Search This Blog

Wednesday 8 August 2012

FATEH MAKKAH ISALMI ... TAREEKH SAZ WAQEAA

فتحِ مکہ۔۔۔۔۔مثالی اورتاریخ ساز واقعہ



اسلام کی عظیم الشان انقلابی تاریخ کے اوراق میں واقعۂ فتح مکہ کو اس اعتبار سے انفرادیت حاصل ہے کہ یہ تاریخ عالم کا پہلا واقعہ ہے جب ایک بستی کے اندر دس ہزار مجاہد، مہاجر مکی حضرت رسول مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں بھر پور عسکری تیاری کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور بغیر کسی کشت وخون ، ماردھاڑ ، لوٹ کھسوٹ اور تشدد کے فتح ومسرت کا جھنڈا گاڑ کر عفو ودرگذر اور معافی کا اعلانِ عام ہوتاہے ۔فوجی حکمت عملی کے تحت سالارِ افواج نے چار جماعتوں میں اپنی فوج کوتقسیم کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اورمکہ کو چار اطراف سے گھیرے میں لینے کا منصوبہ تشکیل دیا تھا۔ آپ ؐ اس فوجی دستے کے پیچھے پیچھے چلتے رہے جس کی علمبرداری حضرت عبیدہؓ ابن الجراج کر رہے تھے۔اطاعت ، جذبۂ عبودیت او رسرفروشی کے جملہ عناصر کے ساتھ آپؐ  کے صحابہؓ  اس شہر کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں سے رات کی تنہائی وتاریکی میں آٹھ سال پہلے کفارِ مکہ نے ہجرت پر مجبور کردیا تھا ، آپؐ پر اپنے مولدومسکن کی وسعتیں تنگ کردی گئی تھیں، ہرطرح کی اذیتیں پہنچائی گئیں ۔ ان روح فرساتکالیف کی روداد پڑھ کر انسان ورطۂ حیرت میں پڑتاہے کہ کیا یہ اس عظیم انسان کا مل ؐکے ساتھ روا رکھا گیاتھا جو سراپا رحمت ومودّت تھے لیکن پھر تاریخ اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے کہ حق وصداقت کی با ت کرنے والوں سے انسانی معاشرے کا ہمیشہ یہی روّیہ رہا ہے   ؎
حق پرستوں سے زمانے کی دغا آج بھی ہے
تیرے بندوں پہ ستم میرے خدا آج بھی ہے
سرورِ کائناتؐ نے فتح مکہ کے روز سرِ مقدس پر سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔(اس دستارِرحمتؐ پر دونوں جہاں قربان ہوں) جوں ہی آپؐ مکہ مکرمہ کے حدود میں تشریف فرما ہوئے اور آپ ؐ کی نورانی نگاہیں کعبۃ اللہ کی جانب اُٹھیں ،آپؐ اونٹنی پر سوار تھے ۔ سرِ نازنین کو اس قدر جھکادیا کہ عمامہ شریف کی سلوٹیں ڈھیلی پڑ گئیں ۔ چنانچہ آپؐ جس عسکری جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اس میں ایک شاعر عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے جو نعتیہ اشعار پڑھ رہا تھا ۔’’آج مکہ پر ستارۂ صبح طلوع ہوا۔ آج ہمارے درمیان اللہ کا رسولؐ ہے جو خدا کی کتاب کی آیات تلاوت کررہاہے ۔ آج ہم ان سے بدلہ لیں گے جنہوں نے ہمارے نبی ؐ کو جلاوطنی پر مجبور کردیاتھا‘‘۔رسول رحمتؐ نے فرمایا نہیں آج اہلِ مکہ کو امن وآزادی کی بشارت ملنے والی ہے ۔
کفارانِ قریش دس ہزار قدسی صفات صحابہؓ اور ان کے دائیں بائیں بے شمار ملائکہ (جوآنکھوں کودکھائی نہیں دیتے تھے) سے خوفزدہ ہوچکے تھے ،مزاحمت اور مقابلے کے لئے سامنے نہیں آئے ، جو مقابلہ آرائی عربوں کے مزاج کی خصوصیت تھی ۔ کفارانِ مکہ کی خاموشی ، ندامت ،انکساری اور گھبراہٹ کو بھانپ کر سالارِ اعظمؐ نے خانۂ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکریہ الفاظ بیان کئے:
’’اے گروہِ قریش! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور آبا واجداد پر فخر وغزور زائل کردیا ۔ سب انسان آدم سے پیدا ہوئے اور آدم مٹی سے ‘‘۔ اس کے بعد قرآن حکیم کی سورہ الحجرات کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ ہے ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے ،تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچان سکو ۔ بے شک تم میں سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ یقیناً اللہ خبیر وعلیم ہے ‘‘۔
اس کے فوراً بعدفرمایا ! ’’ اے قریش ! میں تمہارے بارے میں جو کچھ کرنے والا ہوں اس کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو ‘‘۔ سب نے کہا ’’بہتر رائے رکھتے ہیں ۔آپؐ شریف بھائی ہیں ۔شریف بھائی کے بیٹے ہیں‘‘۔آپؐ نے فرمایا ’’جائو اب تم آزاد ہو‘‘ ۔ یہی وہی جملہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا جنہوں نے ایک مرحلے پر جناب یوسفؑ کو اندھیرے کنوئیں میں ڈال دیا تھا اور اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے کہا تھاکہ یوسف ؑ کو بھیڑیا کھاگیا۔ اللہ نے اپنے پیارے کی مددکی ،قافلہ گزرا۔ یوسفؑ کو کنوئیں سے نکالا گیا ۔ مصر کے بازار میں فروخت ہوا ۔ سلطنتِ مصر کا ایک وزیر وامیر ہوگئے جنہوں نے ایک زمانے میں انہیں مٹانے کی کوشش کی تھی ان سے وہ بدلہ لے سکتاتھا لیکن ایسا نہیں ہوا ،انہیں بلا تا مل معاف کردیا ، آ زادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں تھمادیا ۔
فتحِ مکہ کے اس تاریخی اور مثالی واقعے کو اقبال مرحوم نے فقط دوشعروں میں سمیٹا ہے   ؎
آنکہ بر اَعداء درِ رحمت کشاد
مکہ را پیغام لا تشریب داد
وقتِ ہیجا تیغ او آہن گداز
دیدۂ او اشکبار اندر نماز
ترجمہ : جس نے دشمنوں پر رحمت کا دروازہ کھولا ۔ مکہ کو ’’کوئی غم نہیں‘‘ کا پُرسکون پیغام سنایا۔(یعنی عام معافی کا اعلان کردیا)۔ میدانِ جنگ میں آپؐ کی تلوار لوہے کو پگھلاتی ہے لیکن آپؐ کی آنکھیں نماز میں آنسو بہارہی ہیں ۔
فتح مکہ نے آپؐ کے دشمنوں پرایسا ہمہ گیر اثرات مرتب کیا کہ وہی خون کے پیاسے ،دین کے بدترین دشمن اور جنگ وقتال میں یقین رکھنے والے ایسے پاکباز اور خداترس بن گئے کہ چشم عالم نے آج تک ایسی انسانی شخصیات کے پیکر نہیں دیکھے ۔انسان کی فطرت میں انتقام اور قصاص کا عنصر موجود ہے اور یہ انفرادی واجتماعی دونوں سطحوں پر کارفرما رہتاہے لیکن فاتح مکہ نے اپنی علمی اور نبوی حیاتِ طیبہؐ میں دنیا پر یہ بات واضح کردی کہ انہیں جوڑنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے کہ نہ کہ توڑنے کے لئے ۔ فرمانروا اور فاتحین کی تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح فوجی پیش رفت کے موقعوں پر قتل عام کیا گیا ، درخت کاٹے گئے اور بستیاں نذرِ آتش کی گئیں۔ اسلام کے سپہ سالارؐ کا اسلوب ہی مختلف ہے جب آپؐ نے معافی کا اعلان فرمایا تو اپنے انتہائی درجہ کے دشمن ابوسفیانؓ کے بارے میں فرمایا کہ جو ابوسفیانؓ کے گھر میں داخل ہوگا اس کو بھی امان حاصل ہے ۔فتحِ مکہ کے بعد شعرائے عرب نے اس واقعہ کو منظوم انداز میں پیش کیا ہے ۔ ان اشعار کا مرکزی خیال بھی یہی ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کا مزاج معافی ، فراخدلی اور انسان دوستی ہے ۔
موجودہ عہد میں مسلمانانِ عالم بظاہر شعائر اسلامی اور مناسک دینی کا اہتمام تو کررہے ہیں لیکن عملاً اسوۂ حسنہ کی مثالی قدروں سے دور اور بہت ہی دور دکھائی دے رہے ہیں ۔
صداقت ،اخلاص اور عفوودرگذر کا روّیہ مفقود ہوچکاہے اور اس کی جگہ کذب ، ریا ،قصاص اور انتقام اور پندار ونخوت نے لی ہے۔ فرانس کی ایک عیسائی خاتون جس نے اسلام قبول کیا ہے اور جس کا نام اب فاطمہ ہے ، سے پوچھا گیا کہ اسلام کی کس خوبی نے تجھے متاثر کیا ؟ ان کا جواب تھا کہ ’’مجھے نظامِ اسلام میں مساوات ، رحمدلی ،عفودرگذر اور اس دین میں موجود انتہا درجے کی پاکیزگی نے متاثر کیا اور میں نے اپنے آبائی مذہب سے ذہنی بغاوت کی اور اپنے خاندان سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی ‘‘۔
…………………
رابطہ :- اقبال انسٹی ٹیوٹ ،یونیورسٹی آف کشمیر  

No comments:

Post a Comment