے کہ عدّت کا شمار حیض کے حساب سے ہوگا، تو ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن عورتوں کو حیض نہ آیا ہو یا جن کو حیض آنا بند ہوچکا ہو ان کی عدّت کس طرح شمار ہوگی؟ اس کا قانون یہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسی عورتوں کے لیے یہ مدت تین مہینے ہوگی۔ اور یہ مدت ہلالی مہینے کے حساب سے ہوگی نہ کہ شمسی مہینے کے حساب سے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جہاں شرعی قوانین کا معاملہ ہو، ان میں ہلالی مہینے شمار ہوتے ہیں نہ کہ شمسی۔ لہٰذا ایسی عورتوں کے معاملے میں عدّت ہلالی مہینے کے حساب سے تین مہینے ہے۔
یہاں ایک اور بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کو حیض نہیں آیا ہے ان کی عدّت کی مدت بھی بتا دی ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شریعت کے قانون کی رُو سے ایک ایسی لڑکی کا نکاح جائز ہے جس کو حیض ابھی نہ آیا ہو۔ دوسرے الفاظ میں موجودہ زمانے میں فیملی لاز آرڈی ننس کے ذریعے سے جو قانون بنایا گیا ہے کہ فلاں عمر سے کم عمر کی لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا، تو یہ صریح طور پر قرآن مجید کے حکم سے ٹکراتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسی لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے لیکن یہ قانون کہتا ہے کہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد آخر اللہ کے قانون سے لڑائی کی اور کیا شکل باقی رہ جاتی ہے؟ پھر فرمایا: وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ط ’’اور جو حاملہ عورتیں ہیں ان کی عدّت وضعِ حمل ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ وضعِ حمل میں نو مہینے لگ جائیں یا طلاق دینے کے دوسرے ہی دن وضعِ حمل ہوجائے اس وقت عدّت ختم ہوجائے گی۔ عورت نکاحِ ثانی کے لیے آزاد ہوجائے گی۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا، ’’اور جو شخص اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے معاملات کو آسان کرتا ہے‘‘۔گویا کوئی پیچیدگی ایسی نہیں ہے جس سے آدمی کو واقعی سابقہ پیش آتا ہو اور اللہ نے اس سے نکلنے کا راستہ نہ بتایا ہو۔

اللّٰہ سے ڈرنے کی حکمت
ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنزَلَہٗٓ اِِلَیْکُمْ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّٰاتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًاo (۶۵:۵) ، یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے، جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دُور کردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔
اللہ سے ڈرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں جو مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اللہ ان سے بچ نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی صورت میں آدمی ان غلطیوں میں مبتلا نہیں ہوتا جو اس کی حدود کو توڑنے کی صورت میں رُونما ہوتی ہیں: دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّٰاتِہٖ ’’وہ اس کی برائیاں دُور کردیتاہے‘‘۔
بُرائیاں دُور کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی کے اندر جو اخلاقی کمزوریاں ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو دُور کردیتا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرلیا، اس کی خرابیاں آپ سے آپ دُور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک طرف اس کی خطائیں دُور ہوں گی اور دوسری طرف اللہ کا خوف اپنے اندر پیدا کرنے کے بعد آدمی کی اخلاقی تربیت بھی اِسی خوف کی بدولت شروع ہوجاتی ہے۔ جب بھی وہ کسی برائی کی طرف مائل ہوگا اس کو یاد آئے گا کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے اور ایک روز مجھے اسی کے حضور جانا ہے۔ اس احساس سے وہ برائی کے ارتکاب سے بچ جائے گا۔ اگر اس کے اندر کوئی بُری عادت راسخ ہوچکی ہے تو جب بھی اس سے بشری کمزوری کی بنا پر بلاارادہ اس کا صُدور ہوجائے گا تو رب کے حضور جواب دہی کا احساس آیندہ اس کو بچنے پر آمادہ کر ے گا، اور متعدد بار اس کوتاہی میں مبتلا ہونے کے بعد بالآخر اس سے پوری طرح بچنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے اندر ان ساری کوششوں کے باوجود، جو وہ تقویٰ کی بدولت اپنی اصلاح کے لیے کرتا ہے، اگر کچھ برائیاں رہ جائیں گی تو اللہ آخرت کے حساب سے اس کی ان برائیوں کو ساقط کردے گا، کیونکہ اس نے دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی ہے۔ اس کے بعد اگر اس سے کچھ غلطیاں اور خطائیں سرزد ہوتی بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی اُن خطاؤں سے درگزر فرمائے گا، اس کو معاف کردے گا۔چوتھا فائدہ اس کا یہ ہے کہ: یُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًا، ’’اور وہ اس کو بڑا اجر دے گا‘‘۔گویا اس کو اس بات کا اجرِعظیم بھی دیا جائے گا کہ اس نے دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری___ اس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ یہ کتنے فوائد ہیں جو ان آیات میں تقویٰ کی روش اختیار کرنے کے بیان کیے گئے ہیں۔
اس مقام پر نکاح و طلاق کے سلسلے میں اسلام کی حکمتِ تشریع کو ایک بار پھر سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طلاق کو جائز ہونے کے باوجود ایک ناپسندیدہ فعل سمجھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ شَیْءًا اَبْغَضَ اِلَیْہِ مِنَ الطَّلَاقِ، ’’اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا ہے جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو‘‘ (ابوداؤد، بحوالہ تفہیم القرآن، جلد۵، ص ۵۵۲)۔ اس کی وجہ یہ ہے اور یہ سامنے کی بات ہے کہ طلاق کے نتیجے میں میاں بیوی کی علیحدگی کی وجہ سے بچوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے ماں یا باپ میں سے کس کے پاس جائیں گے؟ جب مرد اور عورت نیا نکاح کرلیں گے تو سوتیلے ماں باپ کے ہاں بچوں کی زندگیاں بالعموم خرابی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ان کو صحیح محبت اور سرپرستی نہیں ملتی جس کی وجہ سے ان کے دلوں سے محبت کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جب ماں باپ آپس میں نہ نباہ سکے تو وہ کس کی شخصیت کو اپنے لیے نمونہ بنائیں۔ ایسے ہی حالات کا نتیجہ ہوتا ہے کہ بچوں کے اندر جرائم پیشگی کے رجحانات پرورش پاتے ہیں۔ اگر جدا ہونے والے مرد و زن کے ہاں اولاد نہ ہو تب بھی نئے نکاح کی صورت میں عام طور پر زندگی دونوں کے لیے تلخ ہوجاتی ہے۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ کی کوئی صورت پیدا نہ ہورہی ہو تو پھر اُن کو غیرفطری طور پر جوڑ کر رکھنے سے اور طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں، جب کہ نکاح کے مقاصد پورے نہ ہو رہے ہوں، مردوزن کی علیحدگی ہی صحیح حل ہوتی ہے اور اس حکمت کے تحت طلاق کو جائز رکھا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا حکیمانہ قانون دنیا کی کسی قوم کو نصیب نہیں ہوا۔ جن قوموں کے ہاں طلاق کو عملاً ایک گناہ اور جرم قرار دے دیا گیا ہے وہاں خانگی زندگی جس طرح کے مفاسد کا شکار ہوئی ہے اس کا مشاہدہ آج کل کے یورپی اور برعظیم کے ہندی معاشرے میں کیا جاسکتا ہے۔(جاری)
* یہ تحریر سورۂ طلاق کے اس درسِ قرآن پر مبنی ہے جو سید مودودیؒ نے یکم اور ۸؍اکتوبر ۱۹۶۷ء کو مسجدمبارک،لاہور میں ہفتہ وار درس کے تحت دیا تھا۔ اس میں فہم قرآن کے حوالے سے تفہیم القرآن سے مختلف نکات سامنے آئے ہیں جن کی اہمیت کے پیش نظر یہ درس مرتب کیا گیا ہے۔ (کیسٹ سے تدوین: حفیظ الرحمٰن احسن)

Sunday, 10 June 2012

کامیابی . شاہ نواز فاروقی

کامیابی

شاہ نواز فاروقی
-انسان کامیابی کی طرف اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ اس کی محبوبہ ہو اور وہ کامیابی کا عاشق۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کامیابی کے بغیر اپنی زندگی کا تصور نہیں کرسکتا۔ کامیابی کی ضد ناکامی ہے اور انسان ناکامی سے خوف کھاتا ہے، اسے ناپسند کرتا ہے اور اس سے دور بھاگتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کے ساتھ انسان کے اس تعلق کا سبب ہے۔ کامیابی انسان کو اپنی ذات کی قبولیت محسوس ہوتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ کامیابی نے دنیا میں اس کی بامعنی موجودگی پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔ اس کے برعکس ناکامی اسے اپنی ذات کی تکذیب اور تردید محسوس ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ناکامی اس سے کہہ رہی ہے کہ تم روئے زمین پر ایک حرف ِغلط کے سوا کچھ نہیں۔ چنانچہ انسان ناکامی سے دامن بچاتا ہے اورکامیابی کی محبت دل میں لیے زندگی بسرکرتا ہے۔ لیکن یہ کامیابی کی واحد اہمیت نہیں ہے۔ تاریخ کے سفر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ کامیابی بجائے خود صداقت بن جاتی ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال سرسید ہیں۔ سرسید انگریزوں سے مرعوب اور ان کی فتوحات کے قتیل تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ اس زمانے میں انگریز ہی حق پر ہیں، کیونکہ اگر وہ حق پر نہ ہوتے تو کامیاب کیوں ہوتے! یعنی انہوں نے انگریزوں کی کامیابی کو حق بنالیا تھا اور وہ بھول گئے تھے کہ تاریخ میں اکثر جابر، قاہر اور ظالم لوگ بھی ’’کامیاب‘‘ ہوتے رہے ہیں۔ لیکن یہ سرسید کا ذاتی مسئلہ نہیں تھا۔ سرسید ایک ذہنیت کا نام ہے، اور یہ ذہنیت تاریخ کے ہر دور میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ سوشلزم ایک باطل نظریہ تھا اور تاریخ میں اس کا کوئی سلسلۂ نسب موجود نہ تھا، لیکن روس اورچین کے انقلابات نے اس کی کامیابی کو ایک علامت بنادیا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے آدھی سے زیادہ دنیا سوشلسٹ بن کرکھڑی ہوگئی۔ کامیابی کی اہمیت یہ ہے کہ دنیا کامیاب بغاوت کو ’’انقلاب‘‘ کہتی ہے اور ناکام انقلاب ’’بغاوت‘‘ کہلاتا ہے۔ لیکن یہ معاملہ صرف سوشلسٹ انقلاب تک محدود نہیں۔ ایک صدی پہلے تک مغرب کا سیکولرازم صرف مغرب تک محدود تھا، لیکن چونکہ سیکولر معاشرے مادی اعتبار سے ’’کامیاب معاشرے‘‘ بن کر ابھرے، اس لیے دنیا کے اربوں انسانوں نے یہ سمجھا کہ ان معاشروں کی کامیابی کا راز سیکولرازم ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی طویل تاریخی اور شاندار تہذیب کو ایک طرف رکھا اور سیکولرازم کو گلے سے لگالیا۔ یہودیوں سے زیادہ خود پسند قوم دنیا میں موجود نہیں۔ اس قوم کی نسل پرستی بھی ہولناک ہے۔ اس کی بنیاد پر اس نے اسرائیل قائم کیا۔ لیکن اسرائیل آئینی اعتبار سے ایک سیکولر ریاست ہے اور اس کے ریاستی معاملات توریت کی تعلیمات کے مطابق نہیں بلکہ سیکولر نظریات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ ہندوئوں کو اپنی تاریخ کی قدامت پر فخر رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہماری تاریخ ایک لاکھ سال پرانی ہے، کوئی کہتا ہے ہم 6 ہزار سال سے تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں۔ لیکن بھارت بھی آئینی طور پر ایک سیکولر ریاست ہے۔ اس کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ سیکولرازم کی کامیابی پوری دنیا میں صداقت کی ہم معنی بن گئی ہے، اور ساری دنیا اس صداقت پرگویا ایمان لے آئی ہے! کامیابی کے ’’جادو‘‘ کا ایک پہلو اس بات سے متعلق ہے کہ کامیابی ہمیشہ حال سے متعلق ہوتی ہے۔ یعنی کامیابی ہمیشہ ’’نقد‘‘ ہوتی ہے۔ انسانوں کی عظیم اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حال میں زندہ رہتے ہیں، بلکہ حال کی اسیری ان کا تعیش ہوتی ہے، چنانچہ وہ کامیابی کو سر پر سوار کرلیتے ہیں، یہاں تک کہ کامیابی کے عصر سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کو پوجنے لگتے ہیں۔ کامیابی اگرچہ حال سے متعلق ہوتی ہے لیکن وہ انسان کے ماضی اور مستقبل کی تعریف بھی بدل ڈالتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک کامیاب انسان کا ماضی کامیاب نہ ہو، لیکن جب آدمی کامیاب ہوجاتا ہے تو دنیا کو اس کے ماضی میں بھی معنی نظر آنے لگتے ہیں، اور اسے لگتا ہے کہ اس شخص کا مستقبل بھی شاندار ہوگا۔ اسلام صرف دنیا کی کامیابی پر توجہ مرکوز نہیں کرتا، بلکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کو انسان کا ہدف بناتا ہے، اور اعلان کرتا ہے کہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ آخرت کا تصور یہودیت‘ عیسائیت اور ہندوازم میں بھی موجود ہے، مگر ان مذاہب نے آخرت کو صرف تقریر کے لیے وقف کردیا ہے اور دنیا ان کے عمل کی مستحق بن گئی ہے۔ یہ صورت حال آخرت کو ماننے کے باوجود اسے عملاً مسترد کرنے کے برابر ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو دنیا پر آخرت کی فوقیت کا نہ صرف یہ کہ نظری طور پر قائل ہے بلکہ وہ مسلمانوں کو اسی کے مطابق عمل کی بھی ہدایت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام کا کامیابی کا تصور ہمہ گیر‘ ہمہ جہت اور جامع ہے۔ اس تصور میں نہ دنیا کا انکار ہے، نہ آخرت پر دنیا کی فوقیت کی غیر حقیقت پسندانہ روش ہے۔ اس تصورکی ایک اہمیت یہ ہے کہ اسلام میںکامیابی کا تصور معروضی یا Objective ہے۔ یعنی اسلام میں کامیابی کا تصور کسی فرد نے نہیں خود خدا نے دیا ہے۔ اور جب کامیابی کا تصور موضوعی یا Subjective نہ ہو بلکہ معروضی یا Objective ہو تو پھر کامیابی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر کیا ہوتا ہے؟ چیزوں کے ساتھ انسان کے تعلق کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں: ایک یہ کہ انسان چیزوں سے بڑا ہوتا ہے، اور دوسرے یہ کہ چیزیں انسان سے بڑی بن جاتی ہیں۔ مثلاً دولت انسان پیدا کرتا ہے، چنانچہ انسان اور دولت کے درمیان خالق اور مخلوق کا رشتہ ہے، لیکن اگر انسان کو مذہب کی رہنمائی فراہم نہ ہو تو اکثر مخلوق خالق سے بڑی ہوجاتی ہے اور اس پر حکم چلاتی ہے۔ کامیابی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کامیابی انسان پیدا کرتا ہے لیکن اگر کامیابی کے ساتھ انسان کا تعلق معروضی نہ ہو، موضوعی یا Subjective ہو تو پھرکامیابی انسان کے اعصاب پر سوار ہوجاتی ہے اور اس کے باطنی ارتقاء کا راستہ بند کردیتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض شاعروں کی کچھ بحریں‘ کچھ موضوعات اور مخصوص الفاظ کسی بھی سبب سے پسند کیے جانے لگتے ہیں تو شاعر حضرات انہی بحروں یا موضوعات اور الفاظ کو اپنی شاعری میں دوہرانے لگتے ہیں، اور اس طرح ان کی شاعری کنویں کا مینڈک بن کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً جوشؔ ملیح آبادی کی شہرت شاعرِ شباب اور شاعرِ انقلاب کے طور پر ہوگئی، اور جوشؔ نے اس شہرت کو اوڑھ لیا۔ چنانچہ وہ ساری زندگی اس شہرت کے اثر سے نہ نکل سکے۔ فیضؔ کی غنائیت جوشؔ کی غنائیت سے زیادہ دل آویز ہے، مگر اس غنائیت کی شہرت فیضؔ کو بھی لے ڈوبی۔ اقبال کو بھی جوش اور فیض کی طرح مخصوص موضوعات اور مخصوص الفاظ کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی، مگر اقبال کی شخصیت ہمیشہ اپنی شہرت سے بڑی رہی، چنانچہ اقبال کی شہرت ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی ۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اقبال نے اپنی شاعری میں اگر مومن کے لفظ یا تصورکو دو سو مقامات پر استعمال کیا ہے تو ہر بار اس سے ایک نیا مفہوم پیدا کرکے دکھایا ہے۔ اسی طرح بعض مقررین اپنے موضوعات اور لہجے کے اسیر ہوجاتے ہیں اور ان کی کامیابی ان کے موضوعات اور اسلوبِ گفتگو میں کبھی تنوع پیدا نہیں ہونے دیتی۔ کامیابی انسان کو اس بات کا یقین دلادیتی ہے کہ وہ تنقید سے بالاتر ہوچکا ہے۔ یا کامیابی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ وہ کسی پر تنقید کو ناممکن بنادیتی ہے۔ مثال کے طور پر لینن نے روس میں انقلاب برپا کیا، لیکن ٹرائے ٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن ہی کی سطح کا رہنما تھا اور اس کا خیال تھا کہ لینن مارکسزم کی غلط تعبیر کررہا ہے۔ اس نے لینن کو اس جانب تواتر کے ساتھ متوجہ بھی کیا، مگر اس کی بات نہیں سنی گئی بلکہ الٹا اسے انقلاب دشمن سمجھا جانے لگا، یہاں تک کہ ٹرائے ٹسکی کو بالآخر روس چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح بھارت میں گاندھی کی شخصیت بہت بڑی تھی مگر کانگریس کے بعض رہنمائوں مثلاً نہرو کو گاندھی کے بعض خیالات رومانوی محسوس ہوتے تھے، لیکن وہ گاندھی کی زندگی میں کبھی اُن سے سنجیدہ اختلاف کی جرأت نہ کرسکے۔

نائٹ کلب کا مالک خانۂ کعبہ کا موذن کیسے بنا؟

نائٹ کلب کا مالک خانۂ کعبہ کا موذن کیسے بنا؟


- عبدالستار‘ کشف
میں ایک مشہور گلوکار تھا لیکن پھر جب میں نائٹ کلب کا مالک بن گیا تو وہاں گانے گاتا۔ موغادیشو کے ہوٹل اور نائٹ کلب میری بکنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ رقومات پیش کرتے۔ راتوں کو زندہ کرنے کے لیے، لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو مزید مشہور بنانے کے لیے میں نت نئے ناٹک رچاتا۔ عریاں ڈانس، فحش مکالمات اور عشقیہ گیتوں کے ذریعے پیسہ کمانا ہمارا مقصدِ حیات بن چکا تھا۔ جب یہ چیزیں میسر ہوں تو شیطان خوب خوش ہوتا ہے۔ بگڑے ہوئے گھرانے، ان کی امیر لڑکیاں اور لڑکے، شراب، نشہ، ہیروئن سب کچھ میسر تھا۔ رقص گاہیں ہماری وجہ سے آباد تھیں۔ شیطان کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہمارے اردگرد بدکار لوگوں کا ایک بڑا گروہ تھا۔ ہم نے بھی اسلامی اقدار کو ختم کرنے اور شیطانی مجالس کو فروغ دینے میں ساری قوتیں صرف کردیں۔ ہم صرف نام کے مسلمان تھے، اسلامی روح کے بغیر ظاہری حد تک۔ میں نے کتنے ہی یورپی ممالک کا سفر کیا۔ وہاں نائٹ کلبوں میں گاتا رہا، صومالیہ کے آرٹ کو اجاگر کرتا رہا۔ مغرب کو خوش کرنے کے لیے کہ ہم ترقی پسند قوم ہیں، میرے ایمان کا، اسلام کا اور اخلاق کا جنازہ نکلتا گیا… مگر میری جیب بھرتی گئی۔ ’’1983ء میں میرے والد نے اپنے ہی خاندان میں سے ایک لڑکی کا انتخاب کیا۔ خوب ہلاگلا ہوا۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، ذرائع ابلاغ کے نمائندے جمع ہوئے۔ یقینا یہ ایک یادگار شادی تھی۔‘‘ شادی کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ میری بیوی اتنی زیادہ خوش و خرم نہیں ہے جتنا کہ میرے جیسے معروف آدمی سے شادی کے بعد کسی لڑکی کو خوشی اور فخر ہونا چاہیے۔ میں نے اس کو اُس کی فطری حیا پر محمول کیا۔ میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ جب صبح گھر آتا ہوں تو میری بیوی جاگ رہی ہوتی ہے اور عموماً اس کے ہاتھ میں قرآن پاک ہوتا ہے جسے وہ پڑھ رہی ہوتی ہے۔ میں آکر اسے بڑے جوشیلے انداز میں اس رات کی کارکردگی سناتا، اپنے پرستاروں کی چاہت سے آگاہ کرتا اور بتاتا کہ آج کتنی لڑکیوں اور لڑکوں کے فون آئے جو میرے فن کے شیدائی ہیں۔ میری بیوی ان باتوں کو ناگواری سے سنتی اور میرے لیے ہدایت کی دعا کرتی۔ اس دوران فجر کی اذان ہوجاتی اور وہ مصلے کی طرف بڑھ جاتی، جب کہ میں نماز پڑھے بغیر ہی سوجاتا۔ میں جب بھی اس سے نائٹ کلب کا ذکر کرتا، وہاں کی باتیں سنانا، اپنی کمائی کا ذکر کرتا، بینک بیلنس کا رعب جماتا تو وہ جواباً کہتی: ’’رازق تو صرف اللہ کی ذات ہے‘‘۔ ہماری شادی کو پانچ سال گزر چکے تھے۔ میں مسلسل اپنے فن میں مبتلا اور فسق و فجور میں ڈوبا ہوا نماز اور عبادت کے بغیر زندگی گزارتا رہا… پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ہنگامہ برپا ہوا۔ یہ 1988ء کی بات ہے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: ’’میں اس شخص کے ساتھ ہرگز زندگی نہیں گزار سکتی جو اپنے رب کا وفادار نہیں، جو نماز ادا نہیں کرتا، اس کی کمائی حرام ہے جو فجر کے وقت گھر آتا ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ میری بیوی میرے لیے ایسا سوچ سکتی ہے۔ بہرحال گھر میں لڑائی شروع ہوگئی۔ میں نے اس کی باتیں سنی ان سنی کردیں۔‘‘ ’’کچھ دن گزرے، ایک دن جب میں گھر میں داخل ہوا تو فجر کی اذان ہورہی تھی۔ شہر کی مساجد میں اذانیں بلند ہورہی تھیں۔ ہر طرف اللّٰہ اکبر… اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ حی علی الصلاۃ کی گونج تھی۔ جب سونے کے لیے اپنے کمرے میں جانے لگا تو میری بیوی نے کہا: ’’آپ مسجد میں نماز کے لیے کیوں نہیں جاتے؟ کیا آپ نے اذان کی آواز نہیں سنی؟‘‘ میری زندگی میں یہ پہلا موقع تھاکہ کسی نے مجھے نماز کے لیے کہا تھا۔ اس لمحے میں نے خود بھی نماز پڑھنے کے بارے میں سوچا۔ میرے جسم میں جھرجھری سی آئی۔ بیوی کی آواز بار بار کانوں میں گونج رہی تھی ’’اس وقت مسلمان مسجد کی طرف جارہے ہیں۔ آپ کیوں مسجد کا رخ نہیں کرتے؟ یہ رحمن کا بلاوا ہے۔ یہ مالک الموت کی طرف سے دعوت ہے۔‘‘ اور پھر میرے ذہن میں خیر اور شر کی کشمکش ہوئی۔ فطرت کی آواز بلند ہوئی: تمہارا نام کتنا خوبصورت ہے… عبداللہ… تم اللہ کے بندے ہو۔ مگر نہیں… تم تو شیطان کے چیلے بنے ہوئے ہو۔ کبھی تم نے اپنے مالک کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ تم کب تک زندہ رہو گے، کب تک زندگی رہے گی، کب تک جوانی رہے گی؟ میرے سامنے ماضی آگیا… ضمیر نے ملامت شروع کی… مگر فوراً کلب کی رعنائیاں، ٹیلی ویژن کی اسکرین، اسٹیج، شہرت، عزت… کیا میں بیوی کی بات مان لوں؟ یہ کام چھوڑ دوں؟ یہ مقام حاصل کرنے کے لیے میں نے بے حد محنت اور جدوجہد کی ہے۔ یہی سوچتے سوچتے میں حسب عادت سوگیا۔ شام کے وقت میں نے کپڑے تبدیل کیے۔ کلب جانے کے لیے تیاری کی… میری بیوی نے میرے کان میں سرگوشی کی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کہہ رہی تھی: ’’ذرا بیٹھ جائیں… ذرا میری بات تو سنیں… کیا ہمارا رازق اللہ نہیں ہے؟ حلال کا ایک لقمہ حرام کے ہزاروں لقموں سے بہتر ہے۔‘‘ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ بیوی کی آواز… اس کی گفتگو… اس کے کلمات… یقینا درست ہیں۔ ان میں صداقت ہے… یہ فطرت کی آواز ہیں… مگر… میرا فن… میری آواز… میری شہرت…؟ میں تیزی سے بھاگا، کہ کہیں بیوی کی بات مان نہ لوں۔‘‘ ’’راستے میں بیوی کے کلمات میرا پیچھا کررہے تھے کہ میں نائٹ کلب کے دروازے پر پہنچا۔ اس دوران عشاء کی نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ میرے کانوں میں مؤذن کی خوبصورت اور دل میں اتر جانے والی آواز گونجی… حی علی الصلاۃ… حی علی الفلاح… ‘‘ ’’بیوی کی نصیحت یاد آئی… اللہ کی رحمت جوش میں آگئی۔ فسق و فجور اور کفر کے غبار کی تہہ بیٹھنے لگی… ایمان کی حرارت اور اسلام کی قوت زور دکھانے لگی… اور پھر میرا رخ نائٹ کلب سے مسجد کی طرف ہوگیا۔ میں مسجد میں داخل ہوا‘ وضو کیا۔ جماعت ہورہی تھی، میں نے نماز ادا کی۔ بعض نمازیوں نے مجھے پہچان لیا۔ کوئی ہاتھ ملا رہا ہے، کوئی دور سے سلام کررہا ہے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہے اور میرا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ الحمدللہ میں نے فطرت کو پالیا ہے۔ کسی نے مجھے صحیح بخاری کا نسخہ تحفے میں دیا۔ یہ اب میرے لیے متاع حیات تھی… میں اپنی نئے ماڈل کی قیمتی گاڑی میں سوار ہوا۔ اس کا رخ نائٹ کلب کے بجائے گھر کی طرف دیکھا۔ میری بیوی جو مجھے فجر کے وقت گھر آتے دیکھا کرتی تھی… آج عشاء کے بعد گھر میں دیکھ رہی تھی۔ بیوی کی طرف بڑھا: ’’بیگم… تمہیں مبارک ہو… میں نے آج سے گانوں سے توبہ کرلی ہے۔ میں نے فسق وفجور اور لہو و لعب کی زندگی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ میں نے سچی توبہ کرلی ہے۔ میں الحمدللہ تائب ہوگیا ہوں۔‘‘ پھر میں نے محسوس کیا گویا میں نے نئی زندگی کا آغاز کیا ہے۔ سب سے پہلے وہ اسٹوڈیو، جس کا میں مالک تھا، جس میں گانے ریکارڈ کراتا تھا، جس میں دنیا بھر کی جدید مشینیں تھیں، جن کو دنیا کے کونے کونے سے جمع کرتا رہا تھا… میں نے اس اسٹوڈیو کو دعوتِ الی اللہ کے لیے وقف کردیا کہ اب یہاں قرآن پاک کی کیسٹیں، علمائے کرام کی تقاریر اور اسلامی ترانے ریکارڈ ہوں گے۔ میں نے قیمتی گاڑی فروخت کردی، خوبصورت محل نما کوٹھی فروخت کردی… میں ایک اوسط درجے کے مکان میں آگیا۔ اب میرا وقت اپنے گھر میں گزرنے لگا۔ میری ایک ہی تمنا تھی… ایک ہی جستجو… میں حلقہ قرآن سے وابستہ ہوگیا… اب مجھے قرآن پاک حفظ کرنے کی خواہش تھی۔ 1990ء میں مَیں نے اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیا اور پھر پہلی مرتبہ اس گھر کی زیارت کے لیے آیا جس کی زیارت اور جس کے گرد چکر لگانے کی تڑپ دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔ میں مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ نیک بخت بیوی بھی ہمراہ تھی۔ عمرہ ادا کیا تو ایمان میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ میں بعض اہلِ خیر کو معلوم ہوا، وہ مجھ سے واقف تھے… میری سابقہ زندگی سے… میرے ماضی سے… میری اسلام پر پختگی سے…‘‘ اور پھر انہوں نے عبداللہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا، اس کی تکریم کی، اس کی کفالت کی… کچھ ہی عرصہ میں اس نے قرآن کے دس پارے حفظ کرلیے۔ اب وہ ایک مبلغ تھا۔ عقیدے کا، اسلام کا، قرآن کا، حدیث کا۔ پھر وہ اس دوران میں کئی مرتبہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا۔ پھر اس کو اس بلد الحرام میں، مکہ مکرمہ میں، اس مبارک اور مقدس شہر کی مقدس مسجد میں بطور موذن موقع مل گیا۔ عبداللہ آج بھی مبلغ ہے، وہ موذن ہے اسلام کی آواز کا… وہ سعودی عرب میں ہو یا صومالیہ میں، ہر جگہ وہ دعوتِ الی اللہ کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے اور نجانے کتنے ہی گنہگاروں اور خطا کاروں نے اس کے ہاتھ پر توبہ کی ہے اور اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق بنالی ہیں تاکہ وہ بھی حقیقی سعادت سے بہرہ ور ہوسکیں بالکل اسی طرح جس طرح عبداللہ سعادت حاصل کرچکا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بالکل حق ہے: ’’دنیا ایک پونجی (فائدہ کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین پونجی نیک بیوی ہے۔‘‘

حضرت سعد الاسود سہمی ؓ

حضرت سعد الاسود سہمی ؓ


- طالب ہاشمی
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے چند جاں نثاروں کے حلقے میں تشریف فرما تھے کہ نہایت بے ڈول جسم اور بھدے چہرے مہرے کے ایک سیاہ فام شخص ڈرتے جھجھکتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں نہایت بدصورت اور سیاہ فام آدمی ہوں۔ لوگ مجھے دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ کیا مجھ جیسا کریہہ منظر آدمی بھی جنت میں داخل ہوسکے گا؟‘‘ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لطف و کرم سے بھرپور نظر ڈالی اور فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تمہیں تمہاری بدصورتی اور سیاہ رنگت جنت میں داخل ہونے سے ہرگز نہ روکے گی، لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو اور میری رسالت پر ایمان لائو۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر ان صاحب کا چہرہ فرطِ مسرت سے چمک اٹھا اور ان کی زبان پر بے اختیار کلمۂ شہادت جاری ہوگیا۔ سعادت اندوزِ اسلام ہونے کے بعد انہوں نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حقوق کیا ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’تمہارے حقوق وہی ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں، اور تم پر وہی فرائض ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں، اور تم ان کے بھائی ہو۔‘‘ یہ سیاہ فام کم رُو صاحب جن کو اسلام لانے کے صلے میں خود سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی، سیدنا حضرت سعد الاسودؓ تھے۔ ……٭٭٭…… حضرت سعد الاسودؓ کا اصل نام تو سعد تھا لیکن ان کی غیر معمولی سیاہ رنگت کی وجہ سے لوگ ان کو ’’سعدالاسود‘‘ یا ’’اسود‘‘ کہا کرتے تھے (جیسا کہ ہمارے ملک میں سیاہ فام آدمی کو لوگ کالو یا کالا کہہ کر پکارتے ہیں)۔ اربابِ سِیَر نے حضرت سعد الاسودؓ کا سلسلۂ نسب بیان نہیں کیا۔ البتہ یہ بات تواتر کے ساتھ لکھی ہے کہ ان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ (مشہور صحابی حضرت عمروؓ بن العاص فاتح مصر بھی اسی قبیلے سے تھے) ان کے قبولِ اسلام کے زمانے کی بھی کسی کتاب میں صراحت نہیں کی گئی، لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس وقت شرفِ اسلام سے بہرہ ور ہوئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے اور غزوات و سرایا کا آغاز ہوچکا تھا۔ علامہ ابن اثیرؒ کا بیان ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد (اسی مجلس میں یا ایک دوسری روایت کے مطابق چند دن بعد) حضرت سعدالاسودؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن کوئی شخص میری بدصورتی کے سبب مجھ کو رشتہ دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو پیام دیے لیکن سب نے رد کردیے۔ ان میں سے کچھ یہاں موجود ہیں اور کچھ غیر حاضر ہیں۔‘‘ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس سیاہ فام شخص کو اللہ تعالیٰ نے نورانی جبلت عطا کی ہے اور جوشِ ایمان اور اخلاص فی الدین کے اعتبار سے اس کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت تھے، بیکسوں اور حاجت مندوںکے ملجا و ماویٰ تھے۔ اپنے ایک جاں نثار کی بیکسانہ درخواست سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحیمی نے گوارا نہ کیا کہ لوگ اس کو محض اس وجہ سے ٹھکرائیں کہ وہ ظاہری حسن و جمال سے محروم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سعد گھبرائو نہیں، میں خود تمہاری شادی کا بندوبست کرتا ہوں، تم اسی وقت عمروؓ بن وہب ثقفی کے گھر جائو اور سلام کے بعد ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی بیٹی کا رشتہ میرے ساتھ کردیا ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر حضرت سعد الاسودؓ شاداں و فرحاں حضرت عمروؓ بن وہب کے گھر کی طرف چل دیئے۔ ……٭٭٭…… حضرت عمروؓ بن وہب ثقفی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی ان کے مزاج میں زمانۂ جاہلیت کی درشتی موجود تھی۔ حضرت سعدؓ نے ان کے گھر پہنچ کر انہیں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مطلع کیا تو ان کو بڑی حیرت ہوئی کہ میری ماہ پیکر ذہین وفطین لڑکی کی شادی ایسے کریہہ منظر شخص سے کیسے ہوسکتی ہے! انہوں نے سوچے سمجھے بغیر حضرت سعدؓ کا پیام رد کردیا اور بڑی سختی کے ساتھ انہیں واپس جانے کے لیے کہا۔ سعادت مند لڑکی نے حضرت سعدؓ اور اپنے باپ کی گفتگو سن لی تھی، جونہی حضرت سعدؓ واپس جانے کے لیے مڑے وہ لپک کر دروازے پر آئی اور آواز دی: ’’اللہ کے بندے واپس آئو، اگر واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بھیجا ہے تو میں بخوشی تمہارے ساتھ شادی کے لیے تیار ہوں، جس بات سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہیں میں بھی اس پر راضی ہوں۔‘‘ اس اثناء میں حضرت سعدؓ آگے بڑھ چکے تھے، معلوم نہیں انہوں نے لڑکی کی بات سنی یا نہیں، بہرصورت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر سارا واقعہ عرض کردیا۔ اُدھر ان کے جانے کے بعد نیک بخت لڑکی نے اپنے والد سے کہا: ’’ابا قبل اس کے کہ اللہ آپ کو رسوا کرے آپ اپنی نجات کی کوشش کیجیے۔ آپ نے بڑا غضب کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پروا نہ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ کے ساتھ درشت سلوک کیا۔‘‘ عمروؓ بن وہب نے لڑکی کی بات سنی تو اپنے انکار پر سخت پشیمان ہوئے اور ڈرتے ہوئے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ’’تم ہی نے میرے بھیجے ہوئے آدمی کو لوٹایا تھا۔‘‘ عمروؓ بن وہب نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک میں نے اس آدمی کو لوٹایا تھا لیکن یہ غلطی لاعلمی میں سرزد ہوئی۔ میں اس شخص سے واقف نہ تھا، اس لیے اس کی بات کا اعتبار نہ کیا اور اس کا پیام نامنظور کردیا، خدا کے لیے مجھے معاف فرما دیجیے۔ مجھے اپنی لڑکی کی شادی اس شخص سے بسرو چشم منظور ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمروؓ بن وہب کا عذر قبول فرمایا اور حضرت سعد الاسودؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’سعد میں نے تمہارا عقد بنت ِ عمرو بن وہب سے کردیا۔ اب تم اپنی بیوی کے پاس جائو۔‘‘ ……٭٭٭…… رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر حضرت سعدؓ کو بے حد مسرت ہوئی، بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹھ کر سیدھے بازار گئے اور ارادہ کیا کہ نوبیاہتا بیوی کے لیے کچھ تحائف خریدیں۔ ابھی کوئی چیز نہیں خریدی تھی کہ ان کے کانوں میں ایک منادی کی آواز پڑی جو پکار رہا تھا: ’’اے اللہ کے شہسوارو، جہاد کے لیے سوار ہوجائو اور جنت کی بشارت لو۔‘‘ سعدؓ نوجوان تھے۔ نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ دل میں ہزار امنگیں اور ارمان تھے۔ بارہا مایوس ہونے کے بعد شادی کا مژدہ فردوسِ گوش ہوا تھا، لیکن منادی کی آواز سن کر تمام جذبات پر جوشِ ایمانی غالب آگیا اور نوعروس کے لیے تحائف خریدنے کا خیال دل سے یکسر کافور ہوگیا، جو رقم اس مقصد کے لیے ساتھ لائے تھے، اس سے گھوڑا، تلوار اور نیزہ خریدا اور سر پر عمامہ باندھ کر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں غزوہ پر جانے والے مجاہدین میں جاشامل ہوئے۔ اس سے پہلے نہ ان کے پاس گھوڑا تھا، نہ نیزہ و تلوار، اور نہ انہوں نے کبھی عمامہ اس طرح باندھا تھا، اس لیے کسی کو معلوم نہ ہوا کہ یہ سعدالاسودؓ ہیں۔ میدان جہاد میں پہنچ کر سعدؓ ایسے جوش و شجاعت کے ساتھ لڑے کہ بڑے بڑے بہادروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایک موقع پر گھوڑا اَڑ گیا تو اس کی پشت پر سے کود پڑے اور آستینیں چڑھاکر پیادہ پا ہی لڑنا شروع کردیا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھوں کی سیاہی دیکھ کر شناخت کرلیا اور آواز دی ’’سعد‘‘۔ لیکن سعدؓ اُس وقت دنیا و مافیہا سے بے خبر اس جوش و وارفتگی کے ساتھ لڑرہے تھے کہ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کی بھی خبر نہ ہوئی۔ اسی طرح دادِ شجاعت دیتے ہوئے جُرعۂ شہادت نوش کیا اور عروسِ نو کے بجائے حورانِ جنت کی آغوش میں پہنچ گئے۔ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعدالاسودؓ کی شہادت کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاش کے پاس تشریف لائے، ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر دعائے مغفرت کی اور پھر فرمایا: ’’میں نے سعدؓ کا عقد عمرو بن وہب کی لڑکی سے کردیا تھا، اس لیے اس کے متروکہ سامان کی مالک وہی لڑکی ہے۔ سعدؓ کے ہتھیار اور گھوڑا اسی کے پاس پہنچادو اور اس کے ماں باپ سے جاکر کہہ دوکہ اب خدا نے تمہاری لڑکی سے بہتر لڑکی سعد کو عطا کردی، اور اس کی شادی جنت میں ہوگئی۔‘‘ قبولِ اسلام کے بعد حضرت سعد الاسودؓ نے اس دنیائے فانی میں بہت کم عرصہ قیام کیا، لیکن اس مختصر مدت میں انہوں نے اپنے جوشِ ایمان اور اخلاصِ عمل کے جو نقوش صفحۂ تاریخ پر ثبت کیے وہ امت ِمسلمہ کے لیے تاابد مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Friday, 8 June 2012

تقسیم ترکہ کا مسءلہ


Courtesy: Munsif Daily Hyderabad

روس، چین، امریکہ اور مسلم اُمہ

روس، چین، امریکہ اور مسلم اُمہ



- پروفیسر شمیم اختر
روس اور چین قریب ہوتے جارہے ہیں، اور یہ دونوں طاقتیں امریکہ اور اس کے فوجی ٹولے ناٹو کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کے سدباب کے لیے سفارتی اور تزویراتی سطحوں پر تعاون کرتی رہی ہیں۔ روس اور چین کو توقع تھی کہ روس میں اشتراکیت کے خاتمے اور چین میں مائو کے سخت گیر نظریاتی رویوں کو خیرباد کہنے اور سرمایہ دار ممالک سے تجارت کرنے سے کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور فوجی معاہدوں کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے معاہدۂ وارسا کو ختم کردیا، لیکن اس کی توقع کے برخلاف امریکہ نے روس کے اس اقدام کو اس کی کمزوری پر محمول کرتے ہوئے ناٹو میں توسیع کا عمل شروع کردیا اور معاہدۂ وارسا کی رکن سابق مشرقی یورپی ریاستوں کی کھیپ کی کھیپ بھرتی کرنا شروع کردی، یہاں تک کہ جارجیا، یوکرین اور قازقستان پر بھی ڈورے ڈالنے شروع کردیئے۔ اب ناٹو کی رکن ریاستوں کی تعداد 16 سے بڑھ کر 28 ہوگئی۔ پہلے تو ناٹو کا دائرۂ اختیار صرف یورپ تک تھا، لیکن سوویت یونین کے خاتمے سے ایک سال قبل اس نے عراق پر چڑھائی کردی جس کے لیے جارج بش اول نے سلامتی کونسل کی قرارداد کی خود تاویل کرتے ہوئے اپنے جارحانہ اقدام کو جائز قرار دیا۔ اُس وقت سوویت روس کے صدر میخائل گورباچوف اندرونی تبدیلیوں کی وجہ سے کوئی راست اقدام نہ کرسکے، جب کہ چین بھی اندرون ملک امریکی سی آئی اے کی برپا کی ہوئی بغاوت سے نبرد آزما ہونے کے باعث کچھ نہ کرسکا… اور یوں بھی چین کی پالیسی انتہائی خودغرضی پر مبنی ہے، اور اس نے کبھی استعمار کے خلاف افرایشیائی لاطینی امریکی عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت نہیں کی، البتہ مائوزے تنگ کے زمانے میں چین استعمار کے خلاف زبانی جمع خرچ ضرور کرتا رہا ہے۔ اس نے انیسویں صدی میں زارِ روس سے کیے گئے معاہدے کے ذریعے ولاڈی واسٹک، استراخان اور نواحی علاقے کی روس کو منتقلی کا تنازع کھڑا کرکے 80 کے تمام عشرے میں مغربی استعمار کے بجائے سوویت یونین کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھی جس کے باعث ناٹو کو کھل کھیلنے کا موقع ہاتھ آگیا، جب کہ استعمار مخالف طاقتیںکمزور پڑگئیں۔ سوویت یونین اندرون ملک بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث مفلوج ہوگئی اور ناٹو کو کھلا میدان ہاتھ آگیا۔ اب بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کس حد تک اپنے سب سے بڑے تجارتی ساجھے دار امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو لگام دے سکتا ہے۔ جیسا میں نے عرض کیا کہ چین کی پالیسی انتہائی خودغرضی پر مبنی ہے اور وہ ہر مسئلے کو اپنے قومی مفاد کے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے، اور اس کا ہر قدم اسی سمت بڑھتا ہے جدھر وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ لیکن اب اسے امریکہ کچوکے لگا رہا ہے تو وہ بلبلا اٹھا۔ سب سے پہلے تو بارک اوباما نے تائیوان کو جدید جنگی طیاروں اور میزائلوں سے مسلح کردیا ہے اور اس کے اشارے پر تائیوان نے ان میزائلوں کو ساحلوں پر نصب کرکے ہانگ کانگ کو نشانے پر رکھ لیا ہے، جب کہ اس کا ساتواں بحری بیڑا سمندری علاقے میں متحرک ہے۔ شمالی بحرالکاہل میں جاپان اور جنوبی کوریا پر امریکی افواج بالترتیب 67 اور 62 سال سے قابض ہیں، اسی طرح جرمنی پر بھی 62 سال سے قابض ہیں، لہٰذا یہ ممالک عملاً امریکہ کے مقبوضہ علاقے ہیں جن کے لیے اتحادی کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ ولادی میر پیوٹن کے دورِِ صدارت میں روس اپنے پائوں پر کھڑا ہونے لگا اور گیس اور تیل کے ذخائر کے ذریعے نہ صرف کثیر زرمبادلہ کمایا بلکہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا۔ روس نے TNK-BP کمپنی میں برٹش پیٹرولیم (BP) کے سارے حصص جو پچاس فیصد تھے، خرید کر برطانوی کمپنی کی چھٹی کردی اور اس کے سربراہ Bob Dudley کو 2008ء میں ملک سے نکال باہر کیا، کیونکہ برطانوی کمپنی کاروبار کی آڑ میں روس مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ (ڈان 3 جون 2012ئ) اب روس کی Gazprom اور Rosneft کمپنیوں کو تیل اور گیس کے کاروبار پر مکمل اجارہ داری حاصل ہے۔ چین روس کے تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے کیونکہ اسے اپنی تیز رفتار صنعتی ترقی کے لیے وافر مقدار میں توانائی درکار ہے۔ 2009ء میں چین نے روس سے تیس سال تک کے لیے 70 ارب کیوبک میٹر سالانہ گیس کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا لیکن قیمت کے تعین پر طرفین میں اختلافات تھے۔ امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس منعقدہ بیجنگ کے موقع پر یہ سودا بھی طے پا جائے گا (ڈان 4 جون 2012ئ)۔ چین اپنی ضرورت کے لیے 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے جو جنوبی بحرالکاہل سے گزرتا ہوا چین آتا ہے، اور اس کی یورپ، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کو جانے والی برآمدات کی گزرگاہ بھی یہی سمندری شاہراہ ہے۔ اس لیے چین جنوبی بحیرہ چین کے زیادہ سمندری علاقے کو اپنی تجارت کے لیے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں اسی سمندر میں واقع Parcel اور Spratley نامی جزائر میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں جنہیں چین استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن تائیوان، ویت نام، برونائی، فلپائن اور ملائیشیا بھی ان جزائر اور نواحی سمندری علاقے پر اپنا اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ اسی سمندر میں ماہی گیری پر چین اور فلپائن کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تمام علاقائی ریاستیں سارے بحیرہ چین پر اس کے دعوے کو تسلیم نہیںکرتیں اور چین پر جارحانہ عزائم کا الزام لگاتی ہیں۔ اس صورت حال سے امریکہ نے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا اور تائیوان اور فلپائن سے اپنے فوجی معاہدے کے بل پر وہ جنوبی بحیرہ چین کے تنازع میں فریق بن گیا ہے اور فلپائن اور تائیوان کو خاص کر یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر چین نے ان پر حملہ کیا تو مذکورہ معاہدے کے تحت وہ ان کا دفاع کرے گا۔ اس پر چین نے امریکہ کو بحیرہ چین میں مداخلت سے باز رہنے کا انتباہ کیا ہے۔ (3 جون 2012ئ) چین کا کہنا ہے کہ وہ اس سمندری شاہراہ کو دوستی اور تعاون کا خطہ بنانا چاہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 1982ء کے سمندری قانون کی رو سے ہر ملک کو اپنے ساحل سے 200 میل تک سمندری علاقے میں بلاشرکت غیرے وہاںکے قدرتی وسائل پر تصرف کا حق حاصل ہے، اور اگر ساحلی ریاستوں کے 200 میل کے خصوصی اقتصادی منطقات دونوں کی حدود میں آتے ہیں تو اسے ثالثی یا عدالتی فیصلے یا مذاکرات سے طے کرلیا جانا چاہیے، لیکن یہ درست نہیں ہوگا کہ کوئی بڑی ریاست دوسری ساحلی ریاست کے اقتصادی خطے (Exclusive Economic Zone) یا اس کے زیادہ حصے پر طاقت کے زور پر قبضہ کرلے جو چین چاہتا ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کوئی جزیرہ یا سمندری علاقہ ایک سے زیادہ ریاستوں کے خصوصی اقتصادی منطقہ میں واقع ہو تو ان کے قدرتی وسائل بقدرِ حصہ فریقین میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ چین اس تنازع سے امریکہ کو خارج کرنے کے لیے اسے جنوب مشرقی ایشیائی تنظیم کی کی سطح (ASEAN FORUM) پر حل کرنا چاہتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ روس اس تنازع میں چین کی حمایت کرے گا` کیونکہ اس کے ویتنام، لائوس اور کمبوڈیا سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ یہ روس ہی تھا جس نے دس سالہ ویتنام جنگ میں امریکی جارحیت کے خلاف کھل کر اس کی حمایت کی تھی، جب کہ چین نے تو ویتنام پر حملہ بھی کردیا تھا جسے اس ریاست نے پسپا کردیا۔ جہاں تک مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کا تعلق ہے تو وہ کیوں تائیوان پر چین کا ساتھ دیں، جب کہ چین اسرائیل کو تسلیم کیے بیٹھا ہے اور شام میں بشارالاسد کے ہاتھوں مقامی آبادی کے قتلِ عام کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح چین اور روس نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والی سرب حکومت کی بھرپور حمایت کی تھی جبکہ زنجیانگ اور شیشان میں چین اور روس کی جانب سے مسلمان آبادیوں پر ریاستی تشدد، ماورائے عدالت قتل روز کا معمول بن گیا ہے۔ اگر ہم مسلم امہ کے نقطہ نظر سے ان بڑی طاقتوں کے کرتوت دیکھیں تو ہمیں ان دونوں سے کراہیت ہوتی ہے۔ بھلے سے شنگھائی تنظیم برائے تعاون امریکہ/ ناٹو سے اپنا حساب چکتا کرتی رہے، مسلم امہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے، نہ ہی وہ شکار پر ان بھیڑیوں کی لڑائی میں فریق بننا چاہتی ہے۔ کیا چین اور روس سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پابندیوں سے متعلق مسودۂ قرارداد کے خلاف ویٹو نہیں لگا سکتے تھے؟ اس کے برعکس وہ استعماری ٹولے سے مل گئے اور ان نامنصفانہ قراردادوں کو منظور کردیا۔ مسلم ریاستوں کو حقیقی ناوابستہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور باہمی تعاون سے اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر غربت، جہالت، بیماری، پسماندگی کا خاتمہ کردینا چاہیے۔ اس کے لیے انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔

درس مثنوی


اسلام اور عصری علوم Islam and Modern Education

Courtesy: Daily Siasat Hyderabad

شانِ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم

شانِ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم


جہاں تک رحمت و شفقت کا سوال ہے، ایک شفقت تو وہ ہے جو والدین کو اولاد سے، استاد کو شاگرد سے، بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن یہ شفقت مشروط ہوتی ہے،اطاعت اور وفاداری کے ساتھ ۔اگر اولاد باغی ہو جائے تو والدین کی شفقت باقی نہیں رہتی، اگرشاگرد نافرمان ہو جائے تو استاد کی شفقت ختم ہو جاتی ہے ۔اگر چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بات نہ مانے تو بڑا بھائی اسے محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا مگر حضور صلعم کی رحمت و شفقت عام ہے، دوستوں کے لئے بھی اور دشمنوں کے لئے بھی، اپنوں کے لئے بھی اور پرائے لوگوں کے لئے بھی، ماننے والوں کے لئے بھی اور انکار کرنے والوں کے لئے بھی، راستہ میں گندڈالنے والوں کے لئے بھی اور راہوں میں کانٹے بچھانے والوں کے لئے بھی، جان قربان کرنے والوں کے لئے بھی اور جانی دشمنوں کے لئے بھی۔حضور صلعم کی پوری پاک زندگی بے مثال محبت ورحمت ،غیر مشروط مودت وشفقت کا مظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترسٹھ سالہ حیاتِ مبارکہ میں انتقام نام کی کوئی چیز نہیں ملتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو رحمتہ للعالمینؐ بنا کر بھیجا   ؎
اندھیرا چھٹ گیا کفر و ضلالت کی کمر توڑی
سراپا نور بن کر جب حبیب کبریا ؐآئے
انسان میں ہر دور میںدشمن میں بدلہ لینے کا جذبہ، انتقام لینے کی مکروہ خواہش ،دشمن کو نیچا دکھانے اور اسے برباد کرنے کی ناپاک ذہنیت اور حریف کو ذلیل و رسوا کرنے کی تمنا ہر دور اور ہر زمانے میں موجود رہی ہے، چھوٹا ہویا بڑا، امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر،مفلس ہو یا مالدار سبھی اس مصیبت میں مبتلا رہے ہیں۔دنیا والوں نے ہر چیز کو ممکن العمل سمجھا کہ دشمن کو معاف کر دینا، حریف کے ساتھ عفو و درگزر کا سلوک کرنا اور مخالف کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ قطعاً محال سمجھا ہے۔
رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے انتقامی  کارروائیاں اپنے شباب پر تھیں، آتش ِانتقام کی ہلاکت آفرینیوں سے نہ اپنے محفوظ تھے نہ پرائے، نہ چھوٹے نہ بڑے بوڑھے نہ بچے، نہ مرد نہ عورتیں،وہاں نہ انسانی جان کی کوئی قدروقیمت تھی، نہ انسانی خون کا احترام تھا، انتقام میں دشمن کی جان، اس کی عزت، اس کی آبرو اور اس کی ناموس بہت ہی بے حقیقت چیز اور دلچسپی اور دل جمعی کے لئے خوبصورت کھلونے تھے۔
اس زمانے کو دورِجاہلیت کہہ کر چھوڑ دیجئے، سیرتِ طیبہ صلعم کو دیکھئے جس کے دم سے ہر چیز ترقی کے آسمان پر پہنچی ،روحانی کمالات، اخلاقی برتری،سماجی انصاف ،معاشی مساوات اور تمام مفیدعلوم و فنون حدکمال تک آگئے ۔آج کل تہذیب و شائستگی، مساوات اور جمہوریت کے نعروں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے، تمدن پر گھمنڈ ہے، غرض انسانی زندگی ہر شعبہ میں عروج کے جلوے نظر آتے ہیں، مگر کیا آتش انتقام میں کوئی کمی آئی؟عفو و درگزر میں کوئی خوبی اور بھلائی نظر آئی، رحمت و شفقت کے محاسن کا کچھ احساس ہوا؟ حریف سے انتقام لینے کی خواہش کو ٹھکرا کر اسے پیار و محبت کی ٓنکھوں میں جگہ دینے کا جذبہ پیدا ہوا؟یہ ساری صفات اور بابرکت عظمتیں انسانی تاریخ میں صرف اور صرف رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہیں ،مخصوص تھیں اور آگے بھی رہیں گی۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دین مبین کے شناور

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
دین مبین کے شناور

امام ابوحنیفہؒ کو تاریخ وتدوین فقہ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جوکام امام ابو حنیفہؒ نے دین اسلام کی سربلندی اور اشاعت کے لئے انجام دئے ،ان سے رہتی دنیا تک مسلمان استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔عالم اسلام کے کونے کونے میں حنفی مسلک کے پیروکار موجود ہیں جبکہ سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دنیائے اسلام میں زیادہ تر تعداد اسی مسلک(حنفی مسلک) کے پیروکاروں کی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کا اصل اسم گرامی نعمان ، والد بزرگوار کانام ثابت ہے ۔آپؒ امام اعظم العصر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔امام ابو حنیفہؒ کے روحانی کمالات ،ریاضت، عبادت،بصیرت ، زہد و تقویٰ بیان کرنے کے لئے بہت بڑی کتاب درکار ہے لیکن چند ایک واقعات بیان کرنے کی میں جسارت کروں گا۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک رات امام صاحبؒایک خوفناک خواب دیکھا جس سے آپ ؒدہشت زدہ ہوگئے۔ آپؒنے خواب کی تعبیر امام ابن سیرین سے دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ مبارک خواب ہے۔ آپؒ کو سنت نبویؐ کے پرکھنے میں وہ مرتبہ عطا کیا جائے گا کہ احادیث صحیحہ کو موضوع حدیث سے جدا کرنے کی شناخت ہو جائے گی۔
ایک شخص آپؒ کا قرضدار تھا اور اسی کے علاقہ میں کسی کی موت واقع ہوئی ۔جب امام صاحب نمازِ جنازہ کے لئے وہاں گئے تو وہر طرف دھوپ تھی صرف آپؒ کے مقروض کی دیوار کے پاس سایہ تھا ۔لوگوں نے کہا کہ آپؒ یہاں تشریف لے آئیں تو آپ نے کہا کہ یہ شخص میرا مقروض ہے، اس لئے اس کے مکان کے سایہ سے استفادہ کرنا میرے لئے جائز نہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ قرض کی وجہ سے جو نفع حاصل ہو وہ سود ہے۔
روایات میں وارد ہے کہ امام ابوحنیفہ ہر شب کثرت سے نفلیں پڑھا کرتے تھے۔ امام صاحبؒ رات بھر شب بیداری کرتے تھے۔کہاجاتا ہے کہ ایک مرتبہ خلیفہ وقت نے حضرت عزرائیل کو خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ اب میری زندگی کتنی رہ گئی تو حضرت عزرائیل نے انگلیاں اٹھادیں اور جب تمام لوگ تعبیر دان تعبیر بتانے سے قاصر رہے تو خلیفہ نے امام صاحب ؒسے تعبیر پوچھی ۔ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ پانچ انگلیایں ان پانچ چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ 
(۱)قیامت کب آئے گی
(2) بارش کب ہوگی
(3)حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے
(4)کل انسان کیا کرے گا
(5)موت کب اور کہاں آئے گی۔
 نوفل بن حباں بیان کرتے ہیں کہ امام صاحبؒ کووصال ابدی کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے اور لوگ حساب کتاب میں مشغول ہیں اور حوضِ کوثر پر حضور اکرمؐ تشریف فرما ہیں اور آپؐ کے اطراف بہت بزرگ کھڑے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں حضورؐ کی اجازت کے بغیر کسی کو پانی نہیں دے سکتا۔پھر حضورؐ نے فرمایا کہ اس کو پانی دے دو ۔چنانچہ امام صاحبؒ نے مجھ کو ایک گلاس پانی دے دیا۔پھر میں نے امام ابوحنیفہ ؒسے تمام بزرگوں کے نام دریافت کئے تو امامؒ صاحب نے فرمایا کہ دائیں جانب حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور بائیں جانب حضرت ابوبکرصدیقؓ۔ اسی طرح امام صاحبؒ نے سترہ افراد کے نام بتائے جو میں نے انگلیوں کے پوروں پر شمار کئے اور بیداری کے بعد انگلیوں کے سترہ پورے بندھے ہوئے تھے۔ 

سفرِمحمود . بے محابہ جلوتوں اور خلوتوں کی بارگاہ

سفرِمحمود
بے محابہ جلوتوں اور خلوتوں کی بارگاہ

یہ احساسات لئے ہر صاحب ایمان  روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا خواہاں رہتاہے ۔گھربیٹھے وہ جس قدر اور جس وارفتگی کے عالم میں اورباقاعدگی کے ساتھ وردِ درود وسلام میں رطب اللسان رہے لیکن  روضے پر حاضری دینے کی پیاس ہمیشہ ہرگام پر روح کی یہ تمنا بے قرار کرتی رہتی ہے کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ پر حاضر ہوکر اپنی عاجزی ، اپنی بے قراری اور اپنی بے انتہا عقیدت کا برملااظہار کرنے کا موقع نصیب ہو۔ ماہیٔ بے آب کی طرح ہرباشعورمسلمان ایسے موقعے کی تلاش میں رہتاہے کہ کب اللہ اس سفرمحمود کے اسباب بنائے ۔ خود پہ نظر پڑتی ہے توناممکنات کا دائرہ وسیع ہوتا جاتاہے ، بے مائیگی ،وسائل کی کمی ،ذاتی مصروفیات ، اہل وعیال سے وابستگی ، دینوی تفکرات یہ سب چیزیں بہ یک وقت دل ودماغ پر عود کرکے کم ہمتی اور غیر ممکنات کی لمبی فہرست آنکھوں کے سامنے لاچھوڑتی ہے ۔
یہی حال اس خاکسار کا تھا۔ مدتوں دست بدعا رہا کہ یہ نعمت عظمیٰ نصیب ہو ۔
’’حسبی اللہ لذی لا الا اللہ ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم‘‘۔یہ آیت کریمہ ہمیشہ میرے دل ودماغ پر دستک دے رہی تھی کہ اللہ کے حضور جو بھی نیک مقصد ،جوبھی صالح حاجت اور جو بھی پاک خواہش رکھی جائے وہ پورا کرنے کی قدرت رکھتاہے ۔والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرماں برداری بلاشک وشبہ ایسے منازل طے کرنے میں ممدومددگار ثابت ہوتاہے ۔کیوں نہ ہو ماں باپ کے دل سے ہی بنا کسی مصلحت کے صاف وشفاف التجا پھوٹ پڑتی ہے ،اپنے چہیتے ،تابعدار اور خداپرست اولاد کے حق میں کہ   ع
اجابت از درِ حق مہر استقبال مے آید
اسی تجربے اور اسی حقیقت کے سہارے میں اور میری رفیقِ حیات کی آرزو پوری ہوئی اور سن 1991ء میں دونوں کے حق میں حج بیت اللہ کی انمول نعمت عظمیٰ نصیب ہوئی ۔ الحمد للہ۔
تجربہ یہ ہے کہ حج کے دوران مطلوبہ لوازمات کے بغیر حرمین شریفین کی بھرپور زیارت تشفی وتسلی سے نہیں ہوتی اور نہ معین وقت میں قریبی مشاہدات کا موقع نصیب ہوتاہے ۔
حج کا فریضہ اداکرنے سے فارغ ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ہر شخص زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی والہانہ عقیدت محبت اوراحترام کا اظہار کرنے کے لئے مدینہ منورہ جانے کے لئے کمر بستہ ہوجاتاہے ۔ ارشاد رسولؐ ہے حج سے فارغ ہونے کے بعد جو بھی میرے روضے پر نہ آئے میرے ساتھ زیادتی کرگیا ۔ ’’ جس شخص نے حج کیا لیکن میری قبر کی زیارت نہ کی اُس نے مجھ سے زیادتی کی ‘‘۔ اللہ اللہ کیا تاریخی فرمان مبارکہ اور کیا زندہ جاوید حقیقت ہے !! اسی حقیقت سے پردہ اُٹھ کے عاشق رسولؐ حضرت عبدالرحمٰن جامیؔ علیہ رحمہ کی زبان مبارک سے یہ التجا پھوٹ پڑی ۔
مشرف گرچہ جامیؔ شد زلطفش
خدایا ایں کرم بار دگر کُن
خاکسار نے تاجدارمدینہ ؐ کی مبارک چوکھٹ پہ پہلا قدم رکھ کے التجا کی ۔ الٰہی ایں کرم ابداً ابداکُن۔
اجابت کا وقت تھا۔ حاضری کا اِذن ملا اور خاکسار سن 1991ء سے بلاناغہ تا ایں دم الحمد اللہ دربارنبویؐ میں حاضری دیتا آیاہوں ۔ اکیلے نہیں اپنی رفیقۂ حیات کے ہمراہ۔ ضروری ہے کہ اپنے مشاہدات اور اپنے تجربات سے قارئین کو بھی سلسلہ وار آگاہ کروں ۔ انشاء اللہ
مکہ معظمہ میں وارد ہوکے ہر عازم حج یا ہر زائر عمرہ کرنے کی خاطر کمر بستہ ہوجاتاہے ۔میقات میں احرام باندھ کے تلبیہ کے ساتھ یعنی  اللہ کے  وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی دینا ۔خانۂ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر کی تکمیل کے لئے عزم واستقلال کے ساتھ رُکن یمانی  سے طواف کی ابتداء ۔ پیارے رسولؐ کی پیاری دعائیں زبان پر لاکے اپنے آپ کا محاسبہ کرتے کرتے اتباع سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل کرنا۔اللہ اللہ کیا منظر ہے ۔ کیسی ابدی حقیقت ہے کعبے کے خدا سے ملتجی ہونا ،حاضر وناضر جان کر کہنا    ؎
یا اللہ العالمین بارگاہ آوردہ ام
بردرت ایں باز باپشت دوتاہ آوردہ ام
چشم رحمت برکشا موئے سفیدی من بہ مین
ترانکہ از شرمندگی روئے سیاہ آوردہ ام
میرے اللہ گناہوںکے بارے میں میری کمر دوہری  ہوگئی ہے اور گناہوںکا یہ پلندہ لئے نیم کمر تمہارے حضور کھڑا ہو ۔
بارالٰہا! اپنی رحمت کی ایک نگاہ سے میرے سفید ریش کی طرف توجہ فرما کیونکہ شرمندگی اور کم طاعتی کی بناء پر سارے وجود پرشرمندگی چھائی ہوئی ہے ۔ سیاہ چہرہ لئے سارے وجود پر گناہوں کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔نظر کرم بارخدایا ایک نظر کرم ۔
تاریخ گواہ ہے کہ صفا سے مروہ اور واپس مروہ سے صفا کی پہاڑیوں کے درمیان سعی کرنا اس بات کی یاد دہانی کرتاہے کہ حضرت حاجرہؑ نے کیسے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بھانپتے ہوئے ان دوپہاڑیوں کے درمیان تگ ودو کی تھی کہ کہیں پانی کی ایک بوند ملے ۔پیاسے بچے کی پیاس بجھا سکوں ۔ ایک طرف یہ بے قرار ی اور دوسری طرف یہ خدشہ کہ بچے کو کوئی گزند نہ پہنچے ۔ حضرت حاجرہؑ کی دوڑ دھوپ اللہ کوپیاری لگی ۔ حکم ہوا کہ ہم بھی اس کی اتباع کرکے تیز تیز قدم اٹھاکے دکھائے ہوئے نشانے سے دکھائے ہوئے نشانے تک کی مسافت طے کریں ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑرگڑ کے جو چشمہ باری تعالیٰ کے فضل وکرم سے پھوٹ پڑا اس کے پانی کو زَم زَم کہتے ہیں ۔چشمے کے پانی کی رفتار اس قدر تیزتھی کہ حضرت حاجرہؑ پکاراُٹھیں زَم زَزم (یعنی ٹھہرجا۔ٹھہرجا)۔اندازہ کریں کس سَن سے لے کر آج کے ہجری سن تک یہ آبِ ذلال رواں دواں ہے اور ہرکسی کی پیاس بجھانے کے لئے دستیاب۔ دن رات رحمت وشفقت کا یہ سلسلہ قائم ودائم ہے اور قائم ودائم رہے گا ۔
سعودی عرب کے خادم حرمینِ شریفین اور دیگر حکمرانوںکی اَنتھک کوششوں کے صدقے آج کل مکہ معظمہ کی تعمیر وتوسیع کا کام زور وشور سے جاری وساری ہے ۔ اس سال اپریل کے مہینے میں جومنظر میں نے دیکھا وہ قابل ذکر ہے ۔ مکہ کے پہاڑ اور پہاڑیوں کو چیر کر جدید مشینوں اور آلات سے زمین بوس کیا جارہاہے ۔فن تعمیر کا ایک منفرد اورقابل دید منظر آنکھوں کوخیرہ کرجاتاہے ۔اب تک گرائے گئے پہاڑوں پر فلک نما تعمیرات ایستادہ ہیں جن میں خالصتاً زائرین کی رہائش اور خورد ونوش کے قابل دید انتظامات میسرہیں۔ یاد رہے تاحال زائرین کی تعداد میں ہوشربا اضافے سے مکہ معظمہ میں رہائش کے لئے زمین تنگ محسوس کی جارہی تھی ،زائرین اور حج کا کا مقدس فریضہ ادا کرنے کے لئے جو لوگ واردِ مکہ ہوتے تھے ان کی لاجنگ بورڈنگ  کے لئے عربوں کے رہائشی مکان ہی میسر تھے، ہوٹلوں کی تعداد نسبتاً کم تھی ۔ آج حرم کے باہر دیدہ زیب ٹاور نصب ہے جس کے بیچ ایک کلاک لگاہواہے ۔ اسے مکہ ٹاور کہاجاتاہے ۔
اسی حرم پاک کے باہر ایسے تاریخی مقامات موجود ہیں جن کا تعلق حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے ہے ’’جنت الماوا‘‘ جہاں حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا مدفن ہے ۔
باب السلام کے روبرو نبی جہاں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا تولد مسعود ہوا ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خانۂ کعبہ کی طرف جاتے او رآتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی باب السلام سے حرم کے اندر اپنے قدوم مبارک ٹھہراتے ۔ ایسے ہی مسجد نبوی ؐمدینہ منورہ میں آپؐ کا ورودِ مسعود ہوتا ۔ مکہ معظمہ سے چار پانچ کلومیٹر کی دوری پر میدانِ عرفات  اپنی روایتی شان وشوکت سے قائم ودائم ہے ۔ یہ مسافت طے کرتے وقت اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے کہ قدوم مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نشانات سے یہ پہاڑ ، یہ درّے، یہ گذرگاہیں منور ومعطر ہیں ۔ منا،مسجدنمیرہ ، مسجدخیف ،جبل رحمہ ، مزدلفہ یہ وہ مقام ہیں جن کی ایک ابدی تاریخ ہے ، خصوصاًجبل رحمہ جہاں سے ہمارے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ تبارک تعالیٰ کے روبرو عوام الناس کی شہادت اس ضمن میں حاصل کی کہ اللہ عزوجل کی امانت یعنی قرآن مجید خلوص اور دیانتداری کے ساتھ اپنی امت کے حوالے کی ۔ 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
امتِ واحدہ کے فکری رہنما


 علامہ اقبالؒ کی شخصیت بیسویں صدی کی ایک ایسی عبقری اور کثیرالجہات شخصیت واقع ہوئی ہے جس کے اپنے امتیازات کی بناء پر انہیں شاعر مشرق تسلیم کر لیا گیا ہے،جس نے جانگسل تعقل اور جانگراز فکر اور نظریاتی کشمکش کے اس عہد میں نہ صرف ایک حیات بخش اور فکر انگیز فضا میں سانس لینے کے لئے حالات پیدا کئے اور کہنہ اذکار رفتہ اور لغو مضامین و موضوعات کے گردگردش کرنے سے اسے نجات دلائی بلکہ پورے مشرق میں خودی وخود اعتمادی عزت نفس جہاں بینی اور جہاں بانی کاولولہ پیدا کیا ۔اقبالؒ نے نہ صرف مشرق کو اپنا کھویا ہوا وقار اور لٹی ہوئی آبرو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جھنجھوڑا بلکہ مغرب کے گمراہ کن تعقل اور فتنہ جو تجربہ و مشاہدہ کے سائنٹفک منہاج کو وحی الٰہی اور پیغمبرانہ اسوہ سے مستنیر کرکے انسانیت کیلئے فیض بخش اور حقیقی ارتقاء کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ اقبالؒ نے نہ صرف شاعری کی دنیا میں ایک جدید شعور کا اظہار کیا  بلکہ ایک ایسا شعور جو مغربی تہذیب اور صنعتی تمدن کی بنیادی خامیوں سے باخبر تھا بلکہ ایک ایسے ادراک سے روشناش کرایا جو ماضی ، حال اور مستقبل تینوں پر محیط تھا۔اقبالؒماضی کی تابناک شعاعوں سے حال کی تاریکیوں کو دور کرنا چاہتے تھے اور ایک ایسے طلوع ہونے والے آفتاب کی بشارت دے رہے تھے جو ایک نئی روحانی و اخلاقی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اقبالؒ کے سینے میں جو اضطراب و تپش جو بے قراری اور آرِزو مندی تھی اس نے نہ صرف ان کو بیسویں صدی کے فکرو تعقل کے آشوب وابتلا سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت عطا کی بلکہ انہوں نے پوری نسل کو مغرب کے مادی و ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنے پر کمر بستہ بنا کر کھڑا کر دیا اور ایک ایسا ولولہ عطا کیا جو بر صغیر ہی نہیں ایشیاء کے مختلف حصوں میں اسلامی نشاۃثانیہ یا نژاد نو کے ایک تابناک دور کا نقطہ آغاز بنا۔ اقبالؒ کی شخصیت کوفطرت نے اس نشاۃ نو کیلئے اور اس عہد کے سوئے ہوئے انسانوں کو جگانے کیلئے دل ودماغ کی بہترین صلاحیتوں سے مزین کیا تھا اور ان کی یہ خوش قسمتی تھی کہ قدیم وجدید دونوں کا وہ سنگم تھے اورمشرق و مغرب دونوں کے علمی و فکری سر چشموںسے پوری طرح سیراب ہوئے تھے۔خوش قسمتی سے ابتدا ء ہی میں انہیں مشرقی علوم اور اخلاقیات کے ماہرین کا قرب حاصل ہوا اور ایک ایسا خونوادہ ملا جس میں روح کو جسم پر اور اخلاق کو مادی اسباب پر فوقیت دی جاتی تھی ۔
علامہ اقبالؒ نے مغرب کے ایک ایک قاہرانہ نظریہ اور جلال فلسفہ کی دھجیاں بکھردیں اور جس طرح کل کے سورج کے ہونے پر انہیں یقین تھا اسی طرح انہیں یقین تھا کہ مغرب اپنے بچھائے ہوئے دام تزویر میں خود الجھ جائے گا اور جس تمدن کو اس نے ترقی اور روشن خیالی کی علامت بنا کر ساری دنیا پر مسلط کیا ہے وہ فنا کے گھاٹ اتر جائے گا   ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنائے گا ناپائیدار ہوگا
علامہ اقبالؒ نے یہ بتایا تھا کہ الٰہی انقلاب کی کامیابی کیلئے اُمت اسلامیہ کے درمیان وحدت و اتحاد کا عملی وجود لازمی ہے آپ تاکید کرتے تھے کہ اسلام ہی مسلمانوںکی تنہا پناہ گاہ ہے اور اُس کے پُرافتخار پرچم کے سایہ میں ہر گروہ کے لوگوں کو ان کا جائز حق حاصل ہوجاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر اُمت و احدہ کا تذکرہ کیا ہے اور اس موضوع پر خاصا زور دیا ہے کہ ایک نیک اور پسندیدہ معاشرہ کی حقیقی ترقی میں اُمت واحدہ کا بنیادی کردار ہوا کرتا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ لفظ اُمت کا اطلاق اس گروہ یاجماعت پر ہوتا ہے جو احکام خداوندی کے آگے سر تسلیم واطاعت خم کئے ہوئے ایک مقصد اور واحد ارمان کی طرف گامزن ہو ۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک محور کے ارد گرد جمع ہونے والی اُمت واحدہ ہوگی متفرقہ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پیغمبران خداؑ اور رسولانِــــ الٰہیؑ نے ہمیشہ ایسے ہی معاشرہ کی تشکیل کی کوشش کی ہے اور ایک اُمت واحدہ کی ایجاد میںاپنے الٰہی ارمانات کی جستجو کرتے رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی وجود کی گہرائیوں میں اس مقصد عظیم کی جڑیں ہیں اور آفرینش کا نظام وحدت و  یگانگت پہ مبنی ہے   ؎
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اﷲ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان ایک
علامہ اقبالؒ نے اپنی قوم کا یہی درد تشخیص کیا تھا ، اُمت مسلمہ کا دینی تشخیص نہیں ہے اقبال ؒ کی خودی خانقاہی نہیں ہے خودی اقبال یعنی اُمت کا اسلامی تشخیص یہ اقبالؒ کی آرزو تھی یہ اقبالؒ کادرد تھا اقبالؒ کے اندر یہ احساس فقط بر صغیر کے مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری اُمت کے لئے موجود تھا اقبالؒ اور امام خمینی رحمتہ اﷲعلیہ درس سے نہیں بنے بلکہ درد سے بنے ہیں۔ دونوں کے اندر دردتھا اور وہ درد جو انہیں آرام کرنے نہیں دیتا تھا جس دردنے یہ سارے نالے اقبالؒ سے اگلوائے جس درد نے خمینی ؒ سے یہ فریاد یں اگلوائیں یہ درد دونوں کا مشترکہ درد تھا، دونوں کی یہ آرزو تھی کہ اُمت کو دوبارہ کھویا ہوا دینی تشخیص مل جائے۔علامہ اقبالؒنے وحدت اُمت پر زور دیا ہے ان کے اشعار میں جو وحدت کی خوشبو آتی ہے شاید وہ کسی اور کے اشعار میں نہیں ملتی   ؎
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیںبے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاںعقل خداداد
علامہ اقبال ؒ نے اسلامی معاشرہ میں وحدت پہ کافی زور دیا ہے کیونکہ جب تک کوئی قوم یا ملت متحد ہوکر رہتی ہے تب تک وہ عزت مند ، جرأت مند ، محفوظ اور مستحکم ہے    ؎    
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
یہی وہ اتحادہے جو مسلمانوں کو حقیقی حیات دے کے نیستی کے ظلمت کدوں سے نور اور روشنی کی رہنمائی کرتا ہے قرآن اور سنت کی روشنی میں اسلامی اتحاد جیسے وسیع تاریخی ، اجتمائی اور سیاسی موضوع پہ قلم فرسائی کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔علامہ اقبالؒنے اپنی انداز فکر سے قوم و ملت کو بیدار کیا اور اپنی شاعری میں وحدت و اتحاد کا درس دیا ۔ اسلامی اتحاد کی ضرورت اسلئے ہے کہ اتحاد خدا کی ایسی مضبوط رسی ہے جس سے گمراہی اور تفرقہ کی ذلت سے نجات ملتی ہے۔اسلامی اتحاد کی ضرورت اس لئے ہے کہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے تفرقہ انکی عظمت اور ابوہیت کو ختم کر دیتا ہے ۔اسلامی اتحاد کی ضرورت اسلئے ہے کہ تفرقہ ڈالنے والوں اور اُمت مسلمہ کو ٹولیوں سے بانٹنے والوں سے پیغمبر اسلام ؐ اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وحدت اُمت کی ضرورت اسلئے ہے کہ قرآن کی نظر میں اختلاف اور تفرقہ ایجاد کرنا مشرکوں اور غیر مسلمانوں کا منصوبہ ہے وحدتِ اُمت کی ضرورت اس لئے ہے کیونکہ تفرقہ و اختلاف خدا کے عذاب کا سبب بنتا ہے وحدت اُمت کی ضرورت ہے کیونکہ اختلافات سے باطل اوراستعماری طاقتیں مسلمانوں کی تقدیر اور سرنوشت پر حاکم ہو چکی ہیں اور ان کے چنگل سے رہائی اور نجات کا راستہ صرف اسلامی اتحاد میں ہی میسر ہیں وحدت اُمّت کی ضرورت ہے کیونکہ اختلافات کے سبب کتنی قومیں برباد ہوگئیںاور آج بھی بہت سے اسلامی ممالک اور ملت اسلامیہ کے ہزاروں افراد استعماری اور استکباری طاقتو ں کے ہاتھوں مظلوم اور بے قصور ہلاک ہورہے ہیں۔ وحدت اُمت کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمانوں کی عزت ،سربلندی، حاکمیت، کرامت، صرف کلمۂ اتحادمیں ہی پوشیدہ ہے    ؎
ایک ہوجائیں تو بن سکتے خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا فائدہ
دنیا کی حقیقت وحدت و وحدانیت کی ترجمان ہے اور دنیا کے ذرہ ذرہ سے یہ آواز اُبھر رہی ہے کہ میں اس سے اور اسی طرف پلٹ کر جانے والا ہوں اور دنیا کے یہ رازو نیاز کسی عقلمند آدمی سے قطعی پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔وہ انسان نادان ہے جو مقصد زندگی کی حقیقت سے نا واقف ہو ،جس نے زندگی کی حقیقتوں اور مقاصد کو نہیں پہچانا وہ حق اور باطل کے درمیان قطعی تمیز نہیں کر سکتا اور ایسے ہی لوگوں کو سامراجی اور طاغوتی طاقتیں تفرقہ و اختلاف کا شکار بنا لیا کرتی ہیں ،وہ اس انحراف کا شکار ہو کر باطل کی طرف پیش قدم ہوجایا کرتا ہے۔ پس اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ دنیاوی نظام کی اصل اور حقیقی بنیاد وحدت و اتحاد ہے اور تفرقہ و اختلافات ایک غیر حقیقی اور عارضی امر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان موجود وحدت و اتحاد نے مشرق و مغرب کے مفاد پرست اور سامراجی پیکر پر ہمیشہ گہری چوٹ لگائی ہے ۔اسلام دشمن سامراجی طاقتیں ہمیشہ مسلمانوں میں تفرقہ و ا ختلاف پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہا کرتے ہیں تاکہ یہ اُمتِ واحدہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر کمزور اور مغلوب الحال ہوجائے ۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی مظلومی ہی تو ہے کہ آج بین الاقوامی سامراج نے امریکہ کی قیادت کے سایہ میں ہمیں خوفناک مظالم کا نشانہ بنا رکھا ہے اور امریکہ کے پٹھو اسرائیل نے مسلمانون پر کئے جانے والے مظالم کی انتہا کر دی ۔ بیت المقدس قبلہ اول کی حالت دیکھیں ۔ فلسطین میںنہتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی حالت دیکھیں، پاکستان کی خستہ حالی اور افغانستان کی نیلامی دیکھیں ۔ عراق کی ویرانی اور غزہ کی بربادی دیکھیں ۔کشمیر عزیز کی پژمردگی دیکھیں۔ مسلمانو! بیدار ہوجائو ۔ بین الاقوامی سامراج نے یہ اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ اسلامی تحریکوں کو پوری طرح تباہ و برباد کرنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ و پھوٹ پیدا کر دی جائے تاکہ اُمت اسلامیہ عالم خوفناک تباہی کا شکار ہوکر رہ جائے    ؎
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے غار
علامہ اقبالؒاسلامی معاشرہ میں وحدت و اتحاد کے قائل تھے جو مستحکم اور مقدس بنیادوں پر قائم ہو ۔ امام خمینی ؒ فرماتے ہیں قرآن مجید کی تعلیمات پر مبنی اسلامی وحدت کے سایہ میں ہم لوگوں کو متحد رہنا چاہئے ۔ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے کہ آپ لوگ کسی ایک مسلہ و معاملہ میں متحد رہے اور تفرقہ واختلافات پیدا نہ کیجئے بلکہ حکم خداوندی یہ ہے کہ سب لوگ ـعتصام بحبل اﷲ‘‘کی پیروی کریں۔ انبیاء ؑ کی بعثت کا مقصد یہ نہیں رہا کہ وہ لوگوں کو کسی ایک کام کیلئے متحد کر دیں بلکہ ان کی آمد کا مقصد تمام لوگاں کو راہ حق میں جمع کرنا ثابت قدم بنایا ہے     ؎
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
------------------------
رابطہ:- متعلّم دانش گاہِ کشمیر ، شعبہ فارسی ؛موبائل نمبر:-