Search This Blog

Saturday 11 August 2012

FANI DUNIYA MEIN LAFANI KAUN?

فانی دنیا میں لافانی کون؟

متفرق 
-انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ یہ سوال سنتے ہی ہر طرف سے طرح طرح کے جوابات آنا شروع ہوگئے۔ سیمینار ہال میں چند طلبہ ایک دوسرے سے دوستانہ ماحول میں محوِ گفتگو تھے۔ میں بھی ہال کے ایک کونے میں خاموشی سے یہ سب سن رہا تھا۔ نوجوان نے بہت گہرا اور قیمتی سوال پوچھا تھا اور طرح طرح کے جوابات آنا شروع ہوگئے۔ کوئی ’’تعلیم‘‘ کہہ رہا تھا تو کوئی ’’غربت‘‘ … کسی کا جواب ’’معاشرتی محرومی‘‘ تھا، تو کسی کا ’’نظام عدل‘‘۔ جب سب باری باری اپنا ویو پوائنٹ بتاچکے تو ایک نوجوان جو اس ماحول میں کافی دیر سے خاموش تھا، گویا ہوا: ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تمام عمر اپنے پیدا ہونے کے عمل اور اپنے ابتدائی ایام پر غور نہیں کرتے اور یہیں سے ہمارے تمام مسائل کا آغاز ہوجاتا ہے۔‘‘ نوجوان نے بات سولہ آنے درست کہی تھی مگر شاید اکثر طلبہ سمجھ نہیں پائے، اور شاید اسی وجہ سے اس نوجوان کے خیال پر کسی نے بھی بحث نہ کی۔ مگر میرے خیال میں اس نوجوان نے زندگی کے مسائل کی جڑ کو کھود نکالا تھا، وہ جڑ کہ جس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے تمام مسائل عود کر آتے ہیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ عجب بات لکھ دی ہے، مگر بات ہے ذرا غور طلب۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو جانور کے بچے سے بھی کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنا پھرنا، بھاگنا دوڑنا اور اپنی خوراک دودھ خود حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں، مگر انسان کا بچہ کوئی بھی کام، حتیٰ کہ کروٹ تک خود نہیں بدل پاتا۔ عروج و زوال کی داستان کے عین مطابق یہ بچے کے زوال کا وقت ہوتا ہے۔ پھر ہر زوال کو عروج اور ہر عروج کو زوال کے اصول کے تحت بچے کے جسم میں طاقت آنا شروع ہوتی ہے۔ پہلے انگلی پکڑکر چلنا سیکھتا ہے، پھر بھاگنا دوڑنا… اور ایک دن جوانی آن پہنچتی ہے… مکمل عروج، بھرپور جوانی… وہی کمزور و لاچار انسان اب طرح طرح کے گل کھلانے لگتا ہے یہ سوچے بغیر کہ جوانی چار دن کی بہار ہے۔ بہار گزر جاتی ہے، عروج کو زوال آجاتا ہے اور پھر سے انسان چلنے پھرنے ہر چیز سے لاچار ہوجاتا ہے۔ یونہی نہیں کہا جاتا کہ بچہ اور بوڑھا برابر ہوتے ہیں۔ نہ صرف عادات میں بلکہ زندگی کی مجبوریوں میں، کہ دونوں ہی دوسروں کی مدد کے منتظر رہتے ہیں، اور پھر ایک دن چند قطروں سے وجود پانے والے کا وجود مٹی کے ذروں میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ یہ ہے اس فانی انسان اور فانی زندگی کی کہانی۔ یہ ہے زوال سے عروج اور پھر عروج سے زوال کی طرف لوٹ جانے کی داستان۔ قدرت کا یہ قانون اٹل ہے۔ اور بھلے کوئی امیر ہے یا غریب، گیلانی ہے یا میراثی‘ لغاری ہے یا بھکاری، شاہ ہے یا گدا، زرداری ہے یا پکھی واس… ہر ایک پر اس قانون اور اصول کا یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ عروج و زوال کا یہ کھیل چلتا رہتا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز انسان کی زندگی میں لازوال رہ جاتی ہے تو وہ ہیں اس کے نیک کارنامے۔ فقط نیکی اور بھلائی کے ہر شے کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ عام آدمی نے جو نیکیاں اور بھلائیاں کی ہوتی ہیں وہ بھی یاد رکھی جاتی ہیں اور حکمرانوں نے بھی فلاح کے جو اقدامات کیے ہوتے ہیں وہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کو یاد کرنے والوں کا حلقہ احباب مختصر ہوتا ہے اور حکمرانوں کے کارناموں کو یاد کرنے کا حلقہ احباب وسیع ہوتا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں، قائداعظم اور علامہ اقبال کے سوا اکثر نام لوگوں کے ذہنوں سے معدوم ہوچکے ہیں۔ چند نام زبردستی عوام کو یاد رکھوانے کی کوشش ہورہی ہے، وہ بھی محض ایک کوشش ہے کہ جس دن کوشش کرنے والے ختم اُس دن نام بھی ختم۔ اگر فلاح عامہ کے کام کیے ہوں تو کرائے کے نوجوان بلاکر سفید گھوڑوں کے رقص کی اپنے آبائی شہر واپسی پر قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔ کارنامے اور اقدامات کے گھوڑے اور ان کا رقص ہی آپ کی پہچان اور ہر جگہ استقبال بن جاتا ہے۔
تاریخ صرف اُن لوگوں کی تعریف میں رطب اللسان رہی ہے جنہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی اقدامات کیے۔ تاریخ صرف ان قبروں پر پھول نچھاور کرتی چلی آئی ہے کہ جن میں انسانیت کے محب سوئے ہوئے ہیں۔ قدرت کے پاس یہ دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے، آپ کی کار کس قدر چمکدار ہے یا آپ کا گھر کس نے ڈیزائن کیا۔ آپ کے کپڑے، تھری پیس سوٹ کس ملک کا کون سا درزی سیتا رہا۔ آپ کے پاس کس ملک کا موبائل سیٹ ہے، آپ کی مرغوب غذا کون سی ہے۔ اس سب سے قطع نظر ہماری قبریں ایک سی ہوںگی چاہے ہمارے گھروں، ہمارے محلات کا جو بھی سائز رہا ہو۔ ہر کوئی یہاں مسافر ہے، سب کو چلے جانا ہے… یاد صرف اسی کو رکھا جائے گا، تاریخ کے اوراق پر اسی کا نام روشن رہے گا جو انسانیت کی خدمت کی تاریخ رقم کرے گا۔ اور رہا ہماراملک اور ہمارے حکمران
… و ان پر تو یہ صادق آتا ہے:
عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریبِ شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیرِ شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

No comments:

Post a Comment