Search This Blog

Friday 10 August 2012

FITRANA

فطرانہ
قبولیت ِروزہ کا نذرانہ

عید الفطر کی دوگانہ نماز اداکرنے سے پہلے اس دن کی سب سے اہم بات صدقہ فطر اداکرناہے۔یہ صدقہ ہر اس مسلمان پر ضروری ہے جو روزہ کی معمولی ضرورتوں کے علاوہ زکوٰۃ کے نصاب کا کم سے کم ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی رقم کا مالک ہو ،اس پر سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو۔یہ صدقہ فطر اپنے اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے بھی دینا واجب ہے ، بیوی اور جوان اولاد کواپنا صدقہ خوددینا چاہئے عید کی صبح ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتاہے۔ عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر دے دینا چاہئے۔کسی وجہ سے نہ دیا گیا تو نماز کے فوراً بعدد ے دے۔ صدقہ فطر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جس سال رمضان کے روزے فرض ہوئے اسی سال صدقہ فطر بھی واجب ہوا۔ صدقہ فطر دینے کے کئی فائدے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس سے غرباء ،مساکین اور ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ بیان کیا جاتاہے کہ روزے رکھنے میں جوخامیاں رہ جاتی ہیں ان کی تلافی کے لئے صدقہ فطر واجب ہوا، صدقہ فطر ادا کرنے سے روزہ قبول ہوتاہے ، مقصد میں کامیابی اور موت کے سکرات سے نجات ملتی ہے اور قبر کے عذاب سے خلاصی ملتی ہے۔
صدقہ فطر کے مصارف وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں یعنی جن لوگوں کو زکوٰۃ دینی جائز ہے ،انہیں صدقہ فطر دیا جائے گا ، جنہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں انہیں صدقہ فطر نہیں دیا جائے گا۔ زکوٰۃ کے مصارف کی بابت قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’زکوٰۃ جو ہے سو وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر جانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور راہ کے مسافر کو ‘‘۔
’’عیدالفطر‘‘ اُمت مسلمہ کے لئے انتہائی پرمسرت وبابرکت موقع ہے۔ اس دن اللہ رب العزت کی جانب سے بے شمار رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بندو ں کو بہتر انعام اوربدلہ عطافرمایا جاتاہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتاہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں ، وہ زمین پر اُتر کر گلیوں اور راستوں کے نکڑوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جن کو جنات اور انسان کے علاوہ سب مخلوقات سنتی ہیں ، پکارتے ہیں کہ اے محمدؐ کی اُمت اس رب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو ، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والاہے او ربڑے بڑے قصوروں کو معاف کرنے والاہے ، جب لوگ عید گاہ کی طرف دوڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں ، کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکاہو، وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک ، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے ، تو اللہ رب العزت فرماتاہے کہ اے فرشتو!میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی او ربندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتاہے کہ میرے بندو! کچھ مانگو،میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم جو سوال کروگے ، عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جوسوال کروگے تو اس میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھوں گا ،میری عزت کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھو گے ،تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا ہوں گا اور ان کو چھپاتا رہوں گا۔میری عزت کی قسم او ر میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا۔بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو ،تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ، فرشتے اس اجروثواب کو دیکھ کر جو عیدالفطر کے دن اس املت کوملتاہے خوش ہوتے ہیں ‘‘۔ (الترغیب والترہیب)
عیدالفطر مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم موقع ہے۔ علماء دین وبزرگان دین نے اس کی بڑی حکمتیں بیان کی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے عیدین کی مشروعیت کی حکمت وفوائد کے سلسلہ میں بیان کیا ہے ’’ ہرملت کے لئے ایک ایسا مظاہرہ اور اجتماع ضروری ہوتاہے جس میں اس کے سب ماننے والے جمع ہوں تاکہ ان کی شان وشوکت اور کثرت تعداد ظاہر ہو‘‘۔ (حجتہ اللہ البالغہ)۔ گویا عیدین کی مشروعیت میں ایک اہم بات یہ پوشیدہ ہے کہ ان سے مسلمانوں کی شان وشوکت او رکثرت ظاہر ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اس موقع پر تمام مسلمان شہر او رقصبات کے مخصوص مقامات پر جمع ہوتے ہیں اور دوگانہ نماز ادا کرتے ہیں تو مسلمانوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے اور جس انداز سے مسلمان اس دن کو گزارتے ہیں اس سے ان کی شان وشوکت کا اظہارہوتاہے۔اس طرح کے اظہار سے دوسری قوموں پر اثر پڑتاہے اور مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شان کا اندازہ ہوتاہے۔ 
عیدین کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا سیّدابوالحسن علی ندویؒ نے تحریر فرمایا ’’ عیدالفطر اور عیدالاضحی جو شارع نے انسانی فطرت کی تسکین اورحقیقت کے اعتراف کے طور پر مسلمانوں کو عطا کی ہیں ، یکسر دینی وروحانی رنگ میں رنگی ہوئی ہیں ‘‘۔ (ارکان اربعہ) یعنی مسلمانوں کو عطا ہونے والی دونوں عیدیں انسانی فطرت کی عکاس ہوتی ہیں اور روحانی تسکین کاذریعہ ہیں۔ دراصل انسانی فطرت ہے کہ کبھی کبھی زندگی میں ایسے مواقع بھی انسان کو میسر ہوں ، جن میں قلبی طور پر وہ خوش ہوں اور اس کا اظہار کرسکیں۔اسلام کیونکہ دین فطرت ہے اس لئے انسانی فطرت کے تقاضے کی تکمیل کے لئے اسلام نے مسلمانوں کوعیدین کا تحفہ عطا کیا ہے ، مگر خوشی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان آپے سے باہرہوجائے او ر اس کی خوشیاں محض نفسیاتی یا ذہنی تسکین کا ذریعہ بن جائیں ،بلکہ اصل ان مواقع پر روح کی تسکین ہے۔اسی لئے ان خوشی کے مواقع پر دوگانہ نماز ادا کرنے کی تاکید کی گئی۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس موقع پر اپنے وقار کو پورے طور سے ملحوظ رکھیں اور کسی بھی طرح کی بے حیائی ونامناسب حرکت سے پرہیز کریں جس طرح عید منانے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح وہ عید منائیں ،شرعی حدود کی پابندی کریں اوریومِ عید پر اپنے وقار سے یہ ثابت کریں کہ وہ ایسی قوم کے افراد ہیں جو اپنے دین کے لئے قربان ہوناجانتے ہیں ، وہ غم کے موقع پر اور خوشی کے موقع پر بھی دین کو سامنے رکھتے ہیں اور کسی دم دین سے غافل نہیں ہوتے۔ عید کے موقع پر ان افراد کو ہرگزہرگز نہ بھولیں ، جومفلوک الحال ہیں یا معذورہیں انہیں اپنی خوشیوں میںشریک کریں ، ان کو صدقہ فطر دیں ، ان کی بھر پور اعانت کریں تاکہ وہ بھی ملت اسلامیہ کے دیگر افراد کی طرح خوش ہوسکیں اور کسی طرح کی احساس کمتری کے شکار نہ ہوں۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت کومضبوطی حاصل ہوتی ہے۔
(مقالہ نگار رُکن پارلیمنٹ ہیں)

No comments:

Post a Comment