Search This Blog

Monday 6 August 2012

RAMZANUL MUBARAK KA WO TAREEKH SAZ MOARKA

رمضان المبارک کا وہ تاریخ ساز معرکہ!

-محمد آصف اقبال
انسانی تاریخ میں آج تک جتنے معرکے ہوئے ہیں اس کی واحد وجہ ایک گروہ کی دوسرے گروہ پر حصولِ اقتدار کی خواہش رہی ہے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کا جھوٹا دعویٰ پیش کرنے والے اقتدار حاصل کرنے کے بعد زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور انسانوں کے لیے عذاب بن کر نازل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ ذرا مختلف ٹھیرا۔ یہاں ہوا یہ کہ انسانوں کے گروہ یا ایک قوم سے تعلق رکھنے والوں کو فتح نہیں ملی، بلکہ یہ فتح اعلان تھی اُس عقیدے اور تہذیب کا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔ یہ وہ تاریخ ساز دن تھا جبکہ تین سو تیرہ لوگوں نے جن کی فوجی تیاری ظاہر طور پر برائے نام تھی، ایک ہزار لوگوں کو شکستِ فاش دے دی۔ یہ وہ دن تھا جب یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب رہتی دنیا تک روئے زمین پر اللہ کی عبادت ہوتی رہے گی اور نبوت محمدیؐ کی اس خصوصیت کا اظہار ہوتا رہے گا کہ ’’میرے لیے پوری زمین مسجد بنادی گئی ہے‘‘۔ یہ وہ دن تھا جب کہ حق کو حق ثابت کردیا گیا اور کفر کی جڑ کاٹ دی گئی، تاکہ حق واضح ہوجائے اور باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہے۔ یہ وہ دلیلِ روشن تھی جہاں یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ عقیدوں، تہذیبوں اور قوموں کے درمیان معرکوں میں فتح و شکست کا انحصار تعداد اور مادی وسائل پر نہیں، بلکہ اپنے مقاصد سے وابستگی، وفاداری، جاں نثاری، قربانی اور استقامت پر ہے۔ یہ وہ دن تھا جب بتادیا گیا کہ امت کا مقصود و ہدف اللہ تعالیٰ ہے، اسی لیے قرآن کی زبان میں ایمان، تقویٰ اور صبر ہی وہ کنجیاں ہیں جن سے فتح و نصرت کے دروازے کھلتے ہیں، دشمنوں کے مکر و قوت کے تاروپود بکھر جاتے ہیں، فرشتے ہزاروں کی تعدا د میں پشت پناہی کرتے ہیں، قلت ِسامان و تعداد کے باوجود غلبہ نصیب ہوتا ہے اور آسمان و زمین سے برکتوں کے دہانے کھل جاتے ہیں۔ جنگ کے اسباب: ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے۔ عمل جتنا شدید ہوگا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔ قانون فطرت ہے کہ جو چیز جتنی دبائی جاتی ہے اتنی ہی وہ ابھر کر سامنے آتی ہے، اور پھر ہر عمل کے چند محرکات ہوتے ہیں۔ کچھ اسباب ظاہری ہوتے ہیں اور کچھ خفیہ۔ جنگ کی وجہ بھی فوری نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل عرصہ پر محیط ہوتی ہے۔ ایک عرصہ سے پس پردہ بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، فوری وجہ تو ایک بہانہ بنتی ہے۔ غزوہ بدر بھی کسی فوری اور اضطراری سوچ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ حق و باطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانِ نبوت سے ہجرتِ مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چند واقعات کو فوری وجوہات میں شمار کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہوگیا تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر و شرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمتہ الحق کا پرچم بلند کیا تھا، اور جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر کے بتوںکی پرستش کو ترک کرکے اللہ وحدہٗ لاشریک کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔ آفتابِ ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لیے صف بندی کا آغاز کردیا تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشوں اور شر انگیزیوں کا سلسلہ اصل میں غزوہ بدر کا دیباچہ تھا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد جب مسلمان منظم ہونے لگے اور کفار کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ مسلمان ایک قوت بن کر ابھریں گے اور ان کا اقتدار ہی نہیں بلکہ پورا نظام باطل خطرے میں پڑ جائے گا۔ جب یہ اندیشے حقیقت میں تبدیل ہونے لگے تو مشرکین مکہ کے لیے مسلمانانِ مدینہ کے ساتھ مسلح تصادم کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگیا تھا۔ گو اس تصادم کا موقع پندرہ سال بعد پیش آیا، لیکن ایک عرصے سے کفار و مشرکین نفرت کا لاوا اپنے سینوں میں ابال رہے تھے، نیز وحشت و سفاکیت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ اس وحشت و سفاکیت کا مظاہرہ اس طرح کیا جاتا کہ کبھی مسلمانوں کو انگاروں پر لٹایا جاتا، کبھی انہیں تپتی ریت پر گھسیٹنے کا غیر انسانی فعل انجام دیا جاتا، کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈال کر خوشیاں منائی جاتیں، تو کبھی آپؐ کے قتل کی سازش کرکے قریش اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کرتے، کبھی گھاٹی شعب ابی طالب میں خاندانِ رسولؐ کا معاشرتی بائیکاٹ کرکے انتقام کی آگ کو سرد کیا جاتا۔ اور اسی طرح کے بے شمار ظلم و ستم کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا پڑتا کہ صبر کرو، کیونکہ صبر ہی تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا، نیز وہ وقت بھی یاد کرو جب کہ ایک اللہ وحدہٗ لاشریک کا اعلان کرنے والوں کو زمین میں گاڑا جاتا اور ان کے سروں کو آروں سے چیر دیا جاتا۔ پھر یہ آگ جو مکہ کے کفار و مشرکین کے درمیان بھڑکائی گئی وہ سرد ہونے کے بجائے مزید بھڑکتی رہی، سینوں میں نفرت کا لاوا کھولتا رہا اور آخرکار وہ وقت آگیا جب اللہ کے اٹل فیصلے کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ کفار و مشرکین ذلیل و خوار ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اللہ کے بندے فتح و کامیابی سے ہمکنار۔ تجارتی قافلہ: اہلِ مکہ کا سب سے بڑا ذریعہ معاش تجارت تھی۔ بڑے بڑے تجارتی قافلے گرد وپیش کی منڈیوں میں رواں دواں رہتے۔ مدینہ میں مسلمانوں کی مرکزی حیثیت ہوجانے کا انہیں بڑا قلق تھا چنانچہ مشرکینِ مکہ کے سردار عوام الناس کو، خصوصاً نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے لیے نفرت پیدا کرتے رہتے۔ کفارِ مکہ اسلام دشمنی میں بوکھلائے ہوئے تھے اسی لیے انہوں نے تجارت کے نفع سے ایک مخصوص حصہ لازمی طور پر جنگی تیاریوں کے لیے بھی مختص کرنا شروع کردیا تھا۔ دشمن کی عسکری قوت پر کاری ضرب لگانے اور ان کی اقتصادی ناکہ بندی سے آخر مسلمان ہی کیوں دستبردار رہتے، انہیں بھی اپنے دفاع کا حق حاصل تھا۔ کفار کی جنگی تیاریوں کے پیش نظر مسلمانانِ مدینہ بھی چوکنا تھے اور مدینہ منورہ پر کفار کے متوقع حملے کا جواب دینے کے لیے دفاعی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اپنے دفاع سے غفلت بہت ہی برا فعل ہے۔ اسی لیے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ آپؐ نے روایتی انداز کے بجائے نئے زاویۂ نگاہ سے دفاع کے جملہ پہلوئوں کا جائزہ لیا اور گشتی دستوں کی تشکیل کرکے دشمن کی نقل و حرکت خصوصاً اس کی اقتصادی ناکہ بندی پر اپنی توجہ مرکوز کی اور بہت جلد اس کے حوصلہ افزا نتائج بھی حاصل ہونے شروع ہوگئے۔ آپؐ نے اہلِ یثرب، عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے میثاقِ مدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک مشرک کا قتل: رجب 2 ہجری میں حضرت عبداللہ بن حجشؓ کو آٹھ آدمیوں کے ہمراہ دشمن کی نقل و حرکت معلوم کرنے کی غرض سے مکہ اور طائف کے درمیان گھات لگاکر بیٹھنے کے لیے روانہ کیا۔ مقام نخلہ پر مشرکین کے ایک قافلے کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ایک مشرک عمرو بن حضرمی مارا گیا اور دو آدمی قیدی بنا لیے گئے، نیز قافلے کے سامان پر قبضہ کرلیا گیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع آپؐ کو ملی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے کیونکہ اس دستے کوآپؐ نے لڑنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ ابن حضرمی کا قتل حرمت والے مہینے میں ہوا تھا اس لیے مشرکین نے اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف خوب اچھالا کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینوں کو بھی حلال کرلیا ہے۔ عرب قبائل کے لیے حرمت والے مہینوں کا احترام ایک جذباتی مسئلہ تھا۔ ان کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا مقصد بھی یہی تھا کہ رائے عامہ ہموار کی جائے اور مسلمانون کے خلاف ایسا ماحول تیار کردیا جائے کہ کفار و مشرکینِ مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوں۔ مجاہدینِ اسلام سے حرمت والے مہینے میں یہ کارروائی محض ایک غلط فہمی کی بنا پر ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ درست اندازہ نہیں لگا سکے کہ آیا حرمت والے مہینہ کا آغاز ہوچکا ہے یا نہیں۔ لیکن ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا،کہا کہ:’’لوگ آپؐ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں، فرمادیں اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے اور یہ فتنہ انگیزی قتل و خون سے بھی بڑھ کر ہے‘‘ (البقرہ:217)۔ اس آیت کریمہ کے نزول نے گشتی دستے کے اراکین کا ذہنی بوجھ کم کردیا، ساتھ ہی عالم کفر کو اسلام پر وار کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں لگ سکا، اور اسلام کی تصویر مسخ کرنے والوں کو بھی خاموش ہونا پڑا۔ ابوسفیان کا قافلہ اور جنگی تیاریاں: قریش مکہ نے اسلامی ریاست مدینہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور جنگ کی بھرپور تیاریاں شروع کردیں۔ افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل سے معاہدات کیے اور معاشی وسائل کو مضبوط کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مرتبہ جو تجارتی قافلہ شام بھیجا جائے اس کا تمام منافع اسی غرض کے لیے وقف ہو۔ چنانچہ ابوسفیان کو اس قافلے کا قائد مقرر کیا گیا اور مکہ کی عورتوں نے اپنے زیور تک کاروبار میں لگائے۔ اسلامی ریاست کے خاتمے کے اس منصوبے نے مکہ اور مدینہ کے درمیان کشیدگی میں بہت اضافہ کردیا۔ جب ابوسفیان کا مذکورہ بالا قافلہ واپس آرہا تھا تو ابوسفیان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ قافلہ راستے ہی میں نہ لوٹ لیا جائے۔ چنانچہ اس نے ایک ایلچی کو بھیج کر مکہ سے امداد منگوائی۔ قاصد نے عرب دستور کے مطابق اپنے اونٹ کی ناک چیر دی اور رنگ دار رومال ہلاکر شور کردیا کہ ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنے کے لیے محمدؐ بڑھے چلے آرہے ہیں۔ اہلِ مکہ سمجھے کہ قریش کا قافلہ لوٹ لیا گیا۔ سب لوگ انتقام کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ یہ قافلہ صحیح سلامت واپس آرہا ہے تو ان کے درمیان اختلافِ رائے قائم ہوگیا کہ آیا یہ حملہ کیا جائے یا نہیں۔ لیکن قریش کا طاغوتِ اکبر ابوجہل کھڑا ہوگیا اور نہایت کبر و غرور سے بولا: ’’خدا کی قسم ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ بدر جاکر وہاںتین روز قیام کریں گے اور اس دوران اونٹ ذبح کریں گے۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے۔ لونڈیاں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور سارا عرب ہمارا اور ہمارے سفر و اجتماع کا حال سنے گا، اور اس طرح ہمیشہ کے لیے ان پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی‘‘۔ لیکن ابوجہل کے علی الرغم اخنس بن شریق نے یہی مشورہ دیا کہ واپس چلے چلو، مگر لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اس لیے وہ بنو زہرہ کے لوگوں کو ساتھ لے کر واپس ہوگیا۔ بنو زہرہ کے علاوہ بنو ہاشم نے بھی چاہا کہ واپس چلے جائیں لیکن ابوجہل نے بڑی سختی کی اور کہا کہ جب تک ہم واپس نہ ہوں گے یہ گروہ ہم سے الگ نہ ہونے پائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مشاورت: مدینہ میں قریشی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی تو آپؐ نے مجلس مشاورت قائم کی اور خطرے سے نپٹنے کے لیے تجاویز طلب فرمائیں۔ مہاجرین نے جاں نثاری کا یقین دلایا۔ پھر حضرت مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ! اللہ نے آپؐ کو جو راہ دکھلائی ہے اس پر رواں دواں رہیے، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم ہم آپؐ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جائو اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ آپؐ اور آپؐ کے پروردگار چلیں اور لڑیں اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ ساتھ لڑیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپؐ ہم کو بَرک غماد تک لے چلیں تو ہم راستے والوں سے لڑتے بھڑتے آپؐ کے ساتھ وہاں بھی چلیں گے‘‘۔ آپؐ نے دوبارہ مشورہ طلب کیا تو انصار میں سے سعد بن عبادہؓ نے عرض کیا کہ بخدا! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اے اللہ کے رسولؐ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا: ’’ہم تو آپؐ پر ایمان لائے ہیں، آپؐ کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ آپؐ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب حق ہے اور اس پر ہم نے آپؐ سے سمع و طاعت کا عہدکیا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسولؐآپ کا جو ارادہ ہے اس کے لیے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپؐ ہمیں ساتھ لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپؐ کے ساتھ کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ کل آپؐ ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جوانمرد ہیں اور ممکن ہے اللہ آپؐ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپؐ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں۔ پس آپؐ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں۔ اللہ برکت دے‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ بن معاذ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’غالباً آپؐ کو اندیشہ ہے کہ انصار اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ آپؐ کی مدد محض اپنے دیار میں کریں، اس لیے میں انصار کی طرف سے بول رہا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوںکہ آپؐ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں، جس سے چاہیں تعلق استوار کریں اور جس سے چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دے دیں۔ اور جو آپؐ لے لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہوگا جسے آپؐ چھوڑدیں گے۔ اور اس معاملے میں آپؐ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمارا فیصلہ بہرحال اس کے تابع ہوگا۔ خدا کی قسم اگر آپؐ ہمیں لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے‘‘۔ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپؐ پر نشاط طاری ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا ’’چلو اور خوشی خوشی چلو، اللہ نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ اس وقت گویا میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ مشاورت کے بعد مجاہدین کو تیاری کا حکم ہوا۔ مسلمانوں کے ذوقِ شہادت کا یہ عالم تھا کہ ایک نوعمر صحابی حضرت عمیر بن ابی وقاص اس خیال سے چھپتے پھرتے تھے کہ کہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس نہ بھیج دیے جائیں۔ اس کے باوجود مجاہدین کی کل تعداد 313 سے زیادہ نہ ہوسکی۔ یہ لشکر اس شان سے میدانِ کارزار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی کے پاس لڑنے کے لیے پورے ہتھیار بھی نہ تھے۔ پورے لشکر کے پاس صرف 70 اونٹ اور 2 گھوڑے تھے جن پر باری باری سواری کرتے تھے۔ مقام بدر پر پہنچ کر ایک چشمے کے قریب یہ مختصر سا لشکر خیمہ زن ہوا۔ مقابلے پر تین گنا سے زیادہ لشکر تھا۔ ایک ہزار قریشی جوان جن میں سے اکثر سر سے پائوں تک آہنی لباس میں ملبوس تھے، وہ اس خیال سے بدمست تھے کہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھر فاقہ کشوں کا خاتمہ کردیں گے۔ لیکن قدرتِ کاملہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ رات بھر قریشی لشکر عیاشی و بدمستی کا شکار رہا۔ خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور دعائیں کیں اور اللہ نے فتح کی بشارت دے دی۔ جس طرف مسلمانوں کا پڑائو تھا وہاں پانی کی کمی تھی اور ریت مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مضر ثابت ہوسکتی تھی۔ لیکن اللہ نے بارانِ رحمت سے مسلمانوں کی یہ دونوں دقتیں دور کردیں۔ ریت جم گئی اور قریشی لشکر کی مقبوضہ چکنی مٹی کی زمین پر کیچڑ پیدا ہوگئی۔ کامیابی کے اسباب: کہا کہ: ’’اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کررہا تھا اور آسمانوں سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جمادے‘‘ (الانفال:11)۔ مزید اسی سورۃ میں بتایا گیا کہ اس فتح کے پیچھے اللہ کی مشیت کارفرما تھی۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ حق حق ہوجائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دی جائے، یعنی یہ محض اتفاقی جنگ نہیں تھی۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے اللہ نے فرشتوں کو بھیجا، اس لیے کہ مسلمانوں کے قلوب مطمئن ہوجائیں۔ ایک حدیث قدسی کے مطابق مومن فرائض اور نوافل (اپنی مرضی سے زائد عبادت اور اطاعت گزاری) کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی سماعت اور بصارت اور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ یعنی اس کا کیا اللہ تعالیٰ کا کیا ہوجاتا ہے۔ اصحابؓ بدر کا یہ مقام ہے کہ اللہ نے ان کے قتال کو اپنی طرف نسبت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے کہ ان کا مٹھی بھر ریت پھینکنا اپنا فعل قرار دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہادت کا شوق بیدار ہوا۔ مشہور قریشی سردار موت کے گھاٹ اترے، ان میں عتبہ، ولید اور شیبہ قریش کے بہت ہی بہادر سردار سمجھے جاتے تھے۔ ان کے قتل سے قریش کے حوصلے پست ہوگئے۔ بعد میں ابوجہل کی ہلاکت نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ قریش کی صفوں میں انتشار برپا ہوگیا۔ کفار و مشرکین کے درمیان بددلی اور اختلاف پیدا ہوا اور ان کی اجتماعیت منتشر ہوگئی۔ یہی وہ جنگ تھی جس میں حق و باطل کا فرق مکمل طور پر واضح ہوگیا۔ قریش کے غرور کا سر نیچا ہوا اور مدینہ میں اسلام کی مزید اشاعت تیزی کے ساتھ شروع ہوگئی۔ مدینہ میں بنو اوس اور بنو خزرج قبائل کے بہت سے لوگوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وہ ہوا کے رخ کو دیکھ رہے تھے۔ 313 کے ہاتھوں ایک ہزار قریشی سرداروں کی شکست نے ان پر لات و منات و عزیٰ و ہبل کی قوت کا کھوکھلا پن واضح کردیا۔ منافقین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عبداللہ بن ابی ’’رئیس المنافقین‘‘ نے بھی جنگ ِبدر کے بعد مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کے علاوہ بے شمار واقعات رونما ہوئے جن کے آخر میںمثبت نتائج اخذ ہوئے۔ پیغام ربانی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھر سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے‘‘ (الانفال:47-45)۔ اور کہا کہ : ’’اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو، تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجائو اور اللہ پر بھروسا کرو، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘ (الانفال:61-60)۔ یہ ہے وہ پیغام کہ جس پر چل کر آج ایک بار پھر امت ِمسلمہ سربلند ہوسکتی ہے۔ اس میں پہلی چیز اللہ کو مکمل طور پر اپنا رب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا قائد و رہنما تسلیم کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ہم کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں، یعنی اللہ کو رب کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول۔ لیکن پھر بھی معاملہ اس کے برخلاف ہے اور ہماری ذلت و رسوائی میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ غور کرنے اور سوچنے کا مقام ہے کہ کیا زبان سے اللہ کو رب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تسلیم کرلینا کافی ہے؟ کرنے کا کام: یہ حقیقت ہے کہ جہاں اخلاقی قوت کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت ہر قسم کی مادی قوت کا حصول اور دل کھول کر خرچ کرنا بھی ضروری ہے، وہیں دشمن کے خلاف معرکہ میں ثبات اور ذکر الٰہی جتنا ضروری ہے اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افتراق و انتشار اور جھگڑوں سے پاک رہا جائے اور اتحاد و اتفاق ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ یہی وہ راہ ہے جس کو اختیار کرنا، اس پر عمل پیرا ہونا، اس کی تشہیر و تفسیر بیان کرنا ہر خاص و عام مسلمان کے لیے لازم آتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کایہ پیغام ہمیں اپنی طرزِ زندگی کو بدلنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہمیں اس مہینے میں اپنے اندر اور مسلمان ملّت میں ان حقائق کی روح پھونکنے کا عزم کرلینا چاہیے۔ یہی وہ راہ ہے جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو!‘‘

No comments:

Post a Comment