| محمود غزنوی ایک علم پرور سلطان عبداللہ خاور
واقعہ یہ ہے کہ محمود غزنوی ایک بہترین سپہ سالار اور سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب اور شائستگی کے زیور سے بھی آراستہ تھا ۔ وہ خود بھی ایک بلند پایہ شاعر تھا ۔ فارسی اور عربی ، دونوںزبانوں میں شعر کہتا تھا ۔ اس نے باقاعدہ ہم عصر علماء سے شرعی علوم سیکھے تھے ۔ مستند کتابوں میں اسے فقیہہ ماناگیاہے ۔ فقہ میں اسکی ایک کتاب موسوم بہ ’’تفرید الفروع‘‘ ہے ۔ فارسی تذکروں اور تاریخوں میں اسکی طبع زاد شاعری بھی منقول ہے ۔
محمود کی علم دوستی کا غالباً سب سے نمایاں ثبوت وہ عالی شان مدرسہ اور کتب خانہ ہے ‘ جو اس نے غزتی میں تعمیر کرایا تھا ۔ کتب خانے میں متعدد نوادارت موجود تھے ۔ اس مدرسہ کے اخراجات کے لئے محمود نے کئی دیہات اور جاگیر یں وقف کی تھیں۔ اسکی تکمیل کے لئے محمود نے جس قدر روپیہ صرف کیا وہ اُس مستقل امداد سے علیحدہ تھا جو دیہات اور جاگیر کی صورت میں مدرسہ کے مصارف اور مدرسین کے وظائف اور مشاہرہ کے لئے وقف کردیئے گئے تھے ۔ اس دارالعلوم کے قیام سے یہ اثر ہوا کہ شعراء اور فضلاء چہارطرف سے غزنی آنے لگے ۔ غزنی ، جو اپنے خوبصورت نظاروں کی وجہ سے عروس البلاد تو تھا ہی ، اب علم وحکمت کا مخزن بھی بنا ۔
نپولین کی ممتاز ترین صفات میں یہ صفت سرفہرست ہے کہ وہ مغلوب ممالک سے بہترین صناع کو پیرس لاتا اور پیرس کو عروس جنت بنادیتا ۔ لیکن محمود نے اپنے پایۂ تخت غزنی کی ترقی میں اس سے زیادہ کام کیا ۔ وہ مفتوحہ ممالک کے صناع کے ساتھ ساتھ وہاں کے شعراء ، حکماء اور فضلاء کو بھی لے آیا اور اس طرح اپنے دربار کو ان تابندہ جواہرات سے جگمگایا ۔
محمود کی تخت نشینی کے وقت فارسی علم وادب کا سرمایہ نفی کے برابر تھا۔نظم میں زیادہ تر قطعات اور رباعیات کا رواج تھا ۔ قصیدہ اور غزل ابھی ابتدائی حالت میں تھے ۔ محمود کی قدر دانیوں نے نہ صرف تاریخ اور اخلاق کے فنون کو ترقی دی بلکہ اس کے دربار ی شعراء نے شاعری کے اصل فن کو زمین سے آسمان پر پہنچادیا ۔ نثر میں بھی سرمایہ قلیل تھا لیکن محمود کے زمانے میں نثر کو بھی غیر معمولی فروغ ملا ۔اس گراں قدر اضافے کی بناء پر ادبیات ایران ہمیشہ محمود کی مرہونِ منت رہے گی ۔ البیرونی نے سنسکرت زبان سیکھ کر اس کی بیس سے زیادہ معروف کتابوں کا ترجمہ کرڈالا ۔ ’’کتاب الہند‘‘جیسی معروف کتاب البیرونی کی تصنیف ہے ۔ امام ثعلبی دربار محمود کا ایک فاضل تھا ، جس نے اہم موضوعات پر کتابیں لکھیں ۔ تاریخ یمینی محمود کے دربار کے ایک عالم عقبی نے لکھی ۔ شعر وادب کے معر کے اطمینان ، خوشحالی اور آسودگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، تعجب اس بات پر ہے کہ اس سیماب صفت کوفرصت کے لمحات کب نصیب ہوتے تھے ۔سپہ گری اور جہاں کشائی کے جذبے کے باوجود ، علم وفنون کی ترقی محمود غزنوی کا ایک مشن تھا ۔ بادی النظر میں وہ انتہائی کفایت شعار تھا مگر فضل وہنر کی ترویج میں جس دریا دلی سے اس نے دولت صرف کی ہے ‘ اسکی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ۔ علماء کے ساتھ وہ نہایت ہی احترام کے ساتھ پیش آتا تھا ۔ انکے لئے محمود نے وظائف مقرر کئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا دربار مشاہیر علوم وفنون کا مرکز تھا ۔ مشہور مورخ فرشتہ کے مطابق چار سو شعراء سلطان محمود کے دربار سے وابستہ تھے ‘ جن پر وہ سالانہ چار لاکھ دینار خرچ کرتا تھا ۔ یہ واقعہ ہے کہ برگزیدہ شعراء کا جو اجتماع محمود کے دربار میں تھا‘ وہ ایران ،توران کے کسی دوسرے فرماں روا کو نصیب نہیں ہوا ۔ جن شعراء نے دربار محمود میں غیرمعمولی شہرت پائی ، وہ آسمانِ سخن پہ سات ستارے تھے ۔ عنصری، فردوسی ، اسدی ، عسجدی ، غضائری، عرفی اور منوچہری…فرودسیؔ کے سوا تمام شعراء نے قصیدے لکھے ہیں ۔جن میں سلطان محمود کی ہندوستانی فتوحات کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ محمود نے شاعری کی طرف جس شاہانہ حوصلہ سے توجہ کی ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک موقع پر جب شہزادہ مسعودؔ خراساں سے غزنی آیا اورشعراء نے قصائد پیش کئے تو ہر ایک شاعر کو بیس بیس ہزار درہم عطا کئے اور ملک الشعراء عنصری کو ایک برجستہ قطعہ کہنے پر تین بار موتیوں سے اس کا منھ بھرا گیا۔ سلطان کی فیاضی کے طفیل چار سو زرّیں کمر بستہ غلام اُس کے جلو میں چلتے تھے ۔ اس کا اسباب چار سو اونٹوں پر بار کیا جاتا تھا ۔ غضائری محمود کے دربار میں خاصی شہرت کا مالک تھا ۔ اسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محمود کے دربار میں قصیدہ روانہ کرتا تھا ‘ جس کے عوض اسے ایک ہزار دینار ملتے تھے ۔ غضائری کی ایک غزل محمود کو اتنی پسند آئی کہ اس نے صلہ دوگنا کردیا ۔ اس عنایت کے شکریئے میں غضائری نے ایک طویل قصیدہ لکھا جس کے صلہ میں …فرشتہ کے کہنے کے مطابق …سلطان نے اسے چودہ ہزار درہم عطا کئے ۔
محمود کی علم پروری اور ذوق ادب کے ثبوت میں ’’طبقات اکبری‘‘ کا مصنف لکھتاہے کہ۱۰۲۱ء میں جب محمود گوالیار کا محاصرہ کرکے کالنجر کی طرف بڑھا، جو اس وقت مضبوطی کے لحاظ سے ناقابل تسخیر قلعہ تسلیم کیا گیا جاتا تھا ،تو وہاں کے راجہ نندا نے محاصرہ کی تاب نہ لاکر سلطان کی خدمت میں چار سو سے زائد ہاتھی پیش کرتے ہوئے صلح کی درخواست کی چونکہ ان ہاتھیوں پر کوئی مہاوت نہیںتھا‘ اسلئے محمود نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ کر ان پر سوار ہو جائیں ۔ چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی ۔ نندا یہ دیکھ کر بہت متعجب ہوا۔ اس نے محمود کی تعریف میں چند اشعار ہندی زبان میں لکھ کرپیش کئے ، محمود نے انہیں پڑھوا کر سنا ۔ اشعار معانی کے لحاظ سے بے مثل تھے ‘ وہ اصل مقصد کو بھول گیا اور بے اختیار ہوکر نندا کوپندرہ قلعوں کی حکومت بخش دی ۔
لے دے کر ایک فرودسیؔ کی مثال رہ جاتی ہے ۔ اسے فرودسی کی بدقسمتی کے سوا اور کیا کہئے ۔ حق تو یہ ہے کہ فردوسی کے سلسلے محمودؔ کے بخیل ہونے کا جومقصدمروجؔ ہے وہ حقیقت سے دُور اور بے بنیاد ہے ۔ وہ شخص جو چار لاکھ اشرفی مستقلاً علماء اورشعراء پر صَرف کرے ، جو دارالعلوم اور اس کے مصارف کیلئے ایک زبردست جائیداد وقف کرے ، جو علماء اور شائقین علم کی ہمت افزائی میںہمیشہ اپنے خزانے کا منہ کھلا رکھے ، جو ایک ایک شعر پر تین تین بار شاعر کا منھ جواہرات سے بھردے اور جو ایک معمولی اور وہ بھی غیر زبان نظم پر اپنی فتوحات کو نظر انداز کرکے ایک مفتوح راجہ کوپندرہ قلعے تفویض کرے ، کیا اس کی نسبت کوئی معقول شخص کہہ سکتاہے کہ محمود غزنوی طامع اور بخیل تھا؟٭٭
|
Search This Blog
Tuesday, 26 June 2012
محمود غزنوی ایک علم پرور سلطان
Monday, 25 June 2012
مردانِ نکوکارکی ہم کوتلاش ہے
| مردانِ نکوکارکی ہم کوتلاش ہے محمد یوسف مکرو
تاریخ کے اوراق ذرا کھنگال تو لیجئے ایک سبق آموز واقعہ نظر نواز ہوگا۔ واقعہ ماضی قریب کے مغلیہ دور سے متعلق ہے ۔اورنگ زیب عالمگیر جیسی اولوالعزم شخصیت (1618-1707) جیسی آج کی تحریف شدہ تاریخ ایک متعصب ، تنگ نظر ،ہندوکش ، کٹرپنتھی ، قدامت پسند ایسے القاب سے پکارتی ہے ۔ یہ القابات واقعتاً سفید جھوٹ کے عین مترادف ہیں ۔ آپؒ انتہائی پاکباز ، پاک عمل ،پاک بیان ،پاک تاجدار تھے ،اس حد تک کہ سرکاری خزانہ(بیت المال) سے مشاہرہ لینے کے بجائے قرآن پاک کی خوش نویسی اورٹوپیاںسی آپؒ کی کفالت کے اہم ترین ذرائع آمدن تھے ۔ آپ ؒ کے آخر عمر کا واقعہ ہے ۔ ایک بارانہوں نے نمازا پڑھی ۔نماز کے بعد انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے ۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے ۔اس وقت اورنگ زیب کے پاس ان کے وزیر سعد اللہ خان کھڑے تھے ۔ اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خان نے کہا : عالی جاہ!آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر دکن تک لہرارہاہے ۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان آپ کے دل میں باقی ہے جس کے لئے آپ رورہے ہیں ۔ اورنگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے ۔ اس کے بعد کہا ’’سعد اللہ مردے خواہم‘‘ سعد اللہ میں ایک مرد چاہتاہوں ۔ … اورنگ زیب کو کیوں اور کس لئے ایک ’’مرد‘‘ کی تلاش تھی حالانکہ آپ کے اردگرد تو ہر وقت مصاحبوں ، درباریوں ، امراء ، نوکروں وغیرہ کا ایک جم غفیر ہرآن موجود رہتاتھا…مگر وائے! اورنگ زیب بخوبی جانتے تھے کہ ان کے بعد جولوگ عظیم مغل سلطنت کے وارث بننے والے ہیں وہ سب خودغرض لوگ ہیں…ان کے پاس ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی مطلب یا مراد نہیں ، نتیجہ یہ ہوگاکہ یہ اورنگ زیب کے بعد ذاتی اقتدار کے لئے آپس میں لڑیں گے اور عظیم مغل سلطنت کو تباہ کرکے رکھ دیں گے ۔ تاریخ نے آپ کے اس اندیشہ کو ایک تلخ ترین حقیقت کے روپ میں اپنے سینے میں محفوظ کرکے رکھ دیا ہے ۔
آج کی بگڑی اور لٹی پٹی انسانی دنیا کو بھی ایک ’’مرد‘‘ کی اشد ضرورت ہے … ایک ایسے ’’مرد‘‘ کی جو نفسیات کی سطح سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی سطح پر سوچے ، جوذاتی مفادات کواجتماعی مفادات کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھائے ، جو گرنے والوں کو تھامے،جو بے سہاروں اور حالات کے مارے لٹے پٹے انسانوں کے درد کا درماں بنے ، جو خود تو روئے لیکن رونے والوں کومسرت وشادمانی کے بھرے ہوئے جام نوش کرائے ، جو دوسروں کے دُکھوں کا سہیم وشریک بن کر ان کے سینوں کا بھاری بھرکم بوجھ ہلکاکرکے جو ’’اپنی چھوٹی موٹی دُنیا ‘‘ کو اُجاڑ کر دوسروں کے اُجڑے ہوئے دنیا کو آباد کرے ، جو اپنی بے عزتی کی قیمت پر دوسروں کو عزت واحترام اور فضیلت وتکریم کی دستار باندھے ،جو اپنے سینے کو قبرستان بنائے او رآپس میں اپنی ہی نوع کے دوسرے افراد کے قصوروں اور لغزشوں کو دفنا کے رکھ دے ، جو حیاتِ مستعار کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بہ رضا ورغبت بیٹھ کر اس گاڑی کی اگلی سیٹیں دوسروں کے لئے خالی چھوڑ دے ، جو یتیموں ، بیوائوں ،مسکینوں ،محتاجوں ، بے نوائوں کا غمخوار بن کر ان کے چہروں کی یاس ونااُمیدی کو آس اور امید کے دلنواز پھولوں سے سجا کے رکھے ، جو زندہ رہے تو دوسروں کے لئے اور مرے بھی تو دوسروں ہی کے لئے …کہاں ہے ایسا مرد ؟
تاریخ کے دفینے میں تو ہمیں زیادہ تر اسکند روچنگیز ہی ملتے ہیں جنہوں نے صد بار قبائے انسانیت کو تار تار کرکے رکھ دیا…کیا یہ انسان ہی نہ تھے جنہوںنے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر آتشیں اور زہریلے بم پھینک کر آباد وشاداب انسانی دنیا کو آناً فاناً اُجاڑ کر اس کو عظیم ترین قبرستان میں تبدیل کرکے نہ رکھ دیا…دُور جانے کی ضرورت کیا ، انکل سام نے مسلم دنیا…جوہنستی بستی دنیا … کو معصوم انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، مائیں ، بہنیں اور کمسن بچیاں شامل ہیں ، کے معصوم وبے گناہ خون سے لالہ زار بنا کے رکھ نہ دیا…انکل سام کی بات ہی کیا سامراجی اور استعماری قوتیں اس حسین وجمیل کائنات کو شروفساد سے بھر دینے پر تلی ہیں اور ’’بر اور بحرمیں فساد برپا ہوگااوریہ سب انسان کا کیا کرایا ہوگا ‘‘ جیسے ربانی ارشاد کی عملی تفسیر پیش کررہی ہیں۔اورنگ زیب کے ’’مرد‘‘ کی ضرورت آج کہاں نہیں ؟ گھر ہویا سماج، قومیںہوں یا ملتیں،حتیٰ کہ بنی نوع انسانی کو ایسے ہی ’’مرد ‘‘ کی ضرورت ہے۔ یہ ’’مرد‘‘ تو نزولِ آسمانی کی شکل میں ظہور پذیر ہوگا اور نہ ہی پاتال کی گہرائیوں سے اُبھرے گا بلکہ انسانی دنیا ہی میں نظر آئے گا لیکن بقول اقبال ؒ ع ’’ڈھونڈ اب ان کو چراغِ رُخ زیبا لے کر‘‘…ایسا ’’مرد‘‘نایاب نہیں تو کمیاب ضرورہے لیکن انسانی سماج میںفطرت کی پکار کی حیثیت میں موجود ہے ، کائنات کا وجود ایسے ہی ’’مردوں‘‘ کی موجودگی کا رہین منت ہی تو ہے ۔ ایسا ’’مرد‘‘ کن اوصاف کا حامل ہو ، درج ذیل تاریخی واقعہ ایسے ’’مرد‘‘ کی بھرپو رعکاسی کرتاہے ’’ ایک انگریزی تعلیم یافتہ شخص ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا ۔ کیا سوجھی کہ ایک بڑے انگریز افسر کے پاس پہنچا اور کہاکہ میں سرسیّدکا داماد ہوں ، مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے ۔ وہ انگریز بہت ہی خاطرمدارت سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں ۔اس شخص کوٹھہراکراس کی لاعلمی میں ایک تارسرسیّدکو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے تقاضے سے آیا ہے اور اپنے آپ کو آپ کا داماد کہتاہے ۔کیا یہ صحیح ہے ؟ جواب میں سرسیّد نے اس انگریز کولکھا بالکل صحیح ہے ۔ضرور آپ ملازمت کے لئے کوشش فرمادیں ،میںآپ کاممنون رہوں گا ۔ اس شخص کو ملازمت مل گئی ۔ ایک روز اتفاقاً انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ (سرسید سے تحقیق حال کا ) بیان کردیا ۔وہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا اور سرسید سے مل کر معافی کی درخواست کی اور کہاکہ میں وہی ہوں جس نے اپنے آپ کو آپ کا دامادبتا کر ملازمت کی ہے ۔ یہ گستاخی بہ ضرورت تھی ۔ سرسیّدنے جواب میں کہاکہ گویہ بات اس وقت غلط تھی مگر اب صحیح ہوجائے گی ۔داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو۔اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی ،سو یہ تو نہیں ہوسکتا،مگر دوسری صورت ممکن ہے وہ یہ کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنالوں ، سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتاہوں اور وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ۔ یہ توجیہہ وقتی ہی نہ تھی بلکہ تازندگی باپ بیٹی اور داماد کا سربرتائو رکھا۔بلانا،لینا دینا سب اسی طرح رکھا ۔ (تہذیب الاخلاف علی گڑھ) ۔جس دانشور نے یہ واقعہ نقل کیاہے اس نے اس تاریخی واقعہ سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ساری دنیا کاہمدرد بننا بہت آسان ہے مگر ایک مصیبت زدہ فرد کے معاملہ کواپنا معاملہ بنانا واقعی بڑے دل والے ’’مردوں‘‘ ہی کا کام ہوسکتاہے ۔اس واقعہ کی روشنی میں ہم اپنے گھر یا سماج میں رہتے ہوئے اپنے لئے ایک ’’مخصوص‘‘ روّیہ کاتعین کرسکتے ہیں ۔نیکی اور خیر کے کاموں میں ہم ہر آن اور ہرلمحہ تعاون کریں او رشراور بدی کے کاموں سے کلی طو ر اجتناب کریں …سر سید والی عالی ظرفی اپنا شعاربنالیں گے ، اپنی نوع کے دوسرے افراد سے جڑنے میں ہم کلی طور یک طرفہ کارروائی کا انتخاب کریں اور ع سلام آپؐ پر جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں ۔ایسے سنت نبویؐ کی عملی تفسیر بن جائیں گے ۔ ربانی ارشاد بھی کیا خوب ہے کہ ’’بدی کو نیکی سے دفع کیجئے پھر آپ دیکھیں گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے وئی دوست قرابت والا ‘‘۔(حم السجدہ : ۳۴) ہم ایسا رویہ رومزرہ حالات میں غیر شعوری طور ہی سہی روا تو رکھتے ہی ہیں لیکن انتہائی محدود اور صرف ذاتی سطح تک ہی ۔ہماری بگڑی بنانے کے لئے ہمیں ’’مردانِ کار‘‘کی اشد ضرورت ہے جو اس لٹے پٹے انبوہ انسانی کی ہمدردی ، مودت اور غیرت وحمیت کی روشنیوں سے مالامال کردے۔
|
کیوں نہ ہو اُستاد ایسا ؟
| کیوں نہ ہو اُستاد ایسا ؟ افکار میں اطوار میں کردار میں یکتا پروفیسر جاوید مغل
تعلیمی نظام میںمدرس یعنی معمار قوم ایک مرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے جو طالبان علم کی تعلیم و تدریس کے علاوہ ان کی معاشرتی و سماجی آبیاری کا ضامن ہوا کرتا ہے۔منزل مقصود کے حصول کے لئے علم و عمل کی راہوں پہ گامزن ان طلبہ و طالبات کی تربیت و ترجمانی میں ایک استاد یا مدرس کو نہائت ہی اہم کردارادا کرنا ہوتا ہے۔لہٰذا تمام اہلیان دانش و فہم کو یہ ناقابل تردید حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ ایک مدرّس ہی ہے جو دراصل متعلّمین کے افکار میں نہ صرف جِلّا پیدا کرسکتا ہے بلکہ ان کے شعور میں ایک تازگی، شگفتگی اور بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک صحیح سمت بھی دیتا ہے ۔یہ تعلیمی اور فکری ترجمان ان نازک ذہنوں کو جہالت اور لاعلمی کے زندانوں سے آزاد کر کے انھیں ادراک و فراست کے نور سے منور کرتا ہے۔ حق و باطل کے مابین امتیاز کی درست نشاندہی کرنے کا ہنر ایک متعلم کو صرف اچھے استاد سے حاصل ہو سکتا ہے۔بہترین مدرس وہ ہے جو اخلاق حسنہ، اوصاف ستودہ، روشن ضمیری، خلوص و مروّت ، تعمیری فکر اور شفقت و ہمدردی کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے بہترین مشاہدات،محسوسات و تجربات کا جیتا جاگتا مجسمہ ہو۔
ہمیں سب سے اوّل سرکار دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اپنے ذہنوں پر ہمہ وقت ازبر رکھنا چا ہئے کہ ’’ نیک اور تعلیم یافتہ اولاد ایک بہترین صدقۂ جاریہ ہے‘‘۔ایک حقیقی مدرس کو تمام نیک خصائل کا منبع ہونا چاہئے۔ایک مشہور و معروف جرمن معلّم مارٹن لوتھر کا قول ہے ’’ کسی قوم کی کامیابی اور سر بلندی کا راز یہ نہیں ہے کہ اس کی تعداد کتنی ہے، اس کے قلعے کتنے مضبوط ہیں بلکہ اس کا تما م انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس قوم کے بیٹے علم و اخلاق کی تربیت سے کس حد تک بہرہ ور ہیں‘‘ ۔انہی خطوط پر سوچ کے پتوار چلاتے ہوئے سوامی وویکا نند نے کہا تھا ’’کہ کسی بھی قوم کی خوشحالی اور کامیابی کا تعین اس کے سیم و زر کے حوالے سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی خوشحالی اس کے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ ‘‘ان حوالاجات سے ماوراء ہو کر یہ تمام نیک افکار و نظریات ایک عملی صداقت کے سانچے میں تبھی منتقل ہو سکتے ہیں جب انہیں ایک رہبر کی دستگیری دستیاب ہو اور وہ رہبر کو ئی اور نہیں ایک بہترین اور ذی وقار مدرس ہی ہوتا ہے۔چنانچہ ملک و قوم کی ترقی اور سرفرازی بہت حد تک ایک اچھے مدرس سے منسوب ہوتی ہے اور ہو نی بھی چاہئے۔خام فکر کی آبیاری سے لے کر اسے سوچ اور وچار کی آزادی تک لے جانے میں استاد کا قابل ستائش کردارنظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور جب یہی عقل و فکر فیصلے کرنے کے لائق بن جاتی ہے تو پھر سماجی نظام اسے مختلف شعبوں میں مفادِ عامہ کے لئے مخصوص کر دیتا ہے۔سماج کی بہتری کے لئے فکر و نظر کا یہ لذیذ پکوان ایک استاد یا مدرس ہی تیار کرتا ہے جس کی مہک پورے سماج کو معطر کر تی ہے۔
عصر جدید میںجو شکل وصورت حال ایک مدرس کی جابجا دکھائی دے رہی ہے وہ انتہائی دل شکن ہے۔گو اس کی وجہ معاشرے کا اجتماعی تنزل ہو یا پھر دور جدید کی چکاچوند اس کا پس منظر ہو مگر آج ایک مدرس کی جو صورت حال دکھائی دے رہی ہے وہ انتہائی دل شکن ہے۔آج ایک استاد نے اپنے آپ کو محض متعین شدہ نصاب کے ہدف کو جوں توں مکمل کرانے کا آلہ سمجھ لیا ہے اور سوچ رہا ہے کہ بچوں کو متعین نصاب میں درج چند مخصوص مضامین پڑھا کر انہیں مقررہ امتحانات کی دہلیز تک پہنچانے کے بعد اس کے فرائض منصبی یک قلم پورے ہو جاتے ہیں۔دور حاضر کا مدرس کبھی خود کا محاسبہ ہی نہیں کرتا اور نہ اس نے کبھی اپنی قدر و منزلت کو پہچاننے کی کوشش کی۔وہ بھول گیا کہ تعلیم گاہ ایک ایسا شفا خانہ ہے جہاں ہر طرح کی فکری، نظریاتی، اخلاقی اور شعوری امراض کا مکمل علاج ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ذہنی انتشار کو شعار ملتا ہے اور گمراہ سوچ کو راہ راست میسر آتی ہے۔ایک مدرس کے کاندھوں پر قوم کی عقلی واخلاقی تشکیل کا ذمہ ہے اگر وہ نہیںسمجھتا تو یہ اس کی نافہمی یا کج روی ہے لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج کے بیشتر مدرسین اس پیشۂ انبیا ء اکرامؑ کی ناموس کو داغدارکئے جارہے ہیں ۔ وہ اپنے فرائض کو بالائے طاق رکھ کر برائے نام اس پیشے سے منسلک ہیں۔ علم و اخلاق کی تعلیم سے تو ان کا محض ایک رسمی واسطہ ہے۔ان کا مقصدِ وحید تو اپنے فرائض کی رسمی انجام دہی رہ گیا ہے۔انہیں اس بات سے کوئی سر وکار نہیں کہ نئی پود کے اندر قومی رحجانات کے علاوہ ذاتی انفرادیت و تشخص کا شعور پیدا کرنا بھی ان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔بچوں کو آئندہ زندگی کے لئے ثابت قدم بنانا، زندگی کے نشیب و فراز سے واقف کرانا ، فطرت کا مشاہدہ کر ا کے کائنات و مخلوقات عالم پر غور و فکر کرا کے زندگی کی اٹوٹ حقائق سے آگاہ کرنا بھی مدرس کے پیشے میں شامل ہے لیکن آج کا استاد اگر قول و فعل کے تضاد سے خود کو مبرّا نہیں کر سکتا تو ایسے میں اس سے نئی نسل کی راہنمائی کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے ؟ اپنے طلبہ کے عیوب برہنگی سے چشم پوشی کرنے والا، تعلیم کے نام پر امتحانات میں اپنے بچوں کو غلط راہوں پہ گامزن کرنے والا، خوداپنے تقدس مآب پیشے سے منافی حرکات میں ملوث رہنے والا، اپنے فرائض سے دور بھاگ کر رزق حرام کو اپنی اولاد کے حلق سے اُتارنے والا، یہ مدرس اُبھرتی ہوئی نسل کی گمراہی اور ان کے مستقبل کی بربادی کا ارتکاب کرتا ہوا نظر میں ہے۔آج اسکولوں میں بالخصوص ان اداروں میںجو دور افتادہ علاقوں میں واقع ہیں ،پسماندگی کے شکار بچوں سے جو کھلواڑ ہو رہا ہے ،جس طرح سے اساتذ ان معصوم بچوں کو پڑھانے سے گریز کیا جارہاہے ، جس طرح ان غربت و افلاس کے ستائے ہوئے مجبور و محتاج والدین کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر ہونے سے پیشتر ہی منتشر کیا جارہا ہے، جس طرح سے ان معصوم و بے بس نونہالوں کو ذاتی کاموں میں اُلجھا کر اساتذہ ان سے استفادہ کیا جاتا رہاہے اور جس طرح ان مہکتی کلیوں کوکھلنے سے پہلے مسل دیا جاتا ہے ، لگتا ہے کہ رب کائنات کا غضب عنقریب نازل ہونے والا ہے۔اﷲ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی ، یہ سچائی ہمارا مدرس نہیں سمجھتا ۔ معصوم کی بد دعا ئیں رب کائنات کے جلال کو اُبال دیتی ہیں ، یہ خوف آج کے فرض ناشناس استاد اپنے دل سے نکال چکا ہے ۔آج اگر اس مقدس پیشے سے لوگوں نے بغاوت کرنا شروع کیا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ اس پیشۂ تقدیس کے محافظین کی نا اہلی اور بے غرضی ہے۔کسی بھی محفل میں جہاں سماج کے دیگر معنی خیز شرکاء موجود ہوں وہاں ایک استاد بیٹھنے سے گریز کرتا ہے ،اس لئے نہیں کہ وہ حاضرین مجلس اس کے وقار و مقام کے برابر نہیں ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ خود اپنے اخلاقی تنزل کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہے۔ یہ کسی بھی جگہ اپنے پیشے کے تقدّس کی حفاظت نہیں کر سکتا۔دنیا میں دو چیزیں کبھی بھی بیک وقت حاصل نہیں ہو سکتیں۔ دولت اور عزت کبھی ایک ہی پائدان پر یکجا رہ کر کسی بھی انسان کو دائمی سکون قلب سے مالامال نہیں کر سکتے۔ دور جدید کے سامنے جب یہ مسئلہ در پیش آیا کہ دولت و حشمت اور حقیقی عزت و احترام میں سے کس کا انتخاب کیا جائے اور دوسری بات یہ کہ اس عالم سفلی میں انسانوں کے ذہنوں کو جبراََ غلام بنایا جائے یا پھر اس کے دل پہ بادشاہت کی جائے تو شائد یہ دنیا اس وقت درست فیصلہ نہیں لے سکی۔ دنیا نے دلوں کو جیتنے کے بجائے جسموں کو زیر کرنا یا خریدنا موزون سمجھا۔ بس یہیں سے گمراہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک طرح سے ناہنجارانسان نے عاقبت پر دنیائے فانی کی لذت کو ترجیح دینا مناسب سمجھا۔ اس سے دو برائیاں پنپ اُٹھیں: ایک تو انسان نے سماج کو زیر دست کرنے کے لئے دولت کا ذخیرہ کرنا شروع کیا جس کے لئے اسے ہر طرح کی سیاہ کاریوں سے اپنے آپ کو داغدار کر نا پڑا اورپھر یہ کہ انسان دین سے دور ہوا اور رب کریم کے عذاب کا نشانہ بنا، برکات ختم ہوگئیں، سکون مٹ گیا، گوناگوں مصائب میں ہر کوئی اُلجھ کررہ گیا اور ہر ایک دوسرے کو دیکھ کر آگے بڑھنے کے لئے غلط وناجائز طریقوں کا ستعمال کر نے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج پوری انسانیت ایک عجیب و غریب اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ بدقسمتی سے استاد بھی اپنے آپ کو اس مہلک بیماری سے محفوظ نہ رکھ سکا۔اس نے بھی دولت اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور بعض اساتذہ لکھ پتی اور کروڑ پتی بھی بن گئے مگر انہیں اپنا وقا ر اور اخلاقی مقام قربان کرنا پڑا۔ٹیویشن کے نام پر کالج کھلے، ٹیویشن سینٹر قائم ہوئے، اساتذہ نے گھروں میں صبح و شام پرائیوٹ ٹیویشن کے لئے بچوں کو بلانا شروع کر دیا اور کئی اساتذہ نے تو کتابوں سے نقل شدہ تعلیمی مواد بچوں میں بیچنا شروع کر دیا۔ اس سے بہت سی اخلاقی بیماریاں پیدا ہو گئیں۔بچوںپر والدین کا کنٹرول ختم ہو گیا،معصوم لڑکے اور لڑکیوں میں بے جاقربتیں پیدا ہونے لگیں۔یہ وہ کڑوے حقائق ہیں جو نظام ِتعلیم کے دامن پر بد نما داغ دھبے ہیں اور تعلیم و تدریس کی تاریخ میں ایک انتہائی دلدوز اور منحوس باب بن کے طور درج ہیں۔ ان پر فی الفورغور و فکر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان ٹیویشن سنٹروں سے بہت ساری بیماریاں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ یہ کون سے اساتذہ ہیں جو رات گئے اپنے گھروں میں ٹیویشن کا دھندا چلاتے ہیں؟ایسے اساتذہ کامقصد محض دولت اکٹھا کرنا ہے نہ کہ نوجوان نسل کی جائز تعمیر سے ان کاکوئی سرو کار ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا ضرورت پڑی کہ کسی طالب علم کو پرائیویٹ ٹیویشن کرنے کی ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اساتذہ نے اپنے فرائض کو بخوبی اور منصفانہ طور پر نبھانا چھوڑ دیا ہے اور اب وہ دنیا کی چکاچوند ی سے متاثر ہو کراور ان بچوں کو سیڑھی بنا کر دنیاوی لالچ کی بیڑیوں میں بندھے ہیں۔
یہ کم سن بچے ہمارے صحت مند مستقبل کی ضمانت ہیں ۔ اگر ان کی تعمیری وتدریسی رہبری صحیح خطوط پر اور صحیح وقت پر نہ ہوئی تو ہمیں ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ہمارا سماج اخلاقاً زیادہ دیر تک پائیدار نہیںرہ پائے گا۔آج اساتذہ روتے ہیں کہ سماج میں ان کی عزت نہیںہے۔کیا انہوں نے کبھی اپنے اعمال کا جائزہ نہیں لیا،کبھی غور نہیں کیا کہ ایک استاد ہی اپنی بے توقیری کا خود ذمہ دار ہے۔متعلقہ مضامین پر ان کی گرفت نہیں ہو تی، دو بو ل یہ استاد بول نہیں سکتا، یہ فرائض انجام دینے میں کوتاہی کرتا ہے، اسکولوں میں یہ نہیں جاتا، دور دراز گاؤں میں واقع ا سکول تو ہفتوں ویران پڑے رہتے ہیں کہ بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کا استاد کیسا دکھتا ہے، کیسے کپڑے پہنتا ہے، کیسے بولتا ہے ، بوڑھا ہے یا جوان؟سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر کس منہ سے یہ استاد سماج سے عزت و احترام کا مطالبہ کر تا ہے۔جو لوگ سکولوں میںجاتے ہیں ان میں بھی بیشتراساتذہ گاؤں کے ان معصوم بچوں کو ذاتی کاموں میں الجھا کر رکھتے ہیں اور جب امتحانات سر پہ آتے ہیں تو انہیں بنا پڑھائے لکھائے پاس کرکے اگلی جماعتوں میں پرموٹ کر دیتے ہیں۔ انہیں کبھی بھی محنت و مشقت کرنے نہیں دیتے۔ ایسا کرنے سے انفرادی طور پر تو نئی نسل کا نقصان ہوتا ہی ہے مگر اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ قوم کا بیڑاغرق ا ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں استاد کا کردار بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ نئی نسل کی ذہنی نشو و نما ان کے دسترس میں ہے۔ اگر اپنے پروفیشنل کردار کو ایمانداری و دیانتداری سے نبھائیں تو نسلیں سدھر جائیں گی، قومیں سنور جائیں گی اور اس کے عوض بالآخر انہی اساتذہ کی سر بلند ی ہو گی ، ان کا وقار جو یہ اپنی خود ساختہ خامیوں کی وجہ سے کھو بیٹھے ہیں ،انہیں واپس حاصل ہو گا ، یہ پھر پہلے کی طرح سماج کے سر کا تاج بنیں گے ۔ دنیا انہیں سلام عقیدت پیش کرے گی اور زمانہ ان سے ہر کام میں مشورہ لے گا۔اساتذہ کو آج کے دور میں دنیا بہت ہوشیار ہے، لوگ قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں،وہ ذہن میں ابھرتی سوچ اور دل میں سلگتی کی کیفیت جانتے ہیں اور حرکات و سکنات پر متواتر نظر رکھے ہو ئے ہیں، اس لئے اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان سے عزت و احترام کامطالبہ کرنا محال وجنوں ہے ۔اس لئے اساتذہ کو حقیقی طور پر اپنی عادات کو بدلنا ہوگا اور حتمی طور پر تجدید فکر کرناہوگی کہ یہ استاد پھر سے دلوں پہ راج کرنے لگے ۔
……………………
|
Sunday, 24 June 2012
خودی . شاہ نواز فاروقی
خودی
شاہ نواز فاروقی
- اقبال کی شاعری ایک ایسی تہذیبی واردات ہے جس میں اسلام کی لازمانیت اور زمانیت کے ذائقے باہم آمیز ہوگئے ہیں۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ کبھی اسلام کی زمانیت کو اسلام کی لازمانیت میں دریافت کرتے ہیں، اور کبھی اسلام کی لازمانیت کا جلوہ اس کی زمانیت میں دکھاتے ہیں۔ اس کے بغیر اقبال کی شاعری اہم تو ہوسکتی تھی مگر عظیم نہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال کی شاعری میں اسلام کی زمانیت یا وقت کے تقاضوں کا غلبہ ہے، اور یہ بات ایک حد تک صحیح ہے۔ اقبال کی شاعری کے موضوعات، یہاں تک کہ ان کا اسلوب بھی امتِ مسلمہ کی ایک تاریخی اور تہذیبی ضرورت تھا۔ مثلاً اقبال کا ایک مستقل موضوع خودی ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو خودی کے تصور پر گفتگو مسلمانوں بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی ضرورت تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برصغیر پر انگریزوں کے تسلط نے مسلمانوں کے ایک بڑے حصے میں یہ صورت حال پیدا کردی تھی کہ مسلمان اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ پر شرمندہ ہونے لگے تھے اور انہیں انگریزوں کے مذہب، ان کی تہذیب اور ان کی تاریخ میں خوبیوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اقبال یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ غلامی محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات تہذیبی اور تاریخی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ غلامی افراد کیا اقوام کے ضمیر کو بدل دیتی ہے۔ چنانچہ اقبال نے کہا ہے ؎ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر اقبال اپنے وجود کی پوری قوت صرف کرکے مسلمانوں کو غلامی کے اثرات سے بچانا چاہتے تھے، اور جو لوگ غلامی کے اثرات کی زد میں آگئے تھے انہیں ان اثرات سے پاک دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے خودی کے تصور پر بہت اصرار کیا، لیکن جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں اقبال کے یہاں خودی کا تصور یک جہت یاSingle Dimensional نہیں ہے بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں۔ مثلاً اقبال کے بعض شعروں میں خودی کا تصور اَنا اور خودتکریمی یا Self Respect کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً اقبال نے کہا ہے ؎ خودی کی خلوتوں میں گُم رہا میں خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں نہ دیکھا آنکھ اٹھاکر جلوۂ دوست قیامت میں تماشا بن گیا میں ……… بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے ……… مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر اقبال کے پہلے دو شعر دراصل اُن کی ایک رباعی ہیں، اور اس رباعی میں اقبال نے اس ہولناک تجربے کی نشاندہی کی ہے کہ انا پرستی اتنا سنگین مرض ہے کہ اگر دنیا میں انسان کو اس کی عادت پڑجائے تو میدانِ حشر تک اس کا تعاقب کرتی ہے۔ ہماری کائنات اور ہماری دنیا خدا کی نشانیوں اور اس کے جلووں سے بھری ہوئی ہے، لیکن انا مرکز یا Ego Centric شخصیت کو اپنی شخصیت کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ ہر وقت اپنے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ محشر میں بھی جہاں خدا کے جلووں کا اثر ہر طرف غالب ہوگا، انا مرکز شخص اپنے آپ میں ڈوبا ہوا ہوگا، اور یہ بات اس کو محشر میں تماشا بنادے گی۔ اس لیے کہ محشر میں گناہ گار سے گناہ گار شخص بھی اپنے خالق اور اپنے مالک کی جانب متوجہ ہوگا، یہاں تک کہ اسے اپنے قریب ترین رشتوں کا بھی خیال نہ ہوگا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خودی ایک سماجی، معاشی، نسلی یا نفسیاتی حقیقت ہے، اور اس پر اصرار ایک منفی تجربہ ہے۔ مغرب میں خودی کا تصور مختلف لوگوں کے یہاں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے، اور مغرب میں قوم پرستی یا نسل پرستی دراصل اجتماعی خودی پر اصرار کی مختلف صورتیں ہیں، اور ان کا اثر مشرق اور خود اسلامی معاشروں پر بھی پڑا ہے۔ اقبال نے رباعی کے بعد والے شعر میں عشق اور خودی کو متضاد تصورات کے طور پر استعمال کیا ہے اور بتایا ہے کہ عشق انسان کو بیکرانی عطا کرتا ہے، لیکن خودی یا اقبال کے اپنے الفاظ میں خود نگہداری انسان کو محدود کردیتی ہے۔ عشق سمندر ہے تو خود نگہداری ساحل ہے۔ یہاں بھی خودی کا تصور انا یا سماجی و نفسیاتی حقیقت کی علامت ہے اور اقبال کو اس کی ضرر رسانی کا شعور ہے۔ ’’خودی نہ بیچ غلامی میں نام پیدا کر‘‘ والے شعر میں خودی کے تصور کی سطح کچھ بلند ہوئی ہے اور خودی ایک سطح پر سیاسی اور دوسری سطح پر اخلاقی تصور یا ایک معیار بن کر سامنے آتی ہے۔ اقبال کو اس بات کا دکھ تھا کہ انگریزوں کے لائے ہوئے نظام کے تحت مسلمان چھوٹے چھوٹے مالی فائدوں مثلاً نوکری یا جائداد کے لیے اپنی عزتِ نفس نیلام کررہے ہیں اور وہ انگریزوں کی طرح بن جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے فرزند کے ذریعے ملت اسلامیہ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے لیے غریبی شرم کا باعث نہیں بلکہ ہماری تہذیب میں وہ ہمیشہ ایک طرزِ حیات کے طور پر موجود رہی ہے، بلکہ اسے ایک قدر یا Value کا درجہ حاصل رہا ہے۔ لیکن اقبال کے یہاں خودی کا اسلامی تصور پوری آب و تاب اور جلال و جمال کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً اقبال نے کہا ہے ؎ خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ ……… خودی کا سرِ نہاں لاالہٰ الااللہ خودی ہے تیغ فساں لاالہٰ الااللہ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری نہ ہے زماں نہ مکاں لاالہٰ الااللہ یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لاالہٰ الااللہ ……… جوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودی آہ کہ ہے یہ تیغِ تیز سپردگیٔ نیام ابھی اسلام انسان کی عظمت کا جتنا قائل ہے دوسرے مذاہب اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، لیکن اسلام چاہتا ہے کہ انسان خرد سے گزرکر خدا تک پہنچ جائے۔ اور جب انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے تو خدا سے تعلق اور اس سے محبت کی وجہ سے اس کی ذات بھی اہم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اسلام کا تصورِ خودی یہ ہے کہ اصل وجود یا اصل Existence خدا کا ہے۔ اسی کا حکم اور اسی کا ارادہ ہر طرف جاری و ساری ہے، چنانچہ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ خدا کا اصل یا Real ہونا اور اپنا مجاز یا Appearance ہونا تسلیم کرلے۔ ایسا کرتے ہی انسان خودی کے حقیقی تصور تک پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ اقبال نے کہا ہے کہ خودی کا راز یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ چنانچہ انا پرستی یا Ego Assertion کی ہر صورت ایک تلوار ہے، اور اگر انسان کے پاس حوالہ الااللہ کی ڈھال نہ ہو تو انا کی تلوار انسان کا قیمہ بنادے۔ لیکن فی زمانہ انا پرستی کے مظاہر صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ فی زمانہ عقل زمان و مکان یعنی Time and Space کی مالا جپ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ جو کچھ ہیں زمان و مکان ہیں۔ لیکن اقبال نے بتایا ہے کہ زمان و مکان تو بیچارے خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں اور خالق کے سامنے مخلوق کے وجود کی کیا بساط! اللہ تعالیٰ جب چاہے زمان و مکان کو بے معنی بنا سکتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو زمان و مکان کی زنّاری ایک اجتماعی انا پرستی یا Collective Ego Assertion کی ایک صورت ہے۔ اسی طرح اقبال نے دکھایا ہے کہ مال و دولت اور رشتے اور تعلق کی محبتیں بھی وہم و گمان کے بتوں کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ خدا کی محبت کے سامنے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اقبال نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جس طرح زندگی کی اصل عشق ہے اور عشق کے بغیر زندگی زندگی نہیں بنتی، بالکل اسی طرح عشق کی اصل خودی ہے۔ یعنی جب تک عشقِ مجازی انسان کو خدا تک لے جانے والا نہ ہو، وہ عشق کہلانے کا حقدار نہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقبال خودی سے کیا کام لینا چاہتے ہیں؟ اس کی تفصیل اقبال کے شعروں میں بکھری ہوئی ہے۔ مثلاً خودی سے اس طلسمِ رنگ و بو کو توڑ سکتی ہیں یہی توحید تھی جس کو نہ تُو سمجھا نہ میں سمجھا ……… چڑھتی ہے جب فقر کی سان پر تیغِ خودی ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ ……… خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اقبال کے یہاں خودی کی بلند ترین سطح کیا ہے؟ اس شعر کا جواب اقبال کے دو شعر ہیں ؎ خودی کی جلوتوں میں مصطفائی خودی کی خلوتوں میں کبریائی زمین و آسمان و کرسی و عرش خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
|
ادب اور غیر ادب
ادب اور غیر ادب
- پروفیسر سحر انصاری
تاریخِ انسانی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان مثبت اور منفی اوصاف کا مرکب ہے۔ انسانی تمدن کے ارتقا میں اس کی ذہانت، شعور اور تجربے سے حاصل کردہ نتائج کا خاص طور پر حصہ رہا ہے۔ انسانی معاشرے میں جو تغیرات رونما ہوتے رہے ہیں، اُن کے مظاہر پورے کرۂ ارض پر موجود ہیں، یہی نہیں بلکہ کائنات میں نظامِ شمسی سے لے کر دور افتادہ اور وسعت پذیر کائنات کے اسرار و رموز بھی انسان نے اسی زمین پر بیٹھے بیٹھے حاصل کرلیے، اور اب تسخیرِ ماہ کے بعد کسی اور کرۂ کائنات پر بود و باش اختیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دنیا کے بڑے ذہنوں نے انسان کے اس عمل کو مختلف حوالوں سے پرکھا اور اپنے ردِ عمل کا اظہار بھی کیا۔ سات سو برس سے زیادہ مدت گزر چکی ہے جب شیخ سعدی نے کہا تھا: ُتو کارِ زمیں را نکو ساختی کہ باآسماں نیز پرداختی یعنی اے انسان! کیا ُتو نے زمین کے تمام تعمیری کاموں کو مکمل کرلیا ہے کہ اب تیری پرواز اور توجہ آسمان کی طرف ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ، لیکن انسانی ذہن کسی منزل پر رُکا نہیں۔ اُس کی یہی تخلیقی صلاحیت اُسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہے۔ جدید دُنیا اپنے عقائد کے اعتبار سے دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک کائنات کی تقویم و تشکیل کے نظریے کو آسمانی صحائف کے حوالے سے بیان کرتا ہے، جسے creationist کا نام دیا گیا ہے ایک اور طبقہ تاریخ کی مادّی تعبیر کرتے ہوئے انسانی ارتقا کو ایک تدریجی عمل سے تعبیر کرتا ہے اور اسے evolutionist کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ سقراط سے قبل کے فلسفیوں نے یہ بات کہی تھی، جسے بعد میں مختلف زبانوں میں مختلف پیرایے کے ساتھ دُہرایا جاتا رہا ہے کہ مطالعے کا سب سے اچھا موضوع خود انسان ہے۔ اب اس میں بھی کوئی ایک رائے حتمی طور پر موجود نہیں۔ اور جس نہج سے انسان کا مطالعہ کیا گیا ہے، اس کو بھی بعض مفکرین نے بہ نظرِ تنقید دیکھا ہے، مثلاً بیس ویں صدی میں مشل فوکو نے ایک نقطئہ نظر یہ پیش کیا کہ پانچ ہزار سال کی معلومہ ادبی تاریخ میں انسان کو زیادہ تر ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے، حالاںکہ ان حوالوں سے انسان کی مکمل تصویر نہیں بنتی، اس کے لیے تہذیب اور تاریخ کی تہوں کو اس طرح کھولنا اور دیکھنا چاہیے جیسے ماہرینِ آثارِ قدیمہ زمین کی تہوں کو کھنگال کر مدفون تہذیبوں کا سراغ لگاتے ہیں۔ گویا میرزا یگانہ کے لفظوں میں: شیطان کا شیطان، فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی خود قرآنِ کریم نے احسنِ تقویم اور اسفل السافلین کہا ہے۔ انسان کے ان درجات کو مختلف علوم کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے لیکن جس قدر مدد اور سند تخلیقی ادب سے مل سکتی ہے، اُتنی کسی اور شعبۂ علم و تہذیب سے ممکن نہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ادب لفظوں کا فن ہے تو جتنے الفاظ لکھے جا رہے ہیں، کیا وہ سب کے سب ادب کہلانے کے مستحق ہیں؟ یہیں سے ادب اور غیر ادب کا فرق اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہیں سے کسی ادیب کے جینوئن اور نان جیوئن ہونے کا معیار سامنے آتا ہے۔ یہ بہت حساس موضوع ہے، کیوںکہ ہر صاحبِ تخلص خود کو اتنا ہی بڑا شاعر سمجھتا ہے جتنا میر اور غالب، اور ہر قلم بردار خود کو اتنا ہی بڑا نقاد سمجھتا ہے جتنا کولرج اور ٹی ایس ایلیٹ۔ اور اس کے برعکس جو واقعی بڑے تخلیقی ذہن ہوتے ہیں، اُن کے یہاں یہ خنّاس نہیں پایا جاتا، مثلاً مرزا غالب نے حاتم علی مہرکو ناسخ کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ میں تمھارے استاد کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیوںکہ میں یک فنہ ہوں۔ اب غالب جیسے شخص کو اپنے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں اور اگر ہے بھی تو اس قدر: میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں تخلیقی ادب جہاں تمام انسانی علوم اور فنونِ لطیفہ کا محور و مرکز ہوتا ہے، وہیں تخلیقی ادب سے دیگر شعبہ ہائے حیات بھی اخذ و استفادہ کرتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال سگمنڈ فرائیڈ، سی جے ژونگ اور کارل مارکس ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دیگر بڑے مفکرین نے اعتراف کیا ہے کہ انسان شناسی کے متعدد رموز اور زاویے انھیں ادب کے مطالعے ہی سے حاصل ہوئے۔ صحافت کے فروغ اور اہمیت کے بعد یہ سوال بھی مشرق و مغرب کے ادبی حلقوں میں اُٹھایا جاتا رہا ہے کہ صحافت، ادب کیوں نہیں ہے؟ اور صحافی کو ادیب کیوں نہیں مانا جاتا؟ حالاںکہ کئی ادیب، صحافی اور کئی صحافی، ادیب بھی ہوسکتے ہیں، تاہم ایک ہی شخصیت میں اگر صحافی اور ادیب یک جا ہوجائیں تو اس کا فیصلہ ادبی محاکموں سے زیادہ مارکٹ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ یہ بات شاید ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک مثال سے واضح ہوسکے۔ آڈن نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں کوئی تحریر ایک گھنٹے میں گھسیٹ کر اخبار کو بھیج دیتا ہوں تو دو سو ڈالر مل جاتے ہیں اور ایک نظم جو میں کئی ہفتوں کی توجہ اور محنت کے بعد لکھتا ہوں، اُس کا معاوضہ بیس ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ جب لکھنے والا ایک ہی شخص ہے تو اس کی تحریر کی یہ قدر و قیمت دو مختلف شعبوں میں اس طرح کیوں متعین ہوتی ہے؟ اس کے ممکنہ جوابات ایک سے زائد ہوسکتے ہیں، لیکن میرے ذہن میں یہ ہے کہ صحافت وقتی اور لمحاتی ضرورت ہے۔ کوئی خبر اور اس کا ردِعمل جتنی جلدی عوام تک پہنچ جائے، اُتنا ہی صحافی کو داد و تحسین سے نوازا جاتا ہے۔ اس میں عجلت اور خبر رسانی میں پہل کاری کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اسی لیے جب کوئی ادیب یا شاعر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں اسلوب کا میں بنیاد گزار ہوں تو عموماً ثقہ حلقے اُسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ صحافت کی طرح تخلیقِ ادب کا محرک بھی لمحاتی ہوسکتا ہے لیکن ادب کا کرشمہ ہی یہ ہے کہ وہ لمحاتی تجربے کو آفاقی بناتا اور اس جوہر سے آمیز کرکے پیش کرتا ہے جو انسانی احساس کے ابدی عناصر سے مملو ہوتا ہے۔ لفظ و بیان کی دنیا میں تاریخ نویسی کو خاص اہمیت رہی ہے۔ اہلِ یونان تین شعبوں کو فکر و دانش کے حوالے سے خاص اہمیت دیتے تھے، تاریخ، فلسفہ اور شاعری۔ ارسطو نے جب یہ بات کہی کہ شاعری تاریخ سے زیادہ فلسفیانہ ہوتی ہے تو اُس کی وضاحت اُس نے یوں کی تھی کہ تاریخ میں وہ واقعات بیان کیے جاتے ہیں، جو پیش آچکے ہیں جب کہ شاعری میں امکانات کا دریچہ روشن رہتا ہے۔ صحافت کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں پیش آمدہ واقعات بیان کیے جاتے ہیں، اور تخیل یا اقدارِ حیات سے زیادہ تعلق نہیں رہتا۔ صحافت اور تاریخ ایک ایسا دل ہے، جو دھڑکنے اور محسوس کرنے سے عاری ہے۔ قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ جب شائع ہوا تو کئی محترم شخصیات نے یہ بات کہی کہ اگر ہندوستان کی دو ہزار سالہ فکر و دانش کا مطالعہ کرنا مقصود ہو تو عینی کا ناول کیوں پڑھیں؟ براہِ راست تاریخ کا مطالعہ ہی کیوں نہ کیا جائے۔ تاریخ اور تخلیقی فن پارے کے فرق اور اہمیت کو ایک اور حوالے سے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ انقلابِ فرانس پر ٹامس کارلائل نے ایک تحقیقی اور تاریخی کتاب تحریر کی، بعد میں چارلس ڈکنس نے اسی موضوع پر ایک ناول لکھا، ’’دو شہروں کی کہانی‘‘ (A Tale of Two Cities)۔ کہا جاتا ہے کہ اس ناول کے واقعات کو پیشِ نظر رکھنے کے لیے کارلائل کی تحقیق سے بھی ڈکنس نے استفادہ کیا تھا۔ ڈکنس کا ناول کارلائل کی تاریخی کاوش سے زیادہ مقبول بھی ہوا اور آج تک اُسے جو اہمیت حاصل ہے، وہ کارلائل کی کتاب کو نہ مل سکی۔ اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ڈکنس کا ناول انسانی اقدار اور محسوسات کے تانے بانے میں لپٹا ہوا ہے۔ ادب اور غیر ادب میں اقدار ہی کا فرق ہے۔ زندگی کی قدریں کیا ہیں اور وہ کس سطح اور انداز سے انسانی احساس کی صورت گر ہوسکتی ہیں اور انھیں زندگی کی جمالیات کے ساتھ کس طور ہم آہنگ کرکے پیش کیا جائے، بس یہی شعور لفظوں کے فن کو تخلیقی و ادبی فن پارے کی شکل دیتا ہے۔ زندگی میں سائنسی نقطئہ نظر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کو بھی اہمیت دینی چاہیے، ورنہ ادب اور سائنس کے فاصلوں سے ایک ایسی خلیج، ایک ہی معاشرے کے انسانوں میں پیدا ہوسکتی ہے، جس کی طرف کئی عشرے پہلے سی پی اسنو نے اپنے مشہور لیکچر Two Cultures میں اشارہ کردیا تھا اور جس کے بعد ہربرٹ ریڈ، لائنل ٹریلنگ اور ڈونلڈ ڈیوی جیسے اہلِ قلم کو انسانی کلچر اور اقدارِ حیات کی ازسرِنو اہمیت پر زور دینا پڑا۔ اس میں شک نہیں کہ تحریروں اور تصنیفات کو اقدارِ حیات سے دور رکھا جائے تو یہ ادب کو غیرانسانی (dehumanize) کرنے کے مترادف ہوگا، اور اس طرح خود کلچر، کلچر نہیں رہے گا بلکہ vulture میں بدل جائے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اقدار پسند ادیبوں، شاعروں اور نقادوں کو ادب اور غیرِ ادب کا فرق کرتے ہوئے اپنے عہد کی ترجمانی کرنی چاہیے۔
|
سبزیاں اور جڑی بوٹیاں بہترین معالج ہیں
سبزیاں اور جڑی بوٹیاں بہترین معالج ہیں
- حکیم محمد عثمان
سبزیاں اور جڑی بوٹیاں اپنے طبی خواص کی بدولت صدیوں سے علاج معالجہ کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ ذیل میں چند معروف سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کے طبی استعمال کا ذکر کیا جارہا ہے۔ میتھی عربی میں حلبہ کے نام سے پکاری جانے والی میتھی ہمارے معاشرے میں بہت عام حیثیت کی حامل ہے لیکن طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ کئی مرضوں میں اس کا استعمال حد درجہ مفید ہے۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ابن وقاصؓ کی مکے میں عیادت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کے لیے کوئی طبیب بلائو۔ چنانچہ حضرت حارث بن کلدہؓ کو بلایا گیا۔ حارث نے میتھی اور کھجور سے ایک مرکب تیار کیا۔ چنانچہ وہ شفایاب ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میتھی سے شفا حاصل کرو۔‘‘ یہ بھی لکھا ہے کہ اگر لوگوں کو میتھی کے فوائد کا علم ہوتا تو وہ اسے سو نے کے بھائو خرید لیتے۔ میڈیکل سائنس کے ایک محقق کا کہنا ہے کہ روزانہ میتھی کے بیج کے استعمال سے نہ صرف ذیابیطس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے بلکہ خون میں کولیسٹرول (چربی) کی سطح میں بھی کمی آتی ہے جس کی وجہ سے قلب پر حملوں کے اندیشے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن انڈیا (N.I.N) کے ایک تحقیقاتی جائزے میں کئی سال قبل ہی میتھی کے بیجوں کے استعمال کی غیر معمولی افادیت کا اعلان کردیا تھا اور ذیابیطس کے ایسے مریضوں کے لیے بھی اسے مفید قرار دیا گیا تھا جو انسولین کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ایک سائنس دان ڈاکٹر سی رگھورام کا خیال ہے کہ میتھی سے خون میں گلوکوز کی سطح میں قابل لحاظ کمی آتی ہے اور پیشاب میں تو صرف دس دن کی مدت میں 46 فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں میتھی کے بیجوں کو مسالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کا مزا کڑوا ہوتا ہے لیکن دیگر مسالے شامل کرکے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ بیج دال‘ ترکاری اور چٹنی میں سفوف کی شکل میں یا پھر پانی یا چھاچھ میں شامل کرکے کھانے سے پہلے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ روزانہ استعمال کی مقدار کا انحصار ذیابیطس کی شدت پر ہوتا ہے اور یہ مقدار 25 گرام (دو بڑے چمچوں) سے سو گرام تک ہوسکتی ہے اس کے استعمال سے ذیابیطس کی دوا کے استعمال میں کمی کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک خون میں شکر کی سطح زیادہ ہو‘ میتھی استعمال کی جاسکتی ہے اس کا ایک ہی ذیلی اثر ہے کہ بعض مریضوں کا پیٹ پھول جاتا ہے لیکن بعد میں یہ خود بہ خود دور بھی ہوجاتا ہے۔ کریلا کریلاموسم گرما کی عام سبزی ہے‘ اس کا مزاج گرم و خشک ہے۔ کریلے کی کڑواہٹ بعض افراد کو ناگوار گزرتی ہے تاہم اس میں طبی نکتہ نگاہ سے متعدد فوائد پوشیدہ ہیں۔ کریلا خون کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود فاسد مادوں کو ختم کرتا ہے۔ جسم کو قوت بخشتا ہے‘ بھوک لگاتا ہے‘ تلی‘ جگر کی بیماریوں اور بخار میں مبتلا افراد کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔ ککڑی ککڑی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے۔ کھانے میں بطور سلاد اس کا استعمال بہترین ہے۔ اس کا مزا سرد تر ہے اور یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ جن افراد کو بادی کا عارضہ لاحق ہے اگر وہ ککڑی کو کالی مرچ کے ساتھ استعمال کریں تو اس کے بادی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یرقان میں ککڑی کا استعمال فائدہ مند ہے۔ اسے نمک لگا کر کھانا چاہیے۔ کھانے کے فوراً بعد (کچھ دیر کا وقفہ دیے بغیر) پانی نہیں پینا چاہیے ورنہ ہیضہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بھنڈی/توری بھنڈی اور توری کو موسم گرما کی ہر دلعزیز سبزیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ توری کا بھرتہ‘ بھجیا بھی بنائی جاتی ہے۔ بھنڈی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے اس کا مزا سرد خشک ہے۔ بھنڈی گرم مزاج لوگوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ بھنڈی اور توری وٹامن اے‘ بی‘ سی اور ڈی سے بھرپور سبزیاں ہیں۔ ٹینڈے ٹینڈے کا طبی مزاج خشک اور سرد تر ہے۔ ٹینڈے گرمیوں کی عام سبزی ہے اور پورے موسم میں باآسانی دستیاب رہتی ہے۔ اس کا مزاج چونکہ سرد زیادہ ہے اس لیے نزلہ‘ زکام اور سینے پر بلغم کی شکایت رکھنے والے افراد کے لیے نقصان دہ ہے لیکن خشک کھانسی اور گرمی کے بخار وغیرہ میں اس کا استعمال مفید ہے۔ گرمیوں میں ٹینڈے کا سوپ کالی مرچ اور نمک ڈال کر پینے سے دماغ کو تقویت ملتی ہے۔ یہ زود ہضم ہے مگر بادی والے حضرات کو دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ گرم مسالے کے استعمال سے یہ سبزی ہر قسم کے مزاج رکھنے والے افراد کو موافق آجاتی ہے۔ ٹینڈے چھوٹے چھوٹے اور گول ہوں تو نہایت آرام سے پک جاتے ہیں کیونکہ پکے اور بڑے بڑے ٹینڈوں کے بیج سخت ہوجاتے ہیں لہٰذا ان کا استعمال معدے کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ پودینہ پودینہ گرمیوں کی مفید اور خوشبودار سبزی ہے اس کا مزاج گرم اور خشک ہے۔ یہ زود ہضم معدے اور آنتوں کو تقویت دینے والی سبزی ہے۔ معدہ پودینہ کو دو سے تین گھنٹوں کے دوران ہضم کرلیتا ہے۔ اس کا استعمال بدہضمی‘ ڈکار کی کثرت‘ پیٹ بڑھنے‘ منہ کی بدبو‘ متلی اور گیس کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ چند پتی پودینے ڈال کر ابالا ہوا پانی گرمیوں میں پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ یہ معدہ‘ جگر اور گردے وغیرہ کو قوت بخشتا ہے۔ خون صاف کرتا ہے اور جسم کے اندر زہریلے فاسد مادوں کو ختم کرتا ہے۔ قدرت نے غذائی نالی کو مضبوط بنانے کے لیے اس میں تھوڑی مقدار میں نشاستہ دار گلوکوز بنانے والے اجزاء بھی شامل کردیے ہیں۔ یہ جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اروی اروی اپنے طبی خواص کے اعتبار سے گرم تر ہے۔ یہ سبزی خشک مزاج رکھنے والوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ بھوک کو تیز کرتی‘ خشک کھانسی کو رفع کرتی‘ قدرے ثقیل ہے۔ اس لیے قبض بھی کرتی ہے اور عموماً دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ اروی گردوں کو طاقت دینے والی لذیز سبزی ہے اس میں وٹامنز اے اور بی کے علاوہ نشاستہ‘ شکر اور روغنی اجزاء بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ ایک پائو اروی میں دو چپاتیوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے اس کے کھانے سے معدے کی جلن اور خراش رفع ہوتی ہے اس کا سالن خشک کھانسی‘ گلے کی خراش اور سینے کی جلن میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ بواسیر کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے اس کے کھانے سے بواسیر کے مرض میں خون کا اخراج کم ہوجاتا ہے۔ اجوائن اجوائن کا پودا ہر جگہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اتنی عام چیز ہے کہ پنساریوں کے علاوہ عام دکان داروں سے بھی آپ آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں ان میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اجوائن پیٹ کی بہت سی بیماریوں میں مفید ہے اس کے کھانے سے جگر کی کمزوری دور اور آنتوں کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ جس شخص کو بھوک کم لگی ہو وہ اجوائن کھائے تو اسے کھل کر بھوک لگتی ہے۔ خراب اور ناقص غذا کے استعمال سے کبھی کبھی پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ ڈھول کی طرح پھول جاتا ہے۔ اجوائن کھانے سے ریاح کا اخراج ہوتا ہے اور طبیعت بحال ہوجاتی ہے۔ اجوائن پیٹ کے کیڑوں کو مارتی اور گردوں‘ مثانہ اور دل کو قوت دیتی ہے۔ اسے کالی کھانسی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے پان کے ساتھ بھی کھاتے ہیں۔ اجوائن کاست بھی ہاضمے کی اصلاح‘ پیٹ کے کیڑوں کو مارنے اور ریاح کو توڑنے کے لیے تنہا یا دوسری دوائوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ اجوائن ثقیل اور بادی غذائوں کی اصلاح بھی کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے مسالے کے طور پر ان غذائوں میں بھی شامل کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ بیسنی روٹی کو زود ہضم اور خوش ذائقہ بنانے کے لیے آٹا گوندھتے وقت تھوڑی سی اجوائن بھی ملا دی جاتی ہے۔ کالی کھانسی میں اجوائن استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اجوائن ایک تولہ کو 3 ماشے کالے نمک میں ملا کر پیس لیں اور چار تولہ شہد میں ملا کر مریض کو دن میں تین چار بار چٹائیں۔ اگر کسی شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہو تو ذرا سی اجوائن پانی میں پیس کر ڈنک کی جگہ پر لگا دیں دوا کے طور پر اجوائن کی مقدار خوراک 3 سے 5 ماشے تک ہے۔ بچوں کو اس کی نصف مقدار دی جائے۔ آملہ یا آنولہ آملہ مشہور پھل ہے۔ عناب سے لے کر اخروٹ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ بنارسی آملے کافی بڑے ہوتے ہیں جو زیادہ تر مربہ ڈالنے کے کام آتے ہیں۔ آملے کا درخت ہندوستان اور پاکستان کے تمام تر گرم علاقوں میں خودرو ہوتا ہے اور اس کو بویا بھی جاتا ہے۔ کوہ ہمالیہ کے دامن میں جموں سے مشرق کی طرف اور نیچے لنکا تک ہوتا ہے۔ درخت درمیانے قد کا اور خوب صورت ہوتا ہے۔ خزاں میں پتے جھڑ جاتے ہیں اس کے پتے ببول (کیکر) کے پتوں کی طرح چھوٹے اور ہلکے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اس کے پھول سنہری مائل زرد رنگ کے ہوتے ہیں جس کے اندر چھ پھانکیں ہوتی ہیں‘ ان کے اندر ایک مثلث (تکونی) شکل کی گٹھلی ہوتی ہے جس کو توڑنے پر اندر تین خانے ہوتے ہیں اور ہر خانے میں دو بیج ہوتے ہیں۔ اس کا گودا کسیلا اور ترش و تیزابی ہوتا ہے۔ جدید تحقیقات کی رو سے آملے میں حیاتین ج (وٹامن سی) سنترے اور نارنگی سے بھی زیادہ پائے جاتے ہیں اس لیے یہ جسم کی پرورش کے لیے نہایت کارآمد پھل ہے اور مرض اسکروی میں اس کا استعمال خصوصیت کے ساتھ بہت مفید ہے۔ مرض اسکروی ایک بیماری ہے جس میں مسوڑھے پلپلے ہوجاتے ہیں اور ان سے خون بہتا ہے اس کے علاوہ اور بھی تکلیف دہ علامات رونما ہوتی ہیں۔ چکر آنے میں بھی بہت مفید ہے۔ آنوالہ نوماشے‘ دھنیا نوماشے دونوں کو رات کے وقت پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو پانی چھان کر مصری یا شکر ملا کر پئیں چند روز کے استعمال سے فائدہ ظاہر ہوگا۔ گرمیوں میں جب پیاس بہت ستاتی ہو خون کے اندر تیزی یا صفرہ کا غلبہ ہو تو پانچ تولے خشک آملے لے کر ایک پیالے میں ڈال کر پانی بھر کر رکھ چھوڑیں اور جب پیاس لگے یہی پانی پئیں‘ پیاس دور ہوجائے گی۔ گرمیوں میں دودھ پیتے بچوں کو دست آنے لگتے ہیں اور پیاس بھی بہت لگتی ہے‘ انہیں بھی آملوں کا پانی پلانا بہت مفید ثابت ہوتا۔ آملہ نکسیر کو روکتا ہے‘ اگر کسی شخص کی بار بار نکسیر پھوٹتی ہو کسی تدبیر سے بند نہ ہوتی ہو تو اوپر کے طریقے سے آملے کا پانی پلائیں اور آملوں ہی کو پیس کر تالو اور ناک پر لیپ کریں نکسیر بند ہوجائے گی اور کوڑیوں کی دوا وہ کام کر دکھائے گی جو قیمتی سے قیمتی دوائوں سے بھی نہیں ہوسکتا۔ نکسیر ہی پر کیا موقوف ہے اگر پیشاب پاخانے کے راستے خون جاری ہو تو ایک تولہ آملہ پانی میں پیس چھان کر مصری یا شکر ملا کر پلانے سے بند ہوجاتا ہے۔ دستوں کو روکنے اور معدے کو قوت دینے کے لیے خشک آملوں کو تھوڑی دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد پیسیں اور تھوڑا نمک ملا کر جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں۔ ایک ایک گولی صبح و شام کھائیں۔ آملہ ذیابیطس کو دور کرتا ہے آملہ خشک اور مغز تخم جامن برابر وزن لے کر سفوف بنائیں اور یہ سفوف چھ چھ ماشے کھلائیں۔ آملہ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا اور ان کو سفید ہونے سے روکتا ہے۔ اسی غرض سے آملے کو پانی میں پیس کر بالوں کی جڑوں میں لگاتے ہیں۔ آملوں کو پانی میں بھگو کر اس سے بالوں کو دھوتے ہیں اور اس کا تیل بنا کر بالوں میں لگاتے ہیں۔
|
پھولوں کے پیراہن
پھولوں کے پیراہن
- توقیر عائشہ
کئی دن سے متواتر بازار جانا پڑرہا تھا، وہ بھی بھری دوپہر میں۔ سبب کزن کی شادی کی تیاری میں خالہ جان کا ہاتھ بٹانا تھا۔ دوپہر میں جانے کا انتخاب یوں کیا کہ اس وقت دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوتے ہیں اور توجہ سے بات کو سن لیتے ہیں۔ یوں خریداری بھی اطمینان بخش طریقے سے ہوجاتی ہے۔ سو ہم خالہ، بھانجی چار بجے کے قریب نکلتے۔ راستے میں فالسے والے ملتے، ٹن ٹن کرتے قلفی اور گولے گنڈے والے ملتے۔ باقی تو سب گھر بند کیے یو پی ایس اور جنریٹر کی چنگھاڑوں میں ’’آرام‘‘ کررہے ہوتے۔ بس ایک ہی ننھی مخلوق دیکھی جو بھری دوپہر میں وزنی بستے پیٹھ پر لادے دو دو، چار چار کی ٹولی میں اِس گلی سے نکل کر اُس گلی میں ہنستی بولتی چلی جارہی ہوتی۔ یہ منظر روزانہ ہی دیکھنے میں آتا کہ نرسری سے لے کر مڈل کلاسوں تک کے بچے جھکی کمروں کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے گھروں سے نکلے ہوئے یا کچھ بچے بچیاں سپارے ہاتھ میں لیے مدرسوں کی طرف جارہے ہوتے۔ ہم بچوں کے بارے میں باتیں کرتے جاتے اور رحم بھی کھاتے جاتے۔ ایک چیز جو مشاہدے میں آئی وہ ایسی تھی کہ جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ وہ تھے ان کے لباس۔ اکثر بچیاں موٹی موٹی جینز کی پتلونوں میں پھنسی ہوئی اوپر بغیر آستین کی بنیان جیسی چھوٹی سی قمیص یا صرف کندھوں کے اسٹیپ پر مشتمل نیٹ کے فراک پہنے ہوتیں اور مدرسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اسی پر ایک دھجی نما دوپٹا بھی گردن پر پڑا ہوتا۔ وزنی بیگ اٹھانے میں بچے جھکے پڑتے اور پیچھے سے قمیص اٹھ جاتیں۔ یہ ہمارا پہناوا تو نہیں… اور اس قدر کھلا لباس موسم سے مطابقت بھی تو نہیں رکھتا۔ اب ذرا اس جگہ جاکر دیکھیے جہاں یہ ٹیوشن پڑھنے بیٹھتے ہیں۔ اکثر گھروں میں فرشی نشست ہوتی ہے جہاں محلے کے کئی گھروں کے بچے اکٹھے بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ اس پھنسی ہوئی جینز میں زمین پر جھک کر بیٹھنا کس قدر مشکل کام ہے! وہ مائیں جو یہ لباس محض اپنی آسانی کے لیے پہناکر بھیجتی ہیں وہ ان تکلیفوں کو محسوس نہیں کرتیں، کیوں کہ انہوں نے اپنے بچپن میں اس قسم کے لباس نہیں پہنے تھے۔ یہ لباس تو اسی زمانے کا تحفہ ہیں۔ یہ بچیاں اس حلیے میں کیوں نظر آتی ہیں؟ اگر ان کی مائوں سے پوچھا جائے تو جواب ملے گا کہ بازار میں یہی کچھ بک رہا ہے تو ہم خرید لیتے ہیں۔ حالانکہ جتنے پیسوں میں ایک ایسا عریاں لباس ملتا ہے، اتنے ہی پیسوں میں کاٹن یا لان کے چھوٹے چھوٹے پرنٹس والے کپڑے خرید کر شلوار قمیص، ٹرائوزر، فراکس بڑے آرام سے بنائے جاسکتے ہیں۔ یقین کیجیے ایک کے بجائے دو جوڑے بن جائیں گے جو آرام دہ ہوں گے، پسینہ جذب کرسکتے ہوں گے۔ اب بچے زمین پر بیٹھیں یا پارک میں جھولا جھولیں، انہیں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ یہ تو بچوں کے جسمانی آرام کا ذکر تھا۔ اب ذرا دیکھیں کہ جو پہناوے بچیوں کو آج کل پہنائے جارہے ہیں ان کے کتنے دوررس اثرات ہیں جس پر مائیں غور کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتیں۔ جب ایک چھوٹی سی بچی ننگے بازوئوں والی فراک اور نیکر پہن کر گھر سے نکلتی ہے، گڑیا سی لگتی ہے۔ دس روپے ہاتھ میں دبائے ’’چیز‘‘ لینے محلے کی دکان پر آتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ دکانوں پر کھڑے فالتو اور آوارہ افراد اور محلے کے ہی لڑکے، میڈیا کی دی ہوئی گندگی سے آلودہ ذہنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، وہ ان پھول سی معصوم بچیوں پر بری نظریں ڈالتے ہیں، زبردستی ان کے بازوئوں پر مذاقاً چٹکیاں لیتے ہیں۔ شام کے وقت جب محلے کے بچے کرکٹ کھیلنے گلی محلے میں جمع ہوتے ہیں، ان ہی کے درمیان یہ بچیاں اپنے معصومانہ کھیل، پہل دوج اور دوڑ بھاگ کے دوسرے کھیل کھیل رہی ہوتی ہیں۔ وقت سے پہلے ہی بڑے ہوجانے والے یہ چھوٹی عمروں کے لڑکے اشتہارات کی بولی بولتے ہیں، رٹے رٹائے ڈائیلاگ بولتے اور آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو نازیبا اشارے کرتے ہیں۔ آخر کس نے کہا تھا کہ اپنی معصوم بچی کو ’’باربی ڈول‘‘ بناکر گلی میں کھیلنے بھیج دو؟؟ سب سے زیادہ گلہ مجھے ان والدین سے ہے جن کی بچیاں آٹھ سے تیرہ سال کی اسٹیج میں ہوتی ہیں۔ ماں باپ بہت بے خبر، بہت روشن خیال اور لبرل بن کر ان کو نامناسب لباسوں میں لیے سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہیں۔ جہاں جہاں یہ اس حلیے میں جاتی ہیں دکاندار حضرات، آئسکریم پارلرز کے افراد اور ویٹرز، گلی محلے والے، سبزی والے ان پر جو نگاہیں ڈالتے ہیں حیرت ہے کہ والدین کو وہ تیر بھالے بن کر کیوں نہیں لگتیں! وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا آئے دن تو ہم معصوم جانوں کے ساتھ ہونے والے روح فرسا واقعات تواتر سے اخبارات میں پڑھ رہے ہیں۔ ان المناک داستانوں کے پس منظر میں جائیں تو آپ کو ایک طویل قطار بے حیائی کے بیج کاشت کرنے والوں کی نظر آئے گی۔ ان میں ماڈلز، اداکارائیں، فلمی و اشتہاری صنعت سے وابستہ افراد، نیٹ اور موبائل کی ایک کلک پر سب کچھ حاضر کردینے والی گلیمرز دنیا اور بہت کچھ ملے گا۔ انسان کو بھیڑیا اور درندہ بنانے کی اتنی ساری فیکٹریاں لگی ہوں تو آپ اپنے دفاع سے اتنی غافل کیسے ہیں؟ کسی بھی نجی محفل میں معاشرے میں بڑھتی بے حیائی کا ذکر کربیٹھیں تو ہر شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ان نکات سے متفق اور بے حد دل گرفتہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر کیا اس کا علاج محض ماتم اور سینہ کوبی ہے؟ اس بے حیائی کے فروغ میں کس کا کتنا حصہ جارہا ہے اس پر غور کرنا، اور اپنے طرزعمل کو تبدیل کرنا… ان نکات پر دھیان دینے کو کوئی تیار نہیں۔ وہ خواتین جو زیادہ وقت مختلف چینلز کی پرکشش نشریات کے زیر اثر رہتی ہیں وہ تصور میں اپنے آپ کو ان ہی ماڈلز اور اداکارائوں کے لباس پہنے محسوس کرتی ہیں، اور وہ جانتی ہیں کہ مخصوص خاندانی اور معاشرتی دبائو کے تحت وہ یہ نہیں کرسکتیں تو یہ شوق وہ اپنی معصوم پھول جیسی بچیوں کے ساتھ پورا کرکے تسکین حاصل کرتی ہیں۔ لیکن ان کی تسکین ان کی بچیوں کے لیے کیسی وبالِ جان ہوسکتی ہے، اس کا احساس ہے؟ اس کا ایک پہلو اور بھی ہے، ابھی تو آپ انہیں یہ تکلیف دہ اور واہیات لباس پہناکر خوش ہوجاتی ہیں لیکن چند سال بعد جب وہ بڑی ہوجاتی ہیں اور ان پر معاشرتی اور مذہبی حدود کا اطلاق ہونے لگتا ہے۔ اب آپ ان پر پابندیاں لگانا شروع کرتی ہیں، انہیں آستین والے لباس، اسکارف اور عبایا پہنانا چاہتی ہیں تو ایک تصادم پیدا ہوتا ہے۔ حیاء کا وہ بیج جو ابتدا میں مار دیا گیا، اس میں پتّے اور پھول لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں سے بغاوت جنم لیتی ہے اور ہماری سماجی اقدار کہیں بہت دور کھڑی نظر آتی ہیں۔ ہمارے دین نے جو ثقافت اور سماجی اقدار ہمیں دی ہیں وہ ہیرا ہیں۔ ان کے سوا جتنے بھی لائف اسٹائل ہیں وہ کنکر ہیں، پتھر ہیں اور آگ ہیں۔ ہیرا مسترد کردینے کا مطلب باقی تین ممکنات کا انتخاب ہے۔ اس لیے اپنی پھول، پری جیسی بچی سے پیار کا حق ادا کیجیے، اسے وہ پیراہن دیجیے جو اس کی حفاظت کا ضامن ہو، اور مستقبل کے معاشرے میں وہ ایک خوداعتماد اور باوقار خاتون ثابت ہو۔ |
سبقت لے جانے والی خواتین
سبقت لے جانے والی خواتین
- پہلی شہادت: حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیہؓ بڑی صاحبِ عزم و استقامت خاتون تھیں۔ اسلام سے ان کو والہانہ محبت تھی۔ عورت ذات ہونے کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انہیں اذیتیں دے دے کر اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن وہ اسلام اسلام پکارتی رہتیں۔ ایک بار سردار مخزوم ابوجہل نے ان سے مخاطب ہوکر کہا: یا تو اسلام ترک کردو، ورنہ تمہیں مار ڈالوں گا۔ حضرت سمیہؓ نے کہا: موت و حیات کا سلسلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ موت کا ایک وقت متعین ہے، اور اس وقت کو کوئی آگے پیچھے نہیں کرسکتا۔ یہ جرأت مندانہ گفتگو اور وہ بھی ایک بے بس کنیز کی زبان سے! ابوجہل غصے کی آگ میں بھن گیا۔ اس نے اپنے لمبے خونخوار نیزے کا وار کیا اور حضرت سمیہؓ اپنے نصب العین کی خاطر جامِ شہادت نوش کرگئیں۔ سمیہؓ کا مقام کتنا بلند اور ان کی شان کتنی ارفع ہے۔ اسلام کی تاریخ میں شہادت کا مرتبہ سب سے پہلے انہی کو نصیب ہوا۔ یہی وہ باسعادت خاتون ہیں جنہوں نے دھرتی کے سینے پر اپنے مقدس لہو سے اسلام کی صداقت اور توحید کی حقانیت رقم کی۔ ایمان پر ثابت قدمی: فرشتے کے بتانے پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ العلق کی آیتیں پڑھیں، اس کے بعد آپؐ کھڑے ہوئے تو خوف سے دل بیٹھا جاتا۔ گھبراہٹ سے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔ آپؐ سہمی سہمی نگاہوں سے غار میں دیکھتے۔ پھر تیزی سے غار سے باہر نکلے اور پہاڑ کی چوٹیوں سے اترنے لگے۔ پورا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اچانک ایک آواز آئی: محمدؐ! آپؐ دھک سے رہ گئے۔ گھبرا کر سر اوپر اٹھایا۔ دیکھا تو وہی فرشتہ آدمی کی صورت میں کھڑا تھا اور پکار کر کہہ رہا تھا: ’’محمدؐ! تم اللہ کے رسول ہو، میں جبریل ہوں‘‘۔ آپؐ کی گھبراہٹ اور بڑھی، خوف سے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور دہشت سے قدم رک گئے۔ بہت دیر ہوگئی، آپؐ یونہی تھرتھر کانپتے رہے، اور پھر فرشتہ چلا گیا۔ آپؐ لڑکھڑاتے ہوئے گھر خدیجہؓ کے پاس آگئے پسینے میں نہائے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے کچھ اڑھا دو، مجھے اڑھا دو‘‘۔ فوراً بی بی خدیجہؓ نے چادر اڑھادی۔ جب آپؐ کو سکون ہوا اور خوف کچھ دور ہوا تو پوچھا: آپؐ کہاں تھے اور آپؐ کو کیا ہوا؟ آپؐ نے ان کی طرف دیکھا، اور جو کچھ آپؐ نے دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ اِدھر بی بی خدیجہؓ نے آپؐ کی باتوں پر غور کیا اور پھر سوچا۔ چلیں چچیرے بھائی ورقہ کے پاس۔ کچھ ان سے دریافت کریں۔ انہوں نے تو سارے مذاہب کو کھنگالا ہے۔ پہنچ کر سارا ماجرا سنایا۔ وہ سب کچھ سن کر بولے: قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں ورقہ کی جان ہے، یہ وہی ناموس (جبریل) ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔ بخدا یہ امت کا نبی ہوگا۔ اس سے ڈریے نہیں، جو کچھ کررہا ہے کرتا رہے۔ یہ سن کر بی بی خدیجہؓ خوشی سے بیتاب ہوگئیں، اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہی بولیں: مبارک ہو مبارک ہو، میں آپؐ کی نبوت پر ایمان لائی۔ سختیوں پر ایمان غالب آگیا: حضرت آسیہ بنی اسرائیل سے مومنہ تھیں۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی ان کی بہن تھیں اور موسیٰ علیہ السلام ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہ بادشاہِ مصر فرعون کی بیوی تھیں۔ خدا کی شان، خاوند شیطان اور بیوی ایسی ولی کامل جن کی تعریف قرآن میں آئی، اور جن کی بزرگی ہمارے پیغمبرؐ نے اس طرح فرمائی کہ مردوں میں تو بہت کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں کوئی کامل کے رتبے کو نہیں پہنچی سوائے حضرت مریم اور آسیہ کے۔ انہوں نے ہی موسیٰ علیہ السلام کی جان ظالم سے بچائی تھی۔ ان کی قسمت میں موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا تھا۔ شروع بچپن سے ہی ان کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت پیدا ہوگئی تھی۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبری ملی، فرعون ایمان نہیں لایا، مگر یہ خاتون ایمان لے آئیں۔ فرعون کو معلوم ہوا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی ہیں تو بڑی سختی سے انہیں شہید کردیا۔ حضرت آسیہ سختیوں میں یہ دعا مانگا کرتی تھیں: ’’اے میرے رب میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے، اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔‘‘ (التحریم:11) سبق: ہر شخص کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کا وہ اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے مستحق ہو۔ کسی بڑی سے بڑی ہستی کے ساتھ نسبت بھی اس کے لیے قطعاً نافع نہیں ہے، اور کسی بڑی سے بڑی ہستی کے ساتھ نسبت بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ایک مثال حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کی ہے، جو ایمان نہ لائیں۔ انبیا کی بیوی ہونا ان کے کچھ کام نہ آیا۔ دوسری مثال فرعون کی بیوی کی ہے، جو اگرچہ بدترین دشمنِ خدا کی بیوی تھیں لیکن چونکہ وہ ایمان لے آئیں اور انہوں نے قومِ فرعون کے عمل سے اپنے عمل کا راستہ الگ کرلیا، اس لیے فرعون جیسے اکفر الکافرین کی بیوی ہونا اُن کے لیے کسی نقصان کا موجب نہ ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت کا مستحق بنادیا۔
|
ہفتے میں ایک پائونڈ وزن کم کیجیے
ہفتے میں ایک پائونڈ وزن کم کیجیے
- صحت ڈائری
اگر آپ کے خیال میں کم چکنائی والی غذائیں استعمال کرنے کے باوجود آپ کے وزن میں اضافہ ہورہا ہے تو ایسا کریں کہ ہفتہ بھر کے دوران آپ دو یا تین دن جو کچھ کھاتے ہیں وہ اپنی ڈائری میں لکھ لیں اور اس ریکارڈ میں ہفتے کا آخری دن ضرور شامل کریں۔ ایک ماہرِ غذائیت کے مطابق ’’بعض اوقات لوگ جو کچھ فی الحقیقت کھا رہے ہوتے ہیں اس سے متعلق خود کو بے وقوف بناتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا: ’’ہم نے ایک شخص کے لیے کھانے سے متعلق تفصیلات ریکارڈ کرنے کا اہتمام کیا اور ہم نے دیکھا کہ وہ گاڑی چلاتے ہوئے بہت سا فاسٹ فوڈ (تیار کھانا) کھا گیا۔ اس کی کار فی الواقع اسے کھانے پر اکسانے کا سبب بنی۔ مختصر دورانیے میں کھانے کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرنے والا آلہ غذا کی شناخت کرنے اور خوراک کو چبانے کے انداز معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب آپ قریبی مارکیٹ میں کسی بھی ایسی جگہ جائیں گے جسے عام زبان میں فوڈ کورٹ یعنی کھانا کھانے کی جگہ کہتے ہیں تو آپ کو کھانا کھانے کی خواہش تڑپاکر رکھ دے گی اور آپ کو اندر ہی اندر لعن طعن کی کڑی سزا برداشت کرنا پڑے گی۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ خریداری کے لیے کہیں جانے سے قبل کچھ کھا پی لیں، یوں اس بات کا بہت کم امکان ہوگا کہ آپ وہاں کھانے پینے کی اشیاء استعمال کریں یا انہیں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے نظر آئیں۔ آہستہ آہستہ کھائیں اگر آپ جلدی جلدی کھانا کھانے کے عادی ہیں اور جو کچھ سامنے آئے اسے ہڑپ کرجانا چاہتے ہیں اور دوسرے لوگ تھوڑا تھوڑا لے کر کھا رہے ہیں، تو آپ اس سادہ سے اصول پر عمل کریں: جب تک آپ کے منہ میں کھانا موجود ہے چمچ یا کانٹا اپنے ہاتھ میں ہرگز نہ لیں۔ اس اصول پر عمل کرنے کے نتیجے میں یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو کھانے میں زیادہ لذت محسوس ہونے لگے۔ آپ کھانا کھانے کی رفتار اتنی ہی رکھیں جس رفتار سے آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ کھا رہے ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے اعلیٰ معیار کا برتن استعمال کریں: کم چکنائی والا کھانا پکانے میں اپنی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے کوئی اچھے معیار کا برتن یا دیگچی خریدیں۔ سبزیوں اور پھلوں کی قاشیں تیزی سے کاٹنے والا آلہ بھی حاصل کریں۔ رنگوں کا خیال رکھیں: کھانا ایسے کمرے میں تناول کریں جس کی دیواریں نیلے رنگ کی ہوں، سرخ نہ ہوں۔ تحقیق کے مطابق سرخ، زرد اور نارنجی رنگ طعام کو خوشنما بنادیتے ہیں اور کھانے والوں کی بھوک میں مزید اضافہ کرتے ہیں جب کہ سرد مزاج کے حامل نیلے یا خاکستری رنگوں کا اثر اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ موزونیٔ صحت: اگر روزانہ پیدل چلنا آپ کے لیے اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا باعث بن رہا ہے تو آپ بعض ایسی تجاویز پر عمل کریں جو حراروں کو کم کرنے، عضلات کو طاقت دینے اور نفسیاتی مسائل کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس طرح آپ کی محنت مشقت میں یک گونہ تازگی آجائے گی اور وزن میں کئی پائونڈ کی کمی واقع ہوگی۔ |
شکریہ!!
شکریہ!!
- نگہت ظہیر
نوازش کرم شکریہ! لیکن کس کا؟ ارے بھئی کس کا اس قدر شکریہ ادا کیا جارہا ہے۔ یہ تو ہم بعد میں بتائیں گے۔ پہلے مسائل اور پریشانیاں تو سن لیں۔ ’’کوئی پریشانی سی پریشانی ہے‘‘۔ یہاں تو پریشانیوں اور مسائل کا نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ مسئلہ نمبر1: ارے بھئی یہ کوئی جیومیٹری کا مسئلہ تھوڑی ہے کہ دماغ لگاکر یا رٹا لگاکر حل کرلیا جائے۔ یہ تو ایک عالم گیر مسئلہ ہے کہ روز روز یونیورسٹی یا آفس جانے کے لیے نت نئے کپڑے کہاں سے لائیں۔ کبھی چھوٹی بہن سے ادھار لے لیے، کبھی آپا کے چھپاکر پہن لیے، توکبھی امی کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود نئے کپڑوں کی فرمائش شروع کردی۔ کبھی بھائی کے مشورے پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا کہ کسی بوتیک سے کرائے پر کپڑے لیے جائیں، روز ایک ڈریس آئے اور جائے، ہے ناں کم خرچ اور بالا نشین۔ مسئلہ نمبر2: ہائے رضوانہ میرے چہرے کا تو حشر ہوگیا ہے، کیا کروں؟ اتنی کریمیں، اتنے ماسک لگانے کے باوجود Pimples ختم ہوکے نہیں دیتے۔ میں تو اسکن Problem سے عاجز آگئی ہوں۔ اسکن کے ڈاکٹر کو بھی دکھا چکی ہوں لیکن کوئی افاقہ نہیں۔ رنگت الگ سیاہ پڑتی جارہی ہے۔ اتنا مہنگا سن بلاک بھی لگاتی ہوں۔ سارا جیب خرچ اسی میں لگ جاتا ہے۔ بھوکا رہ رہ کے گزارا کرنا پڑتا ہے۔ میں نہ تو اچھے کپڑے افورڈ کرسکتی ہوں اور نہ ہی میک اَپ وغیرہ۔ سوچتی ہوں شکل ہی کچھ اچھی ہوجائے، سو وہ بھی نہ ہوسکی۔ وہ بہت مایوس اور دل گرفتہ نظر آرہی تھی۔ مسئلہ نمبر3: اتنی اہم کلاس تم نے کتنی آسانی سے چھوڑ دی۔ آج میک اَپ چھوڑ دیتیں۔ کلاس کیوں چھوڑی! ارے بھئی میک اَپ کی وجہ سے دیر تھوڑی ہوئی ہے، میک اَپ میں تو صرف 20 منٹ لگے ہیں، اب دیکھو میں تو بال کھول کر آتی ہوں، بغیر شیمپو کے کیسے آجاتی! آج لائٹ نہیں تھی، ٹنکی میں اوپر پانی نہیں تھا، کپڑے بھی استری نہیں تھے۔ جب لائٹ آئی تو سارے کام ہوئے، پھر ہی آسکی ہوں۔ آپ سے کیا پردہ! کہ مسائل کو حل بھی تو کرنا ہے ناں… تو بس ایک چیز ایسی بھی ہے جس کے بعد یا جس کے آنے کے بعد انسان بہت سی فکروں اور پریشانیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ مثلاً جیسے… سعدیہ پلیز ایک منٹ کے نوٹس پر تیار ہوکر باہر گاڑی میں آجائو۔ جی بس یوں آئی۔ اس نے عبائیہ نقاب پہنا، پرس لیا اور سینڈل پہنتی ہوئی باہر نکل گئی۔ تو جناب کچھ سمجھ میں بات آئی کہ میں کس کا شکریہ ادا کررہی ہوں۔ جی نہیں! آپ لوگ غلط سمجھے۔ میں عبایا کا شکریہ ادا نہیں کررہی، بلکہ میں تو اس بات کا شکر ادا کررہی ہوں کہ میں ان سب باتوں اور فوائد کے لیے پردہ نہیں کرتی، بلکہ صرف اور صرف رب کائنات کی اطاعت، اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرتی ہوں، اور اس مہربان اور پیارے رب کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مسلمان عورت کو پردے کی نعمت عطا کی۔ اتنے مسائل، جھنجھٹ اور نمود و نمائش سے بچالیا۔ شکریہ میرے رحیم و کریم رب شکریہ۔ |
عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے - ڈاکٹر خالد مشتاق
عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے
- ڈاکٹر خالد مشتاق
آج ہم سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ ڈاکٹر بخاری صاحب نے تلاوت کی، اور میں حسنِ اتفاق پر حیران رہ گیا۔ (ترجمہ) ’’کہو، خدایا، ملک کے مالک، تُو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تُو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ میں ڈاکٹر صاحب سے کہہ چکا تھا کہ مدینہ کے معاشرے میں واقعات ہوتے ہی وحی آجاتی۔ کتنا سکون ملتا ہوگا دل کو۔ استاد صاحب نے فرمایا کہ اگر ہم ہدایت حاصل کرنے کے آج بھی طالب ہوں تو حالات کے لحاظ سے آیت خودبخود روشن ہوجائے گی۔ اور اس روشنی میں سب واضح ہوجائے گا۔ ہم روزانہ ایک آیت سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ آیت اُس رات آئی، صبح ہی وزیراعظم گیلانی کو فارغ کردیا گیا۔ ان کی ’’عزت افزائی‘‘ سے رخصتی والے دن یہ آیت خودبخود سب کچھ روشن کررہی تھی۔ مجھے ماضی کے چند مریضوں کے واقعات یاد آرہے تھے۔ ’’چلتے ہوئے سانس پھولتی ہے۔ سانس زور زور سے لینا پڑتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سانس اب نہیں آئے گی۔ رات کو سونا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ یہ مریض آغا خان اسپتال کی او پی ڈی میں ڈاکٹر عبدالمجید میمن کے پاس آیا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی ہسٹری لو۔ مریض کا نام پرویز تھا۔ عمر 40 سال تھی۔ اسے یہ تکالیف 3 ہفتہ پہلے شروع ہوئی تھیں۔ شروع میں کم تھیں، پھر بڑھتی گئیں۔ اب اس میں ذہنی طور پر بھی تکالیف شروع ہوگئیں۔ رات کو ڈرائونے خواب آنا، باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس ہونا، کسی کے تیز بولنے پر دل کا زور زور سے دھڑکنا وغیرہ۔ یہ صاحب اسمبلی کے ممبر تھے۔ وزیر تھے۔ حکومت کو حادثہ پیش آیا۔ وزارت، اسمبلیاں سب چلی گئیں۔ پہلے چند دن تو یہ گھر سے ہی نہیں نکلے۔ انہیں دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ انہیں شدید غصہ بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم این اے ہاسٹل اور وزارت میں وہ افراد جو ہر وقت انہیں سلام کرتے نہیں تھکتے تھے، ان کی وزارت ختم ہونے کی اطلاع سن کر اپنا رویہ تبدیل کرلیا۔ یہ ایم این اے ہاسٹل میں تھے۔ انہوں نے گھنٹی بجائی۔ پہلے تو گھنٹی بجتے ہی ملازم حاضر ہوجاتا تھا۔ لیکن اب یہ ہوا کہ 4-3 منٹ مسلسل گھنٹی بجانے پر ایک ملازم آیا۔ اس نے آتے ہی کہا: ’’سر خیریت ہے!‘‘ انہوں نے اُسے کچھ کہنا چاہا، اُس نے درمیان سے ہی بات کاٹ دی اور بولا، ’’سر ہر ایک گھنٹی بجا رہا ہے، وقت تو لگے گا، ہم بھی انسان ہیں۔‘‘ یہ حیرانی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ پہلے تو چپڑاسی سلام کرکے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا تھا اور سر جھکا کر کہتا: ’’جی سر! آرڈر‘‘۔ آج اُس نے سلام بھی نہیں کیا بلکہ بات کاٹ دی اور سنا بھی دیں۔ اسی جیسا حال وزارت کے اپنے سیکریٹری کو فون کرنے پر ہوا۔ پہلے تو وہ ایک بیل بجتے ہی فون اٹھا لیتا تھا، لیکن آج یہ ہوا کہ یہ فون کرتے رہے، بیل بجتی رہی لیکن اُس نے فون نہ اٹھایا۔ ’’پہلے تو ایسا ہوتا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ گھنٹی بجنے پر اٹھالیتا یا چند سیکنڈ بعد ہی اس کا فون آجاتا، لیکن میرے کئی مرتبہ فون کرنے کے بعد اس نے فون اٹھایا۔ میں نے غصے سے کہا: تم نے فون کیوں نہیں اٹھایا؟ اُس نے کہا: سر میں ایک میٹنگ میں تھا۔ غصے میں اسے… وہ بولا: سر ہر ایک کی عزت ہوتی ہے۔ آپ کس طرح بات کررہے ہیں! میں حیران تھا کہ اس نے بتایا: وزارت میں کوئی میٹنگ ہے، میں جارہا ہوں، اور فون بند کردیا۔ مجھے یہ حقیقت اس نے تسلیم کروائی کہ تم وزیر نہیں ہو۔ بس اسی دن سے میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ پہلے میرے ساتھ بہت سے گارڈز ہوتے تھے۔ اسکواڈ ساتھ چلتا تھا۔ اب اکیلے سفر کرنا پڑتا ہے۔ باہر نکلنے پر خوف طاری رہتا ہے۔ ڈر لگتا ہے۔‘‘ مریض کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ ایکسرے، خون کے ٹیسٹ، سانس کی نالیوں کا ٹیسٹ (Spirometry)، سب کچھ ٹھیک تھا۔ مریض کو جسمانی طور پر نہ تو سانس کی تکلیف تھی، نہ سینے میں خرابی تھی، نہ ہی دل کا مسئلہ تھا۔ اسے انگزائٹی کی بیماری تشخیص کی گئی۔ دماغ میں کیمیکل جمع ہوگئے تھے جن کی وجہ سے یہ علامات ہورہی تھیں۔ یہ صاحب وزارت کے زمانے میں غرور و تکبر کرتے تھے، دوسروں کے سامنے اتراتے، رعب جھاڑتے، اختیارات کا… استعمال کرتے تھے۔ وہ اس وزارت کو جو انہیں حاصل ہوئی تھی، اپنی محنت کا صلہ سمجھتے۔ ہر ایک پر اسٹیٹس کا رعب جھاڑتے۔ ان کے دوسروں کے ساتھ تحقیر آمیز رویّے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرتے تھے۔ ان کا اسٹاف ان کو آتے جاتے سلام کرتا تو یہ خود کو عزت والا سمجھتے۔ وزارت کے جاتے ہی سب نے ان سے آنکھیں پھیرلیں۔ وہ غرور و تکبر جب خاک میں ملا تو یہ ذہنی طور پر متاثر ہوگئے۔ باڈی گارڈز کے بغیر نکلنے پر انہیں خوف رہتا۔ اس کیس میں ہم نے دیکھا کہ غلط انداز میں سوچنے، غرور و تکبر اور اسٹیٹس کا اظہار کرنے سے ذہنی پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید میمن صاحب سینئر فزیشن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دماغی طور پر غلط سوچ رکھنے اور پھر اس کا برا نتیجہ آنے پر اکثر مریضوں کو سانس میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ اعصابی مریض ماہر نفسیات کے بجائے اکثر فزیشن او پی ڈی، ماہر امراضِ سینہ او پی ڈی یا دل کی او پی ڈی میں آتے ہیں۔ ایک بیوروکریٹ صاحب او پی ڈی میں آئے۔ انہیں سانس کھینچ کر لینا پڑتی تھی اور سینے میں جلن کی شکایت تھی۔ یہ ایک اچھے عہدے پر فائز تھے۔ Refugees کمشنریٹ (متاثرین کی بحالی) میں ایک بڑی پوزیشن پر رہ چکے تھے۔ انہوں نے بڑی سفارشات کے ساتھ اپنا تبادلہ اس پوزیشن پر کرایا تھا۔ اس جگہ آفیسر کا لامحدود اختیار تھا۔ کروڑوں کا فنڈ ایک پروجیکٹ میں ان کے پاس ہوتا تھا۔ کہیں زلزلہ آجائے، سیلاب آجائے، افغان مہاجرین، سوات کے مہاجرین (متاثرین)… انہیں ہزاروں خیموں کی خریداری، راشن، اور بہت کچھ خریدنے کا اختیار تھا۔ مجبور لوگ ان کے پاس آتے، یہ بہت انتظار کروا کر ملتے اور کسی کو خیمے اور راشن دیتے، کسی کو آئندہ بلاتے۔ ہر چیز جو خریدی جاتی، اس میں ان کا کمیشن ہوتا۔ اس طرح تیزی سے ان کی جائداد اور بینک بیلنس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مردان کے IDPS میں ان کے معاون سے اتنی بڑی غلطی ہوگئی کہ ان کا بہت بڑا فراڈ سامنے آگیا۔ سیکورٹی پر مامور ایک ادارے کے ایماندار افسرکو اتنا غصہ آیا کہ ان نام نہاد اچھے فرد کو اس نے سب کے سامنے جوتوں سے پیٹ ڈالا۔ انہیں جسمانی چوٹیں تو اتنی نہیں آئیں جتنی ذہنی چوٹیں لگیں اور ’’عزت افزائی‘‘ ہوئی۔ یہ ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے۔ جہاں انہیں یہ تکالیف تھیں وہیں ان کا یہ بھی شکوہ تھا کہ دنیا میں لوگ انسانوں کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے، میں نے ہزاروں بے سہارا لوگوں کو سہارا دیا لیکن میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا اور میرے جونیئر آفیسر اور اسٹاف نے بھی مجھ سے آنکھیں پھیر لیں، کسی نے مجھ سے اظہارِ ہمدردی تک نہ کیا، واقعے کے بعد مجھے سلام تک نہ کیا بلکہ میری طرف نظر پڑی تو منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اب میں بیمار ہوں تو کسی مقامی ڈاکٹر تک کو نہیں دکھا سکتا۔ پہلے میں اسپتال جاتا تو ڈاکٹر مجھے بغیر لائن کے اپنے کمرے میں بٹھاکر دیکھتے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا ہی……… میں نے اسپتال میں سینئر ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو چپراسی نے روک دیا اور کہا ’’صاحب لائن سے آئیں‘‘۔ میں نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب کو میرا بتائو‘‘۔ وہ ڈاکٹر جو میرا نام سن کر باہر سے مجھے لے جاتے، ان کا جواب آیا ’’میں مریض دیکھنے میں مصروف ہوں۔ آپ انتظار کریں‘‘۔ سب لوگوں کے ساتھ اسپتال کی بینچ پر بیٹھنا مجھے اپنی توہین لگا، میں واپس آگیا۔ میری سانس صحیح نہیں آرہی۔‘‘ ان صاحب کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ انہوں نے سینے میں جلن کی شکایت کا بھی علاج کرایا، کوئی افاقہ نہ ہوا۔ انہوں نے معدے کا اندرونی کیمرہ معائنہ (endoscopy) بھی کرایا لیکن السر نہیں تھا۔ انہیں ڈپریشن انگزائٹی تشخیص ہوئی۔ انہیں دماغ کے اندر کیمیکل صحیح کرنے والی دوائیں دی گئیں۔ پندرہ دن بعد سانس اور سینے کی جلن میں بہتری ہونے لگی۔ انہوں نے پوچھا کہ میں نے تو تیزابیت کے لیے اتنی ساری دوائیں لی تھیں ان کا فائدہ کیوں نہیں ہوا؟ ان سے کہا کہ آپ دوا کھائیں، بعد میں بتائیں گے۔ انہیں بتایا گیا کہ انسانی دماغ ہمارے کاموں سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے، اس میں حسد یا جلن پیدا ہو، یا ہم کسی کا حق ماریں، تو آگ کی صورت میں معدے میں کیمیکل پیدا ہوتے ہیں، دماغ میں ہوتے ہیں اور اس آگ کا، جلن کا تیزابیت سے تعلق نہیں ہے۔ یہ تو آگ ہے جو دوسروں کا حق مارنے سے جسم میں لگتی ہے۔ اس کا علاج دوا سے نہیں ہوسکتا، کچھ افاقہ ہوسکتا ہے۔ حقیقت جاننے پر وہ بہت ناراض ہوئے لیکن انہیں بتایا گیا کہ اسٹیٹس کے چکر میں یہ سب تکالیف آپ نے حاصل کی ہیں۔ ان صاحب نے جب یہ کہا کہ میں لائن میں نہیں لگ سکتا تو مجھے شہنشاہ ایران کا واقعہ یاد آگیا۔ ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے محل میں بہت سے بال بنانے والے اور شیو کرنے والے ملازم رکھے تھے جو مختلف انداز کے بال بنانے کے ماہر تھے۔ روزانہ سب تیار رہتے۔ شہنشاہ کا جب دل چاہتا کسی سے بال اور شیو بنوالیتا۔ جب ایران کے انقلاب کے بعد وہ ’’عزت یافتہ‘‘ ہوکر فرانس چلے گئے تو چند دن بعد پہلی مرتبہ انہیں بال بنوانے کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے ملازم سے کہا: بال کاٹنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: سر آپ کو خود جانا ہوگا۔ وہ باربر شاپ پر گئے۔ وہاں انہوں نے کہا: میرے بال بنادیں۔ ہیئر ڈریسر نے کہا لائن میں بیٹھ جائیں۔ وہ بولے: ہم کبھی لائن میں نہیں بیٹھے، ہم شہنشاہ ہیں۔ اس نے کہا: ایسے بہت سے شہنشاہ پیرس کی گلیوں میں گھومتے ہیں۔ لائن میں بیٹھ جائیں، باقی لوگ بھی انتظار کررہے ہیں۔ شہنشاہ کو شدید صدمہ ہوا۔ وہ گرپڑے، انہیں اسپتال لے جانا پڑا۔ دنیا میں عہدے، اسٹیٹس، عزت حاصل کرنے کے لیے انسان انسانوں پر بہت زیادتیاں کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اختیارات دینا، لینا، عزت دینا، لینا سب اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ |
اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
اصحاب رسولؐ کی معاشی زندگی‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
- عابد علی جوکھیو
نام علی، ابوالحسن اور ابوتراب کنیت، حیدر لقب۔ والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ حضرت علیؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے، ابوطالب کثیرالعیال تھے اور معاشی تنگی کا شکار تھے، قحط و خشک سالی نے اس مصیبت میں مزید اضافہ کردیا، اس لیے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ہم کو اپنے چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے، چنانچہ حضرت عباس ؓ نے جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کا انتخاب کیا۔ اسی وقت سے آپؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی زیر تربیت رہے۔ چونکہ حضرت علیؓ کے والد ابو طالب غریب اور کثیر الاولاد تھے، اس لیے بچپن ہی سے آپؓ کی پرورش کا ذمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لیا تھا۔ بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت آپؓ کی عمر صرف 10 سال تھی۔ اسی عمر میں آپؓ ایمان لائے اور تنگی اور مشکل حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ 2ھ میں جب آپؓ کی شادی حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے ساتھ ہوئی تو آپؓ کے پاس حق مہر کے لیے بھی کچھ رقم موجود نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے مطابق آپؓ حق مہر کی ادائیگی کے لیے اپنی زرہ بیچنے نکلے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپؓ نے یہ زرہ چار سو درہم میں خریدلی۔ بعد ازاں زرہ بھی واپس حضرت علیؓ کو دے دی۔ اسی چار سو درہم کی رقم میں سے کچھ رقم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے گھر کی تعمیر کے سلسلے میں خرچ کی، کیونکہ ابھی تک حضرت علیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور اب علیحدہ گھر کی ضرورت تھی۔ اور باقی رقم حق مہر کے طور پر ادا کی گئی۔ آپؓ ایک امین کے تربیت یافتہ تھے، اس لیے ابتداء ہی سے امین تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی امانتیں جمع تھیں، جب آپؐ نے ہجرت فرمائی تو ان امانتوں کی واپسی کی خدمت حضرت علیؓ کے سپرد ہوئی۔ بچپن سے پچیس چھبیس برس کی عمر تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دنیاوی عیش کا سامان کہاں تھا؟ حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ شادی ہوئی تو علیحدہ مکان میں رہنے لگے۔ اس نئی زندگی کے ساز و سامان کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ سیدۂ جنت جو سازو سامان اپنے میکے سے لائی تھیں اس میں ایک چیز کا بھی اضافہ نہ ہوسکا۔ چکی پیستے پیستے حضرت فاطمہؓ کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے، گھر میں اوڑھنے کی صرف ایک چادر تھی، وہ بھی اس قدر چھوٹی کہ پائوں چھپاتے تو سر برہنہ ہوجاتا اور سر چھپاتے تو پائوں کھل جاتا۔ معاش کی یہ حالت تھی کہ ہفتوں گھر سے دھواں نہیں اٹھتا تھا، بھوک کی شدت ہوتی تو پیٹ سے پتھر باندھ لیتے۔ ایک دفعہ شدتِ بھوک میں کاشانۂ اقدس سے باہر مزدوری کی غرض سے نکلے کہ کچھ کما لائیں۔ مدینہ شہر کے باہر دیکھا کہ ایک ضعیف خاتون کچھ اینٹ پتھر جمع کررہی ہے۔ آپ سمجھے کہ شاید اپنا باغ سیراب کرنا چاہتی ہے۔ اس کے پاس پہنچ کر اجرت طے کی اور پانی سینچنے لگے۔ یہاں تک کہ ہاتھوں میں آبلے پڑگئے۔ غرض اس محنت و مشقت کے بعد ایک مٹھی کھجوریں اجرت میں ملیں، لیکن اکیلے کھانے کی عادت نہ تھی، یہ لیے ہوئے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کیفیت سن کر نہایت شوق کے ساتھ اپنے ہاتھ کی کمائی کی تعریف بیان کی۔ حضرت علیؓ کی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے پوچھا: تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ جواب دیا کہ ایک گھوڑے اور ایک زرہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو جہاد کے لیے ہے، البتہ زرہ کو فروخت کردو۔ حضرت علیؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چار سو اسّی درہم میں فروخت کیا اور قیمت لاکر آنحضرتؐ کے سامنے پیش کی۔ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اور خوشبو خرید لائیں، اور خود نکاح پڑھایا اور دونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر و برکت کی دعا دی۔ حضرت فاطمہ ؓ کو جہیز میں یہ سامان ملا تھا: ایک چارپائی، ایک بستر، ایک چادر، دو چکیاں اور ایک مشکیزہ۔ اور عجب بات یہ ہے کہ حضرت علیؓ ان میں کچھ بھی اضافہ نہ کرسکے۔ شادی کے بعد جب آپؓ علیحدہ مکان میں رہنے لگے تو حصول معاش کی فکر لاحق ہوئی، چونکہ شروع سے اس وقت تک آپؓ کی زندگی سپاہیانہ کاموں میں بسر ہوئی تھی اس لیے کسی قسم کا سرمایہ پاس نہ تھا۔ محنت مزدوری اور جہاد کے مالِِ غنیمت پر گزر اوقات ہوتی تھی۔ خیبر فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک قطعہ زمین جاگیر کے طور پر عنایت فرمایا۔ حضرت عمر ؓنے اپنی خلافت میں باغ فدک کا انتظام بھی آپؓ کے حوالے کردیا اور دوسرے صحابہؓ کی طرح آپؓ کے لیے بھی پانچ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر ہوا جس پر آخری لمحۂ حیات تک قانع رہے۔ ایک دن حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ سے کہا کہ پانی بھرتے بھرتے میرا سینہ درد کرنے لگا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لونڈی غلام آئے ہیں، آپ ان سے ایک خادم کی درخواست کریں۔ انہوں نے بھی کہا کہ آٹا پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں آبلے پڑگئے ہیں۔ چنانچہ حضرت فاطمہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بیٹی کسی کام سے آئی ہو؟ بولیں: بس سلام کرنے۔ لیکن سوال کرنے سے شرم آئی اور واپس چلی گئیں۔ حضرت علیؓ نے پوچھا کہ تم نے کیا کیا؟ بولیں کہ مجھے سوال کرنے سے شرم آئی اور میں ایسے ہی واپس آگئی۔ دوبارہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت علی ؓ نے عرض کیاکہ پانی بھرتے بھرتے میرا سینہ درد کرنے لگا ہے، اور حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ آٹا پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں، خدا نے آپؐ کے پاس لونڈی غلام اور مال بھیجا ہے، ہم کو بھی ایک خادم عنایت فرمادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تم کو دوں اور اہلِ صفہ کو فاقہ کی حالت میں چھوڑ دوں۔ میں ان غلاموں کو فروخت کرکے ان کی قیمت اہلِ صفہ پر خرچ کروں گا۔ یہ جواب سن کر دونوں لوٹ آئے۔ ان کی واپسی کے بعد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ چادر اوڑھ کر سوچکے تھے۔ یہ چادر اتنی چھوٹی تھی کہ جب سر ڈھکتے تھے تو پائوں، اور جب پائوں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دونوں اٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو میں ایسی چیز نہ بتائوں جو اس چیز سے بہتر ہے جسے تم مجھ سے مانگ رہے ہو۔ دونوں نے فرمایا: ہاں۔ فرمایا: مجھ کو جبریل علیہ السلام نے چند کلمات سکھائے ہیں کہ ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح (سبحان اللہ)، دس بار تحمید (الحمدللہ) اور دس بار تکبیر (اللہ اکبر) پڑھا کرو، اس لیے تم دونوں سوتے وقت 33 بار تسبیح، 33 بار تحمید اور 34 بار تکبیر پڑھ لیا کرو۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے، اُس وقت سے میں نے ان کو نہیں چھوڑا۔ اپنے عہدِ خلافت میں آپؓ نے مسلمانوں کی امانت بیت المال کی جیسی امانت داری فرمائی اس کا اندازہ حضرت اُم کلثوم ؓ کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ نارنگیاں آئیں، امام حسنؓ، امام حسین ؓ نے ایک نارنگی اٹھالی، حضرت علیؓ نے دیکھا تو چھین کر لوگوں میں تقسیم کردی۔ (ازالۃ الخلفائ) مالِ غنیمت تقسیم فرماتے تھے تو برابر حصے لگا کر انتہائی احتیاط سے۔ قرعہ ڈالتے کہ اگر کچھ کمی بیشی رہ گئی ہو تو آپؓ اس سے بری ہوجائیں۔ ایک دفعہ اصفہان سے مال آیا، اس میں ایک روٹی بھی تھی۔ حضرت علی ؓ نے تمام مال کے ساتھ اس روٹی کے بھی سات ٹکڑے کیے اور قرعہ ڈال کر تقسیم فرمایا۔ ایک دفعہ بیت المال کا تمام مال تقسیم کرکے اس میں جھاڑو لگائی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی کہ وہ جگہ قیامت کے دن ان کی امانت اور دیانت کی شاہد رہے۔ آپؓ کی ذات ِگرامی زہد فی الدنیا کا نمونہ تھی۔ آپؓ کے کاشانۂ فقر میں دنیاوی شان و شکوہ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ کوفہ تشریف لائے تو دارالامارت کے بجائے ایک میدان میں پڑائو ڈالا اور فرمایا کہ عمرؓ بن خطاب نے ہمیشہ ہی ان عالی شان محلات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا، مجھے بھی اس کی حاجت نہیں، میدان ہی میرے لیے کافی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک سال میں تین مرتبہ مال تقسیم کیا، پھر آپؓ کے پاس مزید مال آیا تو آپؓ نے اعلان کروایا کہ صبح ہوتے ہی سب لوگ جمع ہوجائیں تاکہ میں انہیں ان کا حصہ دے دوں، میں تم لوگوں کا خزانچی نہیں ہوں (کہ مال کی حفاظت کروں)۔ چنانچہ آپؓ نے سب مال تقسیم کردیا، حتیٰ کہ ایک رسّی بھی نہ چھوڑی۔ اس وقت لوگوں کی خوشحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر بہت سے لوگوں نے مال لیا اور بہت سوں نے واپس کردیا۔ (کنزالعمال) بیت المال کے معاملے میں آپؓ کا رویہ انتہائی سخت تھا۔ ایک مرتبہ آپؓ کے چچیرے بھائی حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بصرہ کے بیت المال سے دس ہزار کی رقم لے لی، حضرت علیؓ کو علم ہوا تو انہیں واپس کرنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا، ان کے انکار کے باوجود حضرت علیؓ نے ان سے وہ رقم واپس کرادی۔ آپؓ اپنے اور اپنے اہل کے لیے بیت المال سے کچھ بھی نہ لیتے۔ ایک مرتبہ عمرو بن سلمہ اصفہان کا خراج لائے، اس میں شہد اور چربی بھی تھی، حضرت علیؓ کی صاحبزادی کلثومؓ نے یہ چیزیں منگوائیں تو عمرو بن سلمہ نے ایک پیپا شہد اور ایک پیپا چربی بھیج دی۔ دوسرے دن حضرت علیؓ نے حساب لگایا تو ان میں دو پیپے کم پائے، عمرو بن سلمہ سے سختی سے پوچھا، انہوں نے بتادیا۔ آپؓ نے اسی وقت دونوں پیپے منگا لیے اور اس میں سے جو کچھ استعمال ہوچکا تھا اس کا حساب لگاکر اس کی قیمت ادا کردی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافعؓ بیت المال کے نگران تھے، انہوں نے بیت المال سے ایک موتی لے کر اپنی بیٹی کو پہنادیا۔ حضرت علی ؓ نے دیکھ کر پہچان لیا، پوچھا یہ موتی کہاں سے آیا؟ میں اس کے لانے والے کا ہاتھ قلم کردوں گا۔ ابو رافع ؓ نے اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔ حضرت علیؓ نے ان سے کہا کہ تمہارا یہ حال ہے کہ اپنی بیٹیوں کو موتیوں سے آراستہ کرتے ہو۔ جب فاطمہ ؓ کے ساتھ میری شادی ہوئی تھی تو میرے پاس مینڈھے کی صرف ایک کھال تھی، جس پر رات کو سوتا تھا اور دن کو اس پر مویشیوں کو چارہ دیتا تھا۔ اور میرے پاس ایک خادم تک نہ تھا۔ مجمع تیمی کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ بیت المال میں جھاڑو لگاتے، اس میں نماز ادا کرتے اور اس کو سجدہ گاہ بناتے، تاکہ وہ حصہ آپ کے لیے بروز قیامت گواہی دے۔ (الاستیعاب) حضرت معاذ بن علا کے دادا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے: مجھے تمہارے اس فئے (مالِ غنیمت) سے تمہاری اس شیشی کے سوا کچھ نہیں ملا جو مجھے ایک دہقان نے ہدیہ کی تھی۔ پھر بیت المال میں تشریف لائے اور اس میں جوکچھ تھا تقسیم کردیا، اس کے بعد فرمایا: وہ آدمی فلاح پا گیا جس کے پاس ایک ہی ٹوکری ہو اور وہ اس میں سے ہر روز ایک مرتبہ ہی کھا سکے۔ عنترہ شیبانی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ جزیہ اور خراج میں ہر پیشہ ور کے پیشے سے تیار شدہ چیز کو لیا کرتے، یہاں تک کہ آپ سوئی والے سے سوئی، سُوّے والے سے سُوّے، تاگے والے سے تاگا اور رسّی بنانے والے سے رسّی لیا کرتے، پھر ان کو لوگوں میں تقسیم کردیتے۔ آپؓ بیت المال میں ایک رات کے لیے بھی مال نہ چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ آپؓ اس کو تقسیم کردیتے۔ ہاں اگر کسی کام میں مشغول ہوتے تو پھر علی الصبح اس مال کو تقسیم کرتے، اور آپؓ کہا کرتے: اے دنیا! تُو مجھ کو دھوکا نہ دے۔ عنترہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؓ کے پاس قنبر نے آکر کہا: اے امیرالمومنین! آپؓ ایک ایسے آدمی ہیں کہ کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتے، آپؓ کے گھر والوں کا بھی اس مال میں حصہ ہے، میں نے آپؓ کے لیے کچھ چھپا رکھا ہے۔ آپؓ نے پوچھا:کیا ہے؟ قنبر نے کہا: چلیے اور خود دیکھ لیجیے کہ وہ کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ قنبر نے آپؓ کو ایک کوٹھری میں داخل کیا جس میں سونے اور چاندی کے برتنوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اسے دیکھ کر کہا کہ تجھے تیری ماں گم کرے، تم نے تو میرے گھر میں ایک بہت بڑی آگ کو داخل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ پھر آپؓ نے ان کو تولا اور تقسیم کرکے فرمایا: اے دنیا مجھے دھوکا نہ دے۔ (کنزالعمال) (جاری ہے) |
Subscribe to:
Posts (Atom)
