Search This Blog

Thursday 16 August 2012

BE RAH RAWI KA FAROGH

بے راہ روی کا فروغ
تدارک ناگزیر


یومیہ اخبارات پر نظر ڈالیے خواہ وہ ملکی سطح کے ہوں یا ریاستی سطح کے ،ہر جگہ بین المذاہب شادیوں کے سلسلے میں کہیں نہ کہیں لے دے مچی رہتی ہے ،کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا پیش آہی جاتا ہے جہاں فرقہ پرست تنظیموں کو منہ کھولنے اور معاشرے میں زہر گھولنے کا گھناؤنا موقع مل جاتاہے ،بین المذاہب شادیوں کی دوصورتیں ہیں ،ایک تو یہ کہ طرفین کا مذہب الگ ہو اور دوسرے یہ کہ ایک فریق پہلے سے مسلمان ہو اور دوسرے نے اسلام قبول کرنے کے بعد فریقِ اول سے نکاح کیا ہو ،پہلی صورت کھلے طور پر بین المذاہب شادی کی صورت ہے ،لیکن دوسری صورت کو حقیقی طور پر بین المذاہب شادی کا عنوان نہیں دیا جاسکتا ۔
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیے تو پتہ چلے گا کہ ،اسلام زندگی کے ہر شعبے میں دین کو غالب دیکھنا چاہتا ہے ،یہ وہ بنیادی وصفِ امتیاز ہے جس نے اسلام کو باقی ادیان سے مختلف بنادیا ہے ،زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو ،خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے یا معاشرت سے ،اسلام کو یہ گوارہ نہیں ہے کہ ،اس کا حلقہ بہ گوش کتاب وسنت کے ذریعے متعین کردہ راستے سے ہٹ کر چلیں ،بعض معاملات کا تعلق خالص دنیا داری سے ہے ،جیسے خرید وفروخت لیکن اس میں بھی اسلام نے اپنے متبعین کیلئے حلال وحرام اور دیانت وامانت کے پیش قیمت تصورات کے ساتھ ایک لائحۂ عمل پیش کیا ہے ،یہی حال نکاح کا بھی ہے ،اس کا مقصد گرچہ نسلِ انسانی کی بقاء اور فطری خواہشات کی تکمیل کو قراردیا جاتا ہے ،لیکن اس باب میں بھی اسلام نے اپنے متبعین کے لئے کچھ رہنما خطوط متعین کئے ہیں ،جن پر عمل کرکے زوجین اپنی ازدواجی زندگی کو خوش گوار بھی بنا سکتے ہیں اور پائیدار بھی ،اس کے لئے ضروری ہے کہ زوجین کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پائی جائے ،دین سلامت پسند طبائع کی اولین ضرورت ہے ،اگر اس میں ہم آہنگی کے بجائے اختلاف تو اس ضرورت کی تکمیل نہیں ہوسکتی ۔
آج کل ماڈرن طبقے میں اس طرح کی شادیوں کا رواج بڑھتا جارہا ہے ،بہت سے مشہور ومعروف سیاسی لیڈران ،چاہے وہ ملکی سطح کے ہوں یا عالمی سطح کے ،ادیب شاعر اور فلمی اداکار مسلمان ہونے کے باوجود غیر مسلموں کے ساتھ ازدواجی زندگی گزاررہے ہیں اور وہ اپنے اس عمل کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا جذبۂ خیر سگالی پر محمول کر تے ہیں یہ ان کی بڑی غلط فہمی اور قرآن وحدیث سے نابلد ہونے کی دلیل ہے ،ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ نکاح کر ہی نہیں سکتے ،کیوں کہ ایسا نکاح اسلام کی شرط مفقود ہونے کی وجہ سے منعقد ہی نہیں ہوگا اور غیر مسلم جیسے ساتھی کے ساتھ ان کی زندگی زنا جیسے بدترین گناہ کے سائے میں بسر ہوگی ۔
 موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو کچھ یوں نظر آئے گا کہ ،مخلوط تعلیم ،مخلوط کلچر ،لڑکوں اور لڑکیوں کے آزادانہ میل جول کے اثرات سوسائٹی پر مرتب ہونے لگے ہیں ،بہت نوجوان لڑکے لڑکیاں اس کلچر میں اس قدر آگے تک جاچکی ہیں کہ انھیں جسمانی تعلقات قائم کرنے میں کوئی کوئی عار محسوس نہیں ہوتا ،ان کیلئے اس طرح کے تعلقات کیلئے محفوظ پناہ گاہیں اور کھلی فضائیں موجود ہیں ،جن میں کسی طرح کی کوئی قانونی یا سماجی رکاوٹ نہیں ہے ،جو نوجوان قانونی یا سماجی رکاوٹ محسوس کرتے ہیں وہ گھر سے فرار ہو جاتے ہیں ،اگر دونوں بالغ ہوں تو قانون بھی انھیں تحفظ فراہم کرتا ہے ،یہ صورت حال ہندو اور مسلمان سبھی کے یہاں بکثرت پیش آرہی ہے ،اس رجحان پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں اخلاقی قدروں کو فروغ دیا جائے ،اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہمارا معاشرہ بھی مغربی معاشرہ کی طر ح تباہ ہوجائے گا ،جہاں بے حیائی عام ہے ،رضا مندی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے میں کو ئی قباحت نہیں ہے ،طلاق کی شرح ناقابلِ یقین حدتک بڑھ چکی ہے ،ناجائز تعلقات کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہورہے ہیں ان کی تعداد روز افزوں ہے ،یومیہ جنسی جرائم کا گراف بڑھتا ہی جارہا ہے،ایڈز جیسے امراض مغربی معاشرے کی شناخت بن چکے ہیں ،مغرب کی یہ بے راہ روی پہلے دبے پاؤں مشرق کی طرف بڑھ رہی تھی اب علی الاعلان مشرق کی سرحدوں پر دستک دے رہی ہے ،مذہبی پیشواؤں ،سماجی کارکنوں ،سیاسی لیڈروں اور تعلیمی امور کے ماہروں کو بلا تفریق مذہب وملت اس سلسلے میں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
  عشق کے چکر میں پڑ کر کچھ نوجوان مذہب بھی تبدیل کر بیٹھے ہیں ،قادیانیت اور عیسائیت کی مشینریاں ،نوکری ،چھوکری اور کھوٹی کا لالچ دے کر یومیہ اپنی ناپاک سازشوں میں کامیاب ہورہی ہیں ،ایسے باطل فرقوں کے خلاف ہماری کانفرسیں ،محض نشستند ،گفتند اور برخاستند کی روایت پر عمل پیرا ہیں ،تعلیمی ادارے ،حکومتی دفاتر ،بازار ،تفریح گاہیں ، پارکیں اور سیاحتی مقامات کوئی بھی اس وباء سے محفوظ نہیں ہے ،فحاشیت اور عریانیت کی اس دلدل میں ہمارا ریاستی مسلمان بھی آرہا ہے ،اپنی سادہ لوحی اور دین سے ناآشنائی کی بناء پر وہ بھی مغربی تہذیب کی لذت سے اپنے آپ کو فرحت دلانے میں مگن ہے ،اصلاحِ معاشرہ کے نام پر ہماری بیٹھکیں لاحاصل ہوتی جارہی ہیں ،کوئی  ایسی منظم ،علمائِ کرام ،اسلامی اسکالرز ،خواندہ معززین کی نمائندہ جماعت الاماشاء اللہ نظر نہیں آتی جو ان فتنوں کی سرکوبی کیلئے میدانِ عمل میں سرگرم ہو ،ہمارا نوجوان طبقہ جو ہمارے مستقبل کا اثاثہ ہے ،اس کی فکر اور تعلیم کی ہم سب کو فکر کرنے کی ضرورت ہے ،حیاء ،پاک دامنی اور پاکیزگی کے بارے ایسا خوشگوار ماحول بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمار ا ہر دن ،یومِ حیا ہو ،ہمیں حیا کے اصول وضوابط بتانے کے لیے کسی حیا ڈے منانے کی ضرورت نہ پڑے ۔
اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں کو حضرت عائشہ وفاطمہ ؓ جیسی پاکیزہ خواتین کی طرح دین کا چشمہ ومنبع بنائیں ،اپنی اولاد کو عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کے شناور بنائیں ،دین سے دوری کی بناء پر ہی آج ہم اس قدر قعرِ مذلت میں جاچکے ہیں کہ ہر باپ اپنی اولاد کے کریکٹر کو لے کر پریشان ہے ،عصری علوم کو بھی اس نیت سے سیکھیں کہ اس کے ذریعے سے ہم آگے چل کر دین کی خدمت کریں گے ۔یہ وہ باتیں ہیں جن کیلئے ہمیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ ایسا پاکیزہ معاشرہ بن جائے کہ ہر جگہ سنت رسول پر مر مٹنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کر نے کا شوق پروان چڑھے ۔اسلئے کہ کسی عورت کے پیچھے چلے جانے کے بجائے کسی شیر کے پیچھے چلے جانا بہتر ہے ،اس لیے کہ شیر پلٹ آئے تو جان چلی جائے گی اور عورت پلٹ آئی تو ایمان چلا جائے گا ۔جان وہی مزے میں ہے جس میں ایمان ہے۔جسے مالک اپنی بارگاہ میں قبول کرلے ۔  

Courtesy: Kashmir Uzma

No comments:

Post a Comment