Search This Blog

Friday, 5 January 2018

و سطِ ایشیاء میں روسی ا ستعمار ایک تاریخی جائزہ

و سطِ ایشیاء  میں روسی ا ستعمار ایک تاریخی جائزہ
محمد شفیع بٹ
مسلم دنیا عہد وسطیٰ سے جدید دور تک
عہد وسطیٰ میں اسلام کے تابناک عروج کے بعد مسلمانوںمیں فکری اور علمی زوال شروع ہو گیا تھا ۔ ایک طرف فلسفی اور کلامی مشگافیاں تو دوسری طرف تقلید پسندی کی روش مسلمانوں میں عام ہو رہی تھی۔ امام غزالیؒ او ر علامہ ابنــ تیمیہ نے اگرچہ اپنے اپنے ادوار میں مسلمانوں میں علمی و فکری بیداری کی موثر تحریکیں شروع کی تھی، مگر پھر بھی مسلمانوں میںوہ قرُونِ اولیٰ جیسی علمی تڑپ اور فکری عظمت پوری طرح بحال نہ ہو سکی ۱؎ ۔ اگرچہ زوال بغداد اور منگولی حملوں کے باوجود بھی مسلمانوں میں سیاسی اقتدار قاہم رہا مگر مسلمانوں نے علوم و فنون میں جو کارنامے انجام دیے تھے وہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔جبکہ دوسری طرف مغرب جو اوائیل عہد وسطی تک گھپ اندھیرے میں تھا  ، وہاں پر عیسایوںمیںفکری نشاۃ ثانیہ کا آ غذ ۱۶ ویں صدی عیسوی کے اوائیل سے ہی شروع ہوچُکا تھا۔ جب مغرب اپنی مذہبی اور فکری نشاۃ ثانیہ  میں آگے بڑھ رہا تھا تب اگرچہ مسلم دنیا میں تین بڑی سلطنتیں قایم تھی، جن کو اپنی عسکری برتری کی وجہ سے (The Gun Powder Empires) کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا تھا، جن میں سب سے بڑی طاقت تو خلافت عثمانیہ تھی، جو دنیا کے تین بڑے براعظموں،Three big Continents of World، ایشا،افریقہ اور یورپ میں برسراقتدار تھی، ایران میں بھی صفویوں کی طاقت ور حکومت قایم تھی اور برصغیر میں دہلی سلطنت کے بعد مغلیہ سلطنت بھی اپنے عروج پر تھی،اس سیاسی اور عسکری برتری کے باوجود بھی مسلمانوں میںفکری اور علمی جمود قایم ہوگیاتھا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں کی اخلاقی و سماجی اور فکری حالت کی پسماندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی زوال بھی شروع ہو چکا تھاتو عالم اسلام کے مختلف خطّوں میںکہی عبقری شخصیات سامنے آئی جنہوں نے مسلمانوں میں نہ صرف فکری اصلاح کی تحریک کو شروع کیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں سیاسی اور اقتصادی بہبودی کا شعور بھی مسلمانوں میں پیدا کرنے کی پُرزور کوشش کی ، ان شخصیات میں ایک طرف عرب دنیا میں شیخ محمّد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک  شروع ہوئی، تو دوسری طرف برصغیر میںشاہ ولی اللہ محدث دیلوی جیسے نابغہ عصرشخصیات سامنے آئی جنہوں نے تمام علوم اسلامی میںبے بہا خدمات کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی رہنمائی فرمائی، ۲؎ ۔
 مگر ان بیشتراصلا حی تحریکوںکے مرکوز نظرصرف مسلمانوںکے داخلی تشویشناک حالات تھے اور وہ اُسی کاسدِباب کرنے میںلگے رہے، جبکہ دوسری طرف اس وقت تک یورپ میں اصلاحی تحریک  Reformation، نشاۃثانیہ، صنعتی انقلاب   Industrial Revolution) (کے ساتھ ساتھ جدید ساینسی ایجادات Modern Scientific Inventions  بھی اپنے عروج پر تھی ، اس بڑہتی ہوئی مغربی طاقت کا اندازہ نہ تو عوام الناس کو تھا اور نہ ہی مسلم مُفکِرین اور مصلحین کو تھا۔ انسویںصدی میںیورپ نے باقایدہ طور پر مسلم علاقوںکو اپنے استعمار کا نشانہ بنا یا،دیکھتے ہی دیکھتے مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں اورمراکز کو یورپی طاقت نے بہ آسانی اپنی نو آبادی(Colonies) میں تبدیل کر دیا۔ اس فکری جمود اور مغربی استعمار کے خلاف پوری مسلم دنیا میں کئی احیائی تحریکیں اٹھیں، جنھوں نے مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری اجاگر کرنے کے لئے کئی احیائی تحریکیں شروع کہے، اس دور میں اگر چہ عرب دنیا میں سیدّ جمال الد ین، محمد عبدہ، سید رشید رضا کی تحریک اُتھی، برصغیر میںسیداحمدبریلوی کی تحریک جہاد، سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک، علما ئے ہند کی دیوبند تحریک اُتھی، اسی دور میں دوسری طرف وسطِ ایشاء جو کہ اوائل قرُونِ وسطیٰ میں مسلم دنیا کا ثقافتی اور علمی مرکز رہا تھا، وہ بھی ایک طرف علمی اور فکری ابتری کا شکار تھا تودوسری طرف انیسویں صدی کے اختتا م تک پورا وسطِ ایشاء روسی سامراج کا شکار ہوچُکا تھا اور اپنی تمام خود مختاری کھو چُکا تھا، اسی روسی استعمارکے خلاف اور مسلمانوںمیںبڑھتے فکری اور علمی جمود کے خلاف وسطِ ایشاء میں مفکرین اور دانش وروںنے جو علمی بیداری کی تحریک شروع کی اُسی تحریک کو تحریکِ جدید Jadidi Movement of Central Asia  کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 وسط ِاشیاء میں روسی استعمار: 
روسی سامراج نے اگر چہ سولہویں صدی سے ہی وسطِ ایشاء پر دست درازی شروع کی تھی مگر۱۸ ویں صدی عیسویں تک وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہورہے تھے، چناچہ اٹھارویں صدی تُرکستان کے لیے انتشار و افتراق کا پیغام لے کر آئی ، تاتاری خوانین Khanates) (،کی آپس کی خانہ جنگیوں سے روسی سامراج نے فائدہ اٹھایا اور ، ۱۸۸۵ء تک روس پورے مغربی تُرکستان پر قابض ہو چُکا تھا۔ مسلمانوں کی روسی سامراج کے ہاتھوں شکست کے اسباب کے متعلق مشہور مورخ ، آباد شاہ پوری اپنی کتاب ’’ روس میں مسلمان قومیں‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’جس زمانے میں رُوس کا سامراجی اژدہا اپنی کُنڈلی کا دائرہ وسیع کر رہا تھا قازان سے ترکستان تک پھیلے ہوئے مسلمان علاقے علمی و فکری لحاظ سے جمود کا شکار ہو چکے تھے۔ منگولوں کے سیلاب اور اس کے بعد آئے دن کے طالع آزما فاتحین کے لائے ہوئے آتش و خوں کے طوفانوں سے بچنے کے لئے طبقہ اشراف اور طبقہ اوسط کے لا تعداد افراد ترکِ وطن کر کے دوسرے مسلمان ملکوں میںچلے گئے۔ اس طرح یہ علاقے اعلیٰ فکری و ذہنی صلاحیتوں کے حامل دماغوں سے بڑی حد تک محروم ہوگئے۔ باقیماندہ لوگ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔ اذھان کی اعلیٰ تربیت اور ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے اور جلا دینے کے لئے اعلیٰ طرز کے فکری و علمی اور تر بیتی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان علاقوں میں بہت کم باقی رہ گئے تھے۔ علمی و فکری جمود نے تہذیبی و معاشرتی زندگی کو متاثر کیااور پھر رفتہ رفتہ سیاسی زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی جسے مختلف خانوادوں کی طالع آزمائیوں نے اور بھی سنگین بنادیا۔ ان جنگوں میں رہا سہا جوہر بھی تیغ و سناں کا شکار ہوگیا‘‘۔ ۳؎
 روسی زار کے قبضے کے بعد کچھ ہی دیہوں میں وسطِ ایشاء میں مسلمان جو کہ اب تک بیشتر  علاقوں میں غالب اکثریت رکھتے تھے، نہ صرف اُن کی اکثریت مُتاثر ہونے لگی بلکہ مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی اور اقتصادی حقوق پامال ہونے لگے، اس کے ساتھ ساتھ عیسائی مشنریوں کے ذرلعہ مسلما نوں میں ارتداد کو فرُوغ دیا گیا، تھیک اسی زمانہ میں جب روسی کلیساتاتاری مشنریوں کے ذریعے تاتاری مسلمانوں کے دینی افکار پر شب خون مار رہا تھا، تاتاریوں میں احیائے اسلام کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی۔

تاتاری مسلمانوں میں بیداری اور تحریکِ جدید
 انیسویں صدی کے اوائل میں ہی مسلما نانِ وسطِ ایشاء میں چند گراںقدر ہستیاں جوکہ مصلح اور طبیبِ قوم بن کر اُبھرے اور اپنی مسلسل کوششوں سے تحریکِ جدید کی فکری بنیاد رکھی، جس کے تحت مسلمانوں کے زوال کی وجوہات پر غور کیا گیا اور ایسے اقدامات کرنے کا منصوبہ بنایاگیا جوکہ مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ کی طرف بُلایے۔ تحریک جدید کی فکری اور علمی کاوشوں سے پتاچلتا ہے کہ تحریکِ جدید کے مندرجہ ذیل بنیادی مقاصد تھے:                            
۱۔ مسلمانِ روس کو ذلت کی پستیوں سے نکالنا اور اُن میں اپنی ذات، اپنے تمدن کا اعتماد بحال کرنا۔
۲۔ ایک جدید نظامِ تعلیم متعارف کروانا جس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم مسلًا، حساب، جغرافیہ ) (Geography ،  سانئس اور روسی زبان کی تدریس کا اہتمام ہو۔         
۳۔ جدید طرز پر مبنی مدارس کا قیام عمل ، جن میں مسلمانوں کی فکری اور علمی بنیاد  پرتربیت کی جائے۔             
۴۔ روس کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں خصوصًا تُرکوں میں اتحاد کی فضا قائم کرنا۔ 
۵۔ ایک ایسی زبان رائج کرنا جو روس میں بسنے والے تمام مسلمانوں کی مشترکہ زبان کا کردار ادا کرے۔
۶۔ جدید مسائل کا اسلامی حل نکالنے کے لئے اجتہاد کا استعمال کرنا۔ ۴؎

اگر چہ تحریک ِ جد ید کی عملی شکل انیسویں صدی کی آخری دو دہیوں (1880-1900 C.E ) میں منظرِعام پر آئی،جب عملی طورپر ’اصول جدید‘ کے نام سے نئےا سکول کھولے گئے، مگر فکری اور علمی طور پر تحریکِ جدید کی بنیاد انیسویں صدی کے آغاز سے ہی شروع ہوچکی تھی۔تحریکِ جدید کے ابتدائی رہنماؤں میں سرفہرست میں ابونصرالقُرضاوی (1814-1783اور شیخ شہاب الدین المرجانی( 1818-1889 کو مانا جاتا ہے۔ ۵؎  ابو نصرالقُرضاوی فکرِ جدید کے پہلے مصلح تھے جنہوں نے سب سے پہلے اندھی تقلید، علم الکلام کی بہ وجہ مشوگوفیوں کے خلاف آواز اُتھائی اور اجتہاد و آزادیِ رائے کی حمایت کی۔ چونکہ ابو انصرالقُرضاوی کو روایت پسند علما کی مخالفت کا سامنا ایک طرف اور کم عمری میں اُن کی موت کی وجہ سے اُنہوں نے صرف مسلمانوں میں بیداریِ فکر کا شعور پیدا کیا جو تقلیدپسندی اور جمود پسندی کے خلاف پہلا اعلان تھا۔ القرضاوی کے بعد شیخ شہاب الدین المرجانی تحریکِ جدید کے فکری معمار بن کر سامنے آئے۔ المرجانی کودورانِ طالب علم ہی سے اپنے اساتذہ اور علماء کے فکری و ذہنی جمود کا شدت سے احساس ہو گیا تھا، انہوں نے جب صور تحال پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس فکری جمود اور شکستِ حالی کی اصل ذمہ دار اس پُرانے طرزِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے جو مدارس میں رائج تھا۔ چنا نچہ وہ بُخارا سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دینی درسگاہوں میں اصلاح کا عزم لیے واپس اپنے وطن لوٹے، انہوں نے علماء کے فکری جمود اور تنگ نظری پر سخت تنقید کی۔ المرجانی کی اصلاحی فکر کا مرکز مندرذیل نکات تھے:       
۱۔   ہر مسلمان مذہب سے متعلق اپنے سوالات کے جواب خود قرآن سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ 
۲۔  اندھی تقلید کی روایت کو ختم کیا جائے۔                                                   
۳۔ قدیم روایتی نصابِ تعلیم کو نظامِ تعلیم سے خارج کرنا۔ 
۴   مدارس میں قرآن، حدیث اور تاریخِ اسلام کے مضامین کی تدرس کو جدید انداز میں متعارف کروانا۔
۵۔ مسلمانوں کو اپنی ابتدائی پرانی ثقافت کی طرف بلانا۔۶؎                                            

المرجانی کو جس انقلابی شخصیت کے نظریات اور زندگی نے متاثر کیا تھا وہ امام غزالی ؒ تھے، انہوں نے اپنی ساری زندگی اس جدوجہد میں گزاری کہ اسلام کو مخصوص علما کے روایتی اسلام کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ اسلام آج بھی دور ِ جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے اور دورِ جدید کی سانئس کا تسلی بخش جواب مذہب سے دینے کی اہلیت رکھتا ہے اور ان کا یقین تھا کہ اسلام کے آفاقی اصولوں کی مدد سے آج بھی اسلام کی عظمتِ رفتہ کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ چنا نچہ المرجانی نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور 1866ء میں اپنے تعلیمی نظریات کے مطا بق ایک نیا دینی مدرسہ قائم کیا، بعدازاں تاتاری علاقوں میں اس قسم کے مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان نئے طرز کے مدارس کو کریما کے اسماعیل گسپرالی (۱۹۱۴ــــــ- ۱۸۵۱ء) نے ایک نیا رنگ دیا، گسپرالی کو ترکستان کی تحریک جدید کا اصل معمار  (Pioneer of Jadidism)ما نا جاتا ہے۔ اسماعیل گسپرالی نے جن نیے مدارس کی بنیاد رکھی ، انہیں ـ ’اصولِ جدید‘ کا نام دیا گیا، بعدازں اسی ’اصولِ جدید‘ کی مُناسبت سے اس فکری تحریک کو’ جدیدازیم‘ یا تحریکِ جدیدJadidism or Jadid Movement  کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ ۷؎  اسماعیل گسپرالی کے ان قائم شدہ مدارس میں اسلامی مضامین کے علاوہ دور جدید سے متعلق مضامین کی تدریس کا اہتمام کیا گیا۔ مدارس میں روسی زبان سیکھنے پر خصوصی زور دیا گیا، یہ تمام اصلاحات اس مقصدکے تحت تھیں کہ مسلمان تعلیمی میدان میں دوسری قوموں سے کٹ کر نہ رہ جائیں۔

تحریکِ جدید اور اصولِ جدید کے مدارس
ابتدائی طور پر اسماعیل گسپرالی نے اپنے مقاصد کے حصول کے وقت سیاست سے پرہیز کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر روسی اقتدار کے خلاف جد و جہدکی گئی تو مسلمان کچل دئیے جائیں گے۔ چنانچہ گسپرالی نے اس وقت کے حالات کے تحت روس نواز مؤقف ضرور اختیار کیا لیکن وہ سلطنتِ روس کے اسلامی علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے سخت خلاف تھے۔ دراصل وہ اسلام میں جدیدیت اور تورانیت کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے، گسپرالی کا نظریہ تھا کہ اسلام ترکوں اور تاتار یوں کے کلچر کا لازمی جز ہے۔ اسماعیل گسپرالی فکری طور پر اپنے دور کے متعدد علمی اور فکری تحریکوں سے متاثر تھے، ایک طرف دولانِ قیام پیرس وہ کسی حد تک لبرلازم  (Libralism) کی تحریک سے متاثر ہوگئے تو دوسری طرف قیامِ مصر میں وہ سیدّ جمال الدین افغانی کی تحریکِ اخوتِ اسلامی (Pan-Islamism) سے بھی متاثر ہوئے، اس کے علاوہ وہ تُرکی کی نوجوان تحریک (Young Turks Movement) سے بھی کافی متاثر تھے، یہ سب اثرا ت گسپرالی کی سیاسی، سماجی، اصلاحی اور تعلیمی سرگرمیوں میں پوری طرح کار فرما رہے۔ وہ بیکوقت اسلامی اتحاد کے علمبردار بھی تھے، عربی زبان کو اہمیت بھی دیتے مگر ساتھ ساتھ بعض مغربی اصلاحیات کو اپنانے کے خواہش مند بھی تھے۔ ۸؎  اپنے مقاصد کے حصول کے لئے گسپرالی نے ذرائع ابلاغ اور نئے طرز کے مدارس کا بھرپور استمال کیا۔ ۱۸۸۳ء میں انہوں نے اپنا اخبار ’ترجمان‘ شائع کیا جو دو دہایوں تک کاشغر سے لے کر کریمیا بلکہ قسطنطنیہ تک مسلمانو ں کی فکری اور علمی رہنمائی کرتا رہا۔ اسماعیل گسپرالی نے’ترجمان‘ کے ذریعے نہ صرف مسلمانانِ روس کو درپیش سیاسی، اقتصادی اور فکری challenges  کاجواب دیا بلکہ ’ترجمان‘ کے ذریعے وہ ایک ایسی زبان کو ترویج دینے کی کوشش کر رہے تھے جو روس کے ترکی النسل مسلمانوں کو مختلف چھوٹی چھوٹی زبانوں کی جگہ روس کے تمام مسلمانوں کی مشتر کہ زبان بنے۔ اس طرح گسپرالی اور اُن کے پیروکاروں کی کاوشیوں سے روسی مسلمانوں میں جدید تعلیم کو فروغ ملا، اور ترکی زبان میں کتابوں کے اشاعت اور طباعت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمانوں میں علمی اور فکری بیداری کی تحریک دن بہ دن مضبوط ہونے لگی۔ 
جہاں اصولِ جدید کے مدارس میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا تھا اور وہ نئی نسل کے فکر و ذہن کو نئے سانچے میں ڈھال رہے تھے ، وہیں وسطِ ایشاء میں قدیم طرز کے مدارس بھی سرگرمِ عمل تھے ، جہاں نئے زمانے کی رفتار اور نئے دور کے مسائل کا نہ تو کوئی احساس تھا اور نہ گزر۔ ان روایتی مدارس کی فضا دسویں صدی عیسوی کی تھی، انہیں نصاب میں کسی قسم کا تغیر و تبدل گوارہ نہ تھا۔ چنانچہ جب جدیدیوں نے اصولِ جدید مدارس کے ضمن میں اپنی کوشش شروع کیں تو انہیں قدیم علماء کی طرف سے سخت تنقید اور مذاہمت کا سامنا کر نا پڑا، اس کے علاوہ روسی حکومت کی مخالفت کا بھی سامنا تھا جو مسلمانوں کی بڑھنی ہوئی سر گر میوں سے خو فزدہ ہوگئی تھی، اس کے ساتھ ہی ایک اور مخالفت عیسا ئی مشنریوں کی طرف سے تھی جو مسلمانوں کو روسی بنانے کے حق میں تھے۔نظامِ تعلیم میں اصلاحات کے علاوہ تحر یک جدید کے مصلحین غیر مسلم حکمرانوں کے زیر تسلط مسلمان کالونیوں میں مغر بی جد یدیت اور اسلامی عقیدے اور ثقافت کے درمیان ٹکراؤسے پیدا شدہ مسائل کو مناسب انداز میں حل کر نے کے لئے کوشاں رہے، انہوں نے پہلے مسلمانوں میں اندرونی کمزوریاں دور کرنے کی سعی کی اور مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں فکری اور لسانی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۰۵ء کے پہلے روسی انقلاب کے بعد تحریک جد ید نے باقاعدہ سیاسی جدوجہد شروع کیا اور ’اتفاق المسلمین‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی جس نے پہلے ہی عام انتخابات میں حصہ لے کر ۳۵  نشستیں حاصل کی مگر چونکہ روس میں یہ سیاسی آزادی کا مختصر دور رہا، جس کی وجہ سے تحریک جدید کی سیاسی سر گرمیوں کو پوری طرح کچل دیا گیا۔
۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کے بعد جب زار شاہی کے بدلے سویت یونین  ) Soviet Union (  نے حکومت پر قبضہ جاما یا تب مسلمانانِ روس کا سب سے سخت اور مشکل دور شروع ہوا، ایک طرف مذہبی آزادی سلب کر لی گئی تو دوسری طرف اقتصادی ، سیاسی استحصال کو فروغ دیا گیا، ان حالات میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی مصلحین نے بھی وسطِ اشیاء سے ہجرت کی ، مگر ان حالات میں بھی کئی جدیدی مفکرین نے مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ۔اگر چہ سویت یونین کی استحصالی پالیسی کی وجہ سے تحریک جدیدکا سیاسی اور عملی وجود کافی حد تک متاثر ہوا مگر تحریک جدید کے کئی مفکر کسی نہ کسی طرح اپنا پیغام مسلمانوں تک پہنچاتے رہے۹؎۔

روسی اشتراکی انقلاب اور تحریکِ جدید کی فکر پر اُس کا اثر
بیسویں صدی کے آغاز سے ہی اگر چہ ایک طرف وسطِ ایشاء کے مختلف علاقوں میں تحریک جدید کے نام پر کافی سارے مفکرین اُبھرے ، مگر دوسری طرف سویت یونین Soviet Union) (  کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔ اگر چہ یہ بات ایک طرف مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریک جدید کا قیام عمل مسلمانوں کی دینی، علمی اور فکری بیداری کے لئے کیا گیا تھا، تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریک جدید کے بہت سے مفکرین مغربی جدیدیتWestern Modernism   اور لبرل ازم Liberalism) (  کے تصورات سے متاثر ہونے لگے، تاہم سرسیدّ احمد خان کی علی گڑھ تحریک کی طرح تحریک جدیدنے جو تعلیمی محاذ پر مسلمانان وسط ِایشاء کی خدمات سر انجام دئے وہ نا قابل فراموش ہیں۔ اسماعیل گسپرالی کے بعد تحریک جدید کے جو سرکردہ مصلحین اور مفکرین وسطِ ایشاء کے مختلف خطوں میں اُٹھے اُن میں ، منور قاری (ـــــــــ ۱۸۸۹ -۱۹۳۳ء) ، ریاض الد ین (  ۱۸۵۹ - ۱۹۳۶ء) ، موسیٰ جارُاﷲ( ۱۸۷۵- ۱۹۴۹ء)، جیسی علمی اور فکری شخصیات سر فہرست ہیں۔ تحریکِ جدید کے مدارس اور اُن کی فکر پر مغربی تصورات کے اثرات کے متعلق، محقق آباد شاہ پوری تنقیدی جایزہ لتے ہوئے رقطراز ہیں : ـ’’چونکہ خود اسمٰعیل گسپرالی فکری یکسوئی سے محروم تھے۔ اس لئے یہ مدارس بھی انتشارِفکر کا سر چشمہ بن گئے۔سیاسی قوم پرستی اور تُولانی تحریک نے انہی مدارس میں جنم لیا‘ سوشلزم اور مارکسٹ نظریات نے بھی یہیں فروغ پایا‘ رُوسی مسلمانوں میںبائیں بازو یا خالص سیکولرذہن و فکر رکھنے والے جتنے رہنما اور فعاّل و سر گرم کارکن تھے وہ سب انہی جدید مدارس کے فیض یافتہ تھے۔ اس طرح جس تحریک کا آغاز شہاب الدّین المرجانی نے اسلامی تہذ یب و ثقافت کے تحفظ اور اسے دنیا میں موثر طاقت بنانے کے نیک عزائم کے ساتھ کیا تھا‘ اُس کے نتائج تباہ کُن نکلے‘‘ ۱۰؎ مختصر ا  ً تحریک جدید کے اجمالی جائز ے اور تجز یے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تحر یک جدید بھی انیسویں اور بیسو یں صدی عیسوی کی اُن متعدد مسلم اصلاحی، احیائی تحریکوں میں ایک تھی جنہوں نے مسلمانوں میں بڑھتے علمی فقدان ، فکری جمود، تقلید پسندی، جد ید علوم سے دوری اور مغربی استعمار کے استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی، باقی تحریکوں کی طرح اس تحریک میں بھی کافی ساری کمزوریاں تھیں، اس تحریک کے نتیجے سے اگر چہ ایک طرف مسلمانانِ وسطِ ایشاء میں علمی اور فکری شعور بیدار ہوا تو دوسری جدید تعلیم یافتہ طبقہ کافی حد تک مغربیت کے زیر اثر آیا۔
    حوالہ جات
۱۔  ڈاکڑ سیدّ حسین محمد جعفری، ’’فکر اسلامی کے ار تقاء کا ایک تار یخی جا ئزہ (دور وحی و رسالت سے زمانہ اقبال تک)‘‘ ’اقبال: فکراسلامی کی تشکیلِ جدید‘ اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۱۹۹۵، ص، ۲۱۔
۲۔  ڈاکٹر ضیاءا لدین فلاحی، فکر اسلامی کا ار تقاء (ہندوستان کا خصوصی مطالعہ)، اسلامک فاونڈیشن، نئی دہلی، ۲۰۱۶، ص ۴۷،
۳۔  آباد شاہ پوری، روس میں مسلمان قومیں، مر کزی مکتبہ اسلامی، دہلی، ۱۹۹۱ء ص  ۴۵
۴۔ فرحت نسیم علوی، ’’وسطِ ایشیاء کی تحریک ِ جدید کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ‘‘ پاکستان جرنل آف اسلامک ریسرچ، جلد ۹، ۲۰۱۲، ص  ۱۱۵
 5. Prof. Naseem Ahmad, "Jadidism among Tatars: an overview of the stages of Development" in "Insight Islamicus" Research Journal of Shah-i-Hamadan Institute of Islamic Studies, University of Kashmir, Srinager, Vol. 11, 2011, P. 3
 ۶۔ فرحت نسیم علوی، ایضاً ، ص ۱۱۶
7. Adeeb Khalid, Politics of Muslim Cultural Reform: Jadidism in Central Asia, Oxford University Press, New York, 2000, P. 103 .
۸۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص ۴۴۹۔ ثروت صولت، ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ، جلد چہارم، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۰۳، ص ۳۸۹   
۱۰۔ آباد شاہ پوری، ایضاً ، ص   ۶۴
(Corutesy: Monthly Zindagi Nau January 2018)
http://www.zindgienau.com/Issues/2018/January2018/unicode_article8.asp


Thursday, 8 June 2017

روزے کے لیے متعین و مخصوص موسم نہ ہونے کے فوائد



روزے کے لیے متعین و مخصوص موسم نہ ہونے کے فوائد
ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم (پیرس)

یہودی، عیسائی اور ہندو یا تو خالص شمسی حساب کرتے ہیں یا قمری سال میں وقت بہ وقت کبیسہ (Intercalation) کر کے ایک مہینہ کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ قمری سال کی مدت بھی اتنی ہی طویل ہوا کرے جتنی شمسی سال کی ہے اس لحاظ سے ان کے روزے ہمیشہ ایک ہی موسم میں آتے ہیں ۔ مسلمان قمری حساب کا حساب کرتے ہیں ان کی جنتری چاند کے مہینوں کے لحاظ سے ہوتی ہے جس میں کبیسہ(Intercalation) نہیں کیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے کا مہینہ رمضان بتدریج باری باری سال کے ہر موسم میں آتا ہے ۔

قمری سال کے مہینوں سے حساب کرنا بہتر ہے یا شمسی سال کے مہینوں سے ؟ جس کرۂ ارض پر ہم بستے ہیں اس کا موسم ہر جگہ یکساں نہیں ہے لوگ ہر موسم کی شدت سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ خواہ گرمی کی شدت ہویا سردی کی۔ اس طرح کسی علاقہ کی گرمی اور سردی کے موسم محض اضافی امر ہیں ۔ مثلاً جاڑ ے کا موسم مکہ میں بڑ ا خوشگوار ہوتا ہے اور وہ قطبوں کے قریب (کناڈا، شمالی یورپ میں ) ایسا نہیں ہوتا۔ گرما قطب شمالی اور جنوبی کے قریب بہترین موسم ہے لیکن خط استواء کے پاس اور ریتلے صحرا میں ایسا نہیں ہے ۔ موسم بہار ہرجگہ ایک معتدل موسم ہو سکتا ہے ، لیکن خطِ استواء کے قریب بہت سے ملکوں میں (مثلاً جنوبی ہندوستان میں )موسم بہار ہوتاہی نہیں ، یہاں کے لوگ موسمِ بہار جانتے ہی نہیں ۔ اور ان ملکوں میں صرف تین موسم ہوتے ہیں ۔ سردی، گرمی اور بارش۔ ایک ایسے مذہب کیلئے جو تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے ، اگر ہم روزہ رکھنے کیلئے کوئی خاص زمانہ مقرر کر دیں تو بعض لوگوں کیلئے مدامی طور پر آسانی ہو گی اور بعض لوگوں کیلئے مدامی سختی اورتکلیف یا کسی اور طرح زمین کے بعض علاقوں کے باشندوں کیلئے سہولت بخش نہ ہو گا لیکن اگر روزہ رکھنے کے زمانے میں موسم باقاعدگی کے ساتھ بدلتے رہیں تو آسانی اور سختی باری باری سے آتے رہیں گے اور کوئی شخص روزہ کا قانون بنانے والے پر خفا نہ ہو گا۔ ا سکے علاوہ روزہ رکھنے کیلئے موسموں کی اس تبدیلی کا یہ مطلب بھی ہے کہ لوگ ہر قسم کے موسم میں روزہ رکھنے کے عادی ہوجائیں اور یہ عادت کاٹ کھانے والے جاڑ ے میں اور جھلسانے والے گرما میں کھانے اور پینے سے رک جانے کی یہ قابلیت ، مومن کو صبر کرنے کی قوت عطا کرتی ہے مثلاً جنگ کے محاصرہ کے وقت ، غذا اور غلہ کے تاجروں اور آب رسانی کے عملے کی ہڑ تال کے وقت جبکہ کھانا ، پانی مشکل سے ملتا ہے یا ملتا ہی نہیں ۔

(اقتباس: روزہ کیوں؟ از ڈاکٹر حمیداللہ)

امن کا مہینہ رمضان المبارک



امن کا مہینہ رمضان المبارک
محمد آصف اقبال

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر کام، اس کے لیے ہے، مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ اس دن فحش بات نہ کرے، شور نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی لڑے تو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزے دار کے منہ کی مہک اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب افطار کرتا ہے تو افطار پر خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے پر خوش ہوگا (الفتح الربانی: ترتیب مسند احمد)۔ حدیث نبوی ۖکی روشنی میں رمضان کے مہینہ کی فضیلت، روزہ کی اہمیت اور اس کے فوائد، اللہ سے قربت اور اس کے مخصوص حکم کی بجاآوری کے نتیجہ میں رب العالمین کی تجلی اور اس سے حاصل ہونے والی لا محدود خوشی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مسلمان کے لیے روزہ نہ صرف عبادت ہے بلکہ اس کی فلاح، ترقی اور ارتقا کا ذریعہ ہے۔ روزہ کے دوران اس کی شخصیت خود اس کے لیے اور عالم انسانیت کے لیے امن و امان کا ذریعہ بنتی ہے وہیں اس میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ امن و امان کے قیام کے بغیر انسان کا ارتقا رک جاتا ہے، وہ ترقی نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اللہ کا قرب حاصل کر پاتا ہے۔ حدیث میں یہ بات بہت صراحت کے ساتھ کہی گئی ہے کہ جب تم روزہ کی حالت میں ہو اور کوئی تم سے بد کلامی کے ساتھ پیش آئے یا لڑائی کرے تو اس سے کہہ دیا جائے کہ میں روزہ سے ہوں۔ روزہ سے ہوں یعنی اس حالت میں نہیں ہوں کہ تم سے تمہارے اس غلط رویہ کا غلط انداز سے جائز بدلہ لوں بلکہ بہتر یہ ہے کہ تم روزہ جیسی مخصوص عبادت میں خلل نہ ڈالو۔ میرا تعلق اس وقت راست اللہ سے منسلک ہے اور میں دوران ِعبادت اس تعلق کو منقطع نہیں کرنا چاہتا۔ روزہ دن بھر کی عبادت: ہم جانتے ہیں کہ جب بندہ نماز میں اللہ کے سامنے ظاہری و باطنی طور پر تعلق استوار کر لیتا ہے تو دورانِ نماز وہ لوگوں سے بات چیت نہیں کرتا، اللہ کی جانب رخ کرنے کے بعد اِدھر ادھر نہیں دیکھتا، اگر کوئی بدکلامی کرنے یا لڑنے جھگڑنے پر آجائے تو بحالت نماز اس سے پرہیز کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح روزہ کی حالت میں بھی بندہ عبادت میں ہوتا ہے، اللہ سے اس کا تعلق استوار ہو چکا ہوتا ہے، لہذا روزہ کی حالت میں وہ لڑائی جھگڑے، بدکلامی وغیرہ سے پرہیز کرتا ہے اور اپنی عبادت میں خلل ڈالنے والوں سے نرمی اختیار کرتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ میں روزہ سے ہوں یا میں روزہ دار ہوں۔ سلامتی ہو تم پر اور اللہ تعالی تم کو ہدایت عطا فرمائے۔ اگر ایک مرتبہ ایسا کرنے پر وہ اپنے رویہ سے گریز نہیں کرتا تو اس کو دوبارہ متوجہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روزے کے ڈھال ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روزہ نفسانی شہوت سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ روزہ کا مقصد صرف کھانا پینا ترک کر دینا نہیں، بلکہ دوسرے گناہوں اور اخلاقی خرابیوں سے بھی بچانا ہے۔ حدیث میں روزے کے ڈھال ہونے کا بیان ہے اور کہا گیا کہ جب تم روزے سے ہو تو فحش بات نہ کرو اور شور و شغب نہ کرو۔ پھر جب تم کو پرہیز کرنے کی عادت ہو جائے گی تو یہی تمہاری ڈھال ہوگی جو تمہاری حفاظت کرے گی ہر اس برائی سے جس سے اللہ اور اس کا رسول منع کرتے ہیں۔
 
رمضان کے عشروں کی حقیقت: رمضان کے مہینہ کو اللہ رب العزت نے تین عشروں میں تقسیم کیا ہے۔ اور ہر عشرہ (دس دن)کی خاص فضیلت رکھی ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا عذاب جہنم سے نجات کا ہے۔ پہلے عشرہ کی ابتدا ہی سے اللہ رب العالمین کی بے انتہا رحمتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جس کا ظاہری مشاہدہ اس طرح ہوتا ہے کہ امت مسلمہ سے تعلق رکھنے والا ہر عام و خاص بندہ اللہ کی عبادت میں ہمہ تن مصروف ہو جاتا ہے۔ اس کو اس مشینی دور میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور انسان مادی ترقی کے لیے جنونی حد تک سرگرم عمل ہے، اللہ تعالی اس کو توفیق بخشتا ہے کہ وہ اس بھنور سے نکل کر نیکی کے موسمِ بہار میں عبادت کی جانب راغب ہو، نیکی کے کام انجام دے، روزے داروں کا روزہ کھلوائے، برائیوں اور معصیت کے کاموں سے پرہیز کرے، غریبوں، مسکینوں، حاجتمندوںکی مدد کرے، بے انتہا فیاضی کا مظاہرہ کرے اور اللہ تعالی کی رحمتیں سمیٹتا چلا جائے۔ اس طرح جب وہ ان کاموں میں مصروف ہو جائے گا اور اللہ کی عبادت کو شعوری طور پر انجام دینے والا بن جائے گا تو نہ صرف رحمت بلکہ اس کی مغفرت بھی کی جائے گی۔ صراط مستقیم پر خود چلنے اور معاشرہ میں لوگوں کو تعاون کرنے کے نتیجہ میں جو معاشرہ وجود پذیر ہوتا ہے اس کا لازمی تقاضہ ہے کہ ایسے افراد کو جہنم سے بچا لیا جائے۔ مزید اس آخری عشرہ میں شب قدر کی تلاش، اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی، آئندہ اپنی زندگی کو اللہ کے بتائے طریقہ پر استوار کرنے کا عہد، قرآنِ حکیم کا مطالعہ، یہ سب مل کر اس کے لیے نجات کا سامان بہم پہنچانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالی رمضان المبارک کے مہینہ کے اختتام پر اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ تقوی کیا ہے؟ زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے، دونوں طرف افراط و تفریط، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات، گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خار دار جھاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعتِ حق کی راہ سے ہٹ کر بد اندیشی و بد کرداری کی جھاڑیوں میں نہ الجھنا، یہی تقوی ہے اور اس ہی کے لیے اللہ تعالی نے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ ایک مقوی دوا ہے جس کے اندر خدا ترسی و راست روی کو قوت بخشنے کی خاصیت ہے۔ مگر فی الواقع اس سے یہ قوت حاصل کرنا انسان کی اپنی استعداد پر موقوف ہے۔ اگر آدمی روزے کے مقصد کو سمجھے اور جو قوت روزہ دیتا ہے اس کو لینے کے لیے تیار ہو اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوف خدا اور اطاعتِ امر کی صفت کو نشو و نما دینے کی کوشش کرے تو یہ چیز اس میں اتنا تقوی پیدا کر سکتی ہے کہ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سال کے باقی گیارہ مہینوں میں وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پر دونوں طرف کی خار دار جھاڑیوں سے اپنے دامن کو بچائے ہوئے چل سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے روزے کے نتائج (ثواب)اور منافع (اجر)کی کوئی حد نہیں۔ لیکن اگر وہ اصل مقصد سے غافل ہو کر محض روزہ نہ توڑنے ہی کو روزہ رکھنا سمجھے اور تقوی کی صفت حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہ کرے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے نامہ اعمال میں بھوک پیاس اور رتجگے کے سوا اور کچھ نہیں پا سکتا۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے، ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ مستثنی ہے، وہ میری مرضی پر موقوف ہے، جتنا چاہوں اس کا بدلہ دوں (متفق علیہ)۔

 عبادات کی حکمت: اسلام میں جو اعمال اور عبادات فرض یا واجب کی گئی ہیں ان میں حکمت پوشیدہ ہے۔ دراصل اللہ تعالی نے بندوں پر خصوصی مہربانی کرتے ہوئے ان کے لیے وہی اصول و ضوابط مقرر فرمائے ہیں جو بندے کی کامیابی اور سعادت دارین کا موجب ہیں۔ اللہ تعالی کے دربار میں مقبول عبادت کا سب سے اہم اور بنیادی قاعدہ خلوصِ نیت اور حضور قلبی ہے۔ اگر عبادت کا بنیادی محرک رضائے الہی نہ ہو تو اس عبادت کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ثواب بلکہ حدیث نبوی ۖکے مطابق: کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔ دوسری اہم بات یہ کہ اسلام عبادت گزاروں کو مشقت میں نہیں ڈالتا بلکہ عبادات میں آسان شرائط کے ساتھ رخصت بھی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بیمار ہے تو اسے روزہ نہ رکھنے کی آزادی ہے، کہ تندرستی کے بعد رکھے یا اگر تندرستی کی امید نہیں ہے تو فدیہ ادا کرے (یہ بھی یاد رہے کہ بلا عذر عبادات سے محرومی ابدی محرومی ہے)۔ آخری بات یہ کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان تمام عبادات کے گہرے اثرات مرتب ہونے چاہیں۔ یہ فرائض محض عبادت برائے عبادت نہیں، بلکہ اخروی فلاح کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی پر ان کے اثرات و فوائد بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اسلام نے کوئی ایسا عمل فرض نہیں کیا جس کے نتائج انسان کی عملی زندگی میں ظاہر نہ ہوں۔ شریعت نے اگر کسی چیز کا حکم دیا ہے تو وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے اور بندوں کی زندگی پر اس کا براہ راست مثبت اثر ہوتا ہے، اور اگر کسی عمل سے منع کیا ہے تو اس لیے کہ وہ انسانی زندگی کے لیے ضرر رساںہے۔ ارشاد ربانی ہے: (پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے)جو اس پیغمبر، نبی امی ۖ کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور بندشیں کھولتا ہے، جن میں جکڑے ہوئے تھے (اعراف:)۔

 رمضان کا پیغام: معلوم ہوا کہ یہ مہینہ ہدایت حاصل کرنے اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونے کا ہے۔ اس ماہ مبارک میں معاشرہ میں ایک ایسی فضا قائم ہو جاتی ہے جس میں ہر طرف بندے سکون و عافیت اور محبت و ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بدکلامی سے گریز کرتے ہیں، آپس میں ملتے جلتے اور روزہ داروں کے افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کی نہ صرف تلاوت کرتے ہیں بلکہ اس کا شعوری طور پر مطالع کرتے ہیں۔ قرآنی احکامات کو اپنی زندگی میں رائج کرتے ہیں اور تقوی کی صفت سے ہمکنار ہونے کی مکمل سعی و جہد کرتے ہیں۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں لے آتے ہیں جو اسلامی معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ برادرانِ وطن کے لیے بھی یہ پیغام پیش کرتا ہے کہ اگر اسلام کے مطابق زندگی کو ڈھال لیا جائے تو یہ سکون و عافیت کی فضا جو چہار جانب محسوس کی جارہی ہے وہ آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہ سکتی ہے بشرطیکہ جس طرح رمضان میں شب و روز گزارے ہیں اسی طرح سال کے گیارہ مہینوں میں بھی ان پر عمل کیا جاتا رہے۔

سحری اور افطار کا مسنون وقت



سحری اور افطار کا مسنون وقت
از:   محمد اسلم غازی

                وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِص ثُمَّ اَتِمُّواالصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ج ..... (البقرہ : 187)  ترجمہ: اور راتوں کو کھائو پیو یہاں تک کہ تم کو رات کی سیاہ دھاری سے صبح کی سفید دھاری نمایاں نظر آجائے۔ پھر رات ہونے تک اپنا روزہ پورا کرو۔
                روزہ انسان میں صبر اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ صبر کا مفہوم ثابت قدمی ہے۔ یعنی روزہ اللہ کی اطاعت میں ثابت قدمی پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ کا مفہوم اللہ کا ڈر ہے یعنی روزہ اللہ کا ڈر پیدا کرتا ہے۔ روزہ صبح صادق کے وقت سحری کرنے سے شروع اور غروب آفتاب کے و قت افطار پر ختم ہوتا ہے۔ سحری اور افطار کے آداب ملحوظ رکھنا روزہ دار کے لیے ضروری ہے۔ فی زمانہ سحری اور افطار کے بہت سے آداب کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن ختم سحری اور افطار کے اوقات  میں بڑی شدت برتی جاتی ہے۔ اس مضمون کے ذریعے سحری اور افطار کے مسنون اوقات کی نشان دہی اور ان میں برتی جانے والی شدت کا ازالہ مقصود ہے۔
 
                اوقات سحری و افطار کے خوشنما و دیدہ زیب رنگین کارڈ رمضان المبارک کی آمد سے ہفتہ بھر قبل سے ہی مساجد کے باہر تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ ہر چھوٹا بڑا انتہائی شوق سے یہ کارڈ حاصل کرتا ہے تاکہ رمضان میں اُسے اوقات سحری و افطار کی معلومات بسہولت ملتی رہے۔ ان کارڈوں پر احتیاطاً سحری کا وقت صبح صادق کے آغاز سے 10منٹ قبل اور افطار کا وقت غروب آفتاب سے 5منٹ بعد درج کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر صبح صادق  04:55 پر ہے تو ختم سحری 04:45 درج ہوگا اور غروب آفتاب 07:13پر ہے تو وقت افطار 07:18 درج ہوگا۔ محلے کی مساجد میں صبح صادق ہونے سے نصف گھنٹہ قبل سے ہی لائوڈ اسپیکر پر اعلان شروع کردیے جاتے ہیں کہ سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ بعض جگہ تو صبح صادق سے دس منٹ قبل ہی ختم سحری کا اعلان بذریعہ اذان کیا جاتا ہے جو جہالت اور دین سے عدم واقفیت کا ثبوت ہے کیونکہ صبح صادق سے قبل اذان فجر دینا غلط ہے۔ اس اذان کو سن کر کوئی نماز فجر پڑھ لے تو وہ ادا ہی نہیں ہوگی۔ صبح صادق ہونے کے بعد ہی نماز فجرپڑھی جانی چا ہیے۔ ختم سحری سے قبل مساجد کے لائوڈ اسپیکروں سے بار بار تیز آواز میں توجہ دہانی کرانا مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اس سے بچنا چاہیے کیونکہ دیگر خلق خدا کو خواہ مخواہ پریشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح اکثر مساجد میں مؤذن حضرات مغرب کی اذان کارڈ پر مطبوعہ وقت سے بھی دو تین منٹ بعد دیتے ہیں۔ گویا اصل غروب آفتاب کے 78منٹ بعد افطار کیا جاتا ہے جوغلط ہے۔
 
                قرآن کے مطابق رات کی سیاہ دھاری سے صبح کی سفید دھاری نمایاں نظر آنے کو صبح صادق کہا جاتا ہے۔ آسمان میں صبح صادق کے آثار اچانک نہیں بلکہ دھیرے دھیرے نمودار ہوتے ہیں جس میں چند منٹ لگتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ ''صبح کی سفید دھاری نمایاں ہونا'' اس پر دلالت کرتے ہیں کہ سحری بلا جھجک صبح صادق تک کھائی جاسکتی ہے۔ حضورﷺ اور صحابہ کا طرز عمل بھی یہی تھا جس کے ثبوت میں چند احادیث پیش کی جارہی ہیں  :
(1)         حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ''جب تم میں سے کوئی اذان کی آواز سنے اور اس وقت برتن بھی اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس برتن کو اپنے ہاتھ سے نہ رکھے جب تک کہ اپنی حاجت اس سے پوری نہ کرلے۔'' (ابودائود۔ حوالہ تفہیم الاحادیث۔ جلد4صفحہ 82(
(2)         رسول اللہﷺ نے فرمایا ''کھائو پیو، بلند ہونے اور اوپر اٹھنے والی دھاری تمہیں پریشان و مضطرب نہ کرے۔ جب تک سرخ پھیلی ہوئی دھاری نمودار نہ ہو اس وقت تک کھائو پیو۔'' (ابودائود، ترمذی، حوالہ: ایضاً صفحہ 84 ،97(
                اہل علم حضرات کا تعامل یہی ہے کہ روزہ دار پر اس وقت تک کھانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ سرخ دھاری افق پر نہ پھیل جائے(حوالہ: ایضاًصفحہ84)
                امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق سحری تاخیر سے کھانے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ (حوالہ: ایضاً صفحہ84)

 اسی طرح افطار میں عجلت کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ دلیل کے طور پر چند حدیثیں پیش ہیں:
(1)         حضرت سہل سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔'' (متفق علیہ، حوالہ ایضاً صفحہ75)
(2)         حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سے سب سے زیادہ پسند وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں۔'' (ترمذی۔ حوالہ ایضاً صفحہ84)
(3)         حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔'' (ابودائود، ابن ماجہ۔ حوالہ ایضاً صفحہ89)

سحری میں تاخیر اور افطار میں عجلت پسندیدہ عمل اس لیے قرار دیے گئے ہیں کہ مسلمان اللہ کے حکم کی اطاعت ٹھیک اسی طرح کرتا ہے جس طرح ایک فوجی اپنے کمانڈر کے Caution کاشن پر فوراً عمل کرتا، اُس کے حکم کی تعمیل میں ثابت قدمی دکھاتا اور اس کی حکم عدولی سے ڈرتا ہے۔ اگر فوجی کمانڈر کے بتائے ہوئے وقت سے پہلے ہی کام بند کردے یا حکم ملنے کے سات آٹھ منٹ بعد اس پر عمل کرے تو کیا ایسا فوجی کمانڈر کے عتاب سے بچ سکتا ہے؟ ایک فوجی کی طرح مسلمان بھی یہ نہیں کرسکتا کہ اللہ نے تو فرمایا کہ صبح صادق تک اور غروب آفتاب کے فوراً بعد کھائو پیو مگر وہ صبح صادق نمایاں ہونے سے پندرہ منٹ پہلے اور غروب آفتاب کے 8منٹ بعد تک کھانے پینے سے رکے رہنے کو زیادہ محتاط اور قرین حکمت و مصلحت سمجھے۔ نعوذباللہ کیا یہ خدا سے زیادہ حکیم بننا نہیں ہے؟ کیا یہ خدا کی حکم عدولی اور اس سے بے خوفی نہیں ہے؟

                سائنس کی مدد سے انسان کو صبح صادق، طلوع اور غروب آفتاب کے اوقات ٹھیک ٹھیک معلوم ہوگئے ہیں جن میں سیکنڈ بھر کی غلطی کا امکان بھی نہیں ہے۔ یہ دراصل سائنس کا نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے جس نے اپنی کائنات میں سورج، چاند اور ستاروں کی گردش کا ایک انتہائی چست نظام ترتیب دے رکھا ہے۔ اللہ نے اپنے فضل سے اس کا علم انسانوں کو عطا کردیا ہے لیکن بعض لوگ خدا کے اس نظام پر بھروسہ نہیں کرتے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو عذر پیش کرتے ہیں کہ گھڑیاں درست نہیں ہوتیں اس لیے افطار میں تاخیر کرنا چاہیے۔ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے کہ تمام مسلمانوں کی گھڑیاں غلط وقت بتاتی ہیں۔ تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ دنیا کے کام کرنے کے لیے تو لوگ اپنی گھڑیاں درست اور صحیح وقت پر کرتے ہیں لیکن دینی حکم پر عمل کرنے کے لیے بجائے گھڑی ٹھیک کرنے کے افطار کے وقت میں ہی من مانی تاخیر کی جارہی ہے۔ اگر کسی کو اپنی گھڑی کے بارے میں شک ہو کہ آگے یا پیچھے ہے تو اُسے دوسروں سے صحیح وقت معلوم کرکے ٹھیک وقت پر افطار کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کا یہ رویہ قطعاً درست نہیں ہے کہ غروب کا وقت یقینی طور پر معلوم ہے اور اکثر مسلمانوں کی گھڑیاں بھی صحیح وقت بتا رہی ہیں اس کے باوجود وقت غروب کے 78 منٹ بعد افطار کریں۔ البتہ کوئی مسلمان ایسی جگہ رہتا ہو جہاں وقت طلوع و غروب کا تعین ممکن نہ ہو، نہ اُس کے پاس کوئی ٹائم ٹیبل ہو، نہ گھڑی ہو تو وہ آسمان کے آثار یعنی روشنی اور سیاہی کو اپنا رہنما بنا کر سحری اور افطار کرے۔